Skip to main content

Full text of "Qadiyaniat Kush"

See other formats










عالعی سجلس تسفظ ختم نبوت 


تصور کا روڈ مان 
ےت.م.م.رر...ٌ.ڈ] 





5ج 0ح نبا ت4 0 0 ئ0 ب0 نب0 0 ب 0 ب۷ نب تا تا 


نہ مضاشین 


ہو جآ نمو( جرطاہرر زاقی) 

ترو ف کک( مول بعر :ار جن جالن دعھری) 
کتماب وصاح بکتاب( سید علمدا رن شمادنخار ی) 
عریسریر(ڈالڑ(ائورہر) 
صداےدل(طار ق ۱ا گیل ساگر ) 
مرزاتقاد با یکاش رپ غجاست( نز مر مفل) 
قاد یالیٰا خلا ا ایک ساز شش ...ایک جال 
ڈ اکٹ خر السلا مکون؟ 

رز اتقادبا یکامعال‌نامہ 

مرزاثت کن ار 

رذ اتقاد بای کے فرشت 

ےئ رع ل راغ ول 

مرزاقا و یال یکانسمال یڈ ھانچ 

قادیا لی نوازااسلا مکاموذی وشن 
ادا یی خو راک 

نال مکون ؟ مسلمان یا قادیائی 

گد سن اشعار ضخ بوت 


6 


5 
25 
28 
29 
د3 
|4 
48ٛ4 
68 
77 
89 
95 
78 
17 
15 


5 ا 


ترفساں 


الد ات کاب سے ل ےکر تی لکتاب تک تیام مرعلوں میں میرے محتزم ووست 
جناب مم فیاضش اخ رلک٠‏ جناب محر متین خالد “جناب مھ صدبق شاہ خار کی“ جناب سیر 
ار تین شاہ عخار بی جناب طارق اسنا حیل ساگر ؛ جناب عافظط شفیقی الر عضن ' جناب 
عبدالر وف روٹٰ “جناب منتاز اعوان *“جناب مج یم سائی کانتھاون ہردم بے مر پاادر 
ان دوستو ںکی جدوجمد اور وعاؤں سے ىیکتاب منص شمود بر وع ہوگی۔ میں ان تام 
دوستو ں کاو لکی اتھا ءگبراتوں سے شگ رگزار ہوں اور اللہ تعالی کے تضورپر ستدعاہوں 
کہ اللہ اک ا٘یں اج رعنٹیم سے نوازے۔(آشن) 

میں ممون ہوں خواجہ خواجان رت مولا نخان مر بر خللہ “خطیب شحم وت 
صضرت موڑا نا مر ال مان رظ لہ ؛ فمونہ اسلاف تحقرت موڑانا عمزر: الر تن جالنر ھی 
رط لہ دا ۓ شم عو حرت مول نا سید نیس شادا نی پر ظلہ “جاژار ضحم وت الام محر 
زمر مفل پر نللہ “بر وانہ شتم بوت جناب ار شاداجھ عارف بی ظلہ ؛ ماب شم نبوت صاتزادہ 
طارقی مور ی خلہ کان نکی ریس یکا حا بکرم میرے کب مچھایا رہا۔ انل تال ی ان تمام 
بز رو ںکاسابہ ہار ے ممروںپ نادمہ علاصت ر کے ۔(آ ین غم آین) 


تر طاہررزالی 


و لج نو 


٠ 


اے افرارت اسلامي | 
جب تک تم نے الد کے رسول' کے دا مس نکو تام کے رکھا۔۔.۔ 
جب تک تم اللد کے عجی بک عزت و ناموس پ رکٹ ہرنے کے جذ جہ سے لوس 


جب کک تم اع و تحت شم نہو کی تفا لت کرت ر سے یٹ 

جب تک تحممادربی تگوار ی ںکمتاخان ر سو ل کی گر دمی ںکائی ہیں ..۔۔۔ 
....۔ اید نے اس دنیاکی بچابیاں تممارے پر دکردیی .- 

ا عا ری ہیں تممارے پاتھوں میں تادیں 7 

کروی رکو تممارے من کرریا ہاید 

جانا و چا گر یکا ماج تمارے سرد پہ سادا یہ 


قصردکسری تمہمارے آباء واپرارے نامع نکر ات مثلات میں فح رفھ رکا یت 
راس تممار بی تم عب ود نکی ماپ شی ہ.ی- 

دنیاکی دوات پچ لکرتممارے قد موں میں ڈ ھی یہو نے کے لے آ تی ھی سس 
تمارے بیو کی بمادد کی سےکغار کے سور مابنا: ما گے ے ہب 

بای د ین بھی تممار بی عطفلمت ک ےم ن مات جے ۰- 


7 
ین..... جب تم نے اللہ کے بھی سے انا ناط کو رک رکیا ج-- 
ھی سے غیر تکا رشن ف مک ریا ات 
درشمنان سو لکو انا وشن نہ مھا اہ 
کی شخ غبوتم ڈاکہ ڈا لے والو ںکوئہ ر وکا - 
رد کو خی نکی شمان اق س میں پڑ ان کے والی زہانو ںکون پڑا َ- 
رسول؟ر ہمت کےگلشن اسلا مکواجاڑنے وانے پا تھوں پر فت ن کی دم 
چھوی مہوت کے ہولناک منہ سے لنن وانے ز پر ے الفاظ تماد کی ا عتوں گر ال 


پچھر...۔۔ ار ہکایز اب ٹوٹ بڑا 
اکم لوم بین گے ہی 
آ فلا بین گے ےہ 


خلائی کے ٹ ےگلو ںکی ز بیعت بن سگئ...۔۔ 
ہنمیں کل ہم نے کح بکی راہ دکھائی می اط آج دہ جاند ےر قدم رک گے 


ہیں جج 

میں کل ہم نے تلم پور ےکاسلیقہ کھیھو.....؟ ان کےعلم ارم رکھتے 
یں ف 

جنموں ۓل جمارے سا ۓ زانوۓ سرن تہ سے تھے ..... فرح دو ہواؤں اور 
ففضاؤںء علومصت کر رہ ہیں اعم 

میں ہم نے لباس پہننا کھایا تھا۔.... آرج ان کے اترے ہد پر ال ےکپٹرے 
اورجوت لن ے بازار سے نم یرک ہم ھن ر ہے ہیں کے 

ہنی ںکل ہم نے پنرسوں کاشعور پنشا تھا..... آرج دو جمار ا گیٹ بناکر ہار ا خون 


آیو کن ما ور کے شی رج ہم پاتھوں می ںمفکول پپڑے ان کے در پر 


ر یکا حصددے-۔ ار سے 7 م۳ 

و سس سی 
وو کو ا انا 

مد اراااہینے در خژاں ماص یک جا؛ 
یی سی ۲ 

اپ اعلاف کے قوش الو ڑھوڑ۔۔-۔ 

ال سے پھ رصق رسول انگ ۰ 

ال سے پل رک رسول انگ ہی 

اد سے پل غیرت رسول باتک حم 


سوزرعول اش سے پر نے پلک کی نوف مائکف۔.. 


بس ڑے محر میں عکعا 7 

یت مرن سے “ ری عبت 
بی ہیں ے 7 چو 

کی ہیں یں ہر زیت کا ہے 


02 غ٤‏ ہے ہے .- 
گھڑی ا ری تر ہے 
عاصل ہبہ 


زی ںی ہے 7 
ڑا میں شی ناز 
محر نہیں ہی تی سی می 


ش گی مال درے رس پت 
ددے ۱ ۱ ۹| ے 
میس ے ہت ہک یرارٹ 


پا 
بودی 
ہوا 


بد 


میں رے مشق میں زثوں سے سا ہے برن 
ہے پےے پ ن یں آج نرامت ہوثی 


اپ بیع کسگہًے اؤار ے روش کر 
ننڑی می بھی ورشد کی صورت ہو 


میری ہر سان میں خ مو تی موی آت 
مرے ہر ُْے پر مب می تقومت ہو 
ہیں ڑے سان پچھتا جو ری ئ نت می 
نیل 0 2 تی انی ررساات بی 
زیمت سے موت ملک موت سے پھر زیمت ملک 
میری آگھوں ہیں نظ تی ی صورت ہو 
ترے احاب کا اک ول سا سای ہو 


إں جو ہوا ڑ ررنخں مری قے ہول 


یں ایر رو مر سے می عقرت رگکتا 
بجھھ کو خان ر على ے می مت ہول 


لک ڑے رر کی مدالی جو بے لںل جال 
انار پھر رل میں بھلا کون یىی حت ہوئی 


10 


میں م۶ : 
زے ىر يں ہیرا×ڈڑٌ . 
0م و مم ہو زا 
ا پ ے گی خخات بی 


ی۔ الیں۔ ی'ایم۔اے نار 


۵ رپ۶۱۹۹۸“ لاہور 


11 


جروف تر 


تو ر شیہم السلا مکاار شا ذگائی ے: 
لایزال طائفە من امتی ظاہرین علی الحق 

اس عرییٹ مبارکہ کے مطابق اسلابی تار کے ہردو ریس اعقا لی نو ابطال باشل 
کے لیے امت مل ہکا ایک طبقہ بکیشہ بھ صرپیکار دا ہے ۔ جس دور میں جس طرع کے افرار' 
شحصیات اور اراروں گی صرورت ہوڈی ری “ہثاء خر اور ی سے وو امت مل ےکی 
راہضائی ہے لیے میدران مل میں آتے رے۔ 

وس از مزا لام قاد بای کے پد اکردہفقنہ قادیا می تکوہی یئ ۔ 

جس ودور میں علھی مباحٹوں اور عوابی منا ظرو ںکی ضردرت ئصی مد اوئر زوا لال 
نے بلند اہ منانگری نکواس طرف متوج ہک دیا۔ جب عوام الناس می تادیامیت کے پر ۓچے 
اڑا ےکی ضردرت تھی نے رب زوا چلال نے وت کے نامور ضطیبو ںکی جماح تکوا سکام 
پر نگادیااور جب قوبی ا سی می تادیامیو ںکو قانو با خی رسلم انحلیت قرار و لیے جان ےکا مطالہہ 
زی کٹ آ یا نذثررت خمد اود ی نے سوسالہ قر یم قادبال یکنب در سا ئل کے ور ددرت 
گہرىی نظ رکھنے وانے لا ءکرام اور ما ہرین قافون کے الیک ایی ےگمر و ہکو مب ف مایا“ نکی 
برانہ اور فاضا گنو سے ار الین قو بی ا سی پاکستان پر قادیانی ری ک کا خشرث بان ایا 


12 
آشکاراہواکہ و متفقہ طوری تاد ازیو ںکوغی رسلم ا فلیت قرار رین پر جبدر ہو گے ۔ 
۱ اوراب چد ید تھی بافت نو جو ان طبقہ بر ف٠رمر‏ کے ذر لیے ایا می تکی اعصلی توخا ہر 
کر کاوقت آیاوالنہ ریم نے اس کام کے لیے وجوانو ںکی ا اک مم کو ا سکام ی لگادیا۔ 
جناب طا ہر زاقی صاحب اٹی رنقاء میں سے ایک ہیں جن کے غل مکی تمام تر لا صییں فتنہ 
قادیا نیت کے خلا فکا مر نے کے لیے وقف ہیں ۔ مقن قادیاغیت سے عوام وخو ا سک و٣‏ گا 
کے کے لے تاد یا میت کے ملف مد وخال بر موصوف کے اچچ ےکئی رسائل کے مو ھے 
پل ہی شائ ہو گے ہیں اور اب ان کے دس دسا لکانیا وع "انی تکش ''منظفرعام 
آراے۔ 
ال کریم لے مموعو ںکی طرح اس جدید جموع کو بھی نسل نو ینز کے کے نقنہ 
قاریانیت سے آگاتی کا ز رنہ بناتیں اور اضل مصنف کے لے اے سعارت ار کا 
موجب بنائ٠ئیں۔(آشین)‏ 
فاللله اولاوآخرنا 
بثر٤‏ لاجر 
(مولانا) عزیز اکر ہمان جالنر می 


ام اعلی عالی مجكس حزط شحم وت 


.13 


نعارک :امہ 


رطاہرر زا ....... وکیل ما اض .....۔ حافظ باج تحت تت وت س- 
وب دار تھرہوت 


تل اس کےک می زم مطائع ہکناب ' آادیاغی تبش " رگلراۓ عقیرت بپچھادر 
کروں میں اس کے مصنف مھ طاہرر زاقی کے براروں تار ین اور ۴3۱17 کو اس 
عظیم مصیف کے متعلق بھھ جانا چاہتا ہو ںکہ اس ایک عام نوجوان کے اندر ایک میم 
مر ی و علھی انقلاب د ری ک کسے بیدار ہوئی ؟ 

دوستو میں اس عالنگیرشمرت کے خوش تعیب مصن فکونو ٹیں جا تھاکہ من سکا یہ 
ما یکنا زر مطالہ سے زی کہ اس سے قمل بھی دہ چھ عنم کتایں رد قد بات اور 
مرگ مرزذاحیتظ رق کر گے ہیں) میس اس درازقر اور شابون صفت نو جوا نکو جانا تھاجو 
کہ زمانہ طالب لی میں اہ کارغغ کا مروف پاکس ہو اکر تھا۔ و رٹس مین پپرٹ سے 
سرشمار وتوان “سیروسیامحت اور وش مکہوں میں مصروف ر اھر نوبصورٌی..۔۔ جوا ی 
اور شرت کے باوجود بھی ا سک جوالی...- دید ای نہ بن کی ۔گویا ددرت نے شروع سے 
تی اس کےکروا رکی عگمرداشت اپنے زے لے رکھی تھی ایم۔اے کے بعد اھر موا 


14 
اسےپاکستان کے رکز ی بینک میں لے اک یگمرا سکی طبیعت ادھرنہ آکی ۔کی ھککنہ یہ یک 
یس اک ربھی ببیکار نیہ جن سا اس لک -۲1٢۷۷ 35٥٥٥٥۸٥3٦ ۲٥٢٥٢2٥۸١٠٢‏ 
قررت اس س ےکوئی ہو اکام نے وا ھی 
چ کہ یہ نوجوان شروع سے بی پا ند حصوم و لو تھا لین انماز جع ہکی ادانگی کے لیے 
ایک مرحہ قبلہ مولان مھ ایل خان صاح بک مد میس عاضریی دی۔ مولانانے ددیاے 
فطاب ت کا رغ شخم بد کی طرف موڑدیا اور بیوں مرزاحی تکو ضس و خاشا ککی طرح با 
نے گے ۔اس ایمان افروزاور انقلالی خلبہ جشعہ ےگوبااندر کے مج طا ہرد زا یکو بیدا رکر 
دا شےکہ فررت نے اس عفلیم کام کا ہیڑہ سونہنا تھا۔ چ کہ طاہرر زات شروع سے بقول 
مفرکی مفرین ایک جیاد یر ست اور غیرت مند ملمان تھا “اس لی ابد ار تم الا جیا کی 
مان افرس میں مسیلمہ وناب مرزا قاد یا یک یگمتاخیاں برداشت نہر گا۔ ال ہبیتڑ عظا مکی 
ین نے ا ںکی دو حکوچی کے رکھ دیا۔ صعحا کیا نکی تنفی نے اس کے تقلب ددماغ میں 
آگ کے ش بھردے۔ غیرت اسلام..-. یتپ بدا بری اور رب زوا لال سے تھر 
رکانتا ہوا مج طاہرر زاق ای محود کے ای کفکونے میں بارگاہ ارز دی میس سر سمچودہوگیااور 
دعا یکلہ 
مایا ىَ زندگی چارتا ہوں 
نط ہل بں ىا ی ٠‏ پتا ہیں 
ا مامتا ی_- مق ہر 
کہ ہر وت کلک بے ںی پاتا ہوں 
اس رہ سے سرتب اٹھایا ج بگلشن شق خہوت کے تفن کی ش مکھاکی۔ ابی سار کی 
جوالی اور بڑھاپاوارٹ باج و قحنت تخ نو تکی وکالت کے لیے وف فکردیاادرییوں اپۓے 
درب کے سام اس کے پارے عجیب کے نا موس کے دفا عکا سو عد ءکر کے مسچد سے با ہر 
۴ ا 
مسیرے وا نی پہ مھ طاہرر زا قکی دای برل پچ تھی۔ ہک رگھرماموس نایدا رم 
نبوت میں ممتذرصق.... ایک اہ میں لیم اور ایک اھ می گوور۔ بے کیل اتی 


15 
تار .... سب سے پل اس نوجوان نے اہین قر می رفنقاء کے سان ہہ عا گی رمتلہ رکھا۔ 
ا کی مسلہ اعمیت و اذادی تکو اجاگ رکیا۔ پچ رکیاتھاا چم زدن میں ان تمام دوستوں کے 
گروں میں شتح وت کے مطبوط مور پے تاغ مر دیے۔ شیٹران *شیطان اور قادیان کے 
ایکاٹ کے لک خکاف نھورے گنن گے ۔ دجلی در وازو میس داع میلس خوخظا شتم خبوت کے 
درف رکاجارو بک ب نںگیا۔ شابژن شخم غبوت حضرت موم نا الہ وسای مد نلہ الدالی حیی لقت 
ھی وہیں سے طعبیب ہوگی۔ ننکانہ صاحب کے صد واجب الا رام جناب مھ متین نال ہبی 
ہز یہ ایال ی کو یااٹی کے طنظرت ۔ مج ابی طور بر ننکانہ صاحب شیسے دور اد تصبہ مم 
والٹی جلس تنا عم غبوت“ اتمم گنی ۔ گل ی کی“ قریہ قریہ مرش ریچ کا تما مکر ڈالا۔ 
مرذائیت ک ےکردورے سے نقاب الٹاغنی بمہ فور ڈالا۔اہینے آ نی ہاتھوں میس لم نہیں 
لہ مگ رک رسے ای کگر ز متتعارلیااور اس سے رد تاد ایت پا مضمو نککھا۔ اہین آ تا 
ناجدار رین" کے دفا عکی بی دییل دی۔ پھردو مرا مممون... پچ رتیسرا اور پچ رآر جع تک 
ماتتدار مضاین اور رسائل خر ہیے۔ علادہ ازیں بے شا رکالم اخبارات و دسا لک “ 
ژمنت منارۓے ۔ 
۹ء میں ان کے مضامین کاپ لا جو '' ححزظ تخم غبوت'' کے عنوان سےکتالی شحل 
میں مشنگان ش مکو ما ۔گویا پیا سو ںکو جا مکو شر م لگیا۔ ا سکما بک پاتھوں اہ لیاگیا۔ 
پیا سو ںکی طلب بڑعیگئی ۔ اند رون ملک سے ہی نمی یرون ملک سے بھی خالی جام آنے 
گے اور طا ہرد زاقی صاحب انیس عم و آکی کےکوٹر سے بجھرتے مہ گئ ۔ 
کیل نام اشی نکی پھلی رٹیل و تمنیف "ہتوزنا شم وت“ آمان دنا پہ طلوع 
ہوگی۔ پچھراس غلام بت شکن نے '' ادا عیت شمکن ' کسی 'پھراس عندایب ریاض رسول* 
کے الات شم حبوت*گشن رنیا می ںکومے گے۔ پھر رک مرزات" نے واتٹا 
مرذاحیت پہ ھرگ طار یک دی۔ پھر دیابیت کا شرمناک چچرہ ”اد یالی افمانے ''کی شحل 
یں راگ دکھایا شور تم وت بیدا رکرنے کے لے ”شور شتمنبوت اور قادبامیت 
شناسی “لگ ھک رکوازے میں دریا غہیں ہہ سند ر بن دکردیااور اب تقادیانیت کے ناک وجود 
کو صمفیہ سی سے پا ککرنے کے لیے ا نکی سا نمس مع کت الا ر ا تصنیف ا دیافی تکل " 


16 

آپ کے سام سے اور ا نکی آگھو یی ںکتاب ”جال قادیان '' بھی آ جکل زم طباعت د 
اُاعتے ۔ 
لم و عرفا نکی بارش٭.... مہو ت کا عجاز 

تم مقار تی نکرام1۹۹۱۱ء میس حنزم گ طا ہرد زا قکی بل یکناب زبیعت مطالعہ بی 
اور آج 1۹۹۸ء میں ان کے ساقو سکاب '' ایا فی تک ''او ر آٹھو یں ”رپال قادیان'' 
پکی مامئے ہیں۔ ایک پاکسرمی اتا با یھی وارلی انلاب کیسے آیا ؟کی و کہ وہ تو صرف 
ار.... را رنہ ...بقل اتل 

بث یغان نظر تھا یا کہ تھب کی کرامت می 
عماۓے سس نے اس یل کر آراپ ڈآرزیری 

بیس محھھ طاہرر زاقی کے وال رگر ای چو دھری عبدالر زاق مرج مکوبھی جانتاہوں۔ 
رما ےکہ ور الصرات والارضم ا نکی قش رکو بقعہ ور رجا( آین )دو بھی ایک شرف * 
مع ززاو رکار وباری شخصیت لین مھ طاہرر زا قیکاگھ ران ہکوی اتابڑاعھی داد یگھرانہ 
شی سکہ ىہ سب بپھ اغنی ور لے یس ا ۔گر صرف مات سالوں میں لاند ار مو ضو عات > 
سمات شی مکماہیں٠‏ بے شار رساتل۔۔۔ لایر ار مفائن ' انگنت کا م ' ہراروں معرلم 
لاہ ظار..... پ ری دای ل یی مخت تیم و تر یل..... لف مالی زانوں میں 
تراہم...۔ لاکھو ںکی تد او میں شپان شم غوت کے لف ری تا ری.... بین نم وت کے 
إاتھوں میں گوار دودھاری..۔ اور اپنے خون نکر سے ش رضم نیو تک آ جار می نے 
س بکیا ہے ؟ علم و عرفا نکی ىہ مو ملا دھار بارش شلکیاسحاب ور تکاائجاز نہیں ہے ؟ یقیا 
ہے اک کہ گج رطاہرر زائی۔۔۔۔۔! 

کوگی ادیب پا نر ثگار نہ تھاگھر جپ اس وادی پ غار میں پدل اتا ہت ے 
شھسوارو ںکو بے پچھو ڑگیا۔ وو افسانہ ڈگار نہ تھاشگراسس نے تاد یا لی افسمانے کک ھےکرافسائوئی 
رت پائی۔ و ہکوگی شماعرنہ تا رات شتم وت او رگلدست اشعار شحم فیوتکے تعیب و - 
ا تاب اس جا تک یگو اہی دے ر ہے ہی ںکہ یہ شا عری کی نام امناف سے موی آگاو ہے۔ 


17 
د1کوئی کار ٹوٹ نیس تھاگھر ابنے فن باروں کے سردرں پر اور تھرروں می اس نے ۱ 
قادیانیت کے جو کار ٹون بیاۓ “ مروف کارٹوشٹ ورطہ قیرت میں ہیں۔ دوکی تللٹ 
ورڈ یایونیورٹی کاکوئی اہ رقعلیم یا اہ رضصاب نہ تھانگھرمنس طرح اس نے تادیالی قاعدہ 
تعیب دا بڑے بڑے اہرین نصاب اس کے سائے پالی بھرتے ہو ے نظ رآتے ہیں وہ 
کوگی بر یس آفوس ای اور خفیہ تیم کا رن نہیں تھلجھرنس طرح اس نے ھرزاتقادیا یکا 
راد میا ہے “اور اس سے بعلی و اگمری:ی شبوت کااقچال جر مکرو اکر“ اسلائی و عوائی 
میرالت میں ر سواکیا سے“ تقل دنک رہ جاٹی ہے۔ دہکوگی ڈاککٹریا ما ہر سرن نہ تھاگھرخس 
اہرانہ ریت سے اس نے قادیافیت کالسٹ مار مکیا ہے ؛ رجری ماتھ پر اھ رجے 
اسے سلام کر ری ے۔ 

و دکوگی اہر اض پا عیم نہ تھاگھر اس نے جس طرح را قادیای.... ضسل 
حیطالی-.-. جم مکاٹ یکی جار بی ںکو- 8۱1٥2‏ ۱۹ 0ک کے ان کاعطارج تجوی کیا “کنا سے 
کہ دوہی دوامانے کا شییم عازتی سے۔ و ہکوگی مزاح نگار نہ تھا گر رز احیت کے سا 
ٹیلیا کرت ہوک ا کی تیر وں کے ساملہ نب کے ڈانڈ ےبھی(اشی کے)پرل 
بخاری سے سگے ہوگی دکھائی دسیتے ہیں او بھی (دور حعاضر) کے ڈاکٹر وش ب کی طرف 
ہبوت دکھائی ریے ہیں ۔دہکوگی تیراندازنہ تاج رطنز نٹ کے جو تیراس نے رید کے شی 
مقر ہکی طرف چلاۓ ہیں “اس سے وہاں پر وشن ہ رذن لا کاکیعہ تچکنی ہے ۔ دہکوگی 
محقق نہ تار شقین کے کر ےکراں میں غوطہ زن ہوکر انسانی نگاہوں سے جھی ہد وہ ْ 
ھت یکو پ رعلاخ کر کے لابا ےک مق خو شگوار یرت میں ہیں۔ 

علوم وفنون اور ران و٣‏ ا یکی مہ ہار شی اس پ رکھاں سے برس دىی ہے ؟ مہ آمد سے 
کہ آورد؟کیاوجہ ےکہ اس نے عم داد بکی رز ی نکی ہنس مٹ یکو بھی پچھو ا سے “سو اتا 
یا سے؟ ینوی معلم ا سکی پت پ ہے ۔کی "ای 'کاوا بکرم ضردر اس کے سر 
ہے ۔ووعام یب والھار؟ اس ضرور راو دکھار ا ےکہ جس نے فرشتو ںکو چو رکردیاکہ 
دہ آد مکو بد ہکرمیں اور تقار تی نکرام و بے بھی 


یں ہعارت زور پازو نیت 


18 
بر _۔ ھض رے - لد 
مج طا ہر زاتی۔۔۔شورش مالی۔۔۔اریب لا زوال... خیب بے مال 


اد رون ملک و بیرون ملک محتزم محھ طاہرر زاق کے بے ار ایے تار مین دیداح 
ہوں گے جنموں تن ےکہ صرف ا نکی انقلا لی او رایمان ا ڈرو ز مرو ںکامطالعہ فربایا ےگھر 
واۓ قس کہ ان کا صن سماعت موصو فکی شعلہ نوا تیر وں سے محروم ہے میری 
موجودگی می ب یکئی ججلسوں اور مماجد میں “لن بز رگوں نے ان سے انمائ ی محبت اور 
عقیرت سے پا ماک کیا آپ آاشو ر شش کاشیہ کی ھجم کے فرذ ند ہی ںکیہ خمممیں س نکر 
حور شک جوال با آگئی ہے ۔ طاہرصاحب ان کے نی یی نہیں یں اط کسی باہو نے 
7" اننیں بھی ٹر ےکہ ا نکی لازوال تھرمروں اور ہے عثال نقری و ںکی بناء لوگ امیس 
خورش مان یککتے ہیں۔ یہ لوگ من ججانب ہہ ںک و کہ تم فک ن ےکم بی ابی یکو ہرنایاب 
د بے ہوں گ ےکہ جو کیک دنت ایک بلندبامیہ ادی بھی ہوں اور شعلہ فواخطی بھی جس 
رح یہ دونول خوبیاں آناشو رش هرجوم میس بد رج ہکمال پر عحھیں ٴاسی طرح جناب طاہر 
زا قکی زا تگر ای بھی ای خصوصیات سے الال ہے ۔ج بگی ماس ممسدیا جلس میں 
ضورخقی مرج تا رکیل اپآ ] ہدا مر وت ک من اوردفممیدلا ئل دے 
را ×× ہے و نراروں کے مع مم سکس یک یکیا ا لکہ دہ پگ بھی ممپکن ہا ؟ شع ہمہ من 
وش ہوکراس شو رش مان یکی واولہ امگیزاور ایمان افروز تقری ےکی اع تکرر اہو اے۔ 
الفاظ کایہ جاروگر (اس کے تار تین ہوں یا امن )کس یکو او ناماس بھی لیے نمی دیا۔ 
گا ےکہ پر رے کو مسر ات یا نا ٹا زکردیاگیاہے ۔ اور پھرکوگ یکیسے ا سکی برای کے 
طلسم سے قل سکما ہ ےکی وککہ ا سکی ہرجات پر تا شی عدالل اور د لک یگبراتیوں سے مھ 
ے۔ چاے وا سے قم کے بپردکرے یا بان کے او ربقول مفکپاکستان “حطر ت ابا لک : 

ہل سے و بت فحق سے ا دکی سے 
4 رس ات ہراز گم ری ے 
مار بی دی نل جو آخاشورش ھرجو مکی زبارت وخطابت سے مروم ری ے 


19 

قدرت نے انہیں طاہرر زا قکی شل میں آ ماشو رش یکاء رین تم امبرل عطاکر کے ایک اور 
اصان تیم فمایا ہے ۔اس لک آخاصاح بکی رح مھ طا ہرد زا بھی تقادیا می تک راہ 
یس سب سے بڑکی ”نان سے اور مرزائیت کے شکار کے لیے ایک مضبوط اور کفوظ مان 
ہے طاہہرر زاق نے اہ الفاط کے شعلوں سے تادیا فی تکا کرد پٹرہ جڑاکر نانقابل شناشت 
بنادیاے۔اس نے اپے ز ہ رآلو دج مکا تف رم زاحیت کے سینے می ںگا ڑکراس کے لب وچگر 
کوبارویاد دک دیا ہے ۔ دہ میک وشت دو مھازوں ہ جچمادکرر ا سے ایک طرف دوظ ری دنا 
میں علی و گکری ما بر تقادیانیو ںکا ماک کے ان کے ذو رک رکوتے ڈد اہ و دو سری طرف 
اقب لکی حر وت تر مدکی مثرابوں میں بی ھکر ق رآ ی آیا تکو انی ت٠رروں‏ میں ڈحال 

ہا لکر ملمانوں کے خوابید و مرو ںکو مو ژرہاے۔ 

مر طا ہر زاقی۔۔۔۔ شاو تمہ الشت میں 


مجرطاہرر زا نے در میق تگو ہ رجا تک پالیا ہے ۔ اس نے ابی جان 'جوالی /ال ' 
اسباب ا لاک اور اولا سب ٹہ ناموس تاجدار پریند کے لیے وف فم۷ردی ہیں اے 
ان سب چڑوں سے زیادہ آاۓ نامرا رکی عزت و عمت عزءز سے ۔ ا سکاایمان ےکلہ 
ار سول ال 

ے تیرے کے سے خد اکو بھی ند ا مان سے 

دو نز خد ابر بھی ابیمان پیارے مصطفی کے فرمان پر لایا ہے ۔ ا جدار حم الا میا کی 
مان ارس میں مرا قادیال یک یکو اس اود ہرزہ رائی نے ا سکی روح اور حم کے دروکمیں 
ر وی ںکو زشھ یکر رکھا ہے ۔ اس لی اس مھاہر عم بد ت کی تقریروں اور تر وں میں 
آ پکو شرت نظ رآن گی اور ا سکی بی شمرت اس کے جذ بہ جماد اور غیرت اما یکی 
عکاسی ہے ۔اس لیے اس کے پ|تتھ میں عم نہیں بہ نوا سے اور مگوار بھی عام نمی بکہ 
زوافمار سج ےک جس سے ووان زندلیقوں اور مرتروں کے مرو ں کی نص لک و کان چلا جار | 
ہے۔ اس کا برا راست جمار ہ.- ہما رکو ترام قرار رین وانے شمائم رسول اور رم 
اسلام ما ادیا ی کے ساجھ ہے ۔ رز اد یانی اگر اھر کی خو نود اور بالاد سی کے لیے 


20 

اعلا مکاپ رو کر کے من و ال کے فر قکو مان چابتاہے و طا ہرد زاق اس کے رات یں 
ان ھرصو مس م نکر عانل ہو جانا چابتاے ۔ ہرز قاد بای اکر شمان رسمالت میں گا ئ یکر 
کے راجال ن ےکو تار سے و طا ہر زاقی 'غازىی علم الدین می کے پھانسی دانے رس ےکو 
چو مگراس پر چھول جا کو بے ترار ہے طا ہرد زاقی سرت بھرىی ز بان سے جیا نک ہے 
کہ کاش اسے بہ علیم سعادت عاصل ہو ٹ یک اگر وو حطرت و ضئ یبن رب کے اکر جرار 
کے سا سیل یکذ ا بکو جم واص لکرنے نہ جا کان کم ا زکم اپٹی زندگی میں اس کااس 
یہ اب کے ساتھ بی پاکراہو جا ماندواس راراسلام اور گر سمالات کے ناباگ وجود 
سے اي دقت د لیا گ/دتا۔ 

حسنو اور دوستواکاروان شخم غبوت کے اس سای طاہرر زاقی نے اپناضن “من “ 
من سب یھ ححفظط عقید ؟ شت خہوت کے لیے وق کر رکھاہے ۔اسے انی جان “جوا اور 
اولادکی چنداں پر داہ میں با رگاہ ایز دی شی مبریی دعا ےک شماد تگمہ اللق تک پ نمار 
ای کی لہ ہا اہر ای رح تھرند تی وب دار یکرنارہے۔المار اھ کے ٹر 
ماد اں رح بلن دک کے خانہ ساز انگمریےبی و تکو الکار با رے او یہ رت امام 
بید یکا ظبور ہو اور عظلیم میابر شم غیوت ان کے انح تی مکاایک مرفروش سای بی نکر 
ال پرکاری ضرییں گا باہوااور ق رآلی رج بڑہتاہوا گے بڑھتاچلا جا ۓ کہ ٰ 

قل حاءالحق وذفھق الباطل .ان الباطل کان 
ذھوتاہ 
طاہررزاق.... ایک سیماب صفت اور ارز ساز شخصیت 


۸ہ‌ سی ۹۸ء کو پاکستان کے انب دھماکوں کے نیچ میں اسر ایل سے ےکر بھارت 
تک پور ی دنان ۓےکفرییس صف ماخم بی ھگئی۔ ام ریانہ سے ل ےک08 کے دمجر ص برا ہا ن تک 
اس ےکر زہ براندام ت کہ پاکتتان نے انلم ہ مکاضنہیں بلہ ایک اسلا بی ب مکاو ماک ہکیاے ۔ 
اس سط کی سفار قی ۶ع کے لیے می ںبھ یگ زشند ماو ید رپ کادور ہکرت ہوئے جم اناو 
فریفرٹ شرکے عین قلب میں داع ایک مسچد می معن ال بارک کے فرییض کی ادا یکی 


21 

سعادت عائکل ہہ وگئی۔ نماز کے بعد خطیب مس دک لائج یی می ان سے طا تما ت کا شرف 
عائکل ہوا۔ ج مہ جر می قادبانیوں کے لیے ایک مکی بنا وا وکادرجہ رکتاے “یرامہ 
شحم وت اوران مرترین کے محاسبہ کے موضوع نو پل لی ۔ اس پر خطیب مسجد نے 
فرا اک پاکستان کےکوئی محر طا ہر زا صاحب ہیں ۔ا نکال راو رٹ یکنایں ہیں ا7 
سے لے ری ے ہیں اور یہ صرف ہم علمام ۓےکرام بللہ دعجر بے شار مسلمان بھی اس سے 
اتفادءکر کے لغ اسلام اور رد قاویا یت کاشلیم فرییضہ را نام دے رہے ہیں۔ !یس یہ 
نا تھاکہ وی سے آنسوؤں کے پوارے پھوٹ ڑے۔ دبا ھہکفرمیس اپنے چربی یا دکی 
پزصیف و نحریف|جاب طاہرر زا نکی عظمت اور قر رو ضزلت اور تار رن ساز خصیت 
ون سے باہر جاکر اور اجاگر ہ وگئی۔ با رگاہ خد اوند یی یس ادب سے ص رج کر اکا ھا کر 
کے بازارروں میں فخرسے سرا ٹھاکر لن لا۔ 

سو نے لگاکہ یہ وو ان عمرمیس بگھ سے پچھو ٹا سے “گرا ے کام یس انا ڑا ے کت 
ا بڑاے کی چا تا جحکہ انی عھراس کے قد موں پر پھاو رکر کے سامان آ خر تکردوں۔ 
اس شخ سکی تیم مین بر قربان ہو جاؤں اور ابی ز ندگ یکو ا ںکانْدہہ بنادو ںکہ جوصسی سے 
کوگی زایا حوضانہ یا فعتانہ میں چاہتا۔ نہ ابی شیممکناہو ںکی را ئن لیا ہے یو درىی دنیاٹش 
سے کسی سے گج یکوکی ۲۷۵ ۴۷۷۷ ۹ا یا شمرت یا دوات ٹیس چاہتا۔ اسے و صرف اور صرف 
تاجدار شخح فبوت“ سے قولیت اور خلائ یکی ند درکار ہے۔ بہگد ا در رسول“ اہے 
و پھوٹ ےمقکول میں تضور کے در افّر سکی رات جچابتاے۔ وہ جشرکی ہولناک 
مر بی میس گنبراخخفراء کے میم بھی ںک یکل یکھلی کے منرے سائئے کا سوالی ہے۔ دو ابی 
کمابوں کے دبیاچوں اور حروف آغاز بیس ابی تربروں اور خدمات شتم و تکو چ ا تقر 
نال ےکی آر زواور دعاتتی ںکر ا ےےگھرمی ںکتاہو سکم طا ہرد زا صاحب آپ نے ق رکے 
لیے ایک میں بللہ ہزاروں بر انحوں کا بج وبس تک رمیا ہے ۔ آپ جیےے عاخقان ر ول ' کے 
لیے بی شا رن ےکا ےک 

ید عشق نی ہو“ مری ید پہ شع قر جے گی 
اٹھا کے امیس گے خور ذرے براغ ورشید کے جلا کے 


22 

طاہررزاقی صاحب! اجدار شح وت“ کے دفاغ اور دفاٹش آ پک ىہ مرک 
الاراءکتاٹیں بروزحش رآپ کے مییدان نل یس بھا ری چنا نی ثایت ہو ںکی۔ 
طاہرر زا یکا شی دعاکہ ...۔۔ مرڈذائی تکٹٹش 

رد قادیافیت پر مات سال کے محنظ رخرصہ میں مجھطا ہر زا یکی یہ سان سکاب سے 
اور اس کے ساتھ ہی ا نکی آگھوی سکتاب "جال مقادیان "بھی خنقریب آپ کے ہاتھوں 
کی زعت نے والی ہے شی ۱۹۹۸ء میں جماں پاکستان نے ایی دھماک ےر کے عال مکفریں 
زلئزلہ برپاکر دیا ہے وہاں مرزائی تکش اور دجال قادبان ىہ دوٹول طا ہر زاتی صاحب 
کے ا ےے اجٹھی د ما کے ہہ ںکہ جن کے تابکارىی اش ات مرز احی تکاجنازہ نال یں گے ۔ 

ا نکتابو ںکی اشماعت کے بعددنیاجان جا ےگ کہ طاہرر زا مرزائیت کے نے میں 
ای ککیغسرکے پھو ڑےکا نام ہے ا نکی ہ ےکتاہیں مرذ ایت کے چترہ پر ازیانہ عبرت طاہت 
و ںی۔ مصنف نے جس طرح مزح ت کیل می کافراعلم مرا دای ےکر مقار 
اور اسلام وشن ساز شو ںکو طشت از جا مکیا ہے “اس ز ندب اعم کے زند قہ اجس طرح 
مارے عالگم میس ڈھنڈر ور ا پیا “ینس طرحع اس بھرد ےکا تی روپ فرز مدان اسلا مکو 
رکھایا ہے “جس طرح اس جعلسا زی جعلسازیوں اور شیطالی دی کا پر دہ چا کگکیا سے نس 
رح اس سخ ےکی شش ملاک داستائہیں دنیاکے سائے میا نکی ہیں ؛ نس رح اس مو ط 
نواس شف سکی بد حواسبید ںکی وی" غلم تا ری ہے ۔ یہ نی مکار اف ےنمایاں اس اندازیںس 
اس سے ع لکوکی بھی سرامجام نہ رے سکا۔ 

میں متلاشیان جن اور شتگان ع مکورعوت دبا ہو ںکہ اگر چہ منلہ ضحم وت اور 
مرزامیت ای کب رملہ سے او راس کے لیے وس مطالعہ او رکائی وق تکی ضردرت ے 
022 امیں آپ مصن فکاصرف ایک مضمون و ان ” مرزا قاد یا یکامعائی نام 'يڑھ 
س۔ آپ صدیوں کاسفر.... ھوں میں ےکر لی گے۔ ہہ سے مصن فکاکمال اور شتم 
بو تکاانغاز- 

مصنف نے ول پذ ہر ونشیں اندازمی انی کرام چم السلام ال بیت خظا“ 


23 

صا ہکرام .اور اولیاۓ ایل کے عالمات دواتعات اور راو تن می سکٹ ممرنے کے بے اللہ 
کے ان شیروں کے ہٹی عرزم لمزم کاتھابگی جائ:ٗ “مزا قاد بای یی ےگید ڑ کے سا کر کے 
انس ےک وکھلے دع و ںکی لب یبھول کے رکہ دی ہے۔ اگر تھو ٹڑی سی غیرت با عق لی 
بھی انسان میس ہوگی ناس ممون کے مطالعہ کے بند نم زدن میں ا سے سار ا متلہ سے آ 
جاۓگااور دداس بے غیرت اور اگری :بی ن کی غانہ ساز خبوت پ فور الھعنت مگ چک لا حول 
بڑھھ لے گا۔ اہج ممون ”مر زیت شنکن مماپر ''میں جس رع میاہد رین سخ و کی ایمان 
افروزاورولولہا گی داستمائیں رق مکر کے عطت اسلامیہ میس جذ یہ ہما کو ابھار اہے میس پ نع 
س ےکا ہو ںکہ اسے جو بھی عالت ایمان میس بڑھے گا “اسے موت کے سا مے زندگی پچ 
معلوم ہوگی۔ بوت کے طور پیر جیابر مت مولا نا عبد الستار نیازیی اور شاع رشح نہوت جناب 
یداش نگیلانی کے یل وانے واقعات با ہک رآ ز الٰیں- 

قل بکوگرمانے اور رو ںکو تڑمانے کے لیے مصنف نے اشعار تم وت کا جو 
مر ستتہ جھایا سے مکون الیاصاحب ایمان ےکہ ش سک داد ی ایمان اس خوش رتک اور 
متط رگد ست کی مقر س خوشبو سے مک نہ اھ ؟ یس ط رح 8دا ٰ الا قکی ٥٢د‏ 
٦1ت‏ ز رٹ یگولیو ںکی لوبار ٹر ی رٹورٹ تا رکی ہے اور اس اخلاتی پاش اور دریدہ 
ون فلام انگری: ھرزاتقادبالی کے اغلاقیکاجنازہ سریازار الا ۔ یہ اندا زی اور مصنف 
کوکماں عیب ہوگا؟ نید ار اسلام وپاکستان ڈ اک عبد السلام کے سرپ یودی تکی طرف سے 
حبائی جانے والی وہل اندا مکی وستار ففیلت کے ت کھو ل کر بنس طرح مصنف نے دنیاکو 
اس منافقن کا تضیلی روپ دکھایا ہے ' دہ ایک بھت بڑبی علی د فی ادر دی در مت ہے۔ 
مصنف نے نس اپچھوتے اندازاور انو کے پیراۓ می امت مس یکو تقاریاغبیت نوازی ے 
از رک ےکی می نکی ہے ہد واصلاح ماش دی لال صمد تین اور ین کاوش ہے۔ 

ھرزا تاد بالی کے فرش '' میں جس طرح ایک لاکھ چو ہیں ہار اخیاءکی طرف دی 
ھی ےکر آنے وائے مٹیم فرشت ج رہل کے اب میس ھرزا ایی کے فرشتوں کی 
کی “معن لال اور خیرات یکی مغواور بے سرپ پاتوں اور متفلہ شید عو ئوں کے نے اد میزے 
ہیں۔اسے پے نے کے بعد مرذ ای اگلریدىی اور خانہ ساز ٹبوت تار تین کے تمقموں میں ہی 


24 
ھکر دہ جا گی۔ قاد با ٰکیڑڑے اور سٹیڈ یاں چ ہمہ ملمانو ںکی فصل ایمان ا کر ے 
ہیں اس جناب طاہر زاقی نے ”مر ذائی تک ''نابی ایک اییازبررست اور جر اٹم 
پپرے تا ریا کہ اکر اس کا ہر ےکیاجائے تے فصل ایمان کا رس چو سے والے 
قادبال یکیڑوں اور خطرناک سنیڈ یو ں کا نماضمہ مین ے۔ 
سید ملیرار ین شاہ بخاری 
بامور وا نشور ٴ منتاز مسلم لی ربا 


٣‏ رئ الال ۱۳۱۹ھ“ ال ے جرلالی ۸ء۶ 


25 


عرص سدید 


ا سکاب کا پیش لفظا کھت ہوۓ بجھے سب سے پل اس جات کاا ختزا فک نا ےک 
ایک عام سامصلمان ہوں۔ لیکن میراافقا ریہ ےکہ میس ایک ای ملا نگھرانے میں 
را ہوا ٣نس‏ کے اسلا کی پٹ یا ساقسس مل کے ہندو را تیونوں ن ےکی بز رگ کے 
وست تق بر ست پر اسلام قبو لک لیا تھا۔ انڈ کی وعدانیت اور ھی اکر مکی ٣آ‏ ترا ایت 
ایمان لا اور اہ راج العقید و ہو ج٤‏ کہ جب جیسو سس صیدىی کے ملف ارواریں خحنظ 
شم فو کی تھ یں شروع ہو تیں تق رضاکارانہ طور پر نظ جان پٹ کیا اور قد و بن دکی 
صعوبتتیں برداش تکیں ۔ قیر ہو ےل یل سے رہاکی اس ودقت تو لکی جب امن ترک 
نے اجازت دی اور تُریک وتوہ ش مکرنے کااعلا نکر دیا۔ ایک عام مسلمان ہونے کے 
اوجود عق رسول' گے اپے وال گر ای اور والرہ ”تمہ سے ور میں سلاے اور آرج 
بھ یکسی عفل میں اگ رکوکی شض اہنزام نی کے قرییو ںکو وط نہ ر کے نو خو نکمول اتا 
ہے۔اوراس شم کے شف سکوبرموقعہ رو کے سےگر ب: نا یکن ہو جا ا ۔ 

