Skip to main content

Full text of "Shehansah E Kul (sallallhu Alaihi Wasalam) شھنشاہ کلﷺ"

See other formats







بم ال الزضی آرتم 


1 .ا 
٠ٛ٠‏ 

شا ئل 
۷سیا 


غمیعل ‏ “اقر طلی 
وآلہ وم 
اللہ تعالی گی ااوہیت کے بعد 
کون؟ 
رات ممرمصطف صلی ١‏ ول علیہ وسلم 


ہثرو درگازہ رسو لی کریم سی زا علیہ وأ 
کنل( راخ ارڈ 


نام تاب 
تو می کر 
تریوایف 


تحراو 
اشاعت ال 


کپوگ 


فس2 


123 
27 


لہ توق ,ولف فو 


ش زا لعل الد علیہ وآلے ٣‏ 
مھ رضول ال ض٦‏ ال نظ 
بندور سو یکم ای مل 
کرتل(ر)خراوررل 

گار ۶ 7 
رخفان :البادگ ١اد‏ ا لاق 
در بی نی 

خراشرف فؤن ٹر: 7121573 
اللہ تھالی او رسول ال مکی بارگا: 
تج ولب تک زوا نکاغتئی کی و کہ 
ال تال اور ز عو اللہ مکش زیادو مار 
ینز انی ر اش یک ریںد 


ات می ا موم ری 
رای عقیرتٰ داجزام٘ کے سماتھ 


جان 


یں 


تام یں گی 
یی میں 


ا 
اللھم صل علی سیدنا 
محمد 
وعلی آل سیدنا محمد 


وبارك وسلم 


کی 7- کال سا بح رک می 
ا و را 
قر لیا بے کے ا کر 
۷ ری پیا 
کہ م(ن) مار رن 


َ۹ 
برکات مم الد ریف 
بسم الله الرحمن الرحیم 
ال تھالی کے نام سے شر وپ جھ خہایت بی مر پان ہمیشہ ر تم فرمانے والا 
ہے جرزت جع بدا دابزی مسجواور: خی ال عنہ سکیتے ہو ںککہ جناب ربولی اولعإللّ 
کر و بسم اللہ الرخمن الرحیم پڑ تھے گا تذ اللہ نال اس کے ہر 
تر ا بد لے پچار راد تو ں کا قذا ب کے گااود ار زار او نکو معاف 
فرماۓ گا اور جار زا ذد جے باند فا ۓ گا( خزصتہ الا )اور بسم الله 
الرحمن الرحیم کے ۹ا تروف یی الیک دقع پڑ نے سے ا برا ر جو ںکا 
تاب ااے برا رگزاہ مجاف اور ۹ے ہترار در جا تک ان دی سبحان الله!ھرے 
مر بک مکی عطا ک ےکیا کے ۔ 

ٰ۱ ملسم اوۃال جع الر تیم “ارب العا لی نکی ری متا تق رآن 
کاچ ہر ہے جج ب کید می ات جائی ہے شکھ رک لی ہے پھر اس می سی 
اور کی ن مانشد ہقی ہے نہ ضرورت جور فعت * راحرۓ ' رآرے اور فظرےی 

اسے عطا ےسا دوس رے ینوی 
کی یش جلالی ہے ای شی بمال ای شس بیت جیا اور قررت ۲ 
از ت گے منزات بھی قوت بھی ہے جج رودت گی ۔ مم الد کی اب“ کے 
ق کی برک سے فیس کے چپیٹے ابلککرتے میں اور ال کر می مکی ہر محلوقی خاکی ہدیا 
آلی فور ہوباناری یش اب تی ہے جب نازل ہوک شحیطان نے اپ مر 
بی طاک ڈالی اورائس پر پچھر بساۓ گت ۔ اللد رب الخا لن نے ای عزت اور 
جلال تکی مت مکھائ کہ ج ںام یس بھی می ریہ برککت دالانام لیا جات ۓےگاٴ رت 
ہی نس پنارپ پڑاجانۓےگا فی جو اے بڑ ھھےگا نت لیب ہوگی۔ 


عو ہد ہے 


۔ 
رۓ گی ۶ 
تیب ٦‏ 
اہالی اول 7 
یس چنا +واخزانہ تھا ۓ‌ 
میس نے حب تک ۸ 


جواب محبت بت ے ٥8‏ 


ری ا 


بن حبتےکیاے ۲ 
اصلل امو جودات ۲ 
نورمصطنہ کا ۲٤‏ 


ملا ءاعی رام مارک ئلتّه ٣٣‏ 
ا ھا 
اور ھی رش“ 284 ٣۲۵‏ 


نو رکاساییلارے 27 
نے مل بشریت مصنلے پگ .۰ ٣۱‏ 
حیطان نے سب سے پیل نی کاہثر 
کہ ۴۳۴ 
مثلکم کے تی ۲ 
ادتقا سے بے تمابکام ۰ ٣۹‏ 
ہم جیہآخیں ۵۰ 


افطام یگ خی - 


برست مضاشن 


ڑھے ہن ہونے کے باوجد 

رس ل رم تک ماک (مدیے) ۵ 
۲ ایا ءکرامکھھا+دایڑھ لیت تھے ے۵ 
۳۲ ساح بای عم غیب ۵۸ 
٣۳‏ بل کے اض مدق .۴ہ 
۲|٢‏ ر مفمان‌البا رکش 

جج ریگ کادور دش رآ نکرآتا... ٦٢‏ 
۲۲ رای تک لیخ مکی دلیلی ے 0ر 
ۓ‌۲ انی ءکرا مکو لف ہکایں 
پڑت علو مکی عطاہویے ٦۵."‏ 
انماءکرا مکو بیشت سے پیل 
لاپ وایما نکاعم ہو جاے ٦٦‏ 
۹ ملو مک کی چند مالس 

جب رلک کے نے سے لفمر ۸ 
۰ خیطان لاصورت ذارپشت ۶ے 
۳۱۔ شیطان کے ارادو ںکاض لم دے 
۲٣۳۔‏ حر کے دن گرا ی لاف 
۳۴ ۔ جلتی نی لوکو نکی لئیں 

(دصت رسول ریم یں) ۰ ۹ءے 
٣۔‏ اوتو العلم کن ہوںن گے ۸۰۰ 
۵ عاضر ونظر کے می ٤‏ 


گا 
> 


۷۔ عا لم رر کا خاہہ -.- ۸۰ 
ے۳۔ اولیا ۓکرام-(صاحب 
توری) ۸ 


۸_ وامقہد امت کاخاز ار 
۹۔ اخقیازات کاالک تق نے 
٣‏ انفظارت مصطے گاگ حم 
١١۔‏ اشال برک شرییت ہیں ٠٢‏ 
۷ اظام قزیش قرف ٠۸ ٠‏ 
۴ تن الوۓ' ااہازت لا ١۸‏ 
٢۳۔‏ امورش ریہ میں رول 

کر گار یں ۳ 
۵ رعو لکن مکی مب امیر ےا 

۔ رو ل کر ج کیل وی تربیے 

ا ے ۳" 
ک۴ مت اور عبیب مگ کا اھ 
اتھکر ى٣‌ك'”'‏ 
۸۔ ترک مفات "٢‏ 
آ خر رسول کرم کیہاتھ اش تال ۴ 

اھ ۓَ۳ 
*٭۵۔انادل خاش تاول مخجع ٣۹۰.‏ 
ا۵ مت رغفاعت بھی عی نے ۱٣۲.‏ 
٢ھ۔‏ رسول کریم کے سے ۷۴" 

ے الد قال 0 ےی وھ 


۵۳۔ و ملہ گا می ۴۵ 

۵۴۷ ۔ اعمال کا قولیت کایت خں ١۵۱‏ 
(وسیلہ یں بن گ) 

۵۔ آدم کی افش ٥۵‏ 


۷۔دین ینڑے۔راعتل(ضص )۱۵۲ 
ے۵ عمے امیا ءگرام ٥۸‏ 
۵۸۔ اگ م الاکن کا گیا ہوا ۱١.‏ 


9۹ تیاتام تیآ ۓےگامیرے نام کے 
ساخو۔.<٭٭ بس 

٦٦_سکون‏ تیں مت رےاخر ے۱۷ 

۱٦ر‏ وی تاظر ‌ 


۲۔ قرآن نپا ک تل حول بے ك١‏ 
۳خفبصسرد اش نک ےے 


الف- سان راع ۸۰ 
ب۔ تاور حی گنو ۸ 
ت۔ام تک شگلیات ۸'۳ 


ماگ دیدارمصطلے کے لے بے ین ۱۸ 
ن۔۔ آیا تکانزول بلاواسط ۸" 


