Skip to main content

ایک مستحکم اسلامی نظام کی امید آرہی ہے! Date: 2020-03-10 ایک مستحکم اسلامی نظام کی امید آرہی ہے! آج کی بات امارت اسلامیہ پچھلے 18 سالوں سے ملک کی آزادی اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے سرگرم عمل جدوجہد کر رہی ہے اور علاوہ ازین سیاسی جدوجہد کے ذریعے بھی ان اہم اہداف کے حصول کے لئے بھرپور صلاحیت کے ساتھ کوشاں ہے ۔ للہ الحمد، اللہ تعالٰی کے فضل و کرم اور افغان قوم کی عظیم قربانیوں کی بدولت غیر ملکی حملہ آوروں نے عسکری محاذ پر شکست کھانے کے بعد سیاسی حل کے ذریعے امارت اسلامیہ سے رابطہ کیا اور مذاکرات کا آغاز کیا، جو انتہائی مشکل مراحل کے بعد بالآخر 29 فروری کو جارحیت کے خاتمے کا تاریخی اور اہم معاہدہ طے ہوا ۔ یہ افغان عوام کے لئے عظیم فتح ہے ، اس معاہدے کے نفاذ کے ساتھ یہ ملک دوبارہ آزاد ہوگا جس پر قابض قوتوں نے چند ملکی مفاد پرستوں کی مدد سے قبضہ کیا تھا ۔ اس معاہدے کے نتیجے میں نہ صرف ملک پر ناجائز قبضے کے خاتمے کے لئے راہ ہموار ہوئی بلکہ افغان عوام کی راحت ، باہمی تفہیم اور بالآخر لوگوں کو ایک ہی ہدف پر جمع کرنے کی طرف پہلا ضروری قدم اٹھایا گیا۔ اس معاہدے کے تحت امریکہ پانچ ہزار قیدیوں کو رہا کرے گا جو گذشتہ 18 سالوں کے دوران ملک کی آزادی کے جرم پر گرفتار ہوئے تھے ۔ جیسا کہ معاہدے میں کہا گیا ہے ، یہ امریکہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان قیدیوں کو رہا کرے کیونکہ وہ ان کے کہنے ، کمانڈ پر اور ان کی خوشحالی کے سبب گرفتار ہوئے تھے۔ امریکہ کو چاہیے کہ وہ اپنے وعدوں کو پورا کرے اور افغانستان کے مسئلے کے حتمی حل ” بین الافغان مذاکرات” کے لئے راہ ہموار کرے ۔ اگر فریق مخالف معاہدے کے مطابق اقدامات اٹھائیں تو امارت اسلامیہ اپنے وقت پر بین الافغان مذاکرات شروع کرنے کے لئے پرعزم ہے ۔ امارت اسلامیہ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ افغانستان کے داخلی مسائل اور مشکلات افغانوں پر منحصر ہیں اور اس کا فیصلہ صرف افغانوں کو کرنا ہے۔ لہذا پچھلے تمام مذاکرات میں اس نے ملک کے اندرونی معاملات (جیسے جنگ بندی ، نظام کی نوعیت اور دیگر امور) پر غیر ملکیوں سے بات نہیں کی ۔ امارت اسلامیہ اس نازک وقت پر تمام دھڑوں سے باہمی اتحاد ، قبضے کے خاتمے کے معاہدے کے لئے پر عزم رہنے ، امن مخالف حلقوں کے خلاف اتحاد اور قومی اسلامی منافع پر توجہ دینے کا مطالبہ کرتی ہے۔ اسی طرح امارت اسلامیہ یقین دلاتی ہے کہ وہ ملک کے تمام اندرونی معاملات پر اپنے عوام کے فیصلوں کا احترام کرتی ہے اور اپنی بھرپور صلاحیت کے ساتھ چار دہائیوں کے بحرانوں کو ختم کرنے اور ایک مستحکم ، مضبوط اور اسلامی نظام کے قیام کے لئے جدوجہد جاری رکھے گی ۔

Item Preview

You must log in to view this content

SIMILAR ITEMS (based on metadata)