Skip to main content

Full text of "Charag Mustafvi aur Tofan Qadiyaniat"

See other formats




ین ڈٹرین 
رفا اق 





٭ پاسپائن نامویں رات 


0٭ ما قادیا نیت 


٭ بزائ مزا قادیال 





مش4 


جب مرزاقادیالی عقید دش بوت پہ 


مان رکا تھا 

م نکی جات 

جررغ مصطفوی یبن اورطلوفان قادیان 
تبلنما 


رسول خا وت 

انمایت نی خر کیش ذر تک نآ 
اسلام اور.....کروارراد 

مرزااویانی ادرغیرنٹرمی تھا 

مرزا دای اودا کے چچے 


مرج الله اورم زا لام اح قادیان 
مرزائی اتے غگوکلمانع کت میں ہر 

پچ اف رکیوں ہیں؟ 

کی موکوراو رقادیایت 


جو 


محر اہ رعبدالرزائی 

مو عمنظوراعر پنیوئی 
صولات عامدائینی 

پروفیسشھ یی تین فطرت 
عاا یو ام ررضوه] 

موڑا نا علا و الد بین ندوگی 
مخق م شع“ 

حضرت یرمع شا گول دق 
قیص رطف 


سیدسلمان دم 


موا جا سرفراز ما ن صفور _' 


موا ا سید مفضی تن چان ہدک 
عاا ے_غال وو 


34 
48 
568 
63 
66 
69 
73 


2و 


شر نک ریم کے لفظط 2رہو؟ “ای مطالدد 


کاورہری۔۔ ھن 


مسلمائوں کےخرستان یں تادیا ی کی تر فِن؟ 
0 تیئهھ"" کک 


ہرز 7٦‏ یی رق - 
عقیرەو وت 

عم کےلخوبی واصطلا تی معا ٰی اور : 
ا ںی شرانا ومزا 


ہرز ائوں کے اعتراضمات اورالع کے جوابات 


متتاغ رسول اورم رن -- 

اسلام شش دوفو کی ممزائکی سے 
لا ہودی مر ذائیکافکیوں ژں؟ 
انمائی مخ تق اورقادانی جماعت ٰ 
الم یددآراپزیارےی! ' 


ڈاکٹسیرجھ اعزاز 

یل اعیڈری 

اتا مضتیعرزریر 

سید عطاءاسسن خاہ بخاری 
سولاا عناعت اللہ 
ولا تا الل وہایا 


اماد -ان کرزارہ 


مضتی عبدا لوم خان ہراروی 
ما نا تج ایرا مم 


مولانا ڈاک رای سراجخ 
ولا سید نف یحسن چان د پر 
پروٹرمورا ص٠سئلک‏ 


مول با عبرالشکولنوق 


105 
115 
13 
16 
140 
148 
11 


163 
167 


19 
173 
183 
18 


جب مرزا قادیانی عقیدر تم خبوت پر یمان رکتا تھا 


تر مھ طاہرعبرالرزاتی 
بھی اس نے ابا ایمان اگر یز کے ہاتھویں یں تھا۔ یھی وہ ار م ادکا الہ نا 


کرھر نیس ہوا تھا۔ ابھی اس نے الام کے خلاف اپنا پا ہوا مضہ اور ز ہر نا ککالی زین 
کھو ینہ ںتھی_ و تضور اکر پا کو1 خرکی نی مات تھا۔ وہ ایمان رکتا تھا سلملہ دی شع 
ہوگیا ہے۔ ا ںکا یفن تھا شبو تکا روشن سمل حطر ت7 دم علیہ اللام سے رو ہوا اور 
عفرت نات نین عیشت ہوکیا۔ دوق رآن یروآ خریآ سال ی کراب مات تھا۔ وہ 
وت یرک کے فیضاا نکو قیاص تکک کے لیے جادکی وسراری ہہون ےکا یقن رکتا تھا۔ ا کا 
ایتان تھا عقیر تم بوت ے”اوورت اصت'“ 21 ے۔ وہ یرگ ہو ٹک وزاب دچالء 
کافراوردائر الام ے غارح ہون ےکا لین رکتا تھا 


ون 


گر پکو لین تہآ و ا سی رروں کے ووالہ جات گی خدمت یں۔ 


.. گرم ہے می پل کے بح کسی می کا یور چائزقرار دی ن گویا م باب وی 


بند ہوجانے کے بحدا کا کھلناجائزقراردبیی کے اور یئ یں جا مسلانوں 
پ4 ظاہرے اود مادے ول 2 بعد ن یکیو ںکر کک ہے۔ درآاں عا ےک 
پک وفات کے بعد وی عفتع ہوئی اور ال تعاٹی ن ےپ پرنیو کا اض فرا 
دی ۔“'( مات الش ریس24 ”'روعانی غ:ائ یس200 ح7 مرزاظلام قادیای) 
ک شی وا ں گقیرے پر 1 رجا اورلاکھوں لوک مر ہونےۓے سے یھ جاۓ۔(مولف) 
| فضر تنگ نے بر باد فرما دیا تھا کہ میرے بح دکوگی ن یی ںآ گا اور 
عدیث لا نبی بعدی اکا شہوڑھ یک سکوا سکی محت می ںکلام نہ تھا اورق رآ ن 


شریف ج س کا لفط نزنشلھی ے۔ اپپی آی کرت ولکن رسول الله و خاتم 


النبیین سے بھی اس با تکی تد لپ کرت تھاکہ نی الہقیقت ہمارے نی نگ پہ 
وت شقم ہو گی ہے“ (کتاب البریے“ 184ءء عاشیر”نروعالی خحزائ یا مل 


یم 


ید 


8 


131-8 معمضہمرذا غلام 6ا دبالی) 

نو تشم اکن ت رکہاں ےآ میا٢‏ (مویں) 

”اپ تل بعد وفات رسول ارپیکل یش کے لیے دگی نہوت ا نے سے کیا 
گیاہے۔ یمام اکس پچ اور ات مرکو ینف برحیثیت رسالرت بعادرے بی 
اپ کے بعد ہرک یں کے (”ازالہ اوہام“ گ 7٦٦۲ء‏ ”دەعالی زا 
3412ء مصفمرزافلام قا ریا ) 

را لک آحدو بن ہوی یکن ما فرش یکس کل ےک ل کیا (مویں) 
مقر نکریم بعد ام میں 22 کان جائزکیل درکھھا۔خواووہ نیارسول 
جھ یا انا ہو کیوکہ رسو لکعلم رین بل ضط جرنکل ملا ہے اور باب تزول 07 
برارری رات مرو ے اور : بات خو دمح ہ ےک دسول 9 و ےگ رسلملہ 
دی رات نہ ہو( ازالہ او امس 1 ھدعالی خمزائ نس 511 دہ 
مصنفمرزافظام ایال ) ُ 

تیرےقول سے می حایت ہوا کہ تر آن ن چان ے(مولف) 

تنثابت بھ کا ےک اب وتی رسالت جب تی مر مضتظع ہے( ”ازالاویام“ 
٢614ء"‏ ردعالی شزاس 3432 معنز مز فلام5دیای) 

رٹھ پرکو نکی دی تی رد ی؟(م وا ) 

”حب رج خر نکرم ررل ا یکو کے یں یں کے امام د مقار رین 
وق کے ذر سے سے عاصل بے ہوں یکن دگئی وت رو 24 مل سے ہر 
گی ہے ۔کھا می ہراس وقت ٹوٹ جاۓ ی۹۳ ('ازالہاوام دی 
روھال مزا ' مل 387 3ہ مصنز مزا فلام 5د یای) 

صن نے قودع ال مرکو ڑن ےک ناپاک جمار تک (مڑیں ) 

”اور اشلرشایان ائیں اک ا ء1 مین کے بعد 1 کیچ اوریی شایان اک لد وت 
کوروپارہ اذ مرلوہشرو حکرڑے۔ بعد اں کےکہ اس ےگ کر کا ہواو رشن اّام 
شر نکر سے مضوغ گردےاوران پ یڑ ہادے““(7 یحم )( 1م گکالات 
الام 377ہ'ردعان اع 377ج مصنفہم زا ام ران ) 


9 


نو نے سی سلسلاپی ذات سے دوبارہشروں اگرویا(موٗلف) 

”یی مویڈپالنگ کے کسی : کی عاج ت کمن سکیوکک ہآ پ کے بات برزمانہ پ4 
محیط اور آپ کےنی٠‏ اولیاء اور اقطاب او رم رشن کقلوب ہ بل لات پ 
وارد ہیں خواہ ا نکو اس کا عممبھی نہ ہ کہ یں آ خضر تپ کی ذات ما أآك 
ےنیس لع ر ہے چس اس کا احمان تھا ملوکوں ہے “(تجمہ)( ”ماد 
اابشریص دوج او ەمس 60 ءش ددم ” ردھای خمز انی“ 244-243 
رع ٦؛معنفہمرزاظلام‏ قادیالیٰ) 

نم یمان لات ۶ں اگ پ>کہ مارے یئم مگ ۲ الانغیاء ٹل اور مار 


اتوس ا نت ےا ان یں دک 
نے آپ کے ساتھھنیوں تم کر دیا۔“(تججمہ) ( 1 تی الات اس اما 
21 ہ''روعالی خزائی ص21 "5 معتفہمرزاظلامقادیالیٰ) 


من اوت ےناگ تھے رسول اکم سے پٹ کے رہ اور گے شم دا لی؟ 
(مولی) 
”ان سب پانو ںکو مات ہیں جوقرآن اورعدع ثکی رو ے سم الببوت یں اور 
سیر وموڑا ا رت موی تم ال رین کے بحدرسی دوصرے مدکی خبوت ورسالت 
کوکاذب او رکافر جات ہوں۔ می را لین ےک وگی رسالت نخر تک و “فی ال 
سے رو ہوئی اور جناب رول الثدٹھ مصلی مہ 7 17 ہوگی۔'' (مرزا لام 
قادیالی کا انار جھوع اشتھارات:ض 230ء 1ء مور 2 71ر 1891ء 
مندر گن رس لت ,جلردوم؛ گ2( 
اسی لیے ہ بھی ےکا ذب اورکافر مات ہیں (مولف) 
غنان ام امور یس میرا دی خرہب ہے جھ در ابقّت و جماعت کا ن رہب 
ے..... اب میں مفصلہ ذ یل امو رکا مسلمانوں کے سام صاف صاف اشرارائں 
مان فدانسچ(جائع مس دی )شی شکرج ہو ںکہ میں جناب خاتم الاخیا لگ کی نتم 


یلم 


10 


ہو کا نل ہیں اور جونی سختم و کا مر ہوا ںکو بے وین اور واءٌہ اسلام 
سے خمار جع ھت ہوں (مرزا خلام ا دیالی کاف ری بیان جھ جار 723 
1ء جائمع مر دیظی کے جلے بیس دیا گیا ۔جھوم اشتتمارات :گل 255ء رج1ء 
مندر لن رات ءجلد درم 44) 
تج رےاپنے ٹیل کے مطاإی ہین بے دین اور دائرہ اسلام سے نار نع ہے ۔ 
(مولف) 
”کیا ایما بد پنتمفتری جو خودرسمالت ونبو ت کا دگوٹ یکمتتا ہے ق رآ ن شخریف پہ 
مان رکوسکتا ہے او رکیا ایا ون جوق ران شریف پر ایمان رکتا ہے او رآ یہت 
بن رسول انشرو تم اتی کو خدا کا کلام یی نکرتا سے وہ کپ سم ےک می بھی 
1( حضر ےک لن کے برول اور ی ہوں_“ زس 27 رت 7٭""ردعانٰ 
خزائی حاشییش 1127ء معن عرزا لام قادیالی) 
تاراگر! ہو کرو او رع ڑا 5ادیال 1 پاوں پورکرو(موٗلف) 
”نمس جات ہو کہ ہردہ جن جمخالف ےق رآن کے و ہکذاب وا اد زنرڈ 
ہے۔ پھر ہکس طرئ حوت کا چوک یکمروں ج بک میں مسلماتوں میں رے 
ہیں( ”ٹر الیشرییحص 96 ء” روحائی غمز اص 297 رخ 7ہ مصنف عرڑا 
دالٰ) 
”رش نبدت کا گی ہوں اور شش جحزات اور طا لہ اور پیل القدر ویرہ رے 
گر ...او رسپ یا رمولا حعضرت مرمصلفی پل فتم رین کے بع دی دوسرے 
۸ی نبوت اور را لت پک وکاذب او رکافر چان ہوں_“ زان مغ رہالیی“ جلر روم 
ع22 جو اشمارات:گ 230 حا مور 2ا 1891ء) 
الشدیاک نے تیرے مضر سے می ےکا ذب او رکا ف یلو دیا ( ملف ) 
”یچ ےکب جائے ےک میں بد ت کا دگوٹ یکر کے اسلام سے خارنع ہو چاول اور 
کافرو ں کی جماعت سے چا وں۔ (تڑجہ) ( تح امت البشریی“ ص 96. 
روھال خزائ یعس 297 ج7 ممنفمرزاظلا مد یالٰ) 


کت ”ا لواز..۔! ونس رن ح سز اد ر چا : نین 2 حر و٢‏ یو ےکا يی طیل 


۲۳ 


پارگا نکو۔ اس غدا سے شش )روٹس کے ساس حاضر بے جا گے“ 
( سی پیص ضس 25ء''روعالی زی 335ء ج4ء معنفہ مرزا غلام 


اەیالٰ) 
ین کے خدا سے شرم نہآ گی اودقھ بڑے دز نے سے حبوت ورسرالت کے و کوے 
کرتارپا(مولف) 


:سے دی ”ظاہر ہ ےک اکر چہایک ىی رئے وئ یکا نزول فر شکیا جاۓ اورم روف ایک ی 
قرو ححفرت جج نل لاوش او رپپ ہو جاور یہام ربج یشخم نو کا منائی ےے۔ 
کیوکہ ج بھی کا ہنی ٹو ٹگئی اوروی رسالت پل رازل ہوئی روم ہوگئی تو 
چلرھوڑا یا بہت نازل ہو باب ہے۔ ہرایگ دانا جو سکم ےک گر خدا تعالیٰ 
صادثٹی الویر ہے اور وآ بت ما 1 این ٹل وعرہ دیاگیا ہے اور جوعد ول مل 
بقع بیا نکیا گیا ےک اب ججرائل بعد وفات رسول اه ببیشہ کے لیے 
وی وت کے لانے سے کیا گیا ہے۔ متام باقس پچ اور جع ہیں نو پچ رکوگی 
شض بھیشیت رسالت ہارے نی لگ کے بعد ہرگ زنخہیں کر سک ( ازالہ 
اوہام مس 77ء ”'روعای تزائی ص 412۔ 411ء 3ء نف مرزا لام 
٭دیالٰ) 
(ایک ...مز بائیں(مولف) 
چرس نے ایک اکئی زقق لگاکئی اور اۓ پان سمارے ع ا سے مت موڑ لیا 

تاطلوڑلیا۔ ےمم وزر کے اشار وکا ۓ گے تھے أےفرگی در بار ٹل ایک عا یا نک ری 

پٹ یک یگفنھی۔ أسے انکر یز کے وفادارو ںکی فبرست میس یک نمایاں مقام ملا تھا أ سے دی 
جائخیداد یگ ٹیش یک یگھیں۔ سے شراب وشباب سے واز گیا تھا۔ اان سارکی نو ازشما تکو دک 

کر أ کی جلھیں انشی ہولکیں_ ا سک یبھوپ یکو مگئی۔ ا کا خی رسوختۃ لا بک گیا ٠‏ 

اس کے ول یس ایما نکا جراغ بج ھگیا اور ا سکا د لکاف رک یکا لی قرب گیا اوس نے دنو 

و تکردیا۔آ پ موپیل مگ ےک کے ہو کا ے؟ 
فرگون جاض ات اکردہ ر بکڑیل ۔ تمرود جات تھاکہدہ خد انیل ۔شرادجا ا تھ اک دہ 

خدا نیل جن آپنے مفادات کے لی دہ دوہی تکا دگوٹ یکرتے تھے اتیل جا تا تھاکہ وہ 


12 

موا ہے۔اواہب اتآ تھا وہ تجوا ہے۔ ولیر من مخرہ جات تھاک و ہاب ہے۔امییرمین 
فل فکومعلوم تاکن دہ دچالی ہے۔عبداللاین ای جات تھاکہ دہ منا فی اور مکار ہے اسورأشی 
کومعلوم ت اک وہ ال ہکا ٹینیس ہے۔مسیل کا بکو پتدتھاکمہ دہ الل رکا رسو لیٹس سے لیکن 
یر مار ےجھوےےء اپنے ے ون کا اعطا نکرتے تھے ۔کیوکہ ان کے دمیاوی مفادات ان 
تی اعلانات بل تے۔ نیا کی محبت ش تڈپتے ہو ایک انسان کے پھیش دو بڑے مفادات 
ہدتے ہیں۔(1)ب جاہ(2)پ مای۔ ان سب لوگو ںکی ظاباذیال اور دا باذیاں ان 
دولو ںکا تسول تھا_ 

ای ککرا ۓکا اگ جات ےجس کا کے جار ہے وو مظلوم ےت 
اں با پکا اکلوت با ہے۔ سمات بنوں کا داعد بھائی ہے۔ بوڑ ھے ود ی نکی عگھول کا 
تراغ ہے أ سک شادکیوصرف فن ماہ ہودے ہیں۔عروسہ کے ہاتھو ںکی ہنا ابھ یکہیں 
أنڑی۔ائھی اس نے نے حون سای کو ہی کر دریکھا چھ ینییں۔ دہ سفاک اتل ےسب 
کچھ جانا ےک ہس کے انل سےکہاا ںکہا ںک یکر ےکی اور کیے لوکوں پر قیام ٹوٹ 
ڑ گی لیکن سے ا کا م کا پچھاسل ٹرار روپ عنا ہے۔ وہ اپنے شیطالی مفاد کے لیے اس 
و پرووجران کل اکروتا ے۔او را کا غانوان ز ہوۓے پرنروں اکا طرن وپ رہاہتا 
ہے مین باینت س ناک تائل اپتی جیب ش پاس ہار ڈا لے گرا دپاہواٛے۔ 

اے مزا 'ادیای! ون بھی بھوئی و ت کا سمارا ڈرامہ چاہ ومنصپ او رتصول 
دولت کے لیے دچایا تھا۔ جا! فرگی ے حاص لک یگئی وو دول ت کت دن تر ےکا مآ كيا 
۱ اس دوات سے تری ڈای اذ تو ںکا عارن ہو۔کا؟ کیا ا رولت سے و اپنیکاٹی آ گحٹھیک 
کروا کا ؟ کیا اس رولت ےو ا ضمڑشی اور گی گی یں سی اروا ۔کا؟ کیا ا 
دولت سے لو اپچا یکو نما چچرہ خولصصورت ہنوا کا ؟ کیا اس دولت سے یی جنکڑوں واریاں 
ٹیک ہوگیں؟ کیا تا جاد ومنصب کے لیٹرین ٹل مرنے سے بچا کا ؟ کیا سارک دنا کے 
اگھر:: ڈاکٹر تج ڈیل نپ ےکی موت سے یا کے کی دہ تیرۓ مم رنے کے بحعدیھی تتیرے منہ 
سے کبتی ہوئی خلاطت بن ھکر کے؟ ہائۓ مزا تا دیا نی ! 9 نے کت کھا نے کا سوداکیا۔ نے نے 
مس یکٹچ کے منصب پر ڈاگہڈالا۔ یں نے گال یا نس کر دعانلیں دمیی۔ نس نے پچھر 
مارنے والو ںکعحیت کے پچھولوں سے نوانزا۔ ینس نے سا رکی ز نگ یی کاد لکئل دھایا۔ بھ 
راج کے کی پرمصلدے پہ یشک جا ی شنوں کے ابھان کے ےکی رت رہشٛں ےُ 


13 
یبودگی عقورت کے جنازےکوگزرتے ہوۓ دریکھا ٹپ آگھوں ے | سو یں پڑ ےک وہ 
عحورت دنا سے ایمان کے بی جار یتی۔ * جھ نے پچرہوافود روک وانے س ےکہا کاب لو 
ڑوے اتا فصہفال لیا ۔ اب کہ بڑھ لے یریلہ تی ہکم میں جا ہوانڑیں دک سکت۔ 
عرزا تقادیائی! ۲ زم شس اپنے بک رین محکانہ رت گیا لین امو ںکہ بے سات گراہ 
انمانو ںکا ایک بہت باء لوڈ یھی اپنے ساتھ ل ےگیا۔ اور ھی کھوں تل کے اتد ھھے 
جک چاررر'' ھی موٹروے* پرسرچٹ ف بھاگئے ہو ئۓے ے اود سے م "تم یش کگررہے ہیں۔ 
مھ نے تیرے بائی اندہ یر دکادرو لکو بانے کے لے تہاری بیکمابوں سے جوانے وا لکر 
ان کے سائۓ رک دے ہیں تک دہ یں پڑ کرعقیقت ےآ گاہ ہڑکییں ادرگادیانیت کے 
زناں ےئگ لکراسلام کے چمغنتان میں٦‏ چا کو آژںنم۲ 1ن) 
اب جس کے گی مم سآ وہی پا رشن 
جھم نے تو دل جلا کے سر عام رکھ دیا 
خماکپاے۔ جنُل جھف تشم نبوت۔ جناب سیدنا صلی اکیڑ 
طاہرعبرالرزای 
الیم ی۔ائحاے(جرچ) 


14 


مس نکی بات 


دن اسلام اللہ تا یٰ کا پند ید آخری دن ے جوحعبی بکیریا م ملف اح بی 
شع ار ٹن رت ال مین حضور ناتم این کپ کے ورکجہ ال ام یکو صے خر 
الامت کے اقب سے لوا زایا سے ملاء اور تام بن وع انسا نک بدا یت کے لآ پ پہ 
اپ کتاب ق رآ ان بجی دکو ازل فرمایا اود ا لکی جا قیام قیامت طفاطت اپے ذمہ لے لا اور 
ال تاٹی سب اعلائنع ا لکی حفاظت فرما رے ہیں مضور مک اللد تھاٹی کےآخری می 
ہیں ٹرآ نکر اللہ تماٹی کی ٦‏ خرکی تاب اور امت مل ہآ خری امت ے۔آ پ ‏ نگ 
ے ارشادف مایا ”انا آخر الانبیاء واندم آخر لا سم“ آپ ‏ الگ نے قیامت ج کآ نے 
وا نے فھتو ںکی خر دسی سے ان فتوں یش سب سے بڑا فت وٹ غبو ت کا ے جوتضور اکرم 
ےکی حیات مبارکہ کے1 خری ایام ٹس ظاہ رہوگیا تھا اور سے خلیفہ اول نحضرت صد بی 
اکبری ال قا ٰ عضہ نے ای ق٥ت‏ ائھالی ے موار کے ریش خ کیا 22 شں پارہ صر 
کے رن تی النقدرصحا ہکرام جن میں ر1 نکرمم کے حافظ و مارگ اور پدریی صحا بجی 
جے اپی ھی چالوں کے ران یں کے اور اس جرار کے قرب ع رقف لکراک ر1 نے 
وا ی مت ملمہ کے مے ایک وشن مثال تا مک ر کے عقیدٗ شحم خہو کی ابی کو ان کیا 
زنر ہروور میں ملمان کھرائوں نے اس سشت صد لی پگ لکیا۔ فجن انیسومیں صدکی ش 
جب وشن اسلام انگرپز نے برسجر مندستان > اپتا ماعیا ضط بھایا وو مرانوں سے 
جذبہ جاد سے با انف تھا کشملمانو ںکا جذبہ اد جب بیدار ہوتا ہے نو وہ بڑی رے 
بی طاقت تکو پان اش کر ویا ے۔ پہاڑوەں ےگ را چاتا ے۔سندرو کوعپو کر أیتا 
ی سکود جاتا سے اور کل رفزت جرب ان کا نحرہ لگاتا ےکرد بکع انم ش 
کامیاب ہوگیا اس سے ا نے ضرور مو ںک یکرملمائوں سے جذہ چھا دکوشت کیا 
ا اس کے لے اس تن ےکھا ابی راتقیاریس۔ ان می ایک ت ہیر میسو پت یک ای ک بونا 
ٹی پیداکپا جاۓ جس سے جچہاد کے فرب کومرام قرار دلوایا جائۓ چنا نچہ ا ںکام کے لیے 


15 

ا نکی ظر ات اب مرزا ظام ام قادیالی پہ پک کیوکلہ سے خاندان لہ سے انکر کا وفاوار 
اور جاشمار تتھا_ چا تچ مزا 5ادیای ے بڑے ھر ےکک ےن 57اء کے ندر (نیک 
آزارل) ٹیش میرے والد ے پا سکھوڑے اور پچچاس سوار ایک دفعہ کم پا نے اور پُودہ 
کھوڑے اور چودہ سوار پھر مہ اکر کے اگمر ہز کی دوگ گر بہلحرہ (ھار) اور طول پڑح ۲ 
بر والد سکھوڑے اور سوسوار عی ری دی کو تار تھا اوراتی غدمات (فراری) کے صل 

ا ےگورنر کے در ہار مین عزت س ےکر یملنیکصی۔ ( لقت ہر رگ) 
علماء اسلام مار عظام ےے ای وش اس فقت کی م رای فان اوظم ے تروع 
گا مناظرم و مباہلہ ہے میدان ہل اے لنکارا اور پرمیران ٹل اے چاروں شاوں 
چ کیا۔ مین اگریے جس نے اس پوداکوخووکاش تکیا تھا دہ ا لگا ا بیاری اور ہرطر 
سے پشت نا یکرت دا اود اچگی ‏ کک دبا ےآ بن مج برطاعیہ اود ام رجا ہجیسی سپ رطاقیں 
ا لکی طفاظت اور پشت نا یک دع ہیں۔ اسلام کے بدترین وشن اسرائل سے ان کے 
تعلقات جھیے ڈ نیس ہیں جن لد تما ی اب دی نکی طفائم تک ر ہا ے اللہ تعالی نے 
دفت کے بڑڈے بڑے علیام و مقار سے بھی کام لیا اور ان کی نے تیارکردەمیتین اور 
مناظ ری نکو ہدایت نیب فر مال جیما کہ مولا ا لال سجین ارہ مول ن یق الرحانء ڈاکڑ 
عبرائل جی ویبرہ جہنپوں نے ا نکو نکوں نے چہواۓ او رکھم کے بجی لک راحت 
مظہرالدین متائیء روف سرمنور امر, مض یخٹیل بصر صن مرفکطبق جیسو ںکو براہت عطا 
فربائی جنپوں نے انددون خمانہ راز ہاۓ ریس ہک وآ شگارکر کے ا نکو ڈنل وخوا رکر دیا۔ 
الشٛ ال ہردور ‏ اپے دی نکی خدمت 2 لیے انسانو ںکو چتا رہتاے۔ پاب و حجیب اللہ 
لہ خپر ےکرک تے۔ ای بنٹل اکا وٹ تھے۔ پر وف رالیاس بن یکوتی دگی اود ای عا لم 
نہ تے۔ مان الد تھالی نے ال مجوئی نوت کے اححصال کے لیے ان سے بڑا کام لیا ان 
1 خدمات راق دنا تک یاد رہ ںگا۔ اس دور ‏ الل تال الیک اپیے نوجوان ےکام 
لے رہے ہیں جو ری طود پر عال مکی بکیہ ی ای شی تک ا سک ینیم سے اور تارج یس ای 
لے ہے۔ سرکاریی آ فس رہب لیکن حور اکرم ام ین جكه کےمصی وحبت سے سار 
شخمنبوت کا دا کار د جاشارہ جن س کا نام مھ طاہ رعبدالرزای ہے۔ تادیانوں کے لے پیام 
وت ے۔ نم نزے اورگوار سے زیاد ہکا ٹکہتا سے ال کے مون و کون پا اور 
ما دینے وانے ہوتے ہیں۔ ا دیالی فتنہ کے غخلاف ا نکی ٣۳‏ ملف عنوانوں پ ہکناہیں 


16 
چپ ہی ہیں۔ ان کی خی ىہ ےکہاہے مضاشین کے علاووطتلف ال لم او رین کے 
متی مضام نکو جو تار سے اوداقی می ںگم ہو رسے ہیں ا نکوعلا شر کے ای فکتاب یں 
بجع کر ہے زندہ جاور بنا دی ٹیں۔ ان کی با ز, تھزف ”غ ا مصلفری اور طوفان 
تا دیاا نع جا وق ت آ پ کے تھوں یں سے ای لڑ یکا ایک لڑی ے اور بی ساقو سی 
جلر ے اور نامعلوم بس کے بع دکتی اور جلد سی می ںگی۔ اس میں انہوں نے مور 
اسلام سیرسلْمان ندویء پ ط یقت حفرت مب ری ما صاح بگٹڑ و ءمتی لم و 
اوج تیر و الیر یی حطرت مولانا سرفراز صفرہ مناظر اسلام مولانا رفی صن چاند 
ری جھ ینیم نابفہ روزگار اور ندآو رشحضیات سح وشن ایک ئ۰ تا بکیش۰ گل 
میس شع کر وہ ہیں یی ےکوی تی موی عخلف معقامات سے جلا لک رکے ایک شحقی ہار تار 
کر وا ے ا لف چنعاوں سے ا لی سے اعلی ٹھتی پھول نچ نکر ایک خوبصورت ۔ 
تا رکردیا سے ا کے مطال کرنے سے ؟ ‏ پکو اندازہ ہوگا ہکس عت سےکہا کہا 
سے ٹھتی مضامین نکر ایک ویإہ زی کنا بکی مل ' شآپ کے سے درکھ رے 
ہیں۔ اس میں مان نات این ءعقیدر شم مو کی اجمیت وعلمتہء خزو لی علیہ السلام 
کا ماق خقرہء ہدگا نف ری کی بک تادیاغوں او رتصوص] (اہورگی اعت کے وتوہ 
جنیر معراح جمالی ک وت مگ رگن کے شبات کا اڑالي رو کی تارحھی اور ری 
تقیقت مگتارخ رسول اورع رت کی سزاء ھرزائتیوں ک ےپ اعتراضات اور ان کے جواباتء 
یں کے قریب مخلف اہم عتوانات تین , رہ لجلم, من ظرین اسلامء ما عظام کے 
۲ منقالات ْںء پڑ یے اور عزیز جر طاہ رعبدالرزاقی کا جو ا اب اور نٹ گی رار 
ڑ تنا تی سرماینہوں نے کیا کروی سے الد تھا ے وا ےک الد تھا انکی 
ععت شا کو قبول فرما وی ال اسلام سے لے باعث (لمینان اور قادیانوں کے لیے 
ڈرچہایمان نائے۔ بی ال سلسل ہکا خفش اول ے۔امید ےکہ بر سلسل ہکئی مجبلدا تک عرید 


ن0 


جاری رےگاء ال تال عزی: صو فکی عم راویم یس برک تنھییب فرمائی-(آ ین) 


موز ‏ منظور ام پخیولی 
کیرڑی زرل اظشح لم وۓں موومنٹف 
سای ا بیا۔اے 


17 


پسم الله الرّحُمٰن الرّحیٔم 
الحمد لله وحدہ والصلوۃ والسلام علی من لانبی بعدۂ 


با مصطفوی اورضوفالن قادیان 


اللھتاٹی نے اپے آنری تی اور رسول حضر تین انساشیت مم٥لی‏ الل علیہ دنم 
یی ات ان سکو مم “ ام ای , رز معلهیں, اور ووسرۓکنیم الشان القاب سے ٠‏ 
مرفرا زکآر کے وائی الی اللد اور را مضر “کے اعزاز بھی مشر فکیا ےه ایک الما 
رشن جو سار یکا تنا تک۱احیطہ ہے ایک ایا درخٹال اود جاہیاک راغ ٛ سکی ضوفغالٰی سے 
مالین مور ہیں۔ انسانوں کی ری ونظری نلرت دہ بی نہیں پلمہ ان کے ولو ںکی اتھاہ 
مگپرائوں مم بھی خورشید جہاں جاب می نکر کہ ہیں ادر یک رہیں گے۔ 

ار نے تضور نائم الاخیاءم ی اللہ علیہ م کی ذات ات لک وَمَا اَرْسَلَا الا 
کَاقَةُ لاس 0 رم نے آآ پکو ساری ککاتنات انال کے لیے رسو لکی حیثیت سے 
مبحو کیا ے) کے ارشادگرائی ے از یمنھمتوں اور رین لوں سے متا کیا سے جومل ۱ 
زی سیگ ما تو عولع لڑعا کن ہوا کیوہتام انمیاء ورس لع ہم السلام ای اش 
علاتے میں ناس زان کے ساتھ اود مخاک قو مکی جاب محوث ہوے تھے لیکن تضور 
نام اعمین والملین صلی اللہ علیہ یلم کا وارو وت و رسالت چونہ ری کا نات انال 
ےء انسان ای ںکر) ارش پر ؛خاء می با بھی سیارے می ںآپاو خی اور انا نکا چچاں 
کہیں بھی وجودموجود ے ال کے می اور رسول حضرت مج رمصطظ صلی ال علیہ ےم یی 
ذات اٹل ے 

ضٍ ٹوٹ ورساللت کے ا خوشد درا لک وکہناےۓے اور” ا مصطقو؟ًٌٴ““ 
ویر کے لے چرس ہکزایوں اور اود عدسیوں نے اسلام ون ماتوؤں ے 
ساتیساز پا کر کےکئی بے اسمقعال کے او رکئی سای ںکی تب 


18 
اور مرا ے کف رکی جرکت پہ خترہ زن 
پکوگوں سے ہہ جھا بُھایا نہ جاے گا 

” چا مصطفوی ' بچھانے کے کے رگ ساھراع کا سانش سے مسلمہ ناب 
ہرزا فلام ا دیاٹی نے بھی نایا ککیش شک یی ءمر انقد بہت ہی جتزاء تیر عطا ککرے ان 
عاشقان تضور زا این" اورمالشین عقیرشت ور کوجنہوں ن ‏ کال رت و بے ہاگیا 
اور خلت و رانائی کے ساتھ اس قادیا لی نے کے جا رححبوت ناپ دک دئے اور جرا 
مصطفو کی لو تیزترکر ن کی اط ر اکن صدرشین وآفریی اودرجا رتا سا کارنامہاشچام دیا 
ہے اںطے ٹس علام مھ انور شاہ میرک پیرسید گیا شا ءگیلڑہ شربیفء مول گرم دی 
یں تلم, ام رشریجت سید عطاء اللہ شماہ بفاراء مولانا اتد رضا خال یلوگ ء موڑا نا تّاضی 
اسان ات جار“ آبادکیءمولانا حر بدا لدھیا کیہ علامشجی اھ عنای ءعلا مھ اقبال 
ا مولاتا الو نات سی مھ اج تَا در ٤‏ مفتقی م شی ,موا ا برا ام" براولٰءتٌ٘ ۱ شی رمولا ا 
ابد گی ا ہوریء مولانا شاء اللہ ام تس راء علامہ راخب اص نہ مولا ناسید مھ داود موق 
صولانا مھ ال یا برنیء موا مھ حیات نا قادیالنء مولانا لا لین اخرٌ موا نا سیر الو 

ان ندوقاد ونیم مر ےکی شحصیات کے اسمامگمرائی تقائل کر ہیں۔ ۱ 
ان تا ممییل النقدر ہو ںکی سای صتراور چچ سکس لنکوکلی نر ٹس ڈھا لے 
اور علامہ اقبالی کے مطالیے کے مطابقی رین عقیرہ تم نبو کو وائرہ اسلام سے نار 
قرار دیکر غی رملم اقلیت کے زمرے مس شائ لکرنے کے لے اللہ تعالی نے تق دعوام 
جناب ذوالفتقا ری پٹ کو اس تونق دسعادت ے مرفرا کیا کیہ ےت کے ۱۹ ءکو پاکتتا نکی 
وی ای میں با واعدہ یٹ و نا ککرے اور ادیای گروہ کے سر برا ہکو اپنا موفف بجی 
کر کا موقحع دۓ کے بعد قادیانیو ںکوعقیں) شم وت سے اہکار او رتضور خائم الا ٹیاء 
ضرت مم مصطظ صلی اللہ علیہ وی مکی ذات افدرش کے بعد مرذا لام ات تادیا نی کو بی اود 

رسول مان ےکی بناء پر خی رسلم افلیت قرار دی کا جارکنی فیصلہ صاددف مایا تھا۔ 

رو ادیاٹی 2 سے أعمت مل کوقر دا رر نے کے سال یں اکر چخلف 
خیات اود جمانئیں اپے اپے انداز جس لال ٹین خدمات اخجام دے ری ہیں لیکن 
22 انراز اور جد بد ععرکی تاۓ کے مطابی عمزیزم مھ طاہ رعبدالرزاقی صاحبِ نے اں 


19 

موضوع ےمتحلق بہ نک یگراننظذ رکب اور بہفلٹ شال سے میں وہ ایک ایا کارنامہ 
ے کے مرخ مر ظز اازنہی ںکرسحتا,' جراغ مصطفوی اور طوفان ققادیان کے نے 
خاع نا ای سل ےکی کرک سے ای میں ہج ن تی حصیات کےگمرانرر مضامین 
شیک اشاعت ان میس جخ الشاحغ ندرا کون علام سی رجرسٰمان ندویء 
مو ج مفتی مم رشن , مول نا علا الد مین ندوقء مولانا سرفراز نماں صفدر موڑا نا منقضمی صن 
جاند پورء علامہ مال دگمود (انچسٹر) لا مود ات رضو, جن اریت موا مفتی مجح فر ید 
(اکوڑ: کک ) مول ن عنایت الل شی ساب خطیب مسو رشحم خھوت تاد ان ء این امی رش رلیصت 
مولانا سید عطاء انسن شاہ بقادقء اورمولا نا احمریلی سراخ کے علادہ ند دنر ابم شخصیات 
ان نے 

ای گی خسن "کش ے کرو نظ ری یدگ اور“ فتھ قادیانیت کے آگاہ 
ہونے کے سے اس کا مطالعہ ہرف رذع اسلام کے لیے ضروری سے دھاگو ہو کہ اللہ تعالیٰ 
عزیز محھھ طاہ رحبدالرزاقی کی ام یگرات رک پش اور ول شکومتبول خلکن ناک انیم سے 
وازے۔آ مین 


مت خواعت ول 
صولا نا میتی 


ٹیپل71] رو 


20 


خزال ق کا تجاتء الد رب الھزت ٠‏ اپن یعھلوق پہ اس تر مبربان دکرم فرما ےکہ اس 
کے اسانات و انعاما کا ا رب یننک ننہیس ‏ یلام ای ے الفاظء وان تحدوا نعمة الله 
لاتحصوھا ایت یق تکی طرف اشار ہکرت ہیں_ 
نبوت ورسالتء ال تما کی طرف سے ا سک یحو نکو لے والا سب سے ایی اوں 
بے سال د بے بہاانعام ہے۔ یہلا زوال اعزازسراسردگہی ےگ ینییں ءلڑنی اضسا یکیشش و 
مال کا اس اعزاز کے تمول س ےکوی سردکا رنٹیں۔ عپاوقول اور ریاضتوں سے انان کیک 
7ن سا 2ا ار اض 7 کہلا سکتا ے؛ ین بی عپاوٹس اود یاضلھیں اس کے لے 
عطائے نبوت ورسالم تکی بنائۓ استتقا یں می ن سم ںکیوکلہ مہ ایل اعزاز الہ الل ماد 
مطل قکی نشی نول ہے اذا انسا یکدوکاوش اور پ ند ہیںکی ول سے پاہربہے ے 
ا معادت بزور ازو تیت 
ا نہ عفد براےۓے بیزرہ 
خالقی کانمات نے ابنداۓ آفرخش بی سے ان یحو کی بعلائی اور رہتمائی کے 
یے بعشت ایا کا آ غازفر مایا تا ددلوگو ںکوارش کی عرضی کے مطابی زندگی ب رن ےک یلیم د 
زیت ےآ راس ری ۔سلسل ہبوت یں سب سے چیہ نی خر تدم علی السلام اور سب 
ےآ خرکی نی رت مجع پ یگ ہیں۔ ا نکی بعشت رسس اخمیاء درک لکی آ خر یکڑیی اور 
ابوان رساات شی نفصب ہونے والی آخریی اینٹ سے جن سکی تتصریب کے ساتجھ جی سلسل 
بعشت جمام کال اخقامکو با 5 


21 
بش ملبراں سے شش مر پ 
پاعث 0 رس 
خشت اول اس ئل کی رت آ7 وم ہوئے 
اور خشت آخری لاریب نام ا یاء 
تاب وسنت کے مطا یع سے یقت انظسن شس ہو جال ےکحنخر تج 
مصلن ام کے بہدغبوت ورسالم تکا ہردگوکیا نے اد ان سے۔رسواکر یم تی رالیشر ٴں اور 
پک امت خرالا خامالاخمیاء ہیں او رآ پکی امت خاتم لام + ای رس آپ پہ 
ازل ہونے وی کناب ال (ق رن یم غاقم اکن کم ہرىی ۔ق رن مجید میس شجرالائم سے 
خطابکر تے ہو تے وا جح الفاظ مض اعلا نگیا گیا ے ' 
کنتم خیر ام اخرجت للناس تأمرون بالمعروف و تنھون عن المنکر 
و تؤمنون بالله 
تر لک (خی روم بہت رن امت ہوٹنیں عاسۃ الا (کے فائمدے )کے یی ۱ 
ایا سے تم بھلائی کا دتے بہواور برائی سے رو کت ہواوراللہ براییالن رک ۶۔ 
وہ خووں نیب افراد (مردہ عورت٠‏ تی ) جو اسلام قو کر نے گا عالت ٹل 
عفر می رسول اوڈ یکل کی صحب ت کیم ا سے مستتفید ہوئے اور ائیمان و اسلام تا پانکا 
وفات پا شمبادت ہوگیء اصطلابج ش رت میس صعال یکہلاتے ہیں صا لی ہونے کے لیے رسول 
7 کی خرمت می حاضری ضردری سے جے اصطلاحاعحب تکہا جانا ہے ۔ حا کا لفظء 
سی صحبت سے بنا ے۔ تما سا کرام رضوان انڈ ہما جتین, الہ تزاٹی اورالس کے رسول یمم 
بی 3 جے اطاع تگڑارء دی ہے بردگارد جان مار ہاج رگن وانسار اونلکل وعادل 
تھے الد تھاٹی نے اپتنے کلام اک می اورصضرت رسالت ما بالگ نے اپے فرصودات 
یں میا کرد کی بب تعریف وعیف ف بائی ہے۔اس لی ےکوگی بڑے سے پڑا زنک اتا 
بھ کسی صوالی کے مر ےکوٹہیں کچ سکما. عبت بد کی جا شیرقری صفات سے سحابہکراشم ایا 
پر متا مس ا نکی ضبدت عحبت سے مشرف ہونے وانے خوش نت اش این :تاج ا 
ہے , ان الین می بھی صا کرای ابان 1 فر یں توجہ سے ایا نا دو ای 
تصوصیات پیا ہونی ں کہا نک زیادت (بحالت ایمان) ے فٰقیاب ہوے وا لے 


۱ 22 

جا ٹین کہلاۓ ء چلال کے بعد تا قیام قیامت؟ نے وانے ابمل ایمان: حا لین 
یش شمار ہووت ہیں۔ 

ان تالق کی رشن مٹش مہ ام رآ قب نصف التہا کی طرح رون ہو جاتا ےکہ 
ایوان وت ورسال تک یکُبل کے بعدء یس طر کسی نی یا رعو لک بعن تک گناک خی ری 
یضرا بکسیئتخ کا صھالی: ای بہت تال ہونا بھ یمک نیس ر ہا ۔ صھالی ءکوئی ج بکہاا ےگا 
جب ضحضرت رسالت ما بک پگ کی صعت سےمستفید ہوگاء تا لیت بکہا مۓ گا جب کیاعا ی 
کو بالات ایمان دک ےگاء تع جا بجی م بسکہا ۓ ا جب گی تال یکی زیارت عھالت ایمان 
کر ےگا؛ ام ابواب فضیلت صدیوں جٹچشتر بن ہو ےہ یہ بسالطا مرا بکیٹی جا بجی اور ے 
سلسلع اذ ہب انظام پڑ ےک چکاے 

بیس مہ بلقد للا جن کو ر1" 

انیج اٹ کے بہہکادے میس آکرہ ہو پرستوںل نے مبوت و رسالم کوھی 
الپ لف ماکجندلیاءاودیھی زوروڑر کے بل ہردمھی اکباخت وذ بات کے برتے پراو ری سی عم و 
5 اتیاز دمباد تک بنا پرہ اہول نے ابےے اپپے دگڑے کی کہ نیا ا نکی جسارت ۶ 
جرأت پر اگشت بدنداں رہ ا اور تخیقت اس یرت ای توم ارت 
کے ان شعبدہ بازوں جس س ےک کوٹ یگیل رانک ہر سے پچیردکارنہیں نے !عتل سے نے 
از اور رہچلنی چ زکوسونا کے والے شیطانی ڈگ یک آداز پہ جب بھی دیوانہ وار لت 
شیطاان کے چیلوں نے کی پاتھوں پتھ لیا. تار قافن وآ شوب کے اوراتی الے؟ جار وشواہر 
سے یکنا ڈیںا۔ انی ایا سوز فو میں سے ایک تہ مرز اعت ہے۔ ج یم اک د ہند 
ٹیش برطافوی استعار کے دس تکرشمہسازکا شرانیٹر وا زاقی پرورشاہکارے۔ 

۹ا یس عمدیی میسودبی کے نصف ٦1ک‏ بندوستان مسسلماتوں کے سیاىی٠‏ کیہ 
سای اورمعاشرفی ابا وت کی توم بی یکرت ہے ہک نا ۃ نویج یکو ںکی ا کی اس تر 
کزاو رگا بھیا کک منا رق ہے۔ الن عالات مل بی و معاشرقی مناقخات آئھرنے ہت ہیں 
عیسائی مشنرکی او ربرسمابی مسلرانوں برگکری ونظری یلا رکر دتے ہیں ءمسلمان علا پرھاذ پر 
دن اسلامکا فا عکرتے ہیں کن عاۃ الین ادبا سل کے باعث سیا بے چارگیء 
معاشریی بے داہردکی اور رای فو ہم پرہتی کا بھی ششکار نظ رآ تے ہیں ککری ونظربی اخنتارسسلم 


23 


معاشر ےک وا لپیٹ میں نے لیت ے۔ اوھ رانگریز اپے قمام 2 چور و اسراو کے پاوجود 
مسلمانوں کی بیدادی اددان می ابھرنے وا کس یپھچ ری 24 اض چا ےلرڑال و ہاںل 
ہیں ء انیس ہ رآ ن ررخطرہ وخدشددان گی ر ےکی سلمافوں میں پھر ےگ یک چہا دک کوئی دای 
پیداغہ ہو جاۓے۔ سی ات شمیاورشاہ ا ایل ش ہی یت بک جہاد سے اشرات اب بھی ان کے 
رک ا ضا الاک اننہوں نے مسلمان ممام دی نک ند بای" 2ئ 
کی ان ےکانے پائی کی و مان لی ؟ باکیس :رتو نکوان کے لیے ایکاٹ ہنا 
دی ا نکی ف رک میں لفظ وہل خوفاک پاٹی اود نئہی دیوان ےکا متراو ف ھا جاتاے۔ 
ےآ کل ام کیہ اود اس کے حواربی ںکی ڈکشنری میں ”'طالبان' ”القاعدہ ”أ سام 
”اعم یا دنک رمجاب مین و ارت قرارو ہے گے ہیں سوڈان میں دہ مبدری سوڈاٹی کے 
تھوں پار پارزک اُٹھا گے تھے ان عالات میں ٹیس پ رآ ن خی اتی تھاک می سڈالی 
کی ط رع اگرکسی ہندی مہدیی نب مندوی شک بلندیوں سے اکر چہادکا ریبنر دیو 
ج میا یی گے؟ رویں بقع اس موںعح ے فامدہ اٹھات ۓگاء اففاضنتان تقائل اعناونٹیںء بائی 
رے ہنروستان کے مسلران تو جہاد کے لیر عام کے بعد شاب وہ بھی بناوت بر آمادہ ٭ 
ان 0ۓططصشصضصضصصس ٣ ٣‏ ۰ؿ" کیہ ججہادء رد اورامی رکال اور 
نر دتنان کے ناف السلطفن کی اگ اش الفاظ یا ا 
تھی“( تراغ حسن رت مقدمہارمفان قادیا نگ ۸) 

اں ۓے پگر یہ چا کو مکرنے اورمسلرافو ںکوتقرق وٰضش کر ن ےکی سازوں 
یں دن رات مصروف رے؛ انہوں نے ہندوستان بجر شی اچ ائنٹوں اورگماشتوں کے 
زر یج اج مفیرمطلب افرادکی ما٦‏ ای ال خر وم ا ژھب کے دی ماش 
غ مات تن نے نظ 2ا لام ات قادیالی سے۔ھیرزائ ےآ نچجمائی 
اگمربزوں ہی کے زم راضان ایک اد ےکا فرد وت ےکی ہنا پان کے لے رط رع پاٹ 
طلمینان اورتمائل اعنادتھا چنا تہ ے 

ای ربرست ولا ا ای 
کم بت بن کے صاحب الام آ آئگ 
چھادرےغالف+! گر زی استوار نے نیم اک د ہندکی لت اسلامیہ کے حصاد 


24 


ٹس رضنگری کے لے تملہ دعگر7بوں کےھوڈی نو تکا بھی ڈول ڈالا اورایۓے ایک دفادارو 
مک خوار خاندان کے ایک فردہ ری کے امتان یس ناکام ہونے وا لےء الاو جہری 
گے یئ رز لام ات تقادیال یکو اس بساىا خر کے تک طوز اک فان رک ۓے 
بتد رع آ گے بڑھایا۔ ای تفخیق تکی طرف انار مکرتے کدت ےکا کیاتھاے 
جب رنگ زمانہ ہے جب ان لک دوالی ے 
کہمعمول عرکوں نے نی نک ٹالی سے 
ری اح مس لک جھونےتمیں 1۷ نیس حے 
ای زمرے مل داش ایک عرزا قادیا ی ےِ 
ری عطاکردہ ال نیودت کےآ از سف ری مرزا قادیائیٰ ایک مناظر اور کا رکی 
صورت مم مات آ۲ا ہے۔ دہ عیسائی پادریوں او رآ ریس تیوں سے مناظر ےکرتا ے_ 
اما کا تقامیت پر جرائین اد کے نام سے پا جلدوں ہق لکتا بکک نک اشجاری 
وعدہ ووگوگ یکر ہے اورلوگوں سے پچپاس جلدو ںکی قبت گی وصو لک کے اہی ں صرف ۱ 3 
جلروں پرڑنا اے۔ جب اس برمحامی پردہاکتزاضا تی زوین1 ےن و رآ میز 
سمادگی سے اب دیاے۔ 
پیل پچاس جیے کٹ کا ارادہ تھا گر با پہ اکنا کیا گیا اور کک 
پا اود پا کے عدد ہش صرف ایک کا فرق ہے اس لے با 
تموں ے وہ وعدہ پچراہ ولیا۔“ 
پسیارفوکی کے باعث دو سلطان اکم ہون ےکا وو کرت ہے ا وی ای لعلم کے 
رؤعلم دمعارف کے اقبامات حوالہ د ہے خی رایت یوں یس شا لکرتا ہے انس پرنھی ادی 
لہ کظر سے ا لک یترب نفلطیہاۓے مضاین مت پوپچے کا مصسداتی ہیں۔ شیاعری سے 
شف کک جتا برای ک تو کلام رین کے نام سے پش سکرتا ہے ۔ اس میں سے دوش رو کے 
ا اب پھوڑ و یہاد کا اے روتو یل 
ا او ا ا ا و کا 
۲ گرم 020 کول مرے پیاردے نہ آام زار وں 
ہیں بشثر گی جاۓ نخرت اور انمائوں کی عار 


25 


سی اری شاعربیکاضمو بھی دہ می ےکنا ہے 7 
یہ گی یں ھ بے 
برتاں یر بر ج شت 
(شی 1ج بت سے ہوئے ہیں می خدا ای می س بھی مکی ہوں ) 
حول ولاو ال بالل۔ اس کےنظر نت ججاد پر ڈاکر ای من تہ ہیں 
گر تکی ہے۔ جب رف رف دمحخلف ران سےعلوصت کے زمرسابہ چوشہرت بوعای ےو 
پچھر ینکر رک دی ءک شیہم کت مونوراورظی وروزی یا وُر ہکا روپ دھارتا ہے ا سک 
رہ تھی اور رن مول“ ن ےکیاتمنائۓ بےتاب بجی رہکرتے وش ےکا ن کہا ے 7 
بھی ہب مبھی عیی, بھی کرش بھی مر ما 
جو کچ یھو جیٹوں کی ون ىی نثالی ہے 
یی می اں >4 وی و ابا مکی موسلادھار پاش برساجا سے اور ے وگ اردو 
اگریزی, ہندیء با٠‏ فاری۶۰ ل اور ت ونیرہ متجرو زپانوں شل ناڑل مولّٰ ے۔ 
مشکاات و یکی کیل وت جانی کے لیے ایک ند ول کے شیا لا لکوملازم رکتا سے کویاد اپ 
ذات پرنازل ہونے والی وقی کے فی مکی یم ےبھی ماصرد از سے ۔مت رت مکھیک یا خلط جھ 
بنا ۓ مرا ا یکا پابند سے ۔کیا غوب سے 
مم علیہ پر می تح مغیوم. جب کھا 
٣‏ تی رکون جانے پھر ان لات گا؟ 
بی مو تک سوداوا رام جب سنیا نیس نات و ںکی سکس ینز تل نی 
ہونے کا بد پر لن ہوا ہو ںکاآ نی اس بھی جب رک ےکا نمس مق فہایت 
ہے حائی سے (نق لکف ہکفراش) تصرف ”مھ ہون ےکا لو یکرتا سے چلمہ اپ لبرہ 
الہامی“ می فعوز اش نل وکمال یں ان ےبھی 1 کے ہو ےکا مدگی ہے! العیاذ پاش کن لک 
أخراذات-مرڑا کی چلیلی طبعت اور ےچین رو ںحکوسون را کی ںآ لبفرادہ پے در پے ای 
ہے گنی کو ےکرجا چلا جانا ےک وش وشردظرطا رت سے مضرد پت رو جات یلما ے 
بوغیںعفل زجر تکاس ج بوای است! 
مرزا کے اىی فوع کے بے شار الہہامات وعتومات ۔ رم مب زناظر میں ا سکیا 


۱ 26 
شفخصیت جچوں جو ں کا عرببدکھائی دیق ہے یائچھر رآ ئن رنگ بد ماگرکٹ !مر زانے ال | سے 
جا سز ومادالباات ودعاوی اماز گان ہیں ریم یں لکر نے ےکم ال ے 7 

وہل کھلاۓے ہیں مرذائۓے تادیانی نے 

از سے گی اان کے مگربیاں ےَ 

ححقرأبہ جان جج تَ 

مزا کی سشگاماں سلترىی روو! 

ہو ا 

نکر دواوگی ان نے ہے شیطان بول اٹھا 

سکیا ہویں؟ ہہ ت میرا بھی أُستاد 7 گا 
ا مورمصلف اوماٹی ج راغ تن ءحصرت اد ائی تکا گز یکرت ہو ۓ کھت ہیں: 
مرذاغلام اتد کے عمقائ حور ےت معلوم وتا ‏ ےکہ اسلام یں 
م2 ال نصورات دا ہوا ہیں دو سب انی ترلی اعد صورت مل 
مب رزاصاحب 20 پالم ججدد ییں۔ ان مل وہای تکا طاہرو ےکن 
اش گے نمی ذو جباد سے سروکا یں ء دہ صرے سے بہاہ 
لیف کے مر ہیں اور اگھریزی حلوس کو واجب الا طاعت بنتت 
ہیں۔ دوصوٹی بھی ہیں مین ان 0032ھ صوفو لکی کی فراغ دی اور 
پر ےرہ ایی اورقباعت۔ وہ اہ مرو ںکوکاف کن 
ہیں اور ا ہے مجخالقو ںکو بے دربن عگالیاں دینے ی شکوکی ٹنیک میں 
کی اکر تے۔ انبوں نے نصوف کے صرف متام دکوقو لکرلیا جو بجڑی 
عقائ کی بازکشت معلوم ہہوتے ہیں اورجن ہیں اسلای توف ےکوی 
لق خی مین نل د بروز جحیہ وم ادد وعدتت وجودہ ان > لی 
ری ککابھ کان اث پڈاء چناخچہ چند مسا لک کرو ہے نان کے 
او ری باب کے دو ے مھ لکول فر نیس رہتا۔ وفات یک کا عقیر 
2 پان کے دو ےکی عمارت استوار ے انہوں نے سرسد سےلیا 
ہے۔ اسلائی عقا مدکی ناحیر وی راورعلوم جدیدہ سے ا نک ینیقی سے 


27 


باب مل بھی دوسرسیید کے تع ہیں ۔یکن اا نکینھربک شس جھ یز سب 

نے فان ظر0 سے وہ چباد اور اگھربزو ںکی خلاف اہ کے 

مسائل ہیں۔ ا نکی کتاوں م سکوکی دوسرامعلہ ایی انی جن س کا ذکر 

اننوں نے اس جو وخروش کے ساتھ بار با رکیا ہو۔ الن کے خیالات 

ٹیس نضادو تا سن بے صد سے وہ خود ا ہے رماری سے تلق ابی ماد 

اق ں کے ہی ںکہ پڑ سے دال بر یشان ہو جانا ہے کان ججاداور 

علومت اگ ری یکی اططاعت کے تحلق انہوں نے جو ییجوکھا ہے دہ ہر 

م کے ایام و تاد ے اک ے ایا معلوم ہوتا ےکہان مہا لکو 

پ۹ کی خیشیت عاح ۹ل سے اور دوصرے ام مسمائل تی کہ ا کا کرکی 

مہدوی تھی فر کی حقیت رکتا ہے (جچ ا حسن حرت مقدمہ 

ارمخا قادیا ںكض۳٠١٢)‏ 

ھرزاکی اس یکھردہ رش بت کر تے ہو ے موا نا ظفریلی نما ں ھجم ن ےکہا تھا: 

نصار کی رضا جوگی ے متقید ا نہوت کا 
اور ابطالي چباد اناج خمر کا دیلہ ے 

اب ؟ھم ایک ای جن یگوئی کاچ احوال جیا نکنا جات ہیں جے مکی قادیان نے 
انی نو تکی ”تق برع “یشنی ولی لٹا قرار دیاءمنان دہی ان ںکی رسوائی اور سیک نسائی کا 
یں شیب نی۔ 

۸ء میس جک مرا تاد بای کی عھرپ اس سا لقیءاس نے ای ایک رش دار 
مزا اج بجی کک جواں سال بٹیمھری میم کے نیا کا ام دیا اور اٹمن مل برق روز 
کے سا تع لہا ئی اشتار از بھی ش رو کر دی ۔لڑکی والو ںکوڈرانے ء دھکانے لاج دی ء 
لف رش داروں کے ذ ری ھجوب د جراسسا لکر نے اور عدع شی لکی صور تکی ا نکی لن 
رشن وار خ اتی نکوطااقی داوان رہ کے متحددھ ہے اخقیار بے اور ہار بار میا لہا ئی دوگ یھی 
کیا کمہا'دتھالی نے خود ا س کا عق کاب مھ ےآ سمان بر باند و دیا سے۔ اگ رکڑی والوں ۓے 

اکا ے تا کیا کی کنیا ایت عی با ہکا “021 

جیاعی جا ۓگ دہ روز ثاح سے اڑھاگی سال کک اور ایما ھی واللد اس دشر کا تین سال کک 


28 


ففت ہو جا ۓگا اوران کےگح تفر قہ اورنگی بڑ ےکی اود درمیالی ز مانہ م لبھی اس دخ کے 
لی ےک یکرابہت او یم کے ام ری یک میں گے 

آ سال معا کا اس شی کوک کون قادیاں نے اپنے صدق وکذ بک جا کے 
لیے نثا نآ ساٹ :فیصلہ 1 سان اور نم رمبرم قراردیا۔ ایک دوسرے الہا بی اشتبار یی اس 
نے دوک کیا: 


ہون ےگ عاات شی یا بث کر کے اود برایک روک درمیاع سے اٹ ےگا اور ال کا مکوضرور 
پوداکھر ےگ اکوئیکجیں جوا سکوروک کے“ 

رام واققہ یہ ےک مرذا گا ہرک دوڑ وپ اونگ و دو کے پاوجود 
ے۔ ابر یل ۱۸۹۴ ءکومھری مک مکا نیا مرزا سلطان جح ساکن پی لع ما ور سے ہ وکیا نی 
قد ان اس نیا کے بعدرگھی بمصد اقی'کھسیالی ب یھب فو پے ہنی الہا بی بی ںکوئ یک یتیل 
کا رزومند اورغنظرر پاء چنا 1۹۰۱ء میں شع گورداسپورکی عداات میں اس نے اج فی 
ان ش لکا: ْ 

ب0 ہے دوعورت می رے سا تجھ بات یی سگئ یر میرے ساتھ ا ںکا پیا ضرور ہوگا 
جیما کہ چپ یگوکی مل دررخ ے وہ سلطان تر رے اق یت حور آے ٥‏ زروے 
ےکا ای کت ےی 

ین وش اسیار کے باوجودم رذ ایل ول ری صرت ول میس لے سو زم فراق مس 
شب و روز سلکتا اور اندر تی اندرگھلتا رپاء اود ا کی ”الہ بی یی لگوئی“ کا مفھلہ اڑج رم وہ 
بتک ژمائی ہوث یکالا مان دا حفیظ! ای م وت کی مناسب س ےلات کہا تھا ے 

عدد سےگھ میس ہے1 باد [ سکی بی کوک یھی 
تا کیا بی شان ہا آ سای ے؟ 

2 قادبان نے جب دیگھا کہ مزا سلطان ھھ سے ری ری شمادکی بیو ۓ 
اڑھائی سال سے ذیادہ عرص ہگ۰زد جانے کے پاوجودمیریی الہائی یی یگوئی کے مطاب قکوی 
اما ی فت وأغاران مکی سآ کیہ بل وددٹوں غُل وخرم ہیں اورخش لگوارازدواگی ھی 
زار ر ہے ہیں تو اس نے اپتی خفت مٹانے کے لییےہ انس ”لہا ئی شی یگوگی کی میعاد یش 


9 
ا یطرف سے سی کر دی مان 5 
اے ہا وروی 7ن نوا 

آ خرکادرککہ یا یندیٹش اپتے مرن کی الھائی یی یگوئی کا دجو یداد نی قادیان 
() یھو جب پی یکوئی ڈاکٹعبداگیم خان (سابی ادیاٹٰ) 

منھرزاء امت ۱۹۰۸ کک م رجات ےگا“ 

(۴) (مولانا شثاء اللہ امرت سرکی کے خلاف ) خود اپٹی تی یک دہاۓ مباہل ہک 
ادا می ہی جصی منہ ماگی موذی وم بلک نار یوں میں جا ہوکر تار ۷ سی ۱۹۰۸ ءکو 
بروزمتگل بمقام برا رھ روڈ لا ہورءعبرتناک مو ت کا شکار ہوگیا۔ ھرگ مرا گی اس منفرد 
کیفیت سی شاعر نے خو بت رہکیا سے ے 

اں ہے پاروں کا ہوگا. گیا عارع؟ 
”الا ے رر یا م گی 

( کال“ “ریز ىی زبان یس ہی کو ککچے ہیں ) 

عرز کی موت دائع ہہوگئی مین ال کا دہ تا جو نقول اس کے خیدانے تو دہ سان 
بر ری مکحم سے بڑھایا تھاء زین پرہ ہنرا دجن نکر نے کے باو جود صورت انخقیار نکر سکاء 
فان یگ تی قادیا نکی ”نر مرمرع“(نہ نے والی حقیقت) بری طرع ددم برہم ہی ! معلوم 
ہونا ‏ ےکہ پیعراقیء چنب کی ط رم مبجض خیالوں ہی خیالوں میس زین وآ سان کے لا بے 
مان میں سرگمرداں ر با ءا : وونہ لے بر لے !کسی شاعر نے حصب مو کیا خوب باڈ رن 

کرئی بھی ام سیا تا پرا نہ ہوا 
نامرادی میں ہوا ے ز۶ا آن چا 

مرزااوراس کے ولاء نے علماء اسلام سے بای و رہٹی مناظر ے بھی یے نین میں 
لست و پپائی ا نک مقدر بی مقرمہ بازی بھی ہہوقیء عدالتوں می معائی گا درخوائی بھی 
مرزا ےلکھیں۔ وہ مللہ وکٹور کی شان میں قصیدہ خوالی جج یکرت رہا۔ اور ائسی تصیروں ٹل 
در بر دو سیک فی عشقی “کا اظہاریھ یکرت را۔ اس نے شاونحت الد وی سے موب فاری 
زان میں متظوم پیٹ یگوئیوں میس ردو بد لمکر کے انی انی ذات بیتطی نک رن ےکی نار داش 
بھی کی مبابلو ںکی ار یا ںبھی ہوخیں یکن انی عیسائیو ںکی طرحء ا سگرفیار مرا قکوڑھی 


0 


میدران مللہ ل٢‏ نے کی بصت کی ہوئی۔ مو ناف رعلی نماں مروم ےکی قو بکہھاے 5 
دہ بھاگتے ہیں اس رع میاٹے کے نام سے 
فرار کفر نس طرع ہو محر تام ے 
تی فوویان شرات دخ رات ککا یھی پا اور ما ولاو کین ا کی 
تا رکردہ ‏ ٹاک ال اے لور مان مرغو تھی۔ ا کی شراب خوری کا معابل عرالت 
تک بی جا بای نے اس جوا ل ےکوی شمھرکی صورت د ےکم یادگار بنادیا ے 7 
دوائی کے لے مرزا کی ن ٹاک وی کت جھے 
عداات میں بھی ”ال وال ےکی زہای سے ٰ 
یئی اور ضسائی اظ سےسئی قادیا نگونا اکوں ام را سید ہک یآ ماجگاہ تھا۔ اوران 
امراص خی ہکا تکرہء ال نے خودا پت یمکمابوں ٹس جاہیا کیا سے۔جسمالی آرام واستزاحت. 
کے جو انے سے نچھا و ویر پا خی محر مکوریں اس کے لیے سا مان کین وسر وھ ثُ 
5و پاکستان سے لہ فی نتم ہٹروستان یس خود انگ رہڑوں کے زے انفرام 
عدالتوں اور افو حدالات عالیہ بہاولپور نے پورے یم پاکک و ہند کے مروف ومقتزر 
علاۓ اسلام اود مرزااحیت کے متاز دو چیدہمانندوں کے موق ت کا پاماستیعاب مطالعہ وگڑہے 
0 کے بعد مر زاخحی تکودین اسلام کے متا لے بی سراس رکفمرو ار ادقرار دیا۔ نع 
پکتان کی سو لکوڑء پا یکو اورس ری مکورٹ کے علادہ خود لوا نحکودت (قو ھی اسب 
رس ہر از و مار ادارے نے مزا قادیا ی تے تھلہ دعاوی و اشنممارات اور و ظر٤‏ وی 
وااہاما کا نظ مار جائزہ لیے بلل۔مرزائیت کے وظاء و موا وشن اور ان کے سربراہ وت 
مز طاہ رام کو ان کے اپنے موق کک ت جمالی ودفاغ کال باضابطہ اور نصفا مو تم رد ے 
اوران کے لال ومرگوما تکی طول اورعب رآ زا سماعت کے بح نی قاد بای مرزاخلام اد 
نما اودائ ںکی امت مرزاحیہ کے دوفو دھڑ ول (تادبانی اور لا ہوریی)کوکاف تار ر ےکر 
ان کے فی رسلم فلیت ہہون ےکا واشگاف اعلا نکیا۔ ال کے علادہ ھا لم اسلام اور دنا کی در 
نقف عدائت بھی هرزا قادبائی کی غوت کے رگ رٹ کا لی جازم لن ہے بجر ے 
خلاف اسلام بضنادات اورمرائو ںکوکافرقر ار رے جگی ہیں_ 
خلاص کلام کےطور پر بلاخوف ترد یدب کہا جاسک ےکمرذا کا زندگی کےنشیب و 
فرا زکا احوالء اے ایک ممقول ء معتٹرل اورمتت را نسان بھی غاب تکیں متا۔ بارس الین 


31 
گی رف سےلی مت شی تکا یکوگی نگ د لوان کا خواب سے 5 
پم خر غ ری رم دپاۓ ررں 
ا خال ات و مال اہت و جٍں 
اد ےک می تادیالی مل کے و نکونوں جات تھالنان قناۓے ابی سے مکل 
تی دن ال سک موت دائح ہوئی۔ عرزاء رم گاڑ یک و2 جا لککاگمدھا کہ اکرتا تھا لیکن انام 
مزا کی ستم مر لنی د ین کہ خودمر زان لا اسی ” خر د جال بر لا دک لا ہور سے تادیان لے 
کی ری کت یر سا۷ رت 9 
رل گاڑی کو ”خررچال' عرزا نے کہا 
لا مزا آں ڈوو قم سے دبرل! 
خجقی ایام ور لک ایک اتمیازی شان جھی ےکا کا مقام وفات تی ال نکا 
من نبھی ہو ہے ھی قادیا نکوا کیمرد٤المیان‏ جاۓ وفات سے اس کے اپ ےی رکردو 
' یی معقبرہے“ یس نأ نکرنے کے لے ما گا کی بے مادکم لا ہور سے اد يان نے جایاگیا۔ 
تبرت ےک ندر تک طرف سے ندم ندم برا ظہا رق کی عجرتآ موزنشانیو ںکو دک ےک ربھی 
لگ قبو لبج سے اع را لک روش شکو انا شحار ہنا ۓے ہو تے ہیں کی صاحب ول نے ایے 
ہی افراد اط ب کر تے ہو ت کہا ے 7 
ا سے فلت وم و 4 ہر خراونری 
نہ مانو گے نمی کی بات تم نے کوکی پالی سے 
ریا رو یس ہو نے وا ے وافعاٹ وحوارث اللہ تما کی طرف 292.2 
لوق افص انمان کے لے عیرت وموعفطت کےگوناگوں پہلوئو ں کا مظہر ہوتے ہیں 
نزیس وکا کوٹ یکر نے وا نے گر این یی زندکی اور امام کے لیاظ سے عام لوکیں سے 
بھی رسواو بدتر ہوں مہ اھ فعد ر تگی رف سے ائل د نیا کے جییے درس عیرت اور ا مار کا 
اعلان ب٘ئ جاتا ہے ۔ککی اللدوالے تن ےکیا خو بکہا سے 7 
نابات جہاںہ داع رب ہیںء دیجھو 
ہر تقیر سے صدا آلی ے فَالْهَمْ فَاهْمْ 
قد ایت کے خلا نشی چھادکی رگزشت ایک اپیےط وم اور ہہ ہت ھی سٹ رکا 
نام سے جس میس یک وقت ر٘بیء سیاسیء محاشی اور معانش ری اطراف ومن ظ رکی جلو 7 رای 


