Skip to main content

Full text of "Ali Mirza انجینئر مرزا کے اعتراضات کے جواب"

See other formats


ایک لام ہب ٹر ر لی م ر زا کے مون ' [ انر عاد عند یروک کانجام] ای کی و ی ماه 





قار می نکرام ! پھر حرصہ ہیل مو بائل کے ذر یج می ملاک“ یس ایک اگنر مھ لی مرزاصاحب نے چٹ مایمن "ر یہر یج بی "کے 
نام سے کے یں ۔اورساتھ بھی دجو کی کیاکہ مر زاصاحب کے مو کا جا ب آ ںی کول بے ے باھار اور عام کی ہیں 07 
چنرروست اجاب, تئ کا علق بجوم سے ہےءانہوں نے اس طر اول و )کہ اا سحت کے عوام النائ سکو مر زاصاحب ب کہ ہک ہہک کے یں 
لہ ال یکا ق ی مال سے کن بللہ ا نکااختلاف بر یادکی دی بند اور یر قل رہن حع رات ے گا ے۔ بے ات ن لر وی رای مون ر 
جب ل نے مر ذاصاحب کے تلام مضا ن کویڑ حاو ہے تیش ت آ کار مو یک مر زاصاح بک با یں دی ہیں جو غیر متتل ر ن حرا تک ہیں اورا ہوں 
نے ونی ولال بج کے ج مہ یر مقل رن حضرات بب لکرتے ہیں۔ ای وجہ سے ھرزاصاحب نے ات مضاشین می کسی خیر مقلد عام ے پاارے 
مم اٹھا ےکی جرات ج لکی۔ ایک صاحب ہہ دن تمل ریک ی یواک مر اصاح بک ت ےک ہکوئی ان کے مضائی کا جاب کک ےکر 
بتاے۔ بی نے ان صاحب سے بو پاک کون ے مون پر وہ سب ے ز یادہ کے ہیں ؟ نوا نہوںل نے مرزاصاحب سے پچ ھکر بتا یاکہ انیس اپنے 
یرت بی جر : 2-8پ ماف رے۔ میں ےجب ای سمو کو یڑ مالو کے بہت اف وی م واک مر اصاحب نے دل وف ر یب او ریک ط رہ ولا تی 
کاسہارالیااور اا سنت وماع ت کے ولک کاک وکر ین ا 
اس مون یں آپ مر زاصاحب کے ایک ایک اعتزات کا جو اب ق رآآن ءاحادیث سحجحہ وحنہ قنا ملاظ ہکریں گے ۔کی وک میا ساق 
ملک ائل سنت وجماعت( ج نکولوگ بر یوک ی کے با یت ہیں ) سے ہے مزا یں عرف اپنے ملک پر سے گے اعتزاضات کے ججوابات دی ےکا پابند 
ہوں_ اس مخممون میں اغہوں نے ۹ا اعتراضات ٹپیی کے ء مجن میں ۸ مسلک ابل سنت و جماعت کے بارے میں تے۔ لہاان اختزاضات کے 
جوابات مقار می نککرام کے نی خدرمت حاض ہیں گزار شش ےکہ تقصب ے بالا تر ہ ھکر ملاحظہ فرمایے اور نیل کے مر زاصاحب پیل علا ۶رر 
یں کرت ہیں او بل راس کے خلا فآبیت یاحدریث جی کرت ہیں زیر نظ رمضمو نیاانداز یھ یوں ہوگاکہ یی مرزاصاح بکاعمل اعتزاض کی 
جا ےگ پرا "اواب بون الو ہاب '' کے عنوا نع سے دیا جا ےگا۔ 
ھرزاصاحب کے اعتراضات )کلام ے تل چند مع روضات عوام الزا سکی خدمت حاض ہیں ء اور اص طور پر ان لوگوں کے لے جو ہے کے 
ہیں کہ ترآ نکر میا صرف اردو تر جم یڑ ھکر ہ رشح نہ صصرف اے کچھ لا سے بلنہ دین اور شر عت کے اح پر کہ ہا صص لکرنے می ںکامیاب ہو سکتا 
ے۔ 
ا۔امام توو ی علیہ ر حمیۃ اد الو فرماتے ہیں : . 
اتر ۳ رآ برک فی بیاا نکر زااددااس کے مصعئ یس الام نارای کی یر حرام ے جوای کاک ا ارش ت 
اعادیث داارد ٹیل اور الپ اجما ق ہے۔(التیانی آداب مدا مآن ص۵١٦۱)‏ 
٣‏ حظرت مواز ین جل ر ی اٹہ تدای ع نے را ۱ ۱ 
نَم ن راکم فعا یافیا الال يځ فيا اران عق يَأَحُلةالُْومِنْوَالبَُاؤقوَالرَجُلِ وَالمَزاَكوَالضَفْبزوَالْکہِیز 
2ال وا فيو شك قال انيمول ما لتاس ل يتبون وق قرات الْقَر ان1 “نال داودہر نا دی ث:۷۱۱٢]‏ 
: تہارے بر ف ہوگےء ان فتوں میں ال 00 و اور ق رآ کول جا ےک کیک اسے مو کن اور منا فی مرو اور 
کرت چھوٹااور ہڈا غلا م اور آز اد کیپ یں کے بم گن تریب کے دالا ک ےکک ل وگو ںک کیام وکاک وہ می رک چیروی یں کے 


عالاککہ مل ت رآ پڑعتاہوں- ِ 
اس حری تکوپڑ ھکر نیہ اخ نکر نا قار تین کے ےآ سان ہوگا۔ اور یھ یہ کیا عال جناب مر زاصاح بکا ہے لوگوں کو ق ران کے نام نےکر 
بہار ہیں۔ 


ان الع ال اک یکیعت ہیں : 
اض لوگ بل کم خو رکو عام کردا ۓ کے ہیں (جییراک مر زاصاحب) اور چی وو متام ے جہاں کر ایا غر عام 
ںاو پلا فاسد ہے زر ےج ایت طا( و کولو رگول ساط کے[ عار ض دالا حو زیر ۹۸] 

ل مزاصاحب ‏ ےکہ وہ تام رآ نپ کر اہن ججھ کے مطا!ن آیات رآ ے ی اور مطلپ ن کے ہیں اور 

میں قر یراو ر ر کے ذر یت پیم یلار ہے ہیں ء ی کے نے میں ایک نے نے اور فسا دک بفیاد رک ر ے ہیں ۔ 


۳۔ م زاصاح بک د وی فو یہ سےکہ ا نکی تح بک مس ی تحصب اور فرقہ واہت سے پاک سے ۳ ا نک رز مل دح خوار ن اد دآ چک کے ٹیر 
مقلد بن عیراے جو دع کہ د سے کے لیے بظاہر فو وگو ںکوق رآ نکر بی کی دعوت دے ہیں یکن خوارح کی ط رح ان ا یکم الا دش یجن م صرف اا کا ہکا 
روک۱ رتی دعحوت تو لکرنے والوں کے سوا باقی لوگو ںکو مش رک +گھراہ باق رن کے مخال فکاخطاب دینے یں مرزاصاحب نے ائل سدت کے رو 
نشین ود مات بی لف کین ار اور کر کی کھت کن ازل :ںا قل اون ےک سے کو را ےا کے راون کے بے یں 
صحاپی ر سول مم حزت پد اشر بن عر ر تی اٹہ یی ع رکا قول بلاحط فر : ٍ ۱ 
قال ابو جَغقر القتیٰ فی کتاب 6یب الاکارلَهنَکا بیو نُس کَتا ائی وهب آَخبرئی عَرُو ٹن الَارِ ثِ ان بکیرا عدثه آنە مال 
افا گی کان رای اټ عم رف احرورية قال یر اهم شر ار خلق الله انلقواِل آیات ف الْکفار فعلوها ف الْمُوْميِيَ 
وکا ذکر ان عبد لبر فی الاستن کار ان این وھب راف جامعھ وین ان بکیرا هو ائ عبد الە یں الاج وإشتادہ 
تیم [ تلین تعلین علی ہج ابفاری جلرہ ص۲۵۹] ۱ 
ترجہ : میچنی حضرت عبراواندبین عمرر شی اللہ توا عد خوار نکو تمام لون میں سب سے بر تر بے ت ےکی وکل وا نآ یا تکوجھکغار کے 
جن میں نازل ہوکھیں مو ن م کر ے نے [اورلوں ان ےکاف روش کک فو ی 6 ۓ]۔ 
انکر دای تکیاسن ہکوحافظہ این تر رح مزال علیہ نے ای کاب غیق طز 259 جلد 5ے 3 اد 
م نے مرزاصاحب کے اعتزاضات کے جواب یں تعدو م ر یں و ب ہن املا ف مت کے جو انے یی بے یں »ی وک م رز اصاحب فرہاے یں : 
''(اعاامتے) ک وج ت اناد رآ عم لت رآن وحری ثکا کم ہے میں تی را ی 
آۓ! اب١‏ کنر مر زا ی صاحب کے ان اعتزاضا تکی طرف لت ہیں جو انہوں نے ابی سنت پر سے اور جن ہیں اتی دانست میس وون ابل 
دد کان 
مرزاصاح ب کھت ہیں :انڈرنے بببددایوں اور عیسائیو لک یگم رای ویر باد کی سب ے ہکوج کا زکرلوں فرایاے 
الوا أَعمَرَهُم وَرُمْمَ اکم أَرَاان خُون الو التوبة: 31 
جم ہآیت مہا رکہ : ا ار لون نے ال رکو چو ڑکر ا در وسل ل وگوں اور علا ءکواپنارب بتالیا ے۔[ وک چو ڑکر 
ا مز رگو ںکی مات ہیں.] (اندہاد حند پیر وی یکا ام : 1 کوان : ببودوفصار کک یگم راد یکی بی وچ ) 






جناب مزا صاحب نے ای تام یړال آیت قل مر کے خودپہودلوں والا رم تہ ایا رکیاے۔ اح لآیت پیتھ یوں ے 
اَی نمريم وما اموا عبد وا ها و احا اة إا هو ناته ايف رون 
ترجہ مع لآیت: ان( ودی اور قسان) اواو ں نے الل ہکو چو ڑ کر اۓ ور وکت ل وگوں اور علاءواو ر این مر مکو اپتار ب بتالیاے 
الاک ا کو گم میں ہوا تناک ایک خداکی یندک یکمریء اس کے سواکوکی عبادت کے لا نی خی دہ پک سے ا ے ج دہش ریک 
تھہراتے ہیں۔ 
جناب مر زاصاحب نے او اتآ شی بات بیا نکی او رآ دع یکھاگے ء پچ رم ہکمہ ا پر ابق رف سے جو بات بر مکٹ می کک ھکر دج کہ دی ےکی 
کوش کیک [ وی مو کر اپنے ہنرگو لکی مات ہیں ]ء دان کے ووک کے لے ناکای سے مکبدکمہ ا آزیت سے مرزاصاحب مہاب تک ایاج 
ہی سکہ در ولیشلوگوں اور علاء کے ا قوا کو لتاب ل وی کے بات کفرے۔ لین مر زاصاحب! داب بھی بتا ےکا خضرت نمی عار الملا م یا بات انار 
وش رک ے او کیا حضرت حسی علیہ السلا مکفرونش رک کا ع مکر کت ہیں ؟! إ۱ اذ باش شای اک وج ہے مر زاصاحب نے ص راط یہوو مواغتیا رک ے 
و ےآ و ی آیت مادا 
ا ا ات ھا رک م زاصاح بک رک ورا مو ا اک کہ ا لآیت کے باقیہ حصہء بے هر زاصاحب نے جح الما تھاء 
می بیبودونصار یک یگمرائ یکی یہ دج جیا نک گی ےکہ انہوں نے الد تال کے ساتج ریک کہ را ہے سے اور ور ویشوں» عاھا ءاور حطس می این مرکم 
علیہ العلا مکو غد ابنالا تھا می ان کی م رای یکا ہب تاور تہ ر سول ترا خضرت مکی علیہ العلا مکی بات انتا قحان الام تھا خر فرمایے ! کہ مرڑا 
صاح بک ر یسرک زو ےر سول خ را کی فو ظط نویس ء اور مر زاصاح ب کی ای ب گل تاو ب یکی وچ سے کی رخ ر ا خضرت مکی لیے السلا مکی بات اتتا کی 
کرای کہ رن ے۔ اٹہ تھا ایک ر بسر واد رتاو یلات فاد سے فو ظا فرماۓ_ 


شال واپ تازه 
| کین ر ر تل مر زاصاحب اعتڑا کرت ہو ےلت ہیں : ۳ 
علا کا نظرب :جب جح ہو اکذا رکا یٹ ی کہ اعلا کا ن کمردیء مہ ”غزدہ اطزا بکا واقعہ سے ء رب عزو بل نے برو رای چائی اپے 


حببی بکیء شی ہو اکم ہواجااورکافر و ںکوٹییست وتالو رکر دے۔ اس کہا یں را کو پھر ہیں یں اٹہ تال ےا یکوک ےکر 
دیاء ای وجہ سے شالی ہداس مچگی پالی ٹیٹس برستاء پچ رصباسے فرما اذا نے عرح کیا ہم نے سنااوداطاع تکاء و کی او رکا رکو ہر باد کہا 
خروں کیا[ وی : مو لاناات ہر ضاخان صاحب افو تلات حص ا کے۳ اب کر م] 
وی کا نظرے :تَا اَمْزهّإذَ أَرَاكَشَیْمًا ان يَفُولِلهُ تَنفَيَکُونُ سورۃیس:آیة82 
رت ا ال کا عم وایبانافزے لت بھی ایم کااراداہ ٹا لو اسے اننافرماد یناکائی ے کہ ہو جاء ودای وقت ہو جالیٰ ے- 
(انرحاد ند پیر وک یکا نام ک: 1ر غم:2) 
اس متلہ یر غیر مقلد کے ایک دوسرے نام تہادتعخحق زی رعلی کی نے بھی اعترا سکیاے۔ 
اپت رسالہ می لکتتاے :”اجرضاغان ب یوک یکاہ دجوکی ےکہ شی ہدانے اللہ تھا یکا عم نیس مان“ 


(ا یریت شار :بر ۸۷ صنہ ۳٣‏ ءالیریث, شار :بر ۷ صن )۳٣۲٣‏ 
الو اب حون الوعاب : 


مر زاصاح بکاىہ اعتزرائ ہف ال سنت اپنے خر مقلدین اکابری نکی تقلی رکا خبوت سے ۔کیوککمہ یہ بات نو متعددروایات اور مر وایات 


ےنثابت سے جس کو محد تی نکرام نےايق کاب میں در عکیاے۔ 
مخ او عبدراھن محر ث دبادکی ر حم الند علیہ فرماتے ہیں۔ 


این مر دوہ ان فی ر یں حر ت اہن پا ی ے ایک تی بکنہ ہیا نکر نے ایں» وف رما کے ا کہ اتاب وال رات س پادصیاء کے رغال ے ہام 

وولو ں رول غر ای بر د کر پار شال ے چات یں باوص سے کہا ان اکر چا یرم مل رو ی | یل وآ زاو کرت رات کو یں چا اکر ب پازعباء 
۰ سو ا ۰ 3 ۶ .َ۶ * ۰ ۱ بر ۰ رہ 

ات تدای ی خض ب کر ے۔ اور اسے م سق با کے ناد یا۔ و شس ہد انے اس رات ر سول ای کی روک وہ باوص ھی اسی لے تضمورنے فرمایا: 


میرک برد بارعا سے کی اور قوم ماو ہو رمحت پاوغال ے پلا کک ی( داراو 301/25) 
امام زر قالی ال کی فرماتے ہیں : 
روی ابن مردويه والبزار وغير همأ برجال الصحيح عن ابن عباس قال: لبا كانت ليلة الأحزاب قال الصبا 
للشمال: اذھبی بنا ندصر رسول الله صلی الله عليه وسلم فقالت: إِن ا حراثر لا تہب باللیل, فغضب الله علیہا:. 
نجعلها عقبماء و أرسل الصبا. فأطفات ني رانيم وقطعت أُطنابہم.فقال صل الله عليه وسلم : "نصرت بالصبا 


وأهلکت‌عادبالربور". 
(سشر نازر ت ف ل الو امب الل رةب اد 55/35 ( 
ای ر وای کو فس رر کر ام نے اہی اہین تفار س زک ککیاے۔ 
مفس رط کی نے اسر وی تکوا بی فیس میں سندا لاے۔ " ٍ 
رتا دنال قال: ثعا عبد الأعل قال: شا او عَن چِکرِمَةٌ قَالِ: ٢‏ قَالَي الوب لِلهْمَالِ 
ليله الأخرای: نطقي ڪر رول اللو صل الله عَليْه وَمَلم. فَقَالبٍ القمَال: إِنَ اُرَةَلا تد ری الیل قال: 
قکاتت الج التى أرسلث عَلْيْم السا ". ( ے طبري 25/19 ) 
شی رخازن جلر 1/3 41 
اياب في علوم اتاب 510/15 
السرا جار 223/3 
نے اتر آنا م 344/5 
میم اتیل فی تف القرآن321/6 


