Skip to main content
Internet Archive's 25th Anniversary Logo

عشق کا وعدہ ہم نے پورا اے ربّ غفار کیا شہید، وزیرستان، پاکستان، افغانستان، مجاہد، ڈرون حملے اس تحریر کو ٹویٹ کریں اس تحریر کو ڈیلیشیئس پر بک مارک کریں تحریر: رب نواز فاروقی مکتب ِ عزامؒ اور مکتب ِ اسامہؒ کے اہم تلمیذ بھائی احسن عزیز ۲۹رمضان المبارک1433ہجری کو اپنے رب سے کیا وعدہ پوراکرکے خطۂ خراسان میں امریکہ کی غلام پاکستانی مرتد فوج کی بم باری سے رفیقۂ حیات سمیت اپنے رب کے حضورحاضر ہوگئے۔احسن بھائی نے تینتالیس سالہ حیاتِ عارضی ،حیات ِ جاودانی کی جستجو اور تیاری میں گزاری۔اُن کی زندگی کا ہر لمحہ اور ہر کاوش اپنے مالک کو خوش کرنے کے لیے تھی۔ان کی تحریر،تقریر،شاعری، ہجرت اور قتال سبھی اس لیے تھی کہ اللہ کی رضا مل جائے ،جنت کی ابدی نعمتیں ہمارامقدر بن جائیں۔نوے کی دہائی میں جہاد افغانستان (اول)سے وابستہ ہوئے اورپھر کشمیری مجاہدین کے استاد او رمربی رہے۔تجوید اورسیرت النبی علیہ السلام سبقاًسبقاًپڑھاتے رہے اور ہرممکن یہ کوشش کرتے رہے کہ کشمیر میں جہاد جیسی عظیم عبادت 'غیراللہ' کے تسلط اور سرپرستی سے پاک رہے لیکن جہاد کوطاغوتی سرپرستی میں بدنام ہوتا دیکھ کر ان کا دل ریزہ ریزہ ہوجاتا ۔بالآخر اُنہوں نے طاغوتی سرپرستی میں چلنے والی تنظیمات کو خیربادکہہ کر فی سبیل اللہ جہاد سے اپنا رشتہ جوڑ لیا۔ نائن الیون کے عظیم اور مبارک واقعے نے جسے احسن بھائی 'یومِ تفریق' کا نام دیا کرتے تھے،انہیں بہت متاثر کیا۔ان دنوں وہ اکثر یہ کہا کرتے تھے کہ عرب مجاہدین اور شیخ اسامہؒ کی قیادت نے نائن الیون کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ اللہ کی نصرت ان کے ساتھ ہے اوراب جہادی افق پر ان ہی کی قیادت چلے گی۔ یوم تفریق کے بعد احسن بھائی نے تن،من،دھن صلیبیوں اور ان کے حواریوں کے خلاف جہاد فی سبیل اللہ کے لیے وقف کردیا اور سقوطِ امارتِ اسلامیہ کے دوران میں مہاجرین ِ عرب و عجم کی میزبانی اور نگہبانی میں جُتے رہے اور انہیں راحت و آرام پہنچانے کا ہرممکن اہتمام کیا۔ان کی دین ِاسلام کی خدمات بھلا مقامی طاغوت کو کیسے برداشت ہوسکتی تھیں۔آئی ایس آئی نے ۲۰۰۳ء میں انہیں 'لاپتہ' کردیا گویا وہ لاپتہ ہونے والے اللہ کے بندوں کے ہراول دستے میںتھے۔چھ ماہ کی گمشدگی کے بعد جب وہ رہا ہوئے تو مکمل یکسوئی کے ساتھ یہ فیصلہ کرچکے تھے کہ اب اُسی دنیا کا مسافر بننا ہے جس دنیا میں 'اجنبی'لوگ بستے ہیں۔پہلے چاولوں کی امپورٹ ایکسپورٹ کاکاروبار کیا کرتے تھے لیکن اب صرف 'نفع بخش تجارت'ہی کا ہمہ وقت پروگرام بنانے لگے۔ قید سے واپسی پر وہاں لکھی گئی نظم 'بہاروں سے پہلے جو آنکھوں پہ بیتی۔۔۔۔'اپنی مترنم آوازسے سناتے تو سننے اور سنانے والے سب اشک بار ہوجاتے۔اللہ تعالیٰ نے ان کی شاعری کو اس قدرقبولیت اور مقبولیت سے نوازا ہے کہ آج مجاہدین کے ہاں جو ترانے زبان زدِ عام ہیں وہ سبھی احسن بھائی ہی کی شاعری ہے۔پھر بھائی محمدغوری(اللہ انہیں رہائی عطا فرمائے)کی پُرسوزاوردردِ دل رکھنے والی آواز نے اس شاعری کو دوآتشہ بنادیا ہے۔