32 

ہے۔ ائ لفن راصحاب خر طاس وه نے اس فقن صش رآ خار کے1 از ہی ےٹھو یی بیاددں پے 
ا س کا تققیدری وتفتی اورجزیاٹی اکم د ماب شرد کر دیا تھا۔ اس وقت سے ےک رآ رم تک 
ترارو کپ او رکاج مظر مام 14رآ گے یں۔ سا و ار ٹیش ح ہو ےے وا لے 
مضاشن و متقالاات اور ف]وگی بھی ای سلسلے زرتا بک شانجما ےگہر جار ہیں ز نظ رتالیف 
”ما کی اورطوفالن تقاد اع اللے بی اصیرت افروز منقالا تکا ایک مین ان تاب بے 
بی کا دش لت م جھھ طاہ رعبالرزای کی مساگی صن ہکا مظہر ہے۔ مرتب مصوف ای کشر 
الطال یخھیے اور جانے کا مصف ومولف ہیں۔ اننہوں تک اپٹی مامت فو جبات اور 
جمعکی معروفا تکومرزائی تک یقن وتقید پ مرو ہکرلیا ہے۔ اب شب وروز بی ا ن کا 
اوڑھنا کچھ اور و مگفنگو کی ا ن کا طر٤‏ کلام ہے۔ ا نکی رل خوا نل ےک مان وت 
ھرذائی تکو اکچھی طرح چان یس مرذائو ںکی ٹین سی اور ڈن الاوائی مرگرمیوں اور 
یی ہکاربوں کے ٹیش نظ رم رز ایت شنائ یکاشعورعالت اسلامیہ کے لی فخ گی ء سای ء معاشی 

اورمعانشرٹی نہ نظ ر سے اخچائی اہم ہے۔ 
”اب مصلفوی اور وفازن قادیان“ مروف علا کرام اور نا مور ال مم ا 
سےختی لی خی مقالا ت کا چم کشا وبصیرت افروزجموصہ ہے اور مرز ایت شنائسی کے 
لے سے خہایت اجحم ہے ٹس میں مرزا تادیاٹی کی تخصصیتء ا سک علیعراضہ ممگرمیوں کا 
احوال مرزائیوں کے پیر اکردو شبات ومغالطات خلا کیا مہدریی اورپ مونود ایک ج یتحخصیت 
کے دیخلف روپ ہیں یا دخلف الوجودتتیاں ہیں +تشریگی اور غی رجش ری ن یکی ٹہ مواانا 
عبیراشد سندنگی اورمستلہ نزو لک ء اور انا ی خوقی کے ال سے ذا اح پر مرذائو ںکی 
منلوٹی کے نمانہسماز افمافو کا جائتزہ اور امہ شائل ہے۔ علادہ انز ری ق رآ نک ریم کے لفظ 
”'رلوہ'' کا یی مطالعہ الام او رکف رارق اد: مر کےاغوی واصطلا تی محا لی ء ام ان ...... 
کال خموییہہ اور لا ہورگی مر زائی کاف مکیوں؟ جیے قابل قرر اورعلم افروز مضامین ال کا بکی 
زیت ہیں۔ شال کے طور پر مولانا مرتغطا تن جاخ برک کا مقالہ ”لا ہوری عرزائی کافر 
کیوں؟ “اس لیاطے سے بطور اض ام اورنفردشا نکا حائل ےک مرزائ یکر وشن اور جرب 
ز ای کے اعت ٹون علتوں میں ا ہوری مرزائوں کے لے ینتا نر مکوشہ بایا جات سے مولانا 
چان ری مصوف نے برابین وشواہدکی رپنی میس ای ہرم تکواس خو بی ےی للکیا سے 
کہلا ہورگ مر زائیوں (پامیوں )کو بےیضررخیا لکر نے والوں کے خیال ا مکی ازخوطی ہو 


دد 


انی سے۔'”اضمالی وق اور قادیاٹی بماععت یہ مقالہ ایک اےے صاح بن م کا سے جو ز مان 
ای میں خودقادیانی ر ہے ہیں چنان ےگ رکا خر و مز نم نوا یا نے ان 
موضو عکو اس خوبصورلی سے داصن تر طا س پر پچھیلایا ےک دکواۓ مظاوبی کے پردے میں 
ھی ھرزائو ںکی تصرف اصل شکل دنا کے ساتے؟ جاپی سے جکمہ اس نقا بکشھائی کے بعد 
موی ت کا 6پروپ بھرنے وانے خوش مکر تم ایا وط رآ تے ہیں ۔ ابی ط رع ق رہ نکرمم 
ہے لفظ” ر بوہ “کا شفقی مطال ر ل'ء ابی وگیت وندرت کے اعقبار سے تصرف دپپ اور 
جاذپ الشات سے بللہ اپ مصحمرات ت کے ہوا لے ی۹" رر 
بدا کویی طشت ازہا مکرتا ہے۔ الخیشء اس تالیف میں شخائل ہرمقالہہ اپ شی مکیار کے 
ذو ق ین اوریی ود کا کے دارے۔ 

“یں یی نکائل ےکا سکتا بکا مطالدء عامۃ ا الین اورلم دوست اباب 
کے علاوہ الام اور مز ایت کے ماذ پ رکا مر نے والوں 2 لے بھی ف رع و ۱ 
مان لک یگ ر کشائی کا مو تب ہکا بل خود مرزائّوں نے لیے یھی اناء الہ الز یز کرمم 
نصیرت عاہت ہہوگا فافل مرح بکی بیمی نکاوش فی لوق زا ستائش وسبارکباد ہے۔ اللہ 
تعالی ا ہیں مڑاۓ شر ے واڑ ے اور ان کا ےشن عزاجیت: روز بروزٹ ئۓ 
پپلووں سے مرزاحیت شناسی کے فروغ کا باعث ہو : 

ایں دعا از من و از بھلہ جچاں آشن پاد 

یہ چندرسطور ,سب ارشاومو لف تر م اور ب7 تا ضاتے مھا ن کاب ءلیھورد یباچ ال 
خاکسمار گر کر دی ہیں ۔ الد تما ی کےکعصل وکرم سے أمید ےک میکادگ ناچتز 7ں 
کے لے انشاء اللہ الھز مز قبل ما“ ہوگی۔ 

اممار 
شجھ می مین نطرت 
اتا غجِہ ار 
گورنمنٹ ا ملا م یکاری سول انز ء لا ہور 


34 


رسول خائم ما 


علامہ “ید وو اج رضوی 


حْمَدۂ وََصَلِیْ لی رَمُزْلہ الگرم 

”ْرَ‌رْل وَألأخرٔ وَالظّامِرٔ وَالبَاطِنْ وی اول'ٗ وتی آتر وی ظاہروی ا ۷۔ وی 
َو بِكُلِ شَیْءِعَلیْمْ ا سب پجھ جات ے۔ 

“در عد ی ھکی ال آ یت مبارکہ ٹس اللہ رب الحزت بل مر کی صفات عال ہکا ڈکر 
ے۔ الد تھالی اول ے ہر سے ھی اے اہنداء ےکہ دو تھا اور ھتہ تھا۔ ہی تھا تھی ژا 
تھے او دہ تھا۔ دہ خر سے ہر کے زا ہو جانے کے بعع باقی رج ے والا ہر لے فائی سے بائی تر 
صرف ا یک ذات ے۔ 
”تل من عَليْهَا قإِن وَبقی وَجْة رَبَک کائات میں جھ چتھ سے تما ہوے والا ے 
الع وَالاگرام“ ۳ ْ اوراقی تمہارے رب 1 ذات ے فقحت ر 

جرگ والی۔ ۱ 

جن فرشے۔ انخیاء۔ اولیاء اصفیاء خرضییک کل جچہان ال سےفل و مکا قاع نے 

کوئی بھی ال ے بے یازگیں ہے۔ عا ‏ مکا ڈرو ڈرہ اس کے تضو رکرو ری ےکیوئلہ دہ 1خ 


ے ا گل کا وجودعابت ے۔ ہر بر غااب ہے۔ جو چابتا ہے ہے چاتا ےکتا ہے۔ ایا 
کے چانے لئ کوک ریاوٹ یں جن سک گول وو''مالک الملکی“ ے۔ فعال لمایرید“ ے 
اور''علی کل شی قدیر“ ایک شان ہے دہ پان ے۔ ضنے بے دیھٹے سوجے اور ب ےکی کی 
یں اس کے اوراک سے اور وپھم تا عممان اس کے میق عرفان سے عاججز ددرمائدہ ہؤں۔ 
ا الض۴۴٣‏ و ری ۳۷۰ 





35 


ووابکل شی علیم' ہے۔ ال کےع مکی نداہتداء سے نہ انتا۔ عالم الغیب والشیادہ 
صرف اورصرف اک یکی ذات ہے۔ ا لکی عصفتعلم ای اہدگیا۔ داگی۔ ذائی اور سرمدی ے۔ 
صن د ہما ل ففل دکال۔ افذرت و اخقا ر فرضیلہ ہرشےاور ہر چچ زکا دی جماضتقی 
الک مقار ہے حخلوقات میں ج سک یکو جوبھ یففل وکمال اور قدرت وتضرف حاصل ے وہ 
ا کی عطا ہی سے ہے۔ ا لکی عطییت کے خاف بڑکی سے بوکی شخصبیت بھی ایک مڑکا اھر سے 
اوعن۰ی ںگکرحکتیق_ 
اسہ گے نہ صل بدھھے من سائیں کے چاہ 
لاتتحرکۂٴ فَْوة بلا باڈن الله 
زا مطظمتیں اورتئرٹقیں ا یکوسزاوار ہیں۔ ىہ جہاں اس کی جلدہ گاہ ہے۔ تقصو يکی 
تریس مصو رکی نجری ہے عالم امکا نک کس بھی نکی ری کے“ ریف و مال دو مہاں 
بی کی ترار پا ےگ گر اس خصوس میس بھی ہمارے رسو ل تم نپ یرم ا سان نبوت کے یر 
نشم ذات وصفات خداوندی کے مض رام حبوب رنب دو جہاں۔ تا مملم و۶رفالن۔ ای 
طزاں رات قلوب ماشتاں۔ سرورشور رسالت۔ روگ مض رہوت۔ چش ہم وجت_ ان 
سیر امام ت می راز ودتٹ۔ جو ہرفروعزت ۔شمم دور اك 7 2 ہدایت۔ تخرن اسرار 
ربائی۔ مرک اوار رما یحور پیش دای 1م کات صعداٰی سد الرین۔ نتم لین . رر“ 
للع می لرزنمینں۔ سید عالم۔ فو رم ری صلی شم ااررل مج رم فی۔ اح بی علیہ ای 
ولا ,کی عظکمت و شا نک یکیفیت ےت 
نس کے ہاکھوں کے بیاۓ ہوۓ ہیں سن و جال 
ے مین مجی اوا اس کو پند ٢ئ‏ ے 
سیل ای زین حطرت جم عبدٹشن خر دہلوی نس سرہ العزی' اي اپ“ ے 
دیماجہ میں لک ہی نک سودہ عدی ھک یت مو الہ بھی ے او رت ٹیتھی۔* بن صفات خداوندی 
کا ا لآ یت یں وک سے تضورسروکا ات نپ انس کے مظہر ہیں مجن بقول علامہ اتال 
جرد ضشق رض میں وی اول وی آخ 
ری آراں ری زروں بی ہیں وی ا 
)0( ضورسرور عا مه اوگل پامں سک ہی ںکہ اللہ تمائی نے سب سے کل تضور کے ٹور 


36 
ا کک پا فرمایا ۔حفورقر ما ہیں: 
”او نما خَلق الله مو آنا بن ور اللٰھ تا منلوقات سے پیلہ اللد تعاٹی نے میرے 


وَالخَلٰقْ كُلَهُمْ مِنْ نُوْرِیٰٔ.“! لو رکو پا رایا۔ یں اللہ کے پور ے ہوں 
اور سماری عو میرے لور ےں۔ 


کا نما ت کا افقاح تور سی کے لور اک ے ًوا۔ ىہ لور تہ ہوتا ٣‏ چن دہرٹل ہرد 
مکی ضیاء ہو کی نہ ببپارو ںکیشمیم جاففزا۔ نہکایوں کاضمم ہوتا چو ںکی چک نہ بچھولو ںکی 
ھک نہ ہواؤ کی ول افروزی نہ ٹیل کا زغم ندکل خندا ںکی بہادر دلکشا..محشظر پک اگ رتضور 
نہ ہوتے لو نام ہوئے شہآپ اورنہ بےخطہ پاکگ ے 

دُ لی زہ پھول کھج نہ دنع لت ےہ رات ہوئی 
جھ بضہ ہوتے و اھ نہ ہوتا وجووکون دمکاں ثہ ہوتا 

ور یکی ات اس لور بی و اڑل ور الا وار او راللر تع یٰکی طرف ےآ نے 
وا لے یپ دطاہررشن ومورلور یں ۱ 
"لڈ ججاء کم الله ور ی بے تک تجادے پا ا لدکی طرف سے 

ورآا۔ ۴ 

الد تھاٹیٰ نے اعلان فرمایاکک۔کفار و رحھر یکو بچھان ےک یکویشن لکرس ےمان اللہ تعالی 
ا ورک رگن یکو کے سے تفوظہ رک ےگا اس و رکی ری پیعتی ہی ر ےگ یں بڑھ بڑ کر 
یں مارتی رہ ںگی نین راغ محرییںیپ یس ذرا بھی تھرتھراہٹ پدا نہک ری لیگیا۔ 
”یریدون لیطفنوا نور الله بافوا ہم ط دہ جات ہی ںکہالش کا فور ات مہوں رے 
واللەمتم نورہ وموکرہ الکفرون. “عم بجھا دی اور الل اہینے و رکو ہوا کرئے دالا 
ہے خواہ کافر براعی مائیں۔ (پھوگوں سے ہے 
ھا بجھایا ندجاۓگا۔) 
ے عمارخالبۃ ۓج ماندو: ۵ہ مفمرین کرام نے فور سےتضورکی ذا تکومراد لیا ے۔ ون 
تی کر رخ سس ۳۹۵ نازنی حخ ائ١‏ اا٣‏ دارک رخ اض ٥٣‏ رو العالٰ' ح٦‏ ے۸۹ٴروں البیا'ن رجا 
51 ۸۔ ما مم العمز بل وص ۲۳ رر ٹور رخ ص ٣۳٣۱‏ برارح الوم“ موا ہب لد زرقَال ٹا آے 
ص* تفر جا لین' تیر این بجر اداد ااسلوک صص ۱۸۵ ۱ز مول نا رشید اجک نشم الطیب مص ے مصنفہ مولانا 
اثرفگ قاگ۔ ۰ سور) القف:۸ 





37 
ایند تما یٰ نے جہا ںکا افقتاح اور شر تک ابتدام اورسلسل ہبوت و رسال تکا آغًاز 
ازل کے ٹور ین اور شاعم ابر کے ماوسین نماتم الاخیاء علیہ خی وانشاء کی ذات ستودہ 

صفات سے مایا: 
یہ عالم بست و بود ہو نہ زندگی کا وجود ہو 
ہا ں کی تفلیق می نہ ہوثی جو حاصل دو جہاں تہ ہت 
خظے رجورسیر مرو رک حران یم ےک ہآ پکو پیا فراع مقصود نہ ہوتا تو ابر تعالٰیٰ 
انا رب ہونا بھی ن اہر نفرباتا۔ چنا خی حضرت مرو الف مال قوم رہانی ش سرہندی فرش سہ 
الربانی ن ےحو بات مس حدیث قدی در کیا سےکہ اللہ تھاٹی نے اپ ےحبوب رسول سے فرمیا: 
”لو لاک لما اٹ الو بی“ ا ک اگ میں پدا فرمانا متفور نہ ہوا و ہم اپا 
رب ہونا بھی ظا ہرتدفرماتے۔ 
یی ے 
تیرے صر کے سوا تا جھ یکہاں ولاک لیا کا انح لا 
دےصلح علی ىی شمان تتوربی اے صاحب حنت دجن تھا 
رسول انول وآخر ہوع حضورسرور عالم یپ کے امم خائس سے ہے۔ او دآ مل 
کے ان دونوں مناصب پر یمان لان ضردری ے۔ دنا یش جس قد اخمیاء و مین ازہ وم تا 
یی علیہ السلا مآ ے وہ بی و رسول ہی ہیں مگرکسی نے ال این اور آخر این بہونے کا 
کوٹ ی نی سکیا۔ اخمیاء سا نشین سر اجمائی طور پامان لان کا مضمبوم ىہ بی تھا کہ دہ اللر کے رسول 
ہیں لیکن تضور نال بایان انے کے لے و پکوصرف رسول ماننا ہی کاٹی نیس سے بل ہآپ 
کی رسمالت دنیوت پر یمان لانے کے ساتھ ساتھآپ کے ال وصف ناس بایان لان جا 
ضروری ےک ہآآپ رسول او لمگا میں اور رو لآ نڑبھی_ نان حدث کا میں ارشاہو ے: 
ان کیاوک تال جعلنک آؤل ال تعای ظ رام سے امھ مکل رئش کے 
البییّن عَلْقًا و اخِرَھُمْ بَع َجَمَلُک فاظ ےت مکو سب نھیوں نے یہ اور حاظ 
َاتِحًا رَ حَاِمًا“ ٢‏ بعشنع سب سے ؟ نف تھہا۔ خبوت کا ابنداء 
کرنے والا او رت م کر نے واااتھ یکو بنایا۔ 
٤إ‏ کنا ج ۶ص۳۲۴٣‏ × بردویت ایشیا خصاأھ لکبرٹی ح اض ے۹۹ 


ً38 
آج مپااکہ: ”واڈ اخذنا من النبیین ميداقَهُمْ ومنک ومن نوح“ (سورہ 
ا زاب :ے) کیافیر میں جفور علیہ السلام نے فرمایا: 
”کنت اول النبیین فی الخلق و آمخخرہم ں پیدلش کے اظقبا. سے سب سے پل 


فی البعث._ا اور پاغقتبار اعشت سب سے ؟ ت ری بی ہوں۔ 
”کنت اول الناس فی الخلق وآخر ہم سم" سب انمالوں مم با پیا پہلا ہیں 
فی البعث“ ٣‏ اورسب انیاء مل باعتبار شتآ کی ہوں_ 


۱ ہیں او پالذات سب سے پیلہ بھی تضمور ہی ہی گر نہ اس عم کے لوا سےآ گی 
کا ظبورآخ می ہوا اس لآ پ آ ف ‏ الانمیا بھی قراد ہا ۔گگر اس ملف سےنمی سک ہآ پکو 
وت سب سے آخز نکی ینہ اس معن سے آئپ کا ظجور سب سے آٴ خر مل ہوا..... ورندہ 
مصپ وت کے حاظ سے آ پچ کا ولاوت ہن ےکن اور ولاورتی ے بعر چایاں سای گا عمر 
مارک سے پپیلہ اود اس کے بعد کے زمانہ می ںکوگی فر قکنھیں ہے۔ اود آ سپ ہردور اور ہرعال 
میں خبوت ورسماات سے متصف ر سے ہیں اور ہیں۔ چنا یہ شب محرارع ”نکی اول و خ رکا ظھور 
ہوا تضور ایام ہوۓ اورقمام انی مکرام از وم جا می ی ہم السلام مقتری۔ ے 

ماز ای یش تھا ىہ ہی سرعیاں میں ہوں صعئی اول وآ 
کہ دست بس ہیں بیچیے حاضر جو سلطعت پ کر سے چے 
افش سب سے کیل فطعصیں وہجود سے شرف ہے وا۔لے اور سب ے ۰4 ومصف 
وت ے خصف ہونے والے لیم اق سب سے پل بی نے والے قب رمہارک سے سب 
سے پیلہ اشنہ وانے جنت مس سب سے پیل جانے والے سب سے پلہ جشت کا دروازہ 
کھلواۓ وانے۔ عرصا تمحر ہیں بضور رب سب ۓے دہ فرمانے وانے اور ام گی 
سب سے لہ شفاعت فرمانے وال بھی تضمور ہی ہیں غخرغیلہ ہرموح 4ال ہو ےکا سہرا بھی 
فور سرور عالم پل ہی کے سرپ ہے۔ علامہ اقبالی عوف کر تے ہیں: 
نیہ الاک کا اتادہ ای نام سے سے 
یش می ٹچشل آیارو سی ہام سے سے 
اگکرے وج رعضری کے فحفاظ سے بظاہ رسب سے بے ہوے واے زسول حر تیآ رم 
اییقیم و این جرر گنز ملعال ص۱۷۱۳ کنز الصرال خ ٦ص ۱۰٦‏ 


9و3 
علیہ السلا م گا ڈذات اٹل سے کین اولا پالذات اقہارخلق و اتصاف وت اولیت کا کر 
ہمارے گیا طیب و طاہرمتری رول ا کو وصل سے ٘نس١‏ سآ پک اکوث یہی دشریک 
نہیں سے ۔ جاک ہآ پکواں وقت وصف ثبورت ے متص کر دی ا گیا تھا ج بر ضر تم 
علیہ السلام مشش رف روں بھی نہ ہوا تھا۔ کچ تر یی مس فرمیا: 
”کنت نبیا وادم بین الروح والجسد'' ا چھے اس وقت نبوت م لگ تھی ج ہم روں 
وم کے درمیان تے- 
”کنت نہیا وادم ہین الماء والطین“ ٣ء‏ 
ٹش ا شت وت سے سرفراز ہوگیا ٢‏ ج بکلم 0 اوریجی کے 
درمیان ےے- ۱ 
حدیث پالا کا ىہ مطلب لیا ورس تنیں ےک ستضور علیہ السلامعلم ابی ٹس نی تے۔ 
یوق لہ وت ایک وصف سے اور ال کے لے ا تکا ہونا ضروری ہے اب اگر امت تو تکا 
کور ب ینیس ہوا تھا و وصف ثبوت سے کے مرفرا فک یا گیا؟ 
ایا عقام عقام مد بھی ہے اورعلم الھی مج تو سب اخمیاء ہی نی تے۔ پچ رآ سک کیا 
پ0 
: جال یقت جب حوزر ہو اکوئی قرین صارفہ ہو ھرمازییمع فی لیت ىی اور یہالٴمدےث 
تی می تر کک ررے کے لے شہکوگی ریہ سے اور ضہ جیکوی ماع 
راہ بیکریم علیہالسلام نے خودتھرںع فربالی ےک ۔''کنت اول الناس فی الخلق“ش 
سب الماتوں ش بلاط پیرلنش اول ہوں اس لح عدیٹ زا کا نیقی صعئی می یا چاتا اور مانتا 
ضروری ے لزا عدیث پالا کا مفب جع ہی ےک مور سرد ھکاننات کپ اس دقت نوت 
ےلواز دی گے جھے یآ وم یں 2 رو ںگگی ت ہوا تھا من قد مور تو رکراں رت 
پنیا جا کا تھا کہ ابو الش رآ دم علیہ السلام نے ابھی خلحت وجودیھ نیس پہن تھا۔ چنا نچ علامہ 
حافظط خخما بی علیہ الرعحت شر شفا میں فراتے شلں: صدےث ”کنت نبیا و آدم بین الماء 
رافایز ےط ہوالکہ تی علیہ الا مکو پر لآ سے پیل بی نبوت ورہالت ےحتت 
سرفراز فرما دیا گیا تھا او رییے عصففت وجود مج لپ سب سے مقدم ہیں ایس می صفت نبوت جس 
ۓ جا زی نا تیم علید الاولیاء 





40 

یپ مب ے مقدم واول ہیں۔ 
 )(‏ حضور ب یکریم علیہ ااصلؤ دالیم 1 خریھی ہیں ۔ سب ےآ خر سآ پک نکجور ہوا۔ 
آئ کی ذات افقدل پردین کی یل ہوئی۔؟ پکا دین الا مبگی آ خی دین سے او رآ پہ 
نازل شدہ وی (قر7ن) بھی آخری ضابطہ حیات ہے۔ قیاص تک ک آ سپ کے بی دی کو بقام 
ے۔ 
”الیوم اَكُمَلَّےُ لَکُمْ دِینگم.“ ا آي جم ۓ تھارا ون کر دیا اور 
وَرَضِیْتُ لَکُمُ الاسْلام دیناً ‏ تمہارے لے اسلا مکو لور دبن پت کیا۔ 

اب کی اور وگ یکی ضرورت ہے اود نہ شیج تکی تضور علیہ السطام نے فرمایا بے 
ا سی عم جس کے قبضہ نندردت مل مبری جان ہے اگ رج جناب موی علیہ السلا بھی دیاش 
ہودتے لے مکی پچروی کے سواان پکوکنمائش تہ ول (مَاومِمَة الا ان یَتبَعَيی)۔ 


ادنی“ ٹشآ پک بازیالی ہو ق3 اللہ عزویجل نے نبکمال الطف وکرم فر مایا: 


ال غل عَمُک إنُ جعلعک ا١اخرَ‏ 
لن فلت لأَيَارَبَ قال حَبیبیٔ َلُ عَمْ 
اٹک إِن جَعَلْھُمْ آجرا 9 مَم لُلكُ 
لایَارَبَ َال ابْلِغ عَنی السّلام ََحَبِرَهُمْ 
انی جَعَلْهم آخرَ اکم“ ٣ی‏ 


کے 
سور ات زاب یل فرمایا: 
جم کنزل الال ج ٣‏ ض۱۲ 


۴٣ الماکودہ:‎ 


اے میرے عجیب! میس نے عو کی حاضر 
ہوں اے میرے رپ۔ ارشاد ہوا اگر پم 
میں 7 خری بھی بنا رمیں تو تم نا خوش نوثہ ہو 
گے۔ میں نے عش کی آنے مرے رپ 
نیں۔فرمایا اگ رتہاریی اص تک وآ خری امت 
بنا دی تو دہ نا غوٹل و عہ ہوگی۔ می نے 
عن کیا نکی اے پر وددگاد فرمایا کہ ابچھا تم 
انی امس تکو میرا سلا مکہنا۔ اور انل یناد یتا 
ےشن نے یں خریی امت بنا دیا ے۔ 


مرش ہر کی ر ئل 
ابر ساے کا ئہ ہو ری کلالئی سے 


0 


41 
”ولیکن رُسُوْل الله وَحَاتَمَ امن“ لہ انہر کے رسول اور تام نیوں کے 
۱ خام ہیں۔ 
مم سرمعتی خی رسول کے ہیں ۔تضور نے فرمای' تنم عا قب ہوں۔' 
"لی لیس بَمْه نَبي آنا خحایم ان لا جس کے بن رکوئی بی نہیں میں انبا کا خائم 


تی بَعْدیٰ“ لے ہیں مہرے بح دکوئی ن یگجیں- 
حضرتب جا بر این ع بداللد شی ال تعالی عضدفرماتے تی یک 


و۔ف 


ہین کعفی آ3م موب محمد "ول ضثرت آ دم علیہ اللام ے وولوں شالوں 
الله عَایِمْ الین“ ۷ر کے ورمیا نک کےا ا حر رسول اللہ غائم انمیں 
”كّقَبّت ال وَبَقیّتِ الْمْبَشْرَاث اِنَ وت تشم ہوئی ال مشثرات 7 ہں۔ 
. الرَسَالَة وَالبوٰةً ذ اِنْقَطَعَ فَلاَنَبىٗ ولا رسالت اور وت ووفوں تم وین اپ 
رَسُوْل بَعْلِی“ ۵ میرے بعد کول بھی گا ثرسول۔ 
سے میں تضو رکا ارشاد ے میں آ7 خری بی ہوں اور میریی مدآ خرک مجع ہے 
مطلب حدریث ىہ ےکہ چیچ ےم ضو رآ خری رسول ہیں حضور کے بح دکوگی رسو لکیں۔ ایمیے ہی 
ایا ءکرام کی تی مکرد, ساد میں مسر بی آخری مجر ے۔ چنائچہ ھی و زا ری حدریث سے 
ان اس ری جائد ہو ے۔ بھی علیہ السلا م فرمائے ہیں: 
"تا عَاِم الاو و مَمْجِدِیٰ نین میں ؟ خری می ہوں اور میری مھ اخیا کی 
المَسَاجد اَأَليَاء.“ (ہزاز) ‏ ہناگی ہوئی مسروں میں آ خر مج یل ے۔ 
عبادت کے کے افیا ہکرام کی بناکئی ہوئی مسیروں میں مس نبوت ام المساجد ہے۔ 
اکرعلم ازکی میں پچھ اور افرادر کے لے شوہ مقرر ہوتی فو تضو رکی تش ریف آ وریی کا 


آ 


زان اور مخ ہو جاتا جن چون ہآپ سلسل امیا می 7 خری رسول میں اس لے آ ٹک آھ 
بی ال وقت ہل جب جس قرانخیا کا 1ن مقدد تھا ا کا ایک ایک فردآ ا۔ اب اگ رآپ 
سے بی بھ کسی کے لئ وت سےسرفرازی مان لی جائے تذل رآ پکوآ خر مکنا ایا ا ہوگا 
بے درمیا یل اواا وک خری اولا وکہنا۔ ال لئ تضورخائم یں عل اصاؤوۃ الیم کےع پور کے 
بن یکوئی کر گے نظ لین کا ایا اورکفجکی ے.... تاب وسنت سے ماع رگا 


کے سور ا قزاب: گت یئ سک ری جح ص9۹۳۴۰ر سو دن سکبرکی انس ے ماب وی ۔ این تی 





42 
دام ہ ےک امیا سان مہم الج الیم 2 ہی ےکی نمی ام میں ہد نے کا دگوگی 
1 کیا اود نہ تی الد تھا لی نے ان انمیاء پ نازل شد ہکتاب اورگیوں میں ان اخیا ہکو1 ری 
رسول یا آ رک بی قرار دی کہ اھیاء سائٹین کی سنت تبیہ کہ دہ اپنے بعد دنگ اتیا کرام 
صوں] ور مرور ع( کچ کی تشریف آ دری کا مردہ ساۓے رے ار آپ کے وع ئل و 
مناٹ اور شال ادرآپ کے میق ہکی خرت و رت کا وک رکرۓے رے۔ چائ ٹن انیاء 
رت ابرائی یل ا علیہ السلام نے حضو رکی بع تکی دعا فربائی اور خر تک کر ایی 
علیہ السا کے فرائ تہوت کا یکل یی بی قرار پا کردہ بے اعلالنعٰ رد سی اکرش رول ارم 
ور مک یت ریف 17 در یکی بثارت دینے آیا ہوں۔ جن کا نام تا کی ا مگرائی امہ پل ے۔ 
ہوئی پیلیۓ آمنہ سے ہوا 
دعاۓ قن و فقيكر میا 
اخمیاء سا ہین کا اچ پو رخیں] ور رر ئا مل کی تشریف 1 ور ی کی بثارت 
دی انل ا رکی داع مل ہےکہ انام سان ج کوٹ بھی تضور کے سوا مات ین نہتھا۔ ان 
اخمیاء یش اگ رکوئی ماقم انی بوتا وج امیا رت ابرائیئیل الڈد علیہ امسلا مکی بعش کی دما 
اور اخ ری مردم رساں عفر تپ کی اللہ ایۓ بی ر مورک ھی شر دیے۔ 
خرضیک ہحضور ام آنھیں علیراسلا مک نشیف ؟ در بوئی ہے اس ذقت چک جس قرانیامکرام 
در تھے ان کا ایک ایک فر دہ چا۔ ال تی نے حضورکوغاتم نین کے منصب پر فائ کر کے 
مہ وت بی شم فرما دیا اور ور ہی کی ش ربج تکوآ خر خشریعت قرار دے دیا پا اب قامت 
تک فلا ول زکا ذرچہاور یل حرف اورصرف ہمارے می مقدس رسول تورم ء: انی علیہ 
اصلوۃ والسلا مکی زات ے۔ 
ماب دسن تکی ان نھ رات جلپل ے داحم ہواکہححضورقص نو نکی 1 خر یکڑی 
ہیں ۔تھ رخوت اہیے بمل مان اورخو بیوں کے اتیل ہوگیا۔ اس لج ضرورگی ہوا کہ عا لم 1 
ارام جس انمیا ءکرا مکی بعش کی جو اطلارع د یگ یھی ا سکی اچ بر سلسلہ وت کے نات ہکا بھی 
اطا نکر دیا جا یذرانھمتوں کا امام دی یکا ا مال اور وت ورسالت کا اخّام ہوا الد ا یٰ 
گی مت یہ سےکہ جب دوکی کشم فیا ہے لو کال بی شخ کرتا ہے ناف نی ںکرتا. وت 
اپ ےکا لکوئئج گئی۔ اس لے منصب یش مک دا گیا۔ اب ترکاگی رسول پیدا ہوگا نہ بی نہ 


43 : 

ری اور نہ غی رٹ ری اورظلی دمن لگ 1 شی اصطا رع کا و دی میں نمور بی نہیں ہے۔ 
فرضیکہ فو تکاشخحم ہوت راگ یللقت ے خداگی لمت کا اتمام اور دی نکا انچائی عردع دارتقاء ے۔ 
جو با خود اللہ تھال یک ینیم وٹیل فقت ہے سلملہ امام میں حضو رآ خریی بھی ہیں نشی مس 
کی آعددی اس وقت ہوئی جک نس فور اخیا کا آن متقدد تھا ان کا ایک ایک فردآ چگا۔ اب جلہ 
وت شم ہوگئی نے کم ا سکی دلیل می نک ہآ ئے۔ الد تعالیٰ نے آ پک ام این ہونے کے 
ساتحد تماتھ محر مل نیشن بھی بنایا۔ جس سے ىہ بتانا مقصود کہ رسول خاتم بات خود تام 
چماوں کے لے رحت وب رکشت گیں۔ ا لے تم وت سے رت الیکا ورواژہ بن رنگیں ہو 
بن 8ی رت کے ور نول ر٥صت‏ ہار یکوحیات مرک ظا سے اب ق امت تک رممت بارگیاو 
الْوار و پرکات مر کا ول ہوا رےگا ویر یئم می ر ےگی.۔ ایھان سے پھو ل کھج ر یں 
کے ا وارکی بااش ہوئی ر ےگیا۔ ایقا نکا دری ہا رے گا ۔جن وصراقت ے با یت رڑ یں 
گے رش و بداہت کے ہارے د کت ر یں گ رکیل ار ا کی جو ۸2 تڑگیہ اور روج 
کی موی کے سامات ھیا ہد نے رہیں گے۔ ام یں ڈ7 کے صدقہ تن 12 
وع انمانیت قیام ت کک فافش و برکات الہ سےستفید ومستیر ہوئی رےگی۔ 

الفرٹش جہارےآ تو مولا آ ۓے نھیوں کے امام اور رسولوں کے خی بآ ے دہ 1 ئے 
بج ہدای کی اڑیی شع ہیں جس می دعوا نمی .. رسالمت کا ایا بچھول ہیں جس میں انی ان 
یی مائٹش غاک پا غازہ روۓ ثدیاں ۓے اور ا کی صورت جن نما ینہ ہما لکریا ے۔ دہ 
آۓ اود تمام ت7 ز یپائیوں اور رعنائوں کے سا ہآ ئے۔ خیاب ت بھی آئ رشحم ہو اور نبوت 
ھی مرن تکبھ یآ می 4 0 ہوئی اورحکس تگگی_ 
حور ۓ و عحلوق الپ یکو حیات س ودک گیا قلب د زا ہتخیر ہوئی عمت انسایت 
ک یتیل اورسرز ین بک تین میں علومت الہ یک یتیل وی ے 
آۓ ے یاں جیب بعان حتے 


نل ھ مان نز یں پچ 


گیا مریں کو سض مب" ہاۓ بمت 
فی گے را سمل سے سلطان بی 


(۳) سحضورسید عالم گل کی ذات انس ناہ ربھی ے۔ اللہ تعالی نے حضمو رکو ایبا ظاہر 
فرمایاکرآن ن کہا یحضوردکی دنا شون سز زا تو کے لے کیا 


44 


کیاکرۓے ے او رکغا رمک کی وکیفیت شی 
فو تما یرون ابنا ظم“ے ح و ہ پچچا سے ہیں ن یکر مک ییسے پان ہیں 
ا انت 

وو رٹ رل 9 کت ہو رکا سے عا لم تھاکہ چاند اشارہ 7-: و0 ہوا ڈوپا ہوا سورح 
پٹ آیا۔ ددشت جانوروں اور چچھروں نے پکو بد ہکیا اور بزہالن اچ آ پک 87 ڑھا۔ 
مور فرماۓجے گن: 
ایی لا غرفٹ را بمگػة کا یُسلم مہ کہ کے اس ہچ رکون بھی بات ہوں جھ 
خَلیْ قبْل ئ اُئقک انی کے ججزلہ لئ“ بشت ےک لبھی رج سا مکتا تھا۔ 

علامہ جلال الد بین سییوٹی علیہ الر* نے مس لم خصائ‌ شسکبرئی میں اس ممو نکی حدنشیں 
ذک کی ہیں۔ جن تک ہر چتیز پر حورو ںکی پیشانیوں پجنت کے درضوں پر اوران کے چوں پر لا 
الہ الا اللہ مھ رسول الد کے الفاظط مصطور ہیں۔ جناب آ وم علیہ العلام آک ‏ ھکھو کے ہیں تھ عریی 
اعم پر اللہ کے نام کے ساقرتضو رکا نام مککھا ہوا پاتے ہیں۔ غرضیکہ خطبات می کہ می اذان د 
اقامت ش۲ عبادات تھام اعمای خی می او راپ مم شآ پکا بجی ظھہور ہے علامہ اتال 
عم کرت ہیں: 

ور ول مم متام می آرویۓے ازم مصف 

۲۔ فور چک بات نی بھی ہیں۔ بی وجہ ےک گر انسای ضور کے مرح و مقام او رآ سپ 
کل وکمای کے اظہار دباع سے عابز سے ت لن نے جہا نکی نھتوں اود ال کے سازوسایا نعکو 
تل قربردا ےن تضور سےقخل تی لکواو رآ پکی ذات براللد کنل وک مکونظیم ایا ے۔ 
”نک لَعَلی عُلَي عَظِیٔم“ ٣‏ بے کن کفآ پل یم سے برقریی والے ہیں۔ 
”وْكَانَ فَضْل الله عَلّيیک عظیم“ ٣‏ ادا کا آپ > ا اس کے 

نس سے اس اس ری نشاندی ہوئی ےکہ پھگاد ال و و وکلال 
اور مرتعٍ و مقام عطا ہو سے جوانناگی برح د تخل سے اورگی ہے خود ان کا ر بکرم یں 
خاطب بتاک فرماتا ‏ ےکہ میس نے ؟ و مکوصفی کے مرعبہ پر فائز فرمایا قذ آ پکو غاتم این کا 
۶زاز ہا 


ا القرو: ۱۷۷ ا زم .۰:۰ 


45 
”ما خَلَقْث خَلَقَ ارم بنک غَلی ا اور یم نےکوئی علوق اڑسی پیا نمی کی جھ 
ٹب ے زیادہ گت وگراصت وائی ہو 
رل طائلہ کے تر اور آوروں کے شپننشاء عضرت جرائل اشن علیہ السا م بضور 

بی عن ضکمرتے ہیں: 
لب مَشَارِق الْرُض وَعَفَاربَھا فَلَم یس نے زین کے مشرتوں اور مخربو ںکو 
اذ رَجُلا افضل بن محمد صلی اللۂ کمثگال ڈالا گرحضور پچ سے ان لک یکو 
لہ وسلم' نہ پیا 
اس لے ال بکوع ضکرنا پڑاکہ: 
اب ہے خر ہب یڑیں گزم 
کال ذات اک مجر ران ر است (ئكذ) 
او ریم الاصت علامہ اتال عرل اکرزتے میں 
مس ز سز عدغ عو یت مع نز سس ا اش نیت 
برأ از م6 اث پالا نزاست زائلہ اوکم آوم وم بوپراست 
ام قائگل ذکہ ےک طامہ اتا کے یہ اشحارجس شاعرا نی پینانییس ہیں بمہ 
ایک یقت ماشہ ہیں جیے نتم نین ہوا حضورکا ایک فص یی رصف ہے ایس تی صض اخیاء 
می ںآ پ کا عبداللہ ہو بھی ایک مقام ہے۔ لڑنی 7 صرفسعئی تی کے لیاط سے عبدائڈ نہیں 
ہیں۔ پلگہ انمیاء می کی کا عبداللہ ہون بھی نات اشن ہہون ےکی رح ہے۔ بوجب حدیث 
مککوۃ اللہ توالی ن ےجو کی بدایت کے لئ اسیک لاکھ چوشیں بترار جم رمبحوث فرمائۓ ہیں جھ 
اکر چر سب کے سب عبد اہی ہی رق رہن چمید می ابلور قب صرف تضو رت کی ذاتہ اقدل پہ 

لف ”' ہر ال شہ“ کا اطلائی ہواے۔ ارشاہ باری ے۔ 

”نَم فام عَبْالله“_ او رتو رکا ارشاد ے: ال گیرالئد و 2 یں ے“ ری 
اللہ ہوں ارام این ) اس لے مب کے عبداالہ ہون ےکی خطظمت کا اوراا کفکبھ یکاہ انزمالی 
سے بالات ہے۔ اور لفظا عبدائش کی عظمت و رفعت کا انازہ جن اک رگی اللد ین این ع ربا قد صرہ 





خسان کیج ضص ۱۹۳ 


46 
عبد بثت سوئی کے نا کے کے برابرمکشف ہوا فو ا لکی جاب نہ ما سکا۔ قریب اہ تل جاجا۔ 
۵- پانگاو ھی سے تعمور رو یکا نات تپ کوعلم وم رف تکی وو ٹکھی عطا ہوئی بین 
ای 2 پ لی بھی ہیں ۔علوم اولین ور یی ےآ گاہ اور ذات دصفات ای ر2 ے 
زیادہ عارف۔ سورة نما ء میں حضمو رک حخاطب بنا کر فر مایا گیا- 
وَعَلَمَک معَالْمْ تن تَعلمْ ا اورکھا دیا آ پکو جو بجھآپ نہ جات تے۔ 
تو تضورح یز رب مین ہیں۔ شا ارد استا دکی تاب تکا خونہ ہوا سے استتا دکیائل بے و 
شاگرو میں استاو کیعلم دت لک نک دکھکی د تی ہے۔تضورفرمائۓے ں: 
”می رَبی لَاخسَن تَعلٰبیٰ و اوییٰ بے میرے رب نے بڑھایا اور مہتری تیم 
ری فَخْسَنَ دی“ دی مجے یرے رب حے ادب مکھا یا 
اور پت رین اد پ کھایا۔ 
تضورسرور +4 کن کے اعمزازھ یک یکیفیت بی ےک اللہ تال ے” الم نشرح 
لک صدرکف“ ف راکآ پکو بے ماگے شرح صدرکی دولت عطا فربائی اور”انزل الله 
عَلَْک الکتب والحکمةٴ“ ار تاب وعرت ےآپ کے سیٹنہ افم کو متاز وشرف 
فرایا۔ آپ کے سینذ مار ککو چک ککیا گیا او رقلب مبار ککوسنبری طشت می تل و ےکر 
ایمان وککمت سے گج رکرسینۃ انس شس رکھ دیا گیا 
ُم صلی ما وَحكماكم اڈ تگانا.“ ‏ 
بش صدربھی جیب ولنواز انداز سے ہوا کوئی نشتر استعال ہوا اور ن۔کوئی لیف 
ہوئی اور شر خون لیا حطر ال فرماتے ین کے مین نے آپ کے مین مہارک میں شاف ہے 
جیئے ہوے نشان د کے _'کُنْت اُرّی ار الْمَخیٔط فی درو“ ٣‏ 
شرع صددکی ا یمیغی تکوتضورسرور عا کم فو رجسم قل نے لییں بیان قرمااککہ ٹش 
نے ابی ر بک مکومبتربین صورت ( می )ٹس دیکھا چم رائلد نے اپنا اھ (یہ قدرت ) میرے 
نے کے درمیان رکھا اور ا يکی انیو ںکی ٹنرک می رےقلب نے محسؤ ںکی۔ 


ٗ اقاء : ۱۳ ا نصائ سکبرکی ح ٣ص٦٢٦٠‏ 2 لئ شسکبري' ح ٣‏ ص۷٢٠‏ 


. 


۹47 


”مث ما فی المواتِ وَالازض “لے (لز بش نے اشیاء زن و 

آ سال نل جان لیا)_ ۱ 

اش رشان وعظمت ے کارے طیب و طاہر سی ورمررو لی ۱ رتا 
رسول اول بھی ہیں اور سول آ خ بھی ۔آ پکی رساات واننکیر اور آ2 کی ثبوت جہائیر ے 
اودا بآ کی اطاعت داع کے بی ججات پان ے۔ اور اتا نکی حفظ و بقا اور الام 
زی سے ےش ات ننسلا کول ان تقو کے کی عو 
اسے ناف و جارک یکر نے میں ے۔ 


ْ اگر فیصل غراف ہوا ... ا جس خوش قسمت انسان نے ے۱۹ ءکی تحری کش وت کا آخا زکیاوہ مولاتا 


تا مور تے۔ تد یانی نمنڈوں کے انتھوں زخموں سے و رطل کی گاڑی جبربوہ سے نیع لآ ہادریاوے اشن 
7 بی نو مولان ىا گور“ اسلاعم کے ان قرزتووں کے لچم برا سے ہراروں کاح تھا۔ پوراشرا رھ آ یاتھا۔ 
پکینغار مکی ارب یڑ ےکر مولانا نے خون مس نمائے ہوئۓے طلیہکومفاط بکر تے ہوئے رجش انداز می ںکھا 
ضرے چ! جب ک مار ےس می سے سے ہد ئے ون کے ایک ایک قطرء کا صاب نہیں لیں کے اس 
وق تک کآرام سے نیس منھیں مے ''. تحریک طوفا نکی صورت پوررےملک می سپھی لگئی ' مولانانے ری ککو 
کاسیالی سے مکنا رکرن ےکر ۱ ت ون ای گ گر ریا۔ آقرے رر( فی کارن ) آگیام ولا نا ا کابر بن کے 
ساتھ راولپنری شش موجود تاور مانی ‏ ےآ بکی طرح مڑپر سے تے۔ مولان محر مضیان علڑی راولپنڈی میان 

گکرتے ہہ ںکہاسی دن مولانامیرے مکان برتشریف لا بڑے مطریب ےکن گے ایک وصصس تر نے آ یا 
ہوں میربی وعییت سن لآ ج گر فیصلہہمار ے غلاف ہوا میربی رو حتف عنضربی سے نیقی ہروا زکر جا ۓگی۔ 
اکا بر بن راولپنری یس جع ہیں ایس ا لاح نہ ہونے دہتا۔ میراجنازوراقیں رات نعل آبادبیجچان ےک یکونشن شک رما ۱ 
میرےاکلوتے بے طار یعمو کو پل فو کر دن کہ تمارے با پکولار پاہوں می رے نت مک رکوہ رط رح سے سی 
ریناادر می ری یکیو ں. :.ک لی نکر یا۔ متواتربو جار تھے میں ن ےب شکل جب پکرایا۔ حوصد ویااو رکھاکمہ 
ال تھا ضرور پدوفبانئیں ے۔ اببھی پک بت ضرورت سے پھر فرما یا ”جماں میرے آ کی ناموس کا حظ 
ہووہاں زندور ہک رکیاکرا؟ فا یکل یئ ا کر مرحوم نے! داکی ۔ اجکی سے 
لس رٹ ھایا۔ پھر قرمابار یلوا او موا خروں کاونت 
بے۔ سوک نکیا کو ت طار بی تھاجیے هی م ذائیوں مرتروں کے خی رسک افلیت قرار دینے کے الفاط کان 
میس پڑے شی رکی رح ای ھکر یھ اور ران تکوم رکزبی جس سے پر جو خطا ب رمایاں۔ 


مو ۃ الصاق' باب الساجد۔ 





48 


سای تکونھی خبور نکی ضرورر تکیو ںنکیں؟ 
ولا :ا علا5الد بن نروگی 

اح نیم رمصط فا ؛ 2 کل“ دائ ےۓ سی موا مۓےکتل“ سلسلہ نبو تکی ؟ خر یکڑی 
اور میک ام ہیں رش وت کا عقیرہ اںاضضن علیہ اود اسماسی مہ ے ج یھی بھی خز اہی اور 
ختلف فینہیں را اس کے بین ونلھی ولائل وشواہ رق رآ نک ری کی یت احاد یٹ یہ اور علاۓ 
مور امت کے اقوال وارشادات میں د سے جا سے ہیں ۔ ان مم کو مو ہے مزا 

اشقا یک راد ے۔ 

”مجح ھتہارے مردوں شی ےکی نے ا پ یں ہیں ین اللد کے رسول ہیں اور 
سب نییوں کےتتم پہ ہیں۔ (ا7:اب _۳۰) 

نیز رسول اللص٥‏ ی ال علیہ یلم نے ارشادفرمایا 
:- بی اس رات ل کی سیادت و قیادت انیاء کے پتھوں ہو اکرثی تی ج بکوئی ىی دفات 
ا جاتے تھے ا سک مہ دوسرے ئی ؟ جاتے تے گر میرے بح دکوئی نیکیں۔ اعت میہرے 
غلفاء (ورماء) ہوں ور (بمارگل) 
۳× آ پصل ی الطدعلیہ وم نے فرمایا۔ 

میری اور گے ےتیل امیا ہکی عثال ا سن کی ےس نے ای گر بتایا اور 
خوب ضسن نال سے اتآ زان کیا ز جوا ایکوش ہیں“ ٠‏ ایآ ای فک اہ کے کر 
لک ا سیکا محائ کرنے گے اور اس پر فرلیفعہ ہونے گے۔ او رسک گ ےکیوں نا یہاں (ری) 
ین رک نکی ون اٹ ہوں' اور رٹل نات این ہیں-(ثارل) 
-۳٣‏ نے نے فرمایا:ہ 

گے (ووسرے) ایاء ھ ھ چچڑوں ے فضیلت ومڑی عاشگل ہے۔ بے جا ٰ 
(اع) کلام د گیا میری بردرعبپ ےک گان 

مہرے لئ ما ل نیت علا لکیاگیا۔ میرے لے زین جاے نماز و پاکیزہ تال یگا۔ 
میں ری وخ انال کے لے رسول پناک مھا گیا اور یھ بیو ںکا سطمدشم ہوگی یی 

) مم تر خدیی۔ این ما ) 





49 

۳:- آپ نے فرایا:- 

رسالت و وت کا لاح ہوگیا سے اپ نر ھرے بع کوگی رسول ہوگا کول 
ی۔(7می) 
۵- آپ نے ترایا۔ 

عیرا نا مم ہے میرا نام ات ہے یس ماگی ل(مٹانے والا ) ہوں۔ جس سے اللہ 
تال یکف کو مٹاۓ گا۔ ہل وہ عیاش( کٹ اکمرنے والا ہو ںک اللد تا ی ھرے ند لوگو ںکو رکٹ 
کر ےگا۔ شس وہ عا تب (بعد ٹس آٗنے والا )ہو ںیک جس کے بع دکوکی ئیہیں- 
-_:٦‏ ا نے قرمایا۔ 

میبرکی ات مل عقرب می ںکذاب پیدا ہوں گے ان شش ہرسے ایک مہ ڈوٹ یکر بنا 
کرش ىي ہوں۔ قپ نٹ اقم این ہوں ھیرے بِعرکوئی نی ہیں ہوگا۔ (تر مک اإوداوٗر) 

ان اضق اور واٹغ ال و براڈن کے بعد ہیی ںصسی بھی وٹیل وش کی ضرور تنھیں_ 

جن جب ہم من مفروضہ پر (کہ درانضانیت کے لے خاتم الاخیاء سید امن 
جنابث ول ال اللہ علی وم کے زی حی خوت کی ضرور کیو ںگھیں؟““) جاانہ نگ 
ڈا لج ہیں اور الس ص ٢ئ‏ ی اغداز اودگکریی بک بر چائزہ لیت ہیں تو مندرجہ ذ یگل ضا و اسباب اے 
مان ےت ہیں جوعقلیت برست ذہنیتو ںکو ”'عقید ضحم نہوتے کے بن میں ا لکر سح 
ہیں تفع لکی با اخنقسار و ایا زکی صورت یس حاصل مطالعہ ہین غدصت ے۔ 
اول:- اللد تما ی کا 1 خ ری وین (ت کا ام ا نے اسسلام مرکھا سے ) جناب تھ رسول انڈرصلی 
اللہ علیہ و مکی بث ےکائل ول ہوگیا ا بکمال کے نقطۂ انچاء کک جانے کے بحدسی 
اضافہدزیادثی ک گنک یں رہ جالیٰ- 

چنا تال تما ی کا ارشاد یہہ 

٣ب‏ کے دن تہارے لئے وی نکومیں نے کاع لک دیا۔ اور ٹل نے کم پہاپنا ااعام 
تا مک دیا۔ اور ٹش ت اسلا مکوتہارادین نے کے گے پت رک لیا“ 
۱ (ااترم۴) 

آ پ می اللہ علیہ دلم جب اس دنا سےتشریف نے سے نے اپے کے یک ال 
07 جماعت تجچھوڑ مے جپیوں نے وین الام گی ذمہ دار یو ںکو سخبال لیا_جنہوں نے 


50 


کارہاۓ شف ی مکو سار لیا جنیوں نے دعوت وحن کو اچا مقصد زندگی بنا لیا۔ جنیوں نے 
عداات وشبادت لی الڑا لک ار اپپی ماع زندگی لٹا دی جنھوں نے دنیا کی رہنمائی دشر 
گی کی جوانساحیت کے نقیب وگمران بن گے میکام دہ رسول الڈصی اللہ علیہ دآلہ وس مکی 
ماب رسالت ووت کےا خنہ میس امام دسیے رے انہوں ن یھی بھی ۓے زترں ٹں 
خی بودت وی وی دالہہام کے جانے ہان ےنیس ہے۔ وہ لیک ٹیک موین کا می نکی ایک 
رگز ید جراعر کی طرح پوشت عم الریلین سےمشیم مق دکو دنا کےگوش ہکوشہ مس م پا دی 
ٹ جان سے لک گئ-۔ 

ال تتعالی فرماح ےہ 

تم لوگ بہت جراعت ہوامتوں میں جو لوگوں کے لئے نلاہ رکیعلکیں تم لوگ 
۱ کیک کا موں کا تم دی ہواور ری پااں سے روج ہو اور الل تما ٰٰ پامان لاۓے 
ہر“ (1 لگران )١٠١‏ ۱ 

یز ارشادفرمایا:- 

اورم یش ایک ابی ججاعت ہوا ضردری ہ ےک تح رکی رف بلایاکر بی ادر گگ - 
کا مکرن ےک کہاگ بک ادر ہے کاوںل سے ر وکا کر یں۔ اور ای لویل پور ےکامیاب 
ہوں ے۔(1 ل گرا ن )٠۰٠١‏ 

یر رسرل اشگلی اللہ علیہ دیلمکا فرمان ہے ”کہ میری امت م۴س پیش ایک جواعت 
ایل الا ری ر ےگی۔ ا نکو ناکام دبے مراد بنانے دالے ا ن کا چگھ اڑ وگیں 2 
1٢‏ عم ال ی1 ےگا اور دہ ای حال مل ہو ع 
دوم :- رسول الڈرم٥‏ ی الل علیہ وی مکی آھ دتشریف آوری سے باب خبوت بیشہ پیش کے 
لج بندکر دیا گیا اس سل ےک ہپ ہردو رک مل انما ی کے لے رسول می نکر معبوث ہو ئے۔ 
آپ سادرے جال دالوں کے لے رمت وک م کا پنام ‏ ل ےکر ئے۔ اس صقمیں عمومیت ٹل 
کی زمان ےکا قید ہے شی علاتے کی۔ اس می ملک و زی نشیس ہے۔ نیٹٹس وقومیت 
کی۔ می ای کی رساللتع و وقو کو دای طور پر قامت ک کے ا ال رہا ے۔آپ 
کی سیرت و اسو) ح کو ہردور یس پرنل و طبقہ کے لی تقایل تظید و اججاع بنا ےآ 
کے رجہ سے کاب نل (ق ر1 نکرم) انا نک و ری کک ی کاب اور رہ 


51 

خزاشرو ذرظھ ہے۔ جس مکی قو مکی اادہ دار ینیں۔ 
( پیم اکہآیں یبودیت وسحیت میں نظ ر1 ے-۔) 

اسلا مکا وروازہ پرٹرر و پٹ رکیل تھا ہوا سے ان سی نام نل خانران“ انس 
جراعت دگروہ یامخصویش لان وقو مکا شھیکہ وج نہیں _ 

الل تا یک ارشاو ے۔ 

اور ھم نے (اپیے مضا من افعدردےکر) آ پکواوری کے واس ےکی جیا ۔گر ونیا 
جہاں کے لوگوں (لزنی مللفین ) پ مرن یرنے کے گے ۔ (الاخیاء ے٭۱) 

یز ارشماوفر مایا:- 

تم لوکوں راہ ج3 ےننس کے لئے ج الد سے اور روز آ خرت ے ڈرتا ہو 
او رکشت سے ؤکز ال کرتا ہو" رسول اللدٹس ایک عو خموںہموجود ے“( الاطزاب )٢۱‏ 

یر فرمایا:- ۱ 

اے لو مم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیداگیا سے او رت مک ولف تومیں 
اور الف خمامدان منایا کہ ایک ووسر یکو شزا خر کر صکو_ اللہ کے نزد یک تم سپ جُں ا 
شرف دڑی سے جو سب ے زیادہ پیج زگار ۶- (اجج را ت۱۳) 
سوم:- اسلا مکوآ خر اور داگی دی نکی حیثیت سے سید الین ایام نین جناپ گر رسول 
انڈس لی ال علیہ دم کے رجہ انسانی تکی ہدایت کا سر چشمہقرار دی گیا۔ اود اس یس ا ںکی 
سعاوت وکرامت اور فلا دکا مرا ی ک راز ضف کیا گیا۔ (الٹ ھکا فان ہے بجلاشبہدین ( یق 
اورمتبول) اللہ کے نز ویک صرف اسلام ہے ).......... نذا اس کا لا زی وشض نی تقاضا تھا کہ 
ری دنا تک ا سک حاطت دکغالم تکی علماشت دی جائی۔ اور نرہ بک آڑ ےکم اشن تن 
فرب ومضبوط آشیانے 7- تہ زئی کرے والوں' ۓ مئۓ وت عتواند کے چور درواڑڑے 
گالے والو ںکی بن کی کی جائی۔چنانچہالل تواٹی نے اس دبینامنی نکی حفاظت دکفالت کی 


مات دی_ ارشاد آرمایا 

”بے شک ہم نے اس تر نکو ناز لکیا سے اود ہم عی اس کے حافظ (وگہیان) 
ہیں (ائجر_۹) 

جز ارشار ہوا:- 


”اور یہ( قرآن ) بڑی باوقد تکتاب ہے جس مس خی ردٹقی بات نہ اس کے7 گے 


52 


کی طرف سے؟ مت سے اور نہ ال کے کی ہکی طرف سے۔ یہ خدائۓ گی مگمودکی طرف سے 
از لکیاگیاے(ماجر: ٢٣۔۴٣٣)‏ 
چھارم :- ادیان سابقہ خدا سے نر د دا برست فرئچی رجنماول کے ہاتھوں باز پچ اطفال بن 
کر رہ سگئے تھے انہوں نے اپی ذا تکو دن و مرج ب کا پابند بتان ےکی ہججائۓ قود رہ بکو 
خوا بش ری ٹف س کا فلام یت رکا تھا پچلرتمریف دجاو عاات فاہزرہ او ری وزیادل ک ورواز مکھو یکر 
خوو سراخنقو اتی ن ج٠‏ ککوورآھ ہو ےکا مو مم و چو نذ ہب بتا لیا ھا۔اں ند یق 
روح وعزارع پامالی ہوکراپی ا 1 فرٹیکھو بٹھا تھا بللہدہ ایسا یتان می نگیا تھا نس کے اسرار و 
رو زی کی دصرف ”ہب کے بروہوں ے ا لگا الد تما ئی نے ا نکی رو کا اس اع راز 
بش تدکروفرمایاے۔:۔ 

بد ی خرالی ا نکی ہوگی جھ ھن ہیں (بدل سد لک )کراب (تو ریت )کو اچ 
پاتھوں سے کی کہ د تے ہی ںکہ تم غدا کی طرف سے سے خرس (صرف) ےہول ا 
ززییرے پاونٹ قررے طول لی“ (الۃ۹۰ے) 

جز ارخاد پارگی ہوا:- 

”اور بے تک ان می سے محقے امیے ہی سک جککرتے ہیں اپنی زہانو سک کراب 
(بڑجن) می کرت لوگ اس (داکی ہوئی نز )کو (بھی )کاب کا جزوجھو عالاسکہ وناب 
کا جزوکیں۔ اور کے ہی ںکہ(لفظ با مطلب ) خدا کے پالکی سے ہے۔ عالائکہ د سی طر راخ 
کے اکا ےکیں اور الله تا یٰ برکھوٹ ہو لے یں اوروہ جا تۓ یں ٗ٤(‏ ل عران ۸( 

نیز ارشاوفر مایا:- 

7 صرف ا نکی عم دن یکی وجہ سے جم نے ا نکو اتی ض٥ت‏ ے وو رگردیا_ اور ہم 
کے ان کے قلو بکوجن تکردیا۔ وہ لو ککلا مکو ال ہے مواٹح ہے ور ہیں۔ اور وہ لوگ ۶۶ 
جا نکوشصیح تک یگ یھی اس ٹس سے ایک بدا حص فو تک بٹے۔“ (الائد:٣)‏ 

دن و نج بک ا کسر یکا عاات میس بی اخ الز مان خدا کا 1 خری ول پام 
ےکر دنا ٹش تشرلف لا ئے۔ ین ون خمالعس 9حید تی وشرک ے زاری اور . 
رساات وہ شر کی اساس پر اسقوا رکیا گیا ہٹس شی بی اس را لک کی شمرت وحعدت اور بے 
چاتجددہ پابندیا ںکال مکی بلہ جوعحلت ابدائی مکی اشن د پاسباں فطرت انسا نی کی 7 جمانً 
او تح سی مکو ا لکرنے والا نایا گمیا۔ اس نے انساضیت کے کو سے دہ سارے طلوقی وسلاکل 


53 


اجار بے وو پثر زاہرول ارر رایوں ے غرا ے ہنروں پرڈال رکھے جھے_ اور وہ اصول و 
قوانین اٹل اش کر ا نے ہنھیں خواہ شنفس کے نخلاموں نے اور ن'الم رہٹمائوں نے اپنا درکھا 
ر. اور ایک سید ھا کب جعا ہم او ری نظقام عطا کیا جس میں انسانی قوااتیوں او رک ردر یو ںکا 
بھر بر خیال دکھا گیا۔ ال ظا م گر بل کی بیاد دا >ٍک 'غدا تری زبر وتتوکی طہارت و 
اکن زگ من محاطات و ”٣ن‏ اعلاق عرل و ماوات انال الدارو ںی طرف سے فاص ی کا 
مطالے اورخرییو نکی خ گی رک کا ڑاغا_مرںل درا+-جازگ" ہرد پیا نک پاسداری مبت والشت' 
ایھان پالشہ و اد مل اش گے اوصاف م۰یدہ پر رھ یگئی۔ اد تھالی تی بتح رسول امن 7 
ا لی نکی شان وصفت میں فرماج ے:۔- ۱ 

”جو لوک ای بھی اىی کا اجا کرت ہیں ج نکو دہ لوک اپنے پاس فور یت و ائل 
می سککھا ہوا پاتے ہیں. ( ہج نکی صفت بھی ےکہ) دہ ا نک تیک بات ں کا عم فرماتے ہیں اور 
بی باوں سے عکرتے ہیں۔ اود پاکیزہ نزو ںکو ان کے لے علا لکمرتے ہیں۔ اورگندی 
چڑو ںکو(پرستور) ان پر حام فراے ژؤں- اور ان لووں يہ جت وھ اور وق ےھ ا نکو دور 
کر ہں _ (الا۶راف ع۱۵) 

یرہ مل ےم فلق ارشاوفرمایا:- 

گ اس نے ت مکو(اورامتوں سے) متاز فرمایا۔ اور (انس نے )تم پ وین لڑکے اکام) 
میں کسی ض کیج یی ںکی تم اپنے پاپ ابرا ڈیم اور ا سک لت پر (بمیشہ) قائم رو 

اس (اللد) نے تمارا لتبسان تھا ے' (ان ۸ء) 

یف یا:- 

27 الد تما یکو تہارے ساتھ (امام ہیں) 1 سان یکر منظور ے۔ اور مہارے 
سماتھھ (اٗکام وقوا ین مقر رکرنے میں) وشواری منفورگیں“ (ابقرہ )٥۸۵‏ 
پنجہ:۔ غاتم ین صلی اللہ علیہ مل مکی پشت| کے بعد (ضماضیت چیئی' آگری' عف لی حیقیت سے 
رجولت ود ہنی گی مقام پر فاتۂ ہوئی مرإں کے رود گل وائرٌہ سے لن لک رآ فاقیت سے 
روشیاس ہہوئی اس نے کائا تکی وسعتو ں کا مطال ہکیا۔ اور ا لک نعمتوں سے خوش ہیی گیا۔ 
رن بعل مک نین ذترہ نےکر اسمائی جار کوترقی د با ع روخ کی راہ وکھائی۔ او کی با اتال 
کے الفاظط م'چھاگیری' جہاں دارگی' جہاں لی جہاں آ رای“ کی سج میڑھا۔ 
سای ب_نی وگمری نکی وتواتائی (جوصرفختم نو تکی رین مت سے ) کے بعدخی وت پا لی 


54 

د روگ نیو ت کا دددازہ دا کن ےک کیا ضدورت ہے؟........ یج ین ںکی”عقید شق موی“ 
سے انسائی کالات اور ا ں کی صلائتو ںہ چار چائ لگ گ٤‏ یہ ٹوٹ وا شریت کے 
پٹ مارے پچورورواژو لکو پیش پیش کے لے بندکر وی شش بر مت ومصصلح بھی ردے 
کہ انا نکیا سارک تقاییقوں کے اسباب هیاکر کے ا کی یاقت و ملاحیت ا ںکی ذراشت و 
فکادت اور ا کی خود اعتادی وخود اراوگی اعادج یکیا گیا ادد اس کے لئے ککا نیا گوس کر 
ےئن کے سان زا مہیا کر کے اسے دہ مقام اور اخزاء کشا گیا نس سےگمذشت امیا کی 
۱ میں عرم دریں۔ ارشا وخ داوندی ے _ ۱ 

وہ پگ ذات ہے جو اہۓ نرہ ( مم )کوشب کے وت مس دترام (جننی ضپ رک ) 
سے میرقی (لتن یت الد ) جس کےگرداگرد ہم نے لتق نکر ری یں ل گیا۔ جاک 
م ا نکو اپے عیاخب قدرت دکطا د یی کی ام اتل )١١‏ 

جرف ایا:۔ 

ہم تقریب ا نکو اٹی (ندرت گی) نٹایاں ان ےر اع یں بھی وکھل 
دک 2 اور خودان کی ژاٹت یش تھی۔ یبال تک لہ ان پر ظار ہو جائا مہ دو ٹرٴن 
7 ۓ'' (تصلت٥۵)‏ 
ششم:- سابقہ امتوں میں تھوےۓ دعیان نبو ت کی کشثزت عقیرہ و اان اور دٹی وصرت و 
رازہ نلدکی کے لے ز بردست شطرہ تی ری ای طر کی تمارت و فی ںآ زائی ے ان 
نیف و نراف ور دوگ کے میلانات اور رقانات پیا کے۔ ۱ 
کیج ئل تھا لاد یایال ا۹ت ہو کہا تے رو کا نات مکی ا علیہ و مکوشم بوت 
کی ظلجے فاقرہ سے مرفرازف مایا۔ رف آپ می کے لے مخنصری تی جتاب رتول ا شس٣‏ ی 
اللر علیہ وم نے جھوے نیوں کے مرگ لکی طرف اخار کر ہائے فر مایا- 

”مم سے پچپ لق بی اس ئل یس ایی ےلوگ ہوگنذرے ہیں جو ”کالہ خداونری“ ۷ 
دوک کرت تے بادجودیکہ دہ نی نہیں تھے (ہزری) 

ہفتم :- ااں دی نکی رورۃ اود ا کا راع اس بات کے متمقاصی بت ےک رسول اللہ صلی ال 

علیہ وسل مکی ذا يگرائی کے بعد ساط شور کو بییشہ ھی کے لے لبیٹ دیتا چایے کیوککہ اس 
دی نکی خصوصیات تھا ٹس دا پر و خدا تیشم نو تک ج رصداقت جامیت و پھلےٴ 


55 

وسعحت و پگ ری 7 پنری وڈابت ٹدگ الال و اکتزرال سے اوصاف شال ور ہی 
دن ایک ایا جائح نظام گر ول سے جو حا ند و ایمانیات شربعت دقوامجن اخلاتی وآ واب 
معاشرہ و اتضادیات رن و ساسات کے تام شمبو ںکوحیط ہے۔ جو جذات خود ایک لافالٰ 
طافت ے۔ جڑگی اور (چاع٘) ثوت پر نتصا ری ںکر کا .گی شيکوگی مھ زان ےئ 
ضل .جس میک یثتماننص سے نہ نائی جو رجعت پیند یکا تال سے نہ تی شر بے مہار ہنا 
جاتاے چو دلو اڈراا ولا کا خر ے۔ نہ حروہ انال (طفڑا) تصورات ے آ تا۔ جو 
عاہلیت کے سرا جج حر عتمت ومخاہص تکرکا سے۔ئہ اط ل وت کے سان ےکن کیک سک ے میم 
لہ ج سک مہشت یس فوااوکی ثوت اور پہاڑکی علابت یپ جیعن یں نمی لطافت اور 
موجو ںکی جم جلانیاں ہیں- جس میں اعتال ونازن گی سے او نکر انکیریی وخیال اڈروزیق 
بھی 22 کے ریگو ہے میس جب وشو یھی سے اورمستیککروا ری- جو زی ے روال ووالں 
چ غل کے سات بھی ے۔ اور ا ںکا نیب وعمب روا ربھی۔ جس میں یک بھی ے اور زور وثوت 
بھی جن سکی فطرت میں صا تقر پڑی یگ ہے اور نا تال می رقو بھی اور جو ایگ زمد ٥د‏ : 
جاویا اذا ی و حا ت کل دی سے جس کی وائ ی کیل سید الانمیاء خام زان ٣ی‏ اللہ علیہ سم 
کے وراجہ کرو یگئی۔ ..........اسل کے بح ری پالشن ہا یہ جرا تکہ اس مش رنہ پیا کھردے 
نون و ہو ں کیل و اورگیا ے_؟ 

اللہ تعائی ارشاو ٣‏ ے۔ 

سوتم سو ہوکر اپتا رغاس وی نکی طرف رکو ال کی دی ہِوث تابلی تک اجار 
کرو جس ء ابر نے لوگو ںکو پید ا کیا ے۔ ال تما یکا اس پیدا کی ہوگی ن کوجس پر اں 
نے تھا٠‏ ,1 ومیو ںکو پیا کیا ے- پالتا نہ چا ہیے۔ ٹل سیدعا دن بی سے کین اکیثر لیک 
یں جاتۓ_'' (اروم۳۰) 

نیزفرمایا:- 

””تہارا (سب کا) وہ رب سے جس ےے ہر چ کو اں سے متاسب پٹاوٹ عطا 
فرماگی۔ پھررجنمائی فراکی ۔''(طهہ ۵) 

نعزفرمیا:- 

”اود الد کے نز دیک ہر ایک خاصص انداز سے مقر ہے“ (الرعد ۸) 

نیز میا:۔- 


56 

”اود مم نے آپ پ حرآن اجارا سح جحکہقام (دی نگ ) بانوں کا بیا نکر نے 
والا سے۔ اور (ماص) صلاوں ہے وا سے ینڑکی رایت اور بڑی رعت اورہ نی سنانے 
والا ے _(اقل ۸۹) 
ھشتم :- الام اپے مان والو کونماز اورق رآ نکی دو اڑ یشمتیُں وے وچ ے چو خوت 
جلوت مں را سے پمکلام ہونے کا ریہ ہیں لہ ان کے لئے ”نمکالمات الپ“ کی اصلاح 
زیادہ موزوں ے۔ نما و ن تو یکو لق سے عب حور ے بت دغضروُچامے جہ 
20 اکر اود الک قربیت و ولایت سے مرفرا کر تے ہیں عیادت و 
امام تک وی ج ہہ پیراکرے اارحیات اٹروزی وچ پنر یکی فضاء مبامرتے ہیں۔ 

