Skip to main content

Full text of "Munkireen E Wosat E Ilm E Nabavi (sallallhu Alaihe Wasalam) Ka Ilmi Wa Taqhqeeqi mohasiba By Allama Muhammad Munawar Atiq منکرین وسعت علم نبوی ﷺ کا علمی و تحقیقی محاسبہ از محمد منور عتیق"

See other formats


اتا ناما 2۵ھ .2722 سے 0 


ملاسلا فلا را 02۵2۶ 


و و 


(۴نا) ۸۶٥٥38۷٥أا‏ 5۷۲۲360۸۰۲۳۱۵ 





نام تاب: 
مولف: 


رال: 


کنطباعت: 


مگ رین ذسع ےیل وی کاملی ہشفقی حا 
علامہصا سج زادہشرمنورتتیق اضل رشن 
سا ا تر شی 

علا ریغت لیا رضوی ان 

علامہٴ مفتی وم خزالری 

علامرصا جزادہاصررضاالویق 
علامگبرالقادرالتادزق 

رجب ال رح ب۲۳ ا ری مطا ۱۰۱۳ء 
رادائل النع )30٥08000661(‏ 








(م لت یکرریں) 


مم ارڈ الین الرتیم 





ے٭٭ 
اماپ 


بی ا پقی ان کا کو دن اسلام کے انیم رخائول ادتقا ئل تھربستیوں کے نا مرکرتاہوں 
ج نکی پیک ںاون تال فرامؤ فقت کی بروات یھکم دین کے دوتر ف یکو لے 
مرے والدتمور برع یقت حخرت ما رٹ رعہر اڈ قتججنری 
دامت ب رکاتھم العالیة 
جنپوں نے شو مان مرے سی یس بوکرا سے ملک ال سنت کے ودک پل دیا 
اتتاذالاسا تام مق ل وا مو ل یا رگا رساف علام خلا رق ضسوی 
دام فیضه 
نک_حیت یں روک ریس ن مو خقا ند فغراو رت کی پیا بھائی ان کے پاتھوں دستار 
فخسیلتکا شرف پایاادرسلسلہ بن بالی وش رآباد ےضہد لنرک سعادت حام لک 
سا زی انز ایرث رای سو لپن سیدی دہف 
جنکیعلیتر بی سے جامداسلام رت سلطا باہوڈرسٹ( کے )گے یماییچارمال 
گز ارک اد علوم مھ اورغزالی ز ہا ںکٗ شی تضورعلی ال رم کے نام اورکا مم شناسايَّہوئی 
استاذی ازم ماہ تقولا تمضتی بارش القا دریی دا لہ 
جنہوں نے یلوھج ٹس اور تقولا تس فقدم بڑ ان کان دیا 
تخرال د رین مار ریس ححضرت علا رد بن سیالدی مرظلہ 
کےزمرسا ہجام کوشا (ہجلم یش باغتءاصول فا نلی یں امتذا کیا 





۵ 

اظمارتگر 
یں ملک اسلام تحت علام یتال ال نشی دا مضہ( ما رو کے ))ءامتا الام 
رت علامہ مفتی الیاس رضموی اشرنی دامت برکانم العالیہ ( تم نطرہ 
اعلومکرا تی )ءحضرت علامہمفقی وم اخ المد کی دا لہ (رک دارالاقًأء فضان 
شریعت .یلال ولف ٹرسٹہ.کرا گی ) اددعلام صاجزادہ امم رضا سال را مہ 
(دیں جامت ظا ملا ہو )ای رقلب "مگ ہو ںک انھوں نے اپ ےگراں قزر 
وت سے فرصت نف لک ا رسال ہک نظ انی خر اکر می ری حوصلافزائ یکی اورمنیز 
مخوروں سےنوازا۔ می مرش غلاكی تضورضیدری جاج الش ریش اش رضا الا زہر 
دامت پرکانتم العال کا ابی شک یہاداکرتا ہوں جنبوں نے بش مقامات پ می رکف 
ریتمائیف مائی .با لا خر یش برادرکر ححضرت مولا نا حبدا لا درقادرگی دا مل( کاٹی) 
افص یشک ار اکر ہوں جنہوں ن نکہوزنگ سے نےکرطباعت کے مر لتک 
مرا پوراساتھ دی اڈ ج نکی منتوں چوں کے اخ رمیرے لے بیکام پان لک 
پیا ٹوا رتھا۔الثرتوالی ان تما لعلم کے فو دیکات شس اضاففراے اوران 
کیامسائی یکول مر کرشم دای نکی لا نون سے ہمکنارفرمائۓ ؟آمین۔ 

الاک رفاء 
انتا بکامالی خھ ری دالد ہت مادرم جوم ختار پاب انی کےائل خاندنےل 
کم پرداش تکیا ار نکرام سے التمائل ج کہا یکنا بکو پڑت وت یں 
شزوزانی دھاوں پا ہرگ - 





3 
ممولات 

تق زا تعلاء 
سو صف کے بارے مین 
تید یکلات* 
مقتصدراول:امام ا ررضاعلی ار یکا متف اورطریتامترلال 
تحقیقات اما می شان الفرادیت 
ماماصرضاعليا/ یک اتیا زگ طرزاترلال 
مریقہاخا تم مآیات 
ولیضیںپ لو وا ٠‏ 
قو ل خی کے از 
آمتتیان )”کا لا ضالیں 
صاحبآفیرتیان الٹآ نکاموتت 
چا ین فی اور بین میں فرق 
خاش نکاا جا عی عدودش اختلاف 
تقو لکم وش مان ٤ے‏ 
امام ات رضاعلیرا رم کے ۴۳ت فکاخلاصہ 
دع اکی جامعیت :ناشن کے ہراعتزائس کے پان جواب 
مل بح کی چا الا 


۲ 


۲۳|| 


۲ 


ای 


۲ 


"۳ 


(۸ 


لگ 


۵۳ 


۵َ 


۵۸ 


۹ھ 


٦٦ 


اه 








۲ 
۲ 
ئ 
۲۳۴ 
"۲ 
۲ 
٦‏ 
ع 
۲ 
۲ 
۴ 
۳ 
۲ 
ات 
"۲۳ 
۵ 


۳٣ 


2 


امام کےاستقدلا لک انفرادی تک ایک اورال 


فاتدوا: مق مات“ ملمہ پیٹنی ول 

متصددوم :شنگر بین کے۴ شبات واعتزاضات کے جواب 
ذال لالم : 

فاکر 

٣داپ‎ 

ذائدہ۴ زع مکامت مصدریانتزا یق 

نامد و۵ لصو ترآ یک اقام 

٦٦ہرکاف‎ 

انی فائدردے جلا القلو بکب اورکیو گ کی ؟ 
اد۸ :سیدامر رزٹ یک لی رسالی لگیا 
ناکرہ۹:سیرزلز لا کایان 

یم سب الام 

أْرٰہ+ ۹ 

١ا١ردکاڈ‎ 


مصعنافبوت 


ذ ا١۱۳‏ 


ب بت جا تتامٹل ول 


۵ 
۸ 
۹ 
٦۹ 


اے 


اھ . 


اےۂ 

اےۓ 
وص 
٣ے‏ 
۵ 
ےے 
۸ے 
۸ے 
۸ے 
۸ے 


۹ے 














٢اك‎ 
۲ 


۳۹ 


2 
۲" 
۳" 
۴" 
۵" 
۴ 
2 
۸" 
؛۲ 
۵۰ 
۵۱ 
۵۲ 
۳ن۵ 
۰.۸ 


۵۵ 


غیبکآحریف 

فا٣ا‏ :نف عبارات اکن 
فائدہاضب تیم نی بکتتن 

گی مک1۵۸ 

ا٦٦دگات‎ 

ناگددے :را رزگ کےرسا ےنام 
اظہارنیب وناگد۱۸۸ 

اساءالنی لی ال مل ےم 

عالم الغی بکالتب 
فائد+۱۹:عالمالقیب پالطاء 

عالم لیب اور 

٣+ ڈا‎ 

٢اا‎ 

فنائل نی ء کےاتقبارات 

اصد۲۲ 

ند۳۷ ینف پجض میں فرق سے 
ادہ۴ اک پجی ء کے۵ معانی 
فائحد۵ہبھلماا وشن والآخربین امن 
ذائحد د۲۹ :ازل وابدکاسی 


۸۱ 
۸۲ 
۸۵ 
۸٦ 
۸۹ 
۹۰ 


۹۱ 





ے۵ 
۵۸ 


۹ھ 


٦آ‎ 
کن‎ 
۳٣ 
از‎ 
۵ 
٦ 
٦ے‎ 
۰۸۸ 


۹ 


اءےَۂ 
۲ 
ث2 


ف2 


علم تتای لی منرعر 

ناتدہےا:رب زدتی علما ال 
شک 

فدہ ۲۸ب دای وضروری میں فرق 
تھتمماوات 

فامد ۲۹۰ :تام ذرات کا م 

ناد کچل اباب ١‏ 
را 

فار۳۲: مم ٦‏ شیتحمولی ہے تتخوری 
تژ([3٣٣۳‏ 

صصح بالا نل 

فاحد ۳۴١‏ :ف یی نشرک کے ابطا لکا رت 
فائدہ ۵“ :نشرک اش الات حقلی ے 
نا٣۳۷‏ 

عل ما سب وم ول 

جن یا تٹکاادراک 

ملق پان 

نے“ :علق اصو ونحفی میں فرق 
ام۸۵ جک خیب طل قیخعیل 


۳ 


۸۳ 


٢ 


(۸۵ 


۸۵ 





۵ 
ۓ٦‎ 
22 
۸ 
۹ 
۸ 
۸۱ 
۸۲ 
۸۳ 
۸۰۲ 
۸۵ 
۸٦ 
۸2 
۸۸ 
۸۹ 
۹۰ 
۹ 
۹۰۳ 


۹۳ 


نار ۳۹:سیریرزاپرکارڈ 
نرہ 

اد۳ 

لت وکقرت 

فی پذرت 
ر۳۲۶ 

عموم سلب سا بکگموم 
اكد۳٣‏ 

۳۳۷٣ان‎ 

تائر۳۵ 

اییاب جزئ یتیل 
رہ٣٦٣‏ 

سب جزئی 

٥ےدکان‎ 

چ کین ایا ب جزئی 
فعلے وداتءرش ری 
اظبارتشع 

ا یدرا "- 


ڈاگر۳۸ 


٢'۳ 


“۳ 


۷۳ 


م۳ 


اسلا 


۵ 


٢۷٦ 


۷٦ 


ےا 


ےا 


ےا 


٢۷۸ 


٢۸ 


۷۸ 


لا 


۴ 


۳ٔ 


٢ 





لیہت ھا تھ ےس سط تھے _ےۓے 


۹۰” 


۹۵ 


81 


ے۹ 


۹۸ 


3 


٭ا 


ا 
ڈاکر ۳۹ 
نعلي)امرن 
فائند٥*۵:‏ را شیارکاصی 
ڈاکرہا۵ط 
اننامآیت واملفلی سی 
زرل عم ۳م 
نیا ن‌طاری 
ناک۵۴ 
ڈار۵۳ 
ڈاتر؛۵۳ 
ذاندرو ۵ۃ تضوسلی ایلعل ہیل مکانماز می ہو 
ایل پڑی 
ائبات جل مکی دی لک فی پل 


عم اصاء عم 

نکر٦۵‏ مج ں یرتا یکے؟ 
ڈاتردے۵ 

وت 

ڈاکرہ۵۸ 


ڈاکر۵۹ 


٢١ 


ا 


۳ 


۳۲ 


۲۲ 


۲۳ 


٢۳ 


سد 


نل 


۵ 


۲٦ 


٦ 


۲٦ 


۲٦ 


صن 


ضر 


چ 
*٭ 


ستت 


“۳۴ 


غ 


۲٦ 


ا 


۲ 


۹ 


۳ 


زس 


٦٦0ر‎ 

۷٦اہرکاڈ‎ 

شعن ول میں رق 

۱ لی الائی سکیا علی یلم او اتابہت 
ڈاک ٦۴۷۰۷‏ 

صن٤اوراخا‏ ل لاف 

٦۳ر‎ 

انکارقول داثاریقت 

٦٢ہدکاڈ‎ 

عم یانعد امش 

٦۵:رکاڈ‎ 

لمکا یں ١‏ 

اقرل انی 

ن قعرغ جال 

٦٦ہدکاڈ‎ 

عرش اعمال ودروشریف 

ڈاکدہ ٦‏ : 
فاحد۱۸ :ایک دددہ پا کگیار دا نے 
فا الی بک 


صن 
۲ 
"۲ 
۸ 
۲۹ 
۳۔ 
۳ 
۳ 
۳ 
۳٣‏ 
۳۳ 
۳۳ 


۳۳ 


ہت 


۳ 
۳۵ 
۳ 
قد 


۳ 








۳٢ 


۳٣ 


۳ 


۳۳| 


٢۴ 


۲۳۲ 


5 
۰ 


2 


چ 
پچ 


پا 


سا ہے 
4 


2 


م۲ 


"۸ 


"۲0 


۵۰ا 


نار ٦۹‏ 
لص یی 

کلام نیدی 
عمتبفرنقن 

ڈائرودے 

قتیطرز 

ڈاگرداے 

امردا 6م 
8یکم 

داجیا نی 

سوا عد حم مکی دم لئ 
مشاورت غرم . 

عم وی کے ذ راع 

فائد داع :امام غزال یکا مرف 
فضائل وعقائر 

وا ل خحسو لی عدور 

قان ین فص ۷اا ماع 
اصل اختلاف :کلماتکئرے 
اخنقرائی علومقےِ 


۳ 
٢‏ 
سن 
ال 
۳۹ 
۳9۹ 
۴ 


۴۴ 


٢ 

لا 

زا 

۴۳ 
۳ 
۳ 
۸۳ 
گان 
م۲۳۴ 


۳ 


۱ 


۳ه 


۵۳ 


۵۳ 


۵ 


۵٦ 


۵ا 


۸ا 


۹ھ 


۳۰ 
٦١ 
۳٣ 


۳٣ 


ہل 


۵ 


٦ 


٦ے‎ 


٢۲٢۸ 


٢ 


ے٣ہراڈ‎ 

آمعقا نار 

عدڈشن اورز کی 

علو مق کے این 

ے٥ہدکاڈ‎ 

متقصدرسوم :آ یت تمیان س تماق ۹اشیبا تکااکشاف 
ار یل نو واجب ہے 
کیں یی و رت 
موس پر اما غکاابطال 
ڈاکركٹ۵ے 

آعادہتائلی 

تل قرآن سے پیل راقعات 

فا رہ٤2‏ :واقا تک اتی نک معار 
دلا ل نل 

تی کی انی اعتارل 

قےزات م أفی لگ لئیء 
امورظیرتابی بافتل 

إذا جاء الاحتمال۔۔۔ 


وعلمك مالم تکن نعلم کان 


۵ 
سس‎ 
۳۲٦ 
٦ 
ئ۳‎ 
۸۰ 


ست 


۵۱ 
۵۱ 
۵۲ 
رن 


۵۳ 


۵ا 


۸ا 


علم امت 

ران میس ا تنعل مکیے؟ 

ڈاکرەےے: کلام الڈیقت تر رتٹںل 
لفناگی یٹ ہار یکا کا یگے؟ 

لفنٹی مکاصنی 

فائکد۱ ۸ے :لفظدگی ء کے٣‏ معانیٰ 

معالی قرآن خی رتنا می بافعل 

فاندڈے :علو ق رآ نک اقمام 

خی اکرن پل اث علیہ لم اویل معانی ق رآن 
کی رون ےا کول تاست 

فائددہ ۸ :ضو دی ال علی ال مکاروم دصال 
تیان کش مبالقنیاکیف؟ 

جامہ 


۹ 


۷ 


٢۳۳ 


٢۳ 


ےا 


٢۳۸ 


اھ 





اھ 
تق ریا تعلاء 
(ا)شچغ لیر یث واشنیر: استاذالاسا نز ہف قاوی رضرے 
ححضرت ملا مع زذزکبدالمتا رحی ری صاحب دامت برکاأم العالیہ 
اھ مات ء امت نظامی لا ہور 
ایٹالرنلنالرتم 

انل و جوان علام صا جزا اد مغ یھ رمنورقتیق ادامالڈ کا رسالہ دک بے 
انچائی خٹی ہوئ یکاخھوں نے ای شی موضو عکوپ ری مکیاہے گکربین وسع تیم نب وی 
صلی الل علیہ یلم کے شیہات وا تا ضات ا علی اض رکر نے کے ساتھ رات واشل 
موصوف نے ارام ال سنت پور تیم المرتبت الشاہھولا نا امام اتم رضا خان قادرگ 
علیہالارحم کے مد عااوراستند لا لکوگھی کو رپورانداڑ بیس جی کیا ہے بی رسالنددداگل انام 
ال سشت علیرالرح کی تا تکا خلاصہ ونچوڑے اود النمول''إنباء الحی انا کلامہ 
انَمضْرہ تیانالکل شی :“کے مضمامی نکائخزص ہے۔ جھ لقن ےکا کا ہدام 
ای سفت علیرال مکی روخ ہی ۔علا کرام اور رای ابی سشت کے اراس رسالہ 
سے کیساں استتطاد 1ک سک ہیں .الد تی اض ل نو جوا نکی ا سس یکوشر فقو لیت یٹ اور 
یں می جز ےےاورشو کیا تحدد بی خدمات مراضجام دی ےکا قوذ شی دے۔آمین بھاہ 
لی ککرم لی یلیم حاخطقبدالتارسیرل 

ناش تقیماتء جا مت زظا مبلا ہور (۹ك۳۱۳ء) 
(۴) امتتازالاسا تن وش العلیاء 
حفرت لا می طتقیھدال اس رضموی انی دا لہ 
زنر الو م.کرای) 


ا 





ےا 

مال نازتم 
فاضلکرائی قرعلا یجرمنو یق زادالع کارسال اگ بن وس پل تی کی 
ہق عا اکر چ ظا صرف چنزیفحات پشقل گرا ذراروں فیا تک مکااحاط 
کے ہوئۓ ہے۔ ای اھوں نے بی عحنت سے امام اب سقت مبردد ین وت مولا ا امام 
اتد رضافائل بریلوی رح ال علیہ کے تلتکغیب ےیخحل نگھرے ہو ےکی ذنی جواہر 
شا نکیل ایک بی تمہت کرد ہیں۔ یھ ا می کہ بی رسالرائلعلم کے علق مل 
متبول ہہوگا۔ ار تھالی موم زا منو شی کی ال سس یکوقول فرماۓ اورنھھیں کک ابل سن تکی 
مزیددم تک رن ےک ت فی عطافرمائے ہآ شین- 

مفتیھھ رالاس رغری ٹر (۸ضك۳٣۱مم)‏ 


(۳) ھی ملاسلا ححضرت عل یت الا ں )نشی داعت فدضاتالحالیہ 
نیشم جامتہاسلامیدونای (اظ ہا ہ جن جلٹریی درا لان کنشنل( کے ) 
دی ماوڈلیشن الرم :ما رآرسیارسد 

میرے زیرمطالہااس وقت ۶ز گرا بی قرمولا نا مج رمنو دیق ناضل دش نکی ای ککتاب 
”من رس تلم ویک علی دشقتی اب کا مود ہے۔ ا سکتاب یں نال 
موصوف نے امام اہلمت ار ت اضل یلو نشی افلدح نکیل خیب اور وسع تلم 
نی نے تھا ریو ںا لی پکری و اکمہ یی رما ہے اوران کےافاضات دافادا تک 
فر ا ہیں_ یزاین دسح ت پل رید کی ۹۲ ,لی او ری فللیوں کےاکشاف اور یاو اد 
پل یرت افرو تہ کے ریت ای کگراں قذرآرمفا نع پٹ کیاے- 

آ رج کے دودکا الیہ بی ےک یحم بین فضائل نیوئی نے ایک بد یی او عفن علیعقیءنظری 


٢ 

اودرقنا زع ادا اود گند وگ ری کے ذد یقاب نمروزکی ط رح روش وسح تملم جو 
اور پان کک فیپ شف حلاص 3 والسلاممکودھندلا ث ےکی نپا ککوشش لکی ہے جس کے 
مت می سعلم فیپ مصطئی پر پٹ ومن ظرہکا درواز وکھو ےک یکو کی ہے ج٠‏ ہآ قائے دو 
چہاں علی اقیۃ وانشاء کے وسع تلم خی بکاشحگ رق ون اولی اورق ون وع می کول ظرں 

کت 
موا نا رمٹو ری نے امام اہلسدت کے رز استدلا لکو بہت خولصورت انداز ے وات 
خر مایا ہے امام اہلسعت جملرأخی وکلائی مسائل پر اصوی ٹورف نوف ماتے ہیں ۔ق رآن 
وعدییث کے دائل کے سا تاپ ےق انان دع فرماتے ہیں جس سےصرف مت یلص لقی ہی 
پر اتد لال شر ہو پہراسعطرع کے سی مال بی یک مکی ان سب پر امتقدلا لکیاجا کے- 
مین صرف عقلیات سے بھ کرت ہیں ان کے تقایل جس ات اسلام صرف 
وی شرعیہ سے امتقد لا لکرتے ہیںگر امام ابلسد تکلائی اونفبی جملرمسائل یس پیل 
اصول ین ف مات ہیں اورپچنل ڈنل سے لال کے انبا راگ دتنے ہی ںکہمطالکرنۓے 
ولا ان کے وحم تھی اوھ رگکرکی پرہریرت می سفوطہ زان ہو جا جا ےہ وی اٹواز اور 
اسلوب استدرلال ے جومتوطین سخ اک ران ع لی ءا خزالی علاملقی الد ناج اور 
متاخ بین می مہردالف ال :شاد وی ال محرث دبلوئ یپ الرضوان نے ایا رف ایا ےگر 
امام ات نف ذظ تے ہیں :ایی موضووات پانکڑو ںکتا یں موجود ہیں ان پراگ راع 
حر ت کھت ںازا انا ےکسا نہوں نے نی اورا نی :لی اتکی ہے ءانہوں نے جس 
خنوان نم ٹھایارہے اےھنزلکما لکک پیا دیاہے اد رتا رگ ال با تکااختزا فکناے 
کہا سے جنر اتد لال الکن ہے ددانے فک رکی اس طرح وضاحتکرتے ہی ںکہ 
تمام مسا لکائل بہت دانع طود پر ساٹ ےآ جا تا ہے وٹین اوراشین کے ولا لکاقلعہ 


٢۹ 

خوددیافیرفرماتے ہیں او پچ راپ دا لکش سے اسے یذ وریز وکرتے ہیں۔ 
مول نمو یی نے مگ ر بن وسعم تلم نبوئی کے دلائل واہ اف لکر کے یغاب تک دیاے 
کرد دلو کیل مرب میں جلا یں جکا کی علا تع ہیں: 

پر لکہنداندوبدان رکہبداند دریجمل رکب ابدالد ہربمانر 
امام اہنت کے رز استدلای سے استتفادہکرتے ہو مولا نا موصوف نے مگ رین 
بسح تیم نیدی اوریلم غیب بی علی اق والشاء کے زلات بفوات غخدشات تجہات اور 
اعتراضات کس پٹ جواباتت یف رما ہیں ۔امامابلسدت علیہ رح الرضوا نکاطریت 
استدلال اس اختبار سے بہت منفردجہےکہدہادٹی سے اع پر دینل ا ئ مکمر تے ہیں مال سے 
طور بر صیات شہدا سم ہے تشہد وکرام وہ ہیں جنہوں نے تر اسلا مکی اون علیہ یلم کے 
دن پاپ جانیں ق با نکی اگردہ زندہ ہیں ناس ذا تک حیا تکاکیاعالم ہوگا جو د ین 
نےکر جب شین پر جائن دہیے وا لے دہ ہی تو ج نکامشن ہوا نکی حیات سے انز 
یکن ےب : 
جنا بآم علیہالسلا میم اساء سےنواز گیا اورق رآ نیم نے ارشادفْربایا(:وعلم آدم 
الاسماء کہا 4اا ءکاوجو زسسیات کے خی لکن ہے اور جنا بآ دم علی السلامبصرف 
علماساءجییس عطافرما گیا بیع قامتکک چردڈٹی ٹس پرا کا اطلاقی ہوا أشمل 
علم عطا فا گیا چنا نیمفس رن نے بہت دضاحت کے ساتھف یرف بایان ےک 'علم آدم 
الاسماے“ سے ھرادکا حجات کے جملہموجودات الن کے خواصص الع کے اش رائ متا صیدر ان 
کی ماہیت اع کے فو اد وفتصانات اوران کے اث ا تکا بھ خی عم عطافما گیا طاحظہ 
فم ]میں مغ ردات فی خراتب اق رن علامشہاب الد می نآ دی بقدادگ رش ابٹرعن ےا١۱‏ 
6 ای آی ت۷ر یم ےنت کوبت سے مس رین نے افو اف کے کے بد اکا 


:7 
خلاصرال نول بس بین نر ماتے می کہا سےتمام مو جودات عال راد ٹل اور یدگ کہا 
گیا ےکا سے مراد جملہاساء ما کالن دا کون یں ۔حد بیث شفا ح تکا حص انا گر 
ایز رج 
”انت ابو الناس خلقك الله بیدہ واسجد لك ملائکته وعلمك اسماء کل شيء 
فاشفع لناعند ربك“ (باریریف) 
ش لا دی جھ ہرکی نے خی لاہ رجش ال آبی تک وضاحت اانأفلوں می ںکی ے: 
”سخرت لە السموات والارض والبر والبحر والروض والقطر والحبل والسھل 
فعلم الصفات وخواص المخلوقات“ 
زی صرف اسا کا مہشی نیس دیاگیابمہ بردبکرپھحراء وکستالن پا وں اور داد یو ںک 
ان کے لن ۓے کرد امیا او خی رکانجات کے بعد اسماء صفات اورخوائ پشوقا تکاعلم عطا 
فرایاگیا۔ 
امام اعت کےط رز استدرلال سے استفادوکرتے وت کہا چاسکتا ےک جب جا بآرم 
علیہ السلام کے وع تی کا عالم از رآ دم دب1 دم فل الرسل خیب ٹنم سیرنا 
ررسول ایل کے دسح تی مکاکیا عالم ہوگا جن کے وسحم تل مکی شہارتت رآ ن پا کک 
درتز لآیاتباددرےری ؤں۔- 
مولانا ھتوی ادا رعلرہ نے امام اہنت ک ےط رز تتد لال ےمم اذا د کرت 
ہوئے الن کے دلال دبرائی نکو ہت دامع انداز سے اب لیعلم کےساتے ٹپ کیا سے جے 
لقن ےکم کاب ال بابک لن ایک کی رتفطابت ہوگیا- 

: اکسا رق الا ں نشی 

ٹر جزل درلڑاس بیشن ما ٹسٹرافلینڑ )٣۰۱٢٣٣۷(‏ 








۲١ 
نام : مھرمنورتیقی ول پیر ررقت حضرت علا مج عبارڈ شی لقن رگء دربار عالیہ‎ 
زاہ رآ اشریف بی نیل چ ہویش کو یآ ز ای زمتیم مھ رانلینڑ)۔‎ 
پدال: ۵۸۵ ءیگم و ے۔‎ 

عم. پرائرکی سکنڈرری (افراء اسلاک سکولء رے لس نظائی جامعد 
اسلا می رت سلطان پا ہوٹرسٹ ینعم ء لو کے ۲۱۹۹۸ ۰۵ء درج عالیہ زشي 
۳۲ ۲۰۰۳ء (کلیة الآدابء جامعة دمشق ؛ تخصص فی الفقه معھد 
الفتح الاسلامی)ء مکا ۔ادیان ۱۰۰۸ء( کمررج لو نیوہفیء ای کے )ء اگ 
اےاسلامیات (9100168. ۱51۵۳1٥‏ 1۱۸۸)ء۰۹۲۳۰ء(یگم 
یرٹیب کے )نحص نی الفتون ۰۱۸ج ۱۶ء( جا مشاہ جملم )نمی لی 

الفقہ والا ق۱ ۰۱۳۲۲۰ ء(دارالعلوم ایی مک رای )- 
اسما مز ھکرام: اتا العلساء علامہ خلام مم تنسویی (فاشل بندیال شریف بت 
ایر یٹ علامہ رسول پنش سعیری (خاضل جامعہ نظامیہ لا ہورء علامہعبد العزی 
ٹیر ی نشی (فاضل جا مد رضو یف لآباد)رمفقی یاررالقادرى (اضل چامہ 
فقامی)رمطتی پاکتان ححفرت علا رطق ذیب الین (دارلعلوم انتیمیہ کر اہک ٠)‏ 
علامہقارگی امیرچشی از ہرک (فاضل امت الاز ہمھ ) :طحخرت علامٹرد بن سالوی 
(زفاشل بندیال شریف ءاشغ کش ابوا ہد الیتقو لی (وشمن الشام)ء ات عدنان 

وروش (ؤش ):علد ریغت وع اخترالدنی( کرابت کونیرم- 





۲۳ 
اچازات علوم وسلاگل: دالرى .اہر طریتت عا خر کر اب قنتقجیری 
(خلافت سلمہ یتقشمزدی)ء تاج النتماء شاو عبدان بندیالوی (خرقہ خلافت سلملہ 
صابر یراحدادیداجازت عد بیث ند بای شریف )ء شرف لت علامہعبدای م شرف 
الظادرگی رجمہ الل( احجازت حد یث مع وکالتء خلافت سلاکل ۳ء پی طط ریت ت می 
منظوراص أیشی رص ال (اجازت عد یث )ہنا ج الش دی یھت اخ رضا ان الازبرگا 
فق رف وت ےک اض شی 
(اازت حد یٹ )ء محر ٹ جا السیرحھ بن علوکی ماگ کی (اجازت عدیٹ ) :قب 
الاشراف السیشھ فا انی ( شی ءاجازت حدیث )ہالسید مالک الف الموّی 
لم نطب ءاحجازت حدیٹ )ءالسیداورلٹس اکتالی بن چخالاسلا مہب ن‌چنظرکتالی 
(مخربءاجاذت عد یٹ )ء ابد الین اکنا بن حر ٹ الال رکبر ای 

اکتانی(مخرب :اجازت عد یت فیرتم۔ 
کت و اک ارد ری اوراگر :یی میں متحد یا کہ گے ہیں :جن یل 
سے اکشر ا نکی ویب ۔رانٹس پر موجمد ہیں- چن یہاں دک رک جال ؤں:الفتح 
القوي في أسانید الشیخ علي السندیلٰي(۶ لیءوع)ء تقاربظ 
علماء الشام القذیمة علی الدولة المکیة (۶ یٴء' طوعٌ)ء مل انخلیت 
سیدن ا کرصد لی شی للع اورصیک اھر ت (اردومڑ +وغ)ء 1٥۸13۲1‏ 
710 اہ ٥٠٢ ا٦ 1١ 016٤6‏ 3283'5 ۸۲308 
(اگری یی مال رس وضوع: امام ا رضا علیہالر اور دفاع تو لی واعتقارلٰء 


٠ 
م۸۱۱٥‎ ٦٥٥٥٥ 801 ۰۱۱٥٥۸٥٥ ۱٥ ۱۷۸۶٥1۱۷٥۱ مع ء‎ 
0ب5 ۸ : م[۲۶5 3ا١3 51ا۱5‎ ٤ اا١‎ 5٥ہو آدءااام3‎ 
ط۸ ہ٥ ہ ا۷۸ (گر ری‎ ۲٥٢:٣٣٢ ا٣‎ ۲3۸ 080 
مقالہ برا ائ اے اسلامیات م وو :خطیب بفدادیکی جار بقدادٹش اام‎ 
لم ابوعنیف علیالرحمہ کے تر تھے کاشققی تقیدری جائزو خی رمطبوغ)ءمتلہامکان‎ 
کات آور ار ت کا تلھی حاشیۃ الام (اردوتقالہ مطبوط ناہنام الا‎ 
ا۸ہک‎ ٥و”‎ ہ٥‎ ٤٢٥ ااٹرنیدءاٹیا) ءروذاہ٥٦١ ۸٭د٭دہنا‎ 
ھ۲٥٥۵‎ ٥.۰ مہ8 ٢١ا٣ ہہ‎ ٥ ۵ص٥‎ 
(اگریزی مقال مضوع: مت کے بارے میں علاء‎ ۴0۷۸۷۰۱۵6 
889165 ۲ اسلام کے مواقف اور دائل انیقی ولقی تزسی, مطبوغ)ء‎ 
85ا3۵ ومادابعامہ (انریزسی منالہءم ضوخ: اوقات‎ ۲٦۳ دوہ(‎ 
مازنا لے کےط ایی ؛ خلا 'رجنما تو قیت کون ر-‎ 
تم ىی مباحث وماظرۓ: ”اما نکذب'“ (گر یئ باب داوبندل‎ 
ککگر )”اتا نظ (اگری :کیہ جواب دی ہنی مک ککگ رع نف لن‎ 
رآبادی اوراساچیل دہلوی“'(انری: یہ بجواب دیو ندیی مک اگ ر)؛”'اصو لگ“‎ 
(اگریزی یہ تج کی تقیرات وتاقات نجواب مقالہ ش و تمگر) :”دقع‎ 
الشبھات عن علم.أعلم المخلوقات“ (جابات اکتراضاتء داویندلی‎ 
میکل)۔‎ 





۲۳ 

ھی فی مع وفیات جحقی شی ری داسلئیکنب (یو ور لآ ف بحم سے 
۹ ۴۱ء۶) ء نر لیس اللۃ الحریی (مائس ء ریس درس نظائی (چامد 
اعطامیہسلطان باہوٹرسٹ, ب نگم )ء لو کے بج می ںیقی سفرہ ہغتہ دارگوائی در 

(۹9ں۵۸00۲م0)ء خطاب ت جمعت السبارک بر یکپ وررال- 
ویلسا ٹ: ۰۱۰۹۷۷۷۹3۲۰ ۸۸۵۸۷۱۴۲۲۲۱/ ۴۵۰٥۵۱۱۴۸.‏ 
؛× ۲٥۹٠٢١٢‏ م ۲۱٢۴.۷۷٢٥۲٢‏ ٢٠١۱ء‏ 5 . ۷۱۷۷ ۷ 
٣ ١٢ ٥‏ ٭ ۱١ ٢‏ ط. ۲۱١٠٢۹ ۲٢۰ 6 ٥‏ ۰۶ ۷۰۷۱۷۷ 


۱۷۸۷۱۷۷۷۷ 3۱۷001-016 013.60.۴ 





۲ 
مع ماللرالتنارتم 
تیدر لمات 
الحمد لله رب العالمینە والصلوۃ والسلام علی أکرم نبی اأُرسل بباھر 
الآیات ومحکم البراھینء سیدنا محمد جامع علوم الأولین والآحرینء 
وعلی آلە وأصحابه قادة الدینء وبعد: 
اسلائی مقائدکا ایک ادن طالب_لم ہہون ےکی حثیت سے اختلا نی مبانل 
اخفقاد میں نظ رب رکرنے سے بے بہت دگبی ہے؛ ا کیا ایک ومرق بی ےک 
اتا مسائل مس یکول ری کک چان ےکی مو این کے دن پش 
دمفارغبراوراپے زگوئی سے وٹ اعتراضات کے ذر ہیتےق نکووات کر ن ےکی ماش 
شی تاکز دصری یہ نیا ٹول ے ارذ 
انزیی ٹ6 ۴887ا پر ملک ابلی سفت وجماع تک ع ری اردداور نر گی مٹش 
ت رخوم تک ن کے سعادت عاصل ہے اددارٹی دیب اٹ 
سا [.۱999 ۸۸۷.۷۷۵۲۵ (۵۲9 ام 7ہ ۷×صہہ: 
۷۷۷۷۰۹۰5١۱3۲5 097.5|69360 7 ٌ‏ 
بھی مفا ین یرکرنے سے برار اڈ دلو ںیت ای سن تک طرف 
مورک رن کا تیر ہنی حاصل ہے۔ اس عرصہمی لپن ال عرب دی بندی طلبر 
دعلا فی ر یٹ ری مکالم ہی مصردف ہو ےجس کے نیج مم فقیکوا تنا طبر 
امکا نکذب اورست گٹمروظیر ہا ھی موضاعات پراکٹر نگریدئی زبان ہی مٹں 





کی 
علماے ال سنت کے نظ ریا تکی تر جما ‏ یکن ےکی سعادت عاصل ہوئی ان مال 
میس آیک لہ وسع تلم وک صلی ارڈ علیہ ول مکھی ہے جوم پٹ آیا۔1 207ءٹش 
فقیرۓ پایس بڑےصفحات نل یتیل تالہآہ ٭ول٥‏ ا۷ہ کا" 
'روہاہ٥٦٦‏ ہہ٭کھلا ١٦ا1‏ اضر پت ریکیا یس میس شم راس کے 
تیم محرث اورقطلب السیرھ بی ن شف اكکتالی رت الل علیہ (متوئٰ ۵٢۱۳ھ‏ ) کی 
کاب ”جلاء القلوب من الأصداء الغیلیة ببیان إحاطتہ صلّی الله عليهَ 
وسلّم بالعلوم الکونیة“ (واو ںکو نا تواہشات کے زنک سے سخ راکمرنے وا ی 
کتتاب ان متلہ کے بیان می لک ہآ پ صلی اللہ علیہ مکوقیام علو ما سنا کا احاطہ 
حاصل ہے )) کے ام مضا ان اور صلی رت امام ابل سنت شا امدرضا ان قادری 
رر لعل یہکی تحددقہمانیف و جیادی تھلسمات اوردید ہنی علا کک ریات وموتف 
یزمتلی فی بک ا نان واجمائی عدووکودات کر تے ہے ول مواتین اشن 
کے تار فک موق ملا ا ںین کا خلاصہ بتاک نظ رییاس متلری امام امر را 
مالس دا ل کیا تھتکمبندف میا دو دی نظریہ ہے بے اما مکنالی علیہ ال رھ 
نے لاہ القلوب“ بھیفشنکاظریقراردیا ہے۔الدلل ی مقالی نول خاص 
دعاخم وااوائگل ایا نکیلے با ع ٹین با ںی دو بندی علاء نے تصب عادت 
ے ے ‏ ہر گے جواب می ات کیا 
س٤‏ ۴ 
”دفع الشبھات عنغلم 7 إلمخلوقات“ 
٥٥9۶(‏ ا۱۷۱ ۴۱۹6 (۸اا2د50ا5) 


رکھا۔ بیدوفول متا نے می رکی دیب ساحف 
0013151011.۷۷۵۲۵0۴657>. ۷۱۷۷۷۷ بی ۱ج د یں۔- 

اللہ جب میرے جابات اوراعتراضا تک جواب اشن سے نین پڑت 
ریا ےم ایگ باتک لکرنے کےانہول نے ببت سے پپپلوو نکو ایک ساتھ 
چو یش یش کیاکی بھی مستلہ پرسی رحاصل پٹ نہ ہد کے۔بہرحال ی ان دو 
مقمالو ںکوکیتے وقت اعگیحفرت ینم الرتبت امام ال سنت رحمنۃ الل علیہ کےنظریوکو 
تفعیل ےکم بنرکرنے میں ا نکی پا تصائی فک بخورمطال نکر ن ےکا موتع مااوردہ 
ڑا: 
”الدولة المکیة مع الفیوضات الملکیاک "إنباء الحی“ ”إنباء المصطفی“ 
”حالص الاعتقادإ اور ”إزاحة العیب“۔ 

نے ان تصاخیف سے امام ام رضا علیرال رض او شقن ال سشت وجماعٹف 
: کاعقیواوردلال اپنے دوفو ممقالول یچ کے ؛اس دورا ن ایک ضرورتیول 
ہو یک امام ام رضا علیرالرمہ نے مان کے اعتراضات کے ج جحابات ان 
تصانف ام بنرفرماے ہیں ا نکویکچاکیا جاۓ اک شائقن کے لے ایک یز 
ہوہاگلغ ٹل نے یرہ لاقظا ٹل الٰقال چدگنؤ مل زجب :یا ررش 
مفیراضانے ٤ے‏ اور کی عحنت کے بعد ائ لم کے ساہتے ٹین سگرن ےک سعادت 
جا لکرر ا ںاکول کئی ہ ےکا مار دجھ اٹھکا جائے جن سے 
ہار ےلین منلہ وسمتیلم خی می کش کرت ہیں کن اکر دجوداام مد رضاعی 
اوح دک یکب ہی سے یئ ہیں اکر شض م تر الا فاشل سی رئیم الدبن 


۲ 
عرادآباد کی ”الکلمة العلیا لاعلاء علم المصطفی صلی الله عليه وسلّم' 
اورٹنس دنرعلا ۓے ال سو تک یچ مروں سے استفاددگج یک امیا ہے۔ جھے امیر ے 
کہائںطلر کی کا وش اپ فذعیت می منفردہوگیء واللرتھا لی نم- 
ا ل ریہ کے تمددمتقاصد ہیں : 
(4) حضورعلیالصلؤ والسلام کے و علوم پراخت را کرنے والو ںکا لص نی 
فی ھا جک تحضورعلِ اصلو والسلا مکی شا نع مکوا اگ رکرن کیا تین کے 
خنائزک یکا اکشاف ہوجاے_ 
(2 )امام ال سنت صلی حضرت الاو احدرضاخخان قادریی علیہ ال رحم کے مدعاوموقت 
کاننارف اورطرق استندلال وط رق دخ اعت راضا تکوا اگ رک رتا اع کے ہہت سے 
مالین ان کے موق فکونہ پت میں اور ہے ہیں جس وج سے دہف یو ںکاشکار 
ہے یں۔ 
(3)اماضرغا علی ارح کے اس موضوع رھ ر ے جار پادوں او نیا اکرلوکھا 
کرنا اک یتھوڈڑے وفت میں تقارکی نکوتنلیمات امام ام رضا علی٠الرمہ‏ ےگورپور 
ڈاکروہو- : 
(4) تقا ری نکو خیب ہوک۔امام اتد رضاعلیہال رح مکی تصای کا بخورمطال دک یں اوز 
کیشن لک ی ںکہاول جا خر نکو پڑھی پھر ان میس اب لم جحقرات اس رسال ہگ 
طر حکئی اور را لت ریف ائئیں جن می امام ام رضا علیرالرحہ کے فو ائم دحا کوشخ 
کر کے پدیے ناظ نک ریں۔ 
(5)امید ےک وسح تلم زویصسلی ال علیہ لم بت کرنے وانےارباب ذویق 





۲ 
کیل بی رسالہ ایک مشظرد جائع نصاب ہوہجس کے مدنظردلائل وسائ لکی د ہشن 
یں ہو بایڈالت نی 
مرن تیم ون تموں (ستا صد ی سکیاگئی ے: 
متصداول :ٹیش ال ححضرت ارام امررضا علیہالرصہ کے (الف )سح تلم خی صلی 
ال علیہ کلم کےمتحلق موتف ومدعاکو وا کیا گیا ہے(ب ) اوران کےطریقہ 
اضلالٰ(٭٥ہہ٥٥٥٥٥1ہ:‏ آہ ۷وہاہ١٥٥٠٥۲۱)‏ کی ان ادیت وچامھت ھ 
رش ڈا لگن ے۔ 
مقصدرروم :می سکرو مک مآ تحضر ت صلی اوڈرعلیہ وملم کےخلاف نخان کے واروکر د۳٦‏ 
شبات ادراعتراضات کے نیاوی جواب دیئے گے میں ادر ۳ ےی اکر ے 
اگاافادیتکابڑھایاے- 
مقصیدسوم :یی خا ق رآن یر یآیت مقدسہ: 

إوَنرََا عَلَيیك الکَتَابَ يَاناَ لکل شَی وہ زالنحل: 89]. 