حئ۔ فر شون کے مواللات کے جوآبات ۱۹۰ 
نسیانیسیادل 9 
۳۴۔ فر شتے در پان کرت ہیں مس 
۵۔ جنا تکاااان انا ۴“ 


٦۔شیا‏ لین کے لے رح * ٠‏ ۹۸ 
ےا۔ تر وج رکاسلام پڑھنا بی خر 


۸ ۔اصحا بک ف ائمان لاۓے .ت٢۲۰‏ 
۹ خفرت ہو کن اتد سو لکرم 
کی آوانزی سن ۲٢۰٢‏ 
ے۔ قور یت نکیاکواےے ۲۰۸ 
اے۔ مچجزوکی تخریف ۲۰۹ 
کے ماک مکا ات کے مل ۲۳ 
ے۔خلق ےم ۲۷ 
ایف. ض فی رسو لکرم گت ۲٢۰.‏ 
ب۔مروامٹٹرک مت یال ےگا ۲۲٢‏ 
سے یسب یکمں ۲٢‏ 
فف ہم ٹھٹھاکرنےداوں سے نی ٹ لی گے ۲۲ 
بش بد للا لگا ۲۲٢٢‏ 
کی زاین سے زم اجب ۲)۲ 
مشد صادق داش نکون؟ ۲۳۱ 
رج ںاو رگرامیاں ٣۳۴۸۲‏ 
ے_ جلالی مل گی ے۴۳ 
٦ے‏ جتنابك ۲٢١‏ 
الفف۔مقام گجوو ۲۲۳۰۳ 
ب روز مج ز لوک ڈحو نی گے ۲٢۹۰‏ 
مت دکاٹرہ ںگا تنا کاش دہ مان ہو ۲۵۱ 
ے۔ بعد قیامت۔ جرب یک تنا ۲۵۲ 
ن۔'ججرت کے رامےٹل ۲۰۵۵ 
مہ مولع کر موجہ انکر کائشق رسول 


۲۵٢٢ "۰ رمریےکاب‎ ٢ڑمرک‎ 


و نم جن اور چاوکا ا ك۲۵ 

۸ےل تال نے نو زسم کو دہ کے بٹڑے 
فو رکاپ کید ہو شیطان لے 
فور مع مقر ہے مجزپلادے 


لے ۲۷۰ 
ے۔ جادو ت2 خخرتدا انگ کی 
جو توں پ نل کا 


جاخلق دو رالنام ںی ہیں ( رن 
۲۳ 


۲/۸۳٣ 
سور الاو‎ ۸۰ 

میں) 

لزغ رم لم میں 
100۲ 06ش بے فول ان ٢٢۶‏ 
۳۴ ۔ شبات کے اڈاملے 
الف حعفرت عائ شی گربا رک ۲۷٢‏ 
ب۔ حفرت خد یڑ گا مارک ے۲٢‏ 
تر ضاعت مضطن کتگ 


۲۵ 


۲۶ 


۲ 

ث۔ مدان مرک گاررزاعد شپیر :دنا ۲۸۴ 
رج غزدماع دح تی تک رقلنت ۲۸۲ 
ح۔صفرت با لکا حلفظ ۲۰۸۹ 
بر سو لکرم مل تت:سال دیادل 
ای کے قرخل ے براتے ۲۸۹۰ 

ر یقت شعبااطاب ۲۰ 
ز۔ لفن ر سو لکرم کک غیام ۲۹۹ 
ر۔- اش صد رگاروا تک تین ۳٣٣‏ 


سی من دون اللہ سے مراد یت میں ۳۰۵ 


شید شب معرفیہ فمازدں می تخیف وال بے ۳٣٣‏ 

۴۶ ۔حیات سو لکرئم مھ (بع دا مال ) 

کات ر سول کر مگ ۷۰ 

.۸۵ ۔ ملا سو کے متحلق ۳۲ 
الف۔ بز گان دبین کے تالا لن ما ترگان 
کے خلاف پھادکرو۔(د ستپاڑو- 

7 اڈ لژض) سا۳۷“ 

ب۔ عم چھپاناکیساے ۳۲۴۰ 
تہ۔اپے آ پکابڑا عا کہاوانا(خودیندق) 

۲٢۲٥۵٣ 

تہ ۔ سان کے ہے بدترین وی .۰ ۳۲۷ 

خ۔ اکر عال ماکان زجب ال ۳٣۰)‏ 

اق ران ارت دیائی شی یں ۳۳٣٣‏ 

غخ کم راوگ ٹوا 

دد یکن کے نام بد تاکمانے وانے ۳۳۴۵٣‏ 
ذ تقر مروں یس و خن کی ججاۓ کے انا 

۴۳۸ 

.۸ می مات کے تھ تیلہ بت پ ایی گے 

۳۳ 

و مو نے چروں کے فوو گی وت ۳۴۰ٔ 
سں۔ مال م کال اتاد کے درب حاضر یدیا 

وین کے ل ےکنا خربپ ۴۰۴۴۳۴ 

.لاس ضرم کی ےکی وگ ۲٢۳‏ 

می سللام خ زا نے رتا ۷۵ 

چھ جنر تم کرس اللہ وجب اکر یہی ررۓ ۰۔٣۳‏ 


۳۲۴۳۰۵ 


الف مال سے ملق 
بد بت رین عالم کے متحلق اش اس ار 
اٹھانے دالے بج مل جات ۳۲۹۰۰۰ 
ے۸ نشرک کاپ۔ ۳۵۰٣‏ 
۸۔ تم وت کاظلظ ۳۵ 
۹ کات کف ےچ ۴۵۳۴ 
۶۔ فو کن ر سمالت کے جزن کے ار طاب 
کیو ك٣‏ 
۹۱۔انل تعاٹی کے فی ۴٣۳‏ 


۹۳۔ تھا مکانات گے گے رسول ۰ ٣۵‏ 
۴-۹۳ مارک(چارصر) 
-اتھائی سے خقسوب ع لا الفاط کےاردہ 

سخ معائی ےج یں 
۵۔ مقار مال کیبل کی 
٦۔ائی‏ نب کا د عو کی کگرنا فور بد عقی گی کرنا 
ے۹ رول کرمم یکا فرما کہ ب عقیدہ اور 

بد کو فیپ سے کوک فان نہ ہوک 
۸ ۔لفظ ”الپندید “کا ۶ل زان شش 

7 (مکر.مکروہ خبیٹ) 
9۔ 7ہ کا دروازہ گلا ک 


۳۸۱ 


۴۸۰۵ 


٣ 


مس اشالر نار مغ 


نحمدہ ونصلی علی رسولە الکریم 


الصلوۃ والسلام عليك یا خاتم الئبین 
والحمد لله رب العالمین 
روۓ مع 

ال تھالی نے محب کی جاک ا نکی پان ہو بل و فا کرام کے میں 
تال ےو اک بھی ود رش اع کی ور 
می کی پان می کی محبت ای ہے اد می ری محبت دہ سے جو سب سے یا 
تتری فکیائکیآے ا انام با شر ہے ( )اس مت یامتصید 
۴9م)ر وگ ہے اور می ار سو ہے (رسول )اللہ مت 
ا مم لوان کے ماسویں سے پر ں چک او بی ائ اک کی 
ہجار عیب یل کور سو ان 0+800 رمال ت کا 
سیر مھا گے ا یس کیاکی پان م ں 
وی بکیاننیائش نین اد ئل ای من کے فادیک می بات دای ہے۔ 
7 نے فراص اہ تال کا حیب ہدں لوراس پر جھے نف نہیں 
دو ا نل کہ ہون بی ال تا یکا عیب می رام یہی اتال 
تین کہ می ری متقیقت اف تالی کے مو1کوئی یں جاتاں 
م چودہدور ےد اور یدگ یکارورے۔ ملران چوک تندارمیں 
خی موی سے یدوخ اس وت پوت ً۱ یز تی زار رے 
!لاحب سے باوج سی کےکہانٰہوں نے نعل سے 
دور کی انا ی ے۔دوخ رکاج یو کہ کاو بے 
نکو تفر یکر کے مخلو بکیاہ ہے الم اسلام پذرانظر ڈ الال 
شیج انی عیاضیوں مس خی اور ناک خیطا نکی ر* ریایتن| کے 


