Skip to main content

رمضان المبارک اور مجاہدین … سال ۱۴۴۱ ھ بمطابق ۲۰۲۰ ء دنیائے تاریخ میں سیاہ ترین سال اور مشکلات کا سال سمجھا جا رہا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ کرونا وائرس ہے … پوری دنیا میں لاک ڈاؤن کا چرچا ہے بین الاقوامی پروازیں بند ہیں ملک کی اندرونی ٹرانسپورٹ بند ہے ہسپتالیں بند اسکول اور دفاتر بند کالج یونیورسٹیاں بند تمام نجی وسرکاری ادارے بند کاروبار بند لوگ گھروں میں محصور، میڈیا پر اموات ہی اموات کا ذکر تعداد لاکھوں میں … سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ مسجدیں بند کردی گئی ہیں جو کھلی ہیں اس میں بھی محدود لوگوں کو اجازت ہے اور وہ بھی فاصلے میں رہ کر نماز ادا کریں گے …. عین اسی سال مجاہدین کے زیرتسلط علاقوں میں مجاہدین کے ماحول کو بالکل برعکس پایا گیا یہاں مجاہدین ایک طرف تو اس بات پر خوش تھے کہ چین میں ایغور مسلمانوں کے ساتھ ظالمانہ تشدد کا بدلہ منتقم ذات کی طرف سے لیا جارہا ہے امریکہ میں اموات کا سن کر بھی “الحمدللہ” کہتے نہیں تھکتے دوسری طرف کرونا سے بے خوف و خطر معمول کی زندگی بسر کرتے نظر آتے ہیں دنیا کی تاریخ میں مجاہدین جیسے متوکلین کسی بھی دیگر طبقے قوم قبیلے یا تنظیوں تحریکوں میں ملنا صرف مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے، نا تو وہ کسی سپر طاقت یا ایٹمی طاقت کی پرواہ کرتے ہیں اور نا ہی یہودی سازشوں اور فکری حملوں سے ڈرتے ہیں بلکہ ہر میدان میں طاغوتِ وقت کے خلاف سینہ سپر ہیں اور اللہ کی فضل و کرم سے وسائل اور افراد کی قلت کے باوجود دشمن ان سے خوفزدہ ہے اور بے خوابی کی زندگی گزار رہے ہیں …. اس کی اصل وجہ کیا ہے؟ یہ جاننے کیلیے مجاہدین کے درمیان ہونا لازمی ہے رواں سال کے ماہ رمضان کی صورتحال ملاحظہ کیجیئے کہ رمضان المبارک میں مجاہدین کیا کرتے ہیں کیا وہ صرف بندوق لیے قتل وقتال اور بم دھماکے ہی کرتے ہیں یا پھر روحانیت کی طرف بھی ان کی کچھ نہ کچھ توجہ ہے؟ اللہ تعالیٰ سے ان کا تعلق کیسا رہتا ہے؟ یہاں ہر فرد کی زبان پر یہی حدیث ہوتی ہے جس میں جبرائیل علیہ السلام بددعا کرتے ہیں کہ ہلاک ہو وہ شخص جس پر رمضان المبارک کا مہینہ گزرجائے اور اس کی مغفرت نہ ہو اور محمدعربی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر آمین کہتے ہیں اسی لیے ہر کوئی دعا کرتے زاروقطار روتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو ہماری مغفرت نہ ہو اور ہم اسی بددعا کے مصداق ٹھہریں … اسی خوف کو لے کر وہ درس قرآن اور صلوٰۃ التراویح کے علاوہ قرآن پاک کی تلاوت کا اہتمام کرتے ہیں اور چونکہ سب ساتھی ملکر مرکز ھجرہ یا دوران اعتکاف مسجد میں افطاری کرتے ہیں تو افطاری کے وقت جوکہ قبولیت کا وقت ہوتا ہے اجتماعی دعا کا بھی اہتمام کرتے ہیں … مجھے اچھی طرح یاد ہے جب رمضان کا مہینہ آتا تو ہم سب ساتھی جب ملتے تھے تو بس یہی پوچھتے کہ کیا کرنا ہے افطار پارٹی کا کب ارینج کرنا ہے اور مشکل سے دو یا تین بار افطار پارٹی کا اہتمام کرتے اور الحمدللہ یہاں تو ہم بھول گئے ہیں کہ مرد بھی گھروں میں کھانا کھاتے ہیں یہاں ہرشام کو افطار پارٹی ہوتی ہے اور غیررمضان میں ہر دن پکنک ہوتی ہے سب مجاہد ساتھی مل کے کھاتے ہیں … یہاں مسجدوں میں دروس قرآن کے علاوہ صبح تقریباً چھ بجے سے دوپہر ایک بجے تک تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ایف ایم عمرریڈیو پر بھی درس کا اہتمام