11/8 الف وال ان ع ننس القرآن‎ ٠ 
143/14 م ترا ر‎ 
5791/9, ارات ری بون خی نی کم مین ات رآ و سے‎ ۰ 
م کرام نے کی ای ر وای ت کواب یکناب شس ق لکیے۔‎ 
ام الد تور کت یں ۔‎ e 
عَتَتَمَا اتل خت کاڈ انال کان عَنبِفر بی الفقَصُلٍ ا5اک ناين عن عِکرِمَة ؛قَال: :لیا‎ 
ات لَبلة الأَخراب قالت الجنُو بل شال انلقی يِعَا نم رشول لللوصَلٌ اله مات تلق فَقَالبْ القمَال :لن‎ 
اة لا ری پالليْل. قکاتت الخ لی اسف علي الصًا.( اال وام ا525/3 سنه‎ 
غیزے)‎ 
ملا بن یت ہیں_‎ e 
ون اعباس قال: ,أت الصا الشمَال ية لاحر اب کَقال:ممڑی خی کی تخر رسو سول الوص له الَهعَلَيٍ‎ 
۔َكَقَانبِ القمَال :إن ارلا مر ى يليل کی الک ل رار سول الله - صل الله اوش‎ 0 
139/6) الَمارَوَإِهَالْبَڑانُ ورجَالةرٍجالالصجيح. ( مع الزوائں ومنبع الفوائں‎ 
ا‎ ٠ 
لتا عبد ابن سیه ژیا حه حفص بَنْغِياث, ناوک عَنْعِكرمَة کن اښ باس قال :اپ الطَبَا القمَال‎ 
یرٹکالَ٤َزْلاَِإ َيلَهَالأَحُراب فقالت: یری کی نطو سول الوص له اللَهُعَلَيْهِ عَلهْووَمَلمَفَفَانت القَمَال‎ 
پالليْل وکات ال ڑج اتی تربار سول الوص الهُعَليْهِ عَليْه ولم الصا کا از :روا ماع ھن 5اک عق‎ 
عِکَرِمَةُمُژمّلا وا تعَلَم ادا وَعَلَةإِلا عَفْ وَرَجُلەِنأَفْلِ البَشرق وا کان يِقَة يْقَاللَەُ : بن کرو‎ 
سو ا‎ ( 
8 ٭ ام ایوا مج روات کرت ہیں۔‎ 
رتکاد الزن بیان ڪاټو ومرن ڪَب الو وان لارو قَالوا: :لتا ابو سعبدالا چ تاحفص کْ‎ 
َاؤدَتِيأ هي عق عکرمةً رکا عباس ِى اله عتما قال: "ا الگا لکل فَقَالَتَ: :ری تی‎ 
افگالب امال :ا الزََلا ری کات الج الى نور بهار جم‎ OE سول الوص لی اله‎ 
عَلَيْدوََ م الصَبًا " (العظہة1346/4)‎ 
٭ ٛ کر بار اپ سٹرے رداہت س7ر ےیل‎ 


کڈثنا عبد‌الله بن معیں,قال: ٠‏ عفَّض بن ِيَابِ ن کاود عن عکرمة عن این عباس ری اله عنما 


قَال: :اک الطّبا القمَال فَقَالت:مُڑ کی دقر سول اللو صنی اله عليه ولم فقا السَمَال :لإ ادر 
کنر یبانیل اتی الہ ای پار سول الوص اليه وَمَلم الكَيا۔ 
(مسنلالبزار المنشور بأمم البحر الزخأر 39/11 ) 


٭ حافظ این جر عستلا یکت ہیں _ 

حدثا عبد الله بن سعیں ثا حفص بن غیاث عن داود عن عكر مة عن ابن عباس قال: ((أتت الصبا الشبال 
لیلة الأحزب,فقالت: مر ی حقی ننصر رسول الله صل الله عليه وسلم فقالت الشمال: إِن ا حرۃةلاتسیر باللیل. 
فکانت الرخ التی نصر بهاارسول اللەصل اللهعليه وسلم: :الصبا۔ 

قال: رواەجماعة عن داود ا نعگرمڈمرسلً :ولا نعلم احلا اُوصلهإلا حفص ورجل من أُھل البص رۃ و کان ثقة 
یقال لە خلف بن عمر ۔وھذا صحیح( مختصر زوائد مسٹں البزار37/2) 


ان ود پلامضس ند مھ شی کرام نے رولت گرا کنب میں درگ اود روا ھی تواعتزاض ای خضرت م ال رت پر اعت ڑا کیوں اور 


کیا؟اں یں ے معلوم ہوا اکم زاضاحب اورا راچا۶ قر تل د کاب انز لخواور پا لے۔ 


1 انم کا تم لاورز کےا E‏ نے میں 
| کین ر ر تل مر زاصاحب اترا تے ہو ےکھت ہیں : 
علا نظربہ 3: والتون حع ت بوس علي اللا مکالقب ےکی رکآ پھے روز ھی کے پیٹ یس رہے۔۔۔ عفر بات ہی ںکمہ اس می 
پیٹ ال تھا کے ع شا کم ہے ال ےک ایک کی رکا دن یکو جب کی کا پییف ع ا کشم سے انل و وگال حمر 
1منہ غاقو نکاشکم پک جس میس سید نال نیاء لغ ووی جلووافر وز ر ے ووتو عرش م ہے کی ال ے_ 
۱ .تس آبرگوی: مض اصی در تی صاحب شرب وة مل سوم 357] 
ویک نظری 3 :تک الله الزی حَلی السمَاوَات وَالأزض فسقَةِأقا یج تم اشکوی اعرش 
a.‏ [۔ سور ڈالا عراف+آبیت تب م54] 
تھے ٣‏ 0 7 2 
شمانع کے لا û‏ ے) 


اواب بحو ن الوبإاب: 
۱ مرزاصاحب نے ا ںآآیت می ''استواء لی لت رش '' سےکمام راد لاہے؟ مہا نہوں نے بظاہر صاف الفاظ م بیان کی کان سیا یکلام 
سے وا جع ہوتاے کیہ دو مہ بقانا جات ڈی ںیک معاذااند ءال کر کم شش تی یہ ٹیٹھا ہو اے اور چ کہ عم شا سے مس شمددےء اس لیے 022 
علیہ و صلم سے مس شدواشیاءکی ہاۓ عرش ا عل مکوسب سے انضل انتاچابیے۔ مزید مر زاصاحب کے اس دعوبی سے معلوم ہ کہ ووالڈ تال کی پک اور 
منزرو تن الحیوبذا تکو'' کے ات یں ۔العیاذ پال 
اولا: ہ یتآ یات تنا بات کم سے سے ء لمذاا ںآبیت می لکل مکر ناممنوع ہے ء چجہ عائیہ اک یآ یا تکاکو کی می تی نک کے اسے اپنے 
فاس تیر ہ کے کن میں و مل کے طورے بیان کیا جائے۔ جہ ق رآ نکر و الیسوں کے بار ے میں رمتا کہ ان ل وگوں کے ولو ں یں م ر ےج 
آیات تا بات کے ذر بے فمسمادک یکو مشش شکمرتے ہیں اود یق ل کے لاان مطلب روش کر ےک یکو کے یں اللہ ان ی فرمایا: 
هو الى انزل عليك الکثب مه ایت تحکیٰت ھن ام الکثب و أخرمتشبهت فاما الزن ف قلوبهم زيغ 
فیتبعون‌مآتشابه منه ابتغاء الفتىة وابتغاء تاویلهہومایعلم تاویله الا االلەم و الرا خو نی العلم یقولون امثاآ بە کل 
من عند‌رہنا وما یل کرالا اولوالالباب ۔ 
وی سے جس نے نار تچھ کیلب اس میں لت یں کی ہیں سوج ہیں کل بکیہ اور دوسری ہیں کی طرف ق سوجن 
:وا و پورے د ےک ان کے وپ ولیوں سے ء ماش کے ہیں ری اور حو کے ہیں ن کی کل بیان > اور 
نک یک لکوگی خجیں جانا سواے الد کےء اور جو مضبویط عم وانے ہیں سوکے ہیں ہم اس پھ ایھان لئے سب چھ ہمارے رب کی طرف 
سے سے اور بے وای کے ہیں یکو شل ے۔ ۱ 
(رآن ار غ٤‏ ر اران رجہ و شیر شاه عبرالتار ا۱۳ مح کی لامور س )٩۳‏ 
مرزاصاحب کے مقل رک لوج ہکر ی جا ےکہ ہے جھناکہ ہروہ شس جو ابق بات کے شوت کے ے اپتی داضت کے مطا لی ق رن وحریرثٹ 
کا الہ من یکردہاے ءا لک دو بات جےء درست کی کوک اکر رآ کر مکو متاس قد ر موی پا موق تو رسو ل کر کم صلی اللہ علیہ ول مکی 
بع تک کیا عاجت ی ؟ اون یکلام ر سول کے معالی ومطال کو ھناور ان کے ی وال کیک پینااس قد رآسمان ہو تو خود صحا ہکرام اپنے دی 
معاللات کے عل کے لے فقیہ صحاہ ہکی طر فکیوں رجو فرماپاکرتے؟ اور ول بای اور چ کم کنب اعادی ٹک ان ش رو ںکیکیاحاجت 
کک ےہ یہاں کے ی ا لے ہیں جو ق رآ نی آبی تکاترج کک خو ر کر کے بل تر ج شد مق رآ نکر کی برو لیے ہیں کیا پما نکمرتے ہیں 
کہ دہآیات داحادیوث کے درست ن یں صرف اپ قل کے بل بو ےی کج سکت ہیں ؟! 
رکز رگ کیہ مہ ا نکا نیہ اسلا فک داسے کے لاف ہو ۔ اکر چ ای با تکو مر زاصاحب نے اپے اید بیج پیر کےآخ میں لوٹ 
کے طوری رککھھاتذے ہچ لیکن شاید اس پر مور خی سکیا ہک وککہ اگ ردواس بات پر غو رکرتے نوہ رگ ز'اسقوام علی الھرش '' کاو خببیث مطلب ‏ کر ے جاور 
بیان موا آ جج ! مآ پک بتاے بی ںکہ آ یات تنا بات کے بارے میں الا فکیا ففرماتے نہیں ء اور پچ چم اااسنتوام علی الع رش ١‏ کے بارے میں 
اعلا ف کان ہب میا نگھریل گے : 







الإ نت کے دومسل کفآ یات قمتابیبات ٹیل ہیں : 

ایل: اکٹ نے فرب رک جب ہے ری می قط مقصود خیں, اور وی مطلب مشحین و محرود یں فو ہم تی طرف ےکی ہیں ؟! می 
پت کہ ا ںا علم اللہ چہ تچھوڑیں یی ہمارے رب نے آیلت تقاہہات کے کے بڑنے سے مع فرایا اعد ا نکی ینف یہی خوش لے و ری 
ناپہ قے ہم عد سے باب رکیوں قدم دھریں؟! ای قران کے بنائۓ سے پر قاع تکریں کردا کل من عدررہعا۔ اقرا اکم ۳ے ب لے 
مولیکی مراد سے جم اس پہ ایھان لاۓ تام تقلبہ سب جہارے ر بک طرف ے ے۔ : 

ی رہب جم ہو رنہ سلف کا سے اور کی سم واوٹی سے لئے کک تفویش و یم کج ہیں۔ ان ائمہ نے فریی: سواہ معلوم کے 
ضریر الد تل کی ایک صفت ہ ےل نکیف چول سے کہ ا کے مع ھار کے سے وداہ یں اد امان ال پر وجب ےک نص نمی قرآن سے 
ا : 

روم: یحی سے حل ا رجت اکل کے کم ونار وو یں فر اکر محکہا تکوھن ام الکت با ترآ گرم سم ےافرمایاکہ 
د کنل بک خجے یسور ظاہر سےکہ ہر فرع ایقی اص لکی طرف جلی ےه فو کریمہ نے اویل تتا بہا تکی راہ خو بنادکی لور ا ن کی ٹیک مع میں 
ما د کہ لن میں وہ ورست باز الات پیز اکرو جن سے ہے ہن اسل ی کی کے مان اما پور نہ د لال و کی و جل رو تہ 
نی یہ ضرید ےککہ اپنے نے ہوے ن یر تین ہیں کر کک اٹہ عمزوی لکی بی مرید سے مر جب مم صاف و پلیہ ہیں اور خزالشت 
کرک ے برک و منزہ ہیں اور محاورات عرب کے اط سے بین تھی گے ہیں اشالی طور یر بی کے نکیا حرش 

اتا ےھ رو1 ایس لآ تج کے بات مین اماک ان ارت بین اکمیافرماتے ہیں : 

١۔معالم‏ التزیل میں ے: 

اما اھل السنة یقولون الاستواء على العرش صفة الله تعا ی بلا کیف بجب على الرجل الا یمان بەویکل العلم 
فیه ا ی االلەعزوجل ۔(معالم التزیل تحت الاّیةء/ٴ"ہ دارالکتب العلميەبیروت )٥١۸‏ _ ے 
مچنی رے اہاسنت ۴وہ یہ فریاے ہی کہ عرش پ۰ استواہ الد عزدئ ل کی ایک صفت بے چچولی و وی سے لن پر فرش سے 
کہ أں پہ این لا اور اس کے معتی کا علم خ کو سوئحے۔ 
٢۔لام‏ تی کاب الام فالات عن را جن 
الاستواء فالمتقدمون من اصصابنا رضی الله تعا ی عنہم کانو الا یفس رونەولایتکلمہون‌فيه کنحومذھبہم ی 
امغالذٰلك ۔(کتاب الاسماء والصفات للییبقی باب ماجاء فی قول االلہ تع ی ال رحمن علی العرش استوٰی ۱۵۰/۲( 
لے اموب نیشن رضی اللہ تعالی تیم استولہ کے یھ معن نہ کے تے نہ اس میں اص زی نکھو لے جس طرں تام 
صفات تتاہببات میں ا ن کا نکی رہب ے۔ 
“کی ین 2 سے رولیت ک: 
کنا عن ں مالك ین انس نجاءرجلفقال یا اباعبدا الله الر من عل العرش استوی‌فکیف استوی :قالفاطرق 
مالك ر اسه حتی علا الرحضاء ثم قال الاستواء غير جهول والکیف غير معقول والا مان به واجب. والمسۇل عنه ہل 
عة. وما اراك الامبترعافآمربه‌ان يخرح ۔ 
( كتاب الاسماء والصفات باب مأجاء ف قول االله تعال الر من عى العرش | ٠٠٠/۲‏ و ا١٠(‏ 
جھم امام ماک رضی اللہ تلی عن ہی خدمت میں حاضر تے ایک شس نے عاضر م وکر عر کی لے الوبداش! رن نے 
عرش پر اتوہ فرمایا یہ اتول کس طرح ہے؟ اس کے سن یا مام نے حر مباک چھالیا یہ ب کہ بدن مق کی پسینہ بسینہ ہوگیہ بچھر 
فرمای :اسنتودہ ٹجپول نی ور کیفیت متقول ہیں اور اس پہ ایمان ذرض اور اس سے اضر بدعت اود میرے نیل میل تو ضرور برزہب 
ے یمر کم کہ لے کیل و 
جم ع بدا بن صا بن کم سے ریت کی: 
سثل ربيعة الرأى عن قول االله تبارك وتعال الرحمن على العرش استوى كيف استوى :قال الكيف غير 
معقول والا ستواء غير جھول ویجب علع وعليك الا یمان بذلك کلە ۔ 
(کتاب الاسماء والصفات للبیبقی باب مأجاء ف قول االله عزوجل الر من عل العرش استوٰی۱۵۱/۲) 
ن لام ریہ بن ای عبرا رن ات لام الک ے ہیں بوج قوت شل وکت قیاس ربیتۃااراۓ ککھا جانا بی سول ہو4 