19 

وسائگ کیسے ہر پکم را ہے ۔ ن کوٹ ڈعی چچپی بات نہیں ہے ۔ 
اطرلیہ کے نیدورلڑ آرڈر میں اسلا مکو مشش کر کے مخلو بکرناے اور 
دو اہ منصویے کے تح ت کا مکر رہاب پان ۱ای وجہ ےکہ 
مرانوں کے ول سے ان کے ت کی عبت شخمکر دو کو نت رۓے 
لے عاکی سپ اسلام وع رو یک ایشت بنا یکر را ے۔ 
قادیاضیت کے بدپودار سو روپ را سے اور اکر کی ذت 
اف رن “صفیات ”کمالمات د زان یکو ہڑ سے الٹف بلیٹف کر لد لوج 
تر68تی کے بجوٹرے انداز سے لٹرسچر کے ذرے ٴ ىَْ 
کل می پھیااہاے۔ 

بے دین طیقہ لو قیڈا یی ےت کسی لوک بیع کے یں دہ 
بھی ببپک لئے ہیں ادر ای ۶ میں اور تق یں مآ آ قاع کے 
مر حر مالت اور اوعاف می دہ او کن اکراتی یی یکعام انا نک 1 
ساپ ارہ خ کور اپنا مور جم ہا یت ین ۔ کیو کہ ایی ائک رتا 

در اص اس ف رت لال ال کی 3 ون ہے جس نے شا کے 
ایک مال دتاہوں آ یھگ کے پا زاروں نے گی نک 
بای نہ جکہ ار سول ال حک یا آ کا مولدی آپ جک بای 
کچتاے۔ کی کستائی اور بے ادلی ے جن کا بھائی ہے ان بوں نے تو 


پھائین بارش ن کا بھائی یں دہ بھی کپ رے ں۔َ(اکخقرزون) 
ای رح مب مات نُ ہج یکوا نہیں نے اھ وا( نرگی 


بنالیاہے او رابنا دخودی خر ق گر ہے ہیں۔ 

نرہ نے اپ محبوب کک کےا کے قب 
رمالت 050 )جوا تالانے حر سول او مل ماک وکیا 
لی تق مک عم ریا کیو لوں موی او یر ساقی عریش پر بھی کمرر 
کک تقام کب بی کی بلندیاں ما مکا تا تکو ناد یی کٹ تغل 





۰ 


کہ ان لوگوں کے ذ جن صاف ہو جو انجھ یک ک اس(6091)ش 
میب کے شبات می بنلاہیں 
در کہ عفل نی ما کہ اف تی پل فراۓ مھ زسول از مه 
اور اسے وو رش ہاگھوائے اہ نام کے ساتھ ور پر بی و 
تاذ ات اق بک الات سنانت ۷ َزیاخجب ×- کل ایا 
بے قوذ تر اتل ے۔ 
اس کیلب کے آغاز شس ان ابلط کے درست معالی یئ سے ہیں جھ 
نر تعائی سے مطسوب ہیں ہل علم ۔ لت لال پور دگر متورر 
فا کی مفس یآ دمترگین نے ای افلظ کے خلد تی ےکرک 
نے آپ تلم کیاہے مٹاانومن لے کا تم گے(ائز گر 
کر کر ےو جک فا کہ الف تال یو یت 
مرج انان شحیطانح کے نے ین آگر خو دب یکم راو ہوم ےد 
وو اح ب کی عم غیب مقار خب ال او ہووت 
انواروا گی( سورة' سی یو ا سک ابت ان آیا تکی پا ا 
اللہ تھالی کی علاش ۲ش ریت و تق حا کا نات 'الزام ش رک کے رد 
میس *ذزار سو اللہ کے شی اور لزبل :"بل یی 

رج وز معائی (ذنب دا ی یا کی ت کی ج)برارو نکی تحد اش 
ہراروں عشاقی حظرات کے لی خو سو کو جا نات ودای 
ے۔ انظاء الد اس کے سا تھ سا تج دہ لو مسلرانو کو بھی ان 
مان کے ڈاکوئوں سے بچائے گی چو لاس ضف رپ نک کر پر اوقد بل ال 
ان سکول جیے کے اور کھوآزی اپناک/ر دنع رات تین رسماات کے 
ارجا بک رکر کے اپ مخز جن مناٹیشے ہیں۔ 
انف پک یں ان شیثول سے جیا اور جن پر تو نے انعامات کے ان 
ے با سو تحت 





مرکورے۔ 
()۔ آم لگ کے حفضرت ابو یکر رض اللہ ح کو فراا۔یا ابابکر لم 
یعلمنی حقیققة غیر ربی فاعرف ذلکث با تر میرىی جتقیقت اٹ کے سوا 
کوئی خی چانتا ای رت جان نے عائے جس ضا نے جتے 
ا ما ا کت یں بے ےن خل 
یں اور کے ملق فرمان خبد یع لو کنت متخذاً خلیلاغیر ربی 
لا تخذت ابابکر ولکن ہواخی وصاحبی(بنارگی)۔اگر ئل الٹر کے سوا 
کیاوک دوش تناما رکو ہنا تاکن دو رای پھائی اور سا ھی ے اق 
جے میق تایابا تکہ یقت شا اللہ ای کے سواکوئی نہیں اتا ہظر 
آ نل جال اپڈ نع یفاک کے خر ۓ) آپ نکی ذت ارس ے 
تالات' جمالات ' صفات اور سجزا تک کت نی ای ےکر پاہے جیے سے بہت 
پنھ ہے علیہ موی ممالوگ چو در یقت لال خ ریس ر پر یں لوگوں 
کے ایان پر ڈاکے ڈالے ہی ںگ کہ انہوں نے اپنایھان ھپ کر کے جن مکوابی 
را پٹ 
قا کین کرام 
تر ہر 
لابطع ملك مقرب ولانبی مرسل۔ (7جھ۔) میرا ایک وقت الثر تما لی 
کے مات ہوجاب پیے معحل قکولی نی رسول اورمخرب فرش مع 
کن 








تقیقت معن مک چان دالاکیاف لے 
اللہ نال نے ہار ے آ تا مکی شان اققد سس میں ا ن گنت مفات 
ما نک جیں۔ ج الگ رآ رآ ےلپاہے۔ 


[() کو ا جیپت:۔ اول مُجیپ لطاعة ریہ وعبادتہ وتوجیدہ و معرفته 





الا ا سحعد صلی للع رسلوزس 0۸۸[ 
()۔ ادن او صادر عن الله عزوجل و ہوا لروح الاعظم 
والخلیفة الاکبر (صلی الله عليه وسلم) (ص )٦۲١‏ 
ریت اثلیت 'فقال صلی الله علیہ وسلم انا مدد الملائکة الین <٠“‏ 
والمرسلین وسائر لق الله اجمعین وانا اصل الموجودات 
والمبدا والمنتھی والی غايه الغایات ولا یتعدانی احدرص 

ہہت ا 

)')۔ ساین: ۔ فھوالسابق فی الخلق والسابق الی الله تعالی والی 
کل خیر من الفضل والعز والسعادة والسیادة النبوۃ والرسالة 
وھو السابق فی الخطاب والسابق بالجواب یوم القیام ویوم: 
الست وھو السابق بالسجود فی الذِکر اول ماجری ذکرہ 
والسابق فی التقدیر اللوح وعندذکر الانبیاء والسابق فی 
الامامة والشفاعة ودخول الِجنە والزیارۃ وسائر.الخصال 
الحمیدہ قال صلی الله عليه وسلم انا سابق العرب .(سابق 
فی الخلق والسابق( الی الله تعالی )(صءے٢٣)‏ 

(۵)۔ فَا:ت حدیث معراج عن آبی ھریرۃ من طریق الزبیع بن انس 
قول الله تعالی له وجعلعك فاتحاز وخاتماو قال رمیول الله 
صلی الله عليه وسلم فی ثنائه علی ربە تعدید مراتبہ ورفع لی 