کو سکخلاف پیداہونے وانےائھس (۱۹)اعتراضات وتہا تک جواب دیاگیا 
ہےاددچو( )یذ اد سےا مق دوج مال ےک اون یئ ے- 


مقفیراول: 

ااماصررغا علی ارح کے رقف اورط ریتہاترلا لکایان 
امام ات زرضاعلیر ارح کے وق فکابیان 

ق رآ نکری مکی تحددآیات جنات: یا اکر صلی ال علیہ بی مکی میوں 
احاد یٹ طہراو شقن علا ایل سشت کے اقوا لکی رشفی می امام ال سنت شاہ اھ 
رضا مان تادری علیالرجمہ نے بھی آخر الف مان جناب رسال تب بی٢لی‏ اللدعلی ےم 
کے مکی دسعت وفضیلت کے جوانے سے اپنااختفاددو جدا دو سے بیال فیا 
ے۔ 
پہلابیہلوجعلم ماکان دنا نون 

اتیل زتفع یہ ےکرال ذات قرمرنے اپنےمحو لی ال علی نل 
از وصال نز ول ق رآ نک اتی لکی ات بی لوق (لی نمکنزات موجودۃ پافحل, عم 
کون ) کےسارے ا گے پیل احوال دواتعات از ابا ےشلقی تا اچ ےخلق کی 
ماکان وا یکین یمم فیا یرود ی علم ہیں جولو ںکفوظا یل موجود ہیں اور 
سارے کےسسارے قنائی ومدود ہیں ۔ ہیل مکیۃ ایک ای دف ان داعد مل دیا 
میا پک تر یھالشنی دج دج دیاگیا اود انح ل قرآ نکر مکی پتیل کے رت 
ہوئی۔("الدولۃ المکیہ ص ۸۰). 
انس پپہلڑکامفادیرے: 
ا۔امام امررضا علیالرجم نز ول قرآ نکیل سے پیل یکر لی ال علیہ لم 





مر ںا 
کیم ماکان دنا کو نکااخنفاؤنیس رسک برا ےکی ردوافیلمکااختقاد کت ہیں 
جس سے عال مکنا کاٹ ہوی ق مد ب.. یپ مکی ال علیہ مکوابتدا سے ہی 
حاصمل تھا *کیونکہن یکامتنی خی بکیتجرد نے دالے کے میں ۔اس درجرٹش ند چچزوں 
کاضہ جاننا خیب دالی کے منائی نیس یے ش لید بی ےککھوانے وا ن ےکی ضروری ہیں 
کہ زبرحدہ ہ رہرعدمٹ جات ×٭بر+اذالیا ءاعد یٹ ےجو رخز پلچاتاہو 
اکر نی اعادیٹ اسے معلوم نہ ہوں یہ اکے دگوئی شحیت کے منافی نی ں تھا 
جانا۔د یھ پرمسلما نکودی نکی یھ بات ںکاعلم ہوتا ےگ جرمسلما نکووا لی نکیا 
جانا۔ عالم ددی مسلمائن ہے جودبین کے ند مل کو جات ہد ہر پر بات ای ول 
لم عالم ہونے کے ضمرورینیں۔ ہمارے امام اعم دامام ما نک کہا ارہ نت کی 
ماگل بی ”لا ادری مفرمایاجوان کے عالم پہونے کے منائینیں- 
٢۔دصال‏ مبارک سے پپلہ جناب رسالت ابمل العلیہ یلم کےیلم یں سے 
تلرقات دعا کون مس ےکا مظان نی شر اتپ نان تھے 
۳۔ایل ماکان دا کون شی امورخیرتتاییشل ذات وصفات با تھی مرے 
سے دائل چیم ںکینکبانکاتنل کون لق یں نی اکر مسلی ال لی یلم کیم 
کوما کان دما کون کے اخثبار ےکی اعا ظا حاص٥‏ تھا ('الدولۃ الک ص۸۸۳ 
"ای ط رع جوشئمکنات اززلا ابدمدوم ہیں اوہ متا تگگی ما کال ىا مکون مڈل 
داش لئ سکیا سو ریرقت ریہ یں اورموجودات پاش لأئیں_ 
۵ت امو را ورائۓ قیامت داحوال نت ددوزغ بھی ا لم اتل میں فررآفردا 
شال یں ؛کیونکہ ریگ امورغیرتاہی پافعل ہیں 


۳ 
٦۔‏ ان بپہلد(ما کان دبا کون ) کے انار سے بی اکر صلی او لی ہکم مکاعلم تنای 
پافنل اورمح رود ےگر١‏ پنیا حدذات مم لک ونیم ہ ےکی سے لےکرفر کک 
تمام جات ست ری بنتمام کات ونات ونطا تکاعک می ںحصور ہے_ 
5 الدولة المکیگ ص١٤ ٣٤‏ ؟' میمت القارگی /ا:۳۱۵:۲۳۲۴)۔- 
دوس را پہلوجلم ماوراۓ ماکان دبا ون 

یشرع یہ کین علوع کال امورخی تنا ہیر سے ہے(ذات دمفات اللہ 
محکنات معدروم ہمتقعاتء اعداد کے للا ءاجوال ما درا قیامت تیچ انناک ال 
جنت_ نم لیم جنت وعزاب دوزرغ وساعات ابد )دی اکر سلی لعل یل مکو پل 
بھی بر ابر دقناہی د یئ جاتے ےہا بجی دیے جاتے ہیں اور بھی ش کیل ان 
کی عطا ٹس ت تی ہوتی ر گی ۔ تا بھی پمسلی علیہ لمکوان سےحص “تا ہے 
پیش قنائی بی ہوا ہے ؛کونکہ ذات تنا بی صرف تنا یکا ہی ادرا فکریکتی ے٠‏ 
زات تنا یکا خی رای ہام ل کا حا کر لین شرن دخقا ال ہے۔ 
(”الدولة المکیّة والفیوضات الملکیّة“ء ص ٠٤‏ ”إنباء الحي“ ص۷٦۱۳)۔‏ 
اس پپہلوکامفادی ے: 
سال تی اپنے عیب سی ال علیہ ےی مکی الترقی امو رخی رتا ہی کاعلم تناہی عطا 
ف رباج ےآ پمسلی اولعلیہ ول مکاعلم معارف ذات دصفات بارگی تی وخ رپا ے 
بارے یل پیش یڑ عتارہےگا- 
۳اس پپلو کے اعختبار سے نی کر ہسلی ایل علیہ مکاعم مار کسی حد پنکٹس رکتا۔ 





عم 
سے بازنفی' عم خی تار یکتی لاشھی حندعۂ کہا جات ہے۔ ہاں ہروقت جو آ پک 
لم حاضصل ہوا ہے دوہی تناتی بافعل بی ہوتاے۔ 
(”الدولة المکیّة*“ ص )٣۳۳‏ 
۳ٹ کی ال علیہ رتا مقوقات سے اعلم مہ ںی خی مل بافرشن زاون 
وی یم اتی می بھی وو علوم یں جوسید صلی صلی ایر علیہ یلم میں دداعت سے 


گئیں۔ 
۳۔امام اح رضا علیہ ارم نے امورخیرقتاہیہ بافعل کے بارے می سکس یلو قکیلے 
ھی ہرک اھا کا دوئ نی ںکیا۔ 


۵ال تھالی نے اپنے سمارےعلوم اپنے عیب“ کی لعل و مین د ہے امن 
مسادات ہوجائے اور دج یئحلوقی میں صغ تلم باری تول یکا اتا لکن ےہول وہ 
ذائٰءفد مار رتایے۔ 

۷ی اکر لی ال علیہ یل موا تھی نے" ما کان دنا کون کے علادہ ای علوم 
دمحارف عطاف ما ہیں ج نکی عدبندیس یلو قکیلے پاف کک یں . با ہے والا 
جانے یا دا جانے۔الہتہ جرذمانے می لعل خوئی صلی ال عل یلم کی مقدارکوکوئی 
عددضردر مار ہوا ہے جی کان مرف الشقا لک ے- 

(”الدولة المکیّ / ص ۱۳۳؛” فاوی شارخ بخاریٴ:۷۳م) 


امام ات رضا علیدالرحمہنے منعددجہ ذیلی عقائ کی بد تک اتی ذات ےی 
ف اکر با یک راگرکوئ یآ دٹی ان ٹس ےکوئی ای کبھی ا نکی طرف مو بکر یل 





۲۳۳ 

گجھوٹاے: 
۱ن یکر ا علیہ نیل کا لم ذاتی ہے۔ 
۴ پم٥ل‏ ال علیہ لم کےیلم اوداڈتھا لی کیم م۲رصرف قرم وعددوثکافرق ے۔ 
۳)پی٥لی‏ ال علیہ کیل مکا عم ارتا یکی جن معلوما تکومیط ہے سوائے ای ذات 
وصفات ےے۔ 
۲ ا پسلی اللعلی لم کاعلم جم امورخی رتنا یک اخ ل می ے۔- 
امام اتد رضاعلیرال جم نے عراحاان چارعقاتدکاردگیاے- 
( ای الاعتقا و ءفا کی رضوے۳۳۴:۲۹:''الفیوضات الملکی* ص )٦٤‏ 

انویں ہے ان ہہریاوں پر جنپوں نے امام ایل سشت علیہ ال رح کی خخصی کو 
رو ںکرن ےکیلے ان عقائرکوآ پک ذا تکی طرف منسو بکہا جج ہی ںبھ یب 
امام میس انیاسراغ نی ملتا۔ 
جات امام اعم رضاعلی ال رس مک شان انفارہت 

منلہ وسح تک نیدی صلی او علیہ یلم بش نکر نے والا رمنصف اس با تکا 
اعترا فکرنے پریجبودہوجاا ‏ ےک جوطرذاستقدلال اس م وضو پرامام اتد رضاعلیہ 
ا وق یکا شا وو اور نین متا۔ صدر الا فاشل سیش رٹم الد ین 
مرادآبادیی علی ال مکی: 

؟الکلمة العلیا إاعلاء علم المصطفی صلی الله عليه وسلم“ 

بلاشک اپئی جامعیت واختقمار کے لحاظ سے ایک نہایت اہم جفیادی مصدر ے میں 





۳۲٥۵ 
ححضرت صددرالا ڈاضل علیہ الرض نے ۱۳۱۸ مھ یک موی نکی ۓے اتب ورساتل‎ 
ٹیس یئ نے سا رےمرکزکی اع تراضات کے ججوابات بلڑکی تاشت َجیدگی کے ساتھ‎ 
تفر ماۓ لین امام ام رضا علیہ ال رح کی صرف ایک می تعنیف لئ ”الدولۃ‎ 
السکیة“ کودکہ لے سےمعلوم ہوجانا ےک اپ مدعاکے دا لک تق یج ںٹھی‎ 
انداز یں امام ال سنت مال نے کیا ہے دو ان یکا اص ہہ ےج کی مثا لآسدہِ‎ 
صفات می سے دای ے۔ تاب مخرب علا دخ بن تعفر اكکتانی علی ال رم کی:‎ 
”جلاء القلوب من الأصداء الغیتیّة‎ 
بإاحاطته صلّی الله عليه وسلم بالعلوم الکونیة“‎ 

(داو ںکوخل خواہشات کے زنک سےسخھ اھر نے وال یمکتتاب ال لہ کے 
پان می سک پل ال علیہ متا علو کا تا تکااعاطحاصل سے ) 

اس متلہمی بھی ایک دائرۃالمعار فک حیثیت رکسقی ج ےکہاس یس شار 
لال رن وحد یٹ ؛اقو ال اوردا ات خلا ء داولیا رگ یا کیاگیا ےکن جواسلوب 
تن اورقوت اتد لال امام اح رضاعلیرالرص ہکا ہے و ہی کانی سا با تکا 
اختزاف محرٹ شام الم رد یع پی نی برنلہ ن بھی ایک طافات شفرایاء 
آپ ین می جن الیریٹ ہیں اورس رم ضف راكکتانی علیہ الرحمہ کے بات شا اگرو 
بھی۔ جھےایک دفعفرمانے گ ےک 'حلاء القلوب“ ‏ ووالہچات اوردلا لگا 
کرت پالی جاتی ےگراماماصمرضاعیرالرحہ ”الدولۃ المکیۃ'ش ا تدلا لگا 
قوت اورانفرادی تق سے کھرف مایا ان اکا رکا مشمرب ایک ایا ہے بس سے بی یر 
ہوے ہیں قیرکاننظریہ می ےکہ ”لاہ الوب“ یل صوفیاندرنگ ‏ الاب ہے اور 


۳ 
عفر کی صفیف می عامان رگ خالب ہے ۔علا پیل السی ضا مرا رشن 
شی دا لہ جھامامکنانی کے فرزن محر کی رسیدٹحدگی انی رہ لعل کے دریں 
علم میں ےاسالی سے زائ دع صہ رس نے ۱۰۰۷ء یس اپ ےگھٹیس طلاقات کے 
دورا نفقیرکو رف رمایاکہ ”لاہ النقلوب “یس ال تقیقت کےضخر بویا نگیاگیا 
ہے او رین صوفانرلہچہ کے خلہ کا پاٹ مصن فک جن ئن ع ری علیہ لص کی 
قلیمات سے بے الکن ہے بات اما منالی علیہ ال حم کےآخرق نے لیر 
ال رادری اکتانی( من شر باطءالمفر ب )نے فقیرسے ۱۰۱۰ء یس اپ ےگھ یں 
ملانجات کے دورال ٹر اید مد نقیراو بسعادتعا امک ہے کان نور ٹحفیات 
کوامامادرضاعلی الج کی ”الدولة المکیة“اوراع کےنظریے سے تحار فگرایا 
اورسب نے اعترا فکیالکہ جوامام اتد دضا علیہ ال رح یکا اس متلہ می ننظری ہے وی 

”تساظریتے۔ 

جڑا القلوی !اور الکاتۃ العلیا“ کا مطالتکر نے سے ہرذ یاشتوراس با تکو 
جان مکنا ےک ۔امام ات رضاعلیبالرح کا متتقد تردق ہے جوائ یق نکاے۔ای 
رہب (عمورعل مححضرت صلی ال علیہ یلم مکی بابت اما مھ بن ‌نف انی علیہ 
رص اپ تاب جلا ءانقلیب می تن فرماتۓ ہو ےککھت ہیں : 
”وفرقة تقول إِلّه عليه الصلوة والسلام لم یخرج من الدنیا حتی اأطلعه الله 
تعالی علیھما (أي الخمس والروح) وعلی غیرھما من کل ما أُبھمە عنه 
وأخفاہ من کل ما ینبغی لمثله ویلیق بعزته وعلاہ آخذا بالعمومات الاتیة 


في القسم الثالٹ وھذا هو مذھب المحققین من العلماء وجزم بہ کثیر 








!۳ك" 

من ارباب الخحصوصیة والاأولیاء؛ وھذا ھوالحق الذی لا مریة فیه لمنصف٠‏ 
ولا یعدل عنە بعد الوقوف علی ما فی هذہ الرسالة إلا متوان أو مستغفل“ 
(جلاء القلوب ءج۱۹۲:۱) 

یی ای کک رددعلاء یکچتا ےکن زع رقیب کے وضو مز ےٹتحلق پ تیر رام سے 
نے والے ولا لو کی جذیاد یی کر مکی ا علیہ یلم کے دنا سے جانے سے 
یتال نے ان کلت اورروح پالم دیا ران کے علادہ ہراس چا م دیا 
جوا سے پیل ان فی ہم دکھا جوا نکی شمان کے متا سب اورزت دبلندکی کے 
ان تواء بی علا شقن کا رہب ہے اور ای موقف پک راولیاء اللد داد باب 
خحوصیت نے جزمفمایاەاوریجی دن ےجس می سی انصاف مدآ دی اکی ےکی 
کن کک کوکش یں اوراس رسالہ کے دلال جا نے کے بحعراس رہب سےسواے 
ضدی یا ان بد چوک رخفلتکر نے وا لآ دی کےکوگ بھی7 دی ضہبر ےا 
قا ری نکومعلوم جوا "تپ “و سارگ زن رگ امام امدرضاعلیراللجہ 
نے دفا عکیااوراس پر ہے مثال ولا جا بکتب درسا تفر مائۓ جن شل سب 
سے زیاددشبرت ”اندولة الٰمکیة بالماقة الغييّة“(۱۳۲۳ھ) کوہوئ کہ بلاد 
رب وم کے +۸ سے زاندا ا ران اسلام ےا کی نشان تق شی ںکمیں 
کا کیرب مھ یدمنورہہمھر :شا شریف او لزان ک ےی علتوں میں انام 
ا ءبضا لالح زنلدگی یی ج یت رضمیل لاحظہہو ”تاریخ الدولة 
الکن“ ہعبدالتی انی )۔ اس منلہپراام اح درضا علی الج کی دگرنایا یٹ 





۲ 

”إنباء الحیي أَنّ کلامە المصون تبیان لکل شيء“ 
(ع ری تداول سب ٹی نان بی ے) 
”خالص الاعتقاد“(ارروختراول) 
"إزاحة العیب بعلوم الغیب“(ازدوءتداول) 
”مالىء الحیب بعلوم الغیب“(اررویُرتراول) 
”الصمصام“(اررتراول) 
”إنباء المصطفی بحال سر واحفی“ (اروو:تراول) 
”اللولؤ المکنون فی علم البشیر ما کان وما یکو“ (اردوؤرتراول) 
تیم کی ٹیل امام اتررضا علیرالرم کے اتیازی طرزاخترلال 
کی سال 

قرآن میرک ا لآیت: 7 

فونرلَ عَلَيْكَ الکََابَ تنا لکل شَي وہہ زالنحل: 89]. 

ترجہ چم ےت برق رآن اتاراہرچزکارزن مان“ 

کواما ماد رضاعلی ارہ نے وسع تک خی لی ا لعل ںیلم تلق اپنے 
دعاکی اوت راردیاے۔”الدولۃ المکیة“ (رص۱۷ ١ہ‏ یں تام دلال وج يات 
واقوا لو مکواسی' آبیت کےانوار جا شی“ قراردیااو رھ ر ایک ستق لتصنی ف۷ اباء 
الحی آت کلدمہ المصون :بیان لکل شی “ا فی کے تی ریف ماک جل 
می ٹج چ محص علاء کےاعتراضات کے جوا بات مل ےگ یف رمائے ۔ ا لیت 








۳۹ 
کے عام بہون ےکی بناء بر الس سے وسع تلم نیدی بہ یں استدرلال فرماتے ہیں 
(”الدولة المکیّة“ ص ۷۰): 
بل ق رآن مجیرکوا ںآ یت نے صرف بیاننچیس بگمہتمیان مشش رپشن بیان فرمایااور 
ع ری زا نکا تا عدہ ےک الفا کی زیادتی مت یک زیادثی پر دلل ہوثی ےت ی 
ترآنصرف میا نل بللخب رز یاندے- 
٭ ما نک رن کیل ایک بیا نکر نے والا چا ہے اوردوسرا جن کی2 یا نگیاجاۓ- 
تا نکرنے الا اللرتھالی ہےاویٛ سکیل بیرنشن مان ہے و وتضوسلی لعل ہم 
گا ذات باب رکات ے- 
بل قرآنن یر سکاردشن بیان ہے؟ ہر شی سکا۔ اد شی کا اتال عالا ایل 
سفت کے نز دبک ہرموجو دکیلے ہوتا سے جب رآ نتضوراک سی ال علی ےک مکیلئ 
رکا رشن بیان ہوان ہرپرمجودکا رشن بیان ہواءاورموجودات ' لگیاکیاراظل 
ہے؟ عشل سے تےکرفرش کک ہشرق سے نےکرمخر بک کک ذ اتل عالاتء 
کات صکناتہ پل ککیائٹیش +دلوں کے ارادے اورااع کے سواج پل شی لو حتف وی 
یس ہے ووس بتضسودسلی علیہ یلم کے ےق رن گیدڈل یا ن/دباگیاے؛ 
کیونک لو ں مفو بھی نو ایک ہز (شی )ہے اورلوں متفو ظا می سکیا ے؟ ق رآ نکہتا 
ے 
ورک ل صَیرِ کر ظر4 زالٹمر: 53]. 
هوَكُل شَیْ احْصَيَه فی إَِام می 4 (یس: 12] 
ارچ عدیٹول می آیا ہےکرروز اول یڑ ابتاء پیدانٹی سے لن ےکردو زآخ رای 


7 
قیامت تائم ہن ےکک جو ید ہوا سے یا ہوگا سب لو ں فو میس کا ہے ولا او 
فو دک یتفصیلات پشنز یا تکا لم ا لآ یہت کی رو ےتضور اکر لی ال علیہ مکو 
حاضلّے۔ 
روزاول سے روز شر ککاعلمامخلوفات دوصدول لمح ودوتنا ھی ہے اورای 
کو ماکان ومایکون ےئ رکیا جانا ہے۔ اک یکا اخا ہم تضودسلی الدعلیہ تلم 
کیل ات ہیں اوراس اخقبار ےتضو لی اولحلی یل ما عم تنا ہی ہوا۔امام اتدرضا 
علیہال رھ اپن موق تکیاتقی تکیے ای ےلج ایک اور یتگدم ٹن لکرتے 
ہیں: 
ما قَرَطَتَا فی الکتابِ من شَی و4 زالأنعام: 38]. 
جم نے ا کاب می کوئی چس ٹھارگی'۔ 
ماما رضاعلیال رک منریچ پاانت یتب ثاہت :ول ے جب ا نآیات 
کےکمو مکو غاب کیا جاۓ ڑل میا بت 6 کہا نآیات ٹیل مرادصرف احكام دیقیہ 
وعطال وقامک ریشن بیان نیس تام موجودا تکارؤگن :ان ے۔- 
ااماظررضا علیا /حکا ط رق ا شا توم آیات دروسح تم نو 
ن ٹا علماء نے ا نآیات مقلرسہ ےق رن ٹیا ہیا وکا وشن بین ہونے 
سے نمائص احکام دیٹ ےکا رزگن میان مادلیا با سے او رتمم مو جو رات شر مراد لگ کا قول 
کیاہے انل" این نویل کہا جانا ہے اور جوا ںآبیت اود دنر متل ہآیات ے 
ا دار2 ور ہو مراد جملہموجودا کمن لیے ہیں اود امت یکا یجن 





۲ 
کہۓ ورای ںگ رع ہیں- 
تم امام امہ رضا علیدال رح یو مآیا تکوخای تک نے کے بیے ایوں جو انا اب لٹا تا 
ے: 
(1) عم اصول میں جیا نکرد گیا ےکیگرہزحلمۂ شی یی مقاحاٹی ینمی مکا 
فادود یا د یھت دوسریآیت مس لفظہ شی ء فی کے بعد وائع ےن انی مراد 
خام یں بک عام می ہوگی (اویگ یآ یت می یک لکی اضاقت ”نشی ےہ کی رف 
بھی مفیروم ےرکما في التلویح)۔ 
(2) 1یت تقیان میں لف لآ اے۔ یقوم ما نکرن کیل سب سے بکیاش 
ے۔ 
(3)عام رای دحا کی افاد یت نشی وشن ہا ے- 
( )نس شرع یکو ظا ہرمع بہت لکرناداجب ہوتا ہے ج بت ککو یک دی انا 
کو رپھیرے۔ :٠‏ 
() جب ک ککوکی شرکی دی یور شہکرمے اس دفت کک ق رن کے عا مکوخائصس 
گرر یا لکابرلناےادرییناجاڑے۔ : 
(6) خرواء کے ی ئگ دج مخ تکوکیوں نکی ہ عو ق رآ نکیاصی نہیں 
کیڑق۔ متا 
امامائل سن تفر مات ہیں: 
”ریما ںکوئی لی لغنوپٹھصییصس ےتا رپنی ہوئی ح نی قرو نمیم ےط 
مل ہو باتی“( نو فی “ہتاری رضرپ ۲۳۹۲۲۹ 





کی 
(7)خرقائل ‏ غیں موئی۔ 
(8) جنشی کلام سے جداوسترائی ہودو ہولی ہے۔ 
(9و پتصئی تی حا مکوا سکیقلعیت ےنیس اتا تی پگ ینمی کے بعدیھی 
می تاد ز 8 
(10) اود ےک جو چے زی می کےسبب عام سے ار ہوجائۓ اسے سند بناکر 
میڈانی یل روف می ہنی نو کی چان 
(”الدولة المکیة“ ص٤‏ ۷؛ "إنباء الحی“ ص ۱۹) 
تقارٗی نیزم ایی دوطرزاستندرلالی ہے جس کے بارے می فقیرنے دنوٹ کیا تھا 
امام اتد رضا علیہ ارح جیمااس اص منلہمی سط رزس یکا نی س1ا ۔ٹن علاۓے 
بینہکیساتح ا ںآیت کے بارے میں امام امدرضا علیرال رح یکا جو اختلاف ہواکہ 
قرآن یش شی ::کا را نکسے ہے؟مفس رین نے ا طر کاآیاتکیاکیلظیر 
کی ہے ؟کیاد وو مکی طلرف گے ہیں اخ کے قائل ہیں؟ اور دک رجمہات اور 
اختزاضا تکا تعی لی یق جواب امام ئل ست علیہ ال رہ نے ساڑ ھے چا رھ 
ہهہصفات بقل ایکعلی مکتاب ”انباء الحيٌ أ کلامہ المصون تبیان 
لق شی“ کیاشکل م۲ رام دی عرلی زبان نایا فحزاہ اللہ تعالی 
زا کاب می ںآپ نے ایک نعل قائ ربال(فصل نی رد کل مالسٹوا 
بہ لنقض عموم علمہ ڈیہ ص ۲١۹‏ الی ٤ ٠٤‏ جس میں ناشن کےا ن تام 
ال واعحتراضنا کش کیا جودوٹیگمومنصوں ورسعت“ نب بی کےخلاف تاور ہر 
اعتزائش کے تن ء پان مات او جوا بک یرف رما اورسب سےزیادہ جوا بآیت: 





"۳۴۴ 

ما اَدِْیٰ ما یل بی وا بٹئُپہ الا حقاف: ۹ کےآلمیند کے جو وں کو 
پےسائن اعتزاضات می (۱۴) اعترائ مفتی شاف سیراعد برزنگی علی ارح ے 
ےن کے جوابات ایک سو سے زان ی٥فجات‏ پر کچل ہوئۓ ہیں( ۲۲۲۹ ۓ۷٣)‏ 
او ”لٹ شبات ونود کے نام سے ہندوستان سےمگراہ فرقوں کےتتریا وں 
احتراضات کے ججواباتئش ۴۳۷۹ آخرتگ رف رما او رکا بکا مسودہ انل بی ملا 
ٹس سےمعلوم ہوتا ےکہ یا امام ابلدت علیہ ال رض ا سکتا بکی کل ترک سے 
ابر موجودڈیفسن نس ہے فقر موہ سکیس جید 
ا کاب ےکھاے۔ 
آیا تق کے یں انی ن فص کامھیو۔_ 

جہاں امام ال سن ت الحفر ت ڈیم ال رتبت شا وامام اح درضاالقادری علیا ارم 
ناب ہم تاب مانباء الحیٗ* لم بی ےت عو آیات کےعز لکوقام 
۲ ا ےا دزن میںپخ کرنے والوں سکےمب اغتراشات کسی جواب امت 
کوخنایت خر ماے وہاں اھنوں نے لی جوا نخس کا ز بردست؟لھی حواسبکھ کیا 
ہے او نآیات شی سکرنے والوں پراعتراضات ومازشو لک الیی ہاش 
فرال :بر یشک ماف لزان(ںد الحيٗك ص )۱١١۱‏ 

شال کےطور بآ یت تیان کےعموم پرایک اعترائش واردہوتا ےکق رآ نک ریم 
بظا رف اشیاءکاؤک نی اگ چاجخال گرا مال تیان کے ماق ہوتاے :اہذا 
لام ہ اک یت تیاغ دا کے مطابقی ضہہو۔ ای کگرووعلا( ملا علامہ بیڈماوی علی 





۴م 
رص )رش نکوا ام لمت نے قاگین اعا لہ ےترفرماانے ا یں جاب 
دتےک وشن لک یکہآیت تجیان ش لن کلم سی |:افیقی محنوں میں بی ےاورسنت 
اع وقا سے خابت شدواجکا مج یکویا رآ نیم سے حابت میں ولا نگ 
یت اوران پگ لکرنا ای سے خابت ہےکت رآلن ید نے ان کا حوالہد یا ہے ہیں 
ان بجی پااواسطہ با بلاداس یلام ایام دک لکیے تین +دگا (إنباء السيٰ1ء 
صس ۱۸۷)۔ان علا رام بے امام امم رضا علیہ الرح نے فلف(10) اے 
اختزاضات تام ےک اگ رد را تآ رج زندہ ہوتے وذ موائۓ رج کر نے کے 


سس کی نکوی او روس ی۔ 


(٣انباء‏ الحی“ ات یں ا اکا بالاحالة ‏ ص۱۹۸) 
اعالہ کے اطال کے سللے می سآ پ نے ایک بت رین مشال دک اگ ہي 
لکل مَيءٛە کا مت پیکیاجاےکرینض اشیاماعل رر رن یی ہاو ولہپ 
ش ران مجیرمیں نت وا کا حوالسوجود ےت اس مناء صلی مکرناپڑ ےگا رو 
اور جال ”نییان لکل شی ی“ پقادز رض اشیاءکاعلم تا اودگر بال پہ 
دومری ںکا حوالرے درے!( انباء لح ی“/ص ۱۹۸) ار مگ بن تحت 
ری کا یو یک ”مض ینکش سآیت پراچھا ادا اک ینا ال 
کےیمو کا تا لئ کیپ 'ۓ قاعدۂ 'التتصیص لا یدلّ علی التخخصیص“ 
کی نید بر فلذقراردبااود اھش(22) ایی مشالو ںکداپے ذجن میارک تو دی 
ف انس ری کرای یت می ںات فص موا یکوکیوں ڈکرکرتے ہیں‌اددایا _ 
پ خی سآ یہی ںکپل تا نس طر عکلہ طض کی ریش اھوں نے 


ٌ 
ری ںا 





۵ۃ 

نف فص سای منلا علال وترامکوؤک رکیا۔ دص ل فص ری نکر کال متصر بے 
ہوا ےکر لوگو ںک یل کے مطاب نی کی جاۓ اورمفہو مآی تکوالیے انداز ے 
و یکیا جائۓ جس سے انسالی ذہ ن سای ےبجھھ لے۔ کول وہ ای کآبیت کے 
تحصسیس معانی بیا نگردیڈے- 
("إنباء الحيٌ“ فائدۃ جلیلة فیما حمل بعض المتاخرین علی التخصیصء 
ص١٣١‏ مطلب مناشی تخصیص شی٠ء‏ بالذ کر ص ۱۱۳)ء 

اسل سو سآ یت پر دوک اجماع بے مفیاد ہے بل آپ نے خاب تفر ایام 
ما نموم جمبورعلاء ہیں اورقامین خی صرف لن متا بن ہیں جننھوں نے 
تی کی صراح کی ہے بائو کاٹ یکی ہے 
(”إنباء الحيٰ“فصل لا قائل بالخصوص الا بعض المتاخرینص )۱۱١‏ 

یہالں پرامام اح دا علیہ ال رم نے ایک یہاش یکر ٹھا یا ےجس کے سے 
2 ا نکسم مکرویۓے کےسواۓے کی دسر راست “دہ پیک ہنفر ن کل یھی گی 
لف الفاظط ےکی رکی ہے نکی نے ”ما یحتاج إليه في نیع نکی ضے 
مہو مکواور وی کر تے بہوئے ”ما یحتاج إليه في الدین والدنیا ھا وگلی 7 
التاں ۔آپ نے ای مو نکی پا نچوں ہیا تکاٹل ف راکنف ری کرام کے اقوال 
تق رکا فرمابااود یہ جات دائ کیک اتی می می دوسریتظیرےزیادءکیا 
گیا ہے اور ایک یل دوسریکی عفس تک ۔ ابسوالی ىہ ہ ےک گر ہنفسرنے اپے 
قول سے جع رمرادلیا ہوا ہہوتا ف پچ راقوال مس ری نککا تھارنش از مآیگا اور ہرایگ 
دوسرے کے مناتض ہوگا تذ ا حالہافعول نے حصرمراویس لیا ہآبیت کے پقزر 


"۴1 

کفایت چندسعای ذکر ےج کو ہی کی کہا جاکتا۔ 
("٣إنباء‏ الحی/ ص١٢٣‏ الی )٥٢١‏ 

تلم امام ا رضاعلیہال رجہ نے یہاں یڈیل فماا ٹا بر تک کے دکھا کہ 
یقت مآ یت ان میں فخصی کے قاکلوں نے اضچانے می لکھو اہی اختزا فکیا 
ہے اسل ےکچ ننس ری نکرام نے پیکہاکرقرآن پیٹ چردچک موجود ہے ج کا 
تلق وین سے ہو ا ںکا ازم یہ ےکیٹ رآن یش ماکان دنا یکو نکی جملہ 
تصیلا تکاعلم ہواگر چان را کی تقجہ اس طرف تی ہو۔ امام احددرضا علیہ 
الم نے دلاکل نع اب تر ا کیک نات کے ذرے ذر ےپاصمم ”علوم دن سے 
ہے اسل ےکک تنا تک ہنیس ا تھا کیا محریت کے داز اودنشاخیاں ہیں۔ ہرز 
میتی اورق رت کا جلدہ ہے ورن تد دعالمکاتات سے ب یی وق ان 
ترام صت لپاعلم اللتھالی کے بتاۓ سے عائسل ہوسکما ہے اودراخیا ءکراممکا بیشان 
نیو سکہ وو ان سے ناخ میں لہا می بات ضرورک بول کان تام ذرا تا 
اص لکاعل رق رآن یرم موجودہواسنل کان خام تقامح لکا لم دبن لفتاحالیہ 
ہوگااوردوسار ےکا سا رالیلون ق رن ہیں ےج کا عم نی اکن سی علیہ ےی مک 
دیاگیا۔("إنباء الحی“فصل قائلو الخصوص قد اعترفوا بالعموم وان لم 
یتنبھوالەہ )٣۲۳٣۳٦٣٣٤٤٤ ٣۷٣٢١۷۶ء ٦‏ 
امام ام رضاعلیہال زع نے اک کتتاب ین ذکرفر با اکقلز فصو ضر یلیک 








ۃ٥م‎ 

فادہ زی میں: 
(۱)افھوں نے ھا رت رن نی قمام امت کیل برا ءکابیان ےج رصر فتضور 
علی اللہ ت7 والسلا مکیلئ ہے۔امام ام رضا علیہ ال رح نے کال ایک سو(۱۰۰) الیل 
تقافر اکردوزروش نکی طر دا کیاکہ یق رآلن سارک ام تی برٹّ :کایا ٹںش 
پیصرف خی امت علیہ الصؤۃ والسلا مکیل کال بیان ہے ۔اس پرآیت جیان کے 
الفاظ ”نزلنا عليژ جھی ولا تکگررے ہإں- 
("إنباء الحيٰ“فصل لیس القرآن تبیانا لکل شیء للامة بل لنبیھا لہ ص 
۳م" 
()دوم راس نی یہ ےکانھوں نے ظاہرقرآن یی ہرشی کی لکل شکرن 
ہا عالاککہ یل قرآن کے باطن جس ہے جو ام تکی نظروں ے پشید: 
ے۔(”إتباء الحيٗ/ ص٦٦٦٦٦)‏ ۱ 
امام ات رضاعلیرالرحمہ نے متعددمنا لی د ےک راب ت ف رما اکیق رآن مجیدل بہت 
سے اصسول دینءاصول فقہدف رو دین ظا رق رن میں موجودجی یس بلق رآن ہیر 
می تن رح کے نفاء ہیں جا کی با تکاطرف دلال تکرتے می ںکیق ان جیرامت 
کیل ہرشیا کا یا نین دہنفاء بی ہین :اکٹرمسائل فرع کاسرے سے ڈکورىی نہ 
ہوناءالغا نفلہالمعالی ٠‏ اورا لے الفا کن سے ذ جن خلا ف ےمتقصودکی رف سبقت 

کرتا ہے اود بی جیوں فا ام کیل ان“ کے متائی ہیں ('إنباء الحی :ص 
: ۰۶)۔ جب ا ہق رآن مل ام تکیلے ماگل دینیک یت ےک ئل اجا مکا 
اتال ہے اورٰمخسرے سے ڈرکورح یئ تو ”کل انشیا و کےاکیاس ضہرہون ےکا ور 





"۸0۸ 

نع تی سک رن کاکی فا دہ مال ہواء انال ری تی فصو ےمندن نہ 
کی وجرے تام ام ے؟ یہی دوسبب ان ضرا تکوشمیئ آبا تک طرف لے 
گے۔("إنباء اح“ فصل فی تقلیس ژعم التخصیص وانە لا یندقع بة 
المحذور اصلاہء ص۱۸۷٢۱۲‏ ۱ )۲( 

اگ رق رن مجیدکوصرف نیکم لی نعل پیل مکی ابر اشن جیا نگل 
یم مان اے تزاس بمفس ری کرام کے افکالات میس سےکوئی انال وار یس وت 
رورس می خی سک کےنابریمنی سے بھی رن ےک کوک وہ بای نیس رتقی۔ اکا 
نیا یرام ال سنت علیہ الرحہ نے قول فص لکود یقت * اف“ آراردیااور 
رر کی یت ان می فص سی دلیل سے نشیس یدہم پش سے نا خی ہے 
جس یب خغس رین تاکن یں متام شتیر۔(”إنباء الحی“:ص١١١)‏ 
ل تی ولا زم ہونے وانے مفاسد 
چک خی کی اخیطا رکا اکشافکر نے کے ساتحدسا امام اح رضا علی ال رح نے 
عو مآ ات ضہ ماس کی مز یدید خابیاں ڈکرفرمائی ئیں: 
ال زمآیگا رق رآ نک ری م بزر ہد بی عل یش میں ش نی دن ضردرت 
کیو وین خوس نا ہرقر بن میں عدر تی لکو میس رف کال 
ہو ہیں عالاکنہ ہاش نت رآ ان یس سار ے مو جوداددا ا ے نا رسکی الل علیہ نلم 
ہب برآن درشن ۔ اگ ری لازم درست برا نآ یا تق رن یک تحمدب یکے 
درست ہوگی جن طی بق کن یی لک ھی را درا نکی یٹ قراردیاکیاہے؟ 











اگ 

٣)لاز‏ مآ یک تحضورعلیالصاو ب والسلام اتال یکا بےشارنشتائیوں سے بت رہوں 
جوا لککا نات شی موجود ہیں اور جن سے الد تھا یکا عفان حاصل ہوتا سے روہ 
آیا تق رآغی جن یس اشک نشانوں سے ال رج وا لے لوگو نکی جرمت وگ 
ےکا معاذ ا تضورعلی الصا :2 والسلام لا ما مصدا ققرار پا نہیں گ ےکیوک ا ظزقفلت 
عدىکم پرصادق ہے۔اودایی چز کوک مسلبان ادب اورابمان کے تقاضو کی ور 
سےتضورعلی اللہ والسلا مکی جگوا رای سک کت 
( انبا الحی 1 تییهیحب التبه لہ ضن۱۲۹) 
یت خیان می صن کو قاضانئیں 

اما مابل وت علی ال رم نے فربا یا کو یبھی مقام وی کا اض رن گی 
دو ذیادیں ہولی ہیں :(الف )اس ماع مم سعموم درس تنیں ہوتا(ب )اس مقام 
می ین زعت ول وت ان ئک لی ءکواگ ری یکر لی اولرعلی بل مکی 
خاش انا جائۓ نیت تما نکاعموم تطعادرست سے اور یہاش کَاکول قاضا 
نین پا را ہوتا۔اوراگ را ا سکوا مم کی طرف' مو بکیاجاۓ ذبھریموم درس تل 
رت گنی بھی ورسنتت نہیں رنت کیک شیع جن اختزاات واشکالا تک دز 
سےک اف دہ ال کے بی قائم رت ہیں اذا یہاں سی وی ےکھیتی کاکوئی 
تقاضاہےک یں( ”باء الحيٰ“ ص۹١۲)‏ 
صاحب لی رجیان القرن “ےم وقف پتمرہ 

یہا لکیونکہ پٹ این وی ک ھی مواسبہکی ہے اصسلئے مظا مکی مناسبت 





ے 
سے ایک نی تص ردچھ یک راونا فا دہ سے خالی نر ہوگاصاحب* قغیرین لترآن“ 
نے حجط ا بصن :٭ ۹م مائ س۹۴ ۴ بر میتی ہی ںار رن می درف عق مداسلام اور 
اجکام شر لی یان ہے اورسات ہکم دہ ہمادے زمانے یں ایک'خلط' 
وڈ ےل“ بات مشپزرہوجگی ےک رآ نکریم میں تام حلوقات کےتاماحوال 
(ما کان دنا وع ) کاعلم ہے۔ یرت می ےکدال سے پل صاح ب مصوف تُِ 
اتی ہی ابو ('عظام ولا یت وضو تب ۸ات البیان ۳۹۱۲۳۹۵۰( 
مسآ یت تیانع ےمم کی قطیع یکوغابت فر اک ال سےگموم وی تک مآ فضرتی 
صلی اول علیہ یلم پراستندلال می فر با تھا اور مل ماکان وما ون ک ےیل ماوق رن مجید 
میں غابت ما نکمرچی بباستدلا ل ٹپ کیاتھا۔ می رابنا تجزی یی ےکرمصنف مصو فک 
اس ماپ سا اس لے ہواک یھن ہف مین کے اس ممقام پراقوا لتق رح ہکودہھ 
کراٹھوں ےآ یت تیان میں خصو سبپھولیا۔ حا لاک ہہم امام اتد رضا علیہ ال مہا 
کتاب:'إنباء الحيّ آل کلامہ المصون تبیان لکل شی“ کےتوالے سےرھا 
گے ہی ںک ہم پو رض رین و یت کے می تال میں اور کےتال دیع 
ہیں جنہوں نے خسؤ ںکی تص کی سے پا عمو مکینٹی _ جن مفس ری کرام نے لفظ 
یی ےتشر تروس الفاظط رات س ےکا ہے ال حکوعلامہمصوف نے 
تیم یں پ ھی تخس کیں ہولی کما مر عن ”اتباء الحيٰ“۔ علامہ 
موصوف نے خودا مز طیف نٹ البیان''( ص۳۹۴ کھا: 

”اس متام پر یشیرنہ وک یت ض نم نے انا ل٥ل‏ شی ماصرف 
اکا خر کےساتطقی کی ے :کہم پل ما نکر چے ہی سک لکام لی ہے 