6 


۱ 
فرا اکیفذیت غیر متقول ے اور اود تی کا استواہ نپول یں اور کے پر اور ھی ان سب بلول پر اماك انا وجب ے۔ 
۵۔امام ام من ای اوری نام ین ا عفرا 
ماوصف االله تعا ی من نفسەفٰ کتابەفتفسیردەتلاوتەوالسکوت عليه ۔ 
.. (کتاب الاماء والصفاتللبیبقی باب ماجاء ثی قول !الله عزوجل ال رحمن علی العرش )٥٥۱۸۷‏ 
تن یں مکی ہشتی صفات اللد زول نے قران م یں لچ لیے بیان فرائی ہیں ا نکی تیر بی کہ الات کے 
اور خاک لے 
اا خی انی کے اک 
لیس لاحدان یفس رلابالعربیةو لابالفارسیة ۔ 
(کتاب الامماءوالصفات للبیہقی باب ماجاء نی اثبات العینں/۲) 
مس یکو جائز نی کہ عبی مج خولہ فلر کسی ذبن می اس کے معتی کس 
حا سے رولی تک انہوں نے لام ایوہ ات بن ا بن ایب کا عقلنہ نامہ دوکھایا جس یس نرہب ابلسفت مندرجہ تھا اس میں کیما 


الرحمن على العرش استوی بلا کیف 
(کتاب الاماءوالصفات للبوہقی باب ماجاءثی قول االلهعزوجل الرحمن علی العرش استو ۵۷/۲( 
رن کا استواء یون و ون ےت 
۸۔امام شای رماش علیہ امام امھ من حبل رح ۃاشعلیہ ا ر 
والاثار عن السلف ف مغل هذا كغيرة وعل هزد الطریقة یدل مذھب الشافعی رضی الله تعا ى عه والیہاذھب 
ا مين حنبل وا لحسين بن الفضل البلغى ومن المتأخرين ابوسليمن المخطالی ۔ 
( كتاب الاسماء والصفاتللبیہقی باب ماجاء ف قول االله عزوجل الر نعل العرش (٠١/۲‏ 
بجی اں بب یں شلف صان سے ریات کرت ہیں د ا طروت کو ایم شق رہب ولال تکتا سے اور کی 
میک دم جر بن حخبل ورام مین بن شل کی اور متاشرین سے لم ا وسلیشن خطالی کا ے۔ 
فمدوڈہ وام امم سے روایت خنقری بای ے ء ا ن سے ہہ موجود ہیں: ایت ہہواکہ چلوں ال کا اَل کہ ول کے مع بیج 
نہ کے ہیں ال بے ااك اجب ے بور مج کی تفتیش حر می طرییقہ جما سلف این کیا سے۔ 
لم تی رشعل ب ق کتک میں وم خطالی سے نف ليکرتے ہیں۔ 
وس احری بآن لانتقدم فم تأخر عده من هو اکثر علماآ و اقدم زمانااوسنا ولکں الزمان الذی ‏ فيه قل 
صاراهله حزبین منکرلما یروی من نوع هزه الاحادیث راسا ومکزب به اصلاء وف ذلك تکزیب العلماء الزین ردوا 
هزه الاحاديث وهم ائمة الدين ونقلة السنن و الواسطة بیننا و بين رسول االله صلى الله تعال عليه وسلم والطائغة 
الاخرى مسلبة للرواية فيهأ ذاهبة ف تحقيق مها مزهبا يكاد يفضى بهم الى القول بألتشبيه و آحن نرغب عن الامرين 
معأ . ولا نرضی بواح منهيا مذھبا. فیحق علينا ان نطلب لمأ يرد من هزد الاحأديث اذا صحت من طريق فالنقل 
والسنن. تأويلا يخر ج على معانى اصول الدين ومذاهب العلماء و لاتبطل الرواية فيه اصلا اذا كانت طرقها مرضية 
ونقلتپاعرولا۔ 
(کتاب الامماء والصفات للبیبقی باب ماذ کر ثی القدم ۸1/۲( 
نی جب لن ا کرام نے جو م سے کم یں لر اوہ نے میں متم اور تمر س بڑے تہ تنا بات میں سکوت فرماا و می ںکبھی 
سا اکت ٢ک‏ ناچا ہے اد ہے نیدلا لیے ےہ مان کے معا کے بے کل یک مول کر بارے زمائے مل دو 1 پیا سے ایک واں 2 کی 
رل کو سرے سے 7 دکمتا اور چھوٹ اا سے اں س علاے رو اطا کی ا ازم آنی ے ماگ وہ دن کے لام ہیں اور منتیں 8 
قل اور ا یکرم سی وٹ تویی علیہ و سم ک بنارے وسائط و رسای اور وو سرا گر وہ ان رویتوں کو مل نکر الع کے ظاہری مع کی طرف ایا جانا سے 
کہ ا کا کرام اٹہ عوج کو خی سے مل ہکرو ےکک انپانا چابتا ے اور "ہیں ہے وونوں یں اند ہیں تم ان یں سے یکو ہب بنائے پہ 
ای اکان مین جج عذمشین ی ان ی ول کرس جں کے ان کے ن اسول عقر ایت کرات کے 


7 


مطالق ہوپآیں اور جع روائتی ںکہ علہ فا کی سند سے آہیں ٹل نہ ہونے میں , 
لوں مر زاصاحب کے و کو یکی ومول وار کل بغیادانہوں نے ایق ل ان ا اہ فل ڈرال ورگ تھی ءدعزام سے زمین 
لوس جانی ے۔امزامرزاصاح بکوچا ےکآ تد ہپ کے سے مل ا لاف ر حم ال مین کےکلا مک لال کر یکر یں کہ اہی سنت سے عنا وک بنا 
یھ یمان ہلکودریں جس سے سابقہ امت اود اتم و جر شی کو م راو کہ تالز مآ ے۔ 
ووم 
ee.‏ کے اح شن کے ملاو چن اال ی لے وین 
27 کوان ازہ چو سک ےک ج بات سیر کیاامام ات رضاخان اور کم الامت ا اع کی ر ا ما رای ادان ی یا ان کر 
یں بل علف سے بہ حقید امت میں موارث سے بک مر ذاصاح بکا صرف ان دو حرا کو مور الام مرن یال مر زاصاح بک جال تکامنہ 
اولناشوت ےء یاہٹ دع می کے سواہ یں ۔آ کے ملاحظہ فرمایے : 
امام رال ن دا زی عل رحمۃاللالبادیءتفی کی ریش در ذی یآبیت ما کہ کے شجت فرمات ہیں : 
ومأارسلٹک الا رج للغلبین. اے توب ! جھم نے جھے نہ بھی اھر ححت سارے جمہان کے لیے ۔(الق بن الک بی ٣۱‏ /ء ٭١٠)‏ 
ضر : لہاان رمةللعالمین لزم ان یکون افضل من کل الغلبین ‏ قلت وادعاء التخصیص خروجعن الظاھر بلادلیل 
وھو لا جوز عنں عاقل فضلا عن فاضل والله الھادی جب حور تمام عا لم کے لیے ر حمت ہیں واجب ہواکہ خقمام ماسواۓ الد سے 
ال ہوں۔ می ںکپتاہوں شعی کا دو یکر ناظاہرسے بلاد مل خر وج ہے اور وی عا قل کے نزدیک چائز یں چ اتی کی نا شل سے 
نز ویک ۔ اور الہ ای بی پد ایت د ین والاے۔( ما الغیب[ا تیر اکب ] شت الآیۃ ٣‏ /۵۳ ۴داد التب العلیروت )۱٦۵/ ٦‏ 
۵ کاٹ این اکر رحعال علی فررات ہیں 
٭ وقعالاجماع علی تفضیل ما ءالاعضاءالشریفحقی علی الکعبؤ۔ __ ۱ 
ت جم :اک بات ابا کہ جو حصہ تیعم کے ساتھ مہو ا :وہ رچیزے اففل سے تی سک ہکعبہ معظم سے بھی اتل سے۔ 
بل ام ری وال شاو٢كص۵٣۳]‏ 
۵ رث ایر مرد ایر عل ففرماتے یں : 
بل‌هیافضل من السمواتوالعرشوالكعب۔ 
الہ ےسک حص جو یکر م موم کے م کے اتک کیا موا ے ) ٦‏ انوں» یاو کہ ہے کی ال ے۔_ 
[ کم ارش شر التفاءع۳ص۵۳۱] 
اشن والوں کے لیے نوا تھا 6ف ے بان کیا سی مر زاصاحب لے ل وگ اوقت بک کن ا کان نے یواد 
بی و ےا توچ ر کی ہیں البتہ وف طوریړ ناموش ہو ہا ے نہیں ء مر زاصاحب ! اسان سے لیے ان کے اپ کرک ال ملاظ کے شیر 
رامال 
٠‏ این بم این پیل کے ہوانے سے اخ لکرتے ہیں : 
إن أردت جرد المحجرۃفالکعبة أفضل وان اُردت وهو فیہا فلا واللەولا العرش وملته ولا جنة عرن ولا الأفلاك الدائرۃ 
لان بآلحجرۃ جسدا لو وزن بالکونین لرجم ۔ ٠‏ ۱ ٌ۰ 
رچ :اکر ہار ی م راو کن رہ نبو ی شوم سے سے توکعبہ اتل سے ء اود اگ تار می ماد ئھول جم اطہرے فو خداکی ٹم ! لی یا 
عرش ء نہ مالین عرش اور تی گرو شکرنے وانے افلاککوکی بھی یزاس سے اتل نیس سے ؛کی کہ روضہ مب کہ یل ايک الاجر 
اہرے کہ اگردوٹوں چھانوں کے سا تج بھی اسے ولا جاےل(وزا نکیا جائے ) ووو سس 0 (FC‏ 
e‏ اک ا کو غیر تلد عام جناب واوو غ نوی نے کی بیان ے > لاحظ کر سوا واوو غر نوی ں۷ ۳٣٣‏ جناب والا ! اب تم وکت ہیں کے 


انل رھ علی مر زاصاحب اعحتزاخ ضکرتے ہوم ےکھت ہیں۔ 

علا ہکا ریہ : یک مرحہ ححخرت سد الطا کش مجنید برای رحماللر علیہ د جل یھ شیف لا ہے ادر الہک ہو کے اس پر زم نکی شل لے 
کے ء بع ایک کی سے پار ھا ےک رورت یاو ی اوقت وجوت کی ۔ چب اہ ے حشر یگوھ سے یکا عرش 
کی: مک طر ر آلوں فرمایا: باجنید یامجنیدکپتاچاآ۔ ا نے م یکہاادردر ای زی نکی طرح لے لگا۔جب ہے در یں اتی شیطان ین 
نے دل می وسوسہ ڈال مہہ خر خود فو الد یں اور کے ے یا نی رکہلوانے ہیں۔ یس کی یا رکیل ش رکہوں۔ ا نے با کپااو ر سار 
تی خوط ہکھایا۔ بپارا: طرت مل چلاہء فرمابادت کہ بامجنید یا جتیرج بکمادد اس پارہوا۔ ع رت کی ححثرت کیابات شی ۔آپ ال رکیل نو 
پا ہو اورمی سکہوں ےخحوط ہکھائوں۔ فرمایا: ارے نادان ابی نو حجنی تک کو پیا ٹیس الل ہیک ر ہا کی مو سے 

[ بریاوی: مولاناا تہ رضاخان صاحب مفو ات حص اول ۹ہ ک کار ۴ ] 


و یکا فصل : سی ر تابد الث ہن عا ںیا نکر ےہ ںک س ر سول ایڈہ سم کے تییے سوا ری پر یھ ہو اتھائ وآ پ مم نے ار شادفرمایا: 
اے بے کو اد کے ایا مکی تفاظ تک اللہ تیر کی تفاظت فرماتےگا۔ اڈ کے حقو یکا خال رکھا ت اسے ا سے ہے پاس ےکا۔ اذا الت فا ال 
الہ و اڑا ا تعن ف ن پاش( ترچ :جب پوے سوا لکرے و صرق الٹ ر ےک اور جب و بروطل بکرے و الد بی سے برو طلب 
کہ ناوا جان ےکہ اگ رو ری امت بھی مع ہوک رج ےکوکی اہ چان اے نو نہیں پا س کی مر جو الد چاہے۔اورا ریو رکی امت بھی مع 
ہدک تھے نقصان پان چا و نیس پیا ےک یمر جواللد چا (نی رگن کے بعد) حم اھ گے اور کے خ تک ہو گے [نوٹ ایام 
ای وشن جا ےا 7ی تاب سواتاب سے 2516:7] 
ع رتپ ےکہ مر زاصاضب نے جو مو ات پراعتزائ کیا ے وہ ہن کے غلاف ےکی وک اوی ر ضو ہے کے متنا بل میں ملو ات کے 
عہارت تقابل تبول ہیں ے_ خو و مشق | نشم ہن مو لان مص نی رضاخان نے مخ مات میس افلا طط او رکا کے نلطبوں پراظہار بر بھی اور تایپت د کک اظہار 
کیا ےک دککہ ناش رہ فوطات یچھاپ رسے ہیں گر ا کی گج کاکوئی اہتنا ہیں کی کیاد لہا فی رضوبہ ج کہ دون ے ای کے متا ےے 
یی گخو نا تکووومقام حاصل ٹنیس جھکہ ایک مصنف کے اپ اق ھکی گی ہو کاب ہوکی ہے۔اورمہ یادر ےک مفو تلات اتی حطر ت ا نکی این 
تصنیف نییں بللہ ان سے سے مو ے ماک کو علا نے و پاپ قاککیدانٹس میں تقر اور جنر بی کے امکانزالت پمیشہ رن ہیں۔ اما اگ کوک مستلہ قاویٰ 
رضوبہ کے غلاف مفوخیات ںآ جا ےووہ مر جوم وکا امز املفوظیات پر اعترا کر نکوکی شنتق ام کہیں۔ 
۰ چب ای عپارت کے برمس ای حضرت اہ نو تات میں اا سوا کاج و اب پک ول دی یں۔ 
ستل ۰۲٣۳۵‏ [ از شفاخانہ زیر لور ڈاکنان خا | سمش رم اور مستولہ تی الد پپونڑرےر مضان ۱۳۳۹ھ] 
کیإفرہ کے ہیں علا ےو کہ جنیر ایک ب رگ کا ی سے انہوں نے س رکیاء را سے یں ایک در بای ڑا کوپ رک نے وقت ایک آ وی نے 
کہاکمہ جج کو کی در یا کے پا کر کے تب ان ہز رک ل کہا م ی رے کے ہا جنیر ہا جنیر سیخ چلواور س الد اشر کہتا چلو کور میان 
یں و ہآ وی کی اٹہ ایر کے اتب وہ ڈو ےۓ اء اوقت ان ب رگ کہ اکہ اللہ الد مم کہ ہا جنیر یاجئی رک تب ا یآ دی نے 
اجنیدیاحج آہاجب وہ کد ڈو بد یی در ست ے یا یں ؟ اور بد ر کا ی کے کیا م ے او رآ وی کے ےکی عم سے؟ ہیوت جروا۔ 
الجواب: یہ مال ےکہ سف ٹیل در یامطالکنہ دجلہ ی کے پا جاناتھاءاودیہ گی زیادد ےکہ میں الد اللہ کیت چلو ںکاء اور ہے کش افتڑ ا ےک 
انہوں نے فرما ا وا شداشد مم تکہہ۔ یاجنی دکہنا توصآحیاتد نیاوی ٹل فص جک نی نظ رمو جو دہیں ا ےکون ےکر سلتا ےک ہآ دی 
کا عم بو پچھاجاۓے اور ضرت سیب اطا نہ جنیر بخ ر ایر شی الٹر تعالی عنہ کے لے عم پوس نانمال بے ادلی وکستا ھی ددریرود ہنی ے۔ واللد 
تیلیا[ اوی ر ضو ی جلد ۷ صن ۵٣۳٣۔٣۳٣1‏ 
جب ا لی حخر تکااس با تک تر ویر س فی موجودے تو پچ ران پر الام ججہالت کے سواءاور پل بھی کہیں۔ 
مزید کہ اگرپالف رف یہ داقعہ ملق ظیات یں مان بھی لیا چارے فوکیاااس واققع کو کر نے ے ای ضر تق ران وسن تکی مخال یکر ے یں و چ ر جن 
با رگ ی[ حت جنر بغ را دی ر عردایڈ علي ] کاب قولی ہے ان کے بارے م لآ پ اکا فی ہوگا۔ ذراہوش سنا لک جواب دیناجناب۔ ہو سکتا سے 