ِا 


ذکری وجعلنی فاتحا وءغ 30 الفاتج بمعنی 
المبداالعقدم فی الانبیاء او الفاتح بصائر ھم لمعرفة الحق 
والایمات بالله۔ 

(٦)۔‏ آرم:۔ ان ادم عليه السلام لما رایٰ اع صلی الله عليه وسلم 
مکتوبا مغ اسم ربہ تعالی فشفع بە فتاب عليه وغفرله و تلك 
اول توبة و 

(ك): 5ر ھوالاؤل'فی المقادیر واول غذکور فی للوح ولکٹرۃ 
ذکرٰۃ للا تە:مکتونبا علیٰ العرش وعلی السموت وجمیع 
نرَامنھا 

.(۸)۔ مختار:: فھوالمخاز المستخلص ہو صلی الله غلیه وسلم 
مصطفی الله تعالی و مختار :و مستخلصه من خلقہ 
وھوصفوۃ الخلاق وخیرتھم عندة عن کعب الاحبار قال فی 
التؤرات مکتوتب قال الله محمد عبدی المت و کل المختار۔ 

(۹)۔ اام:ے شب مغراج اك سید المرسلین وامام المتقین وقائد غر 
المحتخلینٴمعتی کون سید المرسلین ان رئیسھم وزعیمھم 
والسقَةعلیھم وعظیم وشریفھم وکریمھم۔ 

الثر تعالی نے کہا:_ فقال عژوجل انت المختار المنتخبٰ وعندك 

ےپ را او ہہ اناو بی مس۹ 

ار تین کرام : 
دیکھا رحول کریم لگ کی تخیقت الد قھالل تی 

سا کوگی نیس جاتا۔ محت جانے یا یوب جانے۔ 





٠‏ اول یاولٰ ا ا 
اون الن ز تی رد منشور یں ےکی شب مزا جال تالی نے فیا ے 
ا آنے مات و میں۔و جعلتك اول النبپن خلا واخرھم بعغا آپ 
کیا سول ال شا نون سے کول ( پیل )یکاددر مب کے خر : 
محوے ق رای فرما نی عندك مستودع نور ری( مال اص ات) 
اول ئن آپ تانے فر۔ ول انل ری سب سے ولک ڑچ 
1 وو میرانود تھا ای ش دہ الفاظ بہت تال ور ں از تال اوز: نوری 
۱ چو 


اوی مسلمان : جن قربان ہے۔ انا ول سی 






سب سے پیل ماب ہوی۔ 
مع آپ نچنے فری انا اول المومنین سب سے پہلا مین 





7.0 فی ےا کا ے الاو فا 

ای ول ہکولو ارب چھالست بربک مکیاٹش تہارارب تُِں۔قالوا 

2 نکیا ان سب سے پچ آپ مگ نے فیا - بلی ای کے 
آپ من کاف ران انا ومن ان الد سب سے پپے ارم اا نلیا 

اول یرب وع - آپ گنگ نے فریا۔ جس پپلا ہوں جج 

سے زین ا 

اول شافع: سب سے ہی شفاعت ٹ سکرو ںگا(قریان 


18 


اول مشفع :۔ قیامت کے دن سب سے پیل را شفائحت قول ہوگی۔ 
(فرمان خی موی 


اول مہ ہز مرا قاع السة۔ سب سے پاٹ ہو گاج جن فٹکی زنر 
بلاۓگا۔(ف مان خی کمگرج) 
اوایی یں ضب کے اذہ عمزت دالی :- آپ کک نے قرایاوانا اکرم 
الاولین والاخ زین او اد ہچاوں میں سب سے زیادمکرم شش ہوں۔ 
کی کل گا قال شیع او محمد بد الیل القضری فی ذلب 
فقداعملك رضی الله تعالی عنه ان النبی صلی الله عليه وسلم عقدت 
لہ النبوۃ قبل کل شی(مطالع المسزات ص ۱۰۷) ہر ے تل آپ 
وت عوطای 
خاص لکظام: حاص لکلامىہ ہداکہ جار ےآ مو زجع رحة للعالمین 
دہ وف رححیم مارک حلوقی سے اول ہیں۔جو اوگی ہو جا ےوہ عاکم ھی ہوج 
ہے۔دہ یوب جیا ہو تا سے دوور جیا ہو ا ہے ۔کندکلہا ھی لو چا اہی اور 
بہت ددر ہے جو ائل لت ہے دو قام موجو دا ت کیا اص "ا ہے۔ اد تھالی نے 
پگ کول اوج دات بیلاے۔ عقار خق کیا ہے ۔کی عم غیب عاکیا 
جے۔ عاضر و اظر با اور آپ نگ کے لے سے کاننات فی کی ہے اکر 
آپ کک نہ ہوتے تر کا مات نہ ہولی۔ اور سپ سے لڑگا بات ہی کہ 
آپ کنا وب باپاہے۔ حوب ایک عیب جا ہے اور سب پھھکافالک ہو 
ہے۔... اود حیوب کا رشن انا عی دشن ہو ہے جس کا ٹھکانہ جم کا 
مالواں لق ے۔ ْ 





اھ 


1٦7 


اي یبال ے کیاکی بردوں کے ے : 
اللہ تعا ات ےکہا ٥بت‏ کنزا مخفیا یس الیک قاب دانخ کے 
نوایوں یس بی تھالای ایک چا داتحزاۃہ تھا )ا نے با اک اپنے انور مقر ل 
جو چان د رای کیقیت سے مب زاہتھا: فا نون کے باطوں سے اٹھاکر رز 
علوہ کے افلاک پر ایا ںکرے۔ آزپنے فقل اریت کے اف اوداپتی رتو 
ربدمیت کے ملع یہ اپے جلال د جحا کا مفا تک چند شعائیس نظاہر فرائیں 
ناحبیت ان اعزف (ش من پاإگہ بناقار فآرااں )ک 7ت /: پای 7 
ایا ححمت بالظہ اود فدر تکا مر سے موجودات کے ابقرائی نجار خظاہ رک نے 
مر و ے اور یھر خلقت ور مم حا اظپورہوںل 
.. (اس موضوغ پر خققف راویون نے ننس مضمو نک حتف الفاظ مس 
تر کیا لض نےتفحل کے ساتھ یور نے نا کو نظ ہکھاے 
من ‌ان تام روانقوں شس قرمشت رک نے ےک عالم موجودات می باحث بات 
نی ہے لن اکردن(مور بر تققی تی نظ ڈالی جا ےکہ اٹھارہ ترار عالم تی 
وخ انا نکی فحلیق کا مقعد آ6 می کے منصب ومر حبہ د شا نکاانلبار تھا تو 


بے جامٹھ ہوگا۔ 

ظالہچات: 
ط۷٢۱‏ ام تاب سً 
ت گرا تذاک راو ضومات' سا تضوبیروتے 


ك٣٥0(۲3۷٥۹)‏ کڑس و اون گت رارالث رآن 
تزیے چا (۴۸) . زی الٹریلابن عزاقی تاعرہ 
اسرا ۲2 الاص ارام فومت لت اقاری موس الرسالہ 





ھی نے حب تک 

مور حم ہو اق میرک محبت می رکا ان ہن ہاۓ(فاجیت ان 
اعزاف) مطلنب نی ھا اد یی دا کہ می می عبت تیم کی پان ہے ۔ برای 
عبت نے کپلویا۔ کن تو تحمد۔ تورم نہو اور حبوب کلک کے تو رکی 
٠‏ تلق دکی۔ اتی نوز نے بعیت یس و بک رد وکیااوز سب سے پہلاعابر سب 
سے پہلا مو من یں زا للا ال اکا مان مبارک ہ ےک انا او 
العابدین میں سب سے پہلا غاد تکر نے ولا ہوں )انا اول المومتین(ش 
سب سے پہلا ومن ہو درا کی یکا قرابھ نیعلا نکیا ایک 
صلی یل ہے کک فائون فطرت ےک ال تھا کی لوق ا سک جج ریۓ۔ 
الم تر ان الله یسجدد لە من فی السُموات ومن فی الارض(1۱۸/۲۳یت 
زایا عیب یکا آپ نے مر دیکناکہ ار کے لئے سز مکزتے ہیں دوجو 
آسنوں اور زشین میس ہیں پ: فرباا تم جو بے سخبدۃ نمی سکزتے تمہارے سا 
جے بد ہکرت ہیں .زوس رکا مہ را َسیح لله مافی السَموآتِ ومافی 
الارض لە المَلكژ وٴ لە الحمّد لله هو علی' کلیٰ شنی قدیز(۱/۷۴ 
انف بئ) ال ہکا جج تا سے وہک آسانوں میں ہےاورج ھ زین ٹس ہے انی 
کا مانک اور یکا تخزیف اور دوب رز بر قادرے۔ 
بت حیدب می می رکا بپجان 

