Skip to main content

Full text of "Musannaf Abdul Razzaq Kay Al Juz Al Mafqood Par Aterazat Ka Ilmi Muhasiba . مصنف عبدالرزاق کے الجزء المفقود پر اعتراضات کا علمی محاسبہ"

See other formats


كت 


اپ 
ع 


2 ١ے‏ 
٦۸٣۶‏ فص 
ات 1 3 1 ضا 


دی 


+ 7 ۱ ۳ :. +٭ماڈ 

مزا ماما م تر ران مسنک رض ا 
ےعاام2 اتا 

۰ یں ۰م 72٦‏ 

/ )7 0 کاب 

ابو ص راف رکا مب شال مرش رونا 





پیگرنوداا)الا ایا کا ارشادمہارک 
لے جا راڈ دقعالی نے ب سے پیر ےپ اور پیدافرریا 


1 ممصنف بد زاق کےا ڑا مفقودبراختزا ضا تکا 


و 


7] خقرت ا ڑانالومزیف ٹ رکاشٹف تل نیٹ 


تم 


سواہ دۃاق خلا ڑی سا ابی 














الصلوۃوالسلامعليیكیارسو ل الله 


مل تو ق‌ٹگورہں 
نامکماب ی خوابہ 


ملف -سمحرتعلا مہ لاعف جکائشف اتال مد رضوی 
ریرست اج نگ ررض پاکمتان 


ریم -حخرتعلام گول !الا خلامم نشی سائی مچردی 
ااعت ‏ ا زر 2011 زالتیر 1432ء 





مصیفعبدالرزاقی کےالجز فقو دپرد لی مول وی ز مگ ز لی کے 
اختراضات کے مل ڑ بوابات 











پیل ماس تئعں _____۰ 


انقطا را سندکاباشراوراسکار 1ٹ 











ات یکیآ فی ری ا ا کا ا خراورا کش ڑجاب 
مور رک ٹور ہو نے کاد پل اکابر ےو 


ےا سس رو کت 
مصشبفعبدالرڑاتی کےالجز امفقة دیو پا لی مولوی مکی کو نرادی کے 
ا متراضات کے ممےلوڑ جوابات 


0 مصشبمبدالر اتی کے ال زا مفقھ دپہد ہنی مولدی ارشاداگئق ای کے 
مو ن کا تی زنقیری جا زز 

ورای ملک دای شہورعدیٹ جااودا سکی سن دکیلزشنق 
و ےڈ 
پ2 مع کک 
را تصرف و کا 
کے رس ستںساسشسی. 
8 



































٠ 


وج چہہہ ہم 
۱ انس واال الو ےگ ادف وراورا لیس ندی وشن 
٦ 5‏ 
0 












7 
1 


اہ 





۱ 
إ 
ا 
1 


0888 


: 
2 


7| مارک من فطالہ یہ 


ابوسعی انیل بن احر بن انل القاضی سز ىی بی 







8 
109 


۰ 
7 
1ھ 


۔ِ- سد 
بد 


خیب بن عبدالرن یڑ 

تفع ین اسم ہلنک رن الطا ب من 

مر تال ہر اڑل 

الجزہ الفقودہرائل پر کےاعتراضات اورنلا ۓےعرب کے جوابات 
الاغلاق علی المعترضین علی الجزء المفقود من مصنف عبدالرزاق 






۶ 


ات 


ت 


سی تہ جم وت 5 .- 
ت ث - 


4 


لد 






بل لو 0 
,0300س٭“ 











کے || 


اما 
ا لام کاشف امہ سا الات عخرت سا 


اض مابوعنیذہمان بن ثابت ٹاو 


اور 
اا لح شین اع عطرت" یم ال رکت الا سلام وا سلمین ددم 
امامالشاہ اھر ضا خائن ہر موی یا 


رر 
آآپ عم مت ا" رشدو رات مح رٹ ائٹم پاکتتا نع عفر ت ولا نا 
فعض لس ردارا ٹیم لآبادی پٹ 


اپ مور ٹ اصع اسان عاشلی م رینرھاٹی شت ماقی برقت 
جلزت موزا ن ااوٹ رت گرا لرٹریا ہب سمندری یکل 
٠‏ کے نام 
دا لک طااب 
رک شف‌اتا لَ رلرضوی 
دیس چا مو شی روب پئظپراسلام 


منرری 0 ای لآبار 


0300-023 


















می محاس)ا 


رر 
مناظراسلا مع ال ید رین رس انتن ذا اض یل عالئیل 
عفر تمول نا پر و ٹر تی نجرا ا فی مل 


تحمدهً ونصلی ونسلم علی رسول الکریر۔ امابعد! 

عالی تی شی ای ککتاب نام یٹ یہی ادرعلا ۓے رای وہای کے ب عم 
خودجیدعلاء تق کے س اتد ہی نر ےگمزری۔ ا سکناب مس حا کا اس قزر 
اتی اڈایگیا ‏ ےکہائش کی پناہ۔ الل تی پھلاکر ےق ات محرٹ وقت حض رت 
علامہ ولا نا مکاشف اتال لی صاح بک جنہوں نے پاشضل اور الد لال ال 
کاب کےےتماممضا ش۴ نکا ردکر کے تال کا فی رمقلد ی نکورکھایا ےت اک اگ رن ' 
یس ذرا بھی انصاف لپندی ہولذ سر ردد ھا ممکا یڈ کو نل رن کیل اپنے دجو ں کا 
الا نکرد کی ۔ لیک نترب ےکی بناء پر ٹس یہ با مک سک ہو ںکہانصاف پپن دی 
دالعلاء کے پا پگ بیس ہے۔ دو صرف سرکار دوخ کر کے کارشیر سے 
ریا ہٹڈ رن ےکیکادش میں ہیں- 

ال چک نی پا ک کی شان فدایت کے اثیا رکیل طر طرج کے 
پان تر ا شنتے ہیں ۔ مھ تو نار کی سن دکا مطالبہکرتے ہیں ہبی نان کا با ھی 
اھاتکابپانہ یی کچ و ںکہہارےفلاں فلا ری مولوکی کہا کہا لجزء 
امفقو زعلی ہے لہا یت لی بھی کت ی ںکہ ہمارا فا ں تپ ری مان نوم چا کا 
سی اود ماہرہے۔اا ت کہا ےکہ بیخلوط لی ہے لہذا یج ہے بی ہی دا یا 















تچ ری دا لکا کیہ راے۔ : 
علا ہکا شف اقبال مدکی صاحب نے الن وہاچ ے کےتام نام ٹائتخقین سے 
اختزاضا تک نہبامت' یی سے جو اب ےکر عم حد یٹک غدم تکا ایک ناباب 





لیے : 
ال تھالیٰئخ ات رعلامہعد فی صاحب کیم و ردیحت یس برک ت فرماے اور 
اکن نکومزیدچارچاند اگ ۓ .ین 


پرو ٹیس ٹج انوارتٹی 
دازالوم چا برتزِرضے 
نز جائ چنب دا یکوٹ راو کش قیلعتضور 


ڈوو و وت 
۳ 0 
0ئ 











1 می مداء مب 
م٭ءے 








نف یا ارک 
ون منانظ پجن مزا اسلام استاذالارا ایر یٹ 
صحفرت مول باشیپ ال اب صد نی اتچردی 


دہایو ںکی عادت ۓ؛ ور ےک ضس پان تکا جواب نے ء اس ول لک 
آ مرےسے ینم کن ےکیاکرتے ہیں ۔اا لک امشیلہموجودہژں۔ 
: حب عاد تحعضور مَلِللام کےنو کی عد بیث جن سکودرجنوں نا مورحی رشن نے 
مصن فکگبدرالرزاشی کے الہ ے ین کیاء دبا کا دید ود ری دیگھیں۔تاسہور - 
۷٘۷ ویا اورمصتف کے کے سے حد بیث ثکال دی اور جب علا اق تکیکاش 
سے اک سان ےآ 2 شرمندہ ہون ےکا جا تل راس یس برا چھبر کی اور 
لاجم یکوشیش کی رلددشرجخرت مولا نام کا شف اقبال مر ہلل لعاِی نے ان 
" گا اس کوٹ کوشی الام پنادیا او تصرف نا کام پان کے رکودلائل سے طشت از 
۱ با گ۷ر کےدیا وو یتکا نقثمادیا- 
اش کریم حفرت ملا کو بزاے ترعطا فرماۓ اورک پک ی سی می لکوشرف 
االیے۔ 


شجرعبدا لت اب صد بی 
سجاد شون رت منظ الم 
موا نچ رز 








یو سا 








نت ربنامارک 
اتاذالعلما جن لیر یٹ واشفی رت مول ‏ 
برا مڈر فا رکبل ین 


بس الو رَْلن اتہر 
مصتنکبرارزائی کا و حص مفقو دقماء وو دوج کے با مور وا رر اٹاف ے 
ساائن ڈائر یراو شر لوانڑلاااما کے پکل؛ کل اْيِيلٌُفرز 
کوایک افغای ا جر ےمیس رآ گیا جے انہوں نے مقد مہ او رحتقڈا نہ جواشی کے سزاتھھ 
رواٹ سے وا ٹیا بعداڑاں ۷غ لاہور بھی ججھ پگیا۔ ال نر 
مقلدی نکی طرف سے شدیدروگل ما آیا۔انہوں نےعھیانداز می سکنگوکرنے 
کا باۓ غیرعھی انداز اخقیارکرتے ہو الز امفقھ وکوموضسوم ہک یگھزت اور 
جم یقراردیا۔ اس سمل ٹیا انہوں نے یئ سوالات اور پوائحٹ ا ٹھاۓ ہیں ہ فاضل 
وجوان من ظ رائل شقت مول نا جح ھکاشف اقبال مدکی نے اسیک ای ککر کے ہ رای ککا 
اب دیا ہے۔الدتھا لی ای جزاۓ خی رعطا فرماۓ _ 
ٹیش نف تاب می فا علام مل نا محدکاشف اقبال مدکی نے عدیٹ جابر 
( حد یث فور )اورعدث عم ما بی ران انراز مل نین اکر کےویی گا ےر 
اما بدا ر زا کی ھا ہہ بھی مترعوالوں سےثا تک ے۔ 
۱ ال وزاب حد بش فور ہے۔اگر بجز ومفقورٹس بعد یٹ ن ہوثی ذ شایوی 
کواعترا ای زہہوتا۔ اب یہاشت کا ذمددارگی ہ ےکہ دہ بجز ومفقودکی با طور پر 





نے 





















اما کادفا ع۷ یں۔ یذ مدداری ڈا لی ءن با سج الْعَاِیٰ (ردی) 
لی بی اتا ضا تکا جو ابا کر لا یح دکاشف اقبال مد نے ُردو می سکرکر 
دی ہے۔أمید کسی انصاف ہن دکلے مال لایس رہ گی _ 

تائلل خغور اٹ ریہ سےکہ مجن حد یث لو رکو نف رشن اور متماخم یی سی دی 
ایت کرت ر ہے ہیں اور صےد یو بندیی اور پالی علاء ن بھی اپ اکتابوں مراخل 
ا د:کا یک کے م وضو اور نکھزت ہہوگئی ۔ اس کت یبا نیس جوانے اقم 
پا خر تاب" من عاشد ال السدۃ“ ماگل سے یں اج کات جر ا کرو 
/ ت کے۲م ے ۰پ چا ہے سکیا ان قمام عفرا تکاکذاب اور وا غکیا 





مجر برای شرف ا وی ہور 
3 الخ 14210۔ 
20060, 


وو 
0101 ‌2٭ 
02002“ 


مع 








ریا ارک 
مزاظر اسلام استاذ التلرما تشر مو( نا 

مز گل رض وی 
خلیفمازستانہھالیہ بب ثریف 


الصلوۃ والسلام عليك یا سُّدی یا رسول الله 
وعلی الك و اصحابك یا سی یا حبیب الله 
وہای خیش زن یت کمالا رت “شی کے مکر ہیں علوم مصطلف ہوں یا فورامیبت 
آ نا ےکا ات :فضائل ای گرم اٹ کے اکر ماما تکوششیف وموضوخ 00 
اپے ہا عق کدکااظھارکرتے رٹ یں ۔حدیٹ جا ہر دحدہیٹ ٹور ھ ےکیٹرۃ ٹن 
کرام نے سر رن یں درگ ٹر باباءدپا ی ر٭ل' کے دشنی دعداوت ماہرکرتے 
ہد ایارک ہیں۔ مصنف عبدالر زا یکی ٹہ حدہث فور جے خی رمقل بن وہاٹی 
موشورم کی آۓ ہیں۔ ائمدکڈرا عدیث ٹور و جاب رکا مفقود جزم جیے وبا یرہ 
موضوغ وی نکوزت کے ہیں ہنقن اہللٹقت مناظر اہلسلقت نعفرت موا ب یکا ٹف 
اتال صاحب 7 رضسو کی آف شاہکوٹ نے مادرتتین سے ںدرمہٹ نورکو نہ وج 
ٹا تک کے ادل رومیت تجر یریت 00 بھی اھ ان خا بر تکیا تو 
دہ ہت کا منرکالا ہواء لسن ت کا بول بالا ہواءٹو رامی مضضةٍّٗ کا اچ الا ہوا 
مولان مکاشف صاح بکیتصیف 'فوراخیت وعاکینت' بھی رجنماۓ ہدایت 
ہے چدد ہاب خی کےمنقیۂ باطلنہ کے مفائز ہوا سے شحف پا موضوغ دی ر کرک راہ 





(للمی محاسب) ترقل 

ووویھیوچس ژ ےمد ری > 

نع باعل ن کا اظمارکرتے ہیں۔ : 

۱ الشررپ الھڑ تج شاضہ /ولا نا موصو فلوشینی ایم پی ںکرنے پبقڑائے کی 

ا سائراۓ۔ 

۱ ارت و ماع کے مولانا م سو کا وجودباعثٹ انار ہے ۔ او رسلامت وقائ و 

دائمر گے۔اولسق تک متخ تقیقات دا لک ٹم عطافرماۓے ۔آ ین مآین۔ 

ْ اایشد جیا نی گیل رضوی 
خلیفیا زا ستانہعالیہ بر ثریف 
خلیب ەمِلز و رغوں ہام پر 

آستانہمالی تحخرت شرب نت :ہانگل 


اود وو 
00-00 
ه0“ 










اس یا 





















استاذ المارما مو مناظظرامس لام تحقرت علا م مو تا 
می را مجر اسحدصدد پاکتتا نک اتاد 


بسُم الله اح انح“ 
نحمََة صلی دنسم عَلی رَسُوَِهِ الگریٔم وَعَلی آہ وَاصُحَابہ 
اَجِمَین رن 
ات د جمانع تکاعقیدہ ہےکرانندتھا لی نے سار یحلوقات سے پپیلے ن یرم 

اف مضل ما کے نر ہار کک پیدافبایا۔اس مسنلہ برق رآن وسنت کے متعددرلاآل 
بھی اکابر ان اہسقت نے اپٹ مکنا وں ٹس در فرماۓ یں ایک عد یٹ پاک 
”اے جابراڈلدتاٹی نے سب اشیاء سے پلیہ تیرے نی کے نو رک پیدافر ما“ 'مصیف 
عمبدالرذاتی کے حوالہ سے اکا مح ین ان فرماتے ےآ ۓ ہیں۔ بینخہ پیل 
نایاب تھا پچ رعیب الین پش یقن سے ینطو ہوا۔ پھربھی ینسخ :لص فواہ 
کائل ٹتھا۔اورای نا روش اس جازم وجود نشی بعد یس بج ازرم مت 
عبدالر زا ق یکا و+مفقودجنز ھی لگا جودتی ے شال ہوا نس میس سند کے سراتید 
”عدیثٹ جار بھی موجودٹی اس ”زم مفقو و کے شاک ہوتے بی شاخران رسول 
گر ناد ال حدیٹ پا کیٹ ی کیل پوراز درلگادہا۔متدددعفرائش ن کے گئ _ 














لم ی محاسبا تو 
ا ربھلاککرےک زی ھت مم ول نا کاشف اقبال مد ی پٹ کا جنہوں نے ایک ایک 
کت کا کت پگہر مرف ڑ جواب دیا۔ دعا ےکر موی تائی کی حدایت اوزعلمرت 
را تک ا چکیداری کی ورای اج شی نیب فریائے۔. 
آمین بجاہ سید المرسلین صلی الله عليه وآله وسلم- 
رسیرامرامحدَللْیہ ١‏ 





9 2006ء 

















7نہآؤاز 
سم الله لزان الہ 

تخورسید عا کے بعد سا کرام سے نےکر تک أ مت شیپ 
تی السقت وجماعت پکار بی ہے۔ ھا کرام ڑوڈ کا بھی اہلسنقت ہونا دلانل 
اہر سے ثابت ہے نگ راگ یجول کے مخ راک و ہنی 1ہ تے ہی اس ےل 
لوتے پر اک 8ر3 داہے پیراہواش نے تخمام اکا رھ الا مکی خد ما تکومتاول 
بنانےکائیکوشش اوران کے:قاکد ریا تکوش کی تر ارد ےکرگو یا ری امت 
مل کیشٹرک تر اردےدیا۔انہوں نے انی سرکاراگریکوخ لکرن کیل تقورسر 
عا لم کی ٹن فی می کو یکس رن پھوڑی جس پرا نک کنب تی الا مان ء 
صرالط تیم دغیرہ شاپ ہیں یس یکہیں سےا نکوئظمت وشن مص فی کے اظلمارکی 
خوش ونس ہوئی ہے ور 23 20 رے ال کےخلاف روکھلئ کر سن ہو جاۓے 
یں۔ ا لکی متعدوم لال موجور ا اور یرا نکا وط رد شردں سے نی رپا ہے خلا 
سرکاردو عا ما کے اعلان وت نل پک ا کے بحچ راس و وگوضپ 
و کے موئجح رھ کی صورت ول ہے اگنے دن ۶م ا الگ شل بب ے 
پک داشل ہونے وا ل ےکومتف مانیا صلی مکیا چاتا ہے فو بنظمت بھی اللد نے اہی 
وپ کر سو عطا فرمائ 2 ان بپایوں کےگروشیطا نک برداشت ہو کا وہ 
لوکو ںکوس رکا رددعا مآ ری عطظمت ماۓ سے برکش نکر کیل جم تیر یک صصورت 


۰ مہلآجاے۔(لقٰ اضبر مز ووں 
































ہے ث۵ 
۹ رفا رک کےاجلاس ٹس س رکا رددعا )پا ک ےگل (نتوذباوڈ) سےمنصورمس 
کی شیطان تنج یک صورت شیک ہواے۔ 

1 (ھرت1پس بشام لد 2 صفیہ 22تار طبربی جلر 2 صف 98ء ال برای دا لہا جلد 3 س٣‏ 175ءالون 
ا توال امصغفیٰ ہل ا صفم 229ءمواہب الد میم زرقانی جلد 1 صفہ 321 مرارع اوت جلر 2 صف 56ء 
ولا لب ے جلر202۳2) 

ان داق ہک خودد اہی کے جن لاملا مج جن عبدال ہا ب ری کے ی میدالڈ ین 
۱ جھ ما ععبدالدہاب ن مق رسیرت الرسول شی اوددہاہیہ کے مبددنو اب صد بی ٣‏ 
ْ و پالی نے الشمامنۃ تن بین مول الہ ریہ ی٠‏ لپیا بیا نکیا ہ ےک شویطا نکفار کے 
اجلا یں جن پر یکیشل می ںآیا۔ 

(ش ری رت الرسولمفہ 185 ۶مف 283 ارددہاشمار اح بیس 30) 
معلوم وا یمظمت رہول کےخلاف شیطاان با ری کے روپ می بی 1آ 
ہے خوف لوالا تک وج ےم ای براکتڑا گے یں۔ 
سرکاددعا مکی شال نو راخیت پ" مشجورحدیٹ چا ینیل القد رتشن 
نے مصنفکبدالرذاتی کے توالرے بیا نکاہے۔مصتفعبدالرزاقی بھلہ خر مور 
1 تھیا۔ جب عیب اشن اپ یکی نین سے مصن فعبدال را نع ہوئی فو خودان کے ۱ 

۱ اظرارے جیا ےا ا تھا۔اس پردہاہیہنے بڑاشورڈا اکا اس یل حدمٹ چابر ہو 
ٍّ ٹیس ےا مارےا کابف مات جب یا کا کل جیا اک میٹ ے۔ 
مال پھر نل مصنفعبدال زا یکالجزہ الدفقدد لگیاجن می بس ریچ 
۱ حد یت جا برأوردالی اورعد یٹ اد ن۶ا سی عم سابیدای موجوگی خلہجردتادد پاکتان 
۱ شاک ہوک یادگراسل کے شا ہوتے بی شیطا نکا موي ذرمت دشا رہول 
۱ کے پلی‌عف ات بی اوران کے نا تہادی شی ن وتفقان س جو کر دی گے ۔انہوں نے 
1 یضر اش نککھے ینید یق ےعلمت ولک را ہاے۔(خو زا 


٭ ے٭* 





ںہ ال دفقود من الضصتف کےردیی سمونککھااوراپنگان مل پڑا 
7ں اضجام لود یگ ا سکونکلیف ہوٹ کال زملمفو دا نے 
ری جات )شیا مار ہے ہیقت وجماعت 2 اپآ وم نی انام 
و وشان کے انار پرخوشیال خنردرمنا یں گے۔اورقم ال سے اپ ےگرو 
غ 2 پاداکیا و سس وگ متا گے۔ 

١‏ 2 ال الجز اللمفدودشائ ددتے ہما دیو نے ا کواپچھالنا رو عکردیا_ 
رز دا شال یث جرت م لان عم عبدائلغم شرف تا درا صاحب اود برادز 
7 عق الام مناظ مت صرت ۴لا ارد گوس تج انوارنی صاحب مشاہ نےفقیر 
اق ل رکذ ہرگیازکی کےردکا دیا۔ حا ڈفقیر ےن یک للسلوڑ 
ےج ما نال الرشادلا ہود جونو 2006ء می شاک ہوگیا_ چھربیمضمون 
ا ور انف پہدہ لگا شا ئا ہوا لدد ابی تک ا سک جواب مولدی زب لی 
۱ ز3 پروی ولوگاکاطرف سکیس دیاگیا 

7ے پر دی ندال نے اھتایک ضمو لف رسک میں 
زا ال رد دی نے ال کائنگار تھا ج کہا ہنا ٹودا ان ٹش شال ہوا۔د ہا کے موادی 
دشر ودارشا ان اث نے الاعقمام او رحھرٹ بے ررکل یں ایک ون 
ھا میں ہکا فودگی رڈ دائم ا روف ت ےکگما چو ماہنا۔لورامان یس شائح ہوا 
ا سز مضا نا اش اتک لاجواپ 090 

پر یوں نے الن نو مضساش نکو ا ینا م” لی بجز کیکھانی او علا ے 
را سے ہے ظا کرد یا تق احاب نے جن شل | برادرگرا یا نظ راسلام ولاناظلام 
سور راب نیل آبددمادوکرائی خر ت مو الات رعاصمماح بآ رما عة 

ے ےپ ا سس جس یں سس ہیسہس-ج 











می محاس٣)‏ رن 
بھادرگرا اش رگ رفالن بٹ صاح بآف ا ہور مناخ راسسلا ملا نا مفقیمج گل رضوی 
: ورگ مولانا تج ناروی رشوى صاح بآف لا ہورو خی رہم نے اصرارفر میا نے 
مفا شی نپھ یکنا شحل میں شا کر دی جا یں ۔ ہو رط یقت رم رش لیت رت 
۱ صاتجزادہ موڑان ترفحوث رضوبی صا حپ ن عم دیاکردہائیو ںک یک ناب کے چپ 
آ چان ےکی وجہ سے اب اے فو رآ شا ئ کرت چا ہے فو ران الھروف نے عریدال پریہ 
آ کا مکیاکمسیدناجابر لا گی عدہہث فورادرحخرت لان عاس ڑل کی حدمٹ عدم 
۱ ماب دو لک پور مکی تین وشن بر ایک ممقا لت کیا اور کت ی نزک یکھا ی 
ٹس مولوی ز رۓگی نکی نے داائل الو ت موی 1 عدنیٹے لور کے ایک رادکی پرجرج 
کر ےک کش کیا :نی رنے اس رولہ رت نو رکا پورگ سندکی نشی اورمولدی بر 
زی کے اعتراضات کے جواباتاگدد بے ہیں ۔ اب ال عل رح ریٹل با مضاشن 
کنا پیشکل میں پپیشی خدمت ہیں_ 
برادرگرائی استاذ اللماءمزاظر اسلام عٹرت مولا نا خلام مرن اق صاحب 
1 ل ڈیدجد) :ھل,ڑررست ھی درک اورمماظ ر اورمتجرومیا ٹمروں یس دپایو ںکو 
: لس تنا یادے گے ہیں اوررڈ دہ بیت پر تد دک عنیف را گۓ میں ؛نےتقیر 

یں کاب پزبردستنمققا دنق رم ملپاے۔ ۱ 

رد ہایوں نے ذیاد من گرد ہا یکا ع۶ لی یھو بھی شاک کیا ہے ۔ ا ںککاع رب 
ٹیس یی ڈاکی زی بن بدا بن مال ایر کی نے کی ردکیا ےج سک ارروڈل 
مولا نا خلام عنشٹی ساقی صاحب نشی کی ۔ دہ دوخو بھی ششائل اشاعت ہیں۔ ‏ 
ساتحدجی ڈاکٹڑنیکی بن ماع مرک یکا رب یآ کناب می شا لکردیاے۔ 
۱ قب ررقم اھ روف پراو کرای مناخ اس مق التصر الیل اض لبیل مورٹ 
" دوراں رت مولا اپ و ٹمس شجرانو اتی صاحبمٴ للا کاباشرگزارے/ 











تسس تر 


دساف سس سچسسش ت ھلاتے 
ان وں نے مرک ۶ال جات یس محاوخت فرماکی اور اہ تی مشورون ےکی نوا زا 
موی تھائی اپنے عیب کے وسیلہۂ جلبل سےنقیرکی ا کاو لکودر رو لیت عطا 
رما اورفقی کے ان ممعاو نی نکی جا رعطافرمائۓ او ہم س بکیلے ذ رہ 


نحجات مناۓ۔ 
آشن بچاوسیدا لین علیرلصلو ڑواٹلام 
دعاؤ ںکاطااب 
رک غفابال رذْ‌رفری 
در چاموٹو ٹرشوپینٹبپراسلام 


یع یل از 
353 00 


008 *٭ 
ویوٹوٹوت 
7+01٦‏ 














شس کے 


تیم 
رر 
امتاذ للا ۶ء مناظ را سلا مٹیا طر یی 
حطر ے مو نا الو ا متا خلا شحاسماتی مچردی ۂۂظذ: 
شر اوران لور 










تحمدة وَتصی دَلسلم علی رسولهالگرئی, آنا بدا 
: دصداقت اک یقرت ہ ےک ھک دا یں بات وقرارے 
۲ ات ہنا بای جا ٤ء‏ پھانئے دبے کے اکم کر عریداپھارہکھارادرشدگا رآ جا جا ے, 
ایارکرنے والے لھا ارک تے لٹا ہآدا ٹن بن رکرنے وا ےکوسماحربچٹوں اور 
: انت کب کرد یہ ال کے ما لے انل ؤ و بعک رلیں, جری دی 
1 پپادرہپلدان اورہنجو ن ےآ نہیں ء رق باقع لکرفیں, برطر لقہاپا یی ما ری 
۱ پاپ کیل لی مک نت کب ٹا ہےء بکمہا نک اھ آوازت پ ای کبتی اٹ ھکھڑی 
' وی ہیں ءاورابل ت کوکویں مم کرانے والے ورک سے میں اکر ےی نت و 
۱ صداقت کا سور ٹا ہت ابا ددرخنثان وک پچکنا, کنا رہ کیہ 

الام ذہانے مہا دپ نے کو نہیں 7 

اہی بہار ےگا چنا کردہا دیس گے 
ول ٠‏ وق گرا چاتا ہے :لن کے جلدےکھرتے جات ہیں :ا ریکیاں 
۱ اتی یں انراتا جا تا ہےہ' بالا تا جات :وا رات سے اي یں 
رسس سس رر رت تر 








کی 


سسبس سے ےس سم _‌سِس مو ارتتے ان 
گ٥تاہاں‏ پچروں پ7 بارش اوراہل کر ونفائی کےظروہ پیبروں پر ٣ڑ‏ دم دی 1 
جال ہیےءان کے ول ڑ ھےہدتے جاتے یں ءارادرے میٹ ہور ہے ہیں۔ 
فور“ سا کو انی چلوگوں سے بچھان ےکی نا کا مکیشی پیل بھی ہوتی 
1 ںا ہکن خداکاوعدرہ ے: 
َال نرہ وو گره الكاْرُوْكن(ااشف:۸) 
”لٹ اپنے رک پوداکر ےرہ ےگا اکر کا فو ںکو زا گی 
مان ےکیا خو بکھا: 
ے لور خدا ےکف کی حکرت ہہ نرہ زن 
پچوگوں سے بے تراغ بھایا نہ جاۓ گا 
اک نو رکوبھانے والے خو دی گن ؛ در ہے ہیں او ریا مت کک کت بی ر یں 
گے کیوئکہ ود مداوندیاے: 
دَرَلَعنَ لَكَ و گر رك (الانثرائ:٤)‏ 
1 گوب! بھم نے تیراذکرتیرے لیے بلنکردیاے۔ 
نقول پاضل پر یلوبی علیرالرم: 
_ددقعدا لك ڈکرك کا سے سا تھ پ 
بل سے بالا جیرا کر ہے اونچا جا 
مم ٹ گے میتے ہیں مٹ جا یس کے اعدا تی رے 
یہ ملا بے نہ ہے گا کی چا م٠‏ : 
آى دمال ےرام کا عرمہ بیت چانے کے پاوجودءدن برع شا پٹ ری 
کے تاذہ قاق ومظاہرے ہور ہے ہیں :لیت مسطفوکی کے پھربرےاہرائۓ جار سے 
یل ٤ای١‏ تر یکا ٹور ہور ا ے کت بس سےکلستان اما اہاہا رے ہیں ہشن د 
عبت کےکظعہ ے نے یں ء اب ابمال' اس روراوداز توم ہجو رہورے 9 
سے سے سس او 0 1 00ا 





کی 








۱ ا جال بڑھتا جاتا ہے ان جا چھتزا جا جا ے 
را اج بول پالا :تا جات ے 
نین نو ری سے ستنیرہوناہ سیکا مق ریں۔ 
ھ ارح کیاکی سے رکوکی فا مد داٹاحاے؟ 
ممیاجا نک چا مد نے ہل دن ا +اے؟ 
ا کیا پھولو ںکی ھک سے ہرکوکئی مشام جاں مارک را ے؟ 
رھ کیا غمداک یق تمتوں سے گی لطف ائدوڑ ہوتا ے 
.تح ئکیں... ووریقیائیں۔ 
کیوککڈکود ہک کمتلمکرنے اوران تع ہون ےکیلنےه موا کان دسالم 
ہونا ضروری ےآ یں بثرہوںل ۶ال مل ہوں,شام ےکارہول اوراعشاء 
مظورخ ہوں تو ا ننھتوں ے استفادہنٗ لن ے مرا اوگی ھزاع وا شی 
زی یھ کڑ وگ یں۔ 
ای می ورٹریل“ کو ما نۓے کیل ایمان ہحبت اور ذو تی ای شر ہے۔ا ارس 
تفال بد یت٠‏ ؛غبرمقلد عت بات اورذ ہریت کے ناپاک ۵۶ اث ہولو 
اس ت یق تکاادرا کل ہوکتا_ 
ھی وجہ ےک ہل دم تاائین دہ تاجدارم لالہ ساب لا کال ءسرداوالہرغالء 
تج رتاباں شا مب جنال ٠ء‏ ش بنا لال٠‏ تضمورنوررا(انوارء احد مقار ؛ تعفر تج ر مصللق 
۱ “کی نو رامیت داوئی فکوصرف اب محبت جات ء بات اور ماثنے ےآ ر ہے 
ہیں ج مل نفاتی وصا ب نف رت مت لدگو ںکواں۔ ےہر وٹ تینعیب ہل ے۔ 
اور ی یقت ہ ےک مان حبت والو کاپ یکام ےبنعفل عیار بمیشہ ا سک مگر 
ری ےکلہ 
بے عل والو ںکیقسمت ۲ی سلکہاں ذو جول 











لم سل) 


اقال نے می بہت اپچھا مور ود یا تھاکہ 
سمل کو حعید سے فرصت ہیں 
نی 4 مان کی فیاد رک 
پروی ائل عحبت اورائل لق ثاپااپتاکا ممرتےکرے ژلءددیمائرش 
گگالورمصطفوی سے مد موڑنے والے ات پل مارتے ہے یں ءاوراول غیت 
انا کے انت سنرپ رہیں_ 





عدسث أور: 

پگ در تکاوعدد حےکردواپن فو رکوہ داکر کے ر ےگا/اپڑا۱ نے ص ری" 
کم الم ابناوعدہ یا اکر دھایا۔ ہوالوں اکہفحفرت جار ٹلڑڑ گیادوروایت جس میں 
یشون ےک الل تال نے بکرم ملا کےنورکوقام اشیاء سے پیلقلیق فیا 
تھا ابلی عم اے 'حدیرث جاور حد نٹ فور کے نام سے بادکر تے ہیں ء امت 
کے رشن مق رین اوراجل بی نے اےشصتب عبدالرزاق کے نے 
سے پورے ذدفی یرت کے جیرف لکیا۔ شب عبدالر زاقی شا نس ہوئی 
گا اک ےنکر ناو راخیت ربص نے لن اکا امت پرعدا اکر سے 
لئ مگوئا دا شرد عکرد یک اگرستو کل ہمت ےا ”'حدیری ور مین 
بدا رای سے لال دکھا خی ہم نہیں کات رہ ےکہ چوک معن ف جبرالرزاق 
مو یں ہے ءا لے امت ےتیل لق ین ول س کا اف کردا یکا 
ہے اوراگر یں المیزا یں 2 من فا نوغ کردوہ عد یٹ فو رہم دکراد رگ 
دولوگ امش ہوجاتے_ 


دیوبنرلوںکا 6 رن پیا 
ین ہو اکیاک ایا عیب الرلن شی دیو بندئی نے مصن لک ج نان نز 





























ہے 

اذ ال یش عدیث نو ری اھ ( شا انی گنیس یا اپنے عقیرے کے 

ایت ہدئۓ انہوں نے خود مار کرد یھی ) نے اب مکرسن نو رصطفی کر 

اہجان ےکر یف ٹش بعد یٹ ہرگ نیل ء بب مالو ںکا گھوٹ ہے حالاککہ 

/ اج یلویوں کا میں تھا گرا ےٹیل القرراکا بر نے اورخودداو نی اور ۱ 

لد ییڈوائؤں نے بھی اسی مصنف کے حوالہ سے ہیا لکیا تھا ککیاد ہاہیوں کے 

ای یھو ٹے ہو ئے ؟(جوالہ جات اص لک ناب یس ملا حظ شا سں!) 

قو لکااگار: 

" ملا الین بوسف دہالی نے ا مو ٹکود ہراتے ہو ےککھا ہے : 

تفطرت چابر ےمطسوب بعد یٹ جو مصنفعبدالرۃر اقی کے جوانے 

آ سے ںین بتابوں می نفقل ہوتی آکی ہے۔ اب امدلر! رر مصتف 

۱ عمبدال زا 11 جلروں میں جچ پک عام ہوگئی ہے۔اس می موجوڈییں 

ےک بای سکاب کے خوائے سیردت نشھدتی ا تاب میں 
ردایت قھامرے سےکییں ہے اور وں اس در دای تکا ہے جیا : ہونبالگل 

وا وکیا“( م شف کک بیکش ف 27ازعاشردڑ) 

۰ یا خالاتکااظمارگی اگوٹد وین کیا ے۔( بیس ۸ج) 

ا اب د یھنا ال ملق فکوشائ کرنے وا نے دیو بطدکی صاحب ن ےکوی دیا 

ھاکہ ین ناف ہےاورجت نے نیس وستیاب ہو دوسب اق ہیں۔ 

۱ (لا جظہہوامص فمبدالرزاق یلد | “ف3 ”لوم بروت) 

اوروددا دارشد ے ارش ادا اڑ گا حر کے ہا ضرلھاے: 

غ ناف اب اکےانقبار سے ناقکصس ہے برا کا پا نچ یں جل دک ابترا 

آ یچین پایاجاجاہے'۔(جعل جرف ود) 

ین انسوں ذزہیرزئی نے عوام سے دی لکرتے ہوئے اسے'(تق رما مل 


















سے سے ےسک 
نیرے؛ لدبارا۔ رما خلىَ َو 

آ خر پاییو ںکوکو نس نے ای تب رسود تن ریف ملف کا اکر ے, 
عالائکہ عیب الرتن انی دلو یندیرخور خی رمقلدو ںکویصی اعباریں ہےاودوپتلیم 
گر 21 کددەردوبد لکرو ۓے ڈیا( ملاظ ہوا عق حنی از دا ؤار رص 43وٹیرہ) 

اوۓ ال ہے کردلوبئد وں کے و کیک ھی یماح ا یں جاے 
یں۔(2 لام رای طف 72 انیب الڈیرل) 

بای !کہ جب دلو بندی صاحب وپایوں کے متھاٹیے یآ میں و ا نکی 
شا کرد و تاب خر مبرقر ے اود جب إِبقی مامت 1م" می دوہ مت یی بن 
جاتے ڈیں؟ صرف ای ل ےک اعد ٹور“ ١‏ کا دہ مسادلن ثابت ہوتے ہیں؟ 


بیو لک بے اصوی: 

اب دراو کو چاے تو یت اک مصتف'“ کا پوداننخ اش لکرتے لین انہوں 
نےالیادکیا لہ فی لم ...ان کےدلوں یں ٹن رسول اورا ار 
تورابّ ےکا رس اگج تھاء اس ووازا ہد یی دۓے 0 کرای حد یی ثکاوچود 
ثای تک کے دکھاؤءبیعدیث میں ے_ 

مل نت انیس بار بار یج یما نٹ یکرتے مکہویکھوا اگ رکو یی قرآن پا ۰ 
کالیا مخ ل ےآ نے جس کےابتھائی پارے مھ غاب ہوں اورد پا چھر ےر 
ففرآن یاکل سے سودق فا تہ یا سور ۃ بقرہ کا لک دکھا 2ء با لک جہالت اور 
ماقتک رٹل اھگ۔ لیے ئی دہایو ںکا صن فعبدالرزاق سے تس نے ے 
”عدہٹ فور گند ےکرانی جال عوا کی ہنگموں میس دو ل کن بھی ا نکی 
:توق اوشروا لٰہرقر 027 

نبال چیککمز بے ہارلوگ یں ء اس ۓیے دو سو نے نے سے عاری ہیں 


اورو ےکی : 


ھی محاس) قرب 

۱ حداجب د بن لیا سےا میں ین لیتا سے 

یں بے ورکے ماخ نی از مای: 

: وزیافت طلب امر یہ ےک کہا ای او جاک ہجمکزیڑوں ےمقیقت کے منہ پہ 
تا ک می جاحٹی ہے؟ ت کو واشگاف ہہونے ےرہکا جا کنا ے؟ ورار ےط 
٥5‏ پور می سکوئی وا متا ے؟ ور راو پھیگوں سے بڑھایا جا سک ہے؟ یں 
ا نک خدااے پو راک کےر ہےگا۔(والَہ مہ نوں)) 

ھی عال دہاو ںکا ہو اک انہوں نے عدہث لو رکاپ انار کے دیز 

'آروں ٹن چھپا دی ےک یکو یک نہبچوڈڑی لیکن خدا اکر ےکشتی اہسمشت کے 
افداؤد ںکاکہجنہوں نے ہرآن سغیذہ ابد تک کمزارے لگا ن ےکی ٹھان رکئی ےہ 
الورنپوتکوماناءانداررساات سے اپ قکوب واڈہا نکوسز رکیااورعد ٥ٹ‏ ٹورک اش 
اور جو یسکوکی کر نچ وڑیء الا تروس ثردرت نے دنگ ری ٹر ائی اورٹوروالو ںکو 
حدہیث نو رکاد وذ لگیا جس جس حدیث نورق کی اسفاد کے ساتم دنق بب پا مقامات 
پراے جو ہن د کر یی اوزعا شتقا صلی کےفکوب واذ پا نکومنورفر ما رہ تی _ 
' ائلیوراوراہلل لے کے جذبات: : 
: بل رکیانھااوللانوں اہلسردرں کے پچ رے کپکنے گے ء رخسارد کے ےہ اتھوں پ 
ثورا وررلوں یس سرد رآ مگیاء چیک ال ظاڑیے, انور ےک چا نے دانے وپایوں 2ے 
اگگردہ چچروں پر مز یدمردن پچ اکا نکی د نادان موی ان کے چچرول پروست 
بے نے ڈار یرد نے ۔ 
لی مش تک ای کو چار چا نگ گے اودہ اہوں کےاول ول پ پان چرگیا۔ 
کہ ابلی شق کا طر٤‏ اتیاز ےک فضائل نبو یکو ماننء ای تل دنت کا ایک 
١ک‏ بی اورایک ایک الات' صطفوبی کے اظہا رکیل و کرد تنا ء دن رات رفعت 
۱ مع ےأمرے ا نہ ہرد قت ”مت رسمالت کے تر ان ےگا اود عب کین ا سی 





می محاس)ا رب 
کےتاز و بناز وہل ےدکھاتا_ 
کہ شان رہالل کا انا رکرناءنضائل الا وت پردلال کر نے وا ی 
احاد یثکا علیہ بگا ڑناءحخلف شیلہ بہاوں سے ا نکاملہوم بدلناءکاہوں ٹیس شیاعت 
انی فکرن؛ می نکی عبارا کوک تھا کے اقوا کور دکرناوہایو کا شوار 
ہےہ بکلہ چک ال گی یس شائل ہیں لن 
جا ا و قنام ازل نے 


جو کہ جس یز کے ایل نظ کیا 


ریا ا پا وق 
”ہم خداکی ا نیم برای رنایں“۔ 


عد ٹور تین 


۱ چنا نا کل ےنب بدا رز قکاوہازا اط لجزہالمنعوہ 
من الجزہ الاول من الم مصنف“ کے نام س۱۲۲۵ ۔ ۱۰۰۵ء یی دوتی کے ال رکنژر 
یی بک نام بدا ئن ئھ بن ماع ایر کی ین سے بیردت :لزان ےل ہوااو پھر 
مو سسرۃ المشرف لا ہور بھی شاک ہوگیا۔ 

شس می حدم چابردرع) ڈ یل سند کےا تحرم روک ٤ے:‏ 

"عبدالرزاق عن معمر عن اہن المنکدر عرع جار قال سالت 

رسول الله صلی الله عليه وسل (لوز راع رم۸" 

حدبیٹ'علائجات سے ہے می امام عبدالرزاقی اور ب یکر مل سے 
درمیالن ددر نج ڈ یل شین را دی میں : 

تع این مد راورتحخرت جار وخ _ 
س-ےیدوژجبیوم۔دسصسججِٛستھھ جش سو لت 





(للمی محاسب) تب 

1 امام عبدرالرز اتی صنحالی پیل 

لاف الا مام ابو رمبدالرزاق بن ہام بن ناخ ار کی الصتعانی الیمالی :صنماء 
ناپ لاہ شس ای اھ یگھرانے یس پیداوے ۔آ پ کے دید ماج قررت 
ہام مین نان ال من کے اخیار شس سے ےءانہوں نے سانٹھ ے زائدر سے اور 
رت الم بن عبداؤل بن عم رہنکرمہ موی ر تبدالہ بن الس 1 و ہب بن مق ہ 
آ بیناء موی عبدالیشن بن٤کوف‏ ریس بین بزیدالصدعا لی اورعبدااشن بن لیران موٹی 
۱ عفر تج جن خطا ب ( وڈ ) نی اعیان دنا مان سے رواب کر تے ہیں _۔ 
۱ رت امام ین گل پہوان چٹ ھےاورکہارعلاء ومشا رك ا جم ڑل 
گیا ء اوران سے روایب گج ی اک جن مآ پ کے دالدامام ام بن اع اودای مم رین 
راش موا ای کر یں امم جھرکیجکس ی آپ ماتسا لکک عاشررے۔ 

آپ سے افزع مکرنے والو کی تعدادال قد رزیادہ ےک را لکاشا ریس جن 
انام اتی نیہ بن من اور جن ابان جی ےاعیان سوا اي ذک ہیں۔ 
ا مزال رزائی سے بح کےتا مھ رشان نے روای ت لیا ہے بصرف باری نشیف میں 
ان سے مردگالنقر ا120 احادیٹ ہیں :جن میں اکیڈ رو ارت لع الپ رمع1 
گیاسندے اور ہا قَّ روایا ت دکارشبوخٔ ہے یں اورںھ مسلم مر ا289 روایات 
یں ہ ہین بس تقرم ]271 ”' را( زا ق۰ ۶گ گی سد سے اور شرہ روالاات در 

آ پک شاندارت جمہ لا حظ کر نکیل لمات الہک لاجن سعد 548/5 رر 
یچارک 130/6 ءال دالتحع لی 3816ء الات لا بن ان 412/8 ت ک1 
اثفاظا 1ءء اعلام الا +563/9میززان الاعتقرال 609/2 تہز جب اگگرال 
٤ 8‏ جب الچجذ وب 372/2 تقر یب الہہذ یب مم 1183ءلمان المیز ان 
٠‏ 7ن رود یئ ! 


کس سسو+٠لوسجیسسسسحیسپجصطیس‏ سس شسیئۓے 








محاس) 


21 
2۔ اما تم رین راشمد پی: 

الا ام مم ربن را شدالا زدئی الیعدالیٰ ءاپوفردوبین الوگروالبھ ری 95یا 96ج ر یکر 
پیداہیئۓ :کن می۲ سکوت پذ یر ے؛ ایام لن اع رکا پچ کے جنازے یں شش یک 
ہوے۔ ٹہ ەشبت اورفاشل ہیں ءانام ذ ہبی ن ےآ پپکوالامام+الیافط جن الاسلام اور 
ریہ درم جلاات و نصنیف اوریمکا مرک قراردیاےے۔آپ فارگ سم کے 
می راووں نے یں اورححخرت عابت بنائی ؛ادوہ زپریء مم ام الاحولءزید ین 
اسم ہشھہ :کن مد رج اعیان ےروا پت کرۓ ہیں۔آ پکاوصا ل۵۲اوشل ہوا۔ 
بٹارلی شآپ ےقر ا225 ردایات مو جود ہیں جن ٹل 80 ے 
زار روایات' عبدالرذا تیگ نکی سند سے ہیں اورلم می تقر بآ300 احادیٹ 

یں خنکن بیس 280 ای سنرے مردىی إں- 
لی عالا کیل طبقات انن سعد 546/5 ءا رن کیب ررقم 378ء ا رر 
ااصخیر 115/2ء ابر والتمد بل 255/8ء انا ت لا:ن حہان 484/7ء راعلام 
الفظا م 7/ ہت کر؟ انفاظ 190/1ء میزان الاکتال 154/4ء 7نب اڑب 
4ةء” وب ؟ل 6809 ہت جب الکمال 303/28 رہطا ظہہوں ! 