آزادی سے پل میرا کین مجاس اترا رک یکھنی بچھائؤں میںگز را بے ام رشریعت 
رت سید عطاء اللہ شاو عفر بی قاضی احمان اج شجاح آ باد ی“ مولانا مظ علی اظلبر 
شور ئل کاش بی“ می رزاجاہاز ام ر کی “نواجہ عپدرالر تیم عابز اور متجدداتزار ر بنماوٗں 


26 

کے ساس زالوۓ عقظیرت تج ۔کرنے اور ا نکی تقرمر مس سن کا شرف حاصصل ہوا موڑانا 
عمبدالر تین جمافوبی مرحم میرے نو گی تھے ام رش ریہ نے انی مولا نا مور اح دج کی 
بھیروی کے پاس مد مت اسلام میس مصردف دیکھا و انی ماگ لیا۔ ا نکی ساد کی زن گی 
امیر شریعت کے سابہ شفقت می سگز دی ۔ اوہ کااحسان فی مہ کہ الام اور حب نبوئی 
کاجو جز ہہ مھ اپن بز رگوں سے سا تھا ود اب میرے بچوں میس بھی تل و وگیاہے اد ر جد یھ 
دور کے مغرب پندروں سے جب ملی موضو مات نو ہو کی سے نز کے اور میرے بیوں 
کواس انظمار می ف محسوس ہو با ےک ہم اسلام پند اور طیادیہ ست ہیں اور اس مک شش 
جج اسلا می نظام کےا جراء اور فروغکاخوا بگزختہ پچاس برس سے در سے ہیں ۔ 

یت ند ذاتی ہاقیں بر کیل جدکر لم پہ نہیں آ میں ۔ تقیقت یر ےکہ محدطاہرر زاق 
صاہب کے متمدد چچھوے پچھوٹے کاچ شلا ”الم کون..۔ ملمان پا قاريالین؟''“ 
می زائیت شمگن میابر * "گر سن اشدار شخم شبوت'“" ما دبالی نواز“'“”مرزا ایال کا 
معائی نامہ'' وغیرہ پڑ تھے میرے بھت سے خوابیدہ جز بات بیدار ہو گے اور میری بوڑھی 
رگوں میس سرد خون زی ےگ وش شکرنے لگا۔ ا نکتاچوں میس مرذاخلام ام اد یا یکی 
زدگی سے ان کے قول اور نل کے تضادات اور خبوت کے غلط اور بی دعڑے کے وا 
اور ٹھوس شبدت دستادی:ئی انداز یش ڈیٹی سے گے ہیں ۔ لن اصل بات ىہ ےک انگ ریا 
کے اس کاشت بر در ےکی دنیادار ‏ یکو جس جذ یہ اعمالی کے ساجھھ آشکا رکیاکیاے “دہ میرے 
سے عام مسلمان کے اخعنقادا تکو مزید چفظہ اور را غکردیتا ہے جس سے نہ صرف زم دگ یکی 
نزیس آسمان ہو جاتی ہیں کہ آ خر تکی شفاع تکاو سیل بھی بی جذ بن جا سا سے ۔ 

طاہرر زا صاحب نے ھی اگرم کے تر بیت یافنتگان میں سے حضرت بال؟ 
۱ نظرت یا کرٹ حرت ابو جندرل؟اور نمانوارءٗر ول آ ن ریس سے حعضرت امام تین گا جمال 
زکر گی لکیا ہے ۔انموں نے نضرت امام مالی؟ “امام ابو علینی'"'امام اجر بن كبْل*اور امام 
ابن تیھی نکی ماکمان وقت کے سا لابت لد می اور اعلا ےکلہ ان سے با حیات وا ھت یکا 
کرو رو پور انداز می بوربی شیھٹگی سےکیاسے ۔ اس فمرست میں غازبی عم دین شمید 
ہارے کفرستان ہن کا ایک ہنرو ستارہ ہے بس نے ناموس رسمالت پر انی جان قربا نکر 


27 

دی اور دنیاکے تمام انعاما تکو ٹھ وکرمار دی ہہ سب جدکرے انما نکی نزک یکاباعث نے 
اور راو سے بلک ہو ے لوگو کور استہ دکھاتے ہیں ۔ 

ا سکاب سے حخرت امہ شرلید کی زن گی کے ددواقعا تی تچریر ساعت ہو لی 
اور روخ و قلب منور ہو _ 

اول... ٹس مضیرنے 1۹۵۳ مکی ٹحریک عم فبو تکی امکوائربی میں حضرت امیر 
شریعت ‏ ےکھا ”اسنا جک آپ کھت ہ ںکہ اگ مرا قادیالی میرے زیانے میس ثہوت کا 
دوک یکر با آپ ا ےق یکروۓے'' 

شماو کی نے برجتہ فممایا ”ا بکوٹ یکر کے دسکچ نے ۔ 

یس منیربو نے ”لو بین حر ات '' 

ما تی نے فرمایا ”نو ین رسرالرتے'' 

دوم..... جس منیرنے شاہ بی سے در یا ف تکیا''ی کے ل کیا شرا ئا ں ٢‏ 

شاوجی نے کی البد بی ہکا کم ا زکرم ہک شریف انسان ہو ''۔ 

یا آخ الزران نے اپنے اس )نہ سے شرافتکاجو معیار ما مکیاتھا دہ مرزاغلام 
اتد کے زمانے یس نایاب ہو کا تھا اور بنا بای ہی اس بات کاشموت ہ ےکہ مرزافلام اجھ 
لی می ھا 

حطا ہرد زاتی نے میہکتاب جو ش جنوں سے ک٠ھی‏ ہے ۔اس لیے ا سکتاب میں ان 
کاجز پہ تی تاور شعلہ بار ہے۔ میں نے ب کاب پڑ ھی فور بک یکیفیت سو ںکی اورول 
نےگوابی دب یک 

۱ میرے بی“ شحم ہں عفرت کے سل ا ' 


ڈاکرائور سریر 
1 


ُ7ر 


208 


صدرائ٤ے‏ ول 


مج طاہرر زا اب یک شنصس نہیں ایک ت٠ریک‏ بن چچ ہیں ۔ مر احیت کے خلاف 
ان کے ازہکار ا نک یکتابو ںکی شحل میں شمشیربرہعہ ب نک رکاذب مرا تقادیای کے خلاف 
رگم جمادہیں۔اس جات می سکوگی کیک می ںکہ ا نک یکنا یں بے دک رک یگ مکردد راو پراحمت 
اک ہیں۔انسوں نت ےکمال ذاخت او رتعمل دباخت سے جعلی بی کے افکار و گرا کو اس 
ک یکمابوں اور خیالات سے بجھو ٹا ما ب تکراے۔ 

حر طا ہر زاق یکر ی مکاسچاشید ای اور صرف نا مکانہیں “عم لکاملمان ہے۔اس 
نے اس دور می ںکہ جب لوگ منافق تکواپناشعار بنا گے ہیں معکمال جرات س پچ کاعلم تھا 
ہے۔ گیکن سے آرج ہاتھ نام نماد مسلمان ا خی ں بھی ' کیل" کھت ہوں “میین...... یقت 
بی ےکہ وو نطرت ابو بر کے اسی عزم اور لک رکو ز ند ءکرد ہے ہی ںکہ جب انمی ںکاذزبپ 
یو کی فخ ری فو فرمایاکہ بای کام بعد میں ہوں گے پل میس ا نکی مرکو یکرلوں۔ 

تتہ قادیایت جنس تیزی سے ہار یی بھونے بادشاہو لک قوم میں صرابی تک ر| 
سے ' ا سکی صرکو یکر نائیوں و ہرملما ن کا ذرض اولین ہے لان وا افو کہ ہمارے 
:نتر لماء صرف ساس تکو اپنااو ڑہنا بچھو ناہنا گے ہیں یا پھر لک اور نفگریا تک ہنگ میں 
اہ کرابنااو ر امت مس ہکاوقت ضا حکرر سے ہیں۔ 

انلدری عالات مج طاہرر زاق نے جرات ر ندانہ سے کام نےکر نس مش کو اپپا 
مقر حیات بالیاے “انشاء ارہ ووان کے لیے زبئے بنادد بی ددنیادی برکا تکاباععث بن گا۔ 

طارقی امائیل ماگر 


انار سن ڑے میلرن روزامہ ”لواۓ وت 


29 


رذ قاویال یکا مجر ضجاست 


کک ہکرمہ میں ابو چتسل اور ابو لس پکی رح عار ث بن ٹیس بھی دہ بد بچشت تھاجو نو ین 
رسالت او رگستاغی غہ صلی ادف علیہ ول مکرنے وال ےگ دو لی لکاسرخنہ تھا ایک جار نی 
کر میک یت ال کا طوا فک رہے تھےکہ جبرنل اشن آے۔ مضور ماک نے 
بت رن سے عارث بن یس اور اس نیس پک دو سر ےممتاخو کی شکای تکی۔ بت نل نے 
عارث کے پنی کی طرف اشار ہکیا۔ عارٹ کے پیٹ می ای جار کی جار اہو یکہ من سے 
پاخانہ آنے لااوراسی میں مرکیا۔ عار ث بن ٹیس یی ےکمتاغ رسول میلک کے ساس انلہ 
اک نے جو عرت آموز محالمہ فربایا“ایبانی معا لہ ا" تحاٹیٰ نے بر صمخیرکے ایک بت بڑے 
متاخ یجن مرزا قادیاٹی کے سا ھکیا۔ وم جب جم وامصل ہوا اس کے منہ سے بھی 
فلالت جاری تی۔ ابل شتین اگر جن تین اداکریں نو کائل امید ہ کہ ھرزا قادیال یکا 
”جج ہجاست 'سی نکی داسے سے عارث بن ٹیس سے جال گا۔ 

مرذا تادیا یکی ىہ ان کی و رات ا سکی اولا کو بھ یکماحقہ مفعنل ہوگی۔ اس کا بنا 
ْ مزا مو بھی موت سے یل دب اگی کے عالم میں ابی خجاست خودکھا تھا اور بی و منظرتھا 
سے دک ھکر مرزا مو رکا مغ پا اٹھا تھاکہ میس بنا رک یکااعلاج نکر سکتاہو ںتگھر مد ا یپ ڑکا 
ییں۔ جس طرح مرزا ایا یکی زریت مجاستوں اور خلا ظتوں کے اس ڈعی رشن قادبامیت 


30 

کو پیغہ الس وکواب اور ریشم و سد س میس لپبی فک راو ر مقک و مب ریس بساکر پچ رن ےکی 
وش لکرتی ری ہے ای طرح مشیبت ای: دی بھی ہردور میں ا نکی ا سکردہ اور ٹچ 
سمازش کو طشت از با مر نے کے ےے لا مان محر سک کاانتقا بک کی ری سے اور موجورہ 
دور میں اگر میں یکم دو ںکہ اس اججخاب می نکامنام مھ طاہرر اق ہے نو بے جانہ ہوگا۔ 
تار یاثیت جیے ناطا و تعذن موضو عکووہ تار تین کے سا سے جس ممارت “چا مد سی اور 
ہمہ چھتی انداز بیس پیٹ یکرت ہیں دو یقینا نضرت ای کے بغیرمکن میں ”و توزطا شم 
ی۷“ نیا شقم دو شور شخم ببدت اور قاریانیت ناسی“ ”قادیال 
اذاے''“' تریافیت شمکن اور ”ہرگ مرذائیت "کے بعد مج طاہرر زاقی ایک دلعہ پھر 
اپنے اىی روا انداز یس ” قادیافی تکشش “کی ام بے خیام لیے می ان می سلکورے ہیں 
کہ تقادیای ملانظت ب بڑے ‏ موب یناں کے چجحہ اور بر رے چا کفکر کے نہ اور مسلمانوں 
کواس ڈعیر یر جار نے سے بپچائی - 

ضب سابق قادیاغی ت کش بھی منلف اوقات میں ککعہ ہوۓ مل فکتابیوں کا 
مجموعہ ہے۔ پل اکتابہ ” قادبانی فرش" ہے اس می آ پک طاتجات نی نکی اور ھن 
لال سے ہوگی اور اس سے آ پکو معلوم ہوگگاکہ ىہ فرشے احم با کھی تھے ۔ ا نکی دی بھی 
ان کے ردو یا موں یس بی تھی ۔ ملا خٹم م۰ یش ؛براطوس 'پلاط سپ پ ید خیرا۔ 

”مرا قادبال یکی خو راک“ بو ھکر آپ یقینااس شجے پر کئیں ےکلہ یہ غاندالی 
کال اور گھٹو اس ز مانے میں بھی بر یرے ؛ بٹیرے “سام مرغ ؛ نے ہو لےگوششت ' ولا سی 
کٹ“ پا و“ مر غ کراب من “ ای الا ہی ' بادام “نی نی“ طلفہ؛ ٠بر‏ مقک اور 
پراٹھوں سے اپ جنی عم کر تھا۔ نو یہ سب امرب کی نظ رعنایت اور اطاع تکائحر ٹیل 
ہماتھا۔ 

”اد بای اغلاتی ایک سازش ایک جال 'کادو سرا نام انل میس چھری اور منہ شی 
رام رام ہو سک ے۔ اخلاتی کے سجن رروں کے کے رو چہروں اور بھیانک 
تروں سے آکی اسے پ سے یف کن نمیں۔ 

”مرا قادبا یکامعائی تا مہ '' و ھک ہآ پکو تاد انیو ںکی عقل ودانش پر رونا آ ےگا 


31 

کہ اپیے پزدل اور ڈ پک شنو کو نی مان لیا جو ایک پسٹری کی تاب نہ لاسکااور چھرسید 
طاء اش شماہ نار یکاوہ قول بادآ ےکہ ”لم بننوں نے ئی باننائی تھا مج علی جنا حکو نی 
ان لیت جو اگھریزوں کے سان نہ جوکانہ مکا''- 

”اکٹ عبدالسلا مکون ؟ "مہ دہ قادیانی پترو تھاأنس نے پاکمتا نکو نی سرزمی نکھا۔ 
اس کاامل روپ آپ کے سان آآئے مات اس کاکم ا زکم امام جبرالی دب یٹانی ‏ ضرور 
ہوگا۔ 

ال مکون مسلمان با قادیالی؟'' قادیانو ںکی دہش تگر دی اور مملمانو ں کی 
مظلومی تک یکھالی سنا ہے ۔ بھی اپنے وق ت کا نین تین انسان ہو "ہے کیا ھرزا قادیالی 
اس معیار کے قرب بھی لت تھا ىہ آ پکو ھرزا قادبان یکا مان ڈھانجہ با ھکر معلوم ہو 
جا گا۔ 

مرزاحیت شن مجاہ "پا کرامیدس ےک آپ کے اند دایمانی جذبہ بید ار ہو جائۓے 
گااور جب یہ جزذ یہ بیدا ہو جاۓ تر پھر”اشعار شحم نبوت'' بے گا۔ انشاء اللہ یہ جذ ہر 
جواں ہو جاۓ گا۔ ”قادیانی نوز" ہد ھکر آ پکو ملمافو ںکی عموں میں چھی ان کا ی 
بھیٹرو ںکو پھیانناقینا آسان ہو جا ۓ گا “جو قادیانی تکی نڑو ںکوہالی دی اور قادیانیت کے 
پنن اور پنلنے پھو لن ےکاباعث ڈتی ربی ہیں۔ یہ موسوم پا ہک راگ آ پ بھی میری طرح ال 
سج پچ کہ قادیا یت :مار ی بے غیرتی ار بے مکی دج سے ز ند ہے "ال کی 
رت سے امید کہ مھ طاہرر زا قکی آوٗم شب کائمراے آ خر ت کے مات ساظھ دنا 
یں بھی مل جائۓ گا اور دنا جس اس کا مربی ہ ےکہ آپ بھی آگے بو سح اور ناموس 
ر سال کی فوع کے سپادی ببنے۔ پچھ ری ےک قادیاعیت اب مقی انجام کاکس طرح شکار 
ہوگیے- اللہ جم س بکو دددن دکنانحییب فریاۓ اور ناموس رسالت کے اک رکاا رڈ 
ر ضاکاربناۓ۔ 

طااب شفاعت ری" بروز ٹر 
مھ نز مضل 


و کت ھت تو ۔ ئا ا 2 و ھھوں 


ز ر3 


جع اع سس 


ال ئا تد اد یہ ا اس اس اس اس اہ بب اس الہ عے بید یہ عو ھا 





سوہ مر اد تہ ھ 
و سی و جا جج ھت ئا لہ سد ا ہبہ لہ سے ہے اپ سے سے سے سے 


و مل مھ تد اہ عق اہ اس ا بی نرہ می با مھ ا 


کے بب ور ر‫ ری۔ڈں۔ 


لد ید اب لہ سی ا عو عم نر اع رو و ئا سی سی بی ا 
و رٹ پٹ ٹچ رو رر ۔ہہں 


سس 


وس اس اہ اس اس اس سے ہے ہے 





و ک ت ج جا اع الما ےا با عاممھا لا 


تبیہ بج بد بی اس سی یہ اس اس اھر مھ بس عو با بد دع بعد 


تو جا ا مد جج تد ا اد سد اہ اد مہ بی سے اس اس ہہ سے 
قوج ھا دہ مہ اع سا حا 

نج ئا لہ بج لہ لہ ا بج سی عو اع میں بی ا مد اع یں بل و لد 
اع کی اع با جا جج لج با رھد ا ا ا اع اس ہے 


ا ہد اہ اس یہ تہ یہ بر بی ام می ام سا بی دب تع ےہ 








او ہت سام رد جرد مھ سے مھ 


لھا بے سے ھا دی وو رعش مع عم 








او اج یہس بد بد اع لہ جا بی و جا می و ا ا سے ےھ 





مل سد اع لہ سا اہ یہ ا اس سم سس اس سا سا سے 
٤9ک‏ تک و بب بت ت_ ‏ 5ور یی 
ہیں عو بد با ہو اھ رھد سس ھب اہ ا اع ا لہ اہ لہ 





-+ 





خیچ 


کل حول ر حول ٢ر ٠‏ نر ۔ کظر ۔ تد ۔ حر × سور رز جج ۔ جور ۔ جیر ۔جد رھ ۔ سور ۔ چد سے : 
اس بد ا "کا ا کک رق 


پپ_ کر کجػ ‏ پر ہر تر ہے ھ بے پت پر پر ہار رر کہ کر کر ا اک کت 2۸۸7۰ ر07 ا 
پر ػر__ رر ہب پر ہے ہر گر لی کر پپ_ ‏ جػر پر رد رر در رھ کہ ا ا ا ا ا ںا 


بز_ ےج کے رر ہر ۴ "ھ ‏ تتھ ۱ےت×ھ ‏ ٭ھ ہےر سے 


اب ہے ہب ہ_ ہی ا ا ےی" 


_ سی 
کر ے- 
سے ہي 
سر بی 
7ھھ ۴ "صو۔ 
پ_ےج+ر تب 
ہا ےر ر9 
ے×جھ ۔٭ھ۔ 
ےه سے 
ِ_ یں 


و سد ید بد لہ ا ا اع اع اس یا مال 
ئا مل اج بد ا ا نی سا یں می سد رد با ہد با ہد ا لئ تد ئا ئا 





7 





جہ ا لد ا اعد با ا کا لاد اہ بد ا ا ا ا سا لہ میں ہا می سی رد تر بر ود تد ھی تد اھ اھ بد ئا مل ا اس ا ا ہے 
سی سو نیہ بی اس اس عو یہ اس عیب ہب سد مر نود بر بر اج اع ود جرد بج تد ا نہ ہر اس نر اس اس چا 


رر کے کر ےج 
پر ثر رض ۔ير(ہي 


سے ہے سے بے سے ہے ہے ہہ ۸۰ں قيقي7نںاقاقاا ا 


نہد یں بی اس یہ تی ہیں حر یں یہ میں اب اعد بی بش یہ بد عو بی ودج تو و جج کہ لہ مہ ا اہ لد نوہ ہو ا مو اس بر جم مو بد ا تو و وڈ 
سے ات عاعاحا جا 


ہإد_ ہجر_ پر رر رر 7 


کی ڈیڈ 
ھی ما ملا بر ئا بی ال می لہ ا ید ا می ای ید ای یہ ید یج یج ای بھی ا ا تب ا مل ا ا ا ئا اج ئک بر الد بر الد لا اج لی عم لاد ایر ا ئا ید لعل مد ا لد ا ال دع ا سی اع یہ سو ع ہ وو م ج ئا ئ ئہ جہ ئہ ‏ عا جا 


عرد یہ سوہ می ا اس نو سب ا یہ سی اس ہیں ید میں عو مو سی سو رد بد ا مت مک ئک ا ئا ھا لا بد ا اہ اس اج میں ہد ہس سس 


ظز پر رر 





ور رب 
لہ بد لاد تد اد اعد × 





ا انی اس ا اس نی یں اس یں می یں عو ا اہ با ہر مر ا تس مک ھت ئا تہ ئا مہ بھی سی اعد ہب اس 
ت-  1-٠.5‏ لہ نج نر سد رد تو رہ عو و رو و سی دہ مد دہ مل اب دہ ا ا 


رر ر رج رر ر رر ہہ رہہں ی9 م/) 
رتو ید ا ید می سد بد ہد اب اس ود نود ا سی می نود تد ا بب تد تد اہ مہ اہ ا اع 
کٹ وج ے رج رر ر ‏ رہ ہ۲ تپ ٹ٠ت‏ 
ات کت 


اض جػر جج کر خر کر ہ۴ 
















اھ ا بج یہ بل ا عو اس عو لہ را عو یں ںآ سو بر ود کر بی رد و ا و جا کر سب بل دب اع ٣‏ 
جد دہ ا ا ا اھ ار بر بل بیج ا بد مل مئاد و ٠‏ را نکر کر رک ا ید ای ید بد یہ ا اہ ا اع 






ہسے۔۔_۔ 





ال ا اب تد اع 
اھ لالہ اح جی سی ا بد بعد ٦ہ‏ بر رد عو اع و رد مر مس کر بد ا بد اہ لہ اہ ا سے 
ہکےہ کے ہے وت رر رر ہہ ہہ ںہ 

مہ اج اج دس اعٗر رہ ہو سے اھ 
کٹ ت ‏ رر رج ہیں 
جہ ا یہ اہ سے بج اع یہ کب با عو ہو سی 





یےػر تر آ رر رز ہر ۴ 





)ً4 ,۹,ببککكككکكبث١٭إ‎ 






لہ بد مل بد اہ سد اہ اس بی اس ا مہ شی ا ہے 
اج اس اللہ یہ اس با ہیں مو ا مو رج وھ عیب سد 
رٹ ور ور دہ 
اج ہبہ ہبہ اس اب یس بر اع اس بس بس مد اع عم 
یہ مھ میں رای میں نہ بس اع سی ئا مرھد اد دع لہ یہ بد ا بد ا بد اس اس لہ سے عو کا 
ا خسم ۔-- 











اس ا ا ا الد اہ اس عو ہو ہی مو اس ید عو جا 

کر جج رر رر ری _ یہہ 
کپ ۰ي اہ مد الہ لد اعد حا 
ھدب اج ہہ ا و سیا 
اہ عو ا عو اب ہیں می ہو بعد و بج بد سد لہ 
ی- ٰیىٌٍ‌13 ِف۱۱۷م) 





نوعب ئا لہ بر اد اع ید سد ود بعد 
مھ امہ اہ مل ا ا ا اس ہے ےا ہے 











ہی ج جد ا تد کہ ہہ ھہ 
مھ مل ا الہ لد اد ہس سے ہے 
مہ میں سا ا سی ہ ‏ سی عہ عو ود و عو و می وا اع رد ود ید بعد اع ×× 
اہ ئا ا یئ تد لہ بل ا یا بی ہد نید ا یس اع اع ا جا 
الہ سی اع یہ یں وع سس ٭ 
دج بد بد ئہ لہ اعد 
لی لہ لہ سب رد مہ ہی سی اع اعد اہ 






:یئ رر رج رر ہی 
7پ کپ پْپْٰٰ‌ ۰, /, +, '/أ) ۷ 
جج روج دج ریہ 
ند لد عو ود بر بی یں ید ید ید یدع ×ط 
لد یہ اس ا بد رد بر بد با ئیر ب جد اعد 
ہب ا یہ اع ا تس 





و 
ا مل مد ا ا اہ بی اج ری ا ا اب سا لہ مد بج دہ بد ا دع 






ت۰ کب 
0ٌکڈأ,ٌ323 
لد ا اعد تد اع تع کہ 
دع بج بد اہ اع 















اج اللہ اہ ا اس و اس سی ا سی بد اس عو اہ ید اج ید اعد تع ×× 
کک ک کک ے ےجارریڈںج ‏ ر ںیہں 
بد دک ا ا اب دج اج لہ ا اہ ا ا بد ا لوہ کی اع اس اع ہہ 






روڈ 
سے 














لہ یہ اد با اج اب ا ا اہ می ا سد بی سس 


کت کک و رڈ رو رو 
ھ لہ جا ا ھا ا بد لد مہ اس یہ ہے اس اہ اس 
کر کک تس ض.ک٣,۷۹٠“بئ‏ 





رر رر ری 
مہ انید اس اع عو ٢‏ جج ئا کک طط کک کر ئا مل لد بد اہ بد لے اب اس اس اس مہ اس سس اہ وا و سے و 
دج جا ہہ لہ اہ ھا ہج ا یہ اس اللہ بت ا عم اع اع می بر ید می ود یں اعد مد اد ید ا بد بد بد ا با 
کمسممموسدوس وس حوجو سوک سح سمسسسھھھھس دس .‪‫ 
رر رر رر کر رج رہ رر ہد دہ 





ا 7ھ 






رر ں رر یں 
اھ رو سر رہ ا ہم ےس 
جع س سد ہے وو ےاووے ہے س×ہ 
ہے سا مس سے 









لی 
٦‏ 
' 
ژ 
0 
٦‏ 











یػ_ ػ جج ےر تو ہرم 






۷۰ 6 كگئٰںٰٰ) 
وک ےج ج> رر رر کی ہے ےے ےت ےر ڈرڈرجج ‏ در ہدڈہ 
اج اہ ا بج لی لد با اع ا لا ئا ام ابد مہ ات ×د بر لم کر اعد ا یہ اع ہا اہ اع اع اہ اج 
و چ ‏ چ ج ٤‏ جج ری 
اج ہہ ا بد ا سے 












سے .دی ےھ جر ہے پر سے ہے ہے جع 


ھ ‏ ج ج ‏ بھ ئ د ‏ دہع اہ با ا ساسا وڑے 
اج یہہ با دہ اہ با بج موہ یں ام سد عو ود عو ود جا 
177٤ٗ‏ 8 ٘٘۹) 
لد لد اد تد اع اعد ۔× اج اد 
ئہ ا دہ بل ا اع ہے 
کچ بب پت و رر 
جج یہد ئا جم اعد عہ 


تر وو 
ہر دہ لی ید اعد ا 
اج ید لد اع تع × 








ہسل 


لی مت ےر ںی وب 
ود ا رد دہ بد ہبہ اع ال 
+۴ تو یہ بج اہ اہ ا 
سے سے۔ 
اع جب اد ھا 

سد اعد مل لد اعد ئا ہد 
سج مئ ہلل 
اھ اس اہ لد تب 
٭۔- ۔‫ ال لد ام ا ید اع بعد ع 
جھ ھد جج بعد لد بد للع اس یہ اع بد سی ند اس و ہے ہے ٭۔ 
لہ اع بج اس بی اب یں ا بج بر اس لی 
اج دج بج بد دس ×د 


سا 


لانیٹڈ۔ 








ا 
و_ کپ کے سے ہہ ت 2 ےج ہر۴ 











ال اس اہ اج ا لد سے اس اس اہ یہ اس نیہ عو عم 
اج عو اعد و جا تد دج جج اج دع 


1 ججںے ےج ۔۔ب ھا ھا گا کا ما ا ما ای لئ اج ہی ا عو یں ہد 
ا ہے سے ہہ داماد ھت تح یک اک تد بب تا بد بل اج با اب داع لد ای الا برای 
پا اج اعد داع اع سے ارز یں ات جا نیع ا لاد 
" ہے بت ہے دو سھ۔- ۰ کک تج 9 


کپ لہ اہ بل اہ اہ اس اس سب اس اع اع 2 

ہے ڈ ‏ ڈ ‏ جج رک 
ئا بی بل مل بل بل بد اہ نود ہی سد ا یں اہ اع یہ ا ہس 
و رو 


لہ بج اج اس سے اس تھا و یدب سد مہ اع رد بد ود اب دس وع و ٭ 




















لع" اع اع اع اع ع عد عا ھا ا امو وہ ہو و وج۔ 
وش قد رھ ات سے ار چس 





ا مھ ےہ ہے 


تسد چا شش 


کے ےہ ںہ 


ہر رر رر ںہ 
عررے و او سے وہ 











لیڈ ہو یں جم و سی سج ۔ 
ج کرکید تی ارم 





0 رر رڈ یں 
ج ‏ کک ۰" 
تید اد اعد اتید بد اہ ادج ×د 


یت 








ئا رئاہ بل ئا اج لد اعد اعد اع 
رر ے ہک حہ ہں 
دہ می یئ ہبہ ئد اد اد 
جج یہ ا ا با 
پور ہے رر وی 
بد بی اب یں یں اعد رع ہی بک 
رج رر رو 
و کب 
ہہ می ا ال شی مد نہ اد لد بجع 
ك-ثك 47+ 


سضر کڈ جج رک اج ال اہ عو دع اب اس ہس 
اج بد اس تعجر دہ لہ اللہ اج اس یہ اہ بی سے ا یہ ید اع اس عو سو وج 
تہ جج ے ٹڈ کس ڈ ڈ جج 
دک اج دہ ا ا ابق اد ا دج ا سے ہے اس ا ا اہ ا ہس سے 
بد سد ا کر اد ا اس ا اب لد ہی سی سی می سید ود چو نود ید بی اج اعد یع × 
با یر مل ئا عو اہ ا ئا و ہد بد لی سد لوا ہیر لاد ١‏ ا اع لئ ا لع 
رت ےت ےت ج ہد رڈ و ڈیو 
بیج اس یع ود ہر ا رد رد یو و اج .ید دہ کہ دج ٭×- 
کو ت رت ے رک کی رر رج یں 
اج اہ لآ ئا می ا با را بر ود یں جع ئا اعد اد تد بد اعد ×د 
بر مد ہم یہ سس را یں عو ہس ےد سےا س سا ساجد 
رپ رو رر ہر 






خرس 


نے ہر رض غضلحے ئیے _ ہہ" 
رر ےر ےج کر از چک يہ کہ ؛ں 


رت رت رت ہت وبڈ 
لّٰ- اہ ا اہ اد بج ا بد نود بی و اد سد رد دہ مد ود ود 
0تت تس یت رت سج رر 
۹ ا مد ا با اد اس ا سی بد عم سی ا سد اع سج 
وک ہہ رج وٹ شس ٹ ‏ چ ‏ ۔ 
رہ ا ا ا لد لئ بر ا یع وہ جا سے 
با ا مل مس با الہ می ا می ا اہ لد عو مب سد ا سد اع اع عم 
تک دو رت 
عو ا اس بی ہب رہ سی ا 









عو مر بجی وع سو ےا 
ےب ہو 
و ٹ ' پچ کہ ڈو 
ےك ویر 
بپ+مم) 
کبس جڈي 
بے و ے ‏ ڈي 6 ٘ ٘۶۷۱۶٘۷۷) حسےے 
جد ید دج تل لد اہ جا ×× لئ اہ اہ جع اس 

کت  ‫‏ ٗ ٌ ت ۳ت کپ رت 
عو کے اس ا جا ب با ‏ ئ ئ ا دع 















اد سو عو یں حا یآ وہ ہد 

)]مججھد ہے 
کس مر رک 

۰ یل اع اس می نو ارد مد 
د2مہ مھت 





















رر کی ےج ہر ہے" 
ےر ےہر رھ شض 












ود رک 
--797-4++99 1 م) 


22 2تت 2ك م/) 
تد ہت بد بل اب ابد اہ بل ا لہ سے ہی اس بد بیع بد نو و موہ مہ می می لد تد .تا بے 
سو ید بی بی نی اس نو و لا می بر 9 مو عو ید نو ودج کر اس اھ ھا ھا اھ ہے۔- 
بد لئ بی بل بل اب اب بل بعر مر بی سے اع اب عو و اعد جا ھا جس لا 
کی ہچ چٹ ہے رن رر رں ‏ تحت 
ید یہ سی اع بد و ید بد بد اع دع ا بہت بد اع اب لہ اس اس بی مو ا عم 
ری اس سد بی رب ا اع اع لد اہ اعد اعد بب دم ا اس ھب 
سدممدمحمدےممەمھم نایا 


_ _۔ رب ہپ پر پک ػغ ےھ کے ہے جک ہر ہے وہک 











وج کپ وف ہر ہی٥‏ ہہ ہے کر ہش ہے ہہ ہے ہے |۴ 





‪ 
یع اع عو یر رر رد جج مد لد کک ید ئا ا 
مہ بد بد کر ا رو ا عو دب ہد ہج یہ نرہ مم ا دج عم بج اد 
ےج و کیٹ گی ڈ ‏ ڈ شڈ ٹ ا رڈ 
ہی مد ا ا جس ھب اہ اد ا ا الہ الہ اس اس اس ھا مد سس 





















لی مد در اب اہ اج ا اس دہ جآ بد ہج بر اج ا ا مر جا ا ئک 
ا ید اع مد ا و رود ند مر مج اص کک رئاد اک مل بل ا ا مد ا لد ا اہ ا دب اہ بل لہ بج ہے بج ہب یس 


ےڈ" جي ‏ ئ حٍ تس تےجٍ ٍ ػا کھ ےھ کڈ کے ھ ک کک کک کس ےھ ھک عجا ےھ جي یہ يسدے ے ےت ى> ےپ بس _ يى ےج ج ‏ ےب ے ب ج ےا جج 
سے کوھھمھھمھمے منے تم دم مرھد دمھت ہے ہا 





رو شر ے دش سا جا وا ام و ای وھ و ماد ے اکم وتوہ مہ امم جج دم مہ ے مویہ 
ےر ک2 سر رج 2 ور 2ك 1ف ھ122م جع ىہ درد رہ رگد سے اہ رع اچ جع ےھ 2عچ طھ فاعم معرۓے 
لت ا کا ا رد کوا کے ادن جات ٹا ا 
لھ تد ھ عمج اس دم دامادنھد۔ 
کا ےر ورس ھ ور ےھر ک 6ج رج 
کرو و ا مجع 
دھجھے 





سس ہر تد تع ۹را 
رر ہک ہہ ہہ ہہ ہ ڈ ‏ رڈ سس تس 
جس سک سج ےوسچچچچوموکسم وف موس جٗحُمسسستسکتٹویویوبیٹیب سیگ 
۳۰ ,, تد مل لد ہد بد بد لہ اس ا اع ا اع اع اج اع با ا مر ہد مد ا بد اھ 
وچ رر رر رر رج رر رہہ 
اج اس اس جا عو می ا اب بد رود سد عو ئا با یر بک جا ا ٢‏ تد اب دب ید بد بد بد بد ا بد بد بج اس اب ہہ میں و لو بھی با امیر لم 












پیے کے ہہ ہے ہہ ہی _ ہی ہی ہی ا ا ا اتا ات ا ا اس 


سج _ >> _ ر_ پ_ ک_ سپ جج ج جز جج جْر ج ج _ه_ جج کر سروج رز سر ہر ۴ 









و تر 3 ہے تر ڑ۴ 





ج_ یں چپ ہرم" 


و یر رر زرد ۴ 


بر ےہ کر کر کر ہے فی _ ک_ _ ک_ س_ ھپ _ ہپ ج مر ہی کو و ےو ا ا ےا ا ا ا ا ا 
و_ے_ ےج 


بس .رس 
٭' "١‏ ۔ 
سپ و ین 
ہے 
رھ ھ7 
کے" 
یک ہبہ غض تزفئر رر ںی 
یب 
وک ہر و ے2 
سے _ہٍ_ سال 7بی 
پر یر رت 
اس رر ری 
دو 2 
سرےر و73۰ 
ویر رر 7۰ 
ہے مر رر تی 
ٍ2 
س ےر ری 
ے تر تر 72 
ےر ہر 7 


یر رھ خر رورض" 
ہو ہر پر ہر 
ہے یی ی٣۴‏ 
لے ہر ری 
7 سے 
ہےر ر7۹۱ 
پ٠‏ رر تر 
پ کر تی 
٭؛ و رر تا 
ےر کر ۴ 
سے پر یں 
سی تر ے 7-۹ 
ےر رر ےج 
پر پر رر ۴ 
پر خر تر 2 
پر رر ۴ 
پر ےر ہے 72 
بث بب ...72 
کل سس 
مج ۔رں رے:2 


۱ 
۵ 
ٰ 


بر ےر ہر ۴ 
یبر تر ر7 
ےر و ٹج 

ہی >پ_ ‏ صسے27 
تھ ےر ہر 72 
ےر ےر یی 
سے ہہ 
سے ہر7 

کر ےر رس 
ےھ ٘صد 
سر_ ‏ ہ رھ 

' ود تھھ ‏ رر 


کا کر ےی ہے ہے سے ہر ہک ہی ہے ہی یی ا وا ا ات اتا ا ا ا ا ا 2 
ےہ یپ ہک کپ رر جج کک کر _' ہر ہی کی ا ےو ا ا ا ا ا ا ا ا ںا 


ہثأ_ پک_ کے ہج بس 


ا ہر کک ہر سد ہج 


خجد چیھ ئتد ىت حد ھد ہر جۓر جر جر سے جے کے جم 
حئ سی "گھ ےھ ھ .ھ بج جج ہے سے ہے سے ہے ےھ 
ہے جک ئک تح رس اس ہیس مہ سے 


یی سض ج جػ ػ ‏ 'ػ ‏ ک ہے 
ہے رر ےپ کے ہت ہر کے ۴ 


و پک ہک سے" ہے ہے ہے _ کے ہے یی دس ہی ہی یی کو عو ا اتا ات ا ا ا ا 


کے کر ہج يضر ۴ ہے ہے دہ سے ہے ہے ہس ہے کی _ ہیی و ا ا اتا ا ار ا ا ا سیا 


ےر ہج یرم ہے ہے ہس ہی ہی کی ےا ساسا ان ا 


لی چپ>_ پک_ ىً_'ج جج ےج تڈ تت7 


پے ہے دہ ہے ہی ا ےراتا سپ ھ_ ٌ_ پ_ پ_ >ػ ےر جػ ہج ہج و و کے ےا ا اتانس ا ار رر ا 
ہے ہے سے ہپ ہے ہی ہے ہا سی _ ہس ہی _ یی ا ا ا اتا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا 


پب چنا غخلز. ×ئلھد خلد جؿز جج جج جج ہے ہے ح جے ئل خلا خھ حتض, حل تضيھ ےد حد حد جد جحد جػےػد تد جػزر ہے بے ےے رر جر ہج ۔جر جج جر جھ جے 


34 
0 تاد بای ار ی جب اپنے ار ترادی شثار پر نے یں او ری ملا نک اپ جال 
میس پان ےک یکو شش کرت ہیں نوہ ملا نکھتا ےک حضور صلی الہ علیہ و آلہ و سلم الہ 
تفائی کے ؟ نخربی بی ہیں اور ان کے بع دکوئی بی نہیں آ ست جبکہ ھرزا تقادیانی مدىی وت 
ہے۔اس لیے مرذاادیا یکاذرہے۔ 

ا سکی ىہ بات م نکر تادبانی ھکار ی ٹبٹھی ٹشٹھی ڈسی بن ہیں اور منہ بنا نکر بڑے 
لائم سے میں ا سے ککتے ہی ںکہ بھاکی ...تو بہ فو بہ.... ھرزاتادیالی نے قطدامو تکاد کوٹ 
خی ںکیااور نہ بھما سے بی مات ہیں۔ ہم نو مزا قادیال یکو ایک 'بز رگ “اور ”نپ“ مانے 
ہیں۔ نس طرحع آپ لوگوں کے جزرگ اور چچر ہوتے ہیں اسی طرح ھرزا قادیالی جار ا 
بز رگ اور پر ہے شس طرح آپ اپنے بز دن کک بیع ت کرت ہیں اسی طر ہم بھی اپنے 
بز رگ مرا قادیال یکی مصتکرتے ہیں- 

وو ملما نکتا ‏ ےکہ آب نے مسلمافوں سے اک ای ایک جماعحت بنار ہے۔ 
توا] قاد یا ی گار ی کت ہ سک ہجار ی ملمانوں سے ال کفکوگی جماعت نھیں۔ جس طرح 
آپ کے ہاں منلف لے ہیں جیسے سلسلہ تاد ریہ“ سلسلہ فشمورہہ سلسلہ سرور دی “سلسلہ 
پشتہ وی رہم_اسی طرح ہار ابھی ساسلہ سے سے ”سلسلہ امھ ىہ "کھت ہیں۔ 

اکٹ ملمان ا نکی پانؤں سے من ہو جات ہیں اور ا نکمتاغخان ر حول سے ا نکی 
فرت کالاداپھ مرا ہو جا ہے اور ای مسلم معاشرے میں اپے لے پھ کہ نا لیے 
یں۔ 

لان مسلمانوا ہہ تقادبائیو ں کابھست بڑا فراڈ ے۰-.. ھرزا قادیالی دگی نبوت سے اور 
اس نے ایک مرعہ خی بللہ جمنگڑوں مرعبہ اعلان نبو تکیاہے ۔ جمارمے پا اس کے ڈین 
ثبوت موبوریں ۔۔۔۔ہاں ہج یہ گت بھی یہاں چا ماجاؤ ںکہ مرزا دبا یکابز رگ ہو نا7 
بی دو ری جات سے “ مرزا تاد یا یکو ملمان مانتابھ یکر ہے ۔ اب ہم آ پک غد مت شی 
مور شھدوت مرزا قادیالی کے چند جو ائے چپ کرتے ہیں۔ جن میں اس نے تل مکھلا ای 
ہُو تکااعلا نکیاے ۔ 

0 ”ینس جار می ان شییں ب یکھلا با ہوں' وہ صرف اس در ےکہ یں خد اتھائی 
سے ہم کلائی سے مشرف ہوں اور وہ میرے ساتہ بکخرت و لااو رکا مکر ہے اور میری 


35 
پانو ں کاجو اپ دبا سے اور بت ىی خی بکی باقیں میرے پر ظاہ رک ماس اور آئیرەزماوں 
کے دوراز میرے ‏ کھولنا ےکہ جب کک انما نکواس کے ساتہ تصویی کا قرب نہ ہو ' 
دوصرے پر وواصرار خی ںکھو ,نا اور ان ىی امو رک یکر تکی دجہ سے میا نام بھی رکھاکیا 
ہے۔ سو می مد ا کے ععمم کے موافن ٹھی ہوں او ر اگ ممیں اس سے اہک رکروں و می راگناہ ہہ وگا 
اور نس عالت میں خد امیرانام ھی رکھتا سے فو می سکیو ںکر اکا رکر سکم ہوں۔ میں اس پر 
ائ ہوں۔اس ودقت کک جود میا ےگ ر جاؤںے' 
(مرزا قاریا ی کاخ مورذ ۳ح متام اخبار عام لا ہو ر “ا حفیقعہ الننوتے'' مل 
اے ۲-٠ے٢)‏ 
٥‏ ”چند روز ہو نے ہی ںکہ ایک صاحب پر ایک عفال فکی ططرف سے ہہ اخترائش ہی 
ہواکہ شس سے تم نے بیع تکی سے دہ ھی اور رسول ہو نے کا دجو یکر با سے اور ا سکا 
تواب حض ازکار کے الفاظ سے دہاگمیا۔ عالا کہ اىیباجواب جج خی ے........ ہو سلتا سے 
کہ ا بے الفاظط مو جو د “یں ہیں ے'' 
( ایک لطی کا١‏ زالہ 'ص "٣‏ ر دعالی خزائی ''ص ۲۰۷۹ رج ۱۸“ منفہ مرزا 
ديال) 
0 ”ہیں میں ج بکہ اس مردت تک ڈبڑھ سو پی لکوئی کے قریب خد اکی طرف سے 
اکر کشم خود دک اہو ںکہ صاف طور بر پچ ری ہ وکئیں نو ای ذدت ئی یا ر حول کے نام 
ےکی وکر اکا رکر سکم ہوں اور ج بکہ خود مد اتال نے بہ نام میرے ر کے ہیں و یں 
کی وگھرردکردول....یااس کے سواشی دو سرے ے ڈرو" 
١‏ ایک غلظی کا ازالہ “رر وعائی نز ائی''ضص ۲۱۰ٴ رج ۱۸ مصلنفہ ھرزا تادبالی) 
0٥‏ اور مد انعای نے اس جات کے ماب تر نے کے لی ہک میس ا سکی طرف سے 
ہوں اس قد ر نان دکھلاۓ ہی ںکہ اکر وو زار بی بر بھی تیم سے جانمیں فو ا نکی بھی ان 
سے خبدت حابت ہو تی ے...... لان پچ ربھی جو لوگ انسانوں میں سے حیبطان ہیں “دو نہیں 
اتۓے''۔ 


( نم نے '' 1 وے۱م“ روعالیٰ زا گی" ضصس×ںسس ا ص۳ مصلفہ مزا آاد ا ی) 


36 


ن 'خد انے میرے ہار پانشائوں سے مہرکی دہ ام دکی ےکہ بت ب یکم ب یگمز رے 
ہیں ج نکی یہ ایک یگئی۔ مان پھربھی جن کے دلوں پر مریں ہیں دہ خد اکے نشانوں سے 
کپ بھی فا دو نمی اٹھاتے ''۔ 

( اخ تہ الوجی''ضص ۱۴۸" ر وعالی نزز اشن ''ص ے۵۰۸'ع ۶۲۲ مصنفذ عرزا 
ارہل 

0 ”اور میں اس خد اکی فم مکھاک رکا ہوں جس کے اھ میں میبربی جان ےکمہ اسی نے 
بے بھہا ہے اور اسی نے میرانام نی رکھاسے اوراسی نے بکھے جع مو عو ر کے نام سے کر ا 
ہے اور اس نے مب کی تقمد یق کے سی بڑے بڑے نشمان مھا ہرہے ہیں جو مین اھ تک پت 
ژں۔“ 
اح حیقعہ الوی''سص ۸٦ک"‏ روعالی خزائی''ص صن“ رح ۴ مصنفہ ھرزا قادبا ی) 

0 ”فسری بات جو اس دی سے مابت ہولی سے وہ ىہ ےکہ غد انھالئی ہرعال جب 
تک طاعون دنیاجش ر ےگا مگو سنزب رس تک ر سے ' ایا نکواس خوفناک بای سے مفوظ 
ر کے گاکی و کلہ ىہ اس کے ر سو ل کا بح تگاہ سے اور ہہ تمام امتوں کے لیے نشان ے.... سا 
فعد اوئی ےگس نے تاد بان شں اپنار سول چا '' 

( راٹع ائرا ''صصض ۱۰ |ا“ر وعالی ناش '' ضس ۲۳٣٠۶٣٣۱‏ رع ۱۸ مصلنف عرزا 
قادبالی) 

0 ”ایک اگ رہ اور لیڑی جو اگ سے قادیان آے )ان کے اس سوال پ کہ آپ 

نے جو د عو ٹ کیا ہے 'ا سکی سجچاکی کے دلاخ ليکیاہیں۔ م رذ اصاحب نے فرمایا مم سکوگی نیانسی 


ولا نل میرے صادت ہو نے کے ہیں۔ میں بھی منماج بوت بر آیاہوں۔'' 
(اشبار الم" قاریان“ مورضہ ٭اابریل ۱۹۰۸ء ”فو طحات'' مص ے۱“ رح *اٗ ممقول 
از اخٗار ٦القطل‏ " قاریان ' جلر "٢۳۲‏ ر۸۵ “مور ا ور ۵ ۱۹۳ء۶) 
٥‏ "نم کوک انی نمی ہوں پل بھ یک ن یز رے ہیں ہیں تم لوک سا ان 


ہو۔ے. 