کہ ھرزاصاحب اپقی خصہ کا لے کے لے اس ع زیم اور با رت سقپ کو کی اعتزائ نہک دے۔اس لیے محعد جن سے ان کے بارے چنداقوال جل 
دبت یلد _ 
ا۔ محرث الی مححبہ رلٹہ عا کک ہیں _ 
الاقام العلم ف طريقة العصوف ولي المرجع ف السلو كف رَمّانه وبعده. إطبقات الشافعيه ج ص٠‏ 
٣‏ جرت کی الشا فق ر رار عل کح ہیں : 
سیں اللَْارقَة ومقدم المَائَة وَإمام أھل الزقَة وَشٌیخ طریقّة العصوف وَعلم الذَوَلِيَاء ف رَمًانه وبهلوان العارفين 
اطبقات الکبریٰ الشافعيه ج۲ص۶٠۲)‏ 
.حتف ان ر ا ےیل 
وهو الامام العالم ثی طریقة التصوف واليه البرجع فی السلوك ثی زمأنه وبعںن رمه الله 
(طبقات الشافعین ج١‏ ص۱۰۸۰) 
۔ محرث امن اناد کی ر حم الد علیہ فر مات ہیں- . 
یع 0)7 المَِفَةٍ وَرُزْق اللَْكاء وَصَوَابَ لوا پ لم یر ف رَمَايه مِئلّهف 5 وَعُرٌوفٍ عن 
انا رتا رن بخںاد :٣٠ء٠٠‏ 
ھ_ رت خطیب بخ ر اوک فر ا کے یں : 
وصار شيخ وقته وفریں عصرہ فى علم الأحوال والكلام كَل لسان الصوفیة وطریقة الوعظ. ولە أخبار مشهورة 
وکرامات مأثورۃ.تارن بغداد جء ص۲۰۰ 
۷۔ علامہ الد وودگی ال گی فرماتے ہیں : 
وکان شیخ وقته وفریں عص رت و كلا مهف ا حقیقة مدون مشھور۔تارج المفسرین ج١‏ ص۱۲۷ 
سے۔ محر ث علامہ ذ یا رعمۃاللر علی کھت ؤں_ 
كان شيخ العارفين وفلوةالشائرين. وعَلّم الأولياء ف زمانه. رمەالله عليه تار ئخالاسلام ج× ص۸۶۷ 
۸ علا غل ر یر حر اٹہ علیہ فرمائے یں : 
لم نرف شیوخنامن اجتمح له عله وحال غير اَي کانت له حال خطیرةوعلم غزیر۔(تارج‌الاسلام ج ص٣۲۹‏ 
۹۔ محرت سمعالی رححمۃالل عل کے ہیں _ 
وصأر شيخ وقته وفريں عص ركف علم الاحوال والكلام على لسأن الصوفية. وطريقة الوعظ .الانساب ج٠‏ ص١هم‏ 
٭۹۔ علامہ ان فز(۸۰۹ھ) کھت ں_ 
إمام الطائفة الصوفیة أبو القاسم الجدیں البغدادی نفعنا الله تعا ی بب ر كاته۔(الوفیات لاہن قتفل ج ص۱۹) 
اا حر ت سمعا یر اٹ عل کت یں _ 
وصأر شيخ وقته. وفريں عص ركف علم الاحوال. والكلام على لسأن الصوفية. وطريقة الوعظ .الانساب ج٠‏ ص١هم‏ 
۳۔ایک تیر مقلد عام غلام ر سول قلعو ی صاح بلکھتت ہی ںکہ 
میرے عقیرے کے روسے وہ[ غیر مقلد عاللم عبداللہ غمزنوی] جنیر کے مکل اور خضرت با زی دک ماننریں۔ 
:کر ومو لا ناتلا م ر سول قلعو ی ص ۳۵۴۳_۳۵[ 
ان الہ چات کے انار یش اختزا شی بقرات ے وکر کے وک نے۔ الع شماءاند ال کا بھی جو اب د یا جات ےگا ا ای کے بع ر کیال حضرت 
رحیۃالل علیہ ی ہکو گی اعترا کر ےو ا کوش رم وح ےکوکی واسطہ نیس کوک رشن نے نے حطرت جنیر بفدادی رح ایند علی کی ز بردست لوت یا 
آم ی فک ے اگراعت ڑا کر نام نب ران محر شی کرام پر تیج 


۱ مزید عرش یہ ےک ھرزاصاح بکو صرف اکا بر ایل سنت بھی لے ہیں کر 2 لیران کا رکوس کن ہن 


کے 
0 


یہ معلوم ہوتا ےکہ مر زاصاحب خر مقلدبین حقرات کے پل ہچ ہیں ۔ اگ مرزاصاحب میں دم شم ہے فو چا رگم رات یکا تی ذرا یر مقلد ین کے 
جید حالم جناب مولاناغلا م ر سول قل میاں لہپ بھی لاگ کر کے بتائیں۔ 
کا )کرام ! اپ ڈرامولاناغلام ر سول قل میاں گے صاحب فی رمقل دی ای کک امت ملاحظ کر ہی ۔ 
ایک دقو صد رال رن و سر فراز ماکان سد ہ ہو ہک عا ذظ قلا م ی صاح بآ پک خر مت میں مار ہو ے اور ۶ر کیک ےش 6 
ہت ا حصہ در یا نے کے لیاے ادر تریب کہ ہار ی تام ز شن در یا برد ہو جاۓے۔د عافرمائیں الد ای “میں اس مصیبت سے جات 
دے۔ جوں صاحب وروز قلع میں گے یں رے۔وقت رخص مول وی صاحب نے فرہا کہ دا یاک ےکنا ےپ رکم ے م وکر باواز 
بات کہا ا بلاک ا السلا مم کم کن لام ر سول قلح والا اور سور وین تین روز یڑ مناءنینوں ھی کا ان سےکہ جب ہم نے در یا کے 
کا سے پ ہکھٹرے ہ کر سب فرمان مولاناصاح بکاسلام پیا باہمارے دیکنتے بی دبتے در یٹنا شر وم ہ وگیاادر طغیالی اکل جا ری ۔ م 
راف سے دک رہے در باکاکیک تنا شر و ہوناہڑا تب خی امر تھا سورو مین پڑ من ے وریا باک چ ٹکیا اود اہین ا سی عالت پے 
گیا[ سوا حیات غلامر ول ص۱۱۵ 
میرے خیال میس اس وا ش ےک کے مس سجصعمعسسد 
جئی صاحب ہیں- 


۵ ہر که 
فظ''شب با ی کا ن چاه 
این ر ر ی مر زاصاحب اقترا کر ے مو ےکک یں _ 


علا اظ ری : باکہ سیرک تھ بن عبد لہا زر قاف رما تے ہیں : کہ انیا کم الصاو چ السلا مکی قبور مطبر می از وار س رات مکی جا 
یں۔ ددان گے ساتقعھ شب بای فرماتے ہیں “۔[ اند عاد عند برو یکا اجام 4ر خم:16] 


دیکانھل : _ الب أَوْلَبالَمُوْمِيين مِن أَنْفَيهۂ وَأَزوَاجُهُأَقَقَافُلُخ۔[ ۳ ر5ال7ا بآیت:٦]‏ 


الام چوا ا کک ا ن ر رشن ىر مالین بھ یآب کے سام سر 
کے اور پا تر پان ھک کے ہو ے ہیں اکا بر ولویند گج یآپ کے نظریات اور اور عقائکر کے مقلد نظ رآرے ہیں کر ہے ہے داوبئ ری 
رات بھی ہیں جھ این اکا ہر ہے 0 نظریات اور عقائ کو مھ کر اپنے بی اکا ہکوکٹہرے ٹیں لاک ان رگ رای کے فو ےو ۓ کے 
ہیں۔ مق علیء وا بند کے مت نیٹ اف حط رات اب لذت تی عکتبہ کر پر ای الزام اک ےآ ے ہی کہ ام اگل خضرت م ردام رضاغان 
قاور ی یلوک ق ری رہ کے اۓ مفو تلات یں حضور یم کیا ر وضہ اط میس ” شب باش“ کے الفط استتمال کے ہیں جو تج نہیں ہیں۔ 
ہے اقترا کی حط رات اۓے تضاف می سک ر کے ہیں۔ اور علاء الست ےکی ار ا ںکاجو اب دیاسے ۔ ییہاں خقیر(فار وٹ ) مخا نین کے ہی 
مصر تہ تصانیف وتام ے شب بای یھ وو کنا ے جوا ر کیل لح فر ے۔ 
اس وقت میرے سان جامعہ ع بی امن العلو مک اہی ے میتی زرولی خان صاح بکاکتابچہ ہنام” تارف بر ہاویت“ موجودے۔ 
مفتی صاح بککت یں 

نام یہ الصاواقوالسلا مکی تیور مرو از وا جع مہ رات ٹین کی جا ہیں وان کے اتر شب باش فرماتے میں 
( غو تلات حصہ سوم سطر۳۱۰۵۱)۔ 


خرف یا کہ الد ای کے ک چنروں پراودا نک پاک ول پ کڑس ناروا تبست پان عحیگئی ج بکہ ب یکر لم نے لوم ار تاد فرمایا 
سے ءل الاثناء اخیاءگ قبور هم یصلی ن“ ناء م الام این ہروں میں زم ہیں نماز یڑ ےے یں- لوی ہب میں نماز 
کے ہجاے جما عکرتے ہیں “۔( تارف بر ماویت ص۱٣)‏ 
اس اکتا کے جواب سے پچ ےی امام میدداعلی حطر ت ق ری رہ کے ملو کوپڑ ھت ہیں۔ 
اام چوا لی حضرت فرماتے ہیں۔ 7ے ۱ 
نیا کرام علیہ السلا مکی حیات ی تی وو نیاوی ے۔ان یر اص دان وعد دام کیل س ای کآ نکی مہوت طہارکی ہو بی سے پھر 
فوراا نکوو یے بی حیات عطافرماد کی جالی ہے۔اس حمات پر ود احکام دنیو ہہ ہیں ا نک کہ بانمانہ جا ےگا ال نکی ازوا ‏ عکو اح 


11 


2027 از واج عفر ات۷ عت نوک ور مجن ا مازیڑ ھت ہیں بل سی ری بن عبدالبائی زر قافرا ے یں 

کہ انیا کم الصاو والسلا مکی تیور یش از واج “طہرات شی کی جا ہیں وەان کے سا تق شب بای فرہاے ہیں _ حضور اق ری 

ڑوم کے وا کور کے ہو کے لبیک بے ہو ے نمازیڑ ھت ہو ئۓ کے“( مفو تلات ا کی حط رت حص سوم م ٣٠ے‏ ) 
اام تیرو اتی حط ت نے حیات اندیاء یہ ولا ی می کر کے انیا کرام کے خما ت کات کر م کیا سے کہ تہ ترک بانظاجاتےگا۔ از داع مع رات 
کا ٹیس میں ان پر عرت ہیں اور علامہ زر تا یکا ا از واج رات کی جانی یش دداانع کے سا شب ا 
فر کے ہیں انی را تگزارتے ہیں۔اس می لک وی بات موب اور ہمت دای ے۔ بی فو خخصالخص اندیاء سے ہیں۔ 
شق زر ول صاح بکھھتا ہی ںکہ ”بر یىی نم ہب میں نماز کے ججاے جما حکمرت ہیں “ نماز کے با ۓللی دک اتی بدد یا تاور خیان تکاشدتدیا 
سے م الاک عیارت یں صر کر نماز موجورے۔ ” ان تور م سلکھاتے تت ہیں اور نازیر ے ہیں“ لوتر ار بھی نما زکا ذکر موجود 
سے کرت ہو ئے اور لڑیک پکارتے ہو نمازیڑ ھت ہو ےو یکا“ ا کے بعر کی شت زر ول خان صاح ب کا یناک ”نماز کے مہا ے“ 
تار کی آمو میں و حول بمو گناو اہین خیاخت اود تر فکااعتزا فکر ناے۔ 
زولغان صاح بک ال ہآپ اظ ہک کے یلک ” شب بای“ کے ی باس ےکر کے اس سے تبہمت ناب کرب ہیں ۔ پیل او ہے 
بات مھفی جا کہ ” شب بای“ کے مت یکیائیں۔ 


٠‏ چنا ریف رہ کاصفیہکواشاکرد ھت ہی ںکہ شب باش یکاکیا مع و موم ہیں۔ ے 
شب پاش: (ف) ال مم مک( میم ءرا تکاقیامء برام شب گزار یمز لگ زیی فر وش“ )۔ 
(فر ہت کآصفی ء ۳ء ص۹۹۱ء ل تاےء م رحبہ۔ مولوی سرام دہلوئی۔ اردوسا تنس بورڈ ٢٭‏ ٭ ابہمال لاہور۔ شع ارم ۴۲٣٣ء‏ ) 
٭ اب نی ردزالفات میں شب باک کی کے لیے ہیں۔ 
” شب بائی: رات رۓ والا۔۔“ (فیروزالغات )٢١٣‏ ۱ ۱ 
شب ای بابھی ممیاا پکو مز م نیس ہیں۔ شب باش یکا مطلب و کی ہماع کے سے بی ہیں شب با یکا مطلب را ت گار ناہے۔ 
اک علاء داکا بر دیو بند کے تصانیف پر نظظرکی جا و ہیں ای یں ”شب بای“ کے کل کا بی جو الے مل جایں گے پھر وہا نکیمتاویل 
ہوںی؟ 
٭ آےے چندجوانے ما جظ کرت ہیں۔ 
0 رنہ موروشیل روضہ مپارک کے پا مسج نبوی مم لآپ نے (انور شا صاحب )درس حریتث داےائل ور بعر تحموصاعلاء 
بہت تو چ ہو اکش رما لکاجو ا بآپ ےا کور الو ں کی شک میس دیا۔ جو علمادد یو بندالن ولوں وپال ر ے تھے انہوں نے 
کو ششش کی ں کے شب بائ یآ پک مس کی میں ہو“ (لفو نیا ت کشیب ری ص ۴ء۵ ) 
تان ویصاحب کت ں۔_ 
”راض ری میدب پلائ والے جیب وخحریب عالات دکرابات ومناقب وانے تھے بھی بھی جلاتے ہوئے جیب جیب علوم 
ومعار ف کا کر چائے۔ اور بھی بھی انث اق کی حالت مس زین واسان کے اکا کی شان ا ورا ےک ال ے ست 
کاب تہ موی ۔آپ ای دال ین سے ےآ پک یکر امتول میس سے ہی س ےک ہآپ نے ایک دفعہ تم2ش(30) شہروں میں خطہ 
اور نمازیحعہ بیک وقت بڑھاے اورک یکی شر وں یل ایک بی شب میں شب پاش ہوتے تھے“ (جمال الاولیاء. ص۵۲٣)‏ 
ایک وقت می ںکئ یکئی شروں میس شب بای کاکیامطلب ہوا صے دیو بند ی شیہم الات بین فرمار ہے ہیں۔ 
مچ چلواب وار الحاو م ویو یتر کے بان قا مناوت وی صاح بک شب بای کی د بد لیے ہیں۔ 
)ق نوو ی صاحب ( کو اڑ ات کہ بابر چے جائے کے اور پچ رکواڑکوو رس تکروے جے ؟ اس مفل مان میں تتباشب 
ا أیء وش ب زار یکہ یہ جیب وخریب صورت حا لک ب کک ںآ ری۔ ی طور یړتو ا اتان وار ےء کان مصتف اام 
نے گے جو بہار قام فرمایاے ” چندماہ اس ہو کے مرکان میں گر گے سوا ح تا تی جلراول ص۴۰۵) 
کیا ی ززل قان ماخ ب ان ل مان میں شب بای کا کیب وغ ری صو ر ال ی تر یں کے ایی فر بین کےک ہج 
طو ریا کابتانا شار ے “یشب بای ے شب گا ری م راو م کے _ 


12 


سیہاں ان چند حوالوں پر اکس کرجا بہوں و رنہ اگ علاءد لو بند کے تصاتیف بلس شب باشھی کے وانقعات ل کی میں فو ایک ال ککتماب من جائے 


گی لت کےکتب اور علما دا بند کے تصانیف سے شب بای کے معن و مطل بکوآپ ملاح ہر گے ۔اس کے بحعد بھی مض شب باننی کے 


الفاط سےکوکی جماع تی رکرے فو وہ لخ تک یکتاوں اور اپنے اسلاف کے تصائیف ے بالئل ناواقف سے یہ و عام زن گی میں ” شب بای 
“کے الفاظکااستعال خااب اگ عام بز کیا پات ہو تو عام بر زر یں اد وا کا یں یں ملا قا کر ناعلماء دا ین کےکتب سے کی فثابت ہے۔ 
م جاک ولوین رک علاء ور ر وسوی صاحب» مولوی ر نی صاحب ال ہآبادگی خلبضہ ائجل نھمانوکی صاحب اور ان امر مظاہ ری 
صاح بکآھتؤں- 
ٌ رت جار شی الد عنہ سے روایت سے وہ کت ہی ںکہ حضو رار م موز نے فرمابااپنے مردو ںکوایجےھکپڑوں می سک دیا 
کرو بے شک ال پر دہ شف کرت ہیں اور اہین بر وں شش یک دو سرے سے ملا تما تکرتے ہیں“ 

