Skip to main content

قیادت پر غیر متزلزل اعتماد Date: 2020-03-12 قیادت پر غیر متزلزل اعتماد تحریر: سیف العادل احرار امارت اسلامیہ اور امریکہ نے تاریخی معاہدے پر دستخط کئے اور اس سے قبل فریقین کے درمیان جنگ کم کرنے کے معاہدے پر کامیابی سے عمل درآمد ہوا، اور ملک بھر میں کوئی ایسا ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا، جس سے اس معاہدے کو نقصان پہنچے، اس سے یہ ثابت ہوا کہ طالبان متحد ہیں اور یہ افواہ بے بنیاد ہے کہ افغانستان میں 22 گروپس سرگرم اور فعال ہیں کیونکہ اگر طالبان کے بغیر دوسرے گروہ بھی موجود اور سرگرم ہوتے تو اب تک اس کے اثرات بھی ظاہر ہوتے ۔ امریکہ ، نیٹو اور کابل انتظامیہ نے میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈہ کیا کہ طالبان کئی گروہوں میں تقسیم ہو چکے ہیں، حقانی نیٹ ورک، کوئٹہ شوری، سخت گیر طالبان ، اعتدال پسند طالبان اور دیگر نام استعمال کیے گئے لیکن پچھلے اٹھارہ سالوں میں طالبان نے دشمن کے تمام ہتھکنڈوں کو ناکام بناتے ہوئے متحد رہنے کی مثال قائم کی، امارت اسلامیہ کے مجاہدین ایک قیادت اور ایک جھنڈے تلے ملک کی آزادی اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے جہادی اور سیاسی جدوجہد کر رہے ہیں، ان کے دو معروف ترجمان اور اپنی آفیشل ویب سائٹ ہیں، جس طرح پہلے امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ کی قیادت میں تمام مجاہدین اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے جہاد کر رہے تھے، اب بھی وہ موجودہ امیرالمومنین شیخ ھبۃ اللہ اخوندزادہ کی قیادت میں اپنے اعلی اہداف کی تکمیل کے لئے سرگرم عمل ہیں، خلیفہ سراج الدین حقانی اور ملا محمد یعقوب ان کے جہادی امور کے معاومنین جبکہ ملا بردار اخوند ان کے سیاسی امور کے معاون ہیں، کبھی بھی کسی طالبان کے نام اور پتے سے کچھ شائع ہوا ہے اور نہ ہی کوئی ثابت کر سکتا ہے، بلکہ اگر دشمن پر کوئی حملہ ہوتا ہے تو امارت اسلامیہ کے دو ترجمان باقاعدہ بیان جاری کرتے ہیں اس کے علاوہ دشمن اختلافات اور جن گروہوں کا نام لیتا ہے، ان میں سے کبھی کسی نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے، جب زمین اور فضا کی نگرانی امریکہ کر رہا ہے اور ہر جگہ اس کا مکمل کنٹرول ہے تب بھی طالبان نے اپنی صفوں کو متحد رکھا، بہت مشکل حالات میں وہ کابل انتظامیہ اور مشہور سیاسی تنظیموں سے وہ متحد ، منظم اور فعال ہیں بلکہ وہ جنگ کے علاوہ سیاست اور نظم و نسق کی اعلی مثال پیش کر رہے ہیں ۔ عام مجاہدین اپنی قیادت پر غیر متزلزل یقین رکھتے ہیں اور عقیدت کے ساتھ ان کی ہدایات اور احکامات پر عمل درآمد کرتے ہیں اور ایسے مشکل وقت میں بھی اپنی قیادت کی آواز پر لبیک کہتے ہیں اور اس کی مکمل اطاعت کرتے ہیں جو کہ ایک مثال ہے، یہ اللہ تعالی کا کرم ہے کہ مجاہدین متحد ہیں اور ان کے خلاف دشمن کے تمام ہتکھنڈے ناکام ثابت ہوئے ۔ کابل انتظامیہ اور کچھ لوگ یہ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ افغانستان میں 22 عسکریت پسند گروہ سرگرم عمل ہیں اگر ہم طالبان کے ساتھ امن معاہدہ کریں تب بھی ملک میں جنگ ختم نہیں ہوگی، ہم کس کے ساتھ معاہدہ اور مذاکرات کریں، حالیہ چند دنوں کے معاہدے پر عمل درآمد سے ثابت ہوا کہ تمام مجاہدین ایک قیادت اور ایک جھنڈے تلے متحد ہیں، ان میں اختلاف اور 22 گروہوں کی بات بلکل غلط اور من گھڑت ہے، اگر مجاہدین میں اختلاف ہوتا یا متعدد گروہ ہوتے تو کاررائیوں کی شدت کم کرنے کے معاہدے پر عمل درآمد نہ ہوتا بلکہ ملک کے طول و عرض میں پہلے کی طرح دھماکے اور کارروائیاں ہوتیں، کامیاب تجربے سے دشمن کا پروپیگنڈہ دم توڑ گیا ۔ ایک ٹاک شو میں کابل انتظامیہ کے حامی ایک تجزیہ کار نے دعوی کیا کہ طالبان تو متحد نہیں ہیں، شیخ ھبۃ اللہ اخوندزادہ کا الگ گروپ ہے، حقانی نیٹ ورک الگ دھڑا ہے، ملا یعقوب کی سربراہی میں الگ دھڑا سرگرم ہے، اس کے علاوہ داعش سمیت 22 شدت پسند گروپس ملک میں سرگرم ہیں، حکومت کس کے ساتھ مذاکرات کرے، جس پر اینکرپرسن نے برجستہ سوال کیا کہ آپ ان طالبان کے ساتھ مذاکرات کریں جنہوں نے قندوز کو فتح کیا، جنہوں نے فراہ اور غزنی کو فتح کیا، جنہوں نے متعدد صوبوں کو محاصرہ کر رکھا ہے جنہوں نے درجنوں اضلاع کو فتح کیا ہے، جنہوں نے کابل کے دروازے پر دستک دی ہے، جن کی کارروائیوں میں روزانہ درجنوں اہل کار مارے جاتے ہیں ۔ میں چیلنج دیتا ہوں کہ جو لوگ افغانستان میں 22 مسلح تنظیموں کی موجودگی کے دعوے کرتے ہیں وہ ان تنظیموں اور ان کے قائدین کے نام بتائیں، کوئی ایک خبر بطور ثبوت پیش کریں کہ کسی واقعہ کی ذمہ داری ان 22 تنظیموں میں سے کسی نے قبول کی ہوں، ذاتی مقاصد اور سرکاری مراعات کے حصول کے لئے مجاہدین کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرنا ان عناصر کا شیوہ ہے لیکن وہ اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوں گے، ان کی سازشیں ناکام ہو گئیں اور ایسے عناصر بے نقاب ہو چکے ہیں ۔ دشمن نے خود اعتراف کیا ہے کہ ہم نے طالبان کے اندر اختلاف ڈالنے کے لئے کروڑوں ڈالر خرچ کئے اور میڈیا کے ذریعے انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ طالبان کے بجائے کابل انتظامیہ کے اندر اختلافات پیدا ہوئے، طالبان نے امن مذاکرات کے لئے ٹیم کا اعلان کر دیا لیکن کابل انتظامیہ اور سیاسی قائدین اس حوالے سے ایک پیج پر نہیں ہیں ان کے اندر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں یہاں تک کہ کابل انتظامیہ خود بھی متحد نہیں ہے، امریکہ کے ساتھ معاہدے پر دستخط کے بعد بین الافغان مذاکرات کا نیا دور شروع ہوگا لیکن ابھی تک فریق مخالف نے ٹیم کا اعلان نہیں کیا ہے ۔ کچھ لوگ یہ پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ امریکی فوج کے انخلا کے بعد ملک میں خانہ جنگی شروع ہوگی اور ایک بار پھر 90 کی دہائی کی طرح ملک میں انارکی پھیل جائے گی، ان کی خدمت میں عرض ہے کہ روسی افواج کے انخلا کے وقت ملک میں سات جہادی تنظیمیں موجود تھیں اور روسی جارحیت کے خاتمے کے بعد جہادی تنظمیں آپس میں دست و گریبان ہوئیں لیکن اس وقت امریکی جارحیت کے خلاف صرف ایک امارت برسرپیکار ہے، قیادت ایک ہے، جبکہ امارت اسلامیہ نے ملک پر سات سال تک حکمرانی کی ہے اور 19 برس سے امریکہ اور نیٹو سمیت 48 ممالک کی افواج کے خلاف جنگ لڑی ہے، ملک کے تمام 34 صوبوں میں امارت اسلامیہ کے تمام ادارے منظم اور فعال ہیں، ہر صوبے کے لئے گورنر اور مختلف اداروں کے ذمہ داران تعینات ہیں، مثالی نظم و نسق موجود ہے، مجاہدین کے زیر کنٹرول علاقوں میں خانہ جنگی اور لاقانونیت کا کوئی تصور نہیں ہے البتہ کابل انتظامیہ کے زیر کنٹرول علاقوں میں بدامنی، لاقانونیت اور جرائم کے واقعات رونما ہو رہے ہیں لیکن جیسا ہی امن معاہدہ ہوگا اور بین الافغان مذاکرات کامیاب ہوں گے تو وطن عزیز آزاد اور اس میں اسلامی نظام نافذ ہوگا، کرپشن، لوٹ مار، لاقانونیت اور دیگر جرائم کا خاتمہ ہوگا، ملک میں ایک بار پھر مثالی امن قائم ہوگا، دشمن کے تمام حربے ناکام ثابت ہوئے، عوام اور مجاہدین کی قربانیوں کے ثمرات اب سامنے آرہے ہیں قوم کو جلد عظیم خوشخبری ملنے والی ہے ۔

Item Preview

You must log in to view this content

SIMILAR ITEMS (based on metadata)