ان دونوں قتقوں کا وجودد ہقام خود امت مسل کو پرطرع کی خی خبوت دوٌی سے ہے 
یکر دیے دای ہے رسول الف صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشا دق میا:- 

الله تال یں نما زکاعم دا ہے۔ لا جس وت تم ماز پٹ رے ہول اھ رأھر 

موجہ نہ ہو ۔کیوئلہ اللہ قعائی اپ رح نماز ٹیش بشرے کے پیررے برض بکر دی ے ابظ وه 
اھ راجھرمجرنہ مو (اھ زی ) 

نیز اش ضا یک مان ے: - 

”اود جب قرآن پڑھا جال اککرے و ا ںکی طر فان لگا لیا کرد اور امش رپا کر 
امھ ےکس پ رمت ٭ٗ '(ا۶۷اف )٠٢‏ 
نہ :- اصلاع وتجد ی ہگ یکوششوں اور دگوت وکز کی تکی راہ مج تر بانیو لکی جارس اں امت 
گ کراب زیت الما درثال باب ہے ججہاں چردین کین دعاتالی اللہ اور مار ین قٌ 
کل اش کے کادناے اس جار گی امانت ہیں جتیوں نے ام بالمحروف اور ٹچی عن اکر کا 
فرییض, پر دور ٹل انچام دیا ۔ جو الد کے را ۓ ٹل وٹ ئ توکوگی طانت یں ہا > 
جوں ن کوئی وققہ ۔کوئی رخ ہکوٹی ضما و کوئی شاف ایا ننیں بھوڑا۔ ج سکو پان کے لے وہ 
او شکھٹرے بہوۓ ہول'“ اف لک برواران ہے مفامر شس ےک کان ان شن ٹین کے 
طاخو ی طاتں سے کا آذہا یکی ۔ ال کی کلائی مروڑ دی بل ضرورت پڑی نو نوڑکھی دگ_ اور 
0 ‪29ە )۵‏ ۔علامہ اتال سکچے ہیں ے 
ال ددہاد سے ائئی سے دہ موح جم جو لاں بھی 
نہگنیوں ےکن جس سے بوتے میں تہہ و پلا 


57 

ان اصلائیکوششوں کے نت بیس پیشہ برای کی قنیہیں قروزاں ر ہیں ۔کوٹی نی 
اور طوفان یں گھا نہ ۔گا۔ اسلای روں و ڑپ ولوں مُل بیدارردہی ۔گیھی بھی عالم اسلام فو 
ایگ ے سے دومرے مر ےکک جار کی کا دوردوروث ہو ۔گا- 

ان جرد یی 1 اولو ابا ڑپاول ول یں ن بھی بھی اسلائیعقیدہ پر غبار نہ 
پڑنے دیا۔ ىہ ہرطرع کی اعددونی و بیردٹی سازشوں کے لے پاڑ جن گے ہرطرع کی ککری 
فا رکوشس و ناڑا ککی رج بہاکر لے گئے۔ اور اص تک یکشت یکو پھیشہمنبدھار ہے پیا لکر 
ساعل عرادکک بات ر ہے۔ اور ان یل نیا جو و جذب' فا طارت وق تک چنگار یکوہوا 
دی رسے۔ زبان رسالت وحم نوم تگبر با ہوگی۔فرایا۔ 

”الد نتحاٹی اس امت میس ہرس سال کے مرے پر ایک انی کو چھچچا رہیگا جھ دی 
اید کا کارنامہ اخجام د ےگا“ (اإوراوٗو) 

ینز ال تماکٹی فراتا ےت 

”ان مومنشن میں پجھ لوک ای ےبھی ہی ںکہانبوں نے جس با ت کا اد سے عہ دکیا 
تھا۔ اس میں ہے اتڑے۔ پچ رض ےو ان ٹیش وہ ہیں جو اتی ند پور یکر گے اور نے ان یں 
متاق ہیں۔ اورغبوں نے ذرالھر وجبد لی ںگیا- ‏ (7۷۷۱اب۳٣)‏ 
دھم:- ”ماع امت“ ما ”انفاق جہور علا۔' ومن کے مقاصد ومصاح کی کیل کے لے اییا 
لیم مرج الصدر سے جس سے ہرطرح کا جائز خلا بر ہوسکما سے اور ا ےتشر ودقانون سازی 
ے مقر وضرورت کے میدان میں قلد ےکا ور ماگل ہو سم ا بہائن علاءگی ڈمہ 
داری سے جنھیں سم و۶ نخان سے حصہ واشر ما ہو جوننی و بات کے رر ہوں"“ جوححت شا 
مکوت ہین یقت پند اور قیاس و اج اع و ا ساط کے اصولوں پر حاوکی ہوں۔ جوخوف و 
خیت رکفت ے ‏ ہر۱ ہول۔ جو ا حا بگئل وعظر واوئی الام مکی فرصت ںآ 
ہول اور کن کے اک ایک فرو و پارے ٹ۲ سما نک نہ ہ وھک وہ تجھوٹ سا غلط یا 7 
اتا قکر فیس کے بی اع امت“ اسلام اورملمافو ںکی ضردر یات دمصمار پھف ہو گا۔ او رجملہ 
شرلجت اسلامیہ کے ماغذ مل مھا جا ۓگا۔ جناب ڈسال تاب لی الد علیہ وسلم نے ارشادفرمیا:- 

ری ام تلذب یا رق میں ہو ری امت طلاات ومگرای پر 
اق نی ںکرگق“ 


58 


اسلام او ر...... لق واریراو 
مفتقی مر شی“ 


ار اد کے تی لفت جس پھر جانے اورلوٹ جانے کے ہیں اور اصطلا جع ش رات 
شل ایمان داسلام پچ ر چان ےکو ارہ اد اور تر وا لےکوم رن کت یں اور ارت ادکی صورشں 
دو ہیں۔ ایک و یک ہکوئ یکم بت صاف طور پہجدیل خرہ بکرکے اسملام! پھر ج ہے کے 
عیسائی یہددگی' آ ری ماک دظیرہ خرجب انقیارکرے پا خداون عم کے وجودیا فذح رکا مگر ہو 
جائے یا 1 فضر تپ کی رسال تکا اکا رکرے_ ٰ 

ووسرے ےنا طرت صافطور ہجدیل مہب اور وید ورسالت سے انار 
نککرے۔ لین کھ اعمال یا اقوال یا عقائد ایل انقیا رکرے جھ انار قرآن مجید یا الما 
رسالتع کے مراوف و می ہوں۔ لا اسلام ےکی ایل ضروری وع یک مکا ابا رکر ٹیش 
جس کا ھدت ق رن می کی فنص صرع ے ہو یا آفضرت ‏ پل سے اط ربق فذاتر عبت 
ہوا ہ۔ بصور تگھی باہاع امت ادرقر اد ہس داش ہے اگر چہ اس ای ک عم کے سوا تام 
ادکام اسلامیہ بر شرت کے ساتھ پابئد ہو 

ایا نکی تحریف مشہور دمحروف ہے جس کے اہم جتزو دوہیں۔ ایک عق سعانہ و 
تع ی پ4 ابھان انا۔ دوسرے ال کے رسول کی رن مس طرح الل تما ی ارک و 
تالی پہ ایمان کے معن نکی سک صرف اس کے وجودکا ئل ہو جائۓ بلہ ا سک تام 
صفا تکا ملعم 7 پھر ثردرت وغی رہکو ای ان کے ساتھ ماڑتا ضروری کوٹ مآن وعرےٹ 
یں تلالی ژیں۔ ورتہ لوں لو ہر رہب وت کا دی دا کے وجود و صفا تکو مات کے 
پودئی' نھرالی وی بندوسب ہی اس پمشل ہیں۔ 

ای ط رب رسول الپ پایمان لان کا بھی بی مطل بکیں ہو سالک ہ؟ٴ جی کے 


9 
وجودکو مان ل ےک پک ہمطظمہ می پیدا ہوۓے اور تد ینہ طیب کی طرف ار تگا۔ تی رھ 
۳ سال عم رہوئی فلاں فلا ںکام سے بلمہ رسول الل تپ ایمان لان ےکی یقت وہ 

٢۲۱ ٠٢٠٢ ٠ ٥ ۱‏ 
ہو رھ .ھچ .:.ھ")إ. ۔.. مہم + .ہہ ۰ 
سے جوق رآ ئن مجمید نے بالفاط ئل شش جلائی ے۔ 
فلا وربک لا یومنون حتیٗ یحکموک فیما شجر بینھم ٹم 
لا یجدوافی انفسھم حرجاً مما قضیت ویسلموا تسلیما. 
(سوروضامء۔ ٦ريی)‏ 
۶ ہے پ کے در بک یلوگ اس وقت مک ملا نکی ہو کلت فی ات 
کہ وہس کو بے تام فزاعات واخلا فات جس عم نہ ہنا ومیں اود پھر جو فیصل ہآ می فرماویی 
اس سے اپے لین خ کو یگ یمنوں شکرس اود ا ںکو پو ری طر تل ی مک رلیں۔ 
روح امعانی یں ای آ ی تکتخمی رسلف سے اس طر حنفقل فرمائی ہے: 
فقد روی عن الصادق رض الله عنە انە قال لو ان قوماً 
عبدوا الله واقاموا الصلوٰۃ واتواال رکوٰة وصاموا رمضان و 
حجوا البیت ٹم قالوا الشی صفه رسول الله صلی الله عليه 
وسلم الاصنع اووجدوا فی انفسھم حرجا لکانوامش رکین 
ٹم تلاهدذہ الایة. (روں العا ی ٢٦ض )٦۵‏ 
حطفریتہجتفظرصاوقی " سے ممقول ےک ہاگ رکوئی قوم الل تھا یک 
عباد تکرے اور نما زکی پابندگیکرے اور ڑکو ق اداکرے اور رمضمان 
۱ کے روز ےر ھے اور ہریت ال کا کر ےگ رپچ لی ان ےش کو جس 
کاکرنا 'متضوراے جابت ہو اوں کک ہآپ نے ایا کیو کیا اس 
کے خلا فکیوں نکیا اور ال کے مان سے اپتے ول یس گی میں 
کر و یق ممشرلین میں سے ہے 
یت نرکودہ اور ا لک ی تفر سے وائ ہو گیا کہ رسالت پہ ایمان لانے کا 
یقت ہہ ےکہرسول کے تمام اجکا مکوٹنڑے ول سے لی مکیا جاۓ اور اس میں مس یم 


60 

کا مس و جیل یا 7ود تگیا جائۓ۔- ٰ 

اور جب ایا نکی حقیقت معلوم ہوگئی فکفرو ارطرادکی صورت واج ہیں 
کیونک نس چز کے مانۓ او لی مکرن ےکا نام ایمان ہے۔ ای کے نہ ماثے اور اکا کر نے 
کا نا مکفردارقراد سے (صرع برثی شرں القاصد) اور ایمان وک رکی برکور٥تھریف‏ سے ہہ 
بھی عبت جوگیاک کفرصرف بی کا نام تی سک ہکوئ یفن اوقہ تناٹی ارسول ارم ھکوسرے 
سے نہ مانے مہ ہیبھی ای درجہکاکفراور نہ مان کا ایک شعبہ ےکآ نفضرت علنگہ سے 
جا می نی طور پر عابت ہیں ان یش سےکسی ای ک عم کے لی ممر نے سے( بی کھت 
ہو جےکہ بر تضور گل ا عم ہے ) انکارکر دیا جاۓ اگرچہ جاقی سب اجک مکوسلی مکمرے 
اور بپرے امام سے سب بے عا لگ ہو۔ 


ضضثسھن 


الات 

ہاں اس تہ دو پاش اٹل خال یں اول لو یک ہکفرو ا رر اد ال صورت - 
عآنھ ×تا ہے چی حورتلی ےکی کر نے سے اگار او رگرو نٹ یکرے اور انس تم کخ 
واجب !یل ہونے کا عقیدہ نر ےلین اگ رکوئ یہن سک مکوق واججب اتیل بھتا ےگر 
غفلت پا ثرار تکی وبہ سے اس پگ لن سکرجا فو ان نک وکفرو رط او ت ہکا جا گا گر چہ 
سای عم میک وف بھی او سکم مم لکرن ےکی طوبت تہہہ م گر ا کٹ سکومسلمان ہی مھا 
جا ےگا اور کہلی صورت میں کک یجول یکو واججب اتیل بینڑیں جانا ہے اکر سی وج 
سے وہ سمارگی عحم ران لی بھ یکر رے ج ب بھی کافر مر ھ قرار دیا جاۓ گا۔ شل اک 
نس اکوں وق تک نما ڑکا شمدرت کے سا تھ مابند ےگرفرض اور واجب اعم ل ہیں چان 
ےکاظر سے اور وو اس فرش چا ےگ بھی نہیں بڑھتا اکر چہ فاس وا اورثشت 
گار ے رکا وییں۔ 

دوسرکی بات قائل خور ہہ ےک ہجوت کے اتقبار سے ایام اسلامی کی لیف 
میں ہوگئی ہیں۔ تام اقسا مکا اس ہارہ میں ایک ع مکی ۔کفر دارم ادصرف ان احقام کے 
ازعار سے عائد ہوجا ے۔ جزٹعی انڈبوت بھی ہوں او یی الد اال بھی یھی الشبوت ہو نے 
کا مطا ب 9ں ےک ان کا مت ق رآ ن بجی یا انا احادیثے سے گی کے روا تکرئے 


61 

واے؟ فضرت پگ کے عبد مبارک سے ےک رآ بن کک ہرز مانداود ہرقرن میں ملف 
طبقات او رظلف تہروں کے لوک ا سيکشرت سے رسے ہو يک الع س کا تو بات 4ہ 
انا یکر لیا حا لمچھا جاۓ ا سکو اصطلاع یں ات اور ای احادی ٹکو احاد یٹ متو اتزہ 
کے وو 

اوھی الدلاات ہون ےکا مطلب ہہ ہےکہ جوعبارت ق رن ید میں ا سکم کے 
مل دائح ہوئی سے پا حدیث متواتر سے ابت ہوئی سے وہ اہ مفجوم یا مرا دکو صاف 
صاف نظاہ رک تی ہواس می سک یاض مکی امن با یہام غہ ہوک جس می لص یکی جا وی یل ے۔ 

پھر ا سم کے اعکام قطعہ اگ رملافوں کے پ رعلبقہ اص و عام یش اس طرح 
مور ومحروف ہو جاتی کا نکا واص٥‏ لک را زاس اجتمام اورتیم نلم پر موتوف شدردے 
بلہ عام طور برملمائو ںکو ورام وہ نہیں معلوم ہو چالی ہوں جیے نماز روزہٗ رخ زکاۃ کا 
فرش ہون؟ چورئی' شراب خوری کا گناہ ہونا۔ آ ففضرت انگ کا ام الاخیاء ہوا وغیرہ نو 
ایے اعکام قح ہوضروریاتي دن کے۳ ےکی رکرتے یں اور جال درچ“چور ے ہوں 
رو صر فتطعیا ہلا ۓ ژں ضروریا تنا ل- 

اور ضحردریات اور قطعيات سےگم میں بیرفری ےک ضروریات دن کا انار 
اجماغ امت مطلققً کفر ہے ناداقلیت و چہالم تکواس یں عذرر نہ قرار دیا جا ےگا اور سی 
تک ت دی کا جام ےگی۔ 

اورقطحیات حضہ جوشہرت میں اس درجہکوکیں یں تو حفہ کے نز ویک اس میں 
بتعییل ےک اگ رکوئی عا مہ دی بوزہ ناواقفیت و ججبالت ان کا انکا رک بی تے ابھی اس کے 
کفرد ارطر ا وکا عم نکیا جاۓگا۔ بلکہ پل ا سکونعلنغ کی جا ۓگ یکہ یمم اسلام کےنی 
الثبوت اورنشیٰ الدلاات اکم ٹیش سے ہے ا کا انا رکفر ہے اس کے بعد اگر دو اپۓے 
انار پر قائم ر سے ج بکف رکا مکیا جا گا۔ 

کما فی المسائرۃ والمسارۃ لابن الھمامَ ولقطه واما ما بت 

فطعاً ولم ابلغ حد الضرورة کا ستحقاق بنت الا بن 

السدس مع البنت الصلييه باجماع المسلمین فظاھر کلام 


62 

ال حدفيے الاکفار محجدہ ہانھم لم یشتر طوافی الاکفار 

سوی القطع فی الثبوت زالی قوله) ویجب حملە علی ما اڈا 

علم المنکر ثبوتە قطعاً. (ممامروگش )۱٢۹‏ 

”اور ج وت رتطی الکُٔوت لو پوگر زور یع کو نہ پا ہو ییے 

(میراٹ ث )اکر پوت اور بی عفقی تع ہوں نز بوتی کو ٹا حصہ 

ےکاعم اجاح امت سے جابت سے سو ناکلام لق کا ہہ ےک 

ا کےا ارک و ےکف رکا ع کیا جا کیوفہ انہوں نی 

.اشموت ہونے ہے سوا او ہکوگی شرط نیس لگاکی (اٹی تولہ )گر واج 

ےک فی کے ا کا کو اس صورت پمو نکیا جانۓ کہ جب کہ 

مرکو و ںکیاعلم ہوک یگ لی الشوت ے۔'' 

خلا کلام سے کہ جس طر عکفردارقرادکی ای کشم تبدریل خرہب ہے ای 
طربح دو امم بھی ےک ضروریات رین او رقطعیاتي اسلام میں کی پچ رکا انار / دیا 
جاۓ یا ضرورت دن می لکوگی ایی جاوی لک جائۓ جس سے ان کے محروف معاٹی کے 
خطافضمی پیرا ہو جائئیں ۔ اورغ رش محروف بدل جاۓ۔ 
ضا اگنر 

اس ل گے لم کے بارہ مس ضابلشرعیہ می بوگیا کہ جب ت کس نخس کے 
کلام یش جا ول چک ینکش و اوس کے خلا فک تر شلم ک کلام یس نہ ہو یا 
اں کقیرہ ک ےکر ہونے ٹس او ے اون اختلافک ائ اجار یس واتح ہوا وش ت کک 
ا کے کین داس ےکوکاھر نہکہا جاۓے لان اگ ہکوٹ یفن ضرور بات وین میں سےصی چ کا 
انا رکرے ىاکوگی الیی وھ اویل دف رای فکرے جو اس کے اجما گی معاٹٰی کے خلا فس٣‏ پیدا 
کر ودے تو اہ ٹفش سےکف رٹ سکوئی ئل نہکیا جاۓ ۔ واللسجھانہ وتھالیٰ ا عم- 


63 


مرا الاو خیرنٹرجی می 
صفرت ےی رمہریی شا ہگولڑ و 
سوال 
غ٣‏ ین کر رض مان نون ×× 
کتا_ کما قال الشیخ الاكير فی الباب الٹالث والسبعین وھذا معنے قوله صلی 
الله عليه وآلہ وسلم ان الرسالة والنبوۃ قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی ای 
لانبی بعدی یکون علی شرع یخالف شرع او انی غبوت اور رسالت غیرتشریعی 
کا عم ٛے۔ 
جواب 
ےمزر چک ےک1 فضرتت صلی ایر علے وآ الم نے ع یکم ال و جم کو با رون 
علیہ السلام ےتشیہ دےگر(الا انە لا نبوۃ ق بععدی) کے ساتھ نبوم تک یکر دیمح 1 آں 
کہ ارو نکی خبوت خی رتشریج تھی نیشن موسوی شربعت سے ال ککوئی شر ان کے پا کیل 
۔اسل سے صاف ظا ہر ےکہ بعد فحضرت صلی اللہ علیہ و لہ یلم کے کوک نی غیرتش بجی 
بھیکیں ہوسلا۔ر اشن اکیرکا جوا سد دہ تقادبالٰیکومخر سے مفیدنن سکیومہ دہ ای باب مل 
یی مر وید یل کے زندۃ مد محر ىی زین پراجارتے ہیں۔ دیھواسی 
ا بکاص ف۷ ینس می کھت ہإں۔ابقی الله بعد رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم 
من الرسل الاحیاء باجساد ھم فی هذہ الدار الدنیا ٹلئة الی ان قال وابقی فی 
الارض ایض الیاس و عیسیٰ و کلاہما من المرسلین. اور نی زعطرت جن کوک بعد 
1| حض رتمک اللعلے و1 زم کے مقام نبوت کےحقق کا قول فرماتۓ ہیں رن یکلوا نے 
اور کن ےکو چائمزنئیں رکھتے۔ چنا مہ اسی باب کے مف* ب کھت ہٍں _ فسدد ناباب اطلاق 
انبوة علی ہذا المقام ادر ٹیزفذحات کےلعل تشہد میں مرا ہیں (فانہ لوعطف 
عليه لسلم علی نفسه من جھة النبوۃ وھو بابٌ قد سدہ الله کما سدباب الرسالة 


64 
عن کل مخلوق بعد رسول الله صلی الله عليه وآلہ وسلم الی یوم القیامة)ّنْ 
آ تحضر ت مکی ایل علیہ ول لم کے بعد وت اوررسال تکا درواز وس توق پر بن گیا گیا- 
سوال ۱ 
اد یانی کی اس قد رمفاط شھھی سکس طرع مبھوئ یکبھی جا ہیں ۔ 

جوا 

یلین وعرش نککھ یئ ہ ںکمیھی خیطان انمان کے قلب پر ہکان کے 
ےکوی مضمون ناس ڈاا سے او یھی امام جس سے ضا جب دخ ۔ واج ہے یی اک 
مانحن فيہ ٹل قادالٰ صاحب تا تکال رے ژیں۔ قال الشیخ الاكیر فی الخمس 
والخمسین و حدث فیما بینما فی الانسان شیطان معنوی'ًٗ کما مرفی من هذا 
الکتاب مین شیا مین ض7 زگ یکو ایا مضمون پلڑا لے یں سے وہ ضا مملکہ اتا ے 
اوراس اوا حیطا لی کی تر د یی ںک رسلا اور پچ رالیما مشاق ہھو جاجا ےک خحیطا نکویھی شاگرد بنا 
لا ے۔ کما قال الشیخ فی ھذا الباب وما علموا ان الشیاطین فی تلکک 
المسائل تلمیذ لھم یتعلم منھم. ناظھ ری نکومعلوم پ وک سرور مال صلی الد علیہ ول ویلم شہ 
لوالاک و ما کیک ایت علم الا ین ول خ رین نے خمام امو رکو جو قیام تکک ہونے دانے ہیں 
بطورچی نکوکی کے بیان خر مایا ہے۔ حطذ یقت جن ہمان شی اش دمح نکی عد مث ین می ںو ہو 
چنائیراں ملرت جھ ر٢‏ س۶ بر تک صدبا امور جو احادیث مل نر ے-مطاللی ارشادنوئی گی 
سل الصلو ق السا پور ہآ کر تی انکر ین ہوئے سرن جھلان کے ایک پش نکوکی ہے 
ا پان ایراورداری واپوداورقم ایہم میس برکور ہے۔ 

فرمایا ففز ٹل ول1 ول نے ےر ان بھی د یا کیا سے اورش ر7 ئ ا 
ات ا لکیعگ بھی ۔جرداررو۔قریب ےک ایک پٹ جھرا رکھاح پت مرور)نٹس ابے 
پچھورکینٹ پر بیٹھا یہ ک ےگ اکم صر فق رآ نہ یکولداور جواس یں علال پہوا ںکوعلال 027 
جترام ہوا ںکوترام خیا لکرو_ 

تین رے رخ سکورسول انشض لی اش علے و لہ وع ام فرماتے ہیں دوھی ایا 


65 


ھی ہے جیا کہ خدانے اسے تا کیا ے۔ بش نگوئی ۱۳۰۸ھ میس اہ رہوئی۔ می مرزاخلام 
ات قاد بای نے احادی ٹکی مم تکا برارق رآن می دکومطابق اتاد وا تفباط اتی کش رایا۔ مجن 
پل رآ نکری کا مطلب صب مدکی اہن کے رایا جاۓگ ھک ینھمون کا انکار ریف ہی 
ہو اور بعدازال اعادی ےک ار ربخ اصحت شبر تج ھی ہوں چیک دی جائے۔ ہاں گر 
عد ی ثٹکوشگیا پچرالیف ریف پہنایا جاے گوکیحت ہم ندار تو اہول دی ے۔ 
نت تادمااوراں کے این کے پادہ می لعمر نشی اور عنہ ن بھی شی نکوئی فر مکی 
سے جو7 جمان غیب سے ۔عن ابن عباس رضی الله عنھما قال خطبنا عمرُ فقال یا 
ایھا الناس سیکون قوم من ھذہ الامة یکذبون بالرجم و یکذبون بالدجال و 
یکذبون بطلوع الشمس ھن مغر بھا ا تر جمہ: ۔کہا ائئن عیائٔ نے عم رڑھی اایشد عنہ نے 
ان خطبہ ٹس چیشٹی نکوئی فر مال کہا لوگواس امت میں سے ای کقوم پیدا ہونے والی سے 
جو ری مکی خذ بر ےک اور وچال مچو رکا انا رر ےگ اورمخر بکی طرف سے فرات 
کےطورع ہون کو پل سی ےکی اخ ار النرالٹھا ص٥‏ ۱۸۔ 

یز حضری مل ی ال علے وا لغم ے الع ںلزابوں کے وہود ے اطلا رع دی 
کہا نکو خدا کا بی نی مکریں گے سیکون فی امتی کذابون ثلٹون کلھم یزعم انە 
نی الللہ. رای ثبان' ابو َو تر نکی مک وج اور نیز ان میں دچالوں کے صدوث ےآ گاہ 
فرمایا جو اپ نےکو دا کا رسول ہونا زی مك۷ر کی کے ۔ لا تقوم الساعة حتی بیعث دجالون 
کذابون قریب من ثلثین کلھم یزعم انە رسول الله لہ (ابو ہریر؛ جج بخاری لم ) 

یں اگمران بی ںگوئیو کو ناررع می مطا گر کے دیکھا جاۓ فے مسیل مک اب اور 
اسودیی اوران بین قرمطہ وظیرہ کے بعد بچی تقادیائی صاحب ہیں جتھوں نے اپ ےکو نی 
مھا اور ازالہاوہام کے س۳٣2٦‏ مل آ بے مُبَضْرْا برَسُولِ يأتِیْ مِنْ بَعُدِی اسُممهٴ احْمَدٌ 
کے جح ت لھا ک ہآ نے دا۔ل ےکا نام جو اح کہا گیا سے ووبھی اسی مش لکی طرف اشمارہ سے اور 
اشتبارمعیار الا خبا یی شا خکیاکہ گے الہام ہوا ےك قل یا ایھا الناس انی رسول الله 
الیکم جمیعا فھل انٹم مسلمون میک ال تا یف رات ےکا ےلقادیالی لوگوں ے کہ 
ود ےک میقم س بکی طرف خدا کا حول ہوک رآ با ہوں۔ وظبرہ وظیرہ۔ 


66 


را تقادیالی اور اس کے چچ یل 
قی مصطفی ( کوٹ ) 


نار یقکی نورشال ےک درو جح گورا حافظ نہ پاش دک تو تک جا و :.- ہو 
رزا ماما نی کی زندگی اور ا سکی تمام تصاخف نعضادات کا ایا جوعہ می ںک۔ ا ن"تابوں کا 
ماع گر ے وا لےکو نا سے صبرو طط سےکام گنا پڑجا سے اور بقول مرزا قادیا یک 
”کو نے کےکلام میں ننائ ہوا ہے (برائین اص بت ۵گ ۲۸) 
مرزا قادالی کی ان یتر یں جک با متضاد ہیں ا ن کا 220ھ ھ072 
مرن جن ری ھے۔آج ہم مرزا اور اس کے چیلوں کے چند با ای تضاد جیا نکر ر ہے 
ہیں اور لے گم یکوئی معمولی لو ککییں خودمرزا کے ات بے ہیں۔ جم بورے خلویس کے 
سا تا تادانیو ںکوخور ولگ کی نثرت در ٹن ہی کہ مہ زندگی جار انی سم ی آں لیے مرزا 
تد انیج ےخیوط لحاس انسان کے کچ کر ابفی عاقبت بر با نہ 7۲ 
م1 ذسدعرزا کے پا ایک سرحدک آ یا اود اس نے مرزا سے ج وھک کی یر 
لد مود جو مرزا کا بڑنا ادرتقاد بانیوں کا دوسرا خلیفہ تھا اس پٹھان کے انا زگنگو بر اعتراش 
کرت ہو ےکک بات 
۳ن یکو اتی بھی نی ںک ریخ جو لاکھوں انسانو کا وا سے اور یک 
بڑگی بماعح ت کا انام سے بڑے بے لوک جو ا کی نخلائی یس ہیں اور ا سکی جوتیاں اٹھانا 
رھ کرت ہیں | اس سے سا نوکس طر ح٣۶‏ ری سا سے“( یقت ص,]ص۸۲٠)‏ 
بی الد ی نمو دی مار کا مطلب سے کہ دورا ننھشکو او بکووا رکنا جاہے۔ 
اب ہم مر زی نو ںگالیوں ری عبارات ش نت این وت بی طز کل وھ ین 
اور الصاف پشد لگوں سے خیصلہ جا ہیں مرا کےعااف علاء می ایک مولا: مین 
ا لوک ی کی ات ان کے ارے میں مرذاکی خوش بای طاتظفراتمیں۔ ٰ 
یس ربکا ہو ںک۔ میاں بٹالوی کی جڑ میں جھوٹ رجا ہوا سے او رگ رکی پلید 
عرشت نے او بھی ا سں کیو ٹکو ز ہر یلا مادہ بنادیا سے ال 79 
یی ضھاست ان گے خی نے بہہردی ے۔ )1 کی الا ت الا مگ ۵۹۹) 


67 


۱ !ا کر ا تھ کی عبارت مرذا کے پارے م نکی جائے و وہ 7ا گنو 

کے منائی تو نہ ہوگی؟ قا ری کرام !زا جار مال ی کی خ رع لے "۰ 
زتواگی کا یب کی چناغی و پٹ یگشنکی عدرالت ٹیس ھرزاک وہنا ڑاگ 

تہ ضا کک من سے کا م7 ند وت 
0 و و ھا ور ای 

ٹہ مرزا نے ای دربن یں ایک ہی بے ز ل ےکی وی کی ورک 
5 ای وہ چو کی زنک کی یس اور میزے می ملک ٹا ں اور میرے بی فانعدہ کے 
ےن کی زی ان ا 82۶) 

مز ا ا ا سا 
ے کے لزان یک نج ن ےکا کہ 

ترونن گول ے مراددوسری تشم ہے“ (ووۃ الا می رمحطفہ بجر الد گی 
تھورضص )٣٢۱‏ 

با پکپا ‏ ےکہ ىہ چشگوتی می ری تحمد بی میری زنی می مہرے ہی مک میں 
یرے حی فائنرے کے لیےنمجور میں آ ےکی و با کہتا سے اس سے راد نک کیم دوم 
سے جو ہبی ھرزا کی زندگی میس ہوگی نہ بی مرا کی تحمد یق میس ہہوٹی نہ بی مرزا کے فائندے 
کے لے ہوگی اور نہ بی صرف عرزا سے ین لیر 

ر٣‏ مر زان لھا ےک 

نزو گھٹی علیہ السلا مکا حقیدہ کسی مراتی عور تکا کا وی م سے ُ7 نات ان 
۳۹) اور نا کھتنا ےکلہ ۱ 

”ھی صدنوں میں قر اسب دنا سے ملمافوں می نک کے زندہ ہوتے پر ایھان 
رکھا جا تھا اود بڑے بپڑے پز رک ال یرہ پوت ہوئے یقت الو ٤ثا )٢٣٢‏ 

مرا قکی جیادگی جھ اطباء کے نز دریک الو لیا کی ایک عم سے بپلی صدیں کے 
سب مسلمانو ںکوتو لائی بنی مواز اللہ 

یکن الف رب العرت نے ماکان و رق کاکرن فارظ مساق ٹن 
رذ ای ز بانع سے اخترا فگچھ یکروادیا۔ چناج مرا کا دوسرا ینا بی رام کہا ےکم 

3 رو حرت ا وو ہے نا کل و پ 
مرا چھی فرما کر تے تے۔“ (سیرت الہ دیی حص دو مک ۵۵) 

ہھم نے اختسا رکوحو ظا رسکھتے ہوۓ ىہ چن نھونے یی سے ہہ نے تک 


668 


اصلا کا ہب بن جانمیں گنگ وک رکٹ ہوۓ ہم ینا ایک ذالی واقعہ بیا نکرتے ہیں جھ 
قارین کے لے دی ی کا باعث ہوگا۔کانی عرصدک بات ےکہ مرے ایک ۶ز دوست 
جناب اچر صاحب بر جماعت ا7ار پاکتان ئ0 ہیں اور دوسرے عا گی - 
ضقت وضو ےک سے کیک ےکی چنائیہ یں اچ ان دولوں 
دوستقوں سیت ا نکی عپاد تگاہ پر ہہیا (ج کہونروں وا ی غاد ت گا کات ہے اور بمارے 
ش رجش قادبانوں کا مرکز ہے ) وہاں بہ ان کے جن مربی یھ ہو تے جن می ایک کا 
ا یراج تھا دوسرے دوفوں کے نام باویش ر سے ان کنل زش رم نکی نشین رن ےن 
س ےکہا کہ ج چنرتم مرزاکو مان و وہ بیا نکرو اس کے جواب مج ایک مر لی نے انتا 
دہۓ وال یفن کی جن س کا خلاصہ ب فا کہ شح لک کےا نے کا وعدہ ے وہ مزا تادیای کے 
روپ میں آ چا سے مس نے مو ھا اب اور تو کولیکییں کے گا ۔ کی لگا لئ لکوی نہیں 
ےگ ۔ جس ن ےکہاک میں جن کفبھ ینمی سک شایدکوئی اورھی ٦‏ جاتے کے لگا بج نی 
ور پرکوئی کی کی تو میں ن ےکہاک جہی ںکوئی کی نہیں نیک ھا رے مرزا قادیال یکو شک 
ےک ہشای دکوی او ربھ یآ جاۓ اس بر ا کا رگ فی ہیا کین لگا وت ٹین لکمروں میں 
نے ای ےھ سے مرزاک کاب ازالہ اومام مفکوائی اور ا کا حوالہ پڑ ھا ھرزالکھتا ےک : 

رر و کر وو کت 
خاری اوھ مادلآ ھی ں کول ہہ عابجز ال دنا کی عکومت اور بارشا ہت 02 

7ی( ازالہاوہام را ضش۳ءے) 

پچمران بے ارے بیو ںکی عالت د کے وا یھی اکھوں نے بہ تکوش لک یکم 
تاویلوں کا ا ےکن تا ےت اع کا لن یں رت ان کین 
۱ جاے دیا اور ار پار زور و ےگ رکٹتا زان مین کون تین تو یی نا ےکر کوکیون 
نک ے۔ می سکھتا ہوں یہاں شک آ تی نہوت 
کی تار کی ہے؟ خ رک آ کر کے گ ےک ہم مرزا کی صداقت پر علف اٹھاتے یں 
آپ اس کے مجھونے ہونے بر علف اٹھا میں اکر چہ ھرزا قاد بای کے مبھوٹا ہونے ےکوی 

علف :بھی اٹراۓے دو تب بھی مجھونا سے بہرعال ہم علف اٹھا ٢‏ مر وائییں لوٹ ان گن 

7 و ہر جوم کے بیا نکر دی اور ایم کر دیا کہ مزا ادیال اوران کے 
لے باب بھی متضاد ہیں۔ 

مرو جنادے می تے یه جان پچنٹرپ 


69 


سرسمان رق 

ارٹھنا بیٹھنا سوا“ جانا شمادی بی بل" کے روست اجاب ما روزہٗ د نکی 
عبادت مگ و جنگ آ ود ورضت سفر و حطر فان دھوہ کھان چنا نسنا روح“ پہنتا اوڑھتا“ چلڑا- 
پھر * تی براقی بولنا ال خلوت جلوت ملنا جلنا' طور وطر لی رنک و لو خدوخال ف وتقامت 
ہاں ت کہہمیاں وی کے نماگی تعلقات اور ہم خوالٰ وطہارت کے واقعات پر پچ پوری 
رش مم پذکورمعلوم اورحفوظہ ہے۔ شش یہاں بآ پکوشاکئل نبدىی پل کی صرف ایک 
ار ےغ0 
کہ جہارے تقر علیہ لصو السلام کے جزلی جئی واتیات بھ یکس طرع تقامبند ہو یئ 
نت 
ا۔ آنفضرت کے علیہ اورصورت وشکل کے بیان مھیں۔ 
ہ٦‏ خضرت پیش کے پالموں کے جیانع مشیں-۔ 
.سح آ ضرت ہلگ کے بے ہو پالیں کے بیان م۔ 
_سد آ حضرت شکله کی نکی کے جیان ں۔ 
۵ت آ فضرت نگل کی خضاب لا نے کے بیان ٹش۔ 
٦۔-‏ 1 و پ یسرم لانے کے بیان ں۔ 
ےہ آفقضرت کپ کیالباس کے میان ٹش۔ 
۸سح آ٤‏ غضرت نل کی زندی بسرکرنے کے بیان ٹش۔ 


-۲۴ 


-۔ 


۔٦‎ 


عۓ'۔ 


70 
تفر مگ کی موزوں کے بیان ں۔ 
رن و گا پاپ سے مان اش۔ 
ضر کپ کے نتم (زاگوشی) کے بیان ۔ 
کرت کن کے نناتم کور کے بیان مٹ۔ 
تفر کلک کے ناتم زدہ کے بیان مں ۔ 
تضرت می کے نام خود کے بیان میں - ْ 
آفضرت کل کے نام عھامہکے بیان یل۔ 


آفضرت تل کے اقم پاعیاسکے بیان میں ۔ 


تفر کپ کے ناتم رفمار کے بیان س۔ 

نے کے کے نام مضہ پرکپٹرا ڈالے کے بیان ممں۔ 

حفرنے ک8 کے نام نشست کے بیان مں۔ 

لی مه کے نا مکی دس رکے بان مں۔ 

ہے ٔ کے نام کیہ لگانے کے بیان یںی۔ 

تفر پش کے نات مکھانے کے بیان ۔ 

رضرے کے کے مان کروی کے یان ش۔ 

مت ظٔ کے نا مگوشت اور سمال نکر نے کے بیائن مم ۔ 
افضرت عللله کپ کا 

آ حضرے ‏ لن یو تس عا ڑ کے کے ان 
ہیں۔ ۱ 
آفضرے چ لا ہم و 

1 فضرت پل یا کیا تھ؟ 


۵۔ 
__1٦‏ 
ما 
۸-۔ 


۹۔_ 


71 
قشرت و کے ہے سے؟ 
حضرے کے خوشبو لان کے بیان ں۔ 
[آتضرت جپ کے ا جو بے ک پاوئتا۔ 


چجے ہیں کچ 


7رت کی کے شع پڑ سن کے مان ؛ں - 


آفضرت جنگ کے زا تک پا سکرنے اودقص ہکیینے کے جیا جنی۔ 
1آضرے ‏ الگ کےسونے کے بجیان شش ۔ 

آ حضرت ینگ کے عیارت کے میان ش- 
آفضرت نال کے خندہ دنسم کے بیان مس۔ 

آ فضرت لگ کےعراؾ کے بیان مںس۔ 

1 فضرت ‏ پللل مه کے پاش تک نماز سے بیان ش۔ 
آفضرت جال کش نے کن ان نی 
آفضرت _لپلگ سے روزہ کے بیالن ںل۔ 

آفغرت عھللگ کے قرآن پڑ من کے مان مں۔ 
آفضرت ںلللہ ےکا کے اع خخٹت 
آحفضرت پل کے بستر کے بیان ں۔ 

1 فضرت خلللھ ‏ کے وش کے بیان ٹس۔ 
آفضرت الگ کےاخلاق کے بیان مں۔ 


آفضرت عألل سے مامت کے بیان ںش۔ 


آ فضرت کلنگ کے اسان ۓگ رای کے بیان ش۔ 
آ رت کے زنک کی صورت عال کے بین شش۔ 
آفضرت گلللھ سن دسال اورعمرکے بیان ٹش۔ 


72 
۰- تقر کے کی وفات کے میان ٹل- 
١ہ‏ آ فضرے پل گی مراث متردوکہ کے بیان ٹں۔ 
ءہآپ لپن کے تمام ذاٹی عالات ہیں ان بیس سے ہر یک عنوان س تلق 
کہیں چن ہیں بلڑے واقیات میں اوران ہل ے ہر پل صاف اور رن یت 
حضر تنگ کی زن کی کاکوئی محہ بردہ ٹل نہ تھا- اند رآپ کلک یدایوں اور بال یوں 
کے تع یش ہودتے تتھے۔ باہرمتنقدوں اوروستو ںیگل ان 


ے انراز حبت 


تطب عالم ضرت میاں عبرالہمادی صاحب رح اللہ علیہ سچادہ نشین رین پور شریف 
انچ بڑھاپے اور بیاری کے باععث جلے بچھرنے سے مور جےگگراس تریک ضحم ببوت 
۹۳ء سے آ پک فی وامشگ یکاہ عالم ھاکہ آپ کے ع مکی تقیل میں آ پک چا ہا یکو 
خان پور جلوس مں لایاگیا۔ بن پر جا کی رھ یگئی۔ ان عالات میں آپ نے جلو ںکی 
ار تکی۔ مان کور کے اس جلوس میں حافظط الیریث ححخرت مولانا مجر عبدااد در خوا سی 
دیوبند ی اور جقرت حافظ راج ات صاحب برلوبی آپ کے واھیں بای چھراہ تے۔ شرکاء 
جب شخم نہوت کا رو لات تو رت میاں عبدالمادی صاحب رحمت اللہ علیہ انی تام 
نان تو ںکوںم عکر کے ”زندہ ہار" سے جواب ویے۔ مرزاحیت دہ بادککت فو آپ پر لا لک 
نف عطار ا لے پک ےن پان گن دبا کل ات 
کے ون رحمت عالم صلی اللہ علیہ وس مکی با رگاہ شفاعت می ںگوادی راک ہہ عابز(آگے جواپی 
اکسہاری کے ظ لے ارشار غرم ہے “مقر رککیہ میں سیا) عبدالمراوی حضس اس عمل کے صدتہ 
سے مجات دشفاح تکی پیک ما ےگا ۔گوابی رن اکہ علقید* ضحم خبوت کے ذظ ہی سے حجات 
ہگی۔ مجات اور شفاعت عاص لکرنے کا مہ ”ار ٹکٹ" راس سے۔ امیں عفرا تکی 
ان اخلاعصس بھرکی دعاول اور جددجم کا نشجہ ‏ ےک یہ تری ککامیالی سے ہمت ر ہوگی۔ وشن 

اپنے کہا راہ ادر اپ زٹم چاٹ راے۔ . 
( ریگ متخ خوت بے ۱۹ ضس ٭ااز مولاا ا وسایا] 


73 


2 . 
مرا ای اور مرذاغلام اج قادیایٰ 
۱ ۱ موا نا سرقراز ان صفرز 
وا جَعَلَاالروْیا اَِی ایک ال فََِةَلَِمَاسٍ 
۱ (پ ۵ا نی اعراٹل روغ )٦‏ 
اورگں نایا بھم نے وہ وکھطا وا چو ہم نے تچ ھکو دکھایا گر لوگکوں کے 
لئآ مائیی۔ 
بآ ی بھی 1 ضر ت صلی اللہ علیہ ویل مکی محراع کے ات تل ھت ہے اگ رآ پ کو 
مم اور روج وولوں کے سا تح محراع کرائ یگ ہوئی وا یش لوگوں مل ےکی فقاو رکیا 
1ز مان تی خواب کا محاعطہ نہ فتنہ ہوتا سے اور مز ہآز مانشس بکلہ ای کتعی رطلب ام ہوا کے اس 
سے معلوم ہوا کوجھ یز سب لوکوں کے لے فص او رآ ز من پتھی_ وہ کہ حضرت صلی اللہ علیہ دم 
کی محراع جسائی ہیی۔ 
رت عبدالل بن عپائ سج نکوم زا صاحب کے نز دی ک بھی ق رآ نک ریم کی پڑ یھ 
اور ارت عاص٥‏ ل تھی دو فیا ہیں" مر:- 
هی رُیَ ین أرھارَسُوْل ال صَلَی الله عَلیهوَسَلم لیلة اسری 
(جخار ی٣ض‏ ۱۸۰ 7 مگی۴۲صص۳۱٣)‏ 
ترجمہ :۔ رویا ےآ گھوں کا لوکھاوا مرا کے جآ تحضر ت صلی اللہ علیہ وس مکومھرارع 
کی رات دکھایاگیا تھا۔ بللہ ساتقھ قی دہ خوا بک اکٹ یمر تے ہیں کہ لارؤیا مناما(شفا ضل ے۱۸2 
برای دنہا یل ۱۱۳) اس دکھلاوا ے خوا کا دکھااوا جرا ول _۔ 
لغش ق رآ نکریم کا اسلوب بیان اور جخرت این ععبا کی ددایت اس چچ کین 
کرنی کے کہ ردیا ےآ مگھوں کے ساتھھ دکلاواعراد ےخواب او رکشف ہرگز ہراونہیں ۔ 
سوال:- لفظط رڈیا کا عم لی زبان ٹیش خواب پر اطلاقی ہوتا سے اس ے معلومم ہوا کہ 
صراح خوا بکا ایک تص تھا۔ ای ککشئی ام رتا جوقواب سے ریب ہوا ے ۔ 
جواب :-اقت ۶ لی یں رویا کا صن وگھڑاوا ہوتا ہے ں کے ساتجھ ہو۔ یا خواب 


74 

یش بؤ پھر جبا لککیل مہ لفظ خواب پر بولاگیا ے۔ دہاش اہےے دلال اورق رائع موجود ہیں کہ اس 
لہ گا وا ے خوا پبکا وکا وا مرادے اور یھاں اہیےنفرائی موجود تہ ہوں' ٦‏ وہاں آ گھوں 2 
اعد کے کے ران صوجود ہہوں تو ا ے؟ مگھو ںکا نعل وا مراد ے اور قص حران مُلٗ لفظ 
سبھائن بر اسرا ادرف للناس اور محخرت ع ہداب بن خپاس شی اد نہ اور دی جمپود سا گرا مکی 
روایا تک لکھوں کے ساتھ دھطا و اکوشخی نکرلی ہیں اذا رویا ےک تو ں کا دکھاا دا بی مرادہ وگ“ 
خواب او رکشف عراد شہ ہوگا- ۱ 

الہتہ بیرسوال پیدا ہوسکما کے سک کیا ردیا کا اطلاقی بیداری میں ہآ عگھوں سے ساتھ 
د سے ری لمان ع لی یں وارد ہوا جۓے با نیل سو ال کا جواب ىہ کے کہ ز بان اللی عرب مل 
رویا کا اطلاتی بیدارل میں ہگھوں سے دک پ۷اے۔ چنا چ ایک رای با ے 

وکبرللرؤیاوھش فوادہ 

وہشر قلبھا کان جما بلاله (رو العا ی ۱۵ ے) 

ترجھہ:۔ شکاری نے شزکار دک بی خی گے ارےگبی کی اور ای نے 

کین و لکوجس مج نم تع ہو چنا تھا۔ خنخری سنائی۔ 

اس شع ریش روا کا اطلاقی بیداری می ںآ عگھموں کے ساتحھ دریھنے پر ہوا ے۔ 

تھی برد جن عما رکی تھی فکرتے ہو ےکھت ہے۔ 

غَضّی اللیل والفَضْلٌ الَِّی لک لا یَمُضِیٔ 

ورؤیاک اعلی فی العیون من الفض (روان ض۱۵۰) 

رمھ۔ رات شتم ہو ھی ے اور ری تحریف بھی شتم تہ ہولئ۔ اور 

1گھوں کے ساتد مج دیکھنا نین ےکی زیادہ شٹھا اورلیٴ ×اے۔ 

اس شھر میں بھی لفظط رویا کا اطلاقی آ گھموں کے ساتحد دیکھٹے پہ واے۔ دسرے 
مقام پراللدتمائی ارشارفر ا ے:- 

مک دئی فتدلیٰ ٠‏ فْكَانَ قاب َوَسَیْن آو اُڈُنی ٥‏ فاوُحی الی عَبْیْم 

مَااَوُخی مَاکَذّبَ الْزَا دمارایٰ اَفنمَ رُوْنَه عغلٰی مَایرای م وَلَقَد رَاه 

َزلَةاُغُریٰ ہ عِنْڈ یِدرَۂ المُنّھلی ہ عِنْد هَامَنة الْمَاویٰ ہ اڈ 





75 


قش اليدرَمِمضٰی ہ مَازاغ الَُر وا فی ہ لقڈ رَای مِنْ 

'ايّاتِ رٌَبَوالْکُبْریٰ ہ (پ ےئم رو غ١)‏ 

تھے :۔ پر مزدیک ہو ٦ں‏ اور نزدیک ہو پچھر روگیا رق رو مان کے 

برابہ ا اس سے بھی نزدیک پ رم یچ اللہ نے اپنے بندہ پر جو بھیچا" 

خل نہی ںک ای رسول کے ول ے جھ دیکھا۔ اب کیا تم ال سے 

جھلڑتے ہو اس پر ج اس نے دیکھا اود اس نے ا کو دیکھا ہے۔ 

اترےۓے ہوۓ ایک ار او ر بھی سدرۃ اش کچ اکا ان گے ای 

ہے۔ کہشت آ رام سے رب ےکی جب مھا ر ہا تھا اس ہیر بر جو یھی 

چا را تھا مک ینمی ڈگاہ اور ند حد سے بڑی بتک دسکھہ ال نے اپے 

رب کے بڑڈے ھوے اورنگایاں- 

ان آ ات ٹیس جناب رسول الفرص٣ی‏ اللہ علیہ لم کے سف رکا ذکر سے جو بیت دی 
سے در انبجی سی وا ہو سے۔ شس ین مو دی ےے بیدارگی ٹس سب چئھ دیگھا نے 
اورول وو رہتکھو ںکنکی اورلخش شبھ یکیں ہولیٗ اور لوک اس جیب سفر پ۔آپ سے جھلڑا بھی 
کرت جج اس سغفر مس آآپ نے اللہ تھاٹ یک جیب وخریب نثانیاں دھیں' آنففضرت مل ی 
ال علیہ ویلم ارشاوفر ماتۓے ید 

ثُمْ فُهبَ بی إِلی مِذرۃ المنَهٰی فَإِذًا وَرَُهَا کآذان الفِبْل رَِذَا 

تُمَرَمَا مثل قلال ھجر قال ھذہ سدرۃ المنتھی 

( ہنا ربی اص ۵۳۹س لم ۱ص۱ الوگوا لی ١ص )۱١۱‏ 

ترجمہ :- پھر جھے درب نی جک نے جا یا گیا۔ مس نے درکھا کہ ہرگ 

کے رت تھی کےکا نکی رب بڈڑے بڑے ہیں اور فییلہ بجر سے مھ لوں 

یی ماخندا ںکا پل ے۔حضرت ھت ےکا تا ۳ ے۔ 

اود بر وہاں اللہ تواٹی نے کآ تحضر صلی اللہ علیہ وم مکی طرف جو یھ ا سکومنظور تھا 
انام بھیچا' حخرت عبدادڈ بن مسحودکی ردایت س7ج ہے کے :- 

ما اسْراٰ بِرَسُوْل الہ صلی الله عليه وسلم انتھی بە الیٰ سدرۃ 

المنتھی الی ان قال فزاش من ذھب 

) مل رس ےہ“ ای۱ ص۵۴“ ز٤٣ص۲۷۰۰)‏ 


76 
ترجہ :۔ جب سرکار دوعال صلی الد علیہ یم یا اسراد اور مرا کرای 
2 پکوسدر؟ نی جک پیا یا گیا۔ جہاں سو ہے کے پر وائے ا ںکو 
رے ہے سے۔ تی 

صحا کرام کا وَلَقَذُ راہ ری کیخیرمخول میں اخلاف سے کہا س کا مق 
کون ہے۔ حخرت ججرئل علیہ السلام ہیں یا خدا تعالی عطرت عبداد بن با می بن وظیرہ 
فرماتے ہیں ۔ک یر الل تا ی کی طرف راع ہے انی ضرع صلی اوقد علیہ وسلم نے دا تعالی 
کوسدرق نت کے پاس ویکھا اورتحخرت عبراد بن صسحوو اور خر با ئکشہ ری الد عنہا اور 
دی اکا بد مرف ماتے ہی ںکمفعو لک خی رحفرت رف کی طرف رداق ہے یی تحضر ت کی 
الل علیہ دم سر تل علیہ السا مکو یل شل میں صف وو مر دیگھا تھا ان میں ے ایک 
مب رحب حضرت تل علے السلام سدرۃ نی 2 ال ےا7 رس جھے۔ چنا ےععفرت 
عا کشر صد بقہ بی الد عنہا کی بی ردایت “لص ۹۸ درہ یں موجور سے اائسں سے معلوم ہواگ 
صا ہکرا کا اس میں تو اختلاف تھا کیا 1 فحضرت صلی الڈد علیہ لم نے جسالی 1 گھوں کے 
ساتھ اللہ تال یکو دریکھا تھا ا نیل ای کگروہ قائل تھا اور ودرا محر لان ماع جسانی مکی 
سيا یکو اخاف تہ تھا ات ماشہ صدبقہ رگ الد عحنہا ک وی ۔کیولہ وہ روثیت 
خداوندیی کا لو بڑی شرور سے افگار فر مان ی ہی ین معراح جمالی کا انارنی سکرش' بل ہدر؟ 
تھی کے بپاس ؟ سان سے یج انزت ہوۓ اصمل شکل میں حفرت رٹل علیہ السلا مکی 
ناب رسول اس٣‏ ی اللہ علیہ یلم کے لے دروعیت پر زور الفاظ مس ماب تکرلی ہیں اور اپے اس 
کے پآ تحضررت صلی اللہ علیہ ول مکی عدبیٹ ٹیش یکرکی ہیں ( وین مسلم اص ۹۸ وخیرہ) 

رت عا تشرصد یقہ رش الفدعنہا کا ىہ ارشاد یا رکھنا آ ےکا مآ تق گا کیوکلہ داش 
بکارآیر۔ 

لال سورۃ الشم کی مرکورہ بات اور ا نک یتفی رس چپ يکردہ احادبیث اور عقائد 
صحل کراع ے بے ر(دامت پور رب لاگ او رات ہو ہی ےکک ہک فضرت صلی الشد علیہ دم 
کا صفرجمالی اور برای مل تھا اود ای واسنے خخالف آپ سے اس پر جھمڑا بھ یکرت ے 
ا بآ پ واقرمحراخ کا خلاصہ کن یئ جوتمرراحادیٹ وس نے رک کر اتا بکیا گیا ے 


7 

آحضرت صلی اللہ علیہ ویلم فرماتے ہی کہ میں تیم میں لیٹا ہوا تھا کہ جین فر مھت 

آۓ اور مھ بیداکر کے مبرا چویٹا چا کفکیا گیا اور می رادل سو ن ےکی تھالی یں رک کر زعزم کے 
0 سے خوب دھوکر ابان وظگمت رے پر ےی دیا گیا" تر سے جوا او رگرے ے بڑا 
ایک جالور ضے براقی کے ہیں مہری سواریی کے لئ می کیا یا۔ جہاںکک انا نکی نثاہ تق 
ہے دہاں تک ال کا ایک قدم ہوتا ہے پھر جج بیت ال مقدس نے جایا گیا براقی اس علقہ کے 
مات باند ھا گیا جہاں دوسرے انمیاء عظام اپٹی سوار یا ںکو باندھاکرتے تے۔ پر میں صصح میں 
دشل ہوا۔ اور تام مرو ںکو دا تال ے دپال مرے لئے ش حکردیا حوفرت نل ےے 
ورداز ہکھو لے کے ل جےکھا ددبان نے مچ بچھاکون ہے؟ کہا ججرقل جے ددبان ن ےکہا ساتھ شی 
کون کے کہا حعفرت ح صلی اللہ علیہ یلم ہیں چھا گیا ۔کیا اللہ تماٹی کے ارشاد کے مطابقی ان 
کو بلایا گیا ے؟ حطرت چھرنٹل علیہ السلام سے علیک لیک اد طاتمات ہولٴ انہوں نے صا 
بی اوریک ےُ کے س ات کت کر تے ہو ےآ پکی 27 جک کی بپال ے دوسرےآ سان ےھ 
درواڑے سے سالٹی رب ے اجازت طل گکرنے کے بعد چ بہالں حقرت عیلی اور 
حفرت گی یھ السلام سے سلا مکیا۔ انہوں نے نیا صا ادر الا ا لصا سے خطا بک تے 
ہوۓ مرھباکھی۔ گل رتیسرےآ سان کے دروازے سے طم لی مرکور کے ساتھااستیہ ا فیا گی 
وہال لیٍسف علیہ السلا مکو بط بی ذرکور سلا مکی" اود ا نکی تن خرن صورت ود ںآ ئی۔ 
نہیں نے بھی بھائی صا اور بی صا کو خوش آ ھب دکی۔ پھر چو تھے آسان پر ای طرح 
اجازت کے بعد گئۓے وہاں حطرت اورٹش علیہ اللام ۔ مل علیہ اللام ن کہا ا نٰاوسلام 
کریں۔ یس نے سلا مکیا'انہوں نے بھی دوسرے برکو ںکی رح مجھے مبارک باد دی" چھر 
وہاں سے پل کا رع پا نچ یں اسان پر افن طل بکرنے کے بعد تنج دہاں حضرے 
پارون علیہ العلا مکو سلا مکیا گیا انہوں نے بھی عرضا سے با دکیابچھر لہ آسمان پر گے وہاں 
صضرت موی علیہ السلطام سے طائقات اور 17 ہلت ہوئی' جب مم اع سے رخصت می ہو ۓ لو 
اع کے رون ےکی آ داز ہک پا چھا گیا اے موی کیوں روتے ہو فرمایا کہ بے لوجوان بی 
میرے إعد دنا مس آیا اور ا کی مت میری امت ےکہیں زیادوتندارشیل جنت مٴش 
ول ہوگی بچھر ہم ساقویں سان پر گے وہاں حطرت ابرائیمٔ سے طاقات ہوئی مس نے ان 


7/08 


سے سام عم کی" نہزں نے ابی صا اور تی با کے الفاظ سے اڑے ہہوئۓ خوس 
دی دککیا ران سے رخصت ہوکر سدرق انی جھے نے جایا گیا دہاں بہیگی کے تے ہے 
تو دہ ہی کے کا نکی مانند تھ اور اس کا بل قبیلہ بجر کےنمکھو ںکی رح تھا دہ مقام احام 
فراندلق کے لے ہی ڈکوا کی اد ے' ہاں سے اہکام نے اور چٴ ۓ یں ہاں ”نے 
کے پروانوں نے ا سکوگھیرے میس نے رکھا تھا دہاں سے ما رنبری پھڑقی ہیں دو باطنی جو 
جلے یں جال ہیں اور دو اہ ری نل اورقرات یہاں بے بیت اور ے انس نے جیا 
گیا۔ جہاں ہرروز ستر جرارفر شے عبادوت کے لآ تے ہیں پچمراا نکو برت الم مدوپارہ وہاں 
آ ےکا موق نہیں یھ دہاں تن پیالے ٹپیٹی سے گے ایک وود ےا" دوسرا شر کا یسر 
شہدکا۔ شی نے دووجے کے پان ےکو تو کر لیا۔ بے ارشاد بد اگ ہآپ نے سن انقاب میں 
کا ل کر دیا۔ دودھ سے دین فغطرت مراو ے۔ اگ رآ پا خر ونیرہ نے لیت پک امت 
چک جائی پھر بھ پر پچاس نمازری فر مک یگئیں۔ میں ؟ من وصدقا کے ہوے خوٹی خی وا یں 
آیا۔ جب موی علیہ السلام سے طلاتمات ہہوٹی تو انہوں نے سوا لکی کیا ھ انام لائے یل 
نے پاس نما انہوں نے فر ای یں بھی اسراضحل پر پا ےک نماڑوں ہیں کر چکا 
ہویں۔آ پکی امت ان ےگ غلقت یں ضویف او رکم ور ے۔آپ اپتے ردپ سے یف 
کا مطال کر یں ۔آ پا فرماتے ہیں میں پھر دای ؟ گیا اللہ تعائی پا پا ٹمازبیا بیرے ہار 
ار آنے جانے سے محا فکمتاد با جا مصرف پائی رہگگیں۔ 

حعقرت موی علیہ السلام نے پل بھی تخفیف کا مطالبہ پی یکرنے کاکہا۔ حان یں نے 
کیا بجھے اب ش مآ بی ہے۔ اس لئ یس ا نکو بطیب نماطرقبو لکرتا ہوں۔ ات مل ا دازنیٰ 
۶ ہکادے ہاں لے سے می می با مان یں ے ہو پگ یگھیں۔ پاتی پاس چاخقبار اج اورثاب 
کےگھی ںکیوکلہ ہرگ یکو نے“ بدلہ د ںگن[. الل تما یکی طرف ے ملا کے اور جگھے وہال تو ایک 
32 از میں دوسرے سورٗ یق رہ گی خ کی آ ات او رتسرے یک ہآ پک امت میں ے جو 
کوئی الد تقالی کے سات کی چنکوشرک نر ے ا۔ ا سک تشنشی ہوگی۔ میس فی اور 
خونریاں ن ےکرک سے پل مدرم بل کیا۔ جب ہہ داقدمش رین نے سنا تو اوڑعم میا دیا۔ 

ھم نے متحدد رداا کو سا مے دک ھکر مار کے اچم واقعات اور بجتز تیات کا 7 جمہ 





79 


پگ یکر دیاڑے .یعس ضروری اور قائل ذکر جز یا کا ذک رمنق ری بکر دیا جا ۓگا۔ 
ماس ب معلوم ہوتا س ےک پھم ان صا کرام کے اسمامجشن سے واق مم ارح منقول سے 

بحوالہ ین یکر دیں۔ اگ چہ ا نکی روایات میں“ اجھال یتیل نظزم؛ ماج اورلبض اجتزام کے 

۱ عزف واضاف ہکا ضروررق ے ین دی یھی روایت شُل ایا ہو چانا “ناگز یہ امر سے اور ال 

سے اصل واقحہ پرکوئی انیس پڑ ا ا بآ پ حا ہکرام کے اساءح حوالہ جات ہکن مج - 

)۳( تحرت مالک من صحصہ ری 1ئ ۸م 2 مس کم ۱ ص۹۳ ای خواتہ اگ ۱۱١‏ نمائی ا۵۰ 

۲۵۲ ض١ نا ی‎ ۱٢١ ک١ حخرت ال بن مالک ہنا ربی م وص ما لم ۱ص ۳ الوقوات‎ (٢۲) 
٢٣ص تر کی۳ ص۴۱ ابوداوَ وص٣/ ۳۱۳ مم میا‎ 

(۳) ححضرت ابوداؤڑ ہا ری وص ہن“ مم ؛ ص۳٣٣‏ 

_ ص ۲۸ نالٰ۱١ض٢۵۲ این ایگ‎ ١ حعقرت عبرارڈ مین معورۃ “لم ا ے۹“ الوگواد‎ )(٢( 
|۸۸ ض٣ مجلل‎ ۹ 

(۵) حخرت ابو ہریرہ رنشی اشرع نہ ہنا ری ٢‏ ص۸۶٠‏ مس م ۱ص ۹۹ اوخوا زگ 7٦۲/١‏ زىی٢‏ 
ضص۱١۱۳‏ این برض ۱۰۵۸ “رہ ض ۵۲۹ 

۱٢۵ صفرت ابر رشی اولر عث ہنا ری اص ۸م ۵ مسلم اض ۹۷۹“ تی ۲ض ۴۱ا ا و گان اض‎ )٦( 

(ے) حوضرت عذ یفن ہم نا الیمان مند طیڈیٴ ۵ن 'منر رگ٢‏ ض ٣۵۹‏ 

(۸) مقر رد “تزگی٢ص‏ ۱م ررل۷٢‏ ص۰٣۳‏ 

(۹) حرت عیدالشد مین عماس رشی اللہ جناری اش ۵۶د مسلم١‏ ضص ہ۹ نیل۲ م)' 


محررل ۶۲ص٣۲٣۳‏ 
)٥۰(‏ حرت ابو سیر ازرى' "یبا ٠ر‏ زی٢‏ ص١۱‏ والبراے والھا ے٣‏ إ ۱۰۹ ومنر 
نان اکبرٹی ١ص ۱٣٤‏ 


٢ےہ‎ ض٤٦ رت اعد یت ری ال برع" مر رل٣ ص٦٦۱ نعاصی اگبریٰ‎ )١۷( 
فاکدہ:ہ حخرت انیٹ ری الف عتہا کیا ایک عدیث کوال سم پل بھی عرش وی عد‎ 
۱٦ حفرت الدیر ی یعمرو بن تزع“ نساکی اعص ٢ث“ خص انح اککبرٹی اص ۓ‎ )۴( 

)٣۳(‏ حرت راد مین او “تیر ای نکش ردص ۴۷١‏ ومح العا لم شغا قاضی عیاض صے۸ٴ 


80 
اننس اککبرٹی اص 3۸ ل ایی “ احارقغ)(۳٥)‏ صفرت سمر بن الی ر5 * متردرک 
×ص ۵۷۰ (۵ا) عطرت اپی ى نکحبں )٢(‏ ححطرت سر مین جندب' (ڑےا) نضرت 
صہیب بین ستان'(۸٥)‏ مطرت عبدالق ین گر (19) خر تعبداال بی نع عمرو مین العاگ' )٢٢(‏ 
حخرت عبدائڈرین اسمد ین ذرادڈ (۴۱) صحخرتعبدااشین مین قرط انی )۳٣(‏ حخرتعر 
من لططا۔ے*(۴۳) حنرت ایداییب انصاریڈ (۴۳۴) حیقرت اھ ڈراگ (۵) رت 
ابیز !نصاری' )۲٢(‏ حخرت ابوسغیان من ب' (ع۷) حخرت بل افای' (۸م) 
رت اسام بعت الپ یکر (۲۹) حفرت ام پالی *(۳۰) حر تی" )٣(‏ حرت ہر 
در (0) حر سیل مس )۳۳۴٣(‏ حعرتے ؛م مل نان خام اکا کی روایات 
تافص بر ؛ ض ٢١۵‏ ص ۹ء٢‏ وفیرو شی طاحظفر اشیں-علام زرل لت می ںک جتاب 
رسول بوڈ صلی او علیہ مل مکی معم رح کی حدنشیں ایس صحاہ ہکرام سے مردکی ہیں (ز رقاٹی شر 
واہ بس ۳۵۵/١‏ ۱ 

رصدکی پر ھدآ ن ےکی حدیٹ صرف ضعطرت اپو ہریرہ رش اللہ حنہ سے اور تل رفظ 
اوداؤد ںآ لی ے۔ حا مکی لورکی تاب مم لکیں ہے ہس پ مرذا صاحب نے اپٹا 
صجددی تک انی رکا ہے اورصحراع کی حدیث ملف طرلی سے ۴م از ُ ۵ عماہ ہکرام سے 
موی ہے اور پر خائ کر حد یٹ کے طیقہ ادٹی ار وم ویو ہیں جن سےمتحلق مرا 
صاحب نے اشرا کیا ہ ےکہ۔ہ ۱ 

”اگ میں بناری وس ل مکی صح تک مال نہ ہوتا ٹس اپنی حا می وٹوی یں 

ککیوں ہار پار ا نکو جن یکرتا ۔““ (ازال اوہا م ص۸۸۳۴) 

آپ نے جمارے اسندلال کا معیار ت9 دک لیا۔ اب ذرا مزا صاحب کا میا ری 
ماحظہ قر ما ئے مرزا صاحب ا 5 مور ہونۓے پر وں است ولا لک ۓ ہیں کر تل 
رواہ یکرت ہی ںکہگلاب شاو ججذوب نے شیں بیس چیہ جھ ےکو ب کہا تھا شی اب جوان ہو 
گیاے۔ اور مدھیانہ یں کر ق رآ نکی خلطیاں ثکا لن ےگا۔ (ازالہاوہا مگ ۰۸ء) 

گو اکر پٹ او روب شا کی بات نے ھرزا صاحب کے لئے قاع عبت عرمحابہ 
کرام کی ای فک قدادکی روایت مل قولٹییں۔ پھر می للف یہ ہے ہکری بن کی 


81 


ت قمدل بہت سےگواہوں ےک یگئی سے جن میں خیرائی' بوٹا کیا لالی۔ ھراری لای۔ رشن 
ال او رکجشیائل وخبرہ ہیں اور ا نک یگواتی سے ے کریم بش کاکوئی مھھوٹ بھی خابت شہ ہوا۔ 

۱ آپ بڑھ کے میں کہ حدیث ماع ببت سے ساب بکرا مآ سے ممروکی ہے ای 
کے نات سنوی کا ا ہار شای رکوئی لوب انتقل اور اندھا ج یکر ےگا۔ علادہ از یں عرزا 
صاحب لک انت 

النصوص یحمل علی ظواھر (ازا ہام ) گ۵۳۰ 
رفص وی کو اتی پر یتس لکیا جا گا۔ 
نی بلاوجہ جاویل وغیبردسےکام نہ لیا جائے گا اور حد یٹ محران کا ایک ایک لفنا 
راع جمالی ہونے پر ولال تکرتا ہے۔ مزا صاح ب لک میں ۱ 
کیوں چھوڑتے ہولوگوا بی کی حدی ٹکو 
جو چھوڑجا سے بچھوڑ دوقم اس خیب کو (ضمی ہج گواڑو )٣٤‏ اور یشون عرزا 
صاحب نے اف ےکی کہا ۔ وہ ووفرماتے گیں- 
”می بی خدا کے بلا ہے بول لنیں سک“ (حیتہ الوق ص )۲٣۸‏ 
لا بدکی ےکہ بھی الام خداوندی ہگا- اب د کے مرزا صاحب کے اصتئی ق رن 
کرمم عد یث شریف پہ گر فی ٹیٹس رکت کیا مرزاصاح بک بات مانے ہیں انل 
ْ میا انا انا امام اینا بنا 
قوضسا درن وہ جایس اور ان کا خقیدہ اورنظری ہم پردرگار حا لم اور آ جا ناعار 
سل لع لأ ےمم مرح پر اخنقاد اور ایمان رکھتے ہیں اورشی مؤی نکو چھلا ز ماج یب 
ےکہکمہ پڑ نے کے بعد اپی ھی سے ذندگی بس رکرے ماع مانے معقیروں پر یقن رک کر . 
فلا افرو یکا خی ہو اورسب سے اہم بات فلا اخروکی گر افسو سک دہ اب ہ ےکہالں 
الا ماشاء الللّهے 
معلوم ہے ہو سے وی زیت می اپ ی 
ج نز کہ ب جک خاہوں می نھیں ے 


802 


ٹر نکرمم اورک احادمٹ ے حراح جما ی کامُوت پل ھگذر چا ے آپ 
مرج جسماپی کےتتحلق جمہور ائل اسلا مکا عقید ون میجئے حافظ ای نکی کھج ہیں۔ 

کہ اکر علا مکرام اور جمپورسلف وخلف کا اس بات پر اففاقی ‏ ےکک فحضررت صلی 
ال علیہ یس مکو حالت بیداری یں عم حضری کے ساتھ مرا عکرائ یگئی (تفی ر ۵ص ۱٢۱‏ اور 
برا و نما٣۳‏ صكضص۳٢١)‏ 

