Skip to main content

قیدیوں کا تبادلہ اور کابل انتظامیہ کی من مانی Date: 2020-04-18 قیدیوں کا تبادلہ اور کابل انتظامیہ کی من مانی تحریر: سیف العادل احرار امارت اسلامیہ اور امریکہ کے درمیان 29 فروری کو جارحیت کے خاتمے کے حوالے سے اہم اور تاریخی معاہدے میں لکھا گیا تھا کہ دس مارچ کو بین الافغان مذاکرات شروع ہوں گے اور اس سے قبل چھ ہزار قیدیوں کا تبادلہ کیا جائے گا، لیکن معاہدے کے ایک دن بعد اشرف غنی نے قیدیوں کی رہائی سے انکار کیا اور اپنے آقا امریکہ کے سامنے اس بات کی جسارت کی کہ قیدیوں کی رہائی ان کی مرضی سے ہوگی اس میں امریکہ کا کوئی عمل دخل نہیں ہوگا لیکن دو دن بعد امریکہ کے دباو پر اس نے یوٹرن لیتے ہوئے مشروط طور قیدیوں کی رہائی کا عندیہ دیا، 9 مارچ کو تقریب حلف برداری کے دوران اعلان کیا کہ وہ کل پانچ ہزار قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے ایک فرمان جاری کریں گے ۔ 10 مارچ کو اشرف غنی نے اس حوالے سے صدارتی فرمان جاری کیا کہ پہلے مرحلے میں پندرہ سو قیدیوں کو رہا کیا جائے گا اور بین الافغان مذاکرات شروع کرنے کے بعد دیگر قیدیوں کو رہا کریں گے، اس یوٹرن کے بعد امریکہ کے وزیر خارجہ مائک پمپیو اور زلمی خلیل زاد نے فوری طور قیدیوں کی رہائی کا عمل شروع کرنے پر زور دیا، امارت اسلامیہ اور کابل انتظامیہ کی تکنیکی ٹیموں کے ارکان نے امریکہ، قطر اور ہلال احمر کی موجودگی میں ویڈیو کانفرنس میں قیدیوں کے تبادلے پر تین بار تبادلہ خیال کیا اور اتفاق رائے کے بعد طالبان نے تین رکنی وفد کابل بھیجا تاکہ وہ بگرام اور پل چرخی جیلوں میں قیدیوں کی رہائی کے موقع پر ان کی تائید اور توثیق کرے، تاہم حسب معمول کابل انتظامیہ کے حکام نے تین رکنی وفد کے سامنے نئے ایجنڈے رکھ کر قیدیوں کی رہائی کے عمل میں تاخیری حربے شروع کئے، ناجائز ہتکھنڈوں کے ذریعے ایک ہفتہ تک یہ عمل معطل رکھا جس پر امارت اسلامیہ نے امریکہ کے ساتھ دوحہ امن معاہدے سے متعلق اپنے تحفظات کا کھل کر اظہار کیا، امارت اسلامیہ نے پہلی مرتبہ امریکہ پر 29 فروری کے امن معاہدے کی شدید خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا ہے۔ امارت اسلامیہ کی جانب سے اتوار کو جاری ایک سخت بیان میں کہا گیا کہ وہ اب تک معاہدے کے پابند ہیں اور اس کے تمام مندرجات کی مکمل طور پر پاسداری کی ہے۔ امریکی حکام نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ امارت اسلامیہ نے طے شدہ سمجھوتے پر عمل کیا ہے ۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ طالبان نے امن معاہدے سے متعلق اپنے تحفظات کا کھل کر اظہار کیا ہے، تفصیلی بیان میں امارت اسلامیہ کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ 29 فروری کے معاہدے کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی توثیق کی تھی اور دنیا نے اسے سراہا اور اسے افغان تنازع کے حل کے لیے بہترین فریم ورک تصور کیا تھا۔ انہوں نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ فی الفور خود بھی اور اپنے دیگر اتحادیوں (افغان حکومت) کو بھی معاہدے کی مکمل پاسداری کے لیے کہیں اور اپنا وقار مجروح نہ کرے ۔ بیان میں کہا گیا کہ افغانوں کے درمیان مذاکرات کی بابت بھی طالبان نے بات چیت کے لیے بار بار آمادگی ظاہر کی تاکہ ملک میں ایک دائمی اور پائیدار صلح تک پہنچ پائیں، لیکن ’بدقسمتی سے یہ عمل بھی مختلف بہانوں کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہے۔‘ طالبان کی مراد ان کے پانچ ہزار قیدیوں کی افغان جیلوں سے رہائی ہے جس کے بعد دوحہ معاہدے کے مطابق افغانوں کے درمیان مذاکرات کا عمل شروع ہونا ہے ۔ بظاہر طالبان پر دوحہ معاہدے کے بعد بھی حملے جاری رکھنے کے الزام کا جواب دیتے ہوئے امارت اسلامیہ کا کہنا تھا کہ مکمل جنگ بندی کے کسی سمجھوتے پر پہنچنے سے قبل وہ دیہی و شہری علاقوں میں کابل انتظامیہ کے تمام مراکز پر حملے کر سکتے ہیں، لیکن اس کے باوجود انہوں نے ایسا نہیں کیا ہے۔ ’اب تک کابل انتظامیہ کے شہروں میں قائم مراکز پر حملے کیے اور نہ ہی بڑے فوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ صرف دیہی علاقوں میں ان چند چوکیوں پر حملے ہوئے، جن سے عوام کو تکلیف تھی۔ وہ بھی گذشتہ سال کی نسبت بہت کم ہیں ۔ البتہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف اس کے مقابلے میں اپنی چارج شیٹ پیش کرتے ہوئے امارت اسلامیہ کے قائدین نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اندرونی و بیرونی فوجی اتحادیوں نے ان کے خلاف یہ خلاف ورزیاں کی ہیں ۔ ۔ پانچ ہزار قیدیوں کی رہائی کا عمل بلاوجہ غیرمعقول دلائل کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوا ہے ۔ ۔ جنگی مقامات سے دور مجاہدین کے مراکز پر لگاتار حملے ہوئے ہیں ۔ ۔ عام شہری سمیت متعدد مقامات پر امریکی اور افغان افواج نے چھاپے مارے ہیں ۔ ۔ شہری ٹھکانوں پر ڈرون حملے اور بمباریاں ہوئی ہیں ۔ ۔ ہمارے زیرکنٹرول علاقوں میں پہرا دینے اور راستے پر چلنے والے عام مجاہدین کو ڈرون کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ (ہلمند، قندہار، فراہ، قندوز، ننگرہار، پکتیا، بدخشان، بلخ اور ملک کے دیگر علاقوں میں معاہدے کی متعدد بار خلاف ورزیاں ہوئی ہیں، جن کی تفصیلات انہوں نے وقتا فوقتا امریکی چینلوں سے شیئر کی ہیں) ۔ امارت اسلامیہ نے شک کا اظہار کیا کہ اگر اس قسم کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو اس سے بداعتمادی کی فضا پیدا ہوگی، جو نہ صرف معاہدے کو نقصان پہنچائے گی، بلکہ ہمارے مجاہدین کو بھی ردعمل پر مجبور کرتے ہوئے جنگی کیفیت میں اضافے کا سبب بنے گی ۔ امارت اسلامیہ کا ایک وفد افغان حکام سے ان کے قیدیوں کی رہائی کے لیے کابل میں موجود ہے لیکن ابھی تک اس عمل میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے ۔ بعض ماہرین نے اس بات ہر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ اگر طالبان کو حملوں کی اجازت تھی تو پھر ’تشدد میں کمی‘ پر زور دینا بے جا مطالبہ ہے ۔ امارت اسلامیہ نے کابل سے اپنا تین رکنی وفد واپس بلایا تو اس کے دو دن بعد کابل حکام نے قیدیوں کی رہائی کا عمل شروع کیا، ہر روز سو قیدی رہا کئے جاتے ہیں، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امارت کے وفد کی موجودگی میں قیدیوں کی رہائی کا عمل کیوں شروع نہیں کیا گیا اور مختلف بہانوں سے امارت کو ناراض کیا جس پر امارت نے اپنا وفد واپس بلایا اور وفد کی واپسی کے بعد رہائی کا عمل شروع