(ق کی زن کی٣‏ ۰۷۲۳ ےنور ااصمدورہ ص١٠٠‏ اصلاع مفا ڈیم مت جم )۳۰٣۰٣‏ 
”اصلاع مفا ڈیم“ پر مھ مال ککاند علودکی صاحب عامد میاں ء ر کید الہ سکم جامعہ انشرفیہ لاہورء عبدال رن جامعہ اش رفیہء ھ بن اوسف 
بنوریءعز مزال ر نت اروکی صاحبء ۶بد القادرآزاد سیر ش١‏ میق صاحبء عبدالتقادرراے پور یہ جیے اکا بر ولوین کے تقار رپا موجوریں_ 

۶ نور مجر ننس وی صاح ب کھت ہیں‎ e 
طرت ٹیس این قعنہ ر شی الڈر عنہ ے ادایت ےک حضو ر لرام ےار شاو رما اک جو کس خر وصییت کے ھ رمیا کو‎ ” 
موی کے سا تج کلام 7 7 کا ن‎ 
)دہ‎ 6۳٣۳ آئپ نے فرمایاہاں ایک دو مر ےک زیار تب یکرت ہیں ) ق رکیازن گی رص‎ 
م ہن مک د رر وی کرت ہی ںکہ یں نطرت جابر بن عبد ایر شی اید گنما کے پا سگیاج بکہ ال ناخ کی دقت تھامقی دود نیا‎ 
ےکور فرمانے وانے تھے میں ن ےکہراکہ ری طرف سے حور اکر لم کو سلام دبنا۔ اس روایت سے محلو م بوتا کہ‎ 
( ۳٣۸ص عالم مز غ قش ممردے ایک دویرے سے ملا قا تک تے ہیں اوران دعاسلام بھی ہوکی سے “لق رکی زن گی.‎ 
_ انور شاو صاح ب مشیر کی یتاک کے ہو ے ان کے داب کک ہیں‎ ٠ 
رن لوطت فنا عت جو ھور ی کو کل و کن ان کی حا ت کے کرت کے بن بان کے گے خظر تا‎ 
کپ الح زک مت در چ یگل ار شاو لا کی مطالعہ سے ءآپ نے فرب کہ متبور صا کی قب کو تنگ قی کی طرش مجھناحاٹنے کی کہ اس‎ 
کیلئ وہاں فرش وبا اور رزق سب اساب راحت مسر ہہوتے ہیں ء ووایک جلہ سے دو رکی مہ جاک سیر مج یکرت اسے اور اے‎ 
تز وا لے ع زیزوں سے ملاتا ہیں یکنا ے اور ووا کو ۰ بطور ضا فت اور : نز ومونت و نیت وغیرہ بے اۓ‎ 
مکانول پر جیا نے جات ہیں۔اس تہ رر وزوہاں ا سکیدل ۴۰ کاسامالن  و یکرت یں ناکم ای دار قاف یکی باداش کے ول سے‎ 
)٥۵۰ض چعملادیں““_(انوارالپار ی۱۸ءحء‎ 
الم بر زغ میس شہداء کے پاس حورو ں کی شرپ فآور یکا فک فو احادی ٹک یکماہوں سے ثابت ہے ۔آیے عم دو بنلد ک ےکتابوں سے اس کے‎ 
ج نے پڑ تھے ہیں۔‎ 

م فی عنالی صاح بکھت ہیں 
” اسوورای چہاو یر یں یک ٢و‏ کے جرگ کے بح د جب ہد اء خض رت طم کے سا لا سے کے توان س اسو ورا یکی 
لاش کی کی )ا خضرت مایم کے ا یں دوک ہک تھوڑی دم کیلع منہ کی رلیاء صحا کرام نے وہ ھی وف ما یاکنہ می ال وقت 
و ون کے ان ان ا ان کے چر ےک مین ہناد اے اور جس مکوشوشمبوسے مرکاد ڑے_ ٠“‏ 

(جابپ دیرہ س ۵ےا) 
مچ ور راونس وی صاحب ولویند یکت یں _ 

َْ تضو راک رم ا م خود وک ر ے ہی ںکہ ش بد کے پا جن تکی و وحور ہی تی مو ہیں اک رکو ی ہے تا ے 

کہ شید کے ائ ری کمک حیات میں سے اورنہ بی عم وشتورے اورزہ یکی کا اد راک وھ ے و ای تمس کے پاس 


4 


کل وو حو رہ گج د نی ےکک مافائر ولاک م و ری ہیں اور و یں اس کے پاس ا یں میں ثابت ہہواکہ شمیار کے ساتھ 


دم 
رن 


وحن ساوک ہوڑاے اور ا سکی جو ممنجیم و مر مم ہوکٹی سے دواس سے باخجر موتا ے۔ان چ رو کا ا کو لو رالو اادراک و 
شعورہوجے۔“ ) ق ری زندگی٠٣٢٠٣٠٠)‏ 
لور پر صاحب نے لو ہاں شی دکیلئے دولبااورحورو لیکیلئے وہ کے الفاظ استمال کے ہیں ۔کماز دو ان صاحب دو لیے اور دجن کے رش 
اور احا کی نث مج عک رسیاں کے ؟ 
٭“٭ می کی بلک بھنوری صاض نے شب با شی کے خائص مرکا نکا بھی کم الن الفاظ می سلکیاے۔ 
7 رائل خجا تکیلنے دہاں جار حم کے ممکازات ہدتے ہیں۔ ایک پواپنے رجے اور شب بائ یکا خا م مکان دو راا سے اتان و 
عقیرت منروںل سے ما قجا تکادر بار کید لوان ء تیسرے سیر و تما شاو آذ رب کے مظامات تی ےآب زم زم مساجر مب رکہ اوردوسری 
داد الم رز کی مزہ تگائیں۔ جو جے دوستوں اور ہمسالوں ے لا قا کر نے کے ولوان خان اور لان ویر ہ۔اور جب کک 
کی ےا ںی ادو اش کا مان فی کل لادی ایز کو وھا نے کان سے ما ےی ب کات ںآ ری عر تار 
کرائے جات ہہیںءااس اور ی فصبیل کے بح رخال 20 )کہ یہ سب مکانات اک تیگ تبر کے اند ر یں ۔ باہ ہے تذان مکانات 
کیلع وال ہو ےکاوروازہے۔ جر شان مکانوں میں ےاآسسمان وز ھی نکی در ممانی فضائیس ہیں منت آسمان دوم وسوم میں 
ہیں اور ش ہیر و کیل عرش کے اتر کے ہو سے بے نور قت یلوں یں ہیں“ (انوارالپار ی۱۸ رج ص۲۵۰) 
م ہیور ی صاحب نے یہ یکاماس ےکہ وہاں قوم کے نآ ان ےو ار ر کے ی روا ا کک 


EE: 
e 


”لرگ بہالں یا رز میں زکر وخلاوتء نماز وز پاات مکانات ترک میں مشغفول رت ہیں ء اور توم یک ورت یہاں ے 
گے ہو ےکتوارے بیو ں کی یں اور رش ےکر تے میں ناک لو مآخرت می ا نکی شمادیاںکی جائیرں دہاں(عا م و ھں) 
بزلزت جماععت کے سارے لز خی موجود ہیں اور سواۓ روزہ کے سب شس مکی عباد فی ہیں ء ول وک او قات ”تب رک یی مامند 
شب تر رشب ہے یں اک ای د نیا سے غا ی بزوں کے ساتھ وقت بھی زار تے ہیں۔ اور ا نکوز نہ عمزیزوں کے احوال بھی 
ر شتوں کے وریہ معلوم ہوتے رت ہیں ٤و‏ غیی مر ؛ ” فاو ی عزی زی ص۱۱۰ “۔(اوارالپار ی۱۸ءح. صض )٥۲۵۰‏ 
اس کے بحد صاحب الوارالمار یک تم رہ کی نے“ 
۰ و رکا سا ےکی و یں او ما ہرز میں عام مومنو ںکیلئ ہیں :نو اولیاء وانداءم کے واسنٹے پچھر ما طور پر 
سرورانباءاول| ق وا شل ان سیم کے کیا چ تہ ہو ںگی“۔(انوارالبار ی۱۸ ع.ص۲۵۰)” 
خواہ گواہ ایک د اسے ے الفاظ کے ”کن ہر ل کر ے ادلی وائ الفاظ خود جو ڑکر اپنے یک اظ رے اور تقیرانہ سو ےکی پچ الزام کک 
غت ری کام تومو لتا ے کاب رک نہیں ا 
تحقید براتے اصلاب اپ یکاوشش ےکر شتی اکر ے کی بام ی میں ہوتویے اۓ قل اور کی تابح دار ی ے۔ اور اے لل اور سکی 
خوا شش کی کیل یئ اپنے خحیالات وی کےا وپ لا اگ وکر :اور تقیققت ے مد چ نیتشینا راف ے۔ اور اک ے نیاو شتی رک ذڈ بیس اپنے اکا رکو 


۵ 


ی چو راے م کم اکر ناے۔ جییاکہ ایر انار الہار کی کے حوالے میں زر چا ےن انور شاه صاحب ی ی را ات 


کے وہاں چار م کے مکان ٢ے‏ ہیں ایک توا سے سے اور شب بائ کا نا س کان“ اک رشب باش یکا مطلب و مجن ججیاکہ خالہ مور 


صاحب اور “ی زرو صاحب نے جما مراد لیاے کے کی کے ”ںی میں وکیا قر جما کے خا س مکان موتا ے ؟ ا سکاجواب ضروور 
وتک وهاشکال اورا ۰ ی تخم ہو جاۓ صے ت صاحب ت ے می رک ےاں۔ تیا ی صاحب کی جاب د ہک کہ شاەصاحب 
یی تین مز پان جو ری صاحب کی ے کہ وال عا م بر زغم مز ما کے سار کلذ یں موجوو ہو ےپں۔ 

توشب بات یکا مطلب جما ہیں ےکی وکمہ شاو صاحب کے ملین کے مطالق فویہ لت وہاں مسر ہی تھیں۔ وجب شب باش یکا مکان تقابل 
اتا میں توب مو ظیات میں علامہ زر ایی کے قول ی کیوں اعتراض؟ ٰ 

الاک ایام رد ایی ححضرت قدرس صرونے ایام زر قاٹ یکا تول ب کیا ے اور شب بای کے الفا اتا کر ے ہیں جم کا ہنی و شوم لفت 
کی کا بوں سے وا ےکہ دا ت گزا رتا مق اگل خضرت کے وی حضو ر میم کی اک ویبیاں اور جما ری ہیں حضو ر وزم ے لا قات 
فرماتے ہیں اور ساتھ را تگزارتے ہیں۔ حیاکہ اکا بر دلو بند کےکتب سے بت ہواکہ عام ہو ن کو کی ہے ولت مسر ےک ومآ شس 
اقات لے چن اذز دا کے پال حورو ںکاآناثابت سے ۔اب اگرزدولی خان صاحب ا لکو جماع سے تی رکرے کی تر ول اع 
صاح بک پاک بیو ں پر ہس تاگان فل ے_ 


-_ 
+ 


عالاکک ا ہات امو ن مما ری میں یں جو اب کی انیا ہکرام مکی از اخ مع رات ہیں اور انیا کر ا مکی فک میس مہیں۔ قب رما رک .یل سا تج ہنا 
رت میں ساتھ ہوزاء ای طر بی بہیں چس ط رح انس و تیا میں سا تہ کے ما سد نیائیش سا تد رہناان کے کے ہجوب اور ست وال بات 
سک 


فر فار وق نے سات ہے وا کے الفا ای ے استتمال کے ہیں الا ای ا و ا و ا 
رتاو تیوب اور ”ست وای بات ہیں اور جت یں کی ساتم راکو میوب اور ہت وای بات ہیں ومر قر انور مہا رک یل بلا قات اور 
707 ټوب اور ست وال بات ہو ی ؟ ےکی ور انیاء ر وضد ہے ر ہا الجن نیس یں ؟ بیہاں ىہ بتان اضر ور کا ےکہ شب ا 
الفاظاے ب کر اکر اکا رولو ہن کے ضایف ے نک جا ےک آبا ترس انہاء للام کلت جا مس سیا تھیں نواس می اختلاف 
ضرور ے_ شض علاء جواز کے تا ی ہیں اور علاوے اختلا کیا ے۔ ہن علا نے اختلا کیا ے وہ اختلاف اک وچ ے کک ہے 
تب تک باعث ہے۔ بل اسے دنیاکی عدکتک لات بااے ۔اور ووثوں طرف ے علاء نے ایے اٹنے د لال دی یں ۔آ ہے علما دلو بنر کے 
تم ران شر ,ضیف ےا کے جوازاوراختاا فکو ع٠‏ ل کرت ہیں۔ _ ٦‏ 

”اندیام کے کا کے لیل میس جو اختلاف سے وواس بذیاد یہ ےک ہآ حضرت میم کاار شمادے جس سے ظاہر ہونا ےک وفات 

کے بحداندیاء کا م زی می کرت یشک اس ار شاوی ج حکست بیا نک یکئی سے اس سے می ظاہ ر ہوا ےکہ اندیاء اس لت 

ے اطف اندوز کییں ہو ئے_ دوارشاد ہہ ےک ہآپ نے فرمایا۔ ” تہار ید ابی سے تھے جو چ زس محہوب اور پنریرہ ہیں وہ 

عور تیں او رخو شبووں“ 
ا ار شاد س آ ب نے نہ فو ىہ فرماپاکیہ ابقیاد خیاشیش سے اود نہ ہے فرمایاکہ ای د تیاس ے کی وتآ ب نے ای لفط ہار کے ہے ار شاد فرہا )کہ 
ور یں اور وبول وگو ں کی وتاش ے یں کی کہ ومان دونوں چو و ںکواے اطف و تش اورم رس کے م س کر ے ہیں ۔ چپ ر سول الہ 
2 اطف و لکی خمناسے پاک اور بر کی یں آپ ۶و رتو ںکو ای ے پہن فما ے ت کہ وہب روق ت کی ش رک حیات ہون ےکا وج ےآپ 


کی خو بیو ںآپ کے باضفی مجزات اور و شید وا کا مکوام تکک پیا میں 


کیوکلہ عام عامات می ان صفات اور ییول سے ولول کے علادددو سرے لوگ واقف نی ہو کے تھے ۔اىی ط رح بییوں کے 
ذر یچ دوسرے وی نے بھی لوگو ںکو ما کل ہو ے کے _ اور خو بو ای ے پند دہ عھ یک ہآپ فرشتوں ے ملا ات 
فرماتے سے اورفر شت خوش وکو بین دکرتے ہیں اور بد بے فرست کرت ہیں ۱ 
. ( رت علمے ارروجل ر٢٠‏ صض٢٠)‏ 
بی وموج اختلاف دے سی ورے حش ملا نے اس لغ٦ت‏ کے بس ہو نے پر اختلا فکیاے۔ ا سکاجو اب جواز کے علماء نے 
لوں د یاے۔” اب وو علا ء کے ا ںک ارام اود ازا زک تقاضا کی ےک ہآپ و بر زغ میس ودی لذ خی اور خوخیاں حا گل 
نہوں جود یاییس حا عل میں الہ برذ سس مھ یآپ کے عالات دی ر ہیں جود نیایس ہیں “_ 
( یر تعلمے ارر و جل ر٢٠‏ صض٢٠)‏ 
اختلاف رین والو لکار کر ے ہو ے جوا کے علا ے ہے جاب دیاے۔ ۔ 
” ادر ایک اغکال ہے ےک ہے کم تآپ ے ای قول ے مطاان ہیں ر ٣ق‏ یں یں ےک کے پار چوں میں ل وگوں یړ 
فوقیت حال ے۔ان جار چیزوں می لآپ نے کقزت جا کا کی وکر فرمایاہے “۔( سیر ت حلہے ار ووء جل ر >٣‏ ص٢٠)‏ 
٠‏ اام ریک فو کیہ اس میں اختلاف ےک لزت جما یسرے پا یں مجن حض جواز کے تی ہیں اور بن جواز کے مال 
کی ۔آیے علاء دلو بند کے مستفدر سرت سے ولویند کی عا م کات جمہ علاحط ہکھرتے ہیں۔ 
. پچھرمیں نے اس سللے میں تخ س ریک وی دیما کہ انیا کم السلا م اور شہداءاپقی قیروں م! سکھاتے ٹے ہیں نمازیی 
پڑت بیں۔روزے رت ہیں اور کرت ہیں۔ الہ اس بارہشیش اختلاف ےآیابہ حفضرات 22 بستڑی یکرت ہیں یا 
گھیں۔ائس بارے میں ایک قول ہے ےک ہکرت ہہیں۔ اود ایک قول ىہ ےک نمی ںکرتے۔ نبز ےکہ ان حرا کوان کے نماز 
روزے اور کاڈ اب اور جتزاء بھی لی ے۔ اگرحہ وواب ان فر الس کے مکلف نیس کیں۔ مق الن پہال یک پان ی اور ض رورت 
لے کوک موت نے ال پر سے بے پاد ی کر وی سے کان ا کی ان عباد و کا ذاب الع کے اع زاز اوردر جال تگا 
بائ ری کیل اتا ے۔ ہا ل کیک ت رٹ یکا وی ے_“ ( یر ت حل ارروچل ر ۳ء ص۳۹) 


