Skip to main content

کیا دورحاضر میں جہاد کرنا فتنہ ہے؟ ترجمہ: انصاراللہ اردو ٹیم سوال نمبر: 5243 ہمارے عالی قدر اوربا بصیرت امام ابوہمام الاثری: اللہ کی قسم میں آپ سے اللہ کی خاطر محبت کرتاہوں۔ اللہ تعالی طواغیت کے دلوں میں آپکا رعب ودبدبہ قائم ودائم رکھے اور مرجئہ کی زبانوں کے لئے آپکو لاجواب کردینے والی کاٹ دار تلوار بنائے رکھے ۔ ہمارے ہاں عراق میں مرجئہ لوگوں کے سامنے جب کبھی بھی جہادو غزوہ کا مسئلہ بیان ہوتاہے تو یہ اسکو رد کریتے ہیں، اس حجت کی بناء پر کے ہم فتنے کے دور میں رہ رہے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم فتنوں سے کنارہ کشی اوردوری اختیار کریں۔اپنے اس نظریہ پر وہ احادیثِ فتن سے استدلال کرتے ہیں۔ اس شبہے کے ذریعے سےان لوگوں نے بہت سے نوجوانوں کو جہاد ترک کرنے پر اکسایا ہے۔ ہم آپ سے اس شبہے کا لاجواب رد کرنے کی امید رکھتے ہیں۔ ہمارے محبوب شیخ!اللہ آپکوجزائے خیرعطافرمائے۔ سائل: داحر الطواغیت جواب: منبر کی شرعی کمیٹی میں اس ذات کی خاطر آپ سے محبت کرتاہوں کہ جس کی خاطر آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں۔ میرے سائل بھائی ! یقیناَ اللہ اور اسکے رسول کےحکم پر لبیک کہتے ہوئے سرکشوں، حملہ آوروں اور ان کے مددگاروں کے خلاف جہاد کرنا فتنہ نہیں بلکہ فتنہ تو اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی میں ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا: فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (النور: 63) "رسولؐ کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ڈرنا چاہیے کہ وہ کسی فتنے میں گرفتار نہ ہو جائیں یا ان پر دردناک عذاب نہ آ جائے " اس لئے امام بخاری رحمہ اللہ نے ایک مرفوع حدیث ذکر کی ہے جس میں ہے کہ: (ألا وإنه يُجَاء برجال من أمتي فيؤخذ بهم ذات الشمال، فأقول: يا رب أصيحابي، فيقال: إنك لا تدري ما أحدثوا بعدك..) (الحديث) " خبردار میری امت کے کچھ نوجوان آئیں گے تو انہیں جانب شمال سے پکڑ لیا جائےگا تو میں کہوں گا اے میرے پرودگار! یہ میرے امتی ہیں تو کہاجائےگا آپ نہیں جانتے کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کرلیں تھیں"۔ امام بخاری نے اس حدیث کو اپنی صحیح میں کتاب الفتن میں ذکر کیا ہے(یہ ان کی طرف سے اشارہ ہے جیساکہ اپنے تراجم ابواب میں ان کی عادت ہے)دین میں نئے کام ایجاد کرنا، دین کوبدل دینا اور اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی نافرمانی کرنا فتنوں کا سب سے بڑاسبب اوروہ اس کی ایسی بنیاد ہے جو زمانہ قدیم اوردورجدید میں بھی ہے۔ میرے سائل بھائی جان لیں کہ جہاد جس کا حکم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے ،فتنہ نہیں جیساکہ جہاد کوچھوڑنے والے کہتے ہیں بلکہ جہاد کو ترک کرنا فتنہ ہے جیساکہ اللہ تعالی نے فرمایا: وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ ائْذَنْ لِي وَلَا تَفْتِنِّي أَلَا فِي الْفِتْنَةِ سَقَطُوا (الفاضحة: 49) " ان میں سے کوئی ہے جو کہتا ہے کہ "مجھے رخصت دے دیجیے اور مجھ کو فتنے میں نہ ڈالیے۔ سن رکھو! فتنے ہی میں تو یہ لوگ پڑے ہوئے ہیں ۔" جہاد فتنہ کودور کرنے کاشرعی طریقہ ہے جیساکہ اللہ تعالی نے فرمایا: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّالِمِينَ (193) (البقرة) " تم ان سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کے لیے ہو جائے پھر اگر وہ باز آ جائیں، تو سمجھ لو کہ ظالموں کے سوا اور کسی پر دست درازی روا نہیں ۔" نیز فرمایا: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوْا فَإِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (39) (الأنفال) " (اے ایمان لانے والو!) تم ان کافروں سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین پورا کا پورا اللہ کے لیے ہو جائے پھر اگر وہ فتنہ سے رُک جائیں تو ان کے اعمال کا دیکھنے والا اللہ ہے۔ " شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "الجهاد وإنفاق الأموال؛ قد تكون مضرة، لكن لما كانت مصلحته راجحة على مفسدته؛ أمر به الشارع".اهـ (مجموع الفتاوى 1/265) "جہاد کرنا اور مال خرچ کرنا کبھی کبار باعث نقصان ہوتاہے لیکن چونکہ اس کی مصلحت (فائدہ) اسکی خرابی پر مقدم ہے۔ تو شریعت نے اس کا حکم دیاہے۔ (مجموع الفتاوی 1/265) اسی طرح آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: "الجهاد؛ هو دفع فتنة الكفر، فيحصل فيها من المضرة ما هو دونها".اهـ (مجموع الفتاوى 20/52) "جہادفتنہ کفر کودور کرنےکانام ہے چنانچہ اس میں کچھ نقصان بھی ہوتاہے جوفتنہ کفر کے نقصان سے کم ہوتاہے"۔ "الشريعة تأمر بالمصالح الخالصة والراجحة، كالإيمان والجهاد، فإن الإيمان مصلحة محضة، والجهاد – وإن كان فيه قتل النفوس – فمصلحته راجحة، وفتنة الكفر أعظم فسادا من القتل، كما قال تعالى: (وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ) (البقرة: 217)".اهـ (مجموع الفتاوى 27/230) "شریعت خالص اورراجح مصلحتوں کاحکم دیتی ہے جیساکہ ایمان وجہاد ۔چنانچہ ایمان خالص مصلحت ہے اورجہاد (اگرچہ اس میں جانوں کی ہلاکت ہے) تو اسکی مصلحت مقدم ہے اور فتنہ کفر قتل سے بڑافسادہے جیساکہ اللہ تعالی نے فرمایا: "اور فتنہ خونریزی سے شدید تر ہے۔"(مجموع الفتاوی27/230) آپ رحمہ اللہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے: "(كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَكُمْ وَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ…) ، فأمر بالجهاد، وهو مكروه للنفوس، لكن مصلحته ومنفعته راجحة على ما يحصل للنفوس من ألمه، بمنزلة من يشرب الدواء الكريه لتحصل له العافية، فإن مصلحة حصول العافية له؛ راجحة على ألم شرب الدواء".اهـ (مجموع الفتاوى 24/279) "تمہیں جنگ کا حکم دیا گیا ہے اور وہ تمہیں ناگوار ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں ناگوار ہو اور وہی تمہارے لیے بہتر ہو اور ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند ہو اور وہی تمہارے لیے بری ہو۔ اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے۔"(البقرة: 216) لہذا جہاد کاحکم انسانی جانوں کے لئے ناپسند شے ہے لیکن اس کی مصلحت اوراس کا فائدہ جانوں کوملنے والی تکالیف پرمقدم ہے۔ اس شخص کی طرح جو بدذائقہ (کڑوی) دوا پیتاہے تاکہ اسے عافیت مل جائے تو اسے عافیت ملنےکی مصلحت دواپینے کی تکلیف پر مقدم ہے۔" (مجموع الفتاوی24/ 279) اسی طرح آپ رحمہ اللہ نے فرمایا: "الله سبحانه إنما حرم علينا الخبائث لما فيها من المضرة والفساد، وأمرنا بالأعمال الصالحة لما فيها من المنفعة والصلاح لنا، وقد لا تحصل هذه الأعمال إلا بمشقة – كالجهاد والحج والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر وطلب العلم – فيحتمل تلك المشقة ويُثاب عليها، لما يعقبه من المنفعة".