لابو لے ہی ںک اک رکا رہب بھی ے:- 

کہ جناب رسول ادلض ٗی ال علیہ وی مکوحالت بیداری یش اپ جح اعلہر کے مات 
مرا کرای گیا اپ بے شارج عدشگیں موجودرہیں_ (معا لم ۵ ص ے١۱)‏ 

علام من ی اود حافظط این جج کھت ہیں :- 

کمہاسراء او ماع ایک ھی رات شس بیداری کی حالت یں شیع اعلبر کے ساتھ وا تح 
بوئی ج بک جناب رسول ال صلی الل علیہ وع مکوبوت اور رسالت ئل ہچ یتھی' یی جمبو رح رشین 
اورفاء وشنمین کا رہب ہے۔ اور اس عقید ء کی ولیل می دوج اور نماہرایعتی عدییں 


عدیں۔- 
(عھ؟ القاری ۸س ے اور رک الپاری عل)۰ے١)‏ 
عزاء سی مود لی" کی ں۔ 


کہ اکر علاء اس کے تائل ہی ں کہ اسراء اور راع دونوں جناب 
رسول ا ص٣‏ ی الد علیہ دس مکوحالت بیداری میں کم عضری کے سراتجھ 
کرائ یگئیکھیں_ (روں العالٰ ۱۵ ۸) 

امام فودی کی ژں:- 

کجی جات وہہ ےک جس پر چھسور غلف و سلف اور متاخرین فقباء و 


83 

میرشین اورشع مین ہیں کہ حضرت صلی اللہ علیہ وع مکو عالت بیداری 

میں جعم مبارک کے ساتحھ مرا کرائ یئ اور ہے واقنہ نبوت کے بح دکا 

س ےکیوککہ ا پہ اجاع کے کہ نماز یی محراع کی رات فر شک یگئی میں 

اورنما زکی فرضیت ژوت کے بع موٹی ے۔ (فووی شر “سم۱ص۹۱) 

علامہ زرائی اکھت ہں :- 

کی پور عون تی او رفا گرام کا یہب او رگقیرہ ہسے۔ 
(زر8نٰ غرح اہب ١گ )٣٥۵‏ 

شی عراش جو رکا غہب جلا ت ہو ے لنخ کا نا مبھی کت ہیں:- 

کہ بی عقیدہ حفرت این عاس؟ “حفرت جات ٢ضرت‏ ال * 

صفرت مزیف “رت گر صفرت الو پر رڈ مضفرت مالک مین 

تحص“ “حرت الوم ہدرگ" “عطرت این “حو" “او رضرے مال" 

کا تر خرہب سے اور بی ضوال' 'سیر یں جم" "فدہ 'سیرین 

سیب“ اود این شجاب؟ “ این زی صن بھری" ابرانی تی" 

سروق“ “جار رر ۰ں جرجح“ ‏ اامطری” ‏ دامھ 

نیل "و رھپ خ جن میں وم ین کو اور زیت 

ےد (شغا تتاضی عاضش +ص۰ہ۸) 

ام تاپ کسی مال اور جاکتی سی مع رام اور محرٹ سے کم سر اورص رب 
الفاظط کے ساتھمحراع جسمانی کا انار غاب تنجیں ہوسکما۔ ایڑکی چوٹی کا بھی زوردگا کر اکر ثابہت 
کیا جاۓ تذ عحال ہے لپک رشسی مس بت سے ےآ نے میران یں فھھل ہن ہبازر جن اکابم 
سے اس کے خلافمتقول ہے ا سکا جوا بمنتقری بآم ے۔ 

جب ہابت ہوگیا کہ بمہورسلف وخاف کا می ہب سے و مرزا صا بک 
بھی سل ےک رسلف وخلف کے للع بطور وکیل پر ہیں اور ان کی شہادت آتنے وا ی ژری ٹکو 
انا پل ے۔ (ازالہادمص٢٠٣)‏ 

اب ہم مرزا صاح بک اپٹیتربیات ٹچ یکر تے ہیں ای دکہ ان کے ماتۓ والیں 


84 


کے لئے عبارات سو پان روح عابت ہ گیل طاحظہکر میں ھا صاح بککھتے ہیں :- 
0( کیککہ سی ار ےک مل نک ریم کا بے آیتٴ کہ سبحان 
الّی ا یندم ۳19ا رق کل اور مال نان مل 
ےو اشن کےسحراع ال رجا کے جیما ہیر مکانی کے حاظط سے 
خدا قواٹی نے تحضر صلی اللہ علیہ وی مکومسو ھترام سے بیت اقم کک 
ہو نایا تھا اییاہی سیر زمانی کے اط ے (اشتار چدہ مارة ا صج) 
(۴) نیزعرزاصاح بککحت ں:- 
ان معرا ج‌پّنا لماکان مکانیا کذالک کان زما تیا ولا ینکرہ الا 
الذی فقد بصرہ وصار من العین (خطبالبامیگ ۱۹۹) 
گہارے نب یکریم صلی اللہ علیہ یلم ىی محراج جس رح مکانی تگی۔ ای 
رع زا ی بھی ھی اور ال کا انگارصرف وت یکر کک سے جو دی ہا یرت 
سے ہھروم ہو۔ 
(۳) ایک ور کاب شش وں:- -- 
فقد عرج رسول الله صلی الله عليه وسلم بجسمہ فی السماء 
وھم یقظان اشک فیہ ولا ریب (مامترالٹریلص۴٣)‏ 
جناب ن یکرمم صلی اللہ علیہ یلم کے لے حالت بیدارئی میں جح خضری 
کے سا تح ماج دائح ہوئی ۔ اس مم ںکوکی تک اور ش یں کے 
٣‏ اس عبارت کے کے رت عائیش وخ رکا حوالہ اس کے خلا فبھی دی ہیں م 
ا لکی بن ٹآ تنمدہ عم لکرسں گے۔ 
(۳) نیزعرزاصاح بل گت ہ ں/:- 
گگر پا وو یی تفحضررت صلی اللہ علیہ و مکی رن شلھی کے بارے میں یی 
اس پارہ خ شک دومحم کے ساتھ شب ماج مم لآ سما نکی طرف اُٹھائے 
مئے تھے ۔تقر با قسام صحا گرا مکامچی اخنقاد تھا جیما کہ کے کے اُٹھائے 
جان ےکی ذبدت اس زمانے کے لوگ اختقاد رکھتے ہیں۔ مجن جم کے 
ساتھ ُٹھاے جانا اور پچ ضحم کے سراتھ اتز نا لان بچھ بھی حضرت جائکشہ 


85 
نشی ایل عنہا اس با نکیل مکی سکرس اورکبتی ہیں کدہ ایک دویا صا لہ 
تھا اورشسی نے حفرت عائکش صدی ہکا نا نواڈ مہ یاضالنجں رکا" 
اور نہ اتماع کے خلاف با تک نے سے الن میں ٹو فک پٹ گئے۔ اب 
زرے صن ! اورتجی کے طا یه اے غرا تما ی سے ڈرتۓ وا لے بندو! ا 
مقام یں ذرا بر چاؤ“ اور گی اور مھ سے قو ب کو رکرو کک کیا تمارے 
ن یکر لی الد علیہ یل مکا اسان پ رم کے سا چڑھ جانا در بل حم 
کے سراتھھ اتز ا ایا عقید ہیں جس بر صدر اول کا ابما تھا 
(ازلہ اوہا مض )٥٠٠١‏ 
اپ یہاںل اک عال پا تا ےک جماععت صا شی الج م کا ایا غ کک وزشن 
کا ہوتا کے سو ال کا جواب خودمرزا صاحب تی سےسن مھجئ- ۱ 
)١(‏ او سا ۔گر۱م کا اما جت ہے جدیگی فلالت بن بت 
(ت یا القلوب سی ے) 
)٢(‏ فان المرادمن الاجماع الصحابڈ (تمام ای ص۵) 
ابھاغ ےل سح کرام کا ایا تی مراد ے۔ 
(۳) بیمسلم امر ہے ۔کہ ایک صا کی دائۓ شرگی جج ت نیس ہو تق شرگیا جت 
صرف اجار “حایس (ع١میم‏ ران اص رجح تمل ۲۳۰ (الیاذ پایش) 
ہا صاح بک ا نت رمیات سے برمعلوم ہوا ےک ساب کرام کا اما تجت شرنا 
ہے کیوککہ ان کا اہماع بھی بھ کرای پنہیں ہوسکت لہتہ رائۓ صمالی مج تن 
مملن سے کوکی صاح بکبہد ےک اگر ھا ۔کرام کا اپنی تحقیقات اورمعلوما کی 
بنا بر آفحضرت صلی ال علیہ ولم کے محراجع جسمانی پر اما ہو چکا تھا۔ لین اگ کی وقت 
سن سکی جدیزححقیقات اور مۓ فکنے کے زور می سآ کر اس کے خلاف ابمارع ہو جاے تو کیا 
خرالی ہے؟ اور ایا کیو ںنجیں ہوستا؟ لیک نکیا کیا جا ۓےکہخودھ زا صاحب تی ا لک بھی کہ 
ند یکر گے ہیں چناتمر وہ کک میں جچونضی یع دسا کرام کےکی ملہ می اجار کا وی 
کمرے و کراب نے رحضتر الرقیص٣٢)‏ 
ا بک قکوکیا معیبت پٹڑکی ےک رق رآ نکرمم حدبیث شریف اور اجمارع صحاکرا کی 


86 
خلاف ورز یکرتے ہو ےک راب ۓ اورسلف سے زرووا ی رین جوسلف کے لے بطور 
ولل کے تے۔ قد یصدق الککذوب کے تاعدہ کے پٹ نظ رمرڑا صاح کا ہے ارشاد پالنل با 
اور ےک حا ہکرام کے بحد اماع کا دوگ کر نے وا لک اب ہے۔ اکا مططلب الس کے 
ایر اورکیا ہوسکتا ےک جس ملہ برق رآ نکر کی نصوس قطعہہ موجود ہوں اور موات عرییں 
بھی موجود ہوں اور طف ہہ ہ ےک اس پرصحاب کراع کا اناقی اور اجماع بھی مقائم ہو چکا ہو 
اب اس کے خلا فکوئی اورمتنوازیی اودتقماوم مقیرہ او رنظریی ہا مکرناکونسا یمان سے اور ال 
یی فوز وفلاح ک یکڑی صورت مفمرہوحتی ہے کن سے اس نظریہ کے بعد وہ اس تہ پہ 
جنچیں۔کغ:۔ فا شوغ اب بپھوشرکیں معلوم ہوئی ے۔ 
ھم نے محراج جسمانی کے اشبات پر جو دلال حد یہ ناظ رین کئے ا نکی موجودگی یل 
تی اور ول لکی ضرور موی تیں ہوئی۔ ہم جات ہی ںک مل کا ہر پپبلد وائج سے وائج ت 
ہو جاے اس لئ چند احادیث ٹپ یکرن قرین قباس معلوم ہوتا کے ا حظہفرما ہے :- 
() 1 تحضرتملی ال علیہ وم ارشادفرماتے ہی ںکہ یس ملیم میں تھا کہ 
محرارجع جسمالی کا واقع ہک نکرمشرکشن ہرطرف سے امن ڈ؟ ے۔ اور اتہوں 
نے بچھ سے بیت المقدیں کی پچ نشاتیاں اور علاتیں بیس تھے وہ 
نثانیاں معلوم دتھیں' جن اس وقت اق پ انی لاق ہوئ کہ زندگی ھر 
ای پ انی لان نہ ہوئی تی اس مم تی نے اہن نا ففل و 
گرم ے ببیت لی ںک نقنشہ میرے سائے می کر دی" الف ھھ سے 
جوعلامت پا ھت جات یں دک ےکر بتلاجا چاتا۔ 
(ہناری اص ۸م دس لم ١ص‏ ۹۷ کچ اوگرا۔,۱ضص۱١١٠)‏ 
اس ردایت سے بھی معلوم ہواکہمش کی نکوبھی ىہ بات ذ جن نشی نکراک گئ یھ کہ 
2 کو حالت بیدارگی یں معرار جکرائ یگئی سے اود اس برتج بکرتے ہویۓ مین نے 
عوالا تکی بو چھاڑ رو عکر دی اگر بی معالمہ خواب پا کش ف کا ہوا نو مش کی نکو امتمان لی ےکی 
ضرورت ب یسوی نہ ہوی' بللہ جو لن سنا تھا اس پرصادکرتۓ اود ا یکوخیم تبجھ لیے ۔ 


87 

(۳) ممزے اتد" فرای ہی س مرج رات آفضرت صلی اللہ علیہ ویلم ببیت 
یں جاکر وا ئل تشریف لائے۔ ایا بج آپ نے وہ واقعہلوگوں سے جیان فرمایا٘تل ے 
بت سے لوگ جآ خحضررت ملی الف علیہ یلم پہائھان لاکر ہرطرحم کا تقمد کر کے ےمم 
ہو گے پچ رکغار ابو کے پاس گے اور سنہ گ ےکیا ا ب بھی آپ اپے رخقی لین جتاب ‏ ی 
بر صلی اللہ علیہ ویک مکی تد یکرو تھے بے و و کے ہی ںک ہآ رات وہ بیت 
یں جاکر وا لپ کی 7 مۓ ہیں حضرت ایور ن ےکہا کیا دنچ ححخرت' نے ال فرمایا کے 
وہ کے گے ہاں' ححضرت اپوبر نے فر مایا تو میں ا سکو ماہتا ہوں' لوکوں ن ےکہا اے ابو جک کیا تم 
ا ںکی تیر لق کرت ہوکہ دہ ایک می رات می بیت المقدیس وش رو کک گے او رگج ے 
پیل چھر دا ں بھی 1 جئے ۔حفرت ابویک ن کہا ہاں! یں و بیت ایل سے ڈور پاق کا 
ضرق وں 2 و دشا مآ سا نکی خمرسی بیان فرماتے یں ا نکو ش6 اور جات 
ہوں“ خرت ا کیہ رشی انل کہا فرمانی ہیں کہ ای وجہ سے حضرت ابوبکر رشی ائل کا نام دی 
رھ اگیا۔) متررل ۳٣‏ ص۷٠‏ تال اک والن یئ )اس رواےت سے ایک لی بات معلوم 
ہوئی کمشرکین کے زج نشین بہ یکرایا گیا تھا کرت حالت بیدارکی شش بیت المقدل جا 
کر وائ یتریف لاۓ ہیں جج نکی قصت میں ایمان نہ تھا۔ دوہ یڑ نے کے بح بھی شلوک و 
شبات میں بنا ہوکر مرن ہو گگئ_ اور نضرت اب ومک رو کو درگ یکا نتب عطا ہوا“ اگر ہے محاللہ 
خوا ب کا ہوجا و لوگوں کے مھ ہو ےک یکوئی وب تگی؟ اورثوا پکا معالل کون سا بڑا کارنامہ 
تھا کر حضرت ا وت درگ نکہلا ئے؟ 

اور ڈوسرکی ىہ بات مات ہوئیٴ ک رحضرت ماتڑن بھی معراح جما ی کی انل ئتیں 
ورنہ ا سيکی نع فرما دعقیں' کہ بےکفار نے ؟بجنائن باندھا سے وہ ایک خواب تھا حضرت جا کڈ 
کی ال روایت مم پپلے عر ‏ کر بے ٴإں اور دوری روایت ے ے اور ے دراوں انۓ مفموم 
می پالنل واج یں۔ 

)١(‏ حخرت امام ال سے ددایت ےک جناب رسول انڈرص٥لی‏ الد علیہ لم نے 
واقہ ممرارج جب ا کو سنایا۔ لومعم ن ےکہاکہ ا بک پکا محاملہھیک تھا سوائۓ ال 
بات کے جوا بکہر ہے ہیں مل گواہی دبا ہو ںک تم جھو لے ہو۔ (العیاذ پائٹ) ہم نے اگر 
بی زی سےبھی اون ںکو چلامیں یں دڈہیتوں کے بعد بیت امیس سے الچ کہ سیت 


88 
ہیں۔ اورخم کچے ہوکہ بیس اسیک رات مس چ اکر وائچل آٗ گیا لات اور عڑ یکم ےگ ین 
ہرگز نہ مانو ںگا_ ۱ 

(خخی ری کروی ,۳۴ 2 الاری ےگ ۵۱ا الہدے اوالتہا ي٣‏ ا١"‏ 

انح اکب ری ضس )١۸‏ 

ال روامت ےکبھی معلوم ہوا ک ملعم وی رہکو مج ی مھا یا گیا تھا ۔ک رآ پکو حالت 
بیداری می معتراج کرائ یگئی ہے اود یہ نہ ا سک یبن مج نہیں 1 تھی اس لے انہوں نے 
آپ کو معاذ ال مچھوٹا جج یکا اوڑیم رکھاکم پر زور الفاظہ یش مخالش تبھ یکی۔ 

(۴) حضرت عبدائلد بن عیائں' فرماتے ہی ںکہ جب تحضر صلی اللہ علیہ دم 
بت القدیں دبرہ ے وانوں ریف لاۓ 9۔ ام ا یاکوفرمانے گے بے لین ہوا کہ ا 
واقیہ ٹیش لوک عیبر یی ضرورکی می بک سک ےن خپال ےکمکین ہوکر جیٹہ مع * اویل ے 
جب ی واققہ سنا آپ کے پا آ یا اور سے لگا کیا آپ رات جبیت ا مقیس می جاک رک 
پل رہم لوکوں یں وائہں آ گے آپ نے فر مایا یئ ایدجچہل نے لوگو ںکو لیا اور ضر صلی 
ال علیہ ولم سے نے لگا۔ ذرا ا نک بھی دہ واقعہ سنا دی جو جج کو سنا رہے تھے ۔آپ نے وہ 
واقعہ نایا لوگوں ن ےکہا کیا بیت امقدل ےآ پک مراد ایلیا ہے؟ رمیا ال ىہ سے بی لوکوں 
کی ےکیغیت ہ گنی کہکوکی تامیاں بجانے لگا اورکی ےت سے مر بر پاتج رک لیا 

تیر وی نکش روص ۱۲۶۸ مند اج رج تص فص اننس اکب رص ۱٦۶‏ بسن ىچ( 

ال روام تک ای اف لفظ نا رکا رک کہہدہا س ےک ہہ واق ہنم حفضصریی اور پیراری کا 
ھا اک رآ فحضرت صلی الل علیہ وسلم اس واقعہ کے بیا نکرنے پر مامود نہ ہ ےت اید آپ 
فا رکی گر یب کے ڈر سے (معاؤ اللد) ال کو با نگھی نف ماتے اور اگر ہے واق توا ب کا ہو 
نو ابوگئل وظی رکوہ اکٹ ھاکرنے اور واق یی نک رتج بکر نے المیاں بجان ‏ ےکی ضرورت بی میں 
نآ نی ۔کیوکہخواب کے بارے مل اتا ہطگامہ بر اکن کاکوئی مطلب بی نیس ہوسکت۔“ 

(۵) حخرت شداد بن اولں سے ددایت ےکک ہمہ سے ایک قافلہ فرش 
تجارت ما مک وکیا تھا اور وائں ٢‏ 7 تھا کہ حضرت صلی اللہ علیہ وم نے بای رسوار ہوکر 
جاتے وقت ا نکوسلا مکیا۔ انہوں نے آ رت صلی اللد علیہ ڈس مکی آواز پپیان ٹا اور جب 
وا کہ7 ۓ ت2 اس با تک یگواد بھی وئی۔ ٹیہ فحضرت صلی اللد علیہ وللم نے کرک مہ واٹیں 


89 
ہوک اس تاغل کی ایک ایک علام بھی لوگو ںنکو بتلا یتھی اور جب تال ہآ یا ق انہوں نے ال کی 
جا بھی کیتھی سی حدیث میں ہے نا ایل فرامزش ممون بھی ہے۔ فاتال ایوکر” فقال یا 
رسول الله این کنت اللیلة قد العمتک فی مکا نک ( فا مس ے۸ تیر ای نکیی ر۵ 
خصا البرک اس ۱۵۸)ک جع کے وقت رت ابوبگر دشی الد عنہ میرے پا سآ اور 
کن لک رت آ تپ دا تکہاں تھے ٹس نے آ پکوآپ کے مان رحاش شبھ کیا۔ 

اس کے بعد نے معراج کا مل داقہ بیان فر مایا امام تعلی فباتے ہیں کہ 
هٰذا اسناد صحیح کہا لکی سندج ے۔ 

اں عریۓ ےمعلوم ہوا ک قافلہ دالو ںکو پپچا نک رآ پکا سا مکتا' اور ا ن کا آپ 
کی وا کو پھاننا اور رمک ۔عرمہ والچں ہوک راف کی علائیں بقلانا اور ا ن کا ائل مہ سے ا کی 
شہادت دیتا۔ نی زعطرت ااوجکرصد لی ریش الل عنہ کا رات کے دق ت آ پکو مکان بر اش 
کر او رآ پ کا وہال موجود تہ ربنا' ان سے ایک ایک بات ا ںکو متعی نکر ری 0 
واقعرخواب پ کش ف کا ہرگ نہ تھا لگ ریم حنصربی کے ساتھھ حالت بیدارکی کا تھا- 

خلاص کلام ىہ ےک ہق رآ نکر مکی ٹن لکردہ آیات اور برکورۃ الصدر جع اور موا 
احادیث اور ابتارع صا .کرام اورسلف وخ فکا الفاقی اورخود مرزا صاح بک اف رات ال بات 
پشاہر مل ہیں ر۲ فضرت صلی الل علیہ دی مکی محراج کا وات ری روعائیٰ زورنشی آمرن تھا 
بل حاات بیداری میں تم مارک کا ایک ٹین اور رشن واق تھا اور بجی مسلمائوں کا عقیرہ ے۔ 
جس پرضلآ بعرل اکابر تام ملمان شفق رسے ہیں اورکوئی فرسودہ نیا اور برانا فسفہ ان کے 
زی سے ا سکونئیں کال سکا لیان ایک یق تکوتلیممرنے کے بعد مرزا غلام احح آ7 مال ی 
نے اپنی عاوت کے مطابقی مح راع جسمانی پرکئی اعتراضا بھی سے ہیں (ضتی لھا ازلیٗ اوہام: 
ص۹۳۲) پر بش کرتے ہوۓ کھت ہیں:- محراع کی عدیڈال یسں جخت تتارش ہے۔ گیا 
عدبیثٹ ٹل ےک جچھ تکوکھو لکر جج مل ؟ ے ۔ اور میرے من نکوکھو' چم ایک سون کا طشت 
لایا گیا یٹس میں ححکمت اور ایمان را ہوا تھا سو وہ مہرے نے میس ڈالا گیا" پچھرعیرا مات پک کر 
سا نکی طرف ہے جایا گیا گر اس و ین سکیا کہ وو طشت طالیْ جھ جن بیدارگی ٹل ما 
تھا کیا ہوا اور کے حوال ہکیا گیا۔ ۳ 





90 

اور صدےث ٹ لآیا ےشیش یت اللر کے پاسل قواب اور بیداری کے ورمیان 
می تھا۔ اور ین فم مت کے اورایک چاو رتھی لایا گیا 'اورسی می برا قکاکوئی وک نہیں او ری 
شی ےک می تیم مس تھایاجر :مس لیا ہوا تھا اورکسی میس ےک بعشت کے پیل ہے واقے ہوا 
اور ار جراقی کے ]سان پر سے اور خر می ںآ ککھ لگئی اور ان پاییچ واقبات مم ککھا ہے کہ 
مرا کے وت چیہ پچاس نزماز یی مقر ہویں اور بد رق اچ مو رکرائی 32.- اور ڑنیپ 
رڑّےت اخیا ٹل بڑااخلاف ے۔“ 

ھم نے مزا صاحب کے ال تھام اخترا اضا ٹک جواب]یزخمون مںتنحیل ے 
ات دے دا ے اور ىہ ابر کر ویا ےک فضرت صلھمکوجسمانی طور پر محراح فعییب ہوا 
جس ےکوئی صاح بشھم واوراک مسلمان اڈگا رن سکرککیا۔ خووعرزا صاحب اپ کاب شی ای 
یق ک لی مکر چے ہیں لین مراقی ہون ےکی وجہ سے بعد مش دہ اب کک ےکوبھی چاٹ گے 
اور مرج انی کے سللے میں ای عقائ کا اظمارکرنے گے جومش کین کہ کے عمقائد تھے ات 
کے اعتراضا تبھی ای ہی جھے۔ جیے سشرکی نکلہ کے تھے .لگن جم نے مرا آ ٹچماٹی کے ان 
تاد اور اختزاضا تکا جواب تما یت مت طریقہ پر احادیث وخ رآ نکی آیات مقدسہ سے 
درے دیا ے۔ جح کیعوام شی مرذا؟ مائی کیت٠رییوں‏ سےکوئی مل ھی پیداتہ ہو- 


وچر ہس 75 ر2 
رت سر عطاءالل شا کتاری کیا 

ان خلام مھ مان لوجڑ خور مرجوم نے بیا نکیاکہ یٹس نے نہ شاہ یکو پل بھی دیکھا ھا اور شہ 
میس ا نکا خاضصس مض تھا۔ مرا سیا سی سل کف بھی ان سے جدا تھا الیک دفعہ عشاء کے وقت ری رروازہ 
(لاہور) کے پا ہر ےگزرا نو شاہی نقریر فیا رہے تے میں بڑوے ضردورییکام سے جا رپا تھا۔ اس 
ضیال سے رک گیاکہ نس مقر رکی اتی رت ہے اسے پاچ منٹ من لوں۔ میری عادت ےک ٹں 
طل۔ میں ایک تمہ ہی خمیں کتا۔ خوداہنۓ جلے میں بھ یکھومتا پھر رہتا ہوں ٹس پاچ منٹ تک 
اہ بت یکی مقر سنتا رہا۔ سوچا تھوڑی وم اور من موں ٴا ن کا رتھ اک ہکھڑ ےکھڑے میٹ ھگیا۔ ٹیش 
بی تح کگمیا لی گیا اور کیٹ سکیٹ ساری رات تقریر سطتا ربا اور ا لیے جوا عم ہو ےک اپناکام 
بھی بھو لگہا۔ بیمااں ت٠‏ فک ک کی اذان بمند ہوئی شاہ بی نے نقربر کے فا ےکا اعلا نکیا نو کے 
نال آیاکہ اوہوساری رات شتم ہہوگی ىہ شخص مقربر خی ںکررہ تھا لہ جاددکرر| تھا۔ 


91 


می ۰ 
مرزاٹی اپ ےکاسلمان سکیچے ہیں پچ کیو ںکا خر ہیں ؟ 
موا نا سیدم رجضضانسن چان پور 

اگ کہا جات ۓکہ ببودوفصا ری ٹس اگر چہ اسلام کے بہت علقائد اور شمحائر پا ئے 
جاتے ہیں او رآ ریرسماجع سناتن دھرم وظبرہ بملہ راہ بھی اسلائی اجکام سے بالکلیہ بیگانہ 
تھیں۔ ہم تی ہا تم دونوں یس شترک ہیں گر چوئکہ وہ خوداہ ےکوی سلرا نہیں کیچ بل عتائگد 
اسلام کے پل ہونے کے قائل ہی ںاہناوہمسلرا نیس بخلاف رز اصاحب اورمرزائوں کے 
کہ دو اسلا مکی تھا نیت کے قائل خوداں کے اتجاع کے مگ لوگو ںکوا سکی طرف دکوت دریئۓے 
ہیں لندن اور بن میس بجر موا میں ج۶ یکل کےکسی مولوئی سے تما آ ُ سو 
سے ترک گی پاوجود ال خلافت اور لطعت کے یکر کے نہ اکھوں 0 2 لیے اڑی 
مشمتریاں اور اشماععت اسلام کے لیے اےے اخبار اور اشتمارات ادگ سے جو مر زا صاحب اور 
رزائیوں ن ےکر کے وکھاا دیا۔ نے برمرزاصاحب اورمرزاگی کیسےکافراورمرظ ہو سک ہؤں اوران 
کا تاس ودک دنصارگی 7 رماع نات دعم وغیرہ روگ رج ہوگا؟ 
ا ںکا جواب ال ف بی ہس ےکمرزاصاحب اورھرزائی گر جوارے سام دکواۓ اسلا مکرتے 
ہیں تو مانقین اب رسول الے مکی الل علے وم کے ساتے مدگی اسلام تھے انہویں نے گر 
دن اور بن شس بنائی اذ انہوں نے ود بین یہی سو رضرار نوا یھی _ ا نکی مساچ دکا 
اکر پنا یح أفضل چندگریزئی اودد لی اخپاروں میں کر ے تو یضرا رکا زکرخووغداے 
ق رآ ن ریف یں فر مایا سے نیٹ ےک مل کاب ویپ مدعیان خبوت سب اسلام بی کا دگوئی 
کرت تھے او رن اسلا جج ینف نے اک یک یکہ ملک کے ملک ان کے رہب می داشل ہو 
یئ اور بن ںکتک سلاض ین رے کی اکوئی مسلمان یا خودمرزاٹی ان لوگو ںکومسلرا نکہہ سکتے 
ہیں؟ اگرنئیس تو چھرمرزائو ںکا گواۓ اسلام ان کے ل ےکی مفید ہو سک ہے۔ اگ مدگ یکا کوئی 
می قال قبول ہوتا نوگواہ اورشاہدکی ضرورت بی تہ لی اود ہرمدگ یناب بی ہو اکرتا۔ 





7 ال مسحی رگ نام ےم سکومناففتوں نے بتایا تھا جو بطا ہر تعن دسمگرمرمسلران ےنم راندروٹی 
لور پ الا مکو ہرک مکی معخرت پان کے در بے جے ہی مرزائیوں ک تح مو نکی ڈاک سے تن م آیا 
کہاسلا مک یل کی صورت یس دہ جاور یکا مکرتے ہیں٣‏ ۔ 


92 


کچ ہوگور او راد یا یت 
تق بر حنقرت علاع, نال گور صاحب اس 

الحمد للە وألام علی عبادہ الدین اصطفیٰ خصوصاً علیٰ سید 

الرسل و خاتم الانبیاء وعلیٰ الە الا تقیاء واصحابه الاصفیاء 

اما بعد فاعوذ بالله من الشیطن الرجیم بسم الله الرحمٰن 

الرحیم. وانە لعلم للساعة فلا تمترن بھا قال النبی صلی الله عليه 

وسلم والدی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم اہن مریم حکماً 

عدلاً فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الحرب رواہ 

البخاری (سع بفاری جلر اش ۳۹۰) 

صاحب صدرگرائ تر واجپ ا0اطرا ام علیائۓے کرام پذ رگا نقوم 

این عم :...... دوستو اور چھا تا 

کان ہالوں سے چیا کہ ابی صدجترم ےآپ کے سا ۓ ءیا نکیا ہے جج 
پاککتا نآ ہوتا ا دورے اس ف رشقمر سے ر ےک اس علاقہ ٹیس ؟ نے کا موتم مل 
سکا۔ مد لہ اس وفعہ یہاں قیا مھ طول ہوا اور یہ موہ اس سال مس رآ یا ہے اور انفاقی ب کہ 
اس سال پاکتتان می ددسرئی حاضریی ہے۔ ال تفاٹی اس حاضری یکو یہاں سب ددستوں کےل 
ٹن اور او رق کی بات سنئے سنا ےکا موجب فرماۓ۔ ٍ 

پلہ پل جھے الین جان ےکا موں مات رق ومخر ب کا تقائل کیک نظ ران ےآ یا 
سو چا ہا کمشرتی عما لک میں اسلام یں ا سکثزت تحداد اورمظمت شان سے پچھیلا ہوا ہے 
مشرق وی اورمشرق تی میں بھی مسلانو ںکی تعداد ببت وٹ ہے اود ا نگ اکثریت الب 
٢‏ پرچکہ مان تی ملمان نظ رک تے ہیں من یا ال سے ورپ کے البانوں می میسماحیت کے 

لھپدرپ یس اککثریت عییدائو ں کا سے بپتھتعداد ہودیہ ںکی ہے اورپ مسلمانو کی 
لن ان دوقومو ںکی تقداد دک ےکر پارہا ول می خیا لگ رتا ہےکہ یا اللہ ا نک بیکش تکب 


93 


ٹون گی؟ اور بودونصارکی الع دو علتں کا خماخمہ ہوگا؟ تیرا ىہ دین برق سے بےکب الع مکتول 
پرغخال بآ گا ادرا نکی سیاسی شوکت اور ا ن کا وجووٹ یک بش ہوں گے؟ 

اے اللد! نبرا وعدہ ہمارے چنٹہر کے سماتھ بی تھاک ہآ 54 کے وی نعکوسب دّؤں ھ 
غال بکر ےگا۔ ہمارے بے مق رصداقت در ےکر کیج گے _ لیظھرہ علی الدین کلە و کفی 
بالله شھیدا کا ان سے وعدہ تھا ۔آ پ اس لے بییچے گے ہی ںکہ دین الا مکو تام دینوں پہ 
ا بک دیں۔ دنا تق دین ہیں ان پر اس دی نکو الب آنا ےمم و استدلال کا غاب 
تور کے ساس بی ہ وکیا نان سیاسی شوکت کے لیاظ اورسگی استکامم کے بیاطظ سے بھی تو می د بین 
تام علو ںک وکا ہوا سپ کے او پر گا می وجہ التمار چڑحت سور حع کی طرح ثایاں ہگا۔ ہاں 
سو اس وت ہہ ہ ےک یہ وق تک بآ گا؟ اورکب اسلامکو عالی شوکت عاصل موگی؟ ٠‏ 

بے می ائی 7 آبادی ںکی اکر یت می لگزرنا ہوت' انان کے الواوں ان کے پارلیمنف 
لی در اگی بڑکی بڑکی باڈیگوں کے سان سےگزرن ہہوتا تو تی مس می خیال ہار ارآ ک یاللہ 
ا مر ےط ل کا خاتقم ہکب ہوگا؟ او رکب وہ دش تآ گا کہ چو رکی دنا اسلام کے ور سے جا 
اٹھگی۔ ‏ 

گن ور سے پڑھتا چاتا و نر اچارہ داروں یی 
پہلو ےےگڑزل جاتی ش٠یں‏ مفرور تظار ں کاروں کی 

اہ باد وی یں خیال پیدرا ہواکہ ور راہب وطل بر لت اسلام ےکا قل کب ہوگا؟ 
الله نے خرن می ری طرف رہھ ]کر نکی نی عطا فرالی اور من ےکا عل م ل گیا کہ نے دو 
وی یبودو فارگ جس نام پہگراہ ہوٗیں ہیں اکی نام اورعنوان سے یہ ہدایت پان٠ی‏ ںگیا۔ 
آپ سویں زی ام رادرس عتوان ے راہ راست سے بھگھیں ۔ جار شماپر ےک سے 
دوفوں قو می گگراہ ہوئی ہیں حخرت مم کے نام پر یہودی صقر ت می کی نشی میس مارے ے 
اور انہوں نے پکی دالدہ پہ بڈڑے بڑے پان بامھ حھ عیسائی فلطعقیرت اور فرب حبت میں 
ارے گے او رآ پکو را کا بنا نہ گے_ 

تارں ای ہ ےک دوفوں قوٹ سمگراہ ہوٗیں ضر مہ کے نام پر نود اسی .۰ سے 
امہ ں نے فا ڈ نیو ںکو لہ دی و ال دکومظور ہوا ک می کو آسانوں پر زعدہ رے۔آ یی 
قیامت سے ب1 تی و زی کے نام پہ یر دلو ں توم گگراہ یں ان - کے سا سم ا 


94 

کی صدائت کے سا تج جلو گر ہوں_ ہے دولوں آوٹل ال رشت ان پ امان انی اود اس طرع 
ان ووٹوں تو صوں کا امہ ہوا اور دتیا ٹس ایک می دین اورایک می عمت رہ چاۓ یہودہ تصارگٰ 
ووتوں ملران ہو چا تیں_ 

حعقر یی قیامت سے پیل میں گے بہوروں ےکی گے کہ بے اوریری 
والدہ پ عیب لانے والو اعترا کرنے والو! یس خدا کا نثان ہوکر پگ رآیا ہوں' سمارے 
یبودی اس بپرملمان ہو جائیں گے عیسائیو ںکوکیں مےکرتم جھے خدا کک با کے تے نھیں! 
یں خخدانندہ ہوں اور ان تمام مزا تک ان کے پاوجود غدا کا بندہ ہوں. خدا کا بنا ہیں 
رت شی کے نے پر بیودیوں اور عیساتیوں ددتو ںکا ماخ ہوگا پچھر ہی سماری میں ایک ہو 
این کی اور وو لت اسلام ہ گی۔ 

ای وقت تک حخلف نول کا وجود سے ج بک ک میک 1 کمیں جاتے۔ اختلاف مل 
صرف ای وق ت تک ر ےگا لمت خدادندکی شی نہ نے ہو چکا ےک ایک وفقت سارک دنا کے 
مراہب ایک ہو جائیں گے سماری میں ایک ہو جامی گی اور ىر قامت ے لے ایک وور ہو 
گ۴ ۔تفورفرماتے ہیں۔ بھلک الله فی زمانه الملل کلھا الاملة الاسلام _ ال تما ی ے 
تق رن محید مل آریا:۔ 

وان من اھل الکتاب الالیؤمنن بە قبل موتھ. (پ ٦‏ الفماء غٗ )٢٢‏ 

”ال یساب میں ےکوئی طہ ہ وگ گرم کہ ایمان نےکر نے گا عجیلی کی 

دفات سے پ ٠‏ 

حر ت شیب یکی وفات ۔ے پیل مار میں اپے اۓ ولف ے ہٹ ب اکر ایک 
لا 14ہ جائمی ں گی ادر جب سب ایگ لان پآ جاتیں گے دنا ٹس پھر ایک (ات) ہوگی 
جس کابام ہوگا علت اسلائی قرآ نکرمم نے اسے بیا نکیا اور احادبیث نے اس ب گوای دوگ 
عدغۓاں شش خر گی 1رت یھی حفوراکرام پچ نے فرمایا:۔ 

لا یق علیٰ ظھر الارض بیت مدر ولاوبرالا ادخله الله کلمة الاسلام. 

رن کی اور پا گر ایا ہیں رد ےگا گر بی ہک اسلا مکا الہ اس ہل ضرور 

ال ہوگا۔ ری دنیا کی دسموں می صجراؤوں اور میرانوں می لگھروں 

اد رآبادکوں شمل ۔تچروں اور دیپانول ٹل پ رجلہ ہرچچے ج ےگھ رم 


95 


تو اکلہ داقل ہوگا_“ 
من اس کے انداز حخلف بہوں کے بعز عحزیز کو لکوعزت دا ہوا_ اور ذل 
ذلیل کچ ںکو زئجل رتا ہوا۔ ہہ دہ وقت گا جب قام تقو مو ںکو اپ دروازے اسلام کے 
اسلام ایک ای ماف رکشل مم ںآیا تھا لوگوں نے اپے ددوازے بن کر لے تھے 
جن ایک وقت ایا آ ۓ گا ہی کو اپے دددازے ال کے سان کھو لے پپڑ یں کے اور اسلام 
ہرکھ ریش داقل ہوگ ..... سپچھاانع القد کے د نے ال حدیٹ مس تضور اکرم چک نے ارشاد فرمیا 
کہ اشجا مکار دتیا ٹس ایک ہی دن رہ جاۓ گا اور وہ وشت تب ہوگا جب حطر شی خزول 
ف انی ےھ 
قل کے صحرا سے جس نے روا کی سلططد کو الٹ دیا تھا 
سنا سے ہے مل نے فدہیوں سے دہ شر پھر بوشیار ہو گا 
اسلام مھراۓ عرب سے الا اود روما جھ دنیا کی سب سے بڑی سلطن تھی اے ز رو 
زبدکر دیا قیامت رے پیل یک دفعہ الا مکی صداق تکا شی رھ راپ یکچھارے لن لےگا۔ 
تمہادیی بججزےب پ نتر سے آپ می خوش یکر ےی 
جھ شماغ اذک پ آشیانہ بن گا نا پائدار ہو گا 
ال وت مور پی تجذعب دنا پر پچھائی ہولی ہے۔ اس وقت اس تیب کے اپ 
فرزندہی اے اپ یگود سے انال بپھیگیں گے جب وہ وش تآ گا تمہاری تہ یب ای تر سے 
آپ بی خودئش یکر ےی ادد جھآشیانے اس شا نزک پہ بے ہو ہیں سب کے سب 


7 باد رکھے! وقت 1ے دالا ے اور یق آےۓ والا ے اور وو وق تکون سا ہوگا؟ 
عفر تگھکی کے بازل ہونے کے بح دکا۔ 

اب شیل چچندسوالوں کے جوابا ت عمض کرت ہوں:ے ‏ 

مار ال تا یٰ اور ول اکر کی فر کی ہوئی پالؤں پ4 امان ہے اود م اید کے رسول 
کی تقیدبیکرے ہہ ہہراں با کو ان میں اللہ اور ان ےل نے اود جعاری 
کچھ ٹسل بھی آ ے لو بھی ماتے ہیں امان ٹس حرط پذ نہیں؟ کہ ہمار یھ جس ؟ نے الد 


96 
تواٹی نے دی نج یکو ولوں ٹس اجارنے کے لئ جیب وخریب ممثایا وسں لیحضش لوکوں 0 
سوا لکیا ےک عفر شی ی1 سافوں پر زنرہ تل اور ہزار پاسال ے زئرہ ہل دہ دہال رہ ردرے 
ہیں ترکھاتے پیے کیا ہوں گے؟ کھانے پنے کے اغیر بی حیارنہ ناسوئی کے تام رہی ہگ ؟ 
زمدگی دنا کی پیش تا مکہیں رتقی حطرت می اگر زمرہ ہیں آسنوں پرکھات کیا ہیں؟ سوال 
تج گیا نیس ؟.... اں ‏ یبجھھ گے - 


اللہ تھاٹی نے ا ںکی جیب علمت بیان فرمائی ہے ۔آآپ نے علاء سے اصحا بکیف 
کا قصہ پارپاسنا ہوگا۔ 

گی ضا لگن سے ذو نو نے ر ہے مر جب ا ٹھے کو وخی کے جیب ں سے ان 
کو پید نہ تھا کہ اتتا دورگز رگیا وہ ای کے کے ساتھ بازار یش سودا لیت گے دوکانوں کے لیے 
بل گے ت انسان بھانے نہ جاتے سک متعارف خ تھا۔ دنا ہی ب می جب دکان ےکھانا 
لین میے تو بلس نے کل یا ق مکہاں ےآ نے جو اود یہ پرانے ستہارے پا لکہاں سے 
ئے؟ بت قصہآپ نے سنا ےک گیں؟ 

اس قصہ ٹس لہ ادرعگمتوں کے ایک راز ى بھی تھا کہ دنا کو تتایا جا ۓےکہ اگر 
اما بی ہف جگئی سوسال سوئۓے مر سے ای رکھا ہے ۓ ..... لف کھاۓ بے ..... ایک یی دفیہ 
اھے ..... ج بکھانا لی گے؟ کیا ال وقت کک سالہا سال دہ بقیدکھاۓ چے زندہ رہے یا 
ن؟..... ای زع پر سو رہ یا ضہ؟..... جو خدا سا لھاسال کک اخ رکھانے ہفے کے ائپ 
آپ فکوزشن نرہ رکوس ےکی 9ث نر میٹ یکو خی کھاۓے جآ سالوں پر زم ہنی رکھ 


اوا بکپ فکی زندگی اس دنیا کی مادئی خوراک کے یخرس لہا سال قائم ری خدا کی 
ندرت سے یا مادئی خوراک پ؟ 

جواپ ہے ے...... غداکی ثدرت 7 خداکی ثذدرت ے تب جج ایا 7 ادا 
خورانل ےکییں جب انان زمن پ اد ا ثدرت کے لیر زیدہ رہ یئ و 1 سان 7 ادا 
لو کئیں وہاں کے اسیو ںکی نے خوراک ہی انل رکا ذکر سے وہاں ححخرت مکی کا جاد یر زنرہ رہنا 
کون ےج ب کا موجب ہے؟ مھ فو رکرو۔ 


97 
7 سانی لو قکی خذاتع ول ہے ایک عدیٹ مس ہے:۔ 
یجزیھم ما یجزئ اھل السیماء من التسہیح والنقدیس او کما قال النبی. 
ہپ با تکہ ج بآ پآ سان پہ ہیں ن کھاتے ے ہوں گے ہہ ایک مقالطہ اور 
ڈلوسلہ ہے- اصا بکب فکا وائے صاف 5ا را ےک اللد تھالی جو چڑے دی میانمل گش؟۲ 
ے۔ دہ چپ دیتا ےت کوئی اں ے ات کو رد کے دالا نکیل اور نہ دے ٹ کوئی ا ے زور 
ےکی سکا۔ 
کل کے جدیہ پڑ حے کک لوگ اور سائحنسدان کے ہی ںکہ جب ہم خلا (ہوا کے 
ا9ی یش چان اودفضا مٹش اود او پہ جانئیں فذ ایک ای اکر ہنا سے جےکھتے ہی ںکرہ تار زان 
یآ گ) بچھ رآ کے ایک حصفضا ۲۶ سے صےکرہ زہہری ( ٹنرک می ٹنرک ) کچ یں۔ 
کوئی زی رو اا نکرنو کو پا کرت ہوانٹیں چا سکتا۔ سن س کا طالبملم پا چتتا سے 
کہم عفرت نی کے لایر رھت وک و جا ! کیے جا سخ لا ا 
۱ گے رت یی عائل یں؟ 
اللرتاٹی نے ابی دنا انساپوں ےآ بای ںاھی اورحضرت؟ وش مک اولاد ے دنا 
کیا صف شرچھ یھ یکہ اللدتھالی نے ا لکا جواب پیل دے دیا تھا۔ 
ال تھا کی نے خر تآد مکو پیدا کیا آسافوں پرجنت مل دپال انہوں 
ے ورش تکا یل تھایا روہ دنیاٹش جییجے گج ی۰ 
۱ 1ا وں سے دنا کی طرف ا نکرو ںکو پا کر تے ہو ےآ نے با ت؟ پا ں آئے 
يِيا 1ے اگرعفرت آئ م گر نا رادرکرو عم یکو پارکرتے ہن او وھ سے ے جآ گت ۲ 
ھی بن مر کیا یس عبورکرتے ہوئئے بی سے اد کیں جا گت؟ 
پوائی! حطر ت آ وش بھی آئے تے پا کییں؟ او رکزو ںکو پا رر تے ہو ئۓے کے تھے یا 
نھیں؟ اگر وہہ سج ہیں !نکیا حضر تھی وپ سان کا بمنلدبیوں یں جا ست۔ق رآ نکریم 
نے بج فرمایا۔ 
ان مٹل عیسیٰ عندالله کمٹل آدم. پ٣‏ آ لگران ع٢٦)‏ 
”اگ رجا کا جانا بجھمیش نہ1 ۓ تو ححضر ت1 دش کا قصہ سا نے رکھ لین“ 
تب موس صفر تہ آ وم کا آن مق سیت اور ........ لحفری کی کا جان میق الد تا ی 


98 
کی مت گی اور فد رت د بے اوظر ا حا بآہ فکا تہ سنا دا ت|کہ جات متھفی سان ہو جائۓ 
ا1و کا ١ر‏ لا دیا جک بات جلد یق بتھ ٹل اڑے۔ 
برادراین اسلاع! ۱ 
حفرت معن یکا سان پ مانناکوئی امرصتجعدتہی ںکوئی سی چزٹٹیں جو چلئکن ہو پھر 
ادانی مہب کے لوک جونخر ت شیک کا آسان پر جانا نیش ماتنے وہ مغالطہ دہینے کے لے 
جیب وریپ )فی کرت ہیں ام مسلمالو ںکو یں مغال بی دے ہی ںک حر تی اوھ 
ہوں اور نائم این فی من یچ زین پر سے ہو نے ہس تضور سے مقام کے خلاف ےک 
ان کا روش مارک یئ ہواو ر حطر تی اور جلوو اأروز ہوں؟ 
کے ہیں بی بے ادلی ے۔ 
مرزا یٹ رالد ی نود نے !سی مغالطدآ رای کے مل ےکا تھا کہ ے 
غیرت کی جا سے می زشہ ہو ۲ں >پ 
من ہر زین پ :او جاں جا 
یس نے یں جا کہا تھا:۔ 
عزت گی جا سے کی اس مر زین پ اتریی 
عفن ے ہاں پا اہ جیاں بدا 
......أ ٤‏ کسیر.... الد اکبر...... خر تک جا غخیں...... رز تا جا ے ھرذائی ا 
2 کے تیب ور یب مفا لی لے دی ہیں۔ 
ٹل سے گگھے۔۔ 
مٹررول اور دریاہّل میں موی ادوپ ہدوت ہیں ا ا؟ 
ہرفرد جات ےک بکہلا اپ ہوتا ے۔ ہاں ہاں پل او ہوا ے اور موی سے چو 
ہیں۔آ تندہ بھی نہک ےک صیکی این مر“ اوپہ اور تم انان ینچے۔ اس سے مضو کی نین 
ہولی ے۔ (معاذ اش 


بے اس وت آ پکو ىہ جا ت کن او ر مال ےک ححقرت شی جن عریم کا 
ساٹوں پر ہون اورقرب قیامت مم لآ نا ىہ نعالات جدیدہ کے خلاف ےن علوم جدیدہ کے 


99 

اف او رق سمائضٹشس کے خلاف ہے ان لوگوں ے یں ی رون ہکیا ہو ہے قادیانو ںکی 
اس ےنس پیٹ یک صفرت جک کے بارے شس بی حقید ہک وہ زئہ ہیں آساٹوں پر اود کہ 
ووثرب قیامت جس تشریف انی گے اس عقیرہکومسرانوں کے ولوں ے اٹھا یا چاوے جب 
تقیدہ الا گیا تق حعضربتمصن یمکی سیٹ الی ہو جا ۓےگا۔ 

عدیث شریف می آیا ےک قیامت سے پیل مکی بن مری میں گے ہآ میں گے 
41 گے اور یہ عدشیں مات ور کو گئی ہیں ح دن کے مزدیک یر عدیٹ ٦‏ کا دلھ 
افقیارکرگی ے۔ 

ھرزاظلام اتاد ای نے سوال اٹھایا کہ اپچھا شی این مریم فو فوت ہو گے ۔ یکن سے 

جو حدیوں میں آیا ےکریمحصی جن مری 1 میں مآ میں کے و ا س کا مطل بکیا؟ پہلا سن 
ےکی اور میں گے؟ تی سک مطل بآ فرکیاے؟ 

مرزا صاحب نے گلرخود تی جواپ دیا:- 

اکا مطلب یک کو ننس ایی صفتوں کے ساتھ پا رگا جو بن مکنا کی 
تھیں_ مرزا لام ام ادیانی نے اپے لے میدان بنانے کے لے اپے لے سیٹ ال کرای 
چای اور ے سارا ثصہ نایا کر عفر تم آسالوں ریس گے وہ زند ٥ہیں‏ فوت ہو می کٹ 


اور جآ ے واڑا تھا_ وہ مل ہوں“ 

حعدیث میں حطرت صلی کی آ مد نی طور پر کور سے اذا اس آم رکا مصداتی ں 
ہوں۔ 

مرزا ظلام اج ققادراٹی نے اس مضزل کک پپینے کے کٹ یکروٹیس پرلیں؟ خودائرازہ 
۱ یی لے حضرت تا کی وذا ت کا تر پچھرنزول سی گ عدیٹو ںکی تد بی اور پھرخو ول کچ 
کا گی کٹ رسب پیا سے اپنی ال ر او رکا کر جس نے آ نا تھا دہ مل ہوں ں5 موکوو 
ہیں میں عئُٔ لک ہوں۔ 

میں ا ساس میں اس بن پر نی کرجا یچ ا س نف مجلس می ںحنقری با کر پی ہے 
۱ مین ایک بات ضرورکپو ںگا کک کےا نے کا نا نکیا سے؟ 
پہلا نان کہ اس کے آ نے برلڑاتیوں کا اہ ہوگا حضور اکرم نہ 


100 ۱ 

نے فر مایا کہ ج بجی ےگا لڑائیو ںکا اض ہوگا_““ 

یش پٹ ھھے کے بھائیوں دوستوں سے پ چا ہو ںک کیا نیا یس لڑائیاں شتم ہو گی 
ہیں؟ کیا حور سے فر مان مفع المر بکی ندب یل مج ںآ پچی؟ دنا کی سب سے بڑئی جنگ 
یے ہی کیم کت ہیں و مکپ ‏ ہوثیٴ؟..... جواب دو....؟ 

٣9‏ ۹۱۳اء یں لڑ یگئی اورمرزاغلام ات ادیاٹی کی مموت ۱۹۰۸ء میس ہول یھی اس 
کے بچرسال بعد یہ جنگ تروع ہوئی۔ پھر ۱۹۳۹ء میس دوسربی نک لڑ یگئی۔ ج سکو چیک تیم 
انی کے ہیں میں سوا لکرتا ہوں کہ دو جب گی ںک ب لڑ یکیں؟ مرزا لام ا اد یالی کے 
جانے کے بعد یا کسطے..... وونوں یں مرزا فلام اج قادیالی کچ پیرلڑ یکنئیں معلوم ہوا ہا 
وفت ک کک موگودکی سآ یا تھا۔ 

ج کے نے کرو جگوں ک ماتمیہ ہو جا ۓ گا اور دیا ان کا کہوارہ بین چھی وی 

ابچھا بھائی اگر مرزا فلام اتد کی موگود ہوتا فو جگوں کا ماتمہ ہو چنکا وت یا نہک کا 
ام ہو ںکوش کر سے ما گی لزان ے؟ 

یقت 2 ےک مزا لام اجھ رے پیل اتی لڑائیاں نی یں نایم مم خجے اور 
اڈ رشن بم تھ نہ اورکوئی ار زی لیکن اس کےا نے پر جولڑائیاں رو ہونیں وہ انل 
کی موعود کے خلاف ایک نی ننشہ بتاک موگو کی علاصت مہ ےکمہ اس کے نے ے لڑراتوں 
کا نماتمہ ہو جا گا۔گر ھرزا غلام اجہ کے نے سے بڑی بڑئی نڑائیو ں کا آغاز ہوا ب تو پالنگل 
اٹ ہوا...... کیا 2 موخورکی ری نی لگلا۔ 

مرزاغلام ادا اپ یک بف گولڑومہ میں خو ہکہتا ےت 

کیوں بھو لج ہو خم بح افحرب کی خ 
کیا ہہ نی بفاری میں در کہ و کمول کر 
لا یی ے سد یں مض 
یی کیج مجگوں سا کر رے مم الام 

لام ات خود کے لگا کہ اب میں آیا ہو!لٗ اب میہرے پیرجگیں ون گز ار 
جگیں ہرس ں جوا اورجگیں ہنی تو یا۔ 

خوومر زا لیت ےا سے 





101 
نی وم وقت ائن کا ہو گا ند گل ٢ک‏ 
بھولیں لیںل خشظ جر و نگ ؛ 

ہے وشت اک یکا وت سے پا بد اٹ یگا؟ حاضررین! مںآپ سے پ تا ہو مو بودہ 
وت میں ٹین الاقوائی طور پر دا کی بڑگی یں ہلپ م ککرا ےکو ہیں ا ضیں؟ اسرائل اور 
مص ری جگیں کتان او رہندوستا نکی جگیں ای جگییں چا تنا اور رشیا کی جگیوں... می سکہتا 
ہی ںک اتا وت بد اش کا جار الم ض شا دبھی نآ یا ہو عقنا ھرذا ظام ام دبا کےآنے 
کے بح دآ یا ے و کیا یی کی مود ہون ےکی عطامت ے؟ 

نیا کی دو بدبی جگیی کب لڑ یگکیں۹...۔کپو دو ھرزا لام ام قادیانیٰ کے بعد کر 
کیج موتود ہوتا تو لڑائیاں فم ہوتیں با چیں؟ معلوم ہواکہ ےپ موقونییس ا کا نام ایک دجال 
ہے اور وہ اي وگوے میں پو راکذا گت 

تضور اکرم پگ نے فرایا کہ ج بک ےگا و چے سانوں سےکھھیں گے۔ 
تلعب الصبیان بالحیات۔ جن ساپ ہیں کا یس کے نہیں؟ پچتا ہوں او رکا ہیں٠‏ 
مرزائیو ںکوکہ اپنے بیو ںکو پاتھوں میں ساب کچ ڑاکر میدران لا ت کہ دنا دی ےک موگو دآیا 
ہے یاگیں؟ 

ہار ےتور اق نکیا یہ پان نہ بتائ یش یمک ہک موقود کےآ نے پہ چچے سانوں 
ےکھیلیں غروعاب۲ ض عو ں1 
ْ اود ریف کی عدیٹ ےک ہگاتیں اور لے اکٹھے لیس کے اور شی راو ریکرکی ایک 
گھاٹ پالی یچں گے اور دیا و سکو یفن خر نہیں ہوگا ا نکی ای ہوا ےگ ی کہ سار 
ھی اورۂہ ب شم ہو جائمیں گے سواۓ اسلام کے مجن وہ وشت اس ن کا ہو گا کہ جن ک کا اور 
ف مایا دنا پری ا ن کا گپوارہ بن گی جنس طرع برع فلمت سے بر پڑی ہے۔ (ی لم اور 
ابوداؤ کی تفقہ اعادیث ہیں ) ہمارے اور مادیایوں کے درمیان اس پر انقاقی ےک ہک کے 
آ ےکا نان بی ےک دہ وقت اک یکا ہوگا جنگو ںکا نکی ۔مرزا قادیاٹی نے ىہ ج کیا ےک مس 
کُ ہوں و کیا اس کے وقت میں ہے علاشیں ری ہونتیں؟ عالا کو ویک ہوۓ جم مین 
٣رع‏ پرجبور ہیں کہ بک نسں! جب بک نہیں اورپ ہو کا ما سے نو بے دتال ے اور 
کذاب ے۔ 


102 
برادرالع اسلام! 


اد رکھو جس کچ نے ٤٢‏ ے؟ وہ جن می ہے (مریم کے بے نے ٢ن‏ ہے) ںا 
ا پی کے بے نےگیں۔ مر زاس کا بنا ہے؟ یت چا لی ٹ کا بیٹا تھا۔ ال سک دالدہ کا نام 
چا ی ی جے مر نیس حور اکرمم نے فرمایا کہ مریم کے بے نےآن سے اور مرزاکہتا سے 
کہ تما پل پا کے نے۔ 

کیا اترلال س ےکس تا م صعری ک ہو اور ماد ا لٰ لٰ ل‌ جاۓ۔حدیہٹث ٹش 2 
ہوک کا اورمراد ہو لام اج اد بای جب الفا کی مرادمں بدل جانمیں لفظظ مھ ہوں اورسنی بے 
ا سکو کے ہیں اویل مرزا لام امرگ یکہتا ہے ا دیل استعارہ او ربج کنا ہے ما وم لتشیہ۔ بہر 
عال تاد یل ےک لفظ یھ اور ہو اوری ہہ او دَْ 

جب قادیاخو نکوکما جانا ےک ہآ و کپ نے کے لام اج ادیالی کی ےآ گیا ککتے 
ہیک سے مرا دظلام اجھ سے جس طرع کے ہی کہ مولوکی صاحب بڑے بہادد می ںکوئی 
کہدےکہ برشیرہیں۔ اب شش کا لفظط ان کے لئ فیس بن تھا۔ وو تو جنگل کے ایک جا ور 
کے لے بح ہوا تھا یکن جب ہم ن کہا شیر سو ىہ استعارہ کے طود پرکہا ہے جب استعارہ 
کے طود پر شی کہا ف2 ا بکوٹی ال لک دمحلا نکر ےگا کہ اس شی کیا د مکھائی ہ ےکیو کہ یہ 
استیارہ کے وپ کہا گیا تھا_ 

ای م ا ول لا استعارة فی الاعلام ۔کہ ج نام ہیں ان شش استمارہ ہیں 
ہیتا۔ اب جو شی سے ہے ا میں اع ٹس کے الام یش استعاردنھیں ہوتا۔ ا جج سیکرٹری 
نے آ بج الا نکیا ک ہن مولان ال دگمود بیہا لننقر مکریں گے.آآپ نے اعلاا نکیا نمال دتمود 
کی تقرری ہوئی۔ جب آآپ ؟ میں فے تق ری ےکوگی دوس راکر ربا ہو۔ تو کوئی و جتھے ىہ تو علامہ الد 
گھوڑئیں۔ وو سی رٹرییٰ کی کہ اس نام سے مراد یچ یفن تھا جو ا ب تق ری کر دا سے راو دبی سے فو 
قاون ادرک وک ال مم ٹیش استمارہنئیں ہوح* اگ رآپ نے خال مو دکہا اور ووسر ےکوکھ اکر 
دیا۔ف بیفری ب تبھا جات گا کیونگ کہ ناموں شس استعار ہنی چتا_ 

تقور اکر نے فم مایا شیک ی بن مریم آ ۓ گا۔ ا دیانی من کنا ےک غلام اھک ے 


ھا دلو ہے۔ 


2 
: 


103 
صدےث ژںش یا ے/ ر5 بن عم ج بآ گا تو باب لد (وٰشن گل وروازہ ے) 
پ4 جاۓ گا۔ غلام اج قادیا ی کہتا ےکلہ اس کا مطب یہ ہ ےک دہ لدحیانہ جائۓ گا اور مل 
لدعیا گیا تھا (لدعیانہ مواب یش ایک شر ہے- غلام اص وی دہ ل گیا ف۷( کین گا وہ چو 
عحدریٹ ٹس آیا ےک وشن یش ہاب لد پہ جا گا۔ اس سے ھراد لدھیا شی تو مں لدعیانہ 
آگیا ہوں ھرزا تقادیا نی سےکہا گیا کہ اعادیث کے الفاظ ہیں ۔ک ہک بن ریم ج بک نے گا نو 
ا کے اوپ وو رو رن گکا چادریں ہو ںگی۔ وہ کے لگا زردرنگ ے مراددو چاریاں ٹل وہ 
بھی ہیں۔ 
بھاٹی! پا رآر گی کا رك رو پإا تا ے ا جیں؟ ا ے عراد دہ چاریاں ٭ 
یں ایک او پک اود ایک یی چےکا۔ او ہکا بیاری یہ ہ ےک میرے دہارغ یش عراق کا مرل 
ے اور کی ارگ نے ےکہ پچیٹاب زیادہ آ۲ ےکس وفع رات مل سوسو وقع ہ۲7 ے 
نے خلام اج ن ےگس صفائی سے ہر یز کےسعنی بل دی ےکک کاصی نملام امھ اور مرح کا 
معن جراخ لی پی۔للدکامع لدعیاددزرد چادرو ںکام گی دہ پاریاں۔ 
حفرت مواج مفتقی مھ شف صاحب رعمیۃ اللہ علی ہکہا ککرتے ت ےک خلام اص نے 
سار ےکا سارا نقشہ بداا ہر چ ھکوما زکا با پہنا دیا۔ لفظ ھاورصتی ینکر ایک جنارہ ال نے 
انی ےا اد ےکا اردان تے تی ناوات مازا بایل ہد ہیاس 
رجل سيا بعد ختم بوة فلیٰ بکفر واضج وصریح 
حمل النصوص علیٰ اعجاز باسرھا الا المنارة اڑڈینیٰں بصفیح 
ا ںکو ول اورفریب کچھ ہیں می تو کہا کرتا ہو ںککہ اس کا نام مبھی نبیوں دالا نیل 
کیو ںکرتیوں اورتیچہروں کے نام مفرد ہوتے ہیں۔ ایک جی ےآ و وج “ موی" ۰ عیب یئ 
اپاگػ' سن اٹ ہٹ' بی وب یسب أیک نام ہیں اور لام اھ ے دہ ام یل و 
رکب ہے تے جب تام پقہرو ں کا نام ایک یک رپا لو ہے دہ نام دالاکہال سے یبال آٴ گیا جب 
کہا ق نے لگا کہ یل خلا مکا لفظ بڑا دا بہوں اور اتی رہ جا گا اھ اود میرے مان وا لے 
دی بن جائمیں گے۔ 
اللہ تما یکروڑوں رکتیں فرماۓ ار شریجعت طرت مولانا عطاء اللہ شاہ برق پ 
آمین..........آ پ نے فما کہاگ رآپ نے ابا پہلا نام ہٹایا۔ خلا مکو بنا دیا۔ فو ۲ بھی اپیے 


104 
نام سے پہلا طف ٹا دوں گا۔ میرا نام ہے عطاء اللہ۔ اکر ان فلا مکو بٹایا اود اتی امھ روگیا . 
قش عط اکا ٹاک کیا اللہ شہرہ چا لگا_۔ 

ٹس عطاء الل ہو پہلا نام عطا جادوں گا ن اتی اللد رہ جا گاٗ نے مھ سکپتا ہو ںکہ 
یش نے جھےکی بیچا (مجنی خدا نے ےنیس کیجا) کہا ےےکہ بجے اللر نے کھیجا ہے۔ مس 
کہتا ہوں' یٹ نے ےکی بھیجا ہے۔ 

د هکتا ہے تم انا آدھا نا مکیوں جٹاتے ہو مج سکپتا ہوں تم اییا کیو ںکرتے ہو۔ 
صا فکہ وکتم لام امم ہہو اجمن٘یں_ اہ صاحب ن ےکہا کم آ دھا نا مکیوں جٹاتۓے ہو۔ اگ رتم 
ٹاو گے میں بھی بٹاؤں گا اور لوگو ںکو تا ں گا نر شس نے اس ےکیں گھیا۔ 

نخرت شاہ صاح بکگا یہ با قش قادیان ٹس ھرزا بی الد مود سے ہوئیتیں_ 

و نام اورگوان ٹارے یں ۔کہ دہج خی س ےکی کیا وولُو ملا نکبھی 
نیک کی پپپان جورٰنے فربائی جیما کر سلم شریف مس کہ دہ کر ےگا۔ 

تی نے غام اہ سے پچ چھا ور ٌککرن ےکیو نہیں جاا؟ 

اس نے جواب دیا م یھ مرواتے ب و ادھر وہ بے مار ڈایاس گے کہ نے دوگ 
نو تکیا ٹل ر کر کیوں چاؤل؟ ْ 


کن پدروش تقائیں... جب ۱۳ے ۹ا کی تریک مخ خبوت بی تو ححقرت مو لان سید ہو ری 
۶ی کل و اورکل کور اوّ کر زوس لمران ظركٗ 
کے فولاوی عزم اور واولہ انگین قارت نے ری قوم مس جہمادکی دودح پھوک دی۔ آپ 
نے پہرے ملک طوفائی اور لی دو وکیا اور ملمائو نکی رکوں یش خو نکی ہیا لی 
دوڑا دگی“اور لوک آپ کے لو چمادیر الیک کت ہو نے میدران می کور ڑے۔ ج بگھر 
ری کل اج رکفت نان کاو کن از و ا رت مق اما 
میس ری ککی راہمائی کے لے جا ربا ہوں اور اپناکفن بھی ساھ ل ےکر جا رہا ہوں پھر 
تن فثا لگ کاب مزید ایا رات ن کو این مت میس نین کی ذذ سے کافر 
اوس کا ا اق چان کا نزرادہ بی یکروں گا۔ وا لی ںیگ جا کا آراؤز یج ور 
تممارے پاتتھ میس اللہ تما کی امانت ے۔ ا سکی ماق تکرتے رہنا۔ (اشہ تعالی نے 
اپے پیارے عیب صلی لد علیہ و آلہ وسلم کے صدرتے ری لت اسلامی کی لاخ رک 
پی او روما ٹیو ںکو آ نیو نکی روے کاقر قرار رۓ: اگ ا) 


105 


رو نکریم کے لنظ' روہ شقٹی مطال 
اکٹ سیداعزاز صن شاہ 


۱ نحمدہ ونصلی وسلم علی رسوله الکریم . بسم الله الرحمٰن الرحیم وبعد 
فی رجر قرآن پیر یل ربوہ لف کا دو وف استعال ہوا ے: 
))( کمٹل جن برَبوَة(سورۃ البقرہٴ )۲٦۵‏ اور 

)۵ وَاوَیَا هُمَا إلی رَبُوَو ذَاتِ فََارِ وَمَعَيي ' (سورة المومنون۔‎ )٢( 
پبلی ات میا جرح زین سے بلند لہ پر ہواور دوعریی آ ات ت میں ”تی علیہ السلام اور ا نکی والرہ‎ 
کو ایک لہ پر لیکانہ دیا۔ اس لفط کا اص مادو ارب و ہے۔ ج وک رق رآن مجید مم ملف چکہون‎ 
میس منلف شکلوں کے ساتھ وارد ہوا سے ائن تن رو کو جب کیا کر میں تو سے لفظ ”روا“ کی‎ 
شکل انتقیارکر جات ےب س کا ق رن یرٹ ا مر زگ ہوا ے‎ 

”احل الله البیع وحرم الربوا (البقرہ ' )۲٥۵‏ 

مج ال نے تخر ید وف رو تکو جات گیا سے مہ سود و مرا مکیا سے؟ ال ہرزمادلی کا نا 
سے راس ذیادلی پہ جب رید زیادئی ہوئی سذ ال می ں شی کا خر پیدا ہوتا ہے۔ اس پچرائے 
تع کے لئ قرآن یر نے افط راہ ہہ استعا لکیا ے_فَأَحَلهُمْ آخْلَة َابيْالحاقه : ۰( 

۶ نے نہیں انچائی طت طرخ کل ڑ لیا۔ ىہ راہب ھی رب وسے می ماخوذ ہے۔ ایا 
کے مصددرکافتل مضاررع لو اور وی وروں طرح قرآن یر میں سمل ہیں 

روڈ ؟ لف کی قرآت خحن طر کا جال سے۔ عام مشبو رق رت ترَبُوہ ا ے ‏ لہ 
”رُبُوَہ' اورٴربُوّہ “ھی سہے۔ کی ووٹرانژ لکا زکرلسانع الحرب ےکی سے۔(لسیان العرب 
مادہ رہا) چک تیسرکی تفر ت کا ذکر امام راغپب اصفبا ی نے مفردات القرآ ن یش (مفردات 
ال رآن مادہرپ و) امام راپ نے اس کا طفظ ”راو“ بھی بڑھا جانا ذک رکیا سے جک لسان 
ا ہب نے روہ لی دی ے_ اور روہ پڑھنا مکی لشت ٹرار دیا ہے۔ اور ال 
کی مع رب می اور ری بتائی ہے۔لسان ااعرب نے ”'رہوۂ پڑ نکی شابلد اس لے را ثرار 
درا سے۔کہ ال عرب اپئی عام عماورائی زبان یں کے ہیں مرت بنا رون النال (وھی 


106 

الجماعتہ العظیم محو عشرہ الاف) من لوگو لک ایک بڑی جماعت کا ہم ےگزر ہوا 
(ٹس سے راد تقریا دس ہار اور ای طرع رہاو تا“ کا استعا ل بھی ائل رب زہان د) مان 
العرب مع ید اس ماد کا اشی نل مضمارع اورمیدر اود ا سکی تع اس طر حعک یگئی۔ 
رہا السئی یرہو ربو اورباء 

می زاووٹا یی کسی رکا ڑھ ا ں کا مضار خر لوا اور مصررر وا اورر ا زیاوہ 
ہونا اور پڑھنا اور ای سے لاب ریہ فیہ ادن خیب دکہ یش نے ال ںکو زیاد کیا اور بڑھایا ق رآن 
یر ہل وارد ہوا ے۔ یُرّبی الصدقاتِ'شنی صدقات شں اضاف ہکرت ہیں اورعدیث صدقہ ش 
یں مکور ے_ تَنُوا فی کی الو حطن تی نون اَم ن الجَبَل کہ صدقہ رن کے 
اتھوں یل بڑھ بڑ کر پہاڑ سےگھی بڑا ہوجاتا ہے۔ اود عام مماودہ ٹیش کے ہیں دہا السو لی مجن 
سو میں جب 0 ڈالا چا ےو وہ پچھول چاتا سے اس کے لے بہماورہ بولا جات سے ای رح 
قرآن مجید یں زی نکی جوصفت بیان ہوئی ے۔ منرت و رَبَث اَی عَظُمَہٰ وَلتقَحتُ 