37 
(اخار ٭ فطل " ران جلر ۸ نیسرے“ص ے “مور خہ ۱۵ا لی ۱۹۳۰ء) 
0 "ہیں اس وجہ سے (اس امت میں) ٹ یکا نام انے کے لیے میں بی سو سکیاکیا 
اور دو سرے تام لوگ اس نام کے سجن میں ...اور ضرور تھاکہ ایساہویا.... جیسالہ 
احعادیث میعہ میں آیاہ ےکہ ایانس ایک بی ہوگا''۔ 
حتقیقت الوی''صص ۹۱" ر وعائی خزہائی سے ٭م۔۷ مرح ۲۲“ مصنفہ مرزا 
قادیای) 
ن ”اور میں جیساکہ ق رآن شری فکی آیات پر ایمان رکھتا ہوں۔ ایبابی اغیرفری 
الیک ذرہ کے خد اکی ا بی دی پر ایمان لا ہوں جو مھ ہو کی ہے 'ن سکی اتی اس کے 
متواز نشانوں سے مھ پک لکئی ہے اور میں ویت اہ می سکھڑے ہ دکربیہ مرکا اہو ںکہ 
وہ اک دوقی جو میرے پ نازل ہو کی ے 'وواسی ید اکاکلام سے جس نے ضرت موسی !ا ور 
حعفرت کیٹ ی اور حفرت مھ مصطنی صلی اللہ علیہ و سکم پا ناکلام ناذز لکیاتھا''۔ 
یک لی کا زالہ س۳٦“‏ "رو مانی خزائی' ص ۲۱۰ رج ۱۸ معنفہ مرزا قادبالیٰ) 
0 میں مد اتا کی ش مکھاک رکمتا ہو ںکہ ان المامات پر اسی طرح ایمان رکتاہوں 
بعیساکہ قرآن شریف اور مد اکی دو سر یکتابوں پر اورجٹس طرع میس ق رآن شریی فکو شی 
اور ٹلمی طوری مد اکاکلام جات ہوں۔اسی طرع ا س کا مکو بھی جو میرے پر نازل ہوسا سے 
ند اکاکلام نی نکر اہوں''۔ 
( تہ الوی'' مس ۲۱۱ ر و انی خز: انی ''ص ۲٢۰‏ رج ۲٢‏ مصنفہ مرزا قادبالی) 
0 "می خی اتھاٹی کے ان تمام المامات پر جو گے ہو رہے ہیں 'اییای امان رکتا 
ہو ںکہ نو رات اور ایل اور ق رآن مقد سپ ایمان رکتاہوں''- 
لغ ر ال '' لد اش ٤ص‏ ۷۴۴“ اشتار مورضہ "اک بر ۱۸۹۹ء مموع اشتما رات ' 
ض ہ٣۵٠‏ ۳) 
00 ”بے ا خی دی بر اىیاتی ایمان ہے جیسالہ فو رات اور ایل اور ق رآن بیرء ''۔ 
١(‏ ارپین '' فرص ۲۵ مصنفہ مرزا تقادیالی) 
رھ حطرت کب مو عورعلیہ السلام اپنے الماما تک وکظام ای قرار دی ہیں اور ا نکا : 


38 
مرحہ بھاظا کلام ال, ھی ہو نے کے ایبای ہے جیساکہ ق رآن ید اور فزرات اور اج لکا''- 
(اضہار *الفضل' ران“ جلر ۴۲“ مم ر۸۴“ مورضہ ۴ انور ی ۱۹۳۵ء) 
( مرن غفت کا ایام" ۹م معنفہ جلال الدین قادیاٰٰ) 
0 ” اور ہماس کے جو اب میں فد اتھا یکی ل مکھ اکر جیا نکرتے ہی ںہ میرے اس 
دعب یکی صدیث یا ٹیی بللہ ق رآن او ر دی ہے جو میرے پر نازل ہو گی ۔ہاں تاحرىی طور 
پٛ بر دہ عدنشگیں بھی پیٹ یکرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میرکی دتی کے 
معار ضس نی اود دو سربی عدریٹو ‏ لکو ہم رد یکی رح پچھینک رے ہیں ''۔ 
( ا عماز اعدر یس *٭ "”روعانی نزائی'سص ۴۰)ٴ رع ۱۹“ معنفہ مرزا تاربا ٰ) 
0 اور جو شخص عم ہوک رآیا سے 'ا سکو اخقیار ‏ ےکہ حریث ل کے ذ ویش سے 
ینس اہا رکو چاے خمد ا سے عم پاکر قو لکرے اور نس ڈ ھی رکو چاے مد ا سے عم پاکرر دکر 
رے''۔ 
(' تخف ہگولڑوہ ''س ٭ا“”روعا ی خزائی'' عاشیر سس ان۵“ جلرے ا 'معنفہ مرزا ابا ل) 
0 "بے بھی کجھوکہ شربع تکیاچیزہے۔ نس نے انی دی کے زرلیہ سے چند امرو 
شی جیان سے اور اپنی امت کے لے ایک تانون مقر رکیاددی صاحب شریعت ہوگیا 7 
مبربی د تی می امریھی ہے اور خی بھی ''۔ 


0 ”"چ کہ میربی لعایم میں امربھی ہے اور خی بھی اور شربجت کے ضرد ری احکا مکی 
تج ید ہے اس لیے خد اتا نے مبری لعلی مکو اور اس وت یکوجھ میرے پ ہو قی ہے نک لی 
تی کے نام سے * دس مکیا.... اب د یھو خید انے میعربی و تی اور میعربی تعلیم اور مبری بیعت 
کوو حک یمشتی قرار دیااور قام انسانوں کے لے ا سکوبرار غجات جھبرایا۔ جن سکی آککھیں 
ہوںد کے اورٹس کے کان ہوں لے ''۔ 

(' حاشیہ ار این '' نم رم ے ۸۳۶ "روعالی خزائی''ضص ۵س ح ےا عاش ' 

معنفہ مرزا قدیای) 

٥0‏ ”اب مری طرفدوڑولدہ وت ے جو تنس اس وت ممری طرفروڑ )اے؛ 


39 
مس ا سکواس سے نیہ دبا ہو ںکہ جو عین لوفان کے وقت چماز میں بین یا لگن جو ٹن 
بے نیس ما میس دکھ ربا ہو ںکہ دہ طوفان مس اپے تمیں ڈال دا سے او رکوگئی یچ کا 
سامان اس کے پا میں ''۔ 
راع ۱ں م ص٣“‏ روعالی خرہائرں''اص ۲۳۳۴ح ۱۸ مصلفہ مرزا تادبای) 
0 ”خوب تج کر کے من لوکہ اب اعم مکی ہی اہ رکر نے کاوت میں “لڑنی اب 
جلالی رت کک یکوگی مد صت بای خمی سک وککہ مناسب عد تک دہ جال خا رہ نکا۔ سور نکی 
کرو ںکی اب برداشت خی “اب چان دکی نی رو شٴن یکی ضردرت ہے اور دواھد کے 
رتگ میں ہوکر می ہوں۔ اپ احم ا کانمونہ اہ رکرنے کا وت ہے مجتی بمالی طو رکی 
مد مات کے ایام ہیں اور ا خلا لکمالات کے طا ہرک ر نے کاز مانہ سے ''۔ 
ار یتین فرص ے )“رو عالی خزائ یس ۴۵م مج ےا“ مصنفہ ھرزا قادبا ٰی) 
00 اس زمانہ می خد انے چا الک نس ف ر نیک اور راست باز مقدس نیگزر گے یں ' 
الیک دی ننس کے وجودمیں ان کے نھو نے ظاہرکیے جاومیں سووەشیں ہوں۔'' 
('برامن اریہ '' مص ۰۸ا“ ۹۸" ر وعالی خز اشن ''حص ے||' رح ۲۱ٴ مصنفہ مرزا 5اداٰ) 
0 ”جو نوس تی ری پروی ٠ی‏ ںکھر ےگا او ر تی ربی جماعت میں داشل نیس ہوگاوہ خد ‏ 
اور ر سو لک نا فرمال یکمرنے والا تی ے''۔ 
(اشتمار مرزا خلام اض تادیالی مندر جہ ”لغ رسالت'' جلد نر۹ ص )٢‏ 
0 ”مر ا نکنابو ںکو ہر مصلمان محب تکی نظرسے د بکنتاے او راس کے معارف سے 
فدہ اٹھاناسے اور مبربی دعو تکی تد لق نکر سے اور اسے قیو لکر باہے گر رنڈیوں 
(برکار مو رفوں )کی اولاد نے مبربی تید بلق مممی ںکی۔'' 
(آ کن ہکالات اسلام ۶ ے ۵۴ معنفہ ھرزا قادیالی) 
0 ”جو ہمار یش کا ہم تل میس ہوگا مجھاجا لئ گاکہ ا سکو ولد ارام ببنے کا دق ہے 
اور ال زادو میں ''.۔(افواراسملام مس سح 'مصنفہ مرزا قادیا ی) 
منرر جہ بالامثالوں سے ہہ ما بت ہو ىا ےک : 


ط ھرزا تماد بای ال کان ی ے ۔(نعوزباللہ ) 


40 
رز اادیالی ا کار سول ے-(نموزپانٹہ) 
رز قد یالی بر دی نازل مو تی ے۔( موزپاللہ) 


جت ۔ لد 


با ھرذا تاد یا یکی دی لکل ق رآ نکی ططرح ہے۔(لھوز پادڈ ) 

٭ مرزا اد یالی پ نازل ہو نے والی وی میں ام رگھی ہے اور ٹ یبھی۔(نعوزہائلہ ) 

٭ ھرزا ا دیال یکی نبو تکاعن تگاہ قادیان ہے -(لحوزپادہ ) 

با ھرزا قادیالی کے نین لاکھھ نشان شڑنی س٢جھزے‏ ہیں۔۔(نحوز اللہ ) 

ى رذ قاد یا ی بر ایمان نہ لاے دالا جشی اور دائرواسلام سے نماررح سے ۔ (لعوز 
پالقہ ) 

ىُّ جو لوگ مرزا ایانی پر ایمان نمی لاتے وہ رنڑیو ںکی اولاد اور رام زارے 
یں۔(لحوزپائّہ ) 

1 جو لوگ مرزا قاد یا یکو نہیں مات ال نے ان کے دلوں پر مسریں لگادبی ہیں۔۔ (نھوز 
الہ ) 


حدیشو ںکافیصلہ مرزا قادیا یکاقول ے۔(نعوزپاللہ ) 
با الد تھالی نے جب تمام انمیا ءءکو ایک بی صورت میں دکھاناچا پان اسے ھرزاقادبالی 
کی صورت میں وکھادیا-(لھو پا ) 
قادیایوا ہم نے بڑکی جامخشالی سے مرزا قادیال یکو مھ گی شبوت مامت کردیا..۔ ا سکی 
انھری: ی خبو تکاسار اڈ ھانچہ تماد بی آ گکھوں کے سا سے بھی ردیا۔ ہجرم کے ز بان و تیم سے 
ا تزاف ب ملرواریا- 
اکر ا ب بھی تم آ میں ن ہکھولو..۔ا ببھی تم د اور ہٹ دعھرئی سے بازنہ آو۔۔۔ 
میں ہنم کےگڑ تھے می ںکر نے سےکون روک سکم سے۔ 
اب جس کے بجی میں آنے وی پاے رون 
بی نے مل ملا کے سر عام رکھ دا 


8ے نے و ےو 


سے . 


کے ا دی بک ے ‏ ےا ا 


با ہس 


فً جا اھ سج جس و 





42 

روزنامہ لواۓ وقت میں جناب بی ا م براچہ صاحب کا معمون بیو ان ”ڈ اک 
عبد السلا مکی مار میس '' تین تعطوں میس شائحع ہوا ہے ۔ ج٘س میں مصنف نے مروف تادیالی 
پیڈر آئمانی ڈاکٹ عبد السلا مکی ریف میں زین و آسمان کے لابے ملا ہیں۔ ا سکی 
عبت کے تصیرے بد ھ ہیں 'پاکستان سے ا سکی محبت کےگیت گا ہیں ۔ وبل انعام 
کا راتا اط ات رات 1 ارت اک اب 
انان ٹراردیاے ۔ ٰ 

یں اسے جناب پر اچہ صاح بک یکمال سادگ یکنوں اکھال ہو شیا می یاکھال بے ری 
کہ موصو فکو بہ بھی معلوم می ںکہ ڈاکٹرعبد السلا م کا تلق ا گر دو سے تھا ننس نے 
ہندوحتتان میں انگرہ کی ایک خوفراک سازش کے تحت تھ رشحم نبوت پر ڈاکہ زن یکی ناپاک 
تسار تکی اور ایک مرار لت مرزافلام اض قادیالٰی سے د۶و کی نو تکرایا۔ ھرزا قادیالی 
نے خودکو الڈ کا اور رسو لکھا۔ انھری: بی سلطن تکی بقا کے لیے ججما دکو ترام قرار دیا۔ 
انگری کو اولی الا ھ ہیا نام انگری: ب یگو ر خمن ٹکو ر حم تکاساب ہکھا۔ مللہ کو دب یکو ز می نکا 
و رکمااور انگمر :بی سلطنت کے غلاف ہما در نے و الو ںکوشد ااور ر سو لکاباٹی تا ی اور 
پرکردار قرارریا۔ 

کیار اہ صاح بکو معلوم نی ںکیہ نس جماععت نے سا ھرای اییٹ ہو نے کے نال“ 
یسووونصار یی میں اپااٹ ور سوغ استعا ل کرت ہو مس عبد السا مکو ڈ اکر عپرالسلام 
نایا اور برا سے وبل انعام دلوایا اور چھرہددی پریش کے ذو بیج پو دی د ایس ا سکی 
وب نشی رک رای 

0 اس جماعت نے غلافت عنام کی انی پر تاد ان جس جر اما ںکیاتھا۔ 

٥‏ شائم رسول ر ایا لکوفضل یکرنے وانے تیم عاشن ر سول از بی علم الین شمی بر 
تق رکرتے ہوۓ جماعت کے مربراہ ھرزا نی رازرین عموو نٹ ےکا تھاکہ ”نوہ پ یھ یکیائی 
ہے “جن سکی عز تکی طفائلت کے لیے خون میں پا ر نے بو میں ''۔ 

0 جن نے حر نطب ی یش کے سا سے مسلمائوں سے ہہ فک راد بان حاص لکر نے کے 
لی اپنا ایک میمور دڈم پیٹ یکیا جس کے تیج مس ضیأعکور داپو ر بھارت کے تبھضہ میس چلاگیا 
اور بھار کوکشم یر قب کر نے کاداعد زبپٹی راست ‏ لگیا۔ 


43 

0 جن کے نمامنددوزس غار جہ صرظفراؤٹہ نے پان پاکستان فضرت تقا مد اع مکی نماز 
جنازداسں لیے نہ وھ یکیوککہ تاد بانیوں کے نزریک تام اعم کافر تھے اکر وککہ قد اعم 
رذ ا قادیا لکوئی شمیں مات تھے 

0 جننوں نے وزع ا محلم کات علی خا نکو اس لفن يکرایاکہ لیاقت عی خان ' 
انی وزم س رطفرالل ہکا سکی خر تو ںکی وجہ سے ینہ سے نار عکرنے کااطلان 
کرنے والے تے۔ 

0 ہنوں نے ون عمزی: میس ایک الک ریاست ”ر بد "کے نام سے بالی اور وہاں 
مسلمانو ں کاداخلہ ممنوع رار دبا اور رب ہکا تا بای غلفہ وہاں کا مطلق العنان عمران ہو ] 
قوائنس کے سا سے گی تانو نکو گی ہشیت ٹمیں رکا تھا۔ 

0 ہنموں نے ا مرا ئیل می اپپامشن قا مک رکھاہے اور اسرا نت لکی فورح میس چچھ و 
قاد انی بھرکی یں۔ 

ن٥‏ ننموں نے سقوط مشرتی پاکتتان پر رہو کے بازاروں میں بھنڑاڑالا۔ 

نہ نموں نے شا نیص لکی شمارت پر جشن منایا 

0 جننموں نے جناب زوالفقار عل بھلوکی موت پر خوی مناتے ہو ے عو کید میں 
تی مکی اور بھٹ کو ایک خاببا جاور سے تیہ دگی۔ 

0 جنموں نے ضیا ءاش نکی شمادت پر ایک دو سر ےکامنہ یٹھاکرایااود مارک ہادیی 
اں۔ 

0 جننموں ت ےکھو یہ ای پلا ٹکاماڈل ام ]مہ بپنھایا۔ 

0 اورش ن کاپ بی عقید و ےک پاکستان ٹوٹ جا گااور اکھنڑ بھارت بے گا۔ ای 
لیے دو اپے مردے ر بوو میس ادا" دش کرت ہہ ںکہ جب ان بھارت بن جات گا ہم 
ا نکی لاشئیں اپنے بی عرکز ادیان پہنچاتمیں ھے۔ مرذا یھی رالدی نکی تیب ایی ھی مخ 
رم تی جوا بکی مصلحت کے تحت ماد یگئی ے ۔ 

کیاجناب پراچہ صاحب نے مصور پاکنتان “مفکپاکستان شیہم الاامت عضرت علامہ 
اقبال کے بہ الفاط بھی نہیں بد ھھےک : 
٥‏ ”اد یا اسلاماودروظن دووں کے خراریں “اور 


44 

2 قادیاخیت یمور ت کاب ہرے''۔ 

0 حضرت عم الامت نے بی سب سے پل قاو بیو ںکو خی رسلم ا فلیت قرار ری ےکا 
مطالہ ہکی تھااور پاکستان کے خوا بکی طرحع عگیعم ااص تکایہ خوا پبھی سے ۱۹ء میں پر را 
اینب پاکستا نکی تو بی ا سیلی نے قادبانیو ںکوکا فرقراردیا۔ 

فرگی ماعرار حکی خورکاشت تادبا ی جماعت کا جذکرہ ہو جانے کے بعد میں ڈاکٹر 
عبد السلام آ مال کا ؤک رکرن چا ہوں گا۔ ڈاکٹرعبد السلام چ ھی برسوں سک یکر بناک 
نار یوں میں ہتلا تھا۔ فارغغ سے اس کا مم بد گر زا ںکی رح کاخمتا تھا موت سے مھ ماو فل 
کک اس پر بے ہو ںی کے دورے پت اوراسے مصنوہی طریلقے سے نا ہناگی اتی ۔ پچھر 
دماح > ہو نے دانے شد ید پاغ کے عحملہ نے اسے یادداشتوں اور ہو و حواس سے بھی 
حرو مکردیا۔ قادبای ڈاکو ںکی ایک محفصوص ٹیم اس کے ملا کے لیے مستعدد ہتی من 
کوگىی ارح تھی کا رگر یہ ہوا۔ قادبال ی ج۷اعت نے ا سک اس خطرناک جار یکو عام 
قادیانیوں سے چچھیائے رکھاکی و کہ تقاد بالنٰی جماعت کے پیج وا مرذا قادیالی نے فاریغ سے ہو نے 
وا لی مو تکو بست پر گی موت آرار ریاے ۔ 

ڈاکٹر عبد السلام آ نما کاشار چ ٹی کے تاد بالی مجلشین میں ہو تھا۔ اس نے معلیم 
اور ما تن سکی آ ڑ میں جنکڑوں مسلمان نو جوانو کو قادیا می بنایا۔ یسودو نار کی نے ا سکی 
مائنی خدما تکو سراجے ہو اسے ۹ے۹اء میں وبل اندام سے وازااور پھر ایک 
محخصوعص پ گر ام کے تحت و دی دنیائی اس کے نا مکی تی رک یگئی۔ ڈ اکٹ عبد السلام نے 
اس پویل انعا مکو اہی انی ''مرزالام امھ ادا یکاسجزہ قرار دیااوراس موقعہ پر اس نے 
کیا: 

میں سب سے لہ مرزاغلام اض تادبالی کاخلام ہوں ؛ پچ رملمان ہوں ' 

اور اتال" 

ڈاکٹر عپد السلام کون سی سای خد مات سسرا ام وہیں؟ انا حی تکو اس سےکیا 
فائحد و پانیایا؟پاکستا نکوان سےکیاعمز ت گی ؟ تار رق و تی سے..... ز مانہ سوا لک بماہے!| 

اسلام دن فو بل انعام پیشہ اسلام وشمنو ںکو بی رہییے ہیں تکیو لہ نویل انا مکا 
انی نویل خود بھی بیسودی تھا کیا بھی یہ انعام ملمان مشاہ رک ملا ہے ؟ دب کے شی میں 


45 
حخرت علامہ اتال کے متقابلہ میس پوبل اندام ایک بنگالی ہندد ٹیو کو دیاگییا۔ عالا کہ تیور 
علامہ اقب لکی ناک را کو بھی نمیں بج سکتا۔ ڈاکٹر عدالسلا مکو نویل افعام لے پر نبمرہ 
کرت ہو ۓ طت اسلا می کے مٹیم سائنس دان ڈ اکٹ عبد القد س فرماتے ہیں: 
وو بھی نظریا تک جیاد یر دماگیا۔ ڈاکٹرعبد السلام ۱۹۵۹ء سے ا سکو شش 
میس کہ امیس نوبل انام لے آ ت رکا رشن سٹائ کی صد سال دم دفات پر 
ا نکومطلوبہ انعام رے دپاگیا۔ دراصل تایانیوںکاا سر نیل می با قعد وین 
ہے تو ایک مرسے سے کا مک د ہاہے ۔ بیسودی چاتتے ت کہ ئن سٹائ کی کی 
پر اپنے ہم خیال لوگو ںکو نو شک دبا جاۓ۔ سوڈ اکٹ عبد السلا مکو بھی ا دام سے 
وازاگیا"_ 
(ہضت روزہ ”چان' اہو ر ٦٢٦‏ فرودری ٦۱۹۸ء۶)‏ 
ىہ جذکرہ ہے بیسودیو ںکی نوازش کاٴ“اب ججماں تک ڈاکٹر عبد السلا مکی ا لیت و 
قاہلیتکاذکر سے فو آ نما ی نس دور می ںگور نٹ کاری میس لی رار تے نان کے طظبا ان 
کے بڑہانے کے طریقہ سے معن نہ تھے او رکارغ کے بر نل نے ا نکی بر نل انل میں 
تھا تاکہ دہ ایک ناابل استادمویں جو اینے شاگمر دو ںکو مم نکرنے سے تقاصرہیں وہ | 
جو اہۓ کایج کے با کو ممئن نکر کا لان دہ نویل انعام کے لیے بین الاقوابی یسودی 
ومانو ںکو مللمئ نک ریا ول انا مکیا جیزہے۔ یسودونصاریی نے و ڈاکٹر صاحب کے 
بر ائمری ٹیل پشوامرزاغلام اص تاد یا یکو غہوت '" عطاکردی تھی۔ 
جب ۹2۴ا یس پاکستان کے مسلمافوں کے ز بردست مطالبہ اور میک کے یہ میں 
اکستا نکی ٹوبی ا سی نے تادیانیو ںکوکافر قرار دیا نو ڈاکٹ عبدالسلام اس نیع پر اسجاح 
کرتے ہو تئے پاکستان پچھو کر اننکستان چلاگیا اور بچھریے ری دنا شس گھو مک پاکستا نکی تی 
ابی اور اس عظلیم فیمکہ کے خلاف خوب ز ہ راگلا۔ اس تیملہ کے پلتھ برت بعد پاکستتان یل 
ایک بست بدی ساسض ی کانفرٹس ہو ربی تھی وز رامعم پاکستان ذوالفقار علی بھھٹو نے ڈ اکٹ 
عبد السلا مکو بھی کانفرنشس میں شرکت کادعوت نامہ تھا لان ڈاکٹ عبد السلام نے انتمائیٰ 
غحصہ میں ا س کاو اب کجا: 
میں اس منتی ملک بر قد م نی رکا چابتا نب تک ؟ تین می ںک یگ ی تر میم 


46 
(قاد بای رم م)وائہں نہ ل جاۓ''۔ 

یہ ز ہریلاجھ اب س نک ہہ د بی پاکتالی قو میس غم وص ہک شد ید لمردد گئی۔ 

آنمانی ڈاکٹر عبدالسلا مکی بھارت کے سابقہ وزم اعم راتیوگاند ھی سے بڑبی 
دروستی تھھی۔ دہ بھی او شید اور * اعلاضہ ہھارت کادور ہک ما۔ پھارت جن ب کچھ یکوکی نا 
اس بنا انوہ پیشہ بعار تکو مہا رک ہار بھیہاکر باتھا۔ بی دجہ شیک جب تادیانیوں نے ایا 
سامانہ ای جس ہھارت می ںکر نے کافیصل ہکیانو بابرىی مسید شمی رکرنے وانے اور ہزاروں 
می ری ںکاخون پیٹ وانے بھارت نے انیس ہخوشی اجازت دے دی اور ان کے رات 
یش انی پگییں بھارہیں۔ ہھار تی لی وی اور بھار تی اخبار ات نے تادیانیوں کے ار تار ی 
بروگر ا مکو خو بکور تع دیی۔ پاکتان سے جانے دانے ہنراروں ادیائیو کی دا کچ بارڑر 
ہر بدئی آ و جن تک یگنی اور انی بار اتو ںکی طرح قادیان نے جایاگیااور جلسہ شخم ہو نے پہ 
اتی تائف در ےکر بڑی تگھریم ے روان ہکیا یا۔ سوال اتا ےکلہ مارخوں اور 
قادبانیوں میں اتی محب تک یکیادجہ سے؟ ا سکی صرف ایک بی وجہ ے اور وو ے ”اسلام 
اور اکتان رشن ی"'۔ 

اب ڈ اکٹ عبدالسلام تاد با یکوپاکتا نکی صسرز مین می دش نکیاگیاہے و شمیر و لکیہ 
رز ین ان بیٹوں سے سوا لکر کی ےکہ یج ”انی 'کنے والا میرے چبیٹ بی سکیوں دش ن 
کیاکیاے ؟ 

واۓ ای حاغ کارواں جاا رإ 
کارواں کے ول سے اضاسص زاں جا را 

اے و جو انان علت اسلامے | 

اے تتتم نہوت کے شاو 

اے صدد بن اک نکی حفظا تم نو تکی فورع کے دلاو ر سا 1ہو ا 

اے مماڑ اور معو ,کے نز بوں کے ا ٹوا 

اے طارق و ای مکی جرانوں کے وار ٹوا 

ایک خطرناک سازش کے محت اس نار اسلام ؛نمرار ون اور نمرار لت اسلامیہ 
کو سان ہیرد بناکر صا لکتب میس شال ل کر نے ک یکو شی ہو مرہی ہیں ۔ کالجو ںکی 


47 
ار بیوں اور لیار ریو ںکواس کے نام سے مفسو بکرنے کے لیے مھ خطیہ چرے کک رم 
ہیں۔ نبوت می“ کے اس باٹی کے مرکان وائٹعح جن کو الیک قوىی یا دگار کے طور بر فو ظا 
کر نے کے پر وگ ام بن در ہے ہیں ۔ 
اعلام کے ب1آ عی کی ںکہ ہم اس نار کے نا مکو انی تصا کنب میں شائل 
ٹیس ہونے یں گے۔ ہم ان کالچوں اور سکولوں کے کسی بھی شع ہکویمودو مار گی کے 
اییٹ کے نام سے سوب بی ہو نے دیں گے۔ ہم اس کے منوس اور ناپاک کان مین 
قادیان اوس ''کو قوی بادگار یں بللہ ''عہرت گا" ہنادس گے ۔کی وک مہ ملک دمارے 
آ قاجناب مج عربی صلی اللہ علیہ و آلہ و سعلم کے نام بر بنا ہے۔ اس لیے اس ملک میں ہماررے 
آ اص اللہ علیہ و آلہ و سم کے دن او رکمتاغ کے لی ےکوگی مہ نمیں۔ 
شی کو یر ہو ںیھ پاس "بر کے ارب کا 
نی جن کے میں اس قوم کو مٹی میں لا دوں 
بس اس کے لیے راو میں آ تگھموں کو با دوں 
(فر می نان -- () 





۱ ۲ کے وڈ ۱ 9۴1٤‏ ناس یح کس 
1 لو 1 صلی ۱ . : 0 
٦ :‏ 


بے 


مسا 


49 


ہمادری اوصاف شبدت میں سے ایک نمایت اہم وصف ہے ب کی دلیری اور 
شاعت کے سامے بڑے بڑے بمادروں کا پت پائی ہو جانا ہے۔ اے بارگاہ مم ححقی 
سے وہ رعب و وبدہہ عطا ہو تا سے ج وکی فغیرئی کے نصی بک جات "ھیں۔ اس کے 
عزم و حوصلہ کے سانے ہوائیں رع بدل لیتق ہیں سشلاغ چپٹانوں کے جک پاش پاش ہو 
جاے ہیں" پاڑ را۔ت چچھوڑ ری ہیں" دریااں کے دی مل جات یں اور طاغوتی 
طاتتیں شاہراہ بۃدی > سرب پانؤں رکھ کر بھاگتی نظ رآکی ہیں۔ ‏ ھی بزدل ہو نز وہ اٹل 
کے غلاف چاو می ںکر سا بی ڈریوک ہو فو وہ مظلومو ںکو ظا موں کے ؟ ہنی ہیں 
سے خمیں چا سکتا۔ می دوں بت ہو تو وہ امتقائا تکی جا ں گل وادیوں میں آ لہ پالی 
یں کر سلا۔ بی بے حوصلہ ہو تو و کفرکے جھوٹے خداؤں کے سان ا الہ الا 
اللہ“ کا نع جن نمیں گا سکیا ٹی بانواں دل کا ماک ہو تو وہ شمشیر ماد اٹھ اک رکف ر کے 
اللہ یں میدان جمارمیں میں ات کت ی موت سے نائف ہو تو وہ امت میں 
شمار تکی تاپ پیدا 8ی ں کر سلتا۔ بھی است کا می ہوا سے اور اگر بھی ہی بزول ہو تو 
امت میں تشجاعت کے جواہ رکیسے بدا ہوں۔ ھی اس دنا می اللہ کا نمائندہ ہو ںا سے 
اور اللہ تماٹی جو ثوت و طاقّت کا مرنشمہ سے اس کا نماحندہ بج یکدر عزمم و بت کا 
الک 8میں ہوسا 

اللر کے مھ ںکو آگ میں پھ یکا گیا آروں سے چا گیا سرجن سے جدا سے 
یے جم میں ہنی کنگیاں پھر ی کتیں قید خانوں میں ڈالا گیا جلا وط ن کیاگیا اور 
روح فرسا ا٠فاجات‏ ےگمزا را گیا لیکن وہ ہر ام پہ سرفراز و رخ نظ رآے۔ اام 
الاخیاء صلی اللہ علیہ وس٥‏ مکو کک ہکرمہ جیسے پیارے وطلن سے نیا مایا شش گالیاں دی 
گئیں؟ سوشل ایکاٹ کیاگیا“ شب بی پاشم میں مقی رکیاگیا“ نڑوں ے پڑایا گی“ 
ا واما نکیالگیا؛ سرمبارک میں خاک ڈا یگئی سچر ےکی عاات میں س راد پر اؤٹٹ 
کی غحیط اوجھٹری رکھ یگئی زہر دیامگیا ‏ فف کی سازشییں تا رک ی کی اد سرمبار ک کی 
قبت مقر رک یگئی لیکن ہہ سب بتھ آ پکو آپ کے مشن سے نہ پٹ کک 


50 

پک ای دیامگیاکہ اگر آپ دینج کی تل سے باز آ جانھیں فو قری کی 
ارت آپ کے سرد ہے۔ اکر آپ ددلت چاہے ہیں فو آپ کے قرموں میں مم و زر 
کے اہار لگا دی ہیں۔ اگ آپ کی ام رر اور اع صب ن بکی صین و یل _ 
عورت سے ابی کے یئن ہیں“ نو “زز سے معزز اندا نکی خوبصورت دوش انیس 
بپ کے لے عاض ہیں ۔ گر آپ نے ان قمام انحابا تکو تھکرا دیا اور اپنے موقف پہ 
ڈے رے۔ 

جب کفار کے مرداروں لے آپ کے کغیل ابو طال بک و گی رلیا اور الن پہ چم 
تم کا عحت دا1 ڈالا اور اس وا سے متاث ہوکر جب الو طالب نے آپ ےکم اک 
یا اب میں مرا بوجہ خمیں اٹھا کا ان اخصاب شن جات میں کائنات کے سب 
سے ہماور انسان جناب مھ رسول اللہ صلی الثد علیہ وسلم نے اپنے بنا سے خاطب ہو 
ک کیا 

ا اکر یہ لوگ میرے دای پانھ پر سددرح اور باشیں پا پر چاند رک دی ا 
جس مب بھی جی جات کے سے باز نہ آؤں گا"۔ 

اعد سے میدان یش ج بک ذار نے آ پک و گی ریا سے اور آپ پر تروں اور 
چو ںکی بو سھاڑ ہے۔ ٹچکتی ہوگی گواریں آپ کے خو نکی پپاس میس تپ دی ہیں۔ 
صعحاب ہکرام آپ کا حمف ا کرتے ہوئے پروانہ وا رک فک ٹک رگر رہے ہیں۔ ‏ پکی 
جان سخت خطرے می سے۔ دات میارک عمید ہو گے ہیں۔ مقدس داڑھ نون سے 
رین سے ۔کپڑروں پر شبوت کا ون چک رہا ے۔ اس حعالت میں بھی آپ ملوت 
ایز رویہ اخقار خی ںکرتے۔ آ پ کسی بات پر معزرت خواہ نمیں ہیں ۔کذار ے جان 
جنٹ کی التیا خی ںکرتے بللہ ؟ ہنی چا نکی طرح اہ موقف ۔ انم ہیں اور مسلمانوں 
کو اکٹ اکر کے انی ایک نیا عزم اور حوصلہ عطاککر کےکفار بے زبروست تحل کرتے 
ہیں اور پ رکفرمیران جنگ سے صرپٹ بھاکتا دکھای دیتا ہے۔ 

‌ آ پک تزبیت کا اعجاز تھاکہ حخرت بلال دتے انگاروں پہ لیے ہیں نم 
سے لی پل ری ہے لین اس عالت می بھی دہ اپے اییان کا ا ما رہکر رہے ہیں۔ 
رت نپ ع رار پہ جھول مع جن پاطل کے سان سرگوں خمیں ہوہے۔ 


51 


حضرت ما مڑاور حعطرت ح شاک ازیت ناک طریقہ سے می دکیاگیا نان انموں نے کظر 
سے زندگی کی جھیک نمی ماگی۔ حفرت اید جندل کو زنروں میں پاندھاگیا اور قت 
تیدد سے ان کے جس مکو دا گیا لان انموں نے اسلا مکو داغ مفارقت نہ دیا۔ صترت 
ام تعن ےکیلا کے میدان شی انا سب بت قریا نک دیا ین ینید کے موق فکی 
ات ندی۔ 
بی آ پکی شباعت کا ٹفل ےہ آپ کے خلاموں نے قیصر کسی یکی تلومتوں 

کے اٹ پیٹ دیے۔ شاہوں کے تحت چچین گے' تاج ابممال رہنے۔ دریاؤں ں 
گھوڑے ڈال ری“ عھراؤں اور نو ںکو اپنے برق را رکھوڑوں کے یں مے 
روہر الا اور عالم کے چمارسد دین بت نکی میں روش ک ریں۔ یہ آ پک ہبادری کا 
اٹڑ ہب ےکہ آ پکی امت می سلطان فور رین زگی' سلطان ملاع الرین ائولیٴ سلطان 
مور ن:نوبی' طارق بن زیاد حر بی مم ایے لوگ پرا ہرے۔ ہیں مظر اپل 
اپنے قم بک یگراتیوں سے ہوں فراع شسیین پیش کرتے ہیں۔ 

ےه نل ے تھے پاہاەه ہے 

جمیں و ے بی مت ٹیل فرال 

رو نم بن کی نکر سے حا و دسا 

س_ٹف ‏ ر پاڑ ان کی بیت سے ر ال 

0 عم سے سمل سے پانہ دل کو 

گجپ چز ے لت الا 

شارت ے طلوپ و تر و مون 

طے مل زی ےہ گور کشالی 

ں 

ہر کظد سے موم کی می شین نی تن 

گفتار مس مر ار مل الژہ ی یمان 

ناری غغفاری ر ٹلدی ر ‏ وت 

چار خاعر ہوں و نا ے سان 


52 
2 سے بج گر الہ میں یڑک ہو وہ 2 
دںاؤٗں کے وی خی سے رطل جانمیں رہ طرنان 

اکر نمودہ سے طور 4 ترات؟ مت' نوصل“ رم اور مات ری اور موئ فکی 
پاعدار یکی مزید چند جھلکیاں دیکنی ہوں نو دیے- 

ام ئللک کے بڑھاپے کے ایام ہیں۔ حعمران وقت نے غیظ میں آک اس پاکباز 
انمان کے دوپوں پازوککندہوں سے اکھاڑ دب ہیں۔ عم پچ تا تر لباں ہے۔ آپ کا 
منہ کا لاک دیاگیا سے اور آ پکو برین کی گلیوں مش پلرایا جا ربا ہے۔ نان اس عالت ْ 
یس بھی آپ ران مم ںکھڑے لوگو ںکو عخاط بک کے اپنی جم جات کا اعطا نم رہ 
ہیں۔ ”'لوگوا زیردست کی طلاقی جائز نہیں" 

امام ابو یکا عھران وقت سے اشلاف ہو ہے وہ آ پکو حوالہ زنر ا ںکر 
رتا سے ان آپ اپنے موفف پہ نے رہ ہیں۔ پچ رآپ کا جنازہ بھی یل سے لت 
سے لان خالم کے سان آپ سرگوں نہیں ہہوتے۔ 

ا ام اص بن عمب ل کو لکٹکی پ باندھ دیاگیاہے۔ جلاد غصہ سے بپرا ہوا ہے۔ 
ددر سے بجھا فک آا سے اور آبپ کے میم > ٹراپ ٹرنا پکوڑے برسا ما ہے امام 
صاحب کا کم ہوامان ے۔ کت ہی کہ دہکوڑے ج بڑبی بے رتی سے آپ کے 
شیم بر بر سے ان میں سے اگر ای ککوڑا کسی جتومند پان یکو تا نھ دہ بابلا اتاد مجن 
عزم د ہمت کے پر امام اھ بن عمبل خون میں نماۓ ہوئۓ حم کے ساتھ اس وقت 
بھی مہ الال نکر رے ہیں ''لوگو! ق ئن خداکی توق +یں بللہ دا کا کلام ے''۔ ابام 
این تی کو عاکم وقت قی دک لیا ہے۔ تی لکی ٹیوں اور ازنتوں میں اسلام کا نے 
صاحب سیف و لم سای جا نکی بازی ہار جا ہے لن من پہ ہابت قدم رہ کے 
ایا نکی بازی جیت جا ہے۔ غازی علم الدین شمید پچالسی کے پھندر ےکو چو مکر گے 
یں ڈال لیتا سے اور جناب غاتم النبین صلی اللہ علیہ وس مکی عزت پر قریان جو جانا 
ے۔ لین دہ اس قرار سے نمی یی ر: ”میں نے شاتم رسول راہتپا لکوت کیا ہے"'۔ 
مازی میاں مر شید تحت رار پر بحول چا ے۔ لان اجے موقف سے وسقبردار ”میں 


ہوا۔ 


53 

یہ تھا مفنقمرسا جذکرہ اللہ پاک کے سے انمیاء بافضوص سبرالایاء جناب مھ 
رسول اللہ صلی الش علیہ وسلم اور ان کے بمادر خلاموں کا جو صرف اللہ سے ڈرتے ْ 
جے اور پاقی ائل دنا ان سے ڈرتے تھے۔ الد کے سای سے رن اور الس سے 
عوب ہونا ان کی سرشت شیں می شال نہ تھا وہ موت سے عش قیکرتے ‏ ےکی وہ 
وج مو کو بروانہ جنتں کھت تھے وہ ون اکو مردار گت اور اس کے طالیو ںکو کئ 
جا انمیں اعت و بمادری کے ہہ اوصاف اپنے ب کی بی تعلیمات سے لے 
تھے ہی شجاعت محری' کے تمہ سائی کے مصفما پائی کا عمال تھا سے پٹ کے بعد ان 
سے ولوں سے ایل وا کا خرف نگ لگیا تھا اور وہ نوا رکی دہار بر بھی جن جات کے 
سے یہ جو کت 

عد فلائی مج جب ہندوستان میں اشارہ فرگی پ ھرذا ادیائی نے دوک تو تکیا 
ادر ال ے اعلائ گیا لہ اللہ نے بے مع رسول الشد' بن اکر دنا شش گما ے۔ مین 
میری شحل میں مر رسول اللہ ددبارہ ریا یس کل اسلام کے لے تشریف لائے ہیں۔ 
می عین مر ہوں جنس نے جح ھکو نیس انا اس نے می کو نی پچھانا۔ اس ن ےک اک 
میں شر را ہوں؟ میں ال" دکی گوار ہوں' میس پوری دنیا کا سپہ سامار ہوں۔ جو جھ سے 
گرا ۓ گا رای عخزاب ا سکو جلاک رم مکر وے گا۔ 

ملمابان ہندوختان جب اس بجھوے می کے مقابلہ میں لہ نے ملف مناظروں 
ادر عقابگوں میں زج ہوک اس بناسپتی ھی نے بدڈبای شرو عکر دی ادر پھر جب اس 
بجھولے ‏ یک بدزبانی گالیوں اور پچ غلیظہ مگالیوں کک تھی نے ایک ملان اہر نے شیک 
آأر ورالت کا رروازہ ٴ۴ ا اور ٹف مارح میٹ نے جب مزا قادیا یکو 
عداات میں طل بکیا نے عرالت میں راشل *ہوتے ہی مرا قادیانی کا دنگ فی بمڑکیا“ 
بوش و حواس اٹڑ گے کم ب دکیلپاہٹ طاری ہوگئی ادر اس کے ساتجہ ہی بھولی نبوت 
کے غبارے سے ہوا گل گئی۔ ھرزا قادیانی نے عداات مج سگڑگڑاتے ہوئے تی 
معالی امہ یٹ یکیا اور عرالت مل وست بس زاتو شلت ررہواست کی لہ اں برزبالیٰ > 
بے اس مہ محا فک دیا جائے۔ میں آئیدہ ایا .بھی نمی سکروں گا۔ مزا ادیای کا 
ہے معاٹی امہ آ جع بھی مار کے صفحات میں موجور ے اور مرا ادا می کے ببھونا ہونے 


54 
کی ایک بست بڑبی دیل ہے۔ معائی نامہ عاض رخرمت ے۔ 


نل زار چارہ 
مز لام اب تاایائی ا گے آ پکو شور نراوئر تال عاض رجا نکر پاقرار 
صاغح اترا رک ہو ںک۔ آنژرہ 

0 میں اڑی ہیگاگی جس سے مکی شن سکی تق (ذات )کی جارے ا مناسب 
مور سے تقارت (ذلت) کی جاۓ یا مداوند تھا یکی ناراضگی کا مورد ہو “شا عکرنے 
سے اجتنا بکرول گا۔ 

)۲( یس اس سے تھی اجقنا بکروں گا۔ شا حعمکرنے ےکس ہ مم دا کی درگاہٹںش ۱ 
دا کی جاو ےک کی من سکو تق ر(زئیل )نے کے واسلے جس سے امیا نشان ظاہرہو 
کہ وہ شنمس مورد عماب ال ی بے ما یہ ظاہ رکر ےک مباحث نربی مم کون صادقی اور 
کون کازپ ہے۔ 

)۰ م ایے الما م کی اشاعت سے بھی پربی زکروں ما جس ےکی ھن کا 
تی ر(زیل) ہوا یا مورر خاب الی ہونا ظاہر ہو یا لیے اعمار کے وتوہ پائے جائے 
ہوں۔ 

(۴) میں اجقنا بکروں گا ایی مباحش میں مولوی ابو سعید مج ین یا اس کے 
کسی دوست پا چو کے برخلاف گالی گلوچ کا منمون یا توم ککھوں یا شائ کروں جس 
ےک ا سکو درد گج میں اترا رکا ہو کہ اس کے یا اس کے دوست یا و کے 
برخلاف اس لم کے الفاظ استعال نہکروں گا جعیساکہ دجال' کاف ر“کازب' بطالودی۔ ں 
بھی انی آزارادِ زندگی یا اندالی رشع راروں ے برخلاف ہل ش0 ن ہکروں گا 
جس سے ا س کو آزار نہ جج_ 

(۵) مس اجقنا بکروں گا۔ مولدی ابو سعید مج تن ما اس کے کی دوست یا _ 
پچ وکو مبالہہ کے لے بلاوں اس ام رکے تظاہ ررنے کے کہ میاہث مج یکون صادق 
او رکون کاپ سے نہ ٹیس اس مج ین یا اس کے دوست ما پچ کو اس بات کے لے 
لاؤں گا ۔کہ و کسی کے متحلیکوئی یی نو یکریں۔ 


55 


۹ میں تج ی الو ہرایگ شف سو جس پر مرا اڑ ہو سکم ہے۔ اس طرح کار 
بل ہونے کے لے تزغیب دوں گا جیساکہ میں نے نقرہ نرہ ہہ ۳ م۵ میں 


اترا رکیاے ۲۴ر فروری ۱۸۹۹ء ٴ 
رط صاحب مجسٹیٹ ضع رط مروف اگگریبی ں رط زا لام اھ تادیانی 
روف اگریی مسٹرڈوگی ‏ مال الین لیڈ لم خور 


ساجواے کیا بی ہے جو یٹ کے اتھ کے کن دی ھکر انا مان برل جا 
ہے جھ ممسٹی کی آعگھو ںکی سرتی دک ھکر ای ”اریہ بعت" -ں رر پر لر لا ے۔ 
یل کا وروانہ دی کراجے فرش ٹچ می لی ہو شی کریاں حاا ہ لیت 
سے۔ جو مسج کے تورو ںکو دک ھکر اپے صپالوں اور براکروں کی دکان بت کر وتا 
ہے۔ بصمی ڈراکیوں نہ گورنمنٹ نے می تو نبوت عطا کی شی اور اگ مگورشمنثٹ ہی 
تارافمش بوگئی نو نہ نبوت گی اور نہ بی ! 