3۔ اما مجن الممکید رپ 


الا ام شمہ بن انید ر ب ہداب بی بر تھی ءابوخبدا نز الند نی یپلیل الظزر 
ابی ںہ جک ہنعظرت ما اش صعظرت ابد ہ ہر بطعخرت اون عمرہ نحفرت چا ہنشت 
ان ای رت اون زی محخرت رہ بن عباد: نثرمت الس بن ما لک :ضر 
اپ داما مہ سج بن مس یب ٢عردہ‏ جن ز ہیراور اپ والد ماجد جنا بح بدالڈ بن بر تے 
اعمیا نع سے روا ی تک تے ؤإں- 

آپ سےددای تکرنے والوں می سید ایام الم ابوضیفہ امام زجرکیء ہشام بن 

















ے۔ ہے سیف سو مہضمت سم 2 


ہے سج سس لپچ رز سژتں ژ ہو بر 





سس شسممےس سم شسعسو_سش‌٘ںںکٛ'ٗٔسےےےے سے 
ر0 * وی مین عق این 221 "یبن سید سج ری را شر ایا 1 ,دا چتفرصادقء 


ماش فیا نود سفیان من عیون لا ماوڈائی ہزین الم شی شیوخ ہیں 


آپ ٹہ فاص اورائم اعلام لی ےیک ہؤں- 

اامذ گا نےکگرا ہے: 

الامٹم الحافظ القدوة شیۂ الاسلام ابوعبدالله الترشی 

آبپ۰٥<‏ کے بد پیا ہو ے اور ١۱۳م‏ لوصا ل تر مایا- 

ای شی ان سے 30 سے زار اعاد بیث لی جن ش تق ]۹ روایات 
من مجر ین المسکمد رین جار“ گی سندے ژں‌اورقخ لم ٹس آپ ےلت ر پآ22امادمث 
مر وی ہیں جن س٣"‏ ا کےکک وک حضرت جا رڈ کے در بی سے ہیں۔ 

لا حقظہ ہوا سیراعلام للا +353/5ہتہذ یب اذ یب 709/3ء تقر یب ہت 
7 ؟ت جب ال مال503/26ورہ- 


4 رت سید ناجا بر رو : 
جا الا ما جم ی نحبدرانش من گھرد من تر ات مین الا فصماری ایی ڈوو یل 
التر رای ٍںءالوگپرانٹ اورالوکبرال٣‏ یآپ یکنیت ج ہآ پ,ا نحاہگرام یں 
ے اک ہیں,جتوں نے رآجادیث روا ت گا ٹیں۔آپ کے ول رگرائ یھی 
صحالی تھے یجنک زدۂ اعد میں شبید ہوۓ۔حفرت جابد ٹل ئے رسول اکر م ام 
کے سا تی روز وات می ش رت گاءآپکادمال وغوش جوا پ بی یمورہ میں 
وصال فرمانے وا لے خی سنا ی ہیں ء پکی رم بار ک6 ے سال ما گی ے_ 
مربیر-حالا تا لیے ملاحظہ ہوں! لاصایہ 45/2 الا تاپ 219/11ء أُہر . 
الثا, 6/1کگ25۔ 


خلاصء اکا : وا ُ 
ہے و اع ہوگیاک ھزن ٹور“ کی سم کےتھا دای ہار او زسم 











کے ھرکڑی راوی یں اورز بردست ٹڑگء اپڑا پروامت 
ے-۔اوردوپایوں نےے بی ما نا ہے ےہ 
لعف غہدالرذاقی ا لک ہل سک ھا ہر سندیھی درست ہے“ 


١‏ ۱ (جحلی جم 2م6) 
کین کے روا ؟ سی اتی د باہو ںکافیملہ: 
کین کے راویوں کے بارے یں دیو ںکافیصلہ ودج ذ لی ے۔ 
1 وہائیوں گے 'امام ات ا رشادائن ‏ ٹر ی ن ےکا ے: 
”اریہ لم کےدراویوں کےسرے پا الذدچواے'۔ 
( رمالا ساب اشک ف لاف 6و) 
ان پر ور نی کت ءدواس مقام ےگنذر یے ہیں۔ 
2 وہایوں کے" تفہ اش زی علیزکی ن ےچین کے راویوں پر جرح کے 
خلاف پور نلم دق کاانکہارکیا ہے۔(وراحنن سودرری 
مریداکھاے: 
”مادثقہ عابر تے۔( تقر یب م125 :نر:)الن ے عفان من نہال گا 
روامت می مو بجود ہے“( یناف 3و شی سر ۱0۹) 
زیاکھاہے: 
”ین وروی یں ایک جماع تک اعادیٹ ہیں :جن برق ری وظیرہ 
کا الام ےہ ( مل قیادہتائی دنمبرہ )کیا ا نکی حد بیث ردکردی جاۓ 


الاسزاد اور گی الر واج 


گی؟ ینا سود) 
بای لم کےداوک ری دنر بھی ہوں بھی ا نکی عد یٹنیس ہوگی۔ 
زیداکھاے: 


عطاء من ال ربا بھی سحا ست کے ھرکنز کی راد اور نٹ فقہ 
سسمیلسپیلٹ ہش رئینیس جب و نس گ یہد خ۱ واللال_ٌ_ 











می محاسب)ا رحب 
ل ضل ‏ کی رالارسال“) تر مب)تے۔( ڑا سدہا ملح ا ۱ 
۱ (ابت] سف 244) 
دپایوں کے ان ٹیملوں ےکم ہوگیا کہ فارئیہمسلم اور دم رصحاح 2 
مرک راویوں پ ےجس باضل ہےءا نک ردایاتبال لک ژں۔ 
اہزا'”حرث ور“ ےراووں ٭بپاوںل اگ بجر ال وم دود ہے ؛کیوکک راس 
کےےتمام درادئی ہفارکی سکم کے مرک کی راوگ ہیں ۔ 
مین کےراووں ہہ ںگرناپرنتو ںکا کا ے: 
ز وی کی نےککھاے: ۱ : 
ار سے معلوم تک ایک الما دورآنے والا ہے جب ملائو ںکی راہ 
کےخلاف نے وانے بی یتین (باری وم ) کی احاد یٹ اور 
۱ راویوں پراندہادہند کر یں مگ (نورامعین مس 0د) 
٘ معلوم ہو اک بفاری لم کےرادیوں پر اکنا گی لوگو ںکا اکام۔ 
ْ تچیین کے دراو لوں پربقر ںکرنے دالون کے من ہی اک : 
ٰ ز ہیی زکی نے بی ککھاے: 
ْ ممنبپہاں بطورکہرت :ئل ہےکاوکاڑدکی صاحب نے خو مین کےراوییں 
ْ ہنیز ری ےش دی ا سور رسائل (205/1) شقن معل 
ْ رح الد كن)( صفیہ 129)الو لا ہریرہ دومرو ںلو بح اورخودمیاں 


روز روش نکی رح وائ ہوگ اک 'حد شاو رپ جر حکرنے دانے بریئی میں 
۲ اوران کے مشہ میں نما اک پڑ ےکی ءانشاہ الله تعالی ۔کیونگراس حد یٹ کےتام راوگی 


ہے! 
۱ یتین پ نماک اڑانے والوں کے منہ میں خا اک بپڑ گی ۔ افاء ار ' 
ٰ تھی( ین ازکاڑد یکا تاقیم ۶و) 


















می محاسب) رب 
بناری دم کے راد ہیں-۔ 
فو :اکی ز گی ز کی اوردمگردپاہیوں نے خود ین کے راولیوں پرجر عکر کے بہت 
جی بری ال تام یی ہے۔ شا یئا ور أضخیں “156:83 ماہنامہ ار یٹ 
ہرددصفہ 11 8دص دہ 0م و_ 

دوسرو ںو شجحت اورودمیاں' تہ 
.تس تفہ لکل رام کی جالیف''مطال ہہ د بای ت “ما خظیفر انی ! 

دبابیو ںکی لت سائل: 

ہر چندواغ) وکیا حدم لود راک و ہے لن دہاہیو کو چوک ۱ 
شا رساات ےئن او رتضو کی نو رایت واولیت سے تچڑ ہے ءان کے مین 
کدورت او رین ےےلہ ری یں ۱ا 21 ےےے اکر چوک بات تچ اوررو بت ص7 نے 
بھی ثابت کیوں شرہوآئیں ایک انیس پھاتی ا نکی نا رساخقلوں می یں سای ء 
ان کےن رھ دبانوں میں کی کی +3 ہ رج ا بت اےر کر نے کے در پے ہوتے ہیںء 
اس مردودہ الہ فلطد اور م وضوغ جاب کن ےکی ناطرس دع 00 
پل عقوت دس ال مت خیا لکرتے ہیں ۔ پچھاسی طر کا موا لہ شب عبدال اق کے 
مور نز مفقوذ کے س ماق کیا گیاہ جول دی ریخ بردت او بر پاکستان (ل ہور) 
۱ ویر سے شائح ہوا :اذ دپابیوں کےشن بن می سآ ککئی ۔ان کا ہرپیرو جوا ں ٹا 
اٹھاکہہمارے چیے گا کے ہوسکتا ہے۔ چنا مچران میرااین کن یکی طرف ےسب - 
سے چپ گی کی آف جرد( نک ) دہابی تک انج رگری ‏ ٹ مک ٹوتاں 
ار نے لگا اوران ماہنامدالید یٹ تعٹرد شا ؤنمہر ۱23ب یل 2006 ءکی اشاعت ںش 
حدہیٹث نوراورمصتف عبدال رز اتی ء ایک خی دد افتکا چائ:؛' کے عنوان سے ایک 
مخمو نآ لے مارا_ پچ رای لمت بھرے راس پرمولوی ۳ فا اک مل 
(س کوٹ )لت یں بھی نے اااوز لزا مفقو را الو امو کے نام سےاشت 























می تیب 


روز شی ابلٍ حدبیثہ لا ہور رگج ای ۴۷2ا می ۱۰۰۷ء میں شا لح کرادیا۔ ال 
کے بد رگنداوی کیاکاغا ڈارراوزارٹر' بھی ظاریں دہا ہی تکا سیاہ جنڑاب ےکر ھکھڑا 
+وااور 'حرمٹ ور“ نلم ڈھانے یا لکن قش یہنا کردا دارشدرا پک باراۓ 
زی گوندلوکی )کی بجاۓ موی ارشادائن اٹ یکیٗ دی جا بیماء شا 

ال کے نز دیک دواں' مال“ تھا ھی نذاپنے نام کےاوبارشادال کا نا ےکر 
اپناوین بڑہانے کے خ اکا شکار ہوا۔ ان دونوں کے نام سےمضھون پل ماہنامہ 
محر ٹپل رما نامرا لاعقسام ٹس چھیا۔ ۱ 

ان وت را ا بھی کک افطراب دالہاب تی تا, یں 
انج بآیاجب جب ' من“ ا جم جن رک یکھائی اورعلاۓ ربا یٰ* کے اخ سے 
قماممفضا ٢‏ نکویچاکردیا_ 

اب دہلپی گے شش بان کہ دھوا ہم نے 'حدمثٹ لور “وی اور* تم 
مفقو کوک نکھت حاب تکردیا ہم نے لوگو ںکینروں یش اسے بے وق بنادیاء 
ھم نے ا نین متقداورغی رش بت ادیا_لاحول ولاقوة۔ 

مین سوا یہ ےک کیا دو ںکی ان ان گی تے یں سے حریث ور 
موضوغ ہوئی یوون نکھزت خابت ہوگیا؟ کیا جک بج ھگیا؟ کیا یو ںکا 
الپامھا ناڈ لکہ 

انس مم نکر جن سک ائلت ہ واکمرے 
ذہتخ کون یھ کے رشن دا کرنے 

“لانا مد گا رتکاش: 

بیتقیقت ہےکرفورخداازل ےآ نت ککفرکی کت پر دو زان ہے نراے 
لہ بچھا گیا ےاورد یکول قیامم ت کک مھا س گا الد تنا لی اس کے دفارع مل 
فلا مان رو لکاا تاب فر اجار ہتا سے اور دا چھلاککرے ہمارے فاضل دوست مناظر 














می محاسب)ا درب 
کووسوسسژرسچھِ تروس سس سے 
اسلام فا تر یت ودای جن یت تق بے بدلءکاعبف اہر بازیت 7 عالن 
ات ہیل ااف :حعخرتعلامہ ولا ا ئرکاشف اقا لب أْویْه دم کا:تنوں 
نے نا تاد پا یو ںکی تین کا لق کے رکودیاء انی ںآ ئن دکھا دی یق تکوے ؛ 
نقابفر مادیاادرنروار ہرد بای عق ئا جھاب:اے_ ۱ 

الن کے پردھھ کےکووا کیا اود تاد یا کرد ائیوں کے" ئے ہو ے جالی “کڑی 
کے تن ہوئے جال ےپھ ینردداود بے زور ہیں عد نی صاحب نے ال نک تین 
کیا عدددار یی چتادی اورا نک یکاؤش کا انبا ناب یھی کے رود یا ے_ 

حعفرت مدکی وط الد ریھر یل یش اورپرفو رت ررکوپڑ ےک جرمخ ف زا عآپ 
کن حد یث اوداسما ءال چا بہگبر؟ ینک رکوس اہ ےنیس رہےگا۔ 

د اویل کے ہر بے اصوگل ضا لے کے جواب می ںآ پ نے جوم و تی لے ہیں - 
دآپ جیکا جم یں اوران کےےتام لام اختزاضات دتقیدات کے مل ڑ ء مت 
اورمسقط جواب د ےگریتو لکا ژ رغٔاچالا اوروپانیو ںکاعز یھ تگالا/دیاے- 

علامہ گی صاحب پا کے مان ماہنا کنل الرشادفا ہز اور باہنا ٹور 
لا ان شھفو پر شش چپ گے ہیں میٹ زارد یکن ماوگزر چے ہیں کن 
تاعال دوزقو ںچا پا ےاورکوئی اد ای لکیا۔اےے جی دنگر:ہازو ںکاعال ے_ 
: اپا شی مضاش نکیا ا کیا سعادت عاص لکررہے یں ا کاب ش 

اکرکوئی بھی نازک پگراں اگنذدے دو لق نک تن ےگایا”کلی الداس علی 
قدد عسوللھ “کے مطابقی' ”جوا بل غزلی کے ور پرو ہاو ںک فیاق نٹ ے 
یش ارہ داہے_ 

لْرش! ال عُّی بک چرے چک رے یں اود دپایوں کے مت کا ری کک لود 

یا یہت ڈنل فو وتوہ ذاش کت ے۔ 











نم محا) 





ٰ بک 
زگلزل کی کا رتایاں 


یی زگ یکیکارستاخیا ںشق الا حظہہوں ! 7 
2ے مین کےداویوں پ" رج عکوگی کی نے بدحت تراردیا۔ (فوراصنین م٥0د)‏ 

نذ ین دبلوئی او نا ص رالبالی نے بنفاری سکم کے راوایوں پر ہجر عگاء شے 
از کی نے خو دی مانا۔(الد یثےشارہ 23 مہ 12+11 لکن آیں' بیلقله “او راپ ٹوا 
ما نکر اکا دیق“ کاشمدتد یا ےہ بلکمانپوں نے خودیی ىہ بدخت ابائی ے۔ 

( لا یواثورأعین صف 83 156رفِرہ) 

7 ہزرفوراکایے کی افلا کی دج ےگھ وضو قراردیا- 

یضاق اور ام لان الا عر!ٹی ٹس انھظا کی شا مد ہیک رنے کے باوجودان 
سےا تدلا لکیا(وامضں مزمور,م یمن 

اگرد لکوت جا پیج قراررں_ 
(٭ فراگضن (41پ]“'٣‏ بلک ری رشِۓغین,فِ رپ“ 

کم 79ب 32افرا کے نا مکہوائۓے۔. کی ےکسا تضادیا جات ے؟ 
3ا ا تاب کےمخحہ 80برا مھادک چلل ک حرط مالراۓ والقاس(ز ضز 

دیویندہی)“ تحت پیل یلاو کاعنوان دئے آ پکاذک رکیا۔ 

99ب گا۔* نما مرلیاد یی لوک رآ پکواا مکی کیا اووائل ال راۓ 
والقیال فی دیو بندریلاگالمام مان یں؟ یمر فگام سے ونب ے_ 
ساب کور کےسفحہ 160ب راماممچجھ یز کوک اب تایا۔ 

کیو ددووہاں ال کے الف چے اوران اوکا ڑ دئ یکا تا قب مفہ 74 یڑ ات 
رشن“ کیافہرست دص ٹر پراما مھ کا نا میا ءکیونکہدہاں دہ( 
خود)ا نکی'”مشک لکشال یف مار ہے تھے 











لم 


سس سي ہجسہےِ مم ہہ 
ا کاب کم پ5 اوزۃ مشعددمقامات پہ بار بار بی قانو نکگھ اک ۔ رم 
۲ دم د ولا زمگیں“_ 
یک تھا بب “1423 ا 1 کن ےتید اور راو ا 72۰ ور 
پڑھنا تلع ماب تکاس ہے“ عالائک وت نر لے سے وجود کن نہیں ودکق کان - 
ز مال نے دوفو راچا ملک پان کی اط تنا دگوئ یکی- 
كت ایک جلککھاہے:' آ پ کڈ نے رات ممرصر ف ایک مت بڑھا ےآ ب یلم 
ہےر فگیارہ(11) رکحات(3+8) ثابت ہیں“_ 
اشن اوکاڑدلکاقا ب٣ز‏ ٭() 
جال صرف ایک وت ما نک رن ور گیادوایا تکاا کا رکر کے“ رن حد رت 
انا نام در کرایا۔ تچ رایک اورگیارءکو(3+8) کے طر یق ےش کر سے انی 
ایریا جال تکا شھدت دیا یوک ہ ای ککوگیارہ می موں جم کیا جاتاے۔1+11 نہ 





کہ 3+8 کےط پتدے۔ 
اوارگیارورکعات اور ایل وریل اہ بادہ رکعوات تی ہیں ملین جال زمانگیار ,کا 
قو لگ/ءپاے۔ 


ٰ رب وگناک مر ف گیا رات خابت ژں'“ می ان احاد یٹ کاانکار ہے جن 
سای 7۳ ٹیش تحندادی موجرر ہے می یلا فک اٹ پارڈ جان گی ہوگی اہ 
نر ریغ“ کون ے؟ 
از کا نے خودکھاے: 
شک ۳ن حدب گول قرآن اي یکناھیاے“'۔(لر :دس ہن 
پذائٹ اوک حد بی کنا ٹاو ے_ 
غوٹ: میرے شاگر دش ئل یلال نے زہرۓا گی کے نا ماک 2005ایک جیا 
می اس چا لت اورانکارعد یث پر تت گیا گن فسوی ووتا بنوزفو بے نوم اورکٹ 
ا ا ا کک ا ا ا ا ا 





رب 
براڑے ہو ے ہیں۔ 
ھچ می کی نے مککو صفہ 19 کی ایک ردا یرتا لک جس مل 'ذا خلق الله 
ا رلخلق“ کا ملیکھ او وکا ضا ڈکر رف كڈال0 یووم 
مج ردام توروچلیپر کردا ء ایک بار بن انز مع من اح ب“اورد ری 
الکھا:”الدرہ من اح با (بوق سے چنا راک مل 13:ود) 
کی میس 2 ء'اوردوضری یں نع کاٹ دیا۔ 
3 3 کاری کی اففلت اررمغ رین ہونے پہامام الواٹگی اورامام الھرشین کے 
اقوال سے استد لا لکیا اور یشیش مکیاکہ اق ال بے سند ؤں- 
(الید یٹلم ددم“ )۱۱۰٠۷۸‏ 
تایے !ای بے سٹد بات پدو ہاب کاخ دکبوں اوران ے اسنا وکیا ؟ 
الید یٹ شار230 صفہ 55 پا خلا اور نکرنے دان ےک لا ئی لی کہا۔ 
نُک ۔کن ٹہ سج بح دی نکااخنلا ط نین بابت ہے ہخودانہوں نے ابی شار :کے 
سف د2 پل کیا ہے ءل کیا وو لاک یل یں؟ مر بل لا عظہ ہو! ا ید بی ٹنم 27 
صلمہ 2917 نہ ر26 “ف5 24۔ 
ایشا رہف 55 پکھ اک لائی لفن“ مقلد کک ت جمہ ہے۔ عالاکنہ 
مقلداپے مہ بکا پا ند ہوتا ہے اہراد؛' لا کی لک نہ ہوا۔ چیک ولوی اساشمل 
و کے بقول نی رمقل کاچ تر جم نشت رب ےہار( آوارواونف )اورو, یکا 
درس تہ عکی نو ل ٹم من بٹالدئی ”نم ک تام ے۔ 
(ملاحظہہو اف ری پآ زادی رف 198ا شاو ال" جلد 11 شار ود“ 4ج) 
زبیڈگی با نی کرک یااغنلا طاو رشن وا نے جمل وشن مقلد ہیں ؟ 
اب ا پر مال کے بای بضغ نوھد ور زوبرت ےکی اجقاب “کا 
پا 


مس جس کس ہس کیہ" سس سہہہّٗٗےجےٗس“سي+يِج ےہ ‏ ہانے 








چیک ہاور ٹین صف244ء 242 دظیبرہ پ ای ردایت سے استند لا لکیاء اور 
لد یٹ شار230 مہ 21پ یف روایا تک 'شواہراورامت کی الو لکی وج 
ۓے قجو لک رن ےکا اون دیا۔ 
اوھ ا:2 کی اھ می کو ردایت ٹڈ کر ناترام دمنو نہیں“ 
( این اوکاڑ دک یکا تھا سز 58) 
بلگہفہب پان ےکی نا وضو روای تک دکالت دای تگج کر ڈالی ے۔ 
لا حظ ہر!سلو چاکرسرل من 9و) 


جک رحافظ ذئہی ن ےآ پکو الم دداء ارہ میرثہ الامامء لعل مہہ امش رید الد 
نگ بن یوقوب مان الیارٹ اخ رگ اقب بالاستاذ ام مسندال یع الا مام کے 
القاب سے بادکیاہے-۔(7/ :از زبلر دس 9و) 


اور پدالشن مبارکپوریی ن ےتحفت الا حوذ ىی جل 2 صفےہ 319اورقاضی شوکانی نے 


مل الادطارجلد 7 ملف 111پران ےا حا کیاے_ 
ھا برامرے خیرےء جال ہ ان پڑھ اود نا خواند٤دپا‏ یک ال عدبیٹ' بابت 
کن ےکی خاع کہ مارا:””حاذناان تچ ی کےاں مم سےمعلوم بو اک ال عد یٹ 
سے مرادیح دجن اوران کےگوام خی“ (ال بث شار+9د سر 2د) 
اول ت این می کے مککوئی اقپارنیس ۔ دہائیوں کے ہاں نزخم معالی بل می 
نیائغ کیا را ۓےکاچھ کوک انخپارڈی ۔ددسرے بیابن تمہ پردیے نیا نان ہا 
کیاعبادرت یل عوامکاکوئی لفننئیں ہے_ ۱ 
(8 منداتھ ے ”کان یرفم یدیه فی الرگوع والسجود“ کےالفا کے _ 
: : (نوراحین صلی 6ج) 





>-- ےخ بہت _۔ ستكکھ مس ہے ہے 


۔حی بے 20 . 











قمحا دن 


۱ چولہاں ردامت ے بروں کے وف رٹم بل بن بھی خابہت ہوتا ھا جہ کہ 
دبایوں کےخلاف ہے ءاہذاعلی زکی نے رہب بات ےکیئ تر ثیاءا٥٢سش٥.(4ی‏ 
الرکو /وقیل ال رکوعادروالسجوکوادلآ”وفی السجود“ :اکر ریف کاذ وت إرا 
کرویا۔( صفےہ 84) دوس ےقبل السجوداذا زل را من ال رکو چگرڈالا ۔ نہ 
کاحللی ال رکوع“ئعید ال رکوع والرفع منەازوالسجوئعیں السجود 
د بعدہاے۔۔ دی رٹواہدیھی ان ںی تا کرت یں۔ 

ث نو راصعغین ف80 پر اما مٹھاوئی+ امام زیشھی ء امام ابین تکماٹی ادرعلامہ نی وگ یکو 
”یداو بندیا' لیودیاء وک مراسردگل ے۔ 
‌ عم الفقہ اورنقھاۓ امت ے ائرروثّ شک اظمارکراۓ ہو ۓ اھ مارا: 
”علا کا ا سے نق رق ارد ینا نو ٹاہ تک دی لین“ (فوراعین من 0ج) 
حعا لالہ ائم“ اسماۓ رجاللی نے منحدد افردکی نذ نی بیس ”فےے“ کے لف بھی 
استعالل سے ہیں یی زگ کی ا کاب کےم مہ 244241240 بھی اس پردییل 
نال ہیں۔ ۱ 
زبرمیاں نے امام بظار کی ”کاب الضعا مس ہک لین بدلا سے شا 
ص“۰ ےہ 23ء 66ء 85ء 51ء 91ء 82ء 27ء 31 116:110:100ء123 
دئیرہ-۔ 
چان کے “علیہ ارشا دا اڈ ی نےککھا ےکی یف شدمکناب کے 
الفاظکوپرلناجا تی( عا ہی داسف 97) 
پو لییے! ٹھائئء وظمارح اورز فکون؟ 
اس ایک میگکھا: ا لور بن عیاش عا فن کی ۶ای رشعیف او رکچ رالغایا 
تھے یی کی نے اپ یناب فو راصنین فی مسنلیۃ رع الیر بن (جدید )یش 
ا تا تد بدلال ےوا و اکردہا سے مفہ ۵ 161۔(انقولل این 30) 














مر ماس 


نک 


کو تد شش شش شش شس شس رہ کر میں 
دو سرک مگ اہ ای''نا 8ال دیررزنل“ 11 یجھیاں ھیرنۓے ہو خودہی 
کک دیا: رام الھروک نہ جد بد یل الوکر بن عیاش رجمہ الد جمھ پور رشن کے 
رر بک نت صددںرادی یلا۔(اہنادالد ٹن ہر28 ص54) ۱ 
ابد ہلال ھی نیم الراسی البصر یکو پوداز ور رز حسن لیر ٹوا 
(جز ہرشع الید بینم 55پاااپینشن) 
اور ٹۓ اب مین می ںکیھوٹ او ایا کیا جن پکیا ہے( مف و بایزلش) 
ھریککھاے:'وؤ نگکٹ تکزائیں .... !“یی ا منوان ےت دوکتابوں 
کےکت قککھنا چا ہےتھاء بی ہآ گے دوکی ہجائۓ چا رکن بکا تج کر +کیاے۔ 
ز تل رک ور) 
ہز بداککداے :”لیکن فاشل فلطیوں والا ہے( بلی ج سخ 24) 
بابرا رھوٹ ہےءانمقطا ےک فا فلطیاں' ود یق ارد ے مکزا ے جوخودا لی 
الما طاکا ”مر “ہو 
مفہ 31پ ہندییکاتجمہ پاکستال یکیاے۔ 
اب صمفحہ 32پہکھا:” بیز بد دست رد ہے جوم لی علا مکی رف سے شاک ہواے“۔ 
عا انگ یع بی علء'“ بر گجھوٹ کا پکندہ ہو ےکا وج ےکٹرورت بن اور 
ردودظ بین ہے جم سکاجواب اک یکتاب ٹیل مو ود ہے_۔ 
مہ32 پر داانل الو ۃ کی ٹور وا روایت بی امام تایٹی کے استاۂ اوائن 
تر کیکوشول الا لکمکرا پ یکا جپاکیا۔ ْ 
چک مل“ رخ الید بین کےمتحلق ان موق کی نا ِکرنے والی ایک روایت 
کے راوگی 2ھ من مصمرہ ءال ری القاصی' کے عالا ت نہ لے کے پاوچودا سے مور“ . 
7 اک را لکول بنان ےکی پور یکو کی ہے۔(ملز ارول ف6 در) 
دوٹوں کی مصنوحع' ندال ی نہب بنا مصورتما_ 











(فلمی محاس 
آي ”فیا ہۓےرتیاک یگ سشورملڈ“۔ ------ 
: زوین می س تھی کا مل ۱ 2د) 
۱ گو با چشی مدکی سے پل رونا ہر نے وا نے ماف ستت اموران کے نزدیف 
برقت ٹن گہفت گن 
ت اک لہ پآ راودا جتچادا تکی پیر دئ یلق ارر ےکس کی را کومانا رای 
تراردیا_(ینا ٣‏ 2ھ) 
چک دسر می یج القیدہ ول ضقت کے عا لم“ کی را ۓےکو ما ےکی ترغیب 
در ےرا ئظیراومگرا یمام ت/مڈا ی-(ینا ‏ 45) 
ت ٹیا کاب شی ساراز درا بات بدا اک خی ردلیل اوراخ ریجت ے 
آد سس نرک بات اناتقیدے 
دن نے ا ا ا 
آ * تقلیہ “کواایا ے. (طا ہہ دنو ران صف٭* دوگر) 
اورخدصحل کرام ڈڑاگی ےبھی بے دیل خی نی کی باتک مانتامابت ے۔ _ 


گیا یب نا جات گرا یرتا ماویٹرک ہے امعاداللٰ 
زی یل ہمارک کنب درو ال رن ثی شہررمضالن “مطالعہ دہاہیت 'اور 
او او امرب جازدابتائیں شرے۔ 
ط 
داٗدے پا کاعال 


اس پاٹ سے مراد ٹیادیی طور پر دا دارشداور گن مگوندل وی ہیں (گ شر بای 
بھی اس شال ہے )۔فرق داد تق ضغیادرد یی الا االرو0؟ یں اپ 
شک ہکاش سے شائ کی ہیں, جن مہ تم رر ف :لیس ء خیاعت: اتجام خروبردہ 
برا خلاقی اور بدکلا کی اچامکردیی ہت کیا تق رآ کی اوراحاد یٹ نبوکیاٹھی ا نکی 









ما ستں رے' یں ر یں جن سک نے تضاد بای خوداپ یتخلیاء جالانہ : 

: * یمورے وو سے ب“ دکف ری مامتء بہایو ںی چچالتے دمافت گری 
واستا ددق درق پکھریر ھی بہوں۔ مور ,ےر کک نے! 

یل مار کب درو القرآن :”سارہ اتی لو ہاو ںکا موجہ 

جناز ہابت کیل اور دعابعد جناز ہی ے_ 

رب داد ردپ نے فرض داجب :بآ امو بت ین برع تکہا۔ 


(تزحیمزووں) 

یہ یمان کے بڑوں نےبھ یکرھی سے 

صا اارسولصف 203236209 ازصادق کوٹ ول حدی کا 

جب مفیہ 4952 ازشاء ال ام تسریءالد یٹ نر31 صف 3634ء 

8 42 از زب گی زکی لفن الام ص 4ء ۸5ء 46ء 59ء 68 از ' 

عبدالوراڑی وگ - ٴ 

ا بکہبدی یکسوہ اڑا چان بیع با ےس ولا شخك فی 
9 الہلفییلڑںژزالیا-_زنحزمں 

جیکزد دس ری پک مقار ال او ۲ریم“ کہا۔(“20.176) 


گدیامشر ککوم تکا شی بیادیا۔ 
ت ایک رف ام صاح بک چجنی کی عبادت جا زار ہی وااکلوا_ 
(اینًط۰۶:) 
جرد کی حم وس کا لککھاے.(مہ 221) 


نایے مر ککورجم تکا حقدارادر ج ت کی عبادت چائ زی دانےکوم من 
کے دالاکون ہے کیا شر ککرنے والام من سک ے؟ اوکیا م٠ن‏ کائلی کو 
مرک کی دا لامش رک یں ہونا؟ ۱ 
متس انی داشون ہلان تر رتا را تذس ٤را‏ 











سج تب 


مک ےچ سی ےش شش شش وہ ہے لہہے 
ایک مقام کہا کر عبدائی دی ہو کی حعخرات یر“ سےلقب 
سے یادکمر تے ہیں (بیۃاصف 60) 
دوسرکی ع نو دی حفرت دبا وی مد کرت “ھا ہے۔(صف61١)‏ 
و یی !کی خردا یّے؟ 
مم 135 ری کامصتی ق ضکیااورمفہ پر 159ر اکر نگاکردیا_ 
چک ار تی میں ہہس نل ےاول و لک رہ ہیں۔ 
مل ار شائ نٹنشوندی رامہوری لہ کو دیو بندئی“ “کم دیا_(ص ۷۶۷۰) 





جآ پکا”د یویند مت ےکوئ یملق یں _ 
رت تکھدا ‏ ےکی رعبدانقادر جیلا فی ن بھی جن نکومر جی ی شا رکر تے ہو ےککیرا 
ہے( سخ 1۱15) 


اولافیۃ الطا ٹن ہار مے وف کے مطا بن ححضرت جیلا فی لے کی _ 
خان: اس شی ا حا ففکاگیں مل 'لوکو ںکاذکر ہے جوتقیقت می نک _ 
:ا یک ماب کے تجزماول صفمہ 87 یٹس شجدکی فر کو اق ں میں شارکیا 


ہے۔ابذاکیاخال‌دے؟ 
ا تاب شی اےے مسا لک کیایں ہ ےک نکی بدوات دہابیت وقیّٗ کا 
انال ہد جاۓ۔ 
تی ل کی مارٹی نیف 'لندیۃ الالی ن تق کے آنہ می“ دیھۓ! یا 
”ملک فحوتے یا کل لا ظہو! 
۔ق ا ایکعط رف باو رکرا اک یف حدیث مارا مت تک گال (و0د)افر بل 
ا کی 


ادا باہ(“2543) 





سے سے 





میس 


تا قے ابیگیا ھت ے؟ ایا کامد یرک ےجتورضی ‏ ہو _ 
مفہ 97برعافطاا نج تیفیک لیف کا ببتان لگایااورسمہ 253ب بنارل 





سی 


کے راو یکوئمچول ایا 
ایک رویت کےمتلق یو ںکھھا: ”ا سک یکوئ یج سند کیا ضیف بلرن 
زگ میرم دو 


نایے اکیاان کےنز دی ”م٢‏ نکھت 'سرقول ے؟ 

یھن ! ایک طرف بی سن رکا مطالیہ اور دوسری طرف ” حدیث ور کیک 
بای ذس لم دالےراویو ںکی سند پچ سکجئیں !آرکیوں؟ 

چک دا دارشد کے رگ ارشاد ای ای (جن سے اس نے" مق کو 
رو ںکرت کیل مددچا تی ان ےککھاے : 

”نشین کے نزد یک محرو فنیںہ میں ا لک یسیج ء ضویف اور 

موضو) ند بیع یں ہو کا“( مادیٹ دای 26) 


اکی سے وا ہ ےک داد بوگرد ہکا اندازمحدشین کےخلاف, خی رمحروف اور ' 


یل ہے کیوگگ۔ا نک عفن تضول وب ےاصول ے۔ 

احزاف ے اندرو نی لنخ کا اظمارکرتے ہون ۓککھالک””اشتاف انی رم 
انناف نے ھی ہے '۔(٣‏ دور) 
ید ہا وا پر یر خادمس ہرد دی نے میاردابت' سی ی1 

(بر تل ۳ ود) 

چان لٗ ارفا0 ا زیر ےل ےےوا1اکون ے؟ 

اب ایک رف اپنامسل کت رآن دعدےث ایاجاجا ہے کر دوس کی طرفککھ ا پا 
الآحد بش ھی حفرت اع تسرکی کن کی پر ہے ۔( 7ھ 

صب رسال تکا اڈکارکرتے ہو ےککھا:” کسی چترکاعلالی ورام قر ارد ینا اللہ 











مر ماما 


سے 
نا ی اکانماص ہے"( )۱7٦‏ 
جل آن فرع ہ ےلیسو الہ ھی علال وقراممکرتے ہیں۔ 
( لا ہ۶۷۱۶ اف:157ء/2پ:29) 
دہازیوں کے ماجنا رمحرثء لا ہود( جس میس دا ودک مکمون چا تھا) می بھی 
اس تمیق تل لیو مکیاگیا ہے( ملا حظہہ و محرٹ :اک 2006) 
نا یئ اووالڈتھاٹی کے نیا صکااڈکارکر کے شر ککقراد ہا یکل ؟ 
ا عللمعد بیٹ او یک شر غکابیعال ےکیاکھاے؛ 
جع طور پرمی کیل دھا کا شموت صر فک نماز اورژن کے بعد رپ 
کوڑڑرے ہوک رک رر ےکی اضصورت ٹیس بی ہے (دین الال جلد بد صف 238) 
عا لامک خود بای ریف ول شریف مس وشن کل (نماز جناڑ و کے ملاوہ) 
اوزنٰ کے دو ےپ سے روزیھ میت کیا ا گی دعاثابت دے۔ 
( ہفاری جلد ا ملف 02:41 می سکم لد تم ج1) 
لاحظیفر اتی !ای بات پہتھرکرتے ہو ے وہل مولوی انا فکواغ د تے 
پر تیں۔ 
مزبککھا: ”نمی نے اذا نت زندک یھ ری ایک بای یی کی (مف 8د1) 
عالانگآپ نے اذا نا > ھی ہے۔ سن ابودادد340/2ء جا تفر ی55/1) 
عد بث ےنال دا من دہایو لک ال عد بث “کہلا ت ےکاکوگی تن میں 
یں ایک طرف بدحعت کے الف جے ہیں اوردوسریی رف بد وظیفہ اور بد 
مفور جات ہیں ۔(ص )۱۷٣٤۰۱24‏ 
مممل 220 پ7 بن نکی با تک فیصلہ در ےکر خودکوخدا کے متقابلہ ٠‏ کیم بات 
الصرور بناڑالا ے۔معازالثد- 
باری اادہیات پ7 بھی کررکی ہے۔(د کی !ین الال جلد 2مف 235۰166) 














جسسہشسش شس سر بے ہے 
مک یکوندلوی نے نوعلم الیل 'باورکران ےکی ککھا: ہرایگ بات مر ینظر 
یں ہے '.(مطرقدالید یدص٥ )١2‏ 
ہم اکا :امام ا بوخ کوامام اتل کمن نا سش نف نت ہن کی ت جمائی ے۔ 
٣ (‏ 50) 
جکہان کے صادق سیاککوٹی نے صلو تو الرسول مہ 197 پر عبدا چرس برروی 
نے 'اہام ابوعیفمفحہ 7“ پراورابرائیم ساککوئی نے ”جا رننالجد یٹ مصفہ 271 
حظرت امام صاح بکوامام ان ملک ےکر احزا فکی نز مال کردا ہے کیو چھو کا 
منرکالا اور یٰکااول پالا هوتا ے۔ ۱ 
ى مر اکم اہے:( مزا قادیالی 1 اکاب) این ات بیائی ال یکنا ب نہیں جن 
گی ناپرمرزا رکف رکا فی لابا جاسکنا تھا زس دد) 


تایے ااکفری ماب تمس ن ےکا ہے؟ کا مکوندلوگی نے پا نو اب صد لی اور 
مین بلال دئی نے؟ 
مگوندادی نے ٣ڑ‏ دی اک کذابوں نے ا حقیدوکوردانج دہ نے کیکوشٹ کی 

الد کے یور ہیں“( بیج مز دد) 

کہ ان کے بڈوں نے بھی مب یکر مم لغم کے مور ہونے کی تر ے۔ 
لاظرہوا جال صلی صفحہ 467131218 ازصادق س یکو مراجا یر اصفی 8, 
و از ابرائیم می کیاکی جلدد صفہ 9د فاوکی شا جلد 2 ضف 793 از شاء ال 
ازس درد 





ےسا تن 


یئ سار ےو پاٹ اکاء ات ٹیں؟ 
ف34 رجھوٹ واک'” چا خرن مت گا تراغ تے ئ٢‏ نکھت 
روابی تکاا ماب اما مکبدالرز اق صنعالیٰ کیط رفک ردیا“۔ 
حا اک نف شیان بھی ا سکااخساب ثابت ے۔ 
یل کاب لد سے 
ن8ا صفہ ےب ڈ اکٹ یممی ر یکی طرف بہالفاظط موب سے ٹیں۔ عد بیث جار 
(اورما خلق الله ای و تر 5 
الاک نو دسا شنن ریکٹوں می ں کک گے الفاظ ان کےکیں ہیں۔ 
اب یہ 45پ گرا اک ظاہر ہاور سے اش رق پی انیس ہوتا“۔ 
اس اون پرق رآن وحد بی ٹک دیل بی لک رب ! 
( س8 صف 46ر ڈاکڑ فی ٹچ ری کےاس جم کیم وضو ہو ےکی صرف الفاظ 
گیا راک تکائی نیل ج بکک اس کے سات من یکی کات شال نہ و کاڈ 
کرت ہو ۓلگکھ ماراکہ ”اکن کے منائی ہے اور اس کے بد حا مظان 
الصلا کی عبارتتأ‌ لکی: ھے ان ھے پ۲ نکی وجہ سے اپٹی دل بنا ڈالا ءجلہ 
اں ڈُلصراحت ے: ۱ 
یشھد بوضعھا رکاکة ألفاظھا ومعائیهلہ(متقد سان پلائص٣ ‏ 47) 
ین کےالفاظ اور معا یک رکاکمت ان ےک نکھت ہون ےک یاگواہی 
زیے و0 
بہاںل بر الفاظہ اور معا لی“ رولو ںکا ور ہے لیکن اکر دپایوں بس میک ےکی 
لیاتت در ماراضوریاے؟ 


س ت: 
داد یہ پارٹی نےمشت رکنلورپرایک حدیٴ ٹکھڑی ے! 








سس 


”رت جابر ٹا کی......روایہت کک ھم نے مین رات لآ ھ راعت : 
ماز پڑعھا پھر جب چوھی دا تآکیتذ ہم پر سیر نو یسل میس اکٹ 
ہو ۓےگگررسول ال اش ریف تہ لا“ (دین الال جلر ۱ص 2ہ) 
اس سی نوک نے بت بھی کے جڑ اد ےوالی نگھڑ تردات لور ے_ 
(مص) ٣ز‏ 5و) 
نوٹ:دا٤ٗرارٹراورارغارا‏ اث کیانے اب مق تکوٹتا طب کر کےککھاہے: 
دادعوا شَهَدَاء کم من مُوُن الله الغ۔۔( جک یج لف 9ع) 
قرآن یرٹ ا لآ یت کےٹخاط بکفاروش کین ہیں ۔ جرد ہاو نےآبیت 
کال بدگی دیا ےہ ج ےکی ہدالخقوراث ی کے نزدیک'ق ان می تی“ کے زمرہ 
می ںآ جا ہے (د یھ ایت اورمر زائی مخ 230) 
دلو بنریکون؟ 
ز وگ کی نےکھاے: 
”و میدال مال متروک الم یٹ ےاوراہل عدیث ال کےاقوال اورکتاوں 
سے پگ ڈکا۔ بزعاند٭ بات ہےکدد یو بن ایوں کے تز ویک وحیدالڑیاں 
حیدرآباد کات ججمہ پیند دہ کے“ ۔(للد یثشار رد ۱۹) 
جیکہ معیار ان صف 452 تہ نز ہي لاہوں ہتررستان ہل عدء ٹگا 
خدماتصفیہ 59 از امام مال لوشہروکیء اک د ہن یل علاے ابی عد بی شک غد مات 
عدبیٹ صف 80ء اعادیث حداہیص٥ف"ہ‏ 17 از ارشادافننی ابی ,تفہ ننس٣‏ 389 
0 ز داادے پالّٰء تارب اآحد یٹ مفہ 300 از ابرائیم ساکلوٹی ,عق سم 
م٢‏ 13ء15 اڑ گی کودلوی ودیکرمنادی بر نے متحردمقامات پر وحیدالزما ںگواتا 
زگ امام اور ٹوا لی مکیاء ا لک یکتابو ںکھر سے جی یکا اواس کے تر ا مکو 
پند یدک ناد دیکھاے لا: 








بت 






















رچمے میں ان 


1۔ ارشماد ای اشرکی نےکمیاے: 
مم ول نادحیدال مان زاں کےیکم وش لکا ان اڑکارک رسک ہے۔حد یٹ سےان 
کالگا کاانداز وآ پ ای ےکر می ےک حا ستہ کے علادہ امام ما تک کے 
ملاک بھی ہی با ھا 01 کا مرمون منّت ہے عمق داد رفقہ دشمبرہ پر 
ا نکی دودرشی ےزآئزنصاخغ فکا رمیا جے'۔(اعادثٹ ای )٥7‏ 
غوٹ: یادر ےکر وحیدالئ مال نے صاع ست یی نز مکش ری فکاتز جمیی سکیا۔انڑی 
صاحب پر جو یادو دی سک رکا فلبروگیا ے۔ 
2۔ داد پارٹیٰ ےکا ا 
اش خلامہ دحید از ال ایل اضل اس تھے ۔ق رن کریم اورسحاں 
شم کا تر چ کر کے انہوں نے پش رین خدمت ‏ راضحجام دی ہے......ان 
کے تا مرو متورہیں ٠‏ (جھ ضی لف 9٥د:0دد)‏ 
اب ایا جا ےک بقول اثر یا صاحب دحیدالز ماں کےےیعم ون ل کا ارک ر کے 
ز ہیی زگی رھ رر قرار ہا ۓ پابقول زیر بات افراز دی بنرگ“ٹُھہرے؟ 


نادان اث یکاعال 

دا ویوں نے اپنے جولی منسو بک یکھای سنا کے انل برسب سے یمر 
ہ( چم پردور) اث کی صاح بکانا ملکورکھا ہے اوردا و دارشر کے موی می بھی لے 
ارشادگٗارداوٗدارخرکا نام درن ے ۔لہزاا کا یٹھوڑ اسنا تارف ہوجاۓ- 
ا0 رادان صاحب نے دبایو ںکو ن1 تی بھی دیی میں ملا حظہوا 
1 ان ہو الا ذکرڑی پل اکرینں۔( 7ت انکام جلدۃ مل 201) 
2- فلما کتب علیھم القتال اذا فریق منھبر یخشون کخشیة اللہ 

رآ ء:77)( تج بجر 2 22ھ) 











سن 








یہ 
3- قالوا امنا بە انه الحق من ربنا انا کنا مسلمینں۔ 
(س:3ع6)(ت تج بر دم 7رو) 
4 مالھم لا یؤمنون اذا قریٰ علیھم القرآن لا یسجدون۔ 
٠ ۱‏ زا ق:21)( تج جلر ٣‏ 121) 
مسلمائوں کےق ران میس ار یآیاتئشل ؤں۔ 
ارشادصاحب نے احتاف کے خلاف اپٹ یکمدور تکا انہارکرتے ہوۓ بے 
لوٹ بولا ےک اتاف نے صلی مکیا ہے :”شر بی موب فقہا ۓ احنا فکو 
تحرات مح دجن بیس شا رکیا چاسکتا ہے۔ ان کا مشفلہ مال فقبی ہکا اتایا و 
اخحراع تھا۔حعد کی صححت وضعف سے ا نکوکوگی ما گا ز2“'_ 
(اعاد یٹ مر ای“ 9) 
ہوا نے اپے ال مو لے دگدرے پریشفی عبارات در کی ہیں ان بج تی 
عبارت میس فھہاۓ اخخاک کی یرگیں تام مرا ہپ کے فقہام ےے تسا یکا 
کر ہے۔خودا یکاب کےمفحات 15:19:2022:25ء10:1314وغیرہ 
دک لیے جا میں بن دہائیو ںکی صرف احاف پر خی شخقت“ کی وم 
نےکمودی ے۔ 


9افت دجماعت پرافزاءکرتے ہو نےکھا ہے :تنا وکریی 'احا فک بر یی 


شماغ کا ای نل کی ہے۔(مف۱۱) 

ہارے پال ااسل فا رک یاکوئیلفسو یں یراک مھوٹ :اف ا ارام اور 
با نٛے۔ 
اب ایک ہپس یکیافل میس پلک ناتقلیرقراردیا۔( ذ۱۷.۱) 

تی دو ا ئل وف تچ او ری مو لف الفز اوروجیڑا لزا ںحیدرآا دی 
کان (زفف لکی )تید (وا نشرک )کا مب ایا۔( ۱٠:۱٦‏ 


9۷۵737070031 ۴۴۴۱ 











نمی محاس) تق 


تب صاحب برا رہگوگو ت ےکیل تچ جس سک اکرانہوں نے ختیف اور بے اصسل روایات 
2ک ری ہیں 

جکیصفہ 20 مان ل اکہ رہ رم علا مہرا شی ءامامالھ رشن اورعلا مز لی ن جج 
کی ہے اورککھا ے / زین رسب ے زز یا دو موضمو رح روایات احیاء| الوم یں 
[ں۔( 312) 

ق پر ا ہج صرف راہ کےثتعلقی انا اضطراب دأ يکیوں؟ جہو ہاو ںکی 
موک ضف اور بے اصل روابات سےلملو میں ان پرٹواڑشا تکیو ںڈل؟ 
ا سکی مشالیں جوار تاب 'مطالعۂ و ہا یت یش دیھی جات ہیں۔ 

م 16پ حق الحق دیبطل الباطل کیقرآلفاظ کال بت ای 

رفگا۔ 

جک یق رن میا (دنزال:8) شی اا کی نت ذات خداوندی کی طرف ہے اور 
عہرالففوراث بی نے اس اندا زگ ف لی“ کا نام دیا ہے( ہی اورمرزاتیت مف230) 

پاے 27 فان ے؟ 
زوٹ: عبرالغخور اث بیکوارشاد لفن نے اپٹیکناب ممقالات صفیہ 223پرخوب راہ 





