Skip to main content

بوکھلاہٹ کی انتہا Date: 2020-06-10 بوکھلاہٹ کی انتہا تحریر: سید عبدالرزاق کابل انتظامیہ ایک طرف قیدیوں کو رہا کر کے باربار یہ اعلان کر رہی ہے کہ ہمارے اس جیسے اقدامات امن کی فضا پیدا کرنے کی خاطر اٹھائے گئے ہیں۔ اگرچہ قیدیوں کی رہائی امریکا اور امارتِ اسلامیہ کے درمیان کیے گئے معاہدے کاایک جز ہے۔ البتہ کابل انتظامیہ عوام اور دنیا کی ہم دردی بٹورنے کے لیے ایسے اقدامات کا کریڈٹ لینے کے لیے کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتی۔ جب کہ وہ دوسری جانب اپنے عوام کا ناحق خون بہانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتی۔ امارت اسلامیہ کے اس تاریخ ساز معاہدے کے طے ہونے کے دن سے بے ہمت دشمن شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ اُسے جن عوام کی نمائندگی کا دعوی ہے، بجائے خود وہ انہی کا خون پی رہا ہے۔دشمن کے ہاتھ شروع دن سے بے گناہ عوام کے خون سے رنگین ہیں۔ 8 جون کو کابل انتظامیہ کے درندہ صفت فوجیوں نے کابل کے ضلع موسہی کے علاقے ‘قلعہ عبدالرؤوف’ میں ایک مسجد کے مؤذن کو بڑی بے دردی سے شہید کر دیا۔ شہید مؤذن کی عمر تقریباً ستر برس کے قریب تھی۔ اس کا کوئی ایسا کیس نہیں تھا، جس کی وجہ سے اس بے گناہ کو یوں بے دردی سے شہید کیا جاتا۔ وہ بغیر کسی جرم اور ثبوت کے شہید کر دیا گیا۔ عقل حیران ہے کہ اس ستر سالہ بوڑھے نے کابل انتظامیہ کے لیے ایسی کیا خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی، جس کی بنیاد پر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے۔ اگر واقعی کوئی جرم تھا تو از رُوئے عدالت اس پر مقدمہ درج کیا جاتا اور قانونی طریقے سے اس کی سزا جاری کی جاتی۔ عدالت سے تو وہ کارروائی کرائے گا، جو کسی قانون و دستور کا پابند ہو۔یہاں تو سردست قومی ہیرو وہی مانا جاتا ہے، جس کے ہاتھ اپنوں کے خون سے سب سے زیادہ رنگین ہوں۔ بوڑھے مؤذن کے اس نارواقتل کے خلاف 9 جون کو اہلِ علاقہ گھروں سے باہر آئے اور اس ظلم کے مقابل علمِ احتجاج بلند کیا۔ انہوں نے بوڑھے مؤذن محمدگل کے قاتلوں کو کیفرکردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا تو بوکھلاہٹ زدہ انسانیت کے ان قاتلوں نے ایک بار پھر دہشت گردی اور غنڈہ گردی کا مظاہرہ شروع کر دیا۔ ان دہشت گرد افغان فوجیوں نے اپنے حق کے لیے قانونی چارہ جوئی کرنے والوں پر اندھادھند فائرنگ کر دی۔ جس سے موقع پر ہی ایک شہری جاں بحق اور کئی زخمی ہوگئے۔ کوئی ان درندہ صفت فوجیوں سے کوئی پوچھ سکتا ہے کہ کیا یہ ہے تمہاری انسانیت؟ یہ ہے وہ آزادانہ جمہوریت، جس کے لیے تم دوسروں کو دعوت دیتے ہو؟ یہ وہ آزادی ہے، جس کی تم دہائی دیتے ہو؟ اب بات یہاں پہنچ گئی ہے کہ کوئی اپنے جائز حق کے لیے آواز بھی نہیں اٹھا سکتا؟ یہ تمہارا وہ وسعت پسند اور قانون و فطرت سے آشنا نظام ہے، جس کے لیے تم آئین اور اس جیسے معزز القاب استعمال کرتے ہو؟ ظلم کی یہ افسوس ناک صورت حال نئی بات نہیں ہے۔جب سے یہ نظام اس ملک پر مسلط ہوا ہے، تب سے عوام کو ان مظالم کا سامنا ہے۔ جس کی تازہ مثال ابھی چند دن پہلے کی ہے۔ جب عوام کرونا اور لاک ڈاون کے پیش نظر کابل انتظامیہ سے اپنے جائز اور مبنی برحق مطالبات پیش کرنے سڑکوں پر آئے تھے تو کابل فوج نے بجائے مذاکرات، معاملہ فہمی اور قانونی طریقہ اختیار کرنے کے اسلحہ استعمال کیا۔ وہ بہ زور طاقت حق کی آواز دبانا چاہتے ہیں۔ جس میں کئی بے گناہ شہید کر دیے گئے۔ کابل انتظامیہ کی یہ روش جہاں اس کی امن دشمنی، عوام بے زاری اور اس کی مفاد پرستی کو ظاہر کرتی ہے، وہیں اس کی بوکھلاہٹ اور امارت اسلامیہ کے روشن موقف سے گھبراہٹ کی بھی نشان دہی کرتی ہے۔ یاد رہے یہ بزدلی اب مزید کارآمد نہیں رہی۔عنقریب یہ کابل انتظامیہ کے گلے کا پھندا بن جائے گی۔ ان شاء اللہ

Item Preview

You must log in to view this content

SIMILAR ITEMS (based on metadata)