کیا گیا تھا جو تحریک طالبان پاکستان کے نوجوان عالم دین مولانا یاسر دیروی حفظہ اللہ نے انتہائی احسن طریقے سے انجام دیا گھر میں ایف ایم پر درس سننے کے بعد جب بندہ مسجد میں نماز پڑھنے جاتا تو نماز کے فوراً بعد تحریک طالبان پاکستان کے شمالی زون کے مرکزی قاضی مفتی ابوعمار بنگش حفظہ اللہ کی طرف سے کیے جانے والے درس قرآن میں بیٹھ جاتا اور عصر تک ان کے پرکشش درس سے مستفید ہوتا … مجاہدین عصر پڑھنے کے بعد انفرادی تلاوت کے بعد افطاری کا وقت قریب ہونے پر دعا کیلیے بیٹھ جاتے اور افطاری کے بعد عشاء اور تراویح کیلیے تیاری میں وقت گزرجاتا ….. چھوٹا سا سرحدی علاقہ ہے اور رواں ماہ میں ھم تقریباً دس ختم القرآن تقریبات میں شامل ہوئے چار پانچ ایسے تھے جس میں کچھ مجبوریوں کی وجہ سے ہم شامل نہ ہوسکے اس میں تین ختم درس قرآن کے تھے اور باقی تراویح کے … ختم تقریبات کا اپنا ہی مزہ ہوتا ہے اس کو صرف وہی لوگ محسوس کرتے ہیں جو ثواب کی نیت سے اس میں شامل ہوجائیں. یہ ایسی مجالس ہوتی ہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں برستی ہیں اللہ تعالیٰ اس مجلس میں شامل ہونے والے تمام افراد کی مغفرت کا اعلان کرتے ہیں حتیٰ کہ اگر کوئی بندہ اس لیے اس مجلس میں بیٹھا ہو کہ اس کو مجلس میں موجود کسی فرد سے کوئی کام ہو تو اس کو بھی بخش دیا جاتا ہے …. تو ایسی مجالس کا انعقاد یقینی طور پر مجاہدین کیلیے فتح کی امید کے سوا کچھ نہیں … ابھی بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی رواں سال تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی رہنماؤں سمیت سینکڑوں مجاہدین نے آخری عشرہ میں اعتکاف جیسی اہم ترین عبادت کو بھی انجام دیا للہ الحمد …. اس سال اللہ تعالیٰ کا کرم تھا روزے بھی پورے ہوئے یعنی کئی سال بعد پورے تیس روزے رکھے گئے یعنی اللہ تعالیٰ نے اس مبارک مہینے میں ایک دن کا اضافہ کرکے مسلمانوں اور خصوصاً مجاہدین کو مزید برکات سے نوازا …. مسجدوں میں نماز عید کے اعلانات کیے گئے اور نماز کیلیے وقت اور جگہ مقرر کی گئی… صبح سب تیاری مکمل کرنے کے بعد عیدگاہ پہنچے تو مفتی ابوعمار بنگش حفظہ اللہ رمضان المبارک اور عیدالفطر کے حوالے سے بیان فرما رہے تھے نماز پڑھنے اور خطبہ سننے کے بعد عیدگاہ سے نکلے تو سب ایک دوسرے سے گلے ملے عیدمبارک ہوئی .. تقبل اللہ مناومنکم صالح الاعمال …. نہ لاک ڈاؤن کا غم نہ کرونا کی ٹینشن، سب گلے ملے تحریک کے کئی امراء کے پاس گئے ان کی دعائیں لیں ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں تھی اگر کسی کے درمیان توں توں میں میں تھی وہ بھی ختم کردی گئی دل سے ایک دوسرے کو معاف کیاگیا … یہ تو اس چھوٹے سی علاقے کا آنکھوں دیکھا حال ہے جس میں ہم رہتے ہیں اس کے علاوہ ہمارے مجاہدین ساتھیوں پر مشتمل دسیوں علاقے ہیں اور ہر علاقے والوں سے جب ہم نے دریافت کیا تو رواں سال پچھلے کئی سالوں سے مختلف رہا اور بعض علاقوں میں ہمارے مدارس بھی ہیں جس کی رپورٹ سن کر دل خوشی سے پھول جاتا ہے ….. اللہ تعالیٰ تمام امت مسلمہ کو اور خصوصاً مجاہدین کو ہر سال رمضان اور غیر رمضان میں ایسے ہی عبادات کی توفیق عطا فرمائے اور ان کی دعائیں ہمارے حق میں قبول فرمائے …. آمین https://justpaste.it/5pjmr https://justpaste.it/5pjmr/pdf #harf_e_haqeeqat #mukarram_khurasani

Item Preview

You must log in to view this content

SIMILAR ITEMS (based on metadata)