ایک ردایت کے بارے کیلےکگھا اگ ہاائں کےششعف پ نو اشھاقی ے۔( ضط 37) 
پچ راج ری اکہددیا:” رسب حفرات ال کے موضو رع اور ے ال ج2 

شفق ہیں گتنیغمیف ےم وضو بناڑالا- 

ج8 صفہ 41 پک کنارے بی سض ری جو ]چا ررکن٘یس بڑ ھت اور اتیک 
دی اگہاا مم 0 یا روامت کا بنا گ ہر سے پیلے دورحت سیت کے ئل 


نایا جہاۓے کہاگ راحاف کی روای تکوتز تی در ےلیسو ال گمردن زولی قرار 











سعح رت 


پانیںءامام شاف موی سنت سے اع را کر کےکون ہوئۓ۔ ووا سے سذ تکیوں 
نیس تے اور سن تگوشہ ماۓ وا( اگون ہے 
مصف43 لھا کب تمآحدبیٹ ال بلگنحفر تک بدارڈ رین سحو دکاقول ے۔ 
کیاد ہائیو ںکیا ال" اب جیا کو ای بھی ج ری ںکعد ٹک اطلا مال 
کےقول یھی ہوتا ہے؟ ( و یھ اھب اصول حد یٹ ) 
مہ 43پ یج کچھ کیاکی لتفل(احاف )نے ق اس (ردایت )کا اخقماب 
بای ول مکی طر فکھ کیا لی 
دوسروں پرنج بآسما نکام ہ ےمان می نہ جا ناک ہشأاءاللد انس کی نے سنہ پہ 
ات بانج کی روابیا کو خاروس مکی طرف طسو بکیا.۔ (ذ لی شا می جلد ١ص‏ 4+3) 
ارد اہہوں کے شر انی “عیب الکن پزدالیٰنے "پاب السۃ علی الجورہین“ 
11 ول بت بخاری اط رکا ہے۔(خبات یزدائی جلد 1 “فی 234) 
مف71بہاری من تکا خلاصہ لو ںک گا ۓل صاپ ہرایگ بلند پا ررفتیہ تھے 
مرا نکاشا رح رشن یس درس نو بی وجہ ہج ےککدا نا ذک کر د٤‏ روایات 
پریھی اخ مدکی سکیاگیا۔ 
د یھن !اگ سی خر دمح شین کے زمرہ سے صرف ای لیے ڈکالا اکنا ےک اس 
گ کاب میں موضوغ اور نے اصمل روایات ہیں نے ذٹیائیش شا یکو یبھی فرداس زمرہ 
ٹیش شائل نہ ہو کے؛اگرارشادصا ہب گوابٹی بات پبراعماد مہےلو وہ ہل محر ٹ ہے . 
متعلق وی اکر سی گے مآ لک یکتب سے ابی ردایات لکال دکھانمیں گے جن پ 
دہازیوں ن بھی اخماوا سکیا۔ ہمت ہا مدان ی سآ ت٠یں۔‏ 
خوداثری میاں ا ا ںآ بات اورروایات میں تر یف ]ین اورردوپرل 
ہے ٥کیا‏ نک کنب پر اعم ددرت ے؟کیا وہ ا ٴزمہ ( مرن ) سے کنا ند 















دمحا تق 


رسس گے؟ ہاقی دبا صاحب بدا گی ددایات پر اد ال تلق اپنے ”امام 
اح برا می میرساککو کی حی من لی بککھاے: 
: تاب ہدایر یی مال فقمیہکی اسنادٹش دوایات ے جوٹمودت جن لکیا 
ہے اورا نکی ای میں اصولی ومتق لی با یں سبچھائی ہیں۔ائس یل امام 
بھہالن الد بین نال /صنف دای گی معأذائڈ ہے سووی جا ۓگی۔اور 
می بات دا جائل اور ب ےب کےکولن کے گا (جار نل حد یع 86) 
اعباد تارق میں اث یصاب اا تین خودی ٹر الل۔ 
ادرصاحپ ہرایگ اصحاب الترا ہام مث ادرحاذڈلکھنا' خوداثر کی بی ن بھی 


ااے۔طدد) 
و لییے!اکارکرنے والاکون ے؟ 
مفیہ 87 )رم یکھوٹ او لا ےکر بے سن دکاہو کا حوالرد بناج یلدکیککنیک ے۔ 
وللتفصیل مقام آخر 


ائسکی اس بی لکرو: 

یقت دبائیوں نے مان لی ےکر 'جز ہمفقو و“ سے پیل چا ہوالسضہ ان اور 
مل ہے۔چ دا دارشراورارشا ران ےک را نے 

”ال مم فکا راو تذ سای بین 1برا ئیم الد برک ہے اورجن حخرات نے 

اں یہر ےا مین کا سعا کیا سے ووت ا معتف کے نس ہوے کا 

کرک رت ہیں اور تی ان ردایاتکااشماروکر ت میں“'۔( بل 70) 

ہتاراان دپایو لک ےک دو الد برک یکا ال اروگ زین بوجو لاس 
0 دہ(اییش انا کے مطاب) کائل کھت ہیں ا بی لک میں مال د تی اصل میق تکو 
کےورنوواورانیت فی کےخلاف:. :نز او وھ پھکنڑوں “ےق رک رکیل 




















لم محام 


گی رکا حال: 
دہایو کا بات کے پاند ے' لی جز مک یکھانی“ کا مرجب منص سے 
یں اپنے' من کو کیکارستایوں مگ ریفات وتکہیعا ت اوردگل وڈر یکا پرالرا 


یی 


تصی لا ہے للا حظلہو! 
ق کے سن الی دای نعل کے بقول تحیف ٹین ر لیف کاقو لکیاے'- 


(اللر مغ ر23 )6٥‏ 
راد ہاو ںکوا کاب سے اکارکرد یباچا ہیے۔ 
( ککھا ہے :”قرآن وحد بی ٹکو ہالصکل اسی طرں مچھا جا ےگا جس ط رح رسول 
نر مچھایااوردہ مک نہ سلف صا ین کےڈر جئاتن رت سے 
کا ہے'۔(لد من ر 7مف دوہ ہ) 
رای مکنا ہ ےک ہائمہاد گیا اکی ”ش کے حائل ہیں رو ہا یو ںکا 
اطرا بکہوں؟ 1ہل میشت ای ٹم کےذر یق رآان دنت پل پا ہیں ۔ 
اس تھا ہے :” آخریشرے می رسول اوڈ سأ پھلا کی یں تیز ہوا ےکھی زیادہ 
ساد تک تے نتھے۔(ہخاری:2309:“6)-(الہ یلب ر دم 6) 


الفاظ فارگ ڈسلم می کی جک یبھیانیس ہیں ۔ 


مز بدککھا ہے :'م وضو حد یہ ڑگ د ینڈس بی اور نی گی“ 


( لیکو( 

ہو پابیوں کے اسمائیل دبلوی نے''موشوع روایرت؟“کوقو لکر نے کا اصول 

دےکر بد یکا مظاہ ٥کیا‏ ہے۔۔( ملا حظہ ہوا امو الغقہصخ  )٥١۰9‏ 1 
اب ا پک اسباپ دا عد یٹ شل ے ای لک ہب 

تیر بنین ہے" 


جک الو ہرہ مع رین ےگا کے اغارتوں نے نی ںگھڑ) گایں۔ 
(اسلائی نمراہپ من رب مخ 121) 
دہابیو ںکی بھی روایا تک یک ہرس تج ہمادے پا موجود ہے جو مار 
کا ب'”مطال'ہ ورلیّت" یھی جانکتی سے۔خودز ہریز کی نے موضوغ روایت 
کامالعر بھی ہاور وھیصرف نہب بچان ےکی مار 
اس ان غ ا سا 'زبی رک ےیمون یں بات ہو ےککھاے: 
وں دفاغ عد یٹ کلم یش نصرف پاکستان پگ پپرے عالم اسلام 
ںاو ییسعادت عافظز ہرگ ز کی پل کے ص می آلی۔( س03 
اعد ٹ مییکوردکرن ےکی وم ںکوحد یٹ کادفا لا ضا کہا جانا اور 
ان دوددپا ال ال پر خوش ہونا” سعادت “یہر مر شقاوت لٹ ارتدے۔ 
اس وی ا ری 0 
)10۶۳٣(‏ 
چونکہ پاکمتالی سسی تع بی نیدی علاء ان بھی اس نے کےپولی ہون کاکوئی 
پتۂ لیف دی ءاپا ا یلوگ نو و لی ہیں :یرب ک ےھ راورئ العقیدہجید 
علاۓ عظام نے ائرنسن کا پودا اق کیا ہے ج٘ کا خلا صدا ول ا کاب کے 
آخ میں ۴۳ جودے۔ 
نوٹ:مارگ رکش ود یٹ کے مطابق ے۔ 
قارکی کرام !ملاحظفر اتی سکہائ یکم کے ضا زاب ہنا زف اور 
مفترز یکول ”حدمث- لور “ک کرو ںکو بھانا چا ہت ہیں مان دہاز او لت اہرجایندہ 
ر ہی ںگی اوراہل این اس کے پکاروں سے سستنیر ہو تے ور ہیں گے۔ 
خر کاوعردے: 
اَی وین امنوا یھر را جو گر من لمات فی الور۔(0ر:47د) 





سے ا 





کش 








دی 


جس سد سو رسس سیت دہ ہو یا 
ین ال تمائی بل اما نکوفور سے پرفو رک ےگا اورائعان ‏ دے ھا دا ن لوک 
قلڑے اورجار 1 شرریں 72 
اپزانوروا لے ”فو سک مات ر یں گےاورا رم رے والے دولول چھاںل شش 
حرومد ےم رادبہوں گے_ 
اش دقداٹی “یس ما مۓ والوں یں تی رے_ 
آمین پنھی الامین صلی الله عليه وسلیَ 
طالبِ تور: 
او اتا ئن خلا مرنضمی ساقی مہردی 
خطیب رکز ی جا مو دشوید یق دیدارص لی ءگوتراوالہ 
تم جا جچددی ہگوجرانوالہ 


و و ھڑ وت 
21٭ا 
۳+ 


























رس سس تن 


مصنفٹکبرالرزاتی کےا ی4 ا مفقو دوہ لی ہواوی 
ز گی کی کےاختراضات کے ٹل وڑ جوابات 
بر الوالرن لرْحِيُ 
انل اسلا مکا عقیرہ ےک نورسیرالاخیاء باعیث تخل کنا تق موجودات 
جیب خغدامارۓآٴ ما ومولی مض رت ٹر می زا ول انان ٹور ہیں ۔ ابی شت : 
تما عت کے ال ش را لت رآ غئف اور ریم شی نک رام فقہا ئۓے عظام؛ 
اولیالۓ کرام اورعلا امت کےےاقوال مہارکے پیا رم جرد ہیں۔اس مکی دال 
کے ش نین فق رک یکنزاب''زحضورسید عال مل کی ) نوراثریت د ایت کا مطالعہ 
فر امیس ہونانگکڑو ںکتب کےووالہجات سے بن ے۔ 
نورامیہڈ لف ےد لاگ مارک کیک د۱ل حضرت جابرینکبدالڈدانصسارک ٹٹڑ 
ے مردیا مو عد بیث ما رکنہر ےج می ستعمورسرد کا نکات' لپ کے اول اخان 
آ ٹور ہون کا ذکر شر موجود ہے۔ اس روای کول القدر رای کرام نے مصیف 
عمبدالرزاقتی کے حوالہے جیا نکیا اورٹنض امہ نے فقطاحد ی کال فرمایا۔ ہم 
زیل ٹس چنجوالدجات در خکرد ہے ہیں ۔الن کے علاد جھی حوالہ جا وط خول : 
امام اتد بن مھ ال یک رقسطرا لی نے مواجہب الد شی جلد 1ص 55ء امام 
زرقاٹی نے شر موا ہب اللد شی جلد 1 مہ 56ء امام می جن بھہان: 














وی بداس) تر 


الد گی نے صیرت علمیہ جلد 1 صفہ 37ء امام اساعیل ین مج یلو نی 

ن ےکشف الففاء جلد 1 صفہ 265ء امام ابین مج رکی نے ال القریٰ 

صمہ 15 ادرف وگ عدیٹی ہصفح 380ء اما عرربن ام الف لی نے عصیر؟ 

شود وصخہ 3ء عارف پالڈرسری ہد انرم نے النا موس امم بکوالہ 

جاہ رای رصم 230م ر یلیل ۳] یہ ارکی نے الم وردالر وییصئہ 40ء 

ا گمودآلوسی نےتفی رروں العالی جلد 8 صفےہ 71ء علا مہ سیزچمل نے 

ات حات الات بیفہ 6ءامام اوسف جھالی نے انوارشجدبیصفمہ 9 اور پت اللہ 

مل الما ین ٢٣ل‏ 28 اور امام ووگی نم کوال. الدرأ مے ص3 عہداگی 

ککھنوی نے ال جارال فو وی 33 

اعد ٹل کا ہےے۔ 

بل خوددیو بن دی یحم الامت انشر فی فوائدی نے نشر لطیب یل اورد بای محرٹ 
عمہدا رد پٹ کی نے فا وی ال حد بی بھی مصن فعبدالرذاقی کے حوالہ سے ال 
عدبیٹ مار ککو با کیا ہے اس کے علاوہ محددد ہو بندگی اکا بر نے ال عد یٹ 
ہار گیا نکاے۔ 

ای الد بن ان۶ لا نے الجزہ المفقود من المصلّف دانےالفاظا ے 
حوالہےعہ مٹٰ لک ہے۔( تج ا۶ ١دو)‏ 

گل القدرأئ کا اس حد یکو صشبعبدالرزاقی کےعوالرے بیا نہکرنا ال بات 
وا ٌُ 02 ےک ظا برروا یت مصتّ ٹف عبرالرزائی مل مو ور سے مگکرااس وقت 
کک جومصن فعبدالر زا یکا مطب دنس موجود ہے اس میس بی ردایت مو جو نمی ل تی _ 
ا کی وہ یی گکہ نظ انی تھا۔حذ یٹ نو ردالا جز ‏ مق تھا ابھی حال میں مصثبف 
عمبرال رز اق یکا مفقوبتز و وستیاب ہ گیا جس شل عد بیث ابر وروالی کےسمیت مود 




























ما تن 


اعادبیٹلوراوراعاد یٹ عدم سماہہ با مندرموجو یں ۔ ال لک بازیالٹی پہر ال مت و 
جماعٹ میس یک تی یرد وی ٹیل مرن شا نورئیت یی ودک کے 
گھروں میں عف ماتم بی وئی۔ اب مق کی خوٹی نذاس لیت یک رحضورسرد رکا ات 
میم 1 کرت دٹٹان ے“لمرا کال سرور ہوتا ہے۔ د ہبی دیو بنر بج کے ہاں 
صبِ ہام( پچھوڑی) اس لے ےک ولاک اپناب دا گی وج ےلم وشان+صلی کے 
گستاغ و بے ادب ہیں اود خودان کے اکا برککھی تحلیم ہے ۔ اپ اصسل موضو کی 
طر فاآنے ا دل مہب ے واثت ضروری کی انگر: کے یں دم 
ریمنرمیس کت ی١‏ بی کے ایماءپردہاہی تک با قاعدہ ابا ہوئی۔ ان لوگوں نے اب 
اسلام کےخلاف طلوفان بدلمیٹریی بر پا کرد ہا عوام الڑائ لکول القر ری اکابر اسلام 
سے ب کن ےکی ناکامگ وت کی تا کیا وکوں کے ولوں سے الا مکی روح ”خظمت و 
عبت رسول کو ثکال دیا جاۓ ۔اسل کےکئی ری ان لوکوں نے ا ار سی او رکئی 
روپ دھازے ایگ یلوگ ہایٹ کے روپ میلس یں 0 
صورت مُل اور* کی ایت کےروپ میں سام ےآ ئے۔اع سب 
ْ کر ین ڈرو لک مطلوب ونحصورایں ےاوروہ پگرروں‌ اسلاملوگوں کےولوں ے 
ت “کا دک جاۓ۔ 

دبا مہب نے رسولی پا کأال کیلمت دشش کک ربنمائ یکرانے والے 
یل اقآ می د شی نکرا مکی اتا وش یدکویھی تر کگردانا یش سک وجہ سے ان کے 
وو خی ٹؤوں کی یی تام امت مسل رآ جالی ے۔ 

لی نرہ بکی تفیقق تکیلنے من ظ راسلام مولانا حھ ضیاء ال قادرکی پیل کیا 
کاب وہای مہب“ اورنقی رام الھرو کی کاب نو ابیت کے بظلا نکااکشانی'' 
ا ضفرامیں۔ 














پک 


اگٹراضات اور تواپاٹ 

شان نو رادییمصلفی کے منگم رین د ہاب ٹس سے ایک وہل محر ٹ موا دی ز ہگ 
زگ کی شمیطالی رگ پچ رکی اوراس نے معشِعبدالرزاقی کے الجز امفقو کے رومیں 
ایک لا یئ اختزا مات پپنیمضمونع اپ رسالہ ”الید یی سلگھمارااور یوں خیال 
کیاکی بہت بڑ اکر نام رانا مد باہے۔اٹھی ہم اس دبا محرث کے اعتزاضات کے 
مرنڑ جابات ہر ار نکرا مک میں گے۔ادشاء الله المولی۔ 
اؤلا: ان ورالی مواوگی کا تقرتوارلٹریری سے کہ ہ نماض وعاماں گا املیتع رے 
واتٹ ہو گے۔ ریس1 عک لحتین ےم برعدبیٹ دش یکا پر ران اداگردپا 
ہے۔اپے مطل بکیےخعیف اقو ال اورخودساخناصول بھی امتدر لال ا سکا طر٤‏ 
اتیاز ےاوراپنے الف اقوال خوادامام بفارگی٠امام‏ ای نج رحسقلا تی ءامام ذبچی ونیریم 
می دشین کے ہج یکیوں نہہوں ہکو ال ومردودکنااس کے با میں ات ھکالکام ہے۔ 
ٹاغیً:اں دہ یل ےممون رکنگو لی دہ ی ذہب کے اصول وضواپ الم 
ضرودرئی ہیں ۔ا ب اگ رز پیر ز کی دہالی ہار ۓمشمو نک جوا بک ےل ان اصول وضوابڑ 
کوں نظ ےوک زاس کے جوا بکو ہاضل وم ردو دنو رکیاجا گا 


وہای نہب کے اصول: 
1> و لی مہب میس داائل صرف دوط ر کے ہو ھت ہیں: 


ذ۔ ق رن یر حریری “شی 
آر کل د رای یرہ بلنرکرتے ہیں: 
ال عد یٹ کےرواصول 
مان غدا انل 


خودوبالی نمھ ہب کےمفنذرعا مر مولوی مھ جو ناک ھی یککت گیں: 





سس تق 


”جرادران! آپ کے ددہاتھ ہیں اوران دوفو شں دوہی ریش رلجت نے 
دی یں ایک می ںام ال" اوردومر۔ ے میں کلام رسول الا ب تس را اھ 
سے ننس ریت( ریت ری ظط دٗ : 
.2 دبا اٹل ای ناویا میک راے اور تا مس دلی یں من سا اورد 
یتال چتودٹل- 
(4 دہام کی جو نگڑھ کھت ہیں: 
”نیہ جناب !مرکو ںکی ء دو ںکی لوا یامو کی را تاس مات اروا لا 
اوران کے اقو ا ل کہا ں ش ربدت الام می سے خو دہ رو ھی انی طرف 
ہے اش گی کے اق ا ” میں لودہ چم یں“۔(طرل نمیم 4+0) 
بی وہالی موا وی کھت یں: 
”تچب ےک شس دین میس ٹ کا راۓ ججت نہ ہوا دیع دال ےآرن 
اکا میک رام ےۓگوولیل او جت چٹ گے“ (حو: پا ) 
).) وہ کے تنعل مولوئی ا یئن صاح بککھت ہیں : 
”ا ندکیاکر ویک سب سے پیل شیطان نے قا لیا“ 
(فف رین “2 0د) 
4 والی خر جب ش ا یکاتفلیدخواواا مک یا دی شرک ے۔ 
وہل “واوی ابو اشن اورمولوییھ جون ای گڑیں: - 
” تفلیدنشرک کے“ (را نمو س3ا خفرالمین صفہل) 
”تقلی کے مق ہیں ین یل ےکی ک ےگ رگومان لین“ (طفرامین مخ دد) 
مود وجوالجات سےثابت ہوگیا کرد لی رہب ش لی مت یکاتظیدٹرک ے 
اور تال را غیطا نکا کام ہے۔ا لیے ہاو ںکواپے ان اصولوں پت 1 رےچے 
ہو ۓ منا نروٹل ورےثٹ 1 ”تت رف اورراواولں گا بگٹ اوران ا نر وو 8 








مت لک 


ای مت مد ثکاتو لیس ٹٹ لک چا ہے اور نہحی ابنا تال بی لک رن جا ہے بلہ 
کتاب وسشت سے استدلا لک مں-(اقول باللٰہ التوفیق) 
مل پر نار الد: 
دای مولوکیز می کی نے ابتڈداء مس بیکجموٹ إولناش رو حکردیاے۔ 
() کا ےک پرباویں کے ادا رم سس الش رق لا ہور ےئ رکپدا انی شرف ی 
ٹریم اور کی ین عبدا ور بن ئھ بن مان کی شقبن سے ب الج زم فقو شا ہوا 
ے ری 
عالاککہ یا زا مفقو رسب سے پیل دو سے شال ہوا سے ۔اہفر امرف لا ہور 
سے اشنا عم کا ڈگ رکرنا اوراول اشاعت دوخ کا کر رککرنا وہای مولوی گا دعوکہ 
ری ے۔ 
(3ؤ) ارتا کب یلوگ اس پرخوشیاں منار سے ہیں '۔ (ضا) 
وشیا و ال خحقت اپآ ما موب کی منرت وشان کے اظمارپضرور 
می میں گےےاورم اپ گر وشیطا نکی ذات یق ورای دی رسول پ چو ی ھا 5 
کے میں اظمہا لمت لاب خوش مبارک او ہیں اس نی وافسوں مہا رت 
(ذذ) ھا ےک ھی ابو عکتابوں سے استدلا لک کی ش ٹیس وں۔ 
دالوا پٹی ان نو سمخ شرا ئا کاب دشقت ےنوت می لکرنا چا یے وک رنہ 
انی شرائلا مھ ہو ےک یکو وسر کاب لو دورے۔ 
ورای محر ث کا دگوکی اور سکائ ا ن: 
پریدلوںکاش اگ کردو ال ز کم دسمارےکاسمارا م وضو اور نگوزت ے_ 
دہالی محر ٹر گل کا۲ سی برشس فرخووساختدد لال مٹل کے یل ءووسب 
من گنت اس دی یکی شیطا یلک ری خماز یکر ہے ہیں ۔ ہم انشاءائلرالموٹی اس کے 











قمحا 


سب دلا لکوت تیب دا نف لکر کے ان کے من وڑ جابات نی اکررے یں ۔ددرحاضم 





یی 





لن برع کے نام پ تین کے دنوے دارمولدی ز ری زگی کے خودساشت دلا لکا 
صشرطلا جنیر مائے : 


1۔ 


دح 


تم ن‌اکتزاشات: 


ا رفک نا اسحاق بن ۶ پدالشن سلیمان ہے۔ اس ننس کے عالات اورثتہو 
صدوق ہوننا معلوم ہیےاور ری چپول ہے 


.ذس وی دک پجری دا ناشن جن بد الین سلیمان نے اپ ےآپ سے ن ےکم 


ما مع بدالرزاقی بمیلول صاحب المصت فک ککوکی ند با نکش لکا۔-ییمار ےکا 
سمازان ےر بے سد ے_ 
اس جات کاگوگیشمو تی کہ کہا ںکہاں اور کس کے پا( ہا۔( ضا) 


(ماہنامرالید ٹمر:اب بل ۳۰۰۷م) 


الجواب بعون الوعاب: 
(4) جچہا کک نا کے ھپول دا ےک یکوااس وہای مولوئینے با نکیا ہاو بم کیچ 


ںک اگ رگ کاب کے نا کے بجھول بہونے سےکنا بم نکھت ایت 
ہوئی ےو تلع کب کے نام پیٹ سیے جاسکتے ہیں .دس تپ صرف ات اکہنا 
جاتے ہی ںکرخوداس مولوی ز بے گی زلی نے امام بارگک تاب جز ور 
اض سے شائعکروائی ہے۔ ا یکناب کے بای کا یک میں تو ٠‏ 
گیا خودانس نے ایک ہم نگ ب کنا بکا ا ماب امام بخارگا پیل کی طرف 
کردیا۔اگرائ لم گوز تکلیکیش۱لی مکیا جا فو حد بیث کے ایک بڑے تہ 
ے ‏ اد دھونا میں گے ۔خووااس نے مصشٹِ عبدالرزاقی کے ان فو ںکاؤکر 
گی ہے۔ ا کوچ ہے تھا اکہرانع کے نشی نکی نوج پچ یکتبرجال ے ہن 


کرتا گر مال کے سک جا تی نل ھ وکا ےبد ال رزاقی ال کے نز دکیک 








(لمی محاسب)ا ری 

قابلی اتقبار گرا کے نا کابھیمھنیس ہا جابت ہوگیاکرد ہا موادی 

کادگوگی )ا مل ومردورے_ 
)33 تلروہاٹیموگوئی کے دوس رےاعت راخ سکاخطاصہ یہ ےک ہنا سے نےکرمصیف 

تک نعل سندکانہونااس کک نگثزت ہو ن ےکی ولیل ے_ 

قا ری نکرام اید ال ولو یک ری خبالت ہےوگ رن ینگ رکب ک تلق ت2 نے 
بی یانائ لکیا۔ ا لکوت خو دا دہالی تع لکنا ذیادومناسب ے٠‏ 

امام کبدال زا قکاللجزہ ال دفتقودحدث کی بی نپحیدائشب خرن ما تی 
گی تین ےاورلام بخاری ک تاب لفعفا خوداس وہای مولدی زج گی زی 31 تن 
سے ایک فا سال ۴۵٣۱ھ‏ بمطا بی ۱۰۰۵ء شس شال ہوگی ہیں۔ دہالی مولوی ز می 
زی نےالجزہ المفقود من اهت فک نا سے مھت فک نعل تد نہونے پ 
الکو م نع تکھردیا می نخود جب امام ارک کنب الضعفاء کیو نکی 
نین اکرنے ٹیا تو اپنے ہیاس خودساختداصو لکنظراترازگردیا_ 

کتیاب الاضعغاء کےتتعلو ےکا اح مر نایب نئبدالبنگرائ الٹانی 
ہے۔ جک مے جھ شی پیراہوااورے کے ٭ شل وت ہوا_ 

(تقہ لوق یم کت کاب ثضہ ںا مفہ ۶ تتن از مگ زی ) 

ا لگ ہکی سند الوم بدا رھ بین عم مین عبدالالب العائی سے شرو ہورجی 
ہے .جنوں نے اک سک۳ ۷۱ھ شںل متا ۔(تحقہالوقیا, تق کراب ض زا ہز 2۱4) 

اب لا :ا( لکن دانے )عم بن 1برا میم اود ا نہ کے راوئی الوکبدالڈٹھ 
نگم رم ن۔عبدانالب الما لی کے درمیان 86 سما لکاانتطاع ہے اب دہالی مواوی 
ور( چا ےتاگ ابٌّاد ا ضز کےدریا تام راری ںی نار ی/ع '' 
جن سے نار نے سماح ال کےا ا شس بیالنکیاہے۔ جب خودہالپی مولوکی اس 
سن کامتعمل ہونابیا نف کر کااوراسں کے 86 سمالی کے انقطا رکون مکی کر کا 











شہمسشہشےےےےے سے 
بللہڈعثائی اوریدزدری ے ا لکا ام ھی خفالایا ءل ان وب 
اعفاءرکددیا۔دپالی مولوکی کے اس خودساخت اصول ےکتاب الاضعفا کال دی 
عم یگنت ثابت ہوگیانڈ ال نے ال کو یکیو تر اردیاے۔ 
ڈارگی کرام اانصاف سے فیصل یئ اب اس وہای مولو یک خباشت اوررہول 
دی ایس کیا ہے۔مرد وکا ا تم کی مت دشا نکا ا کہا ران دہایو کیل 
فیری ںی ئل ہے مکی دج ےک شا ننوراثبیت کے انہر راس وہای مولوی ز بی 
زگی کے پیٹ مل عروڑاتھا۔ 
اب ہم چندرکتب عد یٹ ودنرعلو مک یمککتب کا ذک رک رر ہے ہیں جن کے نا شی نکی 
سزنرنتمل مص فم کی سپ ملا حظ رما ے : 
1- التمھیں لابن عبدالبر: 
اس ےفرامت ہوگی ے۵ ھی اود ی۸۹ ےت شی سککھاگیا ےچ دوسا 
ڑے٭٣‏ نی می ںکھاگیا ہے۔۔ الاک امام ابل نع بدا لرنے ۴۴۳ < ٹل دفات پالی- 
(اتبر جلر 25“ 448) 
نا کیاصندمؤول کا بکک ط اب ے۔ 
سن نکب ری موتی: 
ان کا نا جم یہی الا ز ہر المقر می اللٹرای ہے ۔تارہٹ۸۸۳< می سککھا 
مگیا اما م فی یہ کا رصال ۲۵۸ “ٹل ےر نکی تی جلد 10 50د) 
نا کی ندم لف کک نا ےت 
3۔ا جم الک للطر ائی: 
بن ۱۳۲۸ نت شی سکھاگیا ۔ جیما ط رای ینہ کاوصال ۳۴۷۰ ٹل ہوا 
( اقم الک اط رای جلرا؟ام“ف۴٣۳)‏ 





زا کی سندمصن فک کی ے۔ 
4۔ کائل ارکن عدی: 
امھ “می سکم اگیاججلہاماماءن عد ىکادصال ۳۷۵ ڈل ہوا 
ا یسرم ل فک کٹا ب ہے۔ 
ای لی 
اخرا +۱ شی لھا گیا ۔ چیہ امام حاکمکاوصالی ۰۵ح یل ہوا۔ 
(الیدںخل الی الصحیم ئُہ 30) 





یی 





6-اعتلال القلوبِ للخرائطی: 

بخ ۷۹۵ج ش رھ اگیا۔ ا لکا نا نکمیمرہے .اما مٹراشی کاوصالی ے۷ ھ 
یں ہوا.۔ ( اتال القلو سے 23) 

ا گی سندم ول فکک ڈرکورکیں ے۔ 
7تاب المراسیل لابن ابی حاتی: 

مل فکاوصال ۓ۳۷ت یس ہوا۔ کہا لن کا نار اسما تال بن عبداڈلدامص ری 
ہے ہنس نے وشن یس ۷۱۰ مھ یس بیج بن امرب مود کےأسن سےککیرا ہے۔اسں 
نے زعفرائی کہ سےککھا ہے زعفرالی نے الوز ار نکی الشھتراٹی سے روایت 
کیا ہے۔ااس سے الوقمف راج ی نت تفم الا صیہانی نے روای کیا ہے ۔ مجع رین اتھ 
بنگھودکا تر ج ہیں یں ہے۔ ابو رش یہی انی کات ج بھی مفقورے_ 

ال ےکا نا حافڈفظی ال بن ابوطاہراساشحیل بن ع بداو ین ع بسن اممصریی 
الٹا ھی ےج سک ولادت* ے۵ ڈل ےاوروصال ۱۹٦وڈل‏ ہسے۔ 

نا یندم ول فک کی ے۔ 

مار ماع سے وگر راس پرمتمعدد الین در ج کی جالکقی ہیں۔ بہرعال رت 








آپ پا 8 ہوکیاکہ بی خودساختش رط ضل سر اح ے ملف تک کا بطلان 
دائل سے گیا ودای کےیاس خودسساختاصولل سے ان کی اپ ی اب شا ئ کرد 
اورا پیش کرد اہب الضعغاہ لمبخماری تی نکھت خابت ہوگی ال 
وہای مولویز گی ز کیک مصن فعبزال رز ا قکالجمزہ المفقود کے نکھت ہو ےکا 
ضنڑکی ا یل ومردود ہے اور نطو ۓے 4ا کا بہانشگا ا لَ ہے ا سے درف 
اعطف او نزضالل الامام اج وی رہپ کے نین ان ہا نہ ہو ےکی نر 
گر موی ںوس باب نگفزت ٹا بت ینب 

چشھی ول اوران کا مل ڑ جواب: : 

و لی ولوئی نز ہیی زکی نےکگھا اک داراککنپ التامیہ پبردوت نان دالول تے پاہ 
نفوں سے مصتفعبدالرزاقی شائ کی سےان می ما م رادلام یل اور باقی :ان 
شغخ میں اوریلامرادوا عیب الرشن پش یکین بھی شائع ہوا ہے _(ملفا) 

قا رئیا کرام !وہای نر بکا جھوٹ کے بی پلزانئمکن ہنیس پلہحای سے۔ 
بجی دج ےکی مواوکی ز گی زگ یکوشیجھوٹکاسہارالدا بر اے۔دہاس ےک ننس 
ننکو یسل قراردےر با دو ملا ہرادکا لے عیب الرشن شی کا نگ 
مرادوالا ہے جوا کیج ے شال ہوا ہے خودعیب الین پشھی نے اس معشبف 
عہدالزاقی کےابتقائی ح کو افھ ‏ قراردیا ے۔اورککھاے : 

ا سکیل نز )مع بکبرلرزای) کی طباعت اورتیاری کےسلے شش 

ہن موں بی ںآمعگابی ہوئی ہے با جم ینوٹ بافٹ وکا پ کی سورت 

یس حاصل سیے میں ا نکش لپ مقد می پانمیں گے(انشاءالٹ)۔ 

دوسب پان ہیں۔ہاں! استائبز گی کےکنب خاش مرا دکا لن کائل ے 

نا سکی ابا طوب یش ہے(نفھص ہے )اورا لکاپانچو یں 


یھی ابترامۓ نان ہے“( معن فمبرالرزاق جلد 1 مہ 3شقبردت) 











ق ماس 


ہے 

(خوف طول کی وجہ تصرف ت جمہ پر اکنا یاگیاے ) 

معلوم ہو اکمروپالی مولوی ز ہریز گی کا ا ںنسنزمصن فعہدالر زا قکوکا ئل مل 
قرادد ینا ا لںکابدت ین گھوٹ ہے۔ہ صرف می ککتے ہیں : 

ار ریا لک شموت یہک ہیا ردل پلا''ہہاپ غسل الذراعیں“ 
سے رو ہوتا بای وضو می ںکہ نو ںکا جو ھا لائکہ قم دکہ نو ں سے روخ یں 
ہوا ہے اور الج مفقو دن انس تقیق تکوعیا ںکر دا ےک مص فعبدالرز اق مطبوغ 
کے پیل دس جاب طاتب تھے ج نک بازیالی اب ہوکئ یگ دہائیو ںکواں سےکیا ٠‏ 
سردکار ہے ا نکوورسول پا ا کے یی سی مصع نی کے ای 
لئ گے ٰ 


انتطار سن دکابہا ناودرا ںکار طخ 

مولوئی ز رٹ ڑگ نے انی خوداشند دی ل نہ رپ سے 10 کلف ردایات ںش 
افتطا ری سندکا پہانہہتاکرالخزہ اللمفق ول نکھزت اب تکر ن ےک کوٹ لکی ہے۔ 

انقطاغ سندک کاب ےکن کزت فا فکر نے ح وت یس پیک ناد بای 
مولوکی زج گی زی گی نری جات دنا شمتۂاورررسول شی اورعد یٹ دی سا 
نی ےک اگ تا بک ردای تک سندریش انقطا اعدم ]کے پادہھ گی راد لک 
امخبرتا إحدثناً اگہرڈسینے ےل اب م یگھ ت ثابتہوجالی ہا الم صورت ءال 
3و لتہارےاصہ بعں گتاب لن بخاری یں بھی مو چود ہے۔ ا کا شھوت 
نظ زواضر ے: 
1- حدثنا ابوالیمان انا شعیب عن الزھری اخبرٹی عروہ بن الزبیر 

ان عائشة قالت الخ( جج بخاری جلر ا صفیہ 268 باب صیام لوم عاشورام خکرارتی ) 








ام محاس) رن 


2- حدثنا اسمٰعیل بن عبدالله حدٹنی این وھب عن یونس عن 
این شٹھاب ٹئی عروۃ بن الزبیر ات عائشۃ قالت الخ 
) جفاری جلد 1 ٣‏ 278یاپ کسپ الرجل وعمله ہیدع) 
حدثنا عبدالله بن محمد ثنا عبدالرزاق انا معمر اخیرنی 
الزھری اخبرنی عروۃ بن الزییر عن المسور بن مخرمة الڈھ۔ 
( ہخاری جلد ١‏ صخفمہ 377-8 اب الشرعا ا بہار) 
حدشنایحمی بن بکھر ثنا اللیث عن عقیل عن ابن شھاب 
أخبرنی عروة بن الزییر قال ابوھریرة الڈ۔ : 
( ہفاری جلد ا ملف 463باب داش وجورم) 
حدشنا لسمٰعیل بن ابی اویس قال حدثنی اسماعیل بن ابراھیم عن 
عمه موسٰی بن عقبة قال ابن شھاب حدثنی عروة بن الزبیر ان 
مروان بن الحکم الۃ۔( یع ار جلد 2 ٢ف‏ 1064 اب الع رفا نا ) 
حدشتا عبدالعزیز بن عبدالله الاویس حدشنا ابراھیم بن سعددعن 
صالۃعن اہن شھاب قال اخیرتی عروۃ بن الزییر ان زینب بنت ابی 
سلمة ال٭۔( ری جلد 2 سم 1064-5باب من قضی لە بحق اخیه فلا یاعذہ) 
قا ری نکرام !ارک شرف کے ان چو مقامات پرامام ز ری حطر تعرددین 
ذورےاخیرنییاحدثنی ےار انغرت کرد ہے یں عالائلہا نکی طاتمات 
خر تجرو من زیر سے مگ زہارتگیں ہے .یل القد یرٹ جج ونند٘ل کے 
ھبت بڑےامام این جج رکستقلا نی کھت ہیں: 
1- ولکن لا یثبت لە السماع من عروۃ وان کان قد سمع ممن هو اکبر 
منه غیر ان اھل الحدیث قں اتفقوا علی ذُلك واتفاقھر علی الشیء 
یکوت حجة(جزیب!جز بجر9 50 4ط جو رآیاون) 











کے 








رہ راع دہ ٠ن‏ ز یرے ہڈے راولولں سے سا کیا کی ین عظام نے 
ان بات پراتھائکیاہے ( ک امام ز ہت یکا عردہ ین ز ہی رے سا شاب نیس سے ) 
اور رش نگراعکا ایز پراناتی ت ہڑاے۔ 

معلوم ہو اک امام ز رکا کےع رد ینز بر سے سمارح طابت نہ ہو نے بح شی نکا 
انھاقی ہے گ ہاری ش١‏ شر باعدگی ےسا کی نضصرن کی وج کیا باری 
م نکھٹرت اب ت ہوئی ۔ ال طر کی مد الس دم رکب عدبیث ےبھی ‏ یکی 
جات ہی ںگرئیں اخضار ا ے۔ 

م شی نکرا کا تی امام ز ہرکی کےگردو ینز بی رے عدم مار امام بای کے 
ار عدگی کے کے مقاملہ ٹیش بجت ہے۔ خودو ای مولوگی زی گی نل ے مرو 
مات پرامام ہخارکی کےقو لکوببو رر ین کے م قایس ہو ئےے اہج ے رجعں 
انا ہے چندایک مقامات در کیے جاتے میں تاکیکوکی نذبز بکافضاٹ ددرے_ 
1 امام ادن عبدارشکن بن 7 لہ کے بارےککھا: 

لایصم حدیلہ۔ ٠‏ 

”الک حد پٹ یں ہے 

گرمولوئ ز ٹا :کی نے اام ہار کے قول کےخلاف بو ںککھا ےک 

حسن الحدبیث و ثقه الجبھور و قول البخاری مرجوح_۔ 

جھ ہرد می نکرام نے ا کیو شیک ہے۔امام بخاریکاقوگل مرجو جح ہے۔ 

( تفہ لق یاء یت ن کاب اغ ڑا 6۹ ) 
2۔۔ امام بفا ریا خالد مر باب الہز لوف فسدوہ بالقدر رک ضیف ر ار 
: دپے یروپ لی مولوکی ز ہی کی ا ںکوشسن الد یتر اردچاے_ 
٠‏ (7تداقیا ٣ز‏ 38) 





بْٹیی‌‫ٛسسأهى×ً سسسُِِےییسسس ‏ ہے ےت اہی 
نا مز ہرییکا صحفرت گر دہ بن ز بی رسےسمارع شاب ت یں ہے اوراگر چرام 
























می مداس) رت 


3 امام ارگ ز می رن ئھرالت یع اعت رک الفراسا یکوحراعاد یٹ ردای تک نے 
والاٹر ارد ےگ رضعی فقر ارد ہی ںگمروپالی مولوی ز می کی نے اےصسن 
الیم بیٹثراردیاے۔( تد قیاہف44) 
4۔ نا مارگ مہ :پل الا بش کے تیم مداکھر وفيه نظ رک /راے 
ضحیفقراردمیںگرو بای مولوکی ز گی ز کان ا سے تن ال بی ٹکھا۔ 
جن ا اف 50) 
امام بخفار یلق بن حجیبکوبدمقید وف ق مرح میں قراردےکرضحی فک یں 
گر لی مولوئی ز می ذ کی نے ا ےن الد کہا ہے (تخۃلقویا یف 57) 
6 امام ہفاریعپرالعز :نال رواوک و کان ری الارج ہک رضعیفگرداخیںگر 
دالیم ولوئیز می گی ا ےنالد بی ٹکپتا ہے (تنۃ اق یا ف 70) 
نام ہار کبدا ش :نا یراد کو کان یری القد ہیک ضیف کچ یں 
مرو پل ی مولوی ز ہیر ز کی ا ے راو الید یٹ کچاے۔(خقہ قیفر ۰ہ6) 
امام ہفاریابدایشن بن سلما نکوییه دظ رکہک رو فی گر ہرز لے 
: تن الله بی ثکچتاے۔(حنہ 2۷ي ,طض )6٥‏ 
9 امام ار عبدالنشلن بن عطاءکوذیه نظ رکہرکرضحی ف کے ہیںگرد بای مولوی 
ز ہیی زن ےنال ءثصۃ لجسورڑاے۔ وضو -- 
0۔ امام ہا راع بدا / 7ے لھک لا صمکرا تتقحفتراردینے میگ دبا ی 
مولوکی ز ہگ ز گی اے سن الد یش قراردچاے۔( تق" الاقیاء٣ؤ‏ 67) 
لّكَ عَفَرٰة گال 
اام بٹارگا کیا امام زرٹیا کےگردہ ےسا فرح جو رح دن لو 
مین ھی درست تہوقی۔قذ ا بکیا مولوکی ز ہی ز کی بفار کی یی نکھٹ مشاثات 
کر ےگا ای کرام ا کور حوالہ جات شی شورف میں !جب اپٹی اتی تو 





1 
[-۔ 


لنثت 











می محاس) تن 


گل تس ور حس ہت سو رت سا ری ید 
خودامام بفارئی سے بڑا ین یٹنا ےگر جب سرد وکا نیا تا کی رت وشڑا نکا 
ا باہو تا ہا ال کے پیٹ یں مروڑ اتا ے_ 
کمایہت کیغاطبو ںکایہاتاورا کا شر پررڈ: : 

الجزہ اللمفقود کک نگن تاب تک رن کیل ایگ بہانہ یرک یاکرا لںگہوزگ 
کی فاعطلیوں والے ۳ے سندسخہ پآ پکیوں خوشیاں متار ہے ہیں_(ا) 

ایت كیفاطوں ےآّاب کان کی گن ت ثابم تکرنا دالیا موی ز گی زی 
گی سیت زدری اوہٹ جرٹی اود یرف اوسر ف ڈشنی سو لکی وج سے سے وک رنہ 
کتزاب تک خاطیو ںکا ٹر رآ بمدےیٹ ٹس ہوجا نام یھی صاب' عم سے پشید ہس 
ہے .تما تک خلطیا لت گ بخاری شی بھی مو جودژں: : 
1 امام خادگانے ایک سندیوں میا نکی ے: 

حدثتا عبدالعزیز بن عبداللّه قال حدثتا ابرلھیم بن سعد عن ابیہ 

عن حخص بن عاصم عن عبدالّ بن مالك بن بحینة قال۔ ال 

7 ( جماری بد۱ 91) 

اس ند کے بیان شلام جنخارکی سےدغلطیاں وا ہوئی ہیل ایل یلیہ 
عبدالدکی دالدہکانام ےیگ رامام بنفارییانے اے یا لک دالدوۃراردیاے_ 
ِ ددس ریا یک گ ےچ لک رف ماتے ہیں: 

سمعت رجلا من الازد یقال له مالك بن بحینة ان رسول الله 

صلی الله عليه وسلم رأی رجلا۔(۰۱۶با۵) 

١ں‏ عدع ٹانہوں ے مال حےز(وامت کیا ہے عالاگہ ب۔عدیٹ ا 
ہیدان ا لک سے ہردی ہے ما کہا مرف باسلا یکئیس ہوۓ تھے ۔دام 
لم نسائیء این ملید نے بھی می سند جیا نکیا گر اس میس ىہ فلطیا ںی لکییں_ 
دی الام این جج رم سقلانی کھت ہیں :”اس ردایت یں دویگ یدہم ہے۔اول ینہ 











است 


برای واللدہ ہے :کہا لک ککی ال مک ییھالی او رداوگ یع دای ہیں نہک ہما لگ“ 


رح 








رد 


(یالہاری جلدد مہ 90 2ض ممرمزجا) 
ببہالد یھ اس مد رین عھی ےک کا فرکؤصھای بنادیااورسحا کو مت 
ابگیاا سی ےک بفار ا نکھت ثابت ‏ ٹیا 


. امام بفاریانے ایک ردای تکی سند ٹیس لوں جیا نکیا: 


عن مجأهٌُد عن ابن عمر قال قال الدبی صلی الله عليه وسلم 
رایت عیسٰی وموسٰی الغ۔۔ (چ بخاری جلد 1 2 489) 
بای کے تماعموں می اسی طرع ہے حالامکہ نام این عم رکا ہچائے این 


مالس ہے..(د یھن الباریی جلد 7ص“ 293) 


3۔ 


امام مارک ٹل نے جار صصنیم ریس ایک سندکوایوں یا نکیاے : 
حدثنا یھی بن سلیمان ثدا ابن وھب عن عمرو عن سعید ابن 
ابی ھلال قال توفیت سودة زوج النبی صلی الله عليه وسلم فی 
ژمن عمر۔(مارں مخ 28) 
حالالہ سز نع ہے۔ ین ای ہلا لکی ولادت* ےے< بش ے۔ 

(تہز یب اذ جب جلد 4 فی 95) 
ال نے تفر ت ھرفاروش ڈلاا کادورمبارکنکپاسید :ام رمحادب ڈو کاوور 


جھیایس پایا۔ا بکیاال سے مارتاً صی ع٢‏ نگھزت مابت بویا ۔ 


قا ری کرام ا سن کے انقطاع اور نا کی مل فکک سنومشمل کے بہان ےکا 


راڈ ردکرد یا گیا ہے ۔ پور ص نل۱ بس دای مولای ز م۴ گی زی نے کاب اخبار 
لا روآحید شی ن'کےرمتعاق بھی ال یکنفنگ وک کےا سکونکنلوک :نان ےک کش کیی۔ 
پھر الد اس کان بھی ا یکنفنگھ بی ہوگیا۔ اصل میس اس ت نیف بیج یک اس نکور 















نلم ی محاسیا دو 
کا سرع کےساتھ نزک رنج یل ناک مرا رذانیت مو جودی بب تے 
ہا ینہ ب کا یڑ دنر ہور تھا 

امام بماریی مہ کےسند میں اد ہام باریی یں متحددموجود ہیں ۔ کم صرف 
خوف طواات سے اٹی رکذ اکر ہے ہیں۔امام عافظ الع این بن شر بن امھ 
مال الا نین ے٢۲‏ ےتلییں المھمل و تمییز المشگل396:392ء 
7 9 نہ رہصفھات پ ام بخاری کے جح ری می اسنادمش 
رادلیلں کے با موں میں قلطیوں ٹا مدکی کا ہے او رکچ رامام نار اکیاسُدعدیٹ 02 
ادہامم کے علاو م٦ن‏ عد یٹ یں بھی تنددداد ام کٹارل موجود ہے جک نکود ہاہی کے 
اہ مولوی وحیدالٹماں حید رآ ادیی ن نیس ال بای می ںپچھ یسیو مکاہے۔ 