۵۱ 
ورای شی نی روا حداورقاس سےچھیکڑیں ہوک مغس بین کے اقوالی اس 
کے اص سط ر ہو سک ہیں ا" 
علا مہ وصوف اگ انی مض کی اححاث پتھوڑی توف مات ذ شاید ای شی رقیان 
لق ران یش دنت ضہلکالۓے جو ہمارے سا سے ہے۔ میری زالھس سو یل تسا 
کیادوس را فشاء گی ہےکعلا مم صوف نےٹقی کھت وقت ب چھاکق رآن میرسب 
کیل تییان لکل شی :“سے ٹس وج ےی مامت فیس چی لیا جا سنا ےک اہر 
ہے جب دوس بکیے ان ہا ریس وای چھ بین ہوگا جوس بکی عم ہے 
سے انہوں نے ا ھا شرعیہ دعقا ند ای رف مایا جک ہم پپیل ٹا تکر چک ہی نک یہ 
درس ٹیس ؛اکرق رآ نک رم اس ام تکیلئے ہ ہرم د رٹ یکا داع دی ران ہنا سنت 
وقا سںکاکوئی متصد نہر ہتا۔ ید کرام کیل ق رن یمیس تام اصول دینء 
تال اصول فقہاو یکم ڈرو ںی سار جیا تکا یا نکہاں ہے کہا نکی کر 
تقصیل ت وجودتیغیں؟ اس مت کی تفع یھن ی بوڈ ”اباء الحي ” ض ۲۱۸۸ 
صی ے۱۹ ما حظہ فرمانتیں اذ اعطامہ مصو فکا یہ دلو یک ہق رآن مجید بس عقائر 
اسلامیراوراجما شرعیرییش سے" رچکیل ہے خالی ازخطائیل تن ددی ہے 
جن سکینتین امام اح رضا علیہ ارم نے ساڑھ چارسصفات پرقلمبن لک آیہت 
ان عام ہی ہے اور رآ نکا یا نکی لی ہونا صرف ہمارے ھی اکر مکی اپلدعلیہ 
ول مکیلے ہے ٹن ہیں امت کے سام بیا نک رن ےکاعم: 
رَآنَْغا لک اللَك لقن لاس مَا تل ام4 زالتحل:٤٤]‏ 
می دیاگیا اورتام احکام دینی, سال وا کا نیا تک بلا اتیل مم 


7 ار 

ون ق رن یں ہے۔امام اخورشا خلا نے بای نخس کا زور ہے 
فرایا اکہ(6۱اگرقرآن یرس بکیلے خیان ہوت تحضو لی للع >م کاوفیارۃ 
با نکر یل عاصمل ہوتاء(٢)علادہ‏ از مت نکاتیان مال ےء(۴)اددیک 
ام کول رکی عاجت نہر یتیج رآن یگ رک غوت دی ہے (۴) اور برق رآن 
می سکوئی باتنئی نہ+دلی کون خفاء جیان کے منانی ہے ال خی رذن کمن الناصدر 
اور ہہ سارے زدودعلامہ صوف پیکھی واردہوتے ہیں جنہوں نے نمیا ن لح لی پٴ“ 
سے مرادخائص ام تکیلے اھک شرعی دعقا رکا تین مراولیاے- 
("إنباء الحيٰ“ء ص١۱۳)‏ 

جے لین ہ ےک علامرصاحب :امام احدرضاعلیرال می اکتاب"إباء الحيٰ“ 
کا مطا لف اکر یا ازکم وش البان اور مقام ولایت ونہوت'کوسا نے رکوکر 
ضردراپتے سابقہموقف کی تاد فراکیں کے او جیان القرآن کےخیر, - 
اشن سے 'خلطد او ہے اصل یتما تنظ رای فر اکرحذ فکردبکی گے۔ بے 
ای یھی پٹ ہے جکاس کی ذاتیات ےکوڈتمیکئیس اسلئے امیر ہےکیز ہنا کی اس 
ٹکو ذائی تقید کچھ جاۓ بل ایک خالھ ھی تصردای مھا جاۓ_ 


صا 


مفمری نک رام ہے“ ون فص “اون شک منوس تلم موی 
لی ال علی لم مم فرق ۱ 

آیت تجیان ےمتحلق بج تس حوات ین متاخ بن اہ لتقمی کی ہیں اورکئی 
فلطیاں مزلش نکی ہیں جن لاح مفس بین ال سنت نے سو سآ یا تکا موقف 





۵۳ 

اقتیارفر مایا نھوں نے اپ یھی دیاغتداری اورشتّن ے ایم کیاکی عادیاا سرکتیرء 
کرمامت دہ گیل یما برگزنڑ سکیا اس دوٹرعا مم زور ؤںجی اک ام امررشا 
علی اجکی الس پر تع ےگ اشن مقیزہ بل ہکی ذیاد را ںآیت مم تحص 
کے قائل ہیں اورا نکا مقر رتضورعلی الصلو والسلام کے وع علوم ومعار کا ڑگار 
ہے۔اسلے یھ ناک جیض رین وا ن نو ہیں ودوسع تلم می سی ادعلی بل مکا 
ایارکرتے ہیں ہرگ درس نیل نہاس وج سے انھوں نے خی ںکاقو لکیاے اور 
نہ یر لگا اختقا دھا۔آبیت تویان یل خسن سکاقو لکرنے سے بب رضورت لاز می نک 
بسح یل مآحضرت صلی ال علی لمکا اکا تسود ہے۔ ہا مان ایک ڈاسدغرقق 
ےمم خوئی صلی ال علیہ یلم یآ ود ہوتے ہیں اواس می رجش لا ن ےکی وی 
فو س کاسہارا یت نہیں پجیلآیا تکا موم خابت ہو کے او را سنصو کا ٹول کر 
متعددخرابیو ںکو زم ہے یم و مآیا تک شموت او راک ایت دکھانے کے بدایا مات 

رضاعلیرالرصمیفر نات ہیں: 
( جم :ای اش کردا صا نکیصرف یمان( یف یا نکاعموم )ىی بے ہر 
ول بھپالن سے بے پردامکرد ےگا اور اگ میر کاب لٹ 'الولۃ الیی'ش 
اس وی کےسوا جوا نے جھپرالقاف رما یکوی اوردلل نہہوتی وت ےکا ودای 
ہونی اورپ علاء جوگمز ر گے ہیں ا نک کرٹ بی تآیا ہشن ہمار اتد لال ودعا 
ارد ےگمومآیت) وو اس معالے یس مور ہیں ان سے پسشی نیس ہوگ لن 
اب ال الکن رتحسوس پر ڑ ار ہے او نحصزش کو ظا ہریمحنی سے کاھی رن ےکی 
بے فا ئن یکر ےو گدیادداس جات کااخترا فکر اق رن مقر ہزاروں 


ثزت 


ہم دی علوم سے خالی ےج نکی رین مض رورت ے- 
("إنباء الحی“ تنبیه یجب التلبه لەۂ ص )٥۲۹‏ 

اماما مم رضاعلی الع کے اکول ری تید قب غرب سییم بن نف رکال 
علیہالضہ کےسالق ارکرقول ےبھی ہوتی ےک بچیھلے علاء جزخحویں نی کے 
مزال تھے ستلہظاہرتہونے کی مزا سے جانیں زا کیک ای مہ 
17 تح ہوپگی سےاوران دونوں پنریکوں نے تام دا لکو ا لہا ما لیہا اکس تخل 
کر کے دا عم مکورا تا رقرارددیا سے اور دلال خصش کو لازیم ہد نے والے 
ناس د کک اکشا فک ر کے پھیں مر جو غاب تکیا سے اذ امو فصو بی ہے اور 
ضوح م رکے بدا جس کوسوا ے اعتراف ک ےکی چار با َّ 
7557ء و ہیں ںی 
ای یں پا کر ےو 
درج ذل پانوں برعلا ال سط تکا امام ہے: 
ا خی کی کو یھی عفت زا یغہیں, جغی نکی ذائی عم مانےکاف راس رہے- ۱ 
)اتال نے امیا کر کوک لو یں سےنوازاے۔ا کان وت گار ۱ 
ے۔ ٘ 
لوق موب سے روھال ے مل اش کل خی | 
از ںی رای ن کاخ اذ انڈیکماقیس سب زج یں 
 )‏ مالطد رب تک مخت سے اس یا اگوی شرککییس وکنا ایس 





۵ھ 
کیلع جوا اعم مانے قطعامشرک وکاذرے_ 
)زی یرنہ رج پل چو پا ےکا علم یک ناسل اللرعلی لم کییلم کے مال 
(ا مساوی )کنا مو اق صلی ال علیہ بی مکی ص رع ون اور اکف رے۔ یہ 
نچوں سال نض رود مات دباع“ سے ہیں اورا کا گا بالات قکفرے- 
ال رب العزت اولاوکرام لی رسولو لکی دساطت قیب شاف با تا ہے۔ 
مہ نے اس سےانارکیا۔ 
ے )ال رب العزت نے اہ مق ری نکو ایس بی اکرنمسلی علیہ عامس 
کے پت سج تی کلم دای یآ پصلی ال علیہ یلم کی علو مق کی جن خیات 
الام ہوگی۔ یعاد یٹ متوا تمعن سےثابت ے("الدو لةالمکی“ء مطلب 
ٹیوت الحمس تفصیلا ص۱۰۴)۔ بی نیلم خیش ےکی ای کی لک 
ھت ٥لیا‏ حیلم کوم ا٥ل‏ ہواازعت ہے۔ بیدوسرگل ضروریات ال 
سض ت سے ہہ ںکرا نا پارکریس : پرعت ہے۔ ۸) نیک ملی ال دعلی یل مکوبلا 
اتا لوم خ کی ہر رجزگی اعم حصل ہوا۔۹)آ پ می علیہ ول مکوشن وت 
قیا مت کاعلم حاصل ہوا۔٭ا)نشِں ملہمتدرجات لو کم شی ماکان دما یو نکیا 
تقصیاا تکاساراعلم حاصل ہوا۔ا۱) یں ماکان دا کون سے زیم عطاء ہوا جیے 
اور ماوراۓ قیامت وغیر۔ ۱۴) آ ی٥ی‏ اولعلیہ نیل مکوتقیقت رو اض مبھی 
مال ہوا۱۳۰) مکی ال علی ےی مکویات تتغاربا تکاعل بھی حاصل ہھا۔ یہ 
خربی ۷مان ال سنت کے مایان اخنافی ہیں ۔علا ءا برفتباء یی شی کا ائل پاش ن 





۵٦ 

لقن حر سے ان پارے مین اختلاف ےک جوعلو ال تھالی نے نی اکری می 
ا علیہ وم مکوعطا رم ۓ ان می علم روح ؛ اشیا یش :ابا تق رآن :اکم 
قیامت دائل ہیں پائیں ۔پہلاگر دہ جان بحم لکیا اوک رفا کرام اوس ین جا 
عموم گے میگ رپ سات ا مورشیل سب کااہما رح چلاآرہاے- 
( لیس الاخ نف ,]دی رضسو ۵۳:۲۹ ؛” ”رما القھا ر/۲۹:٣٥٣)‏ 

' داسف نظ اکنانی علیرال جہن ےکھی ان خراہ بک فیلات وحقیقا تق فیا 
اوج مالنقای کی نہب رفا شر وسط کی ات دکرفی)کراے بی متارشخّن 
قرارد کر ارڈ توالی نے ان اشیا کاعلم اپ حوییبسلی ال علیہ یل مکوعطافبایا- 
ھوں نے اہنائی رود تلق ار بھیفرمائی: 
"لا خلاف بین أھل العلم کلھم في أنە صلی الله عليه وسلم کان معلما 
من قبل الله تعالی بالمغیبات الکٹیرۃ التییٰ لا تنحصر کثرة وعدداء ولا 
ینقضی ظھورھا مدی انعزر ابداء وفي أنە أوتی من علوم الکوائن 
الماضیة والحاضرة والمستقبلة ما تعجز عنه عقول البشرہ ولم یوتە نبيٍ ولا 
رسول قیله ووقع نراع وخبط شدید ووھم بین المتاخرین: من المارقة 
والمغاریة فی انە علمه صلی الله عليه وسلم کان مفحیطا بالاشیاء کلھا 
حفٰی الخحمس والروح وما هو بمعناھما او غیر مخیط بھما الخ“ ین تام 
اعم ےوران اس بارے می ںکوئی امتلافنئی سںک یآ پل لی مالتحا 
کی طرف سےا ےکی شی علوم کے عالم ےن نکی تحدادوکشرتسیاشار کی اور 
ان کانمپورئی ز ما ےگزرنے ےم ہا درا بات پگ ای کاخاق چلہ 


ے۵ 
پم٥لی‏ ا علیہ کیل مک اضی ء عال او رتفیل کےا ت علو کا نات دئۓ گے جن نکا 
اک انسانی لی ںکرنے سے ماج ہیں اورآ پ لی علیہ لم سے پیلسی نی 
ورسو لکوت علوممنیس دی گئ۔ شھرقی درب کے متاخ بین ال یلم کے درمیان 
ا بارے میں بت شد بدا شتاف ووجم یل ڈالۓوالا ھھزا ہوا ںآ پںلی ال لیر 
لمکا مار ککیاقاماشیا,شٹمول ا مور درو اورجوا نکیاط رح امور ہی ںکاعیط 
ےک با( لاہ القلوب“ المقضید الاول فی بات احاطة الذات 
المحمدیة بالعلوم الجحدیدة الکونیةہ١:۱۰۸)‏ 
اس عپارت سے امام اتد رضاعلی ال جم کے اس قو لک پورگ رخ تئیدہول 

ہ ےکعلماء ال سفنت کے درمیان جو اختلاف ہوا تھا دہ چند اجماعات کے بعد ہی 
ہواٹھا جک ین ان اج گی مسا لکاچھی اکا کرت ہین ۔ 

”نما التارگ لکٹرالکفا “تیحالص الاعتقار(فَآری رضری, ۲۹:>٣٢)ٹل‏ 
الف تی الع کےخلیفمول ناسیزعبداہشلن رم اکھت :”ان رعلاماال 
سزت سمل قیب کے اختا فی حعددد می شبت دنا پرمعاذانکفرکی تن غلال 

اق قکابھ گی :وکنا کہ پیل مات ستلوں پرایمان رکتا ہل خیب سے 

سال ضروریات دیین ادرضرودیات ال نت ے ہں]+ا ران پا اخّلانّْ 
0 کا انا رمق لقلب یا دنا بر نہ وجدمیا مال تی کے س الو ںکو ے ےہ 
محسول ایی اللہ علی یلم کےفائل سے یلت اور جہا ںتک ہے نیع کوک یکا 
راہ لے ہیں“ ا عبار تکامفادیہ ےک ۔(الف ) علا ٹون نے اجھا تی حدودغُْ 
اتل فی سکیا اش نک خلاف اجمائی عدددش بھی ہے(ب )او راگرکوئی 





۵۸ 

اہوا گی عد ولیک کےاختلاقی عدو کے سان یں مر قلب ڑئی بکقید یک بج 
سے انکارکرتا ہے کیہ اشن برا مھا یکاہ اوراس وج ے انال لال 
شک وت سے اذا کسی کو سکی ای یی اتا نس کا مال 

کم ادوللگمردہو ںکو ایک جی ھن رارنلشی ے۔ 

ری نکوتعیکرقو لوم میں دی اءان بے 

امام ال سنت علیہ ال رح نے مکی نکاروکرتے ہو نے فربایاکیقو لم وم ىیامان 
کاراستہ ے۔ اسل ےکہآیت تیا نکا ظاہ ری عموم سے او رت (ی]شنی جا وی )کی 
طرف چان ےکا با ح ثکیا بی ےکہانقدرب العز تک قددت میلک سکروہ اپ 
ا حجی لی ال علیہ و مکوقھام ماکان دما یو نکیاتخعیلات پشعف ار ے؟ یچ رای 
کی قررت می فو فیک معاذ اجک ریپسلی ال علی یل مکی اہلیت ‏ سکوئ ینام 
ہے؟ ( نباء الحیٗ“ ص ۱۱۱) نال الاخنقاد( ای رضو بی ۴۴۸:۲۹) شش 
مدکی ہیں : نقم یں عبات خوش می لا وہم وضو موم میں دکھاکیں گے ء 
پچرنلواہرق ران وحدیث وعامراولیاۓ ید حم وحدسیث: ہمادےساتھ ہیں ءاورای ٹل 
مار ےو یی ال علیہ ٤ل‏ مکی فضیل تک تر تی اورقرداسی باارے یش ا کارب فرب 
چنا کہ فَعَلمَك مَاَم تن تلم وکا تصْل اللہ عَليْكَ عَیٰماپ4 زالنساء 
۰- سکھاد بات یں جپیقم نہ جات تھے اورال اض ل تم پر ڑا ہے“ جے الد بڑا 
کیا ےمان ےکیکرۓ رمعہز الگ وذ پل دا سوفض لی چھونااو قرب ہھ 
گگ رہم نے نطواہرق ران وحد یٹ ونم بات عاتم ظا ہرد باعن کے اتا ےمج 





۹ھ 
رسول انڈی٥کی‏ ال علیہ ول مکی زیادہ رفعت شان چا کراسے با مان تق راتا ی ار 
کیأل ورس کےحبی کحل کی ۔اوراگر داع میس دون ای وییای بڑا 
ہے اورقم نے پرخلا لوا نمو ق رن وحد بیت اسے اکا ادرکچوٹا جانا ہا رامحابلہ 
مککو ہواءفائٰ الفریقین احق بالامن(القرآن۳:۳٢)‏ ”خا لکرلؤوضاف ری 
زیاد نا ان ٤ے؟“'۔‏ 
امام اتدرضاعیہال رج کا تجیان ق رن تلق موق فکاخلاصہ 
ا۔امام اد رضاعلیرال رکا موقف ب رتا رق رآآن ہمیدکا ایک نا ہر ہے اورایک باشلن 
ال ایا مکعلم اع نت رآن میں ے۔ 
( ”إنباء الحیٰ“فصل آخر فی العموم وذکر بطون القرآن۹-۳۹۰١)‏ 
٣ق‏ رآن مجیدکا ہرز کا ریشن بیان ہو نا صرف ٹیک ریم علی لص والسلا مکیلے نا ص 
ےجس سے مہ ہرز لا ز نی ںآ کا کیل بھی وہ الا تی رڈشن بیان ھ۔ اک ا 
تقر فی رشن کے کلعڈ 'شیء* شش ھی سکیضردرت پڑاتی ےءتہ کلمۂ 
”تل“ ک زیمت یمک طرف رن کی حاججت ہونی سے جس طط رع ٹین نف رین 
ن ےک لکوکشی ر کے“ تی می سکیا( ”إنباء الحی“ء ص ۰۱۸۸٠۲۰)اوزتاعالکاۃّل‏ 
کرناپڑتا ہے۔ امام ا ضاعلیرال رجمہنے ''إنباء الحیٔ“ (ص ۱۸۷۔۲۲۷) ٹل 
ایت حون سےغابت فا ایق ران بیو پالواسلہ یا نکہناجش سط رح قاضین 
اعاپ نے تاد کا با اس میںلض شیا کی علم او رح کا لی ماننامعی تین 
کعا نچ سب ۸اعلال ےفاءا ےک۔امام امرش علیرا رمک 


7 
عم وضو علیہ لصا والسلا مکیلنے غاب ت فرماتے یں وو تنا ھی ءعطائَی اور ما ان دىا 
ون“ اون یھی ہے ہکاہک یس تھا اکہابشرائۓ وگی رے 
یی کی علی ال والسلا کو ہرم جو زار کی حاف٥‏ لاب یقاک.زو لت رآن 
کیل کے وقتآپ لی ال السا مع ماکان وا کون سمل ہوااوروصال 
پاکمای سے پل عمننی سے فیک اور ال دن ےآ خر و نک کے تا مک وقاتے 
کےعلو ما اعاطآ پلعاً ال تھا۔امام امررضا علیال رم نےي نویسلی اشعلی دم 
کیلع پمیش نی دای احاط کل ہکا دوگ نیل فربیا۔ چہا تک متام ہعلوم ما وراے 
قیامت وذات بای تالی دصفات کا اذ مآحض رت لی الڈرعلیہڑملما نکی یں 
پاں اٹ پیش اضاف بو دس جولاصسی عد بر جاکننٹس ر کےگا (خی تنا ی تن لا 
ھی عنرحد) ۔ ہم امام امدرشا علیہ الرحمہ کے مدعا کی دٰیل پزبان فئی یش یو ںی 

خرگی: یق رآن یل مور ے بدلیل آیة التبیان. 

سکہریی :جوف رن میس اورے اکا می اکرنصی اشعلے ےل یلم نات 

نیز اعم فی اکر علیلصلد و والسلا کو ے۔ 


٦آ‎ 





امام ام دضاعلیرال رح مے م عا کی چامعیت 
آیت تقیا نکی رشن یل ملک بین کے یی سکردوسارے اخ تزاضات 
کے با (۵) جا جواب 
جس نے پچ تق ررکوکیطرح جان لیاد رین وسحت کم یسل ال علیہبم 
کے سارے اتا امات کے جوابات ایا ای کفآیت تمان سے د ےتا ہے۔ امام 
اتحدرضا علیہال حم نے خود انباہ الح مب تر ف ال ےکم ہس نے ڈمارے 
اتدلا لکویھولیاد بر کے اخت را مخال فک جواب دےککتا ہے اور ہراعتراض 
کے جوا بکی مک ای کآیت (اان کا ہے۔ الل اکر آیت تین سے مت 
دع تلم بوکیسلی علیہ نیلم پیا استدلال جو ردیل مخالفک جواب بن کے 
امام اج رضا این داجیا پہادے سی دوس ری تصنیف می نہیں گا 
بیآ پک فآ ناٹھی اورش رسو لکل ی اشعلی م کی پبترین مثال ہے د کے خود 
فرماتے ہیں: 
”ال کاشگرواحمان اکصرف بد ان( آیتتقیا نکاعمدع )جی کے ہردلنل وبرہان 
سے بے پہدادکمرد ےگا اوراگرمری تاب ئ”الدولۃ المکیة یش اس وبتل کے 
ساجھاینے بج پرانقاغرمائ کوک اوردیل نہہوتی تو وتی بجھےکائی دوانی ہوَی “_ 
("إنباء الحيٰ“ء ص۹٢۱٣‏ ”الدولة المکیۃ“ ص ۱۱۷) 
آیت تیا نک مندرجہبالاتق رہم مکی بنا پمخلشن کے سمارے اعتراضات کے 
شواب دسینے کے امام اق رضا علیہ الرحمہ نے مندرجہ یل پا (۵) ری ےتلم 


1٣ 


فرماۓ ہیں: 
پلاطریقہ:انا ت أنی کے داال کے درمیا نشی نیوں دی جات ۓےکمہاشیات دالے 
لداع لی دانے دا لکوذئی عم مو لکیا جا ات دا ولا لک 
اجیاب جزئی ہو لکیاجاے اون دالے ولا لکواحال ہکا حقیقہ بیو کیا جاۓ : 
ہک رفص ق رہ بیں تار نآ یت ین اشبا تع مکی دیل سے بل ہرنن یع مکی 
سڈ 

ٹ :امام امدرضا علیرالرم ے"انباء الحیٰ“ اور”الدولة ات 
سو :زاول ) ذائی دعطائی (دوم )میتی ہغیری تی ب رد 

آ ییأفی واشاتکا جو اب ڈق میں ۔(”باد لح“ ص )٦٦٦٦٦٥۸۰٢۰۷‏ 

وس روط ت: جمارے مرعا سے امورغی رتا ہہ بات لکاعکرمیط خار ےڑا ہمالنا 
کے عا ملک گنی سکرتے ا ںتضورعلی اصلو ت والسلام کےک رکون کے بارے یل 
می ا نت ہیں(ا ور ہار اد ےی تخب می تضورعلی اص لقوالسلا کو 
ان مو رایعم ہوگا )اور یھی ےب کےیلم کےغیرتناہی او شی عند 
حد ہو ےکا ار تضمورعل لصاو والسام کےعلوم پمیشہ بت رت میں او کیا ع پہ 
یں رتۃت ۔ اس لئ اس انقبارےآپ کے مو خی رقنا یکنا درست ڈول ہے- 
(”الدولة المکیة“ السوال الرابع ص ۱۳۳) 
اسلۓ" مت نک یکوئی السی دی جوان امورٹی عد لم کے پارے میں ہیں نقتصان 
یں اگوی ماکان دا ون کے اعا مک سے جیون جیا ای لی و“ سے 
خابتکرپیے ہیں 


اتیرا 
تیس را طر چقہ ہحضورعلی صا والسلام کے علوم پوت تفکنیل نزو لق نگل ہو ے 
ہیں ء اسلۓ نذول قرآ نکی کیل سے پیلہ کے واقعات ودلال جن میں مکی ی 
ہو ہمارے وگ کونتصسا نگل پچیاتے اس لے یاصفی مس او علیہ م انیل 
اروی ۓآ یت ان دفعۃً و احدۂ یں ہوئی ترجا ہوگی اسلغ کہ 'تبیان لکل 
شضیء “ کا زی فک ای کآی تکاننیس یم لق رآآن جیدکا وصف ہے۔ تال فک 
بدا نکیل :زول ق رآ نکیکوئی ول متبول دکھانی ہوگی جوموع مآحضرت سی ار 
علیہ مکی ا ہو”ودونہ حرط القتاد“ ّ ورتہ باوج پا ھ می کی بات 
ے]۔ 
چوتھاطریقہ: بآ یت ت رآلن جس ے جارااستدلال ضر تین ہے اورا کا رز 
کی اخالی دمل سے یی یکرنا نا مقبول وپال ہے۔ مہ جواب الع اعاد یٹ تل 
الا فکوکائی دشائی سے ج جارےمخاشین !کی کر تے ہیں سواٹچی یی جا وی کی 
٤‏ کیو ٹکو یٹ تجیان کے موا ف نکیاجا گا- 
إانچواں طریقہ: بیلص ق رن تلتی سے اور اعادیٹ آعاد ای کے مار لنٹ 
ہکتی_ اسل ‏ خاش نکی بی لکردو اکٹ اعادی کیل جوا بکاڈّا ہے۔د ہآ ھاداگر 
صا اویل ہوں ق انی میں تا وہل ہوگی درب محال نہہوں تو واجب الر نی 
ری شی کے محار قبول نہ ہوگی دہ ائکی درجیجححت پربیکیوں ت فا ہو۔ ج نل 
تی ےآ حا زی یکا تال درس تی ہر ےگا تذ قول خلاں وفلا ںک کیا حقیت 
ری کے ("إباء الحيٰ۷٠٢٠٢١٥٥)‏ 


ای 
02 کا تبولبت کسلع 75 مر کا 
ہار و یکفقی حا تکرن ےکیلے می نکواسی وی یی لکرفی ہموی جومندرجہ 
و بل اڈ کاگاجا اح : 
7 321 ھی الد لال والشوت ہوگ ئیہو 
(ج )نٹ یلم را لا تکرےاشالی نہہوکیم رت کے متا ے یں ال مردود 
ونامقبول ے۔ 
(3)ز مضہ بع یل نزو لق ران مھ رایعم پردلالتک/رے۔ 
(4) ہمارے ظو یکینیٹ اب تک ری بہودیل خخالف صفات وذات بارگ تال ءیا 
امورغیرتناہیہ پافنل اورامورآخرت کے بارے بی مہہکہہماراان کے بارے ٹل 
وکیا حا نی _ ہہار ہاش نبھیکھ یکو ای دلی یس لا سکت اکر چردولکر 
ما نک کین مامت الا یع 
(”الدولة الکک ص ٤۸؛‏ ”إزاحة العیب“ فتاوی رضویهء )٢٣١٥:۲۹‏ 
تار گرامی ق را آپ نے ملاحظف را اک دنا ےن کے اس بٹےتا مم بادشادنے 
تق رآن دی ایگ بی آیت سے الما شانداراتند لال ف بای کہ چراعت را تال فکا 
جواب اک ای کآ یت مقدسہ سے دیا جاسکتا ہے او رتا جہات اک ہ ےب رجاتے 
ہیںء وسح تیلم خہوی پر اس ظر کا اتد لال اور ود اک یر یھ نشین ومتاخ بی 
کیک ی کاب میں سک اود ای ایک استند لا لکی ردے میں سی کے پیمجبورہو ںکہ 
منلہ دسح تملمنویپرموادد ین والوں جس سب سے اہچوتاء تاجانم 





1۵ 
انتدلال امام ات رضاعلیرال حم نے پیل قرمابانے وکم ترك الاول للآخر۔ هذا 
ماعندی واللّه تعالیٰ اأعلم تاموا رای 
امام ات رضاعلیرالرجم کےاستدلا لک انفرادی تک ای اورعثال 
پیک دا تا ہو کا ےک۔ا ماما رضاعلی الس کان ر یضرف مبیائی تارتخور 
علیہ اص والسلا مکالم ماکان وما کون تک محدددہے بلہ چند جہات نے انھوں 
نے اسے پیش ککیلئ تر قی پذ گی خاب تفر ایاے۔ائ لن رسک بفیاد یراو ںمفو ناکم 
تضورعلیاصاؤ الس لام کےعلو مال حص ہوا "کین پ علیہ الج والسلام کے 
علوم میس ذات وصنمات وامورآخرت ک ےلم (ج ن اتی امورخی رتا ہی پا ا لے 
ہے) کا اضاغہہدر ہا ہے ا سے لو ںکفو نمی انیس دوکھی ہما رےتضورعلی الج 
والسلا موی الترقی حائصل ہود پا ہے+اس دوک پرامام اد رضا علیہ الرحمہ نے قرآلی 
اتدلال یف مایا اس سے پچ ےکس دہ الال پچ کرو ای ک نمی با کنا 
ضرور ینتا ہوں اوح شحفوط کے عو ما حضور علیہ الصال ۃ والسلام سےعلومكا لضل 
حضہ ہونا صرف امام ات رضاعلی ارجم بی کا نظ ینیل ۱ امام وی کی رم الڈعلیرنے 
بھی تصیدبردہ یس بی اخ نا وا شع کی صورت یں نا ہرفرمیا: 
فا 2 خؤدك. الدنیا وضرّتھا 
وین علوؤمك علم اللّوح والقلم 
علامہابرا لیم ورک علامہ تن زادۃہعلا خر اود طاىی ایہم الرج کی 
شرد بردہد یھن سے وا و جات ۴اک۔امام اص رضاعلی ارح اپنے ا آظریییل 





٦٦ 

اننس اور بیاگی یادرہ ےک مح شی نکرام برددشج ری فکیاسند رس دی دلاتے رے 
ادداسے پڑ سے پڑھاتے رہے ہیں ادرصاحب پردو ٹیل القد رم رشن ملا ام۶ 
ال بن ان جساصہ*ابوا من سیدالناس اورایام مر سن ابوحیان انڑی کے ہیں 
جن کا ذکرامام ا تدرضا علیہ ال رہ نے 'نباء الحئ“(ص )۴۲٣‏ مشش اورحافظان 
ری نے ”افضل القری“ شس فرایا۔اسی ر) ہندوستا نکیعلی فی دنا سے 
نامور عالم ء امام اتد رضا علیالرمہ کے پردادا اتاذہ الوم ححفیت علا عبأكل 
نی رقرہ ال رعلیہ ن بھی وسعم تلم نبئی کے بارے انی اپناخقیارہ ظا برغ ماتے 
ہوےککھا: 
”علّمه علوماً بعضھا ما احتوی عليه القلم الأأعلی وما استطاع علی 
إحاطتھا اللوح الأوفی“ إلخ 
(حاشیق شر میر زاھد علی الرسالۃ القطي ص١٤‏ ”لفیرضات 
الملکیة“ ص ٠ .)٦٦‏ 
تر جھہ:''اورا لہ تھی نے ات پحو بی الل علیہ یل کوٹ( ایس علوم ھا نے جن 
پیم اع بھی حاوینیں اورلوح اوفی (حفوظط )بھی شن کے احاط کی قدرت نٹ 
کت“ 

گگرقربان جائوں امام ابل سنت علیہ الرحمہ پہ جنہوں نے ق رآن بجیرے 
احتدلال ٹپ فرماکر اس دنو یکودیل سے عنری نکردیاء دتل یوں ارشادف باگی: 
رآ نک ری مکا لان ے: 

کل مَمَاحُح تقایل 4 (النساء:77]۔ 


٦2 

ضےص‌تن‌ہرے/ارجضللاننڈلناہ وپ کیپ 
ہے؟روزاول سے روز خرمش قیام قیامتکک دنیاکہلائی ےق یسب نی ق رآ 
کی رو ےیل ہوا۔ اویل صلی عای اص والسلام کے بارے میں ارشادد بای ے: 

َرَعَلَمَكَ مَالَم تَکنْ نَم کان نَصْل اللہ عَليكَ عَییہ )4> 

۲۱١ [النسا‎ 

ق آپ علی ااصللۃ واسلا اعم ا رن سکی رو سے او تال یکا نض لظیم ہوا 
اورا ہر ےکر جیلخ لکقظیم ہد پش ل تک دی مم رددنہہوگا بی مککیے میں میاراز 
کردا چاعلم ا سای مل ا شححض ہے اورتضو علی للا والسلا الم ال سے بڑھ 
کر ہے !لو ں فو می سکیا ہے؟ ای دا الم ہے نی اکم لی او علی ہل مکاعلم اس 
لو ںفوطے یلم سے زاند ہوا۔بجن امو رٹیل وہ زکد ہے دواحوا لآخرت وغیرہ 
یں وق فی کہا زیادلی اعم یادپے دانےکو ہے یا لن دانےو- 
نوٹ :لو ںمحفوط بیس بت ناکما ہے تنا ہی ہے اور تنا یھی تنا یل مکحاک کی سے 
ای سکوئی تی دشر الیل ءکذا فی شروح البردة 
(”الدولة المکیة النظر الرابع؛ ص )٦۷-٦٦‏ 

بی خلاصشبنظابکم ذن:الححضر تیم اھ رتبت امام اح زضا علیہ ارہ کے 
مرعا اوران کےٹن اہم استقد للا تکا جنیر نے اپنے اس دکوکی یس جی کرد یے 
ہیںکہانھوں نے وسع تلم کی صلی اللرعلیہ یلم پر چجوطرذ اترلال ین فرمااگسی 
دوس رک یکتاب میں اس انرازوجا محی تکیسا تھی س نظ رآ ہا_ 


1۸ 

ارہ ا:تضورخزالی زماں علا سید ام سعیدکاٹھی علیہ ال رح کےآیک نا مورشاگردہ 
اہ نون خرییراستاذ الاسا ذو حخرت علامہخلام خیدرصاحب دا مخ( آپ ڈاک 
مفتی لام سردرتماددیی علیرال رح کے استا ذچھی ہیں )ءسا اتی در یدرک دبارعالیہ 
سال شریف( مرگورھا) ٢ن ١۱۲‏ یی ایک علاقات کے دوران اف مانے ےک 
ہم ای نک مد مات مسلمہ بن الف لقن سے اس مل می یں انا مد عاتلیم 
کرنے پرجیورکر کت ہیں: 

مق اولی:تضورعلیاصل ‏ والسلام اک رتا قاوقات ک عم ےئد ہے۔ 

مقدمثاحی: لو ںقمفونگی الو ے۔ 

نج حضوعلی لصا والسلا ماع ملو ںمفونط سے ز اد ہے 





1۹ 

متصرروم: 

مرمین وسص تلم نببی ے۹۴ اعتزاضات او رشجہات کے جواب 
اپھرخوٹ: ال ین میس جہا بھی لف اض رین با خاش نآ یا سے اس سے لا زم سک 
گی من حیث اش مرادہوں ؛کیون لف اعتراضاتختلف فرقوں نے اٹھاے ہیں نز 
کی نے ووا شی ےکی اغترض کی این کے دہم می بھی و“ 
کے تن ےمم نے ا نین ہی یڈ اب د ہے ہیں انلم پا می : 
مل ہز می قوت مل وتاے کما فی عامة کتب المنطق. ک-- 

(4) رین زاق عل او حطائیعل مکی یں ما نے اسلۓ جن نز مرأئ نم 
ذائی(ا تا ی )کی ہے اھیں اتا نت یعلم پو لکرتے ہیں چیہ اینانھرنے سے 
یت تق رآ ہیی تعارش لاز مآ نا ےک ٹن میں تو علم ہون ےکا وت ہے اورٰنخش 
بظاہر ا لاد اور قرآن میں فے ہرگز تار لنڑیںء ای لئ مفسری کرام نے 
تر جات فرمائمی کہ جہاں انار ہے دہاں عراد بالات اور استقلا عم ہوت ےکا 
انار ےلشنی اسم ااصلۃ والسلامازخ رق بکی خر یں جات بک اتی 
کی عطا سے جات ہیں ٦اگ‏ ذائی ادرعطائ یکافرقی نکیا چائےتعارض فی القران 
(0۲۵۸ہ )١٥7۳۵ 9۰ا٥۸ ۲ ٥6۹‏ کی بک خرا لی لاز مآ تی نٹ 
واشبات ایگ بی مورد پر ہوجائتی جھد اٹل ہے؛لہذاذ ای ادرعطائ یکاخر تچ ۰ 
ہے ناش نکادہم ہ ےک ذاقی ادرعطائی دح خیرم طکیاتی علاء کے نز گنی 
نامقل ہے چی امام ای نچ ری ءا دی دا خزالی میرکلا نے ا تیم 


2٤ 
گی تع فمائی ہے پگ ربج یکتقی رکا نشان بنایا جاۓ ۔امام اتددرضا علیدالرمہ نے‎ 
اور‎ )۰٢۰٥۹ مفمری کرام کی نصریجا تکو "الفیوضات الملکِ(ص‎ 
”حالص الاعتقاد“ (قوئی رضوب, ۲۹:م۲٠) ںی فرماریاے؛ ہزارتم‎ 
: عکمکا کرت رات خلا کشر ہے مثالیں‎ 
ط(زرنة نذیغ تب لب ِلافز4 رناسہ وی‎ 
هک لَا عم مَیْ فی السَدوّات وَالَارض القَيْبَ ِا اللہ رالنمل:65)‎ 
.50 فقُل ا ول لكمْ عنییٰ خَرَای اللہ ولا عم الچ زالأنعام:‎ 
.]101 نعلمهُمْ تح نیچ زالتوبۃ:‎ 

انس بآیات شأئی خواوالڈ تھا ۓ نکی یا ضورعلی اص والسلام ن ےکی ٠‏ 
د لم ذای یکائی ہاور یعطائیعلم کے نا نیل فا نآیات ےخضورعل اصلہ 
والسلام ے مطاق ات اكذ(٥ ٤٥0۷۷۵١9‏ ٥آ‏ ەنا٥َو٥٥‏ ٥انااہ55ح)‏ 
ثابتکرنادرستنئیں۔ان یں می با کہا ہج ےکشمل ال کے بنائے ہےکجھیاغیب 
نمی جاتا؟ یا انڈدتھالی بے بتاتا جیکیل؟ ان می فوفتط اتی بات ہ ےک نی ازخود 
خی بک بات ئل جا جہا کک بات ہے عطائیعل خیب عاصل ہو کان 


آیات سےا کا شموت ماما ے: 
جع الپ لد ور علی کیو اما پل تن انی ین رر 
زالجن:27 26] 


وَعَل تا لم تگن تم رگن تَمْل اللہ غیت عریےھ 
[النساء:113]. 