د۲ 
ہا 


جو لت جماع کے تال یں دہ ظاہ ری می یں متا وی کر ے ہیں اور ظاہ ری من یکو سچھو کم ایک دو سرے اور ورا زکار ہیں پی راک رس ہیں 
اس کااظہمار علا دو بند کے سنت ر یر ت اران الفاط سس اکردہاے۔ ۱ 
۵ آۓ قاری طیب صاحب مت دارالعلوم دید ند کے زی یگرانی ہونے الات ج ٹڑ ھت ہیں۔ 
عق تھالی نے شبیروں کے ات تلایا ےکہ دہ زندہ ہیں او رکھاے ہے ہیں۔ علاء نے ای با کو قیاق پر و ل کے 
مو ےق ای زند ی کو می زن کی صلی مکرتے ہو ےکہاس ےک وہ یقت مم سکھاتے بے ہیں اور نیا ںکرتے ہیں اور جو یں 
ای کے فلاف ”ن لتا ےس کہتا س ےک کھانے ے اور مکاح سے یقت ہی ںکھاماپینااور جم بستزی یکر نام راد یں بلک اک وہ 
لزت مراد ے ج وکھائے سے اور تم بست یکر نے سے ما کل مون ے تووہ میں بلا وج ہآیت کے تا ری یکو چو ڑکر ایک 
ووسر ےاوروورازکار ہی پی راک ر ہاے۔ جب ا یک یکو ض رورت کد سے۔(س رت حم ارووء چل ر۳, ض ۳۹) 
٭ اس عبارت یش لت جا عکی تص ر ت موجود ہے چنانجہ سر فرازصفدر صاح ب بھی ترام لزتڑں کے جو از کے تا ہیں چنا کے 
یں۔ 
آ پم قمام لیذ قوں اور عیاوقوں سے تع یں“ ( ین اصرور,۸۳۲) 
ان تام لزتو ںہ ےکو کون ی لز س م راوہیں؟ 
صفدر صاح ب ا کی تز ت کر گے کی ولیہ یہاں اف ”تام ٠“‏ کااستعال ہواہے۔ صفدر صاحب کے پا می لن کی انیا ر یکنی کش 
یں لوک یاک لت کے ا کار ے اۓ نک بارت س تر 0 رکر یڑ ےکی اور لفظ ” تام ٠“‏ کو انایڈ ےکا ای سے شابت مو اک ب 
نل حال وسوی یں لت یں موی بل ی لزت و انصیب مو دا ءکو عا م رز ںی ں لات مما سر مون ے۔ 
چا تا کی صاحب سی ر ت عل ےکا تر جم ےکر کے مو ے کت ہیں _ 
ہی ا کہ شہدا مکو رز ن بانی ا ے جا نے یں اک ھائ ہے ے ہشامت وتنا ےک وہ تم بست زی کک یکر ے ہی سک وک م 
ری سے بھی لت عا صصل ہوکی سے جی ےکھانے اور سے لت میتی سے “زس رت علمے ا رروہ جل ر٣‏ ۹۳) 
ب حوالے خالدمودمامچٹروی اور مغ زروی صاحب اور دو ہے ان رات لیل اھکر ہے ے جو اتکی صرت ارام مدق رس رہ کے نویر 
ہس تک ازام کار ے ہیں ہے خض رات یاو ملف و صا ین اور اسیا بر کےکتب سے ناواقف ہیں اعد اوت میں ا مس ےآ کے کل کے ہی ںک ساف 
وصاشین و علاءااسنت کہ اپنے اکا بر کے بھی بای ہو گئ ہیں۔ سرت حم ےکا تر ج بای وار علوم ولوین قا م نانوی صاحب کے لے 
قا رک ر طیب می دارالعلوم دیو ہن دکی ز یر سرپ سقی میس نقاری طیب صاحب کے صاججزا ادے ٹر سم کی فا مل دیو بنرنے ب یکیاے۔ جس 
پاات ی زول صاحب ”ہس تکاال زام کاک ابام پر دا گل حط رت ق ی سر ہک وصور وا رہ رار ے میں ۔ 
لویل علی حضرت کے عبارت میس و صرف شب بای کے اللفاظطا ہیں مج نکا مطلب و معخی بل گم بست زی کے سے بی کیں۔ عم ولوین اور ا ت کی 
کمابوں سے وا کرو گیا سے ۔ کر قاری طیب صاحب کے صاجہزادرے نے آو صر اہم بستریی کے الفاظہ استعال کے ہیں۔ ای یړ زرو خان 
صاح بکہوں ناموش ہیں اور قا رک طیب صاح بک کیو ں کی رے یں یں لے جو ان عبار ا تکی ریک فر مار ے ہیں_ 799 
وول وگ جوا ی شب بائ یکو قاط ربک ورل وگوں میں افتزاں وانتشار پیر اکر ےک نر موم سی بیس کے رت ہیں ا کو پیل اپ ےگھرو ںکی خی ر 
کے :کہ ان کے ا علا ےکی لفط کہا ںکہاں استعال کے ہیں 00 
٭٭ سب سے پل خر مقلد قاضی الم سیف نی روز ود یک الیک تح بر جس می اس نے ” پاکستان میں عرب شیو نکی تش ری ف آو ری“ 
کواپنا مو ضوح تشن بناتے ہو ئے ان لف مقامات پر ملف غمیر مقلد بن سے ملا تقاتو ں کات کر ہکیاےءاس میں وولکتا کے : 
”نماز عشاء کے لحر عرب شیو کا ہے وفر مولا ناشاء اٹہ اور مو لاناحا ذظ عپد ال ر گی ملک قیادت میں منصوروییں ان ل 2 
امیر جماععت اسلائی پاکستالن کے پاش پیا اور میاں صاحب سے ان کے دفت میس ای بی نشت میس خوب تبادلہ خیالات ہوا 
؛ ف سال پر شر وب یا سے میاں صاحب ےکنفنکوہوٹی تر جا لی کے فرالس جناب ٹیش ال من صاحب امام دے ر سے 
سے ر ہا سا ےگبار ہے وہاں سے فار م ھکر وفدماڈل اون بچا۔ عرب شیو نکی شب بات یکااتظام۔۱۱۔ مان ر وڈی ھکیا 
گیاتھا۔ ( مضتروزوالا سام لاہور ٣۳٣ر‏ الاو ل ۰۳٣۱ھ)۔‏ 
اگ رشب ہاش یکاایک دی مت ے جو وہ معنفین وو حنین مرا لیر واو یکرت ہیں فوانڑیں پھلے اپ ہز رگوں سے سوا لکر ناجا ہے تھاکہ تم ت 
ای خضرت علیہ الر مہ بے ا کی وجہ سے اتا کم در ہے یں ءآپ بتائی مک ہآپ نے ان مج می رب شیو کی شب ا لئ 
اظا مکی ا؟_ 


د۲ 
0 


اور ہے ی سوا ل کر کہ ان کے تر ہے کے مطاان جو شب بای کا وہ مراد کے ر ہے ہہیں ال ںکاافنظا مر نے وانے ہمارے علا قا لے 
کے ماب کاو 
e‏ اسی ط رع غی ر مقلدٹیٹ عام صد بی نے ای یکناب ”صد بتک ات“ میں دو متقامات پر ىہ لفطاستتعا لکرتے ہو ت ۓککھا ےک : 
”آپ(حضرت عائشہ صد یتہر شی اٹہ عنہا) اس خیال ے قاف رک شب بای کے متام پر بے جا ہی ںک مک ےکوی رر کر نے 
کیلع ض رو رآ ےکا“( صد یت کا ات٠‏ ص١۱١)‏ 
دوسرے متا می ےکاصا ےک : 
سب سے لے قاب یو جہ بات ہے س ےکہ از دانع کہ رات 1 کے چرات اتک سات کے اور بر ھر نہ وی ے فار م وکر یک 
اک ڑ ہے مول تھاکہ چند جا تکیلئ ہرزوجہ مطہر دا کے بال تشر یف لے جاتے۔اور جہا ںآپ ھک شب بش یکی بار ی مون وہاں 
ہے وق لے سب م ہو ما یں _( صد ات ہکا یات > کک ۱۵۰) ۱ 
مه اسا ل ہی نے ووا ۓ ”قوی“ میں ہے لفت استعال کے مو ےکسا ےک : 
” چنا رات کے دعند کے میں اسعد بن زرارہتنش ریف لا ۓ ان ہوں نے اپنامنہ پٹ ہو اھ حضرت مم رمصعفی یم نے فررایا:”* 
خر رات کے ہو حا اکلہ لے بسمابہ یی کیا تھے ہار ے تعاتتا کان خو شگوار ہیں“ _اسعد خی رخ لکماکہ  :‏ جفضرت جناب 
کیآم کی خر پاکر صورت عال یھ بھی ہو مج رمت کرای میں پاچچنا تھا۔ چناخیہ ظرت اسعد بن زرار ہ1ل وڑیں شب پاٹ ہوۓے 
اور می وائیں چے گے۔( اوی ساق ص۹۲ ٤‏ ۱ تر 
ازر جات 


الام ر١‏ تان فار وق پروی 


وٹ ای زین وآسا نکا تق چائزہ 
ا کیت ر مجر علی مر زاصاحب اعحتراخ کر ے ہو ےک یں _ ۱ 
علا مک نظرب : عرض: فحوت ہر زمانہ ل موتا ے۔ا ر شاد: اخ رنحوث کے ز مین وسمان مقائم نہیں رہ سکتے۔ 
( بریلوی: ولا ا رضاخان صاحب ملف ظات صفجہ ۰١‏ اپ کار ر م ) 


و is‏ و Er‏ اع کا کو عو زی کے ای کے چ گی کے کے ےد اوا ر ا 2 نے 
ویک فمل :رن ال مك السمَاواتِ وَالاأزض أن تَولا وَلون الگا ان مس کهم امن اڪ من بر وإ نة کان حَلعا عَفُورَا. 


رچ ایت میا رک : بے شنک الد بین ےآسمانوں اور ز می نکوققام رکھا ےکم ددابقی عبگہ سے مل نہ جائئیں۔ اور اگمرودٹل جئیں فو بچھ راڈ 
ہے سوا مکو فی کی ایی کی ں کہ ا کو تنام کے بے وہ بر داش کر نے والا معا فک ر نے والاے۔[ عور الفا ءآیت نر 1 4] 
رل ہے س کہ با ںآی تکودل وجان سے تو ا اوا 2 رن سک یکو رن ہر تیک ہیں کر اختلاف ہے 
ےک ہکیاالہ تھا لی نے اد نیاادرآسا نکا مم وضہط جب کے تح تکیاسے پا پیر جب کے ؟ او کیا ہآبیت عام ہے پااس می ل کی ذات اور 
حخصی تکی یس بھی سے دک ہیں ؟ 
الہ تیال رآن ںار شاو راتا ے: 
المد یر ات ارا .ن مان فرشتو ںک یک قھامکارہ باردخیاا نکی ت ہیر سے ہے[ سور ۃالنزعات ءآیت :۵] 
ا سںآیت کے حت مفس رصاح بکتیاب مہالم الززی لککھت ہی ںکہ 
رت عبدالھ بن ع پا نے فرما کہ یہ عدابرامت الام ملا کہ یں کہ ا نکیا موں پر مقر ہیں نج کی کار انیا ہیس اللہ تی نے 
تائی ے۔[معال الیل ح٣‏ ص۲٣٣]‏ 
یی ہکمہ اگ ران د اور عم یں ہرک ای رب ور راے وق ران اور نت ا لیے خمام عقائ رکیار دک رتتاہے۔ 
خودآ قشم کی قد ر تکا مل ہکااند از کان مش کل ے۔ نطرت سید ناجابر بن عبدالڈدالا سار کیافرماتے ہیں۔ 
إن انی مر الشمس فعاخرت سان اهار جرا نے سور کو م دیک کے دیر نہ جے لو سور یلم شر 






د۲ 
J‏ 


[ یھ الا وسیا جع ۰۲ ۴ء علا ہج گی رحرۃاالد علیہ نے مال وا ۸ ے ۳۹پ اس حدری تک سن رکوس نکھاے۔] 
یم یاار ےکہ بے دقع ضرت ےے سور کے لو کے کے علادہادر جد اہے۔ 
اع حطر ت اا ا رضاخان رحیۃ الد علیکے ار شا وکا مطلب داع ےکہ قیام تکتک غحوت (اولیا کا می ن ایک منصب) رڑیں 
ا ن و و ہرکت سے کن وآان قا تم ہیں ۔ بوقت قیامت ا نکاوصال مو ہا ےکا ا لی حضرت رحرت الد علی ہکاخ مان تو 
ین حدیث سے ابت ے۔ اکر اعت زا کر ناے فو چھر محر بن پ ہکم میں جنخھوں نے اسک روایات اوح ین تک بات ےکہ اعادہث 
رن ف٠‏ لکرس اور اعتراض ا لی حضرت پ ہکیاجاۓے؟ دراصمل مر زاصاحب جیسے لوگ وحن پر اعترائ کر ےکی بمت فو میں ر کت گر 
اپنے وٹ مسل کفکوثاب تکرنے کے بے اعام ات رضا خان باو ر اٹہ علی ہکی ذات گمرائی پر اعتزاشش کے سواءاان کے لے یج بھی 
یں مرزاصاحب اگرمت سے فو درخ ذ گل اعادریث ملاظ کی اور پچ مر مج ین یھ کی اقترا کر کے ا د کو کوشاب تک یں۔ ۱ 
وهو اعراق فَقَالوا: العَنهُم تَا امیر الُوْمِيِيی. قال: ای وِعُث رَسُول الله صَل اللَهُعَلَيْه وَمَلم یقول: '' 
الال يَکَوثون بالفًاو وَهُم أَربغون رجا کا مات رَجُل بل الله مکَاتَة رَجُلّا یُقی ہم الَْيْثٌ 
ويھر و ع الَأَعْدَاء وَيَِرَف عَن أھُلِ الشّامِ یہمِ الٰعَلَابُ ۔ 
)مسن امام احمل ؟ ۱١ص۱۷‏ رثم:۸۸۰, مع الزوائں ج۰ ص٣٢٠‏ الضیاء الہختارہ ج٢‏ ص۰ رتم:۷ء) 
ترجہ :نھ یکر صلی اللہ تی علیہ و فرمات ہیں :اہدال شام یں ہیں اور دو جالششس ہیں جب ایک ھ رتا سے اود تھالی اس کے 
بدنے دوسا ات مکراہے۔اٹچی کے سبب بیضہ دیاجاتے ء انیس سے دنو پر مرو ہے ء انیس کے باععث شام والوں سے 
عذاب گر اجاڑے۔۔ 
ا ایک قوی متائع خودااضیاءا شر :رٹم : ۸۷بر بھی موجودے۔ ک7 
عبد الوه اب بن ساو آخمد الشاذیا احبر هھ قِرَاءة َل تا ال اَل تن تم بی م كرو آتا الس أو 
صاع بن یسان عن ابی شھاب َد تی صَفُوان بن عب الله ُن صَفُوَان أن ليا قا بصِفين وَأهُل اعراق 
سيون اهل اشام فقا لا آهل اعراق لا سوا اهل الشام با يا َنِم رجالا وين لما رون 
َإنَەيالهام یکو ن الأبدال ۔زِسنّادہضییح) 
٭. حدرئث: ‏ رماےہیں: 
صلی اللؤتعالٰی عليؤ وسلم :الابدال فی امتی‌ثلثونبہم تقوم الار ض وہہم تمطرون وبؤم تنھ رون۔۔ 
ایرال می رک امت میں میس ہیں ا یں سے ز مین تام سے ایس کے سبب تر یہ عیضہاتتاے۔ انیس کے باعث نہیں مدد می ہے۔ 
| ال واک باب اجا ف الاپ ړال ان در الکتب بی روت ٠١‏ / ۹۳ء لیامح | اصغر ہو الہ الطبرالی ئن عباد بین الصامت حریث ۰۳۳ ۳دا ر انب 
ایی ر وتا /۱۸۳, امام مناوئی نے ین القد بی" 168/1" پا عر ٹفگ ہاے۔] 
٠‏ حدیث :(حدثنا سلیمآن بن أمں. ثنا أآمں بن داود المی. ثنا ثابت بن عیاش الأحرب.:ثنا أبو رجاء الکلیی.ثناً 
الأعہش. عن زیں بن وهب. عن ابن مسعود. قال : قال رسول الله صلی الله عليه وسلم :٠لا‏ یزال أربعون رجلا 
من أمتی قلو بم على قلب إبر اهيم »يدفع الله بم عن أهل الأرض. يقال لهم الأبدال. معرفته الصحابه لای 
نعيم الاصببانی رتم الحريف:٠االبعجم‏ الكبير ج٠٠‏ ص٠١‏ ر ا حريف ٠٠٠٠١:‏ مكتبة ابن تيمية -القأهرةحلية 
الاولیاء ترجه زیں ین وهب ۲۳دارالکتآب العریی بیروت "۰٠۳٢/۹‏ | 
ترجہ : حضرت عبرالل بین مسحود ری اللہ تعالی خنہمافر بات ہی ںکہ ن یکر یم صلی الد تعاکی علیہ و سلم نے فرمایا: یٹس مرد 
تیا مت کیک م واک ہی کے ہن ے اٹہ تال ز ہن کی حناظت ےکا جب ان کا اسیک انتا لکر ےکااڈ تنا لی ا کے بد نے دوس را 
تام رئیا اور وہ سا ریز کان مم ہیں ۔ 
اس رواب کو ی کد ی کرام نے ن تراد دیا ہے ۔ان ردایات کے علادہ بہت سا کی اسانید E REE‏ 
ابرال باائش کے ولی کے وجودمسعو دی وجہ سے اللہ تایز ہیں والوں یر بارش اور رز یک فراوا یک کے ہیں ۔ اکر ر زاصاحب یں وم م ےلو 