مزیدر نے مرزا ایال یکنا ہے٠‏ 

میں نے مر ڈوگی کے سام للھ ویا تھاکہ مود ہکس ی کی نیرت مموت کا 
امام شائع نہیں کروں گا۔ جب مک کفکہ وہ ڈسٹرلٹ مجمسٹریٹ سے اجازت نہ لے 
یوے"۔ (م ڑا قادانی کا طغیہ بیان عدالت گورواسپور یں منررچہ اخچار ٠١‏ 0 
قاریان“ جلردٴ غ۹ متقول از متظور اف یس ٢۴۸‏ مصنذہ ھنظور اشی قاریانٰ) 

نی قادیالی نبوت وہ ڑا ہے ج سکی ہماریں میٹ کے پامقھ میس ہیں۔ وہ 
جب چاسے جماں چاہے روک نے اور جب چاسے چلا درے۔ تدیانی خمدا بھی یور اور 
دای نی بھی مور! 

مد فئ ! 

مو اگر ٹر ڈوئی صاحب (ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ض+عگورواسپپور) کے روبرہ ٹل 
نے اس بات کا اترا رکیا ‏ ےہ میس ا نکو (مولوی مجر ین بڈالو ‏ یکو) کافرخمی ںکھوں 
گا داشی مرا بی ذہب ہےکمہ میں کی ملان کو کافرخممیں جاح"'۔ ( ”تیاق 
القلوب* ص۰“ مصنفہ مرزا :قادیای) 

تاراما سنو یہاں تمارا مرزا تاوا ‏ یکا کہ را ے۔ 


56 
”ہر ایک عنض ج س کو میری دعوت کی سے اور اس نے تھے قیول می ںکیا 
وث مصلمان کمیں''۔ (ہ یقت الوی'" ضص ۳٣م“‏ معنفہ مرزا قادیالیٰ) 
“جو نف ھہرکی پروی نہکرے گا اور ببیعت میں واخل نہ ہوگادہ مرا رسولکی 
نا فا یکرنے والا بششی ے''۔(اشتمار اممعیار الاخیار" ص۸ معنفہ ھرزا تاریانی) 
”یرے الف جگلوں کے سور ہو گے اور ان کی عورت ںیکیوں سے پام 
گئیں×۔ ہم ا ردئی ۷ س۵“ مصنفہ مرزا قارائی) 
جو ہماری ش کا ہا ئل میں ہوگا نے مھا جائۓ گاکہ ا سکو ول رالھرام نے کا 
شوقی سے اور علال زادہ شمیں"۔ ( انوار الاسلام"' ص۳۰“ مصنفہ مرزا قایانی) 
”بی ان کتابوں کو ہر مان عحب ت کی نظظر سے دجتا سے اور اس کے 
معارف سے ذائدہ اٹھاما ہے اور ھبرکی دعو تکی تحمدل قکرا ہے اور اسے قو لکر 
ہے۔ مم رجڑلوں رکا عورتیں )کی اولاو نے مبربی تقر رب مم ںی" ( امہ کمالات - 
اسلام'' مس ے ۵۴“ معنفہ مرزا تاریاٰ) 
تاریان! عرالت ٹس پل پاہ ریلو۔ ممٹریٹ سے رتا ارر اش ے ےے ژریا 
بی یکمدار سے تممارے ربجرو راہتما کا۔ پچئے ڑڑ سوچوٴ آخر ایک ون موت ت کا مزا چچکھۓے 
کے بعد اش کے ورہار میں حاضری ھی ہوئی ے اور تمس جواب بھی دنا ے! 
یم الامت علامہ اتال نے اگرینی بھی ھرزا قادیایکی اتی صفات رزی کو 
وت ہو ےکم تھا۔ 
و نے بڑگچھی ہس أامت کی خیقت مھ سے 
ج جے می سط ساب انار کے 
ے ری بے زالے کا اام بت 
ہو لے عاضر ر مور ے بزار کرے 
موت کے ػمیینے میں تھھ کو وکھا کے رخ ووست 
زندگی تھے ے اور بھی وٹوار کرے 
وے سے اصاس ہاں ١‏ او گرا وے 
فقر یىی سان چھا گر سے گار کرے 


57 


فتہ لت با ے لات اس کی 
جو ملان و لان ک رسار کرے 
ایک اور مقام پر علامد فرباتے ؤں: 
وہ رت سے ملاں کے لے برگ خیش 
جس وت میں "یں قوت و شوکت کا پیام 





59 


جرآب اظمار 

سی 8ء تھا جب شسان شرمی ملس جوذط عم نب کی مقاب یکانفراس منعق ہوگی۔ آپ 
نے تقر کرتے ہو اپنا الیک واقعہ بیان فرایا۔ ایک بار یش اور مولانا لال سجن ار 
تحی لکنزی (ضدح) می جماعت کے تلینی بروگرام کے سلسلہ میں ئے۔ ضصیی ل کہ نری 
میں م رئیو ںکی بست زیادہ زطنیں اور علائے ہیں ا نکی حیثیت دہال مس ی بھی نواپ ےکم 
شھیں۔ ہمارے وہاں روازہ ہوئے سے تقئل ہارے خی رخواہوں نے بیس جا دیاکہ دہاں آپ 
کی جا نکا خطرو ہے۔ ہم نےکھا بھائی اب نو اعلا نکیا جاچکا ہے۔ اب نہ جانا رید شخم بوت 
سے بے دپالی ہے۔ ہم گے۔ وہاں کے لوکوں نے رن > کھاس پھوس ھا اک تقر کا رگرام 
نایا مولانالال تین اخھزنے و نکو تقر رکرنا شی اوریی نے را تکو۔ جب مولا نکی تقر 
شروع ہوقی و ایک مخفس کیاکہ ٹڈ الس پی صاحب بلاتے ہیں۔ خی رایک آد یگیا۔ ابھی 
تھوڑی دی ہیگزری ت یکہ ڈٹمکمشرصاحب اس آدبی کے سا تہ تشریف لاے اور ہمارے 
اہ بی گے اور فرانے گے 'مولانا آپ جو چاہیں تقر ف ا٢ی‏ ںگھرمرذاظام اص قادیا یکا 
ام نہ بی نے موا نالال ین اخزسے عم کیاکہ دہ تھو زی د تک ای تی روک 
دی ادرش با تک/مرے۔ 

ٹش نے عر سکیا مہم لوگ یہاں نماز روزہکی با تہکرنے نیں آئے۔ دو بہماں کے 
نائی علاء جاتے ہی رے ہیں۔ کی پت چلا ہ کہ آ پکی سرزشن میں بھی تھ رضم خووت 
اری دح یکرلے کے لیے چوہےآ سے ہیں۔ می ان ور 
کشنرصاحب!یاد ری جماں جماں مزائی ہوں کے ای جھوٹی یت کر چا رکریس کے اور 
مسلمانوں کے ایھان پر ڈاککہ ڈالیس کے وہاں می خور مرزا قادیا یکی ذات پر بج شکروں گا_ 
یدلہ اس نے نیب نک اتی ذا تکو منوال ےکی دعوت دی ہے اور جب نی اجی ات 
موا لےگ جات کر اہے 2ا سکی ذات پ بج کی جاتی ہےکہ دہ سماہے یا جھون رھدک از 


60 
سے پا ملپس۔ میں اس بات سے باز نہیں آ سکتا۔ بے کیک مہری جان پڑی جائے ہکی دک ہم 
نے ٹی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وفاکا عد باندھ رکھا ہے ''ؤ پٹ مشنرصاحب نماموشھی سے 
لے گے اور ہم نے عقید و شخم حبوت ملمائو نکو مچھایا او رعسی نے ہار بال بای ںکیا۔ 
(”ترے مرل نا ج بل جالز رر ''ض _٠١۷‏ ۳٣ا‏ زیروٹس رڈ اکر ور گر غفاری) 
ب موت سے وثرتے بہں ظلاان ئم 
بى اۓ خاہں پ سے فٴغان ‏ مھ 


لَّ 


ا عٹ جات 
ہاولپوریس حضرت علامہ مج انور شا مع رىی ذس صردنے فرمایا خماکہ ہار انامہ ا مال 
سیاہ ہے ہی۔ مہ بات لین کے درج ہکو یچ ھی ےک ہم سے نول کات بھی ا کچھ ہے۔ شایدر 
یہ بات مغفر تکا سبب بن جا ۓےکہ تفم رصلی اوہ علبیہ ول مکا جانبرار ہ کر بماولدر یں آیا 
تھا۔ تام شع ٹچچلیں مار اٹھا۔ حضرت افنزس قرس سر بر اس واقع رکوس نکربست رقت طاری 
ہوگی۔ فرایاکہ وا شی شاو صاحبڑ ایتہ ٢ن‏ آیات ابر تے۔ 
(ائ ات طط ۹ص ۳۵۳ا !اکن مھ نین انصاری) 
می ٹپ مان ورے گر 
شفاعت روز جزا چاتے یں 


بل ای ظر 

یم فور المدین بھی ردی شم انی الیک دفعہ عخرت میاں صاحب کے پاس عماراچہ 
جموں کے لے دعاکرانے کے ل ےکیا۔ آپ نے درکھتے ہی فرایا نام ورللدین ہے۔ لیم نے 
کما ہاں۔ ڈرایا قادیان میں ایک شنص فلام اتد نام کا پیرا ہوا ہے جو بھ عرصہ بعد ایے 
دو ےکرے گا جو نہ اٹھائۓ جانیں نہ ر کے جامیں اور تم لو مفو ظط میں اس کے مصاہب 
کیہ ہوۓ ہو اس سے تعلق نہ رکھٹا'/رور وور رہناورت ال کے سا تجھ می مم بھی روز 


61 
یش پڑوگے۔ عم صاحب سوج میں پڑ گھے۔ فرباا تم میں ای کی عادت ہے۔ بی عاوت خ مکو 
دہالں لے جات ےگی۔ چنا نہ بتھ عحرصہ بعد مرڑا فلام١تر‏ قاریان ٹل طاہرہوا اوررعویٰی وت 
کی اور بھی سی موعوربنا اور حلیم ور الین ا سکا فلِفہ اول بنا اوراس کے ری نکو پھیلایا۔ 
بی نیس ہوا عالم تھا۔ ھرزا اح بکوبمت پتھ سکھا ]تھا اس کے سا ج گرا ہوا۔ 
(''حیات طیہ۔''ص ۹ہ م'ازڑاک زع ر نین انصارل) 


خواجہ سن نظائ یک للکار 

بس تہارۓ اہم رامومنین مرزا مود اح کو دعوت دا ہو کہ وہ اجیر شرف مس 
آمیں۔ میں بھی دلی سے وہاں عاضر ہو جاؤں گا۔ استانہ خواجہ خریب نوا زکی موم مزا 
صاحب میرے سائق ھکھڑے ہہوں اور ابپی پاطنی فوت کے تھام طربۓے بج بر آزمایں اور جب 
وواپی سار یکرامت آ زا پچھیں نو جج ھکواجازت دی جال ۓےکہ بس صرف ےکموں: 

ناے دا یل اس صاحب ہزا رکی تقانیت کے ابی صداق تکو اہ رکر اور ہم 
دونوں میں جو بھو ٹا ہو ا سکواسی وفت اور اسیا حجہ پلا کفکروے۔۔--۔_''ے 

اور ا کے پور مزا مو دکواب زت دیی جات کہ ود اپنے الفاظط ٹیس جو وا چا ہ ںکریں۔- 

ای ککھنٹ کی رت مقر رکی جاے۔ "شی دونوں آومیوں میس سے ایک پر ای کگھنشہ کے 
اندراس رعای ا ٹر طاہرہوا چاے۔ 


ھرزا صاحب دکھ لا ےکہ در تکیا نھاشا دکھاتی سے کون ھا سے او رکون ژندہ 
رہاے۔ 

عرداگی ے.--۔ صدافقت سے فو آو اس آزمائیش گا کی سیب رکرو جماں ای کگھند کے 
انررسب پکھ نظ رآ جا گا ڈرو مستہ میہرے پاس ا ڑنے والا ز ہر نکاس نہ ہوگیس نہ یٹ 
مکو دیکھوں گا نس سے ت کو ابرییشہ ہو کہ کرینم یا پقاٹزم کے ذرلعہ مار ڈالا۔ میں تم سے 
درس ندم کے ناصلہ پر تمماربی طرف سے منہ چیہ رک رگنہد خواج ہکی جائب رر خکر کے کھڑا رہوں 
گا۔ 


2 
ارم کو مرالہ نفظور ہو نے رتج الاول ۰۳۳۷اک ھکی ہچھٹی ار کو اہینے حواریو ںکو لے 
کرام رنشریف آ جا اور وی ری جماعت کے ساتچھ آو اور میں پالگل اکیلا آو ںگا۔ 
مسج یس بھی میرے پا سکسی دو سر ےک وکھڑے ہو ل ےکی اجازت شہ ہوگی بکہ ت مکوىہ اندیشہ 
شر ہوکہ میرے آوگی کپ ملک رکے مارڈالیں مے۔ 
گور فمنٹ سے اجازت ما اور ا ظا مکرناىہ سب تممارے زے ہوگا او رتمک باضاببلہ 
الیک تی دٹی ہڑ ےگ یکہ اگر میں تح ھرکیاف میرے وارٹ صن فظا بی پر ٹون کا موک نہ 
کریں گے نہ مرکا رہکوااس میں وغل دی ےکا افقیار ہوگا--۔۔ ایی بی تی میں بھی اپنے 
وارٹوں سے سرکارمیں داخ لگرارو ںگا۔ 
یھو بت آسان کٹ ہے۔ بمت ججللدىی ہندوستا نکی ایک معیبہت تم ہو جاے کیو 
تمارے وہورے پر ہوگئی ہے۔ اس میں درینغ ن کرو ایا موقع قصمت ہی سے آیاک را 
ہےدےئہ کرواورٹوراال وعوت کو تقو لیکرلو_ 
جب تم اس اراوہ سے اج شریف آو فو ای والدہ صاحبہ سے دودح چنٹو اک رآنا اور 
ریو ےکپپنی سے ای ک گا ڑ یکا بر وبستکرا لین نس میں خسماری اش تقادیاں رواثہ ہو کے 
اور نیزاٹی اللیہ صاحہہ سے ہریھی محا فکرا ینا اور قاویا ںکووالدماج کی ش رعیت زرا ور 
سے دمکھ آن کہ پگ رت مکو زندگی میں دہ درو دلوار دیھٹے لیب نہ ہوں گے۔۔-۔۔ اور ضرورت 
ےکہ وععیت نام بھی عمل زر را اور جانشین کے مل ہکو بھی سخ ےر کے تا می میں 
اس وا کت ہو ںکہ جھے ابے برق ہونے اور تممارے مرن کاپ در این ہے۔ اس کے 
علاوہپھ اور وججورا ت بھی ہیں ہی نقکو میں جات ہوں اور عیرا قیو لکر لیے والما اور میریی با تکا 
لاح رھ والا مداجادت سے 'ج نکوبیا نکرنا تار ی طر خودستال یکرنا ہے۔ 
اس ام ہچ کک جلدی چاے دالا سن نظای 
(نظام ال شام) 
مت روزو'”'لولاگ'' ۲۲ما رخ ے۱۹۲ء) 





3 
جب عم ت مکی 


مولانا عمزرزالرمان فرماتے ہہ ںکہ جب آپ مان سے اہور جیل میں مل ہوۓ تو 
ٹس اور میرے بھاگی عجیب الرمان صاہب لاہور طاتحات کے لیے مئے فو ولا نا نے فرمایاکہ 
گن کی پچھلیا ںکھان کو د لک را ہے۔ آپ ایک پوری مئی خری دکر سا ڑھے ٹین بے 
تی لک ڈیو ڑھی پر پہنادیں اور اگر مضتری اند رنہ آنے دے فو رک ھکر لے جانا فھ رن نہیں جم 
نے ایک بوری لے تخمریدے اور ضتربی کے پا س لائے۔ اس نے مولا اک و بھموانے سے ا ٹکار 
کیا نو ہم ڈو ڑھی پر بو ری پچھو ڑکر رکش بے گے۔ ہمارے جانے کے بعد مولانا نے تی لکا 
انرر ے وروازہ ٹھلمثایا۔ ورواڑہ تھا یل ے سرنززٹ کے پاس گے اور فہایا کہ 
بعارے لے ملئی کے لے آے ہیں “دہ اند ر جوا ومیں۔ اس ےکماکہ دہ تو مقا وی ان رخییں ؟ٴ 
کت و مولانا نے فرب اککہ بت اچچھا ج آدبی لاۓ تھے ' ا نکو وا لی کرریں۔ ہم جاجیے تے۔ 
برا علاش سکیاجر ہم نہ لے فو مولانا نے سپرنٹیڈنٹ سے فرا اک ددتی صورتیں ہیں یا “یں 
اندر لے انچوانمیں یا اکا نکو والی ںکریں۔ پرنٹیڈنٹ پریٹان ہوا اور بالا خ رکھاکہ رات 
عشاء کے بعد فیل کے بند ہونے بر آ پکوتے تع جامیں گے بیوں سے عشاء کے بعد اندر 
توچ گے اور تیل یس خریک کے را ہنمانوں نے ”سا جنشن'منایا۔ 
(" ترک شحم مہوت ۸۵۳٤س‏ ۴۸۸ ۴۸۹'از مولانا اش وسایا) 


ہارہاں 


شا رم وت سید ای نگمیلای انی می لکاداقہ میا نکرتے ہو ۓےکت ہیں٠‏ 

”ایک رن یل کا سای آیا اور یھ ےکا آ پکودشتریں سیرنٹریڈنٹ صاحب پلا رے 
ہں۔ می دفتر شیا نز دیکھاکہ والدوصاحیہ معہ میرکی ابلیہ اور ٹیے سلما نگیلانی کے “جن سکی عمر 
اس وفت سواژی بڑ- سا لکی شی ٹیشھہ ہو ہیں۔ والدہ محتزمہ بھی دیکھت بی ا یں اور نے 
سے لگا لیا ماتھا چو نے گگییں۔ عال احوال پ پچھا ا نکی آوا زکل وگ تھی سپرنٹریڈنٹ نے 
حس و ںکرلیاکہ وہ رد رىی ہیں۔ مرا بھی بی ھ رآ یا آگھوں میں ؟ الو تیرنےمگے۔ بی وھکر 


64 
سپرنٹیڈنٹ ت ےکا اماں گی آپ دددی ہیں۔ یٹ س ےکی (ایک فارم بڑھاے ہوئے )کہ 
اس پر وس اکردے تو آپ اسے ساتھ نے جانیں بھی معالی ہو جات ۓےکی !میس ابھی خودکو 
سبعال رہا تھاکہ اسے جواب دے سگوں۔ والدہ صاحبہ ڈ پکرپولی سکیس وخ کما ںکی 
معائی ٤ش‏ ایے وس بے تضمو ری عزت پر فیا نکردوں۔ میرا رونا نو شفقت مادری ہے۔ یہ 
نکر سرنٹریزٹ شرمندہ ہ گیا اور مرا سان ھٹا ہوگیا“_ 
( ترک ضر ہرے*سرومم“س ۳۲ن_ ۳٣ن‏ “ا ڑ+ولان ایل وسایا) 
سور کریں ے مر کا مرا ہوا 
مم نہ پیچیں کے بین کیا بھا سے زار کا 


اور لا جواب وکیا 


رت شا عپرالقاور راۓ تو ری نے تقاضی احسان امھ شحجاع آبادکی سے و جاک 
ححقیقالکی عرالت میں رت شاہ صاحب (سر عطاء اللہ شاہ صاہب بخاری) نے مرزاتوں 
کے بارے می ںکیا مان دیا تھا۔ قاضی صاحب نے جو ابا “عرش کیاکہ جب چیف جس مسر 
مھ مضیرنے شاو صاحب سے لا چا کیا آپ مرزاغظام ام ہکوکافرسکتے ہیں ؟نذ شاو صاحب نے 
رای اکہ جب بجھ بر لدھارام والا متقدمہ چلا گیا تھا اور لدھا رام کے جیان پر شھہ برک یکر دیاگیا 
تھا آ نری پیٹ پر سرکاری وکیلی نے ىہ سوال بھی اٹھایاتھاکہ میہ مرذاک وکاف رک کرمنافرت 
پچھیلاتے ہیں۔ اس پر اگری: چیف جٹس مسٹرییک نے یھ سے مو چھا تھاک نکیا آپ ھرزا غلام 
اج دک وکاف کت ہیں نے میس ن ےکم تھا ہاں۔ میں نے ایک وفعہ می ںکروڑوں وفعہ اس ےکا ف رما 
سے۔ ا بکھ یکا ہول اور ھرتے وم ج کفکتا رہوںگا-ے ٹڑ مرا رن رائمان ے۔ اس ھپ 
مسٹربینک نے سرکاری وکیل ےکم تھاکہ لوان سے اور سوا لکرو۔ یک کرس نے بج ہکا 
تھاکہ ؟پ تثریف لے جائیں۔ آ پکا مر زا وکاف کن اکوئی جرم نہیں ہے۔ یہ قصہ صرح مر 
کوس اکر شاہ صاحب ‏ ےکماکہ حیساکی رج نے فو اس طر حکما تھا۔ اب معاوم نہیں مسلمان 
درا کیاکی ہے۔ مم نک رمسٹرمنیرنے بھی آ پکو ‏ عک مہ آپ تشریف لے جائیں۔ 


65 
ً۳ ترک ش مہوت" ۸۵۳ص ۵۳۵-۔۵۳۷) 

ظم ج ہیں زعتیں مو کے 

سب مطفور سزامیں مزا کافر سے 

تم کھیں مے باٹر اس کو بے مک 

ھراں پنائیں مرا کافر ہے 


تخم نو تکی من 
مول :کو اس مین خطر کا جو مسلرائوں کے رو پر منڑلا را تھا ورا اصاى تھااور 
اس کے مقابل ہکاا نکو اس رر زاد امام تھاکہ ب ہکماکرتے تھے کہ : 
”نات لصو اور اس فرط غکرائ اور اس طرح تق مکر کہ ہ رملمان جب میم سوکر 
ام ذاپنے سرانے رد قادیا یک یکتاب ماۓ"- 
(ایرت موا نا مج علی مم وگیری اص "٢۷‏ از سید می رافسنی) 
فلت مصر میں ہر ست اجالا کر روں 
کاٹ مل جائیں مج کچ جاہاں کے بے 


کید وش حت 


عائی لیاقت تین بھا کور یکو ایک مفصل شا کے ؟ خرمیں لیت وں: 
مکو چا کہ اپنے تھام گاؤں کے بھانمیوں اور جو لوگ تمارے زی اش ہیں 'ا نکو 
ا ںکام ہی ظام کے ساس متوج ہکرو۔ یہ میری تر مممولی نہیں ہے م ہکام تو دا چاہے کا 
اور رور ہوگا۔ دیھ ےک ہکون اس خ'درائی کا مکو اخجام دیتا ہے او رکون اس سے روم رہتا 
ے۔ 
(ا یرت مولا ناج رعلی مم وگیری مس ۰۵٣س‏ “سید می انصنی) 
تو 7 ثوت کم طف رار میں ےئ 
لاریب وہ جنت کا سزاوار میں ے 


66 


غامرش رسے می کے بج اسام کی تین 
ۓےُ ض ے بترل ے وہ ٹرررار میس ے 


تی 
مولانا عپ را رکم صاحب کو ایک ا می ں لیت یں : 
تم سے ہجہماں کک ہو گے ا سگمرا ہکا پگ کرو“ جماں مال دہ جا ' نم بھی چان اور دو 
پا سکرو۔ اول کہ جو خریاء و مد رین بیماں نہ "گیل ا نکوہماری طرف سے بیج تکرد 
اور حاسلہ رعاش میں وا لک کے اشہیں اڑی بدایا تکردکہ وو اس ساسلہ کے عاشن ہو 
جاتجیں او رکس یگرا ہکی افو لکا ان پر اٹ شہ ہو۔ دوئ ب کہ یس م سے زبالیبھ یکمہ چک ہوں 
اور اس وقت خائ صکر غ مکوککیھ رہاہوں باکہ غوب ممتعدی س ےکا مکرد اور دیکھو صن ارہ 
کے واصٹ کرو “جب انسان الف کاو جا نے و ابد تھاٹی اس کے س بکامو ںکا کیل ہو جانا 
ے۔ 
یرت مولا نا مجر علی موگگی رحس ۷ہ سے ۳۰ “سید مجرانشنی) 
ق٥ت‏ عشن سے ہر پت کو پلا کر رے 
وہر میں عق ھ ے اچلاکر رے 


ب۔وناراریال ے وناشعاریال 

لس حوزا شم بوت.۔۔ جو آپ کے زانہ میں ایک مال حلی بن گی تھی اور ایل 
نی نمامذربی حلیروں میں سے امیر تزین تو ری جائی تھی کے م راس ہونے کے 
دجو و مغ جیشہ تر کلاس می ںکیاکرتے تھے وف گیا حفطہ شم وت سے ریلاے ا میشن 
نان تک اور نیشن سے رف کک اضسوں نے صرف ابی زا تکی فا ربھی سی یا الہ 
کرانہ پر ش٠میں‏ لیا۔ چیشہ عام خریب مسلمافوں کے ساھ امہ جو ان وفویں تی ترین سواری 


67 
تیم سوار ہوک رآے جائے۔ 
ردیوں میں بتض اوججات بھا ری استربھراہ ےکر جات او رکماوں * ضروری سامان اور 
اددیات کے لیے ایک معھمولی سا بیک بھی ہو گر رہل گا ڑی میں سوار ہونے یا ا رک بانکہ 
وفیرو تک آلے کے کے دہ پیراشہ سالی کے پاوجو بھی قی ٹمیں لی اکرتے تے اور سارا مامان 
سراو رکند ھے پر انا پچلرتے اور دع اکر تے ر ہے : 
'اے اللہ قر جاد ہے میں بو ڑھا ہوں “میرے قوئی مششحل ہو مج ہیں “اکر میں ت یکی 
دبا تکرابہ پر لوں فو میری جماعت مہ ضرور اجازت و ےگ یگکرمیں یہ تفکلیف اس لیے 
برواش تک را ہو ںکہ میرکی جماعت ایک خریب جماعت سے اور میں چابتا ہو ںکہ اس کا 
خر کم از مکروں۔ اے اللد ہہ پیے جو میں ٹل یکو انا سامان اٹھوانے کے کے دیتاٗ دد میریی 
رف سے مگ ںحظ شخم مہوت کے لے بطور چندہ قبو لکر لے''۔ 
( رت مولانا جج عللی جالن د ری اص ۹ےا “از ڈ اکٹ ٹور حر غفاری) 
ہوگی نہ ١‏ اپ می کو بھی رشواری سفر 
روش سے ری آبلہ انی ے رزر 


حخرت راۓ لو رکی مجاہ رین تتخم وت ے جبت - 
ٰ جب ا تقر رحرت ازس کے ععحم سے تحریک شحم وت ۹۵۳ء کے دوران خی لگیاخ 
کرکوداسے عیرس گلا پور تشریف لاۓ اور ہو ںکو شی و لی دیے رے۔ مولاناواحد 
بش ت ےکا مولانا کے پچھوٹے پچھوٹے ہے ہیں وق حضرت کے تع مکی وم تھی ' حر تکا عم 
ہوا فورآ یل چلے گے اس پر ہخرت اڈرس پ> بت رت طاری ہوئی۔ فربایا ددفز پل بھی 
میرے ب یکن برڈہاکہ لن کے لیے مہ سے تے۔ وہا ں بھی ہم نے بی بھہا تھا۔ 

(نامیات ط.. 'اص ۳۴م “از ڈاک ڑج ز نین انصاری) 

وہ زیت می گیا ے و در ہو رار ے وائف 


وہ لیگ بھی میا ہیں جم ول ہیں ربخ 


608 


اسلا مکی سب سے بڑی مدممت 


محخرت عبرالقاور راۓ پور کی عفل میں مہ واتھاد یف سنائۓے گے : 

”ماز مغرب کے بعد قاضی اسان اھ شا غ آادی نے حر تکی دمت میں ابنا امک 
واتعہ سنا اکہ ایک دفعہ مھ ایک مرزالی فوگی افسرنے مرزاتیوں کے دو بدے مولوبوں ے 
با تکرلے کے لےه بلایا۔ ان میس سے ایک تو ربوہ کار مج کا نل تھا ادر دو سرا مولوی 
عمبرالمالک ایم۔ اے تھا۔ جب ہم اکٹھے ہوۓ فو ار فکور نے بے مخاطب ہک رکم اکہ تم 
ااناکے باروی لکیاکتے ہو۔ میں ت ےکماکہ یہ لوگ تتار کے تال ہیں۔ اس پہ ایک مذاتی 
مولوی ت ےکم لعحنت اللہ علی الکا ذ بین یش نے جوا اکما دکتئے صاحب!لوں بات میں 
گی۔ اس پر اضر فکور نے ا نکوڈا نا اود پوچماکہ تناک کے ہہ لو ککیسے ا ئل ہیں۔ میں 
نے مزا صاح بک یکتاب ” تیاقی القلوب'' کا لکرجلای اہ مرزاصاح بلکع ہی ںک خطرت 
ابرائیم علیہ الام نے ددبارہ نحخرت عبد ارڈ کےگھریں جخم لیا اور مقصد ا سکنے سے یہ سے 
کہ باکہ ب یکلہ گی کہ حضور صلی انلد علبیہ وسلم نے بھی دوبار: نادان یس غلام ام کی 
صورت میں جخم لیا۔ جعیساکہ خود مزا صاحب نے ککھا ہے۔ پرمیش نے مرڑا صاحب کے وہ 
اشعار ال مرکو رکو سناے جن میں اس نے حضور صلی ارلد علیہ وسلم پر ابی نضیلت بَائی 
ہے۔ اشعار م یکروہ نے زگاکہ ان می نو ضور صلی ادقہ علیہ وس۱ مکی حخت فووین سے اور 
ہبی طرف بد ھک رکنے گاکہ موی صاحب بجھےکلرہ بڑھا دو یس ملمان ہوا ہوں اور 
عرزائیت سے لو کر ہوں اور وہہ نامہ مجھہ لل ھکر دیاکہ اسے شال مکرا وو۔ ىہ می یکر رت 
اق رس نے خوش یکا اظما رکیا۔ اس کے بعد مولانا مھ صاحب نے حر تکی مدعمت یں عرضض 
کیاکہ حخرت مولاتا حرالور شاو صاحب فربایاکرتے تےکہ اس زمانہ یش دین الا مکی سب 

سے بڑںی خحدمصت مرزاحی تکی تروی دکرنا ہے۔ اسی وقت سے میں ا سکام میں لگا ہوا ہوں'' 
('حیات علی'ص ۵۹۵-۵۹۴از ڈاکڑ حر ان ‌انضاری) 


68 
آخاشورش کشر رب یکا ای ککعوب 
کرای نشی یل 
۸۔۸ ۔ ۲۳ 
رادرم عم مولان بَا جح مود صاحب 

سلام مسمون اکئی دوں سے نام بگمرابی میں ما۔ مد اکرے آپ خریت سے ہوں۔ 
خواجہ صادق نے بے خ آکھا تھماکہ دکلاء مال نے یں تتذبز بک رہے ہیں۔ جات ا نکی 
یک ہے۔ پرچزنی کیل اللد نمی ہوتی۔ تافو نتطد ہے۔ اس کا مجع تجح جواب گیا 
آئیدہلوگو ںکوبھی فائتدہ یچ گا۔ مجح حعل نہ ہوا اور خرابیو ںکی طرح ایک معظیم خرالی یہ 
بھی کیی۔ لے بھی لو گکماں آزاد ہی ںکہ ا بک ی آزادی ک ےمم ہو نے کا ماخ مکیاجائے۔ 
میں ذاس مقدمہ با زی کے غلاف تھا۔ آپ لوگوں نے شرو عکی۔ اب اس بات سے نمی 
وکنا چا کہ ھزائی اپنے بارے میں ملمان بہونے کا فتئی حاص لک ریس اور ہم جچپ 
ریں۔ عداات سے برعال تجح فیصلہ حاص لکرنا چا ےتھکل عداتس زندہ ہیں سای 
ٹف کھمٹ ا نکو نچ اوی ہک ےک یک وشن لکرتے ہیں لیکن انصاف بہرعال انصاف ہے جغ 
کی مل ہکی تی رمیں چو کک سے ہیں لیکن ان کا پشہ بہرعال ایک عبارت ہے۔ آپ 
عدات سے رج غکرتے رہیں۔ اگر ممیرے دفت زی مالی عالت سعفُمل نہ ہو جعیساکہ سرکار نے ٰ 
زبروست متان پش اکر خلل پیدراکر دیا سے فے بے یک ممبربی بیو ں کا زیو رب جک راس مل کو 
عراات میں جاری رھیں ک٢‏ یکا شرمندہ اتسان ہہوٹ ےکی ددرت تیں۔ زلو رد چلرین سکم 
سے یلان شتم ال رسلیئی کا متلہ حلوس کی بداخحلت پ الدین سے خراب ہوگیا فو اسلام کے 
لیے بدی مشکییں پیا ہو جاحی ں گی جو لوگ جمارے تخالف ہیں “ایک وفعہ پچھو ڑکر سو وفعہ 
الف رہوںاصمیں پرکاہ وقعت نہ دریں۔ ہار اش ہمارے ساتھ ہے۔ مکی سب سے بی 
رولت ہے ہس ےکہ ائل افقد میرے جیسے مقر اور عاصی کے لے دای سک رس ہیں۔ جچھے ونیا 
راروںکی ضردرت "یں۔ رت رین بد ری بر لک ثط آیا ہے۔ فریاتے ہیں تممارے خی 
تضمور (نداہ ابی والی )بھی الد کے پاں دع اکرتے ہوں گے جس ے بڑعان وکا نے لگا۔ اب 


70 
اس کے بعد ھکس تی ضرورت ر٭جاقی ہے طارق سلمہ بش رہ اور نز مل ہکوسلام 
چو ںکورعا۔ 
شور شکامہ ۲ کی ولاک '' ۲۸ ات ۸۸۷۸) - 
شغ س کا خر یر شیرے ہیں کر 
یت کا مان فا مرش 
ال مت بر نز )ا اك 
اک ساحب بل ساحب ہان تا شور 


ورالت کے ارانوں میں فلفل ون 
مولا نا راوسف لد جیا نوبی نے فربایاکہ 
می رجنٹس منیرنے ۵۳ول کی تریک شت غیت میں ایک دن رت امیر شریجت سے 
عدات کےکڑرے میس پوچاکہ سنا ہے آ پککتے ہی ںکہ اکر ھرزا ادیالی میرے زانہ شش 
فبو کا وگوئ یک ران میں ا ےق لکروتا۔ 
شماہ بی نے برجعتہ فیا اکہ ''ا بکوئ یکر کے دککچھ نے'اس یر عدالت میں اشن نے 
نر کہ لایا۔ اللہ اک رکی صداے ا یکورٹ کے درددیوا رگو را شے۔ 
جیٹس مضہ رس رات ہوے ہوا کہ ' وین عرالت*۔ شا تی نے ڑہائے وا ر آواز مل 
فرایاکہ ”نون رسالت''اس پر پچ رعرالت میں باج و شنت شم بوت زندہ بادکی صدابلند 
ہوگی۔ بی نے سرجھکالیا۔ ہل با ریا قن می تگیا۔ 
( تریس شقم موت*' ۹۵۳ا ؛ص ۵۳۸'ازمولانا اللہ وسایا) 
ہاں ہب ملف مو می زان یں 
زان اس ہم م"ں وہ وت تھا 
نے وم ژرا ۶ اور يہ وہ ژر0) ٣‏ 


وو سا ٣ض‏ تا“ چ یت ق 


71._. 
رنران شمگن جواپ 
جیٹس مضکی عارت ش یکہ ددعرالت میں علا مکرام سے ملف سوالا کر کے پر 
ان میں اخلاف مابم تر ےک یکومص لک را اس نے امہ رشربعت سے 8اچ اہ نی کے لیے 
کیا شرائا ہیں۔ شاہ بی نے لی البیدہ فربایا ”لم یک ہکم ازم شریف انسان ہو ”اس پہ 
ھذاتیوں کے منہ لقک یئ اور ملمان سس رنخرد ہو یئ 
تریک ش عبوت 1۹۵۳ص ۴۸ “از مولا نا اللہ وسایا) 
ترے بد ہل گی اراس گییں میں 
یب سا حر پا نت(ھای ب تا سے 
کاپ کول کر ٹٹھوں و آگھ ررٹی سے 
برق ربق پر تما چو تال ت سے 


اورجنٹس منرت کیا 

یٹس منرنے شیعہ راہن اید منفرعی تی سے س۳ شکی عدالت میس پا چاکہ اگ اس 
تک میں صدلق اک کا ظام علومت تام ہو جاۓ و تسار یکیا یو زیشن ہوگی۔ عدالت کا 
مقصد تح واکہ ان کے جواب سے شیع “سی اخطا کو ہوا دبی جاک گی مانیں کے تو شیعہ 
ناراش نہ مائیں کے سی تاراض اور بسی حعدراا ت کا فشا تھا سی صاحب فرماتے ہم ںکہ 
می سک راگیا۔ میں نے عدال تکو ٹالنا چا پا عرالت کا اصرار بڑھا نو کے نعطرت ام رشریعت 
ٹیٹے تھے۔ امج 'میری طرف تریف لا“ می ےکن دہوں ۷ ہام رکھا؛ کی دی اور فرایا 
کہ شی بیٹامگھبرات ےےکیوں ہو“ کے دن کے لے ہی تو میں نے میں تا رکیا تھا سی 
صاہب فررائتے تےکہ شاہ گی کے مہ فرراتے هی مہرے بدن یس گل یکی سی لمردو ٹگئی۔ میں نے 
می رکی آمگھموں میں ؟مککھییں ماک رکراکہ پچھرسوا لکریں۔ اس نل ےکراکہ اس ملک میں اگر 
صدای اکب ڑکانظام حلومت تائم ہو جا قے تار یکیا لہ زییشن ہوگی۔ میں تن ےکماکہ میری دی 
پوزنشن ہوگی جو صدلق اکٹ کے زانہ میں علی ال رن کی تھی۔ رالت کا منہ لی گگیا۔ 
ذائں کے چتروں پر ساب یکی پاش پ رگئی اور میس سرفرد ہوکیا۔ عدالت میں نو لیر ہوا 


72 
اور مرا مم 
( فیک ضقم بوت'۹۵۳ا ٠س‏ ۵۴۸'از مولا نا اٹہ دسایا) 
زادہ دن ہیں گزرے یہاں سبپلھ لوک رج تے 
جو رل میں کر تھا مع ی ااعلان کے تے 
گان چاک داوں ہیں ہو تھا ار ان کا 
تنا سے کھت تھے رتت سے ارام سیت تے 


دش نک یکوائی 
جیٹس مضرنے انی اگوائڑی رپورٹ میں مولا نا یع سے ہتتعل کلم : 
”ٹور عی جالن ری نے ججو میلس اترار کے متاز ممبرت 'ابنے آ پکواس تحریک 
(شخ نبوت) کا دای ملغ رتا دا گیا اتھبوں (مرذاتیوں )کی مخالفت ہی اا نکی زندگ یکا دامد 
مقصرتھا_ 
(” ترک شر غیت“ ۹۵۳س ۹ من “ا زمولاتا ایل وسایا) 
ری زندی کا مخصد جرے رین کی مرزازی 
یس ای سے ملاں میں ای لے نمازی 


مولاتا عبد اتا تیازب یک یگ ری اور با یکی مزا 

آ پ کاپ ردگرام تھاکہ تصور سے اس کے ذربیج ا کب یگیٹ کک پچ جانمیں اور ا بی 
یس تق ہک کے ممبان اسب یکو تریک کے بارے می مل تخصیلات سے ہا وکروس لین 
فور ہیں آپ جن لوگوں کے پاس فھہرے ہو تھے انیوں نے نیرا رب یکرت ہوۓ ملٹری 
کوتادیا۔ آ پک کی نما زکی تار یکری رہے تھےةکہ اپنے ای ککارکن مولدی مھ دی جار 
کے برا گر ا رکر نی گے 

ففسور ےگ فا رر کے آ پکولاہور شائی تقلعہ لا یاگیا۔ یماں سے بیاجات لین کے بعد 
۹ اپ یکو آپ تیل مع لکردٹے گے او رآ پک چا رج شیٹ دے د یگئی۔ ٹر یکورٹ میں 


73 


یس چلا جو ےاای ری لکو روغ ہوا اور می تک چتا رہا۔ 
سے مم یکی مگ کو کیل ملنر یکور ٹکا ایک آففسراور ای فکیپن آ پکوبل کرای فکمرے 
یس لے میے ہماں قنل کے ۹( و) اور طزم بھی ت گر ڈی۔ الیں لی فردوس شا کے نف کا 
یس خایت نہ ہو کا اور آپ کو برک یکردیاگیا۔ 
دو سراکیٹس بضاو تکاھائنس میں آ پکوسزاۓ مو تکا حم سنایاگیا تواں مع رر ھا 
"ع0 ع8۲ ۷۰۵ ا٦۲‏ أا*٭ہ بط ٥‏ ع٥‏ ءتا اا٦‏ ں١"‏ 
تماد یگرون چا سی کے پھنرے میں اس وقت تک لذکاکی جات ۓگی جب تک تیماری 
موت نہ واػحع ہوجاے'"' آرڈر نات ہوۓ افسرلےکھا: 
اٹی “17 816(٢‏ ۶۲5۸85" 
۳٣‏ سس پر رط سج "۔ 
علامہ یازی: 
٣ 17 ۳۰15(۸ ] ۳۷11.1. .>×155 1۲818 0”‏ 516[۷ ..1..]] ۳ ؟!'" 
(ہیں جب ا لی کے پھندرے کولوسے روں گا اس وق ت اس رر خط اوں ۷( 
اف "از مؿأہ ٢۷عط‏ ااز٭ ں١٦"‏ 
لام غازی: 


] ۸۸ ھ۲۶۸0٣۷‎ ٣٦0٥۲:10 ۷۵۱۱ 1۲80۸٢۲ 1 ۷1] آط6اڈ؟‎ 1 


"0 ۲11 کكکّ(۔ | اہ۷۷]18 
میس شکمیس پل ہی جا کا ہو ںکہ ہنس ودفت پھالسی کے پھنر ےکو پوسہ دوں گا اس 
وقت وخ کرو ںگا۔ میں جیل میں ہوں اور آپ کے پچوں میں ہوں' بے نے جان اور بھا نمی 
دےرو“'۔ 
اف 