سچی بات تو یہ ہے کہ جو بھی ان کے کلام کو تنہائی میں پڑھے یا سنے تو اس کی کیفیاتِ قلب عجیب ہوجاتی ہیں،وہ شہادت اور جنت کا مشتاق اور دنیا سے بے زارہوجاتا ہے۔ احسن بھائی نے جس گھرانے میں آنکھ کھولی وہ ماڈرن اورجدیدتعلیم یافتہ ہے۔وہ بھی بچپن میں فوجی سکولوں میں پڑھتے رہے،ان کے والد سمیت دو بھائی فوج ہی میں افسر رہے لیکن احسن بھائی کو اللہ تعالیٰ نے خصوصی طور پر چُنا۔وہ دھوپ میں بھی چھتری لے کر چلنے والا ،اعلیٰ پینٹ شرٹ میں ملبوس رہنے والانوجوان،اب جہادکے راستوں پر گامزن ہونے کے بعدمیلے کچیلے کپڑوں اور گردآلود پاؤں لیے خطہ خراسان میں رہتا تو مجھے سیدنامصعب بن عمیرؓ سے اپنے احسن بھائی کی مشابہت نظر آتی کہ نازونعم میں پلے احسن بھائی اب سخت کوش وادیوں میں یوں رہ رہے ہیں گویا کہ قدیم قبائلی ہوں۔ سرپراُسی طرح کا سیاہ عمامہ اور وجیہہ چہرے پر گھنی داڑھی جو مہندی سے اچھی طرح رنگی گئی ہو'انہیں ایک سچا 'خراسانی'ثابت کرنے کے لیے کافی تھی۔ احسن بھائی کا نوے کی دہائی میں ہی قرآن مجید سے خصوصی تعلق اور شغف بن گیا تھا۔اُسی زمانے میں انہوں نے قاری صاحب کے پاس باقاعدہ زانوئے تلمذ تہہ کرکے تجوید کے اسباق پڑھے اور پھر اُس کے بعد ہردور میں قرآن مجید کو پڑھنے، پڑھانے میںکوشاں رہتے۔تجوید کے اسباق پر مشتمل مختصر دورانیے کے دورے بھی تیار کیے اور کروائے اور ان کے ساتھ مراکز میں وقت گزارنے والے ساتھی اس نعمت سے ضروربہرہ ورہوتے رہے کہ اُن کے مخارج اورتلفظ کی اصلاح ہوجاتی۔اُنہوں نے دوران قیدپندرہ پارے حفظ بھی کیے۔ ۲۰۰۵ء کے اواخر میں خراسان ہجرت کی اور پہلے پہل جس مرکز میں رہے اُس کے امیر شہید ابوتراب رحمۃ اللہ علیہ تھے۔اس دوران میں احسن بھائی کا ایک نیا روپ دیکھنے کو ملا کہ ساتھیوں کی بے حد خدمت کرتے،صبح ناشتے میں اور تشکیل پر جانے والے ساتھیوں کو میٹھی روٹیاں بناکردیتے اورکچھ ہی دنوں میں 'میٹھی روٹی'ان کا امتیازی نشان بن گیا،اس وقت یہ راز کھلا کہ ہمارے بھائی کھانا پکانے کے بھی بہت ماہر ہیں۔احسن بھائی نے مغرب کے فلسفے،تاریخ اور اُس کے باطل عقائدوشعائرکو خوب اچھی طرح سمجھا اوراس کی اصطلاحات وشعائر'جمہوریت،انسانی حقوق،آزادی اور ویلفیئر کا بہت عمدگی سے پوسٹ مارٹم کرتے۔اُن کا کہنا تھا کہ ''جو مسلمان جنتا زیادہ دقیانوس اورقدامت پسند ہوگا اُسی قدر مغرب کے اثرات سے اپنے آپ کو بچا سکتا ہے''۔ احسن بھائی'شیخ عزام شہیدؒ اورشیخ اسامہ شہیدؒ سے بہت والہانہ محبت کرتے تھے۔اُن کے تذکرے جب شروع ہوجاتے تو یہ خیال ہی نہ رہتا کہ کس عنوان اور موضوع پر بات کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔موسوعہ عبداللہ عزام شہیدؒ(چھ جلدیں)جواب تقریباًناپید ہیں'کو ڈھونڈ ڈھونڈ کرپشاور اور کوئٹہ سے منگواتے اورصاحبِ علم ساتھیوں کو تحفے میں دیتے۔تکنیکی ذوق کے حامل تھے اور ساتھیوں کو جنگی تربیت کے حوالے سے گہرا سوچ بچارکرتے رہتے۔الیکٹرانکس اور متفجرات ان کی دلچسپی کے خصوصی میدان تھے ،جن کے ماہر اساتذہ سے وہ رابطے میں رہتے اور نئی چیزیں بنانے اور ڈھونڈنے میں بہت دلچسپی لیتے اورتحریض دیتے۔ احسن بھائی کی شخصیت کا ایک اہم امتیازی وصف یہ تھا کہ وہ امنیت کا غیر معمولی حد تک اہتمام کرتے۔چونکہ بہت ہی زیادہ حساس تھے،ہرعلاقے اور مرکز میں نیا رمزی نام رکھتے لیکن اس کے باوجود انصار انہیں چہرے مُہرے اورخدوخال سے پہچان لیتے ۔بعض اوقات ان کی امنیت کے حوالے سے ان سے مذاقاًکہا جاتا کہ اگر سبھی لوگ اس طرح امنیت کرنے لگیں توکام کرنامشکل ہوجائے تو ہنس کرکہتے کہ یہ تدبیر کا حصہ ہے اور ہونا تو وہی ہے جو مقدر ہے لیکن تدبیر کرنا واجب ہے۔ احسن بھائی 'علم دین' کی تحصیل کے لیے ذاتی طور پر بھی کوشاں رہتے اور ساتھیوں کو بھی ترغیب دلاتے رہتے کہ قرآن حکیم ،سیرت طیبہ علی صاحبھاالسلام اورحیاۃ الصحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کاعُمق کے ساتھ مطالعہ کریں اوران کی شرح کے لیے حکیم الامت حضرت تھانویؒ،حکیم الاسلام حضرت قاری طیبؒ،،مولانامناظر احسن گیلانیؒ اور مولاناابوالحسن علی ندویؒکی کتب کا بالاستیعاب مطالعہ کرتے اور کرواتے۔احسن بھائی اکثر یہ کہتے کہ دین سے تمسک کے لیے علمائے دین سے وابستگی بہت ضروری ہے۔دینی معاملات میں آزاد رائے اورغیر محتاط گفتگو کی بہت زیادہ حوصلہ شکنی کرتے اور کہتے کہ فتنوں سے محفوظ رہنے کے لیے اہل ِحق علما کا دامن تھامے رکھنا بہت ضروری ہے۔ مادی اسباب پر روحانیت کو ترجیح دیتے ،ہجرت کے بعد کئی سالوں تک انہیں مثانے میں سخت انفیکشن کا مرض رہاکہ پیشاب سے خون بھی آتا تھا۔آپ نے سورۃ فاتحہ فجر کی سنتوں کے بعدپانی پر دم کرنے کے معمول کواپنایاتو اللہ تعالیٰ نے شفاعطا فرمائی۔ آپ دوسرے بھائیوں کو بھی اس کی تلقین کرتے ۔بیماری کی صورت میں شہد استعمال کرتے اور کرواتے،اکثر مریض ساتھیوں کو شہدتحفتاً بھجواتے۔احسن بھائی ہر کام کو اتمام اور اکمال سے کرنے کے عادی تھے۔اس لیے ان کی کتب اور افلام کئی کئی ماہ تک تیاری کے بعد بھی 'پروف خوانی'کے مراحل سے گزرتی رہتیں۔انہوں نے اعلام کا کام کرنے کے لیے ایک باصلاحیت ٹیم تیار کی۔ اپنے دور کے تحریکوں کے قائدین سے سخت شاکی تھے کہ انہوں نے امت کو الولاء والبراء کے عقیدے سے دوررکھا ہے اور امت کو سُلانے میں اہم کردار اداکیا ہے۔جیسا کہ کہتے ہیں عجب اک تصور امیر حرم نے ، بتوں سے عداوت کا کل شب دیا ہے کہ خود بتکدے میں چراغاں ہے کل سے ، حرم کی فضاؤں میں لیکن دھواں ہے اوریہ کہ قائدِ محترم تجھ کو کیا ہوگیا؟پیش ِ سلطان جابر کہاں کھو گیا؟ صرف اتنا تقاضا تھا پیشِ بتاں،معنئ لاالہ کا تُواظہار کر آخرت ،جنت،دنیا سے بے رغبتی کے ساتھ ساتھ حاکمیت ِرب،خلافت ِ اسلامی،الولاء والبراء اورموجودہ دور میں جہاد کی فرضیت ِ عین وہ موضوعات ہیں جو اُن کے سامنے ہروقت رہتے اور ان کی تمام تر گفتگوئیں،تحریرں اورتقریریں اِنہی عنوانات کے گردگھومتیں۔یہی بات طواغیت ِ عصرحاضرکوکھَلتی تھی جس کی بنا پر انہیں مرتدین نے جیٹ بم باری سے شہید کردیا۔سچی بات تو یہ ہے کہ اک ستارہ تھا 'وہ'کہکشاں ہوگیا (بشکریہ: نوائے افغان جہاد، ستمبر ۲۰۱۲ء)

Item Preview

You must log in to view this content

SIMILAR ITEMS (based on metadata)