18 


اس پا عتراضا تک میں الن شاءاللد ا نکودوجو اب دیاجات ۓگاکمہ ال نکوآیندہارکی ھت سے نوم کٹ پڑے گی کیو ان کَاا نما الما لی سے 
شن پر قام تر انار زالی غیرمقلدزیر پر چ اور میں ان کے تمام احتراضات معلوم ہیں ۔کی وہ اس تک یکنائیش نہیں سے وگنہ 
ابرال کی احادیث پر متنقلا ای کاب معلصنی یڑ ےگی۔امذامرزاصاحب راووں پر اعتزرا کر نے سے چیہ قام اقوا لکو دوبارو سے پڑھ 
یں ۔ مز ید ہکہ اہدال اورائد کے خیک ا وگول کے ذد یج رزق اور بارش کی ر وا یا تکامفہوم نو متواتراحادیث سے منقول ہے_ 
شمای مر زاصاحب عم ریت سے ابد ہیں کی کہ ابدال کے علادہ مگ کچ رانسیر دایا تک ہیں ین میں ىہ صراحت مموجودے کہ ضیف لوگوں 
کی وچ سے بی ایند تھا کی مداوررزٹ تاے۔ 
٭. حدریتث: حخرت سعد بن الی و قاع نے فرما کہ نب یک مم مل نے ار شادفرمایا: 
ھل تنھرون‌و ترزقون الا بضعفاء کم 
یی کیا ھی حدداوررزق اب ضعیفوں کے علاووکسی اور سے ملا سے ؟( سج بای ج ٣ص‏ ۰۵ تاب الھاد( 
جناب م زاصاحب ! جب الہک ضع تلو ق کی پر ولت اور و سیل سے اد کی لو کور زق اور یرد می ے فو پچ رپوادڈ کے اولیاء کے فو مل اور 
واسطہ ےکی یہ یں اتام وکا مرزاصاحب مجن ہستیوں کے نل سے کھاتے ہیں اش یکاانکارچھ یکرت ہیں۔ الد تال انی ن شر ی ے 
جھاے۔ 
پل فرت شاہ پد الح زیڈ حر ت وبل ویر اللہ علیہ محرٹ مھای بخداد یل( م ٣۳۳ھ‏ ) کے الات می سککھت ہیں : 
ا ہا رگ کم ہیں مہ بیا نکیاکہ ٹیش نے خحو اب می دی اک ہکوکی نے وا کنا سے صن تعالی 
اہ ل بغر اوی ے ٭ یل ویب کت ای ر اٹہ لیے بلا کا سے “_ 
(بستا ن ار ن (ار وو ) نے ہر ٢‏ مطبو ےک راری) 
1 رت الس ح کی ر میٹ ے: 
لاتقوم الساعة حی لایقال ی الارض االله االله“ 
( این نان :۹۸۳۹ء رال عوانہ :۲۹۳۴ء من امام اھر بن صضبل :۳ م٠‏ ۱۶ء جج مسلم::۱۳۸) 
رسول اک رم انے فرما کہ نہ ہام ب گی قیامت ش کہ زین می اید ال ت ہکہاجاد ےگا 
٭ -ححطرت ہما عی فا ری خح رحۃ ارڈ علیہ اس حدبیث کے تح کھت ہیں ٠‏ 
«انبقاء العالم ببركة العلياء العاملين والعباد الصا حين وعوم المؤمنين >١٠‏ 
( ر قات شر ں لوچ ص فمبرے ٣۳‏ جلر )٠١‏ 
اس سے معلوم م واک عا ی علاعو صان یتر ول اور عام مومنو ںکی رت ے جہال بائی ے۔ 
لیے س کہ مہ یاد در ےکہ عدریث ٹیل ممن کے قا ر ےکی شر رکو اللا ہ کے ے مشرو کیا ے اور الٹ رال ہکاور د ایک تیک ی پاولی 
اشن ی کرتاے۔ اور جب تی بندے کے الال درس ہکی وچ ے زس تام ے لو برای رال اور اولیاء کے وجو کی وجہ سے ز مین او رآ ان کے 
تقار ر ےکا تو کے فاع ہو سا ہے۔امبیر ےک رز اصاحب ابق اس ججہاات سے رجو حکر کے الد تھا لی کے در پار یں ر روو سکتے ہں_ 
مزید یہ ےکہ غحوث ضحم محبوب مبعالی رحمۃ ایند علیہ سے جو قول صاد د ے اگ مت ے لو حر شی نکرام اور علامکرام سے اس پر فی خابت 
ک رج بات کد ی کرام ہکوغیر شر ی نظ رآ یآ ر کل کے ایک لونڑ ےکو ىہ اعتزائض نظ رآنیڑے۔ جناب ول ! اہن تھے ادراب م کے 
وپاہیوں کے ا6 بر ن ل ہے مت نہ مو کہ کوٹ ا م ر دارمل ےکی شان یل یھ نے اوٹ یک میں خود این تھی خوت ایکا ب کی 
شر کے ہے و رتا ے۔ اہن تھی جیا ولیو ں کا الف کی فوت ا م ر رار کاک سال ے میت ے۔ 
٭ تاب مستطاب بحدالا سر ار شر یف میس خود حوث ا م ر وایت فرہاے ہیں : 
اخبرنا ابو مہں عبں‌السلام بن ای عبدالله میں بن عبں‌السلام بن ابراھیم بن عبدالسلام البصری الاصل 
البغدادی الہؤلں والںاربالقاھرۃ سنة احلی وسبعین وستمائة قال اخبرنا الشيخ ابوا جس على بن سلمان 
البغدادى الخباز بيغداد سنة ثلث وثلغين وسثمائة قال اخبرنا الشيخان الشيخ ابو حفص عر الكمماق 
ببغںادوسنة احلی وتسعین ومسمائة قالا کان شیخنا الشیخ عبدالقادر رضی الله تعا ی عده مغی ف الھواء 
علی رؤوس الاشھاد ٹی جلسه ویقول ماتطلع الشمس حثى تسلم على وتجثى السنة الى وتسلم على و تمبرنی مآ 
بجری فیہا وبجیء الشھر ویسلم علی ویخبرنی بما بجری فيه وئ الاسبوع ويسلم على ویخبرنی ما بجری فيه 


19 


ويجئ اليوم ویسلم علی ویخبرنی ہما بجری فيه وعزۃ ری ان السعداء والاشقياء ليعرضون على عينى ف اللوح 
المحفوظ انا غائص ف بحار علم الله ومشاهں ته انا جة الله علیکم جمیعکم انا نائب رسول الله صى الله تع ی 
عليه4وسلم ووارثە الارض۔ 

(بہجة الاسرار ذ کر کلم اخبربہا عن نفسه احٌدارالکتب العلمیة بیروت ص۰( 

صدقت یا سیں‌ی واللەفانما انت کلمت عن يقين لاشك فيه ولاوهم یعتریه انما تنطق فتنطق وتعطی فتفرق 
وتؤمر فتفعل وا محمددلهرب العالمين۔ | 
ترجمہ :یی ارام ال حطرت ابوالقا م ربن حو وو ہار اور حض رر ابو فنص عو مہا نی مسوم الد تھالی فرماتے ہیں ہمارے تج 
تضور سید زاعبدالقادر ر شی اللہ یی ع اہین اس میں ہلا زین سے بلن دکرہ ہاب می فرماتے اور اد شا دکھرت ےآ قب طلو رع 
کی ںکرتابیہاں ‏ ککہ مھ یہ ملا مر نے نیاسمال ج با سے مھ پر سلا مک تاور کے تمر د تا سے جو پجہ اس میں بہونے والا سے تیا 
ہت جب آنا بک یھ ملام تاور کے رو تاس جو ب اک کد ہونے دالا ہے تیاو ن ج ےآناے بک پہ علا مک تاب ادر کے ر 
دا جھ بین اس میس ہونے والاےء جچھے اٹنے ر بکی عز تکی م اک تتام سعیر و ی بک پر یل کے جاے یں میرک 1کک او 
گنوت یکی ے تتن لوں مفو ظا میرے یی نظرےء میں ایند عز ول کے لم دمشاہدہ کے در ال میں غحوطہ زان جہوں یس تم 
سب پر جتالئی ہوںء شی ر سول الد صلی اللہ ایی علیہ و کا نائب اور زین میس حضور( صبی اوہ تھالی علیہ و کم )کاوارث ہوں 
فرما یا ےآ پرنے اے میر ےآ قاء ند ا آپ میا پر ب یکلام فرماتے ہیں جس می ںکوکی یک اورو بم راہ نیس پاتاد۔ بے ہرک 
0 2 00 0ب 
کر ےون ۔ اور سب لر یں ابا ررب العا کان کے ے۔(ت( ۱ ۱ ۱ 


شیا ری چانورو ں کی ی آوازک ا 

این ر ر لی مر زاصاحب تزا کے ہو سے زل ۔ ے 
عاما کیا نظر ہے :سور 3ا ف آرت رد اثلا مايش 7ے کوب راد وکہ مس تم جیساشر ژولں۔۔۔۔ ا ںآیت مل کغار 
سے طا ب ےپ کہ مر چراق ق ر ے نف تکرکی ےامذافرما اگ یاکہ ا ےکفا رق مھ ےکی راو نہیں میس تہارک یں 
ے ہوں یی شر ہوں( جج الہ شکاری جانورو لکی کی آواز ٹا لک شک رکرتاہے اس سےکفا رکوارپقی طرف ان لک ربا مقصود 
0 اب ری سا ۱ . 
وی٤‏ اظرے :انز کَف ربوا لَك لمال قصلو ا فلا يَستَطِيعُوت مم یلا۔[ سور ہی اصرائحل.آیت بم۲۸سورة 
ال ر قان »ایت ر ۹] م 
ج :(الے کوب مور )زر اوکعو تو کا )ا وکاپ موم سے تخل یکی ی یی من ای و ر 
یں ہوراستہ ہدایت کیل پا 


O 4 


عم بد ےکہ مر زاصاحب نے مق ام یار خاان بھی صاح بکی عبارت پر ہک اتا نل نیس کماادرجو اب میں ق رآ نک ای ک زی تل 
کروی ۔ا سآی تکوكف لکرنے سے معلوم ہوا ےکہ مر زاصاح بکوآ تام کے ملق مال بیا نکرنے پراعتزاض ہے۔ا نکوشاید مضتی 
صاح بک عمارت سے بہ معلوم ہور پا کہ ق صاحب نے نب یکر بط کو شکار کی سے تشیییہ دبی۔اس بابت چند مع روضات عم رض ہیں۔ 
اد مرزاصاحب نے د پل وغریب سےکام کت ہوۓ مفتی صاح بک عمارت مل |[ رت ن جو الفاظ |[ جیب اہ ] تور اضاف کے 
ہیں۔۔ عالاکمہ جا ءال مس [جیسا کہ ] الفاط موجود ہیں ہیں۔ تقار می نکمرام خود جاءا نکی جاور وعبارت دج ہک سک یکر کے ہیں _ 

٢‏ مرا ان پچھرد بل دفریب سے تار مین یہ ىہ ظا کر ےک کوش کی ےک ق صاحب نے ب یکر کم یم کو شکار ی سے تشیہ دی 
ہے ۔گ مق صاح بکی عہارت ٹی ایس تق ہکی وکو صراح تک ہیں ےکی وک ملق صاح بک جو ععبارت مر زی نے تح لکی سے وہ 
ایک ممل یں بلہ اس میس تحرو ہیں _ 





N 
0 


٠‏ اول: ںآیت میس کغار سے خطاب ہے چوک ر چراق ف ر سے نر تکرمی ہے لمذافرمایاگیاکہ ا ےکغارتم مھ سےکبراو 
یں ء میس تہار ی یٹس سے ہوں مم بش رہوں. 

e‏ دوم : شکار بی جانورو ںکی یآ واز کا ل کر شکا رکرتاے۔ 

e‏ ر اس ےکنا رکو اپ طرف ا ت لک رن صو و ے_ 
اب مر زاگی نے ان تین ھلوں کے ن٠‏ لکرتے ہو ایک جم بنادیا۔ اور مظہوم عبارت بیج ھکا بج کر دیا۔ ان جملوں میں کی متام پر ی نی 
کر کم طم کو غاا ری ے تش یں وی ی 
الف ر اریہ مان لیا جا ےک شق صاحب نے ال عبار ت ںا ر کے تبیہ وی کی سے تو یرک تائ یکا خال یں کی وک امل 
یہی ات لوشرہ س کہ شال می صرف وج می لکالیاظط موتا ے تام چروں یں اشر اک موتالازم e‏ 
کان ب کا ر کے وگ اس بات پر ن ہیں کہ حقرت ع یک رم ارد جہہ الک کے اقب شیر خداہے۔ او ا را بکوکی مر ہ ےک ےوک 
حضرت مل یکوایک شی سے تشبیہ دی اور شی رپ بڑاخون خوار موتا ے۔ او کور جانوروں یف مکرتاے۔ نکیا وذ با الیمااعتراض ور ست ہو 
سے , ہ رگ زبھیں_ اکلہ خضرت ئ یکر م اش وج الک رم مکو شی سے تشبیہ صرف ایک دج سے دی جائی ہے اورددسے بہادریی۔ ای طرح 
میتی صاح بکی عبارت میں بھی[ الف رم اگ راس اعت کو صلی مکیاجاۓ ] ششکا تک مال صرف اور صرف :انوس ہون ےکی عل تک بیان 
آرے کے ہے 
اور ناب عا ی ! ذراآپ ال عبارت ےآ کے چن ر سط ر وں کے بعد بھی ق صاح بک ہے عبار ت بے ل کہ دہکیاف مات ہیں۔ 
ق صاح کھت ہیں : ٍ‫ 

جوا ن اورانہان مل مرف ایک در ج کاف رن ے مر یشرت اور شان طف وی دز و ے٢‏ در کافرقٰدے دن 

-.۔۔ جاری بشریت اور محیوب ایل کی بشریت میں کون نبت ہیں مولا [روم] شوی میں فراتے 

ہیں۔۔۔۔ حور نَم کی ثریت ہزار بجر شی سے ا لی ے۔[ جادالحن ص7۳۹۵ 
جناب عای ! شق صاحب ون یکر کم توم کے برا رس یکو نیس کک چ جائک کہ ا کوایک شکارکی کے برا مرائ لامر زاب ی کاو جل 
وفریب نان کےکا مآ سکا۔ الین تھالیٰ ا ہے فراڈسے متفوطافرماے_ 

کشفا کوب میں نب یکرمم لام پرحالت سک رکابیا نکا شتفتی جائزہ 

ا کین ر مہ می مرزاصاحب اعتزا کرت ہو ےلیھت ہیں۔ ٰ 

علا رکا رہ : حظرت داودکی الیک نظ رجب وہال کی جہاں نہ پڈڑٹی جاجے می م]شنی اور باکی بی کی پر رآ پ وام کو حن تیل کی 

ضرف سے تتوی کاسا من اکر ناپ ڑا جمارے چی ریم کی ایک اس طر نکی ڈگاو رت زی کی ویپ ٹڑی نو رت زی ران 