ڈلا ۶۱۱(۸ 5؟18تاں) اہ ص/۷ 0٥09۴۴۱٢۲۶۶‏ 1۸71!007( ۸/8 


74 


8 ۳۷۱۱۷ 551۸۷ ۳۲۶۲5 ا٢٢۷‏ ۷186101571 کا 


۸۲۳۲۳ 1ئ 0ر تل۰0۲7 
ٹر یازی ا ہمارے ا فیس ہم سے ب چھیں ےک تم نے فوٹس دے ویا سے ما نیس تو 
می ںکیاجواب دو ںگا''۔ 
صولانایازی: 
]۹۷8 15ا09۲۳۲۱)0561 ٦0٣‏ 4 ۳۳۸۸۸۰ 50 تان٢٣‏ ۳ر" 
]٦ ۲۸۹ ٣٢٢0٢٣‏ 16ک ] - 
' اگ رآ پکواپنے ا مان ب یکا خوب سے فآ پکی نما راس پر رط سیے دیتا ہوں"'۔ 
چنانچہ آپ نے بدے اعیینان سے اس پر سح کر دیےے۔ افسرنے آ پکی ہمت کے 
ارے میں کپ ھا آپ نے فربایا ۶م میبی بمت (.1 ۸ :340) کے بارے میں لوت ہو و 
دوفز آسمانوں سے بھی بلندر سے “تم ا سکااندازہ می ں ۷رت" 
اض رکے ہانے کے بعد جب آ پبھرے میں ا لے رہ گے فو تمہ ایز دی سے آ پکو 
سور گل کفکی ہے آیت یار آگئی ”خلق الموت و الحیوة لیہلو کم ایکماحسن 
عملا' آپ نے اس آبیت سے بے با لیاکہ موت وحیا تکاخالق صرف اش تال ی ے۔ 
لوگ موی زندگ کا ساس تع می کرت اراس متصدکے سے جلن ھی ج7 
اس سے بڑی زندک یکیاہوعتی ے۔ 
ایک یہ کے لی آپ رر توف کا مل ہوا مین ور زماناپے شع مایا 
کشتان ظ۶ قلیم ر 
ہر زاں از ٹیپ جان ور است 
آپ وچ کی عالت می ہہ شع یار جار بات اور جھوتے ۔ اىی عالم یش آ پکھرے سے 
اہ رآ گے نو ڈٹی پپرنٹنڈنٹ نیل مرحرحیات نے ىہ خیا لکیاکہ ٹر یکورٹ نے آ پکو بری 
کردا ہے۔ چنا نچ اس تےکما”نیازی صاحب !مارک ہو“ آپ بری ہ وگۓ!"' 
آپنے فربایا انی اس ے بھی آ گے لکیا ہوں''۔ 


75 
اس ےکا یامطلب'۔ 
آپ نے فرایا ”اب انشاء ار ا ضور اک صلی اٹہ علیہ کے ام اور عاتوں 
کی ففرست میں مرا نام بھی شال ہوگا'' دہ بل ربھی نہ سمجھا نے آپ نے فریایا ٹنیس کامیاب 
ہوگیا_ 
پکی مزا مود تکی خی رہگ لکی ہی کی طرح پچ رے ملک میں کی لگئی۔ اوھ یل 
شش قیدی کک آ پکو دس کر روتے تے۔ جب آ پکو پچان یک یکوٹھڑی ہیں ل ےکر جایکیائۃ 
آپ نے لوکو ںکو اظھینان دلایا اور فربایا کہ سکتے عاشتقان رسول ہام شماوت وش کر رہے 
ہیں 'اگر ہیں بھی اس کیک مقصید کے لیے جان درے دوں تو مبرىی یہ خوش نمی می۔ 
ححرت مولانا نیازی سمات دن اور آنھھ راجیں پھال یک یکوٹھڑی میں رہے اور امت یکو 
آ پکی مزا مموت عمرقی یس تی کرد یی اور پچ رمئی ۹۵۵ وکوآ پکو را عزت طور پہ 
بر یکردیاگیا۔ 
۹ یک شحم موت'' ۹۵۳“ مس *دن۵۔ +۵۵ “از مولا نا اللہ وسایا) 
ہر عال میں جح بات کا اع مار کریں کے 
خر میں ہوگا و مر ار یں مے 
جب تک بھی رین میں سے زبان نے میں رل ے 
کاؤپ کی وت کا مم اہار کیں کے 
اے اسلائی بھا ان یکا ممات صصلی ارد علیہ و مم رکا فان ے: 
عم میں سے ج ھکوگی برائ یکو دی فو اسے پا سے ردکے۔ اکر پانتھ سے 
روک کی استعداد شہ رکتا ہو ٹپ اسے زبان سے روکے۔ اکر زان سے بھی تہ 
روک سیا ہو اے ول ے برا جانے اوربہ ایما نکاکزور رین درج ے''۔ 
اس حد شک روش میس ہم اپنا اما بکرتے ہیں۔ 
اس وت ادیاغمیت دناکی سب سے بڑی برائی سے جو اسلا مک ذنان غمار تکودھڑام 
سے زین رگراک راس کے بھنفردات پ تقاویاضی تک مارت تی رکرنا اہی ہے۔ 
اکر مارے تمرانوں نے پاسہ سے لج ابی حلومنی قوت سے اس براٹ یکو رکا ہو ما لو مہ 


76 


فطل بھ یکاانی مدت مرکا ہو آ۔ 

اکر ام ک یک رتدادنے زان سے اس نے کے غلاف ما کیا ہف تر اس برائی 
کے بر اڑ گے ہوئے۔ 

اکر مات اسلامی ہک یش رتعدادرنے تقادیا نی تکودل سے برا جانا ہو ناف رج مقاو انی لم 
معاشرے می ںکھحل مل کے نہ رو سکھا۔ 


دنا ہہارا نا مس درہبچ میس نا ہے باصسی دربچ میس نیس 7۔اگ کی در ہے 
ٹس میں آھ۔--۔ وکیا ھم مسلمان ہیں ؟۔ کیا رمت عالم صلی ارثہ علیہ و سم سے ہا رکوئی 
ادے؟۔--- 
قلب میں سوز ہیں روں میں اضاس میں 
بیچھ بھی پیم مھ کا گے پس ہیں 





ر(ر) تب ہشمطال چاوں نے مسشستوں کا روپ دہارا۔ 

رن جب شحطان ف١و‏ رٹ اکن مدتھا۔ 

مہ جب مزاتادبالی نے دعوک ہو تکیا۔ 

ھا جب ڑگیی یمر لال و اما ذضائوں می منڈ لات پچرتے ھے۔ 

ن اہملیس !امم فرش توں ایی اورائیسی نذ تک اھدرون انز یق سال 
س۷ر من دلانل اورک ان سے مالا ول سے َ‫ 


0 1ئ0 





ا ا لا ہے ا ۱ وش اریہ 


78 


فرشے الہ پا ک کی فورانی لوق ہیں جھ ہر کی ھائی د ہائش سے پک 
ہوتے ہیں۔ فرشتو کی دنا جس چار فرش سب سے زیادہ مممور ؤں۔ 

0 حکت چجرائیل علیہ اللام (۲) حخرت ہزرائیل علیہ الام 

۲۶) حفرت میکائیل علیہ اللام (۴) حرت امرٹل علیہ السلام 
حٹرت چرائنل علیہ الام : حرت جرائل علیہ السلام فرشنہ دی ؤں۔ 
عٹرت آرم علیہ السلام سے نےکر خاتم الین حعٹرت مر مصطفی صلی اللہ علیہ وم 
تک سارے ائیا ءکو الہ کا پغام آپ کے ورجہ تی جانا را۔ 
حقرت عزرائیل علیہ السلام : اللہ پاک کے عم سے بر جاندا کی روح ٹل 
کرنا آپ کے مہ ہے۔ 
حفرت میکا نل علیہ السلام : ارشوں“ ہواؤں وظیہو کا اظام آپ کے یردب 
حضرت امراشل علیہ السلام : اللہ کے عم سے آپ اپنے منہج صور لے 
کھڑے ہیں۔ جوشی رب ذدالپلال کا عم ہوگا آپ ہہ صصور پچھوکک دریں گے۔ جس سے 
ی لام ستی درم پرتم ہو جاۓ گا اور قیاصت پا ہو جا ۓگی۔ 

ان ار بے فرشثان کے علادہ ا نگنت در فرش اپپی اپی ڈوٹیاں ارا 
نے میں معروف ہیں۔ بھھ فرشت قا مکی حعالت میں ہیں یھ رکو' ہہ ود اور 
سچھ تشم رکی حالات میں ہیں۔ ىہ فرشتوں کے مہ مرف تج ر قلیمل ےھ 
فزشتوں کے مہ اللہ پاک کا نت اٹھان ےکی ڈلوئی ہے پھ فرش انسانو ںکی شییاں 
ارر برائیاں لین پر مامور ہیں پگھ فرش ری صاب وتتاب پر مقرر ہیں۔ چجھ 
فرش جن میں او رھ فرش جم ہہ ققینات ہیں۔ فرشتوں کے دک رکئی فرائش کے 
علادہ ایک انتماگئی اہم فرض ہہ بھی ےکہ روزانہ تج وشام سترستربزار فرش ناجدار 
شم وت جناب مم رسول اللہ صلی اللہ یہ وسلم کے روشہ اور پر درودو سلام پڑ غ 
سے لیے عاضرہوتے ہیں اور جنس فرش کی ایک رلعہ باری آ جاۓ دوبارہ قیامت تک 
ا کی باری ٹمی من ےکی ۔ 

یس نے نے فضرسا ماک چچے دا چے وین اور ہی نبوت کے فرشتوں کے 


79 

پارے می ںکیا ہے نین ہندوستا نکی سرنشن سے ایک بجھوپ بی مرزا ظام اھ دای 
اٹھا۔ اس نے اعلا نکیاکہ دا نے ا س کو بی اور رسول بن اکر کھیچا سے اور خرا اس 
1 طرف فرشتوں کے زریے دب یکر ہے۔ اس کے پاس فرت عاضر ہو رج ے ہیں 
اور خلف محاطات میں ا سکی مم دکمرتے ہیں اس نے اپ یکتابوں میں اپ نے کی 

فزشتوں کے ہام بھی کے ہیں۔ 
ٹن جس کے بھدے اور عخل کے انرھے مرزا .قاویا یک وکیا معلومم ٹھاکہ 
شے وہ را ککتا سے وہ شحیطان سے اور جنممیں وہ فرش گھتا ہے دہ حخیطان کے چیہ 
ارر ۓے وہ وم یکتا ہے دہ حیطائی پبغام ہے جو حیطان اپے چیلوں کے زرہیے اس 
تک پشچا ا ہے اب ماحظہ ڈراے ھرزا انی کے چند فرشتوں کے 'ہاساس ۓےکرامی! 


0 ا لیک وفع بی نے فرشتو ںکو انا نکی شل پر ویکھا۔ یاد شی ںکہ دو تے 
ا تقی۔ آہیں می پام ںس کرت تے اور یجھے کت ےک فوکیوں اس ڈرر مشقت اٹھا 
ہے اندیشہ ےکہ جار نہ ہو جائۓ"۔ ( اک ص۲۳) 

ی پاں خیال نوکرنا می تھا اس دفت پرری دنا بش شحیطان کے پاس فعط بی لو 
ایک بجھو نا نی تھا اور تی چیزکی طاطت کل چاے :! (اتل) 

0 کم جوری ۰ م٭ل کو فرایاٴ ایک رفعہ مھ ایک فرشتہ آنٹھ ما دس سالہ لڑکے 
کی شل پر نظ رآیا۔ اس نے بڑے شیع اور بٔغ الفاظ می سکم اکہ ”دا تضمادری ساری" 
عرادمیں پور یکر ےگا" (جزل ص۲۴۸) 

واٹی بی خانہ ٹس ھک ہر عراد ری بوگئی۔ (نائل) 

0 صلی پلش ساحب نے با ن کیاکہ حخرت کی موعور علیہ ا محلوة 
واللام نے فرایاٴ 'بڑے ھرزا صاحب پر ایک مقدمہ تھا۔ ٹس نے دن اکی نو ایک فرش 
بے خواب میں ما جو چھوٹے لڑ ےکی شکل میں تھا۔ مس نے مو ھا تممارا نا مکیا ہے؟ 
وہ کے لگا میرا ام حیظط ہے۔ روہ مقدمہ رٹ دقع ہوگیا" (مذکر صے۵د) 

فرش 3 پچھوٹا سا تھا لن کام بت بد اک رگیا۔ (ناتل) 
0 اکر سید عبدالتار شاہ صادب نے جیا نکیاکہ جرت کی موعور علیہ 


80 
اصلوۃ والسلام نے فربایاٴ ”اس نار کے ساحے دو فرشنے میرے سان آئۓ جن کے 
پاش دہ ٹیریں روٹیاں ش٠یں‏ ادر دہ روٹیاں انموں نے جھے دی او رکھا کہ ایک 
تممارے لے سے اور دو ری ہارے میزول کے لے ے۔ (جزکر ص دے؛۱ءے) 
رد ادر پیٹ کے لیے و دو مبو تکیا تھا۔ اس لیے فرشتے بھی روٹیوں 
والے تی نظ رآنے تے اور وہ بھی ٹیٹھی! (ناتل) 

3 سم یک فرشع م نے میں میں کے توجوا نکی شُل شی ویگھا۔ صورت 
ا سکیل اگلریزو کی عھی اور میزکری لگائۓے ہوئے ٹبیا تھا میس نے اس س ےکم 
آپ بت تی خوبصورت ہیں اس نن کاٹ ردشنی ہوں“۔ (جزل ص٣۳)‏ 

وت بھی نو اگگری: نے دی شی اس لے شیطان بھی اعگری کی شل میں آگیا 
ہوگا(زاتل) 

ن0 سفن فرش اسان سے آئے اور ایک کا نام خر اکی ھا“۔ (تیات القلوبٴ 

ص )۷٢‏ 
می بھی و ساری زندگی بچھوپی پیا کر اگری: سے خیرات اکا ربا اس لے 
فزشۃ بھی خراتی نیب برا۔ (نائل) 

0 مل غواب می ںکیا دیگنا ہو ںکہ ایک عنفص من لال نام ج کی زانہ ش 
الہ میں اسٹنٹف تھا“کرسی پر ٹیا ہوا ہے اور اروگرد اس کے عملہ کے لوگ ؤں۔ 
میں نے چاکر کان ا سيکو دیا اور یہ کماکہ ىہ میرا پرانا دوست سے اس پر وخ طکر وو۔ 
اس نے بلا ال اس پر دسح طکر دے۔ ہہ جو معن لال دیکھاگیا ہے عفن لال سے 
عراد ایک فش ے“۔ (جزل ص۵ن) 

کی وفعہ امشاف ہوا ےکہ فرشتے ہندد بھی ہوتے ہیں۔ (نال) 

0 سمممیں ےمع ‏ عاات می دیکھاکہ ایک عفن جو جے فرش معلوم ہوا سے 

مر خواب میں محسوس ہواکہ اس کا نام شی لی ہے"۔ 
شیطان' ملمان کے روپ میں۔ (ناتل) 

0 سمممیں س ےکٹف میں دیکھاکہ ایک فرش مرے ساسے آیا او رکننا ےک 

لوگ پکرتے جا رہ ہیں۔ تب میں نے ا سکو خلوت میں نے چاک۷ رک راہ لوگ پھرتے 


81 
جا رہے ہیں گ رکیا تم بھی پچھرجۓے۔ و اس ن ےکا بھم تمممارے سا ہیں"۔ (الوار 
اللام“ ص۷٢۵)‏ 
یں خمممیں چھوڑ سےکراں جا سا تھا سارا منصوبہ خرا بکرنا تھا اس نے 
اچا!زاتل) 

0 "روا دیکھاکہ مرذا ظام الدین کے مکان پر عرزا سلطان اح دکھڑا ہے اور 
سب لاس س رپا سیا ہے۔ اڑی گاڑھی سیاہ کہ دیکھی فی جاتی۔ اسی وقت معوم 
ہواکہ ہہ ایک فرشنہ ہے جو سلطان اج کا لاس پچ نک رکھڑا ہے اس وت میں نے 
گرم خاطب ہوک رکھائکہ ہہ مرا بنا ہے۔ بب دو فرش اور ظاہر ہوگے اور جن 
کرسیاں معلوم ہوک اور تیوں پر وہ ین فرش :یٹ مع اور بھت می عم ےکپ لکن 
ٹر غعکیا۔ ج سکی مز آداز سنائی دیق تی ان کے اس طرد کے کیہ میں ایک 
رحب تھا۔ میں پا سکھڑا ہوں لآکہ بیداری +وگی)"( مز ص۵۳۲) 

کال فرشا تادیانی نبدت کا نا ا۰شاف۔ ابے! کانے پا والا بدا یطان تھا 
ار بتر مل آے وا لے پچھوئے حیطان تھے۔ بے وق ف کہیں کے! (ال) 

ں ہہ تھوڑے ون ہوئے ہی ںکہ جج ھکو خواب آبا تھاکہ ایک تچکہ میس ینا 
ہوں۔۔ یک وفع کیا دنا ہو ںکہ فیب سے کی قد روپ ھیرے سائے موتود ہوگیا 
ے۔ میں جران ہوا ہکھاں سے آیا۔ آخر می ہہ رائۓ نر یکہ خدا تھاٹی کے 
فرش نے ہماری عاجات کے لیے یہاں رکھ دیا ہے۔ پھرساتھ المام ہواکہ انی مرسل 
الیکم ہی کہ یں تماری طرف پربہ ھا ہوں۔ اور سا ی غیرے ول مل پا کہ 
ا سکی بی تیر ےک جارے تفلص ووست حابی سبیشھ عبدال جن صاحب اس فرش 
کے رگک میں ۴ل سے میے ہوں کے اور الا وہ روپ گیچیں گے اور میں نے اس 
خوا ب کو عولی زبان میں اپ یکتاب میں لہ لیا۔ چناٹچہ کل اس کی مدق ہ گید 
لمدلہ سے تو تک نثائی سےکہ مو یکریم نے غاب اور المام سے تمدربق فرالی"'۔ 
(زل ص۳۴) 

شیطانی تفہ مہارک بو۔ (بائل) 
0 ممصہ قرما میس میں کاگزرا ےک جج ےگورراپپور شش ایگ ردیا ہوا 


82 


کہ یں ایک پچارپائی پہ بیٹھا ہوں اور اسی چا پائی پر بانئیں طرف مولوی ھرانڈر صاحب 
غزنڑی مہم ٹیٹے ہیں۔ اس مس میرے ول میس تریک پیدا ہو کہ مس موا دی 
صاہب موصو فک چاررائی سے یئ انار دوں۔ چتانچہ می نے ا نکی طرف کن 
شرو کیا یہاں ک کک دہ چارپائی سے ا کر نشن پر ٹہ گے اسنے میں جن فرش 
ما نکی طرف سے ظاہرہوگے۔ جن میں سے ایک کا ہام خرائی تھا۔ ود توں بھی 
زین پر جیٹہ گے اور مولوی عبراللہ بھی زشن پر تے اور جس چارپاگی پر با را۔ ٹپ 
یش نے ان سب سح ےکمااکہ می دع اکرتا ہوں تم سب کش نکھو۔ تب میں نے ہہ وا 
گی۔ رب اذھب عنی الرجس وطھرنی تطھیرا اں رما بر خوں فرشتوں اور مولوی 
عبراللہ نے ہی نکگی۔ اس کے بعد ود توں فرش اور مولوی عپرااثد آسما نکی طرف 
اڑ گے اور ہیی آک ھک لگئی۔ (جال ص۲۹) 
سارے شیاشین زشن پر اور پ رشیطان ”مزا قادرا نی" عچارہائی یر کیسا ے؟ 
شیطان اس کو وکہ کے تا تھا رک ے 
ای ہہ مھ سے نے گا نے ا زاگل٤)‏ 
9 صلی حعالت میں ویک اکہ ایک عنص جو جھے فرش معلوم ہو ہے۔ گر 
واب میں موس ہواکہ اس کا نام شی ری ہے اس نے ےہ ایک بل ناک میری 
آھیں ثالی ہیں اور صا فکی ہیں اور یل او رکدورت ان شش سے پھینک دی اور 
ہرایگ بناری او رکر ]اہ جنی کا مادہ کال دا ہے اور ایک مصفا نور جو ہکھوں میں پل 
سے موجود تھا گر اض موار کے یج درا ہوا تھا“ ا یکو ایک ہیکت ہو ستار کی طرح 
ہنا دا سے اور نہ عم ل کر کے پھروہ حنص طانب ہوگیا اور یں ا سمشنی عاات سے 
بیدار یکی طرف شعفل ہوگیا"۔ (جزل ص٣)‏ 
اگ رکوگی تھوڑی بت انساشیت کی برمتی تی وہ شیطان نے ای کرماہر پک 
دی اور پھر پر ہل طکو ٹکوٹف کر شحطنت بھردی۔ ٹوب ابر یش نکیا خٔطان ہے مین 
آکھیں پر بھی ٹحھیک نہ ہوئھیں۔ (باتل) 
0 مع و رات جس کے بعد بجعہ جم مارچج ۱۹۰۵ء ے۔ ایک جج کے بعد 
پٹٹیس منٹ اس رات میں نے خواب دیکھاکہ یھ روید ہک کی اور مخت مشکلات 


83 

پیشی ہیں اور بہت گگر وا یمگیرہے۔ میں یک وکنا ہو ںککہ ایک کائ بنائو نس میں 
تکما ہوکہ مع ہہ تھا اور خرچج ىہ ہوا ۔کوئی می جا تکی طرف ٹوجہ می ں کر اور 
سماننے ایک معن بھ صاب کے کاغزات لکھ را ہے۔ میں نے شناش تکیاکہ یہ تو 
بھی واس تع خر فولیں ہے ج کی زانہ میں خزانہ سیاکلوٹ میں اسی عمدہ پر لوکر 
قھا۔ میں نے ا سک بلاا چاپا دہ بھی شہ آیا۔ ابرواہ رہا۔ اور ٹش نے وییھاکہ ردپ ےکی 
بس تکی ہے کی طرح بت میں لتق اسی انثاء میں ایک صاخ مرو سادہ طخ سادہ 
پش آیا۔ اس نے ابی بھی ہوگی مٹھی ردپ کی میبی جھوٹی میں ڈال دی اور اییے 
جلدی چلامگیاکہ میں اس کا تام بھی نہیں بچھ کا گر نچک ربھی روپیہ کی کی رنیب پھر 
ایک اور صاع مرو آیا جو عحنس فورائی شل سادہ ض کو لہ کے ایک صوٹ کی شل کے 
مشابہ ا“ جس کا نام ال اکرم اٹی یا حضل اىی ہے نس ن ےکرتد چک نہیں روپسے دا 
تھا صورت انما نکی سے گر عابیدہ خلقت کا آ وی معلوم ہو٣‏ ہے۔ اس نے دولوں 
اھ سے روپیہ بگھرکر نی موی شل وہ روپے ڈال ا- اور وہ ھت سا روپے ہوگیا۔ 
بس نے ب ھا آپ کا نا مکیا۔ اس نےکھا نا مکیا ہو ہے۔ نام مھ نھیں۔ میں نے 
کھا۔ کچھ لاق نا مکیا ہے۔ اس نےکھا بی اور ہس اس وقت تجئم پاب ہوگیاکہ 
بعاری جماعت میں اےے بھی ہیں جو اس پرر روپے وییۓ* اور نام میں بقلاتے اور 
ساتھ بی کنتا ہو ںکہ یہ نو دی شی سے سے پر فرشتد ہے۔ اور جب بمت سے بال کا 
نظارہ میرے سا آیا کٹ ن ےکما میں اس میں سے منظور می رکی بیو یکو رول گا کہ وہ 
عاجت مند ہے اور جب میں نے ہہ خواب دیکھا اس وقت رات کا ایگ کر اس پ 
یں منٹ زیارہگزر کے تے" - 

رز ای کتا کہ اس کا ام "گا" اس لیے ہےکہ میراہ رشن 7 
کے ما سے اور ےک کے جا ہے ۔کویا یہ اپنے وقت می مرزا قادیا نی کا 6 مطیارہ 
تھا۔ 

زم متا رتین! آپ نے ملاحظہ فا یاکہ ھرزا جا دیائی کے فرش اس کے پا 
امام شریعت ل ےکر نہیں آئے اس کے کسی جماد یا عم پر روانہ ہوئے کا پغام 
نےکر ہیں آتے بللہ دہکہیں ا سکی بجھوٹی میں روپ ڈال رہے ہیں “میں اس کے 


84 
پاش مقدمہ نے کا پغام لا رسے ہیں “کھیں ا سکی گبراہٹ دو رکرنے کے لے اسے 
ای ممد کا وعدہ دی ہوۓ اسے بجھوٹٰی حبوت پر اکر رہے ہیں او رکھیں اس کا حوصلہ ۱ 
بڑعانے کے لے می زکری لا ےکی اگری: کے روپ میس ٹیش دکھائی دے رے ؤژں۔ 


ہہ سارا وعندہ شیطان کا پچھیلایا ہوا جال تھا جس مض اس نے مزا مار یکر 
بی طرع پچھنما رکھا تھا اور اس جال جس پچھنما ہوا مرزا چادبانی خودکو ھی اور یطا نکو 
دا کمتا رہا اور شبطالئی پانو ںکو الڈر سے مو پبکر رہا۔ 

شیطان مود جو گل و قریب کے ہراروں تھیاروں سے "لم ے۔ وہ پدے 
بے اولیا کرام کے ابمان لوٹ کے کے ان ےر عملہ آور ہوا سے اور اس کے 
خریاک ععلوں سے فط دی با ہے جس کے شال عال اللہ کا ففل را ہہ بی 
شیطان مودد جب مزا ادیائی پر عملہ آور ہوا تو اسے پل ہی گے میں ہیں چچے پا ڈکر 
کہ دا خس حطر چگی بلا چو ہے کو جج چاڑ دنا ہے۔ عنرت ما عبدانقاور جیلائی ا 
واقعہ ہب ےکہ آپ نے ایک رات الیا فور ویکھاجس نے عا مکو منو رکر دیا۔ اچاتک 
اں نور یں سے ایک ورائی شثکل فمودار ہوئی جن ے آواز ری اے بہرالتارراش 
تیر بردردگار ہوں۔ ۴ی تتھ سے بھت خوش ہوں۔ م۴س نے تی ری سماری عارات ت٠ول‏ 
کییں۔ آحیدہ ععباوت سعاف اور ترے لیے سب بکھ علا لکیاٴ اب و جو چاسے وہ ٹل 
افقیا رک آپ" فریاتے ہی ںکہ یں نے سو چاکہ مااٹھی م کیا ماجرا ہے۔ یہ عم نو انیام 
کو نہ ہوا میں پھلاکون؟ جس پر سے برپابنری دد رکی جا رتی ہے۔ معأ یس لے ٹور 
فراست سے ن سمبچاکہ یہ حیطائی افغوا ہے۔ میں نے بڑھا عو ہانلہ صن ا شیغان 
اٹم" او رکھاٴ اے مرں! وور ہ وکیا با ہے اچانک دہ ٹور ہت انریرے شی پرل 
گیا اور پچ رآراز لی اے عمپرالقاور لو اۓ می پرولت گی درشہ ال سے پر 
یی بھت سو ںکو پچالس پک ہوں۔ میں ن ےھ ا ےکم بت ! میں اپے علم سے میں“ 
اپنے رب کے ففل سے بیا۔ نت مجھے یہاں بھی دعوکا دنا ہے کہ مجھے اہ علم ب رگعنڑ 
پرا ×× جائے۔ اس کے بعد خطان دہال ے بھاگگیا۔. 

من شیطان نے انا سی حبہ جب حضس کے ہندے ھرزا ادیائی بر استعا لکیا 


85 
و اسے یں ویو جکر ل گیا جس طرح باز چیا کو دیو جکر نے جا ہے۔ مرزا 
دای نے ابی تاب ”باون احریہ" کے صفہ ۵۷ پر فریہ در عکیاکہ اللد نے بجھ 
ےکا ے۔ 
اعمل ساشمت فانی (اے مرزا لو جو چاے س وک رلیاک() 
قد غفرت لک دکیوکمہ می نے گے بلش دا ہے) 

اب ایک دو ما واقعہ آ پکی خدمت میں بن یکر ہوں۔ 

ایک عرتب یھ ایل اللہ مشابرہ جن کے سلملہ میں مروف "نتگو تے۔ انز 
یس ایک صاحب ابو مھ خخاف ہو لے آپ حعفرا کی جس ور رگد شی ود علم میں 
تی کن مشاہ کی حفیقت بھ اور می ہے مشابرہ بی ہ ےک تجاب اش ھکر اللہ 
تزائی کا معائنہ ہو جائے۔ عاضرین نے حرت سے ب ھا سے کیسے ممکن ہے؟ ت2 انموں نے 
انا مشاہدہ بیا نکیاکہ ایک عرتبہ یک میک تاب اٹ گیا ادر یس نے دیکھاکہ عرش پہ 
جن تعاٹی جادہ افردز ہے۔ میں یھت ہی سرے میں جا ڑا اور عو ضک یک ”نائی !نے نے 
اپپی رعمت کے مس بلند ددجہ پہ پنیا دا ہے"۔ 

واتعہ مم یکر ماش ٹیں ے ایک پزرگ تعاضص اث اور ابو گر خاف ےکا 
کہ چل ایک بزرگ سے آپ کی ما ا تکرا روں۔ وہ ان کر چٌٍ این سعدان کی 
مدمت میں نے مے اور عر ضکیاکہ ان صاح بکو شیطان کے تنت والی حدیث مٹا 
وت نے ہہ سر تل دہ روایت سائی۔ 

سید الترب و ا جم صلی اللہ علیہ وآلہ دسلم نے فیا یاکہ ”اسان اور زین کے 
درمیان شیطان کا ایک تحت ہے ج ب کی انا نکو سے میں ڈالنا او گرا ہکرنا چان 
ہے ت وہ تخت دکھاکر اپلی طرف ماک لکرا ہے"۔ (متقول از تمہ جس) ایوگ خواف 
کن گ کہ ذرا ایک وفعہ پھر سناہئے۔ انموں نے عحدیث پاک ددپارہ سناگی۔ ابو حر 
خاف زار و تطار روئے گے اور رواد دار اش ھکر جھاگے۔ کئی روڑ کے بح طاتقات 
ہوئی ٹر جایاکہ ان نمازوں کے اعادہ میں مشخول تھے جو امیس کے مشابرہ کے بعر رے 
ا سکو دا سج ےکر بڑھی تتھیں۔ طالب جن تم وچ ھی اتل مک ہبی نان شیطان نے 
جب بی تحلہ مرزا قادیائی ہ کیا نے وہ پالنل کامیاب ھا اور ھرزا قادیالیٰ نے ا سکیفیت 


86 

کو بڑے اعزاز کے ساتھ ہیں ک ما_ 

”ا الزا ںکی پٹ ی علاصت ہہ ہ ےکہ خدا تھائی ان سے بست قریب ہو جا 
ہے اد دصی قدد پہ دہ اپنے ہاگ اور روشن چرو پر سے جو فور حضل ہے انار دنا ے 
اور دہ اپنے میں ایا پاتے ہیں ک ہگویا ان سے کوئی ٹف کر را سے اور ےکیفیت 
وو مرو ںکو نظ رٹنیس آتی۔ ہیں میں اس دقت بے در ککتا ہو ں کہ غمدا کے فخل 
سے وہ امام الزیاں میں ہوں"۔ (ضرور؟ الامام مس“ مصنفہ مزا قاریانٰ) 

اور خۓ ! 

”یچ ایک ہار ریھک ہکچوری ہی گیا ہوں قو الہ تال ایک عا مکی صورت پر 
عدال ت گی کی پر بیٹا ہے اور ایک ص رشن دار کے پاتھ میں ایک حعضل ہے جو وہ 
ٹپ یکا ہے۔ عاکم نے ہل د ‏ ھک رکماکہ مرا عاضرہے۔ و می نے خور سے دیکھا 
کہ اللہ تقاٹی کے پاس ایک فا یکر پڑی ہے۔ مجھے اس پر ٹیٹنے کا اشارہکیا ار پچھر 
بیدار ہوگیا"“۔ (حزل' ص۹٣)‏ 

مد خۓ ! 

عنم نے ایک وفع کلف میں اللہ تقا یکو ٹیل کے طور پر دیکھا۔ میرے 
کے می پاتھ ڈا لکر رای“ 

شب 3 مرا ہو رہیں سب بک ترا مو" (جزل'؛ص نم) 

اور مزید خُۓ ! 

*ضور نے ڈرایا شہ خمدا اس طرح خاط کر سے اور بچھ سے اس طرم 
کی بای کر ےکہ اگر می ان جس سے بکھھ تھو ڑا سا بھی اہ رکروں لہ چتے متیز 
ظ رت ہیں" سب پھر جاویں"۔ (سیرت ا ممدری' مس بے“ حصہ اول' مصنقہ مرڑا بٹیر 
ا7 این زا قارال) 

شیطان مرڑا ادیائی یسا کیا نگ کا ھا ؟ کیا پنابات مجواتا تھا ؟کیا دی 
کر تھا؟ ان کے چچد نھونے پیش خدمت ہیں* 

ض ریش ع یراوس یا بلاطوس" (کتبات ار“ جل اول' ص۸٥)‏ 

”ید پھ ٹگیا'۔ (ا ابشریٰ' ہلر وم“ ص۸) 


87 
”تلم عم عم( شی“ لد دو م؛ ص +د) 
”زندگیوں کا مات (جذکی“مرے۰٥)‏ 
ٹیک وان ہس کس ن ےکھاتا" (ا اہشرییٰ جللد دو م“ لے *) 
۷ف" رج زل' ص٭۵) 
ساس گے کا آخری دم ہے" (مزگیٴ ص۰ام) 
نپ پٹ گئی"(مزل' ص۸۸) 
ما مد"( جزل ص٢د)‏ 
”یف "رج زل' ‏ ص٣صدے)‏ 
جک رنی لوٹ' (جزل“ ص۳۰ن) 
مخواب میں دکھائۓے می 0) شین اسمرے (۲) عطرکی شیشی' (جزں“ 
لمد) 
میں خم سے عب تکریا ہوں؟ ہ٥٣10‏ آ1 
میں مہارے ہاج ہرل' ہ7 طائ× حدہ 1 
٣ں‏ مں رش ہوں" ووعطا ص٥‏ ] ہ٦‏ 
”زرل رہ ے"' ‏ صنمع مز ہ۶ذ] 
,میں تمماری و ول گا" ×× ص(ەط العبطہ 1 
(تقیقہ الوی/ ص۳٣‏ معنفہ مرزا فلام امر ریا ٰ) 
میں امت ہاج ڑے گا رص ۴) عععاحسۂ ما مع ما ٥٣ھط‏ 
1ا 
معتول آری ری ۸۳) حەدہ عنلہ 
(ا بش کی“ جار ررم“ گور اماات زا ٭اىانٰ) _ 
مم ا ری ي به رو الفاظ" سے کے نقرے آوارں گے اور ہے 
بے و صی بارخیں ”کیا ىہ اللہ کا کلام ہے؟ نمیں* للزمیں۔ے سا جیطانیبکواس 
ہے جو خحیطان نے مد ےکا فان کے فوسط ےکی ہے 
شیطان سے مزا ا رای کا امان ججین لیا۔ اسے رم ما دیا۔ اں ے 


88 


عم د فخمد ین کی۔ اسے بے بصارت د بے ایر تکر دیا۔ اسے چ نم کا راگ ملین بنا 
درا ادر چک رسب بتھ یہ کے بعد ا س کی عزت بھی لوٹ پی۔ حوالہ مطاحظہ فرمایے! 
ہرذا ا دیائی کا ایک مید تقاضی یار حھ اہے رٹ نہ ر۳۴ موسومہ ”اسلای ال" 
مص جا رککھتا ہے_ 
رت کیج موعود (مڑا) نے ایک موق پر ابی عالت ہہ ظاہر رات یککہ 
کش فک عاات آپ پر طاری بوگ یکو اہ آپ عورت ہیں اور اللہ تمائی نے رتولیت 
کی طات کا اع مار فرایا۔ جن دالے کے لے اشارہ کاٹ ہے''۔ 
آے ہم سب پڑھیں 
اعو ذباللەمن الشمطان الر جم 
اور آئے پا تھوں کامکول بن اکر انلر سے دعا باگیں۔ 
ای نول رکنا 6٤‏ ا ے 
توم] مج کل ہے ینام سے 
خادم تحریک عم وت 
حر طاہررزای 
اویٹ: ” جذکر* ھرزا قادیائٰی سے وف اامامات“ رویا اور وی کے موب ہک و ککتے ہیں 
اور جمزکر نعوز پانلہ تقادیانیوں کا قرآن بھی ے۔ 
9 








90 


میرے ‏ یا جناب مجر رسول اللہ صلی ارلد علیہ وآلہ و٣‏ ! 

جن کے کے ہہ ہزم بستی سا ی کک ی.--۔ جن کے یی عروس کانیات کے یس 
آراستہ بے گئے۔-۔۔۔ جنمییں مت تح مہوت ۔ جلو ہگ رکیاگیا----۔ جن کے سرانفدس یھ 
تارج شعحم فدت سجایاگیا۔--۔۔ جج نکی نبوت کا رت مو ری کائتات میں لرایاگیا----۔ جنمییں 
سید اماولین وآ خرین بنایاگیا۔-۔۔۔۔ جنمیں شا نم ٹک اعزاز عطاکیاگیا-۔ -.-۔۔۔ چنمییں سای 
کوٹ کا منص ب میم مت فمایاگیا ---۔ 

میرے ئی جناب مج رسول اللہ صلی ارڈہ علیہ وآلہ وس٣‏ م! 

ال کو ان سے اتا پا ر کہ اللہ کہ طیبہ میں اپے نام کے ماتتھ ان کا نام 
سجاۓ --۔-۔۔ الل کو ان ے اك مب تکہ اڑائوں میں اد کے اس عمگرائی کے ساتھ ا ن کا اسم 
ابی بھی آئے۔-۔۔۔ ال دکو ان سے اتا لگا کہ اللہ قرآن میں ان کے ری عم 
اٹھاۓے۔-۔-۔۔ وو اللہ کے ائۓ لاڑ تل ےک الہ ا پاایھا المزمل' یاایھا المدثر اور 
لیس و طہ کے معحبت بھرے ناموں سے کا رے -۔-۔۔۔ وج انی کو اگ گ زٌ مک ایشر ا نکی 
زند یکی عم اتھاے۔-۔۔۔ وہ ادڈ دکو ات ےکر مکہ الد ان کا سابیہ بھی پرا ن ککرے۔-۔-۔-۔ 
جن کے بارے میں اللہ اتنا باغیر تک ان کے مم اطمر بھی بھی : نہ ٹڑچھنے رے ٹسیٹ 
جننییں اللہ یہ عفظمت چنشی ںکہ وہ سب سے پل باب جن تکھوئیں۔.۔۔۔ جو قد کے ننز یگ 
اس تشم کہ ایل ا نکی اطاع تکو ای اطاعت قرار رے--۔-۔۔ ہہ ن کا اش کے پال سے مقام 
کہ اد ائمیں مقام مود یر فائ زکرے۔-.۔۔ نتن کا الف اتا مح بکہ اخٹمیں عرش پر جلاک راچا 
مان بیاۓ اور اچ دیدا رکراۓ -۔-۔۔۔ میں اللہ ہہ وقار بش لہ روز جشٹرسارے بی ان 
کے جھنڑے سے شع ہوں۔.۔۔۔ یجن کے الام میں الد اتا صا سکہ مسلمافو ںکو عم رے 
کہ اتی آوا کو پ یکی آواز سے بلند ن ہکرو۔۔-۔-۔ جو الد کے ات لاڈ ےکہ ان کے روہ 
ار مع دشام تر متربجار فرش عاضری دیں--۔۔۔ جو اللہ کے پال اس قد قائل ف کہ 


جبرنتل ان کے گھ ری مہا یککرے۔۔---۔ 9 رفعت کا نہ عا ‏ مکہ الل کے ہیل القدر 
امام ابرا یم و یی ہم الام ا نکی آمدمبار ککی دعاسی کریں.---- ج نکی ہہ شا نکہ 
وہ مرا نکی رات سمارے امیا ۓےکرا مکی امام تکریں۔۔۔۔۔ نکی بے فدر و ضزل تکہ 
ابا اش ریا میں گج کر اسان شی مکرے۔-۔۔۔ جن سے ال رکو اتا پیا رکہ اللہ اور اس 
کے فرشتے ان پر درو رگییں۔-۔۔۔ وہ اش کو ات چچیین کہ اوہ ا نکی اص تکو خی الا مم قرار 
رے۔-۔-۔۔ ال" کی ان کے دوستوں سے انی دوس کہ سید نا ابوبجر صیدل کو اید کا سلام 
آے---۔۔ ان کے رنیقوں سے اش کو استی چاہ تک اللہ انمیں دنا یم ججنت کے 
نیقلیٹ عطا فراے۔۔--۔- 

میرے ‏ یا جناب مھ رسول اللہ صلی ادل علیہ وآلہ سم 

تال کاتات۔۔۔۔ سن کاتجات۔-۔۔۔ زیوعت کاتات.--۔۔ جن کے چہرے 
سے سور کو فیا لی ہے۔--۔۔ مجن کے رشمارو ںکی ودک سے پان پا نی حاص ل کر 
ہے--۔۔۔ جو نکی ہگھو ںکی نک سے ستارے گان میھت ہیں---۔۔ بن کے دایو ںکی 
تو سے جوا رات کےا بنر جا ہیں--۔-۔۔ مجن کے لیو ںکی زاکت سے من پکنا گت 
یں--۔-۔۔ جن کے ماتھے کے فور سے انسانیی تکو رات ٹے ہیں.--۔ بن کے فی زیہا سے 
سد اپنے ف دی رعناکی عاص ل کر ہے۔---۔۔ بن کے سا سو ںکی ویک سے مقیک و عب رخو شب 
ات ہیں--۔۔۔ ج نکی زلفو ںکی لیک سے کاننات جنا سنورنا تی ہے..-۔ ج کی 
کھو ںکی ما سے کیاں شراا کھت ہیں.-۔۔۔ رج نکی مصگراہٹ سے فو قزح رگ 
تھا جانق ہے۔-۔-۔۔ ج نکی چال سے مست خرام ندیاں لن سے آشنا ہوکی ہیں----۔ 
ج نک یکفشمو سے بٹبل لے کھت ہے۔-۔۔۔ جج کی آعگھو ںکی سای سے کا گاؤ کو سن 
ہے۔-.۔۔ ہج نکی آگھو کی سیدی سے د نکو اچالا ا ہے---۔۔ بج نکی پچ کی 
دلاوی: طرکت سے نوم جھلملانا کے ہیں----۔ نجن کے ابرو خیرا رکو دک ھکر ہلال ابی عصورت 
تراشنا ہے۔-۔۔۔ مجن کے لال سے بھلیا ںکاکنا اور جن کے مال سے ہاو کم چلنا جانقی 
سے ج کی نگ کے لفطوں سے برایت کے راغ لے ہں۔۔۔۔۔ اور نشی کے 
قد موں کے نشان سے انساضی تکو ضزل کا سراغ ما ے۔---۔ ٰ 

میرے بی جناب مھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و ”لم 


92 
میں نے سب سے پچنلہ انسائی تو قکی صرا بلن رکی۔-۔۔۔ جنموں نے سب سے 
پیل اممامی تکو ین الاقوابی منشور عطاکیا۔-۔۔۔۔ جنموں نے انساضی تکو الیک ان یننل پیٹ 
ارم میاکیا---۔۔ جنموں نے رک و نل کے بتو لک پاش پا ش کر دیا.-۔۔۔ جنموں نے ٰ 
عری بھی گگورے او رکال ےکو ایک صف میں لاکھڑ اکیا۔--۔۔ جہنموں نے ووروں کے لس مکو 


وڑا۔۔۔۔۔۔ جنموں نے نلاگموں کے خاف شب رجماد بن کی۔-۔۔۔ جنموں نے بیو ںکو ہے 
سے نایا اور ان کی سریس فراگی--۔-۔۔ جنموں نے ملا موں کی بتھڑیاں اور بیڑیاں 
کھویں.۔۔ ہموں نے ہے نواؤو ںکو قوت انظمار تئی۔۔۔۔۔ جنموں نے گمزوروں و 
طلاتتوروں کے مقائل لاک ایا سس سے جنموں نے عور کو تع ریرلت سے نا ل راس کے بر 


بر ععزت و ععم تک چادر رکھی سس بنموں نے معن تک ش کو معاشرے میں وتار عطاکیا اور 
اے اب کا روست قزار دیا --۔۔۔ جنموں نے جمراللت کے کھنا ٤پ‏ اندعیروں میں مم کی 
شمعیں جلانھیں اور ہر مر و زن یر علم حاص لکرنا فرش آرار ریا--۔۔۔ ہجنموں نے ھرآن و 
عدی فکی نخلدمات ے لوکوں کے دلو ںکو جگایا---۔۔ ہج نکی درسگاد غبوت سے ا سے لوگ 
لہ جہنموں نے عالم کے چمارسو علوم کا چراغا کر دیا--- جننموں نے ججمالت کے صھرانوں 
می بلک ہوکی لوق کا تعلق خالق سے جو ڑ دیا --۔۔۔ جموں نے یتو ںکی مید ای کا ٹاٹ لھیٹ 
وا اور اما نو ںکو صرف ایک دا کے سا سے جنھلنا سکھایا ----- 

تار شابد ےکہ پر زانے کے سعید الفطرت لوگ جناب نات النبہین مھ ع ری صلی 
الہ علیہ وسل مکی شخصمیت و پا مکی جانب یوں لپک لہ کر ہیں بسے پردانے کی جانب! 
وہ آ پ کی شخصی تک خراع ین پٹ لکرتے ہیں۔ آپ کے لاۓے ہوے پغا مکو ہدسہ تبریک 
پٹ کرت ہیں اور آ پک لائی کا پشہ گل میں ڈالنا دنا کی سب سے بڑی سعاوت جکھتے ؤں۔ 
گن ازلی مردود یطان معو نک ولب ےگوار| ہو سکم ےکہ انان آ کی تخصیت سے والمازہ 
محب تکریں اور آپ؟ کے لا ہوئے وین حپی فکی شاہراہ بر گاھژن رہیں۔ اس لے شیطان 
نے ہر زمانے میں ب یکریم صلی اللہ علیہ وسل مکی شمان اقرس میں جوا سکرنے اور پزیان جک 
کے لے پھھ لوگو ںک وکھڑ کیا سے “جو اج لفن منہ اور زی زبان: سے اتا بدا جر مکرتے. 
ہی سکہ کاننات کاپ کانپ جاتی سے لان اس نازک ملہ میں فلا مان مصشف بھی بڑے ساس 
اور قیرت مند رسے ہیں۔ دق تگواہ ےکم جب بھی کی بد بجنت نے مان زسول می ں متا ف یکی ' 





