Skip to main content

له ګاونډیانو سره دطالبانو اړیکې 2 طالبان واقعی مضبوط لوگ ہیں Date: 2020-03-03 طالبان واقعی مضبوط لوگ ہیں تحریر: قاری حبیب اللہ آخر کار امریکہ بہادر کے سربراہ ڈونلڈ ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ طالبان مضبوط لوگ ہیں ، جنہوں نے ان کے ساتھ 19 برس جنگ لڑی اور ان کا مقابلہ کیا، ٹرمپ نے گزشتہ روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ طالبان کے معاہدے پر اپنا نام درج کریں گے اور اس پر خود دستخط کریں گے انہوں نے طالبان کے لئے Tough کا لفظ کا استعمال کیا، لغت کی کتابوں میں "tough” کے معنی مضبوط ، لطیف ، متین، محکم، صلب، صارم، حازم، سخت گیر اور شدید ہیں، لغت کی کتابوں میں ان الفاظ کو ایسی چیز کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جو پائیدار ہو، جو ہر قسم کے خطرات کے مقابلے میں مزاحمت اور اسقامت کی صلاحیت رکھتا ہو، اور آخر کار بقا کی جنگ جیت سکے ۔ طالبان نے پچھلے دو دہائیوں کے دوران بڑے طوفان برپا کیے ، نیٹو، علاقائی اور دنیا بھر کے ممالک نے تمام فوجی ، انٹلیجنس اور پروپیگنڈے کے طاقت کے بل بوتے پر طالبان پر حملہ کیا، طالبان کو مارنے اور انہیں صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے پوری دنیا متحد ہوگئی، اور ان کے مقابلوں میں شدت آگئی، ان کے سروں پر لاکھوں کروڑوں ڈالر کے انعامات رکھے گئے، طالبان کو بدنام کرنے کے لئے بہت سارے نام نہاد صحافی، لکھاری اور تجزیہ کار میدان میں اتر گئے، لیکن طالبان کے حق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ قول ثابت ہوا کہ وَلَوْ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَضُرُّوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ رُفِعَتْ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتْ الصُّحُفُ ۔ اور اگر ساری دنیا آپ کو نقصان پہنچانے کے لئے اکٹھی ہوجائے تو آپ کو صرف اتنا نقصان پہنچا سکتی ہے جتنا اللہ تعالی نے آپ کے لئے مقرر کیا ہے، قلم اٹھ چکے ہیں اور صفحات خشک ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ تقدیر میں طالبان کا خاتمہ مقدر نہیں تھا، اس لئے دنیا تھک گئی لیکن طالبان صفحہ ہستی سے مٹ نہیں گئے، اور اب ہر شخص نے تسلیم کیا کہ طالبان سے محاذ آرائی کے بجائے بات چیت کا آپشن استعمال کرنا چاہئے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ طالبان کی مضبوطی کے عوامل کیا ہیں؟ ہمیں پتہ ہے کہ طالبان کے پاس جنگی وسائل بہت کم ہیں تو پھر وہ دنیا سے اپنی طاقت ، استقامت اور مضبوطی کو کیسے منوا سکتے ہیں؟ اس سوال کا جواب شاید ہر کوئی اپنے زاویہ کے مطابق دے سکتا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ طالبان کی مضبوطی کی وجوہات دو چیزیں معلوم ہوتی ہیں ۔ اللہ سبحانہ وتعالی نے سورۃ الانفال میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرمایا: هُوَ الَّذِي أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَ اللہ تعالی نے تمہیں اپنی مدد سے اور مسلمانوں سے قوت بخشی ۔ اس آیت میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و سلم کی کامیابی کی دو وجوہات ذکر ہیں، اللہ تعالٰی کی مدد اور عام مسلمانوں کی حمایت ۔ بلا شبہ وہ لوگ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعی پیروکار ہیں اور ان کے طریقہ کار پر عمل کرتے ہیں ، اللہ تعالی ان کے لئے بھی کامیابی کے اسباب فراہم کرے گا ۔ اب اگر اعلی تجزیہ کی روشنی میں دیکھا جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ طالبان کے استحکام اور کامیابی کی دو وجوہات ہیں، اللہ سبحانہ وتعالی کی مدد اور مسلم قوم کی حمایت۔ طالبان نے کسی ملک کے میزائلوں اور ہتھیاروں سے امریکہ کا مقابلہ کیا اور نہ ہی کسی بین الاقوامی بلاک کی اخلاقی مدد سے مقابلہ کیا بلکہ اللہ نے ان کی مدد کی ہے ، ان کے دلوں اور حوصلوں کو مضبوط کیا، دشمن پر غلبہ عطا کیا۔ ان کے معمولی ہتھیاروں کو اتنا اثر انداز کیا کہ دشمن کو راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور کیا۔ افغانستان کی مسلم قوم نے اپنی تمام تر طاقت ، اخلاص اور جانثاری کے ساتھ مجاہدین کی مدد کی اور کے پیچھے کھڑی ہوئی اور حملہ آوروں کے خلاف ان کی صفوں کو مضبوط کیا ۔

Item Preview

You must log in to view this content

SIMILAR ITEMS (based on metadata)