نی زین پچو ل کر پٹ پڑئی۔ عدیث شریف جش ہے لفظ ا طر واردے۔ 
رسس رَبوَہ انی اك نی فردوں جن تکی اوہگی مہ ہے۔باتی نقوں کے مقاللہ 
یس (لمیان العرب مادہ رب و) ربوہ اورژیوہ کے قرق اکر لخات نے پے وا ھی ںکیا۔ تہ این 
کر نے اپٹ ی کاب النہاىی پی خر جب الیدیث والاٹثڑ شل بی آر کیا ے۔ الربوہ بالضم وافتح 
والضم ماارتفع من الارض ۔ لأنی ربومفموم اورمختےع دونوں طرح گر اگ موم ہو ا کا 
میک وشن ناو گی فینح ماق اگ رما انی ےکی ین وم ا ےی 
ک جانے سے کور سے ”مھ ابی علیہ ابوڈ 'ىجنی جو زکوۃ کے ابکاری ہوتے اس سے اصل 
زکواۃ کی رلم سے زائد دو لکیا جا گا۔ اور ال ط-ر مَنْ اَقَرَمَا لَجَزْیَة فعلیہ الرَُوَہ ػن جو 
اسلم امس لے قھو لکھی کرجا اس میں آ کر زکواۃ دیٹی پڑ ےگی فو اس سے اصل قزر کی تم 
سے زائد جزی لیا جا ۓ گا۔(التہایہ ٹٰ خریب ال یث والاث رخ ٣ص‏ ۱۹۲۴) اس فرقی سے لو ہے 
قوول راغ مھہرا کم خرن مجیر نے بن ووججہوں میں‌اس لفظہ کا استعا ل کیا ہے۔ اسے'2ربوہ'" 
پڑھنا لی ہے۔ جیما کہ صاحب لمان العر بک تز ٹچ ہے۔ اجم اخ ر لا لفاظ الید یث کے 
عوالہ سے تز نی میں سور المومنو نک تفر یں اس لفظ کے زیل مم سککیما ے۔'الفردوں ر ہو 
انت واوطہا واقفصلہا یی فرروں ہہ جم ت کا ر اوہ (ادہگی کچل ) اور جڑ یکا پہچرین مقام ے۔ اور 


17 
مند اضر می منقول سے الا نعل البنعرطزن بر بوہ (مند اص رح ض ں٣٣‏ ح ۳ص۳۷۰) 


)۲( روایالی گڑرے 

اش تناٹی نے حضرت می علیہ السلام اور ا نکی ول و مرییم علیہ السلا مکو بس جل ہکان 
دا ان ںکویوہ ےتشر قرایا ے۔ چناخجہ شاہ عبرالقادر مو 720 نع 2غ نعل فرواتے 
ہیں حر می علیہ السلام جب ماں سے پیدا ہوۓ و اس وقت کے بادشاہ نے جھھیوں سے 
تا کہ بی اع رات لک پادشاہ پیرا ہوا ے۔ وہ ان نکی علاش میا ا ا نکو یشارت ہوک یک اس کے 
بک ےنگل جاےٴ لگ لکرمعر کے کلک گئے۔ وہ گائوں تھا لے بر اور پاٹ دہا کا خوب تھا (شاہ 
عبرالقادر_ رج رٹ رآن بی رگ ا۲۵ 7 
(ء) تی رجلدشین نے بھی ا سککتہ سے انفا کیا ہے۔ 

ذکر فی سبب بذا الایواء ان ملک ذلک الزمان عزم علے قتل 

عیسی 

نی ان کےکھمب را کے سبب کے بیان ط لکمہاس زہانے کے پادشاہ نے ححضر تم کی 
کا کرت چا تی جا لین کااں حا شییس ۳۹۰ مطبدع فو رم دک رابک ) 
)(۳) تی رمظبریکابھی اس سے انفاق ہے ۔کسودی باوشاہ ہی دو جب حفرت می کے 
فی کے درے ہ وگیاتھا تو حضریت میم پکو سےکرمصر چپ گیکھیں (ظیرطبریجخ ۸ص١۱۹)‏ 
(7٥)‏ تیم الترآن میں ہی ردویں کے بعد ارخلاؤں کے عرعلوست کا ذکر سے -۔کہا نکیا 
ول نکیل کے شر ناصرہ میں پچاہ س نی (بحوالیمتی ۳۴:ج ٣۶‏ )نف یم اقآ ان حّ ۳ص ۸۱۷۸) 
(0) تتخی رجھنی سے مطالدہ سے معلوم ہوتا ‏ ےکہ بی تجکہ دنین سے انہوں ن شاف 
کے حوالہ ٹف لکیا سے ۔کحضرت ابد چریرہ رشی الد عنہ سے مردک ےک ربفسطین و روہ 
سے جہاں حر تھی علیہ السلام اور ا نکی واللدھہرے۔( مو نزقیز اص ۴۷۰ )٣‏ 

رلہ اس کا واعد الیل ے۔ فٹٹین کا بت ڑا شبر ہے۔ اور بملمافو ںکی فوگی 
بھائنی رہ ہی ے۔(حغم ابلدان ح ٣ض )٦٦۹‏ 
)۹( می تفر قر1ن الترآن پالبیان مل یم الد بن ور اللّر ۶٤٤۱ھ‏ کے حوالہ سے روہ 
رش م تق ودی بیت المقدیس دوڑشی اویل فسطین اومعر) نڑنی ربوہ ىہ اوہی زط نکو کے ہیں۔ ے 
اق یت اللقیس با ہشن پا ایا فسنٹین پا عصر ہے (تخیر نکی رکا ص۲۳م) ایلیاء سےختفل قشم 


08 


الہلدان مج کور ےک لحم دیع بیت المقد ںکو ےک کی شہ رک ام ہے۔( مین 
۴۳ئ) نشم کے وضاتی وٹ مس صاحب حم ابلدا ن آہت۔' و کے 
یت ہی سک ودی ذشن ذات قرار نین و زات رضاءین یش مجن ىر ڑشی ےک جھ زندگ کی 
ٹتوں ے ماوہ مال کے پھ ر1 گے پچ لک رککیعت ہیں کہ ان نی یزل عند المنارہ الْیضاء من رق 
نز زی علیہ السلا مک دش کے شی سفیر ینارپ نول فرباتیں گے_ اور والمغارہ لقن 
قبل الیثر ب یقال انہا کات ماوئی صلی علیہ السلام اور یل یثر بکی جو غار سے اس ےم تلق 
کہا جانا ےک بیحفر تمعن یکی جاے پناتھی۔ (صعم الہلدان رح ٣ص‏ ۴۹۴) ای ط رع اردو 
ارہ معارف اسلامیہ یش کے وشائتی ٹوٹ سے سلسلہ میں مور ے۔ یگ لکہاجاحا ےہ 
پت (ہاں)! ایپ برسون لہ (ریوہ) پرقام فراۓے ہہوۓ جے۔ (الی روہ زاۓ قرا ر۲۳: 
۱ رع 2) اور ظا کے خا سے کے قرب دجای سے ڑ نے کے لئے سفید ینار پر ےکی تو 
رق ینار ٹراردیا چاجا تھا ۔ اودیھی مسج جائ کا شرتی ارول اعلال فرماجیی کے _اروو وارٌہ 
موارف اسلامي ع۹ ل٣۳'‏ ۶ ارہ (رشن) 
(ھ)؟ ملا ابو االام ۔ تر جمان القرآن مم اس ایت کے زس عاشی گر کرت ہیں جم 
نے نہیں اک عرتع عقام پہ نہ دکی جھ مین کے قائل اورشادا ب کھا ۔ اا۲ ں ےۓففصور واوگی 
نی لک پالائی جح میم کا لئ حص۔ اناشیل ے موم ہوتا ےک حر تک کی پیدنش 
کے بعد مرمم ایفام پر ریا مز ہیں ۔ (تر مان القرآن ج ٣‏ ص۵۳ مطبوہ اسلائی اکاد) 
(م) ]ام رٹ نے الا الا ام القرآن مم تر کیا ےک ابو رک ےی ین 
بھوجے فاسطین اوررطہ ہے اود بی علیہ السلام ےگھھی مروی ہے۔ تر امن عمباسل این سیب ۱ 
اور اہن سلام کے نز دیک ىہ شی سے ۔کحب اود قادہ کے نزدیک بیت امقدل اود این ز یھ کے 
خر یک مر (الپائمع الا کا القرآن رج ٣۲‏ ص۷٦۹٦‏ مطبوص ابران ) 
(۹) اابراي والتہاے ٹ ل ضا کگن ابن عبا روامی کرت ہیں ود کے خطرہ کے موجب 
ال تاٹی نے 7 پک والد کی طرف وت یکی کہ انئیں مص رکی طر ف لیک گی جائے۔ اود ق رآن 
ید یس وجعلنا این ری وامہ...... ٹیش اس طرف اشار ٥کیا‏ ہے۔ (البراىے رح ٣ض‏ ءے) 
)۱١(‏ تی ری تےاع ‏ فن ین ان زیت ان یی ہے 'آوردہ ان ھک مرک پاپ مر 
وپ رگم خور اإسف آ یت ”ال ز لوہ ذات ٹرار کو ور ر200 محارگف بعایٰ ث۸ یی 


109 

۸ اادوەر وہ وار الحرف چروت) یزصاحب عم الیلران ا ات ہی گپرالشر ای جس کا 
وا ۔یح گرا ے۔ فر مات ہی ںکہاس سے ماد دش سہے زشن کے پھاڑ کے داصن ٹس دنیا 
یی 7 سے ال0 کے ددیا زرل ے۔ ے ددریا ری پر ایک خوبصورت جا ری 
می کی شحل می سم رشدہ ہے۔ اس کے اوپہ ددیا اید بہتا ہے۔ جس کا پالی اس مس کے حول 
یں گرتا ہے۔ اس مسر کے ایک ہو می ایک گاٹی کی غار نما مہ ہے۔ لوگوں کاخیالل ہ ےک 
یہاں ححخر تمع/ٹ کی پیدالنش ہوئی ہے۔ج کا ق رن مجید رٹ ا سآ بیت کےشعن می دک ریا 
سے۔( جم البلدان رح ٣ص ۲٦٢‏ دار صادر بروت ) 

تر یمدق یا ددیا ۸د بش کا سب سے ہڈا مور دریا ے۔ شی ےکوی ا٥‏ 
یل دورتنوا نا می تہ سے بحلیک کے فزدکیک نچخموں کے پایوں سے ما ہے۔ اس کا مھ بای 
نر بیز یہ با ددیا بابش چلا جانا ہے اک رح جب مد یا د نائی “تی کے پان چا ہے فو ای 
کا پانی بل رین حوں شش بٹ جاتا ہے مجتی ودیا بروکی کے شال میں شال ٹوری نائی ددیا اور 
مفرلیٰ جاخب باناس نام دد یا میس (سعظم ال بلدان رخ اص ۳۸۸) دریاؤ ںآ بشاروں تچشھوں سز 
اواب مقاما تکی بات بی سیا ہنی علیہ السا مگ جم بھی خرار پاٹ ہے۔ 
ریو کاٹ ی پہلو: 

ربوہ کا افظ میں وشن سے پاکتان سے ضلع جک یل پچفیوٹ کے دی 
گال پک ڈچھکیاں“ جک دریاۓ چتاب کے شال یکنارہ پر نیم ل7 با دس رگودھا روڈ پر وا لے 
چاتا وین فان کا ےنام سے یادکیا چات] ہے۔ چیک ان کا طخ نام کاغزات 
ال یش سور ”نکیا ں“ ( کیک ڈچھلیاں ) چلا آ1 ر ہا ہے۔ اس٥لی‏ نا مکی ججلہ. خی نام مک بد بی 
پاکستان بے کے بعد ظمپور پڑب ہوگی۔ ج بگورنرموڈکی نے اس نی کک زین ۹۰ سال لہ پ 
امن اھ بیکودگی۔ تو قادیانی جماعت کے وڈبیوں نے اک یک کا نام ابق نربی مناسبت سے 
”دو“ رکھا۔ ق ر1 می لفط کا بے جا استعا لت ریف ق ران کے زمرہ جس آ تا سے جک رکف رکی نا پک 
سانش سے جوککف رکا وطیرہ چلا آج سے" تححضرت مولان شی ام عثائی ےئن نے انی 
تفیر یس (جس کا پیلہ ذکر ہو چا ہے۔) آ یت ”ای ربوہ ذات قرارحن کے مین قادیالی 
نظ ر ینعی رک دید کیا سے کر وہ سے مرا دی ہے۔ و اس رر بد ہی بھی مردیدکرتے کہ سے 
ربوولعد شش متاجب دہ دنیا سے جا گے تھے پا اکیں خر دی دکا موقعہ تہ طا۔ 


110 


(ب) ربوہ سے مرا می 

مرزا یش ال دم یگمود اہ ق رآ لی ترجہ نوا ننخیی رمخی رج سیت وآ وینا ھا کےعحت 
کیا سے ۔کہتا رح سے عابت ےکہ مہ اوپگی ہچ شیڑھی پنل یہودیوں اور ہندوؤ ںکی تار سے 
بببت جوانے ا لی ماحیر ٹس 2 ہیں۔ قادیالی وڑرے عرزا یش الد نعکومسلمانو ںکی مار سے 
کوئی حوالہ تق نیل ہک ال دکندڑھ ینس اہ مجن پرواز کے مصداقی اپ یکغار پرادرکیا سے اکس کے 
تام دی جوانے لے۔ پحردیاشت دارگی کہ ایک حول ہبھ یتر میس نہ لا کے۔ اس رح ق ری 
ترجہ ہگار موی محجر لی ن ےکی ا ات ےھ زٹل ٹس اپ کاب مان ا1ن“ یں مم 
وشن مفسرین اور تر جصہ اورتظمی _گارو ں کی جمل ہآ را مکو جک ککر رکھ دیا۔ اور اپ مشیر کے 
ندر ےکو ہیی كکرنے میں سم زا ح۔اص لکی۔ چناغچہ ملاحظہ ہوتناب ڈرکودہ پہ اس کا وضاتی لوٹ 
(مان القرژ نس ۹۵ مشمی رق برای شقن ہے۔ اب ربوہ نا مکی صن پاکنتان ضح بتک کے 
نش میں موجور بیو ا ںکا مصراتی قادیاثی تک نٹاہ میں بی وہ رلوہ سے جواءءت یں مور 
ے_ اکر تو ہا تکوغی مس قرار بنا ضردریی تھا اس ق ری اصطلاح اور لفظکا نل ال بات 
کا ضتاضی ‏ ےکم ا ںکوٹھی بل ہونا چا ہیے۔ او ان کی کہ چک ڈھکیاں اصل نام زبانخلقی 
ہوا چا بے ۔کفراورنشحر الک وونوں کا نماتض ضروری ہے مسلران علام ٹیں سے نضرت موڑا نا 
منقور اج چفیوٹٰ امت رام نے اس سلسلہ می کاٹ ی کیٹ کی ہ ےکہ اس (ریوو) نا ممکوتیدیی 
کیا جاے۔ اور بد ہیر بوہ نے اپنے ایک مل کے ذریے اس تتبد پگ یکو پا اکرلیا سے گر ہنوزل 
ور نی ہوا۔ بکتہ ہیارے مطال کا ایک حصہ تھا جم س کا ہم نے ڈک رک دیا ہے۔ 
حاصکل کٹ : 

جٹ کام ول ہے ہا واعات ادرقائنی کے تاظر میں حفرت می یکی پا کا مہ 
بیت الم سے اور یہہ ایک شلہ سے جیا کہرالم یوعد الذعویہ یش کور ے۔ ھی عی عطال 
تفطِْهَامزارع الگرُوُم والازیون. مجن بر لہ سے مج کےگروامگرد زچون اور انور کےکحمیت ہیں اور 
سکاب می بیت الع مکیتحریف میں دک ریا ے_ ھی لت بعَِْنَةِ عَْ مَدية اقّڈسِ لبمَتِ 
بت اللحم وی شَارِخ واجا ری َو لی کس یلاہ لی شَيْذث فی المَکانِالِّیٔ 
تقد آَنَّ الْمَِیْٔخ ولِد ليه. گی بیت أئم 8۲51:0 نر شہرے زیادہ رو کن اوراں 


111 

می صرف ایک بھی ڑگ ہے۔ جک میلادنائی کرجا کی طرف جائی تی۔ جو اس چنیب رشدہ سے 
جہاں عقیدہ کے مطابی حضررت مھت یکی پیدلنش ہوئی۔ (الموسوم الزھمییر ح ٣ض‏ ۴۳۲) بی 
طرح مفسرین نے آ یت تمدید نیت بہ رکا قصیا (ھریم :۲۲۰) لچنی حضر گج یکی والمدہ اٹل 
وت پیداکشی ایک دور ہمہ ےگلکیں ۔کی نشان دی بیت ا مکی طر فک ہے ۔ جیما کہ علامہ 
طمیاوی کا ثول سے بیدا عن اپاہا آیٰ انی الواوی و۶ بیت األعھم چنی ان گھروالوں ے رور 
واوی کے آ خر میتی بیت !یمم میس (الچوا ہنی تفیر القرآن اگریم للططاوی بح ٠اگ‏ ۸) ببیت 
ا مکی تیر پسلہ ہم عم ال مدان کے حوالہ سےلکھھ کے ہی سکہ ىہ دش اور بعاہک کے درمیان 
سے یا بیت المقدرں سے ججری نکی طرف ے۔ یہ علق فلسطی ن کا سے جعیا کر متوظفسطین سے 
اس جغرافائی نتڑ ے راج ہے۔ زرا تشہ ملاحظہ ہو۔ اس قش کی رو سے جہاں مفسرین نے 
قطین را شطین بیت القھیں اور مصر کے اقوال ددع بے ہیں وہ سب اپی اپچی کہ درست ' 
ہیں می ا سارے علاثہ فی نی اپ ے اوراں کے اندر ىہ سب علائے ٢‏ جاے 
ٹیں۔ یہاں بج کہ زشق بھی اس خقشہ میں شال ہے اورتفرت می ی کی ر پاش شب ناصرہ بھی 
اس یش ہے گژ سکی وجہ ےآ پکو ات الناصصر یکھاجاتا ہے۔ اذا اب تمام احخالات انی اہك 
مہ پہ درست ہیں پاتی خی رصم قرٴنی مہ ٹگاروں نے جو ”رید اس صفائی نام س ےکی رکا 
تو ل کیا ے۔ خالق اس انف یکمرتے ہیں۔ اور ا صلی ام ےشیش ما تی نام رگٹا 7 
تحرف را نی کا ای کک ی وت ہے۔ جوکہ فی مس کا داوٗ چّ ہے۔ جو تشابہآیات ےا 
او پل پا لکی راہ جوا رکرتا ہے یسا کہ عیسائیوں نے وکلستہ القاپا لی ری د روح منہ سے 
ححضرت شیک ی کے این الل (الل رکا بڑٹا) ہدنے کا وگوئ کیا ادر ا نکی خحدائیت کا تال رہا۔ او رگم 
آ یت الن بوالا عپ رما علی ہکہہوہ الشر کے بندوں جیل سے ایک بطدہ یں اور ررسواوں یل ے ایک 
ررل ہیں۔ ای طرح خی رس م مو دیای فرقہ نے من ىاخان روازرہ مال درآن مخ بس رکرو 
”یھی حطرت مریم ابی لڑ کے اور ایسف جن مامان ا نے چا کے صاجزادہ کے پم را ۲ا سمال ال 
جمہ بررے۔ (تفی سی می ص۷۷۶ فو طکب خانہ جامدعری فیطل جنگف) 

)١۱(‏ : جلالن ن تق رصاوٹی کے حوالہ سے می جا تک لک سے آ پک والدہ اس لہ 
پہ لےگکیں اود یہاں٣ا‏ سال رمیں ا می دہ بادشاہ م گیا (جلالٰین کڑاں حاشیص : :۹۰) 
(۳۴) مولان حنفظہ الرمان سید ہاروی ننس القرآن میں جہاں حطرت مکی علیہ السلام کے 


112 
عالات و واقات پر شتجصرہ فرماتے ہیں۔ انہوں نے حضرت موی یی جاۓ ولاد تک کو مل 
(روہ) ےکی رکیا سے۔ اور می دہ لہ ےک ہآ 72 والرہ 7 کے جرب بیت المقدیں سے 
دورآقر یا ۹ مت لکووسراۃ (ماعیر ) کے ایک شیلہ پہ پگ گنیس جواب بیت لحم کے نام سے شور 
سے (نفقص القرآن رج 6۶ ص۲م) بیت اعم کےمتحلق صاح ب عم البلدان نے یوں تن کی 
ہے۔ جیت اکمقدل کے آآس پا ایک پہ روف لہ ہے۔ یہاں ایک تک مدکی کے نام سے 
مپور ے۔ اور اس کائل ور بیت المقیں سے بب ری نکی طرف ہے۔ پت یکنا بیت المقریںل 
او رقلان کے درمیان ایک فلعہ ہے۔ ا قکوعمرہ ین الحاصل نے مخ کھا یا تھا اود ال کو انی جار 
یں شال فرما لیا ۔ ا کا نام خلام کے نام لان رکھا-۔ اور ایک ردایت کے مطائ ‏ بیت مم 
زشن اور بعلہل کے درمیان ایک بتک نام ہے۔ ( جم اایلدا نم ۷٭ا جح ۲ ای ساکیر سے 
حفر شی ی علیہ السلا مکی 7 وت کینظبو رگ می مگوئی سابق ہ1 ساکٹی کمابوں شس ہوئی ۔ چنامجہ 
قحص الترآن میں کور ے۔ توراۃ یل شی دمنوی جات کے پاوجووآ ج بھی چر 
بثارا کو اہ سیدنہ یں قوط تی نے جو علیہ السلا مکی 7ھ ےتھلی رھتی ہیں۔ توراۃ 
غیاء میں سے اور اس موئ ن کہ اک خداوظ اتا ےآ یا اوزشعی ر(ساعیر ) سے ان روح ہوا 
اور فاران کے پہاڑوں سے جو وگر ہوا۔ (ہاب ۳۳ آ یت *۱) اس شارت یں سنا سے خدا کی 
آ رت موی علیہ السلا م گیا و کی جاب اشمارہ سے اور سائیر سے ططو ہونا ور گی 
علیہ السلام مراد سے ۔ کیہ ا نکی ولادت پا سحادت اک پباۂ کے کت مقام بیت مم من 
ہوئی_ اور می کی انل جس ہے۔ جب مس ہیر دو بادشاہ کے زمانٹش کہودے کے مت 
ام شش پیر ہوا۔ (باب ۳ آ یات )۱٠١‏ اس سے معلوم ہوا ےکہ ىہ جبیت قد لک رز ین 
سے ے ان یر ر9 ذات ترار وج نکہا گیا ے۔ 
)۳) ین کیبر نے تیر میں انی نکیتشرج م شککھا ےکنین سے ضہرادی حراد ہے اود 
بی ال ش رکا ڈکر سے تس نکو 1 بیت فک بل رک تحتعک سریا ٹیش میا نکیا گیا ے۔ اور حاک 
اور ]اد کا بھی منی قول ہے بک اٹی دروۃ ذات قرار ومن سے بیت ا مق کی سرزشن مراد 
ہے اور بجی قول زیادہ اہر ے۔ (ضش الترآ ن ص٦۴‏ رح ۳۴)| ٰ 
(۴) جامعہا کک عبدالھزی: کککرمہ کے نا مورمفس رق رآ ن م بی الصابوٹی نے اپ یف رمفوۃ 


113 

ایرٹسآ یت و1 وینا ھا کے تحت ای نکر سے موافق فکی سے وہ کے ہیں اىی و ہعلنا منزلہما 
وماو اع الی مکان مرففع من رن بیت مقر (عغع جن اتا رص ۳٣۰۶‏ رح )٢‏ سی ان دونوں 
کی جا رئش اور ا ن کا شکانہ بت ا تقر لک اوہگی زین پر ای اود ذات قرار جن 
بی مستوی ےنت علیما وما جار فا رن ال الرازی : القرار: مسق رکل ار مستومسوطیر 
تین ؛ فطاع الیاری عی الارش وعن تاد ذات شار وجاء شجنی انہ لال الثار مسر ٹس 
ساکتووں لی ذات قرار مین ے مراد چھوار ز ٹن اور پاٰٰ کا چل چلا2 1 نگھوں ے وکمائی 
دے دا امام رازگی کے حالہ سے قرار سے مراد چھوار زشین ہے۔ او رن سے مرا زشن 
>7( ہوا إی اور قّاوہ کے مزدیک 0 سے سا تج کی ہوئی کول 0 اوریچلو ں کی وج رے 

لوگوں کادہاں ر نل پل رہتا کن ہوگا_ (صفوچ اتا رسابق ۶ال ) 


روا یت ا 

ا نت نے یں جے (ین شی اور ا نکی والد ١‏ ) کی پان گاہ اد کان ےکو ایک 
ہنرو شاداب تل ہکوقرار دیا ے۔ جہاں زمگی کی ضردریات خوب ول اور جن تنظبر لہ ہو 
صاح ب ہم البلدان ا سکو دش قرار دی ہیں (جی اکہ پچ گزر چکا ہے ) بیت الم وشن اور 
الک کے ورمیان واى سے۔ اگ رآ پکا یدن بیت عم ٹس ہوئی ہو شی ے محقہ 
ہون ےکی وجہ سے ا ںکو دش١‏ يکہہ دی جائے نے می ںان سے پچ رصاح ب خم الیلدان کے یقو یکلہ 
بیت انل کے آ سس پا ایک تمہ بد مکی“ کے نام مور ہے۔ اس مج کو اکر وشن میں 
شائ لکر لیا چا تو بی گی نںگکن ہے اور چونک یٹ یکو ہش ے خاصی مناسبت سے ک قرب 
قامت دوش کی جا مسج کے شرتی معنادہ بر نزدل فرمائمیں کے تو اس مناسبت سےآ پک 
پیدلنٹی جوکہ بیت امرس کے قری بکوپ امیر بپہ زشن کا اطلا قب دیا جاۓے فو بھی خلاف 
قیاںگیں۔ چونکق رآن باک نے خودہ ںکومضلق بھوڑا سے مقی کی ںکیا ایں لج ا کو ایک 
کہ سے مقیدت خی سکیا چا سکما۔ اب ربوہ سے مراو روایا تک رشن مم حضرت مب کی چائے 
یراکش یکو ینا زیادہ مزا سب معلوم ہو ے۔ اگ زمانہ کےاقیرات کے بموجپ آپ ہے ہے 
ختلف تگبوں بر سکویت انقیا رکی ہو ینجزانی رگکت انقیا ٠ی‏ سکرحتی۔ الف تعاٹی نے جس 
تصوعیت سے لطور اتحسام جس جز کا آ یت شربیقہ یں بیا نکیاوو ضر ”یی کے زیادعمل ے _ْ ۱ 


114 
یکر ز ماشہ داد ت تک کے واقا تکا احاطہ اور بحفاظت دنا رج پور ڑم ہونا ہے۔ ال ڈگور پالا 
قو لکی جائ مغ رق رآن علام شی اھ عثائی شک ےےمظیری وضاشی فوٹ سے ہولی ہے۔ جو انہوں 
ےآ یت ای ربدہ ذات قرار ومن کے زی ڈائد وف ر٢‏ تیر کہ حاشیہ می لتر کیا ے۔ دہ 
فرماتے ہیں شاید بیر دی شیلہ یا ادگی زین ہو جہاں وت تل کے وقت ححخرت مری تق ریف رلصتی 
ھھیں۔ چنا تی سورۃ رم مکی آ یت ”فادہا تھا دلال تکرتی ےک دہ بلند لی ین چشمہ یا 
نہر جبہہ رج یھی او رجو رکا درشت نز ویک تھا لیگ نکھو] مفسرین کھت ہی ںکہ خر تک کے 
می نکیا (چ ر ہیردویں ور ہکا واقین لکیا)ءز یر یتح ہیں نول نے روہ (ادیگی ہے 
مرادشام با فکسطی نلیا سے اور چچھھ بعی نل لک جس شیلہ بے وللادت کے وقت موجودنجیں وہیں اس 
خطرہ کے وق بھی ناء دب یگئی ہو (تخی رعلالی حسص ۴۵۹م حاشے فا ہم ر۳٠)‏ 
ال جاۓ ولاد کی تقو نٹ یکرت ہو ۓ این لطوطہ کے حوالہ ے راہ معارگ 
بعالی ےے رب ہ٥۴30‏ حنوان کےشت یعفدیہ دا سے ” پیل فاس کے خر برحطرت 2 
علیہ السلام اور نی والعہ گی رن گا وک عجہ ے۔ اور یہ دنیا کی تما تین مجکہوں سے 
زیاد نین س رگا ےا میں خوب صصورت پت محلات _مارٹں اور گیب دخمریب باعات إل 
اورعفرت میٹ کی رئیش گا وکی تہ اس میں ایک بوڈ مار نما رہ ے۔ ای کے سرا نے نضرت 
خعف رکا مصکی ہے پھر مزید یا قوت تموی کے حوالہ ےکپ یگزرگاہوں کا وک رکرتے ہو کھی 
ہیں ۔کہ تمہ شاکی بش جبل فاس کے پہلو ٹس ہے۔ اس کے ےپرد ددیا با ے۔ اور ے 
کہ ایک او گی مس کی شحل شں وریا ڈییے او مت تسا نظ ہے۔ یں 
کا انی سیر کے ح می کرح سے ا مج کے ای کفکونہ یش ایک پھوٹی ار نما ے2 
تلق خیا لکیا جاجا ےک بجی دو کہ سے جس کا رید ےکامم معالی میں نتابہ پیداککرنے کے 
لئ اس صفائی نا م کا ای صتی بر اطلا یکر دیا ا سوج عادثائیٰ داتمہ یا رکال نام قرارکھیں دی 
جا ککتا۔ بلح قصدانہوں نے ایا کیا ے تا کہ اس جھو نے 7 ونود (لام ا تقادیانی )کو 
اں ہج ےکپ موود کے پالتقائل لایا جائے۔ نیل ق رن می کا می کی ”نفاما الذ بین فی جوم زین 
فھقبعون ماتتابہ منہ اجتفاء الفتدة واتفاء جاویہ (آ ل عمران : ے) کس شٹ نظ رآ جا سے ۔ککہ جن 
رلوں یس بھی ہے وہ تا کین ہن جادیل سے پپوستہ رت ہیں .کہ لوگ فیک وش ہکا شکار 
ول اورا نکی ال تا وم ل۷ راس ہھوار ہو جاۓ۔- 


115 


اور ہر٦"‏ وٹین 
یل احھ نل کا 

بای مقیدہ کے مطابق ” موڑوڈ“ اور مدکی معپوڈ دونوں' نیقی نہیں بلہ 
دونوں ایک بی خخصیت کے دو قب ہیں۔ بے عقیدہ مرزا فلام ات تادیائی کا ا نھرروں سے 
وجوومیں آیا جو ت تہ الہری“' تہ الویا ‏ نزول اح “ ائعاز اص ازل اوہامٴ اور 
ضرورۃ ال ماع“ وغیمر کی شکل میں موجود ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مرزا صاح ب کا جوٹی ہب ےکک 
موکود اور مدکی مم ور دوتوں کے مصرای ووخور إں- ۱ 
ایھالناس آنی انا المسیح اتآ ڑا می یج شی اور میں یق ۱ھ 
واحمد المھدی ہد ہوں۔ 

(خطبات الام مدع 3+۲۰اء) 

تض ور 2 ا(ا مم میں کھت ہیں_ 

”اب پلآ خر سوا بائی ا کہ انس ز مانہ ٹس اہام الما کون سے جس 

1٦‏ پیر وی تھام عام صلالوں اور زپرول اور خواب ببیوں اور ۰مو ںکو 

کرٹی خداۓ تا گی گی رف سے فی قراد دیاگیا کے سو یں اس وقت 

ےِ حر فک تا ہو ں کم خراے تا یٰ ےفضل اور عنامت ے وو امام 

التراں میں ہوں اور بجھ شس خداۓ تعاٹی نے دہ خرام علانیں شرٹیس مع 

)٣۲صض(“۔ںی‎ 

چٹوسروں ے پر رکلیج ایا 

نہیں تھا مخلف رای او رقف تول ایک فص لکرنے والے تک کو 

جاتے بے سوو عم میس ہوں میں روعانی طور ہکس رصلیب کے لئے 

اور بجز اخافات کے دو رکر نے کے لے بھی گیا بہوںل یں دولوں 

امروں نے تا ضا کیا کہ یش جا چااں.۔( ص۳٣٢)‏ 


116 
مرزا صاحب کے ایک اتی تاضی مھ نم ھکھھت ہیں۔ 
یں ای حقیقت ےک رحرت بائی سمل اص یہ کے ذ ریہ موگود 
اور ہد ممتبودکا اد یکام ہو چکا ہے“ (اما ”بد یکاتجو رگ )٣۹‏ 
بجی صاحب ان سور سے لہس ۱١‏ پر اپنی اح تک ضحیق ان الفاطا یش جی یکر 


جے ہیں۔ 


”امام ہدک ار مود ایک وص کس (کماب کور )٠١‏ 


تقادیاٹیٰ دو ےکا جائزہ 


ین مرزاظلام ا تا دای ادرا نکی جواع تکا ىہ دگوئ یک نی احادی ثٹکر بی شش 
سح موقور (حضرتمھبٹی علیہ الللام) اور امام مدکی کے پارے میں جوتقعبیلات مو جود ہیں- ان 
سے پٹ طظ0 ےک ددفوں دوشخصئیتیں ہیں سب سے پل دہ احادیث لاحظ یئ مجن میں جع 


موعوو کے تزو لکا مر ے۔ 
عن ابی ھریرۃ “ قال قال رسول الله 
صلی الله عليه وسلمٴ والذی نفسی 
بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم 
حکماً عدلاً فَيْكُيرَ الصلیب ویقتل 
الخنزیر ویضع الجزیة ویفیض المال 
حتی لاَقبَلَه اح حتی تکون السجدة 
الواحدۃ خیراً من اللغنیا وما فیھا ثم 
یقول ابوھریرة فاقراو اِنْ شْنَمْ وَاِنْ مِنْ 
آھلِ الکتاب الا لیو من یه قَبْل مَوَْهِ 
(ہزاری رج اص +3 م “مس لمج ۱صص۸۰) 


صعفرت الو ہ ری سے مروگ ے مک رسول الد 
صلی الہ علیہ یلم نے ارشادفمایا۔ اس ذاگی 
تم ضص سے بجر ش مر جان ے۔ 
قریب ےکرتم میں این مرئ ” نازل ہوں 
اکم عاو لکی عیثیت سے میں و صلی بکو 
وڑ یں گے خز کی لکریں کے جز ینم 
ہیی گے مال (پالی کا رع) سی گا۔ 
جن ڈ ےکوکی لے ولا ثہ ہ وکا یہاں م ککہ 
کر وامد دُیاو انہا سے اہر ہوگا۔ پر 
صخرت ابوہر یڑ نے فرمایا اگرتم جیاہوف یہ 
آیت پڑھو ( کیہ جس شں ا زان ہک 
طرف اشارہ ے) وَاِن مِنْ آفلِ الْكَِاب 
اب یلک اٹل کتاب ضرور پالضرور ایمان 
امس گے حفر تمھیٹئی "علیہ السلام پ> ان 
کی وفات سے مل ہ۔ 


117 


دوسری روایت شل ے 
واللهِ نون ابن مریم حکما عادلا 
(مسلم جلد اص ے۸) 
این عائل“ کی روایت ل ے۔ 
ینزل آخحی عیسی بن مریم من اسٌمآء 
(کنزاسال رح ۓےض ۸٦۲و )٥۵۹‏ 
تواں ین معان' ے ٣وی‏ ےد 
فیعث الله المسیح بن مریم فینزل 
عندالمنارۃ البیضاء الشرقی دمشق بین 
مھرو ذتین واضعا یدیە علی اَجْيْحِة ملکین۔ 
(صسلم جع ٣ص‏ ۰۱ ترذڑی ج ٣ص‏ ۴ہ 
الوداوٗر رح ص۲۴۵ امن با رک ٣۰٢‏ 


را کی تم! اہین مریم ضرور پالنقرور نازل 
ہیں کے اکم عادل نکر 


میرے بھائی کی این مرحم آسان سے 
اتر یل گے۔ 


یں اللہ نتھاٹی بے این م رم کو بی ےگا لیں وہ 
ش سے ری سید منارہ کے پا 
دوچادریل اوڑ ھے ہو ے ووفزشتوں ے 
پازوئوں پر ١‏ نے دوفوں ہاتھ ر کے ہوے 
رع کات 


عراسیلجنسن بصری ش ےک رسول اوثرصلی اللہ علیہ وسلم نے یبدد سے فر مایا تھا۔ 


ان عیسی لم یمت وانە راجع الیکم قبل 
یم القیامة 


(فخیر ری نکش رح ٣ض )٣۳‏ 


حطرتت ھی - کی وفاث گیں ہو وہ 


تمہاری جاب قیامت سے پیله اتکی گے۔ 


ران ہے حیسائی وثر سے مضور نے فرمیا ھا۔ 


الستم تعلمون ان ربنا حی لایموت و 
ان عیسیٰ یاتی عليه الفناء 
تق رک رج وص ۸۸ درمنٹو رح ص۰۳۴١٥)‏ 


کیائم خازننت یی نک مار پروردگارزرہ سے 
ہر ےگا میں اور خر تن یی رفا آ گی 


ان اعادیث سے صاف اہر ےکرک مود حضرت می این مریم علیہ العلام ہیں 


نے مھ 


الد تعاٹی نے اکیں زمد ٥آ‏ سمان پر اٹھا لیا تھا تا 


مت کے رت ہیں دوبارہ دیاٹل گنیا جاۓ 


گا۔ وہ سان ے ووشتوں کےسہادے جشن سے مترقی سفیدمتارہ کے ای ا یل ا 
ان احاویث“ یا جٴقی بھی حدشیں نزو لی بے ےم ت لق ہیں کی میں مفیل یچ کا در 
نیس ہے ینہ صاف صاف اف کسی ابیہام و استتعارہ ےک این عریحم کی این عرئ) یا صرف ۔ 


118 


ابع مم کے الفاظا م گور یں دوسری مال فور بات ہے ےک ہام عدیوں میں ”ول“ سن 
اتر نے کا مدکرہ ہے ٹس سے صاف پھ پت ےک حفرت می کہیں سے ارس مض 
یں نو آسا نکی بھی صراحت ہے۔ اود اہر بات ےک جب ک سان پہ اٹھائۓ سے ہیں تو 


نزو ل بھی دیں سے بوگا۔ 


نزول کا وش کیا ہوگا؟ ال سممتلق ب۔احادمٹ ماظہ لا۔ 


واما مھم رجل صالح فبینما اما مھم 
قدتقدم یصلی بھم الصبح اذا نزل 
علیھم عیسیٰ بن مریم الصبح فرجع 
ذالک الامام ینکص مشی القھقھوی 
لیقدم عیسی یصلی فیضع عیسیٰ یدہ 
ہین کتفیە . ٹم یقول لە تقدم فصل فاتھا 
لک اقیمت فیصلی بھم امامھم ۔ 
ان ا ۳۰۸ 


دسر عدیث شُل ے۔ 
فینزل عیسیٰ اہن مریم فیقول امیرھم 
عَال ضَلٍ لنا فیقول لا ان بعضکم علیٰ 
بعض امراءتکرمة الله تعالیٰ لھذہ الامة۔ 


(مم1صءے۸) 
ایگ اورعد یٹ شُل ے۔ 
کیف انتم انزل اہن مریم فیکم 


وامامکم منکم ۔ 
(ہاری رج 1ص ۹۰م مم خ ۱ص ے۸) 


ان کا نام ایک سا رد ہو گا میں جس 
درمیا نک دہ امام انیس نماز ہر پڑھانے کے 
لئے بد ت ےگا ا اتک حعخر تشھ کی این رم 
اق آ میں گے۔ نیں دہ امام یی بے گا تا 
ک حطر تعھے ‏ حکو ٦‏ گے بڑھات ۓک دہ نماز 
بڑھائیں۔ حخرتہ ۴یسی انا پاقد اس کے 
اتکی گے و رکیین جا گے 
بڑ یئ اور نماز پڑ حۓے' یوک ہآپ می کے 
لئ اقم تک گی ہے۔ چنامچہ ان کا امام 
یں نماز پڑھاۓ گا۔ 


ہیں حطر تشعیی این ریم انز مس کے نے ال نا 
ام کے ما ائیں نماز بڑھا یے۔ دہ “ہیں 
مےکیں خم میں ےت نحض پر امیر سے 
اس بزدگ کی وجہ سے جھ اللہ تال ی نے ا 
اص تکوعطاءکی ہإں- 


تمہارا کیا عال ہوگا ؟ جب تم یس این مرح 
اتی کے اور تھہارا اعم میں میں سے 
ہوگا۔ ٠‏ 


119 
خخرت مھت یل لکوگ لکری گے گھ یکس گے شاؤی مھ ہہوگی او دی 
+ وی وفات کے بعد تو کے پاس ڈن ہوں مے. (د ین مسلم رج ١ص‏ ۳۰۸ رخ ۲ ص۰۱٠‏ 
مد اص رج وص ۲۹ عون اسعبووش جح اپی واتذورج صن ٥م“‏ مکگکوت رج + ص۲۸۰ وغیرہ 


امام مدکی کا نام اور غانران 


اب امام مبدکی کے نام خائران اورکام کے تلق اعادیث مطاحظ کت 


عن عبداللّه بن مسعود قال قال رسول 
اللّه صلی الله عليه وسلم لاتذھب 
الدنیا حتی یملک العرب من اھل بیٹتی 
یؤاطی اسمَةُ اسمی۔۔ 
زتذی ع۴۲ص۳۹) 


عیدایشد بین مسموڈ سے مروکی س ےک رسول الشد 
صلی الل علیہ یلم نے ارشاف بایا۔ دنا شق نہیں 
ہوسحتی یہاں کک کم (ص) دنا کا مالک 
میرے اگل بیت دش سے ایک ۶ب نہ 
ہوجاۓ مم کا نام مرے می نام جیما ہوگا۔ 


یی اس کا نام شھ وگ دوسری حدیث سے پت 0۸ ےک امام مدکی کے با پکا ام 


یوالیّد ہوگا- 

لو یبق من الدنیا الایوم قال زائدة لَطَزّلَ 

الله ذالک الیوم حتی یبعث الله فيه 
دیکات ۔ےہ ‏ ہل ٘ درد 

رجلا منی اومن اھل بیتی یوَاطی اسُمة 

اسمی واسمٌ ابیە اسم آبی یملاً الارض 


قسطاً وعدلاً کما مُلِنَتُ ظلماً وجوڑا 
( الوواوٗر رح ۴۰۲صضص۳۴۰٢٣)‏ 


اگردنا کا ایک می دن دہ جاۓ و بھی اللہ 
تھاٹی ا کو ہار دےگا۔ زان تیگ زان 
یش ایک اٹ کو بی ےگا جھ جھھ ے ہوگا 
ا تمورنے ثول قرمایا کہ میرے اٹل بییت 
بش سے ہوگا۔ ال کا نام میرے نع اور ای 
کے با پکا نام ممرے پاپ دالد کے نام جیرا 
ہوگا۔ دو زج نکوعرل وانصاف ےبجھروے 
گا۔ بل نلم دجور ےھر جھی ہھگی۔ 


اس عدیث سے ہیی پت چلا کہم ہد کا 1ن پالنل ہنی اور شیک و شی ے پالا۶ ے 


م لی روایت ُل ے۔ 
المھدی من عترتی من ولد فاطمة 
( کاب رورس )۲٢۸‏ 


مبدیی میرے خاخواںل سے اواد فاطل رے 
ہوک 


1020 
امام بد لگا رختصوصیت مثرت احادیٹ وارد ہوئی ےک وہ وت اکو_ نے 
دمیاظلم وجور ےبھر بی ں7 دی عدل زاقاقی ےکوی یت شیع وضاوبت کے ددیا 
بمایس گے ان کے ماشہ شیں بال و دوا گی فراوالی ہو پااشس مگ توب پا پیرادا تی 
خوب ہوگی' لی ک1 رام و راحت اور چشلن وون سےگزرش کر سں کے ( وی سوج رج ٢‏ 


ص۰عٴ ص اے٥ٴ‏ باب اشراطِ الْسَاحۃ) 


جج مسلم ہیں گر چے”عہدی“ کے لف کی صرح تنئیں' کر جوخصوصیات میا ن گن 
یں اور جووقت با گیا سے دو ۷ دی کت و پر صاد کل آ 7 


عن جابر بن عبدالله قال قال رسول الله 
صلی الله عليه وسلم یکون فی آخر 
امتی خلیفةً یحشی المال حثیاً ولا يَمذُةَ 
عذا سم ح ٣ص‏ ۳۹۰۵) 


عن ابی سعید الخدری قال قال رسول 
الله صلی الله عليه وسلم من خلفاء کم 
خلیفة یحٹوا المال حیغاً ولا یعذَه عدذا 
(حوالہ ورہ) 
ایک اور عد مٹ یش ہے۔ 

یکون فی اخر الزمان خلیفة يْقَيَمْ 
المال ولایعذذہ 

(الہ زگورہ) 


حقرت جار بن عیدال دس سے عروی 9 
رسول الل صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرایا 
میرکی امت کے آخ ری زمانہ یل ایک غییفہ 
ہوگا جھ مال عط اکر ےگا ۔خجکن سے شا نہیں ٠٠‏ 
کر ےگا۔ 

رت ابو سید خددکی“ سے فر مایا ےکلہ 
رسول اوٹر٥لی‏ اللہ علیہ مم نے فر مایا خھہارے 
خلغام بس سے ایک غلیفہ مال لٹاۓ مار 
ےار ںکر ےگا۔ 


1 خر مانہ یش ایک خلیفہ ہوگا جو ما لی مکر ریا 
اور أ سے شا رک ںکریگا_ 


امام مبد کی بھی تصوصیت لف سی ابہام داجمال کے لف ”مہدئی کی صراحت کے 


اھر نکی میں موں مو ود ے۔ 

قال فیجی اليه الرجل فیقول یا مھدی 
ایی ٌغطنی قال فحی لە فی ٹوبە فلا 
استطا ع ان یحملَةُ 

(رح ٢۲ص٣۹٣)‏ 


رسول او صلی اللہ علیہ وعلم نے ارشاد فر ای" 
اکا یی اں ے پاں آ کر کے گا اے 
ہدی! بے روٗ جے و ئییں وم یں کے 
کپڑے میں دچا جاۓ گا یہاں کک وہ 
اس اتھان ےکی استطاعع تکڑیل رھھےگا۔ 


21 


حا نے متندرک میں شرط ٢ین‏ پرکی روا نف لکی ہیں جن یں افظا” مہری“ کی 
صراحت ہے۔ اود وقت اور صفاتمجھی وہی بیا نیک یگئی ہیں جھ احادیث پالا یش ہیں (مظرمہ 


اہن غلرو نک ۳۱۹) 


ان قمام احاد یٹ پر وش انصا فک نظ ڈا لےگا' سے مہ فیصلکرنے میس ذرا بھی 

۲ گ : ” 
ترودد تہ ہوگا کہ مونود اور مد موہ دو اگ ہ1 ہإں۔ ایل باحیات ے آءمان 
ات دوسری رسول اللرصٹ لی الد علیہ دم کے خماندان مل پیا ہو گی۔ ایک کا ا مکی 
این ریم " ے۔ دوسرے کا نام گھ بن عبدانشد ۔ اس کے علاوہ اور ھی ببت کی انگ انگ 


تصلوصیات ہیں۔ 


پچ راس حدیث مج سک سن رکوسللے ایز ہہ بکہا چاحا ہے۔ نے پالئل بی فیصل کر دیا 


کر اود مھدی' دجخصتیں ہیں 

عن جعفر عن آبیە عن جدہ قال قال 
رسول الله صلی الله عليه وسلم کیف 
تھُلک امَةٌ انا اوّلّھا والھدی وسّھا 
والمُسیخ اخرُھا ولکن بین ڈلک فی 


عفر صادقی نے اپنے باپ مھ باظر سے 
انہوں نے فربین الاب بین می بن مین ینعی 
ن ای طالب ے رواء ت کیا ےک رس٭ول 
اص ی انل علیہ لم نے ارشاو رمیا وہ امت 


المَوج لیسو امتّی ولاانامنھم “رواہ رزین کیسے بلاک ہوستی سے جس کے اوکی می 

(سککوہ ع ۲ص۵۸۳) ٹس ہوں۔ درمیان یس دی اور ٦خ‏ مل 
کی ملین مدرمان شش چھ ١‏ روگڑہ 

ہوگے جو یھ سے نہ ہوں گے اور تہ یں 

ان ے ہو ںگا۔ 

حد یٹ ل١‏ ہري ا(“ موضوم نگھرے 

ان ماج می الس بن مالک سے مردی ہے۔ 
ولاالمھدی الا عیسیٰ بن مریم یی این مرکم بی مدکی ہیں 


(صض٢١‏ باب غ ة ازان) 


جس ری کےمتعلق تقاضی مھ نز ےکھت ہیں _ 


122 


”اس حدیث نے اط تی فیصلہ دیدیا ‏ ےکجھ کی ابین مرییا بی ”ہدیا ہے اور ال 

کے علاو ہکوئی ””الہری'“ نہیں و (نام ہرگ ظبورل )٢۰٢‏ 
نے حدیث نال فملا“ وکیا ہوئی' صرسے سے لان : انا ود ینگڑیں_ دوکھی ان 

اعادی کی موجووگی میں جن میں صرا مع عیبلی این م ریم“ اور”مبہدری کو الگ ایگ شخصیت قرار 
دماگیا ہے۔ 

اگ قادمانی حخرات ال حدیث کا حوالہ دہیے سے پیل ان ماج ہکا حاشی نی دک لیے 
بھی نہیں ین تل جات وف کا شی ہے؟ اور اس لاکئی ہے یا نکی کہ 
ےم شورخ اوارےٹ کے ما لے میں ہیی نکیا جہائے۔ انا ماجہ کے عاشیہ بر صا فک ھا 
ہواے کہ علامہ ڈگی نے ڑا ان اا۴تزرال می ںتلوا نے 7 7 رر (ے میڈ گر ے) گر 
|ٛ سے پچ ل کر “تلع بھ کم ے ا ا ا 
حا کے ہیں 5ہ مجھول“ (وہ پول ے) ای طرع حافظ نے بھی سے ”رععمل ول“ 
تراردیاے۔ 

(ان ماجہہ ےی عاشیر٣)‏ 

مقر“ اہنع خلرون ٹل ے۔ 

وہالجمله فالحدیث ضعیف مضطرب (ضگ ۳۲۲)ظاع کظام 

ور ےد ضیف وخطرب ہے۔ 

رجات شرع مو میں ے۔ 
حدیث لامھدی الا عیسیٰ بن ریم عدث”لا مھدی الا عیسیٰ بن مریم” 
ضعیف باتفاق المحدثین کما صرح بە اتیپ رشن ضیف ہے۔ جیا کک این 
الجزری علی انه من باب لاقتیٰ لعل جزرکٴ نے ا ںکی صراح ت کا ہ ےکہ یہ 
زخ ۵ص ۸۰) لافتیٰ الا خَليْ کے ہاب ٹل ے۔ 

حافہ ابع تچ رعسقلائی “ کھت ہیں - 


123 


قال ابو الحسن الخسعی الابدی فی آو اشن تھی ابدل” ”ماب و شش 
مناقب الشافعی تواثرت الأخبار بان کیچ ہی کہ مبدی کے بی امت میں سے 
المھدی من ہذہ الامة وآن عیسیٰ ہونے کےستلت اعادیث 1ت ؤں اور نے 
یصلی خلفه ذکرہ ڈلک ردا للحدیث عفر ت کی" مہدی کے ج یھ زاز بڑھیں 
الذی أحرجه ابن ماجە عن انس و فیە کے اہو ای ےن اتا ینار 


ولامھدی الا عیسیٰ ؛ ردکرتے مد ےبھھی ہے۔ جے این ماب نے 
)و الباری رح ٦‏ صض ۲۹۳) الش؟ ے روایی گیا ےک تحت شیک می 
مہدی یں۔ 


علامہ یا کی ینک مبدی کے اولاد فا ٹش سے پوت ےکی اوادےِ رج 
ہے لذاصدےث''لامھدی الا عیسیٰ بن مریم ٠‏ طاہ ری ضتی یس قول کسی جاکتی جب 
کردوسند ا ضیف گی ے۔ (م٥ات‏ الا ح دص ۱۸۰) 

چنان ےننس حراے نے جو یلا تحگحگ یکی یں اور ووکی انی 1راء کے دوش بدول 
مع بد ہیں۔ جیہاں أ لیف وم کہا گی سے گرجب ال حدیث کا با نتقحاقی ح رشن ضیف 
ومگر ہوع خابت چکا ہسے۔ لے مرے ال شں جو یلات تح یک ےکی چتراں ضرورے 
کی جای۔ 

ایک تال ہو ربات بی ےک ای عد یی ٹکو این لہ نے ص٢۰٣۳‏ باب شدة الزمان 
کے تن نکیا سے۔ ج بک ہ1 کے پچ لک رص ۰٣۹‏ پر خودی باب حروج المھدی (ہرل 
کے فو کا باب ) باندعاے۔ وہاں ال حدی ٹکوگلں لاۓ وہاں ‌عرف دی عدشیں ئف لکی 
یں جو مدکی کے امت ھ یہ یا اولاد فاعلم. ٹم نے نے کے تی میں ان ے سا کا 
کہ این پاچ خودگھی ا حد بی ٹکو اہی می پگ لی تی ںکرتے ھھے۔ ور باب خروج 
المھدی رق رت 

ججاں تک اس با انی ہ ےک ہکتز لعمال می بھی ہی حدیت موجود سے قز اس کا 
خواب مہ ہےکددہاں پہ ا سند کے ساتھ ہے جوائن ماج جس کے اذا اس کےبھی وچو وضو 
ویءٍں 22 جو امن یب ہکا روایت کے ہیں_ ۰" 


14 
یونک من اش منہم آن تلقی عیسیٰ قریب ہ ےکم مم سے جوزعدہ رہ دہجئی 
ابن مریم اماماً مہہد یا حکمَا تَا الخ این میم سے طائقا تر ددجا لہ وہ 
ام ہری اور امم عادل ہوں گے۔ 

اں ردأاِت سرمتحلق جضی مر نز رر آکعت ہں۔ 

اس میں صاف الفاظہ یں مو یھی این ریم کو امام مبدری قرار دا گیا ے۔ (امام 
مبدی کا تظ جو رگ )٥۹‏ 

تر ضی صاح بحکومعلوم ہونا چا کہ یبال پر ضطرت شیک علیہ السلا مکو ”امام 
مبہدرکیٴ لفوی می مم لکہا گیا ےن کہ اصطلاگی مصعتی میں ” عبدی کے لف وی مع ہیں ”رایت 
یافت ‏ طاہر سے ک گر ہدایت یاف نہ ہہوگا کون ہوگا؟ اور امام کےمعنی ہیں چچیجوا اور مقتری- 
ظا ے مک مق رپوا اورخمنری بوتا سی ے۔ 

یہاں بر ”بی“ کولفوی مجن پبگمو لکرن ےکی خاٴ اور بفیادکی وہ ىہ ےک جن 
شن احادیث میں ”دی“ کو اصطلاتی معتی می استما لک یا گیا ہے۔ وہاں مہدکی کے سا ھکوئی 
صض نہیں (ائ یگئی ۔ بللہ مطلتا لفعظ ”دی“ لا یا گیا ے۔ (اس سلسلہ میں تا رسی نکرام چیہ 
صفیات میں مہدی یق احادی ٹکو ایک ہار پھر دس لی 

انس کے علادہ الع احادیث میں ” بی“ کومند الیہ یا مو کی یت ے لایا گیا 
سے ت کہ لو رصفرتں۔ اور ےہاں پر دق“ تی بن مری کی صفت وا سے۔ اور بی ایک 
صض نیس سے بللہ اس کے عادوبھی اس لفظظ سے پیل امام اور بعد میں“ش عم“ اور”'عدلی “کل 
تن تین صفات اورھی موجور ہییا۔- 

بجٹ اصطلاقی مدکی سے سے نہک ۔لقوکی مبدی سے۔لغوی انقبار سے نو مسلرائوں 
کے چرام رخلیش کو جو 01 را بر گامرن ہو ”امام ہدی'“ کہا جا سکتا ے لن اں لفوی اطلاقی 
سے وہ اصطلا تی مہعدبی نیس مین سا 

اِمامُكُم نگم “ کا مطلب - 

تقادیالٰی جحقرات نے شی این رم اود امام مدکی کے ایک بہوت ‏ ےکو اس حدیث سے 
بھی اب تکیا سے۔ 


.:.5 


کیف انتم اذا نزل ابن ریم فیکم خم کیے ہوم تم مج این مری) اتریں 
وامامکم منکم کے اورتہارا اما میں میں ے ہوگا۔ 
(بخاری رخ اف ۹۰م“ مم اص ء۸۰) 

عدیث کے الفاظ''وامامکم منکم “ کا7 جم قادیا نی حعثرات مو کرت ہیں۔ 

”اوردنم لن ےگہارا امام ہوگا۔ می بی امام باہر ےکی ںآ ےگا امت گھب مل 
ے تام ہوگاے (امام ہدک کا چو رگ )١١‏ 

این اس جنیادیککتدکو یاو ری لکہ اس حد یٹ کےکتحلقی اصل پٹ ہہ ےکہ جب 
حر ت میک علیہ اللا مآ سان سے اتر یی گے نماذی امام تکو نکر ےگا ؟ خر شش یا 
امام مبدیی ؟ اس بات کے صاف ہو نے کے بعد ہی عابت ہو ےگا کہتادیانی حعترا کو پرکورہ 
جم جج سے یا خلط اورا نکامفقصوداسل حدیث سے عابت ہوتا سے پانیں۔ 

اس سللے میں ب احادیث ملاحظ ہکھا۔ 
فینزل عیسیٰ بن مریم فیقول امیرہھم ول مھ ی این مریم اتریں گے مسلراٹوں کا 
تال ضَل نا فیقول لا ان بعضکم امیر کے گا 1 یئ !یی نماز بڑھا یے۔ دہ 
علی بعض امراء نکدمة اللہ تعالیٰ' فرائئیں گے .نہیں تم میں سے بح بض 


لھلذہ الامة۔ پمیر ہیں ائ فی مکی بجر ے جھ اشا یٰ 
زسم اص ے۸) نے اصت ئیکو عطا فقربالی- 


ان تج رخسقلا نی مند اہ کے حالہ سے حخرت جا مکی روا ینف لکرتے ہیں۔ 
واڈا ھم بعیسیٰ فیقال تقدم یاروح الله اچاکفک اع کے سا حطرت جییی ہوگے 
فیقول لیتقدم امامکم فلیصل بکم کہا جاۓ گا۔۔ اے رو اللہ ! گے 

(ین الپاری ت٦‏ ص۰۳١)‏ ہد ےن وہ ہیں گج جا ےک ادا دی امام 
گے بڑھے۔ اورنماز پڑہاۓ۔- 

ابکن ماجہ بی اس ےبھی زیادہ صراحت ہوگئی ےک امام مطرت مز یئ نہ ہوں گے 

لام مہدی ہوں کے 


126 


وامامھم رجل صالح فبینما امامھم 
قدتقدم فصلی بھم الصبح اڈائرل 
علیھم عیسیٰ بن مریم الصہح فرجع 
ذالک الامام ینم یمشی القھقری 
یم عیسیٰ پصلی فیضع عیسیٰ یدہ 
ہین کتفیه ٹم یقول لە تقدم َصَلِ 
فانھالک اقیمت فیصلی بھم امامھم 
(این ماگ ۳۰۸) 


اب شمار نکی 1راء طا عظ ہک ۔ 

الاری یش ہے 
قال ابو الحسن الخسعی الابدی فی 
مناقب الشافعی توائترت الاخبار بن 
المھدیٌن ھذہ الامة ون عیسیٰ یصلّی 
٣ (‏ ضص۲۹۳) 

عبدة انقاری یں سے 
معناہ یصلی معکم بالجماعة والامام من 
ھٰذہ الامة 
(رع ۱۷صم) 

رات الفان شش ے۔ 
والحاصل ان امامکم واحد منکم دون 

رع ۵كض٢٢٣)‏ 


ملمافوں کا امام ایک مرد صا ہوگا۔ ہیل 
وریان کہ وہ لام ہیں نماز ۳۴ 
بڑھائے کے لے آکے بت گا۔ اچک 
حثر مکی این مریم پتر نیس گے یں دہ 
انام چیہ گا جا کہ حفرت مھ یکو آ گے 
بڑہا ۓےکہ وہ نماز پڑھاتھیں۔ حطرت شی 
انا اھ اس کےکند ھھے پر ریس گے۔ اور 
کہیں کے ۲آ کے بے حے اور نماز پڑھاے 
کیڑنگ؟آپ می کے لے اقام تک یکئی ے۔ 
چنانچا نکا امام آنئیں نماز پڑھاۓگا۔ 


اب اس ن ھی ابد منا تب شاف کے ہیں 
کہ اس محاملہ یں اححادیثے توات رکو پہو یچ گئی 
ہی نک مبدیی اس امت کے قردہوں کے اور 
حطر میک ان کے جیچیے فماز بڑعییس گے۔ 


ا مم مم“ کا مطلب ہہ ےک رحفرت مکی 
تمھارے ساتھ بامجاخت نماز پڑڑھییں گے 
اورامام ای امت مل ے ہوگا- 


عاصل یک امام شجہیں میں سے ای کش ہو 
گا حر گی " - 


127 

الن اعادیٹ و گپارات سے صاف ظاہر ےک نول کے وت امامت" ام ہر یی 
کریں گے۔ اورحضر سی علیہ السلاام اس دش تکی نماز امام مدکی یک اققرام یش اد اکر یی 
جم ان اادےیےٹ سے ے بات گا صاف طور رمعلوم ہ وگ یک فزول جج کے وش تح نام ہرک 
ےہ ے ہو جرریوں 2 

مک سکم“ کا خر جمہ....' در خحالیکیہ دو این ھی تم یس سےتھہارا ام ہوگا“ 
کو ہیں بللہ جم وں ہنا جاۓے ...ور خحالیل تہارا امام ہیں مس ے ہوگ“ شی ام 
پیل سے موجود ہوگا۔ اور تفر بھی " ای اما مکی اق ا مءکربسی گے۔ 


ایک اشکال اور ال کا جو اب :- 

اس شک گی ں حر تم یی لی بنا و علیہ اللام امام مہدی رت ای و7۸ 
ہوں گے۔ پھر اشکال سے ےک۷ ہآ خر حطر ت بھی " کے ہوتے ہو اماصتۂ کیوں امام مہدا 
ری گے اور خووحضر گیٹ علیہ السملام بھی انچ یکو آ گے بڑہانے ب رکیوں اصرارکر سی گے۔ 

چر فضل طری یی سےکہ اماہت فن لئ یکرے۔ پھر حفر تی " یت 

انل ط ریت ہو زکر خی رخف لکیوں احقیارکریں گے؟ 

اس اشکال کا جوا ب می شارن حدےثٹ ے دیا ے۔ 

چناٹچہ این جوزی کے ہی ںکرحفرتمیلی علیہ السلام اماعت کے لے آ کے بڑھ 
جایں کے نو بر مہ پیدا ہونے مگ ےکہ پی نیس حفرت مکی " کا 1 گے بڑھنا ‏ رسول الڈصی اڈ 
علیہ ویکم کے غلیفہ اور نام کی حیثیت سے ہے۔ یا ئل شار کی حیثیت سے۔ اپنرا حضرت 
یی علیہ السلام ای ش کو دو رکرن ےکیلیه امام مہدبی کے تی مقنذرکی ب نکر نماز پڑھییں گے تا 
کہ یہ بات صاف ٭ چا ۓگ ال ن کا زول بثیت شارع کےکیں بللہ بھشت شراعت مصطقوبے 
کے ایک شع کے ہے یہاں ت ککہ نیا ہونے کے باوجدانہوں نے امت مھ یہ کے ایک فرد کے 
یناز بڑھ لی۔ اس سے رسول الڈص٥لی‏ اللہ علیہ ومحم کے اس فرمان لا نب بعدی (میرے بعد 
کوئی بی نیس مبحوت ہوسکتا) ک گی تقصدبتی ہگئی۔ (ر الباری ح ٦‏ ض ۹۳م) 

مات اذا ٹل ے۔ 


1028 


(فیقول لا ای الاآمیز امام لکم انل حفرت یٹ ' فرائیں مے میں تہارا انام 


وَكُم باماعتی لکم نسخ دینکم یں نہوں گا۔ ماس لئ تا ہمیرک امامت 
(ح )۲۲۲٣۵‏ مہہرے رک تمھارے دیع کے سخ کا دم نہ 
رب 


ین امام مہد کی جی امامت مستفل امات نہ وگ پگ صرف ای وقت ہ وگ 
جب حطر کی ” کا نزول ہوگا۔ اس کے بعد ج بتک حضرت گی " زعرہ رہیں گے۔ 


حطرت مکی علیہ السلام تی دامت فراکیں گے نین جو أضل ہوگا۔ وی 
امام تکر ےگا الہتہ پپیلہ دن امامت سےگریے ال لیے ہوگا جاک جوشیہ پا ہونے والا 
ہو۔ وہ زائل ہو جاے۔ اب جب ایک وقت (ووبھی آ تے ھی ) امام مدکی اترام شش 
نماز پڑھ دہ اتال رخح ہوگیا ا رش بت مر نگ کا استتقزال وروام ثاہت ہوگیا لو بعر 
میں حفرت صلی ہی امامت فرباکمیں گے لی علیہ السلا مکی مات سےصس یش مکا اشکال 
یئ ہونے کا سوال بی نہ ہوم اس لیے متا حقریت حسٹی علیہ السلام تی اماصت ربائمیی 
کے (د مک تتصیلات ےل ا ح ٢‏ ضل٣٠۳۰ٴم٭ت‏ الٰفاٌ ى۵ ضص٢٣٢۲)‏ 

کوٹی شبےکرستنا کہ 

مل شر ری کی بحض رات میں امک کم“ مور“ کم مھ“ کے الفا ط7 ے 
ہیں مجن سے اہ رہوتا ےک مامت خقر تی تی فرانسں کے اور امام مبدری مقتزی 
ول سج ہم کے می يک ہا سےکھی تا دیالی ضرا تکا رعا عاب تکیں ہوسلما کول 
جیارے وآورہ الا جھابپ سے صاف ظاہر ےک امام بد ےا نی یی لن اور وأ 
امام (انخلیت کے اعقپار سے ) حفرتعہلی ہی ہوں کے اورصرف ایک وقت امام مہدکی کا 
ایام تکرن اىی ش کو زا لکرنے کے لیے ہوگا۔ جواوپہ بیا نکیا گیا اود اس وق تک انامت 
بھی حفر تی سے می عم اور شی نے وو کات 

اں کے ساجھد بی مسلم شری فک اں رواىت نے تادیاٹی حخطرات کے اک 
اتراش ش کا جوا بھی فراہم کر دا جو ان کے شیال یں خہایت ہی م رت الااراء اترائش ہے 
اور الا وہ ھت می کہ ہہمادرے پا ان کا جوا ب یں رت 


1029 


اعترائش بی ہے ۱ 

ا۔ سحقر تح کی بعشت بی اس رات لکی طرف ہوئیئھی او رتو کی ات ہارے 
عا مکی طرف اب اگ یقیدہ رکھا جال ۓےک حقرتش ہی می کچ موگود بی نکر 
آئہیں ہے؟ او کیا یقید وضو کی اس خصوصیت (سمارے عا م کے لے ھی 
ہونا )کویں وڑ؟ 

۲۔- اگ رش نبو کا مطلب ہے ےکر تفور کے بح دکوئی ھی ت1 ے تو ححضرر تج کا 


آن کشم نبوت کے منائی نہ ہوگا؟ 
۳۔ اس انقبار سے نام انی حقر تک علیہ السلام ہو ۓےکیوکہ ان کے بح دہکوئی نی 
نہ ۓ گا حضورسلی اللہ علیہ دآل ہوم ام کے کےکیوکلہ ان کے بعد 
رت شی علہاسلام1 میں کے (د یھت نزول اع ص۵۳ از ھن مھ یز ) 
ال اعترائ کا بت تی سان اورسیدادسادہ جواب سے جو اعت ا لکی تیوں 
تو ںکوشائل ہے واب بیو ےک حور کے بح دکوئی بی نہ ن ےکا مطلب ہہ ےک رحضوصلی 
اش علیہ دآل ہم کچ بعرکرئی یا مبحوٹ شہ ہوگا۔ اہر ےک ححفر تمہ کا زول صرے 
کیاکی بعشت ن ہو یکیو حعفریتمیلی تو مو رضلی الدعلیہ دہ لم س ےکئی سوسالل پل 
مبجوث ہو گے تھے۔ اور جب لعشت نہ ہوئی تو سوال یت ہو مات ےک نضر تی لے 
ال لام صرف ب اعرا 2 کے میے نی ہوں گے با حفو لی اللر علیہ د1ل ویلم ا طرت سارے 
ا کے لے۔ بت پر وارو مدار تھا عقید تم نو کا بھی جب لحشت ن ہوئی و رت 
یک نول تم وت کے منائی ضہ ہوا۔ ال رح خاقم نین صضورسلی ال علیہ د1ل وسلم خی 
رہے نہک ہتفر ت میک علیہالسلا مکیوکہ خائم این کا مطلب تی بجی ےک جو رسکی اللہ علیہ 
لہ لم کے بحدکوئی نی مبحوث نہ ہواورن-اہر ےک جو کے بھدکوئی یم جوث نہ ہوگا۔ 
دپا وا لگ ہگیا ثھدت س ےکہمعخرت کا نزول بھیفیت بعشت نہ ہہوگا۔ اس کا 
جواب مس لم ش ری فکی از بمٹ روامت یں موجور ےک رسول اش لی اللہ علیروآل ہم 
نے ححفر تھی علیہ السلام کےا تلق ارشاوفر مایا اں ۔ 
دامکہسکم*“ 
اوروو امامتع نر سی ےتارک تین اعت 


10 


ین ھا ری ش نیعت کے مطابت نماز پڑھائیں گے ( نہک اپکی ش اعت کے مطابق ) 

اس روامت کے ایک رای ان ال زبپ اوران سے روا یتہر نے داے ویر ۱ 
بن لحم ہیں ولید بین سم کے ہی ںکہائین الا تب نے بھ ‏ ےکیا۔ اتدری ما امکم منکم 
(کیاتم جات ہوک تعفر تج تہار یکیا امام تکر یں گے .میں جس سے؟) دلید بن سلم 
نےکھا انج رٹی (آپ می تاج ) انھول تےکہا۔فامکم بکتاب ربکم عز و جل). 

”وسنة نبیکم صلی الله عليه وآلہ وسلم“مشتی ددتہاری امام تک یں غَ 


تجھارے رب عز وی لک یکتاب (ق ران ) (صسل رخ اص ے۸ بارى خ۷ ضص۹۳٣٣ّٗ‏ 
١م‏ خ۲ص۲٢۳)‏ 

بی صلی اللہ علیہ لہ نل مکی سطت کے مطابی 

طب رای می عبرارڈہ بین “ضف کی روات میس ے۔ 

”ینزل عیسیٰ بن مریم مصدقا بمحمد علی ملتہ“ (ّالپاری ع٦‏ ص۹۱٢)‏ 

یی این ریم اتریں می اللہ علیہ وآلہ و مکی تقد بت کرتے ہوے ان 
کے ف+ب پ 

وی ٹل ے۔ 

”ای ینزل حاکما بھذہ الشریعة لا ینزل نہیا برسالة مستقلة 

و شریعة ناسخة بل هو حاکم من حکام هذہ الامة. 