یور مملمان شا نکی رح اس پر ین یں اور سے مم واص لکیاے۔ 
یہ چند برسوں سے ورپ نے ایک مین سازش کے محت پرری وا بش فوین 
رسالت“ کا طونان با کر رکھا ے۔ سی“ الکاننا ت کی شلصیت میں عیب ثانے جا رہے 
ہیں--۔۔۔ سن انان تک ذات اندں پ> طالاد تیر ہوری ے۔-۔-۔۔ یو خدا کے 
اوصاف د محاسن ‏ رجلراس ہو ردی ہے۔۔۔۔۔۔ تفرموجودات کے ال ہیت ادر مکحاک پارے 
یش پان کا جا رہا ہے---۔۔ آپ کے لا ہوئے دین میم را الا جا را ے۔--۔۔ 
آپ' کے منصب بوت پ ہرز رات کی جاردی ہے۔ اس طاغوتی سمل میں بمت ے عم ؛بست 
سی زہاخیں اور بھت سا ڈیہ مرک ے۔ بیود اور مصارگی کے علاوہ نطفہ بے تن سلمان 
رشدری اور عصصت درید: بروٹیشنل زامیہ تصلیعد رین بھی شال ؤں۔ بی نو رپ پاکتان ٹل 
زین رسالمت؟ کے تانون میں تھی مکردانے کے لے ایی چوٹی کا زور لگا رہا ہے۔ ٹین الاٹوای 
پر اور مل وژن میڈیا کے ذزرہیے زبروست بر اپکنراکیا جا را ہے۔ مض کی عحمت فردش یکی 
کائ یکھانے وا نے صصیافیوں سے انگر:ی جرائ و اشبارات میں مضامین لکھواۓ جا رہے ژں۔ 
جب مھ یکوئی بربنت فجن رسالت“ کا مرگب ہوا ہے فو ىہ ور شاقتان رسول اس رذل 
کا تنا ت کو ممان تصرسی اکر ورپ نے جات ہیں اور اس وریہ و نکو خوب انعابات سے 
نروازۓ ہیں۔ ٰ 
ورپ ہہ سب بج ھکیو ںکر رہا ہے؟ ا ںکی دجوجا تکیا ہیں؟ اس کے رکا تکیا ہیں ؟ 
الک سرفایکریبے ‏ 
وو پا مل جو مت سے ژڑرنا یں زرا 
رو لا ضس ے بن ے غل ىہ 
اے ور دریدہ دہنوا تم ے اللہ کے محبو ب کی عصصت پر بھ وکنا شرور مگیا۔-۔-۔۔ 
م نے اللد کے رسول کی عمزت حر تچ اپچھالنا شر عکیا۔--۔- فو اللد نے تم سے عزت و 
ععصت کا مغموم چچی نلیا اور تم خز کی طرح بے غیرت ہ کر دہ گے 
اے پورٹی بیو ! ذرا اہن معاشرے میں ایک نظرددڑاکر نز دیکھو۔۔۔۔۔ تم میں 
سے ہرایک معفس یہ سوچتا رتا ےکہ دہ علا لی سے یا ھا ی؟ تمارے ہے جائٹ کبو ںکی 
برادار ں-۔-۔۔۔ تسماری عورتیں وانف اخ یجان کابو ںکی زیت ہیں۔-۔۔۔ تمارے چچے 





94 
ی ک ی مل ھت حطا شک رتے رتے ہیں ...سے 
ربی میڈیاں ھی بے راہرو یکی تاریک آندھیوں می سیطیاں بجاتی ھرقی ہیں اور ٹم خود سر 
ے ہار ہو۔۔۔۔-۔ہ 
اے و ری امو تمارے ہا مک پاپ اپی یں سے من کل رتے ہیں --۔۔۔ 
شممارے ہا ںککتی بنوں کے بطنوں سے بھاتیوں کے چے پا ہوے ہں۔۔۔۔۔ مممارے 
لف کھوں میں عرامیی ںکیکجتی یجس ہیں ---ے قم خز کا کھاکر خر کی رح بے 
غیرت ہو گے ہو --۔-۔ے مم لاٹ لی یکر خحبیث ہو گے ہو --ے تمماری اخا ی وت 
واج ہو چچگی ہے --۔۔۔ تھممارا عحم مب سے پوند زین ہو چکا ہے --۔-۔۔ تماد ی خیر تپ 
سے متعفن لاش بن گی سے سے اور اس فوحہ خوا یگکرنے والا جھ یکول یں۔ 
ریکھا الد کے حبی کی شان اق رس می سںمگمتتاخیا رن ےکی سز ے 
رر ےگ با عل م؛ ے عه ؟ 
نے ۔ می مرا ض نے پالد پہ گر 
اے صلیب کے پجارکوا ما تمماری لہ وکٹورے نے هرزا لام ات تقادیائی سے دوک 
ےکرا کے پندوستان میں جھوٹی بد ت کا ڈرامہ رچاا تھا کہ جا دکوعرام قار دی جا گے اور 
مصلدائوں کا رخ لم ےگرمہ و برینہ منورد سے مو ڑکر ادبا نکی جا بک دا جاے۔ لسن قادیان 
کی بھوٹی مو کی موجدہ لہ وکٹوری کا اخحجام وھ کہ تمارے اخکستان کے دو سکالرز بھائیول 
نے دی نے نیا کے ساس انی ریرج پی یکی ہےکہ علہ وریہ مرائی مھ یکیدکمہ ال کی میں کے 
ایک نس کے ساتے ناجائز تعلقات تھے---۔ درکھا اظظام قدرت! 
در جا اس کے ش٠ل‏ ۔ ۔ کہ سے بے وہب گرت اس کی 
ور وس کی رر گیری سے کر سے خت اتام اس ٢‏ 





96 


مھ عرصہ ہوا مارے دی ملک بھارت میس د٢ع‏ کل بھارت مقابلہ پرصورلی"' 
منعقد ہوا جنس میں خواقین'“ حطرات اور ٹگوڑے رک ت کر سلت تے۔ مقالے کا اعلان 
ہو بی بھارت ک ےگو ت وٹ سے بدرشف لی “کیہ صورت اور تھے متہ لوک جاۓے 
مقابلہ > اکٹیے ہونا شروع ہوگے۔ ان بس ے ہرایگ کا منہ لامالی اور اواب تھا۔ 
متابے میں شریک پر فرد جب ٹچ بر کر مرا نے اس کے مو صن "کو ”ار چانر'' 
اک جاے۔ آخر ایک زوردار مقاے کے بعد ایک پل صورت عورت اور اک 
بنا لڑکا التزحیب پپلی اور دو ری پوزنشن کے عقزار ٹرے۔ 

مقا ‏ کی بابت باج ھکر رام سو کی دادیوں میں دور لن لگیا اور رائم کے 
زنن میں سوچ آن کہ اگر ہے مقابلہ ۱۹۰۸ء سے پےلہ میتی رزا قلدیا یکی زندگی میں ہوا 
وکولی الیکا ال او رکال ما ںکی ''الژڑی'' اس گملست نہ رے کل۔ ہزاروں مع لیکی 
مسمائیں سے کر کے نے ہو ہزاروں لوگ اس کی شل دیھٹے کے بعد مال ہ کی 
بجائۓ اس کے می میں دسطبردار ہو جات اور اگر مھ بر پچھرے اس کے مقابلہ میں ٢‏ 
تی جاتے فو جب دہ اپے ری پائے' ٹونے ہو ۓےکوڈے گے ہنی کھاس یم پال' 
ژرگی گے اہو“ یں کے ار حول بڑی اڑڑی ای آ‌گھوں' ور زرہ رشمارول' 
ورشت سے الگیے ف کہ ہو ۓے گارڑوں بے کانوں' چو ےکی دم یی موسچھوں' دو 
موریہ لی عیسی وسیع و عریض اک٠‏ سو چھے ہوۓ ہونژں' پل پل او رکیڑا گے 
راٹؤں' گھڑے کی ر 72 ہوئی گرون' ونے ہوۓے يہ توازن پازووؤں' اخٍِ گوشت 
کے اببھری ہوکی لی گی رکوں والے سو جے سو بے اتھوں مرغ خی گی بی ماگگوں 
اور ملک جیے پھونے ہوۓ پیٹ کے ساسھ وہ ھا نکر یج بر ون افردز" ہوا نو 
اس کے مامے سب کے جواغ بجھ جاتے۔ جج صاعبا نکی آھمیں اس کے صس نکی 
راشیوں ے خی ہو جاتییں ساممین عٹ ع کراشے اور دہ وکڑی یڑپ بل 
وزہہشن لے کھڑا ہو اور اے ‏ مسر رصورت'' اور سر ۓ مہ" ہے اعزازات 


ے وازا جاما۔ 


97 


عارے پاس مرذا ادیائی کے جمائی اعضاءکی عمل تحصیل موجور ے۔ لین 
یہاں بم صرف وہ تفصیل پٹ یکرتے ہیں ج قادیا ‏ یکحب میس موجود ہیں کہ قادیالی 
اختزاضات نکر گھیں۔ علاوہ ازس تقوب بھی وہ یں مر رسے ہیں جو قادیا ‏ یک ب میں 
مور ے۔ 
ثل : عمیری عمراس دقت قرب جءہ سال ہوگی۔ جب میں اپنے چند ابجولیوں کے 
ما یم صاحب هرحوم سے ملا اور انموں نے اہٹائۓ مہو می فربایاکہ تادیان ں 
ایک مرذا صاحب ہیں ہج ن کو المام ہوتے ہیں۔ ان کی شکل پالنل ساد گنواروں کی 
طرح ہے''۔ (”زکر عیب ص ۷ مصنفہ مفتی محر صارق قاربائیٰ) 

بی ےکی جا تکی۔ (نائل) 

0 جب آپ (مینی مرڑا قادیائی) کی بار میرے مٹع میں تٹریف لاۓ تو آپ 
یہ رار موڑھ پر بیٹھ گئ اور ایک موڑھے پر میں شف ھگیا اور بج سےکتاب کے 
تلق بائں ہوتی رہیں۔ میں نے آ پ کی خوابیدہ ؟گھوں کو دک ھکر دھوکہ بھایا کہ 
اید آپ برست یا افیون اتعا لکرتے ہیں“ (قادیائی صحالی جم فور اھر' مالک مطح 
ریاسل بند کا بیانں۔ مندرجہ اخبار ”الفضل'' تاویان نہ ر6۴ جلد ف ر۳۴ مورشہ ٢٢‏ 
اکست 1۹۳۴۷م) 

وکا نہیں کھایا تھا جح پان تھا۔ (نائل ) 
پااکں ؟ ”ایک وفع کی نخس آپ کے مگ رای نے آیا۔ آپ نے نپین لی گر 
اس کے الیے سید ھ پاؤں کا آ پکو پت نمیں تا تھا ۔ کی وفع ای پھن لیت تھے اور 
پھر تلیف ہوتی تھی بتض رفعہ آپ کا الٹا پاؤں پٹ جاتا فو شک ہوک فریاتے ا نکی 
کوئی نز بھی ابی نیس ہے۔ والدہ صاحہہ نے فمایاکہ یس نے آ پکی صمولت کے 
واسلے ال سید ھھے پاؤ ں کی شناشت کے لے نشان لگا دبے تھے گر باوجود اس کے آپ 
الٹا سیدھا بن لے تے"۔ ( یرت ا لمیدری' حصہ اول' عم ے۹ مصنفہ مرزا بش راجر 
قادیائی ان مزا قادیای) 

پار پار الٹا سیدرھا ینے سے پاوں تو مھڑے ہو لئ ہوں کے_۔ زائل) 


98 

الگ ی : ”ایک وفع گھرمں ایک مرفی کے چوزہ کے ذ کرن ےکی ضدورت پیش کی 
اور اس وق ت گھرمی ںکوئی اور اس کا مک وکرنے والا نہ تھا۔ اس لیے رت (ھرڑا) 
صاحب اس چوڑہکو پانتھ میس ل ےکر خود ز عکرنے گے۔ مر ججائے چو ز ہک یگرون > 
ری بپیرے کے شٹی سے انی الگ ی کاٹ ڈالی جس سے بمت خو نگیا اور آپ نوّبہ 
و ےککرۓے ہوۓے ہز کو پچھو کر ا ھکھڑے ہہوئے۔ چم روہ جوزہکی اور نے و کیا 
(ناسیرت ا لممبدی'' حصہ اول'مص ے۷ مصلفہ مرزا بی راھد تقادیالی ابن مرزا قادیا ی) 

معلوم خی ںکہ انگ کٹ کے انگ ہوکئی یا صرف زم یڑگیا۔ (ناثل) 
بی: آپ کے ایک سے نے آ پک واسک کی جیب میں ایک بڑی انٹ (روڑا) 
ڈال دی۔ آپ جب لیت فو وہ تجتی ۔کئی رثوں ایا ہو ہا۔ ایک رن آپ ایک نادم 
سے کنے گ ےک مری طبیعت خراب سے اور کی می درد ے۔ اییا معلوم ہو سے 
ک ہکوئی چچن تھی ہے۔ دہ جران ہوا اور آپ کے سم پر پامھھ پچھیرنے لگا۔ اس کا پاتھ 
اٹ پر جا لگا۔ جیب سے ابینٹ نال لی۔ دی ھکر مرا اور فمایاکہ ند روز ہہوۓے 
مود نے ممیربی جیب میں ڈالی عھی او رکھا تھاکہ اسے ثکالنا خھیں۔ میں اس سےکھیلوں 
گا ضطرت کب کے حفضرہالات'' لحقہ ”براین احریہ'' ٹع پمارم ٤ض‏ ۴۴) 

ملوم ہوا ےک پا ڈیڑھ پا امم روزان ہکھاسا ہوگا۔ (ناقل) 
جلر :؟ ”ایک رلعہ واللد صاحب لت تار ہوگنے اور احعاات نازگ ہوگئی اور موں 
نے نامیری کا اظما رکر وا اور نچ بھی بند ہوگئی گر زبان جاری ری۔ والر صاحب 
نےکھاکہ یچ ڑ لاک میرے اوپر اور نچ رکھو۔ چنانیہ ای اکیاگیا اور اس ے عاللت 
روخ ہہ اصطاع ہوگئی''۔ (حلسیرت ا لبیدی'' حصہ اولی “مس ۲۲ مصنفہ مرزا بر اھ 
قادیانی امن مزا قاوا ) 

یکن ین اگ را؟ وی جلد تو سیا ہوگئی ہوگی۔ (زاتل) 
ھن ایک دفعہ کے کے جوڑ میں بھی درو ہوا۔ نامعلوم و کیا تھا تر دو تن ون 
زیارہ ”ملیف ری۔ پھرجوگیں نان سے آرام آیا' 

ہوگھیں تق مرگئی ہو ںگی۔ (نائل) 


99 

تن ایک رفعہ عخرت صاحب کے مخ کے پاس پھوڑا ہوگیا تھا جس پر حضرت 
صادب نے اس پر ضلہ نی سس کی گیا بندرعوائی ھی نس سے آرام آ گیا 
(لیرت ا دی" حصہ سوم/ص ۷۸ مصنفہ ھرزا شی رات _ادیال ی این مزا قادیا ٰ) 

ایک سی ےکی کیہ زان پر بھی بندعوا لیتا۔ (نائل) 
ان وٹھا ٠‏ نماکسمار عو لک را ےک غفرص کے دور میں آپ کا انوٹھا سوح جیا کر 
تھا اور رخ بھی ہو جا ا تھا اور بست درد ہوگی شی" (انیرت ا مممری'' حصہ دو“ 
۸ مصلفہ مرزا بی رام تقادبالی این ھرزا قادیال) 

لن پل ربھی دعوئی غبویت سے باز میں آ تھا۔ (ناتل) 
دایاں بازو؟ "نیا نکیا جھ سے مرزا سلطان اج صاحب نے بواسطہ مولوبی رجیم نٹ 
صاحب ایم اے کہ اک وع والر صاحب آتے جوہار ےکی کھڑی ےمگر گے اور 
دا بازو پر چوٹ ی۔ چنائچہ آخر عھرتک وہ اھ کور رہا۔ نماکسمار عم لک ریا سے 
کہ والدہ صابہ فباقی تھی ںکہ آپ کھڑکی سے اتزنے گے تے۔ سا نے سٹول رکھا 
تھا وہ الل ٹگیا اور آ پگمر گے اور دای ہاج کی بڑی ٹو ٹکئی اور یہ امھ آخ عھمر 
کفکزدر رہا۔ اس پاجھہ سے آب لق کو مضہ تک نے جا کت ت گر بائی کا برتن ہشہ 
جک میں اٹھا سیت تھے" (نسیرت ا گبیری' حصہ اول“ ص ں۲ مصنفذہ مرزا یم را 
قادانی این مزا قادیال) 

ای بازد ےمتخیاں یھت تے ۲۔ (ناتل) 
ال ”فیا یاکرتے تھےکہ ہمارے بال تمیں سا لکی عمرمیس سفید ہونے شروع ہہوتے 
تے اور پچھرجلد جلد سب سغید ہوگے"'۔ ('نزکر عبیب'' ص ۲۸ مصنذہ مفتی مھ صادتی 
قادیال) 

رای ضعف اور خلل۔۔۔ اور اسی دباٹی خلل نے وعوئی نو تکرایا۔ (الل) 
سی مکی ساشت :"ہم نے بھائی ‏ عبدال رنیم صاحب سے سنا ہ ےک ہگ ددمیان 
میں آپ کا تم مکی مقر ڈھیلا ہوگیا تھا لان آخری سالوں میس پھر خوب خلت اور 
مغضبوط ہہوگیا تھا۔ نماکسار عم کر ےک بھائی عبدال رم صاح ب کو جخرت صاحب 


100 

کے کی مکو دہائے کا کائی موقعہ متا تھ۔ (ناسیرت ا مم ری" حصہ وو ٤ص‏ ۷۷> مصنڈہ عرڑا 
یراہ تادیالی این مزا قادیائی) 

جب سالکو ٹ کی بچھری میں بطور خٹی یل خحواہ پر لازم تھا--۔ تو اس 
وت "ئم نے ڈصیلا ہی ہونا تھا اور پچ جب انگریز نے ؛بوت کے لس ےکھ ڑا کیا نے اگ رر 
ارر میدوں نے گ کو جم و زر ے بھر دا اور پچ مزا قادیای نے خوب کھانے 
کھائے۔۔۔ اور پل رم نے فو خخت ہونا بی تھا (نال) 
زان ٠‏ ”اص اوسف صاہب پٹاوری نے مھ سے بڑ رجہ خط میا نکیاکہ حضرت 
یع موعور علیہ السلام کی زبان میں کسی قد ککنت شھی اور آپ پ نالےکو پنالہ فرایا 
کرت تھے (اسیرت ا لمبدی'' حصہ وم“ عص ے٦‏ مصطفہ مرڑا بب راج قادیائی این 
ہرذا قادیای) 

اسی لے نو جلد دی سکول سے جھا گیا تھا۔ (ناقل) 
.-- علض ارقات میلس میں جب خاموش بیٹھتے نے آپ معامہ کے شملہ سے دہان 
مارک ڈ ھک لیاکرتے تھے''۔ (نسیرت ا لممدی' حصہ دوم'ھص ۷۵ مصنفہ مرزا ہشیر 
اھ قادیائی این زا قادیال) 
بدبو جھ آتی شی۔ دیے بھی بھونے نی کے منہ سے بربو کے سوا او ریا ٢‏ سکتا سے۔ 
(اٹل) 
میں : مولوی شی رعی صاحب نے بجھ سے میا نکیاکہ مولوی عبرالکریم صاحب 
مان فراتے تھےکہ میں حخرت صاہب کے مکان کے اور کے حصہ میں رہتا 
ہوں۔ میں نے کئی دفعہ ححخرت صاحب کے گع کی عورنو ںکو مہ بات ںکرتے سنا ےک 
رت صاہ ب کی ے آگھھیں بی نہیں ہیں۔ ان کے سام سےکولی عور تکسی طرح 
سے بھ یگزر جاے ا نکو پنۃ نیش تا۔ میہ وہ ایی موقع ب ہکم اکرتی ہی ںکہ ج بکوئی 
عورت ملخرت صاحب کے سان ےےگزرتی ہوگی خمائص طور بر کھونعٹ یا بروہ کا 
اما مکرنے لیت سے اور ان کا شا ىہ ہو با ےکہ حعقرت صاح بکی ؟کھھیں پروفقت 
کی اور ٗھم بن رہقی ہیں ادر وہ اپنے کام میں پالنل منپھک رجے ہیں۔ ان کے سا نے 


101 
سے جات ہوےعسی خاس پد وک ضرورت میں (عسیت الد" حصہ روم مس 
ےے 'مصلنفہ مرزا بی راص اویا لی این مز قادرال) 
کاری اےیے بی بی ارتا سے۔ (ناپل) 

ں لمولوی شی علی صاحب نے جھھ سے با نکیاکہ ایک وفعہ عحرت صاحب بھراہ 
چند خدام کے فوٹ و کھنچوانے گے فو ٹوٹ وگرافر آپ سے عو کرت تھاکہ تضور ذرا 
ہنی ںکھو ہل کر رکھییں ورنہ توب اٹھی نہیں آ نے گی اور آپ نے اس کے ککنے بر 
ایک رفعہ ملف کے ساتقہ آگھوں کو پھہ بھولا بھی گر دہ پھر اسی طرح نھم بند 
ہ وی (لاسیرت ا ممبدی'' حصہ وم مع کے ؛ مصنفہ ھرزا یش رام تادیا لی این مرزا 
تارال) 

اور تقوب میں کانے کے کنا گیا ہوگا۔ (ناپیل) 

0 مض اوقات حور علیہ الام کی ڑ یکی بات پر جنتے تھے اور خوب نت 
تے۔ یہاں کک ہ یش نے دیکھا ‏ کہ ٹٹ یکی وجہ سے آ پ کی آتگھوں میں بای ٣‏ 
جا تھا سے آپ انی ال ا کڑے سے مھ وت تھے ( یرت ا لممدی' حصہ 
مس ۷ معفہ مرزا بشیرا لی اہن مرزا قیل) 

شم کا پائی قو بی دہ سے شتم ہوکیا تھا۔ (نال) 

0 ”رت صاد بکی آگھوں میں مائی ادہا تھا۔ اس چرس بی رات کا چان نہ 
دکھ کت تھے گر نزدیک سے آخ ع رتک باریک حدف بھی بڑھ لیت تھے اور عون ککی 
مانحت ھوں می ںی (لنسرت !ا لآمبیدی'' ص وم" 7ص ۹لا' مصنز مزا بی رھ 
قادیای ابن مزا قادیال) 

ین پان یکو تو بڑبی ددر سے دہ لیے تے۔ (ناقل) 
رات ؛ ”ویران مبارک آپ کے ری عھرمیں جج تراپ ہو گے تھے۔ ین یکر 
حض واڑہو ںکو نُ گگیا تھا نس سے کب کبھی ملیف ہو جاتی خی چنانچہ ایک رع 
ایک داڑھ کا سرا ایبا فوکندار ہہوگیا تھاکہ اس سے زبان میں زٹم گیا فے رپچ کے ساتھ 
ا یکو کھ و اکر پرابر بھ یکرایا اگ ربج یکوئی واات اوایا نہیں٣‏ ( ایت ا دی" 
حصہ ووم/عص ۷۵“ مصنفہ مرزا شمراص قادیالی این زا تقادیا ی) 


102 

می ڈنگر ڈاکڑکی خدمات ستنعار کی ہو ںگی۔ (ناتل) 
ابیڑیاں؟ ” پچ ری ایڑیاں آ پ کی معض رف ہگرمیوں ے موم میں بپھٹ جایاکرلی 
میں (اسیرت ! لمیدی' حصہ روم“ می ۴۵ معنطہ مرڑا بی ر اھ ادا ی ابن مزا 
قاربال) 

ینی من کی طرح ہو جاتی تھیں۔ (ناقل) 
یبدہ ڈ "گر چ گرم کپپڑے مرد ری برابر پنے تھے تہ مگرمیوں میں پینہ بھی 
وب آ جانا تھا۔ گر آپ کے پیینہ میں بھی ہو نہیں آکی تھی غواہ سکئتہ بی ون بعد 
کپپڑے بدیس ار کیسا بی موم ہو (افسیرت ا لبدی'' حص_ روم*“ص "٢۵‏ معنز 
عرزا یی رام تادیا نی ان زا قادیال) 

اکر میں خوشبو اور پربو کی تیر ہوئی ت غم مزا تاویا ‏ یکو ھی نہ ا 
مال) 
کندرھا: "بل ئل حضور نے فا اک شاہ صاحب ہارے مونڈھے پ بھی طرب آئی 
تھی جن سک وجہ سے اب تک د ہزور ے۔ ساستھ بی مضور نے بے انا شانہ ننگاکر 
کے وھاا''۔ ( نیرت ا لیدی' حصے روم ص ۹ا“ معنفہ مرزا بی راص تقادیای این مزا 
قارىاِل) 

ایام تین میں جب ماس رسکول میس ھا بن اکر ڈنڑے سے پ اک را تھا ای وقت 
ایک دو ڈنڈڑے موبڑھے بر بھی لک سے ہوں گے''۔ (ناپل) 
پقشت: تحبض اوقا تگمری میں حضرت سضسجع موعور علیہ السلا مکی پشت پ رگ ری دانے 
یل آے بے پو سلانے سے ا نکو آرام آ تھا۔ نمض اوقات فرمایا کر ےکم مہاں 
*جلون “کرو جس سے عراد ہہ ہو یکہ انٹیوں کے ہوئے پالئل آہستہ آہست اور نرئی 
سے بشت پر گچیرو۔ مہ آ پ کی اعطاح تھی" (نسیرت ا لمیدری'' حصہ سوم ۶ص ۵۵ 
معنفہ مرزا بٹی رام تادیانی این ھرزا قادیالی) ٰ 

بے وقوف ید آموں کے ٹوٗرے جو مکنا“ ااتے تھے اور ان ےمگمرئی 
رانے تی لین تے۔ (ناقل) 


103 
ں ”مت ایک دن آ پکی پشت پر ایک بجی نمودار ہوگی جس سے آپ کو بت 
تحلیف ہوئی۔ مالسا رک بلایا اور دکھایا ادر ار بار و چاکہ ہہ کارنشل قرخھیں ۔ کوک 
شھے زیائش سک بیاری ہے۔ میں نے دک ھکر عو لک یکہ ىہ بال نےڑ یا معموی پچنی 
سے کار ہیل میں ے''۔ (لاسیرت ا ممیدی'' حصہ سوم می ے ۲٢‏ مصنذہ مرزا بی راھر 

قادیائی امن مزا قادیال) 

جن دراٹی کا رہل کاکیا بنا؟ (ناقل) 
ایس رت صاحہب کے ہاں ایک بوڑھ طازمہ مسا؟ بھانو شی۔ وہ اک 
رات ج بکہ غوب مردی پے ہی عھی' عضو رکو دبانے ٹٹھی۔ کہ وہ لاف کے اور 
سے دہاتی تی اس لیے اسے ہہ پت نہ لگاکہ شس چک می دہا ردی ہوں' وہ مضو ر کی 
یں نیس جکلہ لن ککی کی ہے۔ تھوڑی در کے بعد رت صاحب نے فرایا بھانو 
رح بڑی “دی ہے۔ بھانو نہ گی لنہاں تی نرے تے تماڈومی تماں ککڑی وائگر ہوئیاں 
بوئیاں یں" مین می ہاں! بھی تو تع آ پک لاتیں گکڑی کی طرح حخت ہو ردی 
ہیں“ (لعفیرت ا ری حصہ سوم“ ص “۲٣۰‏ مصنذہ مرزا یمر اضر تادیالی این مزا 


قابال) 

معلوم ہو ںا سے کسی اف "کی ٹاجھیں کی ہوئی تجھیں۔ (ناقل ) 

بی جھم نے آپ کے ساسحے م ا قادیالی کے بردئی جسما ی اخضاء کی ذرست 
کی ہے لین میں مزا دای کے جم کے اندرولٰ اعضاء کے مععلق بھی پت 
ا ہیے۔ آپ نے اس بات کا مشابد کیا ہوگاککہ اگ رکی منص نے برانا موٹ سا کیل 
خریدنا ہو قد ہی سیانے سن یکو ساتھ ل ےکر دکان پر جانا سے اور وو صنزی موٹ 
سمائیل کے ول پارش سو فو ایک نظھری باہر سے بی طاحظ کر لیا سے لن اندرولی 
ار سکو چی ککرنے کے کے وہ موٹر سائی لک وکمک پا کر ار ٹکرنا سے اور نل 
الہ و ےکر کان اکر اہ ن کی آوازو ںکو نما ہے اور اسے پت چل جا ا ےک 
موٹ سائیل کا * ہشن کیسا ہے۔ رگ کس عالت میں ہیں ؛ ٹا مک چچین کی کیفی تکیا 
ہے؟ والو زکی لو زمیشن کیسی ے؟ کککٹنگ را ڑکا کیاعال ہے؟ وی رم 

آئے ای جم بھی ہا یی ھزا تادیال یکو زوردا رکیک لگا کر 


104 
ار ٹف کرت ہیں اور انمائی بفور جاتمزہ نے کے بعد اس کے اندروئی بارش س کی جو 
صورت عال ساحے آکی سے وہ ہوں ے: 
لہ ڈ ری زیائیٹ ہے کہ ایک برت سے وام نکی ہے'۔ (مفیہ ارہیں* 
۳م ص مم“ مصنفہ مزا قادیالیٰ) 
کی کا بیڑا خرتق وکیا ہوگا۔ (زاںل) 
ساٹ وا ی نالی : ”ایک دفعہ عضرت صاح ب کو حخ تکعالی ہوگی۔ ال کہ دم نہ 
آنا تھا۔ البتہ منہ میں پان رک ھکر قررے آرام معلوم ہو تھا۔ اس وقت آپ نے 
اں عالت میں پان منہ میس ر کے رکے نماز بھی الہ آرام سے مابھ کیں'۔ 
یرت ا می ری حصہ سومم ۷ص ۲۰۳“ مصنطہ مرزا نٹم رام تادیالی این ھرزا قادیای) 
کی کہ ایم کاننش کرت تھا اس لیے پان بھی تمراکھ والاکھا با ہموگا۔ (ناقل) 
احعصاب !”رت (مرزا) صاحب کی ام الف خلا روران ےم“ ررر ری 
خواب' لیج ول' بد پشمی' اسمال کرت شاب اور عراق وغیرہ کا صرف ایک بی با حث 
تھا اور وہ صص یکزدریی تھا (رسالہ 'رلوی“ مقاریان' بامت سی ے۹۳ء) 
اور تحص یمور ی کا باعث مری یمم کے نہ نے کا تم تھا (نامل) 
مررے ع ”سا اوقمات سو سو وفعہ رات کو یا و نکو پیٹاب آ سے''۔  (‏ ضییمہ 
اراعں'“ فی رسمٴ م٣‏ ص م؛ مصنفہ مرزا تاریا ی) 
مکردرے را (ناقل) 
ق۹ محمت اقرس تثریف لا نکر ےمگرو ایک صافہ لپیٹا ہوا تھا۔ فربایاکہ 
اھ ایت رر رگروہ کی روح ہو ری ہے۔ اس لیے میں نے ہاندھ لیا ے''۔ 
(”گیزل'' ص )۲٣۲۹‏ 
صافہ نہیں مم کا دوپٹہ ہوگا۔ (نائل) 
ول  :‏ ایک دفعہ لرہیانہ میں حخرت سج موعور علیہ السلام نے رمضمان کا روڑہ رکھا 
ہوا تھاکہ ول ھی کا دورہ ہہوا اور پاھ پاوں منڈے ہوگئے۔ اس وقت خروب آ قب 
کا وت بھست قریب تھا۔ گر آپ نے روزہ نوڑ دیا"۔ (انسیرت ا مبیری'' حصہ سو می 


105 

۳۷“ معلطہ مرزا بش راج ادا ی ابن مزا تادیال) 

شابیھ زندگی میس پپلی دفعہ رکھا ہوگا۔ (ناقل) 
وماغ : کری اخوم سمہ مرا عافظہ بہت خراب ہے۔ اگ رکئی وفع ہ مس یکی طلائقات ہو 
قحب بھی بعول جانا ہوں۔ یاددانی دہ طریقہ ہے۔ عافظ کی ہہ اہترکی ج کہ بیان 
میں کر کا انار فام اتر از صرر اپالہ اعاطہ ال ی'۔_ ( نترب اے؟'“ 
چم رص ٣س‏ جموع کتزبات عرزا ادا ٰی) 

ین ری می مکو نز نہیں بھولۓے تے۔ (تاتل) 
مر : اک عرعہ میس توغ زی ے مت پار ہوا اور سولہ دن تک ما خمائ ہ کی راہ 
سے خون ۲ رہ اور مت ورو تھا جر مان ے باہرے''۔ ( ید الرق'' س مم“ 
معنفہ مرزا قادیاٰ) 

درلڈ ریارڑ (نائل) 
نے ,ۓ لنبیا نکیا مھ سے حعقرت والدہ صاحہہ کہ ایگ رفحہ تہارے رارا 
کی زندگی میں رت صا ب کو کل ہوگئی اور مھ ما تک بیار رسے اور بڑی نازگ 
عاات ہوگئی۔ کہ زندگی سے نامیدری ہوگئی"'۔ ( سیرت ا بیدری'' تصہ اول “لص 
۵۵ مصنفہ مرزا بش رام تادیالی این مزا قادیاٰ) 

کاشس مرما ا--۔- لاکھوں کا بھلا ہو (نا قل 
اتیاں . 'گاہور مس خالا وفات سے ایک رن لہ حضرت 03 موکوو عل اللام 
اندر ے پاہر تٹریف لاۓ اور فمایاکہ آخ گے وست زیادہ آ گے ہیں۔ چنانچہ میں 
نے جن تطرے کلوروڑین کے پیا لیے ہیں۔ خسار خر لک ربا ہ ےک فرت صاحب 
کو اسما ل کی ایت اک رہتی عھی گر آتری عرض میں جماں کک جج یاد ہے صرف 
ونات والے ون _ےے 2 1 رات ا مال گد تھے''۔ ( نیت ا ری" نص سوم" 
مس ۲۰۹ مصنذہ مرزا بش راج تقادیالی ابن مرزا قاریا ی) 

اور اسمال نے می شی نانہ میس دا رکر دیا۔ (نائل) 
تنا بن : ”اس راسے بجھے ایک وفعہ فیا 'ھمفتی صاحب سر کے پالوں کے اگانے 


106 


اور بڑہھالے کے واسٹے کوئی رو ی ملاس ؟ ( ”اکر عبیب۔'' ھص کےا معنفہ مفق مر 
صارتی ادا ی) 


تیری شاو کی تار ی ج ھکرنی تھی۔ (ناقل) 

صاجو!شاید آ پ کو معلوم نہ ہوکہ وئیا کا ب کیہ ااصورت فص بی وت 
ھی تھا۔ اس کے چرے پر آ پکو لعنتوں اور پھشگاروں کی جو دہز ٠ہیں‏ نظ ر٢‏ ری 
یں وہ اسی جرم اعظم او رگمناہ عأی مکی وجہ سے ہیں۔ روئے زشن کا سب سے بے 
وٹوف گروہ َ قادیالی اے یىی اور رول نے یں۔ ای بھی بھی پان ں کو 
اعایٹ ککتے ہیں اور ا سکی ہرزہ سرائ یکو دتی الی کا نام دی ہیں۔ 

جن ان عقل کے اندہو ںک وکیا معلوممکہ نو تس رقعت و مظ مت کا نام 
ہے کسی فقذس و حرمت کا امم مبارک ہے۔ نی الل تھا یکی شاہکار تخلیق ہوتی 
ہے۔ دہ سن و زیبائی کا مرح ہوا ہے۔ اس کا حصن کائات میں اجالے تھی یا ہے۔ 
رج اس کے پچرے سے فیاء لیا ہے۔ اس کے رضارو ں کی دک ے چاند چاندی 
واص۱ل کا ہے۔ اس کی آگکھو ںکی چھک سے ستارے گنا مت ہیں۔ اس کے 
دنو ںکی توب سے جوا ہرات یکن کا ہر جا ہیں۔ اس کے لیو ںکی زاکلت سے شنجے 
چنا کین ہیں۔ اس کے ماتے کے فور سے انسانی تکو رات لت ہیں۔ 

اں کے پر زا سے سو اننے ‏ کی رعنالی عاصل کر ے۔ اس کے 
مانسو ںکی مک سے مقک و مب رخوشبو بات ہیں۔ ا سکی زلفو ںکی یک سے کامیات 
نا سخورنا کیکمتی ہے۔ اس کی آگھموں کی حا سے کلیاں شریانا کیعتی ہیں۔ اس کی 
مصکرایٹ سے قوی قوح رگ بھن جا ہے۔ ا کی پل سے ست قام حیاں 
نے سے آھنا وی ہیں۔ ا سکی کنفشگو سے ببل نے کیکھتی ہے۔ ا سکی آنکھو ںکی 
سیاہی سے کال گناو ںکو صن ما ہے۔ ا سکی آگکھو ں کی سفییری سے و نکو اچالا متا 
ہے۔ ا سک پگو ںکی دلاوی: جلکت سے نوم چھلانا کے ہیں۔ اس کے ابرو خرا رکو 
دن ھکر پلال ای سورت تراما ے۔ اس کے جلال سے بکیلیا ںک کنا اور اس کے مال 
سے بد شیم چنا جائق ے۔ ا کی فو کے لفطوں سے ہا یت کے راغ لے یں 
اور اس کے قرموں کے نان سے انسانمی تکو ضزل کا سراغ مم ے۔ 


107 
نبو تکی اس ایک جک پڑھے کے بعد ایک عرتبہ هرزا قادیا یکی تصور ھن 
کی دوبارہ ہم تکریں۔ ہمیں معلوم ےک کل دیکھنے کے بعد آپ کے جو ہزہات 
ہوں گے۔ زا آے شاع رشخم نبوت سید اشن گلا ی کی هرزا قادیان بر کم یگی ,نلم 
پڑڑھتے ہیں جس می انسوں نے مرزا مقاما یکو غوب غوب "خراج مسینں* پیٹ ی کا 
۲ 
وا رے چنڑال؟؛ ڑے کیا سے یں 
وس با رہل؟ ڑے کیا سے یں 
ضٍَ ثیتے > نے ثالہ ڈال 
تھا کے پاا مال ڑے یا کے ہیں 
کیل فص جا جب بی سے 
کوئی سے مس زل؛ ڑے ا کے ہیں 
گے بوتٹد بن مر و × تا ہم 
گی باگی چال' تے کیا سے ہیں 
کاح اور کے شی پناۓے میں گِ 
وا گی مت جمال ڑے ا کے ہیں 
یہ یھ آنھیں ٹیڑی؛ ہر نٹ پل 
کے 7 گال رے کی کے 21 
بب گول ق9ر رھا) سے تی 
ژر جاتے یں ال ت ے کیا کے ہیں 
را ہو شس سک رق نا گک 
اب کوئی تتھ سا لال؟ ڑے کیا نے ہیں 
نی تی ہیی جب تل آےۓ 
الیل ہرت سبعال“ ڑے کیا کے ہیں 
212 اوھ ٹھب کی گے رم" لال 
نے کیا خمال؟؛ ڑے کیا سے ہیں 


کی 
0 

_ .0 و رھ 
ا : ٭ قد 

را 7 ۵ 


نۓ 


١ ۰‏ اھ ٌ 
1 لی ا ا رای اکا 
٤‏ انی 


سس 





109 

فتنہ قادانیت عید رواں میں اسلام کے غلاف سب سے ہوا فقنہ ہے۔ اس 
فتنہ لے جد اسلام پر اپنے نوکیلے جچوں سے اسحے زئم لا ہی ںکہ شم اسلام زشی 
زی اور امو اہو ہے۔ تج بھی اس فقنہ نے الام کے سدنہکو اپنا تحت مشق بنا رکھا سے 
اور ار راد تو ںکی بارش جاری ے۔ 

گزشتہ ایک صدی سے امت مسلمہ نے اپنے آقا و مولا جناب رسول عٰی 
صلی اللہ علیہ وآلہ وس مکی شخم بوت کے غلاف اشن دانے اس فتنہ سے بڑی جاندار 
لڑائی لڑی ہے۔ اس ساسلہ میں ببھی بھی کسی بڑی سے بڑی قریائی سے دریغ نمی ںکیا۔ 
امت کے بھتین علاء نے اپنا عم اس فتنہ کے غلاف وق کر وا اور ولاگل و پراژن 
سے اس مازش کے پچ اڑا ریے۔ ضلیبوں نے انی خطابتوں سے اس لمت ےکو طشت 
از با مکیا اور انی شعلہ واتیوں سے مع ذائیت کے خرمن میں ٹک لگا دی۔ ادیوں نے 
لوک عم سے تامانیت کے چچرے پر پڑے ہو منافقت و عیاری کے دیز بررے 
ار مارکر رۓے۔ شماعروں ےے اۓے رزہے کلام سے طحت کے خون میں کاراں رو ڑا 
دیں اور حم کو قادیامیت کے غلاف صف آرا ءکیا۔ لاکھوں عاشتقان شخم وت نے 
جیلو ںکی ازتیں برواش تکییں۔ کرد جوانوں نے اپیے سن ےگگولیاں لق می ن مگنوں 
کے سے رک دیے اور ڑکوں پر اٹی جوائی ک گرم خون کا چھٹرکا ےکر دیا۔ ہو ڑھوں 
نے انی ید ہکھروں پر خظالم پلی سک لاشھیو ںکی برسمات سسی۔ ماؤں نے ابے لاڈ لے 
یو ں کو اپنے ہاتھوں سے پھول پہنا کر اغنیس سوئے عفمل روانہکیا۔۔۔ یوں نے 
گلیوں پازاروں ٹل 2 ثبوت زندہ جار کے لک شاف لرے نائے۔۔۔۔ ممان انروں 
صد اضر ںکہ اتی جدود ادر ای تریاخوں کے باوجود قاویامیت اہ متحلی اشحام 
تک میں تپگی۔ قاویانی ماپ زتی ت3 ور ہوا ہے لیکن موت کے گکیاٹ نہیں 
انڑا۔.۔ ۹2ء کے وبی ا ی کے فیعلہ ارر ۹۸۸۲ء کے اما قاوات 
آرڈ یٹس نے ادیات کے خس وجود کے دست و پازو تو کانے ہیں لین پٹوڑ ش 
رگ مفوظط ے۔ 

روستو آو-۔۔۔ ظ کے اعتٴاف میں سے پں اور بھرور تو رکمرتۓے ہ ں کہ 
ایک صد یک یگھ.ا نکی مڑائی لڑنے کے باوجود بھی تادیاضیت موت کے نار می یکیوں 


110 

یں اڑی؟ 

ا سک وجبا کیا ؤں؟ 

اں کے اسہا بکیا ؤں؟ 

اس کے مرکا تکیا ژں؟ 

ا سکی صرف ایک می وجہ ے---۔۔ اس کا صرف ایک ہی بب ہے۔ 

اور و,و ے قادالی نواز ٹول ۔۔-۔-۔ سس نے الام کو اریایوں ے زیادہ 
نتصان نایا سے -۔-۔-۔۔ ات ہے وجود یر ان کے لا ہو چرکوں کی تعداد 
اریت کے چرکوں ے زیادہ ے۔ 

کفر کے پارشاہوں نے جب عیوں کے نے بر اس اتل کا انگارہ رکھا--۔ تو 
پھر اس اسرائیل کی حاطقت بھی غوب کی-۔۔ اسے زندی کے ققام وسانئل میا 
ے..۔۔۔ اس جرد اس لہ سے لی سکیا۔۔۔۔۔ آج وہ اسرائیل عیوں کے جے پ 
مونک ول را سے ملمانوں کاکوش تکھا رپا ہے خون پیا رہا ہے۔-۔۔ اور فضا یل 
وی قیقے لگا اکر برمست ہو رہا ہے---۔ سے سمادی انساشیت سوز کارروائیاں کف رکے 
بارشاہ انی نے سریر بت کرو رے ہں۔ 

سی رح جب کفرے ارتاہوں نے لت اعلامی۔ گی وورت کو ارہ پارہ 
کررے کے لے؛ 7 ہمار سے شی ورام یکرنے کے لے اور ان کے پدن سے رد 
مر ہے کے لے جویامت کا جخ رکھونا تق پھر قاویانیت کی خوب پور ی۔ 
نو زشما ت کی موسلا وحمار پارشل برسائی۔--- ووات کے ایار لگا رے ٤1‏ عمینوں 
کے سائۓ سے اسے پروان چڑھایا---۔ اپنی مریرست کی چھٹری اس کے سرپ دھی۔ 
ا کی ططاظت کے لے تمام وساتل میدران بی جھونک دے۔ 

آج بھی جب بھی پاکتان میں تاویانیت کا ملہ افقا سے اور ص مان 
قاامی تک یگرف تکرتے ہیں تو تقادیائیو ںکی ممایت میں بمتىی زبانیں کت میں ٣آ‏ 
بای ہیں۔ ہت سے تلم حرف ہو جاے ہیں ۔کلی انال توق کا رونا روا ےکوی 
ایتوں کا راگ الاج سے “کوئی پاکتاحیت کے نام پ دعائی دا ہے ۔کوئی برادری کی 
وجہ سے تادیاوں کی ات کر سے۔۔-۔۔ کولی دوس کے ناف تادانوں سے 





111 

عدددی کر ہے--۔کوئی لے دار ی کی وجہ سے چادبانوں کی طرف داری کر 
ہے-۔۔کوئی مالی مراعا تکی وجہ سے تادیانوںکی فور یں کا مک را ہے او رکوئی وکیل 
چند گوں کے وش عداات جش تاویانو ں کی وکال کر ہے۔ 

ں ادیالی ٹواز کا وتور وہ وتور ے' نس کے سارے قازیات کا وجور کھڑا 
ہے۔ 

0 قاوال داز قادائی کے پاؤں ہیں جن کے سمارے تادیانی مسلم مواشرے 
یس چنا کر ہے۔ 

ں قارالی واز! قادیا ی ی زان سے ا جس سے قارالی و0 ے۔ 

٥‏ ایال وازا ادا یکی آکھیں ہیں جن سے وہ مسلماو ںک وٹھور ا ے۔ 

0 تعائ فاقوا سے رمت و بازہیں' جن سے وو اعلا مکی تیب ۷ 
کا مک ریا ے۔ 

ں دای واز! قادیانیت کی رگوں روڑے والا خرن سے“ کک سے 
قادیانیت کے شس وجود یں زندگیکی رس بای ے۔ 

