Skip to main content

مکتبۃ عمر کی جانب سے پیش خدمت ہے اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطر جان کی بازی لگانے والے ابطال کے قلم سے لکھے گئے تلخ وشیریں، سنہرے الفاظ سے بھرپور مضامین کا سلسلہ بعنوان نورِھدایت مضمون نمبر 22 کیا تمہاری ذمہ داری پوری ہوئی؟ شیخ عبدالرحمن حفظہ اللہ رکن رہبری شوریٰ تحریک طالبان پاکستان http://www.mediafire.com/file/uj30w66spsc0v0x/%25DA%25A9%25DB%258C%25D8%25A7_%25D8%25AA%25D9%2585%25DB%2581%25D8%25A7%25D8%25B1%25DB%258C_%25D8%25B0%25D9%2585%25DB%2581_%25D8%25AF%25D8%25A7%25D8%25B1%25DB%258C_%25D9%25BE%25D9%2588%25D8%25B1%25DB%258C_%25DB%2581%25D9%2588%25D8%25A6%25DB%258C.pdf/file @umarmedia @nashir_um_bot کیا تمہاری ذمہ داری پوری ہوئی؟ (شیخ عبد الرحمٰن حفظه الله ) عجیب وقت آ ہے، احساسِ ذمہ داری دلوں سے نکلتی جارہی ہے، ہر کوئی اپنے کیے اور کرتے پر خوش اور مطمئن نظر آرہاہے، ہر کوئی اپنے کام کو پورا اِسلام سمجھ کر دینِ اسلام کے دیگر احکامات سے عملی روگردانی میں مصروف ہے، اور افسوس تو اس بات کا ہے کہ اپنے آپ کو ولی اللہ سے کم ماننے کو کسی بھی صورت تیار نہیں، ہر کوئی اپنے آپ کو یا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نائب سمجھ رہا ہے یا کسی صحابی اور ولی اللہ کا۔ کوئی کہتا ہے: میں امامت کر رہا ہوں، میں تو وہ ذمہ داری پوری کر رہا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجدِ نبوی کے منبر ومحراب میں بیٹھ کر ادا کرتے تھے۔ کوئی کہتا ہے: میں موٴذنِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا نائب ہوں۔چنانچہ قیامت کے دن جن لوگوں کی گردنیں اونچی ہوں گی میرا بھی اُن میں شمار ہو گا۔ کوئی کہتا ہے: دین اِسلام کی حفاظت کی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے میں علومِ دین کا مدرس ہوں، میں اس شعبہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت کر رہا ہوں۔ کوئی کہتا ہے: میں اسلام کی تبلیغ میں مصروف ہوں، چرسی اور گناہگاروں کو ولی اللہ بنانے میں لگا ہوا ہوں، چوبیس گھنٹے مسجدیں آباد کرنے کی فکر مجھے کھائے جارہی ہے۔ مجھے بیرونی اور اندرونی گشت ، مسجد اور گھر کی تعلیم سے فرصت نہیں ملتی، میں ہر وقت اسی کوشش میں رہتا ہوں کہ ہفتے میں شبِ جمعہ، مہینے میں سہ روزہ، سال میں چہلہ خود بھی لگاوٴں اور دوسروں کو بھی اس راستے پر لاوٴں۔ کوئی کہتا ہے: اسلام میں اصلاحِ نفس انتہائی ضروری چیز ہے، اس لیے میں نے تزکیہٴ نفس کا شعبہ سنبھال رکھا ہے، میں نے اگر اسے چھوڑ دیا تو مسلمان باطنی امراض کے شکار ہو جائیں گے۔چنانچہ میں تو حسن بصری، جنید بغدادی اور شیخ عبد القادر جیلانی رحمہم اللہ کا جانشین ہوں۔ کوئی کہتا ہے: میں حلال روزی کمانے میں مصروف ہوں، تجارت جیسے پاکیزہ پیشے کو اپنا کر میں نے خود کو اور اہلِ خانہ کو دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچارکھا ہے۔چنانچہ میں قیامت میں انبیائے کرام کے ساتھ ہوں گا۔ کوئی کہتا ہے: میں پانچ وقت باجماعت نمازی ہوں، لوگوں کی ایذا رسانی سے بچتا ہوں، کبھی کبھار تلاوت بھی کر لیتا ہوں، ذکر واَذکار بھی اپنے معمول میں شامل ہیں،مسجد ومدرسہ کے چندے میں بھی حتی المقدور حصہ شامل کرتا ہوں۔ میر ا تو یہی خیال ہے کہ اتنا اسلام ہے اور اتنی مسلمانی ہے جو میں ادا کر رہا ہوں، اس سے زیادہ میں کیا کروں؟ الغرض! ہر کسی نے کوئی نہ کوئی مصرورفیت اختیار کی ہے، جس کی بنا پر ہر مسلمان خود کو بریٴ الذمہ قرار دیکر اسلام کو غالب کرنے سے آنکھیں چُرا رہا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ لوگ جو کچھ کر رہے ہیں وہ دین نہیں، یہ یقیناً دین کے کام ہیں ، مگر سوال یہ ہے کہ …صرف اتنا کرنے سے اسلام اور مسلمانوں کے مسائل حل ہو جائیں گے؟ … صرف اتنا کرنے سے اسلام غالب اور کفر مغلوب ہو جائے گا؟ … آیا صرف اتنا کرنے سے اللہ تعالیٰ کی عدالت میں تیری گلو خلاصی ہو جائے گی؟ … اتنا کرکے قرآن تیرے لیے حجت بنے گا یا تیرے خلاف ؟ … قیامت میں مسلمانوں کے اجتماعی قبروں کے متعلق سوال ہو تو تیرا کیا جواب ہوگا؟ … قیامت میں اُن بہنوں اور بیٹیوں کو کیا جواب دوگے جن کی عزتیں لُٹ گئیں؟ جن پر جنسیات کے باب میں نِت نئے طریقے آزمائے گے؟ … اُن قیدیوں کو کیا جواب دوگے جو صرف اسلام کے جرم میں کفار ومرتدین اور اُن کے آلہٴ کاروں کے عقوبت خانوں میں سسک سسک کر اپنی جان خالقِ کائنات کے حوالے کر گیے؟ … قیامت میں اُن والدین کو کیا جواب دوگے جن کے جگر گوشوں کو اُن کے سامنے صرف اس جرم میں شہید کیا گیا کہ وہ شریعت کے نفاذ کے داعی تھے؟ … فحاشی وعریانی کا سیلاب اپنے ساتھ مسلمانوں کو بہائے جا رہا تھا اور تم خاموش تماشائی بنے رہے،آیا اسے روکنا تمہاری ذمہ داری نہ تھی؟ … مسلمانوں کو غیر اللہ کے سامنے سر جھکانے پر مجبور کیا جار ہا تھا، تم کیا کر رہے تھے؟ … اللہ تعالیٰ کے نظام کا استخفاف کیا جا رہا تھا ، اسے ”کالا قانون“کہا جارہا تھا، تم نے کیا عملی اقدامات کیے؟ … قرآن کریم کی بیحرمتی کی جا رہی تھی، اسے سرعام جلایا جا رہا تھا، تم نے ایسے ہاتھوں کو کاٹنے کا بھی سوچا کہ نہیں؟ … میرے نبی کی شان میں گستاخی معمول بن گئی تھی، کبھی غیرت کے جذبات اُبھرے تھے کہ نہیں؟ … روز بروز بے دینی بڑھتی جا رہی تھی، تم نے اس کے سامنے کونسا بند باندھا؟ … سالہا سال سے اللہ تعالیٰ کا قانون محض اوراق تک محدود تھا، تم نے اس کے نفاذ کے لیے کیا کوششیں کیں؟ اسی لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ دین کے بعض کاموں میں مشغولیت نجات کے لیے کافی نہیں، حقیقت یہ ہے کہ ہر مسلمان اس بات کا مکلف ہے کہ وہ پورے اسلام پر عمل پیرا ہو، (البتہ وقت وحالات کے پیشِ نظر الأهم فالأهم کا فارمولا سامنے رکھتے ہوئے اپنے اَفعال واَعمال کو ترتیب دینا اور بات ہے) میں نے جو کہا (کہ پورے اسلام پر عمل کرنا ضروری ہے ، اس کے بغیر نجات نہیں، دنیا وآخرت کی کامیابی اسی میں منحصر ہے) اس کے لیے دلائل کی ضرورت نہیں، کیونکہ یہ ایک واضح بات ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے مطالبہ اسلام کے ہر حکم پر عمل کرنے کا ہے تو صرف ایک آدھ کام کرنے سے نجات کیسے؟ کامیابی کیسے ہمارے قدم چومے؟اسلام کا بول کیسے بالا ہوگا؟ کفر کی شان وشوکت کیسے ٹوٹے گی؟مسلمان کیونکر اپنی پستی سے نکل کر عروج کے لفظ سے آشنا ہوں گے؟ میرے دوستو اور بھائیو! اگر کسی کی خواہش ہے کہ وہ دنیا وآخر ت کی رُسوائی سے بچ جائے، اپنے پاک بدن سے ذلت کا دھبا دھوئے تو سب سے پہلے اسے اسلام کے تمام احکامات معلوم کرنے ہوں گے پھر ہر حکم پر عمل کرنا ہوگا۔ میرے بھائی!یہ دنیا ہماری امتحان گاہ ہے، اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مختلف سوالات ہماری طرف متوجہ ہیں ، اگر اُن سوالات کے جوابات ہم نے دنیا میں سوچے اور عملی جوابات بھی دیئے تو دنیا وآخرت میں کامیابی کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں، ورنہ … دنیا میں ناکامی و نامرادی، ذلت ورُسوائی، غم وخوف سے بچنا مشکل ہے، اور آخرت میں عذابِ الٰہی کا وقوع عین ممکن ہے۔ ایک اور بات بتاتا چلوں ، اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں اس لیے مبعوث فرمایا تھا کہ دین اسلام کو تمام ادیان پر غالب کرے، فرمانِ الٰہی ہے: ﴿هُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّهِ وَلَوْ کَرِهَ الْمُشْرِکُوْنَ﴾(سورة الصف: 9) اور یہ بات یقینی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذمہ داری پوری کی، چنانچہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سمیت پورے حجازِ مقدس میں تمام رُسوم وقوانین کو باطل قرار دیکر صرف وہی شریعت نافذ کی جو خالقِ کائنات نے عرشِ معلی سے انسانوں کے لیے زندگی گزارنے کے واسطے نازل فرمائی تھی۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اُن کے مخلص صحابہٴ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم أجمعین نے اُن کے مشن کو آگے بڑھایا، چنانچہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت صرف عربوں سے منوا کے نہیں چھوڑا، بلکہ اُن عجمیوں کو بھی اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا اقرار کرنا پڑا جو ہزارہا سال سے کفر وشرک کے اندھیروں میں بھٹک رہے تھے اور خود ساختہ یا محرَّف قوانین کے پابند تھے۔چنانچہ صحابہ کرام نے انسانیت کو مخلوق کی عبادت سے نکال کر ربّ العباد کے سامنے سر بسجود کرکے ہی دم لیا۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ دین کو جو غلبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے دور میں حاصل ہوا، وہ کس طرح ہوا؟ …کیا اس کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بنفسِ نفیس جنگی لباس میں ستائیس مرتبہ خود نہ نکلنا پڑا؟! …کیا اس کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دندان مبارک کی قربانی نہیں دی؟ اپنا مبارک لہو اس کی خاطر نہیں بہایا؟! …کیا اس کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھوک سہتے ہوئے اپنے شکم مبارک پر پتھر نہیں باندھے؟! …کیا اس کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیارے وطن سے ہجرت گوارا نہیں کی؟! …کیا اس کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سینکڑوں پیاروں کے جنازے نہیں اٹھائے؟! …کیا اس کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خوف اور محاصرے میں زندگی نہیں گزاری؟! …کیا اس کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن ہزاروں مشرکین وکفار کو قتل نہیں کیا جو غلبہٴ دینِ اسلام کی راہ میں رُکاوٹ تھے؟! …کیا اس کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پیری کے زمانے میں, سخت