Skip to main content

مرکزی امیرتحریک طالبان پنجاب مولانا عصمت اللہ معاویہ حفظہ اللہ کا پاکستان کے محترم علمائے کرام کے نام کھلا خط مرکزی امیرتحریک طالبان پنجاب مولانا عصمت اللہ معاویہ حفظہ اللہ کا پاکستان کے محترم علمائے کرام کے نام کھلا خط بسم اللہ الرحمن الرحیم مرکزی امیرتحریک طالبان پنجاب مولانا عصمت اللہ معاویہ حفظہ اللہ کا پاکستان کے محترم علمائے کرام کے نام کھلا خط خط کو ڈاونلوڈ کیجیے خط السلام و علیکم عرصہ ہائے دراز سے دل میں یہ خواہش تھی کہ اپنے دل کا درد امت محمد عربی ﷺ کے علما ئے کرام کے پاس لیکر جایا جائے،ان علما کے پاس جن کہ دل و دماغ کو اللہ رب العزت نے بسبب علم بہ عمل کے اپنی محبت کا نور عطا فرما رکھا ہے۔ وہ جو گھمبیر حالات میں ذاتی مصلحتوں سے بالاتر ہو کرامت کی فتنوں میں الجھی ڈوروں کو سلجھا سکتے ہیں اور راہ حق دکھانے اور سمجھانے کا فریضہ ان ہی کی ذمہ داری ہے۔حضرات علمائے کرام کا بال برابر بھی حق سے پہلو تہی کرنا امت کے افرادی خزانے کو باطل کے ڈاکووں کے سپرد کرنے کے مترادف نظر آتا ہے۔حق کے معاملہ کو پوشیدگی کے پردوں سے نکال کر اس کا جرات اور بے باکی کے ساتھ کرنا ہی علما کے مراتب میں اضافے کا باعث ہے۔ دین اسلام کے احکاما ت کے کسی بھی معاملے میں اگر رہنمائی علمائے حق سے نہ لی جائےتو پھر یہ خوب جان لیجیے کہ دین کا ہر کام دین ہی کہ لبادے میں فتنوں کی پرورش کرتا ہے۔اس لئے دین اسلام کی رہبری علم کے ذریعے ہے اور جہاں علم نہ ہو وہاں جہالت ہے ، وہ جہالت جو تو فتنوں کا جنگل ہوا کرتی ہے۔دعوت و تبلیغ ہو یا تصوف و سلوک یا پھر جہاد فی سبیل اللہ جیسا عظیم فریضہ ہو،الغرض یہ کہ ہر دینی کام میں قبولیت کا نور علمائے کرام کی قیادت سے رہنمائی کے بعد ہی حاصل ہوتا ہے۔اس لئے اللہ ارب العالمین نے علم ہی کی بدولت علما کو حاصل ہونے والی خشیت الہیہ کا ذکر فرمایا۔نبی اعظم ﷺ نے اپنی چھوڑی ہوئی متاع’’شریعت‘‘کا وارث علما ہی کو قرار دیا ہے۔مگر قرآن مجید نے ایسے علما کی سخت سرزنش کی ہے جو علم کے با وجود عمل کے شاداب راستوں کو چھوڑ بیٹھتے ہیں،رب العالمین جلال وجباری کے ساتھ کمثل الحمار تک کہہ دیتے ہیں ۔(اللہ ہمارے محبوب علما کے ایمان و ایقان کی حفاظت فرمائے) ذی قدر علمائے امت، آخر ایسی کوئی تو وجہ ہوگی جو امت کے دیگر افراد سے علما کو ممتاز و مقدم بناتی ہےاور یقیناَََ وہ وجہ ‘‘علم کی روشنی میں عمل’’ ہی ہے۔اُن علمائے کرام کا عمل حق بات کا اظہار ہی رہا ہے ، جو ظلم کے ایوانوں میں ہمیشہ دین کی سچائیوں کے جھنڈے لہراتے رہے ہیں۔آسمان نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو ظالم مسلمان حکمران کے سامنے حق بات کا اظہار کرتے ہوئےدیکھا، امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور امام مالک رحمہ اللہ عالمانہ روشنی لے کرمسلمان فتنہ گر حکمرانوں کے سانے ڈٹتے نظر آئے۔ اکبر بادشاہ کا فتنہ ہو یا ملعون انگریزوں کی فتنہ بردازیاں، علما نے اپنے حصے کا کردار خوب نبھایا۔ آج راقم حالات کےگھٹا ٹوپ اندھیروں میں خوف اور اندیشوں کے طوفانوں میں علمائے حق کے سامنے سرزمین ِپاکستان کے حالات کو پیش کررہا ہے اور چاہتا ہے کہ علمائے حق ،فریقین یعنی حکمرانان پاکستان اور طالبان پاکستان کے بارے میں حق کا تعین اور برملا اظہار کریں، چاہے کہ علمائے حق کو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ ، امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور امام مالک رحمہ اللہ جیسا سلوک ہی کیوں نہ سہنا پڑے ،کیوں کہ حضرت کیفی کا شعر زیادہ بہتر حقائق کا ترجمان ہے۔ راہ وفا میں ہر سو کانٹے، دھوپ زیادہ، سائے کم مگراس پر چلنے والے خوش ہی رہے ،پچھتائے کم اس میں بھی شک نہیں کہ تحریک طالبان بوجوہ اپنا موقف پہچانے میں ناکام رہی۔ اگرچہ طالبان کی چاہت تھی کہ علمائے حق کو حقائق سے آگاہ کیا جا سکے۔ کیوں کہ تحریک طالبان ایسے موقع پر وجود میں آئی جب اچانک پاکستانی حکمرانوں نے امریکی اتحاد کا چولا پہنا اور اسی کی بدولت عالم اسلام کے قیمتی اثاثے یعنی مجاہدین کا قتل عام ، وانہ آپریشن،سراروغہ آپریشن، شمالی وزیرستان آپریشن، ڈمہ ڈولاجیسی کاروائی،سوات و مالاکنڈ آپریشن جنوبی وزیرستان (علاقہ محسود آپریشن) کیا۔حد یہ کہ جامعہ حفصہ ؓ اور لال مسجد جیسے دل ہلا دینے والے واقعات نے امت مسلمہ کے غیرت مند نوجوانوں کو بیدار کیا جنہوں نے پاکستان میں بڑھتے ہوئے امریکی اثرات کے سامنے جہادی دیوار بننے کی ٹھان لی۔پھر آئے روز تحریک نئے نئے واقعات و حادثات سے نبردآزما نظر آئی۔سروں پر مسلط امریکی و پاکستانی فوجی شیطانی اتحاد نے فرصت کے لمحات آنے ہی نہ دیے کہ ہم اپنے حالات علما ذی قدر تک پہنچا پاتے۔کیونکہ یہ سب تیز آندھیوں میں کھوئے بادلوں کی گرج چمک کی طرح ہوتاآیا ہے۔ وہ علمائے کرام جنہوں نے ازخود شفقت فرمائی اور طالبان کے پاس آئے اور انکے موقف کو دل جمعی سے سنا،وہ تحریک طالبان پاکستان کے موقف کو شریعت اسلامیہ سےہم آہنگ قرار دیتے ہیں اور سرپرستی و دعاووں کا بھی اہتمام فرماتے ہیں۔ مگر وہ علما جو نہ خود طالبان تک پہنچ پائے اور نہ ہی طالبان کا موقف ان تک پہنچ پایاان حضرات کے پاس صرف پاکستانی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا ہی رہ گیا، جو شیطانی اتحا د کا بڑا معاون اور مددگار دعوتی سلسلہ ہے۔اس میڈیا کی ہر بے پر اڑانگ رنگ لائی۔کبار علما کے بیانات میں طالبان کی کاروائیوں کو غیر ملکی ہاتھ قرار دینے کا سلسلہ سامنے آیا ہے۔علمائے کرام سے منسوب ایسے بیانات طاغوتی حکمرانوں کی دیرینہ خواہش رہی ہے۔ پاکستانی وزیر داخلہ (یہ خط اس وقت تحریر کیا گیا جب رحمان ملک وزیر داخلہ تھا،جو برطانیہ کے ایک سابق وزیر کی کمپنی کا ملازم اور برطانوی حکومت کا معتمد خاص بھی تھا)نے دن رات ایک کرکے علما سے ملاقاتیں کیں اور من پسند طاغوت معاون فتووں کی مانگ وزیر داخلہ کی طرف سے سامنے آتی رہی۔