0 تاوالی وازا قادیانیت کے مم مم روخ سے جس سے ادیانیت زندہ 


سے 

0 مان فواز! قادیایوں کے ہاتھوں مم وہ سفاک تر سے“ جس سے تاویانی 
اسلام رر لہ آور آں۔ 

0 تال داز قادیانیوں کے لے ڈھال ہے' جس سے دہ اپنا وفاکرتے 
یں۔ ْ 

0 مال وازا قامراعیت کے سے مورچہ سے جس میں جن ھکر تاویالی 
مس لانوں بر تل ہکرتے آیں۔ 

٥۵‏ ئ8 ہال داز قادیایوں کے سے قلعہ ہے ج س کی نیل پہ چا ھکر قادیای 
مسلمانوں پر سک بارب یک رتے یں۔ 


ں قادیال نواز! گاباوں کے ے زرہ ے' 2ے سپ نکر تال اسلام سے 
لڑے ہیں۔ 


112 

ه٥‏ انی نوازا قاویا یگ٠رمں‏ ے > ہں' جن کے سمارے یی گمدمیں 
مسلرانوں کے سروں پر منڈلاکی ریت ؤیں۔ 

ں دای نوازا قادیانوں کے لے اس ماد ہهکنگرو کی طرح ہیں جس کے چچے 
جنل میں اوہ ادھر ششرارقوں میں معروف ہوتے ہیں اور جوش یکوگی خطرہ حسو سکرتے 
ہیں' فور بھا گک ماں کے پاس ؟ جات ہیں اود ماں کے وجود سے گے ہوے مھلہ 
یس چچھپ جاتے ہیں اور پچ رخطرد ددر ہو جانے پر باہ نگ لکر اپپی شرارقوں میں مروف 
ہو جائے ہیں۔ 

ہن حجامانٰ نوازا اس بدقحاش ڈیہ دا رکی طرح ہیں' جماں جم ج مکرنے کے 
بعد ناو حاص لکر لیے ہیں اور اگ رکبھ یکبھار بولاس سی ہج مک چچڑ لے فو دہ ڈیہ دار 
]ا جاکر ہر مکو اپنے اٹ و رسوخ سے کلاس سے چھٹروا لام ہے۔ 

ں ادیانی نواز کیل ! دہ الم جرم ہے جو چند کھو ںکی خاطرعدالت می ںکھڑا ہو 
کر قادیانی مجر مکی حمایت میں منہ بنا نکر دلائل وتتا ہے ۔ کسی پذرگ ن ےکا خو بپکما 
ےکہ قیامت کے ون قادیانی کی عما تہکرنے والا وکیل مرا دای کے کیپ میں 
ہوگا اور ملمانو ںکی حمای تکرنے والا کیل حضور اکر صلی انشد علیہ وسعلم کے کیپ 
میں ہوگا۔ سوال افھتا ےکلہ ادیانی نوا زکون ہیں؟ 

جوا عرگل ہے٠‏ 

ں جو زان تاومانیوں ے مبٹھی ٹڑٹھی باتی ںکرتی ے' دہ زبان تقدیالٰی ٹواز ے۔ 

۵ جتھ تادیانی سے ماف ہکرت ہیں دہ بات تقادیای نواز ؤں- 

ں جھ بازد قادیانٰی سے بشگمیر ہوتے ہیں' دہ جازو قادیالی نواز ؤں۔ 

ں و قدم قادیانی کےگھرجاتے ہیں دہ قدم دای نواز ؤں۔ 

۵ جو ہفص تادانی کے سا ھکھاا چیا ہے' دہ تقادیانی نواز ہے۔ 

ں ضس نس ک ےگ ای تی کے موقعوں پر قاویانی آتے ہیں' دہ تخس 
قاریای ٹواز ے۔ 

ں جو افرار تادماو ںکی مصنوعات خربیدرتے ہیں' دہ تقادیای نواز یں۔ 

ن3 جو نس تاریانو ںک ت لیم رجا ے' دہ قادیالی واز ے۔ 


113 
ھ ہفص تادیاننوں سے سلام دعا لیا ہے“ دہ قاویائی نواڑ ے۔ 
تو ہفص تادیائیو ںکی دکان سے سوا سلف خریبا ہے“ دہ قادیائی نواز ے_ 
تو ہفص تاوال یکو اپنے ہاں ملازم رکھتا ہے' دہ مس تاویائی نواز ے۔ 
جو ہنس تتادیانیو ںکو مظلوم ترار رتا ہے' دہ قادیالٰی ٹواز ے۔ 
اور جو نس من و اط لکی اس جنگ می غاموش رت ہے دہ بھی قادیال 


نا طص0۲٥9ٍ‏ بن 


1 
ہڈا 
ے 


آے اس آئنہ یں ریھیں!!! 
کہیں میں تادیائی نواز تر نیں؟ 
یس آپ تادیالی نواز ‏ نیں؟ 
کی ہمارے والر صاحب تادیالی نواز ت میں؟ 
ہیں ہماری والدہ صاح دای نواز ق میں؟ 
کہیں مارے بھائی اور ہیں تقادیانی نواز ت نیں؟ 
ہیں مرا کوئی عنی: یا دوست قادیالی نواز تو نیں؟ 
خراراأ خود بھی اس لعون کام سے ر کے اور دووبرو ںکو بھی اس ری ے 
یی ے روے۔--۔- قادیای سے دو تی اش کے مزا ب کو اکارا ےہ رسول 
اللہ صلی ال علیہ وآلہ دحلم سے بے وف یکرنا ہے اور پک نظر رت سے محروم 
ہون ے۔ 
صاجو آج اکر برادری کا جمگہ بلایا جاۓ اور پرادرٹی کے بڑے بے قیصلہ 
کری کہ جع سے برادری کاکوئی فد قادیای سے کی تم کاکوی تحلق میں رکم 
اور مماری برادری تادیانیوں کا عل پائکا فکرےگی۔ 
آج اکر لہ کے لوگ ہہ فیعل ہکری ںکہ جم دای دکانرار سے سوا لف 
نہیں میس سے 
ن0 آچ گر عسی مارکیٹ کے تاج سے فیصل ککری کہ ہ مکی تقدیائی ناج کو انی 
الینوی الیشن کا مہ نمی بنائھیں کے اود زندک کی ہر پر ان کا پائجکا ٹکریں ے۔ 
2 اکر کسی دخ کے ملازین اپپی میٹنگ بلاکر ہہ فیصل کری ںکہ جم ایے دفتر 


114 
یس ازم پ رقادیانی کا مل بائیکا ٹکریں کے۔ 

نج مع اگ ری صول کا یج ما بوندرسی کے 'طلباء یہ فیصل ہککری نک جم قادیالی 
لراء کا ہر طرح سے مقاطع ھکریں کے۔ 

ں آپ دیھیں مے کہ مقاویانیت مرف چند ہفتوں میں دم تزڑ جاۓگی۔ 
ہزاروں مقادیانیو ںکو اہ جرم کا اصاس ہوگا اور ىہ اصاس انمیں عیقت پر سو نے پہ 
مو رکرے گا اور انٹاء ایر ہجزارولں قادہالی غ!ارابیت بر لعت گئ کر اسلام کے دامن 
میں ؟ ہیں کے اور جھ بدبنت رہ جاھیں گے دہ پاکستان چھو رک رعسی اور لک میں مۓے 
کے لیے بوریا استربائرھییں کے۔ 

خر مر رجہ پالا صورت عال سے ے کو تی قارمابت ماری بے 
0 و وج سے زندہ سے اور ہم خود بی تادیاشی تکو زندگی کا سامان میا 
مر رسے ہیں۔ 

اے فرزندان اسلام! ایک مخ دبار میں کیل ٹھوک رہ تھا۔ ہتھوڑے 
سےکیل پر زوروار ضرڈیں لگا رہا تھا 2۳ 0 سے کما: 

ا ے کیل ا نوکیوں میرے سن ےک پچاڑ رہاے؟'' 

اع راوار! ججھے سے کیوں شحلو کر ری ے۔۔-۔۔ شوہ تھوڑے ےکر چو 
ھھ بر بے در پے ضرہیں اکر جا بین بھاڑ رہ ہے "کیل نے جواپ دیا۔ 

رح ہہارے ھماشرے میں قادہالی زا ز۴ را ر "ضز" ار جو نر 
اعلام میں ید کرنے کے لے تاویای کیل سے پر ناو نکر ن ای 
"دہ ڑا'کیل کا ساہ چھوڑدے فو یگیل کپھھ بھی می ںکر کک 

اے تچ دیانی نوازا بمت ظل مکر چگا۔-۔ اب ہم س کر وے--۔-۔ ال" کا وف 
آریےےو رصو لع ا صلی اللہ عل وم جخ ظا یبد ات اھ ے شر مککر۔۔۔۔ 
ال بییٹڈ اور صحا ہکرام کا پا سکر---۔۔ لیت اسلامیہ پ رت مکر--۔۔ ؟ حر تکی 
نی کسی گ رکر۔۔۔ عذاب ق رک اصسا سکر۔۔۔۔ اور نہ اپے ایا کا سال 
را 

اے تادبانی نوازا دک بب میں تقادیاگی عقائر“ ج کی نو حما یت ۷را ہے 


116 

نا مدان نے آرحع سے میں رس لہ براپین اجی میں مرا نام گھر اور امھ 
رکھا سے اور بے آفضرت صلی اڈر علیہ علے وآلہ وم کا ی وتور قرار یا ے'' ۔ (لعوز 
پانٹ) ( یک لی کا ا زالہ“' ص *ا؛ مصنفہ مرزا قادیانی) 

ر پر از آے یں م سج" 
اور کے س ہیں بی کر انی ٹان مش٥‏ 
ھ مئٗے ہیں ضص نے م"ٴ ئل 
ام ار کو کے ثابان میں 
(نوز پاش) 

(منررجہ ”اخار بر ر'' قاریان* ۲۵ ار ے+۰) 

0 کی موعورورمقیقت مر اور ین مج ہیں اور آپ میں اور آفحضرت صلی 
اش علے وآلہ وم میں پااہار ام کام اور مقام کےکوکی روئی ا مغائزت نہیں" 
(وز پایئر) 

(اخٗار الفضل* قامیان “۳٣۰۴‏ مم ٦ے‏ 'مورج گ توری ۹۰۹)) 
زا تاویا ‏ یقکتا ے 

0 ”جج را اس طرح خخاط بکر سے اور اس لر کی بات کے گر 
یھ بائیں بیان کر دوں نو نے مقر نظ ر آتے ہیں سب پھر جانیں' '۔ (نعوز پاشر) 
(ل یرت ا ممیری'' جلد اولی“ ص۸۸“ مصنفہ ھرزا بش راج تادیا ی' این ھرزا قادیایٰ) 

0 نی مص لی اللہ علیہ دآلہ مم سے ری نکی عمل اشاعت نہ ہو گی جس نے 
پر یکی ہے''۔ (وذ بال دا (حوشیہ خ گولڑو** ص۷۵ معنفہ هرزا تاریانی) 

۵ ”فرکن خداک یکتاب اور میرے (مرزا قادیائی) من کی بات ہوں"۔ (نعوز 
اش ( ا٠ج‏ زلیم'“ ص۰۶ )۱۰١‏ 
0 "جو حدسث میرے غخلاف ہے ' وہ رد یکی ٹوکری میں ڈال رو''۔ (نتوز پاش ) 

از ۱م ۹ ص مس“ مصلم عرزا قاربال) 
مج ری جماعت میں داشل ہواٴ وم وراگل ما کرام کی جماعت میں 
واخل ہوگا"۔ (نھوزپال) ('خطیہ امام ' ےا مصنفہ مرزا قارا) 


116 
ںَ یہ بالقل جح بات ےک ہرس ترت یکر سکم ہے اور بڑے سے بڑا ورجہ 
ا کا ہے“ ض کہ مھ رسول الد صلی اوقہ علیہ وسلم سے بھی بوعھ سکتا ہے''۔ (لھوز 
إل) 
مان مرزا بشیرائرین عحود انی این مرزا دبا ”اخپار الففضل'' تاریان' ےا جولال 
۲۳)) 
0 ممدا عرش بر جیری (عرزا ای ) تری فک ہے ہم ری ری فکرتے 
یں اور ٹرے >> ررور تک ہں“'۔ (حوز اللہ 
رسالہ درور شریف''“ بکوالہ از ”ا راعن''' م٣“‏ ص۱۵ ۱۸ف مح' ص۲۳ ۲۷۲ 
معنفہ مرزا قادیا) 
نہ[ سض ناران صحابہ جن کو ورایہت سے بچتھ تحص نہ تھا"'۔ (وز پان ) 
(ددفیہ نصرت اق“ ص۰٣‏ ۴) 
0ك الو یکو ع نکیا خے وم رت مزا ادا یکی جوتبں کے کے کھو لے کے 
اکن بھی نر تھے"۔ (نعوز ہاللہ) ("”مانامہ ”ا ممدی' بابت جنوری فردری' ۲۶۱۹۵ / 
۳+ ۵) 
نم لا میرے روز کی یراہ ے' ین بی جھگں میر ےمگریبان یں 
ہیں''۔ (لعوز پاشہ) (” ول ١‏ کے" ص۹۹ 'مصنز زا تارال) 
اے تادانی نوازا تی تاریانیت نوازی کا مطلب تادبانیوں کے ان غلیظ ادر 
روں فرسا عقائ کی اق تکرنا ہے۔ تیری مادیامیت نوازی سے ماد قادیانیوں کے ان 
ایمان سوز عقائ کی حمای کنا ے۔۔-۔۔ با سپچھ آکھھیں ہو می کہ مھیں۔۔۔-۔ با 
زہ یک یرہ ںکھلیں یا ننہیں۔۔۔۔۔ چا! یبر نے کوئی اجھڑای لی با ممیں----۔ جمدی 
ٹاإ۔-۔۔ ورد وہ وش آنے سکولی دہ ھہھیں۔-۔-۔-۔ جے ‏ و زٹن کے برڑوں میس 
جکڑا جا گا---- جب مگ رگا“ : مار ما رک جتیرے وجو کو وھنی ہوئی روئی کا ڈھیربتا 
7- گے۔۔۔۔ ہب سائیوں ا. پچھووں کے اژوجام ۳ سر ٹوٹ پڑہیں گے۔۔-۔۔ 
جب جن مکی نگاڑتی بھوکی آگ گے جلاک خاک ساہ بنا د ےگی--۔۔ اور جم میں 
جلنا ہوا مرزا تقایالی جا تاشا رک گا۔ 





8 ا 
٠ڈ"‏ وو وو۔. 


118 


وك بھ وکا تھا ہہ بت بے وکا 
وہ لیس تھا....۔ بت می ہرئیٴش 


اں کا پیٹ واشات کا پاڑ قوا...۔ بست بڑا بباڑ....۔ شاب عالیہ سے بھی 
بڑا۔ 

ان :کا نٹ ای ا ے مرن کھانے 09 رین یئ ا رین 
مشروجات طل بکرا.... بتزین مٹھانیوں کا نتقاض اک را۔... 

پییٹں کے حرصض٠‏ نے اس کا جینا دوبھ رکر رکھا تھا..۔۔ چبی ف کی طواہشات ا 
کے گل کا چجندا ب نیگئی نگھیں۔۔۔۔ 1١!‏ 

گن وہ خریب تھا.... اس کےگھممیں خریمت کے اٹ دھاکی رای ی..۔۔ 
واہشمات کا رم خر کی پچھری چٹان سے صر کگراکر وائیں ہو ان جن 
کی وین عو رکر کے جوالنی کے ہگن میں واغل ہوا تھا.... لین دہصسی دو زگار پ 
نی تا... ہک کہ جار ریچ جماعتیں بے نے کے بعد وہ سکول سے بھا ک گیا تھا۔.۔۔ 

ہنرو و کوگی جا نی تھما۔..۔ فاررغ ہون ےکی وجہ سے وہ ساراون گاٗوں ں 
انکر یکن 

رآ با پکی صرغ صرح آھھیں اپنے دان میں چھٹڑرکیاں لیے ا س کی 
خنظر ہیں جو اس کے دل سے آرپار ہو جاتیں..... بڑی بھالی اس بر علعن و شف 
کے میرو ںکی مفقکرتی...۔ ابل لہ اسے نرمت بھری خگاہوں سے دبکحتے.... من 
اں ء ان پچڑوں کاکوئی اٹ ن_ ہو ]۔۔۔۔ 

وہ لج و شام خیالو ںکی دنا میں مو پرواز رہتا۔-۔۔ وہ اپنے ضیالو ںکی دنا شش 
رگن اکہ وہ انی ےکھرے میں بیٹھا ے.... اچانک اس کے سامنے دسترخوان بچھ جانا 
ے.... طرع طرع کےکھانے ابی بہار دکھا ر سے ہیں...- جس سے اس کے د کی 
وادی میں تھی بہار آگئی ے۔.۔۔ دوکھانوں ۔ ٹوٹ بث سا سے اور ومتزخوان کا صفایاکر 


19 

دنا ے.... را کو وم پھر خالی کفل سا ے.... طاسی رمترخوان بچھتا سے اور 
سا بی اس کا پیٹ دسنزخوان پر بکھ بھ جا ما ے۔.۔۔ اور پچھربدرے دمترخوان کے 
ان اس کے چیٹ میں بوں آگٴرتے ہیں سے سمیرر میں رر ا۔۔۔۔١۱]‏ 

اک دن وہ اشی خیالات کا بنا بازار حجاۓ با تھا-..۔ اچچاتک اس کے دل 
ے ایک کروٹ پی... اس نے سو چا کہ میرے یہ مارے خالات رت کے 
گھرونرے ہیں ج میں می بنا :اکر نے ڑا رتا ہوں۔.۔۔ اب تج ان خواہشما تکو گی 
جامہ پہنانا چا ہے ...اس نے زبن میں منصوبہ بنربی عم ليکرپی-... پچھردہ الیک ون 
اپنے با پکی ٭ مھ روبے کی خظیر رم نےکر کھرسے بھا کمگیا...۔ ہندوستان کے 
بڑے بڑے شمرو ںکی سیرکی...۔ ا لی سے اع کھانے کھائۓ اور برانے ار مائو ںکو 
گی ھکر پچ راکیا...۔ اپنے اعزاز میس آپ فیافتتیں دریں...۔ آپ بی ممان خوضی 
بنا اور تحصوصی طائت کے ساجھ ساربی ضیافپتتیں اکیلا ہی کھانارا۔ 

چند دن مزے اڑانے کے بعد جب یی عم ہو گے و مجبدر گھرکی راو ىی..۔۔ 
اپ نے بت مرزنش کی لیکن وہ تے ہے بش م کر کا تھا.... ہوٹلوں کے دل بمار 
کھانے 'کھھانے کے بح درگکھ مکی رد وکھی کی اسے ایک آگھ نہ بھاتی.... پبیٹ پھر انیں 
کھانوں کا تقاض اکر ٠...‏ پیٹ کی آواز یر لبی کفکتا ہواوہ ایک دن پگ رگحھ رس بھاگ 
می اور ساللوٹ ایگ روست ے با چا بج تھا۔۔۔۔ اور پچھر روصت کے سط سے 
الکو ٹ کی پچھری میں بطور خٹی ملازم ہوگیا.... لیشن خحزا, غیل بھی اور پیٹ کے 
تقاضے طول تھ...۔ بی کی بدعتی ہوکی خواہشا تکو و راک رنے کے سییے اس نے 
رشوتیں ینا روم کر وس ..۔. من ربھی پیٹ کا می بجھرا۔.۔. وك فوار اور 
رشوت کے چیوں کے پاوجوو پبیٹ کے پاتھوں پر یٹان ر جتا۔۔۔۔ 

رات میں اس کے پاس یھ پادری آتے تھ.... ند ملاقاقژں کے بعر جب 
پاددیوں سے ا کی اٹچھی شناسائی ہودگئی-.. و ایک دن پاددبیوں نے ایک خ مہ ا سکی 
بر لف رعو تکی.... کھانا کھانے کے بعد بادریوں نے اس سےکماکہ ہیں ایے 
قاص کی یل کے لیے ایک لیے عرصہ سے ایک جھونے مکی شردرت ہے۔ اس 
سلسلہ میں ہماری نگاہ تاب نے آپ کا امتخقا بکیاے۔ ہم نے پچ اور لوگو ں کو 


0 

بڑے بڑے ‏ لی پاترے رت ہو تے اس کام کی بابم تکما من وہ بیارے لو د وی 
بوت کانسو جکر بی تھ رق رکانیے مگتے ہیں۔ آپ اس سلسلہ میں بمادر اور ولب رآآدی 
ہیں۔ ہم درست مہ پر نے ہیں اور ہمارا ا تقاب درست ے۔۔۔۔ 

دن میں وو ا ای تین وق نی ان نے کان 

نے کے وا کا مکرنے کے لے ہم آ پکو اپنے آدمیو ںکی ایک پر ی 
ٹیم دیں گے۔ اس کے علادہ آ پک ہر خوائش پدری ہوگی۔ آپ کےگح کو حم وزر 
سے پھر دیا جاۓ گا۔ آ پ کو وکری سے نار غکر کے گھ ری دیا جائے گا اور آپ 
وہاں جار دگوئی و تر وی دنا" ا مم جاشیں اور ہار ا کام'۔ انوں بر 
تواپ ریا۔ 

بئھ سو جن کی مملت ریں'۔ اس ت کم 

”فیک ہے۔ آپ کل کک سوج لی اور کل ہیں اپننے بیہ سے آگا کر 
دی کی وگنہ یس اور عکومہت برطاش کو ر پور ٹف کرلی ہسے''۔ انموں ن ےکا۔ 

اگ دن وہ سو نے بیڑھا---. نو ول نے تھوڑی سی مزام تکی...۔ اور اس 
سےکھاکہکیوں یٹ کی نا طرایمان بی رپا ہے...۔ من چیٹ نے اپنے بھاد کیا بھ رکم 
وجور کے ساد تھے سے ر لکو وبورچ لیا اور اس کا گا ھو ٹف کر اسے پیش کی نید سلا 
دااور اس کے ساتھ بی اس نے دو بی شبو تکرنے کا فیصل کر لیا۔۔۔۔!!! 

وہ کر ی پچھوڑک رگم مآ کیا.... دعو کی نبوت کے سان ہی اس کے گھرمیں 
0ئ ,0 7 00ر 
حائف کا سللہ روغ ہوگیا.... اور اس کے چیٹ گی ثٹراشات ری ہوے 
ین ون وہ اۓ ہریدوں کےمگعروں مس پر.... دعوتیں اڑا ضیافتقی ںکروا)“ 
وسنزخوان اجاڑ ا ایک شمر سے ووسرے شمرعلہ آور ہو ]۔... اس کے پیٹ کے 
تنم کا ایی دم نکیا تھا..۔۔ اس کی تفصبیل چپیشی خدر مت سے.... آپ بھی بڑھے اور 
سوہ ےک وو کیا زئیل و رؤنل مخ تھانس نے فتط پی فکی ا رابنا ائمان بج دیا۔ 
ایر آپ اس کا نام ضے کے جیے تاب ہوں تو ضنے اس کا نام تھا 

”مرزافلام اض تادیا ی'' 


121 

برنرے کاکوشت : ”رت سب موکور (ھرڑا قادہاٹی) گمائوں میں سے رد 
کاگوشت زیادہ ند فرماتے تے''۔ (سیرت المد بی“ جلد اول ؛مص *٭ن“مصنفہ ھرزا ٹیر 
اص قادبالی این مرزا قادبالی) 

اشی چو ںکو پر راکھرنے کے لیے تو نبوت کا د عو ٹکیا تھا۔ (ناقل ) 
شکار او رگوش : حرت س موعور علیہ السلام (ھرزا قادیای )کو پر ندوں کا 
گوشت پند تھا اور تل دفعہ بیار بی وغیرہ کے دنوں میں بھالی پر ار تیم صاح کو 
تم ہونا اک کوئی برندہ شا رکر کے لامیں''۔ (میرت الد ی ' حصہ اول' ص۹۹ٴ 
معنفہ مرزا بٹیراص تاد یالی این مرزا قادبالٰی) 

عرید پرندوں کے ششکارىی... پیر ایمان کا شکار ی (ا٘ل) 
بی رے : ”تروع شروغں مس ٹیرے بھ یکھاتے تے گن جب طاعون کا سلسلہ 
شروع ہوا فو آپ نے اس کاگوش تکھانا پچھو ڑ دیا لک کہ آپ فرماتے کہ اس مس 
طا۶وٹی ارہ ہو ّاے"'۔ (سیرت لمد بی“ حصہ اول “سص ہن معنفہ ھرزا ہہ رام قادیالی 
ان مرزا قادیالٰ) 

کیاطاعولی ساسلہ سے پللہ بیریس طاعولی مادو نہیں تھا؟ (ناقل) 


ناشن : ”اشن پاقیدہ خی ںکرتے تے۔ اں عمو اگ عکو دودنہ پا لیے تے۔ ماکسار 
نے با چھاک کیا آ پکو دودجھ پعلم ہو جانا تھا؟ والدہ صاحبہ نے فرایاکہ عم نو میں 
ہو اھر لی لی تیے۔ (یرت البدری“ صہ اول٠“‏ ص۵۰“ مصفہ ھرزا را 
قادبای این مرزا قادیائی) 
یی کائی ڈحیٹ تھا رجاقل) 

دووج : ”وورہھ کا استعال آپ اکٹ رھ تھے اور سوتے وقت ٹو ایک گلا 
شور یج تھے اور ون کو بھی یچلے رنوں میں زیارہ استمال فرماے تھے کو لہ ۔ 
“ول ہوگیا تھاکہ اوھ دودھ پا اور ادھر دست آمگیا “اس لیے بت شحف ہو جا 
ھا۔ اں کے وو ر کر نے کو دن میں ٹن پار كت ھوڑاھوڑارورٹ طاثت ۴ 


122 
کر نے کو لٌ ارت ے''۔ (بیرت المیر یی“ صہ ووم" صم۳)' مصلز مزا یر 
اض قادبالی اہین مزا قادیا ی) 
دودھ پٹیے سے فو دست لگ جات ہیں۔ ہہ دست آنے کے بعد پچمردودھ لی 
تا تھا١‏ او رکت تھاکہ میس خغاندائی میم ہوں (ناقل) 


پلوڑے : ”والرہ صاح ے فرمااکہ پلاڑے بھی رت صاحب ا پر ے۔ 
(بیرت الد بی“ حصہ اول “٠ص‏ ٭ث“ معشفہ ھرزا بی راصر قادیا لی ابن مرزا قادیالٰ) 

اب قو جن مکی نک میں خود بھی پکو ڑا ء نکیا ہوگا (نائل) 
گرارے پلوڑے : ”میاں ہر ال صاحب ے یا ن کالہ جخرت صاحب 
ایھے جے ہو ئےکرارے پلو ڑے پن کرت تے۔ بھی بھی بججھ سے متو اکر مسر شش 
فلت شل ھکھا پا کرتے ے''۔ (میرت امیر ی/ حصہ اول “ص۱۸۱۸ مصنفہ ھرزا مرا 
ادیالی امن مزا قادیالٰ) 

پ تی زکہیں کا (ناخل) 
سیں. ”اک زنے می مین 6 شریت بست استعمال فرمایا تھا گر پپلر پچھو ڑ 
دمی'۔ (میرت المیری“ حصہ اولی“ صن“ مصنفہ ھرزا شر اص قاویالی ابن مرزا 
تاال) 

اسی لے اکر سین در “کھائی اور نموم کی شکایت ر ہتی شی لیکن تو چز زیادہ 
تحلیف دی ھی دہ زیادہ پا تھا ۔کھوردىی تو الئی تھی۔ (نائل) 
گی : ۴ب بھ کک رٹ بی پن کر تے"۔ رت ادص ارل' 
مس ان“ معنفہ مرزا یراط قاویالی ان مرزا قادیال) 

اس دن رو یک رکھا با ہوگا(ناتل) 
جھائے : ” ایک زانہ میں آپ نے چاے کا بمت استعال ڈرایا تھا گر پھر پچھو ڑ 
دمی"۔ (میرت المیری' حصہ اولی“ ص ان“ مصنفہ مرزا بر اضر تقاویالی ابن مرزا 
قادیالی) 


123 

پھر شراب جو شرو ںعکر دی تھی (نال) 
طریتہ طعام : ”ھا کھھاتے ہو ئے روئی کے پچھوےے پچھو نے ککڑ ےکمرتے جاتے 
تھے۔ بج ھکھاتے تھے بجگھ چچھوڑ رسینے تے کھانے کے بعد آپ کے ساسح سے بھست 
سے ریزے اشھتے تے"۔ (میرت المدری“ حصہ اول“ ص٢۵“‏ مصنفہ مرزا بر اتد 
ادیاٹی این مرا دبا ی) 

کیاکوگی قادیالی ہہ برداش تکمرے گاکہ اس کا بنا اس طرح رز کا ستیاناس 
کرے اور نگاگی کے دور میں اتا آ ٹا برہا دکرے؟ (ناتل) 
وفت طعام : "کھانے کا وت بھی کوگی خماص مقر میں تھاں مج کاکھانا ضس 
او جات باردبار: ایک ایک کے مھ کھاتے تے''۔ (سیرت المد می “ حصہ اول “ص۵۱ ' 
مصنفہ مرزا برا تایالی این مرزا دبا ٰی) ْ 

دو خن سردودھ بی لیے ہوں مے... حم برور اتی دی نو بھوکا نیں رہ 
کا نال ) 


ای: ری کے موحم می ںکنویں سے پالی میلو اکر ڈول سے می منہ کر ای پفتے 
تھے ''۔ (مرت المدر بی“ حصہ اول/“ ص۸۱ مصنفہ مرزا یٹبر اج ادا ی ابن عرزا 
قایال) 

یی سار ےکنومی کا بای بجھو اکر ا تھا.. ع رت ھکممیں کا1 ( نال ) 
کون سا کھانا: ”ای طر ح کھانا کھانے کا ىہ عال خھاکہ ور فرایاکرتے ت ےک 
بیس فو اس وشفت چا کنا ےک ہک یاکھا رسے ہہ ںکہ ج بکھاتے کھاتے کوک یکنکمر و یرہ 
کا ریہ رات کے پچ ؟آ جا ہے''۔ (میرت المیدبی“ حصہ روم“ ص۵۸ مصنفہ عرزا 
یراط قادبالی ان مرزا قادیا ی) 

مد ی نیم کے مشق نے جو مست مار دی تھی۔ (ناتل) 
سام عرغ : "سالم مرخ کاکباب بھی ند تھا۔ چنانچہ ہوشیار پر جات ہدئے تم 
مرغ پگواکر ساتچھ نے گے تے''۔ (یرت المد کی ' حصہ اول“ ص۸۱ مصنذ عرزا 


24 ۱ ۱ 

یراج ایا ی این ھرزا قادبا ی) 

مغ نہ پکوداتے نو مرزا قادیالی نے فرب نمی ںکرنا تھا۔ نال 
موگھر ےگوشت : مو یکی پچ ی او رگوشت میں موگھرے بھی آ پکو پند 
تھے" (بیرت المیدریٴ حصہ اولی“ ص۱۸۱ معنفہ رزا یمر اج تقادیائی ابن عرزا 
قادیالی) 

معلوم ہوا ہے کہ امور خمانہ دای کی کوت یکتاب بڑ ھک ھکھانے وا تما۔ 
(جاثل) 
بھنی ہوٹی بوٹاں : وش ت کی خوب بن ہولی بوٹیاں بھی مرغوب گھیں "۔ 
(بیرت المید بی“ حصہ اولی“ ص۱۸۷“ معنفہ ھرزا بشی رام ما دبا ی ابن هرزا قادیائی) 

اور اب "بر کےکیٹرو ںکو ا سکی بوٹیاں بت عرغوب ہیں۔ (نا٘ل) 
بے چادل : دمئے چاول “گڑ یا تد ساہ یس کے ہو پند فرمائے ہے''۔ 
(بیرت البید یی“ حصہ اول “ص۱۸۲ معنفہ ھرزا ہیی رام تادیا ی اہن ھرزا قادیائی) 

و لیے خود تر بواکڑوا تھا۔ (ناقل) 

0 ”اور ٹٹھے چاول نو خو وک ہکر لوا لمیاکرتے تھے گ رگڑ کے اور دی آ پکو 
پند تھے ''۔ (سیرت المیدر ی “حصہ دوس ۳۲) مصنذہ مرزا بی راص تادیانی ابن عرزا 
قادہا ی) 

زیا یٹس کا پر انا ھرلیئش او رگھڑ کے چادل| بڑا بد پ بیز تھا 2( ناقل) 
ماگ : " پھلہ دٹوں میں جب آ پگھ میں کھاکھاتے سے آز آب اکٹزمج کے 
یت کی کی رولی اکٹ رکھایا کرت تھے اور اس کے سا جج ھکوئی ماک پا صرف لی کا 
گلاس یا یھ من ہوا را ھا“ (ہیرت المدی “حصہ روم“ ص۱۳۱“ مصلفہ مرزا یمر 
اضر تادبائی ان مزا قادیال) 

دیکھا اپنے گعری ںکتنا ماد ہکھاناکھا ا تھا۔ عیائی و مریروں کے گھرہو تی تھی۔ 
ال 


125 

کھانے پٹ میں رکاوٹ : بھی نبھی آپ پانی کا لاس با جا ےکی پل 
امیں ہاتھ سے کچ ڑکپ کرت تھے اور فرماتے ےک اتد ای عمرمی دایں پانتھ میں 
ابی چوٹ گی بح یکہ اب تک بو مل یزاس پان سے برداشت ہیں ہوی'۔ 
(یرت المیدی “حصہ ووم “ص۱۳۱ مصنفہ ھرزا بش رام تادیالی ابن مرزا قادياٰ) 

ضرت ہہاں نگم سے شاد یکرت وقت مسرا ل کو بھی انا ىہ فص بای تھا؟ 
وہاں تق خضاب اکر گے تے۔ (ناقتل) 
ک یاکھایا: ”ار آپ نے فرمااکہ نہیں وکھان ا کھاکر بہ بھی معلوم نہیں ہو اک ہکیا 
پا تھا اور ہم نے کیا کھایا"'۔ (برت البدر یىی“ صہ روم" ص۱“ مصنطہ ھرزابراھ 
قادیا ی ابن مرزا قاریالی) 

کیو کہ اس کے بعد ا ہکھان ےکی ار ہو تی تھھی۔ (نائل) 
ڈیل رولی “یسا ٹ: 2 روٹی جا ے کے ساتھ یا کٹ او رجرم بھی استعال 
فا ا ککرے کے''۔ (ضیرت اللیدی “ صہ روم ' ص۲٣۳‏ مصنفہ مرزا بش راص قاریالی 
ان مرزا قادالٰی) 

رستوں کے ووران ہہ نہ استعا کر نا ہوگا وہس ان چچباں سے ھرزا قادیا ی 
کاکیا خم ہوگا۔ (ناضل) 


ولا تی ابسکاٹ ؛ "ولاتق کو ںکو بھی جائز فرہاتے تھے۔ اس لیے کہ یہی ں کیا 
معلو مکہ اس مس جرلی ہکوہ بنانے وانے کا اعادہ نے کن ہے پھر ہم ناضن بدکمالی 
اور ول سکیوں پویں''۔ (سیرت المید یی“ حصہ دوم می ۱۳۲“ مصنفہ مرزا ہیر 
اص قادیانی اہن مرزا قادیای) 

جب ولا بی شبو تکو جات زکمہ دیا ق ولاپتی اک ٹکیا نز ہیں؟ (ناقل) 


رمال : ”علاوہ ان رویُوں کے آپ شی رما لکو بھی پر قراے گے''۔ (صرت 
الیری “حصہ روم“ صصح٢٣“‏ مصنذ مرزانراھ قادیالی این رز ادیای) 
ال سے نر حشق تھا اور اگر مال کے ساتھھ شی ربھی لگا ہو نکیا کے1( نعل ) 


126 
باترغخانی تے : ”اور جاقر ال ی کہ وغیرہ غرض جو جو اقسام روٹی کے سام ] چایا 
کرت تھے آ پ کم یکو رر یہ فرماتے گے''۔ (یرت المدری“ صہ روم“ ص۲٣۳٢"‏ 

معنفہ مرزا بش راصھ قادیالی این هرزا قادیالی) 

یی سب بچتھ رکڑ جاتے تے۔ (ناقل) 


می کی رول : یی روٹی بہت یرت آپ نے آ محر ی ری استمال رای 
کیوکلہ آخری سات آھ سال سے آ پکو دستو ں کی بیاری ہوگئی تھی اور مض مکی 
طاقت کم ہوکی ھی (بیرت المد یی" صے روم“ ص۲٣۱۳‏ مصنذہ ھرزا بر اھ 
قادیای اہن مرزا قادیاٰ) 

یض مکی عطاات کم ہ وگئی شی نیک نکھان ےکی طاقت بڑھعتی ہی گگئی۔ (ناقل) 
گوشت : شگوشت آپ کے ہاں دو وقت پلتا تھاگر دال آ پکوگوشت سے 
زبارہ پٹر تی" (ضیرت اید یی“ تصہ ووم" ض.[ح٣۳)“‏ مصنطضہ مرزا برا قادبا لی 
ابن مرزا قاریای) 

پند دال شی۔۔۔ لین دوٹوں وقت جلناگوشت تھا--۔ عیب پیند ھی ؟ (ناتل) 
مغ کاکراب: ”مرغ کاگوشت ہر طرح کا آ پکھا لیت تے۔ سالن ہو یا بنا 
ہواکباب ہو ٴ یا پا گر اکشر ایک ہی ران ر زار وکر لیت تھ ''۔ (حیرت البد یی ' 
صے روم" ص۳۲" مصنفہ مرزا رھ قادبالی ای رزا تادیا ی) 

ىہ بھی جا کہ تمارا مزا قادیال کیا خی ںکھا ا تھا؟ (ناقل ) 
او "'یااو بھی آپ کھاتے ھے تر پیش 2 او رگراز اور گے ہوے چاولوں 
کا''۔ (سرت الآمدر یی صہ روم" ٣٠٣۳ا"‏ مصنز مرزا راھد قادہالی اس مزا 
قادیال) 

پاول تق نرم وگمدا زکھا.] تھا لیکن خود پچھردل تھا۔ (ناقل) 
ری : "عکھانے لین یکباب' مرغ پل یا انڈے اور اسی طرح رنی یٹ 
چاول وغیرہ تب بی آپ کم کر پیا کرتے تے"۔ (سیرت المعدری* حصہ روم 


۱ 127 ۱ 

ص۱۰۳ مصنفہ مرزا بش راص فادبا لی ابن مرزا قادیال) 

گھریس خمیں... مریروں کےگگعروں میں۔ (نائل) 
من ای "' وو“ ؟ پالاکی' من ہہ اشیاء بللہ ادام رون تک صرف وت 
کے قام اور ضعف کے وو رکرن کو استعال فماتے تے''۔ (بیرت المیدی“ صہ 
روم" م۳۷۱۳“ مصنذہ مرزابراھر قادبالی ان مزا دبا ی) 

معلوم ہو تا سے ٗی رمعم زہا ںکی خوراک ہے۔ (نائل) 
رف : ”دن سےکھانے کے دقت پان کی ج گرم میں آپ بی بھی پی میا کرتے 
تھے اور برف موجور ہو و ا کو بھی استعال فرما لیت تے''۔ (عیرت الممد یی“ صہ 
روم' ص٣۶٢۱‏ مصنفہ مرزا یمم راص تادبالی ابن مرزا قادیالی) 

کہ کے لا لے ہ یکو اس زمانے میں بھی برف کل عاتی شی۔ (نا٘ل) 
الاپ پارام : ”ان چیڑوں کے علادہ شر بادام بھی مر بی کے موحم میں جس 
چند دانہ مغز بادام اور چند چھولٰی الا سچیاں اور سپ مع ربی ہیں کر پچنگر بات تھے“ 
ا کرے تے''۔ (یرت المیدری“ حصہ وومْص ۱۳۴" مصنفہ مرزا بشیراصھ تادیالی این 
را تادیائی) 

اور اس کے بعد اکھاڑے جا تھا۔ (ناشل ) 
کی : ضی بھی رع شف کے لیے آپ جچھھ دن متوات ہن یگوشت ما پاوں کی 
پاکرتے تے"'۔ (سیرت المید ی “حصہ روم ٤ض‏ ۱۳۴“ مصنفہ مرزا بشیبراص تادبالی ان 
ہرذ ادیالی) 

یہ جا اتا خر چ ہکھماں ےکر تھا؟ (جاتل) 
یگل : ”میدہ جات آ پ کو پند تھے اور اکٹر شدام بطور تخذہ کے لایا بھی کرتے 
تے۔ گا سے لاس خور بھی موا لیے تھے۔ بندیدہ میدوں مس سے آ پکو اگور “می 
کاکیلا اگپوری مترے' سیب مردے اور مرو آم زیادہ بپند تے۔ باقی میدے 
بھی ماس باسے ہجو آتے رت تھے کھا کیاکرتے تے۔ گنا بھی آ ب کو پند تھا 


128 

ینم ممھری مل مکی طرف۔ (نائل) 
ایم : رت سکع موعور علیہ السلام (ھرزا تادیا ی) نے ت بات ای دوا خر ا تائی 
کی بدایت کے مطابق بتالی اور اس کا ایک بدا جز افمون تھا اور ہہ دوائسس قر اور 
انیو نکی زیارگی کے بعد حطرت غیفہ اول ( تیعم پور ازرین )کو تضور چھ ماہ سے زائَر 
27 رۓ رے اور نود بھی وآ" ٠٘‏ خلف امراضل کے ورووں کے وت استعال 
کرتے رسے''۔ (مممون میاں مور امم صاحپ غلیفہ تادبان مندرجہ اخار 
×الفضل'' ران“ جلرےا؛ مم“ مور ۹ اائی ۱۹۲۹ء) 

اسی لیے نو پت میس چتا تھھاک ہک اکھایا؟ ( اٹل ) 


عم , ”جب القت زیارہ بڑشی اور حطرت کچ موعور علے الصلو ؟ والسزام کو 
ت کی دھمکیوں کے خطوط موصول ہونے شروع ہوے ‏ یھ عرسے کک آپ نے 
صا کے مرکبات استعال سے باکہ خد انخواستہ آ پکو زہردیا جائے نے مم میں اس 
کے مال کی طائت ہو" (ارشار میاں گور ١ص‏ غلیفہ ادبان؟“ منررجہ اخار 
*الفضل '' تاربان'مور_ہ ۵ فروری ۱۹۳۵ء) 

اتی نو را فکھاکر بھی انتا بزدل تھا۔ ( نال ) 
شراب : حی ایم“ عم مر نین صاحب سلہ اللہ تائی “الام میم ور مت 
الہ وب رکاع 

اس وقت میاں یار مھ بھیجا جا]ا ہے۔ آپ اشیائے نر یدلی فود ری ری اور 
ایک بول ٹاک وائ نکی پلو مرک دکان سے ید دمیں گر ٹاکک وائن چا ہے اس کا 
اظ رے۔ ائی تریت ے۔ واسلام۔ رز لام اص می عئے (فطوط امام بنام فلام “ 
ص۵ از عیم مھ نین قرب قادیای) 

قادبایوا اسے پو ‏ ھکر تی فو ہکر لو۔ (ناقل) 

٥‏ ہک وائ کی تقحیقت لاہور میں پلو مکی دکان سے ڈاکٹر عمزیز اج صاحب 

کی معرفت معلو مک یگئی۔ ڈاکٹر صاحب جوا تر فماتے ہیں۔ سب ار شاد پلام مکی 


129 

(بیرت المددی ؛حصہ ووم ٤ص‏ ۱۳۴ مصلفہ ھرزا بی راج قادیائی ابن مرزا قدیائی) 

گنا سے یو قوف مریدوں نے اپنی جھہیں اجا ڑکر ھرزے کے گھ کو فرو ٹکی 
دکان بنا ریا تھا۔ (ناشل) 
روس ”زادہ موجورم کے اییارات لا برف اور سوڑا بھونڑ تر ویر بھی 
ری کے دثوں می لی میاکرتے تھے بللہ شدس گر می میں جرف بھی ام رت لاہور 
سے خور موا اکر نے تے''۔ (یرت المیدر ی“ ص روم ص۴ ۳)“ مصنفہ مرزامیر 
اھ قادیای امن مرزا قادیای) 

ٰ اب و جنم کاکھو لھا ہوا پالٰی بی ما ہوگا۔ (ناقل) 

مفاسیاں: ”بازاری ٹمائیوں سے بھی آ پکوکی عم کاب ہزنہ تھانہ اس بات 
کی پر چول کہ ہندوکی ساخت سے یا ملمافو ںکی۔ لوگو ں کی جذرانہ کے ور پر 
آوردہ مٹھاتیوں میں سے کھ یکھا سے تے اور خود بھی روپیہ دو روپ کی مٹعالی موا 
مر ر کھت ے''۔ (بیرت اید یی صہ ووم" ص۵٣‏ مصذ مرزاشراھ قادیال 
ان مرزا قادیای) 

ات کھا ا کے تھا؟ (حاٹل ) 
زان مالیٰ: ” بارہ ایا بھی ہواکہ آپ کے پاس تفہ ٠‏ سکوئی چزکھان ےکی آکی نا 
نو رکوئی چی رز آپ نے ایک وقت م والی پھر اس کا خیال نہ رہ۹ اور وہ صندوق میں 
کی پڑمی س ڑگئی ما خراب ہوگئی اور اسے سب کا سب مجیکنا پڑا"'۔ (سیرت المد می ' 
حصہ ووم ٤‏ ص۳۵) معنفہ مرزا بشی رام تادیالی این ھرزا قاديالٰی) 