گی یوی حرام مو ی( ی کے بعر س ٹیک رم یم نے یا فرما یا یی ُم الم سنیشن سیروزیب)اسل کہ حطرت داؤ نی نظر 

پاات عالت کو( تن حاات ہوش )شس ی اور بمارے کر ترم کی نظرحالت سر( مپنی بد ہدش یکی حالت) میں 

ھی | کش ف ا جوب ہاب ۱١‏ کر اورک وکاییان : ولوبٹ ری تر چ : ولان عپرا اروف فار وق سن ٣۹١‏ بر یلوی ترچ : مولان 

رر رص ۳ 

وک کنیل :والکج مدا وی * ماص صاءبکھ وما عو ی * وما طق عن الین هوا وی یوی 

رچ رات مارک : 2 سے ستار ےکا جب دواتڑے۔ تمہارے صاحب( مر یم ) داز کو ےو ری یراہ 

رکآ او رنہ ہی دداپی خوائیٹل نس سےکوٹی بات کے ہیں بکلہ دو کییں کروی جو( ای تھا یک طرف ے) یں یتال 


سے-| سور 8اء ۔آیت مرا ا۳] 






ر ہہک اتر کی مرزاصاحب نے سھوٹ بو لے کے ر پیر ڈتذڈد لے ہیں کی ھکل ا نکی اےے ذا یکو تین ہیں لی غ رمقل د ی 
کے تماماعتزاضات لک ےا ۓآ پک شن ی کے یں _ 


N 
٣ح‎ 


٭ او :اس بارے ٹیس ع رح مہ ےکہ ھرزاگی نے جواس عبارے ٹیں حالت مھ کے کن موش اور کر کے می مد ہد شی کے سے 
ہیں وہ سان وسباقی سے ہ ٹک ر اور و ل وف یب س ےکیا ےک وکل جب ضور واتاصاحب رارک علیہ نے اس عبات می مک 
کی چگ عالت کو اور عالت کر کے کی ہیں کے جب ریکریٹ() اس کے دبے ہو نی پاک فاط ںاور مراب یکی 
رش اوراضافہ جات یں 1 
٠‏ ووم : حضرت داو دکی عمپارت ع۱ لکنےے کک ر کور وات اسا ی ر وا ما جات کواور الت ری ار خر 
27 - رتال علی سے چھے لو ںکر کے ہیں ۔ ١‏ 
اق لوگ سے کر ا کے ا ل تمجھاسے ان میں سے صرت بایزید بسطائی رحمۃاللد علیہ اور اع کے مین ہیں۔ 
و0( نضرت با بزید بسطائی رحم:الش علے) کے ےل کو صفی تآ و میت یر کین واعتدا ل کی صو رت پی اکتا ے اور ہے ا تعاٰ 
کے یات اض ے اور سر وق کے راز ہوےءصفات ثریت میں خر بے کے اظیار ویر ے ظط 
ا ی ےک ل کی کے کے ر کے نے او زان سک وت فا نے ےو ہر ےکن 
ا سکی جٹس کے خلاف ے ٢ے‏ حاصل ہوثی سے اوریہ حالت و سے زیادہ نز یاد ونام اورزیاد کال مو ے۔ 
چناحہ حضرت داوود موم عالت کو یں تھے فان سے ایک لی صاور ہوا س ہن تا نے ان ے سو بکر ویاو فرماپ و 
ٹک واوو چالو ت( سور ابقر ۃآیت ۲۵١‏ )او رواو نے الو یکو کی _ اور کی شیم ۳ ۶ھ 
01 سے صادر ہوا تن تھی نے وو شعنل انی طرف مفسوب ف مالیا۔ قولہ تیال وار میت اذر میت و الد ری _( ورو 
الانقالءآیت ےا)اورآپ مم ن ےکگریاں میں ی جا پ لوا کے تی کن وو توان تال نے پچٹیگہیں۔ ہیں دیکتے 
کہ نے( کر م سیر ھا بنرے(حضرت داؤد) کے در میا عکنافرقی ے۔ ایک بن( حضرت داد جوا ہے وجو رس تم 
تھا اور اپقی صفات سے خابت اس کے ات رشاو ماک تم نے لکیا یہ ا سک یکرامت کا انہار تھا۔ ادر ایک وہ بندہ( ئی 
کم میم ے جو مجن تعالی کے سا تھ مقائم ر بت تھا اور اتی صفات سے فاٹی ہو چا تھا اہی س کو( اٹہ تھا لی نے )اپنا نل فرمایااور 
کالہ ج بے (آپ يك نے پکیا ہم ن کیا یں بے کے لکی بت خداتالی کے سا تھ ہو ناس ذسبت سے 1ر سے جھ 
ہن تعالی کے نت لکی نسبت ہو :اور بندے ےک جائے۔جب فن کے لکی نسبت بنرے کے سا تج ہو تو بند ا نے وجو کے 
ات قا ہوتاسہے اور جب بندرے کے لک نسبت حق تھالی سے ہو ذدہ حن تی سے ات ہوتاہے۔جب بند داپنے وجود کے 
ساھ تقائ ہوتاہے وا سکی حالت ودی ہو کی سے جو داد علیہ السلا مکی عھی۔ا نکی پظراس بلہ پڑی ےت 
لشفا جوب نے ٣٣٣۔۳۳۱‏ کر مانوال بک شاپ ) 
قا ری نکرام ! اس عپارتت می می تہ عم کی تح ریف میں حالت ہوش اور سک کی تر بف میں بر ہو شی نی ککھھا کر جناب م رای نے 
ات ےک نے ےتک نووا وک 7۶8 کے اکر 5نس ھ 
27 
٠‏ سوم :شور داتاصاحب ای ے کلف ا موب میں کر وگ کے باب کے اکل شرو میں ج ککیھا سے اگ رم رزاصاحب 
ای عار کون ی ہم لے آوایی اا عت زا کر ےکی جیار ت نہ ےت 
تضور دنا صاحب ر حر تاد علیہ فر مات ہیں : 
ان ااال کے اد ہے ےکن عو فا او ارات ان اف ال کے : بت سے عپارر کیا ے اور کو حصول 
مراد ے عار ت ے۔ ای معان نے ان کے بار ے س غا ی ن زک ے۔ کش فا کوب ص ٣٣١‏ کر انوا ہک شاپ ) 
ال یاب کے اتام یړو اتاصاحب ر اٹہ علیہ نے بر کواور کرک اقام کی باك ہیں ہیں۔ا گرم زاصاحب ان اقمام 1 ۸۰ 
حضور واتاصاح بکی عبات یل موک معانی حالت ہوش اور سک رکا معانی حالت مد ہو ش یک رن ےکی ہعمت نہکرتے۔مزیلدم کہ اگراس ملہ پہ 
ناب رحمت ا کیب رانوگی صاحب کے عیدمائیوں کے رو می سکنایں رھ لین فا نکوخ زیر سی بل ےگ یکلہ مہ اخ اضالت و خیسا نی کے ہیں شہ 
کسی کچ العقیرہ نیس نے بب اعتزاش )کیاے۔اور اکر پھر اتر نیس فو ھی داقعہ این م نے ایی تاب الشافی بم کک ےکر ات ارال کیا سے بے اب 
مم کیا ذات پر یھ ھی پر ای سنت ب اعتزا لکن ےی ہم تک میں۔اللہ تما یچییں پڑ ےکی جہالوں سے مخوتفراے_--- 


22 


چشی ر سول ای کے اک ی چاه 
ا کین ر ر ی مر زاصاحب اقتا کر ے ہو ے کت ہیں _ ۱ 
علا وکا ری :خواجہ قطب الد تیا رکا کی صاحب (جو غلبف سے خواجہ من ال دن ن صاحب کے )ایک دفعہ اکے پا ایک 
سفن حر انب مریدہون ےآیاہوں۔ خواجہ صاحب نے فرایا: یھ ہیں کے ےکر ےکا کر ہے شر منظور سے و 
7 0 ا وت یکروںگا۔خواجہ قطب المد ین ہختیا رکاکی نے فرمایا:ت رہ اسطرں بڑھتا 
ے۔[لاالہالاالشہ رر سول اش ]ناب !یک پارا ی ط ر کے [ لالہ الا اٹہ ن ر سول ای ] چ وک را الحتقیدہ تھا نے فو رکڑھ 
دیا۔ خواجہ صاحب نے اس سے بجعت پ اور ہت ہے خاعت و نی عطافر ماپا رکہا: یس نے فڑتطا تی رااان لیا خاک چ کو گے سے 
کس قد رعقیرت سے ورنہ مر ا متصود تہ تھ کہ تچھ سے اس طر کرٹ عواں۔[ ہز رگ( بل ی+ ولویت ر ی )واج فریرالد یی 
من شک صاحب ہشت بہشت(فوا الم مین اہ ۹ اشمیبربراورز[ 
ویک فل ر 9 ریت یرتا را ان کر رایت سے چیک ر سول الث سڑم نے اد شماد فرمایا: الا مکی بفیاد ۵ 
چڑوں یھ رک یکی ے: اگواہی دینا(لاالہالاایش) اور کہ ( مر رسول اك اور ٣۔‏ نماز مق ھمکر نا ءاور ٣ا‏ کو ا اکم ناء اور 
223 0) الان ت r 3 A‏ کاب الا بماك مر + ۱۱۳] 
عرش ہے س کہ جناب مرڑا صاحب نے فوا السا کا حوالہ دس ےک رکون سا اہ کا مکردیاہے۔الس وال کی بایت چند مم روضات مل 
خعدمتہیں۔- 
٭ اول: کہ سی بھی اعترائش کے جوا بکئی رب کے ہو تے ہیں۔ 
21 
دوصرا: الزائی او ر تیم 7 ھی اعحتز ا سکوفرضآما نکر جواب ۱ 
۵ ووم: ی ر سول ال کاک ٹڑعواناکسی بھی سن سحجحہ کے ساتھد حفرت خواجہ تین الد بین شی رح ایند علیہ ے غبت یں ۔ کر 
اقترا کر ناے آویے بات باسند غاب تکریں۔ em‏ اب و حطرت خواجہ ن الد ن ن ر جر ایر علیے 
یی ایی میں رے۔ 
© سوم: ا اگ کول ہے جو اب دس ےک فوار السا لین قوذ حضرت خواجہ قطب الم دی نکاکی رحمۃ اللہ علیہ کے مفو تلات یں جو کے مر اور 
غلیفہ تضور فرید اللدی نکنج گر علیہ ال رحمہ نے جع سے ہیں ۔ و اس پارے میں جوا بعر یہ ےک فواہ السا کین ٹا ی کاب کا 
محخرت قطب الم دی نکاکی رحمۃالل علیہ کے طرف انتساب اور حطر ت گن شک لیے الحم ےکا ان ماوتلا کو ج حکرنا بھی مقھل رک سے 
تیر ھر سے دمک ان کناب کے جت بھی اھ یمک در باقت ہو ے باجشن لوکوں نے وا السا کین کا ساب الن لوگ ںکی 
طر فکیاے وسن رایت یں ۔ وای السا این میں در تام تس ۸۴ہ کی ہیں۔اورکسی ضسنہ کے سنر نو مل ہے اور نہ دی 
اس دو رکاکھایا ود وئن ہو اثابت ہو ستکا۔ امذاج کاب سن دآ جھیخابت نہ ہہو تو الیک جید عالم دن اور عالم باصفاصو کی رف اس عبارت 
ک اتتا ب اتتا جا ریو _ 
٭× پام :اکر فوایر الس لی نکا ا نتساب کشت فو تلا حض رت خواہہ قطب الد ہین تیا رکا کی رحمۃ ان علی ہکی طرف چنر مخصیات 
ص9 و رک کرای رت ا ینای کس ری موچو وک چ 
رسول الل ہکا سکاب میں موتا ریف او رکد ہبڈ کے علاہ ہے کی ہیں _ک وک موجودوستیاب فوا الس لین یں بہت ا ری 
ںار کی طورے ابت یں اور تہ قا اور ہت سار سے واقھات تعر ے ہو ے کے ہیں فو السا کین ای ہوجو ہاب 
شس لے داقتعا تککسے میں جو ا سکاب کے لدون کے بہت عر سے بح د ر و نممو ےلو کے م وگ یاک ۵۰ یا٭ ٠‏ اال بعر کے واے 
ان کاب جن با کرد لے چگییں۔ جس سے موجودووایر ال مالین نا یکناب خی ر معجرادرن قابل اتی ہر ے۔ 


23 


لزا تی طو ری ہے ابت ہل ے کہ ا لکنا بکااتتسماب ان مہز رگ ستول کے طرفاتاب تی اور مو ضوع ہے نوا السا اند 
خواجہ قطب الد رن تیا راک ر حر اٹہ علیہ کے مفو تلات ہیں اور نہ اکے جامع حضرت ا مان کر ر ار لیے چو سکتے ہیں۔بللہ ىد یتاب نہیں 
با صوفیا کرام کے وی ماخ ظیات مظا افو الغو ایا سرا رالا ولیاء و یر ہی کان مک وک او رست راغ رشابت ہیں 

قا ری نکرام ! 1 

ب با تکوگی اص ےکی بات کال بلہ ز مانہ قد میم سے ائل سنت وجمماعت اور صوفاءکرا مک یکناپوں بیس تح ریف او رد ینس ہوکی ری ہے۔این 
عر ی ر اٹہ عل ےک کت ابویک ساتم کی ہے موا چیہ علامے شع رای ر حم “الد علیہ نے الس با تکا بر ملا تہ رکی کہ ا نکی حیات م ا نک کتابوں 
2 27 2 ہز حم اید علی ہک یکنمابہوں کے سا تھا نکی حیات س ج ہواو مکو یڑ کی ی 
بات ای ت کو بات سن ائات نہ موا لیر نی کا الام اور اعترائض اصول اور انصاف کے منائی اور جہاات ے۔ 

٠‏ تم :ال سنت وجماعت نے چن ر سول اٹہ کے کی ےکا جو جاب دیا ے کے ہے واقعہ شات کے تن مل سے سے اسنا سلپ 
اعتزاض ننیں کر ناجاہئے ]ان جوا بات سے ب اخ دک اک ہے عام اک بات کو یت کت یں وای با تکر نا بھی ججہالت سے 
کی کہ ان علا مک رام نے ابی عپارتوں اکر لی یں مانابلہ ا نکو پالنف رض مال اك راگ ہے جو ابات د کے میں جو ابقیا ہپ 
درست ہیں کر ہے بات ایک لہ اخ ےکہ ان ہز رگوں سے اپےے اقوال اب تمرنے کے لے تی شبو تک ض رورت ے۔ جب 
ووم ری طرف ای یکتمابو ںکاا تسا بکرنا بھی غملیدے۔ دو م طرف ناش نح رات ایی کرک ن کر داتے ہیں ا کالزام علاء 
کرام پڈالنافلداور لٹوے۔ علماءاورمشا ا یلنابوں کے مندر جات سے برگی ال مہ ہیں ش نکاانتساب کا تابت نہ ہو کے ۔ اوران 
کتالو لے ریا مہ ہو کااقرار خودا لی ضرت نے متعدد مقامات پر ف اور ضوبہ میں کیاے۔اور محر ث کچھ چو گی رحر٭الل 
علیہ نے بھی ا یکا ہو کا انتتساب الن ہز گان دی نکی طرفکرنے پ بڑھی شددسے ردکیا ہے۔لمغزاائل سدت و جماععت کے علماء پر 
ا ہے اقتا شک ناججہالت ے۔ 

مچ الزای جواب: الل سنت دماعت پر اکر حا شن اعت زا کرت ہیں نے پھر غیر مقلد عام تا ی لمان لکیہ اختزائش کر کے 
دکھائیں۔ 


٭ جفھوں نے خواجہ قطب الد ری کاک ر اٹہ علیہ کے بارے میں اسیک شع رکا ہے_ 
مرشںکامل‌است‌سالوفات سر تسلیم تاج رفعت یافت 
٠‏ اور حضرت با بای شکررحمۃاللد علیہ کے بارے میں کاماے۔ 
آل شیخ فریں‌دین‌ودنیاً گنج شکرو خازنئی اصفیاً 
٭ اور حضرت خواجہ من الد بین "حا رحمۃ اش علیہ کے بارے میں لھا ے۔ 
معین الدین حسن آں سیں پأك کە از سنجر سوئ اجمیرآمں 
زشرع پأكمفتاح‌بقایافت ‏ زھیربأغ فان أوبقایافت 


کے امیر س کہ قار کرام ! اس تی کو بور ہلال کر کے ہن اور سی یکا سا تھے وی کت وت کن و رود 
مول یں کا تان نان و نے ع( ` 
مولف:''خاوم ائل سنت وجماعت '' 
بل خان رضوی 


N 
ہہ‎