Skip to main content

Aaj Ki Baat 06 05 2020 قیدیوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کیا جائے Date: 2020-05-06 آج کی بات امارت اسلامیہ اور امریکا کے مابین دوحہ معاہدے میں اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ امارت اسلامیہ کے 5 ہزار قیدیوں کو 10 مارچ تک رہا کیا جائے گا۔ اس کے بعد بین الافغان مذاکرات شروع ہوں گے۔ معاہدے کو دو ماہ گزر گئے ہیں اور معاہدے میں امارت اسلامیہ کی درج تعداد قیدیوں کو تاحال رہا نہیں کیا گیا ہے۔ امریکا اور کٹھ پتلی انتظامیہ دونوں قیدیوں کو رہا کرنے سے گریزاں ہیں۔ وہ معاہدے کے مکمل نفاذ کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ خاص طور پر قیدیوں کو رہا نہ کرنے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں۔ اس آسان معاملے کو پیچیدہ بناتے ہیں۔ جان بوجھ کر جنگ کو طول دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جب کورونا وبا ملک میں پھیل رہا ہے ، پل چرخی جیل میں اس وبا کے مثبت رزلٹ ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ وبا کی وجہ سے ایک مجاہد قیدی بھی جیل میں انتقال کر گیا ہے۔ اس سے قیدیوں کی رہائی کا معاملہ مزید حساس ہوتا جا رہا ہے۔ قیدیوں کی وعدہ شدہ تعداد جلد از جلد رہا کی جانی چاہیے۔ امارت اسلامیہ نے باربار کہا ہے کہ خدا نخواستہ کرونا وبا جیلوں میں پھیل گئی تو یہ ایک بڑی تباہی کا سبب بنے گی۔ اس تباہی کی ذمہ داری امریکا اور کابل انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ چوں کہ قیدیوں کی رہائی بین الافغان مذاکرات کے آغاز کے لیے ضروری ہے۔ جنگ بندی اور جنگ کا مکمل خاتمہ بھی مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ لہذا پہلی فرصت میں امارت اسلامیہ اور امریکا کے مابین معاہدے پر عمل درآمد ضروری ہے۔ اس کے تحت 5000امارت اسلامیہ کے اور 1000 کابل انتظامیہ کے قیدیوں کا تبادلہ ہونا چاہیے۔ تاکہ بین الافغان مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔ اس میں پائیدار امن اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے افغان عوام کی امنگوں کے مطابق فیصلے کیے جائیں۔ امریکا اور کابل انتظامیہ دن رات انسان دوستی اور مساوات کے بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں۔ اگر ان کے نزدیک بین الافغان مذاکرات اور امن کی اہمیت نہیں ہے تو مظلوم قیدیوں کو بدنام زمانہ جیلوں سے صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کر دیں۔

Item Preview

You must log in to view this content

9 Views

Log in to view this item

Uploaded by sahabhakim9 on

SIMILAR ITEMS (based on metadata)