Skip to main content

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے تحریک طالبان پاکستان کے متعلق خیالات رپورٹ : جہادِ پاکستان پاکستان کے ایٹمی سائینس دان جناب ڈاکٹر عبد القدیر خان نے۱۵ فروری ۲۰۱۳ کو پاکستان کے نجی ٹی وی چینل ڈان نیوز کے پروگرام ’’فیصلہ عوام کا‘‘ کو ایک انٹر ویو دیا ہے۔ اس انٹر ویو میں انہوں نے تحریک طالبان پاکستان کے متعلق نیک خیالات کا اظہار کیا ہے۔ اور تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ ذہنی ہم آہنگی کا اظہار کیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے انٹر ویو کے دوران تحریک طالبان پاکستان کے مجاہدین کے حق میں مندرجہ ذیل الفاظ کہے۔ ہمارا تحریک طالبان پاکستان سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔ وہ ہماری عزت کرتے ہیں۔ جی ہاں اور ہم نے بار بار کہا ہے کہ انکے ساتھ مفاہمت اور بات چیت ہونی چاہیے۔ ہم تو ڈنڈے سے امریکہ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اور انکے اوپر بمباری کی جاتی ہے پورے علاقے کے اوپر۔ وہ تو اس لئے لڑتے ہیں کہ ہم انکو مار رہے ہیں۔ آپ کبھی گئی ہیں وزیرستان میں؟؟ کسی اور صحافی کو کبھی اجازت ملی ہے وزیرستان جانے کی؟؟ وہاں پر ڈرون حملے اور ایف سولہ طیاروں سے بمباریاں ہو رہی ہیں۔ قرآن میں بھی یہ ہے کہ آنکھ کے بدلے آنکھ ناک کے بدلے ناک۔ پھر صحافی نے سوال کیا کہ پاکستان میں جو دھماکے ہو رہے ہیں۔ تو ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ دوسرے لوگ اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ تحریک طالبان اسلام کے ماننے والے ہیں۔ اور دوسرے تخریب کار لوگ دوسروں سے پیسہ لے کر یہ سب دھماکے کر دیتے ہیں۔ پھر صحٓافی نے ذمہ داری قبول کرنے کے متعلق سوال کیا تو ڈاکٹر صاحب نے کہا۔ پتہ نہیں وہ ذمہ داری قبول کرتے بھی ہیں یا نہیں۔ آج کل تو ٹیکنالوجی کے دور میں یہ کسی کیلئے بھی یہ بہت آسان ہے کہ آواز بدل کر اپنے آپ کو طالبان ظاہر کر کے ذمہ داری قبول کر لے۔ ڈاکٹر صاحب نے مزید کہا کہ میں نے خود ان کو مفاہمت کی درخواست کی تھی تو انہوں نے کہا کہ ہم ڈاکٹر صاحب کی بہت عزت کرتے ہیں وہ ہمارے ملک کا اثاثہ ہیں۔ ان خیالات کا اظہار کرنے پر صحافی کے منہ پر شدید نفرت کے تاثرات عیاں ہو گئے اور وہ صحافی اپنی نفرت کا اظہار وہ بار بار عجیب و غریب سوالات کر کے کر رہی تھی۔ مگر ڈاکٹر صاحب بہت سنجیدہ رہے اور تمام الٹے سوالات کا بھی مثبت جواب دیکر صحافی کو مزید نفرت کی آگ میں جلاتے رہے۔ جب صحافی سے کچھ نہ بن سکا تو اس نے اپنی جان چھڑانے کیلئے اس بات ہی کو تبدیل کردیا اور بات کو کسی اور طرف دکھیل دیا۔ ایسا پاکستان میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کسی بھی غیر جانب دار ، معروف ، ہر دل عزیز شخصیت نے اتنے واضح الفاظ میں میڈیا پر آکر مجاہدین کے حق میں بات کی ہے۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان پاکستان کے ایٹمی سائینس دان ہیں اور انکو محسن ِ پاکستان کے نام سے دنیا جانتی ہے۔ ایک طرف تو پاکستانی حکومت افواج اور میڈیا مشترکہ طور پر تحریک طالبان پاکستان (اسلام پسندوں) کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں اور مجاہدین کی حقیقت کو مسلمانوں سے چھپانے کیلئے بار بار میڈیا پر مجاہدین کے خلاف بے بنیاد پراپگنڈا کر رہے ہیں اور ہر طرح سے مسلمانوں کو گمراہ کر کے جہاد و مجاہدین سے دور رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور پاکستان کے دیگر درباری علمائےسو اور خفیہ ایجنسیوں کے اشاروں پر چلنے والی جماعتیں جماعت الدعوۃ وغیرہ آئے دن تحریک طالبان پاکستان کے مجاہدین پر خارجی اور غیر ملکی ایجنٹ ہونے کا الزام لگاتے رہتے ہیں۔ اب ان حالات میں دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ علمائے سو اور درباری مولوی اور سیکولر طبقع، ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر بھی (اسلام پسند مجاہدین کی حمایت کرنے کی وجہ سے) خارجی اور غیر ملکی ایجنٹ ہونے کا الزام لگاتے ہیں یا نہیں۔۔۔؟؟؟

Item Preview

You must log in to view this content

SIMILAR ITEMS (based on metadata)