(نودی یلم اص ‌ع۸) 

حر ت میک" علیہ اللام اترہیی مگ بی شرییت کے مطابق تل 

رسمالت وشریعت نےکرنکی ںآ میں گے دہ ادیان پاقیہ کے لیے تا 

جن جا بلددہ ای امت کے <کام ٹس سے ایک عام ہوں گے۔ 

کیم می ہے۔ 

بی فا میں پیم کا مطلب بی ےکر حطر تشم تمہاری امام ت کر 
گے ان کے ہو ےکی عالت مج سنکھا رے دنا پہ۔ 

مرقات الذاظ ٹل ے۔ 

”ای یومکم عیسی' حال کونە من دینکم“ زج ۵ ص ۲۲) 


131 
امام تگر ل ےکی ان کے ہوزن ےکی حاللت ھا رے دبین پ۔ 


ایک کیا 


ایک تا ئل فو رکھتہ بجی ےکہ زی بنٹ حدیث مل رسول ا شی اللد علیہ وآلہ 


لم نے امت مھ کی خوش تی اور نھییہ درک یکو بیان ٹر ایا ے۔ کیف انتم اذا نزل اہن 
مریم فیکم و امامکم منکم“(م کت اج اورغلقصت ہو گے_ جبم میں حضرت 
شی علیرالسلام نازل ہوں گا عال ‏ ےکتھارا 'ا ہیں میں سے ہوگا۔ 


اس خیش مت کی دو دی شکل ہوکتی ہیں تیسرینہیں_ 
حطرت شک علیہ السلام کے ہوتے ہو امت گھب کا یی اعزاز ہوک اماصتٹ 
ام تکا تق یکوئی فرورے_ 
ایی جار کیج ٹیں۔ 
”یف حالکم وانٹم مکرمون عند اللّه تعالٰی والحال ان 
عیسلی ینزل فیکم و امامکم منکم و عیسلیٗ یقتدی بامامکم 
تکرمة لدینکم و یشھد لە الحدیث الاتی الخ“ 
(متت الا ئٗ ۴۵ص۲۲٢۲)‏ 
کیا عال ہوگ تھارا ایی تم کے خث قمت ہو گ ےکہ) ال تو 
کے فزدیک ال اعزاز واکرا مکھمپرد گے مال مکش لی ابن میگ تم 
من انی ے اورتھہارا ا میں ٹش سے ہوگا اورم] ھا رے 
اما مکی اقدا ۷ری ہے ےہ گھادے 
دی 2 اعمزا زکو اہ مککرتے ہہوئۓے اور ال گی تایآ نے والیٰ 
عدث (روایت جابڑ) گج کرلی ہے۔ 
اامت حطر تگھہئی علی دنا و علیہ السلام و یکم بی لین ای ش ریت 
کے مطاب نیس بللہ امت حم یکو عطا کرد ش رلبعت کے مطال جیا 
این اپ ذخ بک رداعت ے پھ چلا-۔ 
وووں یں سے جومغو مبھی لیا جاۓ تادیاٹی رات کا یہ دکوکی اب نکیل ہو 


سکم کت اباعت مرنے وا مکی امت ھی ٹل ے ہوں گے دو یی ابین مرک تہ ہوں 


132 
جن سم تحلقق رتح الی السا ء کا عقیرہ ے۔ ت- 
نرہ پالا میاحثگ سے صاف ظاہر ےک رحفر تھی وی حر گیٹ ی می میا و 
عل اللام ہوںل گے جو زند ہآ سان پاٹھا لیے گے اورمہدری امت .کے ایگ رد ہوں 
گے ول 5 ے وت موچودہوں گے زا دوڑوں ایک میں ہیں دومعصمتیں یں - 
(وما علینا الا البلاغ) 


ہر( گے 
زے لیب 
استازی الگرم حخرت مولانا جر پرایڈر صاحب درہوا سك رامت برکا مر کے لیے حا مقدس 
تٹریف لے گۓ۔ آپ کا ارادہ تھاکہ اب والہں پاکستان ٹیس جاؤں گا۔ پرینہ لیب قیام کے دوران 
تا ۓ ا برار صلی اللہ علیہ ول مکی خواب میں زیارت ہوگی۔ آپ نے قفا اکیہ مال دی ن کا کام ہو رہا 
ہے۔ پاکستان یآ پکی ددرت ہے پاکستان میں جاک میرے بی عطاانڈد شا عمار یکو میرر سلا مکنا 
او رکناگہ شت خبوت کے ماؤیر قیمارےکام میس گنبد خعنراء میں خوش ہوں وٹ رہو ٴا سکا مکو غوب 
کرو میں تمارے لےیے دعاک رتا ہوں۔ 
حضرت ور خواست رج سے وا ہی بر سید حے مان آئے۔ شاہئی چا راکیب تے۔ خواب نایا شاگی 
تز پک رین گر گے ۔کائی دم بعد وش آیا بار بار ھت در خواستی صادب میرے آقا موی نے مرا نام 
بھی لیا تھا معفرت ورخواستی صاہب کے اشبات میں جواب دی پر کچل روج دک یکیفیت طاری ہو جاتی- 
اں ط ىںل سے ند آشس شش 
غی اں ے مئ لن ۱س 
یے مب ری اب ٹل یں > 
ے ۔۔ے.۔ جلغ ہے شس 


صراۓ گر 
اک ار آپ نے ود فرایاکہ اگ میری قیر کان اکر من کی قد رت ضمہیں طاقت نٹ سن 
لیماکہ میری ش رکا زرەڈرہپار رہہ وگاگہ ”عرزا ایا نی اوراس کے مان وا لی ےکافرریں'۔ 


13 


ملمانوں کےقبرستان میس اد بای کی نی ن؟ 
موا امش یش رفرید مدظلہ 
2 اہر وصرررارااقاً ددارا لعل متا یڑ ل) 


زنط ان ۳ ا ششر نط :اط اک۱ رط ل: اہ اط ا اہ: ‏ مط ہ ط ارای مسہ معط طط ا ا ام قد طط حم ارم رہ طط لہ لہ ام قمہ قح مد سم رر مد سد 


چم 
٦‏ 
تی 
3 
؟ 
:3 
٦‏ 
کٹ 
را“ 
02 
:0 
کت 


امتھقاء :کیا فرماتے ہیں علاءکرام اس متلہ ٹ سرن قادیالی اپنے مردے 
۱ مصلمانوں کےقیرستان میں و نکر دی ہیں اور سلمانو کی طرف سے مطالبہہوتا ےکسان 
کوڑکالا جا ت کیا تقادبانی کا مسلرائوں کے قبرستتان ٹم ڈ نکرن جائکزنڑیں اورملرانوں کے 
ایںطر کلک اکیا جوا ے؟(سال چادیراتّال۔وں) 

الجواب: : قادیای کافر اود مھ فی ںیہ قاد انی دوک اسلام کے با جووضرور بات 
اسلام سے الگا کر ہے میں اودایکوارتر ا وا جا ا ے یکا فرکسلرانوں کےقرستان یس 
نکرنا چائزنیں ہے(ہند یع ا ص۱۵۹) بک کفاراورٹرکین کےترستان ین نکیا ا نے 
٤‏ و فی سر کی ےمان نف دک 
یس دفمایا جا ۓگا۔ (ا محر رن ۱۹۱۳) او زمر رکا تو کفار کے قبرستان می بھی ژ نر نے کے لے 
زین دیتاممنوغ ہے بکمرافیرنسل وفن کے کے کی طر نس یکڑ ھے گا ڑا جا ۓگا۔علا مہ 


14 


ان نک فرماتے ہیں: 

ا مر نل زان ون بای فی رو کا لکلب ولا 
دع لی مَنِ انل اِلی دِنهمُ كُمَا فی قتٔج الْقِیْر زالبحر الرائق ج ٣‏ ص ۱۹۱ 
ورھکذافی الدر المختاں) 

پزا ای قادیانی کا ملمانوں کےفبرستان میں دفقانا شر ما جائزنیں ے اور! ری 
چک مصلمانوں کےقبرستان یس تاد یانوں نے تاد با یکو ؤ نکر دیا نو چوک ملانو ںکا قرسان 
صرفملانوں کے لیے می ونف ہوا ے کا خی کے لی ےکیں ۔ ہنا اس صورت می ادیاٹی 
ناصب مور ہوں گے نو اس ط رت سے کاف رکوس لمانوں کے تبرستتان میں بن نے کے جم 
کے ساتھ جس خص ببھی لاز مآ گیا ادراس کے ساتھ می کے می کو اکر چہ اسلام ن ےگحتزم 
کہ رایا ےگ ککافر اور مر ھکوڑیں (درختار دم رھوالہ الا ) اود ای طر ذارا تار مل ے عظم 
الذمی محترم الخ اورردا ار ے: 

ول عَظُمْ اللمی مُحْمَرَمٌ الخ فلا یُکُسَر اِدَاوٴجد فِیٗ قبْرو ل‌نَه کمَا حُوْمَ 
ِيْذَانهُ فی حَيَاق لی قولِه وَآما آَهْلَ الحَرْب فَإِنْ ایج لی ييهمْ آلخ (عا ص۸٦٦)‏ 

اورمرت رکا اگ ری ہے ہے۔ چنانی ینس طر کب بی کےاکی سے تسا واج بجی ںای 
کی ےس را کی زم کن ےن ناک کو 
ملانو ںکیاکسی نز الف کی موقوف چز لی کاف رکا رہ 


ڈانے_(ہپٹر ى٘ت ٣‏ ۲) . 
وَفیُ الْحَدِیث المسْلِم اخُو المُسْلم لا يَظُلِمُة وَلايُسْلِمُة. 


(مگلو ۷ع“ص۲۲۷۰م) 

اپزا صورتي و ٹل علادہ کے لوکوں پلانم ےک وہ ا قادیاٹی می تکو 

ملمانوں کے قبرستان سے فیا لکرس یکڑ صے میں ڈ نکر ومیں حاکہان جرائمکا از الہ ہو جافۓے 

اور ِصور تل 7ا مکی صورت نہ وگ کوک خحص بک صورت میں مسلران می تکا ین بھی 

جائتزے اورکافر ومری رکا نے بط لی او جائز ہوگا۔ ندب یل ے۔ ال نٹ ند مَافی ذُلْنَ 

مُدةٍ طَوِيْلَة او قَلبْلٍّ لا یسع إِخْرَائُ من غیر عذر والعدران یطھر ان الارض 
مفصربہ (يج٢ٴ۴ك٠٠٤٣)‏ 


135 


اوراگر پالفرنش بن ٹین وہال کسی ملا نکی اجازت سے ہوکی ہو ال ںکاکھی 
شرما کوئی اخقباریں ہ ےکیوکلہ رق کس یکو وص لننی سک زج موقوف ہا ج تق اورجبرل 
و 

ردالقار ٹس ے:فَان شرَائط الوَاقفِ مُفَبِرَةاِذا لمْ حالف الشَرْعَ وَهُوَ 
مالک فَلَه ان يَجْعَلَ مَالهُ حَيْک يَشَاء.... اق ' ع۳ ض ۳۹۵ر / فَرْطٔ الْرَاقفِ 
كَنص الشارِ ع ای فی الْمَفهُوُم وَالاًلالَة وَوجُوْبٍ الْعَمَلٍ ... ار اود ایر نب ظاہر 
حوظط ہ کہ چوک ہقادیالی صورت بکورہ یں مسلرافوں کے وقف کے فاص کہ رگئ ہیں اود اس 
یس تر کر کے اپنی ممیت اس مس ؤ نکر دی ہے اور ای مصصورت می الے وف 
مفصو کا استردادضروری ہے۔ اذا ملرانوں پہ مازم س ےک جس طرح بھ یئن ہھ بے 
مفصوب وف کا استرداوک ٹیس ۔ جنر یٹ ے۔ 

وَلَو غصبھا من الوَاقِفِ اُوْ مِنْ وَلِیْهَا غَاصِبّ !لی قَوْلِه فَإِن کَانَ 
الْعَاصِبٔ زَاد فی الْرُض مِنْ عِندم ان لم نَكُنْ الزیادۂ لی فو فَإِنْ یسترد الارض 
من الغاصب بغیر شی( ع ٢‏ ص۰٣٢)‏ 

تعیہ: اورجنس طر ع کہ ابتدا مکافر اود مت کی ننفین مسلرائوں کے قبرستتان میس 
نوع ہے ای ط رح بقا جج یمنوع ہے۔ 

َڈلّ لی ذٰلِک مَا فِیٗ ندب نصہ ہذا مقبرہ کانت من المش رکین 
ارادو ان يَجُعلوْهَا لِلُمُسْلِمِیْنَ فَإِنْ كَانَ انث اثارھم فَيإنَدَرْمَث فلا بس 
ہلالک وَان بَقیّث اَارھُمْ با بٔقی مِنْ عِطَايهِمُ شَیٗ یش وَبقیْر تُميَجْعَل مَقبرَ 


فلا ئل : اورسلم شرلی فک عدیث ٹل ے من رای منکم منکر افلیغیرہ 
بیدہ( جا شص۵۱)اس لیے مسلرافوں پر انس مک رکا ازال ضروری ے...... بی تق باصواب 
ے تعلومت اور وانفین اور متا کی بااٹ اشفائ پر ضردرکی ہ ےکہ وہ اس مب کو نلوانئیں یا 
ٹگائیں۔(ماہنام ان اکوڑو مک ) 


136 


مان عبیر ال دس نی اورمیل ٹول 5 علیہ السلام 
ْ سیر عطاء ان بفارل 


ہرز فلام اض قادیالی علیہ ما علیہ نے این زندگی اور ا شود سا خی مناصب کے 
لیے جہاں رن وحد یت می نیف تقیر وتبد کیا وہاں :مع علاء یا اسلا فک عپارنڈں 
کوبھی اپنے عق میں ای ””ف نف ری سے خوب استعا لکیا ھرزا ہگ یی جسمانی اود روعالیٰ 
ن ےب یی رفاقت ادا ۓ ہہوۓ می وطبرہ اخقیا رکیا ہو ے اور بمارے اسلا فک 
ارت کو عذف وخ کر کے لوکو ںکو قا لکرتے رت ےک جناب فلاں نے ایی ےلگا 
ۓے نے گرم رزا صاحب نے اس طرح لکھ دیا کیا عذاب آ گیا اورمسلمائو ںکو یہ پاور 
گر ےکی مو مکش ںکرتے نے ہی ںکمرزا صاخ بگ امت کے دیار علا مکی طرح 
اکن ے اور ال کا ہے وطیر ہختصوے] حر می روں اث علے الصلو ج والسلا مکی حیات 
اٹ اورغزولل کے بارے شں بہت اذیت ناک سے اط فک جات مہ ےک ھرزالئی ال 
کاروائی کے لیے دین شہ جاۓ والوں پجخون مارتے ہیں اور وہ نادان صسٹ ہر می ںگر 
جاتے ہیں پچھر اترار کے پاس بھاگے ”ھا گ ےآ تے ہی ںکہ مارے ے .گی ایک ھرزالی نے 
یں ببہت ٹن کر دکھا کوکی 1 دی ریں۔ میں نے بہت سےآ نے والو ںکو جواپ دیا 
کہ جٛ٘ سآ دی ی کی آ پکوحلاشل اور صروريی ے آدی آپ کے ام2 ے اے جا شض 
بیدارد وشیا رک میں عرزائی بجھاک جا گا اس دور کے محاشمی میوانو لکو یہ با تبچجھ بینیں 
آی وہ دنا کے کچ ہیں پھاگ رے ہی کی او رکی تو کیا یں اٹ یھی ہی نہیں ہوئی 
جس آتھیں نز بارہ پیدرو ھن ےکا مکر نے کے بحد شا مکوجوری بجر ہوک ملئی چابیے اس کے 


17 


۱ ےی ریما کی نآ تے نے آپ سن رجے ہیں اتی کائکات سے بھی 
طربح امل ہیں ۔گمزش تکئی بیس سے تھے مرزائوں کے ضس گوروں سے ضل ےکا اتال ہوا 
مفتگ بھی ہوئی ان میں سے نف ن کہا کہ موم نا عید اللہ سندیھی نے حیا تی علیہ السلام 
کا ایا رکیا ے می ن ےکہا نیما ہرگ نیس مول نا تو عنہبی علیہ السلام کے نذول کے تال ہیں 
اور جن نزو لک انل سے دہ لان اس جا تکا بھی تقائل ےک سید ناس منقدس علیہ السلام 
1 ساوں میس زندہ ہیں قیامت کے قریب نازل ہوں کے ىہ نے ہوکڑیں سکا کہ مولا نا عیدر الد 
سندشی رحمتت انل ق ر1 نکی تق رلکھیس اور ا نکی نگاہ سے قیاصت وعلامات قام تی آیات 
ال روگئی ہیں ۔ موا یغیرمیں 

ز۵ لم لِسَاعَةِ فلا تَمُتَرْنْ بِهّا وَامَبمُوُن. هذا صِرَاط 

مُمْتَقِیْمہ (پ ۲۵ سورۂ زخرف) 

اور وم قام ت کید بعلاہت سے انل میں ممت ار ککرو اور مرا 

کہا مان ہی ایک سی راہ ے۔ 

دالا عقام پڑ تھے بی رمولانا کے ذمہانگار حیات سک ی ہمت کے سوا ہیں بیوکلہ 
می یی ہالسلام کے ز من پر نزو کا خقیدہ ھی ںآ سا لوں میں زندہ مانے اخرورست ہینہیں 
۱ جواد یں 000 عابتا ھا کہ جن لوکوں کے اس مولان تی ھی 
موجود سے ان سے" لکر اس ما مکو و یکھا ا کر و و از ات کان چرم 
صائی تک نہ کے مان ےون بس مو نا مھ صد بی ولی ا می چو موڑان عبر الد 
سندڑشی رت الد 0099 ینھکر فر با فف لا و یس نے ان سے 
اس منلہ پر بد یتضحیل ‏ ےگننگ کی نو مولانا نے شفق تکی اور مولا نا سنڑھی کی شرح 
طدعا ت کا جنٹمی أمخہ مولا نا محرحصددک کی ما ربر یک جان ے۔ ال کا فوٹو یٹ عنایت 
کیا اور ساتھ کی موا نا کا رسال جمود بھی عنامبت کیا۔ نزول حفرت ہنی علیہ السلام پر مولا ا 
کی دیو ںکتابو ںکی عا رن س نف لک تا ہوں قارئین پڑ ھکر فیصلہفر ما می کہ مولا نا سنڑی 
حیا ت کی کے انل ہیں با عگر؟ 

ھرزاگی اور مر زائی نواز دضنوں بیس شا یئل بیعا ہو جاۓ مواا نا عبرالل سی 
رہ الد نے امام ول ی اللہ وہلوئی رع اش گت و ارشار اور و الا کی مین نے 


18 


امام کیککمابویں اور عپارنو ںکو مت کیا ورای میں سے مب عہارتو ںکو جع کر نال 
مت بکیا۔ مس کا نام مود یی رکھا اق سے شائ رر بی را لدھیافوکی مم نے ا کا 
اردو یھ ”نیدی کے نام سےکیاعگھود رعفف ر ۲۹۹۷۴ عییا. سح نم ر۵ ۷ پر ہیں لم 
0 
قال الام ولی الله فی التفھیمات الالھیة فالھمنی ربی جل 
جلالهُ انک انعکس فیک نور الاسمین الجامعین نور 
الاسم المصطفوی والاسم العیسوی علیھما الصلوات 
والتسلیمات فعسی ان تکون سادة لافق الکمال غاشیا 
لاقلیم القرب فلن یوجد بعدک الاولک دخل فی تربیتہ 
ظاھراً و باطباً حتی ینزل عیسی عليه السلام. 
امام وٹی اللد دبلوی مات الہ ج ٣‏ ص ۲ای فر مات ہی ںکہ بجھے 
ال حا لی ے ذر یہ ااہام کھایا ےک تھ پر دو جال انموں کا ور 
نس ہوا ہے انحوی اور حم جیسوبی علیہ إلصلوج والسلام او ۱ 
- وی بکمالل کے راف کا سردار بین جا ۓ گااور قرب ال ی کی اظیم پہ 
عاوکئی ہو جا گا تیرے بع دکوئی مقرب ای اییانٹیں ہوسا ج سکی 
اہر اور پاشنی ‏ بیت جس تیرا اھ نہ ہو۔ یہاں ک کک مکی علیہ 
الام نازل ہوں۔ 
شرب سطعا تک عپارت 
(٢۲)‏ انا نک انا عال اور ئل خودسو کر پرکرام بنانما جا بے گ٠‏ پر کر 
رہن تقو ں کا کم ے او ریش تل ہی ںی بڑڈے کا نظرر سن اس سے 
بھی زیادہ عبات ہے۔ انل تو ا کا نی نکی سک دوج بکادے زمانہ مل 
گا؟ فرش مج دہ ہمارے زمانہ میں آ تا سے و ہم لی نکر کت ہی ںکہ دہ 
صرف فعال طاتڑ لکو اينے ساد لگا لاو ا نر ےر ٴ اعد نکونو وہ اۓے 
اب کی ؟نے د ےگا ا تم کا گگر رے کے ہم پش نہیں ہیںک ہی 
آۓ گا۔ اس لی ےک کی و شیعہ ان میں عظاء میں اور عدیث میں ال کی 


19 


وضاحت آ ہچگی سے اس موضوغ پر ب کسی سے جھگڑن نیس جات لان ىہ بات 
بم دولوں اخ ںکو وکھا سج ہی ںکہا نکا فرٹش ىہ ہ ےک دہ ا ےآ پکو فعالیت 
کے ایے بلند متقام پر یڑا ںی ون ان تا جن کے پاڈ یی گارڈ اور 
وزی انم ہوک رکا مکمریں ایک رای جماعت کے لیے اس کا مان ضروری ہے۔ 
اس لے ہم ا سکی ردکی طرف موو ہیں ہوتے قوموں میں بلن رکیل پد اکر 
ایک دن کا کا مکیں سے اگ کسی قوم می بلن دتیل پیدا ہ گیا سے فو اس یی جو 
غلطہاں ہوں ال دی چا ہیں ”شرع س۔لدا ‏ نمی ص۳٣‏ ۴ ملانا مرموم و 
انور نے بڑہی وضاحت سے ہے بات فربالی س ےک نف دہ یک حیات کے مھر 
جس نکی کے مز ول کے بللہ بات پے صرف بے ے جب ک ککوکی 1 نے والا ےم 
٤‏ تم بات پہ پا ر کے ٹیش رہو اور دکوت و انقلا باعل نبوت سچھوڑ نے کا 
نا نی مکرتے رہوزدہ رۓے واٹی قو یس الم ےمگروہ رو کو و نیعم لککہیں نو 
بہت بی ذا تکی بات ہے مولانا کے ہاں امت جھ مکی زوں عال کی بنیادی وج 
شمل انقلا بکا ترک ہے اور نے وانے انظار جہ حد یٹ مبارکہ او رق ہآ نیم 
یکنا احکام ہی ںک ہکا میا ی اور لا ان لوگوں کن سے جو جدوججمد شش 
محروف رتجے ہیں سن عافیت میس بی ھکر تیر ٹچٹھی سے تھاشاکرنے والوں کے 
ہیں ْ ٰ 
والذین جاھدوا فینا لنٹھدیٹھم سیلنا۔ _ 
زندگ یک یکشادہ راہیں اٹھی لوگوں کے لے ہیں جو جہاد زندگی کے 
عالیان ہیں_ 
مولان نے اگ دنن استہکہیں ان بافلی نکوشلھوڈ نے کے لس ےکوی مل کیہ دیا و 
آں سے متقبد گا رکیں با سے دو مولوکی جوغقلت شدار نی نے ان 
کو انار ا کا علاع دی الفاظ یں چوموڑان ےن ےون کے واللہ الم 


140 


مرزا گی بڑھایا ادرنمالش ق6 بنا 


سولانا اعفایت اشن 
ساب خطیب مسچرحخم خبوت قادیان 











صولان عنایت الیلد یس مجاہدین اھ ارکی باقیات یل سے ہیں ۔آ پگمادیان ٹش 
لس اتا اسلام کے مرک چا سو رش خبوت میس بیشیت خطیب ونم خدمات 
سرانجام دپیے ر ہے۔آآپ نے اپنی یادداشتوں ب شض لکتاب مشاہدا تتمادیان 
بھی تمرم فر گی ز رفظ رمضمون ۱۹۳۲ء 3ت پیل کا تر کردہ ےلین اس 
افادیت ولوکیت اور جرت وتتوغ کے اعقبار ےآ رج بھی تر وجازہ ہے۔ جمارے 
رب کر جناب جھعمرفاروقی نے تق ب نم بیت کے قا رین کے لیے ارس لکیا 
ہے۔معفمون می ںآ نماٹی مرا لام تادیاٰی کے'' سذ دروں کو موضورع بزایا گیا 
سے اور مو ڑا تا ےکہیں نہیں ہریکٹ میس مز وطرار اورطورغ فقر بھی اس فرگی 
7 ار و 0 ری 
کوئیککر و اخ بیش ہکی با تل چوککہ وش تک رر خودموڑ نا بھی باب کے اخ ظط حروج 
پ4 تھ اور جوانی کے بارے مم سکہاگھیا ےک ۱ 
اَلشبّاب شعبة الجنون کہ جھائی دبوالی ہوٹی بے 
اگ کاروان حیات کے ایےے ہنگامہ تیر دور شی مرزا ایا ریئش مراقی وفراتی"' 
ان دییائوں کے تھے تڑھھ جاۓ نے پھر غتی یں بادہ وساغر کے یر 
را ھرزائ یکا مصشن؟ تو اس بارے میں جو بیع آ بادیی پیل ج یکہہ گے ہی کہ 
فطرت یس ا سک سوز اگر شیطان کے فدم نے کہ گکھوں 7 
000 0 0ل ری یگ 
سے ممون و سے اورسرٰرمنے۔(ادارہ) ۱ 
مزا گی کے سوا جات رو رکرنے سے پت چا ےکہ ناب ایہم 


















141 


نادار گر دماغ عیاش وشابانہ رکھتے تھے ساتھ بی نشی مجازی کے ول لے ۔حسن بتاں 
کے ومدادہ اور لے پا سآ دی تھے عیاش کے اسراب ہیا نہ ہوت ےکی وجہ سے بمیش مض 
ومخموم رپا کر تھے۔ قاع کی عیاریاں وحیلہ اذیا نکیل گن نامراد رے۔ پّررہ 
رپ ےکا طازم تکا۔عد سے ذیادمکندٹیع دخاوۃ کی وہ سے تق خقاری یش بری طرح 
اکام رہے۔آخ رکآ کر جددیت' ‏ جحیت ومہدوی تکا ڈھنگ رچایا جوکچنٹی کےلحض 
کھج داییرو ںکی وجہ سے ایل ع دک کا میاب را ان تو می ین ران 
کن جونی عھر نے پلڑا کھایا۔ کن شریف پچاس سےگز را حیت ومحدویت نے ڈاڑعح یکو 
بڑھای قے ا سکم نت قوم صنف ناک ن ےکنار ہک میا نس ودی مزا اور وت یکم والگم ے 
شب جعدہ تی ک ا تماری گیا امت ے 
خر رت و 

الباموں سے ڈرایا' بہشت 07 7 
کہوں۔ ڈاڑھی اور بڑھاپے سے اس ذا کو چھھ ای نخرت ہ ےکہ نی اور نہ بی عی۔ 
پ امام 

اللہ نے میبرکی طرف وٹ یکی ےک ہ7 کی (اج بیک ) بی ل کی کا رشن اہن لیے 
طل بکروں۔ اگ رتو رای سے نو جھے وو زین جو چا متا سے اوراں کے ساتھ دوسری زین 
بھی جھے دوں اورتیرے لیے بت ہو۔ ورنہتے بھی دو بریس یں رجا ۓ گا اور تی لڑگ یکا 
زاون بھی ین بیس میس مرجاۓ گا۔ تھی مخصا آ مین ہکمالا تی الا مص ۶ے ' ۰ ےھ گر مرزا 
ات بیک نے اکا رکیا اود قادیاٹی کی رز وکو بری رع بھکرا دیا۔ اس کے بعد مرزاہگی نے 
مدد اشنبار ڈراوے اور ولا نے کے شائعغ سے گر ھرزا اص بی ک کچھ ایا تل ایمان 
رکھتے تےکر کک پروا نہکی اود جہاں چاہا لڑک یک بیاہ دیا۔ اب میں ان خطوط کے چند 
اقتباسات ناظھ رین کے سا سے دکھا ہوں ٹس میں مرا گی نے اج بی ککوگونگگوں (اگوں 
میں پان ع۴ اگر وہ تہ ضا 2 ہے ڈراووں سے ڈراا گر خدا نے نے اکن کے ول یکو 
مضبویز رکھا مدادادلحضیرت ےکر وفری بکوما ڑگیا-. 

اقتاس خط مرزاہنام ات بیک دال ہیی یھ مورنہ ےا جو لال ۱۸۹۰ء 

مففق یکھری اخ یم مرزا اتد یک لے الد تھا ی 


142 


یش خہایت عا بج گی اور ادرپ ےآ پک رت ا ںا ہو کہ اس رشت 
سےآ پ راف نہ فرمادیی۔ مل نے زا ہہور میں جاک ر مو مکیا کہ ہٹراروں لان مساجد 
میں نماز کے بعد اس بی یگوگی کے تظھور کے لیے بعدقی دل دعاکرے ہیں (صاف 
تجھوٹ۔ اس وقت لا ہور ٹیش ہراروں مزا یکہاں تے اور خی رم رزائ ‏ یتجھارے خیال ٹش 
لان کیے اور ا نکی دعانی سکی' مولف) فداۓ تال ی ابآ پ کے دل ہل وہ پات 
ڈالےٛ کا اس نآ سان بے سے تھے الہا مکیا ہے۔ اکسا رعباد ند غلام اتھ۔ 

خط ہنا معلی شی بی کم می یکم مو مکی ۱۸۹۱ء 

فی مرا علی شی پیک لہ تھا 

: ات7 سآ پکو جیک خالآدگ اور الام بقانم بت ہوں (اں سے 

ہرزائو ںکی اف ماوییل اڑگئی ک ری میم کے رشتہ دار بے دین و بد رہب تھے اس لیے 
مرذاصاحب نے ا عکوملمان بنانے کے لے سلسلہ جقپانی کی۔ مولف ) گ رک پکوملوم 
ےک مزا اج بی کفکی لڑکی کے بارے میں ان کے سساجح ھکس مر میرک عداوت ہو ری 
ہے۔ اپ سنا ےک عم یدک دوسری اقضریطر کواںلڑک یکا کاب ہو نے والا ے اور الد 
رسول کے وی نکی چچھ بردانیں رکتے (خوب جو مر زا کی رنگ رلیوں یس نک ڈانے وہ 
00297 پروائییں رتا حاشا وکا زنک معوں میں مسلران تھے۔ ایک بوڑے 
پھر مغختزی ع لی ایل کے جوا نے موم لڑکی کا کرتا جس کی دج دپاول لا ہو نا وکبیرہ 
ے۔ ولف )ا ۸آپ سےگحھم کے لوگ سخت مقابل کر سر بھا ‏ یک مچھاتے و کیوں 
رجوسکتا ۔کیا ٹس چو بای ہما تھا۔ یوں نے جھےکس یک لڑکی سےکیا خش ۔کیں جاے یمر 
1ز مایا گیا کہ ج نکو میں خولی لق بھتتا تھا (معلوم ہواکہ اس سے پچ ہکوگی دبٹی یا دنیدکی 
رش اورخالفت نیھی۔ مولف ) اور ا نکی لڑرکی کے لیے پچاہتا تھاکہ ا کی اولاد ہو اور وہ 
ری وارث ہو_ وی مر ے خ ون گے پاے یژں۔ رقے۔ توریب لوڑ ھھے؟ٴ وگ یکو 
بلاط شذقت پدری نو جوان لڑکی نہ دے۔ وہ خون کا پیاسا ہوتا ہے۔ میکہاں گی مشطق اور 
کلام ںعمرح تافص وو رککست ہیں ڑکیکی وج ے عراوت ہوری ے اور یہاں لڑک یکی 
ضرور تنییں_ واہ گی داہ اور جا ہیں خوار ہو زوسیاہ ہو۔ خدا بے از سے جس سکو چا ے 
روس ءکرے۔گھر اب و دہ یجھے ؟آ گ میں ڈالنا جا ہیں (جب تھے بز رجہ الام معلوم 
ہوا تھ اک ضرورصرت پاری ہ یئ پریٹان یکھی۔مولف) بیس نے خ کک ےم انا رش 


14 


مت وڈ (معلوم ہواکہ پیل رشیتلق پیارحبت موجودشی ھرزائیو ںکی اویل جا رنکیوت 
ہوکر ا ڑگئی اور ا کا یہکہنا را دع وکا ایت بواکہعرذاصاح بکو شاو یکی ضرور ٹ تی ںی 
02 بناتا جات تھے مولف ) بلکمہ ٹس نے سنا ےآ پک بیوکی ۓے 
چو یآ ک رکہاکہ ہھاراکیا رشن ہے۔ ہیس جاشے کہ بیشن کیا لا ہے ۔ککیں متا بھی 
گھیں۔ ھرت مرح رہوگیا۔ ابھی عرابھی بتا۔ بے مک یس پان ہوں۔ ڈنیل ہوں خوار ہوں 
(ہۓے ضس نک یتین ای کگرون اک ڑمف لک وکسا کرد کر دیا۔ دوسرکی تہ قھ ڈھینک اسوا لئے 
سکہز ین وآ عان میر ےگ میں ہے۔مموت دحیا تکا اخقیار بے ئل چا ے اور یہاں 
و چنا ںگرف تک لام غلام ش رکا ٦‏ پورا مصداق بن گے موّلف) آپ از کرت 
آ و یکو کیک یں تاکہ بھائی 000۲ کو ےی یا ے5 
مد نی کےکہلڑائی کیتعلیم دی چاردی ے ۔مولف) ودنہ جھے خدائۓ تھا یک یمم ہے 
کہ اب پیشہ کے لیے ر مت نا نوڑ دوں گا (بشٗہوت کا بخار سے یا مچردییت کا اٹ ؟ 
ملف )(خاکسمارفلام اد از لودحیانہ۔ اق لک _۱۸۹۱۰۴) 
مرزافل اھ کے پڑے کڑس ےکی ساس کو مگ یآ ھزخیا۔ 
”والدوعزت پی لی (فضل اح کی یی )کومعلوم ہوکہ چھے نب رکپئی 
ےکہ چند رو زکک کی مکحم مرزا ار بی کفکیلڑک یکا اح ہونے والا 
ہے اور میس خداۓ تال کیم رکھا چکا ہو ںکرال کاب سے سماردے 
رشن نان توڑ دوں گا او رکوئی تلق نہیں رہ گا۔ (کمشن ہی 
ہادا ت کا عُل؟ مولف ) آ جم نے مول وی فور رین اور صضل امھ 
(ٹرزنر مرز١)‏ کو الو ریا ے مر اض عزت لی پی کے لیے طلاقی 
جا کک اک جج دیوے اورک فحقل اص طلا ق کین مم عذزرکرے و ان 
کو جات یکیا جاد ےگا اور اي بعد ا ںکو اتا وارٹ ‏ ھا جاۓ گا 
۱ اور اگ یں ورا مت کا ا ںکونہ لگا۔ (شہوت نے یا انٹڑ ھا آز 
دیق ہے۔ مان بڑحابے یں اس قد خلہکہ ابنے فرزن دک یبھی پرواہ 
یں اود سو علق پریجو رکرتے ہیں مواف ) 
لام ات از لدھیانہ. اق لگ مورت می ۱۸۹۱ء 
جب مرزا اج بیک نے رھ پوا کرت ہوۓے نا کر دیا ت مرزاصاحب نے 


144 


ھی رخ بد لکر اپنی رسوالی پر لیوں پردہ ڈالاکہ خداۓ تھا یکی طرف سے مچی مقدر اود بجی 
قرار یاف ےکہ وولڑکی اس عاجز کے نا میں آ ےگ ۔ خواہ کے لے ہی پاکرہ ہون ےکی 
غال ن7 نے فا دا ال 9۵آ 00 ے کر 
( یھو اشتا ر نس ۱۸۹۱ء و انی پر لمعیاد) 
رای مو ون سائف الو کے جواب میں اپے ھی و لکو لہں 
تلی دن ہیں میری اس شی نگوئی میس نہ ایک بکنہ مھ دکڑے ہیں:۔ 
اؤول: ما کے وف ت کک مرا زرہر بنا 
روم: ا کے وق ت کک ا ںلڑکی کے با پکا صرورزنرہ ر ہنا 
عوم: پل رنکائ کے بعد اس لڑکی کے با پکا جلدی مر جانا جن بر لک ککیس یچ گا۔ 
ہارہ: اس کے نماون دکا انڑھھائی بیس کے عرص کک مرجانا 
اژ وش ت کک شس اس سے فا عکرلوں_۔ ال لڑگ یکا زنرہ رمنا 
م7۲ ےکہ تہ ہو کی قام رمو ںکو و ڑکر پاوجورحخت خالشت ا گے 
اظارب کے میرے ماب میس آ جانا (افسو ںکہ نہآئی اور نہ آك) 
( 7 الات اسلا مگ )۳٣۵‏ 
ھرذاپہ بیز مانہ ایگ ان لکیفیت ےگمزررہا تھا۔ ول شی برشٹوں سے لت 
ین اٹ ی کا کا مک رہے تھے ول بپار تھا پاسا پہیٹان وا رخبلات 
فاسر ہکا وم و لکوا لی نے دتے ذرائ گ ولگ جا ی (ووتے بھی دہ نلم ھا نہ 
کچھوڑخ_ مرزا تی یں الہامبجھجپمٹ شائ جکر کے ذری کو مت یکر تے جردیت و 
مصےحیت کا وال جارمحکبوت ہو را تھا۔ وس اس عال کو دک ےکر ایک لت سے حخت وشن کا 
ول بھی موم ہوتا ھا لین ساتھ بی مرزا ہج یکی تل مرا گی رد ہار یک تحریف ے فی رکہیں 
رو کلا_ اللہ اللہ ۱۸۸۸ء سے نےکر ے۱۹۰ ء٠‏ کک طول عرص ٹی مٍر اور اختقلال سے 
مگزرا ںکوئی عاقل اسے نظ اندا نی ںکرسکتا۔ ان ایام یس مرزا تی مجن لصورات وَخلا ت 
سے ہجروں و لی کی مم کر تھے ان کا پچ نمو ہکھی ریہ ناظری نکر مزا سب 
.موم ہوا ہے۔ 


0م 


5 


یش 


ہے 


ز7 


ال عور کو جو اجھ بی ککی عور تکی نی سے۔ پچ کی طرف لان لگ..... مر 


145 


رے۔(اخھام] زس 80 

نخس ٹکیا عورت (ری یم ) کا اس عاجز کے ماع میں آ نا ظدربرم 
سے جچوکسی طرع ت مل نیعت (اشتارمندر ح لن رسالت جل ٣ض‏ ۵) 

غرض اسم کے ججکڑڑوں زطیات سادہ لوحو ںکو سنا سنا کر سیبنہ تھا مے رے۔ 
جن جب مرزا سلطان مھ صاحب شوہ رمحرکی میک مر زا کی با نکردو موت کے اندر شد ما بللہ 
تا پھولن گیا نو مرزا جی نے بھی نموم کا رخ برل دیا۔ م]نی سے ابر مل ۱۸۹۳ ءکوحجربی میک مکا 
دوسرکی ہاب ہوگیا۔ (آ تینرکالمات اسلا مل ۲۹۰) 

اس جار کو دک کر صا بکر نے سے پت چلما سے ھرزا سلطان جح کی زن گی کا 
1 خری دن 1۸ک بر۱۸۹۳۴ء تھا۔ چوکلہ مد اکومنظور تھا کہ اس مفتر یکو پوری طرع ذ لی لکیا 
جائے۔ اس لیے با زعدہ رکنے کے خدا نے مرڑا سلطان مج ھکو اس فد رعمزت جن یک 
اولا د عطا ہو اوردنیاوگی اظا ے متا ےک ھی یم مرج کا بڑالڑکا میا لکشٹرے اس 
زلم کو یہک مرزا گی موں پاییے گے_ 
اس پچ نگوکی کا دوسا حصے جو ال کے دا با کی عونت ے وہ ال بای شرطی ور ے رہرے 
وقت پر جا پڑا اور داماد ا ں کا ااہائی شرط سے اىی ط رح تع ہوا جییاک۔آگم ہوا کیونلہ امھ 
بی 07 کے بعد اس کے وارٹوں می نت مصییبت پر ا ہوئی ۔سوضرو تھا کہ دہ الہائی 
شرط سے فائمدہ اٹھاتے اور اگ رکوئی بھی شرطے نہ ہوئی اہم وید یش سنت اللہ بج یھی جیا 
:ین کے دنوں میس ہوا۔ یں اکا داماد تما مکنیہ کے خو فکی وجہ سے اوران کے نو ہہ 
روغ کاو ےا شا کر گر رک ھا موم کلف کس 
اور انام وی ہے جو ب مکئی مر کک 2 إں_ چّرا کاوعدہ ہز نہیں سلیا۔ 

(خعی !نیا م 1ت مضص۳١)‏ 

( ان اللہ بھی کی کلام انف ص7 اوپہ وکید تاتے ہیں اور لئے شوقی وصال 
۱ مفت مزا سلطا کو ود ا قرارد ےکرقی ےدام دوس ڑے۔مولف ) سے 
صاحب ال سے بھی زیادہ وائ کسی بش تفصورمرزا صاح ب کا ہت یک تا ہیں ۔ نمو رکیا ے۔ 
ول ٹل بھی کا بخار ے۔ ا ب بھی ان الفاظ سےگری ہیں ء ہوٹی ے۔(مولف) 


ث۵ 
:۰ یآ کے + 
1 مرا وا کا جوا کم ری تی رض کے ےن کی کت ۳ دافے 


ٰ 146 
اںلڑی ت اپ و 1 ۱ ا اورشرط 
وہ اور رتور ای اتی ۔لڑی اپ نے فوبہ نکی اس لیے دہ بیاہ کے جھ ماہ بعد ع مگیا 
اور شی نکوگی کی دوسربی جزد پوری ہوگئی۔ ا سکا خوف اس کے خماندان حر بڑا او رخصوب]) 
شوہر پر پڑا جو یی نگوئی کا ایک جتزدتھا اھوں نے فو ہکی۔ چنا نچ اس کے رش داروں اور 
عمزبیزوں کے طط بھی ؟ ۓے اس لیے خدا نے ا سکومبلت دی ۔عورت اب کک زندہ ے۔ 
مہرے کاخ میں ووعھورت رو رآ ےک (ہا ۓگندم نار اک بوڑ سے ڈرفو یکوگس طرح 
تھا را ے۔ مولف) از یئ ٹین کائل ے(رادرد ہے کے اش ے ماش ہو و ایا تو 

بھی ناامیل نہ ہو۔ شاباش مولف ) مہ دا کی پانقس ہی تی نیس ہوک رہ ںگیا۔ 
(ا خہار الم ۱۰ اگست ۱۹۰۱ء مرزا صاح بکا علفیہ بیان عایض +عگورواسپور) 
حعفرات: انل تے رسب پلحھنڑطف لتسلیوں ے زیادہ شی ت نیل رکتا کیونلہ مرا 
سلطان مٹ ھآ رخ تک زنرہ ہے۔ دنیاکے ہ رکم کے اساب سے بر ور ہے ۔ کی میم مرجمہ 
اپئی زندگی پور یکر کے اپنی فداون رمحص کو نےکر وامل پابند ہوئی۔ خدا ون دکرمیم اسے ایے 
جار پت شن مک ڑے: هرذاپلطا ننلکاذت کے خرفت ران رت رز ضز کیل وڑا 
یوک ہاگ اسے خوف و ہراس ای ہوتا تو اس کا لا زگی مت می جو نا جا بے تھا کہ اسلا مکوخیر 
پادکہ۔کرھرزائی ہو جا تا لیکن دا چان ےکم رزا حلطان مرج مقبوط انسان ہے بے رر 
دثل ہے۔ د یھت بھا لے دنیا کو اندھاکرنا جات ہیں۔ مجھوٹ سےنییں شیا ےک ھرڑا 
سلطان ھ ڈرگیا۔ پراساں ہوگیا۔ مر وغبرہ خرافات واہیہ- 
لن اکر لی بھ یک کیا چا ۓےکہ دہ ڈ رگیا و مرزا گی اج معتوں سے بھی 
ناا مر ہوے کے قوف ہے ہمت سے نے ین اور ٹین کائل کی و 
کے مرن سے وصال ہوگا۔ اصصل بات بی ےکس مہقھام رسوائی مرذاگ یکو اس کے دا کی 
طرف سے بوئیکیوگمہ ال ف فرشت ہج کیک دوا کے ذر یی سے ھرذا گی کے اندد پا 
مردو ںکی قوتے لے باہ جع کہ دئی۔ اس کے بعد خودہی بذریعہ الہام ایک دوشیز سے متحلق 
سلسلہ جنانی کین نکی کی شض کی تسلیاں دی کہ ضردر ےل گی۔ ا کو وعدہ ےکممیر 
می ا بعد یں رق مآ گیااکہ پا مردوں کے حوال ہیک لڑکی کوکرن شا ینلم تہ ہواں 
کے وعد ہکو اورا نکیا ۔کیا سکنے تی کے اور ساتھ اس کے خدا کے دن یا مھ نل ےگ یک الس 


17 

نیو ںکا خداکون ے۔ 

ابی لکوبھی اپنے خدا ن ےکہا تھا۔ 

لاغالب لکم الیوم من الناس وانی جار لکم فلما ترأات 

لفتٹٰن نکص علی عقبيه و قال ائی بری منکم اه 

(سورہ انفال پارہ نمبر )٠١‏ 

زی تن پر اہنت لکو سس جیا کیا کون تفع کے کرت 

کوئی تم پر ال بنڑیں ہوسکا کیونکہ مم لتحھمارے ساتجھ ہوں_ جب 

دوٹوںنشنکرو ںکومنزاٹل ہو نے دیکھا ا تی :کسی کک رین لا میم 

ے ہزاروں۔ 

مرذا ٹ یکوچھی ال کا خدا بارش کی رع الہہامبات بس انی دبتا ر ہا کب ضرور تھے 
ےکی ادد پا مردو کی فقوت مردی ٹھنٹری کت 
ایک وعد بھی پورا نکیا مہ مزا گی پارے اٹارہ مل پت پکارتے بل ہڑتے ےن 
ورام اگنے بجہا نکی طرف ڈوک گے اور رسوائی کا ڈہنرورہ آخ کک ا کی ذد یت سن 
ری ے۔شرم مم غنص ے۱۹۰ کک وذ مردانہ وار عاضل یش عابت دی کا خراج تسین 
ڈائ نکر کے نے 2ء میں بیجھ مالسا ششحل یس کے کے کن این مخز کا ا 
آسمان پر میرے ساتھ بڑھا گیا تھا لیکن لعل ضرددبی وج !کی بناء پر رح ہو ہوگیایا تا تر می پے 
گیا۔'( یی مکی تج ہر تقیقت الوقی ص٣۳٣ )۱۳٣٣۳‏ 

ٹایت تن یکو دیکھے پاری اامیدی مرتے دم کک اہر کی قرب ا قریاے 
فی وشن انس کے بعد جلدی ۱۹۰۸ء بیں تورادی عدم ہہوئے۔ ىہ سے و کی 
چنال وڈ ھھ فرگی نی کےعش کی ج ایک عدکک اس شع کی مصداق ے 

ترے شی ک 2 کو آزار ہو 7 
سا ے امت ڈش ویار ہو مم 

3 عرزاتی لیے یں ٹس ان ےکی طور بر د یک ناک ایپ فرش مر می ووای ال زعاے 
چنائ ود دہ میں نے اگ اوربچھ اتے جس فدادادطات مل اس عرد کے تا روتسد یکتا۔ 


رر یور 
)7 ان اظوی ین گ۱ ے نشمائن گر )١۱‏ 


148 


مزا خلام اح اد انی امھ بددیائ 
ایک خ کا جو اب 


ککربی جناب موا نا عمج الرنن صاحب 
الا میم اع ش۲ریف 
برع مال گر چا ےگ مزا خلام ات قادبالی نے اپچ اتک یساب یس 
توبات امام ر بای حجدرد الف مالی کا حوالہ دینے ہو اس مج ںسخری فکی ہے۔ جے اس 
ا ا مو 
براہکریم! اس حوال ہکی فوٹو کا لی مہیا فرما ویش زار ہو ںگا۔ بیچھی نشان زدکر 
دی کم رزاظلام اتاد بای نے اس مم کیا خرن فک ے۔ 


واللطام 
اع الاو رش قریی 
7ری ا 
ہواب 
کم اللہ الکن ال ریم 
کربی زی جناب نو رح ھقریکی مدنطلہ ایر دوکیٹ ا ہور 
ویلیکم السلام و رحمتہ اق د برکاد مزا گرا ئی! 


جارے مخدو رکحتزم حضرت مولا نا عمزی: اشن چالنرھکی و امت برکات مم کے نام 
آپ کا یڑ موصول ہوا۔ نحخرت ھوزان] و ات بتاکم ون 1 کے سور ہں- دعا 


فرما می سک الہ رب العزت صت وساامئی خر و برکت سے ا نکی وائپچی فُر ماخ یل شی نام 


149 


7 


آ شین! آپ کے خ کا جواب ہے ے:۔ 


ححضرت رد الف خائی “نے موڑا نا خوات مر صد بی صاح بکو ایک خخ یکر تر مایا 
نس میں آپ ےگرے فرایا: ”وقد یکون ذالک لبعض الکمل من 
متابعیم بالتبعیة والوراثة ایضا واذا کٹر ھذا القسم من الکلام مع 
واحد منھم سمی محدٹا۔.“ 

7 فاری: وگاھے ایں نعمت عظمی بعضے را از کمل متابعان ایشاں 
نیزبە تبعیت و وراثت میسر میگردد و ایں قسم از کلام بایکے از 
یشان هر گاہ بکفرت واقع گردد آنکس محدث زبفتح دال و 
تشدیدآں) نامیدہ میشور ( بات مج ردالف ما ور دوم]كش١٣۱)‏ 


۳ (الف) مزا فلام اد قادیاٰی نے اپ بترا یھزں برائین ام بیس ۴۴ھ تم ایم 


۴ ئع اپ اس کا عوالہ یو نف لکیا ہے: ب۰ ہ امام رباٹیٰ صاحب ات ےمحو بات 
س00 سے اس مس صاف گلھت ہی نک خ رب یبھی 
مکالمات و مخاطبات نحخرت احد یت سے محرف ہو جات ہے زا انف مرف 
سے ا 


(ب) ای ططرع مرزا غلام ام ایا تفہ بفدارش ا" خمزائن ٹس ۸ا خ ے پربھی بعینہ 


اس کت 


حرت مر وکا خان‌ لکرتے ہو ۓےکشرت مکالمہ وال ےک حیرث لھا ے_ 

من ہر ہوخووغ تی اس 7 اور بددیانی کا" گہ جب مرزا فلام اص قادیای ے 
نو تک دگوئ یکیا نے حیردالف ما ی “ کے کت بات میں ری فکرتے ہو لھا کہ :۔ 
جرد صاحب سرہندی کے اق نےکوبات می سکگما ےک امہ چہ اس امت ے 


مض افراد مکالرہ و خاطہہ الہ سے منص ہیں اور قیام تک تحص ریں کن جن 
تح نکر مرن ان مکال ز خاظ زی خر فک جاۓ اور یکرت اصورخیمبی ال پر ظاہر سے 
جامیں وو انی“ کہلا تا سے( حقیقت الوتی عص ۳١۹‏ نز اشن ص ۷ہ رخ )۶٣‏ 


10 
می 
دمینئ یرد الف ىال ” رر نے ہی ںکہ ‏ ےکشثزت مرکالرہ ہو وو یرت“ ہوتا 
ہے۔ مرزاغلام اج قادیای نے برائین ات یہ اورتفہ بفداد ٹل میبرد صا جب کے حوالہ سےبھی 
کک یتر کیا کت ..... ولا ”مر“ کپڑاح سے کن جب خوددگوکی نو ٹکیا تو تفیقت 
ای ٹں مردصاب کے عوالہ ےکٹثرت کالہ والا ”نٹ کہڑاجا ےلگ دیا۔ 
ابآ پ خود فیصلہفر ای سک ایک ہی جال ہک مرزا غلام اھ قادیانی تین لک 
ہے۔ براین اصریے قذہ بخدااس میں ”مورث“ کھتنا ہے اور اسی حوال کو مرزا خلام اج 
قادیای تقیقت الو مس ب یکنا ہے نمی“ کوا انی کر اح ضکط نہیں بل صرح اور 
بددیاق ے۔ ْ 
,0 چنائیرصحضرت موا نا ورٹر عَان صاحب دال درس مظاہر العلوم سہارن ورے 
اپ کاب ”کفریات مرزا ص ا٣‏ مطبوم خوابہ برتی برای دای می ۱۹۳۳ء میس 
ری حوالنخلکر کے ریچ فف لکیاتھا:۔ 
رت محدد صاہب کی عبارت ڈکودہ شش ھرزا لام ام قادیالی نے جس 
خیات جھرمانہ و چ اچ درحلے جرات سے کا لیا ہے ان پر قیامت جک می ویا انت و 
۱ نفرت کا وظفہ ڑگر مرزا فلام اتھ قادیانی کی رو سال ٹوا بک ےگی ۔کیا کوئی 
خلمدری بجر تک رما س ےک خ کشیدرہ عبار کت بات امام ربا “یں وھ اکر اہے پیواکو 
کذرایو ںکی تطار سے علیہ یف 
آ سے بچھیالییس سا لخل تاد یانو ںکو جج د گیا تھا دہ جوں کا نوں برقرار 
ہے قادیائی امت مرذاغلام ا قادیالی سے اس خیانت و جدد انح کے الا مکو دورنھی سک ری 
اور نہ قیام تب کک رحق سے مھوٹا بددیانت بی ہو سکم ے؟ بقادیالی امت کے سو ہے 
کا مقام بے۔ پا چوں حوالہ جات کے ٹوٹ ارسمال خدمت ہیں ! 
والسلام 
تق ایر وسایا 
۰ء ۸- ١٦ا‏ حعال میم ضز عرکز یمان 
(مابنامہلولاک لان ۔ ‏ ۰ ہ٠۰٠۰٦ء)‏ 


11 


حر وت 
اراد ےن پیرزارہ 


اعلام کے لے کی شرط ےحیدکا اقرار اوردوسرکی شرط نبو ت کا اعتزاف ہے۔ یے 
دونوں ریس سی انم وطزوم ہی کہ پر ای ککا اڑزاف درے کے اخترا ف ونظزم ے 
افری عای م لگ ای کک اثرار اور دوس ےکا انار قا ئل قیو لکھیں ۔گویا ثبوت اسلام ئر 
ان یادی عقائد بی سے ہے مین کے مان یا نہ مان پآ دی سےکفمرو ابیمان کا انحصار 
ہے الغدا خبوت اور اس کے لہ متعاتقا ت کا عم تہابیت ضرورگی ہے جاک انمان لی اگتتا ٹیک 
شکار ہوک ایمان ےمحروم نہ ہو جا ے۔ 
امام 

ا۔عمری لفت امش کی7 ال لفاظ زل ےی کے 

المخبر عن الغیب او المستقبل بالھام من الله 

ترج: اش تما یکی طرف سے الام کے ذریی تخل اورغی بک خر 

دۓ والا۔ 
٢‏ مامرہ :شر مواقف اور اشرب المواردمیں یور من الد تال 

ےکی رک یا گیا ہے۔ 

ترجہ اللہ تال یکیطرف سے نجرد یے والا ۔ 
٣‏ ات عواض نے شغا شریف مس می کاممی املع علی امفیب دک کیا 

ہے تی بی غییب دا نک کے ہیں۔ 


12 


اگمری: بی یش بی کے سے پرائٹ (٥٥۰م[١۴۲)‏ کا لفظ استما لگیا جاتا ے۔ 
ئل مفھکر بین سے ا سکا مضہو مبھی ریہ نظ رین ہے۔ ْ 
رھ :بی وہ متں انان سے ے ہے شی ن کال ہوک دہ اب خدا 
کی طرف سے پیغامراور ام رسال بنالک بھی گیا ہے اس اتقبار 

سے نھی اینے خدا کا ضھ مان راد بات ے۔ 
ترجہ: بھی ایک خویش ایم سے جس سے مرا مقد پ اف نیب کا 
جمان ے۔ 
تر ج: اللہ تی ای بھی خدا کے مقدس 7 جما نک ب یکا جات ے۔ 
اسلام یش نبوت سے مراو وہ واسطہ سے شس کے ریہ خداوطد فکہ و تو کو اتی 
مرئصھی سے آ گا فرماما ہے اور قدر کی نگاو اتقاب جھس سے افنا نع نال نک منصپ عطا 
فرمانی ہے اسے نی کے اس مگرا می سےنوازا جانا ہے۔ نی خدا کا تر جمان اور تمائندہ ہوتا ے 
وی کے ڈر اج اعکام ال یکو بندو تک باج ہے اورخودان پگ لک کے دکھاتا ینتا کے 
لوگو ںکوبھی ان پر عائل ہون ےکی ترغیب ہو۔ 
وت تلق چترضروری معلومات 
آت یکفروشرک اور ہر باعث نقرت امر سے یاک ہوتا سے پگ عصممت و بندگ یک 
ال جلنلدکی پر فاتے ہہوتا ہےکمہ ا کی اطاعت و ہلا گی انما نکو دا کے قرب کا 
7 بنا دی سے اور ا کی افرای مرا کےغحضب کا باعث ہوئی ہے۔ خا لا 
ابی لیے ای عتصشق فرماتے ہی ںکہ نی سے بیس وخحض بکا نام دوزرغ اور ن یی 
عقیرت وب تکا نام نت ے۔ 
بد ب یک تظیم فرض عین بک تام فک کی صل ہے کی بک اولی بین یا 
کحز ی بکفر ہے۔ ( بارش رات ) 
تھ بی کا مقام تمام فرشتوں' انسانوں اور جنات سے بلنعد ہوتا ےکسی اہی انسا نکو 
یجن یت ئا کے برابھ با نی سے ال بجھنہ سے انسا نکاف ہو جانا ے۔ 


13 
(بہاریٹرلعت) 
بی اورفرش موم ہوۓے ہیں۔۔ ان رولوں کاو ارات انان متسو ہیں_ 
عصست انیاء کے بیمعما ہی ںکہ ان کے لے حفظہ الٹچی کا وعدہ ہوگیا ننس کے 
سبب الع سے صدورگمنادشرعا عحال ہے۔(2بہارش رلعت ) 
الد تی نے اخمیا مہم السلام پر بنلدوں کے لیے جقنے احکام نازل فرماۓ یھوں 
نے دو سب پیا دی ےعسی نی کےمتعلق میکقیدہ دکھنا کہ اس نمس یع مکوتقیہ 
شی خو فک وجہ سے چا رکھا اور تہ پیا کر ہے۔ ( بہارش اعت ) 
یکو اتی کا لعل عطا کی جائی ہےک کسی عحیم اون ٹ کی تخل اس کے داکھویں 
حص ب کبھ نہیں بے سکتی۔ (بہار رش ربعت ) 
ان رو ںکیبھی خر دا ہے ہن یف براو راس تمفل وحوا سک رسا ‏ یں 
ہوئی اور ا یکوغیب کت ہیں شا جنت و نار عشرونظر عزاب وناب خی یں 
و اورکیا یں 
انمیا کرام سب اشراورمرد تھے نکوگی مجن نی ہوا ضعورت- (بہارٹرلعت ) 
بی ہونے کے لیے مس بر دی ہونا ضرورگی ہے۔ خواہ فرشن کی معرفت ہو یا 
بلاواسطہ نچ یکا خوا بگھی وگی بی ہوا ہے (بہارشرلعت ) 
بہت سے نھیوں پ اللہ تھا لی نے عھینے او رآ سای کناڑیں اجار یں ان بیس سے 
چا رکمائٹیں بہت مشہور ہیں تورات' خرت موی علیہ السلام یر ز پور حضرتے 
واوٗرعلے السلام اگل حر ت شی علیہ السلام بے اورٹ رآ ن حضرت مھصلی اللہ 
تالی علیہ دآل دم پ 
اس کائنات ابشی ‏ ےکئی قب رسبعوت ہوۓ مج نکی جع تعداد خدا بی جاتا سے 
کہیں بسی عقیدہ رکھنا جا ہب ےکہ الہ تعالی سے کیج ہوۓ ہق ٹر ہیں ہم ان 
سب پ اممان رھتے ہی ںکیوک لی ایک کا اہک رھ یکف رکوس زم ے اور تصوب] 
زات پاک مصطفغ علیہ سب ولشا ‏ کی خبوت کا الگا رکرنا (ج نکی ؟ٴھکی 
بثارت اور ان پر یمان لان کی کی رگزشتہ امیا ۓکرام نے فرماکی) صرف 
آ پ کا انکارکیش بلک قمام سابقہاشیاء دم کی نکی جنر یب ہے۔ 


14 


ا۔ حب تھے گلط آ بی خر تآ دم علیہ السلام ہیں اور سب سے آ1 خرکی تضور شانحخ 
وم الو رحعن تم صلی او علی میم کر 
۳ وت ا۰ی یی فت غیرمرقہے جوکسی کے اعمال کی مرہون منت 
میں - عبادرت ورباضشت کے اص ل کین نکی پل جن رع جمالی 
ربوبیت کے لیے سور جن ہوا پا لی زین وغیبرہ الیل تال کی صفت رحاعیت 
کا رن میں کو یس ے دلو ینچی ںک رکا مہ اشیاء ای ےکی ےی 
دا کی ہیں۔ ای رح نبدت بھی اکا بے بل افعام ہے جوسی کے 
مل کے نت یس 3 بہ بیج عطائے ال سے یسے جانا سے ان فضل 
برع جانے الله اعلم حیث یجعل رسالته (الانعام: )٣٢١‏ اللہ کی 
0 000 0 
۴٠۔‏ انخیاءی سچائی نان ےکو الد تا ی ھُوھھومامٹرکل 
اس خظاہرکیں جو اودلی کی کر سھتے. ای پاتو ںکسقز کت ہیں 
مھبو حم چھرہ 
ھی دنیاکوشس پا مکی دگوت دا جے ا لکی سپا کی کا داع تین شوت اکر چخود 
یہ پام اور انل کے داگ یکا سم وجود ہوا ہے جا چم انان قلب اور اقمام جت کے لیے 
ال داگی جن کی بت سے بگھا سے داقعات دو پڑ سہ ہوتے یں۔ جو عام عالات مل انمالیٰ 
مل سے باہر ہوئے نی اوز ا کی :نکیل سے انساپی خفل اہ کو درماندہ 0 
ہے۔ مشثال کے طور بر حقرت ابرا ڈیم علیہ السلام ب رآ نگ سرد ہہوگئی حضرت موی علیہ السلا مکا 
عصا اڑدپا ‏ گیا خر ت سک علیہ السلام بے باپ کے پیدا ہوئے۔آ تحضرت نے ہم 
زدن لچ ر7ام نے ن ےکرمتی انی وت در و ان ھی مک می ری ۔ ان واقعا تک 2ہ 
سے چوک یتح انسانی عاجز سے اس سے ان یش ایک رع کاخ ب نظ رآ حاے اوج نخس 
ک ےعلق سے ا نکاخمبور ہوجا ہے۔ عالم یب کے سساتھ ال کے روا کی علاصت ہے کزان 
ید نان یں ا ںمم کے وافتعا تکا نام جثعات برائین یا آیات ہے۔ محھ من ا نکودلاآل 
خبوت ےت رکرتے ہیں اورکھا مححمی نکی کی اصطلاح مس اٹ یکو ججزا کہا چاجا ے۔ 


15 


مقر وت 


وت ایک یقت ہے جویقن کی طرف سے کن ل ےگ رم نک یتین نے تی 


ے۔ انسانی تک فوز وفلاحع اور خدا کی رضا وت کے وائلن اطاععت سے وایستۃ ےکیولہ 
بی کاکوئی قدم خدا کےعھم کے بی نمی اٹھتتا۔ نی کا ہرقول اورشتل بلکمہ ا کی زندکی کا ہ رگد 
اس رکز کےگردکھوم رہتا ےک انسان ئن شناس اون کا پہستار بن جائۓے۔ 

ضرورت شبوت کے چند پہلو 


نل7 وادراکل بہت رود ےے۔ کال ادر رے خطا ذات نظ اللہ تما ی کی 
ہے۔ اکر پش ریمخ لال ہوئی تد بھی لی ا سکب نہ ہوا ین زمیک تین 
اشماص بھی غخزل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بچی وجہ ےک حخرت انسان آ ح تک 
اپے لےگمل ضاطہ حیات نیل بنا سکا۔ با ہا ال نے زندگی کے میدان میں طع 
آزمالی کی گر منزل عرارک کون کا لہ ای جدوججر م س نل میں اپے 
اتھوں یوں تاہ ہوئی کیا نکا نام دنشا ن تک م ٹگیا۔ 

انا نکی اس جفیاد یکندری کے یں نظ خال کا ات نے اقوام عال مکی فلاح د 


یور اور رشُد و براہت کے لیے نبو تک سلسلہ پل دن سے کی رو کر دیا تھا 2 
اط کی راہیں روز ریش نکی رع ککھار کے رک دم اور بنا دیا تن وطراشت کا صراطا 
تیم خجا تکا ضان ہے اود باعل دفری ب کا راس بلاک ت کا موججب ہے۔ 


ات 


انم مان خطرکی طور پہکرہ سے انا اث قیو لنیی ںکرتا بس نر جئے پھر گی ضود 
ے متا تر ہوم ہے۔اگر انسالی رعمائی کے لیے تا 7ف اور الفا ظکاثی ہو لو 
خدا تواٹی کے می ےکیا مکل ت کہ سان سے ای ککھ یککھائ یزاب ناز لک دیا 
یااۓ احام پھاڑ کی چان پر رکھددیتا۔ انمان ا ننھ رو ںکو پڑھ لیت اور 
راس پرگا مرن “و جاے“ مین اثال ران صرف الفاظ کے ےعمل نہیں 
اس کے لے ضروری ےک کوئ یخس ان اظکام گل ر کے دکھاۓ اور ال یکی 
یٹال دہروں کے لیے نسونہ ہجنے۔ رٹما یی بی وہ نیادی ضرورتگی۔گ 
کے بے داوند فک ول نے اتی کابوں کے سا انی مک را مچھی مبحورث فر ما ہۓے۔ 


16 


موسر ٹکو معلو مکرنے کے لیے حواس خ سے اور متولات کے کے 
ارے پا یئن ہے۔ ادگ الک دددواس دشنل ےآ کے دی 
گر ا کی ضرور ات کا تعفق ان دوٹوں سے ؟ کے تھا سے عا لم خی بکہا جاتا 
سر ا سارک عالم تک سیک گی وب ائن مقام سے متعلقہ انمالی 
ضروریں پور ینہیں ہوگں۔ چوکہ وت کا ایک شع یب دای بھی ہے۔ لہا 
ا لی ضروروں ے پرا ہونے کے لیے شبو تکا ہوا سور ے۔ 

انی حواسملم کا ذزرییہ ہیں اوران ےی بھی دا تع ہو اتی ہے۔ پا اس 
سے ازالہ کے لی معحل کا ان بر حاکم ہونا ضروری تھا گر جن بقل بھی ھوکر 
کیا تو ا س کا ازالہ عق لک رجیتی ے نواس اذا ضروری ہوا تل پر ای 
یکو ماک لی مکیا جاۓ کے ک وت - ود2 
ےےے ‏ ے سی 
صروریی ہوا- 

علامہ شٹوکالٰیٰ 02 الا وطار ما مس قطراز یں کہ اللہ قھالی ایت گجرد اور نباہت 
نیس میں ہیں یجنی رب الحزت بل جلالہۂ ای ستی سے جوکال کے انچاکی درجہ 
ے اور انان لقصان سے ایچاکی درجہ ےا لے انان 32 یہ طاق ت نیل 
ےک دہ شی سی واسطہ کے الله تعاٹی ےٹیجس وص لکر کے _ لزا غراونرثرویں 
سے فی اص لکرنے کے لیے واسطہکی ضرورت گر وو واسی کیا ہو کک 
ہیں:لہ وجہ تجرذ و نو تق جس میں ایک و تج ردکی اور دوسرکی و ٹفل کی 
او ا ا ا ا ا ا ور لا سے ا 
سے وو فی ال یکو اناو ں کک بیچھائے۔ نیس ایسا واسطہ انھیان ےرام ہیں اور 
ان ٹل سب ے ؛ڑڈا اور سب ے ارح وا۔ یتور ئی آخر ا زاں “٣ی‏ ال علیہ 
لم ہیں۔ علا مرش وکا لی کے الفاظہ ملاحظلہ ہوں۔ 

وھذا الوراسطة ھم الانبیاء واعظمھم رتبة و ارفعھم منزلة 

نبینا صلی الله عليه وسلم. 