گرمی کے موسم میں, مدینہ منورہ سے سینکڑوں میل دور، تبوک کے مقام پر خود کو سپر پاور کہنے والے قیصرِ رُوم کے مقابلے کے لیے نہیں نکلے؟! … کیا صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم أجمعین نے غلبہٴ دینِ اسلام کی خاطر بیک وقت دو عالمی قوتوں (رُوم وفارس) سے ٹکر نہیں لی؟! … کیا ہزاروں صحابہ کرام وتابعین اس دین کے غلبہ کے لیے شہید وزخمی نہیں ہوئے؟! … کیا اس کے لیے صحابہ کرام نے قید وبند کی صعوبتیں برداشت نہیں کیں؟! ان سوالوں کے جوابات صرف “جی ہاں، ایسا ہی ہے” کے ساتھ دینے کی بجائے ذرا اپنی گریبان میں جھانکیے اور اپنے آپ سے یہ سولات کیجئے کہ میں نے دینِ اسلام کے غلبہ کے لیے کونسی قربانی دی ہے؟ … کیا میرا لہو اُن بزرگانِ دین کے لہو سے قیمتی ہے؟ … کیا میری پونجی ان کی پونجی سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے؟ … کیا ہمارا وطن ان کے وطن سے زیادہ مقدس ہے؟ … کیا ان کی معیشت ہماری معیشت سے زیادہ مضبوط تھی کہ انہوں نے اپنے زمانے کے ہر طاغوت کو للکارا؟ … کیا اُن کے زمانے کا کفر ہمارے زمانے کے کفر سے مختلف تھا؟ کہ انہوں نے تو گوارا نہ کیا اور ہم ہیں جو اسے اپنے اوپر حاکم تسلیم کرتے ہوئے شرم محسوس نہیں کرتے؟ دین کے جو کام آج ہم کر رہے ہیں اور اُن کی وجہ سے ہمارے لیے گھر بیٹھنا جائز ہو گیا ہے آیا یہ کام صحابہ کرام کے معمول میں نہ تھے؟ کیا خیر القرون میں مدرسین ومبلغین، ائمہ وموٴذنین ، تُجّار ومحترفین اور علماء ومتعلّمین سب کے سب کفر کے مقابلے میں صفِ اوّل میں نظر نہیں آتے تھے؟ یمامہ میں کتنے حفّاظ وقراء حضرات شہید ہوئے؟ ہم ہوتے تو دین کے ضیاع کا بہانا بنا کر حفاظِ کرام کو جہاد پر جانے سے منع کرلیتے، مگر صحابہ کرام نے ایسا نہیں کیا، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ جیسے حافظِ حدیث کو از راہِ شفقت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رُکنے کا کہا، مگر انہوں نے غلبہ اسلام کے لیے لڑنے کو روایتِ حدیث پر ترجیح دی۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے موٴذن تھے، مسجدِ نبوی میں اذان دیا کرتے تھے، مگر اپنی آخری عمر تک جہاد کے راستے کو اپنائے رکھا۔ اَصحابِ صُفّہ جو دینِ اسلام کے متعلمین تھے کونسے غزوے اور سریے سے پیچھے رہے ہیں؟ مہاجرین جن کا پیشہ تجارت تھا، مگر جہاد کے ہر میدان میں پیش پیش رہے ہیں۔ اَنصار ِمدینہ کھیتی باڑی اور باغبانی کرتے تھے، مگر انہوں نے تو عین اُس وقت بھی جہاد کیا جب اُن کی کھیتی اور باغ بالکل تیار تھے اور اُن ضائع ہونے کا خطرہ تھا۔ حالانکہ ان کے دور میں اکثر معرکے ایسے تھے جن میں جہاد فرضِ کفایہ کے حکم میں تھا، اگر نہ جاتے تو گناہگار بھی نہ تھے۔ جبکہ آج جہاد فرضِ عین ہے، بلا عذرِ شرعی (مثلاً نابیناپن وغیرہ نہ ہوتے ہوئے) جہاد چھوڑنے والا گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہے، چاہے وہ دین کے کسی بھی کام میں مشغول ہو۔ اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ ہماری لغزشوں کو معاف فرمائے اور ہمیں سلفِ صالحین خصوصاً صحابہ کرام کے نقشِ قدم پر روانہ فرمائے، آمین۔

Item Preview

You must log in to view this content

SIMILAR ITEMS (based on metadata)