اے 
ون کان الله اعم لی التب ول الله تَعتِی بن رُسْله من 
یما زآل عمران:179]۔ 
شو تلم عطاکی بر اعادیث بے شار خؤں چ"الدولة المکیّة“ (ص ۷۰) وغیرھا 
کب میں پانفیل موجوروں۔ 
فا۷ :طرف یہ ےک اشن کےمعتدیداص برڑگی علیرالعہئے 7رسالة فی علم 
ایی صلی اولعلی نیلم (قلی ) کے' مطلب مانی می ٹیم ذاتی (بلاواسہ) اور 
عطائی(ہالواسملہ پک ھا ے_ : 
فاد۳۹: جو خی رخدا ےم فی بکی مطلقا کڈ یکر ےک سی ط رع عابت دض مانے 
دوا نآ یا تق رآ کامنر ہے جوخا تن ماری ہیں اور جومطلقا اس ط رح اےغاہت 
کر ےک یھی وج ےئن ہانے دوا نآ یا تکاش کر ہے جن شرڈٹی ہے ۔یملمان 
تس بآ مات پرامان رگتاے۔(”الدولۃ المکیۃ“ ص۳۸) 
دا۴ :لین نواین نےہیاتأفی واشا تیم میں ہرم یلم سے ا کامعقی مص در 
انتا می لین ملق ادراک لیا ہے جی ہآ یاتنئی میس الررب الحزت نے جھ ںعل مک 
اپنے ساتھ خائ کیا ہے وومعنی مصہدرگی انتائ یی کیو معالیٰ مصدر یل انتزار 
تع کےا لع ہوک فان ہوتے ہیں (کماٹی شر ملاع دالفقوری'الفوائالضی می *ٴ) 
مخت پاری ثعالی فا سے بہت بالات ہے۔ اس سے بی لا مآجا ہ ےکن 
واشا کال قرآن می مورد ایک ہو اود یوں ق رآ نمیم ایک زبروست 
تا لازمآیگا۔ (”الفیوضات الملکی“ءص )٢٥‏ 
رو2 لپ ز انا نشین ید شن نی حصروالیش :نچنفراککتانیعلیالرمہ 








۳ 
کیافقین کےمطالن(''جلاء القلوب“ ۱: ٥۸‏ ١و‏ کی خیب دیے نے 
کے جوانے سے أصس زی ق رآ پگل:<طلر نک ہیں: 
(۱) ونس جن میں بظا توق سے ہرفی ب کاٹ کی ہے ۔آ پ ن ےآ شصفات 
می ا ننص و کوٹ ف ماکان کے جوا ب گیا ری ئے۔ 
(۴) وونی جن می قاممکا نات کےعلمکونی اک کی الل علیہ ول مکل غاب تکیا 
گیا لان علو مض کی کات (لمان۳۴)او رت یقت رو الم اس ای 
ہیں _ این بر جمبو رم رشین ء عارۃ ااعمماء اورفتما شی علماء اہ رکا اخفاد ہے 
(اشی میس سے سییرامھ پرزی محتی شا فی علیالرجہ ہیں جنہوں نے اص اس متلہ 
میں امام اتد رضاعلی را حزے م ینشریف ٹل اخلا فکیاھا)- 
(۳) وونص وی جن می لی الا طلا ق اب ا یخلق سے نےکرا نچ ۓل کت ککامیات 
نی زیینوں اورآساوں سےوقید ہز +کاعلمآ پ مکی ا علیہ یل مکددریے چان ےکا ان 
ےجس میں علق لم و کی تا قعلا تچھی دائل ہیں ۔علا تا علیرارجمہ 
فیا ہی سک ان نویس پر اکا شقن مع راودا وا صوفیاء وائل ہاش نکااعمادے 
پچ رآپ نے ص۲۳۲ سے بےکر ۶۸۸ تک اس فرب کے ولاک لاشھبیل سے 
دیے۔اک مرج بک بایت اکا یقول مقداول کر چکاک تق رق ے 
شس سے پارے می سی منص فکوشن یں وسکتا اور ہمارکی ا لتصنی ف شی احلاء 
الوب “یلد کے دااکل ٹڑ ھن کے بعدسوائے ان بو چک فلت پر ت دانے اور 
منص ٹن کے اورکوئی اس سے اختلافنمی کر ےگا ۔ بی دن موقف ہ ےج کا 
سارک زن رگ اماماحمدرضاعلیال رم نے دفا:پچارگیا۔ 





و 
فاحد*٦:مزایون‏ جق اقوال فقہاء یا سلف بی کر تے ہہیں جن می لمهرفی بکی نہد تکو 
لو قکی ططرف ضسو بک رن کوک رکہانگیا ہے ان ےلم ذ انی جی مراد ہے ددرت عطائ 
کے دوخ دقال ہیں اکن انان کےسیاقی وسیا کلام یں ہوگی نا ایس دوسری 
ہہ اور گھی ہو خود اہ رکہ اقوال علا منوس ق ران وسنت کے موافی بی تھے 
جائیں گے ملا ظہہوں ای مشا نی :فامد١۱۳-‏ 

( مالس الاعمنقا :”فی شارخ ارگ )٥۷۹:۱۷‏ 

جاریٹی فائدو نے : قطلب مغرب علا مہ سی مم می نت مفراكکتالیٰ علیہ الرمہ تے”'جلاء 
اتل 'ثریف ای زان م رای جس زمانے میں امام ام رضا علیہ ار کی 
”الدولة المکیة“(س نتعزف۱۳۲۳ھ) من سینلی علتوں میں دائڑتی سا 
کاب کےآخ پروہ گنت یں ووافی لي الفراغ من تبییضھا بالمدینة المتورۃ 
ذات المحاسن المشھورة المسطرة عشیة یوم الخمیس آخر یوم گآھن 
جمادی الٹانیة ام ثلائة وثلائین وثلانمائۃ والف“ لق جا القلو بکامبیہ 
٣۳٣‏ سرةز لن مد یعطیبہر پل ہوا۔یردہز مان قاجب علا بکتانٰ لیا لح چھ 
الام ٹس مندرات کا دیس دیاکر تے تے اورد ہا لکن ۱۳۷۸ <د سے دوسرک دفنخرب 
سے جج رر تکر کے اتقامت ڑم تے اور بیدہ زمات تھاجب ”الدولة المکیة“ پرا ئل 
ینہاپے تیر ےکگحدر ہے تے (ال مد ینک تقارینا از ژ۱۳۷۴۴ھم ۱۳۳۲ کٹ 
ہیں ) او راکش ائلعلم نے امام ام رضا علیہ الرحمہ کے موق کی اخ کی ۔ینخ علباء 
ینمطلامفقی شاف رسراموشرہ یف پر زی عرعم اوران کے شاگردعلامہگپرالقادر 
راڈسی علا ءا ہ رکے موق فک تا ئن کرت ہو ےم سک یتیل تکو نی اکریمسلی 


۳ 
علیہ ہلم کےملم مبارک سے خارع جات تھے جس وجہ سے اٹھوں نے ٭الدولۃ 
المکۃ “ایک نشست مس سے کے براس سے مال نمی اختلا فکیا اوراسی وج 
سے الن کےق ری شاگمردوں نے بھی ”الدولة السکیڈ کی جائید تفر ماگی۔ انس سے 
پیل دونوں رات نے امام تدرضاعلیہ ال رح مکی صاممالھرشن پلقریزطا ھی اور 
ا نکیتریف فرمائی تی یہ ہواکرعلاء مر یرمس پالفی متل وس تلم مویصلی 
اعلیہڑیلم کے بارے یں دوگروہہو یے تھ: ۰ 
ایک دوس نے پری رح ”الدونۃ الک ة کی جا رف رمائی(چھیں چان گرم 
آا تکہنا ا سے )اورایک دو جوعلا مہ برزنگی کے وقت پت الین فصو آیات تھے 
جس وج سےعلامہکتائی نے ”حلاء القلوب کا فیصایظر مایا او رتا بکانا کیہ 
رکھا جوقا شی نمو مکی وی ایت پردلال تکرح ےلان 
”جلاء القلوب من الاصدا ء الغینیة 
باحاتہ صلی الله علیہ وسلم باعلوم الکونی“ 
دلو ںکوفارخواہشات کے زنگ دتے ےھ راک نے وال یکتاب١‏ اس لے بیان 
می سک یآ پ لی ال علی لکوت خلو کات کا حاط حاصل ہے'۔ 

اد ہہیا لا فک ابی مل پناس سےگراحی پاکف رکا سیف ربق 
کی لگایا جاسکنا ( ”رما التھ ز فیاوی روب ۴۱۴:۲۹)۔ اس جوانے سے لام 
بر کی طرفضوبدونییں نے ایک رسالہ”غایة المامول“ بئدوستان ٹڈ 
شا ئ کیا جنس می نال ھی پپلوونکر ند زکیا یا ادر دروخ وگ اورگا یگل کو 
داق لک کے میتانر دی ےک یکوشت شک یکئی امام اتد ضاعلیرالرحمہ پرنلا ےھ مین نے 


۵ء 
منلہ وسع تک وی صلی اب علیہ مکی وع سے برع تکا فی صادورکیا سے ۔عقیقت 
ڑے ذَْخدیِْ رز ساحب نذا یس فرمایااور تا لکا “رڈونز 
دلو بندایوں کے پانسں ہے جے دیکھا جا کے لدع رسالہ ی۲ امام اتد رضاعلی ال رجہ 
کے وت فکوتبد یکر کے شی لکیاماہے او رآپ نے انی حیات میارکش جا ال 
رنہ مم شتریف او زی نکی "فی رضات الک “ "ابا ایریا ہے 
المفتري علی السیّد البري“ ”رماح القھار“ ”خالص الاعتقاد“ وغیرھا 
تب درساگل می کہ ای ای نشانددی فرمائی ےجس سےحتی نکر نے وا لے 
کوائچی طرں ین ہوچاتاے کہ غایة المامو لکو غایة المعمول ہی کہتا 
ہے ۔ملااماماتدرضا علیرال مہ نے ”الفیوضات الملکیّةۃ“ل پ رزگ صاحب 
کے جدامچرسنیشھ بن بد الرسول علیہال رمک ج انے سے فر ما کہ ووکھی تضورلی 
اشعلیہ دم کیلع ا تاب "الاشاعة لأشراط الساعة“ میس وقت قیام ت کا م 
ا تھا کیا علام موہ أھی سکھیطمن تن کاناعہ گال پگ ما لضقلَ 
ہو کاف وی دے سک تے؟ ہرگ ڑہیں۔ 
فائد۸:نقیرنے مد نشیف کے مکی الھرم یں دیسر جار نے کے بحدعلامہب رز 
علیہالرج کا ایک رسیم ال سلی ال علیہ یلم کے جوالے سے جلا کیا جوا کے 
شاگکردش عبدرالقادرطرا]سی رم کے باتک ھا ہوا ےننس یں علام وصوف نے 
عم نہوی سی ال علیہ یلم کے جوائے سے الع مھی بت فراکراپنا موقت بیا نکیا 
ہے۔ ای کسی بمخص رکا نا مک نیس اورآخ میں یہت فر ماگ کہ جوعلا ررش 
رو ویر ہی ساد یتقعیلا تکونی اکر لی ال علیہ ویلم کےیلم میس داشل مات ہیں 


٦ 
دۃ لہ بی یں کا فرز فان :فلت :قد مال یع الععاعریخ من قرب عضرہ‎ 
"وو اع الال یع ہد بیع العازمات جی غیت‎ 
الخمس مٹھم العلامة الباحوري في حاشیته علی سلم المنطق المنظوم‎ 
(إلی ان قال) ومع هذا لا یلزم من قولهم المذ کور کفر ولابدعةلانہ مبنی‎ 
منھم علی تاویل تلك الّیات والأحادیث کما هو الظاھر اللائق بشانھ“‎ 
رج :اکر کی کٹ ا لے ماش قریب کے علاء متاخ بن نے فا اک پل‎ 
علیہ لم کا لم معلدمات یہا لک کک نیو ب نف ےکوی شائل ہے۔۔۔ان‎ 
کے کور وقول سے بلرعت لازم ہونی ہے نف ایل ےکردہ ال ننآبات اواعاد مٹ‎ 
کی تا ول پڑنی ہے لین اکا نکی شان کے لان میا ظا ہر ہے“ اعام ال سفت علیہ‎ 
ارہ نے ”الفیوضات الملکیة“'(ص۵٦) یش سید پرزی علیہ الع کی ال‎ 
عیار تک طرف اشار ہیف مایا‎ 
(مخطوط ”رسالة فی علم النبی تل“ مکتیة الحرمء المسجد النبوي)‎ 
ادر ےک علا ای علیہ الرمہ نے ابی عرصہمیں””جلاءالقلوب “تج ریف ,ائی‎ 
جب حر ت علیہ الرم اورسید برزگی علیرالر یکا اشتلاف ائل میٹ لور‎ 
بد چکا تھا کہ امتلاف علاءکا تز کیا جاۓ اورمت لف ہو۔آپ ا ستھیف‎ 
مار کک ابتداء یں فرماتے ہیں:‎ 
”کان قد وقع ہین جماعة من اُھل الظاھر نزاع فی إحاطة العلم النبوي‎ 
الباھر بالمکونات (إلی ان قال) فکتبت ھهذہ الرسالة الکفیلة ببیان ما فی‎ 


المسألتین من التصوص الحفیلة حتی یتبین لکل ذی بصیرۃ وبصر أنە 


ۓ 

الجناب الذي ما مثله خلق ولابشر وأنە المخلوق الذي أحاط علمه 
بالمخلوقات وعلم کل ما مضی مٹھا وما حضر وما هو آت“ إلخ۔ 

یی ائل ظاہ کے دزمیا نعل خوئیپسلی ان لیہ یلم سےکائات کے پارے میں 
احاطہہونے کے جانے سے اختلاف ہوا من راک پ3 
دونوں مسلوں (عل فیپ صلی صلی یٹ عل ےلم اور راخ رات ضف صلی دحل یلم 
یصو لک بیا نکیا :نظ داصیرت وال ےآدی پ دامح ہوجا ۓک ہیدہ 
جناب ہیں جن نکی ط رع شہکو یحلوقی ہے ندیشراوریچی دپتلوقی ہی ںکرجن ک ےلم اقلنل 
نے ماضی ءحال او قب کےترا خحلوقات ک ےی ما حا ط کیا ہوا ہے“ 

اکر چہ پور یکتاب میں اماممکنانی علی الم ے نام اصرضاعلی ال کانام 
پپاہےادتداان رزگ یکاگرا سکناب کےتاریی پہلو فظرکرتے ہو ےر کے 
سکوئی رکا و ٹن سک 'جلا القلوب“دراصل امام ام رضاعلیہال رح اورائل م یت 
موجودان کے مم ید بین کے موق کی تا یر راگ ۶ اتی 
0 ان۹۹:اما مخ ن تفر اکتانی علیہ ال رح کےفرزندسیدیھ زع اکتای نے ٦ر‏ حلنا 
ای الین“ میں اپن والد ک تل ککھھا کہ ا نکی امام اتمد رضا علیہ ال رح کیرات 
دوران رّ ( ۱۳۲۳ھ ) مات ہو اود انھول نے ”الدولة المکیة پرکلمات 
تد ب پیک رمیفرماۓ (افسو ںکہ یق ربا اب کک لا ند ہے!)اورامامامرضاعلیر 
امہ نے ا نک یکتاب''جلاءلقلوب “کے ار:اکرارٹ رای دہ اٹل دی چاۓے 
اک یی سےاسے پچھایں اود یوعد وفر ماک ٭٭ ۵ عد کاب انی کی جای ںگی 
گگرسیدکنالی علیرالرصمہ نے یع رٹ کیا ککتاب١‏ بی ناممل ہے۔التھالی دطان 





۸ے 
کوججزاۓ تی رعطافرمائے_۔ 
(”مجلة الدراسات الاسلامیڈ*ءاسلامآباداو نو ری ہٛارہ۲۰۳۵:۳ء,ص۲۵۷) 
(2) دو ھریل مکوسب اعلا م کے ہیں _۔ حا لان ہیفص می مل مک اتال کے 
ودہاں سلپ اعلام شی امیاپھم الد والسلا کون اتک کوک لی یں تا 
ہ ےک۔الل تھالیٰ نے ال علمکاجراپئی ذا کیل اس ل کیا تکاس کےاورناق 
کےملم کے درمیان فرق بیان ہوجا ےک اویل تھا لی کاعلم ذائی سخ اور باوراء 
الایاب ہے چیہانیا کا خطائی خی ذ ای اد ھاصل بالاسیاب ہے ؛لہذاچہاں حصرے 
نی ہز کیعلمکوادلد نے اپنے لئے کردا ہےنذوہاں مرادذاقی عم ہے اوراں 
ے عطائی لمکا انار لازم می ںآ جا۔شا لآیت: طذ الله جنتۂ عِل السَاعَة) 
(لنقمان: 34]. بافط رو٤‏ دص ملق اورتص خامص میس فر قیاہو سکرتے_ 
('اباءا “ءاوی رضوبپ ۵۰۳۰۲۹؛”(باء الحیٰ“ ص٤٦ )٥۸-‏ 
فائدہ٭ا: مرکو ہآ یت کےآخریی صے بی بوں ہے: اک ال عم شبِیر چ لا ون 
علی امہ نے تتقیرات اھ یں فرما اک ینگ اکیحنی معبر ہو معفا 
ہوگالش تال اشیا ےن باعل ا نٹحہوب بقدو ںکود تا ے۔ 
ڈاکرداا: جہاںممقی بکا جھر ہم وہاں عراوغیب' یا ےکی 2 پرکوئی یل 
قائئیں۔(”جلاء القلوب“٢٠:١٥١٠)‏ 
(3) وت" لم اتی ڈئی عم عطائ ُئیں۔ یراگ رچکیل ےل ےگرٹھوڑ ی لف 
ہےاس لک لی وی لکن باا با رضع ری اب یہاںمشلق ہے چا ےلم ذاتی 
کاخوت بط ہو یا خی رر ای عري وب یل بے ہی ںخلف ےلب 


۹ے 
رئیم کےاخقبار سے باعھچگیاادر یہاں وس یلم کے انار سے بات ہے۔ ای 
تق ری ہ ےک اگ رکی اتال نے اپ ذات یئ ارول اںڈیسلی اش علیہ یلم 
نے ال تھا یکیلنے کی کال خاب تکیاہے ژ نی نے کےیل رکی ہت ال تھا یک 
طر فک ےا اس کامعتی ہرک یی ںکردول 1ک ن مل ال علی یل مکوا تی عم 
حاصملی کی با الفاظ دنگر: شود تلم عدنت یملز نق نکی ۔( انباء الحيٰ“ ص )۲۷٢‏ 
(4)اخمیا عظام سے مطلقا عم فی ب کاٹ یکر نے والے مع خبدت سے خال ہیں- 
امام قاضی عیاض ماگ علیرال رت ن ےکتاب الشفا شل فرایا: النبوق ھی الاطلاع 
علی الغیب یی نبوتفیب پش ہونےکانام ہے۔ 
(”الفیوضات الملکیة ص ٤١؛‏ "انباء الحیٗ“ ص۴٢٦٦)‏ 
تو جو یکا تر جم نہبھ کا دو نکی تر ای کیاکرےگا؟ لت می بھی بی می 
ہے۔ ال ہے( جو عیمائ یکاگھی ہوئی ے )؛ الدوۃ الاحبار عق الغیب و 
الجستقبل بإلھام الله والنبئ المخبر عن الغیب أُو المستقبل بإلھام اللّه- 
ا کے دیو بنلدی تر جم مصیاح اللغات (ازعبدرالفیظہ بلیاوی )یش ہے: الد کے الہام 
سےتیی بکیا خرس بتانے ولا ءآمندہ شی یکو یکرنے والا۔ نج یکیلئے خیب دای خاصہ 
لازمہ ہے جس کے یر وہ بانیں ہویکتا۔علامہ زدقالی علیہ الرمہ نے شر 
لواہب (1۹:0) یس تج الاسلام امام خزالی علیہ ال رمک می با تق فا یکوت:ہ 
ویصف ہے جو نکیا فائ ہے شک وج ےخیرسےمتاز ہوجاہے۔ می چن تم کے 
خوائس ےق بھتا ہے (الی أن قال )تیمراضصف :اسے ایک قوت ہولی ہے ہی 
سے جالنلیاکرتاہ کیب م لکیاے- 


۸۰ 
تی لکیلے ماظہہو:” ای شارخ فارگ -)٥2۰:۷‏ 
:مل قعکرخیب و ابتراء ہی سے ہوارے بھی اکر لی ال علیہ یل مک حاصل تھا 
کیب دالی از منبوت ہے د ہکن تھا؟ م ہہ پل ذکرک ری ےک ہق رمتقہ بحاص 
تھا جس سےغیب دا نکہا جا گے۔ جیب نہ جانے و نیل ہار ہا ماکان 
دنا یکو ن کا اھ طما و :لوف "یل قرآن حاصل ہوا_ 
( ”فاوی شارخ ہار ۷۷۹:۷٠‏ ۰۷۷ئ۲ ؛' مظام ولا یت وخوت۴۳۴٣۳۲)‏ 
(5) ری یی ہی ںکہ وج تہ اف کی علت جامہ ہوئی ہے اور اک وج سے سے 
اتا کرۓ ہی ںک اگ رخ یکامت زط عی الفی بکیا جا ے ولا زمآ اک بزخ 
الغیب بی ہو یک اولیا وک را ملع علیالغیب نو ہوتے ہیںگ میں ۔اسکا جواب یی 
کے ےک وع نم علت ا بل کا کے وجودکیسا تم لفظ نچ یکا وجوم را ات 
مس صلا 7 کامعی دعامکیاگیا ےگ ہردعاوڈما زی _ا ایک شتق صلوی ن میک لیے 
ےکیون نما ز یک عک تکا وج سے ا ےکوی لے ہیں از روۓ قاعدہ ڈگورہ 
اہ ےکہ ہنا کمانے وا ےکونمازی ( می کہا جائے ؛کیوک ہراس ےکوی مت 
ہیں ا اسلے کہا جاسکنا ےک از یش بردوٹوں بات پائی جالی ہین یی کہا 
جا ےگ اک چہاں ہہ اس پنی جائیں دنم ہوگی اط رح یی الغیبکوی 
کہا جانا ےگر ہیلع علی الغیب ٹینیس ہوتا۔ انی ہرقائم اذا تکو جو ہکن کہا 
جاتااسل کال تپارک وتھا ام بالات یکن اس پ رھ ہرک اطاق درس تل 
گہ رجہ رقائ پالاتضرورے- 
(تفصی لکن مز ظط ہو ”ای برا علو ما /۳۱۴۰۹) 


۸ 
(6) لن ناشن لف خی بپکو ہراخار سے ارتا لی کے سا تھ نال بے ہیں اورخیب 
کی تحریف میں ہے بے جا اضاف ہکرت ہیں الد تھا لی ا پس یکو اطلا یں 
رجہ یروف ورس می ”تیر بیزاوئی فی بک اصططا یت ریف یں 
کگئی:”'المراد بە الحفی الذي لا یذرکه الحس ولا تقتضيه بداهة العقل“ 
لین ”دو شیدہ زج جواس انان ادراک نکر کے اور براہتتخّل اکا تقاضانہ 
کرےء دیتے یہاں عدم اطلا کی قیرکیسا تال تھا کیل خی بکوخائ لک کیا 
گیا۔ا ام رازی علیرال رم نے ”فی رک رٹ لکلھا:”'جمھور المفسریل ان الغیب 
هو الذي یکون غائبًا عن الحاسة ثم ھذا الغیب ینقسم إلی ما عليه دلیل 
والی ما لا دلیل علیہ“ یجوف رین کےنزدیک( یت شی ڈرکور) ٹیپ وہ 
ہے جوانسانیٰ حواس سے غاب ہو یھ را فی بکی د یں ہیں کی دوجئس پر ریل 
٢م‏ سے اور دوسریی دوس بر دیل قائ میں ان تتریفات ست ىہ پاتیں معلوم 
ہیا 
ا۔خی بکااصطلائی مع ہہ سے سکابداہت تل تقاضا شکرےاورجواس انسا لی خود 
0001 
۴۔ا کی د یں ہیںء ووغیب جس پاعلم انسانو ںکوحاصل ہوا ہے اورد جن سکاعلم 
حاصص لال ہوتا۔ 
۳ ہج سغیب پر دی لتقاک مک رک یقلو قکوا کعلم دیاگیا ود وخیب بی کے زمرے ٹیل 
رہن ہےاوراس بی بکااطلاقی اصطلا حادرست ہے اسل کہ بداہتٰشقل سےا کا 
ادرک اص یں ہواءدٰیل سے عاصل ہواے- 


۸۲ 
(”الکلمة العلیٴ ص ۳۳:” فتاویٰ بحر العلوم“ ٦٦:۱۷۷؛‏ ”فتاوی شارح 
بخاریۓ )٥:٠٥٤١‏ 
رید یہک یق رآن ید نے خی بک فبدت موم نکی طر فک ے:هلَذِْنَ بُونونَ 
باتیب (البقرۃ: 3] یں فرما کہا لق خیب پہ ایمان لاتے ہیں اورایمان 
تعدب ق کا نام ہے اورقصد ع مکیا حم ہلا ز باب اما نپن ‏ خی بپاعلم رت یں 
تھی نو تد کرت ہیں اورائل ایما نکہلاتے ہیں۔ ای آبی تک تی یٹ ایام 
رازیی و بیمادکی نے مکودہ پان ریفات ارش اف الی- 
(”الدولة المکیۃ؛ ص٤٠)‏ 
الد ارک دقعالی نے دسری گلہ فرایا: هوَعَلَٹنَ بن لڈنا عِلاپ4 
(الکیف:66] مفسری نگرام ملا امامطری وقری نے فرع فرمائ کہ یہاں 
مرازتر ت ملاسلا مکا”'علمالیوب ہے۔ 
لویاارشا بی تھی ے: ۱ 
ما مو عَلی العَیْبِ بِضَیی ن4 (التکویر: 24]۔ 
امام ینوی ددنگرائمہ نے فص ف ما یمکہ دوخ رکا عرقق خی اکر لی الل علیہ ایل مکی 
ذاتگرائی ہے اورپ لی اللعلی یلم یی رغیب نازگل ہوا تھا بی سکو ان میں 
آپ نیل ہیں تے۔ال اص٥‏ لان تا مجگہوں پرافطغیبانسافو ںکی طر گج مضوب 
کیاگیاے۔ 
ف۳۰ لج ائمیکرا مکی عبارا تک تو تع :اما نی علی ارح 
فإقُل لا یَم مَن فِیٔ السّمَاوَاتِ وَالَرّضِ العَْبَ ِا اللہ زالسل:66] 


۸۳۲۳ 

ینمی یس فزیاتے اون الب ما لم یقم عليهدلیل :ولا اطلعم علیہ 
مخعلوق “یشنی” یب سے مراددد ام ہے جس پرکوئی ول قائم نہہداور تاس پکوَ 
موق مل ہدج“ یہاں ا فی بکیتترلی کی ہ جوا یت رآمش زگرے 
اسل کرام می علیہالرحہآیت میس ذکودہ الف دکی ترکیب جیا فمارہے ؤں لہذا 
ا نکی عبارت ٹیل وائع الغیب پیر ال“ عہدکا ہے جس سے وچنی غیب مرارے 
یی غمیب ذالی جس کا را دای ا ںسآیت مل اپنے لے فرما راہ ۔بیخلاف 
ہز رملتی خی بکی تی نہیں 6 تی اسل ےکدام می علیہ الرحمہ اس سے پل 
لکوت بِالیب ہ (البقرۃ: 3 کیتفی ری لک پچے میں:”'ہما غاب 
عنھم مما انباھم بە النبی صلی الله عليه وسلم من امر البعث والنشوز 
والحساب وغیر ذلك “ ]ٹنیا خیب سے مرادہردہ نز ے جولوگوں ے پپشپرہ ہو 
اورال ں خر نی اکر سی ال علیہ یم نے دی جییے وت کے بعد اعشت ءحش :اب 
وفیر۔ایطرح 

ما الب قلا یھر عَلی عَيِْأخدا ِا تب اَی من رَسُولِ)4 
رالحن: :]۴٢‏ سم 
کیا زی سک کی لا نول تا آردضناہ لعل مض الب لیکن اعتبارہ 
عن الغیب معحزۃ لہ“ لی جس رسو لکولہف لم خی بکیلئ جن نے فی بک خر 
دینااس کے گئے جزہو۔ اگ مطلق خیب“ کیتتریف یس ریقدنشائل ہوک اس پہ 
کو ی لوق ملع نی ہوقی'ق پچ اح فی علی ارح کےکلام می سںکھلاتضادلاز مآیگا 
کہایک خیب کاادراک نی اکری مل الشحلی کی مکییچل مکرر ہے ہیں اورد ری 


۸۳۲ 

مین ای خیب کے اددا گکائی ‏ جمارتقرے سے ائبات ذَیْ کے مورد چرا 
ہوجاتے ہیں او رکوگی تفاونجیں رہتا اور یں ان کا قول جمبور سے ماق ھی 
ہوجاتا ہے سم زی ےکآ خ الک رآ یت ق ری سے ا ںآھری فکاتضادشی لاز مآ:اے 
اسل ےک اک رالل تھی اطلا لی الغیب کے بحدیھی اس ام کنیب رما ا ےا خی بک 
ایک یت بی فکرنا جس میس اطلام می الغی بکیا کی جاۓ درس ت نیش ہوگی۔ایام 
فی علیرال حم کی ڈرکودہبالا عار تکود کوک ہمار ےشن علاء سے بیہا ںہو ہو اک 
امام یک اصطلا میں خیب صرف ال یکسکتے ہیں عطا کی کے (ا لن ٠‏ 
:ے۹)۔ حضرت صدرالا فاضل سی ریم لد بن مرا دہ بادیی علیہ ال رح کا کل می 
ہار تائیید می ہے :”دض (ائلعلم کون سے ہیں جنہوں نے خیب کے یع 
بیان گئے ہی ںکہسواۓ رب العزت کے او رکوی ا لکونہ جانے اور تق جا تھا 

ن ےک یکواس پراطلاع دی ہو؟“۔( ”انار“ العليا“/ص٣۳)‏ 
افش ہا ں کسی عالم ال سن فکی عبارت یوں ہوک خیب انت یکیہاتھ خال 
ے اس سے مرادغیب ذاتی ہعلق ویرون الاسباب ہوتا ہے ۔ یسے علا تختاز ال 
علیہ ال رح کی شر التقا مدکی ال عبارت ٹل :”و بالجملة العلم بالغیب أمر تفرد 
ب الله تعالی لا سبیل للعباد لیہ“ قطعا دیق ای ذ ای علمکابیان ہے اورال ے 
تح 'إلا یإعلام منە تعالی أو إلھام نطریق المعجزۃ أو الکرامة الخ “ےم 
خیب عطال یکا ہی ذکر ہے۔ ای طر ملاع قارگی علیہ ال رم کی شر الفقہ الا مرش 
ااعاز تا وذْكَرَ الحنفیة تصریحا بالتکفیر باعتقاد ان النبی صلی الله عليه 
وسلم یعلم الغیب“ سے مرادلا محالہدیعلم ذالی ردان الاسباب ہے ال کال 


۸۵ 


تل پل ی رککھ گے ں''ىمٌ اعلم ان الأنبیاء لم یعلموا المغیبات من 
الشیاء إلا ما اأعلمھم اللہ تعالی “جس می ںمکرقیب عطاگی حاصل بالاسیا بکا ک۸ 
ہے۔ لوی حدیث رع (جاریات )کشر بای یں علامدای نت الال 
علیرالر کی ال عپارت''انما انکر علیھا الاطراء حیث اطلق علم الغیب له 
کے صفة تععتضن باللہ تعالی سے مرابیک خی بکا عرفا قبادرمغپوم ینیم ال 
ستقلا لی ےا سل ےرا سےیتمل بعدآپ نےےلم عطا یکا اشات لوافر مایا وسائر 
ما کان النیی ص لی اللدعلی لم یخبر بە من الغیوب یاعلام الله تعالی إباہ لا 
أنهیستقل بعلم ذلكه“۔ (إنباء ال“ ص ۲۷۸) عجب ےکی بکاتحر لف 
یی ڈرکورہ الا بے جااضا فرکرنے والوں میس ےم اس بات کسی مکرتے ہیں 
کو قکات یوب پراطلا وئی سے پھ رساجح یی بک تھا لی کے سات ال 
کھہرے +دتے یں با لتخاواڈٰ قرت :ولّ باب باتک یپ نل 
کے اور سکوگیموٹا و یلہد تفر لت 

فا ت۴۷ انب تیکرغی بک ئن : 

لو قکی طط فی بکنفسوبکرنے می۲ بقل 1۴ را ساس ےکی ہیں : 

لتض زاین رک استعا لفلو قکیلن مطلتا نا جا زیت ہیں اور نیو نیریںکرۓے 
یش سی حال میں اےااستعال خواوقیراعلام دعطاکیسا تد یکیوں تہ وو کھت 
ہیں .خلا ان کے دک پناک ال تھی نے اپنے عی لی ال علی بل رک نیب 
دا سے پاطل سے (مفراز نماں: ”اقام البرھان“ ٣٣٢‏ 'ازالنۃ ال یب“ 


5 ۸٦ 
ص ۲۸)۔ یٹس دبا ہکا ریہ ہے اورمراس رخطا ہے۔ دہ الام عی ایب جے‎ 
لمات کااستعا لقلو قکیلے جات رکھت ہیں۔ درتقیقت ووسب یلم ما نک رتسو لپ مکا‎ 
ایارک تے ہیں کون یلم کے تین اسباب ہیں ہجو ام بجر او رنشل ہم ۔(کما‎ 
في ”شرح العقائدح تق جب اطلا لی مر رک کیل مکرلی  عل مکھی ماننا پڈڑے‎ 
گا کیک خرس بلم ہے درن از مآ تےگاک ران تال انا ہم السا مکوفی بک خر‎ 
دے اورپ ری ا نکوا کا امہ یقال ے۔‎ 
نی زا کدہ۵ا: اشن کےمع دسا برزگی علیہالرحمہ ن ےگ رسالة فی علم‎ 
البی صلی اللہ عليہ وسلم “ (ف٘ی) کےمطلب اول کےآخ رم کاھا:''الاخبار‎ 
فرع العلم “شف نجرد اع مک فرح ےح!‎ 
الف انج دیاند نے اپے دنر اکب رکا خلا فکیاہے یے اشرفکل فا‎ 
نے”خط الاھان لوق ےلم ریلم فیپ کا اطل کیا ہے او مولکی نشی‎ 
جاند نے الییان یش تددبار خی اکر سی ال علیہ ۃیلم کے لم پیل نیب‎ 
کا اطلا کیا ہے اسی طرں مولوی بین ات لی نے" 'شہاب ا قب شی بھی اطلاق‎ 
کیاہ ےہ فراصاحب کےققے کی شر کک دش ان ملا دید بندکی عارجیں لات دید‎ 
ہیں۔‎ 
پض مین نے علم خیب کے استوا لکو بی رقیراعلا مچھ یلو کیل چا ئز رکھا‎ ۲ 
خرن ری حر ت نف ملاسلا کے پارے ش ہے :کان رجلا یلم‎ 
علم الغیب. اکی شی ا نکاتول مروگی ے:إنما تعرف ظاہر ما تری من العدل‎ 
ولم تحط من علم الغیب ما أعلم۔ متاخ ین شی علامائکغ عابد نع شا تی علیہ‎ 


۸2 

ال رمک بیزحیار تک ملاظدٴ:”'الخواص یجوزان یعلموا الغیب فی قضیة أو 
تقضایا“ ”نس الحسام اابندیء سال ان عابدین امام اح رضا علیہ ارم نے 
”فناوی رضوی ج۲۹ ص۰۴٥‏ یس تر ف ما یکہ راگ چ ایک ذہب ےگر 
تق ن کا ما نی فی ةولہ مض اجلہا کا بر کےکلام یں اگر چہ بد وکیضبستص رح 
لف یعام الغیب وارد ہے (الی ان قال )مگر ہماری تن ں(الی آخرہ)“۔ا 
ملہی فی رکی جرا تکرنے وانے ان عیارات علاء کیا فتق ی لگا یں گے؟ 
ش٣‏ نکا تار یہن ےکی خی بکاضرت اخ یاءکرا مک طرف ترعطادالام 
کیاتھ جا ہے لین یی ںکہناکرالڈتھال نے اپ عیی بل ال علی کیب 
داے ہے۔ ہا اگرالسی قد سے خالی ہوت پچ رنا از ال کہ بقول امام ارضا 
علیرال مم لم جب لق بولا جا تحوصاجب نی بک طرف ماف ہوقذ ال ے 
تبادرلم ذای ہوتا ہے اک شر عاشیرکشاف پرمیرسیشریف تےکر دک ےءادرے 

سوہ کرام پیل ذاق ان یقیا اف ری 
وی 7ا ہی ا 
موی روب )٣۰۵:۲۹(‏ یش فرماتے ہیں :”گر ہار تق میں لفظط عال القی بکا 
اطلاقی حضر ت۶ز ت۶ز جلالہ کے ات خائص ہ ےک اس سےعرفاعلم پالذات تبادر 
ہجے'۔زتری ن ےی راککشاف (۱: 1۵۳ مش یر گا:''والمراد بە الخفی 
الذي لاینفذ فيه ابتداء إلا علم اللطیف الخبیر وإنما نعلم منه نحن ما 
اعلمناہ أو نصب لنا دلیلا عليه؛ ولھذا لا یجوز ان یطلق فیقال فلا یعلم 


۸۸ 
الغیب“۔اسکامفہوم بی ےک فیب سے مراددہ شید ہز ےج س کک ابتراء(تن 
بالات ) موا لیف ونحی ےکس یع مکی رسائی نی ۔اوداس میں سے چم دی 
جاے ہیں جن کا ہ کیم د یکاہ اجس پرد یل قات مکاگئی ہے۔اسلئ اف رقید یہنا 
کہ فلا ں خیب جانا ہے جائ یلاس پ می رسید جرجالی علیدالرجمہ نے یراضافہ 
فرایا:"إنما لم یجز الاطلاق (أي تسبة علم الغیب مطلقا) في غیرہ تعالی 
لأنه یتبادر منه تعلق علمه بە ابتداء فیکون مناقضاء أما إذا قید وقیل أعلمه 
الله تعالی الغیب أو اطلعہ عليہ فلا محذور ویہ“لڑی عم فی لہس ت تیرایٹر 
کی طرف اطلا قکیساتھ جا مزیں اسل کہا ےکم بلاسبب وبالزات قبادر+وتاے 
تی دمگرآ ات کے متاقض ہوگا۔ لباک رکہا جا ےک ال تی نے ا نکوقی بک م دیایا 
ان کیب پراطلاع دی ای سکوئی تر نی“ د یھ علا شش کیا نے دومرے 
مسری نکی رح غی بک دوشرگی اقسام ذائی اور عطائی با نک اد رم رج جال علیہ 
امہ نے ال کی تائمیدفرمائی اوداطدا تیعم خیب کے بارے میں فرما اک اس سے 
ایم ذائی ہوتاے۔"لباء الحیٴ“(ص۸ء۱۸۸۲) وقول رضری(۰۵:۲۹٥)‏ 
کے برکودہ الا تقام پریھی امام ات دضاعلیہال رح نے بعبادات ذکرفر کرای ن رہب 
کوا یا رفرمایاادرمی جا نی کقو لک نی سیک یک عرف“ می مک رقیب سےاطاق 
ےلم ذائی تقباددہوتا ہے اسلۓے اط نو یکیلے ا یہا مکی وج ےش رما جا ڑژں- 
عرف کی قید سےمعلوم ہوک امام ام رضا علیہ ال حم کے نز دی کم خیب کےہتین 


۸۹ 
١‏ مفپوم شری جوص ذف ےلم ذاتی می تحص ریس یس عطائیچھیا ہے اور یدتی ہے جھ 
امام راز دبیادی ء شش کی اد رم جرجاٹی کی عبارات شس برکور ہے مق خی بک 
اصطلا یتر بی 'ج س کا سای حواس اوزاک ہکرس اور بزاہ تخل ا لک تقاضا 
و 
۴ مفپومعرنی جوصرف اورصرف یلم ذاقی سے اور یش می وج انی کااطلا تیم فیب 
سے کرنا ای مہو مکی وجہ سے ہے نک موم ش رٹ یکا وجہ س ےکیوکہ اس کاپ ددخود 
اخراف/ گے یں- 
) مفپو ‏ لخوی ہہ ہے شید ہکا جات“ ان مفا قیم دتقاُی لاشو یادرکناضروری ' 
ہے اوران زنک رن کی وجہ سے بہت شبات پیدا ہوتے ہیں لو قکی لم 
خی بکا اطلا یق کر نے وا ےک یگ رصرف اىی صورت مین ہوگی چیہ وو عم خیب گا 
یقتم فی جوا رتتالی کے سا خائ ےید نکی مانے وی ے امام اخدرضا 
علیراارحہ کے مفوطیات می اس رت ےگزری۔ جوا ےن مع لا ءال سنت 
(× پش :اص لگنس 2۰٣ا‏ )نعل خیب اصطلائی شر یکوکم ذاتی ش 
محص رسچھا اور اتی اورعطائ یک خیب لو کی میں قراردیا ج۔ہامام احدرضا علیہ 
الج خی اس کےخلاف ہے۔لہذاان کےنز دی لو قکیلے مل خی بکااطلاتق 
ابو ری کیا وع ےئ ہے۔اھوں نے امام امرضا علیرالرح کےملقوظا تکا 
حوال رد یاگرقتآدکی روک مکودہبالاعبارت شایدا نکینظلروں ےی ںگزری میں 
رن قتے۔ 
فائحدہ1۹: جن علماء کلام یس بظا مک خی ب الو کے اطلاقی .-۔اىن کےکلام کے 


3 
سیق دسیاقی ہیں تیں ای قیرضردر ہے جی خیب کے مر مہو کےمویم 
بونے سےا ہے یہاں ئن دہ قود کرک جالی یں جن کے کور ہونے ےم 
فی بکامف وم رف مرا لیا جاسکتا ہی دعلامءاتا اخ دتصول (اتوالی ے 
پارے یل و ںکہناکرا یلیب عاصمل ہے خطا ہے اسل ےک اعم نہتمولی ہے نہ 
وریہ دک فا۰ ۳۲)ء عطاءرعلم مقیدہ عادثہ تنایءیعلممون کٹیرا من 
الغیب ”بتعریف اللہ“ إِيّامم کما في تفسیر ”القرطب ي۶ نعلم الغیب ”ما لنا 
عليه دلیل“ کما في تفسیر الرازيء یجوز أن یھلەوا الغیبِ ”فی قضیة او 
قضایا“ کعا في رسائل این عابدین؛'”یأنیه علم الغیب“ بعض الغیب و 
خیب حقیقی دی پاگران کے سات مک فی بکاذْہد تو قکیطر فکا جا ہر 
گزعرکی ملپم م رای ہوگا ورس سےلعنی شر یکا دوفرولیا اشن یلم عطائی جھ 
لو کی ایت ہے۔ گر بالفرش اسطر ںکیکوئی قیدیی ند لق ان عبارات علاء 
کے بادے بیکہاجائگاککددہمقا میم یس ارشاوف مائی مقا مت نیس یایوکراال 
صکم کے مان ایا اطلای ہین مو ہم مخ عر نیس اسل ےو قکی طرن مل خی بک 
بتک ءہاں جال میس پور یہام جائزئیس ءال کش سے ہمارے ان خطبا ون ت. 
خوانو ںکوسیق سینا جاہے جوعوا مکی ری مفلول میں فلان یعلم الغیب کے 
. اطلات بلات ین صارفکرتے ہیں اوران منم ری نکواھی جو رگا طلا قعکغیب پرکفروے 
شک کےننڈےلگاتے ہی ںکہان کےفنو کی ز فی اکا براصتآتے ہیں- 
فائدہ عا: مان کے معن سیر امہ برزی علیہ الرحمہ ج نکی طر فتریف شدہ 
رساللخایة المامول“ ملسو بکیاچاتا ےک اگ لکتّا پک نام'”منھیج الوصول 


۹۱ 

فی تحقیق علم غیب اللرسول “ہے جس ہخافن کے بتقول ظا الما مو لجتہ کے 
ور پر بکیاگیا فا نجنواان بی دک ےک رسول اکرسہسلی ا دش علیہ مل مکی طرف صرلتا 
عم خیب یق لفقی کے منسو بپکیا میا ہے ول اکرن مل الل علیہ لم ےمم 
مارک پپعل فی کا استعال درست نریکے وانے اور اس ےکفر دشر ک کے دانے تہ 
جانے اس تقیق تکوکیوں نظ اندازکرتے ہیں۔(”إنباء الحي“ ص )۳٥۹‏ 

(7) این خیب کے اظہار کے بحداےغی نیل پگھت ۔ رر خطا لو ق رآن سے 
بکراتی ہے اسل ےک تضورعلیااحصلو ت والسلا مکی بکی نجرد ہیے کے بھی ادتقا 
نےآیات اشات بی لکل خیب استعال فرمایا۔اس خطا سے بیاگی لازمآ ٣‏ ےک 
اتا یکو عالمالغیب کہاجا ۓکیون ہا کیل ہی ا ہردمشاہرے- 

فاکدہ ۱۸:ج ب خی بکا اصطاح شر شی لسم ؾ''ما غاب عن الخواس وہدامۃ 
العقل “ ہے و بر ییرالہام با تی اسکاعلم حاصل ہونے سے دوخیب یا رہتا ے؛ 
کیولگہ بلاوا۔یوو ال وبداہت تل حاصل ہواہے۔۔اوزقییب کےاخوی یمجن نا اپ 
وامی کےاعتبار یب ام راضانی ہ ےج سکوا کاملیس دی گیا سے لے غیب 
1 ہےاور جم سکودیاگیاا کے ل ےجس ۔ ”الکلمة العلیا ”نبیان القرآن“ )٥٢٣٢:۱‏ 
(0) اشنم ءانث تھالی اوداساءالیلی یلم می فر تن سکرتے ۔علامہ 
سلاسۃ الیررا موی علی ارہ نف ے“لرقیب کے م وضو پراہ یف اعلامالاذگیاء“ 
میں تضورس٥لی‏ اولعلی کم ىھوالاول والآخر والظاھر والباطن وھو بکل 
شی علیم“ کا اطلا قیفر مایا اشن ا شک تراردیے ہیں باب لک یہس بات 
یئ سک ہار نی سلی ال علیہ کیل مالشرب الزت کے من دداسا ہی سے موسوم 


۹۲ 





یں ۔ امام ال صنت علیہ الرہ کے والدعدۃ شقن مفتی کی علی مان علیہ ال 
نے 'سرور القلوب فی ذکر المحبوب“ یی ایے(ے٦)اساءذکرفرماۓ‏ ہیں 
اورامام اہسعدت علیہ ال رجمہ نے ان اساہگرائی میس اضاذیغ گرا نکیتش رر ای ک تال 
صصورت میں تام العر وس 'الاسماء الحسنی فیما لبیٹا و الاسماء 
الاحسناء“ یف مائی ین یس ڈرکودہ انچ اسا بھی دی لکیسا تفر مائے- 
(”الدولة المکیةۃ/ ص١٢٢۱)‏ 
ہا کک نی اکر لی اول علیہ یلم یڑکل شئ یی کاطلاق اذ ائطڈ نل شیء 
“کے مھانی مطلف متعلقات ےفلف ہوتے ہیں ۔ بیہاں ہرگز و ہنی ماد ہوگا 
ج الد رب العز تکی طرف مفسو بکرتے ہوئے مراد ہوتا ہے بصرف لفظا مش 
مخارکت ے۔ ('”الفیوضات الملکیة“ ص )٢٥‏ 
شاو عبد ان محر., دبلویی علیہ ال رم اورشنّ اکبرائن ع لی علیہ الرحمہ نے بھی ان 
پا نچوں اساونی اکر کال علیہ مکی طرف موب فرایا۔ 
(”الدولةالمکیة مع الفیوضات“ ص ١٢٠٥۔٢٢١٤‏ ”الکلمة العلیا“ ص ۲۸) 
کب ق یش ا کی موجود ہکایک جیالقب بانامخقلف زوا کیل 
بولا جائے ےب ایک کے مناسب ین کیا جائگا۔ دیھوا سان سی وفصی ہے اور 
لوکوں کے نا لی وید ہی ںگ ران محنوں می نیس جوا رتھالی کے ساق زا ہیں- 
("الدر المختار کتاب الحظر والاباحة بحوالە ”الفیوضات الملکیة“ص٥٢)‏ 
(9) دہ ہمارۓیتعلقی بر مفالطدد نے ہی ںکہہم نی اکر لی ال علیہ یل مکل الم 
لیب“ کالب استدا لکر تت ہیں جی۔ امام امرضا علیہا تہ کے فاوگی رضوی“ 