جب مال کرت سے آ ہو تو ایے بی ہو اے۔ (ناقل) 
انف : ”ان اشیاء مس سے اکر چڑیں خخذہ کے طور پر ممداکے وییروں کے 
ائحت آتی میں اور جار ہا ایا ہو اکہ رت صاحب نے ایک چ کی خوائش فرائی اور 
و اس وقت لی نووارد یا عرید بااخلامس نے اکر عاض رکر دی '۔ (سیرت البد ی' 
حصہ روم / ص۱۳۵“ مصنفہ مرزا یٹ راص دبا ی این ھرزا قادیالی) 


130 
اور دای وعروں کے مطابق آئی ہوگی چزی ںکھاکر خممیں مضہ ہوا تھااو رم 
اخلاص میید ک ےھ کی لیٹرین میس مرے تے۔ (نا‌ل) 
یآان: ان الہ کبھیکبھی د لکی تقو یت با کھانے کے بعد من کی صفائی کے سے پا 
بھی کھ میں سے پپیٹ یکر دیا گیا نو کھا لیا کرتے تے''۔ (سیرت البیدی“ حصہ دوم" 
ص۵ )ٴ مصنضہ ھرزا نٹیراصھ تادیالی ان ھرزا قادبا ی) 
کیاسین ہوگا جب ایک آ کہ بن دکر کے پان چبانا ہوگا؟ (نال) 


مرفی اور براٹھا: ٭ رفا نکی محری کے لیے آپ کے لیے مان نا ٹیک 
ایک ران اور ری عام طور بر ہواکرتے تھے اور سادہ روٹ کی ہجائے ایک پر اٹھا ہوا 
ک ربا تھا'گ۔ (سیرت البددر بی“ حصہ وومٴ ص۳۷١‏ مصنفہ مرزا ٹمراض تادیالی این مرزا 
قادبای) 

اور روپ کو روزووڑرتا تھا۔ (نانل) 


تیر ۔ میک : "سر کے دورے اور سرد ی کی طلیف کے لیے سب سے زیادہ 
آب ملک پا خر استعال را کرت تے اور بیغہ زایت اعلی شمم کا منکوایاکرتے 
تھے''۔ (رت المیدی ص روم" صء٣۳"‏ مصزہ مرزاشراھ قاد با ی ان مزا 
ادیائی) 
کہ سے سیا مال جو آ۰ تھا۔ (نائل) 

قلمہ : ٭حطرت سکع موعور علیہ العلام نے ایک دفعہ دود کی بر فکی مین جس 
قلف ا صن ویگی کی برک نالی عالیٰ ے ثریرکر مثالی اور ال مس گاسے گا سے 
رف بنائی جاتی تھی۔ ایک دن ایک برف بنانے وال یکی بے اضیای اور زیادہ آگ 
دی ےکی وجہ سے دہ بن ٹف گئی اور تا مگھمرمیں ایمونیا کے عفارات اب کی طرح کیل 
اور ا کی ججزی سے لوگو ںکی جاکوں اور آگھھوں سے پائی جادئی ہ وکیا کوٹ 
زبارو ختصان میں ہو (میرت المد یی" صہ وم ۵ن۲“ مصذہ عرزا برا 
بای ان مرزا قادا ی) 


11 

نتصا نکس بات ک..۔ مکلہ نے اور مگ دی ہودگی اپے ”می “ک1 ( نال ) 
ہندوو ں کی مٹھائیاں : ”ڈاکڑ مر مھ اتل صاحب نے بجھ سے بیا نکیاکہ 
حطرت سکع موعور علیہ السلام ہنرووں کے ہاں کاکھاناکھا یا لیے تھے اور ائل ٹوو کا 
تفہ ازم شیرتی وغیر: بھی تقول فا لین تے او رکھاتے بھی تھے اسی رع ازار 
سے ہندو علوال یکی دکان سے بھی اشیائے خورولی مطگواتے تے۔ ائڑسی اشیاء اکٹرنظر 
کی ہا ٹوہنھ کے ذرییہ سے آتی تھیں۔ لڑنی ابیے رقعہ کے ذریہ جن پر پیزکانام 
اور وژن اور ارںن) اور رجخخط ہوتے تے۔ م مین کے بعر رکانرار ٹوبنو مشم ریا اور 
صاب کا بر چہ ساتقھ کتنا۔ ا سکو چیک کر کے آپ صاب اداکر دیاکرتے تے''۔ 
(حیرت المیدری“ حصہ سوم“ سے ٢۔‏ ۸ے ۲ مصنفہ مرزا بقیر اج قادیالی این عرزا 
ادا ی) 

جن و میں ۲ نام رز قادیاٹی ادا رکی رٹم چک دبا ×× گا۔ (ناتل) 
گ کے ڈھیلے : " آ پک (نی ھرزا قادیانی کو شیری سے بمت یار سے اور 
مرش بول بھی آ پکو عرصہ سے گی ہوکی ہے۔ اس زانہ مس آپ می کے ڈھلے 
ض وت جیب میں بی رھت تے اور اس جیب میں گڑ کے و لے بھی رک میاکرتے 
تے''۔ (مرزا صاحب کے عالات ھتہ ممراج الدین عمر قادبالی تمہ براہن احريے ٴ 
ہلر ال ض٦)‏ 

اور ہہ بات مشمور شیک زا تادبال یگڑ سے اس اکر لیت سے اور می کے 
ڈعلے منہ می ڈال لیتاے۔ (ناقل) 
مکھانا اور رعان: ”اہر ق مس رو ںی تھا ہوا رکھالئی دبا ہوں گر میں تا 
ہو ںکہ جج پا غیں ہو ماکہ وہ کماں جاتی سے او رکیاکھا رہا ہوں۔ مبری تج اور 
زیال اس طرف نا ہو سے" (ارشار مرزا لام ا قادبالی مندرجہ اخبار الم 
قادیانٴ جلد ۵ رم متقول ا ز کاب منظور اىی! ص۴ مس“ مولفہ محر منظور الی 
قادیای) 


132 
رکان ے درماف تک اگیا تواب ضب زٹل طا۔ 


”اک وائن ایک م طاقتور اور نشہ ری ۓے وا ل شراب سے بج ولایت سے 
سربن ہو گگوں میں آکی ہے۔ ا سک قھت پر ے۔ ٣۱(‏ تق ۱۹۳۳ء) (سوداۓ مرزاک؟ 
ص۹ ماشہ مصنفہ خی می علی بر نسپل طبیہ کائغ اھ رتس 

ہرزا قادبا یکھانوں کا انتا شو ٹین تھاکہ اسے خواب میں بھ یکھانے پٹ ےکی 
پیزیں نل رآتی میں بطور نمونہ چند خواب طاحظہ فرماچے اور مو پچ کہ دوس سم 
کاانان ھا۔ 

8 ”فرایا؛ را تک میں نے خواب مم دیکھاکہ میرے ہاج بیس ایک آم سے 
>ے میں نے تھو ڑا سا چوسا۔ و معلوم ہواکہ وہ قین پل ہیں جب می نے ىہ چھاکہ 
کیا پل ہیں ن کماکہ ایک آم ہے“ ایک طولیٰ اور ایک اور ہے ( عوکر“ 
كىضےء )٣‏ 

تح اٹھانذ ای باج تھا۔ (ناصل) 

0 ”فرمایا ایک خوان میرے آکے پیش ہوا ے۔ اس میں فالودہ معلوم ہو.] 
ہے اور چھ فیرنی بھی رکابیوں مس ہے۔ می ن ےکماکہ چچہ لال کسی ن ےکھاکہ ہر 
ای کفکھانا عرہ خمیں ہو سواۓ یر اور فالودہ کے''۔ (جمکرو ٤ش‏ ۴۸۲) 

مسٹرانگری:ىی بای ا تمارے ہوتے ہوئے جاک ےک یکیا ضردرت تھی۔ (ناقل) 

0 ”رد یکھھاکہ دو از ہاج یش ہیں اور پل رآ پکو ای فکوٹھا پیازوں کا دکھایاگیا 
گر ا سيکو ٹج کو کی نے ای لات ماربیکہ وہ اندر بی اندر غرتقی ہوگیا'۔ ( زکرم 
۰ص۵۰۹) 

ہو پا مم تے وہ کہ خہیں ؟ (نا٘ل) 

٥‏ "اور دیکھھاکہ ایک ٹوکرااگوروں کے ڈبوں کا بھرا ہوا آیا سے''۔ (جذکرو“ 
/ضصے٥۵۰)‏ 

کے تے پا میٹ ؟ اٹل 

٥‏ ”'ڈمایاٴ روا مس کی نے ہیروں کا ایک ڈعھر چارباکی پر ماکر رکھ دا ے'۔ 
(سجزکرو“ض ۵۳) 


53.:. 
کو سچچچمڑوں کے خواب۔ (ناپل) 
٥‏ ”روا“ عسی شف نے جارے اھ سوئف رکھ دی سے'۔ (جزکرو 
٦ض٠٠۰ء۵)‏ 
بھی نو نے بھی کسی کے پامھ بر کچھ رکھا تھا؟ ( ناشلا 
0 ”فماباکہ آع رات میں نے خواب مس دیکھا ےکہ تھوڑے بے بے 
ہو سفید ہیں اور ان کے ساجچھہ منقہ بھی ہے''۔ (ج زکرہ“ ص۵د۵) 
موتک بپچھلی بد ڑیاں اور ملوک بھی ساتجھ بی ڑے ہوں کے۔(خامل) 
٥‏ ”خواب می ں گنا رکھائی ریا''۔ (جزکرہٴ' ۷صء ۵) 
مبارک ہو (نا٘ل) 
0 ”ایک انڈہ میرے پاجھ میں سے جو کہ نو ٹگیا''۔ ( سکرو“ ص ۵ )٦٦۶‏ 
من ےکون سا خود خ ریا ہوگا۔ (نائل) 
٥‏ “”پ نے ایک ہار خواب میں نیت خوش نا برنی ایک ڈبہ میں دیھی۔ 
(مکاشفات ' صء۳) 
یہ خواب ٗی ری ھکو سنایا ہوگا اور وہ بے وتوف خواب و راکرنے کے لیے 
برنی کاڈ نے آ یا ہوگا۔ (ناضل) 
0 "کش رتگک میں مغفز ارام دکھھاۓ گے اور ا سیکشف کا خلبہ اس قر تھاکہ 
میس اماک بادام لوں“۔ (سجذکروٴض ۴۶۴ھ ) 
او ریف اوس لے در وگیا۔ (ناٹل) 
0٥‏ ”یٹ پٹ گیا''۔ (الہٹر یی “ جلر وم“ ص۹) 
بھم نہ ککنتے ‏ ےک ہک مکھایاکرو۔ (ناٹل) 
را تادیا ی کا پیٹ کا دہند ابو شی چلا رہ وہ کھانوں کاکشت و خو نکر ما رہا۔ 
ریو ںکی نہیں اجڑگی رہیں اور دمترخوان لئے رہے۔ ھی مرا دبا یکھائوں. 
پر یوں اتا ییے بعد کی چوس پر نچلق ہے۔ ایک دن لامور مس اس کے ایک مد 
نے اسے رات کے کھانےکی دعوت دی سے اس نے جحعٹ ول کر لیا را تکو 
مین دت پر رید کے گھ رجا پناک خوبصورت دمترخوان پر اعلی سے اع کھانے ای 


134 
و شب و میں بھی رک رکیف و مکی فضا پید اکر رسے تھے ۔کھانو ں کی خوشمبوتیں مرزا 
دبا ی کے ساہ قلب کو مگ دگمدانے فیس اور وہ کھائوں کے سامے ہوں بتھو نے زا 
ٹیسے بین کے سام ساپ بجھو متا ہے۔ ایک لا سا ٛیے کے بعد مزا ما دیائی 
کھانوں پر ٹوٹ بڑا اور دسترغوان پر نے ہوئۓےکھانے دسنزثوان سے اس کے پیٹ 
کے کیہ مردار میں ہعفل ہونے جے۔ چند منٹث کے بعد وسترخوان خالی اور اس کے 
پیں کا کیرہ مردار علا لم خی تھا۔ وہ ان اکھا چکا تھاکہ اس سے لا بھی نہ جانا تھا۔ وی 
مشکل سے و ہکھرے میں اپے بستزبر بنا اور خرانے لیے لگا۔ تھو ڑی دم بعد ہین 
نے شب شون مارااور دستو ںکی یاغار شروع ہوگئی۔ بمتر سے لیٹرین اور لیٹرین سے 
تر ککی دوڑ لک گئی۔ یگن جلد ہی مسلسل وستوں نے ناگگوں سے جان ثکال لی 
اور اس کا لیٹرین تک پنچنا مشکل ہویا۔ انا بت کے باس می بب ھکر فارغ ہو نے لگا۔ 
تھوڑی دی میں کرہ خطاظت سے بھ رگیا۔ آخر ایک زوردار دست آیا جس سے مرزا 
قادیال یکی آیھھیں پا گی اور جن پیل گے اور وہ دعڑام سے خلاشت گرا اور 
ات بت ہوکیا۔ اور اس کے ساتتہ بی ”لی بی "کی ”اگگری:ی روح" بروا زکر 
گئی۔ 
یر از موت تھی منہ اور معر دونوں راستوں سے خلاظت یہ ربی تھی 
اس کا میس چیثٹ شس کے لیے اس نے انا ایمان جا تھاوہی پیٹ ا سکی زندگی کے 
مات کا بھی بب بنا۔ وہ زبان جن سکی خواہشات گور یکر نے کے سے وہ عرند ہوا تھا 
اب گے ہوئے منہ سے اہر چھاتک دی تھی اور غلاظت میں لتھڑا ہوا اس کا متحذن 
لاشہ سے اس نے اع لم نمذااوں سے پالا تھا ای زبان عال سے پکار بک رک دکمہ رپا تھا۔ 
یھو بج ة9 رر؛ە یرت نی؛: +۶ 
ری سو جو موش تحت ن وش ہو 
”دنا مردار ہے اور اس کے طااب کے ہیں ''۔ (الوریث) 








تا 


136 


جناب ا عفر ع یگھرال قادیانیوں کے وم ینہ وکیل اور مار ہیں۔ ائیں ہ رہ 
تاد انیو ں کا م بے چین اور حنطرب رکتا سے ۔اسی لیے ا ن اقم قادیانیوں کے لیے نوجہ 
نوا یکر ار جتاے ۔کوئی بھی موقع ہو دہ اد ازیو ںکی ”داستان ٹم 'بیا نکر نا اپنا اون 
فرص کھت ہیں یل رنوں روز تامہ ” نوا وقت ''یں ا نکا ممون ”او راکتان ہر نام 
ہورے "ین نطوں میس شائع ہوا ہے۔ جس میں انموں نے تقادیانیوں پر ہو نے والے 
* الم کو سسکیو ںکی ز بان میں جیا نکیاہے ۔ نمی پاکستان کے عالاۓےک رام جنمیس دہ طنر] 
پار پار مولوبی اور ططاں کے نام سے پکار تے ہیں “شوہ کہ وہ تقادیایو ںکو کہ طی ۔کیوں 
نیس بن دتیے۔ قادیانید ںکواپنگھروں “رکالوں “عبار تگاہول او رگا ڑیوں و یرم 
کہ طبر کے بو رڈ باسح رکیوں نیس لگانے ری ۔ 

ان س گل ےکہ تاد با نی ج ببھ یکلہ طیبہککعت ہیں نب مولدی ان کے غلاف مقد مہ 
در جکراتے ہیں ۔الشییں جو الہ کا فی سکراتے ہیں “یل جو اتے ہیں اور عدراتوں میں ہل 
زربہرےیں۔ تم 

ناب اعغ رع یگھرال صاحب اپاکستان یش عیسائی 'ہند و سار ىی سک وخ رہم بت سی 
اقلتیں ر بی ہیں ۔کیاانروں نے بھی انی دوکائو ں 'مکانوں' عبار تگاہوں او رگاڑوں> 
کہ طیب ھا سے ؟کیاان پ یب یکلہ طی کین پر مقدمہ بناہے؟ وکیاوجہ ہےکہ ای ککافر 
اتلی کہ طیہ کین پر اتی جنونی ہو رہی سے ؟ وہ خی رمسلم انفلیت ج ر مکی مشکلات اور 
مصاتب ت برداش ےکر یی سے لی نکلہ طیبہ کن سے باز نہیں آگی۔ دراصل تادبالی جب 
کیہ طیبہ ''لاالہ الاانلہ مہ رسول ادل "بد ھت ہیں نود حر" سے ھراد مرزا قادیا یکو یت 
ہیں کی وکمہ ان کا عقید ہ ےکہ بھی اکرم صلی القر علیہ و عم !س دنیائیش دو مرج تشریف 
لا ۔ پگی مر ہک ہکھرمہ میں اور دو سری ھرحبہ قادیان میس ھرڑا اد با یکی کل میں (لھوز 
الہ )ان کا عقید و ےکہ مرزا قادیالی ین مد ہے جو آ رج سے چو دو سو یرس فل عرب میں 
تتریف لاۓ تھے ا نکاعقید و ےک ھرزاقادیا یکوو: تمام اوصاف اور محاسن عاصل یں ' 


137 
جو بی اکرم صلی اللہ علیہ وسل مکو حاصل تے۔ وت کے لیے والہ جات ٹپیی خد مت مں ' 
انمیں پے حے اور دی ےکہ یہ انقلیت ملمانوں کیاقیاعت ڈھارئی ہے او رک سکمال ھکار ی 
سے اسلا مکو لوٹ در تی ہے 
”خعد انے آرج سے یں بر پل ”'براین اص یہ ''"یس میرانام جاور اج رکھاے 
اور بے آفضرت صلی الہ علیہ و آلہ و سکم کاتی وجود قرار دیا ہے ''۔(ایک ملظ ی کا زال “ 
ضص٭ا“معنفہ مر زا قادیالی)(نخوزپاللہ) 
”فڑ اس صورت می ںکیااس جات می سکولی شک دو جا ےک قادبان می اللہ تعاٹی 
نے پل رم مصلع مکوا برا کہ اپنے وید ءکولو راکرے.(نوز پارڈ )( "کیہ اافصل *“مصنفہ 
ہرذ ایی رات تادبالی این مرزا قادبا ی مندرجہ ”نر سالہ یوب آف ریور *ص ۱۵ا نہر 
٣‏ 'جلر ۱۵) 
بر "مر از ةآے بہپں ٢6م‏ ہج 
اور آگے س ہیں بڑھ کر اٹی ان مشں 
بریۓ ہیں "٠ص‏ ے ئل 
لام اص کر ببیے انان می 
(منررچہ اخپار ”پر ر '' تاریان ٢۵۶‏ اك بر ے۱۹۰ء۶)( نوز پاٹّہ) 
”اور جمارے نز 1یک کول دو سرا آیا ہی نمیں “نہ نیانی نہ بر انابلہ خود مھ رسول 
اللہ ص٥لی‏ اللہ علیہ و آلہ وس ہیک چادر دوصر ےکو پہنال یگئی اور دہ خودتی آے ہیں ''۔ 
(ارشار مرزا قادیا لی“ میرر چ انار ٣‏ نلم" جاریان ٣۶‏ وہر(۱۹۰ء نقول از جماعت 
مبالیتین کے عتقا مد یہ ؛ر سالہ مانب تادبا نی جماعت تچاریان ل١١‏ 
اور جو ٹن بج میں او رمصعٹی می مفرق بے “اس نے بج ھدکو یس د یکھا سے 
اور نلیں پچھاناے ''۔(””خعلبہ امام '' گل ۱ےا) 
”اورینس نے سکع مو عو دکی ہش کو نب یکری مکی بعشت مالی نہ جانا “اس نے ق رآ نکو 
پیں پشت ڈال دیاکی و کہ ق رآن پتار پکا رک رکمہ دبا ےکہ حج رد سول اللہ ایک دفعہ پردنیاش 
ےج( :کید (لفصل * مصلفہ صاحب زادہ بٹیراھھ تقاویای این ھرڑا تقادبالی مندر جہ 


138 

رسالہ دیون آف رر “قاریان ؛ل ۰ب٣‏ “لد (۱١‏ 

یج مو عوددر عقیقت مھ اور عین مھ ہیں اور آپ می اور آنفضرت صصلم میں 
ااخقبار نام “کام اور مقام ک ےکوگی دوگی یا مفائرت میں ''- (ٹعوؤ پایڈر )(اخپار ا لفضل '' 
قاریان “جلد ۳ فی اے “مو رہم جنور ی ۱۹۱۷۰ء۶) 

”یہ دی فھفرالشن دآخرین ہے جآ رج سے تیرہ سو برس پل ر حتہ ملعا لین ب نکر 
آا تھااور اپی کیل نل کے زر یت شابہتکرگیاکہ دافی ا سکی د عوت جع مالک ول 
الم کے لیے تھی ''۔ (فھوز پانڈہ)(اخبار ”الفضل '' پان “لد ۳ا فا مور _ہ ٣۷‏ تقر 
۵ء) 

نہیں کی مو عود(مرزا ابا نی) خور مج رسول اللہ ہے جو اشامعت اعلام کے لیے 
ددبارہ دنا ئیس تشریف لاۓ ۔ اس لے مکوکسی نے کک کی ضردرت نیس ہاں اگر میر 
رسول ال کی ہک ہکوکی اور 7او ضرورت پیش آقی''۔ ( کید الفصل 'مصنفہ مزا بجی راصر 
قد بای این مرزا قادیال مندرجہ رسالہ ریدیو آف ریا ' قادبان ٠ص‏ ۱۵۸ف ر٣‏ جلد 
۴ 

ناب اف عل یگرال کہ خھا مر اور دل پر پا دک ھکر ےا ی ےک کیائبھی آپ نے 
دنایش اس سے و کر مکادی اور جعلساز بی دیکھی ہے ؟کیابھی آپ نے اس سے ہو ھکر 
ھی جناب مر رسول اش صلی الد علیہ ول مکی نین دکھی کہ ایک ای اور شرالی 
شس سازش فرگی کے تحت دعو کی ہو تکر کے خو کو ”یر سول اوقہ ' کے اور تمام دنیا کے 
ملمانو ںکو عم در کہ ہجھ پر یمان لاہ ۹ئبھی آپ نے اس سے ہو ھک ربھی مد یھ ےک 
قد بای جماعت ىہ ری دنیاشن اپنے یہ عقا تد پچھیلا کہ : 

رز ا ادیامی ال کائی اور ر ول ے(نعوزپاشہ ) 

ہرز قادیال یکی دی اما و من ے( عوزیائل ) 

رذ ادیال یکی ماقیں ”وع الفھی "ہے اور ا سکی دی تق ران پا ککی رج ہے 

مرزاقادبال کی فو ”حد یث “ہے 

مزا قایانی کے سا ھی ”سای کرام "ہیں 


19 
مرذاتقادیا یکا نماند ان ”ال بیت سے 
ہرذ اد یال یکاشرقادبا نموم ید ہے 
امت مہ پر اس سے بو نکر قلم وخ مکیاہوں جےةکہ ایال ہم سے تاج و حنت شم 

نبوت یف ہیں “ منصب نبوت یف ہیں اعمات؟اموسجین کے نفتزس یر تھلہ آور ہوتے 
ہیں-.۔ قرآن پاک میں تلع و بری رکی اماک جار تکرتے ہیں۔۔۔ اعادیث رسول کی 
مم کو روند تے ہیں۔٠۔‏ معحا ہکرام کی مس تکوپا ما لکرتے ہیں .مہ وو ین پیر تقاد یا نکا 
پور ڈ آویزا کرت ہیں.۔۔ابل ہیی نکی عظحم تکوفار تہکرتے ہیں..٠‏ و خیرم 

امف عل یگھرال اکیااپنے قلب و تجکر یر ا زم مہ ہک رھ ہم الم ہیں؟ ان زخموں 
ک ینک سے جب مت اسلامیہ لنٹ ناس دلدوز کو آپ تشد دکا نام دہیں نکیا لم 
نمیں؟ 

ار ارت نبو کو پچ نا جم سے ز پچ پاکستان می پکڑے نے سارے چو رو ںکو رہا 
کردیاجاۓے۔ اگ مرڑاقادیا یکو ”عجر سول ارد '' کے وا ےکو جو الہ قافو نک با جرم سے نو 
إکستا نکی جیلوں میں قد سمارے جعلسازو ںکو رپ اکر دیا جائۓ ۔ اگر منصب نبوت پ یہ 
رن ےکی ناک جار تکرنا جم ٹیس ہے نو سمارے قض گر ولا ںکو فور آ ر اکر دینا 
عھوم ت کااولین فرضضش ہے۔ اگر صرو رکو نین صلی ادڈہ علیہ و س٥‏ مکی شمان اق س . سکمتائی 
کرنے وا ےکوگر فیا رکرن جم سے و پاکستان میں نو ین شی اور فو وین عد الت کے قوانین 
کر دیے چاکئیں۔ 

آپ نے علماء بر اختزا ضلکیا ےک و ٭ کہ طیبہ مٹاکر اور ہو رڈوں بککداہو اکلہ طیبہ 
اکھا رک ہمہ طیہ ہکی بے مت یکرتے ہیں پچھ رآپ نے می بھ یکما ےک عاماء ن ےکی مقامات 
ہر جماں بالیس ن ےکلہ طیبہ مٹانے سے اأکا رک دیا وہاں علاء نے پھگیوں کے ذر لی ےکلہ 
لیب مٹایا۔ یہ دو فرسا رم رذاتقادیال یکی نیو تکی طرع پالنل مو ٹی ہے تادیالی جو مرزا 
بال یکو او کان یکمہ کت ہیں مان کے لیے ای نبرہنانااور چلا نباننیں با کاکام ہے ۔ آپ 
کو بھی مہ خبرقادیاضوں کے ذر بین کی ہوگی ۔کاض آپ اتی ہڑیی بات ککھنے سے لہ ا سکی 
تب یک ری ۔ 


140 
آپ جس عل لک وکلہ مٹا ا اکلہ لیڈ کت ہیں ؛ ىہ عمل ور اص ل کہ کفو کر ناہے۔ 
کل ہک نون نی بل ہل ہکی حر تکی طفائظت ہے ۔ کم اک ہے اور اےپاک وصاف 
مہ رہککھاجا نے ۔ اگ رکوئی بد بجنت اس ےکی جس تمہ برلگی دے نے ملمانو ںکا فرض ہے 
کہ ود اے فور آوہاں سے ہ ناکرا سکی تفاظ تکافریضہ مسر محجام دمیں ۔مشلا اگ رکوکی پر بثنت 
کی ”فلقہ و" ےکلہ طیہ کیہ رے نکیا ملمان اس پر گا ڈھی سفیدرئی پچ کل ہکی 
اط تکر کے انی دی غیرت ک وت میں ریں کے؟ اکر خلاظت میں تھا ہد اکوئی 
فاکروب اپی قییض پرکلہ طیبہ کاچ لگائے وکیا ملمان جو ممیت سے ا سکی ینس سے 
کہ طدب کانج ار خی لییں گے ؟اگ رکوکی راب خانے کے می نیٹ ب رکلم یب ہکابد رڈ لا 
دے ڈوکیامسلمران شر ت جذ جات سے اسے اکھاٹڑش۰میں لیس گے ؟ چنا ےہکریاان تیوں منقامات 
کہ طیہ ہکی نو ون ہو کی اہ طی کی عرصم تکاجحفنطکیاگیا؟ 
قادبانی عبادت گاہوں ےکلہ طیبہ اس لیے کفون دکیا جا ےکہ تاد بای عبات 
گاہں در اص لقکفرو ار تاد کے اڑے ہیں اور بقول امام این تیعیہ سے عباد تگاؤں :بیت 
اشیالین ہیں ان عبات گاہوں میں جھوٹی ہو تکی مغ تیراو ر عم نبو تکی تیب 
کے منصوبے تار ہوتے ہیں۔ ار تزادی مجاپی نکی منپیں تار ہوکر نکی ہیں۔ بتاکے دہ 
میں جماں اسلاماور قب اسلام کے خلاف سازشمیں جم لیں “تی خلیظ بیس ہیں اور 
السی غفلط چّگموں ےکہ طد کخوب اکر اکتنابواڈاب سے؟ 
ہرقادیا یکا فراور ز علق ہے ۔کاف نخس ہو ہے ۔اس لیے پ راد یالیکاسین اپاک 
ے۔ اگ رکوکی قاد با نی انے فحایظ سے ب کہ طیبہ کاٹ للکانے نے |رمسلما نکافذرض بغماہ ےک دہ 
قادانی کے نے سے پیا رک رکل ہکی حرم تکی تال تہکرے ۔علادہازریں جو قا دای اپنے 
گیا سیر یکلہ طیبہ لگا نا ہے دو خووک مان ظا ہرک اسے اور ات ےکفرکواسلا مکانام دیا 
ہے۔ اس ل ےکمہ طیبہ للانے والا ہرقاد بای جعلساز بی کے زممرے میں بھی آ ماہے۔ 
غیروں نے بل میں ئٌُح مع ا۷ی 
سار ےي کا ہہ ظطل یی بے 


ل 


اکر انیو ںکوکلہ طیہ لگا ۓکااتتابی شوق سے نو دہ ھرزاتقادیال یک اگھر یىی غبوت 


141 

ران مرف کر باجد ار شح بوت کے کلشن شبوت میں آ جا میں۔ 

گھرال صاحب !اکر پ لیٹس کاکوگی بعلی ا یزور دی پچ پکڑا جاے وکیا اس کے 
کندھوں سے سار امار نا سار زکی توبن سے پا سار کی عز تکی فافظت سے ۔ اس کے 
کند عھوں سے سار زاس لیے اارے جا یں ےک اس نے ساد زی بے ح مت یکی سے اور 
ار زکی ھمتاای ۴ی ےک اس کےکند ہھوں ے فور ١|‏ نار لیے جاجیں اور ای طرح 
اک رکوکی ھا قی فو پاکستانی فو نکی در دی چھے پکڑا جا وکیا اس کے تن سے فور اپکتانٰ 
و کی درد ی اما رکروردی کے شحفظ کاضن اداخی ںکیاجاۓگا؟ 

یز صر ف کہ لیب ہکی بث سے ۔اسلام نکی تادیالی عباد تگاد کے وجو دکو ایک 
سیون کے لیے بھی برداشت می ںکر تا اد ار شحم مبوت صلی ارڈہ علیہ و سم کے دور اتد ل 
میں جب منالقین نے مد ضرار ہائی اور قادیالی عبار تگاہو ںکی طرح دہاں الام د نی 
کی سازعیں جنم لین گییں نو خی اکرم صلی اللہ علیہ وسعلم نے فور | مناشقی نکی اس مسپ کو 
مما رکرو اک رک ألوال یمک و کہ یہ مد کے نام بر ایک بست بدار ہوکاتھا۔ عق کی آوازوں 
یس تخزیبکادہند اتھا۔ آرج مد ای دع رتی پر نی ہو گی ام قادیانی عبادر تگاہیں مسج ضرا رکی 
رع ہیں۔ ہج نکی یت اور نام مس رکا سے اور ان کے اند رکا مکفروار جر اد کاہے ۔ اس 
لیے عکومت پاکستان کا فرضل ‏ ےک تھام قادیانی عبات گاہو ںکو مسما رکراکر ج کر نماکست رکیا 
جاۓ اور حنت ر سول' کو زظد ہکیاجاۓے۔ 

ادا تھا سے بپ یہ ام خے 
برق کے بیس میں آیا ہے من کے سان 

نا بگھرال صاحب| آپ نے علات ۓےکرا مکو شید داور جن یکھماسے اور ان کے 
”مظالم 'غو بکنواۓ ہیں ۔کاش آپ نے بای فقنہ نادیان ھرزا اد یا یکی ”نمتط رر ری ' 
پڑھی ہو فیں ےآ پکو پن چل جا ماکہ تشدد “جنلی اور ا مکون ہے ؟ چند قادبای گے آپ 
کے مطالع کی نر ہیں ۔ 

”جو نف تیر پبردبی خی ںکرےگااور تم ری ججماعت می داغل ضس ہوگا و خر ا 
اور ر سو لکی نا فربال یکرنے والا نی سے''.(اشتمار مرزاظلام اھ ایا ی “مندرجہ تل 


142 

ر سالت “جلر 4۹ٴ'گصے٢)‏ 

میری ا نکنابو ںکو ہرملمان محب تکی نظرسے دججتاسے اور اس کے معارف سے 
فان و اٹھاا سے اور میربی دعو تکی تقدل قکر سے اور اسے قو لکر ا سے گر رنڈیوں 
(برکار عو رفوں )کی اولاد نے مبربی تد بی میں کی  *‏ می ککمالات اسلام '' ٠ے‏ ۵۴" 
مصنفہ مرزا 6دیا ی) 

میرے خیالف جنگلوں کے سور ہو سے اور ا نکی عور تی کوں سے بڑ ھکئیں '' 
ا ماد بی اص ۵ا“ مصنفہ مرزا قادیایل) 

جو ہجار ی ف کا مل نی ہوگان مبچھاجاۓگاکہ ا سکوولداتأرام بن ہکا شوقی ہے 
اور علال زادوخمیں '(”اوا ال سا م*ص س٣‏ “مصنفہ مرزا قادیاٰ) 

گھرال صاحب اآ رج ہعار بی بادیاڈیاں خفت اب میں قالل صد ارام اتیل" 
صا بیدباں؛ تچ رگزار انیاں' دادیاں' ادیانیو ںکی آوارہ زہا نکی یش زی سے تفوظ 
میں۔ 

ام کت ام مود وی“ مفسرین' می رشن “ اولیاۓ امت بز رگان رین ' فاظ 
قرآن “شا کرام ' این اسلا مکوکافخر رام زارے “کیو ںکی اولاداور جنگ کے 
سو رآیھااو رکماجار اے (خحو پالڈد) ونیاک کسی قوم نے اسلام اور ملماوں کے بارے یل 
اتی خلیظ زبان استعال نمی ںکی۔ 

گھرال صاحب! نا -...۔ مدارا تا ہج نا مککون ے؟ اسلام“ پر 
اسلام لیت اسلا می .ما قادبالی 

اب جس سے می میں آئے وی پائے روش 
ہم نے تر ول لا کے سر عام رک دا 





144 


بدی بدت سے احا بکی تنا ت یکلہ 'شگلرست اشعار شخحم رت" کے عنوان_ 
سے ای ککماککہ شمائع ہو جائے۔ ا مردبظد اس تناک یکشتی اپینے ساعل ہاو > بی اور 
اب ہکنابنہ مطالعہ کے لے آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ می ہکتاہچہ ام این جناب مھ 
عی صلی اللہ علیہ وآلہ وس مکی شخم تبوت' عالگی رنبوت' زمان و مکا نکی قیود سے پالا تر 
بوت“ رو ناویانبیت“ شمذیب مزا انا ل عرز 1 لوازوں 1 زمت' عاشتقان رسول' کے 
پزہوں' شمیران شخم وت کے ولولوں اور امیران شخ ہو کی جراقولں اےے موضوعات 
ر مل ہے۔ اللہ پاک سے وتا س ےکہ وہ ا سکتا کو مسلمانوں کے لیے اع اور 
میرے لیے شائح بنائے۔ (آٹن) ۱ 

خاکہائے ہیاہرین حم خبوت 
گر طاہر رزال 


زادہ ار جک گل نغاں رے 1 
رما مطا تتے سے 


ں 


وارے رہبر مرا کے ولبر وروو نم بے سلام ئم پ 
می نے ہو نخری بل بر درد تم سام ئم پ 
ں 
ران ے ابے والےے وسخور زندگی 
پر وور میں رے گی قات رعل" کا 
ں 


ہرک ام سے چم و نت در نول 
ضور آپ ہے اے ہوے پام سے بد 


ں 


ںن 
بش بی بں ضص ے اعت کی پار ۷ہ 
شخ ر لی حر مم وہ تبثاد سے 
ں0 
)ہر ایک ىب تھا خغس سی رور ہے سے 
رپس مت سوا ایاٴء 
ں0 


می ہر جات کا قصہ لے گا خاعت مک بی سلہ طے ا 
بھی معار عابت ہوں گی رت“ تی یں تا اس لے ک 


ں 


٦پ‎ 


ہر اک ہت سے آئی سے تیی ی وخ 
ہر اک نادٴ ناد رے عال ٢‏ ے 


لوم عاخید سے وگ مل کا کس ول 
ھا کی تب نی سے روشنی ایس 
ں 


ں 
رز یت کے تھرے کا مد مض 
و یل کا پ نام خانے واہے 
ں 


ي) اعم پ ج سھ جان سے ران ہودتے ہیں 

ور تما ے وی صاحب ایان ہوئے 
ں 

ضض ے بل پیر یرے خر ہے بد 


و 


ں 
جن کو نہ بچھھ اں بر کر ے ار 
جن جن کے سے میں اس قم مو می میں ک 
بش ضس ہے لے را یں کھیں کر یں 
ںَ 


یر اگومیں کی پکار اس من نے 
پاؤں گم اس کے بند جم کی گل ہم" 
شورش اگ ر تضور یی الشی کو ُھموڑ ‏ رووں 


ںِ 


ت 


اک مزا سے ىعال 
و مم سے کیں کم" 


8 جک 


عواسا 


اود 


147 

ویر ي ؛٣ةھ‏ چم مر او 

شم ھ یں یں ۸ 
ں 

رجھو ےے با عل ن؛ سے ئصه ؟ک 
ںن 

یں د ہوں مم وت کے ئانظ 

زڑیک سے ائام ‏ یوں ہے لو ۴ 
ں 

و خخ ہیوت کا طف وار ہیں سے 

ارب یو جنتتص کا ہزاوار میں سے 

خامرشل رہے سی کے جو اسلام کی وین 

ےْ رم سے زرل ے' وو خوردار یں ے 
ں 

ٹا رے ای مق گػحج ہہ میں ھ' :؛ ‏ 

ہي گند سے ملاں کی حات باودالی کا 
ں 

ہار ہو اے مم وت ہے نظ 


کس یم میں مروف سے اض کی ہوا دہ 


ں 
۶2 یہ واقہ ے کہ نات دا کے آعد 
رے ا پا یں سے حسے 


ں 


148 


تا ہوں خرن رل سے سے افاظ اتریں 
ٹس از رحعل' شی ی8ی خی 
ں 
مٹف گے مٹ ہائمیں ہے ارام ترے 
نم سے نے م سی تھا تا 
ں 
وو راائۓ سیل حم ارس مولے کل جس نے 
ا راو کر کٹا ٴغ والق بنا 
رق ار ضق جب بی ايل بی آۂ 
ری میں دی ہیں ری مین ری ظط 


ں0 
کیل وت ہو بھی بھی ابراے موت میا می 


جب مر مور ناہاں ہو جم رات کو وعوکا کیوں کھائیں 
ں 


149 
زع یں چَابای خیت ہے زلہ زار 
قرت سے وار و گر میں بچھ لعل بوگی 
ن0 
لا کی عزت پر مم بان بے رر 
اعت بیز تا پچچے ہیں 
ن0 
میں مائل ہوا میں گج بک بن کی ریت ٢‏ 
فدا جن کا موزی ہے بی جن کا مازی ہے 
2 


ہرزاوں ک ام نیا سے یں مم 
ج کے جعلاںل سے بی اک عمل بی 


ےک سے گے 
“ا ہم ضٌَ وت 1 کے 


انم ای نزاےے کا بی ق شض 

از ازل ۹ اد سادا زادہ م٠‏ 
ں 

ہے بقد پ فرست ان یاء سے نام 

تھی ۔ حم سے رں ای کی امہ بی 
ں 


10 
رراں ٹھ' رواں ے' ریاں یق رے 1 
امت جک کاروان ج4 
ں 
ےَُ یہیں کا اظار وںق سے 
جھونے ہیں کا افاء موری سے 
ں 
اک ی رے گی خی نعل کی رات 
جب گک ڈوزاں بٌُ رساائت' نہ ہو کے 
ں 
زادر رتق رنا گف 8اےۓ مہ ناے کەة 
ورور ان کا“ کلام ان کا“ پغام ان کا“ ام ان کا 
ں 
سور نے فیا اس ہم سے لی اس نعق سے سے پچرول بے 
اٹھا و حارے فرش ب تے؛' با و زین کو عرش گیا 


وحیر ل ے اڑار رہالتص کا 
ں 

بس قب مر میں مم مخ فی 

بی بج م"ں سم یا ے کم نیب 


11 
سصف ے شقن رک مرزا کا سررائی نہ ٭ 
ین حر رکھ یں اٹل کا دا نہ ٭ 
ں 
رش ےر ہو جم جو ٗ ے نا ک 
پھر ینا می با سے ما می نارت 
ں 
مزاتیت وور ۳ مت مرن سے 
یر نہ نر ور ہوگا ل٠ل‏ نعلق سے 
ں 
لے جان رۓے والو م"ٗ کے م 
ارغ عشت سے بھی تمارا مقام 
یں کک خ بكت ے ے 
اشا ٹم ے آل دوز تام 
ں 
یر نمی ہیں بری یہ رشح ترجہ کی 
اٹ سے انس کے خود فرخنے جاغ خرشید کے جلاگر 
ں 


٠ جع‎ 


زیر شا ے خر کی ہلت پ خلرہ زن 
پرگیں ے ے تا ملا د باےۓ کا 


ں0 
بات چارراں رتا سے ونا کو پام ان کا 


را سی جاجح سے سس ظر پارا ے ام ان کا 
2 


1412 
ژوا و ۵لا ے پچلا و خملا سے 
یں ول یں کم امن ےا ؛) 
ں 
جو می ہو جائٹ ری ماک خی کر 
عرب کا نج صر پر رکھ غراوند گم ہو جا 
ں 
ہر وو عالم میں گے مقفور گر مرام 
ان کا ران ام لو جن کا ام 


مور ے سے جمرا حر جا ہوا 
٤‏ بس میں جا سے مر 
ں 
یر میں حعصشںق رخ ؟ راغ لے نے کظٴر 
انریری رات سی می جاغ لے کر 
ں 
کی نمازت و١پ‏ می اور گماں کی مرش 
ان کا وامصن فام لو پھر ٹر گک ساب بت 
ں 
جب کگف ىممیں نہ رپ میں سے لو ے 
لے ہں کہ جنت ہں ھہائاں گیں ہو 
ں 


چٍ 
چ 


3ء 
شماوت کا لو جمی کے رہوں کا ین گیا غازہ 
لا ے ان کی ناظر راگی جنت ٤ا‏ وروازہ 
ں 
ممیروں کے لو سے جو زشن باب ہوئی سے 
بڑی زرر بولی سے بی راب بل ہے 
ں 
علام اس پر کہ جص کے ام وا ہر زالے میں 
بڑعا ریتے ہیں کو سرذرشی کے فضمنے میں 
ں 
بر نے گا سے اآے میں کے ون سے 
ىیٗ راجعاں ٤م‏ عوان زندگی 
ں 
گریں ے ] ور زواں واں ے ققل کک 
)ر اععان سے سے :ہا ں ژار گزرے ٹیں 
٣‏ :2 
ہو علق باراں و بش کی سط زم 
رزمسجحی ر پطل ہو و ار سے مون 
ں : 
شق کے مرامل میں وی برقت ۲ ہے 
شض ہق ہں بل ون پ) سے 


14 

اف ہپ چاوہ کہ سے درگ کے ىًی ڑرا سے 
ں 

ہوٹ سل عجایں گظمر رات اظیار رے 

بل کی تواز کر مم نہ کو با 
ں 

کی مھ سے بنا ڑے و ۶ تھے ہیں 


جماں پچ سے کیا لج مم نے یں 


ں 

شی اھ ک> شرت سے 

میں کی گیا مت تب 
ں0 

زریی یہ حشر یی کری سے ناشخان رع ل 

گے گی یس بی ا ہام تآے ۴ 
ں 

کی طب سے گے زیت مں ای ےم 

۷8 یىی پا لے ىر بے پہف لے 
ں0 


کہ کر بی بنا روں گا ا کی شفاعت > 
کہ میں نے جب ی خاظر ہم چھی میل میں ڈی 
ں 
وڑیں کے ہر اک لت و مل بجھوے ‏ بی ٢ک‏ 
ہیں ہر اک حر ار یں کے 
سو پار بھی گمر مم کر لے زیت کی ہہت 
مین شد کریں پ ہر ار یں کے 
اں ربر میں ہو م٠‏ ؛] خشن مر 
اں مم کا اار مر زار کر گج 


ں 

یت سے ازل ے ] ار ہرے یڑ کی 

کرئی بھی وور ہو ہر وور ان کا رور ہوا سے 
ں 


دی محت مین من کی شر اول 
یں جو اکر تی و سے بجھ بل 
ىی مت ]ن سُے' شغن لت 
کی مت روئ لت چان لت 
کی مت غون کے رشیں سے لا 
رش مندی اون سے رشتوں ے پالا 


بی مت 


ہم مہ م۔ 


7 ے حاغ عام اعد سے پازا 
پور ادر' یاد؟؛ ال' جان' اولاوو ے پان ا 
ں 

ب می لے وش / گل 


تھے ے 
انم 


اق می مر عق گل 
ں 


16 
مو اور حات ری رووں ترے لے یں 
مرا زی گی مد بین می گی مش 
0٥‏ 
یں سن سیق ے کر پر کے یب 
ور وعما سی ٹیا سے جان اب میں 
۱ ں0 
ر ۓۃ ق ےرا ہے ٢ری‏ زان کی 
کی رسل کم نی مان تھا 
ں 
بی اس نے ہیں آریت ہ 
چلا ے 
ضیٹ بج کر بے شچیں یی یں ھرے 


ں 
گے والویں نے اس ور سے تا کا 
یی ے |8 و کسی بں ٣ن‏ ہہ ے 
ں 
تھوں میں ور ول میں ممیت س آپ سے 
ہیں خور و سچھھ ہیں“ می یت سے کل سے 
ٰ : 


ثام ار محر کے ب پ ٹا رعحل بے 
ىر عاریق آائات باۓغ سسل' بے 


ن 
سس اس ہماں 
4) سب مو کے 


ہ کے 


وی أو تر 
کہ ہجو کخعشنق 
ں0 


یق ک رم عم میں رس ہے 
بھا نکمم مین مج پر وو حم لھا آے 


ریائل غدا ۴ک گل سبر ازل و ہا بر 
کہ عاد بھی مور بھی حا کہ غار و مممور بھی 
مرج را ا پر رم نر 
جم د ہے کلام مٗ پا لکھوں درود و سلام