الد تالی نے فربایاان اعرف حاکہ ‏ پان جاؤں مق محبت “یوب 

کل میری پان بن جا کہ مھ تل کارب ہوں۔ ق رآ نام 
می ہار ہار قربا سیر ےر کی فصعماود وا تال تا یکی ھا نکا ایا کو ھ 
سد سک سی دای ام مک بھی زور مصطق کےکو ا یکاپ 


دا 


5 چلاںکائجاتکاذر مر ہآپ مگ کے نورے جناد رر قررت ال یکاپ لگیا۔ 

یہ ہے لن دای بات الل تھا اتی پپا نکزانے کے لئ کے جس مجر رسول ار 
بپہولں۔ : 

اک شی کازالہ 
یس رولات بیس ج کہ سب سے پیل قلم مکی لی قکیگئی. یہ خلاف 

مل ہے دو ل ےک قاخونع قدرت یہ ےکہ ال تال کہ خودرسولِ غھیں 

بر وگ کے تہ ہو۔ در گیایات یہ کرس لءام ٹر تڈے نم جے 

اس لے توق سے پیل ےزادنا جا ےن ہکہ لوق بے پیداہد۔ ای نظام کے 

مطا اک رخ مکی ایق پک ہو پھر سوالی پد اہو تا ےک تل مکارسو لکون ھا؟ 

جواب حیت.۔ محبت کی ہے 
محمد رسول الله 

ا ای ےق رای ا تا 

2 اشر ناپانے ابنے تحبوب ماود کہ عبات و تج جس مشقول 
ہیں اود کی الو ہی تکااعلان مج یکر کے ہیں۔ عبت انی جوش میں 
ا اہ لمجتد رسول اللهٴ ۶ عنلیات ونوازشثات 
گا پاز شی لک ذیی۔ت قذرت کے شابکارکونام واع زا سے مض کر 
خھاائ حر علہ پذذدارک چایے اور خورکریی۔ 

امم ناراد 

ب۔. عید۔ رخولت(رسمالت ایگ مسب 090) ےج سکی 
تل کے مات مآ لید) 

ت۔ لف اللہ کس کاز سوگی۔ بتادیاگیاکہ یر رخزی بی لوز اڈ کک ۶م 
کا کات ہے لو پت 


کے اق 


ھ0 و 9س“ 


میمت 7 

مرکا فاخا ہن رح خر فک ارس 
کی کے یا خرف کی ات لے و کے یں انیس 
ذاتکانام صبارکک معن ہوادرنام رک والااللہ تا یہو قدوذات 
قی ایی ہودگی جس می سکوئی تمس ماکوئ یھی اکوکی عیب ط بد کیو کہ 
تن ریت ات کیا کی جائی ے جم سک نت سکیا ا لا 
بھی نی سا قوف نت ےکنا ایآ چو جس مین عیب اس 


یب اک اتکی جات 


ر سال یکا مر اک ایا پیا تو5 امعفا۱ومہاحےِ 






2 بب 7ا سب ے زیادہ سے لیف کر نے واثے(اس ا پئے نان ا کو 
خطاکیالو رپ تم نواٹ کے ما عطاکیا سی بت کی غلافت سض 
ےک اع زا عطاکر نے لضاف خطاہکرے یا ی کہ بعد بی کروں 
گ۔ اتکی شان کے غلاف ے۔ٗ یچک عم نہ ہو نا بات ہاور 
جن سک یکواخیارضہ ہودہمخیوریی ے اہ نے ہو یں سکناکہ ال تھا 
آپنے خیب کوایی اکس وی رات دے- 
میں الہ تال جھ بالذات ہر می کے اف بی نے 
اج عبیب من کو محمد ہناکر جیا اور رسماات کے رج ے ٹوازا 
یی عیب ہو یی سک صا کرام رتا 
آپ کے یب ماتنے تھے۔ سیدنا سان بین ات 
روخ رے یں ۔عافت یر کیب گان 
قد خلقت کماتشاء 


رم :۔ یارخل اس يك آپ ہر کس و عو 


تی دیل 

علیٹی شا کا رت شیا لی رلک وت داد 
تج نی فکیالکیائی ہذناچارینے اود مر حبہ کک لیاظط سے بلند تر بین فات کےالاظا ے 
709/1 محب بی تکاع تر بن ہو تا پا نے یی تو اد تھا یک شان جلدہ 
کرک زی کان نے اپآ پک پچھا نک رواےہ کے لئے عیب تی بن کی ریت 
کی پان اورپ جحیب شکو حول دش یکا کوک نجس 
مان بج یکر ےک محر سول اش کی رات ش کوئ یک ظا ہیں رت 
نل وخ ودای الد تا کی شا فدزت مس مکی دحیب ال ا 
ادری نبایت گیا ینتا اٹ ادرکفرے۔ 5 

و ارذ جز رون ال اگ 

الہ تالینے بی رکھوں : 

ال تھالی نے جج سو الف رانے کے بعد اک ا نکوکنا 
بھی جاے انس فور مارک نے پان پا پاسی کر جا پالؤز جب بل شا کی کت 
(ں ہا ےل ضخي مز لَ لا تذل ت٤‏ ظ رآ ل مد خ٭د ہیاپلے ۔ 
تال لور کے اد ےکردجے۔ و نے سے عم زوسرے ے سے لان 
ےج سے عرش کیا ا بل بھیچھاو لاح بھی مکو عم ہوا کت ب۷ 
“کک عم نے دریاف فکيا ابا ن کرو قراابُسم الله الرحمیٰ 
الرحیمم سےکرو۔جب ہم اللر ھی قزغام اہ یکی یت سےا کا صی ہو گیا 
و ری سال ای وت کے عالم ٹس یچ تہ ائس کے بعد ال نکی 
کماہت سے مزید شی ہد الوال رت مک یکابت سے عرید شی ہوا ائ کاب ت اور 
وققہ می مزیدتوسوضما لکی کر تگمزر این کے پز جم ہوا کموائی انا الله 


اله الا انا ومحمد زسول الله ۱ 








تم عفر معن ج اص 

کراب نار ی سککھا ےکہ جب قلم نے نام نائی اکم مگکرائی ضراردو 
عالم مھا با رگا اعدنیت شی س مود ہ وگیالورایک زار سال کیرش پڈا 
ربا۔ این کے بعد مزا ھا فا او زسالت میس سلا مکی لن خالق: عالم نے 
اس حنور یی طرف سے ملا مکاجواب دینے ہے ریا وعليك السلام و 






۱ لْحمة او بت لك زحمتیٰ ومتمع:وصدق بە وامن بە 
۲ رم مت پر لام ہواور تپ می کی اع سے رجحعت ہو تا نے اپچنے 


موا ا ا ا ٦‏ 
۱ ال تال ف زاب کہ نے عرش کوپالب دا فربیا یہ بے قرار و١‏ 
ا کے پچار لاکة ہا می ہرجائے سے دومن رے پان ےکاقاضلہ پر لاکھ سال 
عر تک راوہے۔ جب الپ رکھا”لا الہ الله محمد رسول اللہ “وش 
کو قرا گیا سکواٹھائے کے لے پا فرش ید ا ےمگردواٹانہ ےب فرجتے 
جردت بے پڑت ژإں سیحائك اللھم وبحمدك لك الحمد علیٰ حلمك 
بعد دک ئمرال تعالی نے ھرید ار فرش را سے فان آھ فرشتوں نے 
عرش مل یکواٹھا ہو اہے۔ نہ ار فرش ہردت می پڑت یں سبحائك اللھم 
و بحمدك لك الحمد علی عفوك بعد قدرتك۔ 
تکس ر اتال( کاہت) ِ 
الد تالی نے اپ عبیب مگ اور ار رجا کے ع وا 
منص بکولوں مقوظاور ۶ش مع رککعویاجب میا رگ یکبابت ہو جائے لو وہ 
رستاوہ: بہت مت یپا اور ج بککھدانے ولا ای ہو توچ راس ھی 
ہو بین ا موب میں نی چک یک نیس دی اور یکوکی حیپ ہوجاب 