۹۳ 

(۲۰۴:۲۹)اور لان دای( ے۱۸) میں ا کے خلاف صرح موجودہے, عالم 
انیب کےکتب سے رفا تبادریم ذاقی ہے جس اکہ پان ہدجگی ہے۔ اتی 
اوراسکےرسول مکی ال علیہ یلم کے اساء میں وت مرا سے صدق مت سے جوا زکا 
قاعدہ جارکی نیس ہوگا۔ خی اکر ہسلی الشرعلیہ لم اکر لبیل ہی گر ان کے لئ بل 
جلال کا استعال اط ہے عزت وا ل ےی ہی گر اع کے نا مکیساتھعم: و لکہنامع 
ہے۔ ای ط رح ال رتا یک عطا ےآ پغی بک کی با خی جات ہیں ین اطلاق 
عالم الغیب چیزے دنر فناوکی شارع بفازی'“ او اد برالعلوع وغی ریش 
ہیارے علاء اب سنت نے جار باد یتر فرمائی کو کیل ”والم النیب“ کا 
استعال چائزہیں_ 

فائمد ۹ا :ضس علا ایل نت نے بھی اکر لی ال علی ہوم مکیلی عالم القی بک اتب 
جاستعال ف مایا یپروی شاو صاحب علی ارجم نے اد ریرش ا ےر 
عطا دہ ۔کیسا تد مق فزایا قیمع مرن شی ذائی عم کےمفموم ہہونے سے ماع ہے۔ 
امام امم رضا علیہ الرمہ لین اس اقب کے استعا لکو چائز قرار نے ہو ۓ کت 
ہیں( :وی رضضوی ۴۰۵:۲۹ ”لی سب (عمافعت اطلاق ال صورت ٹل ےک 
مقیہ برا طلا کیا جاے بابلا قید تی الاطلاقق متلا”'ھا لم القیب““ با ”'عالم الف ب گی 
الاطلاقی“ او راگ ر ایا تہ ہو بل الواسلہ با العطا مکی تر ککردکی جائے تو و میژور 
نی سک۔ا یہام زا اورمرادعاصل“۔ 

)۵ 4) اشن بی اکر لی ال علیہ؛ل مکی ذا تکیلے الم الغیب کے استعا لکوکفر 
ککعت ہیں کہ نہب تئی میں حضورسلی او علیہ یلم پہ الم الغیب شض اطلاق 


۹۰۳ 
نے وا ےکی کر پر فنزی نھیں ےترڈ المحتار“ )۹٤:۸(‏ شی ہے: 
”فولہ:تروج بشھاذۃ الله ورسولە لم یجز ءبل قیل : یکفر والله اعلم؛ لأنّ 
امتفة:ان۔ ماش صلی الله عليه وسلّم عالم الغیب. قال في 
”التتارحانیة“ وفی ”الححة“: ذکر في ”الملنقط“ أَنّه لایکفر؛ لأنّ الأشیاء 
تعرض علی روح النِيٰ صلّی الله عليه وسلّم وأ الرسل یعرفون بعض 
يہ - 7ض :(درخقا ریس ہے کی نے التھالی او زاس کے رسولی سی الد 
علیہ یل مکونکا بک گوا وق رار یا تی اویل ۔ بک ہامیا ہ ےکا کا نکی جائے 
گی ء(علامشامی فر مات ہیں ): اسل کا نے اس جا تکا اعنقادکیاکہ الد کے 
رسو صلی علیہ یسلم عالم الفیب ہیں شا رغایۃ اد رت یش مطتقط کے جوانے سے 
ےنس انی زی نکی جا گی سل رض اشیاء ٹ یکر لی ال علیہ بن مک 
رو اقیس پر مو ںاور یئل" اخ خیب اٹ ہیں“ کت 
فا د(۲۹۶۳: ملفوطات اام ام رضا علیہ الرحہ کے جو نے سے اھ یز داکہ براستعال 
منوع ہے اویمنوم ہونے اورک ہونے یں بہت بڑافرق ہ ےک ہرمنو کر 
وت اناگ سی نے بیاعتقادرکھ اک پوویوص سط 
جاتننے ہیں اوراس اخنقا و اریت الم ای بکااطلا قآ “یلیہ1 مکی ذات پہ 
کرنا ا یکارے۔ 
فاحد وا رقول ضیف ومرجو بی د ہے والا خارق اہما اورگار ےکا فی 
ری 
(14) ناشن ہوارےکلام می انظ کل" کے اغبارا ت دحیشیا ت ول سڈ جب 





۹۵ 

راز زتضورعلی الو والسلایم کیل مکیضبدت استعال بہوتا ہے مراددوعدول کے 
دریا نم فی بینی روزاول سے رو زآخ رک ککائلوق کے ارے میں جن علم ہوتا 
ہے میک ملو ںتفوظ میس ہے اور پقطعا یق محدددو تا ہی ہے۔ ای ط رج بآپ 
علی لصاو والسلام کے لے ” لتض “عم مانا جا ا ےو میا کل کے متافینییں۔ ان 
ل ےینس سے ہماری مرادد وع ہے جوئل یقی کے ما بے میں ہے بلہزاحضور 
علاصلؤج والسلا کا ع کل تی کے متا نے می شض ہوااوز بات یاز ای ال عدوںن 
ک کل ہواء الف ای کیک بیعلم پل اون کا اطلاقی درست ہے اوران دوٹش 
کوئ بھی منافاتنئیں ۔تقائی جب ہوئی کیک سے ماری مرای لتق مز تج 
افرادالغیب ہوتا اوھ راس بع نع سکتتے۔ بافط مکل اضائی اورشنل تد باللزات 
تفام پالاغتبار ہیں او رتضورعلیالصلو ت والسلا مکل جھ مکل اضائی ہی مانۓ کل 
فاا٢:‏ مندرج ذ ہی دائروں سےا کو سچھا جاسکتا ہے (اگر چدائر ای ال لعل مکی 

خی یی موی کول ووو رگدددے+ یتر فتت ر یب م کی ہے × 





(۹ )کل خیو مت یک ینیقی جواموزغیرتتاہیہ بافتللہ ذات وصفات وامور رخوی 
داخرویی س کوشا ٹل ہے اوران راۓے لق جانا ےآ لق ریرز ےس لق بلہ 
کان وا کو نک تخصیلات ا کا صرف جن ہیں فی اصطلاح می اسے ہرم 
”لیب علق ھک ھت یں 


81 

)2 )کل اضاقی لعل ماکان و ما کون ج روز اول (ابتراے شلق )جا رو زآت 
(انا ےنا )کیمویطہے۔امورغی رتا ہی بافنل وماوراۓ قیامت وذات وصفات 
کی یی _ا ےبمل خیب مقی زج کہ کت ہیں- 

('إباء الحيٰ1 رن فو المکیة“ءص )٣۳۲١‏ 

ان وائرو ںکولخور و یکسا جا ے نے معلوم ہوا اکنل اضانی (۴) بہقا لک ل تق(0) 
ےل غیب سے اوراس ےےعع نرک میں اوداخا فا ا اک میں جاک اپے 
دائے میس دال ہےلڑنی دوعدوں کے درمیان الما کوک لع مکہا جا کت ہے۔ 
وو ں‌کل( تیقی واضافی) ی شعموم بی ےئن اس انار سےعموم ہوا اوہ ال 
سب کوشائل ہیں جوان کےغپوم یس دائل ے- 

('الدولة المکیّة“ء السوال الٹالٹء ص١۱۳۲؛‏ ”سبحن السبوح“ فتاوی 
رضویہ ۰۴٣ ٤۰:٠۰‏ ٣۴۲)۔الیاص٦‏ لجضورعلہ الات والسلام ک ےم مہارک پل 
وٹنم دونو )کا اطلاتی درست ہے اور ہما رےکلام می کوگی منا ات تیں۔ : 
یی :کوتی رہ سج ےکہ پیل دائر٤والعم‏ اتال یع مکی ین تقیقت ہے کال 
پل ذ :اجب یرافال غیرترفرائی پل ہے اولوق سیی رٹم 
کیاتوکوگی بت پیل ۔(”الدولة المکیة مع الفیوضات“ ص )٤٥٤‏ 
اتال کاملپقلوق کےلم کے بالزات تائن ےہ یہنا یوق کیم ے اتا 
اعم مرف چن رتحصوصیا تک بج ےختاز ہار ےھر ےڑا 
الحيٰك ص ٢٣۴۰ء‏ ۰٣۳)۔‏ بیدائزےصرفکل اووینخ مھا ت کیل یی کے 
جے ہیآ ع ناس کےک یہک مم سکاہے۔ 


ے4 

ناک۹۵ :ہم تضورعلی لصا واسلا مکی نع اب تکرتے ہیں دوزت 
پان واا ضس ہے جو جم لین یات لو محفوظ کو شال ہے اور دی دی ج٘ سض 
کوغا بر کرت ہیں وہ فنض وق وال نف ہ ےکیونلہ حفظ الا یمان یش تھانوی 
صاحب تو الہتف کیم بہائم وصویان کے مشاہ یا مماوکی بت گے ہیں _ تو معلوم ہوا 
ٹف شض می ںبھی فرت ہوتا ے!(”الدولة المکیة“: ص۹٦٥)‏ ہذ ایی ھا 
چا ےک ہہ او رش نکاحضور علہ الصلو ج والسلا مکیئے لن علوم کے تصول میں 
انقاقی ے اختا فعل مصعلفی علیہ اص ۃ والسلام پر ذت اتل کے اطلا کا ے یا 
اطلاقی عالم الغی بکا ےه ایا ہرگزنھیں۔ جار اختلاف اس لن 7" 
تقصیلات میں گی ے۔ ْ 

فا مدہ٢۲:‏ امام ام رضاعلی ال رج یت کے مطابی نظ ری کے اف 
مام پا ختلف معانی یں اورس بت رآن ٹیش واردہیں: 

( مک می شا تع مہو مات ازحالاتہ واجبات بیحکنات و معاومات کا 
فی قوله تعالی: ٭إِنَ الله کات بل شَيْء عَلِیْماہ زالنساء: 32]. 

( مکی پھمنی شام لمائسکنات الم وجودۃ والمور وم جو واجبات او رمالا تگال تہ 
ہو کما فی قوله تعالی: فإإِن الله عَلی کل شَیْع قدبپچە (البقرة:20 

( )کل بی شا لملمو جودات امن والواح جومحدومات اورگالا تگوٹال ۓہو 
کمافي قولە تعالی: ان بکكُل شَي و بَصبر پچ رالملك: 19]۔ 
)کل پمستی شا ل لو جود لعل جفنکن خیرم جود مال وواج بکوشال تہ وکما 
فی قولہ تعالی: فو حَالق کل شَی و4 (الرعد:16]۔ 





۵ )کل تی شالت الموجودات الیادے ج یوم اول سے یو مآ خرکک کے اصورکومیط 
"و کما فی قوله تعالی: ول شَیء َحْصَینَاه فی مم مُِييٍ پچ یس: 12] 
(”الدولۃ المکیگ ص )٥٢١‏ 

ال تھاکی کے بارے بیاہن اکا ے' تی اعم ےت اف ہے اور یکر سی 
ال علیہ مکل ےکہنا عنی زاس ہے ۔ ان سب معائی یس لفظ کل :ھی ؛ نشار 
تقیقت بی تل ہے اورسب میس عام ہے گر چہ رابک کے دائرہ وسعمت موم 
یس پانقیاڑتاق وضوب ال رق ے کما لا یعفی۔ 

ذائد ۵ : کل گی ء اود ماکان نا یو ن کا ایک جیمعنی ہے۔ دوفدں تنا کی ہیں اورریا 
کم ود۔ای ط رع ”عم الاولشن والاخ بین کابھی بجی معن ہے۔- 

('نباء الحئ“ہ ص۹٦؛”'ف]وکی‏ شر بفارگ'ءا:۳۲۷) 

ذاکرہ '”:٦٢‏ ازل ے اپر ککا حضورسلی اللہ حا ےل مکویلم دیا گیا کہنا جائز 
ہے۔ بیہاں ارگ دای ملا مکی اصطلا حعات مراڈنیس بلہ جاعب ماش تن لکی 
ہت 

(”الدولة المکیة“ ص ١٣٣۔۱۳۱‏ ؛"إنباء الحيٰ“ ص )٠٢‏ 
(12)دداطلاقات تاتی دعدع تا یم لاتقغی عند ح دکوق نات پت ہیں_ 
حضور علیہ الو والسلامكاعلم ماکان وبا کون تزاہی مرو سے حضور علیہ ااصلۃ 
وا سام ےلم میس اگکرابق را ےحلقی تا انچ ےتاق (روز قیامت )کی عدو کا اعقبار 
سک یتو قنائی ہے اوراگ رت تی کی جان بکالیا ٹاک می یک حضور علیہ اللہ والسلا مکاعلم 
پھیشرایدتھال یک ذات دصفات کے بارے یل بڑھر پاے اورامو رآ خرے واعوال 


۹۹ 

جنت ودوزغ وہر کے بارے می ل بھی تر قی مہ ہے وڈ تا سے نی تنا یی 
انی عندحدکہہ سے ہیں ءادتقا ایل خیرتناہی بافنل نام ہے او شی عند 
لے اس کے بندوں کے مات خائل ہے۔ 

(”الدولۃ المکیة“ ءالسوال الرابع؛ ص۳٣۳‏ ١؛'نباء‏ الحیٰکء ص )۳٦٣٣‏ 
خارے۷:ن یکر مکی ال علیہ یلم اپنی حیات مارک ہل جییدعاء رب زدنی علما 
ما کرت فذ اس کے دودور ہیں ؛پہلا دو رق رآن مجید لم ماکان و ما یکو نکی سے 
پیے کا سے اسوقتعلم ماکان دنا کون اور ماوراے ماکان وما کو نکیا زیادلی 
عرادسے اود دورانزول ق ران دع م اتا کی کیل کے بعدرکا دور ہے تو اموقت 
معارف ذات وعفات پاری تق یٰ اور وگرعلوم غیرتتا ہی کےع مکی زیادلیٰ عراد 
ہے لہ ابع کیل مکاتیا تبھی اراس دعاءکا ڑھناخایت ہو ہمارے مدعاک ور 
یں :کوک دعا ءکامقصودد نیلم ہے جو ماکان وما نو نکیا عدوں ے وراء ے۔ 
(43) وہ عشت لو قکو ال قکیلنے غاب کر کے خودشرک میں ملا ہوتے ہیں۔ 
دیو ہنی تضور علیہ ااصلو ۃوالسلام کےعل مک ماکان دنا لوان ےکی رکرنے سے 
روک ہیں اوزا سے ادا لی کے ساتھ ما کے ہیں ؛کیونک ا کہم می سس قیب 
سارایجی ہے۔ ایر مل مط الا کوالڈ تھا یکیاصف تم قرارد ےی چک یہ 
دوٹوں چا تس غلط یں ۔ ماکان ایک عد ہے اور ما کون دوسرگی حد ہے اور جو ان بش 
ےسب ہحدددوقتاہی ہے۔الیا یلک وط الا رن محی رود سےتذ عم قناہی محد ود وت 
ج یکیلے ردا ے:غداتھال ےکی صفت پرگ نہیں ہوکتا۔ ات یکیے مغ توق 
غاب تکرنا رک ہےر ککامفبد ضرف نین سک خال قک یی مخت می لو نکر 


٭٭ا 
شر کیا جاتۓ بکنہ مو بھی نشرک ہوتا ‏ ےک لو کسی عفت میس خل قکوش رک 
کیاجائے۔ اب مسلمائو ںکیٹرک کے دانے تو داہپنے جال چٹ گۓ_ 
(”الدولة المکیۃ“ ص٤‏ ہ؛"إنباء الحيٴ“ء ص۴۰۹) 
فدہ ۸: اگ کی کن عا مکی کا ایک بک کے بارے می نیک رب سی اللر 
عللکیےتی سی کیا ےٹک زیر ے 
کہالل تھا کیل جیم دای سلم ہے ودضروری ہے جہ کر صلی اوطرخلی لمکا 
صرف دائی ی ہوگا ۔دوام اورضرورت می موم وص مطل قکی بت ےلین پر 
ضردرت ٹل دوام ہوا ےگمر ہرددام می ضرور نل ول کذا فی عامة کتب 
المنطق. ول ا نظ رک جذیاد یر رسول اک ری می الش علیہ یل ماعلم دائی تھی کے 
لم دائی ضردر یکا شی ننس مہ الک خیش ہرا۔یادرہ ےک ۔امام ام رض علیہ الر صکا 
موقف بیتھا آ پل ال علیہ یل مکی ذات مبارککوتر اعم ما ان دما یکن حاصل 
سے ۱ 
(44) بی اکر لی ای علیہ یل مکی لم ما ان دما عون ثابت مان سےکپکت ہی ں کہ 
اسےاللرتھالی کیم کے مشاہ ساد گکرناہے۔حالاککہ ہار تی سابق یں بیان 
ہواکہما کان ایک عد ہے جوابترا ےخلقی سے خیارت ہے اذد با کواغ ذو ری مھ 
قام قیاصتکک کےامورےعبارت ہاو جو ان دوجدوں می سکم را ہوا ےرود 
ہے۔ رشان الک یع مکی تی تکب ہوسکنا ہے خالائہ ا کاعلم خی رتنابی پافعل, 
ذائی خی رعطائی واجب, ق رم غیرلکن اتیر لد ل, غیرانقعالی, فی رقلوق, غیر 
مقدوہمیط باھا کہ طیقیہ اتا قتصیلہ جوقمام معددمات :جیا ت وموجودات 


اب 
ومنقرورات داموردنیاوماوراۓ قیا مت س بکوشائل ہے اوراے اپ ات وضفات 
کایھی کا لم ہے۔ جب ہار ے نز د یک نی اکر صلی ال علیہ یلم کےیل مکی یقت 
مصحو سورد پرک و 
کس وااورکیاے؟ 
(”إنباء الحيٰ“ ص ٦٣٣٣‏ ”الدولة المکیة“ ٤ص ٢‏ "إنباء المصجلفی“ 
خارئ رطلنویہ ۹ ۷٥٥و٥|)‏ 
ناگہ۲۹:قام ذرا تکا ات از مل ارک الع کلم کی 
دیاگمیاز ےکیوکہ یش لہ ما کان دنا یکو میس دائل بے ل(ملاسیا ایک ذرے کے 
حال ت مو جود پش لترکت بسکون اتال وحالتکاروزاول سے جارو زآخرکا م )ے 
سب قناہی پافعل ہے ال تھا لی ک یل مکی شال تہ ےکر ایک ایک ذ ہکا نجات کے 
سے غیرقتابی پاحل علوم ہیس (مشلا 1 ای وت کا 6ل خر/ ا 
الع سرت سح کت 
درستہوگاے؟ ا 
(إنباء الحی“ص ٦٦۲ء٣٣٦۳ء‏ ۷٦۳؛”:‏ الدولة النکیگ 0 
الخامسء ص ١۱۳:ص‏ ٰ٤٤-٤8)۔‏ ا ا ا ا 
جاۓے۔ 7 
زار * نت لکرفامکا زہب: وف 9 9., اض 
حرف (سیری ابو اش ن رکید کے ام یے علام “ماد علام سی شیہم 
ارحص )کا مہ نین فا اک رخ یکر صلی ال علیہ مل مکاعلم او تھالی یع کے ٠‏ 


۴۳۸۳ 

مسماوی شی مقدارمی غیرقنابی افعل ہے اوران دوفوں ٹل حدوث وقزم واصاللت 
وتبحیت کا فرقی ہے۔ مہ رہب اگ چولگ تہ کےخلاف ون ےک وجہ سے خظا 
ال ےگ زا ال عقاولا ءکی شگف ردرسصت ےاورن تلیل سی لے شی تق علیہ 
الرصرے نرا نکیکفرکی زینلیل پک تھیں' لنضس ع رفا کھا۔ اما خھب نچ نف رای 
علیہال رم نے سیدگ اوس نجکری صد بقی رۃ علیہ کے اس موقف نع یگ 
فرمائیءا نکی جلاات شا نکوئی اتا بکیساتھ بیان خر ماا اور خر میں ا با تک 
ترک یکا ن رفا ءک یکن رکا اصو لک ررشنی یس خللط ےنحموصاان کے ا کلام 
کی وج سے ٹس میں اخضار ے"ا'ان النبي صلی الله عليه وسلّم کان یعلم 
کے علم الله“ کیوگ ا ے ال وقآ عم ہونا گلا رم مان لیاجاۓ لام 
التقول ہوگاا درا زم القول اس صورت میں نہب تا نیس ہوتاجہا لوم خی رین ہو 
اور یہاں نیم رشان ہے پچ را نکی تھر مات بی اس لاز مک یبھی موجود ہے 
(”جلاء القلوب“ ١ء۷٣۱-١١٤۱)‏ 

امام اد رضا علیہ الرحمہ نے خودیھی اس موق کا ر کیامر اس کے نی نک یکن ر 
لی لکی راوکومسددد بنا ہے اوزامگی وجوبا تگھ یاگھی (الف ساس پ کون 
ننس چ چا ئی رکشت ض ری ہوک اتا یل علوم یہی بتانے رگد ہے اویل 
لف سےمعلوم س ےکہردہ ہی ءپرقادر ہے اودرا تھا یکا یعلمکواپٹی ذات یں جھر 
کرنا ای عطلا کے منانی ٹیو سک حصر سے مرزد بالزاستیعلم ہے(ب ) ادرقلو قکا خر 
تنای پانفع لع م کا حاط شک سنا صرف دی ل نف ے ابت ہے جس پر شر می لکول 
یں اورمت ل حعقلی ہکا ازکارصرف اىی صورت می لکف ہوا سے نہ اصول دہ یکا 


بت 





ال ےا گارہو۔ (”الفیوضات الملکیاک )٥٤٥٤٤ ٤‏ 

انسوں ےاان نام مہا شقن پر جو امام اچم دض علیراارح کی دائش رجات کے 
ہوتے ہو ےکی ان ق٤‏ مس اتیک کال گاتے میں ۔ باٹی پان متا خر بن 
لمکا لگ نک جو یکا تال ہواجماعاکافر لا نکامراقسوی من کل حھقتے 
یوک دوفو مین مانے جانمیں و یکفزے۔ 

( ”الفیوضات الملکیة“ ؛ص ٤٥)۔‏ 

فا وا٣زا‏ ہام ایل سنت علیرالرح الم الاختا و( ای روب ۴۵۱:۲۹) یکم 
انی او مکل قکیضبدت سے تح قککت ہیں : اش خی رغدا ا عکرمعلومات الہی کو 
حھاوینئیس بوسکناء ماد ذو رکنارقام اون وآ خرن وا نیا م رشن و ان وم شی 
سب کےعلو لکرعلوم البیہ سے ووبد تی رکھ کت جوکڑوڑہاسنرروں ےیگ 
ذراسی اود ک ےک وڈڑومیں جھ ےک کہ وو تما م سمٹرر اور ہے إوئ راکڑ وڑوا نحص دوثول 
تنا ہی میں اورقنائیکوقناہی سےنسہدت ضرور سے مخلاف علوم الہ" کی رقای در یر 
قتابی درخ رقنادی ہیں ...تو جم فلومح یلم لی سےاصلانبت موی فالق 
سے ن کہ معاذاللد فو ہم مساوات“۔ بعیی بی شون ”الدولة المکیة مع 
الغیوضات“( ص۳۴ )ٹیںکھی موجورے_ 

فا ٣۷س‏ :این وررض لمکم الہ کی صف تک وبھے ہیی بھی ہیں شر ککاوہم ہوا 
ا امام رضاعلیہال رح لفوفیات )۹٦۰۴(‏ یں فرماتے ہیں 'فلامفرنے جوم یکہاکیم 
ے ہما رےصورت حا صلیمند اق لکا نام ہے بر فالط ہے۔ان سطباء نے اصل فرح 
می فقو سکیایم سے ہمارے جن میں معلو مکی صورت عاصل ہولی ہے نلم 


پووں ۲ 

حول صورت ےکم ریلم ووفور ہے جوگی ما کے دآئڑے می ںی مککشف بوئی 
اور یتس تلق ہوگیاا انکیاصوزت ہے ذن میمزرم ہوگی۔ جب فلاسفہ 
اۓ' نے عل کون بپچان سیت عم 1 کوکیاجا ایس ے؟ تق تھا صورٹ سام ون نشی 
سب سےمنزہ ہے ا کا لم تضورمع اض یں ا اعم تضور وصمول رن 
سے منزہ ہے۔ا کا عم ال یکعفت ق اہ بالات لاس ذات ہے ج 
کیف سے منزہ ہے حزید کالفا یع حلوق سےعلم کے بالزات تباین 
ہے یکنا لوق ےم سےالل الیل صرف چنوصوعیا کی وج سےمتاززے 
ہار ے نز دکیک درس تن _( نبا الحيٰ* ؛,.ص۷٢٦۰۰۴:٦۴)‏ 

٣۳٣۷۵۳"‏ جعلم لی کے خی رتتابی پافعل ہونن کے جوانے سےبجض ا تین لا 
خیال ەعطلاعدایمساکوئی کو بر دس ایال نا ج سکیل ام ال مت 
علیہ ال حمہ کے رسالہ ”القنع المنین:لتمال المکذبین“ (فتاوی رضویه :۱١‏ 
۳ء)] میں ماحظک جاے۔دحیدہ وی ان علاغڑا لی احمتگر یکک وگیٰدضتؤر 
العلماء ''(۳22:۴) مل قح ہوا ار ئ یی الک طر فی 
اغا لضوبے/ا ریمالی یی وق فیس بدکنا وا کی عیا رع 
ے طبقات الشاففیة الکبری: اق یکر نے کے بعد بیفر ای 7 
افزاء ہے علمالی وت ا سر 


جائے: 





'لدولالکیت ”فیا ۓ :٦۵-۱٦۳:۴/‏ 7 الحی ' ضص٣۳٣۳؛''القمع‏ 
المبین لآمال المکذیین “فو رضوبے ۱۵:٣۴2۔‏ 


۸۵۵ 
(چ 4) این نےعل مونط الا کوالل تا یکیاصفت قراردیا۔ اس ناک می اللہ 
علی لم یکر کے شیطا نکی مابت اناج نٹرک یش رک بوتا ھی ایک 
عظام پرایھان نس ہوکتا۔ 
فان ۳۴۷:منانشن سےفة بی شر ککو پا لکر ےکا لاجابظریقہ یہ ےلان نے 
سوا لکیا جائۓ کیا انڈندتھای ال بات پقادد کراپ یلو کو سان دزن گا 
پا ں کاعلم دے یاد یھ ےک یقت دے ا تما مآ وو ںکو سن ےکی طاقت دے؟اگر وہ 
کی نہیں مت اھوں نے ایک امرلکن سے انتا یکوعا بج مان اور میک رے۔ لہا 
انھیں اسلی کرنا گا کان تھا یا اس بات پر تطعاوایقیا قادرے او رتس بردەقادرہودہ 
رک ٹیس وکنا انل ےکرک اشبات ش رک ہے اوراشات شک یحال بالذات اور 
قزر تعمال با لذات تلق یں بدلی۔ (”إنباء الحیٰ“ ص۳۰۸) 
فا د٣۵‏ ۳: رک نشم الا ت علیہ زا کے اعلقاءکا نام ے(”حیات الموات ا 
فی بیان سماغ الاموات“ہ ص ٢۳‏ )یلم ما کان دم کوان عطائی اح با مال 
عطا یکوٹی اک رمب٥لی‏ ال علیہ ےیل مکل خابت مان ےکنا مال تی لا مآ جا ہے۹ 
دوسوالی ےک یگ بن ےا کول جا بل ن پاتا- 
ذائمد۱٣۳۷۹:ئ‏ زاین ناوات میں ےلوں لم رک یلنیلم ما کان دا کون کو صلی مکرایا 
مگ رفضل لاوق صلی ال علی یل مکیلے مال جانا ہاگ خی را دکیے اکا جات 
رب ہوتا تق چک ر یرداپ قول سے شر کتھبر یں شت 


(”إباء الحی“ءص )۳۷۲۷۳۷٣‏ 





۴۸۴ 

(6 4) ود تضوز٥لی‏ اولہ علیہ یلم سیثلم پرافنال کا اطلا قی نی سکرتے کین ان کے 
زز ویک حقیقت می سعلم دہی ہے جوکا سب دمیل ہو شی اس با تک صلاحیت رکے 
یگ یکی کے تام افراد وہچے یا تکو جال لے کما صرٌح بذلك المحڈٹ 
الدیؤبندي آنزر شاہ الکشمیري في ”فیض الباری“عالاک مگوکا سب ومول 
کنا اربابضطن کے نز دی کی ہے کا سب قوگل شارح او رجت ہیں اودی 
ن بھی نمو ںی کہا پچ راس فا نظ کی ہفیاد لا مآ تا ہ ےک تھا کا م داگی 
باعل تہ ہو پگ تصولی اور لق 7ہومعاذانلد-(”مقام ولا یت دو ت'') 

(17) لین دید ہنی علاء نے جج تیات کے ادرا کفکیعلم سے ٹکالا اوراس رح ھی 
کر صلی ال علیہ یلم ک ےم بالات پہ با رک لکیا کہ ریخا ف تن 
ے۔قال المحدّث ۔لدیوبندي أنور شاہ الکشمیري في ”فیض الباري“ 
:)۱٥١١١(‏ ”لأأن علم الجزئیات لیس بعلم فی الحقیقة“. 

(چ 4) نین مطلق الم وور پل لق میں رت فر قکرنے سے اضر یں 
راع طلن کی ایی تج کرۓے یں وخا فتتّن ہے۔ امام البرھاع“ 
دا بندیی عالم مر فڈرازنکھدی نے جو ریقو لکیاکرالی ملق ماق بر افرار 
یقن سےاوراکیٹئی جج آفرادکائی سے ہوتی جلڈییکا رہب کی اودرائں نے 
انت ریف سے کنا ککینک ہن یکر لی لعل لم سے النی ب امن مشٌی 
ہاو یا ی صورت بی ہوگاج نی بکا ہ۸ رت سال و ہس بوافزیظرے 


کفرے پیہرا ئا مض قپمنل مغبیات- 


ے٭ا 
نا نے“ شتيقْ ا صطڑا مات ا لع واصول 
طعت مطاقہ او ملق طبیج کی بحت میس علاء اصول نل کے ورمیان اختلاف 
ہے۔ دوفوں نے اکے چدا جااہکام مان ف ما ہیں ہا بل بیہاںن بتونتعائٰ 
با نکی جائی ےجس ےترام مجلوک شبات کا ازالہ×و جا ےگااوردوفول کے جوم 
وامکام مق مم ورشن ہوجائیں ہلال یں 
اعطلا ما طق ٹل ”الضيء المطلق“: ال رر ھڈلطیص تجثیت اطلاق ے 
مقیدکیاگیا ہے او ریس شیوں وکوم ہوتا ہے- اسکا وجورشن اگےافراو کے وجود 
کیرات مربو نی بافط در اوج یت اطلاقیہ گے افراد کے اعام ای طرف 
صرای تنم کرتے یق طبعی ہکا موضوغ ہہوتا ہے اورال ذجہ سے اسگا ضرف 
لی ے کذا التحقیق فی ”حاشیة بحر العلوم المدراسي علی میر زاهد“ 
”ملا جلال“ و”القول الأحسن علی ملا حسن“ و"الفتاوی الرّضویة“ 
۳ 2 8 ۰ سے 
اعطا اصول فتشل ”الضيء المطلق“:ال در ظا ہر ےتیج تمقیدکیا 
گیاے اور ا۔کا مفادحگی موم وکلیت ہے فرقی می ےکہ اکا وجود وشن ا کے 
افراد کے وجودکی اتی م بوط سے بافط دنر کے افراد کے احکام ای طرف سرامت 
او گے۔اہےاحنقن بج افراد لقن سے ہوگا؛ل ہا اسکا قی مو جبکلی ہوگا اور 
نٹ کسی ایک فردیکٹی سے عال جدجاگی لہا اسکا قش سالیہ جس بدا 
کذا في ”الذولة المکیة“ (ص۳۹). 





١۳۸'۸ 
اصطلاح مناطقہ یس ”مطلق الشبی :اس درج ری طیح تک ہرقید ےمد ہکیاگیا‎ 
٠ںیہ ےتنیکہقیداطلاق سےبھی۔ ای طرف اگے افراد کے ا ہکا مم سرای تکمرتے‎ 
ا عفن اے ایک رد ےنصن سے پندگا او زا ای ایک فر دی فی کے مائین مولق۔ت‎ 
(کذافي "مر زاهد“ علی”ملا لال“ ص١٠٠ و”حاشيه الخیرآباديی“‎ 
۔)۱٢۸ص علی ”القاضی مبارك‎ 
اصطلاع اصول میں ”مطلق الشی ے“: ال درز شش طبیعت قید اطلاقی ے مقیر‎ 
نہیں ۔ا تق ذرخائس کےنتقق ےکس ہوگا ( خلا فال من علق ) پک رفربختش کے‎ 
تحقن سے ہوگا اور ای تب ہوگی جب اک افرادکینٹی ہوگی ۔اسے طبیعت‎ 
ممکنہ من ای فرد گی کہا جا جا ہے ؛ل ہا یہاں قضیدایجاہی جز سی ہوگا اورسا یلیر‎ 
ہوگا+کذا فی ”الدولة المکیة“ (ص۳۹) والتحقیق الکامل فی ”اصول‎ 
الرشاد لقمع مبانی الفساد“ (ص۱۱۸) للعلامة المفتي نقي علي خان.‎ 
کیڑکہاس مقالہیش خاع تتیقات رض کی رش یس متیعم بد پر بج ٹکا جارق‎ 
ہے اورامام اتد رضاعلی ارجم نے ام ال علق و طلقق اعل میم میں طللق اصدی‎ 
کےاعتیارے ”الدولة المکیت“ (ص۳۰۹) یٹ ی کی ہے بلہذامطاسب بی ےک‎ 
اٹل اصو لکیتربیفیات اورا ہکا مکا یبا مفادذک رکا جاۓ:‎ 
ا جب بر علق اعم مین سکیل جایت نی تو شوت جزئی ہوگا جوا افراؤک کو‎ 
شال ےک لع موی _ جب ہرمضلق یع مک کسی ےق کر یں نذ اس سے سب جا‎ 
افراجا کا ہوگا یی اکر ہم یی ہی ںک میک ری لی اش علیہ مکل یع خیب عاصل‎ 
شوخ غیب ہوگااورجب یو ںکہا جا ۓےک یکر م صلی ال لی کیل ملق‎ 


۴۹ 
خیب نیس مر اوکوئی ای کبھی اف خیب ماع آشیں حاصل دقا 
۴پ لیک مو تب یکل ےکی قذاس کے سلۓ تع اف راگ مکاشجوت ہوگااور 
جب کیا سے اگیائ یکم یی سیا ایک فردکانئی سے عاصل ہوگ جن افرادکیائی برای 
نی موقوف میں ۔ہم اول رتا لکیے خیب مطک نی ما ہیں جس ےکوی ھی 
فرقیبباہڑیں- 
نا د0 ۳۸ زیم خی پمطل یکیتفصیل: امام اح رضا علیہ الر ہک شخن بے ےک القیب 
لق باعلم جہت اہمال کے انقبار ےئلو قکیھی حاصل ہے پچ جریتٹٹعیل سے 
انقبارےالدتالی کے مات خائ ہے انی بامطل کوقل یکیلے بت مان پر سے 
اختزائش واردہوتا ےکی ب شک یک ا نکرد وت ری فک رشن یش پھرلاز میا 
لو کیل بھی جع اف را خیب ک ےیک مکا وت ہوچی یج افراوخی بکاعلمذ صرف ارڈ 
تال یکا ے۔ اسکا ‏ جواب دیا جانا ےک ہاجما لاو قکو چم افراوخیبپاعلم ۔اصل 
ہکا سے اود مل نکو اف یا ای ےپ تق رتو دایام احر را علیہ ال رص نے 
پک یکرقیبپصعکق اجھالی جومرجہ اشرط لاشی وٹ وی ینس بیشرط وخ 
معلومات دوس رےپٰنح ےکلی متاز نہ ہوں الڈدتھالی کا عم ہرگ نہیں ہک تک اس 
کےیلم می ت کمال اتیاز تل ہے۔اپنے اس موقف پرق رآ لی شابدیھی بن یکرتے 
ہی ںکہ جب فدہ ء مین ا لآیت: ظ إن الله بكُل شَیْءر عَلیعٌ پ4 (الاکراف: 
5 پرایمان لا یا تاس نےک لی کے سےمح معلومات الہ ہکوا مال طاحظرکرلیا 
راک آ یت کی تقم بی قکی اس سے بی فیپ شلق ابا یکا علم اہ حاصل ہواہے اور 
جواسکا کرک رتا ےا لآیت ےنرک ناہے ای وج خیب لق االی موی نکی 


<اا 

خابت ماننا ضرورت دب یھی ہےاورخقلا بیج یگگی۔(”الدولة المکیة ص )٠٤‏ 

رن یکر صلی ارڈ ای پل یلقع خیب ناب تکرن کی سکوی خرالیں 
کیپ مل خی مل قکی طرح ایس شیو و دنن ہداب قضی مو جبجت می وسالبہ 
سید وفوں صاد ق1 تے ہیں ای وج سمل یم خیب ارڈ تھا یکا می سںکہلا ملاک 
س تق یکلیت موی ہے۔ دوسرک بات پیک ج مل فیب لق ابمل ہم نے 
انتا یکی حا تو کیل حابت مان لیا تچ رمشلق عم خواوا جا لی ہوخوا پش از 
خووغابت ے۔(”الدو لة المکی ص )٥٤‏ 

اص لان یہ ہےکرا تی کےا یکم فا ہے ول مکی ہاور 
للا ملین جمۃ شرط لاٹ رہطا شی وہای یں الڈرتھا لےکیساتھ 
نع نہیں .یلق عل ما جعالیبنلی تق تام ائل اما نںکوحاصل ہیں ۔ ارتا یک اع مم 
مطل زا نصیلی ے!و ریچ معلوما کو باعل“ قرط اورذائی ہے .نی وا یآیات 
می بی دوامٹفھی مو یق اعا طک رح تقصیل لم ذاتی لو کی ےم عطالی 
خابت ہا لکا ایک ف دی خال قکیلے انی خواپک لق اہہالی ہو پامطلق الم 
نی او جال ای لو قکیت ریف یلم کے جانے سے پت مطل قتعبلی 
کےاخیار ےی ہو لی اجھالی کےاخقبار ےی کی جال ے۔ 
("الدولة المکیة ص )٥٤‏ 

فاکد: ۳۹س ری رزاہرعلیا رکا رؤ: یہاں یلق مق کی و وتعریف 
ذ نکی طرفک یں جانی جا جۓ جوخضرت سییرمی رز اہرعلیرالرجمہ نے شر لا جلال 





لا 

می سکیا ہے ؛کیونکہ ا ںتتریف کے لیا طط مل خیب مل ول تو یکی صض ننس 
ہکا کین ان قضی وجب بج میا تا ہے عالانکہانڈدتھا لی یلم می صرف ایجاب 
انی :ملق کے بات میس یع زا دی ال شر ربطاجلا ل''اور 
منمی زاب“ امور عا مرش فرما کہا کاخقق ایک فرد کےنقن سے ہوتا ہے اورا کا 
افظاء جم افراد کے انفاء سے ہوتا ہے اور ای نرہ بکوعلامہ غلام رسول سیری 
صااب نے اپ کاب مقام ولا ہے وو“ می شقن قرار یا ددعل رفخ لت 
خرآبادکی نے ”ھا شی تی مارک یں ا یکو کر فرمایاججکزشارح امورعا مہ وحید 
ال مان نے متضاد یا تھی ہیں یو ںکہ ایک ف پ ران تا کی اوردبسرے من پہ 
اکے برخلاف فرب کرتے ہو ےھ اک ہمنثیت الا قیہاس بات سےد ولا ےکہ 
شی ملق کےافرادکے اکا مایا طرف برای تکریں ۔جِب پی ےک هیدیرزار 
علیرال رجہ نے طخلا لی کے عاششیہ بپراس با تکااعترا فک ر نے کےفورابعدی ارک 
خلا ف تع فرمادیی اورشنی مع قکوافراد کے اکا مکیساتجحدم ربوط مانا: 

قال: ”لا یصحٌ إسناد أحکام الإفراد إلیە؛ لأَنَ الحیثیة الاطلاقیه 





تابی عنه وھو بھذا الاعتبار یتحقّق بتحقّق فرد ما ولاینتفي بانتفائہ بل 
بانتفاء جمیع الأفراد“۔ (ض )٥۰٠٢١۱ ٠١‏ 

مطلقی ےمتلق اصللاح ماطقہ ئن دی سے جوم نے 
ول فیاوی رضو رج ۹:۱۳ عاء ےےا) ددمگرجواشی سے پیل فک رکی۔ امام ار 
رضاعلیرالرحمرنے صاف فرب یتین نے سید زار کے ا موق تکا متجررووہ 
سے دوگیا ہے برا کے بطلا نکی ب بھی ذکرفرماکی لہ اعلام سعیرکی صاحب نے 


۷۳ : 

اپنی ذکود ہاب میں قول مقار کے مطاب تریس ٹر مائی اس مال سے م یقن 
علام پرشج شی صاح بک یکتاب'”اصو لکن (ص )٥۵۸‏ یس دج کی جا ذاز 
حد فدہ من لوگی اپ ہہ ہ ےکہ دیو ہنی عالم مرفرا زگمزدی کا استبال اش 
رطل نس بھی اصطلا اب لم کےموا فی :ناب نل کی اصطلاح کےمواف 
ہے اور تہابل اصمو لکی اصطلاح کے موافی۔اس سے ا رین خوب اندازہ لگا سکت 
ہیک خی کر لی ا علیہ یلم ےکی مکی خا رات علاء دیو ند نےملم دی نکیا 

خدم تکاکتا شرف ءاص لکیاے- 
فا 1+ :اخمیا لاوق السا مکیلۓ ری عطا ےل یل خیب مان ضردریات 
دین سے ےکہتھام امورآخرت وشرفشروغیر با انی کے جتانے پرموقوف ہوتے 
ہیں ار ارتا لکیعلم الغیب امطلق کا مقیرہ نا بھی ضرور بات دن سے سے 
('”الدولة المکیة“ء ص٤٥)-‏ ای وچ ے واؤیندگی عال ری چان پپدکی نے 
”وش البیان نی ضز ال میان“میس** مط قعض غیت پ٠‏ عکرقلو یکین حابت انا 


فادہا :ض علاء نع خی بک ملق دنقیدکی طر فبھی نی مکی ہے۔ یہام 
ایب ملق نا قکی صفت ہے اورمقی لو کی ۔مقیکو ال کیل ےنیس خاب کیا 
. جاکگد 

(19) اشن فلت وکٹزت کے امرافتباری ہہد ےکوی یھ ایک جیا ءباغقبار 
ویش سکیل ہق کرای ذات کے ابا نکش دیق سے دک 
٠‏ عددایک لاک کے متقا مل می ایل ہگ اپنی ذات کے افقپاز ےکی رہے۔ 





٢'۳ 

حضو حلاص السا امم سیت ازتھا لی کےعلم کے بےےئی کنل ےگ ریت 
حلوق ےم ےلیم وکی ہے باءیں طو کسی کاعلم انیس جن حضور علیہ ال 
والسلا ما ہے۔اان دوٰوں باقو ںکوان دوآیات کےنقاظ ری مھا جاۓ ما أُریمُم 
من یکم لا قاقیہ زالاسراء: 85 می تا متلقا تکیتم لم فاب تکیاگیا 
سے اوردوس رجہ ارشاد+دا:هَعَلَمَكَ مال تک تَعلم وُکان فَسْلُ الله عَلَيكَ 
اما زالنساء:113] اس عقام اقنان می صراحت ےک تضورعلی اصلۃ 
السا مکاعلم ارڈ رتا یکاف‌ لخیم ہے؛لہذاہا تاس درست ظہہوگاک نا اکم 
ا حا یلم ۲ علقیل ‏ ےکیٹص نے قلوق سےیل مکی لکہا او رتضورعلیہ الہ 
والسلا ھی ان میں دزشل ہی توو کی کے وکنا ہے؟ اس کہ قلیل بالنسبة 
لی علم اللہ اودشی ء سے اور یموک فی نف اورشی م ہے۔ یبای نکاتصور ےک 
ان یل منافا تبجھوٹیشے- 

(إباء الحیٰ“ ص' ٣٥؛‏ ”الکلمة العلیاع 

(20) مگ ری نکا بیشبہ ےک قیب پفدرت رگا باب دک جب چاے ددیافت 
کر ےصرف اوت یکی شان ہے خیاصلی اللرعلیہ ےم مکویب جانۓ پرکوکی ددرت 
تھیں۔اسکاجواب بی ےکی فی ب ای کٰہجزہ ہے اوج زوالل کی طرف سے م کور 
گئی قررت اورطاقت می ہوتا سے ۔خود نانوی صاحب ن ےتھذالنال ٹل اکا 
اق رارکیا۔ بھی امام خ زا یکی بات ہکوالہذ رقا یچک ری یں امام خزالی نے مربد 
ہیگافر مایاکہخی ایت بی ےسا ویرسے ہزات دکھا تا ہے جال 
یت ہےکہہم اپنے ارادے سے جو چا ہی ںکرتے ہیں ۔ علا سای علیہ 


اس 
الرصمہ نے الاصا ہیں جنر ت عبد ان نکوف رشی ا رعنہ کے وہ اشعار جوانھوں 
نے بح رقول اسلام تضوسلی ال علیہ مکی بارگاو ٹل سنائے تھے ذکرفرمائے جن میں 
بیشھص مگ ہے: نان نشاء یخنبرک عما فی دک جب تم چا ہ ونیک لک 
تجر تاوہیی۔ اس رآ اکر صلی اللد علیہ لم نے ھی علہ پہناباود دعاء سے 
نوازا۔امام اد رضاعلیرال رض ای شر مم افادوفرتے می ںک ھا ی نے یی ف مایا 
کجب دہ چائیں ہہک ہاکہ جب جا ہوا کت یی ےکن ےپتض وف مفیب 
دیاجاتا ہے دہ اپقی من پر غی بی خر کت ہے دوس ر ےکی می پش کیوکہ 
خی بک خجرد ینا گی قدرت می یں ہوتا اوس یکا بیاخنقا اک یحو دی علیہ 
تر نے“ ہروقت قد رت رکتے ہیں۔ 
( إنباء الحی“ہ ص۲۶۹ ؛”فاوکی شارع بفارگ' ۲۴۹۰۱۰:”مقام دلایت وبوت“ 
ض۵۲٥)‏ 
فا ۷م :لن نگم بن (ا ایل دہلوی )نے اٹ تھا لی ک ےیل مکوقصدری داختیا ری اکر 
حاد کی رخ مانا ہے ائلد جب چا ے خیب ددیاف تکر نے شی عبارا تکا 
مفموم بی ےک خیب پاعلم انتا یکادانی نیس برا کے تصمدواغیارٹش ہے 
او رد وافختاریٹش ہوناحدو ٹک علاصت ہے اوراسعط رع اس انل نے صغ وی 
یش خال قکوش ری ریا 
( ”اک کت الشہایی وی روب ۱۸۳:۱۵؛ 'الکار العلیا'/ص٣۳۲)‏ 
یں می نٹ دی ہنی علا ون اتی سک ےیل مکی تو لکا از استعا لکیا تی ال 
تا ی اع تو یکئیس (ملاحظہہوڈا۷ر٣۷٣)-‏ 


۵ه 

(24) دوموم سلب ادرسل بعموم میس فر نیو کرت ۔ نآزیات میں حضورعلیہ 
لصو والسلام ےم مکینھی ہے دہاں احاط کی ہنی ہے شی فا قی بکو 
. اشن کیأفی دوال لن ۓےک ہا قیب اٹل ازابتدا ےق تاماورائے ققام قیامت 

یلت ذات دصفاتکاشیلیعل اتا کاے- 

('إباء الحیٰ“ ص۸٣ )٥٤٤٤٢٢۷ ٥۰۳۸٦۰٣‏ 
ہارا ھا نز واٹع ہو چا ےک جفو صلی اللہ علیہ یلم کاعلم امور از ابتراۓ 
خی( ان ) :ا انا ےنلق یجن جا قیام قیامت (مایکون کوحیط سے اورامور 
باوراۓ قیامت ازامورغیرقنایہ پافعل او رذات وصغامت باریی تعا ٰکوتضو ری الڈر 
علیہ ویلم کاعلم حیطنییس بکمہان مل تز قی پڑے ے وہذا معنی الغیر المتناھی 

الاتقفي عند جلٍ وھو غیر الغیر المتناھی بالفعل. 

