Skip to main content
Internet Archive's 25th Anniversary Logo

شیخ ایمن الظواہری حفظہ اللہ کا اسلامی ملکوں میں موجود عیسائیوں اور گمراہ فرقوں میں سے قتال نہ کرنے والوں کو نشانہ نہ بنانے کی دنیا بھر کے مجاہدین کو ہدایت Monday, September 23, 2013 · ایک تبصرہ بسم اللہ الرحمن الرحیم شیخ ایمن الظواہری حفظہ اللہ کا اسلامی ملکوں میں موجود عیسائیوں اور گمراہ فرقوں میں سے قتال نہ کرنے والوں کو نشانہ نہ بنانے کی دنیا بھر کے مجاہدین کو ہدایت نیوز رپورٹ: انصار اللہ اردو عالمی جہادی تحریک ’’جماعت القاعدۃ الجہاد‘‘ کے امیر شیخ ایمن الظواہری حفظہ اللہ نے گزشتہ ہفتے 14 ستمبر 2013 کو دنیا بھر کے مجاہدین کے نام ایک ہدایت نامہ جاری کیا جس کا عنوان ہے: ’’جہادی عمل سے متعلق عمومی ہدایات‘‘۔ اس بیان میں انہوں نے: ’’گمراہ فرقوں مثلاً رافضیوں، اسماعیلیوں، قادیانیوں اور صوفیوں کی منحرف قسموں کے خلاف قتال سے گریز کیا جائے، الا یہ کہ وہ خود اہلِ سنت سے قتال کریں۔‘‘ انہوں نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ: ’’اگر وہ قتال پر اتر آئیں تو جوابی کارروائی صرف انہی لوگوں تک محدود رکھی جائے جو قتال کریں اور ساتھ ساتھ یہ وضاحت کی جائے کہ ہماری ان کارروائیوں کا مقصد محض اپنا دفاع ہے۔ اسی طرح ان میں سے جو لوگ ہمارے خلاف قتال نہ کریں انہیں اور ان کے اہل و عیال کو ان کے گھروں، عبادت گاہوں، ان کے تہواروں اور دینی اجتماعات میں نشانہ بنانے سے اجتناب کیا جائے۔ تاہم ان فرقوں کے باطل تصورات اور عقائد و عمل میں ان کی گمراہیوں اور انحرافات کا پردہ چاک کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔‘‘ شیخ ایمن الظواہری نے قتال نہ کرنے والے گمراہ فرقوں کیخلاف جنگ پر ابھارنے سے منع کرنے کی ہدایت: شیخ ایمن الظواہری نے ہدایت نامہ میں مزید کہا کہ: ”جہاں تک مجاہدین کے تسلط و نفوذ والے علاقوں کا تعلق ہے تو ان میں ان فرقوں کو دعوت دینے، ان میں شعور و آگہی پیدا کرنے کی سعی کرنے اور ان کے شبہات کا ازالہ کرنے کے بعد ان سے حکمت کے ساتھ تعامل کیا جائے۔ نیز انہیں نیکی کا حکم اور برائی سے بچنے کی تلقین بھی کی جائے، بشرطیکہ ایسا کرنے سے اس سے بڑا مفسدہ پیدا ہونے کا اندیشہ نہ ہو، مثلاً مجاہدین کا ان علاقوں سے نکال دیا جانا یا ان کے خلاف عوامی رد عمل کی تحریک پیدا ہوجانا یا ایسا فتنہ جنم لے لینا جس سے دشمن کو ان علاقوں پر قبضہ کرنے کا بہانہ مل جائے۔‘‘ شیخ ایمن الظواہری کا اسلامی ملکوں میں موجود عیسائیوں کو نشانہ بنانے سے مکمل اجتناب کرنے کی ہدایت: شیخ ایمن الظواہری حفظہ اللہ نے اپنے بیان میں دنیا بھر کے مجاہدین کو یہ ہدایت جاری کی ہے کہ: ’’اسلامی ممالک میں موجود نصاری، سکھ اور ہندوؤں سے تعرض نہ کیا جائے؛ اور اگران کی جانب سے کوئی زیادتی ہو تو زیادتی کے بقدر جواب دینے پر اکتفاء کیا جائے، اور ساتھ یہ وضاحت بھی دی جائے کہ ہم ان کے ساتھ قتال شروع کرنے کے خواہشمند نہیں! ہم عالمی کفر کے سردار کے خلاف مشغولِ جنگ ہیں اوراسلامی حکومت کے ــــ ان شاء اللہ جلد ــــ قیام کے بعد ہم ان کے ساتھ سلامتی اور نرمی کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ: ’’عمومی طور پر ایسے تمام لوگوں کے خلاف قتال کرنے اور انہیں زک پہنچانے سے اجتناب کیا جائے جو ہمارے خلاف ہتھیار نہ اٹھائیں اور نہ اس میں معاونت کریں، اور تمام تر توجہ بالاصل صلیبی اتحاد پر اور اسی کے ذیل میں اس کے مقامی آلہء کاروں پر مرکوز رکھی جائے۔‘‘ اسی طرح شیخ ایمن الظواہری نے اس امر کو یقینی بنانے کا حکم دیا ہے کہ: ’’غیر محارب عورتوں اور بچوں کو مارنے یا ان سے جنگ کرنے سے گریز کیا جائے، بلکہ اگر وہ ہمارے خلاف قتال کرنے والوں کے اہل وعیال ہوں تب بھی ان کے خلاف ہاتھ اٹھانے سے حتی الامکان اجتناب کیا جائے۔‘‘ جماعت قاعدۃ الجہاد کے امیر شیخ ایمن الظواہری حفظہ اللہ کی طرف سے دنیا بھر کے مجاہدین اور القاعدہ سے وابستہ تمام ذیلی تنظیموں اور جماعتوں کے نام ’’عمومی ہدایات اور رہنما سیاسی اصول‘‘ پر مشتمل ہدایت نامہ کا مکمل متن

Item Preview

You must log in to view this content

SIMILAR ITEMS (based on metadata)