اکی رع دنک رکب اعادبیث می سکاب کی فلعطابوں سے شاب کول کا بہرا 
ہق ا بکیاسمارے ذ خ٤‏ عد بی ٹکونی م گت قراردے دیا جات ےگا۔خوددبالی 
۱ مولویی ز ہنی زکی نے سض ن ضائی یس ایک راوگی ےنا 17 نی کاڈکرکیا ت0 

(دییے:نورامعلین مخ )١۹٥‏ 

قکیااب نسائی ادن رک بک فنگعزت تر ارد دیاجاۓ- 

چر می نکرام ارینفیطر لے مر من عد بی ٹک ما یت نہیں نکیا ہے۔رسول 
پا کک ۲1 نزارت رافحل و لوٹ مرا ند سے ہو جے ںیل مارے 
ز٤‏ عد بی ٹکو ال اخمادد جج تترانے والی بات ہے جکہ مولوئی ز ئگ ڑل یک 
ری شبات رجمالت ہے۔دباپی مولدی ز ہیی نزک یکا نان لن رمہ پراختزاش 
ا لک شباشت پدالی ہے۔اس لی ےک فان اود ابن شب رمہ کے درمیا نہ وکا تب 
سے ''حن “لگا ئل اوں نھا:عن سغیان عن ابن شبرمہ۔ اعم رع کا کاب 
تتقبباحاد بیٹ می ںخوددہابی کے اکا برلڑیی ے۔ 














قتمت یداسا 


اک اوراا می ول اور لںکارڈشد بد 
کتبحد یٹ ڈ٘ل ے!وجا ےل ہق عد مث یناب مس ہولی ہے دو و رکنپ 
بخ پھیال جائی سے ران ردایاتیٹو رکا دنگ رکب میں شی للڑاا باتک ول 
۱ ال مض رو رکال ے۔ما) 
١‏ د ابی کے محر ثکا خودساخ تق عدہ ہے جوا کا جہاا تک دا یل ہے 
ٰ بشا رام لمۓ ای ہوثی ہیں جو دم رکب حد یٹ یس یں گنتیں .خودااس کے م سے 
بھی با ہوک ہے۔ مھ وراتتیں یس اس نے رم بل نا کے ووام رضلضرت 
ال اٹ فارقی الد نان الا عرالی کے ہوالہ سے الطا نل سیے ہیں ۔اب یہ 
بنا ۓکہ رفظ کور اپنے منقول حوالہ کے علادہ حد بی ٹک کو کنب صحاح مس 
0 ہےادر ای و بیدا ہدیا اکدد ال محر ٹک میٹ ط انگل 
ادرمردودےے۔ بل الک ال ای خراتا ارول شی ہے او را نکاچا ہے ان 
اصول وضوار انی پ وُت سے فا نگم سس جیا اگہادھ ذ۸× چگاے۔لپذا 
۱ الجزء المفقود من ۲ کوز گی زی کا وضو غکہزاسبینز ورگ اور شبات ے 
ْ اور لکاا ارہ ل۱م پت 
ندروالی روایات دک ہن بھی لکی ہیں نعل مر کاب فو رامیت و 
حاکبیت اٹ ملا حظیظر ماخ 
زلرا لا ناک ال 
درسٹك گال یں کا لام 
یر نلرب مصطلضلیکر نے 
امم بدا رزاقی کے ماس ہو گا بہان اور کا من نو ڑجواب 
ردپالی مولوکی ز ری ذز کی نے اما عبدالرزاتی کے میس ہن ےکا ہا کیا کہ 


ا 





کالما ہے۔ائ کی ٹری شباشت ہے یہاں بیمثال 
رے ول ٹ لکالا ے ج ہیں ضس رل اگ 














می محاسی)ا تر 
سرد کنا تا کی شا نو رای تکا ہرعالل یش اہٛکاردیکردیا جا ۔عالاککہ یگ 
ا کی جچہالتکاپودا لپ راشموت ہے۔ااس لیےک۔اما عمبدالرزاقی طبقہ خام کے ملین 
یں سے ڈیں.(طببات الین ماب نج صف 34) 

خودامام ان رمسقلا لی نے تر اکردکی ہ کہا عطق کے ما سکی یس 
میں ہے۔ اب ذ مولوگی ز می زگ یکوڈدب من چا پے اور بای یں ایام 
عمبدال زا یقکی متعد تن روایات مو جود ہیں نے چلرامام بفار کک پریی کی کا1 
کہ بیفمتیف ددابات ےچ ہے او لرٹنس ات عرامعٹ نے امام پا ریا خودم کا 
کر ھا ہے امام این رمسقلا لی کھت ژں: 

”امام ذ شی سےامام بخاری نے ردای کی ہے مگمروہ لی سکرجاتے 

ٹیا (کمان ایز ان لد 6 لف 838) 

اامذئی لع یں: 

”مھ بن خزالد کے نام می امام بفارگی نے نیس سےکام لیا ہے اورش کو 

اپ کے داوا ے مطسو بکردیا ہے اور یی مشوور اما محر ین گُ نا 

عبداہبن نماللدلڈ گی ہیں( راعام اض وہلد 6 مخ 384) 

دای مولوئیاز بمعی زگ امام بغار لکیگی ضیف ار یں 

ار نکرام انگردپالی مہب لوا مھ ہب ہے۔انکاد بن اسلام سےکوگی الہ 
ںا نکا مہب شحیطای ہے اور بواعد مہب ےک ہش نکاکوگی اصول اورضابلہ 
انی ہے۔ اور اط فکی بات یہ ےک خودوپالی مولوئی ارشاد ان اٹڑ نے ام 
عبدالرزا کی ایک ں”ن روام ۓآسٹرا خر اردیاے۔(سنداس رآ ما ش٣‏ 129) 

اب لوگ ڑ بی ڑل ڈوبمرے۔ 


مل سک یچین ہیں تن روایت کےقیول ہو ن کا کل : 
وہل مولوی ز می کی نے بای ہس اما عبدال رذ کی تن روایات 

















نے یں تن 


کے جوا تب می لک اک ہش سک میین میس صن روا یت مقبول ہے فی مم یں _ضا) 

کے سکییم ا لکل یکاابا تکتاب وششت ےک داس لی ےک ایک رف 
ماب وذ کا روگ اوردو؟ یطرف ۳۸ لمعو مامت ں ےاووال ےا ترلال 
تمہاری رک خباخ تکا منہ ہوا شموت ہے او برا کیہ پرامام اب نج رحسقا لی رصیدر 
الا بن ابکن الارٴل این رش العید وخ یمم رشن نے کلام مکیا ہے-۔(اور و ےکی 
انصا فک بات می سے تقاضاائصاف کے ہائی ا شک روای سکمععلق مین 
اوریم یی نکا محاعلہ برا ہے )( تم مق این اص جلدد “635) 


ماس بدالر زا یک یآخریی پھر اتا ابا ہاودا سام نت ڑجاب 

ادبچلروپالی ز رگ کی ن ےآ خ رک بہاض یرکیا ےک اما معبدال زا قآ خر ی گر 
اتا اکا شکار ہو ۱ئ تھے ای حعالت شس میددایات پاضل ہژں_(۳ضا) 

ایام بدالر زا کی خ کی ع ری انا کا بات بن اکرعد یش فو رکا ا ڈگادکر ن ےکی 
شحوست بیطاری ہوگ یمارگ مصنفعبدالر زاقی سے می اتحد دجو ناڑا دواا ںطر غکہ 
جب صن فعبدالر زا قکی ابتوائی احاد یث اس اشنا ط کے دورکی ہول لباق سب 
امادےث اکا گا زر ہیں جو وہای موا وی ایا زگ جات وعاقت ہے ادوچ رال' کا 
کول وت گی ہیں ےے کہ ىہ روایات ا دو راخ طْ 1 ہیں اخبرھوت کے ےکنا 
دہلکیانرییکواں ے- 

اودبچ مد شی نکا یپاک تو لچھی مو جود ہ ےکرااس دورا ملا طا امام کبرالزاق 
لبڑحظاےحدمٹیانڈ لے تب ہپ قکتاب ےعد مٹیا ن/ 2 ىے_ 

(تھرر جب الرادی جلد د٥‏ 377بخیگبرالزاق مقر رجلر )7٦ ٣ ١‏ 

جب دواپی کاب سے می عد حث جیا نکر تے تو ا بکیااکت اق ر ما_ 

بہرحال از را مفقو دکا ننماءت' مجر ےاورا سے وضسو وک نکھزتکہنادبالی 
مود ازج گلز مک یب لوم ردیرے_ 






سس6 








ار نکرام اسردرکا تنا ت کی نو رایت اور پ کے او ل اخان سے 


اثکارس مولوئیاز ہی ز کیا نے بیمفیاتسیاہ سے تیگ رلطل کی بات ج ےک رجش فور 
اوراول لن کے انکار میس اتی عحن تک یھی اک کات راد خوداس کے اکا جھ ن ےھ کیا 
ہے۔عصرف چقھوالہ جا تآخ یی ال کے منہ پپھپٹر کےطورب رہق لکرر ہے ہیں۔ 


1۔ 


نو کےفورہو تن ےکا وہای اکابر وت 
دہا ہی ک ےئن الاسلا ٹا ء الا تس رب کھت ہیں: 
ہم ر ےیہک نر ے کر ول خدا٣َْخدا‏ پیا بے ہو ے 
ور ژں''۔(تر لیلخ دو() : 


ہمولوکی شیا ء انرام تس رک کی ز باٹی مولوئی عمبدائڈدرو پڑت کین ہیں : 


7 سلنءچا ندرسول انل ےنور سے کیکتے ہیں “'.(مفالم :ہس ہھ) 
مولوی وحیرالڑما ںحیدرآیا دل لی یں: 
”ال بحامۂ ن ےی قکر ن ےکا آغا زنو می ا کی“ 
(ہریتۃالہدری جلد 1ص 56) 
دا ہبہ کے عافۃ لو یککیعتے ہژں: 
ور یداآپد پرالوکا ںوں ررشالٰ 
(تی ری جلرہ مل 201) 


ڈ ہا ہبی کے دلو اب صد ینک نب بای کل جیں: 
نور الھی تجلی رحمة۔ 
آ پ ٹا کا نو راودا کی ذا تکا نگ ہؤں“'_ 

: ( لیب مف 60.آ ڑم دیق بارد ٣‏ (ج) 
اختقسار ماع ہے می حوال جات ہمار کاب فدرانیت دحاکیت یں طاظہ 
رما ہمیں۔ 











رس سی تر 


و مد کو ای اکس شر نات سو سےاسعننر ہا 

ولوی ز ہم زگ یکو چا ےک اپنے ان اکابر کے مرکودہ اقوال و کر ڑوب 
مرےکرج کی اٹک ہش لک دہنقید اس کےا کاب ےلم تق خابت ہوگیا۔ 
7فآ۶: ٠‏ 
پھم نے ؟ کرالراں شون یس دہالیمولویز ہبی زکی کے ون کادنل ے نی 
روگرویا اہے۔اسں پرااسی بھی زیادرشمیل ےکا جاسکتا ۓےگمر بین نے اختقمار 
س ےکا مملما پاے۔ضرورت پٹ تذاس ٹکو ںا _انگاءاللد۔ 

شاک ی دن مرا نے ییو گل یے۔ _ 

جرککاشف انقال مدکی رض وی 
صرھستاء تاجن گلررشا پاکمتناان 
در جا دیو یہ رو ریننظبر الام -حندری 
۳ رً‌لاظ۰ء۱۷۷ھ 








7+07 
اٹوٹ وو 
01 








ہے سی 








مصنفعبدالرزاقی کےالجزالمفقو دبرو لی مواوی مٰ 
مس خی 


بسو سم الله ران 

ہو تم صلی بی ارام کہ 7 مابھزا 

و ور تر رکوایما نکی جان هن 
خیالکرتے ہیں ۔آ جع تک پوری امت مسر انی عقائحد پرکار بنددجی ج نی کر کے 
دور ٹیل عتا را ل مُت پر بلوئ یکا نام دیاچاتا سے ش مربصرف اورصرف ال 
مُقّت و جماعت ہے۔ اتی خیب فررے نارگیا یں اوران کے نار باطلیہ ہیں متگرستیا 
ا ہوانگ ریزو ل٣اکہال‏ کے ایماءپرااس کے دو رحکومت میں ا لیےےلوگ تیار ہو ۓے 
کچنپوں نے اپنی فک بازی این سے مسا رگی مت مس کومشٹرک بنادیا۔ اپ 
کو نظ ریا تکوق رآن وشقت سے ہ مآ جنگ ٹابہ تکم رن ےک نایا ککوشش لکی۔اسی 
مہبکود لی رہ بکھاجاتا ہے-د ای مہب کی دی سرد رکاء بات" یی نے نا4 
ہت سو اصق لے یاالنا شی کےدورے پڑڈنے روم ہوچا تے ہیں۔ پنشٹاٹی 
سن موجہ کہ جب سے مورک کی شا نو رایت 
کااظہارمصش عبدالرزاقی کے الج زء ال سفضسود کے شائح ہوجانے سےم ری ہواتڈ 
ہیں کے پال صفبف اقم بی ۔ا لک وجہ ریت یقککھلیل القددعلاۓ امت نے 
شب عبدالرزاقی کے جوالہ سے عدیث جانر انف ما تھی نس میں دامع لپ رود 
کا نا ت کچ کی ورانیٰت اد تکا مب ری ک نکر مو جورتھا کرمتئلہ برتھا اآزش _ 











می محاسب)ا رف 
عمہرالر زا یکا جویش لح شی بن مو جو دقماء وہ نان تھا۔اکھی حال نیا ٹل الجزء المفقود 
من المصنف کا وط اثفغانتان سے ستیاب ہوگیا جھ پل دک سے شال ہوا نر 
پاکمتان یش لا ہور ےش لح ہوا 0ا ا ا 
دبا ٰا مہب پکسل وت تگا۔ 

سب سے پیل وہہ کے مولوکی ز ہی می ز زی نے اپ رسالہ ار یٹ اٹل 
الجزہ ال مفقو کے ردی ہم وت کیا لق رام ال روف نے ا سکاٹشمحہلی اورم لو ڑ 
جوا بک رو گیا جو زشنصفات یس مرتوم کے پچ پر دوس مے وہای موی ۳ اناوی 
نے اس پ مھ ناجمودکی نے فنقیر نے خیا لک اکر ا کا رجگ کرد یا جائۓ ت اک ہ را و 
ام ران کے خودساختد دا لک تی تکل جائے وک رن مھا سرد رکا نات 
کی فو رایت ٴ رفک یکتاب' فو رایت دح ایت یشی د اگل دوالہرجات 
موجود ہیں۔ شقن ا سکامطالد ٹر“ 000 

مولوی“ سی کون دا وگ یکا گر تر نون رسما لیم ال جد یٹ لا ہورٹل دشّطوں 
یں شا کح ہوا اور دک ردپ یر کل می بھی بڑ ۓکمطراتی سے شا جک امیا شخنمو نکی 
اتراء میس اس دہالی ولوٹی نمو فکوخلاف اسلام اورصوفیاء کے ما کو ال ابت 
کر ےک یکوشت شک ہے عا لاہ یا لکی نکی شبات ہے۔ اس لی ےک ینفوف اور 
صوفیا کرام نظ رات خلاف اسلام ہرگ یں الہ خلاف دہاہیت ضرورمؤں ۔تھول 
کابنی رن ہونا فو خودو لی اکا برکوکھ یلیم سے مولوکی می کوندلو یکو چاہ ےک نود اہ 
اک پر ولوگی دائو وخ ”نکی کے منمالات ہابت لصو فک کاب داد سے اوریمولویع بدا چہار 
مز وٹ یک یکتاب اشبات المیعت واا لہا مکی ڑھ نے اور تا ۓےک اگ بیاحموف اور 
عتا کون ریا تیصو فا ظا فاسام یں و تمہارےان! کا بر نے جوککھا ہے الن بھی 
کی گا یا نک ین ری مس بڑ*کرڑدب مد- 

چ۸ ساد ہا انے تمور متام کےکنقی ر ور بی تکو ہا ل7 اردیااورا ۓےغلافف 














مرو 








رن دعد ٹر ساپ وت کہا: 

چوک ہق رآن وعدیث لآ پک بشری کا ذآر ہے ال ےی ےعقیدٗ 

ٹورا بت ظا فآ وور ہف ہے 'ھ(۲9۵۳)) 

قاری کرام ا حضورسید عا ماف کی ورانبیت کےحمقید کو ہا لنکہنا خودا کا 
وگ ال دمردود ے۔ اس کرای کے ولا ق ران دخمقت سے بے شارموجود 
ہیں می دلال نفقکیکتاب فو رایت دعالکیت بیس ملا تظفر ا ئجیں_ 

ر ہاش ری تکا قرآن وت سے ا شبات لو ا ںکا ھم نے اکا رک بکیا ےئ 
اک ماناا کی شر مت کا ازکاراال لمات پ بہنان ہے۔سیدی ا رت امام اج 
رضابر یوک بیز نے ای تد کنب میس وامع طور پ یرف مایا ےک سروک نات 
ای بر یھت کا ا نکارکفٹرہے۔(رداماعی ,او رضوي) 

اور تقیدرک فو رای تکوآ پ لاڈ کے بش رہونے کے منائی قرارد یناد لی مولوی گیا 
مگوندلوٹیکی جات دعمالت ہے او گرا عقید) فو راشی تکود اہی کاب نےبھ لیم 
کاہے۔ہشلادہائیوں کے الا سلا شا ءا امس کی ن ےکا ے: 

رسول مد ای خداکے پید ای ہو ئ ےو ر کی ۔ (نار ا جا و7) 

ال کے علادہ ویٹارد لی اکا بر سے ا سک شموتیأق لکیاجا مکنا سے ٹفھی ال ' 
جا تقر کاب فو رایت وع ایت ایس لا جظف را تیں۔ 

موی مدکی ن ےکھا ےکر بھاہ کرام وین عظام کے دور می شکولی 
ٹس بھی ایا موہ ئن جک یز اوت لوا کا( 

عالاکمہ را لکازرامجھوٹں ہے۔ اس ل ےک مھا کرام وتا ین عظا مک عقیر) 
فو رایت واولی تاذ شرورتھا لگ رتنور واللقام کش بش ہو ن ےکا عقیدر و یکا نہیں تھا 
محاب ہکرام کے مقا تد بات وراثیت د بک کیل لق رک یکناب فو رایت و مکی ے'' 
گیاطرفرجوں فمکتیں۔ 
مدع جو سے شش سیا ہدس ہت ہہ ہہ 














می محاسب)ا تر 

رکوند وی صا حبکا بکہن کہا می ندرا نی ت کاڈ الوں نے رداع دی ےگا 
کوٹ سکیا ہے :نرک بکواس اورا کی شبات و جال تکا منہ ولا شموت ہے او ہچ گر 
بتقید ہکنذاہو ںکا ہن تہارےگرداوراکابرتخمہارے ببقول نو اب صد بی کو پا یء 
شاء الام ٹس ریہ ابرائیم میرسا کلوٹی وی رہم سب کغراب ودال ہو ئۓ جنہوں نے 
پل کتب ٹلا لکاغا تکپاے۔ 

را ںمتقیدوشیعی تک عطر ف سو بکر ن ےک یکوشش اوراہل مق کی طرف 
سے بھاگی چا ر ےکیاطرفتہارااشاروبھی زرامجموٹ ہے اس لک شلیعیت کےکف رپ 
نذسیری اع حضرت بر موی مز کارسمال'ردالر فی ڑھواوردوسرکی رف اپے ور 
مواوکی وحیرالڑ ما ںحیررآپادئ یکا خوونا صمنہادائل عد بیو د ہاو لکا شع ہہونے کاافرار 
لال برار(جلد 1 صفہ 7)ء ہریت ال ہد( جلد 1ص 100)ڑڈاورڈوبمو- 

اورگ اضر وڈ یکا قپرداورا سے ےعقیدہ باطل ٹر اردیا یتما ریخا تپ 
دال ے۔ای 2 یٹیل القدراولیا ءکرام وصوفا کرام کے لو تھہمارے بڑڈ ےےماء 
ادا ٹیر ودرا تھے دیکھدا قوکی شا جلد اص 1 رضفھ 
دا دغ مز وکی کے مخالات دنبرہ عو اورڈوب مرو تم اپنے مجدولو اب صدلنی صن 
و پالی ےلم ےن گی الین این مر لی مز کے بی فضائل دواد (الا جع 
مکل صفی 170)اورانی چہالت افروزگوا کوبندکرو۔ 

پچ تہارا ہنا نول بظاہ رٹ رآن وو مٹ کے منصاد مبھ یآ ے ء تفیق تکو 
عمیا لکرد پاہے کو اخ ایی خشبالشت دبگوال کی رو صا ف ہظاہر ترآن دومدےٹ 
کےخلاف ےگویا یقت یس ق رن وشقت وعدیث کے خلا فنکیں بل مواف 
ہے۔ اس کچھ ہیں اق یپوگ بالا اورکھوٹکا مٹکالا یَ 

رت ہہاراائل یق کواال بدرحت تر ارد ینا بھی اُلڑا چو رکونذا لکوڈ ا والا معابلہ 
ہے تمہارااں موضوعپیضمو نلکھن اورشیم ائل عد بیث رسالہ ٹس شال ہوا کیا 














(للمی محاسی)ا تر 
مار ےکلیہ سے سب بددح ت پیل ہے ۔تہاری بدعا تک انھیبل ہم خوفطوال کی 
بہرےزڑک ررے ٹیں۔ حرف ای کتتہادگی بدخ تکا ت کر وت ہار اکابر کےنیم 
سےکرنا جاے ہیں دوک کانف ری سکرتے ہواو رکا نف سکا لف ہی تہارے اکا بر 
کے کی سے بدعت ہے (دیکھو: یسل اھپاز ریہ 16 ءاش لیخ جلد 1 صف 142) 

کیوں وپاٹی صا ہب ات برق ہہوۓ پاگھیں؟ 

اور رائل مشش کیاطرف سے ردامت+ہا رک اول ماخلق الله نوریکااشراب 
مصتقف عبدال زا یکی طر فکرن تار بد تین وٹ ہے۔ اگرتم یس ہمت سے 
اکا بر من الل مت یس کن ےکی کابھی زوایت ال ماخلق دل نوریکااشماب 
مصشیعبدالرزاق یی علر فکرنٹاب تکر کے وکھا 5پ رف بھی سک میں :لعدۃ الله 
علی الکا۵ہین۔ آ 

رتہار ا کنا کہ ”جب عجیب الرن بھی دید بند یک شقن ے مصیف 
عہرالز اق شا مر ۃہل برعت (مگمد لی )کی کارستا یک ل کی٠‏ 

دہالا صاح بکوھوٹ پرمچھوٹ ہو لے شر مکی ںآرب رتا 5ک یڈ خ ہاور 
کال شا ہواتھا؟اس کے نان ہون ےکا نو شود شی دید نی یکوار ارے۔ 

(دیھو:مصشبعبدالرزاق جلد | ص٥‏ 3 ٹپ وت ) 

پچ رتمہماری طرف سےقلصدد یدارسگھ کے پر یلو عال م کےڑڈے ہہ بات لگا الہ 
اہوں کیا ازم سے دپاوں نے بہروایت ثکال دگی ہے اورک راس ہب کا 
انہایی اط ہے۔ال لی ےکی ریف حد بث تمہاراغہی در ہے۔ا لک نار 
میس موجود ہیں ۔عصرف ایک راکذا اکرتے ہیں۔ااس ونم یکا کاارادہ ہے کت 
اما تگال ےدپایوں ےےامام کنارل گی ک تاب الارب ا شائح ا 
ال بی صدث از نگھ ۲ل اش کے الفاظطا تھے ۔دباہہوں نے یا کے الفاظڑکال د بے_ 

او رت ہارا کن اہی عنف اذدپایوں ن ےق یئ سکروائی گوندرلوی صاحب 











ّ-. 


9 


یسیا تنب 


پیم کے ہیں کردا ہنی بھی دہالی ہیں جشسطر تار ےشن الاسلا ھا انام تس ری 
نے ڈراو یی ام شی ںہارااورد لو بنلد یو کا ر 0 ایک ہی میا نکیاے۔معلوم ہواتہارا 
اورد یو نل یو ںکاد لی ہونا ایک سلرتقیقت ے- 

اور گرتُہارا''اول ماخلق الله نوری“ عدممٹ مہار اعد یٹ چا تر ارد ینا 
بھی نر ائپھوٹ اورک ہاریی مال تکا ہش او ما ثھوت کے 

اور مہا راالجزء المفقود من الشلن لعہبد الرزا قکیدتیال وادیا/ 
کہ بیقام“حروف مکاتب اورکتب خمانوں ےیل سکا ویر وصر ف تہارک سی 
رسول پینی ہے۔اس لی ےک تحد دح نک را مک کنب کےتطلوطا ت اب در بات ٭ 
رے 0900000 -۔اپتھہار ے چیا اکوئی جالی کے 
راس ع سے اح دکہاں سال گے ۔ بقل اغٹپارٹیس سے وگ نیل القد رہ 
محد شی نکرا مکی ٹیش رکب ے پا تج دعوناپڑیی گے۔ 

اراس لوٹ کے جا یٹلا ہت کا طل بکر ا۴ بھی تمہار یھی استداوا 
وب وا 4و دہ ہے۔ائ کا نیرز بھم نے تہار ےگمروڑ ےگ زی اور پلمواع ک٤‏ 
جواب شی سکردیا ہے۔ وہال دکچولد۔ انسنہ کے تقابلٍ اختبار ہو نے کیلنے اتناج ی کان 
ا ےا ںوروا ی رولت مہا رک لو“ نکیل الق رآ غھریر نے ای مصتف کے عوالدے انا 
,2ھ,ھء70۳۳/ ال ا 0ز ۶ ال مفنقود ٹل وجود ہے۔ بلگہال عد بیث چابراور 
رولت ٹورکا ا ما لئاز ےر محر ثٹگپدالددو یہ 1 نے یوک ال عدیٹ ٹل 
بھی مم ضف برا زا قلط فیاے۔ ٠.‏ 

اور رتہارا نکاس نے اہ کو ستخطوطہ سےککھا اور انا مع بل رز اتیک 
ا سکیتعمل سن ہو ہشہاری خودسا خ شش ائا ہیں ا نکااشا کاب وسنت ےکرو! 
بیقمارے ڈے جماراھ خر ہے ۔تھہہاریی ان خو دسا خندش را ک لپہٹ ام بھمئے 
زی گی زکی کےردییش اپۓ لی مفمون می لگردیا باے۔ہہاں ڑلواورڈوپ‌مردائمم 














ام یمیا دک 


پہاں صصرف ات اکہناجا تتے خی ںیہار نز دیک جب مجھو لکی ردایت پان زقئلل 
قول کی ہے ”نز رن یدن کے مرکزی داوئیئمود بن اسحاقی کے ول بہونے 
سے اس ےک نکر کیو ںیل مات لک ندال کیا فذ تن ھی بیا نکرد۔ ا کی یرد 
مال موجود ہیں اور پھر بے شا رکنپ مد ین ای ہیں جن کے خی نکی سند جم 
می شی نک شعم لم کی نکیا اس سارے ذ خ٤‏ حدی ٹک نگھزت تر اررے دیا 
جا ۓگا۔ثابت 6گ یاتہاراااجہزہ السسفتقود کے ال دک نگثزت ہو ن ےکا دوک دی 
ب ال ومردورے_ 

ہار ا لأ نپ حا کابادنا ابی خودسا ہتشر ط ہ ےک سکااباتقم اپنے وکوکی 
”تاب شف ت ےک سک سیت او ربچ رکاب مائل امام اجاورشرف ال صط فی وظیرہ 
دن رکیپ کےتفقن دانع کھت ہی ںکہان کےخلوطات پرکوئی ما غکیں ہے کیادہ 
ساریا اکب گی نگھڑر رات پویلن ال ۲تت ادا ساداپروگ را فن ہا اعد ہٹ 
گی حوصلافزائی ہے ا ودرا ںکی وبصرف اورصرفیتہا رک رلٛے۔ 

ما بات پان می ںکرایک رف ق ہرد لی سرد رکاننات یل ےمم غیب 
کے ارک عقید لوف فشک 2 ارد یی ال اوردو؟ یا رف خوداے م یب نے 
نے دار ہیں گونلوی صا حبپب کھت یں: 

”اتب من ز یدن مکاکوئی سھال یگیل“ 

خد ای اتا ا وک یحنورسید حا لماک ےتا مھا کرام کے اسم مبارکے 
ا لکوکس طط واقیت ہو ۔ جو بڑے دھڑ نے س ےکہردیا کرس نا مکاکوئی ععالی 
یں دہااصول م دن و ان دیو ںکوچاپےکران خروم امتو ں کے اقوا لکی 
تقلی دک کے ابنے ہو فو کی نشرل تا دہوں_ 

اودر بل راب کی غاعطیو ںکی وجہ ےنم ےک یجپول دی نگٹت قرارد ینا ا دبا 
ام ناریح ٹک جال ت کا منہ بوا شھدت ہے۔اس لے ہکا کی خلطیا ف کب 











'ھووسسجّىجسی.. 





نیما دن 


ٹس ہو رتقی ہیں ۔خداہۓ کرو ماف ش کون دای ابا سن لواو ءککھت یں: 
”اس می سکیا شر ےک رباب متصو مکی ہوتے ‏ غلطیا کرت ہیں- 


سے پیلازم می لآ اک یق ران یس ددو ہرگ وگیا کے"( خ رانا مس 344) 

کنا تی ماطبول ےتا بکا لک گنت ثاب تکرناد بای جبہاات ہے گونداوی 
کوچ ےا زگ وکی' ”یلاع“ کی عبارتٹ ڑوکرڑوبم ے اورپ نوم لکسائے 
راقو دک اشبات نی رتو مامت ں کے اقو ال ےکر ن کی جات ۓےکتاب وشقّت 
ےک روا 7 2 تمارادن وی کا ب وشقت گر لق یس مہارے دگوے 
کا طلا ن ہوگیا۔ 

ردپ لکوفدلو یکا بیکہناک لوط یاردایت کک نکھت ہو نکیل کال 
ےک کوک راوگی١‏ یں سےسما جح اورخم مث گصراحت کے سا تحیھ روا تتکر ۓ ہو 
الک ولادت۔ے پیل کل سے پی افو ت ہ گیا بھی ا کی جال تکودا کردا 
ے اور 7ر ال خووساخت اصول ےل نود بٹاریئی ام نیگھڑ تثابت )وعِالی 
ےش بای یی جیئھے ,اما مز ہری اکا عمر93ءل نز پیر ے٣‏ :قد ٹف اضراحت 
موچودرے۔(د کییٹے:ح بخارکی جلد ١‏ “فی 377:278:268ء1064:4643) 

گگرامام این تج رعسمقلا لی جھکہامام ار والتحد یل ہی ںکی تصرنع کے مطابق 

امام ز ہر کےجروہ ایر سے ما دححد ث نہ ہو نے بحدشین کااقّاقق ہے اور 
ح شی نکای بات پراناقی ججچت ہوتاے۔(تذ یب اذ یب جلدہ 450) 

گونداندگی صاحب کے اس اصول ےل چ خارلگ' نگ رر کی 
توروکتبودریٹ سے اس م وضو پرمڑا ری جاعتی ہیں ۔خو جار ےگروز یرگ 
ز کین بھ یکن مدشین می سکاب تک غلطہو کا ہو تاضلی کیا ے۔ 


(دیھو: ما ہنا الید یٹ پخروجون 2006ء خ45) 














ماس رن 


ادرگارتہار ےگرونےطرا یکیراورستر ال یی متندرک ال لو بت اسر 
الفا رب سیراعلام الا ۶ء الطا اب الحالی اتخاف ا شر اھ ءال مقصدد اع ی شع ال داد 
الاصاب ور ہلپ ک۶ا زرۓ الءزنایعٹل اکا ہے راس پروی ںکیاے: 
”اس جیے کے بیادی راو یتنفب نع بدالڈی نع م ٹیل (تت ریب اجز یب944) 

+ ین سیدنا لن ولید تو ٢۷ھ‏ سےا نکی ملا جات ٹا تی ے۔ ٦‏ 

( نف کا) سنا تد رکنارسیدن الد ٹالپ کے ز ما نے می ں فجن بدازڈ رین 

امک پیداہو جانا یہابت یں ہے '..(ماہنامالحد پٹ تعفر دجون2006ف47) 

اب تمہار ےگ روز ہی می زگ یک اس تر کے مطابتن ا مابل القدرم رشن 
اکن حعد وٹ جج کا اں نے خعوالۃیاء س بل نکھت خاہت نی و نکوائ 
مت عد بی ث کے ٹل ۔انا لہ وانا اليه راجعون۔ 

معلوم ہو اک راہ اک مکی مڑالول سےالجز: المفندود من المصن فک نگھ رت 
جا بہت کر ن ےکا دوک ان دبائیوا نکاہا لو ود اوت 

زخ عد یث کا رام ابمقت پرلگانے ےن تم نے خودعقی) ابلٍ نعد یٹ یش 
ھی سے چڑھادے را ی روا ت ضوع کو اپٹی دم تاب کے جوالرسے پاسندوماغز 
در کیا را سکوتقید سم کے :ام سے شائ کر کےا سکاب کے جوایکواڑادراخم خود 
دضّارأآعدےٹ۷- : 

چمردہاپی مواوی اکوندلوئی )کاالجز ء المفقود من '۔صئف ینس روایات سم قغ 
ےل دتا تر سے نازئ بیال نکر کے ال سک ز نٹ ھ2 اردیا بھی لم دودے_۔ 
اس لیےک نم تارق رآلن یر بجی ٹابت ے۔ولسج٘دی وارکع یآاضورت 
بی ا سکی شال مجر ہے نل ددایت ٹل درخ ٹک پیک یکا ؤکر لے موجودے_ 
د9 یی لاو رھدک یکا لو دو ندال سے ایر نھکوتا راد جا ا 

تاراب کہ ناک2 سار یلو قتضور ولڈللچام سےنورے پیداہوگی سے .تو اس 











تکرش تر 


ہے تما مکفار خی روکوشھی اپٹی بش ریت سے اکا رک کے ابی نو رای تکا اعم نکر چا بے" 
عمہاری جہماا تکا مشہ ولا وت ہے بھی آیت با حد یٹ کا ملپوم دوسرے دلال 
ےو کیا جا سک ہے۔دیکھوارشادباری تال ےا اللہ نور السمٰوٰت والارضص۔ 
وکیا اب ز ین وآسمان کے رہ ےکا دگوکیکردہاگیا۔ جب ا نکا در رب تا لی سے 
ق فو رکیوںڑیں ہیں او ری ےس ار یلو قکرافلبق زتشیل ہے۔ بات تمہاری 
گنک وتہاری خا ثت پدال گک۔ 

مرا رواب ت ور ہا رک اٹ رآن وشت اوراماد مث ”ا7ہ کےغلا فکہتا 
تمہاری جہاات ہے۔ااس ےک دسول اکر سلپ کی بثر یت مبا رک ہکا ہم ن ےب 
اارگیا ہے اورک با بشرىی بیس جو وگمری فر مانا آ پ ای نورامبیت کےکب متشاد 
ہے۔دولول ٹزو کا ابا تکاب وسنت سے ما ہت ے بل الجیزء المفقویگی 6ض 
روایات ہے شا لو رہونا ا ہیں کی ا ے۔ الہ ڈراتمہاراالجز ءالمفقودرڑے نگ ث۱ 
ہو نے کا دگوی ا مل وم ردورے۔ 

رردای تکوفقظ رکیک الا لفاظ ہو نے ہے وضو ہو ن ےکا عم لگا نا بھی دل 
انز اع ہے جوکہ لوم ہے ہم اس جات پر جوران ہی ںآ شرکھو فک بھی حدہوٹی ہے 
گمرد ہاو ںکوئچقی بی بپ لا ےک یتم نے اپنے ہر ڈوک کا اشبات بی مچھوٹ س ےک را ہے۔ 
ا نکادوگین کاب وت ےگ خی توم امت ں کےاقوا لک تار می سنا ت کے 
صفحات سیاہکر کے اپنے دگد ےکا بطلا ن خود ھی یی کر سے ہیں ۔ پچھرامام ان تجر 
عسنقلالی نے ''النکت“ می اورخدتمہارےگرو امیر بمای نے 'ف وش الا فاگش 
تمہارےاس دو ےکور دکردیا ہے( می فتط الا کی راک کو ) 
اس ےل چم نے مولوکی ذ ہی کی دالی کے شمون‌الجمزہ المفود کےردکا 
ہی پیٹ مان مکی تھا۔اس کے بعد می مگوندلو یکاممون شا گی ہیا احہاب 
نے ا کی عرفکیجردلا گی پگ وتھالی ہم نے ا ںکابھی خوب تا ق بکیاہے۔ ہارے 




































رس 


جے من 


ان مضا ش۲ ن کا جواب دہۓے ٹل د ہاو نکوچا ہ ےک اپنے دگڑے اورخودسا دش از 
کاب وت سے ہاب تک ںوگر نٹہارے جوا بکو ہاطل دمردد مھا جات گا 

رسوفیوں پیر نے ےگل اپ اکا کا اٹ مکرد جوا صسوفیاوکرام پت کےتو کل 
ےد یھی ارت ڈیلںات ہار ےبچردڈو اب صید 8 تس نگل بایان ححخرت اکر 
ٹا کے وسال رت دعاکی ہے.۔(اتا جا مکل مل ۱76) 

دی صوفا کرام ہیں اشن کے ذر یت پرطرف اسسلا مکی رشن یی ہے ۔جس 
کاائر انہارےٹخالاسلام ٹا ارھتس رکیکوشیا ہے (ا دی الد ١‏ ف151) 

ان حخرات پ بر سھنے کنل اپےا 1 ب کے ان ھالہجا ت لاہ ۶واورڑوبەرو_ 

سردرکا نات کی نمی میں بد بای اس ندرا نر ھے ہو گے یں کڈ تر عدیٹ 
کےخلاف بی انوں کڑی شرمنا کٹ شرد کا ہوکی ہے ۔کگویادربردوریخوشگرن 
تم رن دحد بیٹ یں ۔ اد پر سے اال عد بیٹ ول کا دوگ ا کا پا یل ومردود ےرا 
اوررسو لک اکا غراورول کے دن این کوبکواں ار ے یں۔اکا لیے وراییں کےمماوی 
مح مین بٹالوئی نے اپے رسای ا شاعۃ لی سکہاتھاکرد ہل یم ک تام کوککچے ہیں - 

جس ق رق لد مع فی کے خلا فکوششیی ںکرتے ہواگراس قد رکش معائش ری 
برائیوں کے خلا فکرو یا مش کین ہکفارہ رددایں عیسائیوں کے خلا فکرو کیا مہشرزہ 
ہام را نکوائ کو شس سےکیاسردکار۔ دو شیطان ؛کحو نکی دک مس رسول پا کٹا 
کیلمت کےغلاف نام آباد چہاوکر ریس گے ۔ملا مان ص لف رکفردشرک کےفنڑے میں 
گے۔جارے؟ قاوم وٹ یمام لوم اکا ریے بد بت پیداہوں گے۔ال لے خودجی 
فر ماد یا اک ہیر ک کان کی (میرےملاموں پر )لگانے وا نے نودنی مرک ہوں مے_ 
۱ (دھو: تن حبان جلد 1 صمہ 248 مسند ایز ار (کشف الاستار) جلد 1 مہ 199 مشکل |1 عار 
جلر 2 صف 324ء انم اکی ملاظم رای جلد پہ مہ 98, سید اشامنین جلد د صفہ 254 کاب العرفۃ والا رت 
جلد تفہ 458 بی رای نکش رجلد 3 صفمہ 265ء جائمحع السانید وٹ ن جلد 14ص 301) 








می ماب تر 
کک ٹس سس سسے۔ سس لا 

رو تضورسید وا لم کے لا موں ائل نت اسخقت و بماع تک تقاخیت ے ےک ناکد 
اٹل مت کا ابا کاب وسنت کے سا تسا تح خودان دہالی اکا بر گی خابت ہے۔ 
تی سے شاکین ہار یکتاب پزتضورسید جا م “ٹفل کی ) ورا غیت ایت 
مطالر باتتیں۔ 

دا ےک موی تی ان عجی بکرم ملا کے سیل جایلرت مم بلق امت 
پراننقاممت عطافرماۓ اوران معگر ری کاب وشاقت کے شر تو نف ما ۓ اوران 
کاخوب تھا قب اورنا طقہ بنک رن ےکیا ذف عطافرمائۓ۔ 

آمین ہجاہ سیں المرسلین عليه الصلٰوۃ والسلام۔ 


×80020٭0٭ 
ود وٹویت 
1 














سے 


دک 


مصن فکبرالرزاقی کےا 4ر ا مفقو دپردپالی رای 
ارشاوائکن اٹ ىی ےون کا شفیٹی ذخقندری جائزہ ۱ 


نحمدہ ونلی ونسلم علٰی رسوله الکریم اما بعں فاعود الله من لشیطان لرجیم 
7 ال الرحمٰن الرحیم 

الجزء المفقود من المصتفِ لع الرزاق ہی جب سے اشاعت ہوگی ہب 
سے دبا کے پانعصف ماتم جھی ہہوکی ہے۔ سب ستےننل وہاہیوں کے نام نبا محرث 
مولوئی ز می کی نے اپے رسالرالی یٹ حعفرومیس انف کا اظہارکرتے ہد ئے 
ایک شمولن‌الجزہ اللعفقود کے ددم ۰ رب رکیا۔چکرمولوکی مک کون دلو نے ایک شمون 
ت رمیکیا۔ ج شی ائل حد یٹ لا ہودوظبرہ یس شاک ہوا۔ و رالاعغام لا ہوراورىرٹ 
لا ہور ٹیل مولوئی اردان اڑ اورراوٗدارغدکا ممون شا تع ہوا موا وی ز بی ز گی 
اورمولوی گن گوندلوی کے مضا می نککار 3 مقر نے اپنے مضا ین شی سکردبااوراب 
تمیسرےےو بای حر ٹک ا شت و چچہالل کو شکاراکرنا ےت 

۰۰ مکی بات ےک یتضورسیدعا یی مت دشا نکوبیلوگ اہی ےآ پکو 
مان لی ائل ری “کملواکرگگی برداش تی ںکرۓ بللہ یا ر٢فحات‏ سیا کر 
ر ہے ہیں۔ا ےکا ! جلئی مت ان مض ین پر تے ہیں ات مت بیلوگ معاشرنٰ 
برائوں کے خلا فکرتےگگرائییں اس سکیا صردکا ر!انہوں نو خود ہے حیاکی کے 
ٹروغ میں خو بگرداراداگیا ہے۔ 
( وا کیل فزگی لا برا جرف الد :خیش پیکلا بین الیل بدورالالیۃ ہلل الطا اب تھی اق ہیں ) 








می مجاس ری 

انا یرت کے کم داراعق نے عون ےم کیرات میں شودحیت 
ڈاکڑش یبن چھ ناک بداللہما “زی پخوب مضہ _یال ےک یی نمو مکی ہے۔ وج 
صرف بک اہول ےمعکارت ونورامیت" صطلٰ سے اظظہا رکیل ےکوشیش فر مکی ے اور 
الج زء ال مفقود من ال مصنف شف فر اکراا لک اشاععتکابندواستفرایاے-_ 
موصوف مور ث کول نکا نشانہ بنا ناد ہاب کی نموم کت ہے۔اس لی ےہاگ رفو رایت 
مصع لی کےاظہار محر ث امہ ری مود ورام ہیں تمہارے وہای اکا رن ےھ تاس 
کااقرارکیاے تع لکیلئ مر کاب فو رایت دعاکیت کا مطالیگ میا 

پر بیکہناک فا ل جخرات نے ا لک نکھت تق راردیاہے۔ ا لک کیا یت 
ہے سکیا دولو کت شرع ؤں؟ با رعلاء| سکوقول بیو کررے ہیں م۱9 گی 
بات پھراك ڑنا ہک ایک طر پیل التقدرئی ار بک یتقلیدظہارے ہاں شرک ےا 
ان لوکوں کےاقوا لک لی رمل‌الجزء المفقود من المصنف لعبد الرزاای 
گت قرارد با تمہارادوفلہ پ نکیل ق کیا ہے۔اس سے اذ تم خوداینے موم فق کی 
”مرف می جا ہو۔ 

پچ رواوکی ارشماداْن اش کی نے ابتقداءیں شخ حعد بی اورکناوں کے خلطذ ا ناب 
ک5256 رک رہ آ نم کے عوالم کیا ہے دای ےیل کب اٹکارے کہ ما رکذ اب لوگوں 
نے پیکارستانی دای سے مگگرمولوی ارشادان اث کیا نے اپنے د ہل جب کےا 
وط ہکا زکرم کو لکیا۔ عالالکیہ یہ امت الک کنتب سے ہابت ےک ضوع 
روایا تکو با کرناء الع سے اصتقد لا لکرناءہکتاہو لکا خلط اماب خوداسی وہای نہپ 
کے نمو مکام ہیں ہم زیاد لیریس جانا چا ۔اس لی کہ یشون اس 
تقو لکا حم نہیں ہے ہ رف چند مع دضات ڈی کی گے۔ 

مید؛ٗرخ ینا یں درا یخلافیا تی ےا ایک ضور‌روایت ےا ترلا لگیا 
کرت ہیں جس میس بیالفاظط ہیں: 











ہما 


کے 

فما زالت تلك صلوتہ تی لقی الله 

یبعامت٣ضورں‏ ےکی اگ روا تکوخود اما تلق نے موضو جاوزا ال تار 
دا ہے۔ائس یس دوراوئی ہیں ہدالرشین بن تق لی او رححسمہ من مھ ا نک رن 
تن ےکنذاب اور وضارع قراردیا ہے۔عحبدالریشن بین تق لی شکوامام ذئیی اودامام این چم 
نے خدیگی ںکڑ ے والاٹم اندیا ےن ما بادامدے۔ 

(ونیکھپے :میزان الاخترال جلر 2 ص582 :مان الم ان جلر دس 425) 
عحصیر ب نگم رکویی رش نک اب اوروضاح عد میٹ تر ارد بے ہإں- : 








(یزان‌الاکترال ہلر دس 69) 
خیب بغداد یگ ا ےل ڑ اپ اوروشا بأآمدمٹ کے یں۔ 
(جارںبندارمل 12 “2 286) 


امام ائکن جو گان ےآ مم کے جوالرے ا تک اب اوروشارأ عد بمٹ اورم وک 
اللریڈشٹم اردڑاے۔( کتابلضعفا روا وین جلد 2ص )٦76‏ 
اما می ےکی ا ےآ مم کے حالہ ‏ ےک اب اور وضار] عد یٹ آراردیا 
ہے۔(نتاب اضعا مکی أعفیلی جلد ن3ص 340) 
وق اص شوکانی وہای نے مہ زان خگ کوک ا ب اکا ے۔ 
: ز فا :191,67 ٢‏ 
دای مث البالیٰ نے١‏ 1 حمصسمہ نج رک گرالری ٹکہا ہے 
( لمت الا حعاد بث الفعیبہ وا وضو مجلر 1 سئ265) 
اورگپرالی بن اق رم أاورضار) عدیٹ نگم پاش تراردیاےاورا ای اک 
روای کو وضو رٹم اردیاہے-۔( ط1 لاجر 2 خ228) 
مولویعبدالرووف نے ای ردابیت می ںآ خ رک اضان ےکو ہاظ لکھاے_ 
۱ (انقولامقھ لس 414) 
ال ردای تکا موسور ہوا خا یت وگیا۔ ال کے علاد وی مر یرد لال ال روایت 

