عحبت محر مصطفے پپنگ ےکیا؟ 
مع کے تہ 
.می ض سے ا کے معنا عحب تکرنا ین دک کے و رض یی 
با اکا عطلب 9 برای سے بی لق عیب او تحیوب بنا لی 
دوست پارا- 1460ا 1او ای سے افظا عحت لا سے جس کے 
مصعی عحب تک نے الا ق0۷9۴ یاے۔ عبت زسول مک ایک نورہے جو مقر 
سے متا سے اور تو رگ مزعت لا لی نکی اکم سے ہی ااے۔ 
تپ کی پان 
: ات ا ان اتا 
ذکرد پاچ ان کا ہراداکی نت رن کک جائی ئے۔ اس کے ج رخ مکذرخو شی سے بھی 
عبت ہد پا مار ے آ8 کا سے سے زناؤ ہف کین گے گی ہیس انی لئے 
کپچ کاام برک مرک جو سن سے چپ ا قالی نے توزمہارک 
1 و اکرتے وقت قرلا۔ 
پان بت۔ 
اش قال نے اپے خیب کل سے اپ انی عب تک قرایا 
للا لہا خالقت الافلاك یا یب اگ رآ پٹ ہوتے تن کا کات پا 
کر )4ر فیا لولاك لما اظھرت الرببیغی بد تا تے(یا عیب ار آپ 
نہ ھوتے قش اپتادرب ہن ےکوظاہرھ راک اجکی یت انت یں 2 
ہے و ا ئل غارس نے کان عبت گی بنادا۔ لاحظہ 


ک۔ 


24 


بت کا پچانہ 
قل ان کان اباء و کم و ابناء و کم واخوانکم و ازواجکم و 
عشیر کم واموال فتر فتموھا و تجارۃ تخشون کسادھا و مسکن 
ترضونھا آحب الیکم من الله ورسوله و جھاد فی سبیله فتر بصوا 
حتی یاتی اللهہامرہ والله لا یھدی القوم الفسقین(۹/۲۳)۔ 
آپ فرمائئی اکر تہاری عور تی اور تہاراکنیہ تہاد یتما کے مال 
اورو ها٢‏ نجس مس منتعا نکاتکہیں ور ہے اور تمہارے ند کے مان کیا 
زی ال تھالی اراس کے رسول بک اورا کی راوییش لڑنے سے (یادہپیا رکا 
ہوں تو ا تظا کر و۔ یا ں تح ککہ اللہ تھالی انا عم لا ے اور ال تال فاسقو نکوراہ 
و2932 2 
اما نکا پان 
قرمان نیوی ھے للا بیومن ااحلدکم حتی ااکلوان ااحبید اللیلہ حیننٰ 
والد ووندہ واالناس اجتحین تم می سکوگی سن تو یتو 
ا سےا کے ول بن دادور سب الوگوں سے لاد راہ بو ںیسا ینابر 
مناضقین وریہ ابا ایا گنا شیشھ ہککیدگگہ اون تے عحی تکدت کیا لے 
آب کی ذات 'عفات عکالات ' جعالات زاتمم ل کہ جبت یش رو کر 
دی تی اور یہاں نچک محاملہ حبوب سھگ کا ج کہ عالمکانات کیا سے 
اس لے عحبت 'ادب اورایما نکی حون کے اندر جو نال کی ہے۔جوضہ بوگادہباق 
سو کیا جا ۓےگااور اتیک کانہ جا ے۔ 
رزمانہ محبت کے اوز الع 
ال تالی نے سورۃقذ کی آ یت مع ر۲ ۲ بل اما نکی تام یوریا نوا 
ری لے 


بت رر رن وس 


آ تمام‌ر شت جو انما نکوپیادے وت میں ماں باپ ے بھائی یوک اور ال 
ن تام مادی ضر ور تن جو ز ن گی یش ضرددکی ہہوکی ہیں _ مال و دولت “ 
تحیارت اور خو اصورت درکانات یں وو بڑگی عحنت اور پپتد ے بتاتا 


ہے۔ 

0 7 ,2 مر 
کاننات زیادہ یوب بوناچا نان تام دیادکپچزدںرے- 

۳ آگے انافیعلہ گیا سنازیاک ایام رمے محجوبب پاک ہے ید آهیں 
7ریں۔ 

۵۔ بت رمیرےعوا بکاتقظا رو 


٦‏ 27یس ےگل می قا ںات سس 


جج یکہال ےک اج 2زس کمن .]گر 
مومنوں کے خلاف منص و بے بنا ے بک رکقا لک ہحرم کو جناتے رج جھے۔ 
لین نماہ ری طور پر اپے آ پکو مسلماان دکھاے۔ الد تھالی نے سور تو بر مل 
منانقی نکی جس مود کو صیرضرار قراددیر یے معبوب صلی الد علیہ 
و و او رگا گرام نے گرافیل 


: 


انااصل امو جودات 
فرمنر سو لکرم پل 
لہ موجو زا کی اصل حضور چک ہیں 
صاحب رون الین جلد+اصفہ ۵۷ کی عبارت ملاظ ×:) 
قال بمض المارلین الحقیقة عار فان نے فا تقیقت مب ہرے 
المحمدیة اص ل قَادة کل عقیقة گیا مل ماددہے اور ہر تی ےکاظہور 
وک سلکرت ازع الام کالہ پچ سے ہے۔ای گے ہرامر 
ون : کے ا 
00/0 و 
ولسوف یعظيكزيك فترضی 
3 اف آپ زاشی نو گے ج پک کفآپ سے جو چھ ہداب اوودائیں 
ہے ای لیے بای وانٹے اپ کے لی کے خزدیک اور ائل جال آپ کے 
لان کے نز دیپ بی ودای گے۔۔ 4 
اور حضزت ان خطا زخ تا تی علیہ نے فربیاک ر گوالدتھالی اپنے 
نیا یاک عللک سے فرا تا ےک ہکیا آپ مایا لات راضم ہن ؟ اتا 
فیا :نہیں مج و لھا جا ےہ اس تھی نے فرا: : 
انٹ لعلی خلق عظیم( کک آپ خق لیم دالے ہیں )۔. 
یی ہمت جلیلہ واٹے' کہ آپ پراکوا نک کوئی ‏ اقراندازنہ ہو گی 
اد رنہ ہی اللہ تھا ی آپ کے مے وی اور ند ار 


27 


نورائیتر سو لکرمم علللگ 
قد جائگم من الله نور و کتب مبین ۵ ٭ 
مرو وت تھھارے پاس آے اللہ سے ایک ٹور (ض من ) آیاادر روشی 
کتاپ(۵/۱۵) 
ال کاب سے خطاب :۔ اللہ تعالی نے ق رآن علیم میں ال کاب (یہودو 
نار ی) ے ارشاد فرایا۔یا اھل الکتب قد جاء کم رسولنا یبن لکم 
کثیرا مما کنتم تخفون من الکتب و یعفوا عن کثیر قد جاء کم می 
الله نوروکتاب مبین ۵ یھدی به الله من اتبع رضوانه سبل السلم و 
یحزجھم من الظلمت الی النور باذنه وبھدیھم الی صراط مستقیم ۵ 
(۵۸۷) 
تریح :۔ اے ال لکتاب (منی اے بددو فارگ ) بیگک تہارے پان جمارے 
رسدل ملق ریف اے دہ( مم جن ضا ہے مصلوت نہیں تھ ڈو تھوڑا 
کر کے بیان فرمایں کے ببت کی با جنیں تم ارت کراب سے پچھپادتتے ہو 
زین یکریم مک کے ادصاف وکمالات اد رآ ر جم وی ر ہاور بہت بی بات 
و ( يك یں معاف فرماد نے بین ۔ بک تمہارے پان الل تا یکی طرف 
سے فور( مك او رکماب پائیت ہل ہے ال تالی اس ا۱ج سے برای 
دتاے۔ جھسنے حضور مک کا کر کے ا نکوزاض یکیا۔ سلامتی اور ختاب 
سے مات کے رات لق ش ریت مقدس جس پرال اسلا مکو چلانا مقمورے) 
اور انی موکانکے ہیں ارول می سے تو زکی طرت ال تقالیٰ ے عم سے اور 
دوا نی سیر مگماداوکی طرفپرایتدتاے۔ 