جہاں بیآیا یکم فی بی خادت تم ارسماراخیب ہا یر ں کا موا 
ماوراۓ قاصٹ ءذات وصفات اوردمگرامورخیم تن ہی۰ اف لکومیبا ہوا نٹ ی سے 
فی بکیاقیکئیں ہوتی۔ ا سکس بوم سےبھ تی رکیا جا تا ے نی تضورعلیہ 
اص والسائم نموم مکا سل بکیا ہے باالفاط دنگراحاط کل کیا یکیا ہے ۔سلب 
موم ادر و سلب یں بہت بدا فرقی ہے۔ پہلاق دا ہو چکاہے مد اعد سلب تذل 
کامن یہ ےک ہرایک خئ سے مکٹٹ یک جا ےج کیہ بھی حصل نہ ہوںنٹی 
دا ی آیات وص کوقموم سلب یو لکر ےکا مفاد یہ ہوگا کم تضور علیہ الصلو 32 
والسلام نکی انی ذات سیب چان کاٹ کی سے بای طو رک خی بکھی 
یں حاصل نہ ہو:ل ہز اعموم سلب مراد لیے سےکوئی بھی خی باعل تضورعلی الصلو ٭ 


ا 
والسلا مکیلے خاب نیل ہوگا ہی سل بعوم ےکی خی ب کا لم خابت ہہوگا۔ چہاں 
تضورعلیاصلد وا سام ےسل مو مکی خی ہے وہ موم لبیل مم اتی 
بی جسارت ہے؟ پلےگز این نصچس میں قیب کےیل مکزضرات انام 
السلا مکی اب تکیامگیا ےت موم سلب مراد یے ےق رآن میں نا لاز مآ ےگا 
جوکہ بل ہے پیم مم ساب مراد ین سے ونس نو تکاا الا مآ ا ہے :کیو 
نو تکا می ہی اطلا لی الغیب ےش یی بکیتجررکنا جیا کیگز را منا لی : 
فوَعِندَۂ ماع الَيْبٍِ ل يعلمھا إِلَ مُوَ زالأنعام: 59]. 
وَلَو شحنث الم اعَْبَ لسْتَكَرث بن الْحٍْ پ4 (الأعراف:188] 
ئل لا ول لُمْ عندّیٰ حَرَآو اللہ وَلا الم ابچ زالأنعام: 50] 
فإوَمَا ای مَا یل بی وَلَا بكُمُپ4 زالأحقاف: 9]. 
فإوَمَا یَعلمْ جُنود رَيَكَإِلَا مُوَہ زالمدٹر: 31] 
ان س بآ بات یل اعال کل ی ینس بکموم ہےاورییاحاطہ ماکان دما کون ے 
منای یں کیل دنن ے۔ 
فامد۳۳۷ :”حدم الام عاع“ حدم عا للا علاعم نو لکرناخطاے۔ 
('إتباء الحي“؛ ص٥٠٤)‏ 
ند٣۳۴‏ :یت خیب کامتی اپنے تماق کےلواظط لف ہوگا۔ اگ رات ات یکا 
یا کی ںک ہن یکر لی ال علیہ نیل مکی ذات ہبلم ماکان دما کون (تنای) 
راد ہوگا اور اگ ٰیا ظط الیل تھا یکا ذا ٹکاکر میں تاس سے وع تزعلوم خی تنا ہمراد 
ہیں گےے۔ ملا ا ہومعائی” ک لی“ کیفیل (ذاندہ۳٣)۔‏ 





ۓاا 





(”الدولة المکیّ ا“ الباب الٹانیء السوال الثالثء ص۱۳۲)۔ 

فاد ۵۰ہ : رفع ایا گی ءایباب جک ی کے منانینئیں۔ جن دلائل میں رق یجاب 
کی ےی مزاخین سلبک یب کر ایاب جن گی لی یل کے منالی ھت ہیں اور ہے 
خطاازروۓ نلن نا ان یت 

(22) دو انیب زگ یکوا یا بک کی یع پھت ہیں جج ایباب جزکیکارع سلبکل 
ہے ہوا ہے۔ اگ ری تضورعلی لصاو تو والسلا مکی ےنت نیب جا کو گیا ہے 
زاین پکنت ہی ںک سب فی بکو جا کرأئی ےلت یت خیب کےیلم کےا شیا تکرنل 
خیب کیک کا ایا رھت ہیں بجی یہ ال ےکیوکیین کے اشات ےک لکا گار 
زم نہیں ۲_ دیکموحض الانسان (مشلا زیر) ناطت وکل انسان نات سکہاں 
تاس ہے؟ ہرک ہاے۔ جوان میں تا ض سے این مک تصور ہے۔بانطنی 
موجہ جز سیکا صدرق مو ج ریکل کےصد یکا منائ نل ۔بعض الاشیاء معلوم لنبینا 
صلی اللہ عليه وسلم گی ئ ےاود کل شیء معلوم لبینا صلّی'اللّه عليه 
وسلّم بدلیل آیة التبیان گا ے۔ 

(”الکلمة العلیاٴ ص )١٦۸‏ 

فا م۷۶ :این اصااکسی طط رح کم فی بھی تضورعلی ااصلو والسلا مکل اہت 
نہیں مات اٹ یکو دہ اقوال علاءمحفر ہیں جو اییباب جنزگی پر دای ہیں یں مر 
نآ حا لاکک دہہمارےخلاف بھی کرت ہیں _ دو گا ےل ٹن یکرنے اورجوقول 
پٹ کرتے ہیں و خودان کے نرہ بک نشیس اب تکرتا ےک سل بک یار یجاب 


جزکی سے ہوتا ے۔ 


۸ 
(23) دہ اباب تجنزگی کے مقا بے یں سلب جنزئی شی کر تے ہیں اور سطرحبکتت 
ہی ںکتفورعلی لصاو والسلام سے مطلق عم فی بکاٹی عاصل ہواتی ہے چپ ہے 
ال ہے اس مل ےکا اب جج زگ یکین سلب جزئ نی بک سب کی ہے۔ائل 
٠‏ سنت وراعت تضورعلی اللہ والسلام کے مو تلم می جمبیوں اییاب جزگی دکما 
یت ہیں۔ باف دنر ہمارے پا ہت سار اہےے دلال میں جن سے ایت ہوتا 
ہ ےک فلاں فلا ںی ب کا تضورعلی الو والسلا میک ھچ ناشن سل بک کی ایک 
یل بھی پٹ نی ںکر سیت جس سے بیمعلوم ہوتا پہ وک تقورعلی الصلو والسلا مکی 
بھی خیب پاعلم حاص لیس تھا یا نمی ایک نام واق ہک جو زمان,نول ت رآ نکا 
ہوہہارے خلاف جی لک کے جھادا مھ عا نٹ تو ڑ ھت اور بع کنل خزول ساب جزئی 
یکو متددیلقو پیش ہیی ںکر سض نیل متصداول می ںگزربگی ے- 
ارہ ے٤:‏ سل ب کی کے ابطا کیل ایک ہی ایجاب جزگی کانی ہے(عام رب 
من )اور مارے پا کئی ایجاب جزکی ہیں جوق رن دحعدیٹ می موجود یں 
تو معلوم ہو ای خی بکاسل بک یتضورعلی لصاو والسلام سے باشلی ہے بگسا بک 
کا ایم و تکامگرے کما مر سابقاً- 
(20) زان حضور علیہ عصلو وا سلا مکی ےلم خی ب کا عم مات ہیں دہ مارے 
ما کے خلاف اپےے دلال لاتے ہیں جن می سل بی ہے۔۔ حا لاہ دہ دلال متا 
آیاٹأفیعک خودان کے موقف کےےجھی خلاف بہذتے ہیں ۔ گرا ن٤کا‏ ان دا لکی ا 
اختراش درست ہو برا گا کو یبھی ئل ہو جا ا ہے اوراپنا کوک چان ےکی جووہ 
جواب دس گے وی ہماراجواب ہوگا- 


لعل 
(25) وہ قش فعلیہ اور داتمہ بی فر ق یں بکرتے۔ ج فی المالنئی ہولی نجس 
زی ودای ین ہیں ۔اا کی ساد مثال یہ ہے اگ رکوکی کیچ :”یں فلاں با تکو 
یں جانا“ ا سکا می معنی ہرز نہ وگاکہدہ با تق لپھیاننیس جانو نگایا آ7 نی کی 
دوبات م ےم ٹینیس ہو یکیکرکل اس بات کا عم حاصل ہوکتا ہے۔ ایس : 
رما ری مَائُفعَل بی وَلَ ُ4 (الأحقاف: 9]۔ 
وم یملع مُتودَ رَنَكإِلَا موچ زالمدثر: 31]. 
وو تحنث أَغلَع اُقَیْبَ لمُتَكُقَرّتُ من الْعَيْر ب4 زالأعراف:188]. 
جن تع تی ما شی لوم من فو ایک (السحدة 17. 
قُل لا يَعلمْ مَن فِیٔ السُمَاوَاتِ وَالَرَضَ الُقَْبَ إِلّا اللہ زالنسل: 65]: 
فوَينهُم من لم تفص عَلَيْك (المومن: 78]. 
انس ا ںآ یت یں ماضی میں نہ جا کی ےگمردوام حدرعلم او زتخبل میں نہ 
جا ککوٹی وی یں ۔آیت پل تلم نل نکمم زالتوبد: 1101. 
ایک دا شال ہےکرزمان ول قرآن می پا حضورعلی اصا2 والس لا کول نکا 
عھ یس تھا اد بعد می اللہ تال نے عطا خر مایا جی سپاعلم ہما ان الله إِيذَرَ 
لوْمِیْنَ عَلَی ما أثُمْ علیہ حَتّیَ بیز الْعَبِْک من الطیْبٍ 4 (آل عمران : 
9۔:. وخ رپا عاصل ہے۔دی]کھولا تلم ی۲ عم دائیکڑی .ز مات ماشی مل عدم 
مک صدق ونح ہی تک یل ےکانی ہے ات اروگ ضرور ینس ۔ بلط ہن فی نی الھالڈٹی 
ٹیل پردلاا تا ںکری۔ 


(”باء الحیٰ“ءص ٢٢٥۲ء ۱۱۳٦۹۶۲٦٣‏ ۳۸۷۱۳۷)۔ 


۳۴ 
(26) نف یلم یوقت انار 2اشع واعترافعبودی تکلفیتقی قرارد نے ہیں چیک ے 
درس تی - نہ باٹ مس تقیقت ہےکہ بوقت و اش عکیگئی با تکونتیقتت نی ں ھا 
چا تضورعلی لصا و والسلام ن بھی اکتزا اف ئبودیتکرتے ہوئے ای اورمقام 
رف انکہارۃاش کرت ہوئے اپنی ذات لمکا یک بھی ہو ا سے و اش ہی 
کہاجائگاادر چہال انہامفر مایا سے شا رسالت ونبو تکا ا قرا رسچھا جائگا امت 
ملف صلی ال علیہ وی مک وتضورکی شان رسمال کو نظ رکےکرا نک یتنمتو ںک وہنا 
چاہے شرکہ جو بات ںآ پم٥لی‏ الل علیہ یلم سے اوقت اختزا گید یت صادر ہل 
شی کقیدرہہنانا ایآ پچ بدہاللھ کے ہیں اور رسول امت کے- 
ڈول کپ نول ٹھپ زالانعام: 50].وغیرہا آیا کت ادرحدیٹ ٹابیر النعل 
(ملقبح الس کے جواب میں یا ایا ےکم ہاں اظھارق اش ہے- 
('إنباء الحيٰ/ ص۹٥۲)‏ 
(27) دوٹی ددای تیعم ھت ہیں۔ یں تضورعلی لد والسلام نے بے 
لیے یالتھالی نے تضورسلی ان علیہ یلم سے دای کاٹ یکا اذا ںکامعق بے 
کک پمل ال علی :ڑم اپنے جن مارک سے ازخوداودائل تاس یی بے 
جچکہ الد تھالی کے بتانے اود وی سے انیس اس چزکاعلم حاصل ہوسکتا ہے مشثال : 
وم اَتْرِیٔ مَامُفعَل پیْ وََا ب4 (الأحقاف: ۹]۔ ٹس سای درایت سے 
یی جس ازخود نی جا اکرمیرے سج کیا ہوگا اور کا علم ےب بی تی حاصل 
تھا۔ 


(”إنباء الحیٰ“ مٌض )۳۸٣۰‏ 


٢١ 

ڈاکرہ ۱۸: متررج: پالا جواب تب دا جاتا سے جب ددای تکا مھا ہرکی سجن مراد و- 
202 عدم دراعت کا میازیمعنی مرادہونا ےشن ابیہام ننس ےمم تکایالنا 
کنا ام قد اقصورووع ےا اکر چہ بات علومہولیْے۔ 
(یینی شرخ بناری عوالہ زم القاری''۳۱۸:۴) 
نآگرہ۹م: آبیت: هَإوَمَا أرِیٰ ب4 کے متعدد جواب ہیں۔ *ا جواپ "إنباء 
دسح رص مم دیے یھ انی دا کپ مکی ا __ 
احوا لآخرت کل شب یس کی ےکہد و خی رتناقی ہیں اورقنائی خی تی ے 
تنا ما٣‏ لکرکا نے تایح داد اح نف یلم اعم علی جھة 
الإإاحمال کے ب ٣اث‏ ے؟ ( ”حلاء القلوب“٢۱: )٥٦۷‏ 
(28) زاین ق علیہ کے صدق کے دوا مکیے ا سکاضببت کے دو مکوواجب 
کت ہیں چک فعلیہ کے سد قکیی این تکا دوام ضرورگی' یں لا زی تائم 
قعلِ رام رق ۓےگرا کے لئ ضرورینیو سک زی ہبیش ہکھرارہے۔ ا آیت: 
ظرَمَا ری کون دک مج ےراس کے دوائی صدق کیل دہ رم ررایتلرداگی اکھت 

ہیں۔(”إنباء الحیٰ“ء ص ۳۸۷ء )۳۷٣‏ 
فا ۵*۷ :اصطلا سلف میں' ا ا مرا ترضعت فعلی “ہوا ہے نل 
حفرات نے نگ مکیاکہآنیت با وا ای پچ دوسرکیآیات سور وزاب سے 
بنسوخ نہیں کت اسلخ کن صرف ا_ام یش ہوتاہے چنا کا یک دوس رامع بھی 
ہے جو کور ہوا۔تر ان لقن سنا عبدافڈداین ع پاش شی ا دنہ سے ا یآ یت 
یمضسوغ ہونےکاقو بھی اس یصتی میس ہر( نباء الحی“ ص ۳۸۹) 


۲۳“ 
فائمد۵۱۰: بجاو ککمہ پٹ من وانےنماز پڑ ھی وانے ؛روزہ رکھے والےء احکام 
الا مکی با آ ور یکر نے وانے ہتضو رسکی ا علیہ دم مکی نکی می ا نکیاصحبت مل 
ان ین دالنے ج بآ پیل ال علیہ یلم کیلم اقدرل کے با ےصرف اتا کے 
ں:”وما یدریە بالغیب“ لق تضو لی اللعلی یلم فی بکیا جائیل ء9 القدرب 
العزت نے ان پرکفرکی یں م رلگائی: 


ٹل اباللہ وَآَانہ وَرسُولہ كُثُمْ تَستَهرلُوت لا تَتَِرُوا قذ كَفرکُم بَھذ 


مارگ4 رفرید :7.165,66“ ۔ رر 
تج تم فرما وک ہکیااقد اوران یآ ول اورا کے رسول سے پت ہو؟ بہانے نہ ہنا وق 
کافر ہو پےسلمان ہوگر- 


موس شا سسشراجھسھْوعھر 
رضی الله عنه کذا في ”الفیوضات الملکیة“ء ص٤٦).‏ 

ال سےالن لو ںکوغرت ہبوٹ جا جوا با تک بہت پا زاس ط رح کے 
ےکتے رج ہیں۔ 

(29) ماف نآبت چ(ما ننسخ من آیة او ننسها4 ےاستملال ژ ں/۔ جب 
تھا یی یت ت رن یکو بھلا دی ےکی عراحت ف مار ہا ےو معلوم ہوا کا نات 
کے ہرذرے کے پارے می ںآ پ لی اولعی ےلم اعم یی نہ وواہ اسل کہ ہر 
ایت 'اپنے لفط کے انار سےمفہو مکا ات ین دائل ہے اکر چک سی ریم 
کائیات میں داخ ل ںا سیت کے امام اچ رضا علیہ الرحمہ نےکل پاچ جواب 


دچئے۔( ”باء الحیٰ“ص ۳۷۷) 


۲۳ 

ا کا ایک جو اب تو ری ےکیق رآ لی آ یت قلعا وق ا کا نات ین داضل کی اسلئ 
ہو ہکلام ال ہے اورکلام ارحادت ونو قایس ۔حادت ا ںکاغزدل ے, نازل 
رم ےءعادث ہعاری قراءوت ے مفردع نلم ے حادث مار یکتاہت ےت 
تقوب رم ہے حادت ہماری سماعت ہے سسوع قد میم ہے ءحادت جماراحزط ے 
تقو ظز مم ےنا انی نک قول تعن مت لک نہب ےک دہکظام نی بیکوحارٹ 
ان تھ اسل امن یکو دہ مات بینییس تے۔اسل کلام ال دکی تیم ہی 
صرے سے خفت خطااور ٹل ہے سلف الصا ین یس ا سکا نا نکی او رض 
اشاع ہمتاخ بیع مخز لے مناظرءکرتے وق تا نی مکی طرف بورہوے وتوہ 
جاتے ےک اتل کی د یل نیس اور یرم راومتزلہ کین اح ے۔ 

(إتباء الحيٰ“ ص۱۳۱۰۳۷۷) 

اس سک لے بیس امام بلسدت علیہ ال رح لم "نوا المتان فی توحید القرآن “ 
یز چپ گی ہے اور المعتمد المستندہ “ٹیل ال کا خلاضہموجود ہے اوران 71 
نا سیدکی ع برای الناڈسی علیہ ال رج کی تن پر ہے ۔طریقہ من ظروپ دنر جوا با تایے 
ہی ںکہآیت می بھلاد ہب ےکیذدت نی اکر مکی الطعلیہ یل مکی طرف ہیی نک اکئی 
اود یگ ہیٹرطیے اور ی :جو رهقدع کا قا ضاڈ لرتا- 

(30) مخانین زہو لکوعدن عم ( مل ) بے ہیں کہ ذہول علم ساب کاتتاضی 
ہے؛ااس کہ ذ ہول عد متضورکا نام ہے اور بوقت نب حور ہوچا تاہے اود با یاد 
انی ہے یئ نا بات پیش ہولی بلہ دی خز ان یاداش تک بات ہو ہے ہی 
تی اور بعدسو نے کے کا ہرہو گی( انباء الحيٰ۸ ص ۴۳۸۲ء ۳۷۷۰۴۷۹۸) 


-۔ 


۲۳“ 
(34) خاش ن بی ہی کسی ایک وقت می مو لے کے بد عد یکم داگی ہوتا ہے چیہ 
ےلم کےتمول پرکو یی مدان ئیں۔ 
لی :حدیٹ ذ والی مغ اورخماز ین سوہ پروز قیامت منالنکوضہ پان ےکاکھی نے 
ایک جواب بی ےک ودنا ھکشزت معردفیات دجن رم تک ہوگا- 
('زاحة ایب“ وی رضري ۵۱۳۵۲۹:۲۹؛ ”إنباء الحيٰ/ص۳۸۳؛ 
”الا ت کا ی'', ۲۳:۴) 
نامد ۱٣ن‏ :تضورعلی الو والسلا مکی نماز کے ان سہوکافامد: اک ام تک اما مکا 
عم علم حاصل ہو ہحضو٥لی‏ اذر علیہ یلم نے خودفرماا می خودیو نیس ہوں میں چھلا 
دا جانا ہوں اک ہش راع تکاعح نا رکرول (موطا ام ما کک )۔ سو پچ ےک بات ے+ 
ن کا بھولنا ہار ےھو ‏ ےکی طرح تہہوا نک الک اورضفت می برابرک یا یادلَّ 
اس کیل ےک ےنکر ہے؟ سخ تق مر یکا جائزہ کی کے بعدانسان اجچجہ پ 
چا ےک یو بک ہرادا تھا لکیحیوب ہے ۔ جج نکا امو رجناش جت ٹل 
چت ہوااقول بت کیوں ن ہوگا؟ مار اولنالبھی انی شی تی رکتا تنا تو بکا 
کوڈیکل د سوک خا مشیر ہنارکتتاہے۔ 
فا ۳۶٣۵‏ ۵ :نی اک رینسلی ال علی لم پہوکا طاری ہو ران قول کے مطابی جاکڑے 
اکر اض علاءنے ھا پیل ال علیہ1یلمکاسویھی قصداتھاگر یق جن 
کےنزدمیکپم رون دفتازیں ۔("إنباء الحیٔ“ء ص۲ ۳۸ء )٦٢۸‏ 
فا ۴٣‏ ۵: کر ہسلی ای علیہ یلم کےابقدائی ز ما نداقدس ش مشاب :نکیا وج ے 
یس موری رتے اورآنپ ٣‏ الیم سے ہل ہوتالین اس خال مشاہ رہ 


ضز 

یت تی ہہوفی دی یہا ں کک یدص لاک ای کشموددوسرے سے مان شہہوتااورکرئّی 
دوسراامرمشاہد وی کے وق نی حر چا اوراگ یں نادراہوائی ہو دہا ںکوگی دوسرا 
ام سبب ہواہوگا-(”إباء الحيٰٗ/“ ص ۳۸۲ء ٢٢٦۲ء )۲٦۳‏ 

اد۵ ۵:ٹی اکرز یل انڈرعلہ بی مکغاز پڑت ہد پودیی حیات طیبرشش پا ار 
ٰ کوہوا۔ : 
سپواول :نما زظہیابروایٹمفنمازشھریس پا دنس پ کید 
سپودوم :نما ز نہ مس دورکعت پریسلا مہرد یا جیما حد یٹ ذدالید بن بل ے- 
چوس م: ابوداودشش ےکر قد ہاو ھک ہوگیا- 
سد چا ما ائے اوت ا کین 
س یکم :عخرب میں دورکعت برای سلا مپھیردیا۔(”'غزمۃالقارگ' ۳۹۷:۴۰) 
(32) مفیل پا کال ییشتق مک یبھت ہیں ۔ کہ فی صرف مق نیل 
کی ے۔ جج مل کی مشپور حدریث جبریل میں وازدعلم قیام کال ”ما 
المسوول عنھا باعلم من السائل“کامف یہ ےکرددفول ذوات مارک مفتتم 
پالقیاۃ ساوک میں نہ یک دوفو ںکوا ا ائی یں ا مم پرروایت الیفرددرنگی 
اش رعندلاا تکرتی ےک نی اکرمم مکی ال علیہ یلم نے جواب دنن سے پل نف 
وا کات یک حفرت جج رہل ن ےن مرتیسوال دہراارجنس سے نیا ہرک اگیم شہہنتا 
تق صا یف ار ہے ۔(رتفصیل لاجظہہو: نز مۃالقارگ'۳۷۵:۰) 
(چنے) وواشا یل مکی دی لکن یع مکی دی بنا ہیں شا قامت کے دن تضورعلیہ 
اصاؤج والسلا مکوکشت مع روفیا کی وج ےنا نین کے پارے میس ذہول ہوگاب7 





2 
یس نے بقایا ےک اہیے ہوگا؟خووتضورعلی الا والسلام ہی نے نے ایا ہے ىہ 
شا تی مکی دی ہے نٹ یع مکی۔(”ازاحة ایب“ )۰١٥٥٥۹:۹‏ 
(34) دہ عدم احصماء(شار )کو عد معلم ھت ہیں یہ جواب خائآیت: ون 
تمُا يِْمَة اللہ ل تُحْسومًا4(التحل:18) کا ہے اگلرکی کے ذربینمتو ںکا 
عم حا ض ہوا کا مطلب و ںکہعدد مد دا خی اررزر یر ےم لان 
ہیکنا۔ا سکی بی ںپھ یت کی جامتی ‏ ےکرشار کنا تو لمل مت الا ء کےممانی 
یں اس یی ےک اگ رکوئی کے1 سا نکی طر ف نظ راٹھاۓ تو اسے بہار پاتارو ںکا 
لام حاصصل ہ تا ہے ام چا نشار ے۔'”نباء الحی“ (ص۴۱۴)ش ام 
لی سختعلی ال رم نے ا لآ یت کےآ ھ جو ابٹ ریف اۓ۔ 

فاکد ہ۵۹ :ال تا یکیتتیں اس اط سے خی ریہ بافع ل بھی مالی جا ہی ں کی 
تق تموجورہ کےموانحع محدو کوالثرتقا ٰٰ محروم رگتا ےاور بی ماع خی رقتاہیہ یں 
یں اس کیحتقِس خی رقاہیہ ہافنل ہوگی. مرکودہ بالا آ یت اس اعتپارے جمارے برعا 
کک خلا فی لکیونک ہم ایے اور کے احاٹ کا وگویبیی سکرتے۔ 

)٥١٤صٰيحلا‎ ءابإ٣"(‎ 

فادد ے۵ : منتردکات دمعدردمات :خی رقناہیہ با ال ہیں او یف چو ماکان دا کون مس 
وگ داف لی ںکیکو نک تلق مو جودات سے بن معدومات سےگاں_ 

(إباء الحيٰ“/؛ص )۳٦۷‏ 

(59ج) وو لم سے ب ری حلد ملا عووادراک بی مرا یی ہیں پچ مرن یھی 
آجے۔آیت لاوما علمناۂ روما تن لک رس :69 میں تی 


م۳ 
اریہ( قزرت کی ہولیی تضورعلی الا والسلا مزشع یں ےکاالڈ رت الا نے مللہ 
یں عطا خر مایا2 یہاںعھ تی الا ک یکییڈفی ہوگ؟ تفیرکمیر: مدارک :نخان دالد 
اسعو دنے انا دضاح تک کہ یہاںصرف کا مرادے۔ 
فائدد۵۸بیلم کے دڈعی ہیں۔ایگ جانا ورددسرا مکش یکا ممکینشی کمنا۔قاعدہ 
بی ےکر مک بت جب سی صضح تکی طرف ہوٹو مرادل ہوتا سے مو لی اید 
لِم نے ابی شع یں ہاو رشع می داستن تو حضو لی ال علیہ رک 
بلاش تھا۔امامماتمدرضاعلی ارح نےجٹئیس(٣۳)اعحاب‏ وغی راصحاب کے نام ذکر 
یئ جن کے اع رخود نی اکر لی الل علیہ دیلم نے اپ حیات مبارک رٹ مات 
فان اورف اک ہاگرالن تام اشعا رکش کیا جاے فیک بہت ڑا دیوان بایاجاکتا 
ے! یو ںٹتض ایا رکاعکم تمنقول ہےلہد امش نکاس بکی باعل ہوااور یحخل 
مار ےموج ہکا کے م ناسل سکیموجہ بن میٹ مو جریکلیننل ہول- 
('زباء الحيٰ“×ص ۹٤١١ء‏ ٤٢٦۔‏ ٤٤٢٦؛”فادیغارحٴ‌بارگل'/۴۳۱۷٥)‏ 
اد۰ ۵۹ :شع عرنی کیتحریف ىہ ہے :”و ہکلام موزوان جوقصد سے صادد مو با 
اکر مل اش علیہ یلم سے بھی موز و نکلام صا در ہد ےتصدوزن ےیل ہوے 
لپذ نی شع سکہا جا ۓےگا یے نزدوتین مم سآ پ سی الل علیہ ینلم نے پڑھا: 
انا النبی لا کذب انا این عبد المطلب“۔ 
(إنباء الحيٰ/ ص۰٤ .)٥٣٤‏ 
رہ٦٦‏ ٛسارووہ کر روا ے لف 
اوزان پرموزو نکلام صادرہواہے ین ائمکرام ن ےق رن ید ک کلامم موز ون پھ 





۲'۹ 
تج دکی اور ال لکوشع کیا جک حدیث می وارد ہو نے وا نے شطرکی صورت ش لکلام 
موز ون پرامام ام زرضاعلیرالرمہ سے پییلےکوئی خال ین مات جس نے الن احادی ٹکو 
کیا ہو ۔آپ نے خود"انباء اح “اص * ٤٤‏ ) یش ا لکا کرفرمایا چلر ایک سو 
اعادیٹ چوعتلف اوزان طرب ونم پرخطری صورت میں منتول ہہوکی دزن رج کے 
نام فر کید 
ادا ہل شع رکی مطلتان یکر نے والوں نو (۹) اشکال وارد ہوتے ہیں ج نکی 
تنصیل'تت ان '(ص۳۸۷) یس ہیکھی جاحق ے۔ 
(ج 3) زاین ش ڑنلتی او رشعریرنی ہس فر قئو سکرتے۔ ہکوہ بالاآیت انی 
شع رہ مراوشعنعحی کی تل مکنٹی ہۂے :اس ےش ررنی کے ادرا کک یا یکسے 
زم ہوگ؟ شع لئ ما ما ء کے نز دی ککلام یس ون دقافیکا نام یل بنردہ 
تاس ہے جس کے مق مات یہ ہوں یبن ال تلق ن ےکہاکہمنقد ما تکاڈبیشعر 
ہیں۔ الخ یی کفار کےا کمن کے جواب یس ات رھ یک یآ پ سک العلی 
لم معاذ اون کلام سنا تے می تذالتالی نے بجواب ارشادظرما اکم نے اچے 
عجیب سکیا علیہ لموک ٹنمیس ککھا یا نکی شان دمنصب کےا آنئین۔ 
('”الک رت لعلب “'۵٥؟”باء‏ الحيٰ۷۷٤٤٣٤ ٣٥٢٤٤‏ ) 
(37)الل تھا ی نے خی اکریمسلی ال علیہ نیل مکوائی فرمایا کقرآآن مجید جس ہے: 
الین یتبعون الرسول الامی پ4[ا۶راف:ے٥1۵]‏ ال ۓمعلوم ہوا پیل 
اشعلی۔؛ لا ہیں جاتے تھے اورشربی ہنا جات تے ۔ جب رڑ ھن کک یں 
جات نے کے ہو ہے نز کا آھیںعل میں تھاں اور یہ بات مل ےک لقن لکا 





۲۹ 

تلق مامکان وی کون سےبی ہے :ل ای اکر مسلی ارڈ علیہ ےل مکو اکا ناونا وع کی 
تام جئیا تکاعل یں تھاں جواب یہ ہ ےکآ پملی اللدعلیہ یل مکتاب نیل 
جاننۓے تھے سے مک گنی مراد نیچ اڑا مکی ؟1گ رمک عراد ےن بی رام تکتلق 
باب فقدرت ے ہوابا ےلم ( الا ۶ہ داستن )سے ت رواوہ اہمارامد حا ری ات 
ےکیونکہ ہم ۶م ماکان دنا یکو نکا دنو یکرتے ہیں ۔اوداگریل می لا پٹ 
ادا ککیائی نز لیس اسل ےکآ پ سا علی یل مکی شان امیتکاٰجزدقا 
یىی سے پڑھھےآ پل ال عل یل مکوکتا ہت کے احوا لکاعکم تاجیماکہتاب 
الشفااوراسی دوٹوں شروں مل وا اکھاہے اورئی اعادییٹ ٹل١‏ کاو تکھی ے 
۔(”إباء الحيٰ“ص ۳۹۰) 

ہز ا پم٥لی‏ الشعلی یلم اف یتم مروف وخ( کے اشتھا ی کے عطائی ورس ےکتابت 
کےاحوا لککاعلم رک تھے۔اس پہ امن شاہد ےق رآآن ید یکتابت تی 
ےل اک یکتابت نیا اکر سی العلیہ یلم ےم اور مان ہدک اور جش رح 
اذا ظاق نز ہیں ای ط رح رمق رآ نپھی ٹچ زہ ےکیونکہ اس می اسرازالہیہ موجود 
گیں۔("إنباء الحیٰ“ ص )٦١٤‏ 

اد ۷۷ : لت اش مو رشن (تاضی الوالولیر الباتی ء اوشتفرسنا نی ح نی وغیرہ) کا 
موقف بیق اک آ پیل ال حعلیےۃلم سے باف لکتاب تکاصددرشی ہوایگرہارے 
بر نز دریک پیل ایس اودضہم اس جات کے قائل می ںکہ پیل نزیس تھا بعد یس 

حا ل ہوا۔('إنباء الحيٰ“ ص۳۹۰) ِ 

(38) دو ہڈنی سر عکوی تل الا ف پت ہیں۔ بر ینیقی نمو لکرناغلد 


۳۴ 
ہے۔ دکھداخیا چم ااصاؤ الام سے جب ان کی ُمتوں کے بارے الد تھالی 
قامت میں پہ گا ےجو اب فرمانکیں گے:جللاعاعم منا ہہ وہ جات تو ہوں گے 
کا نکی امتوں نت ےکیاکیا۔معلوم ہوا عبارتةٹی بے شک ضر داس تی 
تخق زم :وکا خا ل خلا ف7ۃ جم ے یمر “تل افرن ‏ رخرتل 

لاف یں فرق ضروریرے۔(”ازا احةالفقت ص۸۴) 

فائر ٢۳‏ :اخیا مرا کا:ولاحعَ نا کن کب می داخ نیس کر او نتصربل 
امورکوارکی طرف سونپ د ینا ورا الا نکی ہے بگہ اع مکاعدم اظہاری الڈ 
علام الوب زدعلا کے سام ےتقاضاے اب سے کما نص عليه المفسرون۔ 
(”الکلمة العلیاث ٰ 

(39) دوقول تال پرا ما رکوا ٹا رتضیق ت کھت ہیں جخورعلیالصلؤت والسلام نے اگر 
یس یکوغیب کے مکی اپنی ذا تک طرف مضسو بکرتے ہو ۓےبھی روا ہو 
سے حتی نت یع مکی یل بنا درس تکیں۔ ضا شہزاے اعدکا مرشیہ پڑ ھۓ وا ی 
و لک وفینا نبی یعلم ما فی د“ سے روکتے ہوم ے فُرایا'”دعی مذہ وقولی 
ماکنت تقولی“( کن القاری؛ مشپورینام حریث الرژقّ بنت *ز وحورےِثٹ 
جا یات)۔ کے می ای عم تھی دو یک یفخ یچیوں کے دی نکی طاظت ہوتا کہ 
ترا مکی طرف نویس بی ہیں بالزات اوراستا ا حضو علیہ لصا ال سام کک 
لمکا وی نکر یت یف لوگر لکوایہا مک جح قکیاگیا رتا نکا اَل 
وج تھا۔( إنباء الحيٰ“ ص۹ ۲۸۲۰۱۲۷)۔ 


اگرقول مرے ے پل اکفرہوتاجنس رح اشن ھت ہیں فو چکرا نکوحد بدایمان 


۳١ 
اکم ہوتاءیا ایےکلما تکاتضورعلی الج والسلام سے یدرو ہوا جن شش دا تا‎ 
درا جا کراییا عقیدورکناکف درک ہے پل ریگ خرال لازمآ یک یحاہ مج کتماقی مہ‎ 
کہنا پا کہ اڑا اخنقاد کرای تھا جوسراس رغلط ہے۔ اوراگر بکتقیدہ رکف رہوتا‎ 
پر بداارتین ی نکوف ریشی اث تی عنہ کےتُر”ومتی  تشاء یخبرك عما فی‎ 
ید“ کوتضورقطم نہ نت ث پٹرٹر ماتے۔معلوم ہواک یق لت ہے اود کیا ایک جلہ‎ 
اں سے روکزا بر بیاے کرت تھاشہ اوہ بطلا نول بلط دنر :یہام خیب رکی وج ے‎ 
قو لبق سے اع اف کر ےکخافی ن بن ہی ںکرقول اص میں پل ہے۔ اس خا‎ 
بجرےایکعام بچکا بھی عم جا ہے جوا ےن رمیں بیان ہگ‎ 
(”إباء الحيٰ“ ص ۲۷۹)ء‎ 
فا د۴۳۸ : ملاع یا رگی ء جم الاسلام اما مزا ای ہیام این این ۲امامقسلا فی ہم الرمہ‎ 
نے حدیٹ رع کاریگھی جواب ویک اس شع رک وتضورعلیہالصلو  والسلام نے اس‎ 
راک مقام نم تکا نا پگ مرش کا تھا عدم مناسب کہ سے اعرائ شکاگم ہوا‎ 
اکر چ رردوفوں چ ہیں پااسنل ےک رمقام نیا کاتاجس می نتصودہو(خنا)ہوتابیادر‎ 
تاس ضس ہےکہاس مس شان نبو تک شہادت ہوکی ہے۔الخر الڈدتھال‎ 
کیانظی ھی عل تع ہے او ری اکر ںاسکی ال علیہ لم کی انی ری علتٹ ویک سے‎ 
ارچ مل ال علیہ یلم اپنے وق می خودتسائل فرماتے تھے ادد جانب الک‎ 
یش بی دتنے ای لے عد یٹ می ئن کے لفظ ”ما یعلم فی غد الا الله یم‎ 
ری تھال یکیلے واردہو ۓ۔(”إنباء الحيٰ“ء ص٤ ۲۸؛”الکلمة العلیا“)‎ 


(0 )بر ا ےمصلوت وی تأف عم یا عزم اظہاروبیان نیقی دعد مع مکی دحل 





ہہت 

نہیں یی زاین کا کم ہے۔ جنا بد رسول الڈسلی ار علیہ لم ای خائ جک 
خامی زنا ات سے اع اق ضکر, خی رکی طر یع مکوسو بکردینا وی اکا 
لیت سے ہوت تھا ا کا تی ہنی ںک ابی اکر :نشی طودپآپ کے مک ا 
سے ھی ترک ترض بیجہ اظمار نارائگی ہوتا تھا جینا کہ کات اہ از 
(خلقیخ انس میں فر یناعم أعلم انور دنیاکم پاسوالی کے یا بگیا2 ۷ت 
اک یں لوگ جب جیب صوالا ت لی سکب مرو ںگادغی رن پ جک نہ 
ہو جا کی بات نہ ہوا انیو سوال کے جواٹ می سال سے ایا جوا بکر تے 
او زاس ط رح علم کا اخ فزماتے جن رہ رح اعالٰی کےسوال:متی الساعۃائٹشکیا 
تھا و اللہ اعلمآہنا اع طود یع جواب کےت کی ہوا ہے۔ خلاصہ ید ےک 
عدما ظا دم بیو لکرن غاد ے- 