رس نف 


کے موقموع ہوے رتفوبا ہیں گرا رم نکرام! تک بات ہ ےکد بای تکگا 
١‏ ریمگری میں ا ںمضوعغ مرمٹلآرم بھی بڑی شروءر ے بیانا کیا چارہاے۔ 
مولدی صادق کوٹ وہای نے صلو 2 الرسول( صم 2332) مواوی :مل 7 دبا ی 
نے رو لک مکی راز ( صفےہ 51ء مولدی حا ذظ ش ہگوخدلوی وہای نے اُشتت الرارح 
(صفہ 56۔5 5)ء مولوی و نمی نگ ر جاکھی وہالی نے تر أمعقین ء مولوی ز ہیی ز تی 
ول نے ور شقن (ط 243) ٹں ا رواٹ ے امت ولا لکیا بےے۔اپ بل 
وہای مث ارشادا کوجی بتانا چا ےکم ضوع روابات ے اتد لال اور ا کا 
فرور مک نکا وطیرہ در ہے اور ہے اود راس پ رع یاستم کہا موضورح روای تکو 
ثاب کن ےکیلئے دہاہہوں نے بڑ ےگھوٹ ہو نے.۔ د پکھت مولوی فو رس نگ جاکھی 
ال م وضو روا تکو پیا نکر نے کے بح دککھتے ژں: 

2 سان ال ایی پیارگاررگر×عدےٹ ہے۔ بی کو چیا یں ہے 

لف کیا ہےاورا کا اسنا وکا عو ہے“۔(قر این مف8,و) 

اب دہائیو ںکو چا پےکہاس موضوع ددای تکو با نکرنے دا_ے چھاس 
آ نی فہرستش کپ حالہ انکر یں وگر نیم م یہہ کت ہیں : 

لعنة الله علی الکادیین۔ 

پر مولوی ٹور نگ جانھی نے عیجھوٹ موک اما مکی بن میا ٹ ےکھا: 

”بعد ث ام سلااں> جت ےاور بہت ے۔ ہا مسرائوں 

پہ رش بل ینعکرناواجب کے '۔(قر این مز و) 

ربا پکطرح ٹے الک جاکھی نے بھی اس موقسوع رای تک وا برت کر نے 
کیل ریکجھوٹ بولا: 

صا ح بآ ہا ران نے۱ ال حدثٹ پا با ںکیا۔یااے درست 
یی ہے '.(جز مدق ینف 17) 






ادجووکووچھٹجکجبج ینتک 
یع تر 


حالال رٹ نوک صا بآاراسطن نے اسے موسوم ق مر اردیاے۔ 
(1خاراسط نف 281) 
چمراس خالدگرجانیا نے اشبات رخ بلگ نکیل ال م ووع روای کو خاہت 
رن ےکی ےک یاکیاپاپڈننٹس شیلہ ادرمولوی پوسف جے او دی دہاٹی نے ذ عچھوٹ میں 
خیطا نات دیااورائسی م وضو رواب تلوڈ.زٴ شی گ۵ امت کاب برا کے والرے 
تراردیا ے۔(ضیت یں )١94 ٣‏ 
”ھم سک یک ہراب کے توالہ سےا موضور ردای تک با نگرنادپایو لکا 
تین گھوٹ اور بدد یا نی ہے ۔کوگی دہل یا ہے جو ااس حوالہکواص٥‏ ل کاب ع بی سے 
ٹا لکردکھاۓ_ 
قا رت کرام ا م وضو ردایت سے استند لال اودا نکافررء یرد پالی نہ کا 
وطیرہ ہے ج سکوارشا دن اٹ کی نی رک کیج ی زلونمکی ہے۔اختقمار مان ے 
وکرنراس تعن فو ہوکنی ہے۔د کت بک خلا ساب ذ گی دہالی اکب رکا ہی 
شمی دہ ہے یہ اک رشادوکی اش محرث دبلدی چپ" کی رف ابلاغ این وش رکب 
00 2 سے۔ 
ہکتب عدی کا رف عالو ںکا فلط اما بھی اکا بر وپالیٰ علا ءکا ر یتہر ہا 
ہے۔شلا مولوی ھا ءاللدا تس رکی نے ادا تی جس سے پہ ہاتحد با ند نے ددایا تکا 
بماری سلم اوران کیاشردحات س بثرت ہون کا وو کیا ے_ 
(ف وی الد 1 مل 444) 
عالاکہبفارک لم شی نے ے پ4 اھ با ند ےک ردایاتکا بر تہونا و رکنار 
لک وع ان ہے۔ پرمول ںی عیب الرٹنن یذ داٹی نے خطبات 
بزاٹی یمام ہار کک بفار کک طرف ایک پش باب ال سہ علی الجوربیں 
کی تی ہے۔(خطبات ی:دالی جلد 1 ٣”‏ 234) 




















سے سا 


دی 


عالاگلہ بینگا دای د, الیکا پر ری نع لاٹ ے۔ ےکوی وہای بخار١اے‏ 
شی باب دکھا ےکیلئے تار !ا 
وایوں کےمجھوٹ اگ ا نک یکتب کے حوالہ جات ےاحھوں نو شد روا 
ہوجا ۓگ ۔صسرف ارشاد ان اش کی کے اپ مجھوٹ ملا جک یس اک ہآ پکومعلوم 
ہو کک دوسروں پ رکب دش کاالزام لگا ے والاخودہڈ ےل اپ اوروشًا بے 
1 ارشاداعی اٹ کی لح بن اش کی روا تکوںح کے والوں میں امام تز یرک یکا 
بھی نا مھا ہے( شی الام جلد 1 مہ 222 جلر 2“ 351) 
ما داننأٹی کے جوالہ ےی ای رای تکوڑ را ے_ 
(تٹ اکم بر ٣‏ ز5د) 
ا ھا کےجوالرےاے کہا۔(حلہبل) 
امام منزدگی کےوالرےا یکو اکہا-(عالہ۷ا) 
عاانکہ یرس بجھوٹ ہیں ۔ال نآ نے الدہا ےلت کےلفظ سے ہرک نککھا 
اورۓا کردا تلم تمراردیااے ‏ پھر دکا 7 ہو من عد ہٹ ےم ہو کوک 
مصتلزم ہے۔اورا نآ مہ نے بی ہرگ کہا ہے۔ با یا صاح بکاب تی نگچھوٹ ہے 
2 پچھرمولوی اثر ینےککداے: 2 
”امام ہار نے بفارکی یں اس( مھ ر) کےنرد پا مکیاے'۔ 
:‪ (زش انام ملارقدص63د) 
عالاکہ یھی مولوی ارشاد ا ککامجھوٹ ہے محر کےفرد پامام فارگ نے 
کا و کیا گرا ک ےفقو لکیا ہے ءاس وعہ سےا یفاک رات زا کیاگیا 
ہے۔ائ ںکواماغ این رمستلا لی نے بیا نکیا ہے.(د یھن :ای جلد 1 صف۱۸2) 
امام امن ار 7 اگ ۶با ر تکوخوددپال ی یر ٹکپڑ تن مار پور ےکی 
لک ر کے یس کو تکیا ہے( جفت الا حوذ یی جلد 2 “فی 321) 














(لمی محاسی)ا توف 

اکا ذکربی کیل ا نی پیا نے کی کیا ہے...( حر اارکی جلد 23 ”فی 296) 
3- مولو ارشادان اٹ کی نے مھ ب اشک کےدفاغ می سکم اکیامام ما لک نے اے ہچ 

کذرا بکہاءامام کی بن انان کہ اکر یکلام مل کی متا ہامامنا نے 

9 میا دو ٹیش ے۔ ھا 7 تال جلد 1ل 240) 

حالانکہ پمولوک ارشادال٦‏ اٹک یکا تین وٹ ہے۔ ال ےک امام این 
مم نکا یکلام مجن اشن کے بار یں بل وشظام بن مردو کے بارے میں ے۔ 

(د یھن مارآ افدادمجلر 1 “فی 4۔223) 

لہ مووک ارشاداکن اث کی نےگھ ناک زی او یکا ان شا ین کےنوال ےنات 

یا نکی ے۔(7 الام جلد 1 )٥66“‏ ٴ 

پگ مھوٹ ہے حالانکہائن شا ئن نذ کچ نک امام ا بن صا ا کے 
بارے ھی اراۓ رکنم جے۔(تجزب اجد بب ہل 9ف 345) 
اس اش کنیع داد یو ںکوسحارح تر دراو کہا۔( انا بلردیسطے 7۱۱ 

عالا الک یگ بھوٹ ے۔ان باور+راواوں ٹش سے اداد کول صحاں سن 
کےدرادکی نیش ہیں او برا کی چہال تک یبعالی ہ کہا اث یکو تابھی معلوس ہیں 
کرام زان ک تاب و تع ہے باون راشب لت کواماٹکتازا ی کیک تاب 
زارد جا ے۔(7 1ا ہلاد ۳ 095) 

عالائک ا نک کاب وع ہے جو تیر ے۔ 

اوچھوٹی مرش ںگڑ ےکا کا یا الندہاوول کے اکا بن ےکیاہے۔ د رھت واوی 
اسمائیل دہ بی نے ضورسیر جا م 7 اکاطرف ضو بی اہ گا ایک دن مر 
می یس لے والا ول( تی ال ران مز 61( : 

ہےکوکیاد ہا ببددایت اعد بیٹ دکھا بے کیل تیار!! 

چار مین کرام !اصل میں وضار عد یٹ٠‏ رن عد یٹ اورگز اپ بد ہا ی خود 











نس دا 


ریز ورگ ےن 11 الہپ الڑااتدصردل پا رم یں۔ : 

مولوگی ارشادائن اث کی نے اپینے خودسا شندلال ےالجزہ المفقود من المص فو 
م گت ا ہتکن ےک یکا خر مو مکی ہے۔۔ حا لالہ ا کو چا زہیے تھا دہ م وضو و 
می کر تک بکیشرائیا داصو لکتاب دخدرں ےاکتاء ب4 اتی با تگلقا۔ 

مکچے یں جبتہارے نذد یک اکنۂ ار کیتفلیرشٹرک ہو دم رم می نکی 

دی جانڑہے۔ 

کا بفلوٹلے میں سماغ کا ہونا ضردری ہے کہا کاب وسنت ٹیش الس 
شر طدکی اص ل موجودے۔ 

او تہ را کہ اک حر ثشگ ےکی بن مان بھی اس یلو ۓ الجزء المفانود من 
الس صدف میں ہیں ۔کپااس سےا لوت کا مک نکھت ہہونا جا ہت ور | 
ہے۔او کچل راگرو ہا رے سا ئے ال الجزء المفقود پ> عفن ہوجا یں ا دکیاتہارے 
زد بک پر الجزہ المفقوڈمتجر+وجا ۓگا- 

رہا سا کا کاب پا لوٹ پر ہوتا وددەٹی نپ مح دشین الییا خیں جن تین 
نے دا کھاہ ےکراس پکوئی سما نیس ہے دیکھوس ال الا مام اتد وشرف امصطفیٰ 
ویر ۔اگرخہارے اس اصسو لکو مان لیا جائے ذاش سمارے ذ نر٤‏ حد یٹ سے اھ 
عو اپڑ ےگا تح دکتب کے اس ء مہا کہا موضضوغپ رھ جاسکتے ہیں 

رتہارااس کے نا کی ثلابت ۳پکفشگوک بھی یٹ سدد ہے پیل ہیں اپنے اس 
اصول پر نظ ری رک ہوۓ دو رنب کے بارے بی نظربراپنانا چا بے ہکہ ہرگز 
تمہارا نظریگیں ا ا ہزمرغح 7 بین اور رز ٹرآ اقم لوگ امام بٹارل گا ف 
ملسو بک ر کے پواان سے اس تقد لا لکر تے ۷و بی کہا لکا ناف یکل رف ا کا 
رک زی رادی دومن ا حا بی ول ے۔ا ا کی نا ہت تک ہارےاکارے 
اصاغ رثا بت شر گے یہار حرث ذ بوۓگی کین بھی اس سے مان چٹ ان ےکی بی 














می محاسب) رو 
کوٹ کی ہے کیوکص رق فظابہت ا لکتمہارے !یس میس ہیس ہے اق ا نکتب 
ےکم ہہاراامتندلا ل ہار کے نیا لود رودمزا۔ 

پر مولوکیاز ہووگی کی نے جز رض بد ین جوش اک کیا ہے اس کے :ان کا یمک یں 
ہے۔ جس کا نا تہارے ول ٹیہول سے دو م نگ بت را ہس کے نا ای 
پنڈیں دو فائل انتپاشہرا کیا کی تہارےالصاف کے! 

را ہا را لزا مفقو و کے نا کوچول قرارد ینا فو ہرک میں ہے بت ہارے 
مگروائ نت زم نے قواا مز نر یکویھی بمبو لق اررےدیاتھا۔ 
( یک ھواب نز مک تاب الا تھمالی :ہاب الف رگن جم کات کر میزان الاعتا ارت جب اجذ جب مم وجودے ) 

اش لہا سار یق ربرہی ن قابلِ افقبار ہےاورہچھرممپول سک تتا ق نم جوکلی 
وا نکررے ۶ا ال کا ابا تشگ کراب وسنت س ےکر دوک رشراپنے ذگوگ یکا للا نگہاری 
ایک رین ےکردہاہے۔ می ہم کے ہی سکہد ہا ی ڈوک ق رن وعد بی کان ھکرتے ہی گر 
تق رن وحدبیث سےا نکادورکابھی واسییں ہے او راگ رق رن می سے استند لا لک 
با تکرتے ہوفذ سٹو اق رآان یر نے فو مسلمان کے باارے بدرمائ یت کیاے۔ 

(دیکھسورۃ اگج رات ) 

3ج ب کلت ہارے پا الجزرامفقو د کے بای پرجرں موجوڈنیش ہا تماری 
سماریتق بجی یدگ اور قابلل اظبارے۔ 

رتہارا پناک مصنف کاب اوراہواب کھت ھرج بک گئی ےگ را لج 
مفقو دی سکیا بکاعنوان بینیں ہے ۔کیا ال ےکا بکام نکھت ہون غابت 
وجاتا ہے نو دیلیل القدرآ بح شی نکی اعاد نیٹ پ۰ با بل باند ھت یاصرف باب 
کک رمنوان نج کھت فو اس سے بہسار یکنا لم نگھزت خابت ہو جا نی گیا یہ 
تہاری جباات ے اورصرف اورصر فتہاراخررماختاصول ہے جک کا کاب و 
سن یسکوگی مو ہیں ےن کو یا از امفقو ر‌ پرتہارادشوگی م وضو وی نگثزرت 















(قلمی محاسا در 
و ےکایا لوم رورے۔ ٠‏ ) 

رہ را لجزمامفقھ لو ٹے ٹیس شثائل احاد بی ٹکوکنابت کے تسا کیا وج 
سے۷ نکر تکرنا بھی ال ہے۔ااس لی ےکمہ یہ اصو لپھ تھ ہدارا خو دسا ختد سے ۔کنب 
عدیث می اغلا کات ہوٹی رپقی ہیں ج نکی آ نمو رشن نے نشاندجیبھی فر مکی 
ے اور جو یرمحرو فکتب ہیں وق ف تنا ا کی اطلاغ ہو ہی جائی گر اس سے 
کا بکا ا گھٹت غاب تکرناتہاری نز ورگ ہے کم ازم ا کردا ذف کون دلو اکا 
کاب الام( صفیہ 344) سے ا یکتب عد یث مس الا طکا ہوجانا پڑھ لت ۔ 
۱ لغم نے خودکب حدیثٹ یں زیادت وتفی سکاذکرا اک 7 تی الکلام نی رش 
کیا ےت کیا سار یکپ عد یٹ نگنزتشابت ہیں( معاڈالل) 

ارک میڈ گی ایس اودکیا ہے مگ رین عد بث کی حوصلہافزائ کی تو 
کیاے۔ 

اسادڈیشن یل تسار ہوجانے س ےکنا بک نگھزت ثاب تک نان ری ججباات ہے ۱ 
ا خاش تکا منہ اوت شموت ہے۔ ال طرر کی خلا لت کنب صحواح ستہ ش بھی موجود 
ہیں ۔شلا دیکھوامام نار نے ایک سند یوں مان 171 پت 

حدثنا عبدالعزیز بن عبداللّه قال حدثنا ابراھیم بن سعد عن ابیه 

عن حفص بن عاصم بن مالک بن بحیداقہ( جج بفاری جلد ۱ “ف91) 

عالاکہیهرتا شی ہے۔ اس لیک سی عبدانڈ کی دالدد ہے ٹہ کال گککا 
عا لالہ امام بارگیانے اسے با کن ککی داد وت راردیا ہے ۔ بہامام فارگ ال ردایہت 
میں کے ہیں: 
کت ر لا و الاردیغال له اك بن بحینذ ات رسول الله 
صلی الله عليه وسلم رأی رُجا۔(عاء۵) 
اعد ٹکولمام مار نے یا لک ےردا بمتگیا ہے عالاکگہبیددامت ءا لت 

















می مھاسجا 


سک 


عراش من ما لک سے مروی٤دے۔ہا‏ لک مرف پراسلاممجھ نیش ہوئۓ تھے 
اام سم ءضماکیء این اجہ ے "گا بہردامت با نگا ےگ را مس میں بیغلطیا ںگیں 
کیں ۔خودامام این جرح تا ٹین ےککرا سے 

5 ردایت بل دوچل و ہم ے۔ادل يدکصسیرعبرا شک والردے 

رک ہنا ل ککیا۔دفسرا ےک یھالی اددرادگاعبدائؤں تگ ا لگ“ 





کیاتہارے اس خودسا شتداصول ےی بارکیک نکھت ثابت ہوکئی ہے۔ ال کے 
علاو ون افلا نپ محد ٹن وحد یکا حوالہہم مولوئی ز یی زی کے رد اہ 
ممون مں درن اکر گے ہیں۔دہا لد کاو۔ 7 کے علادہ بے شماروالہ چا رت مو جود 
ہیں۔اختقمار ماع ہے وگ ناسل پرایک سو مقا لگ زیکیاجا کا ے_ 

ادا یک کہ بن الاذائدالجزہ المفقود من المصدف ٹل پا 
رواات ہیں ۔ بای دا مصنف جس ای ک بھی ردای نیس ہے اور ا سکوقم تے الجزء 
مفقو د کے بقتی ہون ےکی ویک بای سے چک با ال دمرددد ہے۔ پت اپنے اصول 
کا شا تکرداسل کے بعد بائی با تکرو کپ عحدبیث می ق2 اییائجھی ہوتا ےک ایک 
رادگ گی ایک تی ردایت پور گکتاب مل ہو یاددیا پا ہوں یا ابتقراءٹش ہوں پاٹ 
یس ہو گرا سکاب کے یم نگ رت ہد ےکا دگوگی ا ےل 

چمرانطاع سن دکی چندمثالوں سے الجززم لمفقو وکوش نیگڑزت اب تک رن کی 
ڈرائزو کی ٹورف ہے۔انتطا رج سن کا محابطلو ڈیر رکب حدریكگ یل موہودرے_ 
لغ بٹاری بھی سے یس کا حالہمززل کے رد میں دے جے یں گار 








سی سیت سے روب 
سماراذ خر عد بی نت ثابت ہو جا ےگا کنب ححد بیث شی سن دکا انتطاح پت 
یں اٹ یکن ہش نے الام وغیرہ می پھ یلیم ہے اورقضسہارے دمگر اکا برکیشھی 
مل ہگ راس سےان کپ کے گن گر ت ہو تن ےکا دوگ اض وم دود ہے تمارے 
روز گی زی نے متودد ول حورےث سے ایک روایت مل انتطا رح سن ھکا وک گیا 
ہے بداو یکا صعا کی دفات کے بعد پیدا:ە نمیا نگیا رے- 
(دیو: ماہنا اید یٹ ضر ن2006ء) 
گگروپا لکتب حدی ث کا نکھت ہدنبیا نپ لکیا۔آ خرکیوں:او ربچ تاب 
یں وو روابیت کا جانے کاب وقسو ماب تکرناو ہاو لکی سید زورلرے_ 
71 7 را مفقو دگاددایا ت نو ر شس نقنارشل جا تکر نے ی۰ گیا مل می تہاری 
جات پردالل ہے۔اس لیک اگرروایات شش فقزم وجاخر سے تارٹسش خابت ہوتا ہو 
خرن بجی والسجددی دا ر کسی کیا شا بت ہوگا۔امصل شیں د ہہیا نی کے 
مل پوت برا لارحعد بی پر پڑے مج یی ہیں مبگرائل شرقت عد بن غکوھکرات ےکی ہیں 
پت ال دقلیق یرہ وع کرت ہیں۔ 
اپنی خوابشماتفقسمانی کی ما طرانکارحد یث دہابیو کا موب شفلہ ےش 
دہایوں کے محر ثگبدالشددو یڈ اے 7 نے سوا لکیا اک نورسید ع لٹ کے اعقیار 
گی گٹ ی دوڈمازوں کے پٹ ےکی اپازت پقول اسلا مکی رواعت حدےیث ےا _ 
ری 
جواب دیا:بیعد بیٹگلوٹ ے پک یناب میں ہے۔ 
(وزا وق ایل حر مث جلد 1“ 397) 
حالا ا ہے اوروروا یتم ندامام اتیل موجودے- 
(سندا امام رجہ ف2ط رت لد سف 336" ئ گور اٹول ) 
ان رولیات لور لبق دے دی جاے۔ می اک آ2 تحٗشین نک ضوت 0 














یک 


سے سس ات مو یا 
اولیت مفیقیہ نو مرک یکو حاصل ہے بائی اشیاءکراولیت اضانٰ-ۃ يقائل داد 


گا اور ال صورتے یں تفارش جابر تکرنا دیو ںکی بالات وخباش کا مث ول 
ٹھدت ہے ۔خودی| کی ددای ت ٹورک سدلوبظاہرم بھی اسلی مکی اہ ے پل راو رکیاجا ہیے۔ 

را الفاظکا اختاف''ا موا ہب لیلد ہی اور“”الجزم امفقھ میں و اس ےبھی 
کاب کا نکھت ماب تک نادئیو لک سیندز درگ ہے۔ جبہمخوں کے اختلاف 
کی وجہ ے الف کا اشتلا ہیں لیم ےا اس کے باوجوداس پرشی ربہونا اور ا ںکو 
م نعکھٹت شاب تک رن ےکی دل ہنا پل وم رود ےا ط رح کےالطا ظکا اشتاف تذ 
کتبعد یثوح رشن یل جات ہے مگ را ختلاف الفاظ کا بک نگھزت ثابت 
کمرنادہابیو ںکیخودساخشرط ہے چک ہا الو دورے۔ 

من میس اقطرا بکی مال سکب عدیث یش بیگار ہی گر کل ینس ی بھی 
مج کرام کےگرد کا یں ےکا ای کاب کو تثابت بوجالی ہے۔ بے 
زیو کی شبات ہے جوکیمتت رسول اورحد پیٹ رسولی کے خلاف ا نکی رکا من 
و0 وت ے۔ ۱ 

قا رئا کرام او ہاو لک فیا ول اس سے داع ہورہی ےکرصرف منرت 
روگ کے اظہار پر دپایو ل کے ہا لصف ام گی اور یی صورت ما کیل تار 

الجزء المفقود من المصدف کے مجر ہو ن کے اتا یکانی کیل القرر 
آ نم دش نکرام نے حد یٹ و رکواسل مصنف کے جوالہ سے بیا نکیا ہے اس الجزء 
فقو دیس باسزرڈح موجود ہے۔اسی الجز ملق رکے الفاظہ سے اس روای تکوش ان 
ابرلینے لو وم مر اف لکیا سے مگرستیا ناس ہد با یک یگندرکی ذ نی کا رحظرشت 
مصشلی نہیں ایک گی ہکیل بھ یٹنیس بھاتی ۔ اس موضوغ پا نکی طرف سے جن 
مفراشن شا و گے ہیں۔ بجر ہتھالی ہم نے نینوں مضا نکاپسٹ ار مکردیا ے۔ 








تیچوں نضا ۲ن می سکافی دلاکل خودساختدکیہما شک تاچھی .ام لیےز یاد یل پیلشمون 
یں یا نکردگا ۲ .د9 ے دونوں مضما ین پرمز یل ےکا مہوت ےگ رہم ۱ 
نے اخنقمارکوظارکھا ہے۔دہایو ںکو ایک اپ خودساخت مہب کے اصولو ںکو _ 
رنظرییاس اوراگ پاب کر چا یذ صرف اپ وٹ کاب ذسنتٰ کے مطا تی 
تر فکاب وسنت ےے ای ٹا یک اوریا یک کے اپے بقول شبطان مل ۔ 
ناریا یی ولال ےپ رپ رگد نے فاب ت گیا الجزہ المفقودمن 
المصنف بات ز۸ ےاوروپایو ںکا اے' مک نگھ تاور فرح ہو کیا گوگ اک رنا 
٦‏ لوم دورے۔ ۲ ۱ 
موٹی تعالی ضورسید عال مسا کے وسیلہ جلیلرے نہپ تن ال سنت 1 
اتنقامت عطا فرماۓ اوران بے دینوں دپابیوں کے شر ےتفونافرماۓ .اوران 
کےامارحد یٹ کےلوفان پیک یکا تا بک ےکا ٹقی مم تفر مائۓے۔ 
۸ ادگ ال ۲۶٢۱ھ‏ 


بروز بادھ 

















۱ اوراتہتے نی ودای اشبورحد بث جار 
ارال سکیس ندیی ون 


عبدالرزاق عن معمر عن اہن المنکدر عن جابر قال سألت 

رسول الله صلی الله عليه وسلم عن اول شیء خلدہ الله تعالی 

فقال هو نور نبیك یا جاہرے 

”'خبرالرزال ۲بر سے اور و۵ ائلنا ایر اوڑو حضرت جا ڈیو 

سے ددابی تک تے ہیں دوفر مات ہیں : ٹس نے رسول ال ہکا سے 

چھاک ران تھالی نے سب سے پیلے کس چے کو پیدافربایا؟ آ پ نے 
‫٠‏ ارشادفبایا: ا جابر!اللرتھالی نے سب سے پیل تیر ے می کےٹورکو 

پور اف مایا.۔ (ال زم مفھو رز ن۔لمعمنف برا زاقمف 63.4) 

برالشرتعاٹی یرداپ تک ےت اس ےڑوا؟ کید ین فوشش خدمت سے 


1۔ امام کبدالرزاقی بی 

امام بدا لق ین ہام ین نا ئا نک اکنیت الونکرے ینتا ء( ین )مل - 
ایک یگھرانے بن اہو ے۔آ پ کے ول رگرائی ہجام بریائانع ریت الم بن 
عبدارب چرم موی اب عبال ء وہب بن مقبہء بنا + موی عم ہدالش۰ن بن عوف ء 
ٹیس بن زی الصتعا لی اورکبرالنلی ین سلیمالی موی عم رین خطاب ڑا یی کل 


النقدر تا نان سے رواب کر تے ہیں ۔ اما محمد ال رزاقی نے کلک شا مکی طرف لطور 





جا جرسفر ریا۔دہاں ےکہارعلاء ے عم عا 4 لیاگے ,امام اوزا گی در :اورآنری 
عرٹیں جھائ می ںکا فی من زیادوت رآپ ین رہے کم ویمل مات ےل 
سای کک امام“جم رین راش دکی خدمت ٹس ر ہے ۔اس وش تآ پک عھرمہارک میں 
ال کےقر بٹھی۔ پل رج بآپ کےےلم ول لکیشبرت ہوگی تذ آپ سے بب شار 
لا موی کرام نے علم حدبیٹ حاص لکیا۔ ا نکاششمعلی اھاطمشکل ہے۔ ان یل 
امام ارب نول ءامام ابو لیقو ب اححاقی بن ابرا ڈیم بن نشی مرو زمروف بباین 
لو مرو ین گان المرب الب ادگی :امام اپوائسن ابن اید بتی 
دنیبرو بی شارمح دج نکرامشائل ہیں۔ 
اما عبدالرزاق لے وصد دق رٹ ژں- 
ہام اجھ جن صارغ نے امام امم نیل سے پا چھاہکیا آپ امام عبدالرزاق 
سے بک رعد بیث اث ے وا ل کی عال مرکو جا ہیں؟ 
آپانےفرمایائنین۔(جذب اہر یب جلد6 مفمہ 311م زانالاخترال جلد 2م 614) 
امام ابدزد عفر مات ہیں: 
”امام م/بدال اتی ان علاء ٹس سے ہیں ج نکی حعد یٹ مت ہے 
( تی یب مد جب ہجلد 6ص 311) 
امام اور اثرمامام اع بن ول سے روا کر تے خی ںک۔ ما مممبدالرزاقی جھ 
حعد پٹ سمتمر سے روابت کر تۓے کن دہ میرے نز ویک ان لع راو لک رواہت ے 
زیادہئوب ڈولں.۔(تبذ ب اذ یب ہلد6 “ف312) 
امام می بن مق نبھی اما مبدال رز اق یک مر سے روا تکو سج لا تے ہیں۔ 
(تہر یب لعز یب طلر 6 8 312) 
دوب من شی ہراوریگی ین می اما مموصو لوق کے ہیں ۔ 
( تر یب اذ یب جلد6 “312) 





نمی معاسخ:- 0 

امام اپجر وا لت مل مھا بن تین فرماتے ہیں : 

لو ارٹن عبدالرزاق مات رکنا حدیئم 

' اگ رما معبزالزاقی مرت بھی ہو جات٠یں‏ (معاذ اد )فو ہمان ےےعد یٹ 

ا نا یا کا کی 

( تبز یب از یب ہجلد 6 صفہ 314 میزان الاعترال جلر 2ف 612) 

امام اب ن جج رحسقلا لی نے ا نکوثۃرادر ھا ڈ ھا ہے ۔(تقریب اذ یب ف213) : 

امام ذ ٗی نے ا نکونراو نشور ھا ما ہے.۔(میڑانالاعترال لد فی 609) 

امام ذاپی نے ا نکوالھافط کی کیا ( سی راعلام اڑا وجلد 7 سخ 117) 

اما مگپرالرزائی کی ات سلم و ارام کے اقوال 
موجود ہیں چم صرف اختقمارکی وجہ سے اس یچ راکنف اکر تے ہیں ۔اما مم ہد ال زاقی جار 
سن لفوی بیاری سم کےم رکز کی راد ہیں ئن بای می امام عبدال رذ قک کم د 
بیی 120 احاد بث مردیی ہیں ۔ چند“فحات بہ ہیں : جلد 1 سخ 25:11ء42ء57ء 
60:59 ملر2 “لے 1040:980:740:628:573۔ 

0 ہے ادا ر زا یگ ن مر سے ممردیی ہیں ۔ 

3 سکم میس 289 ھا د بی شک وڈی مر دکی ہیں ان ٹس 277 عبدا زا قگن 
مصممرے ھروی ہیں۔ چندصفیات سے ہیں : جلد 1 سخ 273ء 307306:253ء_ 
5-۔ 

ا برا زای کات( تنذکر٥)‏ ا ننکن شی بھی موجوے: 

27 اططبواتالبری زین سربلر 5 45ج 
3اا رکیل زی جلد 6 ص130 

ال والت یگل لان الی اخ رازی جلد 6 صف ‏ 38 
تاب الٹذا ت لا جن حبان جلد 8 صفہ 412 














می مداس)ا 


3 نزک رۃ الا نال ز بی جلد 1 مخ 364 
سبراعلام اڑا وجلد 9 ص 563 

,لے لص رجلد 1 “ل360 

شی جرد دود 

37 اکا شف للز بی جل دص 171 
جرتاالاسلام(دفات220-211) 

اس مان ال یز ان لا بی نت رجلر 7ف 287 
غزراتالز ہب جلد دص 27 

اکنی والاسا ولا وا بی جلر 1 “ئ119 

3 الیائل ا بین عدری ج در" ص”ف 1948 

2 رجا لچ الخاری لک ابی جلد دص 496 
رجال یسل مخ رجلد دص 

رن اش ین الصحی ین جلد 1 سخ 328 
37 ایال نی اتا را بن اشجرجلد 6 406 
بے النصر مجلردمف 270 

وفیات الا عیان جلد 3 صف 216 

ےا تذیب !نا لمل زی جلد 18 صف 2٭ 

ال برای دالہا ہلا بعک رجلد 10ص“ 265 
(ے شرپعلل ات ریلم رجب جار دم ہجو - 
اخوم ابر جلد 2 202٣‏ 

ى الار لا بن ان بروای اللددی جلد 2 مل 362 
.عون دال اکن رد رجو- 





1 ابی کے محدث ارشادائی اڈر یلت ہژں:' وہ (اہامکبرالرزاق)بالاقاق 
ٹج '۔(آئرانک ۳٣)‏ ۹و) 
یدکیتت ہیں: 
”حعافط ذ گی نے انیس الیافظاکی کے بلندلقب سے پا وکیا ے“۔ 

( ول تام ٹرازفددا تی تصایف کےآئ ری سف65) 

2۔- دای کےمحرٹ زگ زل کت ژں: 
اس م سکوکی کی کو سک اما عبدالرزاق موی 11 11 ڑتعاظ 
امام تے۔جمو رح د تین نے ا نکیا شی کی سے 

با یں سای وس 
مولوی سر فا زیکھڑدئی نے ا نکوالی ذظ الک یککھاے.(جتجن ) 

ا بمبدالرزاقی شع کاجاب: 
دوراول ٹل اع پررولا جات تا کان کین ڈیادک:ا ت گان 
تع رہ رودددرفولن شون شی نریڈ لی یں ہے ہہیا تشبت اال یت پہ 

تع کاخفلوا جا ایا نت ترفن وا نر سپی رنڑی ڈو کیاففیت:_ 
( میزان الاخترال جلد 2مف 588) ِ 
یر وک رت دام گر ناما ماب نشبل نےف رمیا ںاما ممبدال رزاتی نے اں 
نی بھی جو عکرلیاتھا۔ ا لاح ٹیڈلل ما نج سای نے بیا نکیا ے۔ 
لیت ہں: 
اش موم ان ا یی امن 
۱ ترگه احمد لتشیعه وقں عوتب احمد علی روایته عن عبنلرزاق 
ٰ فذکر ان عبدلرزاق رجہم۔(تذب اچڑ ےب جلد7“ف53) 














قمرعت) رف 


”امام اض رین خبل نے عیاش جن مکی جک مھا ست کے راوگ ہیں اور 
نہ ہیں۔ سجن کی مناءپردوای تی س لی امام ام بن بل سے تپ 
سوا لک یامگیاکہآپ اما معبدالرزاقی سے ددابیت لف ہی ںگرعبید ال بن 
“وکا سے دوای تکیو لیس لمت ت2 آپ نے فرمایا اما معبدالرزاقی 
نے ای ےو 007 
ا سکی مز یشیب لکیاےر یت :کتاب اتال وم -ۃ الر جال جلد 1ص 256۔ 
اامکبرارزاتی کے جع سے دجو عکودہالی نمھ ہب کے محرث ارشاد انی اث ىی 
ہے چیا یا نکیا ے.۔(مولا نر فرازمفددابنی تصائیف کے ئن مل 69) 
امامبدالرزائی نےفر اکم را ول بھی اس عم ہوا اکرش رضخرتالویل 
صحفرت عم رٹپگا حطر تی ڈ کو افضلیت دوں جو نضرت الوبگر؛ ححضررتعھرہ 
خر تعثالن ڈوڈم ےحب ت کیل رکا ء دومن یں ے_ “ 
(زاتلل مع نی الر چا ل للا مام ام جلد 1 صفہ 256ءمیزانالاختنرال جلد 2ے ”٣ف )6٤٤‏ 
امم بدالرذاتی نے فربایاکہرانشی ( شیع کا فرؤں۔ 
(میزان الا عترال جلد 2 سخ 613) 
امام مبدالرزاقی تحخرت سد ناامیرمعادنہ ڈل گی عد یٹ میا نک کےفرماتے ہیں : 
وبه تاخل۔ 
کا سپ مارگل ے'۔(ح سب ۶را زاق جلر د3٣‏ 49ج) “” 
امام مک بدا رزاقی عفر تگمرجن خطاب ٹا سے نحخرت ام ٹم پل کا کا 
ہون بین فر اکرمز مات وک یا لم سیردا ہما رکاج ال ے۔ 
نغ ۔(مص فمبدال زا ق جلد 6 صف )٥۷3‏ 
ہارے الن ام دلائل سے بات دا ہی ۔ امام عہدالرذاقی پر شیع ہوت کا 
افرام ال وم دوظبرا۔ 

















می ما رك 





2۔ سرن راش ر سال 

۱ کاددایت کے دوہ ے راوگ امام :نا داش ہیں ۔آ پز بردست عا م اور 
نحدث یں۔ 

امام ذئی ف رما ہیں:” متم رن درا شدالا نام الیافط لا سلام ا رد کن ا یعھر 
الازدیی 96:95 ہج کی یس پیدا ہہ مبداما تن اع کی کے جنازے میں ش بک 
ہدئے۔ ہگ راہ وررغ ء دق جلالت نیف کے سا تیم کے برتن ہیں ۔ 

( سی را لان لٹا جار 7 صن 5) 

یگ ماد سکم کےم رکز کیا راد ہیں ۔پ ہار ٹس ا نک یکم ویش سوادوو 
ردابات اعاد بث مردئی ہیں چندمقامات بہ ہیں : جلر 1ئ 25:11ء42ء 59ء 
0 367346:318:294+27877۔ 

مسلم مس ا نک یک یش 300 اعاد یٹ مردئی ہیں ۔ چنمقابات پہ ہیں : 
جلر 1 “فی 330:325:324:322:318:315:307306:273253۔ 

ان کات جم مندرج ڈی لک می بھی مو جودے : 
الطرقا ت الک رک (ا بن سعدجلر * ھی 546 
زی جار کی ناری جلد 7 صن 378 
ئ جار صن لن ری جلد دص 115 
ا ار والتعد بل جلد8 ص255 
سک ناب الشفات لد من 484 
اب سب راعلام النجاا مجر 7صو ٭ 
ا دفیاتالاعیان(160-141) 
ابر جلد 1 مخ 220 
تج دک رانا ناجر 1 گے 190 





حعت 


می زان الاعترال جلر 4 مخ 154 
خ جب از یب جلد 10 مس 243 
تقرب ا جذ م344 

تہ یب انکمال جلد 8مف 303 
شزرات ال ہب جلر 1 مخ 235 


3 جر ینا مر ا 1 

ال دوایت کے تس رے دای اما مھ بن الد ر ہیی۔ 

ان ےق امام ذہ یکھت ہیں: 

”الا مام الیافظط اق وۃ شنّالاسلام اوخ بداللہالقرٹی الم لی 30ھ کے بد پا 
ہو ۔ بی نظرت ما کیشحد یہہ نظظرت ابو پ رب :”عفر تعہر اہم نگم رہ نظرت چارہ 
تر تک ران عپائل لان زر ہہب من ز پبراور اپ واللد دخ ر جم ون سے رداحہت 
کرت یں افران سے بے شا رم شی کرام نے روای ت لی ہے۔ ان نیس امام انم 
الوحفیفہ امام ز ریہ وشام جن عردہ: موی بن عقیہءائن مجر ء کی ین سع یمم ایام 
۱ لک :اما نف رصادق ء امام شعبہ: سفیالن ڈو کی ہسفغیان میرامام اوزا گی وی رك م شال 
جیسں..3(سیراعلام اذا ہل * صفحہ 361۲353) 

بی اود فاضل ہیں۔ بفارکی جس انع سے 30 سے زائد زوابات مردگی إں- 
چندمتقامات ب ہیں :ہر 1 “فی 166:121:86:51:32۔ 

مس شریف شس ان سے 22 اعاد یٹ مر دک ہیں۔ چندمنامات ىہ ہیں: جلد 2 
ص٣‏ 34ء195۔ 

باری میں 29ء سکم یل 14 اعاد یٹ حخرت جابر سے جج بن ال کید ر نے 
روا تیگا ٹیں۔ 

ا کات جم را کب یل موجودے: 








می مداس)ا 


لک 








‌ غمھف جب الج یب جلر 9مف 473 
تقریب العذ یبمف 320 
تن جب انکمال جلد 26 صف 5۹03 
قاری کرام اثایت ہوگیاکیفوراحیت والی شپورز'حد یٹ جاک ہے۔ اس 
کوخودد ہل محرث ارشادان اثر کی ن بھی سندر جع میا سے ۔درست ما ے۔ 
(جلی جز ءک یکہانی مہ 64ء انام مھرٹ لا ہویش 2006“ 49) 
عدسسث عد سمایبادر ا سکیس ند نذجی: 
عبدالرزاق عن ابن جریم قال اخبربی نافع ان ابن عباس قال 
اد ین لرسول الل سیل لاضملی الد فان رای پور 
شمس قط الاغلب ضوء ہ ضوء الشمس ولم ییقم مع سراجب قط 
الاغلب ضوء ہ ضوء السراب۔ 
عبدالرزائ ان جن سے ددای کر تے ہیں ۔انہوں نے فر مایا: بے 
اع نے نجرد یک فحخرت این عباسں نے ارشیادغ ما اک رسول الیکا 
(تال یک ) سا یئل تھا ۔آ پ دی سور کے ساس ےکن ےکی 
ہو ۓگ رآ پکیا رشن سور کی دجوپ پرغااب ہو اودیھی جوا کے 
سان ےکھر ےکی ہو ۓگ رآ پکا روش تچر ارب الب ہولی“۔ 
(الجزء المفقود من المصنف لعبدالرزاق سمئ 56) 
۱ ممدلدابددا یتگل ے۔ا 10 پچ راد خدداما عبدالرزاقی ںان 
کین نک رچگی ہے۔ باتی ددرادیو ںکی ھاہت درخ ذ یع ہے 
ای رع ای 
بدا لیک بن عبدالعز یز بین جرت مول کی ہاور ناضل تے۔ نل اور 








ارہال ےکام لت تےگر ذکورحد یٹ ٹس انہوں زنے فی کا کی فراحت 


می محاسی)ا رہ 
کردگی ہے۔ا لے اددایت بل رع جا ہے۔ائن بجر ارک سکم کے مرک ی 
راو یں۔ 
ا کات جمدا نکتب ٹیس پڈگور ے: 
تہ یب از یب جلد 6 ص“خہ 403 
تقریبلجز ب219 
مزان الا خترال جلد 2 صف 659 
3 تز یب انکرال جلد 18 مم 338 
خودو اہی کے اما محرث ارشا دن اث کی نے ا نکیانذ ٹن بیا نکی ے۔ 
( موا نس فرازصفدراپٹی تصاٹیف کے یہ یل مہ 61 ہآ کٹا نکوجودکھایاصف 63) 
ان تر کی رف جوم کر نے کاالرام ہے؛ا سےا نکار جو ثابت ے۔ 
(نخیمس امیر جلد 3مف 160ءنالباری جار 9س )١٦3‏ 
مولوکی ارشادانْ اث کی نے ال سکیانذشن اوران پراعتزاضات کے جوابا تر 
بیے ہیں ا لکی برکودہبا اکب می سیموجودرے۔ 
ما پیا : 
۱ اک اردایت کے تم ےراوی نان تح رم تکہ را نی گر کی کےآزادگردوغلام 
جے ۔ممتند,ٹیقراورنشورخقی تھے 117 شی وفات پا لی 
انکات جا نپ ٹل موجودے: - 
ا تہ جب ادا للھ :بی جلد 20ص 20 
تیب لت یب جلد 10 “415 
تقرب ہز ب 355 
مور سن عا لم کے سمابہ نیہ ہودنے پیم نے اپٹ یکتاب”موراغیت و 


۰ مدا ہگ‎ ۱ 8 ُ “٤ 
ع بہت لا ا و سے .3 ماپ میا تلم با ہیں۔‎ 





ا می نف 





دا لوت وی یٹ نو راودا لکی سن دنو ئن 


اخبرنا ابوالحسن علی بن احمد بن سیماء المقریٰ قدم علینا حاجا ۱ 

حدثنا ابوسعید الخلیل بن احمد بن الخلیل القاضی السجزی انبانا 

ابوالعباس محمد بن اسحاق الثقفی حدثنا ابو عبید‌الله حیی بن 

محیل بن السکن حدثنا حبان بن ھلال حدثنا مہارك بن فضالة 

حدثنا عببدالله بن عمر بن خبیب بن عبدالرحمٰن عن حفص بن 

عاصم عن ابی ھریرة عن النبی وقال لما خلق اللعزوجل آدم 

خیر لآدم بديه فجعل یری فضائل بعضھم علی بعض ٹال فرآنی 

نورا ساطعا فی اسفلھم قآال یا رب! من هذا؟ قال هھذا اببك احیں 

الاول والآخر وھو اول شافع۔ 

(ال اد خی لد مف 483۔ا ککعلاو ہب حدیٹ ا نول م بی موجودہے :زرقاٹی کی لواہب ْ 
جلر | صفہ 43, یدانس اکب بی صفیہ 67 مکنزلعالجلد |1 مہ ۱96 بنقربارںن زشق جلد دص )۱١١‏ 

یکر مم نے فرمایا: 

جب ال تھا ی نے حفر تآدم خلنؤ کو پدراغر مایا نذا نکی اولاوکوانی 

کے سامح ےکیا۔ ان ول نے ان کے ایک دوسرے پ رفا لکود یکھاء پھر 

بے لے ہونۓے مو رکی صورت ٹس دییھا ء و و ا : پدررگار! ی ان 

ہے؟ آ2 الڈدتھاٹی نے فرمایا: برا اد ےہ وواول خر ورسب سے 

ہلا شفامحت کر نے والا و 

قال ابو عاصم نبیل بن هھاشم الغمری فی حاشیة شرف 











رسس 


0۔ 








کک 


المیصطفی بعد ایراد ھذا الحدیث ھذا حدیث اسناد رجاله عن 
آخرھم ثقات دونھم فی الثقة المبارك بن فضاله وھو صدوق۔ 


(نثرفنااصطفی ہار 1 سخ 09د) 
عدث دد پچ الا یل منددحرذ یل راد یان ہیں : 
امام تانگی بی 
امام ابو انی بن احدسیماء مقر ىی ا 


اماماپوسعیرشٹیل من اح نیل التاضیجزری ا 
ایاماوال ہام ھی ناسحا ائعکی السراع می 
مامابویبیدالل کی بن بین اکن ا 

امام ان من ھلال یڑ 

امام سارک من فضالہ می 

امام یراب نگم رالصریی با 

خیب بن برالرن ُا 

جس من ھا بی 


1۔ حسمدااہا رپ:لڑؤا 


اب مان یں سے ہر ک کان جن بیالنکرتے ہیں۔ ِ 


1۔اما شی وی 


اق ت تو تھا کافرمان ہے: 

وھو الامام الحافظ الفقيه فی اصول الدین الورع او حد 
الدھر فی الحفظ والاتقان مع الدین المتین من اجل 
اصحاب ابن عبداللہ الحا کم۔(شذراتالز ہب جلد د3 سم 304) 


2 اما مان :اص پیل فرماتے ہیں: 














و 


6۔- 


کان واحد زمانە و فرد اقرانه حفظا و اتقانا و ثقة وھو شیخ 
خراسان۔(غزراتالز ہب بل 3 “ف300) ۔ 

اما مالین ور یا جن ینف ر مات 320 

کان واحد زمانە فی الحفظ والاتقان و حسن التصنیف و جمع 
علوم الحدیث والفقه والاصو ل0 تم این الوزی جلد سن 242) 

امام زی ہے مات جہں: ۔ 

لو شاء البیھقی ان یعمل لنفہ مذجبا یججھد فیه لکان قادرا علی 
ذلكٰ لسعة علومہ و معرفة بالاختلاف۔(ینکذ بامخر یمف 11<) 

امام اءن غلکان بی فر ماتے ہیں : 

الففیه الشافعی الحافظ الکبیر المشھور واحد زمانە و فرد 
اقرانہ فی الففنو ن۔۔(دفا تاااعیان جلد “١‏ 57) 


ا ام ممعا ی ین فرماتے ہیں : 
کان اماماً فقیھا حافظا جمع بین معرفة الحدیث و فقھہ۔ 

(ال ساب جلد 2“ 412) 
اما این جو یی کا فر مان ے: 


کان اماماً فی الحدیث و تفقه علی مذھب الشافعی۔ 

(اٹیائل لا ن۱ا خیرجلر 8ف )٥٥۹‏ 
اما می لے کاف ران ے: : 
کان الامام البیھقی احد ائمة الہسلمین و ھداۃ الم منین 
واندعاة الی حبل الله المتین ذتب: جلیل حافظ کبیر اصولی 
تخریر(آمدورع قائت لہ قائم بتصرة الملعت امو لو 
فروعا جبل من جبال العلم۔ (ہقات اٹ فی نی لد 2“ 349) 