یہ واسطہ انت کرام ہل اور ان مُل سب سے بڑا رت اور سب 


17 


ےا مان ہعارے ب یک مم روف رتھ صلی اللہ علیہ ول مکی کے 


نا ے 
0 


اسلائی عحقات کا مرکزش نقظہ خداکی نوحید ےگ رتو حی کاچ تقصور وت سے بقیر 
خان سے۔ 

اسان بھردفت الی کے لے پیا کیا گیا ے گر عفان خداوندی خبوت ہے بغیر 
نان ے۔ 

اناع عبادرت اں ےنب ےک خدا رائصی ہو ج سے گر عبارت کا یفن 
وت کے فی اکن سے۔ 

اس عالم رنک و بو میں ا نگزنمتیں گر ان میں علال وت۱ مکی تیروت 
کے لق ربائمکن ے۔ 

ناف الا سے ا ڈیا کا علم تق حول ہا ےگگر ان رک لکرنے کا طریق 
بوت کے بغیر اکن ے۔ 

ہب فطر تکا تقاضا گرا کی ایل نو سے بغی کن ے۔ 

مس ابھی چےرکو اکر ہم اپنے معرف می لاناجایں قذ سب سے لے اس کے مود 
کی طرف رجو کیا جانا سے ت کہ اس کے فواند اور نقصدانا ت معلوم ہو جانیں۔ 
جا کہ ج بکوئی مری درد س ےکراچتا ہوا ڈ ری میں داقل ہوتا ہے۔ پچاروں 
طرف دوائیوں کے ابا ر نظ رآتے ہیں اٹھی میں وہ دوائی بھی بی سے جو اس 
کے کے کا یی یت لئ ے اور وہ دوائیا ںی یں جوا 2 
یی مو تکا موجب نکی گر اقیازکو نکر ےگا۔ ال ریش کے یں 
کا رو گکیں اس ےکیا جم رکہ بیگوٹی جو بظاہر خوبصورت نظ رآ رای ان کے اوپہ 
پڑٹی کے دا بھی دکھائی دے رس ہیں ہو سکم سے انل کے اندہ ز ہر ہو یا ا 
ٹس ایے اجزاء ہویں جو اس کے لحم تقات لکی حیثیت رھت ہوں۔ پالآخر 
اخیاڑ وہ ڈاک کر ےگا بتوان رواٌوں کے اڑا ترکیھی اور مر ضکی جک تکو 
عاتاے۔ 


18 


اسی رع اکا نات می حفخرت انسان کے دامیں بانھیں' ابر نے اندد باہ ہر 
طرف اشیاءکا رشحم ہونے والا ساسلمہ ہے۔ بے ار رہیمیں ہی ںگر اس میں خر وش رکا اقیاز 
گی نکر ےگا۔ انسانی عق ات ی کان لک کہ ہرز کےس :وج کو اج اگ رکر کے ۔تجربات 
شما مر ٠ی‏ ں انان ن ےکئی نزو ںکو ا مھا مھا مر دہ اس کے لے نقصاان دہ ثابت ہونمیں۔ 

وعسی ان تکرھوا شیا وھو خیر لکم و عسی ان تحبوا شیا 

وھو شرلکم واللَه یعلم وانتم لاتعلمون (پ ٢‏ رکوع )٠١‏ 

اور ہوسا ےکم اپندکروکی یکو حا(اللہ و وارے لیے کہر ہو 

اور ہوسلي ےکم یدک کی کو حامامکہ و تھا رےکصس میس میا 

ہواورتقیقت عال الد بی جا ضا سے اورتم نیس جا ۔ 

نج دش رکاج اتاز ووحیعم یم خر ہیک ر لت سے جو ان اشیا کیا اق اوران کے 
سرارورموز رآ گا ہے خھران غدائی ال پرانما یآ گاہی وت کے بغیر لکن وب 
ٹور صطف 

حضور نتم أنھعین صلی اللہ علیہ لہ لم ال تعاٹی کے بی ہیں- خدا خودآ پک 
و ت کا شابر اور پودراعرب ما شرہ آ پکی صداق تکاگواہ سے بل ہآ پکی خبدت انسانییت 
کے لے اصما پئلیم سے جس نے انسا نکو انساحی تک تضقی فدروں سے آ شا کیا۔ یو نو 
رآ نکی ہ رآ بی ت تو رکی نو ےکا زندروشموت ےگگر میں مشت از خودار ےکی عیقثیت سے 
صرف دو عنم داائل ذکرکرتا ہں۔- 
کلام ای 

. سے چودوصدیاں یتر اکر خر ب کا جائزو لیا جا ۓ نو معلوم ہہوتا ےکلہ 

انان خ ول کے سا سے کیدہ ری ھا ۳7) طرح خوقوار اور تہز یب ووت ے 
٤نا‏ تھا۔ الف انسان تھا گر انساشیت سے محروم تھا۔ پآ خر الد تال یکو انساضی تکی ال 
زبوں عالل پر کم آیا اود ا ہے عحبوب حضرت حر مصطفے صلی ال علیہ ولیہ وع مکو اولا وآ و مکی 
رجمائی کے لے نبوت کا ماع پہنایا۔ حضورصلی ایقد علیہ وآلہ دم نے پام نبوت نایا اور 
اناو ںکو انماخی تکی طرف لا اھر صیر یں کا پچئی رگاڑ صرف ایک آواز سے سے زائل 


19 


۔ پورامحاشرہتخالف ہوگیا اور وج اتراف مہ بقال کہ نہآپ خداکے نی ہیں اور نہ ے دا کا 
پغام ہے بل خودساخت ہے ۔کفارکا یہ اخترائش تھا کہ غیبرت غداوندی جش می ںآ کی نوت 
مصطن ای گل ال قاری 

وان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا فاتوا بسورۃ من مثله. 

(اور اگ یں کیک ہو اس گی جو ہم سے ای بندرے کی آ تر 

7مان پہ ناڈ لکیا و انس ٛ]ھھی ایک سورب* بی اکر دکھا رو) 

رت صرف عرب کے شعراء اور بلفاء کے یمیس بل ہعرب وجھم کے سب 
مک ری نکودیا جا رہا ہے۔ اسلام کے دشمنوں کے بے مکنا آ سائن طریقہتھ کت نآیا تکی 
ایک سورق بن اکر وی مصطظ کے اس چم کا جواب دے دتے ار اس رح آ کی خھو ت کا 
اناد اب تکر دتۓ لیکن چودوصدیا ںگزر ہی ہیں یچ بدستورفضاؤں مج سو رہ سے 
کوئی برشواہ رخ جک ا کین دے سکا اود نہ قیاممت تک دے ‏ ےگا اس ایک ایت 
نے نبوت نعط کا ایا سمت ثموت فراہ مکر دیا ‏ ےکی لات نے بڑے مرنٹس مخال فکو 
بھی موا اکا ریس ہویکتیق_ 
۳۔ دگوت مہبلہ 

٭ ےکا واقعہ س ےک بی خرن کے ایک حساکئی وثر نے حضور یآ خر ال مان صلی 
الشد علیہ وآلہ لم سے عقیرہ و حر و لے کے موضورم 2 گا ۔آپ نے خویزسظلیث 
2 ےکا اور ری ول پیش ف رما ۓگھر وو حر ٹکیا رٹ لگا رے چنا تہ ان 
ان پ4 جت قائ مر نے کے لے اللہ تھی نے اپنے سو گوان سے مب کر نے جم 
دیا۔ مبابل کی تحریف یہ ہ ےک فریقین فہایت عاجزی سے اد تھالی کےتضسور ید الک ری یک 
ان میں سے جوکھوٹا ہو اس پہ اللہ تال ی کی لت ہچنانچ نی آ خر الئزہاں عحضرت ما تین 
نشی اش تتعالیٰ ححن کو اٹھا ۓے ہوۓ نحضرت امام نین نشی الد تا یٰ نہ مان جنت زا 
الزھرام اور حید رکرار ری الد حن کو سا تر لے نے وند تران نے ورای چرے در ےو 
الع کے اسقف (لاٹ پاددی) ن ےکا کہاگ رتم نے اع سے میلل کیا نو یا رک وتہمارا امو 
شائن مث جا گا۔ چنا نچ اھوی نے مال نے سے انفگا کر دیا ادد جزیہ اداکرنے کے 


160 


لے ارک رر 

تو کی خبوت کا واسحع تین وت ے اگ رتضور نی ؟ خر الما لکواپٹی وت 
مکی ول سا جھی کی ہیا مو ززات خوو الہ کے میدان ین رت شلااے اور اگر 
نمرانیو ںکو اب عقید وی سائی بر یقین ہوا تو د بھی مباہلہ نے از مر کن 
تم وت 

1 نت سس ماد یہ سے کر حضرت موصلی ا علیہ دآلہ لم اش تھا یٰ کے خ ری 
می ہیں ۔آپ کے بقدکوئ ینس نبوت کا دکوٹ تی سکرسکما اور ےا اضف علیعقیدہ ہے جس 
می سی ملا نکوا شا یں ہے ا لکی رورت کے ند پبلو چہ ہے ناظرین ہیں۔ 

ا۔انمانی رشدو ہدایت کے لس ےک٢‏ یکتب اورصینے نازل ہو ۓگگر ا سحلیعم یم 
خر ےی طاظت کا اعلا نکیل فرمایا_ لپذا وو کت تی اور ای انی ذمہ دادیال 
پر یکر نے کے بعد پل یگیں۔ہ ن کو بھی اہی صلی صورت میس موجو نہیں الا خرق رآن 
می رآیا اور ایا آیا کہ اس 1 می گیا چوکنہ دہ آ خری تھا اس کے اللہ تھا ٹی نے خودا ںکی 
امت کا زمہ اٹھایا۔ اس ے تل کے ہرزماں و عمکاں کے لسے ناما لتخی کائل ضابطہ 
حیات تراردیا اور دامح اعلان نرمادیا- 

الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت عليکم نعمتی و رضیت 

کم الاسلام دینا. (المائدة) 

ترجہ آج یں نےتہارادی نگم لکر دا سے اود اپ نم ت کت پ پرا 

کر دیا ہےتہارادبین اسلا تہ اکر راشی ہوا ہوں_ 

ا ںآ یت کے الل ماف اتنا ہی سکم دن اعلام تر ری اصل ے 
کرت ہوا آبچ پا کی لکوہ گیا سے جو ہرحیشیت سۓےمل بے اس کے بععد ا بی رید 
ہراثت یا پغا مکی عاجت ہاقی نیس ے۔ یں اکر پغام اور ہدایت شخم ہدگئی تذ پا مہ راور 
دی کی ضرور تگھی ش ہوگئی۔ جب ٹرآن ی۷ ل مل او رآ تی بدابیت سے و لا الہ 
تضورص٥لی‏ اوفہ علیہ لویل مکام مل او رآ خرکی نی ہیں۔ 

۴ تضور یآ الا نی بشت ے دی کے خل فی حموں اورخلف ّوں گے 


11 


لے انا ۔کرا متشریف لات ر سے ا ن کیم لیر دشی اور عالگیر ہوکھی کے 

سن بی ج بک انساعی کو ارتقائی منازل مخ ےکمرنے میس ابھی بہت وقت درکار 

تھا۔ پآ خر ہمارے پادی صلی اللہ علیہ وآلہ ول مکی آھ اس وقت ہوگی جب دنا 

اسیک اڑی منزل پر ہچ مگ یی جہاں سے وہ ال کے تام امو رک جن کی 

اض می چنانراب الد تعالی نے بی ؟ خر الز ما نکو عالیروین دے 

بھییا اورفرمایا چاکر اعلا گر دو- 

قل یا ایھا الناس آنی رسول الله الیکم جمیعاً (اعراف) 

اے نیف رمادہییے مس تم سب لوگو ںکی طرف رسول پناک بھی ا کیا ول۔- 

وما ارسلنک الا رحمته للعالمین (الانبیا: ے١ )۱٥١۶‏ ۱ 

ا ےحبوب ! رم عامین کے سے پک وو در حودسراپارمت ہے۔ 

ھی اخ الما ن کا اپنا ارشادی ملاظ فرمامیں_ ارسلت الی الخلق کافة ٹش 
تا مو قکی طرف بھی ایا ہوں۔ 

کان کل نبی یبعث الی قومہ خاصة و بعثت الی کل احمر و اسود. بر ایک 
ھی ا یو می ططر ف کیا جات تھا مان یں تھا سرغ اور سیاہ اقوا مکی رف بھی ایا ہوں- 

گڑش نت سطور اعلا یکر ری ہی ںک ہآ فضرت صلی اللہ علیہ لہ وم تام لوکوں ہر 
عالم اور ہرقلوقی کے لے رسول بناکر یی مے ہیں۔ فذ جب عالگیر رسول عالنکیر پغام 


چا بے تھا جک ہگیاب 
جب بل پک علل پ ؟ گل ٭ 
جہاں کے و سے ئک نی ظَام 
متتتی اصول أ 
انمیا کی عیشت کا مقعد بی تھا کی دباع لکو دا کر دبا جاے اور فلا دار گن 
کے کے انسا نکوکائل ہدابیت کاچیا دی جائے۔ نذا جب الد تھالٹی نے ق رآ ن می کی شحل 
ٹس انسا نکوکائل بداىیت عطا فر ما دی فو ہنس مقصید کے لے انمیا کا سلملہ جار یکیا گیا تھا دہ 


یع ےہ 


1 


162 


ا مات ہوگیا کیڑن مض ن کا ے اصول ے۔ اذا فات الشرط فات المشروط. (جب 
رط پارکی ہو جاۓ تو مرو بی فوت ہو چاتا یی 

چئک ضر صلی اللہ علیہ دآلہ لم کے وسلہ سے دہ کال ہریت عطا ک یگئی 
ہے۔ اس لیےمع تی عو پہآپ اس سلسلہ کے ناتم قراد یائے شی ںات 
خ ری وہ 

می جنر ککا ارشاد ے: ن ن کو ہر اور بادئی کہا لک لآ آے۔ ہرقوم میس 
نے نل میں تۓ اور ہیلک یآ تے ہرذیانے سک نے الک لام بوان ۔'“ 

جن بر سب جا ےکو؟ کے ایک مقردہ وقت اورتینن ز مانے کے لیے ؟ گے 
ان کے ععکام ان کےضھونے وی تے۔ قیاص ت کک رت ےکو ایک ھی دی نآ یا اور آیا تو آ 
گیا۔ اب ا ےکوان مٹائے۔ دو آ نے والا ت خرگی آ نے والا تھا وہ چلا چا ۓ اور ا یکا 
ضونرمٹ جاے فے قیاص ت کے ۔ اب کوئی ہن ولا ہی یں ۔غمونہن بی رےگا۔ اد 
پھر زل بی می بی فیصل ہک دیا تھااکہ ےآ شرکیخمونہ ہے اور قیامت تک کی رہ ےگا۔ 


ض۶ نزوت ای٣‏ کلت ے 
2 وت اللہ تقالی ۷ ا امام سے ہج کی پرولرں ہمت مل ٹں 

الھبر برادری اور وصرت ام رق اف۶ .. 
نہ ہوئی کیوئلہ ہ ری کے نے ہے پادہ یا دہ ہوئی رگئی اور ند ایآ اہت ای لف اور 
تتعددامتوں می کیم ہو چائی جن بیس سے ہرام تکا روا ئی ہرک انگ ہوتا۔ جار الگ 
ث ودتیذعی سرچ شمہ الگ ہوتا بلگہ انان پییشہ ہے ستشی لکی طرف سے غی رملسشن رہتا 
اور ہر نۓ ےآ نے وانے بھی کا خنظرر ہت میقم وت نے مسلمانو ںکو ہر اے بنیادی 
اختلاف سے تفو اکر دیا ے چان کے اند رت لف ری کا باعث بن سکما کت 


163 


عرر کے لقوی واصطلاگی معال ی اور ال ںکی شرائا وہ 
میتی عبداکںیوم اروا 
سوال: مرن ھی لفوی اور اصطلاتی معالٰی با نکر سس نج زم مھ ہون ےکی رائا اور ا ںکی 
مز اکو داش کر یی ۔جھ ارسلان صد لی فیعم لآ پا ْ 
جواب: تر مھ ارسلان صد بقی صاحب السلاع “عم ورمت الد برکایرا 
مر کا وی می 
مرکا نوک ما یہ ےکک بچ کو دوسریی پ کی طرف لونا دینا۔ بجی وج ےک 
هر اسلام سے پھر جانا سے او رتخیقت می ںکک یکو مر اس وف تکھا جات ے جب وہ اسلام 
کو چھوڑک رکوٹی اور دین اخقارکر نے۔ (حارج الھروں ک۵۳۳۵۳۷م۲۳)( 
مرن کا اصطلایقم“ زا 
شر کی اصطلاع یش مر ام ینٹھ کو کے ہیں جو رین حھ صلی ایل علیہ لہ دسلم 
کوہچھوڑک رکف راخقیا رکرے۔ اب اس کےسی قوگل' نل پہ اتا می کیا جا اک ہآ یا ال 
نے تحیفقت میں ایا کیا سے یا کیں۔ خواہ ا سکاب ےکہنا عزنادا ہو یا اخنقادا ہو ما استتبزام ای 
طر اگ رکوئی تی می ا وعطال چان تو َ۶م ہے۔ ضز شاپ وگ یگل چوری 
اور ڈاکہ وظبرہ_ 
رک ۶ 
ولا یزالون یقاتلونکم حتی یرد و کم عن دینکم ان استطاعوا ومن 
رد منکم عن دینہ فََُبُ وہو کافر فاولمک حبطت اعمالھم 
فی الدنیا والاخرۃ واؤلنک اصحب النارھم فیھا خلدون. 
اور وم پیش تم نےکر گے ر ہیں 2 ہا ں ک کک میں عھارے دین 
سے پگ ردمیں اگرچجی ری اورتم میں جکوئی اپنے دین سے تل رر جائۓے 
راف ہوک مرہےتے ان لوکوں کے تام ( کیک عصمل ضائ ہو گے دنا 
یش اور خرت مل اوروہ دوز رج دانے ہیں _ (القرءٗ ۳:ء۱٣)‏ 


14 


ملعونین' اینما تقو امخذوا وقُِلُوًا تقتیلا. 


پپٹکارے ہوتۓ (لضقی ) جہا ںکہیں میس کپکڑے جا میں اور یگ 
یی ں۔(الا7اب٣۳:٦٦)‏ 
عدیث ماک سے 


حفرت بکرم الچ کے پا دمرتہ لاے گے آپ نے نول دیا۔ سے 
بات این عپاسں ریشی افلدش اکوکپئی ف فرمایا میس ہوا تق نہ جلا جا کہ رسول اوصلی اللہ علیہ دہ 
کم نے اس سےٹن فرااے۔ 

لا تعذوبوا بعذاب الله ولقتلتھم لقول رسول الله صلی الله 

عليه وسلم من بدل دینە فاقتلوہ. 

اکا عذات ( یکو) مت ان ایکون یرتا کن دیعو ال 

صلی اللہ علیہ دآلہ لمکا فرمان ہے جو اپ دی نکو بد نے اےے کر 

رو_ (مگلو ]اک ے۳۰ ککوال ہناری) 

صربتعی دن٘شی اللہ عنہ سےبھی ردایت ہ ےک رسول انل صلی اللہ علیہ د1ل یلم 
نے فرمایا ”س1 خری زمانہ میں سی وع کر عقل لوک ؟ ٹیس کے بہترین خلق (عیں) صلی ال 
علیہ وآلہ دو مکی بافس (حدیث) با نکرب گے ( یا لوق میس سب سے مبتر ہاجی کر بی 
گے ) ان کا ایمان ان کے علق ےآ ےکی بڑ ےگا رین سے الیے بل جانمیں کے جیے 
تیر شکار ےکی کفکر- 

فاینما لقیتموھم فاقتلوھم فان فی قتلھم اجراً لمن قتلتھم 

یوم القیمة. 

۶۷۶ 0" کے لکرنے می نف لکرنے والوں 

کے لے قراصت کے ون ثذات ہوا (خطن طط مکل صس۵٣)‏ 

نت می ری الع ۓ زوارت سح 

ان یھودیة کانت تیشعم النبی صلی الله عليه وسلم و تقع فیە 

فخنقھا رل حتی مانت فابطل النبی صلی الله عليه وسلم دھھا. 

ایک یپوی عورت بھی اک مکی اللہ علیہ دآلہ دی مکو برا چھلا بی اور 

نین وط زکری“ ایک ملمان (ئشن رسول) نے ا کا گا دیادیا 

یہاں ت کک مکی صسول پاک مکی ال علیہ د1لہ یلم نے ا کا خون 

رائیگاں تر اردے دیا۔ (ابو واؤو۔ بوال “کو ص ۳۰۸) 


15 


امام فتہ 

فقتہااۓ اسلام سے 

واذا ارتد المسلم والعیاذ باللٰه عرض عليه الاسلام' فان کانت 

لە شبھة کشفت عنہ لانه عساہ اعترته شبھة فتزاح وفیه دفع 

شرہ باحسن الا مرین الا ان العرض علی عاقالو اغیر واجب 

لان الدعوۃ بلغته و یحبس ثلائة ایام فان اسلم والاقتل. 

اک رملمان' اسلام سے پیر جائے۔ دا کی پناہ۔ تذ اس پر اسلام یی 

کیا جا گا اگ ال کاکوئی شبہ سے نے ا کو دو کیا جائۓے گا اس لیے 

کن سے ای شب وگیا نو ا کا از ال ہکم دیا جا ےگا اس صورت 

یی ان کی بزائی کو وی سے بت رع ربق ےت مکمردیا جا گا۔ 

یئل یا اسلام۔ الہ اس پر اسلام می ںکرنا جیما کہ علاء نے فرمایا 

لازمیں۔ ال ےک اسے مکوت اسلام تق گی ہے اور اسے تین 

دن قید یں رکھا جاۓ گا ار مسلران ہو جاۓ تو ہز ور نیشن یکر دیا 

جائے۔(ہدابی ۵٦ھ‏ نع ٢۔کتب‏ امیر ) 

امام ابوحطیفہ اور ابو اوسف بی الش نما سے مروکی ےک تین د نکی سہلت ویتا 
صتب ہے خواہ وہ مطالہہکرے پیا نہکرے۔ امام شافھی رہمترافلد نے فرمایا عاگم بہ لام سے 
مہ اسے مین دن کی سبلت دے۔ ال سے پیل ا ےن لک را جائزنٹئیں۔ (ہداررح بت القدر 
ص ۰۸ مج ۵ش پاکتان ) 
من د نکی مبلت ْ 

ای نیس ابو موی نشعربی رشی اللہ عنہ کے ہاں سے حضرت عم ر٘ی ان نہ کے ۱ 
پا ںآ یا آپ نے پو چا کوئی خخر؟ ولا تی ہاں !ایک شس الام سے مرج ہوا ہم نے 
کرو اپ نے فرمایا اسے تل وا نی مکان ف یک رکا دن یت زوقی انی 
ھا دتے۔ شا کر لیتا۔ بچلرفرمایا اے الل نہ میس موجودتھا۔ نہ میس ن ےمم دیا اور نہ یش 
رائشی تھا (موطا امام مال فص ٭٢٥)‏ 





16 


۱ رسول انص٥کی‏ اللہ علیہ وآ لہ وم فرماتے ہیں۔ 

من غیر دینه فاضربوا عنقةه. 

جاچا دن پدنے ام يک یگمرون اررو!( موطا الک ص )٠۳‏ 
کیا رت کو کی الفور کیا جات ےگا با ہلت دی جات ےی 
عوال: هر کے بارے مم سک اعم ہے کیا ا سکوٹی الغو رن لک دیا جا ۓےگا یا ا لکول ی 

مبلت دی جا ۓگیا؟ 
قات: 

قال رسول الله صلی الله عليه وسلم من بدل دین فاقتلوہ. 

جس ایا دین پر یل کین ائ یل گر دو۔ (بفاری )٠۰٠٠١:٣‏ 

تام او عمکا ااں ےکم رت کو لکنا واجبے ہے حضرت الوبک ر صلی“ 
حطر تع حطضرت عثانغ مکی آحطضرت مواؤ ‏ نظرت این ع با اور نضرت خاللد رضی 
اللہ تھا لی عنہ نے ھرت کو لکرن ےکاعم دیا۔ 

تضورلی اللہ علیہ لہ لم نے فم مایا مسلما نککا خوان صرف جن اساب میں سے 
تی ایک بب سے عطال ہے (۱) جا نکا برلہ جان ہو یا )٣(‏ شاو شرہ زالٰٰ +و(٣)‏ وہ 
اۓ دی نکوچھو کر یجراعت سے کبحعدہ ہونے والا ہو (مرادممیز ہو) 

(مککو ۃسص ۲۹۹ ہوالہ جج بای وی لم ) 

نس الام تی 7 گلھت ہی کہ ج بکوئی مسلمان مرن ہو جا تو راس براسلام 
می کیا جا ۓگا۔ ارت اس نے اسلا قجو کیا اورلمان ہ وی نے ٹھیک ودنہ ای مہ ا سک کر 
دا جا ۓگا۔ ہاش اکر وہ ہلت طل بکرے فو ا کون و نک مبلت دی جا ۓےگی- 

ایک دوسرکی بات بگیا ہ ےک مرتری نکا رم عرب کے مشرکلی نکی طرحع ہے۔ 
منشرلین عرب نے جن کا پاداری اور وفاداری نی لکی۔ جس عرب لوگوں کے لے جو 
مشرکین تھے دوراتۓ تے۔ اسلام یا مکوار۔ ال رح ھرتین کے لی بھی دوج یتم ہیں یا 
وار یا اسلام۔ 

(مضہاع اافتاوگی۔جلد چمارم یس ے۳۵ ۲ ۳۷۱ ۱ز تی عبدالقوم خان ہڑراروگی ) 


167 


مرزرائوں کے اعنزاش اوران کے جوابات 


زم : مول ن شھ ابرائیم 


وما جعلنا ھم جسد الا یاکلون الطعام وما کانوا خالدین. “تام انیاء 


نیم السلا مکھا نا کھایاکرتے تے اور پالی پ کر تے تے۔ اگ رر کسی علیہ السلا مآ سان پہ 
زند* مو جود ہیں نکی اکھاتے ہیں او کیا پٹ ہیں او رکہاں بول برا ذکرتے ہیں؟ 


جواب 


مرزاتی نی کے این ! لا ےب کتم جس وقت اپکی ماں کے پیٹ مس رتے 
ےت کیاکھاتے ہے ت او رکہاں ول وبرازکرۓ تے؟ 

محخرت بس علیہ السلام تین د نج ک تی کے پیٹ میں زندور ہے جا ےک کیا 
کھاتے پیے تے او رکہاں ول و برازکرتے تھے۔ 

محقرت آ7 وم علیہ الللام اور تضرت ماک جوا علیہ السلام ج بآ سان بی مکی جڑے 
یں ر ےتک یاتھاتے تے تھے او رکہاں ہول و برازکرتے ھھے۔ 

مرذاصاحب نے خودف کیا ےکہ یس نے ححفر تھی علیہ السلام سے لک یک 
ی بن می ںکھانا کھایا ےا کم بتلاوٗ اور مزاصاحب ے گی وک د ہک یاکھانا 
تھا اورکیا بنا تھا (فورائنی حصہافزل مس ے۵ مصنفمرزا ا دیالی) 

ہرزا قادیالی نے خو سی مکیا س ےک انس درجہ پر م ون گی روڈ بھی خدا ہوتا ے۔ 
جس کےکھانے بہ ائ ںکی زندی مروف سے اور موک نکیا ای بھی دا ہوتا ے۔ 
ینس سے دو مت سے پل جاجا ہے۔(براین ابی ص٣‏ م ٠ا‏ 

مرزا صاحب حعخر مکی علیہ السلا مکی حیات جسمانی کے تال ہیں اب تم لا 
مقر گی علیہ السلا مکیاکھاتے بے ہیں او ہکہاں ول د برا کر تے ؤ ں جیما 
روہ کھت ہیں_ 

ول حي فی السماء ولم یمت ولیس من المیتین. (نورالَیَ حصرازلش۹٦)‏ 
و دیگر بل حیاۃ کلیم الله ثابتٌ بنص القرآن الکریم. (ملرۃ الیٹرییص۸) 
رز ات ا گی سکہو کس مرزاصاحب اپنے ال وعیال کے ساتح رکھانکھا اکر تے 


تے۔ل9جب مزا صاحب مر گ9 آپ کے م نے کے ساتح یآ پ کے ایل و 


18 


عیا ل بھی مر گۓ؟ 

اصحا بکبف جن سونو بر اق رکھانے پٹنے کے کیسے زندہ رسے جو خالقی اصححاب 
کپ کو ای رت ار طعام کے مد٥‏ رکا سے ۔کیا ضر گی علیہ السا مکو 
زوین رک 

اع ہن کن ککھاتحیح جن او رکا ین گے آو کان جولی مارک رین کا 

آ یت نراکورہ ٹس سے ماب حیات طعا مکا ہونا معلوم ہوتا سے طعا مکا عق مم کے 
ہیں مڑنی جونم اور خذا ہک مابرحیات ہے ۔ طحا مکا “مکی گہہوں نمی ججوب وغیبرہ 
میں بل جملہ افراوطعام میس سے ہیں ۔کیا آپ نے ناتم الا میا لی اللہ علیہ 
وآ لہ لمکا بی ارشادمپار کیل سنا- 

یرطعام ارٹی 9ئ0 دوسرکی اشیاء کے خورد وو کی خردی ہے۔ ای طر 


تح صھا کرام رضوان ارڈ ہم اشن کے سوال کے جواب میں ظہور دچالی کے وقت بطور 
استدداع جب رزقی کے انے دجال کے پاتھ میں ہوں گے فکیف بالمومنین یومٹذ 
فقال یجزی ھم ما یجزی اھل السماء من التسبیع والتقدیس (سُوۃ شرف () 
آ7 حضرت صلی الل علیہ وآل عم ے راوگ پ پتا ےک کیا عال ہوگا اثل ابمان لوگو ںکا تب 
کہ طعام وغیبرہ دجال کے ہاتھھ مس ہوگا؟ نو آپ نے ارشادفرما اک جس طرع آ سان پہ 
ربے والو ں کا ما یر حیات طعام ذکر اہی ہے ای طربح موی ن کا ذک ران الملک القدو کا 
زکرکر یں گے بھی ذکر مو می نکا طعام ہوگا_ 


حفرت امام ابن لم نے اپ کاب مم بعبارت ان عفر تئیٹی علیہ السلا مکی 
حیات او رآ پپ کی خو رافک ددع فر مایا سے یما کہ وھذا المسیح ابن مریم 
عليه السلام حیٗ لم يَمُتُ وغِذَاءُ ہ“ من جس فِذَاء الملائکة. 

( کاب الا نکاں جس ۱۳۹ خو رص ۸۳س مطو مع ر) 
نی مضرت می علیہ السلام زندہ ہیں ہرک کی فوت ہہو ئے اور ا نکی خوراک وی 
سے جو ملاک کی سے وکمہ لام ہکی ا اورخو را کبھ یج وبیل ہے۔ 
یکر ہل پوی ویرا زکاۓ٢ ٣‏ اور دارویرار ماوق هڑا اور ظَاہر خورا کی یپ 
چوکمہ ا نکی مادکی اور ظھاہربی خوراک سے ہی یں اس لے ان کے بول و برا ہکا 
سوائل بی پیاکڑل ہوتا- 


19 


متاخ رسول اورمید 


اسلام میس دوفو ںکی ممزائل سے 
موڑ نا ڈ اکٹ اصدیلی سراج (کویت) 


مر ا اف شک وت ہیں جو بے ملران ہواور تچ رضرور بات دن اور اسلام کے 
ذیادکی احکاما تکا اکا رکرو تو ا اتی شری اصطإا نج میس مر دکپلاتا ہے تن 7 
اسلام سے پچھر جاۓ یا رسول اکرم صلی الشد علیہ یلم کے ارشادات مان سے اکا کرد ے دہ 
مرح دکہلا ۓ گا۔ فمرماان نہوو کا انار و 2 وت کا اکار وولوں ارراو اد ہے 
ہیں۔ اس لیے اس بات پ اجمار ےک اگ کو یگنن ق رہن وسنت میں ےک ای کک 
جی تک بھی مر ہو وو رنہ ےج باری ریف میں ےک حر تفرمہ رشی ادن کے 
ہک ایک مرح ہپ زند لی حطرتملی ری الڈد حنہکی خدمت مس لاتۓ یئن ھوں نے 
ا نو جلا ڈالا۔ پھر جب اس با تک رعحضرت ع بدا بین عباس شی الد کو ہوئی فو اتھوں 
نے فر مایا 'رسول اکرم ی٥ی‏ الہ علیہ کلم نے فربا کہ جو٠‏ اپنا دن بدل ڈانے ا سکنل 
کر دو ( بنا ربی) اسااگی عکومت میں حدود اسلائی کے نغاذ میں مرج ھکی مس زان ے۔ ا کا 
اجراء رسول اکرم صلی اللہ علیہ ولم نے خود انی حیات مپارکہ شی فرمایا۔ فارگ وم میں 
می علیہ عد یث سے تعخرت اس رشی الد عفرا ہ سک رحضرت رسول اکر کی اللہ 
علیہ یل مکی یت بن فی لح کے پک لو رھ اور اسلام قبو کیا ین ا کو مد ی نکی 
آب و ہوا مواق تھی ںکآئی۔ ج سکی وجہ سےتضور اکر لی الہ علیہ بملم نے یں عم دیاکہ 
وم اونژول کے رہب ےکی کہ لے جامیں ید پھر وو مر ہو گھئ اور ارول کے رداہو نکنل 


170 
کر کے اونو کو پا ککر نے سے جب رسول اکر صلی اویل علیہ یل مکوعلم ہوا تق سی نے 
ان کے چچیےسوارو ںک وگ جک مم دیا کہا نکو پا کر مایا چا جب میں پک کر لا امیا تو ان 
کے جج مکی مز پ ہاتھ پی کاٹ دی گے اور ا نکی ہیں پچھوڑ وب یگئیں۔؟ خرکار وہ سب 
مر جھئے۔ (بیفارگی ومسلم) دنیا یش ادٹ اد پ مزا انے کے بعد ؟ رت یس اہ ےکفم کی وعہ 
سے ھ رن چک مکی آ مک کا ایم نبھی بن گا۔ 

ے بات وہ ن تی یکرلیں اسلام یں سب سے ےکی عزت او رحظمت الد رب 
اہزرت اور رسول اکر ص٥لی‏ اللہ علیہ یل مکو حاصل ہے۔ اب اگ رکوٹ یف اللہ اود اس کے 
رسول صلی اللہ علیہ ول مکی ان مم سممنت ٹ یکرتا نے لی نکی مزال ہے۔ ام امسلای پ> 
لازم ےکہ ال یفن کو قین ون کے لیے فیس رک ےکزعہلت رے۔ اگ ر و ان ین وتون 
یں فو کر کے دائرہ اسلام یں لوٹ کے نے ٹیک ورنہ ا سک لک دیا جا ۓکیوکمہ الام 
نے مر کیم زاٹ مقر رکی سے ا س عم اسلائی پرتمام مکاح بلک اور فتہا 7 ہارب ہکا انفاتی 
ہے۔ مرد اورعورت دونوں ا عم یں براجہ ہہیں۔ مرن ھ کی سڑا میٹ یکر کوئی نہیں ان 
اسلائی معاشر کو ارہ اد سے بچانے کے لیے ہیک یم فدم رمت سے ناک دوصرے لو ںکو 
ابرار سے بھایا جائے۔ ججرائم ہز ے ووسرے لولوں 2 ےعہر تکا در ہت ے۔ 

حطر لی رنشی الد عشہ سے رواییت ےکن ال یہودی عورت بی اکر مکی اللہ 
علیہ مل مکی شمان می سعمتاخغ یکرزتی شی نذ ای نف نے اس کا مگ گھونٹف ڈالا جس سے وہ مر 
کیو رسول اکر لی اللہ علیہ لم نے اکا خون محا فکر دیا (ابوداوَد) سن نیش 
سےکوکی مواغنہ ونم يکیا گمیا۔ ظاہر ےک رسول اکر صلی اللہ علیہ وم مک یکسا خی ایک بہت 
بڑا جریم ہے جن سک سزا بی سے اود پچ ر7خرت میں الی ےننس کے لیے جھ اط ادکا مرککب 
ہوا ہے لت ترین عذاب ہے۔ دہ نار ہے جحیم ہے چنم ہے اوردوزغ کی ڈگ ے۔ 
نس میں سانپ اور کچھ ہیں. اگ رکسی اسلائی حکومت میں اکا نف نی فو اش کی عدالت 
ٹس مرن ھکوسزا سےکمیں بچایا جا سکما وہ جھکف رپ مرے اس کے ےت عذاب ہے 

اللہ تعانق رآن پاک می ارشاوفرماتے ہیں۔ اس دن (قیامت کے دن ) بہت 
سے مشہسفید (ھتور) ہوں گے اور بہت سے من ہکانے بہوں کے میں نین کے من رکا نے ہہوں 
کے ان س ےکہا جا ےٹاک تم ایمان لانے کے بعک رکافر ہو گے تھے نو تم نے جھکف رکیا سے 


171 


یں کے بد نے میں نخذاب مو (سود ہآ گل عمران۔ القران ) مر ہکوکاف رکہنا ین اسلائ عم 
ےکیوکلہ اییا تس جو صروریات دن می ٗی ایک کا انگا رکرتا ہو یا اسلام ہے بیادی 
اکامات کا ات زاکرتا ہہو یا رسول اوڈص٥کی‏ اللہ علیہ ویل مکی شقم خبو کا مر ہہو یا آ پ کی اللہ 
علیہ لم کے فر مان شی سنت بد یکی بجی تکا مگر ہو یا الد رب الحزت اور رسو لکر صلی 
اللہ علیہ ول مکی شان می ںگستاخ یکرتا ہو یا شدائز اسلائی کے خلا ف بت ہوتے ای اشن س کے 
صران ہو سکم ے؟ 
اسلام نے دوعی نظرہ ےکا سور دیا ہے اس دنا یں دومٹتیں ہیں ایک ےلم 
ے اور دوسری مت کاثر_ ان دولوں اصطإا و ں ٹن ار او زس خی می الشر علیہ 
یلم نے وا کیا دنا گوسارےافا قح یکن کے انان ان اوت کی 
ینیم مسلان او رکافر کے س اھ ہے۔ دنا کے خقمام مسلران ایک مت ہیں اورکافر دوسرکی 
لت ہیں اور پھر ج بکوگئی مسلمان اسلام سے پھر جائے لو وہ طم تک رکا فرد بی یکرمرر کے 
حم میں7 ہے۔ پچ را یےے مرن ہکوملما نکبھنا بھی مع سے بللہ مرن کوکاف رکبکھنا ین اسلائی 
۶م ے۔ الد دپ اعت ے تھا ےک رب ڈوالچالی بھم سب مسلمافو کو ایمان واسعلاغ 
یں ا خننقامت و ا اک سے تبول قر اکر امہ جا رایمان رف رمائے اور اس دور رای میں 
ار اد سے بچاۓ اور ہمارگی تفالت فرماۓ (؟ مین) شرگی طور مر سر جو احکامات لاگ 
بد نے ہیں وہب ٹیں۔- 
 )0(‏ گرا لا حکومت ٹیش ارہ ادکی مڑا سے و ا سکوجین د نکی مبہلت در ےکر قیر 
ٹش ر کے پچ راگر وہ اپ ارمراد سے بازنمیں آ ما او رق نی سکرتا نو حاکم وت 
ان کان ل کاو ےن 
(۲) اگ مرف لک ے اہر بھا گگیا یا لک مشش مانون ادتراد یس مزانھیں سے تو 
ابی صورت ہیں اگر دہ زندہ ے او رحکوص کی مزا سے پ گیا ے نذ تی طور پر 
ای مر کا نیاں ٹوٹ جاتا ے۔ انگ ول وزث پر کرنے 2 بر 
ور ےکی سے شاو یک رحکی ےکیوئک ہنیک سلم خانو نس یکاف رم کی بیو یکیں 
بن ىتی اود اس ری حکوئی مرن گنن کی مسٹ ان عورت سے شادگیگییں ۷ رکا 
(۳) ارعاد کے بعد مر کافر اپے وال دکی میراث سے محروم ہو جانا سے ۔گویا ال 


17 


لات سک ہکافرملران کا وارث یں ہو سلنا۔ کاخر کے اتد تو 
معاشرلی اورجچارلی تعلقات ر کے جا کت ہی ںگر جومرن ہواس سے سای تعلقات 
رکھنا بھی خائ کی ںیک یوگلہ ارطراد کے لود وہ درشت ےٹوٹ وا ایا پھ ے پا ای 
شماغ ےکا پان حای ںیزا نے زرل ٣‏ شوہ 2 انی 
7 سے دوک ىا تعلقات ر کے جاککیں۔ 
ار ہار ا رکا مرک بکافر ہو چاتا ہے۔ ار ادکی مل ف یں ہیں _انضوں 
انل ایمان اور اسلام کے ساتھ سے۔ شا ائل کی ذات وصفات بی انکر سنت ہو ی کی 
یت کا انکار فرمان رسول ص٥‏ لی ال علی یلم نی رخ وت کا مگ عباوات می نماز 
روزہ رق اور ڑکا ؟ کی ف رض تک انگار اس طط رح اش کی علال چیزو ںکوترام ما عرام چیزو ںکو 
علال یا دوفوں کے فر قکوش مر کے بیکہنا کہ علال وترا مکی فیا فر نکوکیں ما:تا۔ ضرورت 
دی ن کا اور آ خر ت کا انار یا جنت وشن م کے وجودکا انکر ان سب اممور یش کسی ای ککا انار 
بھی ارتراد ہے جوموجیا تکفرں سے ہے ق رآان پا فک ایک آبی تکا اڑکاربھی موجب 
اف ون ہے ہے 
جیپ یسپ 
کن پروش تا“ ن..... جب ۱۹۶۳ء لی تھریک ش غبوت پچلی تو مرت مولاناسیزرسف توری .َ 
را م1 دح رضوی مک رڈیل مق ہدے۔ مولا تارف بنوری' کے فولادی عم اور ولول ! 
ارت نے ری قوم یں چہمادکی رہ و وک دں۔ ٢‏ آ نے ور ےکک کاموفالی اور امیا دورہ سا کت 
کی رگوں میں مو نکی جیا کی دوڈادی او لوک آپ کے رہ جماد لبیک کت ہوئے مدان م لود پڑے۔ 
ج بگحھرسے گے نوا درس کے مغخی صاحب کے پاس من اور فرب کہ معفرت مفتی صاہب !میں ری کگکی 
راجتمائی کے لے جار ہا ہوں اور اپ اکف ن بھی سانچھھ ل ےکر جار ہوں پھ رکغن کا لکر دکھایا۔ رید فرما اک 
مرزائیو ںکوا کک میں نمی نکی رو سے کاف رھ راوس گا۔ ابٹی جان کانذرانہ می ںکروں گا۔ والی نگ چانے کا 
ارادوشییں۔ ىہ درس تممارے پاجھ می اللہ تال یک امانت ہے۔ ا سکی طفاقم ت کرت رہنا۔ ( اہ تائیٰنے 
اپنےپیارے حجب مالغ علیہ دم کے صدتے ری عحت اسلامی ہکی ماخ رکھب اور اد یانو ںکو پی نکی رو 
بے کے ایا 


173 


لا ہوری مرا یککاف مکیوں ہیں؟ 
ازموڑا :اسم 9 تن چان برق 


با یلا ہور او ںک اروا راد 

مس لوگو ںکو پا ٹی لا ہو بیوں کےکفروارطر اد کے مل می ںرک ہوتا ‏ ےکہ پا ئا نہ 
شح خبوت کیک راور زمر زاصاح بکوئی مات ہی گر بیکافر وع رق کیوں ہیں؟ ال لکاجواب یہ 
ےک افو لے ایی سک پا می وٹ یتر غبوت کے می سک نیس اور بالنفر اکر پا ٹیا نبوت 
ےنکر یھی ہو تو بھی دوس رےکفریات کیک را نکوخجات یق ہے ۔ پامیو ںکیاکفریات 
بھی مر زا کی ط ح اتدادو لات میں نجن میں سے کم بیہاں لطد رتسونہ چند دجو ہبہ ىہ ناظ رین 
ور 0 


لا ہوری مزا تیں(پغامیوں) کے وج گر 


( جال )مز اتقادیاپی کے نوا خبوتکا(ڈکار 

نش رح :مر زا تقادیالی نے قلماو ینا وکواے نبو کیا ے اورتضرت نتم الا نیا ۳ 
می مل کے بعددگواے بوت درد اوربوتکاذ بر ےاودنو تکاذ کیک بک نا برا 
کے خلاف ہس مکا چہادکرنا ایل اسلا مکا خر می سے ھا برمسلمان رم کاب دعرزا 
قادیالل ان ور ۴ زی بک را فض سے ورزی کان ر ہناکنن ہوا کی نا نکڈالو ںکی 
حذیب ددکرنے سے معاؤ ال یکر لی اللہ علیہ یل مک ین یب لام سے جواۓآ کو 
خرانین ادرلا نی بعد خر ما گے ہیں اود اہر ےکملمان بن جانے کے لیے کر لی 
شا علی کرک تب شا ہہ حذب کے اھ نو لق ۔ یں چون وت کا ہ 
مد را ےو یکر نی ال تی علیہ دک نوتصاد کی کذ بک اہ اوراکرکوںی 
تس نو تکاذ ک تقد ین نی ںسکرجا لیکن اس می متردد ےو وگونو کیل مکطا جک یب کیل 


174 


کرتا یکن ال ںکی تحمد تی می متردد ہے اورایما نک یتم ریف میس تد تی کےمممی لین کال 
ا2ا ریاکے ہیں جو تر ددکیصورت ٹل پالقل مفقدد ہیں ہنا لت تر دویھی می یں ہوسکا_ 

عاصل بی ےک ایک ملمان اس وفت بی یکر مم صلی اث تھاٹی علیہویلم بایان رکے 
واڑا موک ہوگا کرو ومسیلمراورم رز ای تھا مکذرابو ںک یک یب بات دحا ل/رح ور ہرعال 
ٹیش بے ایمان اور مار از اسلام ہوگا۔ یل یی بت صادقہایما نکارکن ہے ای طرح خبوت 
کاذ کیک و بھی ایما نک اشرط سے لبذراپنالمیو کا مرزا کی نیو تکاذ ‏ کیم یب کرنا اور 
صرف بیکہن اکم ذاحدی نیو تی ہے ایک تع لکفر ہے فی کر کہاگ ر1 ر عکوئی کے 
لک ےک یرد رکا یت صلی ال تھائی علیہ وسلم نے وکوا ۓے نو تکی یت جیے و و بس و بکاف ر ہوگا 
کرتقمد بی ن یکریم مکی الل علیہ یلم ے روم ہے ای طر سی تلتی کاب ک نی او نی 
زکو ےکا مک رچھ یکا فر بی بہوگا جا سجن یب ےئ و بلون نھیکریی مکی الشعلیہ 
کی مب تک نامک نی ے۔ 

جس رع نی صاد قکی ند بی ضروربی ہے ای طر تی کیا بکی کمن ی ببھی 
را ےپ 


تش مر زانے نبو تم فقی شرع بگتش رح کا ذگوکی ای ےکھاغطوں می کیا ےک 
ان یں تا وی لک یکوئ یمنیکنش یمیس اورجشنعبارقوں ٹ لکیاکے دہ اُرددفز ہا نکی عمارٗش ہیں۔ ہر 
یھی وادلی ا کا مطلب بی تا ہ ےکم زادگ وت ہے اور اگ ر پھویشرم وجیا وی تے یی 
صاحب اس با تکاا تاس ضرورکر بت کمانہوں نے مرز اک اُرددعپارقں پرتچھو نے معائی بیان 
کر تے ہہوے خاک ڈا لن ےک یکوشش میں انی ذات پرالیمااطاقی حلہکیا ےکا نکاکوئ یت 
تین وشن گھ یہی ںک رسک ھا کیک جکوا نوم تکیا عبرم موم اُردوز پان ٹل ہیں او رہم لی 
صاحب کے سب ایل زباان ان ک ےی جوا نبوت کی یکھتے ہیں لن الاب ذ ملک دو باقوں شش 
سے ایک بامتضرورہگی- 

بات تمام ہنددستان ٹس سےص رف یی صاحب نیا یہی ٹش با کت شر ےأُردو 
زان جک کی قابلیت ہے عالائکم ا نکین ولف رر شاہد ہ ےکم ای ذ با نکو ہا مھاورہنانے کے لیے 
بھی ا نکوسا لہا سال درکاریں' تح ہوا ودرکزار_ 


.. 5 

دوس رک صصورت یہ سےکسارےابل زبان نے مطلب جح مھا صر ف دی بی ا لے 
خن مم کے جو یکن سے قاصرو عاجز ہکان کے وی جیا نکر تے ہیں جوتمام مل ز بان کے 
ظانکیں۔- 

ہم نظرانصاف وصداقت ای دوسری صور کوچ یں ماتنے ہی ںکیونکہ اک 
ہبندوستالی کے لیے دوسرے ہندوستالی ہج یکی معمولی عبا رق ںکوالٹس مطل بک نکی طر بھی اس 
ضر رنشکل ہیں ہو سکم لہ ج بکیھے والا اورک والا رولوں پنیا بی ہونے میں بھی ترک ہوں تو 
84 یہ ےک جحرملی صاح ب بھی مطلب دو بی بھے ہو ۓے یں جو دوسرے لوگوں نے مبچ ار 
ازروۓ عناد ور اکا رکر کے لق اللہکوگمراہ بنانا جات ہیں جن س کا خلاصہ بی لگا ک می 
صاحب ول میں وش بوت کےمگ رادرم رزاکی نبوت کے ئل ہی ںک راہ ریس از رو نے مصلحرت 
تم نہو تکااقرارادرمرز اصاح بکی نبو تکاا نار سے اود یکا ہوانفاقی سے جو دی کفرے_ 


تیسرییاد چاو ٰ 
پنائ اریم نبو تکوضرور مات د ین سے سلی مکرپی سے۔ وت طفییقی شرع بللہ 

وت تشریعیہ دونو ںکوسرور عال صلی الا یٰ علیہ یلم 72 ما نے ہیں اورواٹی ہے دولأوں امم 
ضروریات دبین سے ہی ںگک رب ربھی شمرزاعموداور ا يکی ماع تکوکاف رکبتی سے تنک ہیر لد بن 
اروی اوراں کے ہم خیالو کون یس اب صرف تین بی صورت ہوحکتی ہی نک ہلا ہور وی کے 
فزدی کت وت ططیقیہ دنت نبو تن رمعم ضمروریات د بی ےکڑل یا ےک دوتوں ام رضروریات 
دن سے ہیں رضروریات دی نکاامکارکفرینل یا رود بات د بین بھی ہیں اورا نکا کا رکف تی 
ےت رپچ رھ یکا فرہیں ککتے اورظاہر سے کان خمیوں صمورتوں میں ل١‏ ہوری پا اقم اکن 
لق غروں تاد یی نکوضردر یا تد رین نہ جاننایاان کے !فک رکوکفرتببکھنایا ا ڈکارکر نے وا نےکو 
پاوجودا نکارضردد اتد بین کےکافرشہجانھاا کاغر ہکہنا الا تقا قکفر ہے( یی ےکوی ابواہ بکوکافر 
ضدجانے یا کافرنہ کاو ددخودکافرے) 

اچ اوہ 
| نزو کی علیہالسلا ما اڈ رکرنا جو باقرارمرزاچھی مت ارات شس ا درجہ رکتا ے 
اراس وجہ سے ضرور ات دبین سے سےگوااس یں تاو ہل ہہوگرضرور بات دبین کے اہڈکار یش 
اویل تریس .(دکھواکنا را ملو بن مصز ف یف رت صدرال د رین دارالعلوم دی یر ) 





176 


"٦‏ پاٹ نزو ل ھی علیہ السلام کے مہم مرزاسے ےی بات شی گی جدانیں اور 
رز اخ ول کسنی علی السا مکش رکا ہاور ہے ہودوادراغ تقد :کنا سے نمس شی مرزاکے ساتھ پاٹ 
ای بھی ضضق ے اور یا رم ےک نزو یی عل السا میا حقید و مت اھ سن ےکی وج ے 
صردریا تاد ناشٴل سے ے یں ان ضرورت دی نکوش رکا نہ خی لک کر ایک اسلائی نی کو 
مش رکا تھا مکہناصر عکفر ےکیوحکضروریات دی نکااڈکارکرنایاتاو بل بااستجزاء دا مقار یسب 
فرص رع سے جیے سو دتق کے ایک ہو نے کا شی حیدکا بل تا و پابتاد یل اکارکر نے گے ا خود 
قوذ حیدکاجی ا تہزاء و ا تتفا فگمر ےل گیا رکف رنہ ہوگا "کسی ضرورت دی نکوسش رکا نہ خی للکہناکیا 
اساا مکش رکا خیا لکہناییں؟ جوصر حعکفرہے۔ 


سا لوج 

نزو ل سی علالسلام ےقییکو فرقتقلی مر زامش رکا نیقی و مانقی کا اور 
را لم ےکم رز اس پل تی سو پیلک تام ات ہج عقید ہریت یاھی لال 
عقبید کےمتل بغامیو ں کا خیال رکنابی اس جات کے لیے طزم ےکسا رکی امم تکومر زا 
ےٹآ کیکش رکا نعقید و رقائم رت انی ماناجاے اور اعد سس ےک اگ ریخ سالک 
باتسرزدبو جاۓ نل سےمھا رک یگفیر یاسماری مم تک الیل لائم1 7 و 
خودکافر ہے۔( رق الباری) ٰ 

پا پا ٹیبھی یق کاف رہوگ ےکیونکران کے خیال کے مطا اق مھا سے نل ےم مارک 

ام تکا ای کت رکیحقید+ تیر صسوسا ل کک تام ربنالاز مآ جااے۔ 


آفریں۔ 

پنامیوں کےعقید کے موافی رز کل ساری امت زو لی علیہ الام کے 
عقید وکی وج ہش رکا عققیدہ تا ئتی وش رکا تقد :رن دالا یقن مشرک ہوتا ےکر پناک 
مزا ٹل سار مم تکو ہاو جووش رکیتققید و رکینے کےبھیمسلران بی کے ہیں اور جیےمسلرا نکو ۱ 
کاف مکہناشرک ہے اییے ہی کافر ور ککومسلا نقکہنابچج یکفر سے( یی ےکوئ یآ زراورا لیت لکو 
صلران کے کک ےکی ول ہ اس ےب رآ نکی مزالضت لیذ ےپ لازمآ : سے جو چا ہیام مرکوں اور 


177 


عق دش کیہ رک والو ںکوکاف رقرار دیتا ہے ) پیل پنائی اس وجہ بھی کافر و مارح از اسلام 


ببرتے۔ 


و ںود ۲ 
پنا ہی مر زائی تیم زاغزول وحیا کی علیہ السلا مکوش ریم مان گے ہیں ۔ نز 
کساری مت اس قید ہی لق از مرز اجتلا جج یھی باو جوداس کے مرا نل سارکی مت 
کے اس ش رک لی مکوستا فچھی تر ارد ینے ہیں عالاککہ پاتراف مرزا قادیالیٰ (معاذ الڈ ۲بیٹرگ 
می مکوئی اصع او رن یبھی ن تھا بلک بریمیات افالیشش سے ہے نس کو رج مرزائیو ایک 
برا ورای ادلی مرزائی عو رت بھی جانقی ہیں خر ضی ایک بد یی نی شرک کے تلق برون نے رہ 
کے ماف ہہ ون ےکا اعم 2 یس ےظافے۔ 
ان الله لا یغفر ان یشرک بە و یغفر الد تھا ش رک لومحافکہی ںکتا اورشرک ے 
مادون ڈلک لمن یشاء0 سوادوس ےنا ہہو کوجس کے لیے جا ہتا ۓ 
(الترآن‌یم) ماف زماداے۔ 

یں پغامیو ںکاب زم خود ایک شر کا مت کے تیرو سو سال شر کو بدو نل بصرت 

امش معا لی قر ارد ینا چھی ایک نال اورصر حکفرے۔ 


ویج 

پنامیو ںکاتقلید مرزاحیات وززو کی علیراللام کے بار دش ریا عقیدد ےکہ 
اعادیث بُو یتآ نشریف اوبتفل ا سعقید ءکوشرک ولقواور بے بہودہ خیا ل قر ارد بے ٹل اور 
ری سلم ہےکہماری امت نے تیر +سوسالہ رت ش شش رآ ان وعد بیث سے ہی ا لعتقید وکوغاببت 
مچھاجنس سے پنامیوں اورم رز اکوشھی اکا رکیں ہے 

ابد مکنا ےکی رآ لن واحادبیث کے الا ظط کے مع واٹتی الع ہو ت ہیں جن 
کومرزائیوں نے تیر وسوسال کے بعد شر ینیم مچھا تق یہ لاز م۶ جا ےکرش رآ ن داحادیث گی 
(معاذ ال) سناتیع (عرمیو لکاو یوبن جا میں جن می ںکفروشر کی( مجاذ ال" )ان کھت ھک 
تسا ل کک سادری مت مھ بیاال کےنصون سے ایک ارلے مل اقید ہکویجھتی ری جوکفر لص 
اورک یی شر بدیی ہے اور جب ترک بدی ٹم بھی سارک مت ایز ضہک کی تذ ا لک نکیا 
وبیلی ےکر حیدورسالت'نماز روہ زکو کے معالی جوسارکی مت ن ےآ جع کبجھ لیے 





1۹78 


ہیں تیج ہیں باھلاجن کےازالہ کے ل ےکوی دیا ند یامرزاتقادیای درکار ے۔ 

خرف سک اس صمورت میں ٹ ر1 نیام وبدکظم ہے( ماذ اید می جو ندمآ گے 
یڑ ھ جالی ےاوردبن ھی کی تما نلیا تگی ا چا اغلپا رظ رجای ہیں جافضرے۔ 

ری دوسرکی صصورت مڑی کت رن واحادی ٹکا مطلب نے صاف تھا اس شٹل ال 
رت یکوئی ایت یگ نگ پچ ریھی ساری امت نے مطلب خلط کی تھا ادرتبرہسوسا لیک ساری 
مت اس شرک ینیم میں جتلا رج یت اس میں بھی دواغتپار راز مآ ا ہے۔ایک بیگہارگ 
اتکی جات ٰشلیل لان مآ کی سے جوکفرہے۔(د]کھوساتو یی وجہ) ددم ےکا رکنم 
یس بتلا ہو نے کے پاو جودجج یل ازم رز اسمادرکی اص تکا بی شرک متا تھی سے اورسسارکی مت 
اس شرک لی کے ہاو جو یلما ن بھی ہے جس کا مت یہ ےک اسلام تصرف شرک شر نیم 
رگج یکاخ شک سا ے جوصر حکفرے_ 

فص ئت؛ وی اوردسو یس وجرمش یذرقی ہوگاکر وی دج رجش شرک یج یکاباۃ ہو 
رجو کشا جانالاز مآ تا سے جوخلافی؛سلام وق رن سے اوروسو میں وجہش لکف کی ب.وجہ ‏ ےک د ین 
شر ک کال ہوسکتا ہے اورای شر کبھی ایل در ہکاممسلمان ہو سےگا۔ 


گار باوج 

قلنا یانارکونی بردا وسلاما علیٰ ابرھیم. آ مت رآ ےاورۃاوابماغع 
سےااس کے یی مع طابت ہی ںکلابر ا ڈیم علیالسلا مو1 گ میس ڈال دیاگیا ریلم خد اونب سے 
وگ ٹھنڈرکی ہہوگئی۔ پا ئی ا کا بھی اما رکر تے ہیں اود نار کے می سد وعدراو تک کے نار 
تصدوعداو تقاط ب تر ارد تۓ ہیں توصر حکفراورکی ہوئ یتر یف ےک ب77 اما 
کےآیت کے و سی یں چو امت یں ومشہور ہوک رضرور بات دبع سے ہو چگی ان 
یسح تال بابلا تاد یل سبکافر ہیں۔ 


با رم اوج 

پنیا بی تشراجساد کے انکارٹی بھی مرزاکے سراتھ میں جوضصر خکفرسے۔ انم رد ین نے 
جہاں یکلہ میا نکیا ےک ضمردر یا تد ری نکامخالف ( خو اتاد یی کے ساتھ ہو بابجد وکن اویل ہر 
عالی شیل م رت وکافر کے وہاں ضرور بات دی نکی مشالوں می لکھوب سب سے پیل ہتشر اجسادد یکو 
می نکیا سے اور اس ایک مہ یش ہہ کی ضمردریات دی یکا اکا رکر کے ممددو ہو٥‏ سے کافر 





1)7 
ہوگۓ _(ممازایڈد) 


یھ ساوج 

مرزا تماد ای نے ضر تگیسٹی علی السا مکوتحموصییت کے سا تج گلا دئی ہیں ٹین شیل 
پا یبھی مر زا کے ساتحوش کیک ہیں اب اکر پا می ا نگیو ںکونی یقت موافنِ وات خیال 
کر تے میس تو کی ایک امرصد باد رہ سےم وج بکفرے او راگر پت می ا نگالیو ںکوگالیاں ی ۱ 
جات ہیں اور یکوگالیاں دی اکفریھی یت ہیں نو مرزاقاد بای مرکو ہگالیو لک وج سے ار از 
اسلام ہو گے ہیں اور مان پر ا نکیاگی رف نم یکر پا ئی جماعت ا نک مو دید امام 
ال ماں اورقام اقوال دعقادیٹش جے ادراپنار ہر مات ہیں اور یرت حکفرہے۔ ہے1 کول 
ااواہ بکوقمام افعال داقو ال میں سا جانے نود ول یکاف بی ہوگا کون ا جا نے یس ابواہب کے 
ساتھ ان قیام بےادبیوں یسل ہونالاز مآ سے جواس نےحضو راکرم لی اوڈدتھالی علی دع مکی 
نہد یں 


چو شع یں وج 

رزانے جوسرور حا لی ال تھاٹی علی لم سے مساوات پا انضل تکا کوٹ یکیا سے ا 
(معاذاش )پک( صلی ال تی علی لم )تو بین کی اس وج ے لو جھجھرزاکافر ےچ راس کو 
کافرتہکہناصر کفر ےج کا کاب پا کرد سے ہیں- 
چنسوو یب : 
ضر یی علِالسلا مکا مہم کلام مکر نت اتراولضِيق لی غابت ہے۔ پنا یں 
شمججزہکاصاف ا اکر تے میں نصر فی بل یکلم الناس فی المہد وکھلا کے می(لڑکا 
خورست اورزظرہ ر ےگا کہ کر انی رای فک۷ر تے ہی سکہ بمہودونصا رٹ یکوڑگی شر مآ لَٰ ہوگی۔ 
خرف شک ہا ںجھی پخائی بوجو وعد ید ہکا فروم رق ہو گئے۔ 


سوہ ساوج 


یی علیہ السلام کے بادہ یٹ ق رآ ن صاف فر اتا کہ وھا صلبو ضر تی علیہ 
السا مو ٹینیس چڑ ھا پا ٹیم ےکی ہی ںکشنی علیہ السلام سوک پر چڑھاۓ گےگرموت 





180 


سوک نی ںآلی جوومسا صلبوہ سکیس ر۴ اوراں کےسیاقی وسیاق اوداجما لین کے 


ظافوے۔ 


رھ اوہ ْ 
عمزبرعلیہالسلام کے واق کو راس خواب ب کرت رآ ن عزئ ینمی فکرتے ہی ںکموکلہ 
رآن ا و کالذی مسرعلمیٰ قریقة مم ال دا قکونہا ت فرع کے ساتقاواف مار ا ےگر 
پا کی یبا لگ دست بردے پاز دآ ہے نے 

رنوٹ) الم کے وج وکفریہ پنامیوں یل بہت مو جودہیں ۔ یا رتف لور 
یں جح نونہ کےطور پر الام مطلوب ہے کہ پغامیوں کے جو ہ ہکفریات نتی لی کے 
ارددوانگر یىی ق رن سے مل اسسلامح جنر زرہیں ا سے ز با دحل مطلوب ہوتو رسالکٹئف 
الاسرارکا مطاال گر بی 


اتھارہو ر۰0 
رج من رالی پراجماغ صا ہہ ہے (ہدای و خی رہکتب فقہ )اس کے بحدکمت جج بکائھی 
ای پراہمارح ہو کا ہے پا مییول نے ا لکائھی صاف انیارگیا_ 


اسویںوج 

امراء میمت راع تک یکا پہلا حص بے با اق ضروریات دین بیس سے سےا سکامگر 
کافر ہو جانا ہے یع مکلام دخیر ہش مع رر ےکا نجنا ب لی ال علی یل مکیاص رمق کوک 
تطعیات سے ہے اگ رکوئی ا سکا انا رکر ےل اسلام سے مادخ ہے ۔ پامیو ںکواسراء بھی 
انار ٤داس‏ سار ےداقکوخو اب بی مات ہیں - ۱ 
مھ یی اوہ 

بصن زا فکل مت وظی ر وقطعیات اسلام سے ہیں اور اش خاہت ین نز 
وی سے لےک رآ ن تک امت جح می شش ان پیلد اے۔ان امو رکا خراق اُڑانا شر حح کی 
تعلیما ت کا نذاتی اُڑانا اود ان کی ابان تکرنا شر جرکی کی تقلیمات اور مت ھرجومہ کے 








181 


اماعیا تکی! انتک رناے۔ پغامیوں نے بیسب پچ کرلیا اود ات اکرلی اک کک اسلا مکی 
رت ۔ائمددین کے !تفاقی سے اسسلائی صلی مکی 
ان کر نے دالام رت وکافراورواجب ال لیے 


اکیسویں وج 

رٹ ئیسلی علیرالسلا مق رآ ن عزیز سے خابت سے اور درف مسلی علیہ السلام کے بی مع کہ 
سمان بر زند دوش محصری )ٹھاۓ ین امت میں متوات بھی ہیں اور با تقر ارمرز اصھا کا اماک 
عحقیرہ ےاسئں نوخ اوراششن کے بی دولوں کے دونوں ضروریات اسلام شٹل نی 
یج س کا انا رکفو ارہ اد ہے۔ پائی اس مم بھی اہی نے آ قا مزا قاد با ٹی کے ساتھ ہیں اس لیے 
دولو ںکا بھی یک بی ہوگا۔ 


سو ساوج 
نیم رم رھاب دکمت مھ کااجمارع ے(میزان )پامیوں نے ا کابھی اکا رکیا 
فص ے۔( وی صدیثیہ ) 


تحیسو میں و چو یسوی وج 

حدف رابک اسلائ یمم ہے جواجمارا مھا ہے خابت ہے۔( ہداب ) پامیوں نے اپنے 
نات اور وروجین اخداز یش ا کا تصرف انگار ب کیا بہاس بی الما خراق اُڑایاک ہآ رب بللہ 
خیطا ن گی شرمندہ ہوا ہوگا اس لیے ہیی بپخامیوں کے ا نکفریات ٹیل ر ےگا نس می انکار 
کرات وتضو ر اکر مکی او تی علی ل مکی ہجو ون می نکر کے ان الین یؤڈون الل وزسول 
کے مصداق می نکر یادر ول اور دب گی سیقت نے لئے ۔ 

قا یور سے لیس ےت بش رط انصاف معلوم ہو جا ےٹاک حدن کی مخالقت اور 
ین شر یس مرزاقا دیا نی کے ان سچویوں نے این یکا ا باقن اداکیا ےک ایک دی وہت 
پرست بجلگ ایک یادر قکڑھی باو جو دعداوت کے الیبا ماق اُڑانا خلاف انساضیت معلوم ہوگا حدف رکا 
اغاریل کفرے پھر جب ال کے ساتھا ات عدودالل یھی شائل ہوکئی دوس رکی وجیھی 
اق لف رک کی وط جا بر8 مور 19 رز الال 1343 حطر 2] 7ے 
او لکالم 2 مطائقی 119" بر 1924 ءا کال کسی صاحب بی خودفور سے پڑ ےک رف کی دی 


182 


ک اس میس حودف رکا ثیاراوراستزاء سے با نیس ؟ گر سذ دوخودا بے اقرار ےکافخر وم ہو ئے 
ورضہا کال مکاکوئی مطلب اییابیا نکر میں جک بنا ء کفردارطہ ادکی بر ددفوں دی ں تسم سکم 
ڈور ہو جا نمی اگ چان کے نکفررٹس ان دوداو لک کی سے کیو نہ وگی - 


یریوجہ 

ٹیش رگ بان کے می رخکاں صحبم تک ناخ رآ نود یث واجما رووا ے خابت اور 
اسلامکاو ومتظہ سے بج سکو مان اسلا بھی امسلا بی مہ جا نے ہی ںگ لا ہورکی ال کا لو پک 
تقلیر یش ائڈکارکر کے مر اورکافر ہو ے۔ ال اننھوں نے یجول یاک یآ دی جب ای کر ےبھی 
کافر ہو جا اہ چول؟آ ب ازس رگذشت چیک نزو چیک اکشت پر اب پیج رکف کیوں 
نک رکی ورک بیانمک طا یکنا چا ہے۔ 

بے چوتھائی صد یکفریات لا ہو رک پارٹی کے ھی کرد ے ہیں مکیاااس کے بحدیگ کوئی 
ملمان لا ہورکی پنیامیوں کےکافراورمرنھ ہونے میں شی کک رکا ہے؟ نہذ باوڈہ مٹیم ۔ 

۔ (امارسمسیں ٠‏ 


اس سوالص 





ہا رون میس مرزاحی تکا ا ضاب 


روزامہ ”پرواز" رو نکی اطلاع کے مطابی سراین اے خمان ادیائی کا رگون میں اتال ہوا۔ 
ا سکی شر ملافوں کے تچرستان مہ ںکھود یگگئی۔ ملامو ںکی مسر سے نلاتے کا تت ویاگیا۔ ایک 
ملان موزن نے سے ٠ل‏ ریا جوضی مملافو ںکو ید چلا ٹن دکرد گی تس لکا تفت ج اکر مات کر 
ویاگمیا۔ موؤ نکو مسچچر سے فاررغحکر ویاگیا اور بعد میں فو ہکرنے پر ا کا دبارہ فائ پڑماگیا۔ جازەش 
شریک ہونے والے ممافوں کا تحبرید ایمانٴو تجرید نا حکیاگیا۔ مہ مع رقائل وید تھا۔ این اے خان 
دای کے ساتھ ہی تا ویا شی ت کا جن ز و بھی لئ لگیا۔ اس سلسلہ میں یح علاء باکی خدمات قائل تین 
یں۔() تصیلات! زبرواز رگن اشماحعت۔ ۹ “ما قب ۴۷۳) ۱ 

(* تریک شحم مت ا مے ۹ا ص ۳ ہا'ازمولاا اللہ وسایا) 

جی کر ئ ہو سبھ پاں بر کے ارپ ٢‏ 

جی چی کر اس قم کو میں می می سا بیں 

الام سے جس فقوم مگ سے بے بی مت 

ص اس کے ے راہ میں آئمیں بھا میں 


183 


انسا ی9 وق اورقادبا ٰ بماعت 
پروٹوسرموراص لک 


4ء می پاکستا نکی تو می اسسکی نے متفقہطور پہادیانیو ںلوئیر رسلم اقلیت تر از 
دےد اس نیملے ‏ کل ادبانی جماحت کے اس وقت کےم بر اوھ رزانا ص رام ہکوا نام تف بی 
خر چراپیرا موئع دیاگیا کید نک ک قادبالی جماعت ے یل سے پالی اور رکا طور یپ 
انا مو فف ٹن لکیااس کے بحدقو می ای کےم ران نے فیص لکیا۔ 1984ء یس جزل نیا علی 
مرعم نے اس فیصل کی وی مشش اس کے جات پور ےکرتے ہو نیا 1 رڈ نس چار یکر دیا 
نس مس تادیایو ںکو اپآ پکوسلمان اہ کر نے انی عبادوت کے لیے مسلمافو ںکی طرح 
اذان دہیے اپپی عباد تگاءکوسحی نے مرزاظلام ات تادیالی کے ساتھہو ںکوسھا لی سک مرزاغلام 
ار قادیالی کے چنشینو ںکوامیر اون کن اورم زا ا دیالی کی ازوا کو ام کون کین سے 
رگد یاگیا- 

۵4ء ے لس اور 1984ء سے نصونسی طور برقادیالی جماععت نے باضابططور 
پاکستان ‏ تا دیانیوں یلم ہور ا ہے۔انسالی قوقی کے ھوانے ےق تک مکی خلاف ورزیال و 
رتی میں" قادیائو لکا عیتا ۱7 م کر داگیا سے او ریس یش ما انصاف تاد بانیو ںکومس نہیں ا 
پروپیکنٹرہ سے ا دیای ری در یں ورپ میس داقل ہورے ہ ں گر دافل ہوۓ کے داب ے 
عاری یں گنی تی کاخذا تک ہنا یر داٹل ہوتا پچ رتچ یکانغزات تا رکر ے۱ ےآ پک ومظلوم 
ا رکا او پھر ناو حاص٥‏ لکرن اد یایوں نے مشفلہہنارکھا ہے ۔توبت یہا یج کک چیا ےک 
ور پکا قادیان راع دأ جح گیا ہے اب انہوں نے دز اوھ کی ستردکر نے جرد غگرد ہے ہیں 
ال سے پاکستان بدنام ہود ا ہے۔ 98 فص قادبائیوں ےکی سکچھو نے او رجح یکاغززات مم شقل 
ہودتے ہیں ۔قادیائی نت سے ہی ںک۔ان لم ہواورد ہا سکاعبوت دن یاکو کی کنل مکی عدم ۱ 
ستیالی بردہ پییددے دلاک تی ای فآ 11 ردر کرو اکراا سکنل حاص لکرس ےگ ارا ے ۱ 





14 


ہیں ۔ا ظا سے برملاقادیانی مظلوم ہی ںکرا نکی ضردرت پور یکر نے کے لی مقدو رب نک بھی 
دسقیا ب میں - 