('إنباء الحیْ“ء ص ۹٥۲:”ازاحة‏ العیب“ فتاوی رضویه ٥:٢۹‏ ۷١؛‏ ”إنباء 
المصطف ی۶“ ۱ )٢‏ 

فائح د۵۰٦‏ :کفار ےکی بارقیامت کے وق تکودر یانتکیااور <أيَات يَوم تیم 
(القیاعة: 6] کہارا تا ی نے ا کا وقت نہ ایا خد رع مکی دم ل اجب 
یہاںعل ما نلیاجا ال مرکا ردوعا لی اللرحلیہدیلم سے عدم جیا نکی صفرت مل 
برجلسب لم مراد ینک کیا بین ے؟ 

(41) ا نین نے تھا اک مك ٹل رل ےاوریگدودےہذا اس میں عو مر نے 
ولا مبھی محرودہوگا۔ راگ چان نارا ھا یرد ل کاچ لم ہوا ل نظ ہے اسلئ 
نع یہ ےکرمعلوبات ول می جک یں ہوقی اریم ول می تی جن کول 


۳۳۴ 

کرنےکانام ہے اود نہہم فلاسفہکی طرح ات صورت حاصلیعند اتقل کے ہؤں نہ 
اسے دل میں مطرو فکی عال تکوق ارد نے ہیں ۔ بلگمہ ہمارے ائ شقن جن میں 
سرفمرسستیلم ال ہدک امام ااونصور مات تی علیہ ال رح میں ال ںکوحالت ا سی جم 
فرماتے ہیں جس سےنٹس الام کے مطال نکوئی چزرش ہولل ے۔لہذامارے 
رک 2 ے اورتصو لی صور تفر ہے خلا سفہ کے نز دکیک تصول صورت 
مل ہے او یک فرٌ۔('إباء الحیْ“ ص )۳٣٣‏ 

(2ھ) دہ اعترای کیٹ یکونئی ملق بچھت ہیں۔جزکز مث ام لب 
. (الاحراف: 188 می کان ااتترا رکیے ہوسکنا سے نی تضورسلی او علیہ لمکا ہے 
وا ہرگ نت کہ میں یش کی یب جانا ہوں مگ ہک پ کا عم و غزول قرآن 
کی اتور قکرنار پا۔ رید کہ یہالأئی ذانی اوداحاط کلت حقیقہکئی ے۔ 
(43)دہیا ت2ر مق مکیلے رن جال لازم تن ہں یا رض :ا لکاتو ل/ ےضول 
رآ ن کا انارک رت ہیں۔ یراب متفحتن کے نز دریک خطا ہے اسل ھک ہقاس اتال 
اتسال مکی دددی صورتی ٹن ہیں اش مقدم شع کی اور مال رن مقم۔ یر 
خطا آیت: ول شحنٹ أَغِلَم العَیْبَ لاسْتَكُترْث مِنَ الیگ ولاعراف: 188) 
تلق ہے زاین ما یھت ہیں :کیو تحضورعلی الد والسلا فی بکاملل 
ااسل ےآ پ نے خی کیاکی تم فر مایا ھت ہی ںک کوک حضورعلی اللہ 2 واسلام 
نے ریس ف مایا اسل ےآ پکوخیبکا مک تھا (بقی دواشالی صورتیں جن میں 
ہلیم ے میں مفینئیں )۔ ددنوں صورتوں میں اڑا متصہ رآ پملی ال علی ںیم 
کی ذاتستودوصفات ےم خی بکائی ہے عا لان کہ صورت از رو ےتوام یق 


۳۴٣ 
ےکیونکرنع مقدم رف مالی قیاس اسشائ ا تصالی میں صورت تچ ہے میایس اور‎  دلاخ‎ 
دوفو صسوز ٹیس ا ن نیش کےخلاف ہیں:‎ 
.]169 امن بت الْجَكُمَة تقد اُرنیٰ خَیرا کین راچ (لبقرۃ:‎ 
.]1 إنّ أطَينَا2 الْکُوتریچ زالکوٹر:‎ 
این کےنز دک بہلیصورت کےمطاقی اس استائی سای یں ہ ےگا‎ 
(وگویی: نی اکر لی الو والسلا مکوخی کا ملس تا)‎ 
مفخرگی: لوکان النبی یعلم الغیب لاستکٹر من الخیر (شرطیه متصلم)‎ 
کپری: لکن لا یعلم القیب (رفع نقدم)‎ 
"ٹچ فالنبی لم یستکٹر من الگیر (رفع تالی)‎ 
دوس رکی صصورت لال بے گی:‎ 
مقرگی: لوکان النبی یعلم الغیب لاستکٹر من الخیر (شرطيه متصلم)‎ 
) گہرئی: لکن لم یستکٹز من الخحیر رتا‎ 
يم:قالنی لا یلم الغیب (رزع ظرم)‎ 
یضود تار چرازروۓآواعرورست ہےےگریخالف ق رن ہے۔ ہما ےر یک شع‎ 
مقدم وع تل یکیصورت مع ہے مین می اکر سی الرعلی ہبلم ال کے جتانے سے‎ 
غیب جا تے اورپ نے اسلۓ خی ربھی تع فرمائی .فی فلام مردرقادری صاحب‎ 
مر مکی لی فیب دس ص۱۸۷ تقر خطاہ کیک پر نے رق‎ 
جا لکوت مکی یل بایان بی رع مکی سےحصول رای ہوگی اودرق مقم‎ 
نیعم کو تگم۔‎ 





رع 





ناد ہ٦٦:‏ جہاں خقدم تال لے علت ہے با جال مق مکیلے لازم الماہبیت ہو یامقدم 
ال متزا ون وں یا مقدمتالی دنو ںکیکسا کسی علت ضت کہ کےمعاول ہول قدپال 
فخس اد مرو داع می پچار ہی صوریں ٹن ہوگی ۔کیوکزقو اعد لی ہوتے ہیں 
اورقیاس اتفائی می دوصورت'رفع مق نت رق جالی'اوز وع جال نت تن 
ق عیشت نی ہوتی لہ مکورہبالا چندمقامات مس بے ول ہیں *لہذ اش 
جماحدئ مضطظن ن ونم ںکماجایگا ھی ن قابل اثکارتقیقت اور ام اتی شرب رہیں 
گے کرس بھی رج ا سیت مق رم تک بین سح تل نکی سی ال علی لم 
رع مقر خاب تک رن کیکیشن لکرمی وجار جواب ہی ہوگانٹ یکم ذائی الیکا 
ےع۔ائ یک کی ہے پاتی ات ایل مکی یأف یھ نیس یائی اح ط یکا ہے- 
(ب) تضورحلی لصلو ‏ والسلا پریزش اعمالی دددوددسلام کا شی ہوناجل ساب قکا 
ولی ہیں ۔ پارشاہوں پرداقعات وعالات شی کے جات ہیں عالاکہ وہ پیل سے 
اہو تے جیا۔ دی عد یٹ سکم میں ہ ےک ہرک دشام بارگادانشدرب العزت 
مم بندوں کے اعمال میٹ ہوتے یں ا کا می ہنی کہا سے پیل جاتا 
شی ایا جواب ہے درودڈسلا مکا ورعلیرا الو والسلا مکی ہا رگاو شی بی ہونے 
وی احاد یٹ کا۔ امام اہنت علیہ الرہ نے اس اعتراش کے و جواب ارشاد 
فرماۓے۔('إنباء الحيٰ“ ص۲۸۰) : 
فا ے۹:اخبارا ہام تک گی ہھتا ہے۔الوداد شر کی ووروای تن ش٥‏ 
حرت ج یل علیہ السلام مم اکرمہسلی ال علیہ یل مکی جوقی مبارک مکی ہولی 
:ا پند ید زی خردہی ےآ ےگھی امی مع یس ہ ےک جج یی اش نکاخجرد ابو بک 


۳٦۷٦ 
کمائل ہار تک یمم تک با نا وکھاناقص و وھ دامع مک یکہاں رٹل ہے؟ تقیقت‎ 
- یش دہ زاس تی ای نی اکر بس علیہ ول مکی نمازدرست نول‎ : 
(الکلمة العلیاخ‎ 
فدہ ۱۸ :امام ائل سنت علیہالرحمہ نے ددودشریف کے بارگاہ رسالت میں کے‎ 
پتتلف احادیٹ تم فرمائی اور تن ایک مرج پڑھاہواددددمپارک یکم‎ 
شع مض می ال علیہ یل مک بارگاو بس پناو یہ گیادہبارکیارہختلف ذریتوں ے‎ 
شی ہوا ہے ادردش رام انال سات بار۔ دوگیار خلف ذ ری سے ہیں :(1) قب‎ 
ددورشریف پڑ ھن والے کے مضہ پرمقررفرشند(٣) زین‎ )٣( مبارک پرمتر فرش‎ 
مم گر شکرنے دانے فرش جو ددددم ارک کرت ہیں (۴) اخ تکرنے‎ 
دالےفرشتو کی طرف سےپشگی جب دن ا وردات کے نام انا لآ پ سی علیہ‎ 
یل مک بارگا ہیں شی کرت ہیں (۵ )یہ کے دن جٹگی جب دیکراخمال ٹیٹی ہوتے‎ 
یں (۹) قیامت کے دن جس بآ پسلی ا علیہ 1لم پرامت کےاعمال بیشن ہوں گے‎ 
(ے)بمعہ کے دن یارات ڈل پڑھاہوادرود جع کا دن اور ای رات خود یٹ یکزہے‎ 
ٴ یں(۸) راع کی رات تضوڈ لی اللرعل ےلم پراخحالابت شی کے گ٤ (ہ)‎ 
ما زکسوف می ںآ پیل ال علیہ یلم نے تام احوال امت کا مشاہ وف ما یا(+) الد‎ 
رب الھزت کےدست قدرت سے ج بآ پل ال علیہ یلم پرکا نیا تک قام اشیاء‎ 
کشف ہوگی تو ام تکا پڑھا ہوا درودش ری بھی مکشف ہوا (۱۸)غزول ق رن کے‎ 
ذری گی اعمالیٰ امت ودرودشریف یٹ ہوا کہ لن قرآن مل“ تیان لکل‎ 
شی“ ےہدا تعدداشار سے صوداظمارظمتگی ہونی کک‎ 





۳ 
('إتباء الحئ“:,ص۲۸۷ء ٦٠۔۴۰۷)‏ 
(چ5 4) لف علم مناخ کوضاق فی مل خیب کھت ہیں ۔آیت: طَعِندۂ مَقَایخ امب 
نَا إل مہ (الانعام:59پ :یں علم مفا دی کٹ ی اکم ما نکی جا 
جس طرع ملین کا زم ےق مقاعلم خیب وت کائی بر یکیسے ولا تک لی ے؟ 
اتھای اپنخ انیب سے ان خوائ کنٹیں عطا اکرتڑے۔اگرچایں نا نخان 
کے ا آیت پش ایک اورطرر بھ ین کی جا 5 ایق یریب پ ہا 
ین قیب؟اگ خی رغیب ہوفو مفا ا کیاٹی بی بکیاھ یکیوں ہہوگا؟ اک رین خی باہو 
پھرزہم یں گے س بگم وم مراد سے اعم سلب؟ سل بکھموم مراد ہو ہمارادعا امت 
اورعموم سلب مرادہوت معن خبوت کا انکار مازم ےگا اور بے شا رق رآ آیات 
داعاد یٹ کاانگارجگ ا ('باء الحيٗ ٠“‏ ص۸٥۳)۔۔ا‏ لآی تکابیگ ج٭اب 
ےک رئیش ںی بھی اع مکیائیئیں- 
ناج رہ ۹۹: علا نی علیہ الم اپ شرہ آا قں٥یر*الدر‏ العصوت“ :٣(‏ 
۰۶م ا سی تکننی ری فرماتے ہیں:”"کائ المعنی عندہ فتوح الغیب 
أي هو یفتح الغیب علی من یشاء من عبادہ“ جا “جوم بہےکلآیت مللفظ 
ما کیاگو امت یر ےک الل تال اپ بندوں یس ےج پرچاتا نی بکھوتا 
ہے۔اا قرطمی علی الم نےبھی ایی ریس یویں جی تر ف رمک ی کال تی کے 
پا ایب جا سن کے داتت ہی دلدردہشے چاہتافیب نما فر ماج ہے۔ 
(6 )وہل یکیافی ےمم اج یک بھیٹھی بت ہیں ۔آیت: رم رسلا 


رسلا مٌن قَِلِكَ مَنهُم ٹن فَضَسْنًا عَلَيْكَ وَينْهُم من لغ نَقْصْض عَلَيك, 


است 
زالسمن:78) میس لی کرائی ہے جیلم ابا لی حاصل ہو نے کے متا یں ۔ اس 
آیت کے بی جواب ہیں فی زماشہ اض کی ہے جس میں اعقرار دع کوک نل 
نی مالک نکیل ذو لت رآن و ا ھی یت تیا نکی رد بی گرم 
صلی او علیہ مکوحاصل ہے ۔أفیعلم احوال اخریاءکی ہے سوا سے عدداخیاء کیم نہ 
ہونے پردیل بناناغلطا ہے۔ 
(47) وو کلام مقید پر یکومطلق فی عل مھت ہیں تی ےآیت: طڑلا تْلممُمْ تن 
ننکڈؤڈ ہہ زلنوبة: 1014م رائی منانقین کلم سےتفلقی ہے مطلقا خی بک 
نیس کلام متیدپڑئی کا ای ہے متیروٹس .ہیوک نکیل لعل ۃلم 
کو بن میں مان نکاعل ھی دیا گیا یے دوسرکیآیت ل ے:فلآما کان الله لیذر 
المومنین علی ما اندم عليه حتیٰ یتمیز الخبیث من الطیب پ4[القسماء:۱16۹]۔ 
قذ بی آبیت کے ان رارصد یکس لد تکا اتقرار ہونا لا زٹیجیں- برکودہبالا متا 
کےاما ماب سنت علیہ !کرحم نے جن جواب ارشادفرماۓے۔ ۲ 
(”إباء الحيٰ“ ص ٢٢۲۰ء )۳۷٣‏ 
(48) دہ عدم الات دق مم پت ہیں ٹج اوقات نی اک ری مسلی ا لعل یلم 
ال السی کے متتاہد: می اسعطرح ستذرق ہو ےک نی رالل کی طرف وج ضدثتی۔ ال 
وجر ےی طور لن اضورد وی شعورے باہررے+ یی نادرأی ہوااودکا ل لم کے 
ہرز مزا نی یں ہم ولا نا روم نے مشتوکی یف مایا: 
: مرچہ پر نی خدا ما را نود 
رل دراںن ر- وو مشنول اود 


ى۳۴ 

کی شر می بزلعلوم علا بدا یکھنوی علیرالرحمہ نے ایا با تک تا ئل 
فرمائی۔اماماذرضاعلیرال رر "اباء الحيٗ“ (صض ٣۲م‏ تق فا کے 
اتراءام؟ کی پا تی بی شود وشتورکو رکال عاصل ہواک ایک وقت میس کی 
اغیاء کی طرف نوج رہق تی با ںک کوک شود زوسرے سےمشقول تہکرتا۔إتباء 
لح می ایام رض علیہالرم نے حدیٹ نار لعل ( شع ات )کا بیگی 
ایک جواب دیا ےد بندی فا پیل ائوھوی نے "مین لی کیا ےکک 
زی حا ریس فو لی لعل یلم کے لم ہونے می سانش 


یں پداگتا۔ 
فان ہے :نیل ونادرمدوم کے نم یس ہوتا ہے .لی نا ورالوتوخ واقا تکوعدعم ری 
بفیاد ہنالہناسراسرخطاے ۔ 


(49) شر کیلع ووصدرق مقد مکوضرور یج ہیں ج شر مفردضبھی ہوسا 
ہے اور مقععد اکاکوئی اہم جا تک ینیم ہوتا ہے عدیث: فان قضیت لأحد 
منکم بشیء من حق ای فإنما أفطع لہ قطعة من الناز“ (ترخرگا )وم لم 
خی کی دیل اہی جنیاد ہہ نایا جا اہک خی اکر مل علیہ سی کے بارے غلط 
فی صا ورکر سے ہیں حال اک خی اکرن لی ال عل ہل مبھوکسی ای ےبھی اق نہ 
مار تے۔ دراصل حد یرٹ ش نف میں ایک تاکن با تک تد دکین فر کرلیاگیا 
ہے۔الاشرطیظ قرآن می دی بھی ے: کل إِن گا ِرّحْمَنٍ وَلّد فقَآنَا 


ا العَابِيیْنَ 4 (الزرف:81] اور ہرموعد مو یکا باعقا ےا۔کامقدعم 


۳۰ 





سیانئیںہمفروہرہے۔ ('الکلمۃ العلیام 

فادہا ے:یادر ےکر قفی مرف ویں درست ہوتا ہے جیہاں مقص رکا مچجی درست 
ہو۔اگرمتقصداز دوٹے شر فاصد ہو انل قضیہ برشرگی اکا مکا اذ ہوگا۔آیت 
ذرکورہ جس مقصمداشات حید اور ابطال شٹرک ہے تھذ رالاس می ابطال معی ٹم 
نو کیل جوقیمف روف اگر الف کات ذکرکیامکیاہے دوشرعا تام لگر نت 
ےکیونکہاسکا مقصدفاسد الف شر ہے (”اصولگف/ص٣۳٣)‏ 

(50) دو نی اکر مل ال علیہ یلم کی فتظدا موردینیکام مات ہیں اورامورد یو 
کے مو للم سے اٹیارکرتے ہیں۔ چیہ تضو علیہ الصلت والسلا مکی بعشت مار 
اصلادیئ ددنیادفطو لکیلگی کما في کتاب ”الشغا“ وشروحہ. آیت تیان 
کی ررشنی ٹس دین دد یا کا بیم باعل ن ق ران میں ہے۔ بل یتحقن کے نز د یک دین 
ودنا کیم بانتبارعاملوکوں کے ہے اود عار فک ڈگا ٹ شکا نا کا پرچچ ڑکا 
مرف ت کات رین سے ے۔ ('إنباء الحيٗ“ ص ٢۲۲۔۸٢۲)‏ 

(54) دہ ھت ہی کہ دنا کا ساراعلمتضورعلی لصاو واسلا مکی ثابت مانۓے سے 
ان ہی ہے کیک ای لت ا شیا کا یمم دافل ہے حالاکہ یہ بات سم 
ےکیٹ اشیاءکاعم ال تھا کیا ہے کیا سےبھی ان اشیاء کے مک کی 
جاشگ؟ ہیں یواشی کرش یکاخنا یر ےکرانھوں ن ےق سے موی یت لیا 
ہے پیک را یہایس ہا ںات اض تج ے۔ 

(52) دی حول مکیڈئی سے دی ہی ںک دق علمشھی ہے حالانک دخ ی 
ےبھ یآ پ مسا العلی دی مکی دیاجاتاتھا۔ ینم شن تم تضصل عَلِكَ 4 


1 


٢ 

(المؤمن:8 7]. کا ایک جواب پیا طا میا ا ریا نے دا ےکی واج کی ے۔ 
(الکلمةالعلیام 

(53) دہ سوا لکرن ےکوعدن ع مکی دی لکھبراتے ہیں ۔ ہار شی کا ایک عد یٹ 
یں مردگی ہ ےک محالی رسول حخرت جار تی ایرعنہ نے خی اک مکی ال علیہب لم 
ک ےگ رکا درواز مایا آپ" لی ا علیہ یلم نے سوا ہو سا اکیکون ہے؟اگر پریگہ 
سوا لکرناعد نعل مکی ے ہ ور یقول الڈرتالی کے بارےکرناپڑ ےگا وک ال 
تعالی نے حضرت ابرا یم علیہ لصلو ق7 والسلام سے و چھا:اولم نومن؟طن نی ےک 
انی کہا ہتی ای نقدوتی ۔(”الکلمة العلیاٴ 

(54) معاہرکرام ےآ پ مل اللدعلیہریلمکامشاور تکر نالیم ام تکی خر سے تا 
عدمعل مکی وجہ ےنیس ۔مشاورت یں بہتیگتیس اورفوائد ہیں _ام امن سیر 
عائڈ یی الڈریتبابہ جب ہت گیا آپ سی ال علیہ 1لم نے مشاور تک اورتتّن 
کردائی یعدم مکی بنا ین تھاودن تی ود بر یر ضفرماتے :”واللّہ ماعلمت علیٰ 
أھلی الا حیا دبخاری) پگ ای ککعمت رٹ یکہمنانق نکو ک کا موقع نہ لے 
جب امت کے متا لات میں ہوتی ہے اپ گن رکے معا لے می کیو ں نہیں 
ہو ادردوسرا کرد ریگ کی ےکآ پسل ال علیہ لم اپ ےگ ردالو ںکی خورمفائَی 
ٹپ کر تے ہیں ۔ وکا انار ایک ری حکمت بائڈٹ کید ہک طہارت پر ےا 
آریات ات سی اوراگی حلاوت نماز بل وخارج نمازج قیامت ہولی رےگی۔سید کے 
موابلہ می جکتو ںکو جا ۓک تط لکیلے لاحظہ ہو مقا لا تکاشیٴ'(0۴۷:۴)ء 
”او برا لعلوم ۰:۳ 1۸ذ فآ یی صدرالافاضل“۔اگرمشود وکنا عد یع مکی ہنا پر 


بت 





ھی ہوتا ےت اتال یک بھی فرشتوں ے: لی حَاعِل فی الارضِ عَيْقَةهچ 
(البقرۃ:30]والی مشاورت ق رآن یی سآکی ےکی ا کے بارے می بھی ما ان 
بیو لکیاجایگا؟ 

(چ) انی نب ہیک حضورلی اللر علیہ ول مکوصرف حفریت جب یل اشن کے 
ذرہیے م7ن تھا نے انت خلا ف تح سے شف الہام ؛احادیث لسیراور 
خوابوں می جب امورید اعم دبا جا تاج بل اشن ذربینٹٹ نے تھے۔ای رر 
محر کی شب بلاواسیہ نی اکر ملی علیہ یل مکوکی رعلوم ےاوازاگیا کما فی 
أحادیث الترمذي. 

فا لے :خققین ال سزتشل امام خزالی علیہ الر کا موقف ہہ ہےکہاللتھالی نے 
خی اکر لی او علیہ یلم پگ سارے اخیا ہم لصاو والسلاممکوجوفو ربدت عطاف ریا 
ای سے دو خیب کی بای ددریافت فربا یت ”المنقذ من الضلال“ ٹل ال 
راز ہیں:”ووراء العقل طور آحر تنفتح فی عین أححری یبصر بالغیب وما 
سیکون فی المستقیل وأمور آخر والعقل معزول عٹھا“ کا ہوم نے ےہ 
”نعل ےآ گے ادرا ککا ایک اورذد ییہ ہے جہان سے ادرا کک ایک او یلکن 
ہے۔ا کو سے میاغیب :امو رمستقبلہاو نکر با ںکو دہ لی ہے جچہا تک تل 
کی رما یکن نہیں“۔احیاءالعلو شریف ( ۲۹۲:۳) می فرماتے ہیں :”والرابع أنّ 
له صن بھا یدرك ما سیکون فی الغیبء اما في الیقظة أو في المنام إذ بھا 


یطالع اللوح المحفوظ فیری ما فيە من الغیب فھذہ کمالات وصفات 
یعلم ٹبو تھا مالڈزییاء“ شف کی چٹ ی خحموصیت ىہ ہ کرات العفت حال 





۴۳ 

ہوتی ےجس سے وہ یندا دای می تد وآنے وا ل ےی بک ادرا کک لیے 
کیپ ای عف کیا وولو ں مفو کا مطال کرجا ے اورائیس دررج شی با کو 
کی لیا سے لیں رید وکمالات ہیں جن کا وت انا ہم السلا مکی معلوم ہے۔ ید 
ر کہ وو ت بھی ال تھا یکا عطاکردوادرفیضان ہے جک نیکاذالی طید یں 
(56) دو دسح تلم خی صلی اللرعلی ںیلم (علم ماکان دیون ) سے تما نآحا تع 
ےا اکن ےکی ا ران مستکو باب فضائل سے ئا لکر باب عمقائد شی لے سے 
کیصرف قطعیات پرامتزاد ہگ بپھول سی ےکہ باب حقا ریس اگراشبا کی نل 
یو رے7 یلوگ ہازتيزورب+سھحح ٰبادمُل 
روا تحضر ت شا ودای مر دبلوی ہارمہ کے جوالے سے بی کی ےو وخود 
ہے ال قراردتتے ہیں اود یں اپ ہی قاعدوکوخایشن نے اک عقام پقڑدیا۔ے 
زا بات دل بن یکتاب''برا بین قالط ۓتفلقی ہے کچ رط رفہ ہکرام امدرظا 
علیال رم جبپ”الدوا لة السکیّ“ (ضص۸۵) ش١‏ تھی کے جیا نکردہاس اصو لک 
رشن ہش ان سے مطالکرتے ہی ںکریفاشی نکوئی الب ہان دکھامیں جوق رآ نکر 
یآ یت یا یٹ متوات وی سکی دلال تھی ہواورافا دوش ادزبیگ رتا +و کل 
قربآن کے بت دکوئی وا نیی٥لی‏ اش علیہ کیل پنلی ربا ایم یک یآ پک الشعلیہ 

لم نے اص لجا نا یی ملک صم میس سنا ٹا چھا جا ناہے۔ 
(7چ) این م یکر صلی اللہ علیہ یلم سے علوم مہ لان :۳۴] ءاسی طرۃ 
روح 6آ بات تشاببات وقت قی مت کےےلم وغی رہکرڈٹیکی خا طرش علاء کےاقوال 
یس کرکھا تے ہی ںک فلاں فلال ان علو مکیحلوقی یکر تے ہیں چیم نے لٹا 





۳۴۳ 
علوم کے بارے یں اجماغ کاب وو کیا تھا کہ سب اع کے احاطہ کے تال 
ہیں؟ پل ان لو ماع مآنحضرت صلی اڈ علیہ یلم میں داشل ہونا آ ئن ائل سطت کے 
دیک اخنلائی مملہ ہے۔ بیاقوال ہمارے مد اکب اط لکر تے ہیں ؟وسعتکم 
نوک لی اللہ علیہ سلم کے بارے میں اجماگی اود اختلاقی حدو دی شقن لص 
الاخنقاد“(۱۴۷:۲۹) کے جوالے سے متقصیداول می ںگز ری ے_ 
(58) مخاین اس با تکذظراندا کر تے ہی ںکہنرکورہ الا مض اشیاء کے اتشوا سے 
ٹکر بی علا فصو باقی علو می یکن یکم کی ال علیزل مکی عابہت مات ہیں 
(”جلاء القلوب ۲٢٢:٠٠“‏ یی اہجناگی عدودیش انھا یکرت ہیں اوراخلانٰ 
حدوویٹش اختلافکرتے ہیں ؛لہذاماشی نکاان پراستنا کے درست ہوکتا ہے ہوک 
اجھائی حد ود بھی اتا فک کے این نحص سک ملف تکرتے ہیں؟ 
(59)ہمارادی بن یوں سے افو اختلاف ان سککماتکفریہ ےجحلقی ہے۔وہ 
اس سے پ کر حدو یل اوریب کے نخائ بالڈدہ بے خائس وخ ربا ہون ےکی ایا ٹکو 
بےعلاقہ نے دوڑ تے ہیں اوراصصل بث سےفرارکرتے ہیں- 
( ایس الا ناو ای رضري۵۲:۲۹٥م)‏ 
(60) دہ یت ہی ںکراگرا شیا اعم ( ام تکب ہوگی ہ با کا عم ماں کےرتم 
سکیا بن لکوئ یکا ا ۓےگاورکو یکہاں مر ےگا یکر لی ال علیہ نل کیل 
انا جائےقذا نک اتا الڈدتھال یا اکیسات یں ر بتا خالائکعور ولقرا نک یی ت٣‏ 
می ان علو مکوانڈ تال یکیساتھ ماع کیا گیا ہے۔ا کا جواب بی ہ ےک جیلم ا تھی 
کیساتقھ ما ہے وہ ذالی ہے چ وی دوسرے سے حاصل توق نکی لی علیہ 


۵ 
2 یے حا رق کی عطا ا اکب اخقصاص کور ےسا ے؟ 
الگا ض۹۷) 
اکر ,۳ء: سور:لقرا نک یآ ت٣۳‏ کے ال میس پاشی نکا موقف بی ےک اٹل 
ا اشاء کےی راڈ تالی نے اتی ذا تکیساتھخائ ف بد سیت دوضر ےئوب 
کےاسلئ یس بھی طر لو قںکو حا نہیں ہکا .مرا موقف ہی ےکا تھا یلگا 
لا سے ٹیک صلی الد علیہ مم ان بات ںکو ان ہیں ۔د٭ وکون سا اع ے جومعاذ 
ال اعلام الچی بیس رکاوٹ بن سکتاے؟ پھر جماراان ے سال ےک ان پا٤ٗ‏ 
یسپ نے جواختقماص ما نکرسلب مانا ےت کیا سلبکموم مات ہو کا مسلط 
کس یں )اعم سب ( کہ دوروان می سے پیس جا تا) رٹوم مانے 
+ویلران پا کے عداو وج غیوب می تم نموم اعطام ماا اد زا ان پا کے 
یح می ںی اعلاع ما نیا الاک رس مو مرادلیناصراس پا ہے :کیو لاز مآیگا 
عریدل گاب ا کأوگوغ ظا لف یل کی اپن نی 
صصلی ال علیہ یل مکورے دیاہوجوان پا سے جدائم ژں‌اور پدرستڈء ندال 
ہزت ا کے ال ہیں ناشن ۔اگ موم ساب مرا اد ےت ری پاطل اسل کال ے 
زآ ا ہ ےکا تال نے ان با می ےچ کال ھی کوندد با ہواوریثات 
شروروایات تواتر معن سےخلاف ے۔- 
(”الدولة المکی* ص٤‏ ۱۰؛”تفسیر الحسنات“٤٤‏ ۱۰۸۸۰) 
(684) زاین نے بی سو چان یکرییر مل ال علیہ م نے سوزولقما نکی ات۳۲ 
می ایج چیزوں کے لمکا ح رسچھا لہ تل ال اور عم ما فی 


۷٦ 
ز حا پے میں حصروقص نا مک یکوئی نز ی یں ۔ دراصل ان پا او رکون یک رسکی‎ 
ال علی دیلم نےآیت ”مفائح الغیب“ کافس رقراردے دبا اورا لیت پک این‎ 
حصہ "لا یعلمھا الا ہو ہی وب سےسورولقما نکیآیت میس پاچ امو رکیل مکاجھر‎ 
ا تھا کی ذا تک انا۔ یکنا نکر لی اب علیہ لم نےآیتاتمان سےچی‎ 
تح رچھا مرامرخطا ونم ہے۔(”'لفیوضات الملکیة“:ض ۹۲)۔‎ 
اس مقام پ پا کے عدوکووہمفیرج رجکھ ہیں یہی رن نل اس جک‎ )62( 
قاع وکی رو سے عد رین ڑائرکیُفی رد لاٹ ںگرتا:”العدد لا ینقی الزائد*ء ان‎ : 
چر و ںکوا مز کل سے نا سک رن کاب ہرز مطل بجی کان کے علادہ اور‎ ٤ا‎ 
کوئیبھیاشی مال تقالی کیل مکی ات خائ یں ۔ خی الو نصلفی لی علیہ یل مکی‎ 
اعادیٹ می نیں بکرم صلی ال علیہ دیلم نے پان اددکرین چچھ رو ںکد اپ‎ 
خصوصیات یں شا ریا ورام امزرضا علیالر مض 'الیحٹ الفاحض عن‎ 
طر ق أحادیث الخصافقص“ کے٤هطا یکل روایا. ت می لوگ یطور ب٣۳ توصیات‎ 
ان ہوئ ٹین چکرعد یٹ بی دارد راودا کے عددایقیغنفی باعدااو رح رک نل‎ 
نہیں ہو سکت ای طر آیت ڈکور ہکا حالی ہے ہا ان پا اشیا کالجلورخاص کر‎ 
کنا ایک کتاطیفکی وجہ سے سے جو ”الدولة السکیة“ (۹۳ یس ملاظہیاجاۓ؛‎ 
کین گے وا ہی ٹیس نلےگا۔‎ 
الین بی مفالہ دہیے ہیک ب یکر صلی اللرعلیہ یل مکل علو کو انا‎ )63( 
صر ٹن صصوفیاءکا ہہب ہے اونفل ب کے ہی ںکرائل برع تکا ہب ہے ججلہ‎ 
جن یہ ےک اکا برشافعیہء نقیہاد مالک کا مقاز می ہشن ٹل مرف رست بیکتیال‎ 





7س 
ہیں: علا مأفی: امام ق ری : علا شلنو فیء امام مالی :شی کیہ امام سی ء امام 
قسطلا نی امام این تج ر ھا می ا گی ءعلا شخواٹیٰ ؛علامدابرا نیم چو رگی ءعلامشہاب : 
الد بن ففا گی اور جن عبدائن محرت دہاوی- 
(لاظہ ہوں ان کے اتوال: ”الدولۃ المکیث۸ح۱۰؛:”خالص الاعتقاد“ 
٤٤9 ۹‏ ”الفیوضات الملکیة“ ص١١٠)‏ 
”'الدوَلة المکی“ کی تقریطات ( تی بھی مد تفدظط ہیں ) پڑ نے سے ال 
مفا ےکا خوب ازالہ ہو جانا ہے .رشان شرشینء بلادشامءظراقی ہم رومخرب کے 
اکب خلا ومختیان نراہب ار نے (ج نکی تعدادای ۸۰ سےمتباوز ہے )امام امھ 
رضا علیرالرح کے موقف اور استدلالی سے بپڑھ بچڑ ھکر انفا قگیاءآجت تیان ے 
و ںو انا او ملع ےا ضل مکھی نی اکر لی اوعلیہ ول مکی ذات مبارکرک یسل مکیا 
ہے۔ سار ی تق بات علا نذ شال نی ہہوگی۔ یی گر چکاکہعلامہکتالی علیہ 
الرص ‏ گی نتر اتی جواب کک نلاش کے باوجودھاصل یں ہوئی- 
فدہ ےق رن صرف علا رام بیکی خیرمطبوع تقار بک بنا 'تقریظات علماء 
الشام القدیمۃ* (مطبوعةۃ دار طیبة الغراء) مگ کر کے ا نکووش سے ے۲۰۰ء 
می شا ئعکیاھا کل بادہ(۱۴) ہیں اورڑش نکی اہ مھ فیا تکی ہیں ۔ان کے نام 
درب ذ یگل ہیں: 
()منتی ہشن مم عطا لم 
(۴)علامیرکبرالقاورأخ۱لیب 
(۴)سیدتاج الین اح الاک ددال ناس ی 


۸ 
)٢)‏ ناج ررمضان 
(۵) ایی بدا رین السیدٗا لقا مک بر زادہ 
() تی تا بمصلنی اش 
(ے )علامودالعطار 
(۸)مضتی میتی انی 
(۹)علا رانیم 
)۱١(‏ لا شا مآگلایق 


وی 


(٣)عارف‏ پاش عارف 
معلوم بہوا موم لم وی گل اشعلی>م برامام ام رضاعلیر ارم کا موتف 
صقن ام ۳ب اسلامکا ٹتاردپشیردے۔ 


۸۴ 


متصرم: 

یت تزیان سے تلق زاین کے۹ اشبہاتکااکشاف 
(4)ا رن کو بلا دجن ہرے پھی رت ہیں چی نو کوظاہ رو لکرنا اجب ہے 
ج بک ککوگی وج صارف نہ ہو۔ جس وج سےبنخ فس ربن اس کے نل ہکی عق سے 
عد لکرتۓ ہیں وومنقص رھی بداشی پہ یں ہوتااورجواعت ا پل انیس 
وارد ہے تھے بح رکوکھی وارد ہو تے ہیں تو شیج ہے فئدورہ جاللٰے (”انباء 
الحيٰك ص۱۸۷) فح سکونظاہرسےچچگیہرنے کی ختلف صورتیس ہیکت ہیں پلک لکو 
میازی می می سکرنا (جیماعلامہش ہاب تخاگیا تےگیاء"اإنباء الحيٰ“' ص٢١۲)‏ 
احالکاقو لکرن( جیما تقاضی بینادگی ‏ ےگیاء"إنباء الحيٗ“ء ص٠‏ ۱۹۸٢٦۲۱)ء‏ 
کی ,ہیں ھی س کر ( جیا تاضی بیادگ دایام رازگ گیا إباء الحیٰ“ہ 
ص ۲۱۹)۔اماما ضا علی ا / مگ "اباء الحی“ میتی نکویک کے بعداں 
آ1 ی کون ہرے ین نک یکن نہیں رہتی _ لی قاط ن نو لک بھی ہے اور 
مکرین وس تعلم نو یک بھی اوراٹیا ا ںآی تا بیادپاؤارازڈٔل بناء الغلط 
علی الخلط ے۔ 
تب : ت چا نخس اورنفئین کے درمیان فر قک یل متصداول مل ماظہ 


ہو۔ 





۰ھا 

(ی میں مض رن نی لوط یی“ اکوگی خاع معن بیا نکردینے سےآیت مل 
تخصی نہیں ہرتی پی ہزین ا تخعی سب ہیں کیک مسبیس حص رتس سکی 
ول لیس ہوتی وای نکا یکنا ضس رن کے اقوا لت رح ”ضی ءک انیج کرتے 
ہیں اورک لف مین اس نیت میس خ٣‏ معی کے ان ہیں مرا می اور جات 
ے۔ 
('إباء الحيٰ۸1 ٣٤٢١٭الفیوضات‏ الملکیة ص ۸۱) 
(3) ماش نکا مک یآ یت تیان کے بارے سار ٹف ری کا ابا ہ ےک ییعام 
یں اوراس سے مراوصرف اح کام دینیہ وطال و۶ام ںا زگہّل بناء الغلط عللی 
الخلط ہے۔ اسلئ اڈگا یی مک ا ںآ تکوعام بانا ورای سے دع تلم ٹوک پہ 
تد لکرعب اعت ےی ای ے وا یس دج یح فس رن ہیں 
جہہوں ۓے شصنی سکی صراص تک ما امو کی از ااے نل امام رازی۔ ور تہج ودرا ال 
کےٹگموم بے انل ہیں زاخین نے سوج درکھا ےک رص مفمرنے لفاشی ‏ کول 
متی پیا نکیا رش کی صراحت ضہکی با عو مکائی نی دہ ا لتحبل 
.اب لی کی سےکزد ہیس امیس می فرق کر ے۔ 
اىر, دے. ری ںتحیص ہولاز مآ ےکآ ی تکوقام معالی پگول کیا 
جاے جج رآلیآیات ذ دو جوہ ہیں اود ہ رجف کےاغقبار سے جت مہیں- 
('إنباء الحيٰ۹ ١۱۱۔۱۲۲)‏ 

: () ہار نخان حیے داقات وج کاڈ یلم پراعادیٹ سے یی یکرت ہیں 
س بآ عاد ہیں ننس ما می میں تر ما نی خواہ سکتے بی ای دج کی حح تکوکیوں نہ 





۱ه 
تی ہو ہی سکرسحتی لہا جا دنن ہو ددیخ رداجب الال ہوگیاوریفنش 
ال اگخاذ کان نہ ہو اجب الر شی کے مقا لے می رپ نکا تار ہوگا ملا 
حدریث الگ نی رپاك(”إباء الحیٰ )۲٥٢‏ 
(8) این جچے واقات سے امتندلا یڑ تے ہیں سب نذوا ق رآ نکی کنل ے 
لے کے ہیں آور کین من رکیل نس ل کہ ہمارا دوک ہہ ےک ہآپ علیہ اصلۃ 
واسلا ما عم نزول قرآن ےگل ہونے پ ماکان دا کو نکویط ہوا ےق یلیم 
حضرنصلی ال علی کلم مزول ق رآ نک ابو لکیساتھھ ہے۔اس سے پل احاط کے 
عم قایس ؛ل ہن اوت نزو کی لم یرد لال ٹپ کر نا یں قسا نیس دبتا۔ ٹیل 
وا بک ہماراووئ یک لع مآتحضرتیلی ال علی دلم کے بار ےت رگ ے ایا 
ہےکہ سب اختراضا تکوکاٹی سے کما قال الامام آیات: فوَينهُم من لَمْ 
تشم عَليْكَ زالمومن: 78) .فلا تع تق ما ای لهم من کُر 
ھن (السحة: 17]۔ف وَلوْ تحث اَل القَیْبَ لَاسْنَکُلَزٹ مِىّ الْعَير۷) 
زالأعراف:188] :لا تمْلَهُمْ تی تَعْلمهُْچ زالتوب: 101].: وغیرها کا 
بھی جواب ہکان اتی ذ مات فزول قرآن سے ہے۔ ابی ط رح جن عیات برعد ہم 
جواعاد یٹ ٹیل یں س بکایجوآب دیاجاکتاے۔ 
ذا کے واقعا تی نین معیار: 
امام ا رضاعلیہالرح اشن کے مودعم پرپی لکردوسار ٹیش واشیارکا ہک ٹکا 
معیا یں بیان فر ماتے میں : الد ول طا لف جالفہ داجس قر رض ورولیات 





۲ا 
واخارو جا یا تع یہ رسول انڈی٥لی‏ ال علیہ کلم کےکھٹانغکو یقت رآجے 
کے مقائل شی کرت ےسب کا جواب دن دوز وشن سوز انیس دوْق رو می ہوگیا دو 
ال سے خا یں (ا ا قذاناضح کی جا رن معلوم ہوگی (۴) انیس انیس ان 
سے اسناد ہل می نک < ب مار جبوگ تو ا ن کا تمائی خزول ق رن سے پیل ہونا 
ساف ول ہے او راگ ہا لت رومال سے غا لں(۱)یادج رتا ی نزول نے 
پیل کی ہو با(٣)‏ یحدکی بن مرالڈل مقام ےج بیانراورمترل تصرف چاال 
بلب یوانہ بت یغانٰ اکر عا ےخالف رفرح ہو استناؤٴں خر ماقناد( نی 
ہے فدہ ات سیل کی بات ہے ) مخایشن ج یڑ کر تے ہیں سب یں اقسا مکی 
یں۔ا نآیات کے خلاف پراصاأ ایک دلی لچ ص رر تی الا فاد نل ریا گت اور 
رفس فایپنلیم پیک لیس ایک بی جواب جا دنا نع ونانی دقا من س ب کی ان 
وکا ٹیک یمومآیا تتط رق رآ ےک خلت ٹل اخباراحاےاتناول ہرز دبالیٰ““- 
('إنباء المصطفی“ ص۳؛ ٤؛‏ ”الدولة المکیة“ ص٤۸)‏ 
(6) داشالی دا لکوص رع شی ننس( آ یت تیان ۲ کے خلاف یڑ لکرتے ہیں- 
یعدم پ رین یک جانے دالی احادی ٹآادٹؤں۔(”إنباء الحيٗ“ )۲٣٠٢‏ 
(7) افش نبتت ہی ںک اگ رآیے تا نکنل انا جائے ان منسری نک اگ رلازم 
گی جوا ےو مکونڈس ماثے حا لانکہ می بات درستت نیس اسل کہ عا مکی تطحیت 
اتاد ہے ادرایک دی سی کےنزدریک عام می ہواو سی کےز دی ٹخصہی نی 
کن یی پھ یکن ری ںکی جاحکی۔ بانط دنر :ہت یکلای اد ھی اصولی می فر قکرنے 
ےتاص ہیں شلتکلاب یہ ےک ایس مو کا اصلااشتال هی نہ ہواو ری اصولی 


