Skip to main content

ایرانی فوجی افسر کی اعترافی ویڈیو: پاکستان، سعودیہ اور لبنان میں تخریبی کارروائیوں کے لیے سپاہ پاسداران انقلاب کے کئی شیعی نیٹ ورک سرگرم ہیں نیوز رپورٹ: انصار اللہ اردو بلوچ مسلمانوں کی سب سے بڑی جہادی تحریک ’’عدل آرمی ‘‘(جيش العدل، ARMY OF JUSTICE)‘‘ جو ایران میں اہل سنت مسلمانوں کو حقوق دلانے اور ان کو مجوسی شیعی نظام حکومت کی غلامی سے آزاد کرانے کے لیے ایرانی فوج کیخلاف سرگرم سب سے بڑی جہادی جماعت ہے۔ بلوچیوں کی اس جہادی جماعت کی بڑھتی ہوئی جہادی کارروائیوں کے پیش نظر ایران نے ان کیخلاف فوجی آپریشن کرنے کا سوچا اور اس فوجی آپریشن شروع کرنے سے پہلے پیشگی علاقہ کا جائزہ لینے کے لیے سپاہ پاسداران انقلاب کے ایک فوجی افسر کو وہاں بھیجا، جس کو مجاہدین نے گرفتار کرلیا اور اس نے ایران کے اسلامی ملکوں میں چلنے والے تخریبی اور جاسوسی نیٹ ورکوں سے پردہ اٹھاتے ہوئے تہلکہ خیز انکشافات کیے۔ تفصیلات کے مطابق 30 اکتوبر 2013ء کو ’’جیش العدل‘‘ کے بلوچی مجاہدین نے سپاہ پاسداران انقلاب کے اس ایرانی فوجی افسر اور اس کے ایک اہلکار کو جنوبی مشرقی ایران میں واقع بلوچستان اور سیستان صوبے کے سرحدی علاقہ سراوان سے گرفتار کیا جہاں یہ بلوچی مجاہدین کیخلاف بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن شروع کرنے کی راہ ہموار کرنے کی خاطر خفیہ طور پرعلاقہ کا جائزہ لینے اور ریکی مشن پر آیا ہوا تھا۔ ویڈیو میں ایرانی فوجی افسر ’’پیر محمد شہنوازی‘‘ نے اپنی سپاہ پاسداران انقلاب کے پاکستان، افغانستان، سعودیہ، عراق، شام اور لبنان میں تخریبی کارروائیوں کو انجام دینے کے لیے سرگرم شیعی نیٹ ورکوں کی سرگرمیوں کی تفصیلات کو بتایا۔ ویڈیو میں مجاہدین کے ترجمان نے اس ایرانی فوجی افسر کو رہا کرنے کے لیے ایرانی حکومت کے سامنے اپنا یہ مطالبہ پیش کیا کہ وہ اپنی جیلوں میں قید اہل سنت کے کردی، بلوچی اور عرب احوازی مسلمانوں کو رہا کریں، سپاہ پاسداران انقلاب مسلمانوں کا قتل عام کرنے والی سرگرمیوں کو بند کریں، شامی مسلم عوام کی خونریزی کرنے کو روکیں، مسلمانوں کیخلاف جاری اپنی تخریبی اور جاسوسی سرگرمیوں کو بند کریں اور شامی نظام حکومت کی جیلوں میں سے 50 سنی مسلم خواتین کو رہا کریں۔ پاکستان، افغانستان، سعودیہ، عراق، شام اور لبنان میں تخریبی کارروائیوں کو انجام دینے کے لیے سرگرم شیعی نیٹ ورکوں کی سرگرمیوں سے پردہ اٹھانے والے سپاہ پاسداران انقلاب کے ایرانی فوجی افسر کے شناختی کارڈ ز کی تصاویر کو یہا ں سے دیکھیں: سپاہ پاسداران انقلاب کے ایرانی فوجی افسر کا پاکستان، افغانستان، سعودیہ، عراق، شام اور لبنان میں تخریبی کارروائیوں کو انجام دینے کے لیے سرگرم سپاہ پاسداران انقلاب کے شیعی نیٹ ورکوں کا اعتراف کرنے کی ویڈیو یہاں سے دیکھیں: https://www.youtube.com/watch?v=2LntpKfSROw جہاد دشمن ’’العربیہ‘‘ ٹی وی چینل پر بلوچی مجاہدین کے ہاتھوں گرفتار سپاہ پاسداران انقلاب کے ایرانی فوجی افسر کی نشر ہونے ولی چھوٹی سی ویڈیو کو یہاں سے دیکھیں، جس میں وہ ایرانی انقلابی گارڈز کا پاکستان، افغانستان، سعودیہ، عراق، شام