واقعتاَ علمائے کرام کے ایسے بیانات کا سلسلہ شروع ہوا تو دور اونچے پہاڑوں میں گھرے طالبان دل پکڑ کر بیٹھ جاتے کہ کاش حقیقی حالات سے آگاہی کہ بغیراور صرف حکومتی ایما پر ایسے بیانات دینے سے اعراض کیا جاتا تاکہ امت کا لاعلم طبقہ امریکی بانسری نوازوں کے جھانسےسے بچ پاتا۔علما کے سامنے وہ تباہی کے مناظر فوراَ آجاتے ہیں جو طالبان کی کاروائیوں سے ہوئے ہوں مگر وہ لاشیں، خون اور زخمی اور وہ عمل قطعاَََ علما نہ دیکھ پائے جنکے رد عمل میں ایسی کاروائیاں ہو رہی ہوں۔ ایسے حالات میں علمائے امت کو کیا کرنا چاہئے، ہم کچھ عرض کریں، بہتر تو یہ ہے کہ شرعی احکامات بھی دیکھ لئے جائیں ،کیونکہ ایک فریق کہ موقف کو سنے سمجھے بغیر اسے غیر شرعی قرار دے دیناایک بڑی غلطی و سنگین حادثہ ہوگا۔ مجاہدین پر غیر ملکی اعلی کار یا غیر ملکی ہاتھ کا بہتان اگر زبان سےنکلے تو یہ ایک عظیم گناہ ہوگا کیوں کہ ایک فدائی جو خالصتاَ دین کی حفاظت اور شریعت کی محبت میں اپنا خون دے رہا ہے، اس پریہ الزام کہ وہ اللہ رب العالمین کی بجائے کفار کی خوشنودی کیلئے جان دے گیا،یہ ظلم عظیم نہیں تو اور کیا ہے۔ہمارے قابل احترام علما کو یہ غور کرنا ہوگاکہ انکے لئے ایسا کہنا کسی مصلحت کے تحت درست ہو سکتا ہے مگر عوام تو علما ہی کی باتوں کو شریعت سمجھتے ہیں ، اورایسے اقوال سن کر عوام میں زرداری کیانی یعنی امریکہ کی حمایت کا جذبہ پیدا ہو تا ہے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔تحریک طالبان تو ایسے جہاد پر بھی معترض ہے جو جس میں ایجنسی کے تعاون کا شائبہ بھی ہو،پھر وہ خود کس طرح کفار کے اعلی کار بن سکتے ہیں۔ایسے الزامات تو اللہ تعالی کے قہر و غضب کو دعوت دینے والے ہیں۔ اللہ تعالی کفار اور کفار کے ایجنٹوں کو تباہ و برباد فرمائے۔ ذی قدر ذی احترام علمائے کرام سرزمین پاکستان کشت وخون کے طوفان میں گھر چکی ہے لہذا ایسے نازک وقت میں حضرات علمائے کرام کے کند ھوں پر عظیم بوجھ آپڑا ہے۔ہماری دعوت ہے کہ علمائے کرام بالعموم اور با الخصوص جید علما ئے کرام فریقین (حکمرانان پاکستان اور تحریک طالبان پاکستان) کا موقف خود سنیں پھر شریعت کی روشنی میں حق بات کا کھل کر فتوی صادر فرمائیں تاکہ لوگوں میں جو بے چینی اور غلط فہمی پیدا ہوئی ہے وہ ختم ہو۔ایک اجتمائی فتوی صادر فرمایا جائے اور پھر عوام الناس کو اپنے اپنے اسٹیجوں (پلیٹ فارم)سے حق بات سے آگاہ کیا جائے۔تاکہ روز محشر حق بات کو چھپانے کا گناہ علما کرام کے میزان کو بوجھل نہ بنا سکے۔ ذیل میں تحریک طالبان کا موقف مختصر پیش ہے، ملاحظہ فرما کر شریعت طیبہ کی روشنی میں فیصلہ صادر فرمائیں۔ ۱) پاکستان کا حصول نفاذ اسلام کیلئے ہوا تھا،لہذا ملک میں اسلام نافذ کیا جائے۔گزشتہ پینسٹھ (۶۵)سالوں میں ہر طرز سے نفاذ اسلام کا مطالبہ اور جدوجہد کی گئی مگر پھر ممکنہ طریقوں کی ناکامی کے بعد اب جہاد فی سبیل اللہ سے ہی نفاذ شریعت کی سبیل ممکن نظر آتی ہے۔ ۲) حکمرانان پاکستان نے امارت اسلامیہ افغانستان کے خلاف عالمی کفریہ اتحاد کا ہر ممکن جنگی تعاون کیا،کافرانہ معاہدے کیے، مسلمانوں کے قتل عام میں شریک ہوئے، اپنی فوجیں بری بحری اور فضائی اڈے ایک اسلامی ملک کے خلاف استعمال ہوئے ۔لہذا قرآن مجید کی سورۃ آل عمران آیات نمبر اٹھائیس ۲۸، سورۃ المائدہ آیت نمبر اکاون ۵۱، سورۃ النسا آیت نمبر ۸۸ اور ۸۹، تفسیری اقوال ،تفسیرِ قرطبی،تفسیر طبری،تفسیر معارف القرآن فتح الجواد کے تحت علما مفسرین علمائے کرام کے متفقہ فتاوی جات عقیدہ الولاوالبرا(کفار سے دوستی و دشمنی کا عقیدہ)کے تحت حکمرانان پاکستان اور افواج پاکستان کافر و مرتد ہیں، انکے خلاف مسلح قتال و جہاد حکم خداوندی ہے۔ ۳) حکمرانان پاکستان نے جامعہ حفصہ ؓ اور لال مسجدکے علاوہ ڈامہ ڈولہ، باجوڑ، وزیرستان، مہمند، سوات،بونیر (مالاکنڈ ڈویژن)،اورکزئی، خیبرایجنسی میں تین سو ۳۰۰سے زیادہ مساجد کو اور ستر ۷۰ سے زیادہ مدارس کو منہدم کیالہذا شعائر اللہ کی توہین و تذلیل کی بدولت حکومت پاکستان کافر ہو چکی ہے لہذا ان سے بزور تلوار جہاد فی سبیل اللہ جان چھڑانا یعنی ان سے اقتدار چھین کر شرعی اسلامی حکومت قائم کرنا مسلمانوں کی شرعی ذمہ داری ہے۔ ۴) حکمرانان پاکستان نے کافرانہ قانون وضع کیے اور اسلامی شرعی اصولوں(قوانین)یعنی حدود کے احکامات کو مسخ کیا، حکومت پاکستان کا یہ عمل صراصر اسلامی احکامات کا استہزا ہے جو کہ کفر ہے۔ ۵) حکومت پاکستان جب تک اپنے مذکورہ بالا اعوامل و اعمال پر توبہ تائب نہیں ہوتی اور جب تک ملک پاکستان خالصتا اسلامی نظام زندگی کے قالب میں نہیں ڈھالا جاتا یعنی ملک پاکستان میں خالص شریعت اسلامی نافذ نہیں ہوتی ، اس وقت تک یہ جدو جہد شریعت کا لازمی حکم ہے۔ آخری گزارش جناب علمائے ذی قدر ہم نے تحریک طالبان کے چند اہم نکات کا ذکر اس خط میں کر دیا،بندہ(راقم) آپ کے سامنے اس منظر کو پیش کر کے سوال کرتا ہے اور آپ حضرات کے پاوں پر ہاتھ رکھ کر اور پگڑی آپ کے پاوں میں ڈھیر کر کہ آنسووں سے بھرے چہرے کے ساتھ گزارش کرتا ہے کہ ان معاملات پر خوب عرق ریزی کر کے وضاحت شریعت کر دیجئے کہ تحریک طالبان کا موقف شریعت سے ہم آہنگ ہے یا نہیں۔بصورت دیگر ملک زرداریوں،گیلانیوں اور کیانیوں کے مسلط کردہ خدائی عذاب سے نجات نہ پا سکے گا۔ اللہ کرےپاکستان کے ذی قدر علمائے کرام ہماری گزارشات کو قابل غور سمجھیں اور وقت کے اس اہم مسئلہ پر امت کی رہنمائی کا لازمی فریضہ سر انجام دے کر حق گوئی کا حق ادا فرما دیں۔ شہدا کا سرخ خون،علمائے کرام کے قلم کی سیاہی کو ترستی نظروں سے دیکھ رہا ہے۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ والسلام مع الاکرام خادم جہاد: عصمت اللہ معاویہ حفظہ اللہ (مرکزی امیر تحریک طالبان پنجاب)

Item Preview

You must log in to view this content

SIMILAR ITEMS (based on metadata)