وو 

اعاد یراک و رخیو سو رات مصعفی پگ 
حد ٹاش رلف:! حضورس ور عالم نے فرمیا 

انا من الله والمومنون منی 

ین اش تعالی سے ول اور مو مین بج سے ہیں- 

اللہ تالی نے ال کی تحد لت فرباگی کے قد جاء کم من الله نور و 
کی ون . : 
حدمشات را یف ٣‏ تضوراکرم نے فا یا۔ 

کنت نورآبین یدی رہی قبل خلق ادم باربعة عشر الف عام و 
کان یسبح ذلك النور و تسبح الملائکة تسبیحہ فلما خلق الله ادم 
القی ذلك النور فی صلبه. 1 

میس حرف کدم علیہ للا مکی پیدانٹی سے چچودہ زار سال نل اللہ 
تال کے ہاں فور تھاجو اللہ تھا کی سے پڑھتا نا نکو دک ک ملاک کرام ا نک 
لیر یں ال تا یکی تن بے تے۔ جب آدم علیہ السلام پیداہودے فو ووٹور 
حفرتآدم علیہ السلا کی پشت ئش رکھاگیا۔ 
حد یٹ ش ایک :۔ حضرت علق ابین عبان ری اللہ تعالیٰ عنھا ے 
مروی ےکی تضور یپاک تل سے موک ےکہ حور می پاک نگ نے 
فرمیا۔ جب آوم علیہ السلاممکو اف ا و الد تال نے می رے لو کو عالم علوئی 
سے زی نکی طرف اتا ہک وم علیہ السلا مکی پشت یں لبلور مات رکھا اس کے 
بعر بے حضرت و علیرالسلام کے پان ہر ایاگیا۔جب ان کا یف انت 
کنا ۓل ری تھی میں ان کے سا تھ تھا “بجر بے ابر ایم علیہ العلا مکی پشت 
مارک میں طحق لکیاگیا۔ ای ط رح میں پاک پپتوں سے با ک مو ںکی طرف 
ٹل ہو جا ہوا اپے ماں پاپ کے ہاں تثریف لایااور بے ایی لپچتوں اور شگموں 
می ضف لکیاگیاچوزناکے نزدیک بھی نہ بے 


رر نے لام ہر الد ینغ رازگی فرماتے ہیں۔ ان امراد پالور رھ 
مغ" ہیں۔ اللہ تمالی کہا مطلع سید الانوار وھو محمد فمن نورہ 
خلقت الانوار جمیعامٛق مخ ملک کے نور سے باتی خلق تک بی اکیل 

مواہب لد ور قبق ج بکہ اللہ تعالی نے ہمارے نی ککن کہا 
ندر پیر اکیا(ششی کے کے ور بالات اور و کی اق تک اور ان کا 
خلققتکوالل رتا نے ا کیا ا کزان ر فرایالہ انیاء تع سلام کے ورگی 
مرف بے آپ کن کے نورے ان ایا السلا مکواس در ج ڈھانپ لیا 
نس کے سببالل تالی نے ا کول ںگو اکا ارب تعالی کون شٹ ہے جس 
کے ور اک نے پمکوڈھائنپ لاہے اللہ تھالی نے فرباپاکہ ىہ مھ جن بدا کا 
فور ہے ۔ اکر تم ا پر ایھان لاتے ہو نت مکو انا کرام کا ضصب عطاکر 
دیتاہوں کل انیا, الام کہا ہم آپ ما پرادر آپ کی وت 
پرایمانلاۓ۔ 

عرار نع الشوت:۔ بس شاو خبد اف محر دبلدی فیا ہیں۔ 

وی اول وی آتر:ھوا لاول والاخر والظاھر والباطن و هو بکل 
شئی علیم (دی ذات اول و آتراور اہر و پان ہے اور دہ ہر ت کا جاۓوالا 
ہے گلمات ائیاز اللہ تھالی کے اس فا حدوٹاءر بھی تل ہیں کید 
ال تھالی نے تق رآلن ہی مج اپ یکب کی کے ذکر و بیان کے قلیہ ٹس اد اد قربایا 
اور ضوراکرم سی عالم مدکی نت دصق تکو بھی خٹائل ہی ںکی وکح ان و 
تعالی نے ان اناد صفات کے سا تھ آپ حل کی فذصیف فرمائ باوج دیکہ ے 
ااء تمہ امام تی بھی ہیں۔ اود وگی کول کی حلادت نکی جاۓ جو انی کسی 
وارطل کے القام خواپ اور براوراصت' کلام ای کانزول )ان دوثوں صور ڑؤں 
میس ال تی اپنے عیب کا نام نائی اس مگرائی قرارد ےکر آپ مل کے 


ا ہا ہد اہ وا شس 


30 


علیہ سارک 'مسن جال او رکال دخصا لکاآ نہ وا الا گر چہ حضور الد 
تعالی کے تھام اسماء صفات سے ملق وف ہیں اس کے اوج تصوعبیت کے 
ما ان ئک سےبھے صفا کو نیرک رس ےکنا خلا ور ؛علی کے موم“ 
نین ول“ بای روف اود رم دقیرہ-اودے چاردل مور واساء بغات “کا 
ولآ ر پان بھی ا نہیں قیی سے ہیں 

شال : کا اب راپ ئک نا ردان دنا آپ تل 
جی کےاوار نے 2 ءا یکوگی ر رکھاے جس سے مارآ ہاں رون ہے۔ 
میم ظبو رآب چلل کے نلبورکی اناورک یکاڑو ر آپ پچ کے فور اک کے 
ہم پلیہ نہیں فور پان سے مرا دآپ تل کے ووا راد ہیں جن کی طفیق تکا 
ادرک نخان ہے۔ اور قریب اور یر کے لوک آپ کہ کے مال مال 
مم اھ دک رر یں 

ہے کے امم وانئے:۔ وھوبکل شئی علیم(دی ہر ے کاجانۓ 
والا ے) کاارشادلاشیہ ضوراکرم لی کے لے ہے کیک فوقی کل ذی 
علم علیم (رساض م ج او اورزیادہ چاخۓ دالا ےکا عفات آپ 
دی میں موجورہژں_ عليه من الصلوت افضلھا و من التحیات اتمھا 


راکیلھا 1.0 
رد دک مین جیٹرے مر مصعلی پلک 
آف پٹ بس 
تام نیا شیہم الام ) سے اول ہیں اور آپ گی وت قام 
ایا یما لام مھدم نع 
بن ای تم نے ابی تیر مین اود دو یم نے الد لال جس یہ رق 
متیررہ حضرت قپا و ےانمہوں نے حضرت صن رہ اوگ دحل سے اخ و نے 


31 


صخرت الد ہر برود می اللہ عنہاورانہوں نے ب یکر مم مگ سے اس کی تکز یہ 
واذ اخذنا من النبین میئاقھم اتی مھ کے خخت ردا تک یک ور 
اکرم یلگ نے فایا۔ می فرش میں "او ل'اوربعت می ان کے ہعدہوں 
مگ میرے مب نو تکوان سے پھے اہر فرب اگیا۔ 
طاءاعی پر تضور حکااسم مبارک 

عاکم لی اور ط انی نے ”نصتی یی اور ابو تیم اور ابع حسماکرنے 
جفرت عم رجن الفطاب می اللد عنہ سے رواب تک کہ دسو لکریح پل نے فیا 
عفر تکآدم علیہ السلام سے جب خطاطزد گی فو انہوں نے التاکی ”یار با 
تق مم ملک کمن رئے۔۔ ۱ 

ال تالی نے ار شادف بای تم نے مج( کس ط رع باا؟" 