می محاس٣ا‏ ترق 
9 امام طاملی ار یی کاخ مان ے: 
هو الامام الجلیل الحافظ الفقیه الاصولی الزاھد الورع 
وھو اکبر اصحاب الحاکم ابی عبداللہ۔(م 6 بلد2121) 
0۔ امام جلاگل الد ین یڑ یل فرماتے ہیں : 
الامام الحافظ شیخ خحراسان۔(عطلرقاتافاظاف 432) 
1۔ امامکبدالفافر کن اسمائیل لے کاارشادے: 
کان البیھقی علی سیرۃ العلماء قانعا بالیسیر متجملا فی 
زہدہ و ورعة-۔(راعلام ڑا ربلد 18ش 167) 


2ا یماوس نکی جن اتربین سیما ءالمق کی یی : 
1 امام نیب بفدادی نے فرماتے ہیں: 
کان صدوقا دینا فاضلا۔ 
انی بن اجار ہی ہے اضل راویی ت٠‏ 
ریدفرماتے ہیں: 
تفرد باسانید القراءت و علوھا فی وقته۔ 
”اپنے زہمانے بی سندو ںکی رات اوران کے عاٹی شمان ہونے شمل 
منفرد تے'..( جار بفدارجلد 11 صفیہ 328 سب اعلا مبلا رجلد 17 سخ 403) 
2 امام این ایر لے خی جرح کےا نکاذکرفرماتے ہیں: 
روی عده ابوبکر الخطیب و ابوبکر البیھقی توفی حدود 
سىة عشرین و اربع مائة۔ 
ابواین گی جن ات سے خیب بضدادیی اور اما تائٹی نے روایت فرمایا 
ہے-_اا نکااخقال 420ھ کےر جب تر یب ہوا گے “۔ 
( لباب کی تہ جب الازمس اب جلد | ص2 385) 











سے تس 








درک 
3 امام ذئ یککھتے یں: 
الامام المحدث مقرئ العراق ابوالحسن علی بن احمد۔ 
”انی بن اد امام ہیں رای کےعلا تے ری کے نٹ یں 
(می راعطام الا وجل د17 “ف8 402) 
ان کات جمدددری نع ذی لیکتب میں بھی ے: 
1 الاکمال طر3 صفے 289 
2 الا ناب جلد 4 صف 207 
اض جرو ص٣‏ 29 
4 الیانلئ اتا رن جر 9ص“ 356 
5۔ ام رطرد “125 
6۔ محر-ہ القرامالکبارجلد 1 سخ 302 
7 دولالاسلام لد 1 مہ 248 
8 البرایوال نما جلر 12 سخ 21 
9 خابیال ہا جلر 1ص 521 
0۔ شذرات الز ہب جلر 3 سخ 208 
11 تار انت اث الم یم یکین جلد ١ئ‏ 381 
ام وس نی بنا بن یما ءا مقر وہ کیٹا ہت یل القد رب ین 
کرام سے چم نے یا نکردئی ہے۔ دسر مرف مولوئی ز یی زی نے اما موصوف 
کوگپول قرار در ےکر برکورہ روای کو پا قراردیا ہے عالانکہ بذکور راو یکوئچول 
تا ا لک جہاات ہے۔ اس راو کی ا ہت نے یل الق رآ نم می نکرام نے 
ان فر ماک ہے۔اور یچ رپول داد کی رد یت کو ہا لکہنابھی وہای مولوی ز بی زّی 


ک تودساختداصول ہے بھ ہا لومدورے_ 











رسس تب 


ارگی نکرام!جب دہایوں کے چو نی کےکح ث اورشن اساءالر جال کے نام 
پاوفیکیراراصول حد یٹ سے اس ف رر پیٹ رذ جائل یس میں نے نخحورفر ما ی کان کے 
ای لومنا ظ ری نکاکیاحال ہوگا۔ 

اکر فرش ا جو لبھی مان لیا جا نۓ فو بھی اصمول مھ شی نکرام بی ےک ہاگرد 
ٹندادی ٹمپول سے ردانی تکر یذ تجہو لکی جباات رح ہوجائی ہے اس اصو لکو 
میر پیل ححضرت امام جلال الد بن سبددگی میلو نے بیا نکیا سے۔د و کھت ہیں : 

من روی عنه عدلان غیتاء ارتفعت جھالة عینه۔ 

(نمرر جب ال راو جلد 1مف 236) 

اس اصو لکواام خیب بفدادی یڑ ن بھی با نکیا ہے ہس اصو لکی 

جا خیدامامالجرئ والتحد یل امام مھ بین ےک لکی ہے۔(اکیدا ین مار دای 88) 

خودو لی مولوئی ز ہیی زکی نے امام !و وی ء این صلاح ءا نکر سے مکی اصصول 
نلیا ہے اوراے لی مکیا ہے (نورأصنین صف4ج) 

3 جب امام ابو ا می بن ات بن سیماء لمقر کی بھی سے روای تکرنے 
وا لے دوڈوے راو امام خلیپ اد ادگ اورایا ہنی موجور ہیں نو ہڈٹش فلط یھو لگ 
بہوں نکی ا نکی جہالت رح ہوگئی ورای مولوکی ز مکی زگ یکا اس رواب تک اٹل 
کہناخودہا لرمردودمزا۔ ۱ 

را کا بی کہناکفلال فلا کاب بیس ا کات کر ہلان ش۲ موجود ہے کیارہ 
اس پ تر کا وت ہے۔خوداس مولوکی ز می زی نے ایک راو یکا تج ذکرہ بلا وشن 
23 ہے امام ذ ٠بی‏ ون 7 ا سے۔ وہال نے ا سکی روایا تکو پاضل شہکیاتمگر 
ج بتضورسید وا ایک یعظمت دشان پردال روای تکی بار کی فو الس کے پیٹ 
یس مروڑاٹھا ولگ ا سکو پ اط ل سک ۔ برا کی شباش تکا من بولن ٹموت ہے تچل راس 
کا بی گناک اس دادٹ کی وش ہار ےم کے مطاب کک کاب میں موچ یں 20 





































سس 


و نع بعد وہ حر ٣‏ 


کک 


ا لک یکتب اساءالرجالی سے چچہالتکا منہ بولتا شموت ہے۔ بجر الہ ہم نے ایام 
اوائسن لی بن اھ بن سیماءالمقر کین شی وق جیشیل القد رن محر شی نکرا مکی 
تقر ببآ4 1کتب سے بیاا نکردیی ے۔ : 

ای کرام اائسل میس بد لاخ رسول میں اس قد دراند ھ ہو گے ہی ںکہ 
ا نکو ہی لمت رسولل کے می ںنظٹٹی ںآ ام ر کر دنہ مھصضفیکومیان ےکی ا نکی 
یڈ مو کیٹ ناکم ہی ر ےگ یمکیوک لت مم یکو بڑ ان ےکا خودخدانے وعد کیا 


ہےے۔ 
1 





رد سد ور تر تو ود سیت سد سد سد سوہ تحت کت ۳ 





اع ہونی ث را سے یلاک لے 

کنا نین اے مظور اٹعاا ا 

3۔ابوسعیر ایل بن ام بن انیل القاضی اسر ی مینل: 

1۔ امام ھا یل کا فھرمان ے: 
ھو شیخ اھل الرای فی عصرہ و کان من احسن الناس 
کلاما فی الو عظب(سراعلام اٹلا وجلۂ ۱6 مخ 438) 

2 اامذئی بای کافزمان ے: 
الامام القاضیء شیخ امحنفیة.(سراعلام الا جلد ۱6ص 437) 

3 رص فدی چل فر ماتے ہیں: 
کان اماما فی کل علم شائع الذکر مشھور الفضل معروفا 
بالاحسان فی النظم والنشر۔(ج ج التراتمل بن‌تطو بن صن 27) 
ا نکاتر جمددر نع ڈی یکپ بل ے: 

1ہ تیب الد ہرجلد4  ”‏ 338 

2 الا ناب جلد ٦‏ صئ 45 

3ہ سشھ ملا دبا جلد 11 ص٥‏ 80+77 





اک 
5 
46- 
27 
8۔ 
9۔ 


لے ہس چچچڑھےے کعست ۔ 


سض صصے سس ص رر ےہ ےر یں 


اص جلر 3 ےئ 7 

تار الا لاملا بی جل دہ سخ 1/27 
اہراب الما جلد 11 سخ 306 
وم الراہروجلد 4ص 153 

لاہ را مضی جلر1 مخ 1806178 
شمفزرات ال ہب ل3 سمئ 91 


4 ہوالع م یھ بن اسواق ای السراح پا 


1ہ محرث الو کی می بے کافرمانع ے: 


ثقة متفق علیہ من شرط الصحیح۔(سراعدام ڑا ءجلر4| ۳ 398) 
اام/بدالشن نال ی عاتم می کا فان ے: 
ابوالعباس السراج صدوق ثقة۔(براعام اڑا ءہلد 14 “ف94د) 
امام ابواسحات ال کی یی کا فرماتے ہیں: 
کان السراج مجاب الدعوۂ۔(سراعلام نا رجلد14 سخ +9د) 
میرے الشُعلو 1 یڑ نے ہا ے: 
کنا نقول السراج 5 ۱ ج۔۔(سراعلام اڑا جلد 14 سخ 304) 
امام ذ ٗی بین ےکہاے: 
الامام الحافظ الثقة شیخ الاسلام محدث خراسان۔ 

( سیر الام اکنا رجلر 14 صفم 383) 
امام نطیب بفدادکی لیے کاخ رماع ے: 
کان من المکٹرین الثقات الصادقین الالبات عنی بالحدیث۔ 

(جا را بفدادجلر | “ف264) 

امام جلال الد ین موی ٹہ کا ارشادے 








سس 


ان 


السراج الحافظ الامام الثقة شیخ حراسان۔(طقات اتڑا غس 314) 

8۔ ۶و0 
گان شہخا مسٰندا؛ صالحاء کثیر المال وھو الذی قراعن 
النبی صلی الله عليه وسلم النتی عشرة الف ختمة ء رضحی 
عده اٹنتی عشرۃ ألف اضحیة و کان ی رکب حمارہ ویأمر 
بالمعزوف و ینٹھی عن المنکر۔(ہتات الثائرل کی جار د٣‏ دو) 
ان کات جمدد رع ذ کت می بھی ے: : 

1 ار وا اتد بل لد صن 196 

2 فمرست این الندیحمگ مہ 220 

















3۔ ات مغ ہر6 سم ١99‏ 
4۔ مقرطقیات الما ءالید یٹ لا بن کبدالبادگ 
5۔ ااجرطرد ؤ 157 


6 دول الاسلام جلد 1 سخ 189 

7 الوائی پالویات جرد ہو 

8 مرا انان جلدے ضف 266 

9 الب دای وا مار ملر 11 گے 153 

0۔ طات ال راج ریطلر دم ہو 

1۔ اومالاہرۃ جلد 3 مخ 214 

2۔ شذرات الذ ہب چلر 2 سم 267 

5 ایدالج بن ھن اسکن بیز : 

1 امام ذگی بے کافرمان ے: 
ثفة۔(00 شف بلرد +4د2) 





سی مداسہے رت 


2 امام نسائی لی فرماتے ہیں: 
لیس بە باس وقال فی موضع آخر ثقة۔(تز ب اجز ب بل 1۱ؤ 9د2) 
امام صا ن نہ بی کاف مان ے: 
لا باس بھ۔۔( تن یب جن ےب ر11 اف 239) 
مسر یی کافرمان ے: 
بصری صدوقق۔(تذ یب ڈعز یب ملد 1۱ف 239) 
وا کوکتتاب القات یل ذک رکیاے۔ 
( تہ یب شجے بجر ۶1۱ف 239) 
ام یرم لان ول کان ے: 
صدو ق‌ من الحادیة العشرۃ۔(تقرب چنب“ 379) 
امام ای ن نون یلیہ کا فر مان ے: 
قال ابو عبدالرحمٰن النسائی یحیی بن محمد بن السکن 
بصری صدوق و قال فی موضع آخر بصری ثقة 
(عل بش غ ایاری سمل بن فلغوں سفہ 74ڑ) 
محدرث سای ےی کافرمان ے: 
حدث عله البخاری فی جامعه_ 
( نی شیو لی دا انی صفہ 7 عق د راہن تزم: وت ) 
ان کات جمما نکتپ می بھی ے: 
التحد بی واج لہا بی جلرد سخ 1208 
لا بن اخر اقی جار 568 
7 تم تر 1158:7 
تار الاسلام لی 











می ماب 








رود 
5- بایدائول 


امھ یئ اسحاق انی بل نے نام الوعیدال می من مبیدال بن اکن 
یئ سے خودردایت لی ہے۔(مندالسراج صف 434-456) 


6 ان من علال پیٹ: 
ک5 امام ایوگر کن خیشہ یلیہ کافرمانع ے: 
لق( تبز یب اکمال جلد ٥ص‏ 330) 
4 .اما مت خ رگا امام یبن تن اورامام سکیا گی تفقداۓ ہیر ے: 
لقة ۔(تجز یب اکمرال جلرہ مز 0دد) 
5 اماماان سعد پیٹ فرماتے ہیں: 
کان ثقة ڈبتا حجة(تز یب انکرال جلر ہ ٣‏ 330) 
6 امام ارب ن٘ول یل فرماتے ہیں: 
لق( یر اعلام ڑا جلد ۱۱ فی 39د) 
ان کا یت جمدر بج ذی لکب میں ویکھیں: 
1 رن برولی ای نشہمان 
2 تار الین ری جلد دص ۱۱۹ 
3 جارتالاوسلنا ریس“ 234 
4۔ اتارں لضفلا ری جلد دص 02د 
5- نیلوا ولا ی جلر 1 ۔ 
6 المعارف لا می نتنیی سخ 227 
یت ال والت یل جلز ےن الت رم 1324 
8 الول و والتمنا ولک ری“ 505 
9 اکمال لا ین ماکولاجلز * صے 303 





نمی محاس 


364 تدکر[المفاطاجلد 1خ‎  -0 
اکا لا ظمفلمالٰ‎ -1 
492 2۔ الوماۃ طلر 1ف‎ 
36 3۔ خذراتالز ہب جلد 2 مخ‎ 
-- 4--۔ (اعال‎ 
: مارک من فضالہ یڑل‎ 7 
امامذئسی نے کاخرمان ے:‎ 1 
01 الحافظ المحدث الصادق الامام (سی اعم مل رہل دہ ص ےی‎ 
امام ذئی ا کافرمان یل ہے:‎ 
قلت هو حسن الحدیث۔‎ 
محرث عغالن پیٹ کاف رماع ے:‎ 
کان مبارک تق ( الام ظا ءبلر 7 92ج)‎ 
امام مین سیر بے کافرمانع ے:‎ 
قال الفلاس ایضا سمعت یحیی بن سعید یحسن الثناء علی‎ 
)282 “7 مبارك بن فضالة( الام ہار‎ 
٠ےہ ام یبن مین بی کافربان‎ 
ثقة-(ےعا پا بہلر ٣٣ز 93د)‎ 
امامالوداؤد بجی کافر مان ے:‎ 
قال ابوداؤد کان مبارك شدید الندلیس اذا قال حدثنا فھو‎ 
)284 ثبتہ۔(مراعلاماٹڈا مجلد 7مف‎ 
ان کا تر جم ا نکتب شی ملا حظۂظرمانیں:‎ 
141 طقات این سحدجل در 7 شوخ‎ 








قمحا 














2۔ 
3- 


کا 


طقات غل ذف 222 

جار خلیفصخ 437 

ال ریہ اتا رع للقسوی جلر دس 135 

اہر والتعد بل جلد 8ص 338 

مشا بی علماء الا مھرارس٢‏ 158 ۱ :۱ 
تار غدادطلر 13 سے 212 

تہ جب انکرال جلد 27ص 180 

شمذرات الز ہب جلر 1 “خ 259 


8 عویرا رم نگ را لت یی یڑل : 


1-۔ 


امام ملین ین یل کا فان ے: 


عبید اللہ بن عحمر من الفقات۔(ت یب اککرال جلد 19ؤ ۱28) 


2,3۔امامابوزرعتۃ بی ادرامامالدحاغم یی کافرمان سے 


ا۔ 


کچ 


1۔ 
2- 
3- 


ثلقة۔(تبز یب انکرال بلد 1۱9 “۳ 128) 

انال جیے کافرمان ہے 

ثقة ثبت۔(تز یب اککرال جلد 19“ 128) 

امام الویگ رین جو یڑ کافر ماع ے: 
097 
و عبادة و شرفا و حفظا و اتقانا۔( تن ب کال طر9 029) ۱ ۱ ۱ 
ا نکا ریت جمہ ا نکنب شیل نا جظفر اتی : 

تار الداری و اترم 525-128 

جار ای نعط ہمان الت رھ 148 

تاراب ہرز خ اترم 73٭ 


کے ےے تےٌٍْ 






















ہسہن رت سمش یو وھ سے سؤ مر سے یں رز 


4۔- 


0۔ 


ماس 


نات غلیزمف 268 

کاب العرفۃ ولا رن جلد 1 صف 347 
ات املع ج پان جل ر7 مخ 149 

اسسالئی والڑا تنح ص”فے 264 

سیراعلام لٹا وجلد 6ص 304 

کر 8 احفاظ 

اکاشٹ جلر 2 


9 خیب ا نکبدالرن پاچ: 
1- انام ان ین بچیلڑی کافرماع ہے : 


-2 


ص' 
دیا 


4۔ 


1۔ 


5 
-4 


ڑقمة۔(تز جب انکمرال جلد 8 صف 228) 

اما ءنسائی موہ کا فرمان ہے: 

پل( تر یب انکرال جار 8“ 228) 

اماماوحائم ای کافرمانع ہے: 

صالح الحدیث.۔(تز یب انکرال جلد8 “ف,228) 

امام این حبالنغ ن کاب الات میں ا نکاڈکرکیاہے.(ستاب شفات بلد1) 
امام ان شا ان بای نے اپٹ کاب می ا نکا فک کیا ہے : 

(الٹقات لابن شاھین رقم الترجمە337) 

ان کا یتر جمددر ذی کب ٹیس علا نظ ھبیی: 

الال لا من الا شرجلر 5 ”خہ 446 

تار الاسلا ملا بی جلر 5 ص٣خ‏ 66 

کال لا بن ماکولا جلد 2 سفہ 301 

رجال الا ری بای 








می محاب) 


5۔ 
6۔- 
7 
8۔ 
9۔ 








الیاش پٹ جلر 1 ئْ 278 
نأ (ڈن 
اکماللاءاممفلطالَّ 
بایدالول 

قش امش جلر 1مف ہر 


10-۔ مل للا ماما جلد 1 ص162 


0- تفع بن ھاصم رن بن ااطا ب ٹاو 


1 امام نسای یل کافرمان ے: 


لھة۔(تہز یب انکرال جلد 7ص )٥١‏ 

ام امن ضبان پا نے ان کان کرای ماب 'النقات یی لکیاے۔ 
(تذ یب انال جلد 7 صف )١8‏ 

ا او الام ھت این نہر نہ کاخ مان ہے: 

ثقة مٔ مجمَع عليه۔(تز بل جار ہمز )١۹‏ 

امام ذڈسی بای کا فرمان ے: 

متفق علی الاحتجاج بہ۔۔(برا لا ما رہلرو سے ہ9) 

امک بل کافرمان ے: 

مدنی تابعی ثقة۔( ٣رز‏ لات کی ئن 0وت 

اراوگ یکا عبات جمہ ا نیکپ میس دیھیں: 

طبقات این سعرجلر 9 

ال ا بن ارد ٹیم 48 

طفا ت خلیذ مہ 246 

المارمٴئ 188 


سے تن ا ا ا ا فی ۱ 7171 1 7 7ق ٣‏ 7اا 


نید تخس 


لح والتعد بل جلد 3ن اترم 798 
مشا ہی علا الا مصرا رخ 506 
اسا ءا ینید النی رت ترجہ 237 
الال 
ناب الشرش/شی نم 372 

۔ مال ہلان جلد 3 ص”ف 163 

۔ جار الاسلاممز بی جلر 3ئ 359 


1۔ تعخرت سید ناابد پر رہ ڑاگ : 

صحالی ول پ ہر کا متلہیکیس بلکہا نکی تند بل الصحابة کلھم عدول 
سر ا کر ا 

ای ا نی یکفشگو سے پیخابٹ ہوگیاکہفرکوزہ الا لال الو تی کی 
حعیٹ ٹور ال لچ ہے۔ ام کودبالی مولوی ز پیل زگ 31 اف لکنا خدد ہا الوم رود 
ہےاودرا نک می رول اورخا شت و مال تکا منیہاولما شھوت ہے 


1ووٹوروت 
وودود وت 
1و 











ےس 


کے 








”الجزء المفققود“پرائللِ تر کے اعتزاضات اور 
علا ۓعرب کے بوابات 
مرتب :استا الما موا نا لام مرنشنی سای مج کی یہ 

اعادمٹ ہو ےکا ا اد رنا بہت ب ڑکیا خمارت وم ادگ ہے۔ مس پت رآند 
حدبی ٹک شد ید دید سی دارد یں من ائٹشس اور سک ذربّت ان وکیدو لںکومں 
پش ےڈا لل'اؤارور ہد“ کرت رہ اورکگرد ہے ہیں ءج بکگ بیگردہباتی رے 
گا تہ انکارحعد بیث جاک ر ہ ےگا ء اور کی ام سم ےک بز میں اس من کے 
دہا یت نج بت او رخ رمقلد مت کے نکم ملا ہے ۔ ماللرک رجا ھی نے نودکھاے: 


معلوم ہواکہوپالی نظرات” مرن عد یٹ ا ے بھی اتاد ڑلء کی وج ے 
کان مس بین یھی پپوری طط رارف ماےء جب چا جے ہیں ا سکا جلدہ درکھاد ہے 
یں ءا کی تاز و مثال مصن فعبالرزاقی کے ”جز ءمفقو و“ کے لے بد پاہیو ںا نلملا 












می محاس٣ا‏ وب 
دیناجاجچ ہیں ءا نکی ب پیٹ یکا انداز ولا ےکال رباص ( تید ) کے بای بن صب 
اوردد بے وڈان زیا دم نگم الشکلہ ن بھی ہیی پا کت ہو نے زبان درانزی گال گلورچ 
اور چہالت و نیش حور یکا ایک پاندہ تیادکردیا۔ شس پ۰ پاکستائی تج ایوں نے خوب 
نلیں با نمی اوراس کے خلا سے واص لپضمون شا ئ کر کےموام الا ا سکوگ را کر نے 
می سکوئ یکس رن ہچ وڈڑییءااسں کے لا لی اعتراضا تک جواب دیائۓ عرب ک ےلیم 
مق اخ الک ری ین عبدال من مان ایر بیانے ببڑے ہییعللمء بد بادکی ہعرق 
ریز او رأقّانراز ٹل ”الاغلاق علی المعترضین علی الجزہ المفقود من 
مصنف عبدالرزاق“ کے نام سیا ہے۔ چوکیٹ لکیپ(ہڑےما 7)کے(38) 
صفات رم شقل ہے۔(ص ل مضمرن ناب کےآ خر ٹیں ضنلک ہے )اس کے اچم 
زا لکاخلاصدرحذ ل ہے 
ر(خ ری ذییت کے عال) انی ءاصلائیتقیدہ دسح ت خظرف اورسلمانوں 
کے نعل سن نمو وی ے وو ہیں ءپیییں اور جمارے (اہ کت ء ائلٍ 0) 
او ںکی غرمت (و بدگوگی ) کےےجت نے بہانے طلاش لک تے مرٹتے ٹیںا۔ 
انی خوا بش تی انی کین لکی نا ری کاخ ہمشرک اور بلق کے ےگا 
با زئن ا لوگ نامناسب با و ںو موب :کر نے یں صد اور وگ ِی 
گا ڈیا سوار ہیں اور شیات و انل راک ا نکاوطردے۔ 
قا مت برارزای ےر ضےٗریں ےی ع راز کے خطوطات شُل اور 
مر مرائٹش ‏ من اورز کی کےک٢وں‏ سص سکیا ظا ٹل بہار ے پور ٠ے‏ 
خ مصنف “کے زو شال گۓ.ان کًُ بک ۶ ا بے مصت فکا دشر 


مہہ 














نمی محاس)ا وت 


علمت بین کے چندماہرتا نتخطوطات سے لا ا تک یذ ان ہت لی نمیا ہمارے 
(نزیقرن کرت ہوئۓے )اس سے ملا جتا ایک اورن جا جو دس صدری 
ری می س ھا گی تھا اوراس جار کے چنداور نے کے جن لی دک کگیں 
اپےعا الخ ک یت ت(ددرتقی )پر ہت خوش ہواں۔ جہاں سے بجی 2 
نز ملاءدہاں کےثت کل و وفضڈا ماود مہ رین علوم ے1 بر اودائسں سےسفحات 
کی فوحیت کے تلق بچمان ٹی نکی تذ بے با اگ یا ہ(این مسودے کے مہ 
اوراتیک ازیم ین سوسال پرانے إں- 

3 دیل ماس بات تلق ہگ کہ مخ ہارے پا س ایک اغمد لن اضراوراماخت 
ے جس کااھاشردری ہے.( نے ہما ئک کردا 

( 8 منموںےا تل لکرنے تلق *(نحی مو کی بیا نکردہ)النشراناکاپایا 
جانا درک او لا ٹیل ء ان تما شرائ کےمفقودہوے 1 صورت مل جو 
م جودبوگاای پراکتذاکیاجا ۓگا یکھج ساری نے دہ سادگا بچوڑی 
میکس جائی۔ 

سنت مبادک کی بت سار یمکناڈیں ایی ہیں جو چچودعو میں ص کیا کے شرو اور 
وسط ۲ش مع کے گنام ری( اوردد رےکتڑوں )می سض ہ میں حا للہا نکی 
ال کاکوکی پییس ۔(ت کیا نیس بچھوڑدیاجا ۓگا؟) 

مم نے (معتف مبدال زاق )ک تن مر یک ودک ال 
خیاء تو ںکیء میس خقین کے سلملہ می سک با راک کی رف رجور کرت 
ول ال کا مکیه می عدست: داز ک مع دفگلل رہ بن بات مر مھ 
کادناموں یل خوبکگھرکر اتا بی ے۔ 

ي وم ل‌یر) امرف سےا کاب ک ےک مقامات پرمی نے ا نکی 

نو پکاراوراکتزا ۱ پ0 نقیرکوسناء جوجھ پراو رھ سے سے تین ن برگالی وچ اور 

















۱ 
ای دہووں شض ھی ء می نے ا نکیگالیو ںکی طرف و نکی دی (صرف ۱ 
ان کے اد ا۴ن زاضا تکا جواب دو لگا) ۱ 
منرص( تھی ری نے جھ براو مجر ڈکٹڑسعیرمھدوپرجھوٹ ہو لے اور 
اترام تراشیکرتنے میں اچائی دہ ےکی مبائ ہآ رائی ےکا میا ہے( کیم نے 
یس ھا سے اورال سک استنادخود بنا ڈای یں مو پاش کب یراس مجوٹ ے- 
کیڑگ ا سکاب کے نشخے ہمارے پا یحفدر پاد ےآ اورائن ح انی 
اكوئی سوالل تی :تھا جس طر کول یھ ینف قخطوطلات حاصس لکرتا سے اور 
تن ے بوزاشاعت کیل بر والو ںگوو ےتا ہے یر سے پا 
کی موجوو ہے می رآ بی دش ےگگیا پیلک ال|ہو! ہے .سکیا ہا ت 
پ ن کر یکراب یفن تی نکی ہواورنعق پرجھوٹ اورکھٹرن ےکا 
اترام لگاد یا گیا ہد یا تا بکوع مق بکرنے اور بچھاپنے دا نے پا رام لگا گیا 
ہو؟ ( نیل١‏ یکا م صرف نب یو ںکا سےک تح قکوگھڑنے ولا قراردے رہے 
ہیں )انوس اصداضسوں! 
"ےا سے اعترات کی اس کا رح افط وی مد یک یکب کےطریقہ پکشیس بہ 
. ہنرو ستتائنع کے وس جیا ہے جوپپروں پ رک جات تھے فلط ےکیونک ہا کا 
رم القطادسو یں صدیی کےقلو جات ےمٹامہترگتا ہے مکی انان چم نے 
متورومشا تطوط رجات میں دیما ے۔اورای ا کئال یرم( 4أ ۶ 
مق )یش پیٹ کردبی او رت رخ( تیرکی نے خود انا ےک سو اور 
تی میں صری کے تو ےآ رج کے تطوطوں تا ہیں 
کی بیگائی علام نی سک ین تا ددری یا نخنٹمندی حعفرات وخی روک طرف 
ےآ ہے ہکوہ مارے ہاںل کے یی نطو لے!پکینڈرء رد او راع ل سم ور 7 ا 
سےا ژںء او رگم ان پراخمادکٗرے یں پر گے ا دی یادگر 








_لصس رس رس مسب سج 
لال طط ریفقت کے لوک بڑے اجک اور نیل ہیں من جے نے ۳وب 

معترعیشڈاے ‏ بلدبازے۔ - ۱ 
دو رااغت زا کہ الطاؤمسادرالدلائک کے بارے مم ے۔ 

وباب بی ےکنطاؤو کو داؤپ جنزہ کے ساتھیھی پڑھ ایا ہے امام ام 
نے مرف علوم اید یت مفہ 104 اورامام ساوک نے رامخ جلد 1 27ے 
لف ایر حکھااورائس پرکوئی اتانس نمی لکیا۔ 

( ری ) ممض رت نے لفظا لام کو لیفک کےککھا ہے امھت فیس سے 
قرآئن پاک کے لطر یق ے۔ 
میک ناکہ الف نک یکوئی سنفیں_ 

ق اب بی ےک یو ںکتب ایا ہی نک جٹع شدہ ہیں نان ان کے با رک کا 
کوئی تتارک' یں ء شا ا یرت ے اور تی اكوئی سر_ گمتزری گا وادر 
ااصول ءافش مکی دائل ال 7 اوران طلاکی وس ۃ مت ین وغیرہ۔ 

اود ےکہن کہا نز ہ گلا رتٴدرت ہے چوک سلطنت علاشہ کے خرمیں 
جارئی داتھا۔ یت رخ کا سراسر جہالت اوداس کے دلال ےی دن ہون ےکی 
دش ہے کیو یقت حال ا لک یکذ بک تی ہے۔ا سک کی مشالیں یں ۔ چا 
کیرک یکاقول ے”سنة سیم د تسعین و ستمانة للھجرۃ الطاہرۃ الدبوںة لئ 
صصلدکیا ہےفو بی تک بیانازدپاے_ ۱ 
ھا بیاختزائ لک ہمصن بدا زاقی احکام سے متعا نکناب ےج لک ابا کاب 

اطہاروے ہے۔ : ا 

جا گگذارش ہےکہاحام سےمتحلقی ہونے سے ہلا زی لآ ا کا میں 
ملف اہواب او خیرا ہکا والی احاد بی ٹل ہو لکی ۔مصنف ابن الی شی کودی دراو 
کہا شی صرف اعلام پر اقضمارکٹس بللہمفازیی یرت :متا قب:اوال ,زی 
ےس سا سس سی سے یں" 





جن تکاتتزارف ونیردویھی نکور ہے۔صاح کنا بکوا ارہ ےکمرجس با بکو چا ے 

مقدممکر نے بام و خرکر نے۔ 

باقی صا بکشف افو ن کےقو لکودیل بنا نا درستجیں کون ان اکب 
کے تارف میں ب یکنا کہ فلا لکتاب ازواب شظہیہ ممفیل ےا ے 
دوسرے مضا می نکیافی یں ہوکی ۔ می با بھی معلوم ہ ےک حا ست اور بائی 
تپ من انی اواب پعرتب ژیں۔باوجوداس کول اب کاب الا ماع“ 
سے کوگی' کاب اعم سےاورکوگ یی او راب ےن روخ ہوٹی ے۔ 

2 پھردن خرشمیلی ےئ لک ناکم فک ابندا کاب الطلہار سے ہولی 
ہےء درس یں ۔کیونلہانچوں نے ال ےنتا قکوئ یکنا بی نکھیء بکلہ 
اپے اسا نز وکا ہملہ ولا ےك ”مه الطھارة والضلوٰة والزگوٰة و منه 
العقیقة والاشربة ال۶ 
رد ہ“ تجح فیہ ہےءااس سے صسرف الن الد ا بک ططرف اشارہ ہے۔ 
(بیںگی یادرےکہ) اصحاب محتفات نمی مین باب یامعٴن عد یٹ ے 

رو رن ےکی ش رطڈنئیسں لگائی جی امام بفارگیانے اپ کاب تار کی کواسم 

مم ےم و عکیاء ل7 وفحئم داے''الف“ ےت تروع پاگکرۓ ں-بیان گا 

خالفت ہوک کیا ان ہوں نے مل کیا یں ۔ بلک رصاح بکتا بکواخقیار ہوتا ہے۔ 

پیک اکا ا بک مکی حدبیث کےالفاظطاورمعا ‏ یمٹروراورخاہ الا ن ہیں“ 
ال سے بہلا می لآت کہسار کا بل نکنزت ہے ودنہ امام طرائی کے - 

معا لا ش:الوٗیم اوردی یکی مصتفا تبھ وی قرار پا یی 7 

ففوٹ: داع ر ےک ہمارے شا ئعکردوڈ کی ابتقرام یش عد یٹ مرف نیل ب لا“ 

ہے یس سے اعترائس نتم وکیا ۔ یہنا فکر اس سے جال ہے۔ 

ھا کم اکہ”انورھمر لود اعت گی ہے نجیاسان از ان جلد 5 صف 242 







































سس 0گ 





سم متس سے سے بے سرت ےت تس سس سم شش ا ے 
کی افو موجود ہے۔ ایی بی جلدل ص 31 ےافدا لکا ي/ن اگ یافظ 


کمہشال ٹس واردی ہوا باب بی ہ ےکہواردضہونا عم و جودکی دم لا _ 
7 کہاکہحد یٹ نہر 9 می سالم بن عبدالہام معبد سے ردای تكر تے ہیں چک 
اون ام معبد کے ز مان لوس پایا۔ 
عالائک کب عد بیث (اڑیی) ھرل اور تفع اعادمٹش سے ے کو ریا ڑکیا ڈلء 
نی ںی نےچھیبچھو ٹ نی لکھا۔( ہداشک ٹم ون تی مکت پکاا لک رکرو 
( نیدری) مت کاامام جزدی اور دنگ رع فیہ رہم گرا ء اود گا نکر ناک لفظا 
”آل “اش ہے جوکردد ا بر(نماز کے )تشم کے علا وس تھا۔ 
اس کا دگوی ال سد یوک بخارگی(708/2) یس رسول ال نے 
ا برا م الله طل علٰی محمد و آل محمد الم کےالفاظ سے درودکھایا 
ہے۔ بیددود بفارگی ذس اوردیکر و شنتلف ردا ا ہیل موجودے۔ 
تصوص ]ان بفکوال ے ”القربة الٰی رب العالمین بالصلاة علٰی محمد 
سید المدرسلین“ٹشآگی پردرودگی روایا تا کی ہیں ۔ اذا مت رض این کو لکی 
کتاب مد ڈگ م87 کوفور سے د کے وہاں الا نابھی موجود ہیں : 
اللھم داحی المدحوات و ہاری الەسم و کات و جبار القلوب علی 
فطرتھه شقیھا و سعیدھۂ اجعل شرائف صلواتك و نوامی 
ہرکاتك۔ ال 
ا کیل مث ای قاربی نے" ال زب اکم زالورراگر اکاروگوات 
سیدال جو دصلی اللہ مه می عھاہ تال ناوفٹیردے م فو اورمووف 
رفایات ڈگ کی ہیں1 اگ رٹ 2 سے دک اتا یں بھی صو نیہ کے ون ظا لف وروایات 
ٹراردتا۔ 
در تممیاد کی با تک لف کے ہاں نظ جرد وی اذ ریچ بہتاجنل ہے۔ 





















ج-- جک 


بی یمیس سس چششست چس تد اچ یہر 
علام ہاوگ نے القول الب رب صفحہ 126ب سد ال ران کے الفاظ سے ورود 

یی ہے ھت نے اس ددای کو نکھا۔ اس عد ی ٹکوائن بیط 65بر :شی 

اسا یل نےمفےہ 58 پر برای ن ےکی رجلد 9 مخ 115 پر :نائلی نے الدکواتعہ ہچ 
پر دیٹھی نے مندلفردوں میں اىی رف نکیا کیا مر جج کی ) کےعزائم 

سے ىف باعل وکنا ےنیں۔ 

مرف نے اپ ےمان یس مر اصلاب گیا ےک امن الی زا دہ زکریاے 
کہ کاواللد ےکیونک و جم رکےاسا کڑوے ہے۔ 
بیقک ہکن ذک یا نے مر کے زہان ےکو ایا ہے ۔کو مھ 153ھ می فوت 

ہد اور سی 121 حرش پیدااور 184ھ می فو ت ہوے۔ اہی ب اکا برک اصاغمرے 

روایت ہ وگ ۔اگ مز امن الی انہک کسی مان لیا جا ےت بھ کوٹ خرا لی ۔ 

ابس مر کائمان ہ ےک مرن امن جرتک سے روا تنا کی ۔ 
لا اراءاور جباات ہ ےکیوک۔ اما مکبدالرزاقی نے ایی رجلد 3 صف 13 

ایاط رر ردامت با گا:عبدالرزاق قال اخبردا معمر عن ابن جریج عن ابی 

ملیكکة عن عائشة۔۔(الریف) 

ھ منرصش نے سم کی رداییت سال سے اور سالگ مکی نرت الد ہریرہ ے؛ ربھی 
احترائ سکیا ءجچی امن ہدرالہرنے اتبید جلد 11 مل 111 پراںطرح ستگکھی 
پا 

قال حدثنا حلف بن سعیں قال حدثنا عبدالله بن محمد 7 

عبدالرزاق عن معمر عن سالم عن ابن عمر الڈ۔ 

ائلن زم نے صلی جلد8 صفہ 10 ” سکاب الز ور می سککھا: 

مع ذالك من طریق عبدالرزاق عن معمر عن سالم بن عبداللّه 

و 








رہاسا لمکا رت الو ہر٤‏ سے روای تک نات امام مسلم نے ”باب رفع العلھم 
وقیضہ و ظھور الجھل ال۶“( جلد 2 صفہ 340) شس لو ںکلماے: 

و حدنا ابن تمیزة ابو کریب و عمرو الناین قالوا آتا الیخاق بن 

سلیمان عن حنظلۃ عن سالم عن ابی ھریرة ال 

(تزیب؟ کال بل 10ف 145 پر یددایت الد بن عبنالله عن ابی ھریرة) 

مض ن ےہاک لیے “ستمرکےشیوغ ٹس ےکڑیں ۔ 

عا لاہ یز راس دھوکہاورضیاخت ہے ۔لخزخل نےتریف ےکا لیا ےکیوکلہ 
اس نے'للیٹ'کواللیٹ بناڈالا ۔ جک رای ٹ مم ر کے ہں۔ 


( تن یب !نکرال جلد 24 صف 2886279) 
عحد نہر 20 کےمتحا نماک تفا ظطاسل ے اوافف ہیں ء عا الک ہائ ںکیاسد پہ 
کوئ یمن ئیں _ 
مناخ رجماب ڑکا نل متابجات پروائف ہوناءشن پر تفم دانف نہ ہوۓ کولی 
میں ءا سک یکئی سای ہیں۔ 
مرخ کا می لوٹ کہا ٹم سکئ اعاد یٹ مصقف ان ای شیب ےش لکاگئی 
ٹیلا۔ 


قجواب بی ےکی با للا وواحب ہے۔ 
ا کا یدنوگ کہا سکاب ٹیل اسانیدم کہ ؤں۔ 

بیھوٹ ‏ ےکیونکہ ا مخ یس ار یکوکی یں ے۔ 
(ل مھنرف کا من فماری لا ء کےجوانے سے عد بیث جا رکم وضو ر حکہنا_ 

فا سک جواب مہ ےکہ ران لوگو کا اپنا معاملہ ہے نچ مار سمادات علاء 
کان ی علاماورامت کے ہو رعلاء بہار ےنظر کی تا یکر تے ںا کس 
ایک ء بین جمروہ زروقیء اما قسطوا لی گی ھی ہشییء مناوکی اورقر ای دغیرہ 











دمحا 


یک 

علاوواڑز بہت گلا ء امت 

ھنم کاکرناک۔حدیث جا کرک یتتابوں میں ول اندازی ہے- 
پکھلا افزراء ہے ہکیونگ اکب یکپ حدنث جا ےپھرک پٹ ؤں- 

ب8 مترض نے تسعلوانی کی ردابیت پر کہ اکر دہف رآن کےتفالف ہ ےکیونکہرائسں 
سے پونے لن ےکآ سان ز شن سے پیل پدراکیاگیا۔ ناڈ ن ےآ سا نکوز من 
سے یل پنیا ۔ (طا ظ× و اتی کی رہروئ العائی جلد 24 صفہ 08| تمی رت ری “ف 250+255) 





فائد۵: 
)4 علا ر بی نے مھ القاریی جلد 15 فی 109 ذکرکیاک جس شی اڈلی تکا 
لف ہوتودہ ما بتز کے اعقبارے ہوئٹی یب 


(ذذ) علاہہلائگیتقاریی نے الموردالروگیصفہ 44ف مایا اشیاء یکل مطلاقانو رخ ری 
ہے پچ انی ء ریرش ء رم ۔ دم راشیاءیس اولیت اضایٰ ے۔ 

(ذ4) فقیہای نج تی نے م رق ة فان جلد 1 صفہ 166ب ذک رکیاکرسب سے پیل 
ووپدر ےک ےرول الله پھا بیے لئ برای ءبھریکری۔ 

(+3) امامسطلا نی نے بھی اسی طر عکہا۔ : 

(۷) اما مل من کبدائڈدالدڈٹی ے ”عطف الالف المالوف علی الام المعطوف“ 
می سکا: عفر تآ و متحضور کے نو رسے پبدا یی یئ _ 

پنوٹ: ہار کاب نو رالہدرایا تشخ التہایات صفہ 54 کا مطالتکرو- 

(:) ائن الی حاھم نے اپ خی رجلد 7 مخ 231ر سندن سے ردآی أ٦‏ لک کہ 
رسول ادج اول وآ خر ہیں ءاور یی روایت ے۔ 

)ذذ0 رواب ییینلمس می ںی١‏ یرس یردامت کے 

(> ذذ ۷) ایی ن بھی د لال خبوت میس امیر عکلھا_ 
کتاب الا ال لا بن الی حاغ مک (خیریی )نع کنا ےکا سے مراددا2د عیال 









زظمی محاس)ا تو 
ہیں٠‏ دنس او تی گیاروامت بل تی تا۔ 

) تج باجا9ا)تہار ٹین ر 2 میں حضمور کے بارےائس حدک ۷ دی یں 
اك زا لکحدیٹ جاد:مدمث۶ قأق لک طخ ے_ 

اے( ری) مر ۴٠1اورانۓڑرازرورےی‏ چا رکوزعر بیقوں نارچوں اور 
غال یئ ہلوگو ںی عد جو ں ےت لا_ ۱ 
من رق نے میرکت عبات پرم کرت ہو ۓ”ممصتف“ کی اشاع ٹکو 

ڈنمارک کےکگتاتوں ے۔ادیا ہے ج کان رمالات می شکمتاٹی کےم جب 

پوپ ہیں۔ 

مر سے پیک ات ممفقوراو رگا وں کےدرمیا نکون یآہبت ے؟ 
کیا حضو لی مم و تیرکرنے دالا جوشان رسالت بلس یک یکن سکع کر سے 
2 بی محمد ک ےج تن ریا پک ہآ پا کاعحہ ہمارے ہاں (عیر) ناہ ہو 
اورلو گآپ سم رایت وشن مکر مس اوروپنض جو خرا اڑاتا ہواورانمانیت بل 
دی کا دن ہہوہ یرایرہو سکتے ہیں ؟ 

می ران جا باخعتزا انی سواۓ جال اودائقی کےکوٹ نی ںک رسک کیو میں 
تے اساکنع کے چو روا ان کواپایا ے_ 

مھت رش ااورال کے جواری (ریی لوک )تضور الام ےحب تکر نے والوں 
کو یپودونصارگا سےگھی بڑ ےکاخ جات ہیں جی اش ران عبزاللی آل 
اع اور ابرائ مرا یلیل اج نے ”اجما۶ اھل السنة النبویة بتکفیر 
المعطلۃ والجھمی لیا الات غاد سے مراددت ءالوکچی رس ال مان ورورے 
اولعراریں_ 
رت ادیپ مداٹی 11 اگوائی مر ےخلاف بی کی ے۔ 




















سر س) اع 


کے کچسشسسىسسُجچجسہین تا شس سس .9ے 
تچ ہاہوں نے و مت ری نکا ردکیا ہے او رہم پر لگائی بھوی نو ں کا جواب 
ائ”رساله برأة الشیۃ عیسیٰ بن مان و محمود سعیں ممدوح ممانسب البھم“ 
دیاے- 
منرت کا سادات نماد ےکی رت این ع لی تال کی نو شی برع نکر بھی 
درس تی کول جن کہ رک وش وت ری سکرنے والوں بی سک رما ظاور میٹ 
شال یں۔ 
یا ہم ثیات ہیں جن ہیں ناشن ( نید یوں )نے ذکرکیا اوس نے خی رتکلف 
کے ان کا جواب دیا۔ اعترائ لکرنے والوں نے ا سے نگخزت کے میس جوجلد 
اذا ےکا م لیا ہے دہ اچ امک شاب تس ہو کا۔انہوں نے مسلما نو ںکوکا فرقرار 
دےکرگمراہہ برق او ھوٹا کین یں نی مات ےج تلم نی مکااطکا بکیا مہ 
مت رض نے میق اعتزائش سیے دوس بل نظ ول جا ول ہیں ۔کوک بھی پقتداعتراسش 
یں ۔ من چہالت دکھاتے ہد ئ جرح کے اصصو لک پابفدکی شک کے اس ماک 
پراگندہوکرد ہا ہے چوک ایک ر اکن معالمہ ے۔واللهالھادی۔ 





وو وٹوٹوت 
وو وٹوت 
وو و 





ا و 


عق الفعر تین علق دم المفقود من 











رااقای ج 


خادم العلم الشریف 


د/ عیسی بن عبد اللہ بن محمد بن مانع الحمیري 

الحمد لہ یعز من یشاء ویذل من یشاء بیدہ الخیر وھو علی کل 
شيء قدیر؛ والصلاة والسلام علی سید ولد عدنان من بعثه اللہ بشی را 

ذیرًا وداعیّا إلی اللہ بإِذنه وسراجًا ون وعلئ آله الغر المیامین: 

وأصحابه والتابعین رضي اللہ عنھم أجمعین, .,. آمابعد؛ 

فقد سبقٴ لي مذنذ قرابة عام تحقیق وطبع القطعة المفقودة من 
مصنف الإمام عبدالرزاق الصنعانی؛ وقد قمت بالعنایة بھذہ القطعة 
حسب اأصول التحقیق العلمي التي تعلمتھا إبان دراساتي العلیا بقسم 
الحدیث بجامعة أم القری وغیرھاء ثم دفعت بھا بعد ذلك للطباعة راجیٔا 
من الإخوۃ الباحثین إبداء النظر في العمل فإن العلم رحم بین أهله؛ وقد 
قال تعالی: (وتَمًاولوا علی البر والتٌنوی ....اليِة )ء وقال صلی اللہ 
عليه وسلم: (( الدین النصیحة)). 

ولذا کان عندي أمل ۔ ولا زال ۔في التعاون علی البر والتقوی 
وإیداء النصح في نطاق سماحة الأخلاق الإسلامیة مع کل طالب علم؛ 
إن شاء الله تعالی. 