ہوا، بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دراصل سوچے سمجھے منصوبے کے تحت یہ حربہ استعمال کیا گیا تاکہ وفد کی واپسی کے بعد کابل حکام طالبان قیدیوں کی آڑ میں داعش کے جرائم پیشہ عناصر بھی رہا کریں، انسٹییوٹ آف پیس کے سربراہ خلیل صافی نے کہا کہ تین سو طالبان قیدیوں میں داعش کے جنگجو اور دیگر جرائم پیشہ عناصر بھی شامل ہیں، اسی لئے کابل حکام نے مختلف بہانوں سے طالبان کو ناراض کر کے وفد کی واپسی کے بعد مطلوبہ افراد کو طالبان قیدیوں کی آڑ میں رہا کر دیا ۔ دوسری جانب امارت اسلامیہ نے بھی قیدیوں کے تبادلے کے سلسلے میں قندہار میں افغان فوج کے 20 اہل کاروں کو رہا کر دیا، قندہار میں ہلال احمر کے سپرد کرنے والے اہل کاروں کو پانچ پانچ ہزار کرایہ بھی دے دیا، سفید لباس اور سفید ٹوپیوں سے مزین افغان فوج کے اہل کار جو بظاہر طالبان معلوم ہورہے تھے، نظریاتی لحاظ سے طالبان بن گئے، امارت نے ان سے واپس افغان فوج میں شمولیت اختیار نہ کرنے کی کوئی ضمانت نہیں لی کیوں کہ ان کی فکری تربیت ہونے کے بعد وہ پھر کبھی بھی فوج میں دوبارہ شمولیت اختیار کرنے کی غلطی نہیں کریں گے، وہ طالبان کے حسن اخلاق سے انتہائی متاثر تھے، جبکہ کابل انتظامیہ کے زیر انتظام بدنام زمانہ جیلوں سے جو طالبان قیدی رہا کیے جاتے ہیں ان سے ضمانت لی جاتی ہے کہ وہ دوبارہ محاذ پر نہیں جائیں گے، ان مظلوم قیدیوں پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے جانے کے بعد بھی کابل حکام ان سے ڈرتے ہیں کہ وہ دوبارہ محاذ پر جائیں گے اور ان کے خلاف لڑیں گے، انہیں معلوم ہے کہ وہ ایک مضبوط عقیدے کی بنیاد پر جہاد کرتے ہیں، تاریخ میں یہ بھی درج ہوگا کہ طالبان کی قید سے رہا ہونے والے تمام غیر ملکیوں نے اسلام قبول کیا ہے، 2001 میں برطانوی صحافی، امریکی کمانڈر اور حالیہ مہینوں میں اسٹریلوی پروفیسر واضح مثالیں ہیں ۔ کابل انتظامیہ کے حکام نے دعوی کیا ہے کہ طالبان چاہتے ہیں کہ ان کے 15 بڑے کمانڈر چھوڑ دیے جائیں جس پر امارت اسلامیہ نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کابل حکام وقت ضائع کر رہے ہیں۔ بی بی سی کے مطابق یہ تعطل ان 15 قیدیوں کی رہائی کی باعث آیا ہے جنہیں کابل انتظامیہ متعدد بڑے حملوں میں ملوث قرار دیتے ہیں اور اس کے مطابق وہ طالبان کے اہم کمانڈرز ہیں جبکہ طالبان ان کو اپنا ساتھی قرار دیتے ہیں۔ قطر دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے بتایا کہ یہ 15 افراد کوئی طالبان کمانڈر نہیں ہیں بلکہ ان افراد کا انتخاب اس لیے کیا گیا کیونکہ یہ تمام ان جیلوں اور قیدیوں سے مکمل واقف ہیں جن کی فہرست طالبان نے افغان حکومت کو فراہم کی ہے اور یہ افراد ان جیلوں میں قید ان قیدیوں کی نشاندہی کریں گے ۔ سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ ‘وہ یہ نہیں کہتے کہ یہ پندرہ افراد رہا کر دیے جائیں بلکہ یہ افراد ان ٹیکنیکل ٹیموں کے ساتھ رہیں گے اور کام کریں گے تاکہ ان تمام قیدیوں کی صحیح نشاندہی ہو سکے۔’ انہوں نے کہا کہ یہ پندرہ افراد گھروں کو نہیں جائیں گے بلکہ ایسا لگتا ہے کہ کابل انتظامیہ نہیں چاہتی کہ معاہدے پر عملدرآمد ہو اور امن کا قیام بروقت ہو سکے ۔

Item Preview

You must log in to view this content

SIMILAR ITEMS (based on metadata)