٥۳ 
ہے سے اھ اتال ما ول و( ملا عام می چسیس یا مق ت کو ک کیج‎ 
لین مر کی زین سےا یہو‎ 
(”الفیؤضات الملکیة“ ء۰ص۸۳:.٭الزلال الائقی من بحر سبقة الاتقی“‎ 
”فواتۃ الرحموت شرج مسلم الثبوت“‎ ٦٦٦ ۷:۲۹ فتاوی رضویہء‎ 
)ء٤‎ 
آیت تیا نکوعام ماضنے سے جکھت ٹلا کہ جمارے خ یکر لی اللدعلیہ یلم اور‎ )8( 
حر تمزی علی لصاو ق والسلا اعم مساوی ہونالازمآ جا ہے جوعند الف لقن باٹل‎ 
ے یں طز و کھی بل ہوا.سان کےاعیت را یق رہ یرہ ےکی رات کے پارے بش‎ 
اتال ے ارشا فرایا مه لکل خَیْئە لانعام:154]آ/ یا لگا‎ 
ود یم یکیااے جو تا خی کک یکاہ ےو دوفو نیہ ںکا مم ساد‎ 
ہیگا۔ اسکا بپہلا جذاب یہ ےک ہمارے می علیالصلو  والسلا مکی ایت تین ٹل‎ 
ج رکم کاخہوت ہے دوفڈابتا لق سے انا ےنتک ککیاجادقات کے بارے‎ 
میں چیم نے حضویسلی الہ یلم کےیلم کے پارے میں دیل سے اب تکیا‎ 
رووا مو رآ خرت اور ذات وصفات کے پار ےت تی پر ہے:وصاوات لان ہل‎ 
آئی۔ ا پراگر براخترائ کیا جا ۓکمہالل تھا یکا ذات دصفات کے بارے مل‎ 
صرف ہار ے بی اکر لی اولعلی ےلم یکول پک دی رانا کرام تام مونشن‎ 
کوتز تی حاصل ہولیٰ ےلہز اغیر متناعی لا نقفی عند حد تام من نکوحاس٣ لی‎ 
ینا ہے جم کا اکا ف ااماعرفاملیلگگ گکیاے (ااباء لح“‎ 
الفیوضات الملکیة/ہ ص۳٤) وا ںکاجواب بی کال‎ ٣۶٣۲ ٠۸ص‎ 


رز 

حول کے قد ری لبھی ناوت ہوتا ہےلہ اپ یی مات لا زم یں دوسراجواب 
سی ہےکرانما ءکرام جچجھ جات ہیں سب نی اکر مکی الف علیہ یل مکی امارے 
جا ہیں اسل کان کے تام فضائ ‏ تضو یی اڈ رعلی وسل مک فیضان ہیں ۔ک ا کا 
رادرک جمارے ئیہسلی ال علی لم اڈ کیط رع زان ۷ا عاطان کے 
احاطدک رع ہے ۔امام ار طی ارم نے ممادگیا دٹیاۓ اسلام می سب سے 
زیادہپڑھھ جانے وا لے 'تقصیردبرد؛ میں فرایا: 

الہ شمس فضل ھم کواکبھا 

یظھرن انوارما للناس فی الظلم 

فاق 'الىبین آفي علق وفی ا خلق 

ولم :یدانوہ آفي علم ولا کرم 
طای ارک علیہ الرجہ ےآ خر یشعرکی شر شف ما اراس می مفتیمل گر داسلۓ ' 
ذکرکیاکراخھاموکگرزام از ےکوی ای کبھی نی اکر لی اوعلی یلم کسی ایک ینس 
علم کے قری بیس پچ سکاامام ا رضا علیہ الرحمہ نے ان اقوال کے علاوہ انام 
شعرای :امام بن جج رگی اود ون اخ کرام کے اس مطلب ھی اقوال مع فرماۓ 
ںاد 
(”الفیوضات الملکیة* ص۶۱۲۷ "إنباء الحي/ء مطلب عظیم کل فضیلة 
ومعحْزۃ وکرآمة للنبی ص٥ک‏ اش عل ےم ض١‏ ۱۔۴۲۲) 
علا یر تی علی ال کی شر بردوبھی مطا“ع می سآ گی درا کا بیقول دل یں بھا 
کہ ہھارے خی لی ای علی پیل فی لی فی ہے والے خی اور بات اغیاء ان 


ا 
ےن لیت وانے ہیں ءالشدتعاٰ نے پیل ہارے نی صلی الشدعلیہ لی مکی رو کو 
پیا برا ےسب انمیا کلم د ہے اود ماکان دنا نو نکاعم د نیا ءعظا کو 
اوران سب نے ٹیک رای اڈ علیہ نلم ک ےےل ےلم ھا لکیا۔ 
(”عصیدة الشھدةۃ“ ص۸۳) 
تحضر موی علےلصلو ٭والسلام کر مکی تقیقت ىہ ےک دہ ی1 فخزامزاںگل 
یلیب رکی برک ت او کم سے ۔اصمل ہےر طلرکی افضیلت دمارےآ ای علیہ 
یلم چیکوعا کل ے۔ ا جم 
قسر جواپ ہی کرات شش فی لئ لی یاخیررے بہوئے ان الا 
عاتم نے مت این عیاس رش ارح ہکاقول وک رفا ناکد جب موی علیہ ااصلو ۃ 
واسلام نے تزرا و ںکوز ین بر ال تخب لکل شی راس سے اٹا یگ 
اورامش صرف پدامت ورعت( لن اعام )ارہ لئ .سو ال" تی رکی ریشنی می ںکہا 
اکنا ےکنٹیی لک ل شی کانکم حعضرت موی ای السلا مکو حاصل یں ہوا ؛کیونلہوہ 
ٹل الہ امادات ازم می آلی لق نے بی اضانے کے :(الف )کا 
ای کید مراد لین ےضردریڈئی شک بیو مرادایا جا جرب دلوبندگا 
زا نے رات ےٹتعقآریٹ می مع لک ٹیر یں جیا نلک لع یک بج ے 
عم ہزاد یب )گیل کل شی ء سے مراداحکام دی تا ہو جس مر 
دی بند یو ںکالظریہ ےپ تر رت ان عبائس رشمی شرع کا برکور دو للخوہوجا تا ے؛ 
یتیل کےاٹھھ چانے سے اکا مکا ابٹھ جانا مرادہوگا بر ہرایت درعت جود ا 
تھ کی کی ے تفم ان عباسں رش الڈرعدکا رو سے لازما ماناپڑ ےٹاک اظام 


اتل 
دینیہ ا ٹیلف ل تی ء کے مفامہ ہیں جو رات می اتر تی بعمی _ح ر رت 
علیرال جم ہکی ال دوفول بانقول پر وائ سو گیا لگئ فالحمد لله علیٰ خسن 
الفھم والادرك۔ 
('الفیوضات الملكیة“۸۳؛ ”إتباء الحیٰ۱۱۷۔۱۱۸) 
(رع )سوہ اعرا فآبیت ۴۵ ا می بھی تو را تکی می صفت بیان ہہوئی اور گےآ یت 
ودای اہرآ یت سے سعلوم متا ےک جب حضرت موی علیرالسلام نےکختاں 
اٹھا اٹھائی تصرف ہدایت درمت ان مس باتی ری ساو ابق رآ ان بھی ہار ےموتف 
کے موافن فإوَلَمًا کت عَن هُوسی ‏ لْعَصبَ أُعدٌ اللواخ وَنیٔ 
تھا مُدی وَرَحْمَة للَرِْنَ ہُمْ لرنهمُْ یَرَعَبْون ہچ (الاعراف:154]. 
(دال )ہار ےموقف پر براخترائ لپھی یس بتاک ہی سےسلبپیلم ورپ سے جھ 
شر ما مال ہے اسل کنل لئ ل می زححفرت می کے ول پنیس یذ را تکا 
خحوں مس اجار گی اور دیں سے اٹھال گنی۔یددہ جواب تھے جو بفیدان 
خر ت مت الع أْتورنے ایک دلو بندی عال مرک منارے مس دی اوردہ 
بھرالڈدا ڑکا جو اب شدے۔کا- 
(ملاحظہ وگ ری یامقالہ: ”دفع الشبھات عن علم أعلم المخلوقات“) 
(۵) الین ایی دشمل دی ہیں جہمارے مدھا نی عابتکرقی مان 
تی ماب تکر ہے۔امورغیرتناہیہ باقع ل ٹل اعور ماوراۓ قیامت اور ذات 
ودسفات بای تال کے بارے میس عدن عل مکی دییل دیناہمیں میں جواخین 
ہمارے دلو احاطء ماکان د ما کون کے مقاٹے ٹل ری شریف سے حدریٹ 





ےا 
شفاع تکوپی لکرتے ہی ںک موی او علیہ مل مکوا الا قیامت کے دن ال 
الیم فرما ےگا جوئیس پیل سے معلوم نہموگی۔ ریا لی ساب جزئی ےج س تلق 
صفات پاری تعالٰیٰ سے ہے؛ لہا ہمارے دلو کی نشین کو اب ٹنہی ںکر تی اور 
مطلقانئی ع مکی دل ہے۔ ("الفیوضات الملکیة'ہ ص٤٤‏ ۸۰ یہ ای 
حدیتث ٹیل ”لا تحضر نی الآن کے الفاظ اس با تک دلال تکرتے ہی کلف 
صرف زمانعا لکا رای لا یئیں۔(” مقاداتکتی“٠)‏ 
جنارے مد عاکوڑنے والی دی لک ودای تکیلے چا شرائط ہیں جومتصداول می سگزر 
ھی ہیں۔ 
(10) ”شایدکوئیآیہتایعلم ءآیت تیان کے بعدنازل ہولی اس اتا لک بیاد 
ران بی ہی ںک کوک ایت ان ےمد د کے جاب خلا فکااخال ےلہذا 
قاعدہ اذا حاء الاحتسال بطل الاسسند لا لی وجہ سے ا سآبی ٹکوکی لم پرول 
خی بای چاسکتا۔ اسکا جواب مہ ہ ےک شیان مکی تقاعدہ اک خلا فگھی استتمال ہوتا 
ہ ےک ہنی ںآ یت یکو دو بعددلی ما یں گے احالی ہ ےک دہ پان تی ہو؟ لزا کا 
.اس سے استندلال درست نہ ہوگا۔ ہماراموقف بیہ ہ جےکہ جب ق رآ نکر سار کاسارا 
نازل ہوچکا ہن یکر لی اللعلیہویل الم پلفاوقا تبھ مل ہوا اس ےآیات 
کےآ کے ت یی ہونے سےکولی مقصا ننس ہوتا۔ مد یک اگر لفن ہبی تن ی بح دکو 
ایی جا فو اں ےبلم ذانی کی ہانئی راد ہوگی اود مارا آیت تیان ے 
اندلا لعل عطائی بر ےتزمتقصود سےخلاف اخال ندال 
(امام اہلسدت علی ال جم جوالی عم فی برعلا صا ٹقشندی رح ادل) 








۸" 
(14) ال نآیت:طوَعلعك ما مغ تن تچ زالنساء:113). کھوالے 
سےاعتزائ کرت ہی ںکیاگراس سے مراد ہچ کاعلم ہے را سآیت کے بعد جھ 
قرآنأترا او لکن ید ںکا ہیا تھا؟ آیت یا نکی رشن میس آپامرتف گیل 
علم وت پیل نز ول قرآن ہے کی تع موا ناج رضانے متعددتصاخیف می کی٠‏ 
پا پیا ںکہہکودہبالا یت کےنزول کے بعد اشیا کاعم دیاگیا و پل رىیآہت 
عام ضہہوئی او رخلاف مفرپش لاو مآیااو راگ بی ںکہا نی اشیاءکا مگرارے دیاگیا 
۳ یل حاصل ہوگا؟ جواب اسکای ےک گر چنداشیا مکاجگرار سے نزول ہوتا ےت 
اس می سکوکی شریی قح تنییس رق رآ نک ریم یں نماز یڑ ے اورزکو دی ےکابار بارۃکر 
ہیا معلوم ہواکی:زول ق آنن پیش نی رکال مکیل ےنیس ہوتا فا درتعدد با ایک پچ 
کاأت ناب بنا ےکم ت تھا۔ ( ”مقام ولا یت وجوت'') 
می یکا سآیت ہیی نی من ےکوی مور لا زی ںآ وی ىہ ہوگا 
کہا ےٹجو پیل الل علیہ لم جوعلوم ا کک میس جات تھے دیٗمیں تناد ہیں 
اور سآیت سےکتق وش جومفییموم ٹیںشل: 'تجلی لی کلٌ شیء وعرفت“ 
وی ای بھی بی مع ہوگا یا ختلف مرق وقی جن مس اخزا لق رآ نبھی ہے کے 
ذر یج اما تمام معارف سنہ مپارک ٹیل ودلیت فرب ارۓے لئ بچمران معار فک 
تفبیل اورا کے بیا نکی طط رف توجرمبار ککووتق تگیاجاتا۔ 
(زای اذا دات تا الش ریت تی انت رضا نخان الا ز ہرئی دامت بکاتآم العلی۔) 
(12) آبیت تیان میں علوم شس سےتحلق جم جن خیاتکاعلم قلعا دال ہے سواۓے 
سم قام تکہااس کے پاارےائیس جز مکی لب ہذاال کے ود یکم پر دلیل دیتا جیل مر 


۵۹ 
یں کی دنن پعلوںہضمون' ماکان وما یون' یس داشل ہیں اور من یات اوح ے 
ہیں جوآیت تیان کے لفنشی ء می داخل ے ماکان امو از اتا نے خلق نۓے 
عبارت ہے اود ما کون تا قیام قامت کے اصورکوشائل ہے (اکی قد پر لفظ دنا کا 
اطلاقی ہوا ہے )۔ اب سوال می ےک کیا ” ما قیام قیامت یل خایت منیا ں‌رظل 
ےکنئیس لشنی جملیحنویات لوب میس وقت اح تپھی ہ ےکی ں؟ امام اتد رضاعلیہ 
لت ہفرمات ہی کہا پان کے پا لکوڈنتی وی لی (ن داٹل ہونے پراورنہ 
مرج ہوئے پر)۔اگر وقت قیامت لو ںمحفوظ میں تین ہے پو رت2 یک ری لی ال 
علی مل مکی ےآ یت تیا نکی دلالت سے ا کا عم خابت ہے او راگ وشت قیامت لو 
فو میں تین یہو پرعلم خی صلی اوفعلیؤلم سے اسکاعلم خارخ ہنا لا زم ںآ تا 
مات گی کے دوفوں اشقال بیقرارر جے ہیں اسن یشیش بین معلوم ےک ہی 
کر صلی ول علی پیل مماعلم لو جفونو ےلم سے راد ہے۔ ہام ماع ت کا 
مل ال لن لم میس دال ہہونے پجفی امارات ض رد دم جدد ہیں۔امام ات 
رضاحلیااتۃ زیزای نکی طر عم ماع تک یکا زم کر تے ہیں اد ضرا کے اشبات 
کا ج زم کرت ہیں کما قال: 'نعم کما لا أجزم بالعلم ولا أجزم بالنقی 
کہو لان“ اکر ٹنم خلا وا اعلام ری سےاشبات کا جزمممتول ہے۔ 
('الدولِۃ المکیة مع الفیوضات الملکیػص ١١۱٥۔۳١۱١‏ ”رماح 





القھارٴ فتاوی رضویه ۹٤٤٤٥٤١٤؛‏ ”إنباء الحیٰ“ء ص٤٥)‏ 
امام ات رضا علیرال رح کااس مقام پراحقیا طف مانا پک اکما لی دیاتکاءتریی 
تو ہے۔یادر ےک ریلم سماع تکاتضورلی اللعلی دم سم و داقل ہوٹا 


٦۰ 
علمائۓ اب سنت میس ایک اخلا فی منلہ ہے جس یں شبت ونائی می سے تکوگی‎ 
گزگار ہے اور وی ال مدت ے خارج فان کے مت ردام الشریف البرزگی‎ 
لیلح یھی اس تر عگز ری ے۔‎ 
ان یی ہیں کرت رآن جم یکا لم ا اکائ دا ون شقل ہون عتل بھرے‎ )43( 
کات جچوٹ یناب ات یلا تکوحاوٹ کے ہوک ہے؟ اکا جواب ہہ ہ ےک نھوں‎ 
نے بی می یگ ہ ےک تفصیل مکل شی وکنا ہق رآن یش ڈعوظ نے پر مل‎ 
کیا ہے ظا ہرق اکن میں نو بڑے مڑ ےا بھم مسرائل دی نکی یں نظ رت دراصل‎ 
یل ان قرآن میس سے اود بھی صرف حون کرممسلی اللرعلی بل مکیلئ۔‎ 
: )۱۳۳٣۱۳۷ص ('إباء الحيٰ“‎ 
دوسرا یکا تھالیٰ جب تھوڑے وف بیس اپنے عیب لی الٹرعلیہ و مکؤساوات‎ 
ماف تھا کی سرک ران پقاددے اورشلوقات فاع یس وت پیر اکرسکتا ہے( لاحظہ‎ 
ہیں ا سکی شالی کیا الحي“ ص۷۰۔۱۱) کیا خیال ہے اس کےکلام‎ 
ازلی رم کےئتعلقی جوا سکی صفت ےک وہ کت علوم ومتار ف پر عاوئی ہوگا؟‎ 
("إنباء الحيٰ“ ص۸۹)‎ 
جب بات می ےک جوفاشین ال تھا لک موم قدر تک اد ہلذب ےا ملا‎ 
ال قدرت مان یں اوراسی جذیاد برامکانكظیرآحضرت لی ال علیہ دلم ےتال‎ 
ہدئے دہ ہا آ کراب تھا کی صفت فلہ میم یل ج ران ہہوتے می ںکہائن مس اتا‎ 
رح ت+ہا ں٣. کان دہ مو نکیتقیلانت پعادگ و؟ا نک ینگ مک کت رآ ن‎ 
ید کے معانی کےسنید ری صرف ایک بی لہ رکا نام ماکان دنا یکن ہے( ملا حظہ ہو‎ 


٢ 





فائذہ 2۹ ) ۔کیاددا تا یکواس بات پہقادریل مان ےکہدداپنے حیی بل ال 
علیہ ملک نات کےتمو علوم سےفواز دے؟ یہاں قر تا ساب مس وج ے 
کرت ہیں؟ یہا ںکون سا اتما نی وشریی ے؟ 

تفیل :” لک لعلي“/٣۳۲)‏ 

یھو سک شیف'کی حدیث می دارد ےک بک رسکی الد علیہ یلم نے ایک تا 
مان می سکھٹڑے ہوک ر ما کان دا مکوع “انم ری “ھا برکرا مکوسنائمیی۔ بیسب 
مجزات تادراو رکی عطا سے ٹیک ری صلی اق علیہ مل مکواصل ہو ئے۔امام اد دضا 
علیہال رم نے ”إنباء الحی“ (ص ۷۰۔-۹۰) شی ایگ تن لف ل ہوسا 
داکل کرش پیل شنیننلی کو عاوی ہیکت ہے ادرو ہا میں )۳٣(‏ مشالیس ذکر 
فماکیں۔ جب اولیاءالل یم بت اشیارمو جو ؤک ایک شب مم لک بارقرآن یدک 
حلاو کر لی ف کیا بجی دک یق رآن پمیرسبعلوم ما کان دما یکو نکوشائل ہو؟یادرے 
ینس طط رح وقت میں بط ہوتا ہے اسی ط رع عیا مکان گی یرتا لی قادر ہے- 
امام اح رضاعلیہالرجمالہام رٹ سے ایگ نی مال سے اپے موق کا ایم کیل 
ٹیپ کرت ہی ںک ےکی کی میں انم بڑ یکا نا تک سور سان داحد می پچقی ہیں 
جب یلکن ہن ق رآ می ٹل تفصیل لکل شیء کا ہوناکیوں ای نکوامم 
مستجع دن ے؟ 1یس تکوئی شی امتمالہ ہے اور شوگ فی امتمال ہبہ یا جات رآ نکا 
ایک اہم پہلو ےک یکا کات کےسرارےعلو ماس موجود ہیں اور وف ا نکااظہار 


ہت رۓگا۔ 


لم 
فائدو نے : بیکہناکیڑ انشدرب العزت ماکان دما یکو نک تفلا تکوق رآن یرٹ 
رک پتقادر ہے شرع درس تنئیں اسل ےک کلام باری تھا ا ندرت ےت 
لہا ںکیصفت ہے اورصفت پرققدرت مانناا سے مقد و شملیمکرناے اور چومقردرہوتا 
یجن ہوتا ہےءاورکلام اد پرگڑ کن مد ورڑیل ۷ب" 
(”الدولة السکیۃ ص ۸ہ ؟ کن اسیو ح'ءفما وی رضویء۳۵۳:۱۵) 
14) مخاین کا راع تران بھی درس تن ںکہآیت تمیان شس بکورلفنش + ینتا ىا 
کان دا یو کوشا ایی اسل کہ وت نزو لق رآ نگئی ای مکنات میں ابی 
اتل وجود ہلا تھا۔ جواب ال لککا بن کہ ماکان دما نون جواغفشی ء کےلچوم شل 
مایا ہے اکا ا ات" لو ں فیس موجو کم ما کان دما کون س ےک ایا ہے جھ 
وت نز ول ق رآن موچودتھااورلو ںمحفوظط کے جم یح ات پرآیت مل واردافناگ ءکا 
تنا اطلا تق ہوتاے۔ 
(”الفیوضات :الملکین ص٦۷‏ ۱۱۲) 
(15) یش یھی درس تنم سکیآ یت ان میں لننشی ء سے مراداگ ہرم جودہوق حر 
ا تھا یکی ذات وصفات جک خی رقنائی ہیں ا نکیل بھی ق رآ نشی مکورونن مین 
تا پڑ ےگا مج بیخلاف ہب و شی مرکا من مو جورکرنا درستیرا-ا اں 
کاجواب ہہ ےک ذات وصفات باری تھا یم ہشیاء سے خارع ہیں یا اس جک 
مفپودٹی رکعنی مو لکن میں سرے ے دائل یں بای نی لق موجورے 
عق خائ ہےجس سےقطعیت ول و مآ یت تیان مہ فر نی آ تاءکتب اصول شش 
مرن ہو پا تھی تقلی ےنس کےیعموم وا قطعیت می کول فر کی لآتا۔ 





١۳ 





فا۸ ے :افش ء کے مال ہیں: 

ا۔ ما یعلم و یخبر عنہ ال ٹل ذات وصفات الہء مل مالات ومحروبات از لأ ابر 
شال ہیں :ڈوو بِکهل شع عِننپہ (الاعراف:101] شی می مرادے۔ 
یکن کر چا زا برامعدم ہوہهإإِت الله عَلی کل خَیْ فَبرٌه4 زالبقرۃ:20] 
میس می مرادے۔ 

موہ ونکن اود لے حا کل شی ہچ (الرعد:18] میں می مراد ہے۔آیت 
قیان می یآ خری مرادے۔ 

( فا وی شارخ بخاری۵۷۳:۱۷) 

(16) ضواخف بت ہی ںک رآن بی رتای ےز ر, خِرقا یک اتنحی لے 
ہیکھاے؟ 

اسکاجواب ہہ ےکیق رآن مجید کے معانی خی رتنادی با ال یں‌بزافرتایقکل 
ون ق رن میں ہیں ظا برق رآن می نیس نارق رآن میس جوچچھ سے سب تنای بذکور 
ہے۔اس پرکئی خلا اسلا مکی ن بات مو جودہیں- 

('إباء الحي“۵۲/۰ء۵۸:٦٦:2٦)‏ 

رو رکیا جا ذمعاممہ دانع جےک۔ بیان وانہار ہیی ای چک دتاہے خی تنا یکا 
یں ہوسکن :لہ اق ران مجیدکا جیا نکی لی و ہونا خنای علوم ب یکیلئے ہے او رکیوکلہ 
قرآازن ین یکر لی ال علیہ رن مکی لے لی مکاتریان ہے لہا خی رقنادی علوم اس 
تیانع سے خارن یں۔ 

(”إباء الحیٰ“ ٦ش1۵۸٦2:1٦)‏ 


اه 





فاد ا ےےعلو ہق رآ نکی تن اقام: 

امام اتحددضاعلیرال رح نے تق رابن التقی بکامندرجرڈ یل بیان' الا نقان' کے وانے 
تفر ما عق رآن تن امام ہیں۔ 

کیم :دو عل جن پرالٹ تی نے ات یتلوقی میس ےک کی اطلا نی دگی اور ہے 
کن ذات ونقالی اساء وصفات اور تقایل خیو بکاعلم ہے(لڑنی علوم خی رتا ہی 
اتل )۔بالاجھا یھی ان سے لق بج ٹک رن ےکا از نئال 

دد اعم :دوعلوم داسرارجن پر انتا نے اپ حیی بکرم ال علیہ نل مکو 
اطلاع دی اوردہ ان کے سا تی خائص ہیں ۔ ان علوم مس صر فآ پم٥لی‏ اللعلی ‏ 
مکوکشکوک رن ےکی اجازت ہے یا ہنی ںآ پسلی لعل ہبلم نے اجازت دی ہو 

یسر ام :دوعوم نا الم ال تھی نے ترآن یرک جیا دی 1ات شی رکھااوراں 

اع نی اکر مل الف علیہ یل مکدعطافرایا دای مم دیا۔ بر بد وطر کے ہیں : 
وہل جن می ںگنشگوصرف دلی لی و کے اتھ از ہے اوردوعلوم جواتد لال ونظر 
سے عاصمل کے جات ہیں۔( با الحیٔ“ /۵۴) 

12 رک ہت خی دکرتے ہیں ادرہارادلو یھی اس بارے یس پالکل دا ہکم 
اکر لی ال علیہ 1ل مکیلے پپیلشم کےعلوم کے اح طکا دوک ینمی کر تے سی 
ایک زگ خی قنائی بافعل کے احا طب ککابھی دلو ینا ںکرتے اسل کہ خی رتناہی 
سے جس ق دلو قکیلم دی جایگا قد تتائی ىی ہہگا۔ دوس یتم کےعلو موہ نیکرم 
صلی ال علیہ ڈلم سے ا مات ہیں او رتس بیاشم کےعلوم ال ایما نکی ناوت 
کےس ات حاصل ہیں۔- 


٢۵ 
مض ماف نبکھت ہیں خی اکر لی ا علیہ یل بض معانی ق رآ نکاعلنئیں‎ )17) 
رکھتے تھ اسل ےآ پ صلی اللد علیہ وی مکویلم ماکان وما یکو نکی تخصیات حاص لی‎ 
بوت۔ ا کی وی پت رآن جیدکے مان خی رقتہی بافمل ہیں او نی اکر می ال‎ 
علی ےل مکا عم تتاہی ہےلہزادہاس خی رتنا یکا احا نمی سکرکتا-‎ 
)٥۹ (”إباء الحيٰ“ء ص‎ 
می شبرااس وع سے پیدا ہواک اشن نے اصطلاع ما کان دما کو نک ھا ینیں_‎ 
”ماکان ومایون' محرود ونادیٰ ے اور روڑ اول سے قیامت کے دنک کک‎ 
تقعبلات تیر ہے جی اکرتحدد بار ای وضاحت ہویگی ہے ۔ ہم نے اسے ٹیم‎ 
تنادی اف لیم ہیی سکیا ادرتہ ہم خی رتنائی بافمل علوم کے اعا لاس یبھ توق‎ 
کیل دنو یکرت ہیں ۔الہتۃ خی رتنای علوم سے چوک یلو قنکو ال ہوسا ہے رر‎ 
تنای دی حاصل +دگاہ بھی خی تنا طور یں ہوگا۔‎ 
رب کے ان‎ 
ز اما فو لی ال علیہ ویلمکاجض معالی ق رآ نکوضہ جا کات ایک جب ہے‎ 
بات درست ہے او ہی مگھی ا کی تاحی کت ہیں کما مر( إنباء الحي“ء ص‎ 
۹۸ہ )نر نے مقعمداول یش جار ے بد واکوا ھی طز حچولیادہ ان جاۓے‎ 
اک یہ ہمارے مد ماک خلاف یس اسلۓےک یجن معالی ق رآ نام نی اکرملی‎ 
اللہ علی یل مک خاش لی ہے ان سے مراد ما کان ذما یکو نک یتفصیزات تناہی. پانعل‎ 
ہیں۔لہزااس کے علاو وٰض معائی ق رآ ہش خی رتناہی باقع لکوزہ چان ےلب‎ 
لاز مآ ا ہک ہی اکری لی الل علیہ یلمکو ماکان دما یکو نکیتقعیا تکاس جو‎ 


امھ 





قلعا تنا ئی ہیں اورش نک آ یت تمیان سےجمول خابت سے؟ سان نکا بلاز مہ ہگز 
وڈ کیلب 

(”إباء الحی“ء ص )٤۹۱۰۸‏ 

بلط دمگر: مقر نی علم اتی نے اپنے یبمل ال علیہ دم سی رکمادوقطعاو 
یق ”مین یں اوج مین یں د ولا مان دنا یلوا میس دن یں س(”انباء 
الحيٰ“ ؛.ص۰٦)‏ انی امورغیرقنامیہ پافح ل کال لو نت رآن می دائل یمن 
”ماکان دا کیون او معلم الا وشن والخر بن ' کے صداق سے خارحے- 
("إنباء الحیٰ“ء ص )٦٦۹‏ 

(8 4) ای نازیم ےک کیل ق رن کے بعد پیل الع یلم سے ققا مت کے 
پارے میں پو ایاگ را سپا علم اس وق تج یآپ نی ھا- 

اولا ہہ بات درس تٹکی نک دفات سے ایک بای سے زاین پل دی کاسلہ تفع 
ہوا پک یتضو لی ال علیہ لم پرییم دصالک دقآلری۔- 

خانیا یرد نی ہےاونْھرتکی کےےمعارش نیس بکق۔ 

خاناعدم بیان عدمل نیس جوتا۔لہذا وو دیل اشالی ہے؛اپنے مدعا لیف عنم کیل 
مین یں چیہ جواری نو موم میس تین ہیں۔ 

راہ جوا بب تھے کیم قیامت جملہ ماکان دنا نون بش پالجزم دائل ہوتی ہم 
زاس لمزم داخل لیس ماتےلہذاہمارے مد عا کی نویس پڑتا- 


کنا ءالخ “۷ ۲۷۷) 
٢‏ ص 


ےا 
ڈاکدہ ٭ خی کر صلی ال علیہ کیم کے یم صا کان کے بارے میں چارقول 
ہی۔٣‏ ربج الاولیء عام می شی نکا مقار ۸ رق الاول ہےہ جم ود کے نز دی ک۳ ارت 
الا ول ٹشہور او تی قول بے ہ ےکآ پ لی ال علیہ مکا وصال٣ا‏ رت الاو للا 
ہوا 
("إباء الحیٰ“ء ص ۲۷۳) 
(19) میا ٹل می کون اشن نے ظلام للعبید برا کرتے ہو٤‏ 
الگ و لک کے ہمارے اتد لا لکو ہا لکرن ےک کش کیا ہمارا مد عا می بے 
رق رآ نیم یکل الل علیہ مکیلے ہر مو جودکا خوب ول مان ہش 
می کسی طرع کا خفانڑیں زاین کے موق فکا مفاد می ہوا ق رآ نکر مل یک 
بڑبی تقنداو می مال سنہ ہیں“ نی اھوں نے صیضہ جیا نکامصعف ملا کے اسے 
متعلقا تک ہیں نہ کیاکی اپ کیفیت شی مبالنہے۔اگے جواب مہئیں: 
١۔‏ یہاں ماد وکی فکیاتی مغینیں ۔اسل ےک جیا نک اضافت ہرہرفرشءکا 
طرف ےو حاص لم می ہوگا کہ ہ رگم دی (کما عند قائلي الخصوص) 
کیاتھ ابا ےکی تلق سے جس سے ایا ال ال ہوجی جاشگی ایی 
ہو رانتصود ےک ہم جیا نکامع:اموضوح الحلی الذي لا حفاء فی ہکرت ہیں 
اور بی بھی عاص٥ل‏ ۶ی جایگا- 
۔تمیانا لکل شیءءظلام لکل من عبید ہک طرع سے ظلام ملعبی دک طرى 
نیس لہا یقاس فا ہوادداس پنیا بھی خاش راو انل بناء الغلط علی 


الغلط ے۔ 


٢۹۸ 
۳۔اگ بیہاں مبالقہ وم مان لیا جائے تو ایک فسادشگی لاڈ مآتا ہے وہ ک۔ائندرب‎ 
الھزت پرافڑراءلاز مآ کرای ن ےق رآن ممیدرٹش ہار بار ہگ مکونگر اراس بیا نکیا‎ 
رٹ یا نکی کت عاصل ہو ہک با شارت عیان ے پل بے‎ 
ای یی ال را یکبلائی ہے جوشرعان لوم وف ہے۔‎ 
"إنباء الحيٰ“ء ص۱۹)‎ ۷٥ (”الفیوضات الملکی“ ص‎ 


اھ 
خافحم٠‏ 

متلڑوعت“ لم نیدی“ لی الرخلیہ یلم پرامتددلا لکرتے ہو ہندوستان کے 
نابنہروزگارتشقی امام ائل سنت مبرددین ولت الشاہ امام اج رضا ان قادر علیہ 
اا7 _ر نے ےج رآ نکر: 3 کی یت مقدس: 

طرَنزََا عَليك الکَتَابِ ييَانَ لکل شَی وہ زالتحل: 89]. 

سےخاب تن رما کہ جملہما کان دم یکو نکامع رق رآ نکر کے ذر بر ریجاآپ 
صلی ا عل ےل روح اصسل ہوتر ہ یہا ںک کلک دیا 11 ای و فو یوقت 
ہوگی ۔ بجی اتد لا لآپ کے وت تک بیادوجڑ ہے ۔اھوں نے : 
(۱) ا سیت درس کیو میں (۱۰) اصو لکی رشن میس ڈیف رمابااد ربچ پور 
مفس ری نکاس پراتفا تیجح دکھایا۔ 
)٣(‏ ا سی کی رش می لم نہدی لی ار علیہ وی مکی حدددونمیلا تک نشاندی 
فرمائی اورپ ءعاً جا ما انداز می نل فرایا۔ 
(۳)ا سآ یت مقدسہ بر گ٤‏ جانے وا لی لف اعتزاضات کے جوابات ۶ اذبانا 
میں نبا یت خی سےامبندفر ائے۔ 
(م) لی سنت سیت نف ین جووای نس ہیں ان کےےشہا ت کاٹ کیاادر 
رچیھ سر ںا 

٭ نشاندی فرالی۔ 

(۵)ںآ ی تکی ہنی می نی اکر لی ایل علی ےلم کے ومن عم مارک پر سے جانے 





٭ےا 

دالےاعتزاضات کے پیج لف جوا ب سکھاے ء جو ہرط رح کے اعتزائ کا جواب 
بن سکتے ہیں۔ ٠‏ 
(٦)اور‏ ”الدولة المکیة“ٴُلآیت: 
رَعَلَمَكَ ماع تن نعل وُکان مَصُل اللہ عَليكَ عَظیٔم4(انساء:113] 
کی ای تق ریف مائی جس ےتضوراک لی اد علیہ لم کیم بار ککیٹعض جہتوں 
کی دائی تر تی نات فربائیجنکخصل متصداۃل مم رای جاجگی ہے۔ 

ان سماری باوں سے بن لی انداز ہ لیا جا سنا ےک ہندوستان کے ہہ بظیر 
علم یوب دو عال سی ال علیہ یلم کےپضق وحبت یس ےکم تےک ہزات ٢آ‏ پملی 
ال علی لی مکی زسحت وبلال ےی پر انھوں نےسلم کا ایک شی بھا خحزانہ اپ 
نات ادرتلیفا تک سورت ٹل لٹایا۔ ”الدولۃ السکیتھنکھی اس پرای کم 
حاشیہ ”الغبوضات الملکیة“کے نام سے سفرجماز وہندوستتان می سکم من دکیا چھ رای 
کےایک مقا کا حاش کی پیظ ےت علق رنب نل ایک مت رتتاب "إنباء الحيٗ“ 
کی صورت میں ساٹ ہگ جس پر مر تعلیقات ینام”حاسم المفتری علی 
السید البر: ی ار بوفرمائی۔ال سے نقینامان اتد رضاعلیال جم کی ذات با رکات پ4 
ضورعلی الو والسلا مکانزائ نکر معلوم ہوتاہ ےکمصصرف ایک یآ یت مقدمہ 
کی ابر ایا جائء ما ء پت مد عاکھھاکہماڑ ھھ جارسضفحات ا کت رج تن 
نع مس 'اباء الیحی“کیاصورت میں ای کاب ڈ لی اور وھی ہ مک کیل نہ 
لی جیما اس کےمسودہ کے خری من سے وات ہے اسلئئکن کے ون 
نہ ہوگی رآن می دک ایک دی یت مقد کی فی ر پراتھا جا مت زم یناہ جو بیک 

َ 


اغا 





وقتء علوم قرآن .خی حدیثء عقائم ولامء جارّء منا تب وفضالء اصول+' 
بلاخت دع رلیگرائ مه مرو وقو انی کے بے شارشزائکی سےگجھ رپودہ دض ین کے 
حاسول ادرشمہات کے ازالوں سےالبری: ہوصرف اس مق رکیل کہ جان عا لی 
ا علیہ یلم کے شاانپلم ومقا مم پرایک تارینی ھی سند مت کے پاتھآ ۓصرف 
امام ادرضاعلیرا مہ یکا جح تھا۔ ال تھالی ا نکوال نکی لیم جزاءعطاغ ریا اور 
ان کےعلوم ومعارف ے ہمارے ولو ںیگ فو یم وم فت عطاف رما ۔ 

مج نے اپنی ا نی کی جفیادامام ہت علیہرل رح کے مدعاء اتد لا اور 
تحقیقا تکوچی بنایاے اورای کے موی تا تر ابا ٹک ےکی ہیں ۔ کوٹ سیکا ہے 
کہ ہرکنتلم شف نکی ز ان می ادا ہواورم ضورع پرم وت ع کی مناسبت ےن ہو۔ 
نل ابحاٹ وگ رعلاۓ ائل سن تک یگرا نظ رف مات سے حاص٥‏ لک ہیں اور یھ 
تحت تس فی حیشیت ےک یگئی ہیں جن می نیل درکاڑی اسل ےک مقام ا نکا 
تقاضاکرا تما اور وہبھی میں نے افہام ڈنکیم کے انداز جس پی کی ہیں جوشا یا 
دوسرے مقام پراتی وضاحت سےمیسرتہہوں برامیدکرتے ہو ےکک طال بت 
کوا۔کافذا دہ ہو۔ائڈدرٹ الھزت سے دعاء ے سک شٹان عیب اکر یل ال علیہ لم 
کے انبا رکیل اہ سج یکوقبول فر )را سےمقبول نمائص و عام بنا آ لن بر منۃ سید 
ینیل ال علیتےم۔ 
لوٹ:'إنیاء الحی “کاو وص جوشا لن ہوسکاعلوم فک تق نل ہے سلئۓ ۱ 
ٗی کے متمدومقامات (ص۲۹ء مۓے٥ء‏ ۴۸) پرامائم ال سنت علیرال رہ نے ال : 
با تکودوہرایا ےک یلم قیامت اورتتعیلا ت تک من دشر می آمگیکرندہ 


وی 


۲ا 

مطور نے یں موہ ڈیں.آ ہیں امیر ےک ذاگر ای ض ات پا إنباء الخيٰٗ/کا 
کال لف مو جود ودک مک شور چان ےکیکوشت لکرےگا۔ 

بوڈ تال ی قش منو رق نیفرلہ نے اس رسالکو ہمقام ہرک پش ع جب رآ زار 
بی قاصی وی نی اڈ حا ذظ نظو را مرا دی دا مہ کےگھرنشرو عکیا تاجن 
بعلیٰ حضرت پت زم رمفت یش حضرت مول انل الہی چورابی علیہ اارمہ کے ھزار 
پرافوار کے قریبکھا اود یق تہ لو کے او پچ کرای شی امت کے وا نیع 
اتوھ شا کرھا 


<ارٌ۹ ۳۰۱۳ء 


۲۱۷۲۹۷۷۷۷۵۲۹۱۵۴۹ (٥ 


81۲016953۲۰ 08 


۳ےا 
جن مصرادر سے برا راست استتفادہکیاگیاے 
الترآن گرم 
اگری بعبدالی جامع العلوم الملقبِ بدستور العلماء 
شھی لد یبدالنان - تادی لوم 
مرا علامشریف لق فادی شارح بنارک 


نز التاریی شر ں کچ الفارل 

رزگمیرھ رسالة فی علم النبی صلی الله عليه وسلم 
غایة المامول 

یناد القاتی انوار التنزیل 

جرجاٰ:مرید حاشیة الکشاف 

شی ءعلام چو اصول' ای آھ 

مان :ام امرضا' الدولۃ المکیة بالمادة الغیبیة مع الفیوضات 
الملکیة 
انباء الحی ان کلامه المصون تبیان لکل شیء 
ازاحة العیب بسیف الغیب 
خالص الاعتقاد 
انباء المصطفی بحال سر واخفی 


فادی رضوں 


ےا 
ملتوظلات 
حیات الم وات فی ان حا الا وات 
الزلال الائقی من بحر سبقة الاتقی 
المعتمد المستند 
انوار المنان فی توحید القرآن 
القمع المبین لّمال المکذبین 
سبحن السبوح عن عیب کذب مقبوح 
الک وکبة الشھابیة 
خان ہفتقیاقی کی اصول الرشائع مال افساد 
رازی:لاءٹراری یر 
شش ری+چارال"د تفیراللغاف 
سیریءعلامہظامرس٭ل : مقام ولایت ووت 
این 
تفیرجیان القرآن 
شما ھی ء امن عاب بنا ردلثار 


رسائل ائکن عابد ین 
خا:سیدبزوی تادں‌ہرے 
خنیق مور تقریظات علماء الشام القدیمة علی الدولة 


المکیة (بالعرییة) 


عپرالخفور 
تقاددگیءعلامسیدالواش نات 
ک گی علا سید امرسعیر 
کتائیءاماہف رین ۳ننفر 


کان بجر زمزل 


کھنویہ باعل ب رات 


0 


مرا دآبادکی یدنم الد بن 


قشنری مو ناصا 


۵ ےا 
دفع الشبھات عن علم اعلم المخلوقات 
(اگریزی مقال) 
شر ملاع برالففوری الفوائدالضیاعیۃ 
کرو 
مقالات 
جلاء القوب من الاصداء الغینیة ببیان احاطتہ 
صلی الله عليه وسلّم بالعلوم الکونیة 
رحلتان الی الھند 
می رزاہدہ ملا جلالی می رذاہرا مورعامہ ملاتسن :شرب 
جب 
فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت 
حاشيه میر زاهھد 
الکلمة العلیا لاعلاء علم المصطفی 
صلی الله عليه وسلّم 
فو صررالا فا اط 


رنیب 


اے٦‎ 


حخققین یلوس مه نہد مل ا علی تم کیل دمکراہ ہی مصادر 
مان ء امام اضرضا الصمصام 

مان موا تی انواریب 
رضا:ءولاناصان میاہرہ شی ربیش+ائلحنت 
عطاری :موا نااشفاقی سا ستاورن یب 
ری بطق فلس رر ن- لیک فیب وس 
چوری فقفرنان  -‏ موی اورامردیا 
زرحا وی٣‏ زخل۱ھ انا رآقآب‌صراقت 
موانا ممیت 

نی بخی ای رنانں جارلتق دن سیداق] 


۱