بید أن جماعة من المتطرفین وھم في نظرنا علی قسمین: 
متطرفون رغبة في الارتزاق وبسبب العمل والمجاورۃ ومتطرفون 

















رلقای ج0 


أُصلیون؛ وکلا القشمین رکب مرکا بعیذًا عن النقد العلمي الصحیح, 
البعید عن پسر وسماحة الإسلام: وتحسین الظن بالمسلمین؛ فأخذوا 
یکیلون الذم لنا ولأاصحابنا بشتی الطرق حتی اتھمونا بالعظائم والشنائم 
۔ انتصارا لأاھوائھم ولحاجة في أنفسھم نسال اللہ لنا ولھم العافیة و السداد, 
وکان مرکبھم یجدف بمجدافي الغل والحقد من ناحیةء والخیانة 
والبھتان من ناحیة أخری: ونحن لا یخیفنا ھذا ولا ذاك: وإنما نسعی فی 
طریقنا الذي نعتقدہ صواباء رضي من رضي وسخط من سخط, 
والقافلة سائرۃ بإذن اللہ تعالی؛ والعاقبة للمتقین, 
وقد حبٗرت ھذہ الکلمات لکشف الحقائق لیعرف الصادق من 
الکاذب وینجلي للقاری الکریم الوائق من المارق: کما أني لم ارد بھڈا 
الرد مسایرۃ المتطرف الحاسد أو الخائن الکاسد ولکن أُردت بھا تثبیت 
قلوب المحبین الصادقین حتی لا تنطلي علیھم مثلٔ تلك التر مات ول 
یُلبس علیھم بزیف العبارات فإنني خبرت المخالف لا یقنم وعن غیه لإ 


یردع:؛ وبغیر ھواہ لا یقنع؛ ولا لنداء غیرہ یسمع؛ ولو کان حقا من 
الٹھار أسطعء إِلا ما رحم اللہ فإِنھ علی الخیر یجمع, 

وھا انا ۔ بفضل اللہ تعالی۔ أنقدم لاخواني المحبین؛ وأعتذر عن 
التاخیر بسبب مشاغلي الکثیرة؛ وأقول وباللہ التوفیق: 

لا شك أن من المعروف عند المشتغلین بالحدیث الشریف ان 
مصنف عبد الرزاق الصنعاني؛ قد طبع ناقصًا قطعة من اوله واخریٰ 








رااعایی ب٠‏ 


۱ من وسطہ؛ وذکر ھذا محققه الأول الشیخ حبیب الرحمن الأاعظمي 





رحمه الل تعالی؛ وقد بینتھ في التحقیقء وقد بحثت عن هذہ القطعة فی 
ْ مظان وجودھا بدور الکتب بمصر والمغرب والیمن وترکیسا: 
زمصوّٗرات دور الیحوث العلمیيةء وبعد جھد وعناء حصلت علی 
ا مجلدین من مصنف عبد الرزاق؛ وفی المجلد الأول عثرت علی القطعة 
آ المفقودة من المصنف وبینت في التحقیق أنھا وردت إلي من بلاد ما 
۱ وراء الفھر؛ ولقد بقیت الذسخة عندي عاما کاملا عرضتھا علی الکثیر 
ْ من اھل الاختصاص٠‏ فابدوا رأیھم بثبوتھا وأنھا جدیرۃ بالتحقیق 
آ وابدیت رأیي المذکور في مقدمتي للجزء المحفق من المصنف, 

وتبِعًا لذلك توجھت إلی المدینة المذورۃ والتقیت ببعض خبراء 
المخطوطات الذین کانوا پعملون بمکتببِة عارف حکمت الحسیني 
فاخبروني بوجود خطوط مشابھة لخط المخطوط الذي بین یدي کثبت 
في القرن العاشر الھجري؛ واوقفوني علی عدد من تلك المخطوطات 
فاستبشرت خیرا, 
ٹم سالت الثقات من أھل العلم والفضل والخبرۃ من البلاد التی 
انتا متا نعط للاش آوخا رق المخطوط فأخبروني بان هذا 
الورق قد فقد منذ حوالي ثلاثمائة سنة علی الأقل؛ واخبرونی بان 
المخطوط الذي بین یدي منقول عن أُصل قدیم فطلبت الوصول إلی 
الأاصل والحصول عليه أو غلی صورۃ منه؛ فعلمت ان الأصل فقد فی 



















الحروب التي وقعت ببلاد الأفغان أخیرٴاء عند ذلك عاودتث سؤال اُھل 
الاختصاص فاجمعوا علی ان المخطوط درۃ یثیمة في بابھاء ومن 
الأامانة إخر اجھا., 

٭وبناء علی المعطیات السابقة والاستخارۃ والاستشارۃ عزمت 
علی تحقیق المخطوط ملاحظا الأصول العلمیة الأئیة: 

ا جمع النسخ والمفاضلة بیٹھا مع اعتبار المتقدمة تاریخیًا من 
المؤلف والاعتماد علی النسخة الأم والرمز لھا والمقابلة مع بقیة 
المخطوطات استدراگا لما قد یقع في النسخة المعتمدة من نقص 

لہا۔ البحث عن خط المؤلف 

ج۔ البحث عن مخطوطة کتبت في عصرہ وقرئت عليه, 

دے ان ٹکونں طی سخ ساعت ۱ 

۵۔ ان تکون المخطوطۂة کثبت قریبٔا من عصر المؤٴلف, 

و- وآن یری في المخطوط آثار المقابلة کوٹ دائرۃ وبھا نقطة ‏ 

لکن وجود هذہ الشروط لیس مطرذا ولا لازسًاء واذا لم توجد تلكف 

ااشزوط والحاجة مانة لی تلك المخطوطل اکتقیٰ بانموجودہ فا ما 

لا یدرك کله لا یثرك جله؛ تنز لا لإظھار ما کان الباب محتاجًا إللبه 

کما هو الحال في الحدیث الضعیف إِذا لم یوجد في الباب غیرہ 

وجری العمل به دون ن إلزام الآخر بھ مع التحري المسٹمر لعدم 
" مخالفة مقاصد الشریعة الغراء, 











رلاقای تب 


وکم مان انناج طرغ ظلیٰ اض اریت دزن ررقن عے 
لا سماغات: ہل ری تم ابتدا خن افختیتھ ا فك رو عَاداما سس دننة 
المشرفة وغیرھا والتي طبعت في اوائل وأواسط القرن الرابع عشر 
۔ بالمطبعة الأمیریة بمصر لم تعرف أصولھا. 

رتد یت الال العلمية في التحقیق ولست غرٴافی 72 
الشأنء بل إن لي فيه صولات وجولات؛ واشتغلت بھ زمنا وتجلی ذلك 
واضحا في أعمالي العلمیة فقد کانت رسالتي للماجستیر تحقیق الجزء 
الخاص بسیدنا أبي بکر الصدیق رضي اللہ عنه من کتاب الرباض 
النضرۃ في مناقب العشرۃ للمحب الطبري؛ ورسالتي للدکتوراہ کانت 
في تحقیق کتاب (( استجلاب ارتقاء الغرف بحب اقرباء الرسول صلی 
اللہ عليه وآله وسلم ذوي الشرف)) للحافظ السخاوی: إضافة إلی 
الکتب والبحوث العلمیة المحکمة والمقدم لھا من کبار: ُھل العلم ککتاب 
لباب النقول في طھارۃ العطور الممزوجة بالکحول والذي اعتمد من 
قبل مجمع الفقه الإسلامي؛ وکتاب التامل في حقیقة التوبسل؛ وکتًاب 
العقیدۃ والعدید من البحوث والمؤلفات, 





وقدُم للعمل المذکور أخي الدکتور محمود سعید ممدوح: وتقدیمه 
کان للعمل فقط ولیس لمفرداتھ ولکل ر أيه ونظرہ, 
وبعد إخراج ھذا العمبل بقرابة شھرین فوجنث بضجة من 


المخالفین امتاذت بھا ہواقع (الانترنت ) حول الکتاب؛ باعتراض ونقد 


















7ق ۵ 


مقرونین بقاموس من الشتائم والسباب والدعاوی الباطلة علی وعلی 
المقدم للعمل؛ وقد تجاوزت کل ذلك وفوضتھ إلی اللہ تعالی وخرجت 
من کلام المعترض ہامرین اثنین لھما تعلق بالعلم أجیبه علیھما بإّن 
اللہ: 

الأمر الأول: زعمه أن النسخة مزورۃ, 

الأمر الثاني: ادعاؤہ أن آسانئید القطعة مرکبة, 

أما الأمر الأول: زعمھ ان آسانید النسخة مزورة . 


فجوابھ أخي القارئ: إِن المعترض قد بلغ غایة قصوی من البعد 


والشطط فادعی علي وعلی المحدث محمود سعید ممدوح کذبًّا وزورٴا 


تزویرنا للقطعة المعنیة من مصنف عبد الرزاق؛ ثم لما تبین له خطؤہ 
الین وتسرعھ الفادح تراجع عن ھذہ الدعوی وتناقض مع نفسه فابطل 
قولھ بنفسە؛ لان ھذا القول ظاهر البطلان حتی علی الحدثان من الناس 
لعدة امور: 

أُء ان المخطوط جاعنا من بلاد ما وراء النھر فلا مدخل لنا فيه 
البتةء ومثله کمثل أي مخطوط یحصل عليه المحقق ٹم یدقعه للطباعة 
بعد العنایة بھ والمخطوط بین یدي؛ وقد کتب قبل ان أولد قطعا. 

ب ۔ ھب أن القطعة المذکورۃ موضوعة فراوي الموضوعات ٭ 
لیس یوضاءء وما زال الأئمة الحفاظ یروون الأحادیث المسندة بل 


والمعلقة الموضوعة بدؤن تنبيه علیھاء ویکتقون بابراز الإسناد أو تعلیقه 














رااقلای تر 


فقط وقد حوت کتب الحفاظ المتأاخرین کابي نعیم الأصبھانی: و أبی 
بکر الخطیب البغدادي بل من قبلھم کابن عدي والعقیلي و السھهمی 
وغیرھم الکثیر من المنکرات والواھیات والموضوعات: کما أن ھناك 
رسائل کثیرۃ قد حققت فی المحافل العلمیة ثم تبین بعد ذلك عدم صحة 
نسبتھا إلی مؤلفیھاء مل سمعنا یوما أن سحبت الرسالة عن المحقق 
واتھم بالکذب والتزویر هو ومشرفھ وجامعته؟! یا له من عجب یتلوہ 

فکتاب السنة المنسوب لعبد الله بن الإمام أحمد قد أخذت عليه 
الدکتوراہ من جامعة أم القری ولم تصح نسبتھ إلی الإمام عبد اش 
وكذلك کتاب الحیدۃ المنسوب لعبد العزیز الكناني المحقق في الجامعة 
الإسلامیة وکتاب الرؤیة للدارقطني؛ وکتاب الرد علی الجھمیة امام 
أحمد بن حتبل, وکتاب إِثبات الحرف والصوت للسجزي المحقق في 
الجامعة الإسلامیةء ومن ھذا الباب کتب ورسائل وروایات نسبت لأحمد 


بن حلیل وغیرہ, 


جج ۔ هناك فرق بین طبع ونشر الکتاب وبین روایتھ فان روایة 
الإسناد طریقة معھودۃٴفی إِثبات البراءة لکن الأولی والأحسن للعارف 
الکشف والبیان. 











راقلایی تر 


أما تحقیق الکتب فلیس هو من الروایة في شيءء ولا هو إذن فی 
الروایة ثم إن غالب الناشرین والمحققین إن لم یکن کلھم لا یملگکون 
أهلیة النظر والحکم الصحیح علی المتون من خلال الأسائید, 

وقد رایت بعض المعترضین سارعوا بالطعن فيٗ وفي عملیٰ 
وبعون اللہ ومشینتھ سأحیط بھم اإحاطة السوار بالمعصم فی إحباط 
مطاعنھم. 

الأمر الثاني: ادعی المعترضن أن أسانید النسخة مرکبة واسٹتدل 
علی دعوّاہ بخمسة عشر دلیلا ملخصھا علی النحو التالی: 

1 زعمه بان المخطوط مزور من حیث خطه فخطه لیس من 

کتابات القرن العاشر بل خطهھ من جنس خطوط الطبعات 


الحجریة في القرن الماضي في الھند: 
2 زعمه بان کلمة (الطاوٴس)ء وکلمة (الملنكة) لیستا من خط 
القرن العاشر. 


3 زعمه بن النسخة لا سند لھا ولا سماعات علیهاء وأنه لم 
تجر العادۃ بالنص علی التاریخ الھجري ' کما في المخطوط 
- إلا في آخر ایام الخلافة العثمانیة, ۱ 
۹- اعتزاضه علی بدء الکتاب في ھذہ النسخة ناب في تخلیق 
7 ... نور محمد صلی اللہ عليه وآله وسلم؛ وکتاب مصنف عبد 
الرزاق کتاب أحکام یبدا بکتاب الطھارق 
ٗ“۔ 


- 








راقای نت 


5- اعتراضه علي أنني ذکرت إسنادي لمصنف عبد الرزاق فی 
أول التحقیق لأوھم القراء بأن الکتاب الذي بین أیدینا متصل 
الإسناد, 





6۔ اعتراضه أن اول حدیث اوردہ عبد الرزاق في الباب حدیث 
ركيك الألفاظ والمعاني ظاھر البطلان. 

7 زعمه بان أحادیث ھذہ النسخة من التراکیب الأعجمیية 
والمتاخرۃ وھي داخلة في اختلاق المتون مستشھدذا علی 
دعواہ بتسع نقاط: 

النقطة الأولی: حدیث رقم (7) الذي جاء فیه: (وائورھم لونا)؛ 

حدیث رقم (9) وفیه: (کان أحلی الناس وأجملھم من بعید). 

النقطة الثانیة: حدیث رقم (10) وفیه: (کان البراء یکثر من قول 

أللھم صل علی محمد وعلی آله بحر أنوارك ومعدن اسرأرك), 

وزعم أنھا صوفیة بحتة ومنتزعة من دلائل الخیرات, 

النقطة الثالشة:ِ حدیث رقم (11) حدیث رقم (12).عند کول 

(اللھم صل علی سیدنا محمد السابق للخلق نور١)‏ وز عمه ان لفظ 

السنیادة غیر وارد في الصدر الاول, 


النقطة الرابعة: حدیث رقم (13) وأنھ ترکیبة صوفیة منتزعة من 
دلائل الخبرات, 7 








راقای و 


النقطة الخامسة:حدیث (14) وحدیث (15) زعم علي في تعلیقی 


ان ابن أبي زائدة هو یحیی بن زکریا وأنه خبط عشواء بینما الذي 





یروي عذه معمر هو زکریا والد یحیي ثم عرج علي بانتقاد 
حدیث رقم (16) بسیئ من القول اعرضت عنه جانا 

النقطة السادسة: زعم المعترض ان معمرالم یرو عن ابن 
جریجچ کما في حدیث رقم (10)., 

النقطة السابعة: زعم المعترض أن روایة معمر عن سالم عن 


أبي ھریرۃ ترکیبتان مختلفتان. 
النقطة الثامنة: زعم المعترض علی حدیث رفم (36) أن (لیث) 
لیس من شیوخ معمر, 


النقطة التاسعة: زعم المغترض في حدیث رفقم (20) بان 
الزھري لم پدرك (ربیح)؛ وان المتابعة فاتت علی الحفاظ حتی 


أدرکھا المحقق ومحمود سعید ممدوح. 

8۔ لائتازہ ان فی الکتاب اأحادیث نقلت من مصنف ابن آپنتین 

9 ادعاؤہ أن في الکتاب آسانید مرکبة تدل علی بعد المزور 
عن المعرفة الحدیثیة, 

0۔ قولھ في شأن حدیث جابر رضي اللہ عنه وزعمه بانه 

موضصوع, 
1۔ ادعاء المعترض بان حدیث جابر یتعارض مع القرآن, 
2۔ استشھادہ بحدیث عرق الخیل علی آئي أروي المنکرات, 











13- طعنھ في تخریجاتي الحدیثیة وربط خروج الجزء المحقق 
من المصنف بأحداث الدنمارك, 


4۔ استشھادہ بشھادۃ أدیب الکمداني وجعلھا دلیلا علی تزویر 
المخطوطة, 
15- اااعاؤہ علي بان دعواي في إتقان الناسخ زعم غیر 
پچ تا ژ ۰ 
6۔ طعنھ فی توثیق السادة الغماریة للعارف باش المجٰدد سیدی 
محي الدین بن عربي الحاتمي قدس سرہ, 
وسارد علیھم بعون اللہ تعالی وأترك السب والشبل والتجریح جانا لالہ 
لیس من سمات المسلم عوضا عن أآهل العلم, 
الجو اب علی النقاط المتقدمة علی النحو۔ الأتيی: 
أولا: زعمھ أن المخطوط مزور منٴحیث خطه؛ فخطه لیس مان 
کتابات القرن العاشر بل خطه من جنس خطوط الطبعات الحجریة فی 
القرن الماضي فی الھند, 
جوابھ أخي القارئ: ما صرحنا بھ في المقدمة منٴترجیحنا لکون 
المخطوط منقولا عن الأضل الذي کتب في القرن العاشر 
۱ ومع ذلك فإن خطه یشبھ بعض خطوط القرن العاشر؛ وهذا ما - 
رایناہ في مخطوطات مشابھة: واتینا بصور لھا بعد ان اثبتناھا فی ۔ 
مقدمة التحقیق, 
وھذا المعترض قد هھدم ما آأتی به علینا فقال ما نصه: (و عليه 
فإِن خطوط القرن العاشر في النسخ والئلٹ لا تختلف عن خطوطنا نحن 








لیتوم؛ فلماذا یتحکم الحمیري فی ان خط المخطوط هو خط الفرن 
العاشر فقط؟) فقوله (لا تختلف عن خطوطنا نحن الیوم) تصریح منه 
باحتمال کون المخطوط من کتابات القرن العاشر؛ وھذا متوقع 
ومحتمل, ٠‏ 

ثم إنھ لیس من علامات الوضع ان تاتی النسخة من عند القادریة 
أو النقشبندیة أو غیرھم؛ وکم من مخطوطات جاءتنا من أوروبا وروسیا 
وأمریکا واعثتمدناهاء فھل نقول بوضعھاء بمجرد الحدس والتخمین الذي 
یوقعنا في هك حرمة المسلم, 

فلو أزاد قادریة الھند أو غیرهم الئزویر لاتوا بوزق قدیم من 
کتاب قدیم ولغسلوہ وکتبوا عليه؛ وقلدوا خطه القدیم وطرزوہ بسماعات 
تجعل من الصعب جدا اکتشاف عملھم؛ ولکنھم قوم محبون صالحون؛ 
الا ان الخائقین یسارعون بإیھام أنفسھم وإیھام الققارئ بأنھم علی حق: 
تم إن قضیة حدیث جابر لیست قضیة بلاد ما وراء النھر التي وردت 
منھا النسخة المعنیةء حتی یعرضوا أنفسھم للوضع والتزویر؛ فأمرھم 
معلوم طیلة الحقبة التاریخیة, 

۲ر۵ت کرو لیدالفعمازا لاب وق رك رد 
عليه؛ وقد رجع الأمر عليه؛ ٹم تراجعه عما اہو أدیب الکمدائنی 
لا یفید فی المسالة شینا لاننا لسنا فی نقل أحاجي تعتمد علی الاقاویل 


دون البرراھین والحجج؛ فاختر لنفسك سبیلا فالأمر جذ خطیر., 











رقای 


و 

ثانیا: أما عن تعلقه بکلمتي (الطاوٴس) (والملانكة). 

فجوابھ أخي القارئ: أن کلمة الطاوٴس حرفھا إلمعترض فقرأھا 
بالھمزۃ علی الواو بدلاا من أن یقرأھا بالضمة علی الواوء وَھذا ان دل 
علی شيء فإنما یدل علٰی عدم معرفتهھ حتی في قراءۃ المخطوط لان 
الحقد أعماہ والجھل أطغاہ؛ ثم إِنه قد جرت العادۃ في الخط فی کلمة 
(داود) أنھا تلفظ واوین وترسم في الخط واوٴا واحدۂ علیھا ضمة 
وكکذلك القیاس في کلمة طاوٴس, 

ما ضافة واو ثائیة في طاووس فقد جاء به العمل فی کتب 
معزوفة مٹھا کتاب مسالك الأبصار وھو الحال في إشوون| فالبعض ٴ 
یکتبھا واوین بھمزۃ علی الاولی؛ وفي القاعدۃ المصریة تکتب واوٴا 
علیھا ھمزۃ والأمر فيه سعة, انظر نموذج رقم (1). 

اضف إلی ذلك ان کلمة طاؤس بھمزۃ علی الواو قد وردت فی 
کتاب معرفة علوم الحدیث للیٍمام الحاکم النیسابوري رحمہ اللہ ص ) 
4) وكذك وردت في کتاب فتح المغیث لاًمام السخاوي ( 1 / 212 
)افھل الإمام الحاکم یعترض عليه بمثل ذلك الاعتراض؟ وھل الإمام 
السخاوي أعجمي کذلك؟ أم أن الذین حققوا الکتابین أعاجم؟ء ھذا بھتان 

أما الملائكة فقد نقلھا المعترض محرفة أیضا وھی فی المصنف 
برسم المصحف بإثبات ھمزۃ الوصل وحذف الألف بعد اللام الثائیة 








رالقلای 


ورسم الھمزۃ المکسورة بعدھا یاء ووضع مجعودۃ علیھا وبرسم التّاء 


في الآخر تاء مربوطة (مكانك تحمدي أو تستریحی). 





ٹالثا: وفیه أمران: 
قوله ان النسخة لا سند لھا ولا سماعات: فمن المعلوم بأن 


عشرات الاجزاء والکتب الحدیثية طبعت علی اصول لاتحهوي: 


سماعات ولم تعرف لکاتبھا ‏ ترجمة ولم یکتب علیھا إسنادء بل طبعت 
علی أأصل واحد فقطء مثل نوادر اللأصول للحکیم الترمذي ودلائل النبوة 
لأبي نعیم ووسیلة المتعیدین لابن الملا وغیرھا۔ انظر نموذج 
)0 

ب ۔قولھ إن النسخة ُرخت بالتاریخ الھجري؛ ولم تجر العادة 
للتاریخ الھجري بالنص علی إضافتھ للھجرۃ النبویة إلا فی آخر الدولۃ 
العثفانیة آقول: ھذا جھل وسقوط للحجج من ید المعترض: والواقع 
یکذيه فدونك نمااج من مخطوطات رخ لھا بالتاریخ الھجري, کقول 
العمري: (سنة سبع وتسعین وستمائة للھجرۃ الطاھرۃ النبویة) وغیر 
اف وھي قدیمة کتبت في القشرون السادس والامن والتاسع. 
انظر نموذج (3). 


تے. 








راقلاقی تن 


رابغاءٴزعم المعترض أن مصنف عبد الرزاق کتاب احکام یبدا 
بکتاب الطھارۃء بیئما النسخة الثي طبعناھا بدأت بباب في تخلیق نور 
محمد صلی ا اعَيه والھ وسلم ۱ 

فجوابھ من وجوہ: 

الأول: أن ھذا قائم وواقع؛ ولا یلزم من اقتصار الکتاب علی 
أحادیث الأحکام الا تکون فیه آیواب وأحادیث في غیر الأحکام فھذا 
شرط یحتاج مك میں فاان و زع لمات یا دھر 

وانظر مصنف ابن أبي شیبة مثلا تجدہ لم یقتصر علی الاحکام 
فقط بل ذکر فی المغازي: والسیر والمناقب: والاوائل: والزھد 


وصفة الجنة؛ وغیر ذلكء ولصاحب الکتاب ان یبدا ہما شاء وأن یقدم 





ویؤخر ما شاء, 

الثاني: أما احتجاجھ بما نقله عن کشف الظنون: فمن المعلوم ان 
مصنف فذا الکتابٰ یذکر آسماء الکتب ومؤلفیھا نون تفصیل القول فی 
محتویات تَك الگتبء فکونھ ذکر ان هذا المصنف مبوب علی کتب الف 
لاینفی وجود آبواب أخری فیيه کما اسلفناء ومن المعلوم أأیضنًا ان 
الصحاح والسنن مرتبة علی أبواب الفقه ومع ذلك منھا ما یبدا بکتاب 
الإیمان وأآخری بکتاب العلم وغیر ذلك مما لا یحتاج إلی بیان۔ 

وأما نقله عن ابن خیر الإشبیلي في فھرستھ ص129 عن الحافظ 
أبي علي الغسائي تسمیة أبواب المصنف في روایة ابن الأاعرابي عن 











)2+ 
لدبري للکتاب وأنھ بد بکتابب الطھارۃ فاعلم أُن ابن خیر الإشبیلی لم 
یؤلف کتابه ھذا في وصف الکتب فضلا عن وصف أبوابھا وما تبدأً به 
إنما وضعھ فیما قرأہ علی اشیاخ؛ ولما ذکر روایة ابن الأعرابي التی 
ذکرھا المغترض قال: (منه الطھارۃ والصلاۃ والزکاة ؤمنه العقیقة 
والأشربة..., الخ)ء فقوله: (منه) إشارۃ منھ إِلیٰ الأبواب التی أخذھا عن 
شیخھ ولم یقل بدا المصنف بکتاب الطھارة ولیس في عبارتھ ما بشیر 
إلی الجزم ہما زعمت: لان,کلمة (منه) تفید التبعیض لیس إلا: 
الٹالٹ: ان اصحاب المصنفات لم یشترطوا البدء بَا مغین أو 








حدیث معین کما لم یشترطوا عدم إیرادھم أحادیث بعیٹھا أو آبواب 
بخصوصھاء وقد ذکر السید إلمحدث محمد بن جعفر الکتاتی فی 
الرسالة المستطرفة من ص 39 إلی 41 ما نصه: (وَمنھا کتب مرتبة 
علی الاہبواب الفقھیة مشتملة علی السنن وما هو في حیزھا أو لھ تعلق 
بھا بعضھا یسمی مصنقا وبعضھا جامعًا وغیر ذلك)).ھ۔-. فانظر أخي 
القارئ الکریم في التعریف المتقدم في قول الشیخ الکتانی: (وما هو فی 
حیزھا أو له تعلق بھا) ھل استثنی الشمائل النبویة؟ أو اشترط البدء 
بابواب محددۃ أو غیر ذلك ؟ لاء بل ترك الأمر بحسب الاختیار ورغة 
کل مصنف, ۱ 

فھذا مصنف بقي بن مخلد قد اکثر فیيه من فتاوی الصحابة 
والتابعین فھل خالف أصول المصنفات !! وھذا البخاري قد ابتدا کتايه 




























رااقای تب 


التاریخ الکبیر باسم محمد وقد خالف طریقة العلماء فی البدء بحروف 
المعجم وأولھا الألف: فھل البخاري اأخطا؟ لاء ولکن ذلك اختیارہ وھو 
صاحب الکتاب؛ وکذلك سنن ابن ماجھ قد بدأ بتعظیم سنة الرسول؛ 





رفضائل أ٘صحاب الرسول:؛ وعبد الرزاق رحمے اللہ كکذلك کان ھذا 
ختیارہ فلا مشاحة في الاختیار . 

الرابع: الحکم علی الشيء فرع عن تصورہ والقطعة المفقودة 
من المصنف في حکم العدم بألنسبة للمعترض؛ فکیف یسندل المعترضض 
ِن کان عاقلا بالعدم, 

خامسنا: وأما زعم المعترض أننیي ذکرت إسنادي لمصنف عبد 
الرزاق فی أول التحقیق لأوھم القراء بان الکتاب الذي بین أیدینا منصل 
الاسناد, 

فجوابھ أخي القارئ: أن ھذا الاعتراض ضرب من التخریف؛: 
فنحن ذکرنا إسنادنا لمصنف عبد الرزاقی کلهء ولیس لھذہ القطعة فقط؛ 
ٹم إن ذکر الإسناد لأي کتاب ای شون و ما وضعه ومثل 
ھذا الاعتثراض محلھ کتب أخبار الحمقی و المغفلین. 

سادسا: زعم المعترض أن أول حذیث ورد في الباب حدیث 
رکيك الألفاظ والمباني ظاھر البطلان وفیه کلمتان: 

الأولی: أن وجود الحدیث أو الأثر الباطل أو الموضوع لا یعني 


أن الکتاب مُختّلق مزور وإلا کانت معاجم الطبرانی ومصنفات ابی 





راقایں خ 


نعیم؛ والدیلمي مزورۃ مختلقة والأمر ظاھر لکل ذي عینین؛ وزعم 
المعترض عدم حکمي علی الحدیث دلیل علی جھلھ بطرق الاغتر اضن 
لائي توقفت عن الکلام:علیٰ صحة السنذ أما المتن فلم أتعرض له وھذا 
آسلوب کثیر من الأئمة کالإمام الھیثمي في کتاب مجمع الزوائد وغیرہ 
من أھل العلم, 

الثانیة: ان اول ما جاء في القطعة التي ظبعناھا هو اثر ولیسں 





حدیثا مرفوعًا؛ کما ادعی المعترض الذي آراہ بھوي مع اعتراضاتھ 
المتتابعة فھذہ مسألة بعرفھا المبتدی عوضنا عن الناقذ: 

سابغا: زعمه بأن أحادیث ھذہ النسخة من الٹراکیب الأعجمیة 
والمتاخرۃ وهي داخلة فی اختلاق المتون مستشھذا علی دعواہ بتسع 
نقاط؛ فجوابھ آخي القارئ: علی النحو التی:۔ 

النقطة الأولی : زعم المعترض بانه لم یرد فی لغة العَرب 


أنورهم لونا وأنھا اعجمیة بحتّة, وارجو من القارئ الکریم أن یفتح 


کتاب لسان العرب لیری کلمة أنور؛ فقد نقل صاحب لسان العرب 5۹/ 


2 عن ھذة الگلمة ما نصىه : ( وفي صفة النبي صلی اللہ عليه وسلم: 
انور المتجرد أي نیر الجسم, بقال للحسن المشرق اللوٴن: انور وھو 
افعل من النور)ا.ھ 

وجاء في اللسان 231/4عند کلمة زھر: (الازھر من الرجال: 
الابیض العتیق البیاض النیر الحسن وھو أَحَسن البیاض کان له بریقا 











رااقای بن 


ونورا یزھر کما یزھر النجم والسراج. قال ابن الأعرابی: النور 
الأبیض؛ وورد عن علي کرم اللہ وجھھ کان أزھر اللون لیس بالأبیض 
الامھق ) وقد اخرج البخاري في صحیحهھ من حدیث انس بن مالك 
رضي اللہ عنه: (کان رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم ربعة من القوم 
لیس بالطویل ولا بالقصیر آزھر اللون) انظر البخاري 138/2 وسیرة 
ابن کثیر ص۱[19٢۱,ھہ‏ , 

ایا عل زع المعترضن ہانھا لم تزدرفی کتیبا الشمائل فکرنھنا لم 
ترد لیس دلیلا علی عدم وجودھا وإلا لما وجدث زیادات الثفات ولما 
وجدت کتب الغرائب والفرائد فی ھذا الفن ۱ 

النقطة الثائیة : أما فی ادعاء المعترض بان أسانید ھذہ النسخة 
مرکبة واستشھد بحدیث رقم(28) قال عبدالرزاق: أخبرني الزھري... 
وقال: ھذا کذب فعبدالرزاق لم و الزھري أصلا وأن حدیث رقم 
(2) من قول ابن جریج 27ھ البراء الصحابی وھذا کذب؛: فابن 
جریج من اتباع التابعین..! 

فجواب الإشکالین أخي القارئ علی النحو التاليی: 

الإشکالالأول: قول المعترض أخبرني الزھري کذب اقول وباللہ 
التوفیق: ان ذلك السقط متوقع إذا کائت النسخة فریدةہ فعبد الرزاق 
یروي بواسطة عن الزھري کما هو معلوم؛ فیحتمل بلا شك وقوع سقط 


من الناسخ؛ والقائل ((أخبرني)) هو شیخ عبد الرزاق الذي سقط من 








رالقای 


الإسناد وٴذلك محتمَل؛ ثم: ان هذا الحدیث بقع تحت شرط الخطة التی 





یک 


اوردتھا في المقدمة حیث قلت : (إذا لم أجد الحدیث مخرجا قمعت 
بدراسة السند والحکم عليه)!,ھ وھذا الحدیث قد اأخرجه العلماء في 
کتبھم فلم ادرس سندہ دراسة تامة ہل اکتفیت بالترجمة المبدئیة للاإعلام 
فقط لا دراسة الڑسناد وتحقیقھ, 

الإشکال الثائي: قول المعترض أَخبرني البراء کذب اقول وباللہ 
' التوفیق عطف علی بدء في حل الإشکال الأول بان یقال ھنا ما قیل فی 
الإشکال الاول ان النسخة 'نادرۃ فلا شك ان السقط حصل من الکاتب 
في الواسطة بین ابن جریج والبراء لا محالةء ٹم إن ھذا الحدیث یقع 
تحت شرط الخطة التي اوردتھا في المقدمة ما نصه: (إذا لم اجد 
الحدیث مخرجا قمت ہدراسة السند والحکم عليه وھذا الحذیث قد أخرجھ 
العلماء في کتبھم فلم أدرس سددہ دراسة تامة بل اکتفیت بالترجمة 
المبدئیة لاۃّعلام فقط لا دراسة الإسناد وتحقیقه)ء وبعد الدراسة بحتمل 
احتمالا کبیرا أن الساقط من الإسناد ھو الزمري:وأن هذہ الروایة منْ 


إجازۃ الزهھري لابن جریج قراءۃ ہما تحصل لدي من نصوص مؤکدة . 


علی ذلك فقد نص الحافظ الخطیب في کفایته (وص434) علی ذلك 


بسندہ قال: (یحیي بن سعید القطان: کان ابن جریج صدوقا إذا قال 
حدثني فھو سماعء وإذا قال اأخبرنا أو أخبرنی فھو قراءۂ وإذا فالن: 
قال؛ فھو شبھ الریچ .) ا,ھف واورد صاحب الجرح والتعدیل 5/ترجمة 





ر 
ء ‏ دوحکسومن 











کی 
7 قال أبي زرعة أخبرني بعض أصحابنا عن قریش بن نس عن 
ابن جریج قال: ما سمعت من الزهھري شیئاء إنما أعطاني الزھمري 
جزءا فکتبتھ وأجازہ..)۱۰۔ھ. 

وقد اورد صاحب المسند المستخرج علی مسلم (440/2): (بما 
اأخرجھ من طریق :عبد الله بن محمد ومحمد بن إبراھیم جاء فيه ثنا 
سعید بن یحیی الأموي ٹنا أبي قال ابن جریج أخبرني الزھري عن 
عمر بن عبد العزیز..)ء فقد ورد في تلك الروایة أخبرني واللہ أعلم؛ 
علسًا بن الزھري قد ولد فی سنة ( 51ھ ) وتوفي البراء فی سنة 
(72ھ). ۱ 

وما أوردت لك ذلك ایھا القاری الکریم (لا لیتضسح لديك أن 
المعترض لیم له مستمَسك جلي یعول عليه فی منقوط النسخة المَعَثیة 
حتی یحکم بوضعھاء لان الاحتمال قائم کما بیناہ والوضع یحتاج إلی 
جزم لا شك فیهء والأمر إذا تطرق إليه الاحتمال سقط بھ الاستدلال. 

النقطة الثالثة: زعم المعترض بان الحدیث رقم (9) فیه عن سالم 
بن عبد اللہ عن أم معبد فسندہ مرکب حیث ان سالمًَا لم یدرك أم معبد 

وب لی الفاریئ: ان 1ك عاصتل وفذ مت کلت فروارة 
بالأحادیٹ المرسلةٴ والمنقطعة؛ فلم یحجم عن روایتھاء ولم یتھم أربابھا 
بالتزویرًء ہل أخڈ بالمرسَل وقمنقطع؛ فلیس ثمَة إشکال لا ل لم یصرح 








راقای بن 


سالم ہن عبد اللہ بالسماع؛ فالإسناد فیه انقطاعء فیسقط تعویل المعترض 





بإسقاط النسخة بھذہ الشبھة إذ بھا تسقط معظم کتب السنة فلیتق اللہ 
قائلھ, 

النقطة الرابعة : أما تھجم المعترض عَلی الصوفیة الأبرار أمثال 
الإمام الجزولي واتھام کاتب الجزء المفقود من مصنف عبد الرزاق أنه 
متاثر باحزاب الصوفیة وانه اخذ احادیث من دلائل الخیرات لَلجزوليء 
کما وزعم ان کلمة: (الآل) غریبة عن الصحابة والصدر الأول خارج 
جلسة التشھد, 

فجوابھ أخي القارئ: ان دعوی المعترض ضرب من الباطل 
وجھل بین حین زعم أن الصحابة لم یصلوا علی آل النبَّي خارج 
الصلاة: فاستمع أخي القارئ لما أخرجھ البخاري 1233/3: (عن عبّد 
الرحمن بن أبي لیلی قال: لقیني کعب بن عجرۃ فقال: ألا أھدي لك ھدیة 
سمعتھا من النبي صلی اللہ عليه وسلم؟ فقلت: بل فاھديه لي؛ فقال: سالنا 
رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم فقلنا: یا رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم 
کیف الصلاۃ عليكم أھل البیت: فإِن اللہ علمنا کیف نسلمء قال: (قولوا: 
اللھم صل علی محمد وعلی آل محمد کما صلیت علی إبراھیم وعلی آل 
إبراھیٔم اك حمید مجید: اللھم بارك علی محمد وعلی آل محمد کما 


بارکت علی إبراھیم وعلی آل ابراھیم اك حمید مجید )؛ وقد جاء هذا 


۴مسسس-ت- 











رای دن 
الحدیث بعدةۃ روایات فی البخاري ومسلم وغیرھما مطلقًا دون تقیید 
بالصلاة, 

فلا أدري من این استوحی المعترض ذلك الإشکال فتامل أخي 
القارئ. : 

سیما وآن ابن بشکوال قد ساقِ في کتاب (القربة إلی رب 
العالمین بالصلاۃ علی مجمد سید المرسلین) روایات عدۃ في الصلاة 
علی الال منھا: حدیث رقم (12) قالوا یا رسول اللہ قد علمنا السلام 
فکیف الصلاة وقد غفر اللہ لك ما تقدم من ذنبك وما تأخر قال: ((قولوا 
اللھم صل علی محمد کما صلیت علی آل إبراھیم وبارك علی محمد 
کما بارکت علی آل إیراھیم)) وحدیث رقم (14) قال ((قولوا اللھم 
نہیں دہ رر گا کی مم ول مم ایق اعد 
الحدیثین صحیح الإسناد, 
٭ وأما زعم المعترض بتاثر الرواۃ بالأحزاب الصوفیة فانظر 
خدیث (87) من کتاب اہن بشکوال فی صلاة امیر المزمنین لی بن 
أبي طالب عليه السلام: ((اللھم داحي المدحوات وبارئ المسموکات: 
وجبار القلوب علی فطرتھاء شقیھا وسعیدھاء اجعل شرائف صلواتك 
ونوامي بركاتك ورأفة تحننك علی محمد صلی الہ عليه وسلم عبدك 
ورسوك الخاتم لما سبق: والفاتح لما أغلق؛ والمعلن الحق بالحق: 
والدامغ جیشات الأباطیل کما حمل؛ فاضطلع بأمرك لطاعتك مستوفزا 














رالقاقی تی 


في مرضاتك بغیر نکل في قوم ولا وھی في عزمء واعیً لواجيك حافظا 
لعھدك ...)) الحدیث: فما قولك بعد ھذا؟ ھل هذہ الأّفاظ صوفیة منقولة 
من دلاشل الخیسرات؟ ام ھمي دعاوی بٹھا المعضرض؟! سْامحه اللہ 
وبصرم, 

وكذلك ذکر مٹلھا الإمام المحدث ملا علي القاري في (الحزب 
الأعظم والورد الافخم في أُذکار ودعوات سید الوجود صلی اللہ عليه 
وسلم)؛ روایات مرفوعة وموقوفة علی الصحابة والتابعین وغیرھم فی 
صلاتھم على ٴالنبی صلی اللہ عليه وسلم, ذو اطلع عایھا المعخرض 
لعدھا من أوراذ الصوفیة وقد أخرجھا البيھقيء والطبراني وابن أبي - 
عاصمء وسعید بن منصورء وابن بي شیبة والطبري وغیرهم من 

آما عن السیادة: فقد زعم بان السلف لم یعرفوھاء فاعلم خی 
القارئ أن ذلك محض افتراءء ققد أخرج السخاوي فی القول البدیع 
ص126 بتحقیق الشیخ عولمة والحدیث حسن کما ذکرہ المحقق: عن 
ابن مسعود قال رضي اللہ عنھ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ غليه وسلم 
: (( إِذا صلیتم عليٌ فأحسنوا الصلاق فإنکم لا تدرون لعل ذلك بٔعر ‌ض 
علئٗء قولوا: اللھم اجعل صلواتك ورحمتك وبرکاتك علی سید 
المرسلین: وإمام المتقین وخاتم النبیین عبدك ورسوك؛ إمام الخیر 
وقائد الخیرء ورسول الرحمة اللھم ابعثه المقام المحمود یغبطه به 

















رقای تن 


الأولون والآخرون)) أخرجھ ابن ماجھ والقاضي اسماعیل ص58 ۱ 
والطبرانني في الکبیٍر (115/9) والبیهقَي في اللدعوات (57) کما 
أخرجھ الدیلمي في مسند ۔الفردوس له ھکذا ورواہ ابن أبي عاصم في ۱ 
حدیث التشدهد؛ فُھل بتلك المسزاعم المفشراۂ من المعشرطں سقط ٰ 
النسخة؟!! ۱ 

فنقطة الخاٰسة: زع المعترض بائی جاھل فی علم رواٰة 
واخبط خبط عشواء مستشھدا علی ذلك بقولی: ان ابن أبي زائدة ھؤ 
یحیي ویدعي أنھ صوب لي بان ابن ابي زائدہ هو زکریا والد یحبي لأنه 
من شیوخ معمر!!إ فستری أخي القارئ من هو الأحق بتلك التھمة, 

اعلم آخي القارئ: ان بحیي بن زکریا قد اُدرك معمراًا فقد توفي 
معمر 153ھ وولد یحیي سنة 121ھ وتوفي یحیی سنة 184ھ فیکون 
بذلك قد عاصر یحیي معمرٴا وادرکه فتکون ھذہ الروایة من روایة 
۔الأکابر عن الاصاغر ون سلمنا بان بن أبي زائدۃ هو زکریا فلا 
غضاضة فالأمر جلي بلا ریب, 0 

النقطة السادسة: قد زعم المعترض أن معمرا لم یرو عن ابن 
جریج کما في حدیث رقم (10). ۱ 


فجوابھ آخي القارئ: أن ھذا زعم مفضوح مفتری فقد روی عبد 


الرزاق في تفسیرہ (13/3) ما نصھ: عبد الرزاق قال أنا معمر عن ابن 





را 
کی 
ض۷ 


1 


کے 
” 








رلقای تر 


جریج عن ابن أبي ملیكة عن عائشة .... الحدیث فانظر أَخي القازی إلی 
جھل المعترض وافترانھ. 

النقطة السابعة: قد زعم المعترض بان روایة معمر عن سالم 
عن أبي ھریرۃ فیھما ترکیبان: روایة معمر عن سالم: وروایة سالم عن 
أبي ھریرۃ, 

فجوابھ اخي القارئ: أن زعم المعترض في روایة معمر عن 
سالم أنه لا یجئ وھو ترکیب في نسختنا المحققة کما یزعم المعترض 
فھو ظاھر البطلان. 

اعجب من المعترض حینما یستبیح لنفسه ما لا پستبیحه لغیرہ 
فقد ذکر في تراکیب الآسانید تلفیقھا أنه قد نظر فی کتب العلل وأورد 
عن ابن أبي حاتم أن عکرمة عن انس لیس له نظام والحسن البصري 
عن سھل بن الحنظلیة لا یجئ؛ وکذلك الزھري عن أبي حازم لا یجئ؛ 
وکانھ یقدم لھذہ النقطۂة التي قد ألق بابھا لخلو عصرنا من الجھابۃ في 


ھذا الفنء وأستفسر من المعترض ھل رای الترکیبین اللذین اعترض 


”جلیھما الحفاظ من منقدمین ومتاخرین ام فانتھم حتی اکتشفھا جنابه؟ 


علمًا بن السیر في ھذا المھیع لیس بیسیر وقد انتقدنا وعزض بالدکتور 


محمود سعید ممدوح عند حدیثھ عنهِ اخثلاق المتابعات في حدیث رقم 
(20) بان متابعة الزمري فاتت علی المتّقدمین والمتاخرین حتی 


أدرکناهاء علما بان ھذا الأمر لم یغلق بائه حتتی قیام الد'عة فانظر خی 








ھی ۵ 


القارئ کیف یتناقض المعترض في أقواله ویصدق عليه المثل العربی 


: رمتني بدانھا وانسلت 

ولقد أورد ابن عبد البر في التمھید 11/11| بسندہ قال: حدثنا 
خلت بن شعید قال: حدثنا عبد الله بن محمد قال: حدٹنا أغمد بن خالد 
قال: حدثنا إسحاق بن إبراھیم: قال: انبانا عبد الرزاق عن معمر عن 
سالم عن ابن عمر.... الحدیث ونقل ابن حزم الظاهري رحمه اللہ فی 
المحلی (10/8) في کتاب النذور: وقالت طائفة من نذر أن یتصدق 
عبد الرزاق عن معمر عن سالم بن عبد الله بن عمر عن أبیيه 5ڈ 
الحدیث 

وقد نوھنا في نفس الحدیث بان روایة معمر عن سالم بھا انقطاع. 

أما زعمه في روایة سالم عن أبي ھریرۃ بانھا مرکبة وأنه لا 
یجئ فھو كکذلك باطل, ۱ ۱ 

فانظر آخي القارئ: ما أخرجھ مسلم في باب رفع العلم وقبضه 
وظھور الجھل والفتن في آخر الزمان (2057/4)؛ وحدثنا ابن نمیز 
وأبو کریب وعمرو الناقد قالوْٴا حدثنا إسحاق بن سلیمان عن حنظلة عن 
سالم عن أبي ھریرۃ, وانظر تھذیب الکمال (145/10) روایة سالم بن 
عبد اللہ عن أبي ھریرۃ, 

ورحم الله الإمام مسلمٔا حین ساق هھذا السند في باب رفع العلم 
وقبضھ وظھور الجھل والفٹن في آخر الزمان وإنھا کرامة لمسلم رحمه 
اللہ حینما یقع الحافر علی الحافر فیجی زعم الزاعم ومن لف لفه فی ھذا 
الامر فیبین أن الزاعم وانصارہ أرباب الفتن ومارز الجھل بمعنی 
الكلمة عافانا الله مما ابتلی به کثیرًا من خلقه؛ و أشکرہ سبحانته إذ البسنا 
ثوب فضلھ وألبسھم ٹوب عدله, 


النقطة الثامنة: قد زعم المعترض علی حدیث رقم (36) ان 


اللیث لیس من شیوخ معمر؛ وهذا منھ وقوع في التحریف وغش الامة 





وعدم الأمانة العلمیة التي ینادي بھا ویتھمنا بضدھا.. 














رلقلای تب 


والجواب: لقد وقع المعترض بکلامه في ھذا المھیع حین حرف 
النقل فقال: (اللیث) والسند الذي في تحقیقنا عبد الرزاق عن معمر عن 
(لیث) ولیس اللیث ولو کان المعترض من أھل العلم لوفق فی النظر 
فیما ینقله فِإِن لیثا شیخ معمر وقد طفح المصنف بالروایة عنه فانظر 
إلی ترجمة لیث في تحقیقنا ص 92 وإلی کتاب تھذیب الکسٰال للمزي 
(24/ 279 288) وھو کما أثبتناہ ولکن لیس للظالم من برھان. 

