Skip to main content

بنگال میں پاکستانی فوج کی حالت umar 13th جنوری 2020 0 تبصرے بڑکوں کے عالمی چیمئنز، کا ،جب حقیقت سے سامنا ہوا قوم کو دھوکہ دینے والے یحییٰ خان واحد شخص نہ تھے، جنرل نیازی اس میدان میں ان سے بھی دو ہاتھ آگے تھے۔انہوں نے متعدد بار اعلان کیا : ‘‘اگر جنگ چھڑ گئی ،تو میدانِ کارزار بھارت کی سر زمین بنے گی۔’’ اسی جنونی کیفیت میں وہ کبھی آسام اور کبھی کلکتہ پر قبضہ کرنے کی دھمکی دیتے۔ میں نے رائے عامہ کے نقطہ نظر سے ان سے گزارش کی کہ آپ ایسی بےپَر کی نہ اڑائیں، کیونکہ اس سے بے جا توقعات بڑھتی ہیں،جنہیں آپ پورا نہیں کر سکیں گے۔ ۔۔۔۔۔۔۳ دسمبر کو جنگ شروع ہوئی۔۔۔۔اور چار ہی دن کے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔ جنرل نیازی ۷ دسمبر کی شام کو جنگ کی کارگزاری سنانے،گورنر ہاوس پہنچے، گورنر اور جنرل کے علاوہ دو اور سینئر افسر بھی موجود تھے، پھر گورنر مالک نے آہستہ آہستہ گفتگو کا آغاز کیا، گورنر مالک نے ابھی آخری جملہ ہی کہا تھا، کہ جنرل نیازی کا چوڑا چکلا جسم یکایک کپکپانے لگا،اور آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے، انہوں نے دونوں ہاتھوں سے اپنےچہرے کو ڈھانپ لیا،اور بچوں کی طرح سسکیاں بھرنے لگے۔ (بحوالہ کتاب،،میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا۔۔ مصنف بریگیڈیئر صدیق سالک صفحہ ۱۱۷،،،۱۹۱) اسلامی فوج کے اسلامی جرنیل۔۔۔؟؟؟ جنرل نیازی ۱۰ اپریل کو ڈھاکہ پہنچے اور اگلی صبح کمانڈر ایسٹرن کمان کا چارج سنبھال لیا۔ جنرل خادم راجہ نے مجھے بتایا کہ جب وہ فوج کی کمان ان کے سپرد کرچکے تو جنرل نیازی نے پوچھا ۔۔ ‘‘ اپنی داشتاؤں ( گرل فرینڈز) کا چارج کب دوگے؟ ’’ (بحوالہ کتاب،،میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا۔۔ مصنف بریگیڈیئر صدیق سالک صفحہ ۹۴) پھر ہم کہتے ہیں بنگالی غدار ہیں، یہ نہیں دیکھتے کہ ہماری حرکتوں نے انہیں اس حالت تک پہنچایا اس پاکستانی بریگیڈیئر کی کتاب پڑھ لیں کہ حقیقت کھل جائے ۔ یہ اس وقت صدرمملکت کے پریس سیکرٹری تھے۔ اور اس تمام واقعات میں وہاں بنگلہ دیش میں موجود رہے تھے ۔ کوئی شرم ہوتی ہے ۔۔۔ کوئی حیاء ہوتی ہے سقوط ڈھاکہ کے وقت شرم سے ڈوب مرنے کی بجائے جنرل نیازی کی حالت سہ پہر کو بریگیڈئیر باقرصدیقی اپنے بھارتی مدمقابل (یعنی بھارتی ایسٹرن کمانڈ کے چیف آف سٹاف) میجر جنرل جیکب کو لینے ایئرپورٹ تشریف لے گئے۔ اس اثناء میں جنرل نیازی اپنے ‘‘مہمان’’ میجر جنرل ناگرا کی تواضع ((لطیفوں)) سے کرتے رہے میں ان لطیفوں کو دہرا کر اس المناک کہانی کو غلیظ نہیں کرنا چاہتا۔ (بحوالہ کتاب،،میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا۔۔ مصنف بریگیڈیئر صدیق سالک صفحہ ۲۰۹) یاد رہے یہ لطیفے جنگ ہار جانے کے بعد جنرل نیازی اس وقت انڈین فوجی افسروں کو سنا رہے ہیں،جبکہ جنرل نیازی کیلئے تو، یہ ڈوب مرنے کا مقام تھےایک تو جنگ میں شکست اور پھر یہ بےہودہ لطیفے۔ پھر ہم کہتے ہیں بنگالی غدار ہیں، یہ نہیں دیکھتے کہ ہماری حرکتوں نے انہیں اس حالت تک پہنچایا اس پاکستانی بریگیڈیئر کی کتاب پڑھ لیں کہ حقیقت کھل جائے ۔ یہ اس وقت صدرمملکت کے پریس سیکرٹری تھے۔ اور اس تمام واقعات میں وہاں بنگلہ دیش میں موجود رہے تھے

Item Preview

You must log in to view this content

SIMILAR ITEMS (based on metadata)