اهـ (مجموع الفتاوى 25/282) "اللہ تعالی نے ہمارے پر خبیث (گندی) چیزوں کوحرام قرار دیا ہے کیونکہ اس میں نقصان اورخرابی ہے ،اور ہمیں صالح اعمال کاحکم دیاہے کیونکہ اس میں ہمارے لیے فائدہ اور بہتری ہے۔ بسااوقات یہ اعمال صرف مشقت سے حاصل ہوتے ہیں (جیساکہ جہاد ، حج ،امربالمعروف ونھی عن المنکراور حصول علم) ہیں ۔اس مشقت کوبرداشت کیاجائے اور اس پرثواب حاصل کیاجائے کیونکہ اس میں فائدہ ہے"۔ (مجموع الفتاوی 25/282) شیخ علامہ سلیمان بن سحمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "إذا عرفت أن التحاكم إلى الطاغوت كفر, فقد ذكر الله في كتابه: أن الكفر أكبر من القتل, قال: (والفتنة أكبر من القتل) (البقرة: 217) وقال: (والفتنة أشد من القتل) (البقرة: 191) والفتنة: هي الكفر؛ فلو اقتتلت البادية والحاضرة حتى يذهبوا, لكان أهون من أن ينصبوا في الأرض طاغوتاً, يحكم بخلاف شريعة الإسلام, التي بعث الله بها رسوله صلى الله عليه وسلم".اهـ (الدرر السنية 10/510) "جب آ پ یہ جان چکے کہ طاغوت کی طرف فیصلہ لے جانا کفرہے تواللہ تعالی نے اپنی کتاب میں بیان کیاہے کہ کفر قتل وغارت سے زیادہ بڑاہے جیساکہ اللہ نے فرمایا: "فتنہ قتل سے زیادہ شدید تر ہے۔" فتنہ سے مراد کفرہے ۔پس اگر گاؤں والے اور شہروالے باہم لڑیں حتی کہ مرجائیں یہ اس سےہلکا اور معمولی ہے کہ لوگ زمین پر ایسے طاغوت کو نامزدکریں جو اس شریعتِ اسلام کے خلاف فیصلہ کرے جس کے ساتھ اللہ تعالی نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کومبعوث فرمایا ہے۔" (الدرر السنیہ10/ 510) شیخ علامہ عبدالقادر بن عبدالعزیز (اللہ آپکو رہائی عطافرمائے) فرماتے ہیں کہ: "ولا شك أن الضرر النازل بالمسلمين من تسلط الحكام المرتدين عليهم، وما في ذلك من الفتنة العظيمة، هذا الضرر يفوق أضعافا مضاعفة قتل بعض المسلمين المكرهين في صف العدو أو المخالطين له عن غير قصد حال القتال، إن كثيرا من بلدان المسلمين تسير في طريق الردة الشاملة من جراء هؤلاء، فأي فتنة أعظم من هذا، هذه فتنة تفوق ما يصيب المسلمين بالجهاد من قتل أو سجن أو تعذيب أو تشريد، قال تعالى: (وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنْ الْقَتْلِ)، وقال تعالى: (وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنْ الْقَتْلِ). فيجب دفع المفسدة العظمى (فتنة الكفر والردة) بتحمل المفسدة الأخف (وهو ما يترتب على الجهاد من قتل وغيره) وهذا هو المقرر في القواعد الفقهية الخاصة بدفع الضرر، كقاعدة (الضرورات تبيح المحظورات) وقاعدة (يُتحمل الضرر الخاص لدفع الضرر العام) وقاعدة (الضرر الأشد يُزال بالضرر الأخف) وقاعدة (إذا تعارض مفسدتان روعي أعظمهما ضررا) وقاعدة (يُختار أهون الشرين) وغيرها".اهـ" "بلاشبہ مسلمانوں پر مرتدین کے تسلط کی صورت میں انہیں پیش آنے والا نقصان اور اس میں موجود فتنہ عظیم کا نقصان قتال کی صورت میں دشمن کی صف میں زبردستی لائے گئے مسلمانوں یابغیر ارادے کے ان سے مل جل کر رہنے والے مسلمانوں کے قتل سے کئی گناہ زیادہ بڑھ کرہے۔ یقینا بہت سے مسلمان ممالک ان کی وجہ سے ہمہ گیر ارتداد کے راستے پرچل رہے ہیں تو اس سے بڑھ کر اورکیا فتنہ ہوسکتاہے۔ یہ فتنہ جہاد کی وجہ سے قتل ،قید وسزا اورجلاوطنی کی صورت میں مسلمانوں پر نازل ہونے والے مصائب سے زیادہ بڑاہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا: " فتنہ قتل وغارت سے بڑاہے۔" چنانچہ چھوٹی خرابی (جو قتل وغارت کی صورت میں جہاد کرنے کے نتیجے میں برآمد ہوتی ہے)کو برداشت کرتے ہوئے بڑی خرابی کو دورکرناواجب ہوتاہے اوریہ دفع ضرر(نقصان کودورکرنے) سے متعلق خاص فقہی قواعد میں مقرر ہےجیساکہ یہ قاعدہ "ضرورتیں ناجائز امور کو جائز کردیتی ہیں۔"اسی طرح یہ قاعدہ" کہ عام نقصان کو دور کر نے کے لئے خاص نقصان کو برداشت کیا جائے"۔ اس کے علاوہ یہ قاعدہ "کہ بڑے نقصان کا چھوٹے نقصان کےذریعے ازالہ ہوتاہے۔" علاوہ ازیں یہ قاعدہ " کہ جب دو خرابیاں آپس میں ٹکرائیں (متعارض ہوں) تو اس میں سے زیادہ نقصان دہ خرابی کودور کیاجائے۔" نیز یہ قاعدہ "دو برائیوں میں سے ہلکی ومعمولی کو اختیار کیا جائے"۔ (لعمدۃ فی اعداد العدۃ ص :320) آخر میں میرے سائل بھائی آپ اور آپکے اردگرد رہنے والے لوگ جان لیں کہ آپ نے اپنے سوال کے اندر جن لوگوں کی طرف اشارہ کیا، دراصل ان کا یہ کلام ہی فتنہ ہے پس آپ اسے ماننے سے انکاراور قتال کوترک کرنےوالے سے بچیں ۔اللہ ذوالجلال نے ہمیں اس طرح کے لوگوں سےآگاہ کیاہے چنانچہ ارشادباری تعالی ہے : لَوْ خَرَجُوا فِيكُمْ مَا زَادُوكُمْ إِلَّا خَبَالًا وَلَأَوْضَعُوا خِلَالَكُمْ يَبْغُونَكُمُ الْفِتْنَةَ وَفِيكُمْ سَمَّاعُونَ لَهُمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ (47) لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ وَقَلَّبُوا لَكَ الْأُمُورَ حَتَّى جَاءَ الْحَقُّ وَظَهَرَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ كَارِهُونَ (48) (الفاضحة) " اگر وہ تمہارے ساتھ نکلتے تو تمہارے اندر خرابی کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ کرتے وہ تمہارے درمیان فتنہ پردازی کے لیے دوڑ دھوپ کرتے، اور تمہارے گروہ کا حال یہ ہے کہ ابھی اُس میں بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جو اُن کی باتیں کان لگا کر سنتے ہیں، اللہ اِن ظالموں کو خوب جانتا ہے ۔" لہذا جوشخص یہ فتوی دے کہ جہاد کرنا غیر مشروع ہے اس حجت سے کہ جہاد فتنہ ہے یاہم فتنوں کے دور میں ہیں یامجاہدین فتنوں میں مبتلا ہیں تو وہ مفتی نہیں مفتن (فتنے میں مبتلاہے)۔ صحیح مسلم میں صحیح روایت موجودہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا کہ : (من قال هلك الناس فهو أهلكهم) "جوشخص یہ کہے کہ لوگ ہلاکت میں پڑگئے تووہ ان میں سب سے زیادہ ہلاکت میں ہے۔" میرے سائل بھائی کیاہی خوب ہوگاکہ آپ کسی کہنے والے کی یہ مثال پیش کریں کہ: سأغسلُ عنّي العارَ بالسيفِ جالباً *** عليَّ قضاء اللهِ ما كانَ جالباً وأذهل عن داري وأجعلُ هدمها *** (لديني) من باقي المذمَّةِ حاجباً مفہوم اشعار: میں اللہ تعالی کے ہرفیصلے پرراضی ہوتےہوئے عنقریب تلوار سےاپنے عیب کو دھو ڈالوں گا اور عنقریب اپنے گھر سے بے پرواہ ہوکر دین کی خاطر اس کے منہدم ہوجانےکو دیگر برائیوں کے لئے رکاوٹ بنادوں گا۔ اللہ تعالی سے دعاہے کہ وہ آپکی مدد فرمائے اورآپکے ذریعے اسلام ومسلمانوں کی مدد فرمائے۔ وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين جواب منجانب: شیخ ابوہمام بن عبدالعزیز الاثری عضو شرعی کمیٹی منبرالتوحید والجہاد

Item Preview

You must log in to view this content

SIMILAR ITEMS (based on metadata)