أضف إلی أن ترجمٹنا لرجال الإسناد زیادۃ في البنبان وإلا فھذا 
الحدیث لا یقع تحت شرطنا الذي وضعناہ فی المقدمة (إذا لم أجد 
الحدیث مخرجا قمت ہدراسة السندء والحکم عليه) وھذا الحدیث لا یقع 
تحت الشرط وقد أخرجھ اہن أبي شیبة کما هو مبین, 

النقطة التاسعة: أما زعم المعترض في حدیث (20) بن المتابعة 
لی کی احدیٹ لد رات عازیا کسعی و قرت عہ تفآ 
ذلك من الدلالات علی عدم مصداقیة الجزء المفقود کما هو دیدنة: 

فجوابھ أخي القارئ: لیس في زعم المعترض دلیل علی ما ذھب 
إليه؛ فقد فاتنا أمر السند؛ وللامانة العلمیة لابد من بیان ذلك؛ ومع ھذا 
فلیس في ذلك مطعن في مصداقیة النسخةء فعبد الرزاق یروي عن 
معمر عن الزھري عن أبي سعیدہ فقد سقط من الناسخ (ابن) وھو ربیح 


أو سعید کما بین في التحقیق؛ ولا شك أنه عاصر الزھري؛ فإن أبا 


ربیح قد أدرك الزھري؛ وذلك أن الزھري توفي 125ھ ووالد ربیح 









رااقلای جو 


توفي سنة 112ھ فیکون الزھري قد ادرك والد ربیح؛ ولکن المشکلةِ 
مع التغترض اه ا لم یر في تھذیت الکمال راو فی من روی او ۱ 
زوي عنهھ لم یعتبرہ... وھذا منھٔج لم یعرفه أھل ھذا الفنء فان استقراء 

٢‏ الإمام المزي في تھذیب الکمال لیس استقراء تامًا لان العادة تحول دون 
ذلك؛ فإذا لم یجد المحقق اسمًا من رجال السند قیمن روی أو روي عنهھ 
لجا إلی معرفة وفاة السابق وولادة اللاحقء وھذا المنھج نص عليه 
الحفاظ کالخطیب وابن الصلاح وغیرھماء ثم ان الإمام المزي واضع 

ا کتاب الإکمال لرجال الستة فقط أما عن تھکم المعترض وزعمه بأن 
" المتابعات قد فاتت علی الحفاظ فھذا تال علی العلمء فالحافظ الزبیدي 
وق علی فکاہمات لم رقف عابھا اانفل عتلف عی تلاب اف 

" ووقف السادة الغماریة کالمحدث أحمد بن الصدیق علی شوافد _ 
ومتابعات لم یقف علیھا العلماء قبله فھل یصدق علی ھؤلاء ما ألقیتھ 
إعليٰ وعلی آمدث القایخ مُحمود سعید ممنوح؟ غذا بھتان عظیم, 
]: والنسخة کما ذکرنا نادرة یصح فیھا مثل ذلك, ٰ 


وأعجب من غمز المعتر‌ض لي في اعتراضهھ بین فینة وأخری ٔ 




















بالمحدث محمود سعید ممدوح حیث اعتبرني جاھلا فی ھذا الفنء وکأن 
: لس ہی سسجت الکو مود سوہ دوخ عمارن داع 


. الشیخ لا دخل له فی تحقیق المصنف وتوثیقھ لن قرب وَلاآمن بکیة 














الا جو 
رلک لو کیا نو ہر می ہل کی ما ہے 
فتفضل بھا مشکوراا لیس الا, 

ثامقاءواما الادعاء بان فی الکتّاب أحادیث نقلت من مصنف ابن 
آبي شیبة فھذا والله لھو ولعب؛ ویمکن أن یقال ذلك عن أي متابعة تامة 
نقلت من کتاب کھذاء والصواب أن وجود أحادیث في الکتاب بمتابغات 
معتبرۃ دلیل علی الوثوق بالمخطوط الذي بین ایدیناء ولکن المعترض 
یقلب المدح ذمًا ویفضح نفسه؛ وکما قال الشاعر: 


وعین الرضا عن کل عیب کلبلة ولکن عین السخط 
تبدي المساویا 


تاسغا: وأما الادعاء بان في الکتاب آسانید مرکبة مستدلا علی 
دعواہ بقوله: (ان الجزء المعني مرکب الآأسانید من طریىق مالك 
والزھري ومعمرہ وأمثالھم من أئمة الحدیث: في القرون الأولی؛ الذي 
من شان ھؤلاء وأمشالھم أن یجمع حدیٹھم ویتسابق طلبة العلم إلی 
حفظھا). 

اقول لك أخي القارئ: ان العلماء عرٌفوا الحدیث الصحیح باأنه ما 
اتصل سندہ بنقل العدل الضابط عن مثله إلی منتھاہ من غیر شذوذ ولا 


علة؛ ولم یشترطوا ان لا یکون فرذا مطلقا أو نسبیّاء ولم یتوقفوا فی 
آسانید الثقات حتی یجدوا متابعات لھا ولم یقولوا کل فرد فھو ضعیف؛ 


وقد امتلذأت الصحاح بالأفراد المطلقة والنسبیة بروایة الأئمة وقد اتفق 











ت 
الحفاظ علی صحتھا؛ نعم الإسناد المشرق إذا انفرد به مجھول أو 
ضعیف آو تالف وکان مثنه منکرٴا ساقطا فإِن ذلك من علامات الوضح؛ 
وھذا مالم نجدہ في نسختناء وللہ الحمد, 
عاشرا؛: وأما عن القول بوضحدیث جابر وز عسه باأنه 
,ضوع وآن الفاظه مرکبة کما آہدی ذلك أیضا بعض الحائقین: ومن 
لف لفھم؛ والاعتراض علینبا بحکم بعض علماء الأشراف الغماریین 
علی الحدیث, تی 
فجوابھ أخي القارئ: أن کلامھم علی حدیث جابر شان یخصهم 
ویخص اضر ابھم؛ ولنا شجأننا الخاص بنا ومعنا من السادة الأشراف 
الغماریة والکتانیة وجمھور الامة ممن یؤیدنا فني ما ذھبنا إليه کالشیخ 
الاکبر محي الدین بن عرہي وابن سبع: وابن أبي جمرة: وزروق؛ 
والإمسام القفسطلاني والھیتمسي؛ والقص ري؛ والعقیلی: والمنساوي؛ 
والقرافي؛ وغیر هم جمع کثیر. ۱ 
أما عن زعم المعترض بان حدیث جابر مدخول فيکتب الشیخ 
الاکبر مع عدم توثیقه للشیخ محي الدین والطعن فی توثیق السادة 
الَارَیة 4(0 لوف ا سس الو اذا تخل عثابات الشیخ الأکبر دس 


سرہ بحدیث جابر وتفسیرہ له کما فی کتاب الو عاء المختوم علی السر 


المکثوم و المملکة الإلھیة وکتاب الدوائر ؛ وتلقیح الفھوم وعثقاء مغرب, 














رلاقلای 

وقد بینت في کتاب نور-البدایات صحة حدیث عبد الرزاق دون 
روایة المصنف: وذکر الشیخ الحلواني في کتاب (مواکب ربیع): ان 
الروایة اخرجھا البيھتي بلفظ آخر فی دلائلہ والكَاكم في مستدرکهھ 
ُصَعَجَهَاللفظرَآيا عدر زی من اتل ۷اکتافی ر رای ة طزٹی فی 
فوائدہ > 

وکوننا لم نعثر علی الروایتین في المراجع المذکورۃ لا یعنی 
أنھما غیر موجودئین؛ لان (الد لائل) الموج ودة للبيھقتي بھا نقص؛ 
وكذلك (المستدرك)؛ وارجو أن تستمع لکلام اھل العلم: فھذا العلامَة 
المحدث محمد بن جعفر الکتائي في کتابھ الذي طبع أخی را (جلاء 
القلوب من الأاصداء الغینية) بقول ما نصه بعد سرد حدیث جابر 
وروایة الطبني: (فإِن العلماء العاملین والصوفیة المخلصین و اولیاء الله 
اإمفلحین کلھم أو جلھم قد تلقوا معناہ بالقبول والتسلیم وتداولوہ فی 
مصففاتھم وأسفارھم وکتاباتھم؛ جازمین بھ من غیر تردد أو ہحث: 
والمعنی إذا ثلقي بالقبول حکم بصحتھ؛ وإن لم یکن له اسناد ولا دلیل 
ظاهرء لانھم بٔحملون علی أنھم وقفوا علی شواھد تثبتھ وإِن لم تصل 
لین آو نەلمھا)١‏ ۱ھ ٹم ذکر شواھد تریه (خ اب 243/2)؛ سیما وقد 


ید حدیث جابر الإمام المحدث الخرکوشی؛ والدیلمی:؛ وجمعمن 


العلماء کما تقدم, 





سس مدممی۔اصسمھهھتہصہت ضس سیت 








وقد ٹکر: ابن تیمیة ٴي فتاواہ ان 'المسالة اذا اختلف فِيھا اَل العلہ 
فالامة فیھا علی سعة؛ کل یحم علی محمل حسن فقد قال عمر بن عبد 


حجر فیما نقلھ الإمام الزبیدي: (لا یلزم من نفي العلم ثبوت العدم وعلی 
التنزل لا یلزم من نفی الثبوت ثبوت الضعف: لاحتمال أن یراد 
بالثبوت الصحة فلا ینتفي الحکم) انظر (296/1) من تخریج أحادیث 
إحیاء علوم الدین. 

حادي عشر: أما عن دغوی المعتِرض الثاني علی روایة 
القسطلاني آحدیث جابر والتي تفید بان السموات خلقت قبل الأارْض 
وزعمھ بان ذلك یعارض القرآن مسندلا بقوله تعالی: إ تم استوٴی إلی 
لسُمّاء وٴھِىٗ دحَان فقال لھا ولِلأرٴض ایا طوٴْعًا او کرها فالثا ٹیا 
طادعین ) 

فجوابھ خي القارئ: بدایة أشکر ھذا المعترض علی حسن أدیة؛ 
ولکن أحب أن الفت نظرہ بأن یکون علی وعي تام في مخاطبة العقلاء 
ون آلذي تخاطبھ لیس اعرابیٔا ولا حدیٰث عھد علی موائد العلم؛ بل هو 
من بیت مشھود لھ بالتقوی والعلم؛ اجتمعت فیه خصائص:؛: لم تجتمع فی 
غیرہ؛ فقرابتي لأئي حنابلة المذھب وقرابتي لأَبي مالکیة المذھب؛ 
معظمھم حفظة لکتاب اللہ تربیت فی أکنافھم علی الفضیلة واستننث 


علی سیرۃ خال أبی العلامة الفقیه اللوذعیٰ المحدث الشیخ مبارك بن 











یی 


علي الشامسي؛ وأصولنا بین أشراف وانصار وحمیر؛ ولست من 





ضعیف عن عبد الله بن عمرو بن العاص قال سمعت رسول الله ع 
یقول لم'یزل ار بني إسرائیل معتدلا حتی شا فیھم المولدون ابذاء 
سبایا الأمم,فقالوا بالرأي فضلوا وأضلوا))ء ولست من المنافقین 
المفتاتین علی الموائد کما یقذف في روع المعترض الذي لا یعرف 
للادب سبیلاء فإن ما قاله غیر صحیح واعتذر لك بأنك ربما کتبتھ علی 
عجالة ولکن مثل ھذہ الأمور کما تعلم لا یستعجل فیھاء ولكنك اردت 
راد می ام سی سیف عہی رن مو االیٹیر پاکرے 
في تحقیق المصنف من قبلکم؛ ولا اُدري من المتسرع اھو الذي بین 
یدیه کتاب اللہ وکتب التفسیر تبین ما ذھب إليه أم من...!!! 

وھا هو کتاب اللہ بقول: ( الثم اد خَلقا آم السّماء بَنَاهَا رقع 
سمکھا فسَوٴاها واغطش لیْلھَا وَاخْرَجٌ ضحاھا وَالأارَٔض بَعْد ذِك 
دحاھا] قال الإمام الفخر الرازي في تفسیرہ نقلا عن الواحدي ومقاتل: 
بان السماء خلقت قبل الأرض قبل الدحو أما بعد الدحو فالأرض خلقت 


ونقل الألوسي الأمر مفصلاً في روح المعاني ( 24/ 108) عند 
تفسیر قوله تعالی: (ثم استوی !لی السماء وھی دخان ) فقال: (یدل علی 
ذلك إیجاد الجوھرۃ النوریة والنظر إلیھا بعین الجلال المبطن بالرحمة 








والجمال وذویھا وامتیاز لطیفھا عن کثیفھا وصعود المادۃ الدخانیة 
اللطیفة وبقاء الکثیف ھذا کله سابق علی الایام الستة وثبت في الخبر 
الصحیح ولا ینافی الأیات؛ واختار بعضھم أن خلق المادة البعیدة للسماء 
والأرض کان في زمان واحد وھي الجوھرۃ الذوریة أو غیرھا وکذا 
فصل مادۃ کل عن الآخری وتمییزھا عنھا أعني الفتق واخراج الاجزاء 
اللطیفة وھي المادة القریبة للسماوات وابقاء الكثیفة وھي المادة القریبة 
للأرض فإن فصل اللطیف عن الکثیف یستلزم فصل الکثیف عنه 
وبالعکس؛ وأما خلق کل علی الهیئة التي یشاھد بھا فلیس في زمان 
واحد بل خلق السماوات سابق في الزمان علی خلق الارض: ولا ینبغي 
لأحد ان یرتاب في تأخر خلق الأرض بجمیع ما فیھا عن خلق السموات 
ٴ کذلك ومتی ساغ حمل (ثم) للترتیب في الإخبار؛ ان أمر ما پظن من 
التعارض فی الأیات والاخبار هذا واللہ تعالی أعلم) ا.ھ. 

وقال القرطبےي ( | /255 - 256 )في تفسیر الية بعد ان 
استعرض آراء أھل العلم في سورۃ البقرۃ : (یظھر من ھذہ الأیة أنه 
سبحانھ خلق الأرض قبل السماء وکذلك في حم ( السجدة) وقال في 
النازعات: (انثم اه خَلقَا ام الَمَاء یَنَاهَا) فوصف خلقھا ثم ققال: 
(وٴالارَ٘ضّبَعْد ذلِكَ ذَحَاهَا) فکان السماء علی ھذا خلقت قبل الأرض؛ 
> وقال تغالی:( الحمد الله الذي خلق السموات والأارض | وهذا قول قتادة 
ان السماء خلقت أولا حکاہ عنه الطبري ... ثم قالِ رحمه الہ : وقوٰل 














رالقلاقی خد 
قتادةۃ یخر ج علی وجھ صحیح ان شاء اللہ تعالی وھو أَن الله تعالیٰ خلق 
لا فغان لسماء م خلق الازضنَ کم توق لی السناء ھی دغاذ 
فسواھا ثم دحی الأرض بعد ذلك)۱:ھ , 
وقد ذکر الإمام العیني في کتاب عمدۃ القارِیٰ (109/15) بان 
الأولیة (أمر) نسبي؛ وکل شيء قیل فیه إنھ أول فھو بالنسبة إلی ما بعدہ 
وقال العلامة ملا علیٔ الفاریيء فی المورد الروي ص 44: (فعلم أن 
أول الأثنیاء علی الاطلاق النور' المحمدي ٹم الماء ٹم العرش ٹم القلہ 
فذکر الاولیة في غیر نورہ صلی اللہ عليه وسلم إضافیة). 
وقال العلاسة الفقیه ابن حجر الھیتسي فی مرقاة المشاایہ 
(166/1): (اختلفت الروایات في أول السخلوقات وحاصلھا ان أولھا 
النور الذي خلق منھ النبي عليه الصلاۃ والسلام ثم الماء ثم العرشں). 
وقال مثل ذلك الإمام القسطلاني والإمام المحدث سُھل بن عبد 
الله الدیلمي في کتابھ عطف الألف المالوف علی اللام المعطوف حیث 
قال ما نصہ: (وخلق آدم من نور محمد ....) فلینظر فی کتابنا ذور 
البدایات وختم الٹھابات ص54. 
وكذلك روایة ابن أبي حاتم في تفسیرہ بسند حسن (231/7)ء فی 
الحدیث القدسي في الکلام عن النبي صلیٰ'ٴآلقۂ عليه وسلم أٹھ هو 
الاول والآخر) وھی روایة صحیحةء وکذلك روایة المخلص: (ھو أول 


وآخر) وهي روایة صحیحة وروایة البیھقي فی الدلائل: (ھو الڑول 














راقای 


کہ 


والآخر) وھي روایة صحیحة لم پرتضھا محقق کتاب الاوائل لابن أبي 
غا رز تق ول خرن نت رو ابن أبي عاصم أن آدمٴ عليه 
السلام حینما رای نورٗا في سرادق العرش قال باربي ما ھذا النور قال 
نور۔ ابنك.. الحدیث) قال محقق کتاب الأؤائل لابن أبي عاضم نور داود 
ولم ینقل روایة المخلص ولا حتی الببھقي والسند واحد :فلم ذلك العداء 
البین من فرقتکم علی حبیب اللہ صلی اللہ عليه وآلِه وسلم. 

الثاني عشر: وأما عن قول المعترض بان' حدیث جاہر کحدیث 
عرق الخیل, 

فجوابھ أخي القارئ: أن حدیث عرق الخیل فھو من کنانتھم لا 
من کنانتنا ولھم أن یسالوا السجزي وأضرابھ یلبؤوھم عنه: واتق اللہ 
ولا تقارن حدیث جابر باحادیث الزنادفة والمارقین والمجسمة الحائقین 
فذلك سخف مشین وظلم عظیم . 

الثالث عشر: طعن المعترض فی تخریجاتي الحدیثیة وربط 
خروج المصنف بتطاول آھل البغي (الدنمارك) علی الحضرۃ النبویة, 

فجوابھ أخي القارئ: ان الناظر !لی هذا الزعم بری فيه العجب 
وینکر؛ ولیسال القارئ المعترض عن القاسم المشترك ہین خروج 
الجزء المفقود من المصنف وبین تطاول أھل البغی و الضلال علی 
سیدنا رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلح ء اللھم الا إِذا اعتبر ان عملنا ھذا 


بسخف وھهھرچج: فلا أقول له الا قول ال تعالی رذا علی الجاحمدین 











رااقلاقٰ تن 


الکافرین الذین تصوروا عبثیة الخلق: ( وُمًا خَلقننا السُماوات وانارض 
وم بَيَْهُمَا لاعیین ما خَلقَاهَُا بنا بالحَقٴ وَلكِنَ اکثْرَھُم لا يَعمٰون ) 
وقولھ سبحانھ وتعإلی: إ هذا کَثَاہُنا یْتطِقٰ علیْگم بالحَق ..؛ 

وانظر أخي القارئ مدی السخریة والاحتقار من المعترض لغیرہ 
من الفسلمین ومدی الجر أۃ علی اللہ عندما یسوي ہین تعزیر وتوقیر 
المصطفی صلی اللہ عليه وسلم حینما نجتھد في تتبع ما کتب فی حقه 
صلی اللہ عليه وسلم ونشرہ: لإبراز مکانتھ صلی اللہ عليه وآله وسلم 
حتی یزداد الناس حبًا وتوقیرًا وتعظیمًا لرسول اللہ صلی اللہ عليه وآله 
سلم؛ وبین تھکم أعداء الإنسانیة والدین!!: وکان المعترض یساوي 
مخالفيه من أھل الملة بالکفرۃ والملاحدہ وھذا لیس بمستفرنہ مّھ: لن 
الشيء لا یستغرب من معدنه: فالمعترض وأهھل مدرسته رون ٢لی‏ 
غیرھم من المسلمین بأنھم اکفر من الیھود والنصاری کما صرح بذلك 


: الشیخ عبداللہ عبد اللطیف آل الشیخ والشیخ إبراھیم عبد اللطیف آل 


الشیخ في کتاب إجماع أھل السنة النبویة بتکفیر المعطلۂ والجهمیة؛ 
یعني بھم أھل دبي و أبو ظبي وساحل عمان (الباطنة) 

ولکنِ یصدق عليه قول الله سبحانه وتعالی: | ومن یُرد الله فّتۂ 
فلن تملِكَ له من الله شیْٹا اوٴلِك ائذین لم یٔرد الله ان یطھر فلوبَهُم لھٰھ 
في الڈلَا خزٴیٗ ولهُم في الأخرَة عَذابً عَظیم ] 











عمق ٦‏ 
أما عنٴ اعتراضه علی تخریجاتي الحدیثیة فتخزیجاتی الحدیثیة 
علی الأاصول المعروفة في هذا الفن ولا بنکرھا إلا جاھل اأحمق 
ویصدق عليه المثل العربي: ((لیس ھذا عثك فادرجي)) 
الرابع عشر: شھادۃ السید أدیب الکمداني التي استدللتم بھا ضبدي. 
فجصواب ذلك آخے القسارئ: ان ادییب الکمدانی قد رد علی 
المعترضین ونفی عنا اتھامھم الباطل برسالة بعنوان (ہراءۃ الشیخ 
عیسی بن مائع ومحمود سعید ممدوح مما نسب: إلیھما) وقد نشرت 
في موقع ملتقی أھل الحدیث وغیرہ فلتنظر؛ والذي أرجوہ من أخی 


ادیب أن لا یپنجرف وراءکم بالتخبط دوں تریٹ وتعقل: وأن یصون 





الود الذي ہیننا, 

الخامس عشر: أما زعمه بأن إثقان الناسخ غیر صحیح, 

فجوابھ خي القارئ: ان ھذہ المسالة نسبیة, ولا مدخل للتزویر 
فیھاء فالمصحف الشریف: قد یکتب بخط غیر متقن أو متقن؛ ولا مدخل 
للناسخ فی صحة الأصل: آما اتھامھ بالتحریف في المخطوط بقو لكف ا 
إتقان الناسخ غیر صحیح فظلم سافرء وتسرع سيء ممقوت فالمؤلف 
٠‏ والکاتب والمحقق لیسوآ بمعصومین من الخطاء کیا از ماف وی 
یقول: ما کثبت کتابا والفته إلا وجدت خطا فاصلحتھ ابی الال یصہ 
إلا کتابھ. ولو وجد علی الکاتب خطأ فھذا جار ولیس بمسئیِکر ولکنً 
علینا بالجل والمضمون., ْ 














راخلاقی رن 

السادس عشر: أما طعنه في توثیق السادۃ الغماریة للعارف باللہ 
المجدد سیدي محبي الدین بن عربي الحاتمی قدس سرہ., 

فجوابھ اي الشارئ: أن طعن المعتشرض علیٰ توثیٔق السارة 
الغماریة لا مسوغ له فسادثنا الغماریة علماء آفذاذ لا یتحدثون الا بحجة 
ودلیل لا آنھم بھرفون بما لا یعرفون کا یعلمه المعترض وغیرہ, 

فاعلم أخي القارئ أن الشیخ الأکبر مخي الدین رحمه اللہ أجل من 
أن یذکر في موطن التجریح أو التعدیل لأئه عالی القدر ذائع الصّیت 
بعید الصوت مجمع علی جلالة قدرہ وعلو کعبھ ورسوخ قدمَه من أُھل 
التحقیق وذلك ما ستعرفه مُن اقوال أھل العلم والڈی اجزم به ولا 
أرتاب فيه أن المعترض ومن لف لفه قد غرهم ما أوردہ الإمام الذھبی 
في میزان الاعتدال وتابعه اب حجر رحمه اللہ قي لسان المیزان بإدراج 
الإمام الاکبر محیي الدبن وغیرہ ممن لیس من أھل الروایة فی کتابیھما 
اللذبن وضعا لأھل الروایة کما هو الشرط في خطبة کتاب المیزان؛ وقد 
انتقد الإمام اإسبكي ذلك علیھما وتابعه شیخنا العلامة خاتمة المحدثین 
سیدي عبد العزیز بن الصدیق في کتابه السوانح (خ ل495 ب )؛ 
وعلاوۃ علی ذلك فستری آخي القارئ خلاضة رأي الذهبي وابن حجر 
من خلال کتابیھما المذکورین وغیرھما من الکتب, 


اما عق ما اؤردہ الإمام الذھبي رحمہ اللہ في سیرہ فی تثرجمة 


الشیخ محبي الدین و!یرادہ مقالة العز بن عبد السلام عن ابن دقیق العيۂ 











رقلق کے 
في تجریح محیي الدین فھو کلام مردود عري عن الصواب ولیس هو 
التحقیق بل التحقیق ثناء ابن عبد السلام علی الشیخ الاکبر کما ھی 
عبارۃ العقد الثمین ونفح الطیب والشذرات عم ت7 اللھ 

وإليك أقوال أھل العلم في ذلك: 

[۔ فقد نص الذھبي علی توثیقھ فقال ہما نصه: (وقولي أنا فيه نه 
ایجوز أن یکون من أولیاء اللہ الذین اجتذبھم الحق إلی جنابھ عند الموت 
وختم له بالحسنی) المیزان 660/3. 

2۔کما وقد نص رحمە الله في تاریخ الإسلام فی الطبْقة الرابعة 
والستین: (ص 358 359) علی توثیقهھ با نصه: ''ولابن العربي توسع 
في الکلام وذکاء وقوۃ حافظة وتدقیق فی التصوف وثوالیف جمة فی 
العرفان؛ ولولا شطحات فی کلامه وشعرہ لکان کلمة إجماع..,..۱۰۷۷, ھ - 

3 وكکذلك قد وثقه الحافظ ابن حجر رحمہه الله کما ستری خی 
القارئ من عبارتھ في اللہان فقد ختم ترجمة الشیخ الأکبر ہما نصه: 
عن الحافظ الیونیني قال: (وبالجملة فکان کبیر القدر من معادات القوم 


وکانت لھ معرفة تامة بعلم الأسماء والخروف ‏ وله فی ذلك آشیاء غریبة 


واستنباطات عجییة)ء انظر اللسان (405/6)!, ھ 
4 اعلم أخي القاری أن الذین اثنوا علی الشلیخ الاکبر وعظموہ 
کثیرون منھم الحفاظ: المنذری: وابن الآأبار؛ وابن النجار: وابن مسدی) 











رلقای بن 


وسبط ابن الجوزي؛ وصلاح الدین الصفدي؛ وسعد الدین الحموي: 
وابن حجر الهیتمي في الفتاوي الحدیثیة (ص 335) و غیرھم کثیر 
والتحقیق الذي یصار إلیه ان العز بن عبد .السلاٍم من المعظمین له؛ کسا 
قذ تقرر من إیرادات أھل العلم فی حقھ رحمه اللہ کما جاء فیْ رسالة 
الحافظ الجلال السیوط الشافعي الشاذلي رحمه اللہ (تنبيه الغبي علی 
تتزیه ابن عربي) الکتاب المسمی بہ (الاغتباط بمعالجة ابن الخیاط): 
ثالیف شیخ الإسلام قاضی القضاة مجد الدین محمد بن یعقوب بن محمد 
"الشیرازي الفیروز أبادي الصدیقي صاحب القاموس؛ قدس اه تعالی 
روحہ الذي ألفه بسبب سؤال سئل فيه عن الشیخ سیدي محیي الدین بن 
عربي الطائي قدس اللہ تعالی سرہ العزیز فی کتبھ المنسوبة إليه؛ ما 
صورتھ: ما تقول السادۃ العلماء شذِ اللہ تعالی بھم أزر الدین؛ ولَم بھم 
شعث المسلمین؛ في الشیخ محیي الدین بن عربي في کتبھ المنسوبة إليه 
کالفتوحات والفصوص: ھل تحل قراءتھا وإقر اؤھا ومطالعتھا ؟وھل 
عق الكتنب الس وَغة المقروا2 لم لا اڑا مَاجوزَينَ ولا شافیّا 
فعرور این با0 اھ فزیم اوعل وت لا ھا 

فاجابه ہما صورتھ: الحمد لش؛ اللھم أنطقنا ہما فيه رضاك؛ الذي 
اأعتقدہ في حال المسؤول عنھ وأدین الله تعالی بھ؛ أنه کان شیخ الطریقة 
حالا وعلفاء وإمام الحقیقة حقیقة ورسمّاء ومحیي رسوم المعارف فعلا 


واسما: 











رااقلاقی ش 
إذا تغلغل فکر المرء في طرف ‏ من بحرہ غرقت فیه خواطرہ 
وھو غباب لا تکدرہ الدلاء: وسحاب لا تتقاصر عغنه الأنواء 

وکانت دعواتھ تخترق السبع الطباق؛ وتفترق برکاتھ فٹملڈ الافاق وانی 

أصفهھ وھو یفیٹا فوق ما وصفتھ وناطقٰ بما کتیتھء وغالب ظنی آني ما 

اک : 
وما علي إذ ما قلت معتقدي: ‏ دع الجھول یظن الجھل عدوانا 
والش تالل باللہ العظیم ومن آقامه حجة ش برھانا 
٠ن‏ الذي قلت بعضٗ من مناقبه ٭ مازدت الا لعلی زدتٗ 

نقصانا 
وأما کتبھ ومصففاتھ فالبحار ألزواخرہ التي وو اور ھا وک تھا لا 

یعرف لھا أول ولا آخرں ماوہ لم رون بلاق پا او 
سبحانه بمعرفة قدرھا أھلھاء ومن خواص کتبه ان من واظب علی 
مطالعتھا والنظر فیهھاء وتامل ما في مبانیھاء انشر ح صدرہ لحمل 
المشکلات؛: وفك المعضلات؛ وھذا الشآن لا یکون الا لأنفاس من خصه 
الله تعالی بالعلوم اللدنية الربانیية ووقفت علی إجازۃ کتبھا للملك 
المعظم فقال في آخرھها: وأجزتھ أیضًا أن یروي عني مصففاتي؛ ومن 
جملتھا کذا وکذاء حتی عد نیقا و أربعمائة مصنف: منھا التفسیر الکبیر 
الذي بلغ فيه إلی تفسیر سورۃ الکھف عند قولهھ تعالی: إ وَعَلمنَاه من 
لا عِلسًا )ء وتوفي ولم یکمل؛ وھذا التفسیر کتاب عظیم, کل سفر 


پ٭ 














رلقای تن 


بحر لا ساحل له؛ ولا غرو فإنهھ صاحب الو لایة العظمی؛ والصدیقیة 
الکبری؛ فیما نعتقد وندین اش تعالی بھ...,)؛۱. ھ نفح الطیب ۱76/2۔ 
7ء شذرات الذھب 7/ 331. 
وشرح ھذا یطول ویخرجنا عن المقام وبالجملة فھو غندنا ثقة 
ومن تکلم فیه فلرأي رآہ بتولی اللہ أمرہ وھو في نظر مشایخنا ونظرنا 
ثة فقد کان حجة ظاھرۃ وآیة باھرۃ, ثم الجرْح بالر أي لیس بشیء 
فنستصحب الاصل ونزید عليه علومه الزاخرۃ ونضم إلیھما شھادات 
الائمة الذین عظموہ وفیھم کثیرون من الحفاظ والفقھاء: ونخلص إلی 
أنه ثقة سیما وآنه أجل من ان بوثق: رضي اللہ عنه, 
وبعد: فھذہ أھم النقاط التي أثار ھا المخالفون وقد آجبت عنھا بدون 
تکلف. : : 
ثم ان کل باحث وطالب لاحقیقة بالخیاز فمن حصلت غندہ قناعة 
بالقطعة التي طبعتھا من مصنف عبد الِرزاق ووثق بھا فھؤ وشانه 
ومن عارضھا فھذا رایە؛ ولا أجبر أحدا علی الاستسلام لمٰا رایته 
صواباء ولو کان عکس ذلك, 9 
ویجدر بي قبل الختام أن أقول باني قد اجتھدت فی طلب الصؤاب 


ولکل مجتھد نصیب فمن اجتھد وأ٘خطا فله أجر ومن اجتھد و٘صاب فله 


سا اللہ العلي القدیر أن یوفقنا'للصواب: وإني لذووبْ قبل ھذا 
البیان في البحث المجد عن قطع أخری لذلك الجزء المفقودہ وإتنی علی 











راقاں تن 


وك العثور عليه بإذن الل تعالی؛ ولیعلم أخي القارئ ان هھذہ النسخة 
أخرجتھا إثراء للمکتبة الإاسلامیةأاحٹیاج الباب لھا 2187221 بمثابة 
لج اھ لاس یت کما ذکرنا فٔي المقدمة ولم 
پثبت لدي حتی ھذہ الساعة ما ادعاہ المعترضون في تسرعھم في القول 
بوضعھا دون نظر وتریث: ومثل ھذہ المسائل لا یجازف في إنکارھاء 
ومن حفظ حجة علی من لم یحفظء والتسرع بالتکفیر والتضلیل والتبدیع 
والتکذیب ضمن مقاییس ظنیة ظلم عظیمء وقد بینت لك اأخي القاری أن 
المعترض قد آثار الغبار في بیداء لا قرار له قیھا, ولو ثبت لي بالطریقة 
العلمیية عدم صحة نسبة الجزء المحقِق لی عبد الرزاق لکنت أول 
المتبرئین منھ, ۱ 

کما إنني لم ارد بھذا الرد المراء واللجاج ولا التشنیع وبٹ البغضاء 

ولکنی اُردت الإاصلاح ۱ 

مإ استطعت وما توفیقي إلا باللہ العلی العظیم ھو حسبي ونعم النصیر. 
وإنی أشکر کل منتقد انثقاذًا علمیٔا یفیدنی فیه فکلنا طالئب حق وباحث 
عن حقیقة ولكکني أُرفض السباب والتعسف والتحجر الذي عدہ ابن 
رج لین رخیة نکریق کو 


نتائج البحث:۔ 
1۔ الکذب علی رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم من أکبز الکبائر 


وقرر العلماء ان النفي مع وجود شيء من الصحة حرام 








راقای 


2۔ 





۹۳ 





وکذلك تصحیح ما فيه شيء من الکذب حرام فلا یحل لی ولا 
لغیري التقول علی رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم ولا یحل 
لات ون أن پیرمی إخوانه بالعظائم انتصارٴا للمعنقد دون 
التثبت والأخذ بقاعدةۃ صوابنا پحتمل الخطأ وخطا غیرنا 


یحتمل الصواب, 


قد اتھمنيی المعترض مع الدکتور محمود سعید ممدوح بأننا 
لاس مان قلیق لن قوله اھ زغم الحذیث کا ید عاتم 


عارض المعترض نفسه ونفی نسبة الوضع لنا. 


وخلاصۂ الآمر ان النسخة کما اسلفنا جلبت لنا من بلاد الأفغان 


واجتھدنا في إخراجھا لیس إلا من باب إظھار العلم ولاحتیاج الباب 
لأحادیث النسخة المفقود للمکتبة الإسلامیة کما ذکرنا, 


3 


إثبات نسبة الجزء المفٹوذ لدي بحسب المعاپیر العلمیة کنسبة 


النسخة النادرۃ وما اکٹرھا في تراثناء وعندي کما ذکرٹ ان 


حال نسبتھا کجال الحدیث الضعیف إذا لم یوجد فی الباب: 


غیرہ وللقارئ الکریم أن یأخذ ما افتلع بھ ویترك ما لم یقتنع بھ 


أتردد لحظة في بیان حالھا قالسند دین والعلم یقین, 





رقای 


-5 


6۔ 


7 








خی 


إِن جمیع ما أثارہ المعترض محل نظر وتاویل کما بینته لا 
یثبت به سقوط النسخة لان القول بالرد لا یقل خطورۃ عن 
الإثبات والإثبات أرجح لان کفة النفي لم تتحقق بھا شواھد 
الرد, 

لم آتعرسن سی تختیتی ای اسللامن ایا النسخة المحققة 
من الجزء المفقود ما دام قد خرجه الأئمة في کتبھم وذلك 
شرط اشرت إليه في مقدمة التحقیق فلماذا یتجاھل المعترض 
ما اشترطتھ وبھول المسألةدون التقید باصول النقد وھذا مز 
مفضوح لا یجھلھ المبتدا من طلبة العلم عوضا عن الناقد!!! 
اأنصح المعترض أن لا پستبدل لھجة اھل العلم بالسباب 
والٹستائم فالمؤمن أخو المؤمن لا یظلمه ولا یسلمھ وأن 
یسامحنی إذا ظھرت له بعض عبارات الشدة في الرد فإني لم 
أقصد النیل منھ ولکن المقام یتطلبه, 

ارجو من القارئ الكریمْ أن یعذرني إذا وقف علی أأخطاء في 
النسخة المطبوعة وعدم زیادۂ تحقیق في بعض النصوص 
وذلك لکشرۃ انشغالي ولطبیعة البشر فإن الإنسان لیس 


'المطبوعة أثناء الطبع وألحقنا المطبوعة بتصویبات مھمة 





و9۔ 


0۔ 








و 


أشکر المعترضین علی ما آبدوہ رغم غلظتھم علي فإنھم قدر 
وجھوني إلی البحث والتنقیب فعشت اٰیاسًا بین الکتب باحثا 
ومحققا ووفقنا اللہ للذود عن سنة رسول اللہ صلی اللہ عليه 
وسلم؛ والل ولي التوفیق. 

قد ارسلنا رسلا عدولاً إلی البلاد التي جلب منھا المخطوط 
والتي بحتمل فیھا الوقوف علی الأصول وقد التقیت مع جالب 





وسنتبع تقریرا وافیٔا عن النسخة من علماء الافغان) وأرسلت 
رسلا للتحقق من تعھدہ وسابٹ ما یتحصل لدي عبر الموقع؛ 
حرصا مني علی الدقة في الأمانة العلمیة؛ واللہ ولي التوفیق. 
نموذچ رقم(4) 


وآفوض أمري إلی اللہ إِن اللہ بصیر بالعباد 
وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین 








عویچم+ صلی جہہ مات مار اس نوف ولاتے نچ 
باج یفرم (۷) 





ا شی قاع ہ۔ تموٹھ رٹم  )1(‏ 
کزالیتقبرا ماف ساعق تا تل وجرا:وز 
شس یچچ راز الہ حاخڑڑئیرنا | 
این زا زالئے یم مالہ نا مراف نزنزدما 
کترلک تی رو زا( زیذزض نٹ الد علان 
دلزأھ تالسونایدعلااہ لب تییدرت: 6اچونییڈ 
الباخا(٣رتب‏ السری راو میں ا ےا مراف نی ناژوارح 
حرطب قازبالیسرلالت جیا ا نیع ا یما عا راف لاحات ملعا عزبا نشراممیاع 
عزلا را سرلاستام نت ملعا نر وی ازع ٣‏ عناقشم ڈزے اللہ سااوحابہ دالا ری سان 
ورخلم اط عائة ڈاللقاط َا شیا :مان تلق بغڑوماچت ام عاحيڈشممڑا 
تو 5 ٠‏ 0 : 
"لاہ فا لیا نمواسڑانن ین زی ۴ا الظالردهممواؤعائ الصلابادت 3 
شا سصلزہ لی بد ونلماءلیدو بط فور ! .جوا دہ پر 
ایلادیدت نان دا ڑج زیضمتایزتعب الد مز میرح تن رابخا اب ام رپ اانغالد * 
۱ لا لفقائملرزہ عیارز زی ے7 برح اتا :عم 5 نقامزیب برا رماز سے رسرزامہ ٦‏ کپ 
فا ف کاد رویز یں ا شر حر کا وآ تخ لہ ماگ ران خادیازجزن رم ماد 
باباییانقدےالھاح چا رھ رخ مل امت ۲ ھی لق سےوتل 60س اح زم و سخ 
مو وید عو ری اکر جی تیالو با یا مال ون الس +زفٹ“ ہدید عز خر یل معز پٹ 





وت تی تہ ری تہ ہے 


21 


کے 






7 


ہے سس 





سے سے مت سس سٗسیوے۔ سام ۔ 

















>نمونچ رقم( 3) ا ورؤلوو 
۱ یں بی نات ٠ھ‏ 





> الخ : 
وق الدرڈ لی القا۸) مکام سر کل 
(المتوققٰ بعد سنة ۹٥۷‏ الہجرة) 














راقاں 





آی۔> 
و 





۲٢۵٣۸۷ 
کے و بک پوپ‎ 


ا ۓ غید خمدس بر مان : کے ٰ 
آ تن اھ عن السا ب رن زی قال لن الد ما یخلق نوا "" 

لفاڑیعوة أغصان فلماھا ٹرق انان 7 غرمرنیآ 
: أوسانے اب6 ذ قیض ا مڑلے ححفه موی أنموذج رقم 
: دنت رض لیا مہیں ا ازیو 
۱ اس اھ للیاءٗ وونجھا باستتالہ فلا نطرالطاؤس نیاراءجرت4 


۸ ات ھ٢68 فپیرضی برا اد‎ ١ 















۱ ا ں‌ خرف وصخلق الش والک نی واللوح والتام والشمس 











رای 


۷ 5 سم 


وت 0(3 




















رقای 


تح المفیث ج ١‏ 


کم 


ب انموذج رقم ۔٠‏ 


۲۲ 








وقال ابن عار عن القطان : کان ففار صساحب ڈی سمعت سمت اپ آ٭ ٢‏ 
بدلس فباعداہاء ولعلہ تجو ز فٰ مین ا حم فأاوهم دخو لەکقول لسن البصری: دخطنا 
ان عباس م٠‏ وہ خعاہنا عتبة بن غروان ء''' وآراد أھل الہص ۃ یلد ؛ رنہ لریکن بھا 
حین خطہتھبا ونحوہ نی قولہ:٭ <د نا آبوھریرۃا٭ء رتو [طازس؟] قدم عابنا معاذ 
الپمن!٭٠ء‏ واراد امل بلدہ؛ فارلہ لم یدرکہ ؛کسا سای الارشارۃ اذلك فی اول انام 
التحمل : ولکن صلیم فحار نیہ غباوة شدپرڈ(١)‏ ِسنلزم تدلیسا صعبا ؛ کا قال شبخنا؛ 
وسیقاہ علان بن خر ڑا ء فارنہ مسا قال لشمان بن آبی شیب : إِن ابا ہشام الرفاعی بسرق 
حدیث غیرہ دبروبہ : وقال لہ ابن ابی شییة : أعلی وجہ الندلیس او عل وجہ الکذب؟ 
قال کیف یکون تدلیسا ؛ وہو بقول نا (۷), 

وکذا من أسقط ادا الروایۂ اصلا مقتصرا علی اسم شیخہ ویفعلہ أھل ا دبثد 
کشبرا ؛ ومن أمثلنہ ۔ وعلیه اقتصر این الصلاح!*' نی النعٹبل اندلیس الا ستناد۔ ما قال 
على بن خشرم :کنا عند اہن عیة ققال : الرھری؛ فقیل لہ حدلك الزخری ؟ فک ؛ لم 
قل: الڑھری ؛ ققیل لہ آسمعتہ من الزھری ؟ فقال: لا | آحمہ من الزھری؛: رلاى 
“معہ من الازہھری ؛ حداثنی عبد الرزاق عن معمر عن الڑھری أخرجہ الح۹۴), وغرہ 
آن رجلا قال لمد اقہ بن عطا:الطائ: حدثنا چحدید: ہ من توعنا فا حمن الوضرء دخ 
من أی أبراب الِنة شاءء سال : عقبة ؛ ققیل سمعتہ منہ ؟ قال : ا(۱ جرئی ید 





پمٛسٛڑسيسي سس کتے۔ے۔ ِٰۓ 
)١(‏ سقطت کڈ ۱خت ےس از انظر فرل النطان فی میر اعلام قبلا, ٣۷/۷‏ 
(:) انظر ااراسیل لاہن ای حائم صس ١۱۔٣٣‏ 
() اطر لت :(١١)؛‏ 
() انفر نکناۃ ص ۲۸۲ ۱ افتہذیب ۱۲۹۷/٢‏ دالراسیل لان ای عاتم ص ۱۴۔۱۱ رقال الافظ نی 
حیر فی نتبذیب 1۵/۲ : ونال الہزار قی مندہ : سم المسن قہمری من باعة دروی عن آعزوی 
یدرکہم کان پتاول قبقول عدثا رخمانا ین فومہ الڈین حدارا رخطرا پالصرۃ 
(ہ) انظر جامع فتحمبل ص ؛۱۱ء رقکد )۱١[٢‏ : 
(9) فی ھ ہ غیارۃ شدیدة ء رٹی جح ہ نعارۂ ء ومقلت مہا کلڈاہ غدہدة * ۰ 1 
(۷) انظر قہذب ۲٦/۹‏ : 
(۸) ٹی عارم الحدث س ٦ہ‏ ۱ 
(4) ٹی رف عارم ا۔لمدك س ٣۴۰١‏ ۔ ۱۳۱ وئی اادغل ص ۱۱ : وانظر أپدا لکنا ص ۹ء 
ْ)۸) سقعت کل لا من ز 











صس ا پر 


سرع مر لے غيہ عاة وہر ھپ سام روٰہے فجخ 


گ۴ ۔ نعوذع رقر (۷) 











رقای 





لاوحا ما دز شف "999+ 








اخطاہ مھا فرعام دم ول نے فی ا تن 










وکا و السا گ 
مالسلاو زونہ ائلؤن النوارگِ , 


نافع مرن وزلالبت ازع الیفی ناو ال 






2 ریم 
9-۔ 7 7 ںالف 
نک پک مجر ین دم 
ي‌ ہد پت ۰ مگ 
ات ویقصد بی ۷ 
۱ ا کے 
0 ات 


بااےےالک اقاجات دالحالیة- 





تابع زنموذع رقم( 3) 


و کا 
ینا و و 
07 


٠‏ سن مت 
رز لاجر اہین اسلیلاے ام رن ام 
کیج ا انور عبات نا قاابت پا 











کی 


ب۔ نفرنچ رترم( 3) ۳ 











مہ 


ج نموذج رقم ١‏ 





7 معرفة علوم الحدیٹ 





کان شعبة یری احادیث ابی سفیان عن جاہر اِنسا ہو تاب سلیان الیشکریء قالِ 
فلت لمبد الرمن : سمعتہ من شعبة؟ قال : أو بلننی عنہ . 

معت آأبا الحمسین ند ء بن أمسد بن تیم یقول سمعت آبا قلابة بن الرقاشی 
پقول معت عل بن عہد اللہ بقول شعبة أعل المكاىس بحسدیث فنادة ما جم شا 
شع 

ال مد الا : ففی ہلله الأئمة اللذ کور ین بالندلیس من اتاہمین جساءة 
وأتباعھم غیر آنی لم اذکریم ات غمرضہم من ذ کر الروایة أن بدعوا آ لی اللہ عن وجل 
فکانوا یقولون ”فال فلان ابعض ااصحابة “ تا غیر الناہمین فاغ!ضہم فیه مختلفةء 

وأما ابمئس الثانی من المداسین فقوم بدلسون الحدیث فیقولون ‏ فال فلان ٤‏ 
ا وقع الییم من ینفرعن سماعانہم وہل وبراجعوم'کروا فیہ سماعاتہم ٠‏ 

اخیرنی قاضی الفضاۃ مد بن صاخ الھاشی قال تا و سٹراشعیق قال ۔ 
ئ علی بن عبد ال الد قال قال ای لا عبد الرازق قالی أخبرنا معٹمر 
سان ایمی قال جثت لی دباح بن زید ام لہ اب اب طاؤ سک 032 
فلت : ممعنہ من معتمر قال : لا ولکمن اخرج الی“ٴ معتمر کتابا فدغمہ الی> قال: 

وحذ ٹن أبی قال معت عبد الرحن بن مھدی یقول سألت سفیان‌عن حدیث 
اباہم بن عقبة فی الزضاع تقال : لم اعد حداق س ره 

قال آبی ومحمت بجی یقول کان ہشام بن عرروۃ بحدث عن آبیه عن عائُشة 
فا : ما حر رسول اللہ صل اللہ علیسہ وس بین آمرین وما ضربب دہ شوتا 
قط .. الحدیث . قال یی فلما سالنہ قال أخبرنی أبی عن عائشة قالت : ما خبر 





)(١(‏ غ ٭ ش٤‏ مف : ھ قال الام . )٢(‏ اخ ٤شء؛‏ سف ؛ و ززلام۔ 

)۲ بالأمل ؛ ؛ راہجمهم > وسیاق الکلام یقتضی ؛ یراج مھم* کیا جا ظ٤‏ خ٤ش‏ وعف ٠‏ 

) خ٤‏ ش٤‏ صف : علی بن عبد اللہ بن علی بن ااشیی >٭ ٠‏ (ہ) خ٤ش٤‏ صف : 
٭ مرن الیی پ٠‏ (ہ) غ٤‏ ص٤‏ صف : لخالق مہ تسرءہ ۔ 

















۰ دس۱ ۰( : 
۳ تمودج چڑے حدید : ۱ 
دموداج جڑے حدیئی علیہ تمالعات و کت یش 
او کو لد جس عیه سماعات ولا قشم فثالع ؛ 


7 ا سے ١۔‏ تموذج رقم (۲) 





تج 
کے . ۷چت 
مو۶ ا رم رون سے تےے 

اج امام ظاطائو ی باب دافسین 











۱ سے . 4 7 ۵ 
پ رس یا 3 تی کرامتر(تشبری ا اریت خسم رجہ 
سو یے گا : سعسم کیم ۔مملنے چو 
8م 
۱ وس ہے 
ود ار ۔ 4 






1٢ ‫َ‏ ۷0 
سر شر ہہ 
یموق ری 3 

اریہ و ساد یں 
وف رری یم 









ْ 


۰ 0 ال 
اضاو ا مکی 
سن ہا پوتے 


منانا ان تا ئرکن نت 


1ظ 
سے جس ٠‏ 


2-1 


7 : 
ا مسی ۷د 
: ۳۲ 
نہیں