1 ےد ھت ہی ںکہقادیانی جودناش اب مظلوم ہونےکاڈھنڈ داب سی میں خو کے 
مصف مزا نم دل سس جاور انسا می تو ق کا حطظا یا خیا لكکرنے وامے ہیں می ایک ایا 
موضوع ےجنس برا تا لھا جا سکس ےک گار یککعت کلت تحھک جائے او رقارکی پڑت پڑت 

نج سجاے بجی ؟ تی کیقدایوں کے کم نل میسو نی لکروں ۔عدل بماعت کے 
عنوان پر ایک نعل یکضمون پیرریں؟ ہے گاااس وقت انسالی تقو ق کے ہوا نے سے چندگز ارشات 
می کرنا چابتاہوں۔ 


اتال حد ات اورقادیاٰ ماع تکانظام 

قادیائیو ں کا سب سے با اعترائ اور دنا ٹن پاکستا نکو الم غاب تکمرنے کے 
ھوانے سے سب سے کی دی مد جالی ےک پاکستان مل قادیاخوں کے ساتانصا کنل 
ہو کوک خادمائی پودکی کے تم من م رایت باب نوا کی ویر رتشن ے ادا لی 
20 9 
تی۔ زارف اد بای ون ےکا وج ےی ے۔ 

یا کان سے نےکرآ جم ککمی ایائیں ہوا برای کی سبھی ایانس ہوگاکہ 
می تادبانی کےخلاف عدالت م لک سکیا ہواور ج تقاد با یکو تا ے لغی را ںکوصفائ یکا موتح 
در کے لق براوراست زاسنادے اور پچھرو پش بھی نہ ہو کے۔آ کک ای کی س بھی اییانیں 
گز راس جوا نے ے اد مال اسیک شا لبھی من کی ںک۷ر سیت ۔ 

تا لوں ‏ ےک یکین ےی قادیانی کے خلاف عداات مم سکیس سکر دیاحعدالت قادیایٰ 
کو پذر یرڈنکیس کے بارے می مض ع کر ےکی اود اسے ممقررہجا رر رطل بک ےگیا۔ وہ 
قادانی عداات میں شی ہوگا'ا ےکی (الرامات )کی پیر یتضصیل بتائی جال ےکی بلک سکی 
تی ما ےکی تی کر تح مو دیا جا ۓےگاادراپتی صفائی یش جواب داخ لک نے 
کے لیے مناسب دقت( پچجھودن ) دیا جا ےگا دوقاد انی ول لک حددے جواب تارکر ےگا اور 
مقرر جار کو کردا ےگا- 

کون و ون کن ےکی ین کن لاق و 


185 


کر میں کے پچ نی دوفو ں فرلیقو کو با ری پاریگواولا نے اوردیارشموت مم کر تن ےکاموشحع دےگا۔ 
قادا یکو پورااحقیار ےگ اکسوہ تصرف اپتی صفائی ما نکرے بلہ ان مخالف اور اس کے 
و9 یں ر0 

اں طر) یکس لت جتے ج ما ایک سال یا بای سالک کاع صہ لےگا۔خوب 

پٹ وگرار کے بعد اگ فیصلہقادیالیٰ کے غلاف ہو ہاج کرو ضطازوت ھا جانا جاے 

002 کوخوب صفائی کا مو ما ےراس کے باوجودقادانی کی انقیارزیا جانےگ اکر 
یش نکورٹ می اس ٹیل کے خلاف اب کےا ائول پ( یئ اکا دوپادوڈردر ءا 
قادیال یکو ایک پا ربچ رصفائ یکا موح ےک سام کن از کن 
لے اوروا فا تکوکھگا لئے کے بعد اگ رد بای کےخلاف پیل ہو جاتا ےت اب لیکو درس ت ھا 
جانا جا یگ رقادبال کواحقیارد گیا ےکردوو پا یکورٹ می لپ ےل اٹ ین اک 
ا ج گا ادیای کوصفائ یکاخوب وع کا اب اگ رجا ماولعدقادیای ےٹلاف 
فیصلہ ہو جاجا ے3 قادیا یکوگراغقیاردماگیا ےکر یح کات کوٹ شکن 
ریس ج کاو رب وکرص بعد اگ رفیصلہقا دای کےخلاف ہو جا یذ اب ادیالی وی یمر 
لی جا یگراس کے باوجود قادیا یکوم ید چاٹس یہ لگا کہ دہ پر مکورٹ میں نظ ران کی 
27ھ 0> 

اب اگرلوئرکورٹ سے پپ ری مکورٹت ککیس سے ٹل جار ا چوسا لک جا میں اور 
ادہال کنخوب صفائ یکا موتح لو اس نی ےکوانصاف بی اکھاجانا جا بے ا طر کی مفا یکا 
موح تا دیایو ںکومار اےاورتتا ےگرااں کے پاوجدقادیانیٰ ینگ ہکرت ہی ںک یہ م یکم وربا 
ہےاورانصا فی متا اکستافی عد الو لکو از از ھاصل ‏ ےکرانہول نے1 جع تک ایک فصل 
بھی ای یڑ دیا جس میں ادا کوصفائ یکا وت د سے اف فیصلہ تاد اگیاہو۔ 


قادیاوں‌کاالصاف 

اب ذ را قادیانیو ںکاانصاف ملاع یئ ساد بای جماعت میں عدالت نا یکو جز 
یں الہتت چم وکردبی کے لے دارالتمنا ء ایک ادار وتقائم ےجنس کے اخققیارات امرا کو بر بیٹان 
خی لکرتے۔قادیاخول یں بی عام بات ہ ےک ای رجاعت نے گی کے خلا فکیددیا۔قادیالٰ 
جعماعت نے اس پرامکشن لیت ہوے متعلقہقادیال یکوسزادےد نی سے کوک اکوائری بہوگی اور 


16 


نہئی اد یا یکوجزم اکر مال یکامو دیا جا ۓےگا۔اضی جم با خی راکوانرىی کے اور رصفائی 
کا موح دئے سزاد ینا اود پچھردومزالسی طر بیج نکر ےل ہا لکا اتہاف سے ؟ کیا ‌ 
انا یت تی ال لکٹں ے؟ دومرول ےالصا فکا ھک ما ےا نے خووکتا ظالماندظام 
رھت ہیں؟ اورو ںکو شیع اورخروما ںٹخ٘ییت''(اأرووراتوں ےورتواست ے ال ول 
ٹیس اتتا ناما نفرق رکین والوں کے لی ےکوئی من سب سا محادر ہآ چا دک بی ددم پالا حاورہ بہت 
ض۳ ے)ذرا ادا نی ھا تحت کےامام اوسر پراہکااتصاف اورعز لکامعیارطا نظ کے۔ 


قادیالی جماعت کےاا مکاعدل 


تمادبانی جھاعت کے ہر٠‏ جراومرزاطا رات اۓ| ایک اےے ہر ےدار کے بارے میں 
فیصطردتۓ ہیں جک کے بارےٹش اديالٰ یماعت کےادار ے نظارت ا۶ رىا' نظارت بال 
نظارتِاصلائ وارشاداورنظارتیعلیا کیطف ےا بن ادی(۷۰۴۷) جاریی ہونے کے بعدرخود 
ام ےمتتررکیا ہے۔ل(دا مجر ےکہقادیای اعت کے دررع پالا ادارررےعلوس کی ری کے 
برابر کے یں ۲ لورے ضلع مکل ق نہر ےداروں یق رگ درب پالا اداروں 7 سفارل اور 
لیس کے بعع دک یھی ان مس سے ایک ع+بدے در کے بارے ٹس فیصلہ تار ہے ہیں کے ہیں 
25 


منجہاںکک میری معلو مات یں آ پنر اپ پیداکر نے دا لےگروہ کے س یراہ ہیں- 
خوا ہآ پ مانیں باضہ ایگ جات بھی بی میں“ 
رنسوٹ عرڑاطاہرا کے دجخطموں سے باری ہو نے والا ال خ امم ے اک 
موورے۔_ ۱ ۱ ۱ 
تقادیاٹی جماعت مم ںکھسا پپاجونظامجل۰/ ) ہے(فظام جماعحعت برا ک شون می نکیا 
ات ےگا) اس کے مطالقی جس تاد بانی کے پارے می ںکوگی فص لکرنا مہ اس کے خلاف لینل 
برا یں مایلٹرارواد ا کک ےگ باسزا کی سفابش شک ےکی کیل روش ام جراححت ال 
ہغار شکوام رضح پچ رج راسور ما اور ما ظ راعل یسک ٹیا ےگگا کچ نان رای امامم عداححعت سے سز 
ی ناش کر اگ روررح پا ایس شی رز اطاہ رارقا صرود و تید کوگو رک تے ہو نے جکمہ. 
ر سے یس تاس پارے می ںکوگی اکھواتری ہہوٹی سے شی اترام علیہکوجرم جا ال را مکا بعد ہے مہ 
خرا لک یل کی ےاورت کا سک سی ورخواست مال کے جواب میں بل سوا لکنوماور 


3 


+487 

قواب چنا کے مصمداق ایک ماد ہمصمون کے خط کے جواب می مہفیصفرمارے ہیں۔ 

غحورفر ماج ےکفر مات ہی ںکہ ہا تک می بی معطو مات ہیں اب ا نکی معلومات کے 
ذ راگ یا نظارق ہیں یا چلرامیرشلع مق بی صدر جراعت اورفلس عاطہ سے جہ در ج پا لاس 
ٹیس ان یٹس سے کی نے پچ کہا نہککھا ان کےعلاو می ذر لتدکی اوک بااخلاقی شی تل ے- 

غورف ما اف مات ہی ںکرخوا ہا پ ماخیں یانہماخی لگویا فص لہ حادیااب ی مد 
بھی ہیں ہوسکا نصفائیکاموشح موم کے ایل اورنجی جم تا کیا ےکی کم میںہزادی چا 
ری ہے رکچ ہیں' نر جات بھی یی ہیں لکن ںکیا) 

گو یا ناک بات ایا فیصلہ دیا جار ہاے جو تصر ف گنیس ہوسا بک بر 
اگوائری کے اغی جم جتاے اوراخیرصغائ یکا مو دہ ےکی سنائی بات پ فیصل؟؟؟ 

یہ ہے قادیانی جماعت با قادیانی جماعت کے امام کے عد لک مگ سی جھنک۔ ے 
ججماعع ت کیے دوسرو ںکوانالی تقو کا در دنگ مک کیا یہاں انا یق اما لکیں 
ہو ۓک۔الترام علیکو پین ھی سکیا کین کیا مکیاہے ناسل ےکوئی جواب طل بک ایا ے نہ 
کوئی اکوانزبی ہوٹی ہنکس عالطرنے عدراخحل تکی نرامیر جماعت نے نمظارق اث انراز ہویجیں۔ 
بیکیسااتصاف ے؟ اورد وی امام ماع تکاطرف سے ے اد بای ”'خافہروقت کے ہیں بللہ 
”'خداکاخلیفہ کے ہیں (اگ کی ایا کوک ہو2 اس کور و خی فو ٹوک پی حا لکرسکھاے ) 

قادیالٰ تا میں تام اکتان ے؟ خک کککا با عدال تج بھی اد یانیوں کے 
خلاف الیمافیصل دی ے؟ لق راب ےگح مکوسنیاادوسرو ںکوعدل اورانسا لی تقو یکسج 
دددٗانا لی توق کے جوا نے سے شوراورراو یاایندگرو- 


18 


مو ج عب اشک وحن ئ! 


ھ ی دورد کنل اورال کی مقمت دشا ن صرف ای جات سے اہر ےکرد و یبت من انی یکا ملین تھا اور 
ابا نکامٹن ہے۔ ایک اسیا نے یآخیلت ہے چک دوسر ے متا مکونی نی اورکوئی دوس بی فضا تکیصی ہی اکیوں 
نیل کیک روز 

رید ضورہ کے نام احادیٹ می بکشرت واردہو ئے ہیں ۔ بھی ایک شع۔ا کی نیل تکا سے لان 
کے چندمام یں یہاں کھت ہوں _ طا بے یب طاحبہ اعلماء نےلکھھا ےکہائن نا مو لکی وج عیب سےکھ ین موہ 
ایت پاک اور پاکیزہ تظام سے خ جات موی نشی شٹرک وکف ےی پاک ہے او ا ات نھا ریا سےجگی بک 
ے۔وہاں کے درودبواراد رھ تی کیم می بھی فیا یت اطیف خوضب و1 فی ہے جو ہکا دوس کی وم بودار چز 
یش پائینمیں جائی۔ اس غشمبو کا ادراک اکر ائل اما نکرتے ہیں ۔ ام کر وہ لوگ بن کے دل حضرت 
سر ال یلین پچ ےک بت ےلب ریز ہیں ۔ ا لک خوش وکی دل ر یاکیفیت ےخوب واقف میں ۔حطرت نا مھ ماتے 
ہی سک ین مو وکی ھی یس ایک جیب خوشمبو ہے جومک و رس شا ہن اہ عداد عطا رکاشعر ےک : 

بطیب رسول الله طاب نسیمھا 
فما السك والکافو روالصندل الرطب 

امام ما لف ماتے ہی ںکہ ہشن ع یمور ہک پے خوشمبو کے باو ہا کی ہواکوخراب سد ود جب ال زس 
ے۔اسے قیدکرد نا چا جے بیہا ںیت کفکرد وصدق دل ےترک ے۔ ارس اد داراجر 8 بیت رسول ارم رسول 
انیو رہز ادرگھی بہت سے نام ہیں جوعلا ۓےکرام نے وک سے ہیں۔ سب سے زیادہمشمہور نام مین ہے۔ 
احاد یٹ جع یمور کےفضئل بہت داردہو ۓ ہیں ۔اس مقام پپصرف چنرحدشیں جن تھی ای ہیں : 
مر ۳رہ کے فضائل 

1 .ے۔ے جب ٹرداشرد] می رسول ایشیا بجر تک کے پر ید مور ونش ریف لا تے ال وت 
دا ںکیآ ب وجوا تہایت :انل وخراب تھی ۔ اک و بای :ار یاں رہتیحیں۔ چنا ےرت ابوکرصد لن اورحضرت 
ال1 قے بی مخت نار ہو گے تق اس دقت رسول خدائ نے بد عا اگ ین یکہراے القدا یی ہکی عبت جمارے 


19 


ووں می ڈال درے۔ چیا کہم لوگو ںکوکمہ سےحبت ہے ۔ بکہال ےکچھی زیاد٭۔۔اے اللہ اہمار ے صا اورھ 
ٹش رتا دےاورو ی ھگل؟ ب ہواگودرسم تگرد ےاورا کا برغ کی طر فک دے۔( جج ہار ) 

1٠1.2‏ تفضرت نو و یدمنوردے اج عحب تک یک ج بکہیں سف مل تشریف نے جات لو ہے 
وقت جب ھ ین مور +قریب رہ جاجا اور ا لکی ہما ریس دکھائی وہ لی فو تضور کر پچ ا سور یکوکاگل شوق 
یس ت کرد اورفر ما ےک میطا رآ گیا-( 3 بمارگی )اد راپچی چادرمبارک اہپے شازہائندل سےگراد یے اور 
فر مات کہ یی کی ہواکیں ہیں ا پک راغ یس سے جوکوئی بوجہگردوغبار کے اپنا نہ بندکرتا ہآ پک کرت انور 
فر ما ےکھ ینک اک میں شفاے۔( ہز ب القلوب ) 

3.... فور یکر مم پچ نے فرمایا ےکا یمان ی کی طرف لوٹ آ ےگا ۔جی اک ساپ اپ 
سورارغ کی طرف لوث؟ جا ہے۔( جح بفاری ) 

4... تضور نی یکرم پچ نف مایاکرد جا لکاگز ر جرشج ریش ہوگا۔ ح ہاو رھ یش مدآ نے پائے 
گا۔فر نے ا نکی ماف تک سی گے۔( جح بذاری) 

...ا فور ن یکر مم مق نے فر مایا ےکھ یع مر ےآ دمیو ںکو اس ط رح لگا دا سے جیےکد ےکی 
جھنیالو سے ک ےی لکو کال ذ بی سے۔( جا بای ) 

اعت ھ یندمنور وش بردقت مو جود ہے۔ چنا جیمنقول ‏ ےکححفرت رجح عبدالعز یڑ جب ھ ین 
موردے شا مآ نے گنز بہت خا نف تھے ۔اپے ساگھیوں سے تہ تے/: سخشی ان تکون فمن نفسته 
الد ینہ امش ہمکوخرف؟ :ا ہ ےک ہیں ہم ان لوگوں می سےا نیس ہیں ج نکوھ ینرنکالی د تا ہے اور ام کرای 
یا عی کا ہو رقیا مت کے تقر یب بہت ا چجھے طور بہ ہوگا .تن مرح یندمنور وی زار ہآ ےٹاک جس فقر بد بان 
اگ اس دقت دہاں پناجگز بن ہوۓ ہوں گ ےنگل جا ہیں مے۔ 

6 7 تضفور ب یک رم جن 2-07 سے اہر کر کے من ےےل د جا ک یگ ہا ے پروردگار! ار 
بے اس شر سے ناما سے جوتام مقامات سے بے ز یاد وحبوب سے ال مقام یس یھ نے جا جوتمامشہروں سے 
زیادہ جےکوب ہو۔ 

7.... فور فیک مھ نے فر مایا کڑس سے مہ بات و ک ےہکہھ بینہ شیلعرے ام کو چا ہج ےکم 
ھ یم مرے ۔کیوکگہ جوٹش ھ ینہی م رجا ۓےگاقیا ات کے دن می ان لکی شفاىح تک و ںگااور ال کے ابیمان 
کی گوا ہی دو ںگا اور دوص کی عد یٹ مٹ لآ یا ےک سب سے ہشن لوگو ںکومی ری شفا ع تک روا لھیپ ہوگی وہ 

الکیھ یی ہ۲ل گے ۔ بعدااس کے ان کہ بعد اس کے ائل طا نف ۔اىی وجہ سے !کڈ حضربیعرڑو حا کی اکر تے تھے 


10 


جیا با رکی می مردکی ےک اے اللہ ! بے اتی رای شہادت نیس کر اورمیری مود ت اہین رسو لم کے 
ش می ںکر۔ چنا اللہ تھا ٹی نے ا نکی دووں دعا میں قبول فر انیس غداکی راوس شبیدیھی ہو ے اور امھ یھ 
منور و یل خخرت عیب خد اکن کے ہھمراہ دفون ہو ے ای و پہ سے امام ما لکن کر نے کے لے تصرف ایک پاد 
۱ رخ 7ر ےل زار فور ران 2گ ر رر رگن گل ےک مباداھ ینہ سے باہرصوت شہ 
اترام فی نشین ×× بے اوز عون ولا ت بل 

8.... تفور ن یکر مم پچ نے فر مایا ےک ین میرک بجر تک مقام ہے اور دی مرا دشن ے اور 
ہیں سے مس قیامت کے دن اھوںگ۔ جوٹس مہرے پڈوسیوں (مشنی ال ھ ینہ ) کے تق کی اط تکر ےگا 
قیاعت کے دن میں ا لکی شفاعح تکر و ںگااوراس کے اما نک یگوایی دو لگا۔ دوسرکی عد یٹ ہلآ یا ےکچ ' 
تس لیم ینہ کے ساتھ با یکر ےگاد وا یکل جات گا تی ننک پا نی گل چاحا ےج 

9.... میک اک پاک مل اود وہاں کے میدہ جات مجن قعالی نے ماخ شفادد لیت فر ال 
ہے۔ جیما کراحاد یٹ مھ سے خا بت ہے۔ایک مقام سے داد پعمان۔و ہا ںک یس ی سردر دو ھا لپچ ع رخ تب یش 
وی فرماتے ج ادرف راشفاء ہو یھی ۔ اک علا ہےکرام نے اس می ک ےعلق ١‏ بنا تجر رھ کیا ہے۔ چنا مت 
عبرالئ حیرث دب بھی جز ب القوب می لکل ہی ںکریس ز مان شش ھ یندمنورہ یل تم تھا۔ میرے پیل 
الیک مرخ ش حخت پیدا گیا ک نام اطیاء نے اس اھر پر ازفا یک رلیا راس مرف کا1 خ کی تن مدت سے ۔حت دشوار 
ہے۔ نے اس ماک اک سے اپناعلا کیا تھوڑ ےبی دفوں می بببتآ سان سےححت عاصل ہوگئی۔ ا یمم 
کی ایی و ہا کی مجور بھی مردکی ہیں اورلوگوں نے تجر ہبیش کیا ہے ۔ اکر چہ بعد طا یت ہو جانے ا اھر کے 
کر حفرتہردردہ عا لتق نے ا نر ما ےکی ک ےھر کی پھعا ت کی ۔ ری شفاۓ جسما لی سے۔ ائل ابیما نت 
د ا ںکی نماک پاک میس شفاۓ روعالی کا یشتین رت ہیں ۔ 

0 ىف مل فضائکھ یمور :کے بی ےکر ہاں موی ے جوآ خر مسا جدانیادے اور رباب 
دی ‌اسام سب سے کی سید ےاو رج سکی کر یف ق ران یر مل واردہوُ ےاوراس کو نت ٹ یکا قب دیا 
۱ 
سر نو یک فطیلت 

مدکی کے فضائل بیا نکر ن کی چنداں حعاج تنئیں جس مس یں سردراخیا مٗانزاز بڑ ہار تے تھے۔ 
ا سک یر اپ اجتمام ےفر ماک اور ا یکو انی مسودفر ایا۔ ا کی فضیلت اور ب: رگ یکو یکیابیا نکرسکا ہے ہج 
بخارگی شش ےک تو رن یک یم نے نے فر ما اک ایک نماز ری ممحبد رٹ ببتر سے ہٹرارول نماڑوں سے جوسی او رسچر 


31 


یش ہوں .ساکع یرم کے اور نی زفر مایا کہ لوگو ںکولسی مدکی ز یارت کے لئے سفرکر نا چا ئ نیس سان تن مسر وں 
کے میری مد اور تر ۱م کعباورصو ال نی بیت ال مقر ۔ مد تباء کے فضائل بھی بہت ہیں ۔ نعخرت 
: سردردد عق ہفت شش ایک بارضنردرہ ہا تشریف نے جات تھے بھی سوار ہوک یھی با پیاد+۔( جح بخاری) 

114... بج بفادی وظیر وش مردی ہ ےک ہضور ن یکریم پچ نے فر ایا کہ میر ےگھ لین (روشے 
مقدسہ )او رمی رےمنہر کے درمیان ٹ ایک با سے بہشت کے پا غوں میں سے اورمیرامضبر (قیامت کے دن ) 
می رے جوف کے او پر ہوگا۔ 

علام کرام نے اس عد یٹ ک ےکن عطااب بیان سے ہیں ۔گ رع مطلب بی ہ ےکر دغخطہپاک جود دض ۱ 
انس ادرمتبر اہر کے درمیاان سے بحینہ اھ کے جشت النمردوس ٹیل چلا جا ۓ گا جن طر ح کرد نیا کےتمام مقامات 
بھباد ہو جانمیں گے ۔اس مقا مقدی پ کول ا فت نآ گی . یی مطلب ہے ا کے با ہو ن ےکا شملہ باغات 
بہشت کے اورضضر کیپ ےکامنیر وا لی قیاصت یں ازسرفواعاد وکیا جات ۓگگا جن سط ر عک رآ دمیوں کے پرنو ںکااعادہ 
گا پچھرد دض رآ پکفے کے جو بر بکرد یا جا ۓگا۔ ۱ 

12 کے کی ایی وغیر وم مردبی ےک یتور نیک رم پچ نے رما کہم بی فلال مقام سے فلال 
مفا گ۶ ہے۔ ا کے ددشت نہکا لے جا میں اور ناس می سکوئی بات (عم دمح کی )کی جاۓ ہکن 
اس مس نی با تک ےگا۔ اس پر اش دک ادرف شتقو ںکی اورس بآ ومیو کلت ۔علماۓےکرام نے اس حد بیٹ کے 
مطلب میں اختلا فکیا ہے ۔ححفرت امام شاف کے نز دی کک مع مکی رح مھ یند مود ہ کے ل بھی عرم سے جس 
طر ع کہ کے مم عم جدا لقال اور درخ تکا ٹا شکا رک ناضع ہے اوران افعالی کے ارجاب سے جز الازم و لی ے ٴ 
ایطربھ ین منور و کے مم مم بھی برا مو دنو ہیں اوران کے ارجیاب سے جز اد اجب ہو لی ہے۔(برامام شال 
کا بھرتول سے جد یتو نیش د:واس امر کے تال ہو گے ہی ںکہجز اد اج ٹنیس ہوئی ۔ردا ار )انضہوں نے مر ینہ 
کے ت مک یھی ہر جاب سے تمہ ی دکی سے ۔حضرت امام اعشحم ابویفہ کے نز دریک اس عد یٹ میں صصرف می کا 
عقم تا مہا رتقصود ہے اورو ہا ں کم و برع تکاسد با بمنظور ے_ 

13 7 تام علما ۓےکرامکاا اتی ہج ےکمھ یمور ہکاد ومقدریل حصہ جوصحم اطب نو یچ سےمصعسل سے 
تام تا مات ہے ان ہے۔ یہا ںک ککرکعہ عرش شیم سےبھی ۔اب اس کے بعد اختلاف ےک ہیاک اف‌ل 
ہے یاھ ینہ۔ تا ىہ سےکہکع کا پچچوڑ کے باتی حصہ پ م بندکاباقی دص الْل ہے۔امیرال مجن سینا حر عھڑنے 
طورز بجروا زکار کے مبدالید بن عبا مخز وی سےکہا یا کنا کی ین نال ہے۔انہوں ن ےکا کہم 
فداکا 7م ہے اوروہاں ان کلم ہے (اس وجہ ےا کو اٰ‌ کا ہوں ) ححضر گر نے فر ماک یش خد ا کے مم 


192 


ورای کےگھ کی مت پکئوکی لکہتا۔ بچرفر ماک کیا تم کت ہ ھک کہ ینہ سے انل ہے ۔انبوں نے پچھرو یک اہک 
کخدا اترم ہے ادرو اں ا لکاگھرہے.(اس وجہ سے میں ا سکواف‌ کہا ہوں )ححضرتکڑٰنے فر ماک میں شدا 
کےقرماورال کےگھ کی ضعت ہنی ںکہتا۔ رف مااکہکیاتم می کچ ہو ںکھ یند سے انل ہے ۔کی با رتعفر تگڑ 
نے اس لکل مک یگرارفر مائی اور لے میئ ۔معلوم ہہواک مض تگ ڑا ہکع و کر کے یر ینےکوککہ سے انل کت تھے 
اورک یت ے ۔ 
ارت روش مقر سے کے ف ال اورا کلک 7 

حضرت سال رین ہپ کی زار تس مایےسعادتدد ماد خرت سےادرابل ایمان وحی تک مقصید ا٦ی‏ اور 
تخت ایت اس کے فضال میا نکر ن کی چنداں عاجت نیل حم ہے رب الھرش کے عز ت دجلا کل بے زوا لکی 
کہ اگراس ز ارت میں پکوجھی قذ اب نہ رکھا جاجا او را لکا معاوض؟ غرت یل بک ھی نردیا جاحاح ببھی مشتا ان 
ےد لکی بجی حالت ہولی اورضحضرت رح ت لہا گی پچ اکلہ پٹ نے دانے اس دق بھی اسی طرح ۲یوں بللہ برسوں 
کماسفزا فقیارکر کے وشوارگز ارراستوں ےکبورکر کے فور کی فو ا لآ ستانہ عال یک (یادت کے لۓ ےآ ت ۔ ان 
کے مصاب سفراورقمام طکالی فکا مچی معاوض ہس ہ ےکدوضر یبد بک زیارت لحییب ہو جاۓ اور سروراخیا ءکی 
قد کنیٹ پہ جرد سا یا دو تل جائے۔ 

تر اس با رگا رت وک رام کی فیاعض یک مضفخی ‏ ےک جو لوگ اس ؟ ستانہ عا یکی زیارت کے لے 
جات ہیں ۔ان کے لج عاد اس دوات بے بہاسػنی دیدار جال بے شال روضہسروراخیاء کے اوربھی بڑے 
بڑے اع حار ح کاوعد ہیا گیا سے نمونہ کے طور پردو چا رعد نشی اھ جائی ہیں : 

4....ٛ۷-سممفور یکر چے نے فر مایا ہکہ فس میرک رک ار تےکر ے ای کے لے میری 
۱ شفاعت واجب ہوگی ے - 
۱ لوس 0 ۷ی لے ے اورمبریی ز یارت کے 

سوا ا ںکوگوئ یکم نہ ہونذ میہرے او بیضرورکی ےک بی قیا مت کے دن ا کی شفا عتک۷ر ول - 

ے...۔۔ فور یکر چے نے فر مایا و کے پھر بعد میرکی دفات کے مر تی کی 
زارف لے پل ام ٹس کے ہوگا جس نے می ری کیم می رگ ار تکا۔ 

4... مفو رن یکر چٹ نے فر مایا ےک جوف تس دک کے می ری زار تکو؟ ئے دہ تا مت کے دن 
میرے پڑویں شی کا نین رشن یس ےکی متام شل م رجا گا ا لکو اد تھا لی قیامت کے دن بے خوف 
اوکوں میں ا تھا گا۔ 


193 


5 2 تضور نیکم چھے نے فر مایا ےک جون بعد وفات می رکذ ار تک ے مگ یا ال نے زندگی 
یش میرکی ز ار تکی اوددجضس نے می رک قب کی ز ار تک ال کے لے قیاٰمت کے دن ھب رکی شفاعت اجب موی 
ارت تی شی اض ونود رن رات کر کان کی ع ان را ا کان 

احعادیۓ مبارکہ کے علاد دق رآ ن ید مم ل بھی ا ہے اشارا تع پچہم ججود ہیں جوز یاار تق رانقرس واطبر 
گی تر غیب د ہے ہیں جملیہان کے ایک آ یت ہے ہے : 

تر جم:....''اوراگرو ولوگ چ اتی جافوں نل مكکر ےت (اے نی ) تہارے پا س1 تے ۔ پچھرد و الہ 
سےاستغففارکر تے اوررسول (شج ققم بھی )ان کے لے استغفا رک تے نے بے شیک ود لکوت دالا مہ ریان بات“ 

ال آ یت سے صاف نا ہر ےک رحول التپ کے پا سل جانا اوران ے استغفا رکر نا با حث مغفرت سے 
او را را ااسلام کے لئے حا ت ا دک یکا مو ت تھائم اب اسلا مک وسسلم او رق رآ ن و عاد بیٹ سے دا طور بر ظاہر 
سے۔اہذ امش جج یکس ہو لا کہ یفضیل تصرف ای ز مانہ کےلوگو ںکونخییب ہیکت یی ۔اب ا لکاوقت چاحار با۔ 

حافظ اہ نکی رحرٹ اپ ینظمی یل اس٢‏ یت کے ےکک ہی لیمج من ھب بلا نی کت ہی سک بل ھ ینہ 
مور وگمیااوررو شش رف کی ز یاادم تک کے سا سے ٹیٹھا ہوا تھ اک ایک اعع راب یآ یااو راس نع کیا رسول از نت عفن 
تال فر ماج ےک :ول واذھم..... الب ائش ا گنا ہوں سے استغفا رک رجا ہوا بن دا نا ضف رنانے کے لئ ےآ یا 
ہو ۔ مکی کرو وکہت روا اورال نے واولشوق بی دوش عرئ گے ۔اس یس ایک بی ےک : 
اتا لت اشساکت 
فی العفاف وفيی الجود والکرم 

جھ بی نج ب کچ می نکاس اعرالی کے لوٹ جانے کے بعد ٹیش نے ححضرت سرد دو جا مت ےکوخواب می 
دیھ اک ہآ پچ فر ماتے ہی کہ اس اعرالی سے جاک مو اور ا کو بشارت دوک الل تا لی نے تیر ےگناہ می رکی 
ضفاعت سے بن و یے ۔ اب پاتی دبا یرس ہکہزیارت دوض شری فکاکیاعم ہے متقی بیسطفت سے یا واجب۔ 
ا ۓے معفقین اس کے و جوب کے ئل ہیں اوراعادبیث سے ان پ یکی جا یہ ہی سے ۔ چنا خر ایک عد یٹ مل وارد 
ہوا ےک ہج رکش نے کیا اد ری ری زیارت کی ۔ اس نے بھھ بف مکیا۔ اس یمطلمو نکی اوربھی احاد بیٹث یں اور 
تمام لا کاسلف ہ ےکآ تک تا رکین ز ارت پر ددوقھ ‏ حک نا اور رک ز ار تکوستید بککھنا بھی ای اع کی دٰیل 
ےک ولگ زیار تکوداج ب گے تھے ورنہسشت پا تب کے ترک پر ای ےک تکلما تکا استعال یی جا رکین 
ارت پر ان لوگوں ن ےکیا ےنیل ہوا۔ علاد ان سب کےسصلف صالی نک صحا برک ر اش و شی کے ز مان یل انل 
زیارت باسعادت کے لے اہتما کر نا اوراسل پ نت التزام رکنا اس کے و جو بک طرف ضر اشارہکرد اے۔ 


14 


سی نا ضرت با مو ڈا نکا خائ ز یارت روغ افدل کے لے شام سے ببدمنور ہآ نا بہت شور واقہ 
ےا رات ا ما زا کا ےک امیر ا ومن ضر گر کے عرخلافت یش جضرت با 
شام ےھ بین مور ہآ ے ۔انہوں نے خواب میں دریکھا تھا رت سردراخیا عتکفوفر مات می کہ اے جلالی کیا 
ریا کی رون 8 .وٹ تی حضرت پا زان سے تگلی د ‏ ئے ۔ جب روش 
مقر سے پہ نو بہت رو ۔ مھ رین کے کین سے انمہوں نے اڈان دی کک سے ایک قیاصتہ ب یا ہوگئی اور 
رت سیبرال رین پچ کی د فا ت اکم ازم فوجاز و ہوگیا۔اشھسدان معذا - ات گرا نکی جیب حالت ہوکئی 
اور یی اڈ ان پچ دگی کے اتآ ے ۔ ام راکموشین سید نا تفر گر جب بیت امقدرس نتر یف لے گے او رکب اچار 
ملران ہو ۓ نو ضر تگ نے ان ےفر مایا کہا ےکحب !کیا تھا رای چاہتا س ےکست ہمارے سا تع ینہ جو اور 
سردراخیا عی کی زیار تکرد۔ چنا خرکعب احہاران کے چمراہ ماع ز یارت کے لی ھ یندمنور ہآ ےب رتطرت 
عمررن ھ یدن کر سب سے پیل ہکا مگیاد و تھا کہ روف مقدسہ پر حاضر ہو ۓ اور تطخرت رحم مالین جن کی 
جناب میں برتمام اد ب ملا م مع لکیا۔ 

نضرت ای نکی ادگ یک بک ےآ تے و سب سے پیل روض ہتس بر حاضرہوکر جناب 
وی نو می سلا عق کر تے ۔نقرت امام ما لکن اپنے موطا مل روای تک تے تی ںکہ نان ےکی نے بے چھامکنتم 
ے دبیکھھا ےک حضرت این عرفبرش ریف کے پا لکھٹرے ہوک رسلا مع رت کر تے تھے ۔انہوں نے کہ اکسہ ناس و کیھا 
سے ادرس پار سےڑ یاد٭د ھا ہے سد وہر ریف پکھڑے ہو کے کے ےک السلام علیٰ اللنبی السلام 
کل ایایگر'السلام علیٰ ای ۱ 

ضطرت عمر بن عبدرالز یا شمام سے پر یندمنورہ قواص بھی اکر تے تے۔ خائص اس ےک دہ ا نکا سلام 
پارگاورسالتعکغ می پہچیادرے اور یز ما گیل القہ رجا شی کا ھا۔ا یح کی اوریھی ببہ تہسی ردامات میں جن سے 
معلوم ہوجا ‏ ےک ھا کرام او رجا تی اس زیارت پر کیسے دلدادہ جھ اوراسل کے سل جکتنا اما مکرتے تے اور 
و ریت موکین ملف ظا براز کے را ےزاووار ان خ برع ارز گن ہےکمدہ اتی 
مر گھوں سے اس بقعف رکی زار تک ے اودرا کس بسا ل تک گا چردد ہا ںکی غرمت میں سلا م عرت کر ے اور 
ال کے جواب ےم رف ہو: ۱ 
ا سحادت پزلرر ازو ٹ یت 

نہ خر خراے ندم 

ا ند تمشھی کا لیف ا نیش سے پہ نے جس سک قسصت نے ار کی اور اس شر ہ کی چا شی ا سکیل 


15 


کی ہواورخدانے ا لکوقل میم اورایمان کے ما کت نما ان ےا نی وکیا نگ 
کیلع لوگ اس ز یارت با سعاد تکو یا اس کے للع سفرکہ ن کو نا جائز ککتے ہیں اور ابی خوش بھی سے انس بی نار ان 
ہیں سنا ےکنئ لوگ نکر کے اپیے رن الا فآ ے اور ع نمور دنہ یئ ۔ ہا افسول ال سز اد وروی 
او رکیا ہوگی۔ 

زیار تکاظر یقہاوراس کے؟ داپ 

..... نحص کرنے جاۓ ا سکو چا ےک اگر من فرض ہوق بیشن رن سے فر اخ کر ے ۔ پر 
زارت کے لے جاۓے اوراگر رن فی ہوتو افقیار ہے ۔ جا ہے پپیے ‏ کر نے بعد اس کے ڑ ارم کو جاے یسب 
صورقس اس حاات شش ہہ سک جب ںئ کے لے جان ےکا رات حد ین مود وکی رف سے نہ ہو ۔ اگ کہ جانے کے 
راستہ بی میں ی بندمنور :متا ہو۔ جیے ائل شا مکوو مہ ؟ نا چا ہیں نے لے ا نکوع یندمنور و کٹ ےگا تو ایی حوالت میں خواہ 
و اوج سے پل ز مار تک رن چا نے ۔خوا: ری فریض ہو انل کیدکمہ اد جوداس ف رقرب کے پچھرز یار تکا ترک 
000 وو ا ے۔(ردا تار ) 

2ز ژ٘ زائ کو چا کہ جب زیاادت کے لے ےےل خیب تک ےکہ یل روضن افدس و اطم او رسچر 
انور مطرت خر الیش رین کی زیارت کے لے فرح یں فرح 0 ا جا وو فصور وں۔ زیارت رو 
شرب فکھی اورز یا رت مس دش رای فگھی ۔(درمتاروظ:) 

3 ہے گی وقت ھ یند مود ہکی طر فکو جک ے۔ اپے ذوق وشو کوت کی درے اورا جۓ د لکو 
شارت در ےک اناء اللہ ! ا بعنقر یب نطرت رحت ہمد الین ٹن کی ز یارت لحییب ہو نے جاڈئی ے اورسواان 
خیالات کےاد یم کے خیالا ت ان دل مل ا ےد ہے اوررا بج ردرودش لی فک یکرت ر کے .سوا اوقات 
از کے اور نظاۓ عاجحت سے اسی عبا و می میں مشغول رے۔ ورودشریف ےکن کوک یرت ا رگا 
رسال تی می تقر بکانیں سے اوردد و دش لی فک یکرت ے؟ حضر تپ کے بہمال بے ما لکی زی رت لحیب 
ہوی ے ۔تصوصان ین منورہ کےقر یب پل کر ددددوش رای فک یکر ت کر نا جیب ایر ود بنا سے۔ 

عد یث مبارکہ یآ یا ےک الد تھاٹی نے چندفرشتو ںکوا یکا م پرمفردفر مایا ےک ج بکوئی زیارت کے 
لے نے والا درودشریف بڑہتتا ےو ووفر جج تضورلبوبی جن یں اک رع کر تے مج کہ فلا ںننس فلا ں کا بنا 
منرت مین کی ز بارت کے ل٢‏ ے اور تفر ت شیپ !ا نے جن ین لی برک زتضورںی کے لئ جیا ہے 
خیاللکر وکہاس سے یاد و او رکیا نت وگ یکراس صرداردد عا لپ کے سا ت ےتا را او رتہاررے با پک نام میا جاے 


اورتھما رای ںکیا جائۓے: 


196 


جان می جم بر آرزو ا؛ے تاضر آ۶ با زگ 
وی نی ا کو کی کا ا و 

4ھ4...) ا ٹھاے راوئیش جس مر مق مات متی رک یی ۔ لا دوسا جدشن میں حرت سی ال ین یچ 
جو میس تس سم ھی 
رورکحت نماز پڑ ھھ _ 

5 اہ جب مم شرف طیبہمرظ یبآ جاے اودد ہا سک عمارات اور مق مات رک کی و ۓ لیس تو 
ایت ضٹو غ وخضوع اورسرت اورفرح کو ا ہے دل میں تہ دے اوراس ام رکا نمو رک ےک اب جم سلطائن 
عا لپ تدکی بارگا دی کے چا تج ہیں او رمق مقدریسل کےےمظمت وجلا لکا خیال می از شی رھ او رکوکی بات خلاف 
اب ای سے مرز دم ہو نے دے ۔ ید دوت ےک ن کے دل نو رایمان سے منور ہو تے ہیں ۔؟ حضرمتت پت کی 
بت ان نون فو تل کی سے اودائیآ جیپ و ود کی کیفت پا +ووال ےک کچھ را نکد اہی تن 
بن کا بش یں رتا ۔ اس ے خو دک یکم لت یں بگ کی مس ےگوقی یا لاف شر بھی صادد جو جائی ےگ 

بثت آن آھھ کہم" مع ان مم 
مم نم مرا مربان مم 
ہھۓ دء ہہغ مد 
ھۓ چان وۓ جالم مرسہد 
اوت 1 تا یی ماف نے ا 
از آھ اہ بادر کوۓ ) 

اوراگ رس یفن سکو برح ات تعیب نہ ہو ا لکو چا ہی ےک بتلف اپنے او یہ بی عالت پیدارےاورڈوتی 
وشوق وااو ںک یىی صورت بناے ۔انشا ءالط !اگ رھد لف یلت اہ اپ قائمر ےگا تو چھرخودبخ ایک 
اص یکیفیت پیداہو جا گی _ پچھر جب یل مطرع کےقر جب منج2 ال پر چٹ ہوک رممارات ھ بیدمتور وکا مشاہد وکمرے 
اراس شھرمخ دی لک زیارت سے اٹآ گھو ںکوشنرک دے سے بات ایک ذدق وو قکی سے۔ اس ںکومسنون نہ 
کھناجا جے۔ ۱ 

چھر جب ھ بیندھنورہ پالنل ساسنئے؟ جا فو بفیال وب اور بمقصا مشوق اتی سواری سے ات پڑ ے اور 
اہ تان سے سمش ریف کک پیادہ با جاۓ ۔ جب قبی لعبداشچس کے اوک تضصورنبوی نے یش حاض ہو ۓ 
جھے۔ جیسے بی ا نک ینظمراس بجمال پاک پہ پٹ کی بقیعراس ک ےک اون فکو بٹھلانمیں۔ بے اخقیا رات سوارایوں سے نے 


197 


گج او رصحضر تم یچ نے الی نع کیں فر مایا۔ بجر جب مم ریف پر بینمورہ کے اندر دائل ہون گی تو سسلے 
عحفرت تی الہش رپ کی خرمت شی سلام با دب نا مخ کر ے۔ لعداس کے بد عاپڑ ھے۔ 


ون ےکی دوات عنا یت کر او را لکومیرے لے دوز رغ سے جچچ کا ذ راہ اورعزاب سے اما کا (با عث )بنارے 
اور ان لوگوں یں سےکرج نکوقیامت کے دن حعفر تج تچ کی شفا عت لیب ہوگی _' 

7 0 ا ا ا و ا رس کر 
مان تر شریف سے با ہکن نہ ہو بعد داخل ہو نے کے زیارت دوضمت ادس کے لے جانے سے پیلےس لکرے ا 
او رخوشبوکااستعا لکر ے اورعھد ولپاس ( نخس لوگ بد بینمنور ہ کےا نر داشل ہو نے کے لے اقر۱مکا لال بے ہیں ۔ 
پالی بے اضل ہے اورا کال با سک ممنظمہ کے لے اص ہے۔ جب القلوب ) جوا لکویس رو پینے ۔ مت یہ سے 
کسخی کپٹڑے ہوں ۔کیوننخرت رسول مدان کوسفیدرلبال سے ز یادہ رقبت سے اورتہابیتہ ادب پعلم دوقار سے 
ھ ین نود ہوکی ز مین مقدس پر قد مر کے اوراس با تکاخیالل ہروقت دل مل د ھےکہ یرد ہپاکیٹزہز ین ہے جس سے 
عیب خدائ کے میارک سو نے لکیاہے اود وج یگ یکو چے ہیں جہاں سردراخیا لت کے اصحاب یلت جرتے 
تھے ۔درتقیقت و ون ھن قو ال ایل ہےکہو ہا ںآ دیس کے بل گے کان ےکیا چا کہا ےک 

منشن لد نان گلف پاےۓ بد 
عمالھا سد راب تر وف بد 

7 ھینمندہ کےا دوگ کر سب سے پیل مرش ریف می تقد زار حطر ت سید ال رشن پچ 
کے جاۓ اور ا کو ہرکام اور ہریز بر منقد مر تھے ہا !امہ ہے ج ےک اسباب وی رہ اھ طور بر نہ رکولیا جا ۓ گان 
لف ہو جا ےگا تو اپنا اسباب دغی رہ تفائظت سے رک ھکر جا ینان ذیارت کے لآ ۓ او رمسجدشر یف شس داخل 
ہو ئے وعت بیدعا یھ : 

ترجہ:....''میس ( شیطان سے ) خداکی پناہ ماعنا ہوں الل کا نام نےکر (اس میں داخل ہوا ہوں ) 
رسول خدابر لام ہے کی !؟ پ پرسلام مواورشرا گی رت ہواورا کی بکتیں۔' 

او ررش ریف یں وبا تاذب او مظعم کے ات زا ہو پیل داہن پا ئن مد یسر کےےاوزن ات 
دل میں ہروشت ر ےک ہیور صضرت نام الاخیا کل گیا سح ہے۔ ہد + سد سے جہاں سرد راخیا می نماز پڑ جت 
تھ۔ دعناف ماتے تھے ۔ اعتکا فک تے تے۔ یہاں دی ات تی ھی ۔ انل علیالسلا مآ تے تے اورسبرشرلیف 
داشل ہو نے سے لے مس تخب ےک یحوصدق نف راۓ پھ ین ور وکود ےد ے او ر دشر یف می سپ کر عییاف 


128 


گیاضی تک ے ۔گوکھو کی ھی دہ کے لے ہو ۔کیوکمہ ہیک بے مشقتعبادت ہے ۔ چم کات اب بہت ڑیاد و تا ے 
اور پا ہي ےکہ چ مس یٹ دافل ہد تی دقت خیت اعیکا بک یکرلیاکرے۔ مفت ہے مشنقت قو اب مم ہے ۔ اس ںکو 
اھ سے نہ جانے درے۔ پھ ر دخ ریف می لمنبرافدسل کے تر یب دورکحت نماز ہنی تحت السچھ پڑ ھے اوراس نماز 
بش زیادوطول شر درے ۔صرف سورة الکافرون اور سور اغخلائس پر اکتف اکر ے۔ بح دکحیت السچد کے دد رکحت نماز 
شا نکی پے ھےکرتن توالی نجس ا نل وکرم سےا کو بی دولمت لی کی اور اس با رگا ہحظمت د چاو ال 
کو پا یا ۔ سکی؟ ستتاں بو یک یکنا مڑے بڑ ےل وکیا جان د یئے ہیں- 

8.....ز ت یت ال سجداورنما زشگر کے بحدز یار تکی طرف متوج ہوادد بج ل ےکہ میس اب ان با خففشت 
بارگا ٹیش جاتا ہوں جس کے سا سے تھام دنا کے پرجطال بادشا ہو ںک بھی یھ وقع ت کی ۔ جو خدا کے تھام کیک | 
بندو لکاصرداراور سب ے زیاد ہا کا مقرب ادرکحبوب ہے اور خداسے دع اکر ےکاے اللہ !اس مقام مقرل 
کے لاک او ب اوشفظی مکی بج تو نی درے اورمیرے دل اوراخضاءکوتمام خلاف ادب پانوں سےتفوظا رکھ ۔ چ نے 
ےکی رختا یت ابیز دی کے اس درگ عرش اشتبا مکی شان کے لاکن ارب نی سی 0ا مر 
کڑاڑےک: 

7و .“جب ہم اص ٹک ترنشریف پ چو ان کے نور سے ایک ای ر اشن یی جس نے٣‏ فاباور 
اتا بکوشرمند کرد یا اور ہم ا یے متام سکٹرے ہو ل ۓکہ میں دا کوگواوبناجا ہو ںکدہ مقام اپٹی ٹیبت سےجٹرکو 
یاددا١ج‏ تھا۔'“ 

خبض جس تق راس کے امکان میس ہوظظاہرو ہن ےتحنقیم دارب اورضو ع ضوع اکوئی دقتہ اٹھانہ . 
رجے۔ ہج عبدالنن ھرٹ دبلوقی ہز ب انقلوب م سککھت ہی ںکرجن بات نکی ش لیعت ‏ شعمانعت ےھ ل بد وکر نے 
زین پر منرر کے اورک وش ریف کے بوسدد نے ٹیر کے ان ا مور سے پ بی زکرےاور بیخو ببجھھ لت ےکہان پانواں 
ٹس پچھوکھی اد بکییں۔ اد ب و فر مان بردارکی اورک ضر تچ کےع مکی پروی یں ے۔ ہاں !اگ خلشوق دہے 
خودی می کی ےکوگی بات مصادد ہو جائے نود ومعضرور سے۔ پچ رخبایت ارب کے سا نما کی طرع داہن اھ پا میں 
اتھ بر رکوکرسرصبار کک طرف من .کر نےاورقبلہکی طرف پش تکر کے چا رکز کے فا لہپ ہکھٹراہواوران با تکاشن 
مر نےکر ؟ حضرتیپچے ا سکی حاضربی سے واتف ہیں ادرا سکود کور سے ہیں ادر اس کے سلا مکا جو اب دیے ہیں 
اور ال لک دعا ہآ مین سے ہیں ادر نما ین لطف وعنایت ا نع کے عالل پرفر ماد سے ہیں ۔اس خیا لکوخوب پت 
کہ کے خہایت درد ناک اود با اد بآ واز بی ہا یت شوق وذ وش کے سا تح معتتر ل7 واز سےعرت لک ےک : 


جھہ:....' آپ پر سلام مد اے مر ےصردا راہ فداکے رسو لی ۔آ پ پرسلام مد اے خدا کے کیا۔ 


19 


آپ پر سلام ہو اے غداکے پیار ے۔آ پ پ لام ہو اے بھی( سرا پا مت )آ پ پر لام ہو اے ام تکی شفاعت 
کر نے وانے۔آ پ پرسلام ہواۓ سب رسولوں کے سردار ۔آ پ پرسلام ہو اےنیوں کے مر ۔آ پ پہ لام ہو 
اےعزٹل۔آپ پہسلام واے مث ۔آپ پہسلام بواورآ پ کے پایجزوباپ دادوں او رآ پکی ابمیت پاگ پ 
نیشن سے اللہ نے شا سس تکودو رکرد یا اورا نکوخوب پ اک فگردیا ال1 پکو نم س بکی طرف بز اد ے ان جڑاؤں 
سے ہپ ھکر جوااس نمی ٹوا کی تو مکی طرف مےاورسی رسو لکوا کی امم تکی طرف سے دی ہو ۔ می گوای 
د تا ہو ںکٴ۔؟ پ غخداکے حول ہیں۔آپ نے فداکے پغام پیا اوراماشت اد اکر دگی اور امس تکی خی روا یکی 
اور( دیع ت کی ) دیل روشنکرودىی اور اد کی راہ یش خوب چہادکیا اور دی نکومضبو طکردیا۔ یہا ںک کک آ ‏ پکو 
صدت؟ گئی... لآ پ پرصلو تاورسلام کیج جو1 پ ک ےم مکر یم کے حول سے شرف ہے ۔ ١ے‏ لو وسلام جھ 
رب الا لی نکی طرف سے بیشہر ہیں ان چیزد ںکی تد ار کے موافن جو ہی اور جو دا کےعلم یں ہو نے والی 
ہیں ۔ ای لو ک رج سک انا نہ ہو یا رسول اللد! بمآپ کے م مان اورپ کے مم کے زا ہیں۔؟ پ کے 
سا عاض کی سے مرف ہو ۓے ہیں اور بے شیک جم دور دراڑشہروں اور بعید مقامات سے نرم او رت ز می نکلم 
کک کے؟ پ کے پا لآ پک ز یادت کے اداد ے؟ تے ہیں سکب مآ پک شفاعت سے اور پکی کنششوں 
سے اورپ کے وعدوں سے ادرکی فد رآ پ کے تن اداکر نے سے او رآ پکی شفاعت سے اپ پر وردگار کے 
ما غکامیاب ہوں ۔کی وہ خطا ول نے ہما رکی کت ڑ ڈ الا سے او رگن ہوں نے جار ے تافو کو بویھ لکردیا ہے 
اور پ شع مقبول الشفاعتۃ ہیں ۔ اشن سے بڑ ی شفاعت اور متا مئمودکا وع ٥ک‏ یاگیا سے اور بے شیک ا دتعاٹی نے 
فر ما اک اگھ مرلوک جب ابنی جانوں پیلک مکر گے تھے پ کے پا س؟ تے۔ بچمردہ اھ سے استغفارکر تے اوررسول 
بھی ؛ن کے لئ استغفارکر تے تو بے شک ود او دک پش دالا مہربان جات اوہ مآ پ کے پاس انی جانوں پشم 
کر کے ا گنا ہوں سے استغظارکر ن ےآ تے ہیں ۔ ہآ پ اپنے پروددگار سے جارکی شفاعت سجن ادراس سے 
دیما یئ ۔ بھمکوآ پ کے ظر اہ پر وت دے اور مارا آ پ کرو یف کرت اود شی آ پ جےے نوس ٍ 
پییاۓ او رآ پ کے جام سے .یں حیرا بک ے اور ہم شہ رسوا جہوں شش رمند ٦‏ شفاعحعت فر ما ییے _ شفاعت 
فرب ہے ۔شفاعت ‏ رما ہے یارسول اللد! اے پروردگار اچنٹی در سے ۴ مکوادر ہمار ے ان بھائیو ںکوج ہم سے لے 
ایمان لاگ ادر جمار ے ولوں میں مسلمافو ںکاکیننہ رکد۔ اے پروردگار ہار ے! بے کرک نو شفق تکر نے والا 
ببربان ے۔' ۱ 

زار تکر نے وا ےگوجا ہپ ےک جو دعادہاں پڑ حھ اس کےممی ضرورمعلو مکر نے کین ز ارت جو 
داجیا وقت پے ہاتے ہیں اگ ران کےمعنی معلوم ہیس تو بچھرارنی ز ان مم لبھی جس ف ر گی جا ےعرخ مع ریش 


200 


کے اور اپ ذوق وشو قکونہ رو کے ستگر اد بککا خیال ٹیل از ٹیش ر کے ۔ینف عا مان ےککھھا ہ ےکہ اس مقام 
مقرس میں زیاد +گوئ بھی خلاف ادب سے ۔ لی اصرف صلو ٭ وسلام پر اکن اکر نا او لی ہے گر ہہ با ت نھی کیل ۔ 
کیونکہ جومشتاتی دددمنعد برا رتمنائوں کے بعد اس فک رمصراب سفر بر داش تک کے اپنے عیب کی خدمت ٹس پا 
ہو یلکن ہ کرو و اپنے د لک یمکیفی تبھی اتی رع عئ نکر ے۔ ہے بل الم ہےکہ اس وفقت اس ےکہا 
جا ےکر اپنے سوزدشکای تکودلل کے دل بی ٹس رکھے۔ جب اپن مل نیاز سے فااررأ ہو اپ دوتتوں سے جس 
نس نے عرض وع کی ہوا کا لام تحت سید ال رین کی فرصت ارس می عرخ لک در ےکہ یارسول ال 
فلا این ملاں نےتمورکوسلام عرش کیا ہے ۔تضموراس کے لے پردردگار ہرگ سے شفاع |کر بیی۔ 

نا ظر بین ! جوا قبال من دوش طعییب ہواور اس کو رولت تعیب ہداورتحضرت رحمت ہل انچ کی ز یارت 
سے و شرف ہداس سے تہایت الا کے سا جح می ری دصیت ہ ےکاس ز٤‏ بے مقد ا رکا لا ممجھی اس کک تائے 
نھد ارکو اد ےکہ یارسول اللد !1پ کے اد کی فظا عبدالشکور ین ناظریلی ن مو رکی جناب ٹل سلا مع کیا ہے 
او رآ پ کے لطف وکرم اوررحمت دشفاع تکا امیر دار ہے ۔ یا رسول اللہ ! نٰ تا ٹٰی نے 1 پکو رت ملح الین اور 
روف و رن فر مایا ہے۔ یا سول اود آ ‏ پکی رت ورافت نو خدا کی تما مخلدق پ محیط ہے ۔ یا رسول اللد! خدا گی 
لوق میں میں بھی ہوں ین تپ پ پرایمان لایا ہدں ۔ اگ چہ نیک بندوں مل نیل مک نآ پکی امت کے 
گنگ روں یتو ہوں : ۱ 

رجرخر ا و امیراسلام اُس جنا بکو ہجار ؟ ج نکی حبت میرے سے میس ہم مکئی ہے۔ 
پل میرابدن بظابران سے دور ہگرمی راول پا کیک سے ای دکر | ہے۔ 

لالح ول سینٹا مشتالتی ای ور 7ف سا اناگ 
میربی اس وی کو پو اکر ےج بل شانہ ا لکوٹشفیل مضرت حبیب فداعھلہ کے جنزاۓ غیردے اور صلاع دنا 
و خرت اہ لںکونھی بک ے اد را مان پر ا کی زخگی پور یکر ے سآ مین ! 

جب منرت سید ال رن پک کی جناب شش ا ظر یق سے سلام نیاز ابنا اور ا بن حا ب کا عر کر کے 

حضرت امیرالنتین امام نین سید نا ابوبگرعصد لٹ کے سرصبارک کے ساحے نمایت ادب سےکھٹرے وک اس 

عبارت یں ملا ری کر ے: 

تر جمہ:....' آ پ پرسلام ہداے رسول خد اچچ کے خفہ ہآ پ پرسلام ہو اےرسول مد اکے مین اور 
نار یش ان کے امیس اورسفروں میں ان کے رف اوران کے رازون بس این ۔ الد پگو ہماری طرف ے 
تزادرےقمام جز اش سے بر کم جوا۶ ںان ےکی اما ماس کے میک اص تک طرف ےالس اسان تا 


201 


کی خلافت بہت انچ کی اوران کے ربیقہاورروش پہ او رآ پ نے مر وں اور بجتووں سے جن کی اور 
پ نے اسلا مک بنمیادڈاکی ا ورای کے ارکان جلن کرد یئے ۔ ا ںآ پ بہت اجیکھے امام تے اد رآ پ نے رسول خدا 
یی قرابت وااوں کے سا تج تیک سلو کفکیا اور بیشن براورد ین ائل دین کے مھ دگا رر ہے ۔ ییہاں ک کفک رآ پ کو 
وت ؟ گی ۔؟ پ الف بھاندے ارد ے لئے اپ حبت کے دوام اوراپٹی باععت ش شور ہو نے اور ہما رگی زیارت 
کےمتبول ہو ن ےکی دعا یئ ۔؟ پ بپرسلام ہواو ران کی رت اور برگئیں ۔'' 

پچ رمفرتامی ال ین سد نا عھرفاروقی“ کے سرسبار کک مھا ذات یل اسی ادب کے سا ت ھکھڑراہواور ان 
کوسلا مک ے ۔ ال عبارت ے : 

راگ پ پرسلام ہو اے امیرالمونشن ۔آ پ پر ملام ہو اے اسلام کے نال بک نے وا لے ۔ 
آ پ پر لام ہداے جو ل کے فو نے دانئے ال آ پگو ہار طرف سے بے کی حد ہ جزادے۔ بے شی ک؟ پ نے 
اعلا مکی اورمسکمافو ںکی ع دی اور بتدسیدا رین کے اکرش رآ پنے 2 گے اور پ نے یھو ںک یکا از کی او 
۱ رسول خداکی خر ابے د:ااں کے سا تج تیک سلو فکیا اور اسلا مآ پ سے و کی ہوگیااورآ اون کے جاک 
ند بر وششُوااور برایت یا9 رما جھے۔71 پ نے مسلمانو ںکی فی کوش ع کیا اوران نت کی کی اوران کے 
شیک یکاخ ما لکیا۔ 

پچ رحرت ابوبگرصد لق اور تحضر کھرفا روقی رص او کنممادونوں سے مخ طب ہوک رعت کر ےگ : 

و وج پ دونوں پرسلام ہواے رسول خدائ کے پا ل لیگ والواورآ پ کے رش اور پ نے 
وڑ اور پ کے شی راددد ین ب ار جے می ںآ پک مر(گر ۓ وااواورا پ کے بد مل نو ںکی صصح تکوتائم 
ر کے والو_ لآ پ دونو ںکوع ہ جزادے۔ بمآ بی گے پا نے یں پا پکورسول خد انی ےار کا 
ذ رجہ نا میں ٹس می لآ پ جہارئی شفاع تک بی ادر ہمار ے پدردگار سے دعاکر بی یکردہ جماد یکوشت شکوقبول 
گر لےاو میں ؟ پ کے نہب بزئد ور کےاور؟ پا ۔کرگردو یس ہما ر اش کر ے۔ 

جس طرع می پا رطحضرت سیدال رن ئفےہ کے سرمبارک کے سان دست بس تہکھٹرا ہوا تھوا ای طرح 
کھٹاہواور چو نضرغ وزاری 2 ور کر لیے اور جو جوخوا یش رکتا ہو مض رت می لے جن میس نی تھا یل ے ا 
اور بہت ذوقی وشوئی کے سا تح عحخرت عیب خد ایگ کی ندمت یں سلام عرت لک کے دہاں سے جے اور تضرت 
اولپا کے سقون کے پا ؟ ک رق کر ے اور بن ف ر .َ بڑ ھے۔ پھر بعد ال کے اورآ 5 

۔ مج ر بعد اس 2 ضف ائش جس جا نے او مان کے عزازات مقر _ 


و سد جہ یو و انل بی او رنضرت 


ارت ورس نز بادت تنا بتاد ہے 


ت‌ 


202 


ای را وین امام اکصقین عثان بن عفان اورضخرت ابرائیکرفرز مدرسول داب اوراز وا مطبرات او رن تم" 
اور اتی صھا ہگ را مکی ۔ پل رشہداے احدکی زار تکرے ۔تصوب] عحضرت سید الشبد ہمز بن عبرالمطلب عم نیطتا 
اد جبو ال پا :سلام عليکم بسا صبرتم فنعم عقبی الدار...!اوران‌تام شا 
وعزارات پر جاکر فاتمہ پڑ ھھے۔ میتی ق رآ ن بجی رکی سورییس پڑ ےکر ا ن کا ٹذاب ان مرا کی ارواحع مقر کو 
و رر ارت ت کے لے بھی جا اورو ہا ںپئ جک رکم ا رکم دورکعت 
ماز نمی تںحیتۃ الس پڑ ھے۔ 

سے نے دٹوں مر یدمنور وم قیام ہو ےا کوأی تھے اور وز ما غفلت مل ندکا نے اور 
جس رر ہو کات از اخ تن ا کیک ار پرروز اکٹ تصہ اپ وق تکا حخرت رح ت رکا دا لی۲ن چل کی 
زیارت میں صر فکیاکر ےھ ریدول تکہاں ٹحییب ہوگا۔ بےروض> اف لگہاں کا وت مت ے۔ 

2... اپنا اکٹ و قت یرش ربیف ٹوٹ یکی طا مت می صر فک ے۔د ہاں الگا فک ے اود ہرم 
کی عبادت سے اپے وق تکوآ بادر ہے ۔ نماز روز و صدقہ خیش جس ق رعما وج ںکمکن ہوں اس مس مقرس یش 
کر ے اورجص قہ رح ہچ رکا رت سیا دی کے ز مانہ یش تھا بے چک وو حح اس سے انل سے جآ پ کے 
بعد میس اضا فک یا گمیا۔ بیس اگر انس حصہ می بیٹھنا لکن ہوا بہت ببتر سے او رکم ےکم ایک شب ا محدمقزس مش 
شب بییرارٹ یکر ےاوراسل را تگواٹی قا مع رکا خلا ص اور پاتعمل چے ادرتمام رت عبادت ش لکیاٹ دے ۔ ہر 
ےکا رات یل او رکوکی عبادت زہکر ے۔ بللصرف درددش ریف کادردگر ے:اللھم صلی علیٰ محمد 
وعلیٰ آل محمد کماصلیت علی ابرھیم وعلیٰ آل ابراھیم ٠‏ اللھم بارك علیٰ محمد وعلیٰ 
آل سجستکتاآبارکت علیٰ برای وعلیٰ آل ابرامن انل سد تن رای شب یس یکا 
خلبہ ہوتو ا سکود نکر ے۔ انشاء اشد٘ٹس وقت اس ام رکا خیا لک ےٹحا کہم لکس مد مقدس یش جیا ہوں اور 
مت سرورانیا نے کی تضوربی یہ حاصل ہے ۔ اس وقت خیندوففل ت کا پالنل جاار ہےگا۔ ۱ 

ازس میں رات جھرر نے کے لئ اکر پتھ دکام دغدا مکی خوشا مک نا پڑے۔ بےت مل خوشا بھی 
کے اود جو جھ با تی لک ناپ سی س بک ے اوراسس دو تگواپنے ہاتھ سے نہ جانے دے۔ جم شرلف مل جب 
تک ر ہے اہین دل اورز بان اورقمام اعضا ءکولوات ادرترکات سےکفو ظا ر کے اورسوا تضو اق رل ہدیچ کے 
کی طرف موجہ ہو ۔ اگ رنہایت ضرورمتہ شی ےکا مکی ہون معن رکلا مکر کے پچ رای جنا ب مقر لکی طرف متوجہ 
ہو جا ۔ مرش لی کے اد بکا خیال خوب ر کے تھوک وغمر وہ ہاں زمر نے ہا ئے ۔کوگں با مس ریا دانع کاو ہاں 
نرڈانے اور اگ رگ را ڑ1 ہواد سکھےتو فو رآ ٹا نے یتح او ک چو ہار ےکھاکرسبرش ریف می ا سک اگھلی ال ر ہے 


203 

تھے ۔ بجی ظاف ادرب ہے۔ ج بتک مد افدرس مم ر ےجھ روش یڈ کی طرف نہا یت شو کی ناہوں ےن کر 
ر سے کم ا زکم ایک ق کن یی رک شتم اس مر عالی می سکرے اگرمکن ہون کوٹ ی کراب جو1 فحضر ت کے کے عالامت 
وفضال میں وا لکو پٹ ے پا کوئیفٹش بڑہتاہوق انل سے سے۔ 

ہے مر یدمر:کےر ین دالوں سے نما یت مبت اوداداب کے سا تج می یآ ے اوراگمہ چہان مل 
کوئی بات خلاف شر بعت د کے پچ ربھی ا نکی برای نہرگمر ے اور الع سے ہب ضتونت نہ ہر ئے ۔ ہاں بخیال ام 
اروف نما یت ادب کے سا تحرم وشی میں الفا ظط بٹش ا نکوا ہش لک خرا لی سے مع کرد ے۔ 

4.... جب وید مندرہ می قا مکی حر تشخ ہوجاۓ اوراسل مقام مقدس سے جلےہ کے و سر 
شرسی کو رخص کر ے۔ تی وہاں نماز پڑھ کے دعاماگے اورضصرت کے سا تح دہاں سے دا ہو۔ ھ رتضور نی 
کر یہی او رجخووکی زار تحص ب مو کر ہے اوراللرتوائی سے دعاما کہکچمراسل درگاہاند لک زیارت ے 
اسے تحرف فر ما ے۔ علاصت سو لیت دعا اور یار کی ىہ ےکہ اس وقت ہے اتی ر1 گھموں سےآ نسو بد سے 
یہوں اوردل ٹل پا وصر تگھری جواوراگر دنو اس شس یکن پمیر عالت نہ پیر اہو وو حکلف اپے اد پر ال 
عا لم تکوطا رگ یکر ے۔ 

ے.... پھر جب اپ ون۲ نکی طرف ےت دہاں سے بج جا تف اپینے ا اب داعز ١‏ کے لے ہھراہ 
لات نر ےا ب ذعزم اور یز منددرہ سےمجود یی ۔ پھر جب اپنے شر للا جاے نذ چا ےک کھر جانے 
سے پیلے جس دک کے تر یب ہواس ٹم جائے ۔ دو رکععت نماز پڑ ھ اور خدا ۓ تا یکا شحگر او اکر کہ اس .مت 
سر سے فائ کیا۔ بعد اس کے اہ ےگھرجاے ۔ بچمر جج بگھ ری لک جا ف دورکعت نماز پڑ ھے 
اورایتھاٹی کے اس احما نی مککادل ےشکر اد اکر ے۔ اس مبارک سفرسےلو لے کے بحلد ہہ چ ےک میں تحجد یہ 
برکر گا ہوں اورلذ بیج اکسی اور کے ساس ےی ۔ بلدو وذ برجونضرت سرورانیا یچ کےتضور یس ہوئی لہ ای 
ام رکاعز رتو ق یر ےک ہیں ا ب بھی اس نے یکونہ تو و ںگااورتن توا لی بل شانہ سے پرمماز کے جع خصوسا بع نما زجج 
دجام اکر ےک رای بھے اس تو یہ پہقاغم کواوراپٹی ناف بایدں سے بااود اف یاں بردار ات دےاور 
ایمان پر رانا ضصفرما۔ 

رے سلافاے را صھس ےض وت عفان سے ٹر حاللت یل 
او اورولل میں حرت سید ال رک یئل کے اتا سن تکا شوقی پیرا ہو جا اود یاوائل د نیا کی محبت سے ول سرد 
ہو جا او وآ شر ت اورائل دی نکی ۶ پت ول ین ما و ہاہے۔ 


48...ےج 


ادف 


2-77 1 نار عا وا ۳2) 
انماضی تکوائی نو تک ض روز کیو ںکیں؟- -سمھم ولا ناعلا الد بن نددیی 8ا 
الام او....کقرواراد اب و 
چا ک0 مت نضرت یرم یی شا وو 
۱ مرزاقاد یا اورایس کے اپ ت ےصطذ 
١‏ وھ سال مویہ ٰ سیدسلیمان ند وق 
مم حا 'اورمرز الام اتاد یالیٰ موا ناس رق راز مان صفرر 
مرزائی ا کو مان کت ہی.٠‏ یا 
گلرانرڑکیں ں٥‏ ھوڑ ناسیرمنضیسن چان بر 
گ موکووا درقادیانیت - : 107 


ق رآ نکری یلےافطربو ا پاتفقی مطاَم ےڈا کڑس را۶ از 
ونس ...مکی ۱ 002 
کے ر0 سو ای یہ رہ یں 
أ ول نا عیدالل تپ او ملززد لت عللسلام سط سن شا برق 
ھا عززاتیکابڑھایا.....او رامش قکاسیایا-سمھول ناعنات الم 
ْ لا مامتا دبا کی بدد یا . “ولا ناالشروسایا 
پت . اداد بین چرزادہ 
مر سکاخدی داصطلای معالی اورائ کی شرائیا وسزا مضتی عقوم خان ہار دی 
7/707 شر رت وارویت[ 















00010000 مو اڈ اکا یی سراع 
لا ہوری مرزائ اف رکیوں ہی ں؟* مو نار میسن چا نر ری 
انسالی مخ اورقادیانی بقاعت وٹوسمٹو رات میک 









کم یکا رھ تم مت اٹل