اور لبنان میں تخریبی کارروائیاں کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے تفصیلات بتارہا ہے: یاد رہے کہ: ایران اس وقت امریکہ واسرائیل کے بعد تیسرا وہ ملک ہے، جو اسلام ومسلمانوں کیخلاف دنیا میں عالمی جنگ لڑرہا ہے اور دین شیعیت کی آڑ میں مسلمانوں کا خون شام، لبنان، یمن، عراق، افغانستان، پاکستان، انڈونیشیا، ملائیشیا، بحرین سمیت کئی ملکوں میں بہارہا ہے جبکہ اسلامی ملکوں میں اہل سنت کی نسل کشی اور ان کا اثر ونفوذ کم کرنے کے لیے کئی ملکوں میں شیعی باغی علیحدگی پسند تحریکیں بھی چلارہا ہے۔ مصر میں اخوان المسلمین حکومت کیخلاف جو فوجی انقلاب آیا، اس میں بنیادی کردار بھی ایران اور اس کے شیعوں نے ادا کیا جیساکہ اس کا اعتراف قاہرہ میں واقع شیعی مرکز نے کیا اور خود ہی فخر سے بتایا کہ: صدر مرسی کیخلاف پہلے انقلاب کی ریلی ان ہی کے شیعی ریسرچ مرکز سے نکلی تھی۔ اسی طرح آزاد مصری میڈیا نے البرادعی جیسے سیکولر رہنماؤں کے شیعی ہونے اور ایران کے وفادار ایجنٹ ہونے کے ٹھوس ثبوتو ں کو نشر کیا جبکہ البرداعی اور جنرل سیسی کے ایران کے ساتھ خفیہ تعلقات سے بھی پردہ اٹھایا۔ ایران کی اسلام دشمنی عرب ممالک یہاں تک کہ انڈونیشیا اور ملائیشیا جیسے ملکوں کی سنی مسلم عوام کے سامنے بالکل واضح ہیں اور وہ ایران کو اسلام دشمن کے سکہ کا دوسرا رخ سمجھتے ہیں، بالکل اسی طرح جس طرح امریکہ واسرائیل سکہ کا پہلا رخ ہے۔ ایران خود اپنے ملک میں جو اہل سنت کے اوپر مظالم ڈھارہا ہے اور اہل سنت کی نسل کشی کرنے کے لیے جن جرائم کا ارتکاب کررہا ہے، وہ کسی سے مخفی نہیں ہیں۔ ایران کی اسلام دشمنی کا اندازہ لگانے کے لیے یہی ایک حقیقت کافی ہے کہ اس کے دارالحکومت میں یہودیوں اور عیسائیوں کے چرچ وعبادت گاہیں تو قائم ہیں، مگر اہل سنت مسلمانوں کی ایک مسجد تک موجود نہیں ہے۔ ایران میں مسلمانوں کو نمازیں تک پڑھنے، اپنی عیدیں کھلے میدانوں میں ادا کرنے، مساجد ومدارس بنانے، عقیدہ توحید اور قرآن وحدیث کی کتابوں تک کی تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اہل سنت مسلمانوں کے ساتھ ایران میں جو اس وقت سلوک ہورہا ہے، وہ روئے زمین پر اس کے بعد شام وبرما میں ہورہا ہے۔ مگر ایران کا اسلامی ملکوں میں میڈیا اور سیاسی اثر ورسوخ اس قدر گہرا ہے کہ ایران کی اسلام دشمنی اور شیعی مجوسیت کو فروغ دینے کا گھناؤنا کردارعام سیدھے سادھے مسلمانوں سے مخفی ہے، جبکہ ایران نے جمہوریت پسند سنی مذہبی لیڈروں کو مختلف سیاسی وملکی مفادات کے تحت ملاتے ہوئے ان کو ٹشو پیپرز کی طرح استعمال کرکے اپنا امیج بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ لیکن یہ پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ: ایک ایرانی فوجی افسر نے کھلے عام لفظوں میں سپاہ پاسداران انقلاب کا اسلامی ممالک میں تخریبی کارروائیاں کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے اس کی گھناؤنی سرگرمیوں سے پردہ اٹھاکر اسے بے نقاب کیا ہے۔

Item Preview

You must log in to view this content

SIMILAR ITEMS (based on metadata)