عمق کیا ”جب نے میرے پن ہک اپنے دست مبارک سے بیااو 
ان آف یٹ یکی ریش نے مرا اٹھایا قد یھ عرش ایی کے ستونون پرلا الله الا 
الله محمد رسول اللہ پیٹ ککھا ہو اہے۔ نز مم نے ججان لیا کہ جی ذات 
انام نی تیر ےا مگ رای کے سا جح ھب ہے یقیناد تی کی بارگاویں دنر 
مارک علوقی سے ای محتزم ہوگا 

فک یر نے فریا یا آرم۱ نے ٹھیک تھا اکر محر کہ ہوت ‏ 
وت ت مک پی اک تا ہکانا تکو۔ عد بی قد یی ہے 'اللدتھالی ف راتا ہے لولاكک 
مما خلقت الا فلا ال عد بیث فل کی کے می معقی یں می یہ تام کا ننات اور 
الم اجسادصد قہ ہے وج دبا رکت جناب مجر ول انل حا 





ا اک رت ےکحب اضار رصن اللہ عنر سے روآی تک یک ال تما ی 
نے حٹرت وم لی السا مکوایاہم سی نکی تی کے بب لاشھیاں دیس 
تین نمو سکیا رانک وولا یا کت او ری یں (والله اعلم بالصواب) 
بح ازال حر ت آدم علیہ العلام اج فا زنر حضرت شحیت علیہ السلام کے پا 
تریف لا اور فریایا۔” اے مر کے قرزظ ام ےل عد جب م مر 8م 
ام ہو ان مو خلاق تکی نھارۃ پل ادرعروۃ الوقی کے مات لو 
اور جب تم فی رک د تھا ی کاڈ رک ردق اس کے ساتھ بی نام نامی مجر رسول الد 
کچ کا کر کیو کم نے عرش ائی کے ستونوں بر آپ کا ام ای 
اس وق تککھا دیعاجن بکہ می روما کے ور میا یع رعلہ یں تھا۔ ابس کے 
بعر بے 1سانوں یس پچ امیا ت وش نے 1سمان میں ہر تہ اود ہر متقام بر مد 
( یچ )کادیھا-۔ پ زی ز ہے رب تعالی نے بھے جن ٹس مھ زل یق یں نے 
جن طز تل اور جردر بے پر م 0نا تر ردیکھا۔ نز یں نے نام مھ 
(چچن) کوحو رای نکی چیٹائیوں برادر خن کے رگ و ورخت پاے ر۸ 
عو براوردرشت طول گے پر نوزد عق ی کے ہر ورق اور دوں کا پر 
کو پراورفرشتوں گا نکھوں کے در میا نککھادیھاے “ و تمس 2 رائ یکا 


ل7 ت سے کرک ر گی وہ ف رت ہ لن ا لکاوزدکرتے جیںا- 


33 


نورمضن جاپی کی ایا دک یکیغیات اوراں 0 
کاخ راع 
ال معن می ہم جن سعید سی دگاذ روٹی اور کشا ہا محد الین 
ت ئک کاب و سلہ سے اور الصد لقن سے منص فکات یا نکر یں۔ 

حضرت چابر بی عبراللد اصار گی ری الد نہ فرماتے شی ا کا 
ر مات ماب مل سے دریاف کیا موجودات سے پیر بک من لس جن 
کوپد اف رمیا ر سو خدالے فرایاہھو نور یگ اے چابر وہ تہارے نچ یکانور تھا۔ 
نی یلاس نو کوپداف را شیا راس سے پیداف ایی ۔ جب یہ فورپ رود اپ 
ع رکز سے مندن شپودبہ آیا ّدر بنرار مال تک ا نکو قرب اص ٹیل رکھا۔ اور 
ا نکاچار توں یل تیم فری ایک حضیہ سے عرش دوصر سے ےگ رکا 
تیر حصہ سے عامیی عرش کواو چو ھھے جصہ وبا زار مال عقام حبت شس 

رکھا۔ال کے بعد ال شکم چہار مکوہر ار تموں می تی مکیا۔ ایک حصہ سے 
ن دوسرے خص سے لوںں ؟ نے تر سے جن کو تفبق ف اور چو کے 
ج ےک ہر جار توں میں تی مکی شیا ن تقیمے قیاا نوا خوف یی دہ 
را مال رکھا۔ اس کے پل حصہ سے لا کل ہکرام دوسرے سے آف اب تہسرے 
سے اتا بکو پیاکیااور جو تھے حصہ رو پا رر سای عقام رجا ر کعا زا 
کے بدا ںکوچر ار خوں می مم کیا بے حصہ سے معفل دوس رے جح کو 
عقام میٹ ہار وہترار سال رکھااس کے بعد اس پر موی فو جہ فرمائی جو طایت جا 
شس پا ای ہومگیا٘س سے ہار راد ایک سو ہیں فور کے تطرے کے اور ہر ہر 
قتطارے سے اروا ‌انیاءپی اہو ماد جب ارداک ان یوک رام نے سان لاق ان 

ے اولیاء شہدرام صلماءستدرااوراطامحع تکرنے والو لکی اروا جکوییاگیا_ 


34 


طریت خلیق 
خالقی:۔ اللدتعالی جیا کا نات ہے۔ تق رآن یش ببت سے مقامات پر ذکر 
آیِے ہو الڈی خلق لکم مافی الارض جمیعا(۹٣/۲)دقی‏ ہے جس نے 
تمہارے لے پر اکیاجھ نوز شلن شل ے۔ 
کیا اکر تا ے:۔ یخلق مایشآء والله علی کل شنی قدیر(ك/۵) 
جھ جاہے اکر ہے اوراللد سب چھھک رسک اے۔ 
0ر وفذ خحلقکم اطوارا(۱۴/ئ) اس نے ش یں رج طرح 
تخل قکیا۔ دیھیں آدم علیہ السلا مکوپشی رکرو موٹتف کے .شی علیہ السلا مکو 
خی کر کے ۔ اللہ تھا کی حلمتکاملہ شی لہ اغیباپ کے اکر حضرت می علیہ 
اسلا مگوروں القد مس نی پی اکر سنا ہے اور باوج درو القد ہونے نے رز 
بھی دواس کے بنرنے اودر سو کہا کے ہی لے حمہ مکی جا کووالد ماج کے 
دجو نے دادما دہ کے اع اک مین نوز نل فریاکر رو ای کی ط رج ٹورائ کا 
مہور فر ا سے جو ایں کا بندواور رسو لگا سکتا سے تو حضرت مجر رسول الد 
کاو ساطت ماں باپ کے فور بیدا فیا ىہ اس مجبدد لی خلاقی امنلیم اور 
خلاق العلی مکی فرتکانشان ہے ۔ جس سےکوئی ومن ملمان الکاز خی ںکر 


وجودفوری انسان یلاس : آ نکی تقیقت ور ہے۔ اور اللہ تالی نے اس 
با تک دکھانے کے ل ےکہ توری وچودانمالی مباس میں 1 سکما ہے او وور سول 
کہلااے۔ سور وم رم ھی اللہ تا یکہتا ےفارسلنا البھا روحنا قتمثلی لھا 
بشرا سویا حخرت چی مل علیہ للا مکو لی مر یم کے پا بھی الک لعمل 
شی صو زان بیع جن لاک خضرت خرن ےکبائی تھے رح نکی ناو 
اکن ہوں اکر تھے خداکاؤز ہے پھ رر /ولےقال انما انا رسول ربک ٹل 


35 


شر ےر بکارسول ( پیا ہو1)ہہوں۔ حضرت جج ر می الام 1 کے 
در ہار مین تھی ۔اضانیٰشل میں آئۓے۔دوف شتے پاروت او داروت گیا امم 
بڑ کرانمانی شل میں زین بآ تھ۔ 
کوئی مقام تبرت نئیں: 8 زندرپ ہاو تق سے معلوم ہوک اللہ تال رز 
پر فدرت رکتاےاوزدہ ال ہے۔ چنا نی جس علر چان ے پی اکر دے 
ایک تہ ال تھالی نے فرایا وف ضا زی نے کی کو 
بخبدھو کی آک سے پیر اکیاکن وا عی ری رات نشی دم ای کے مم 
ےکی تھے مین نوز رک یا چا کان کے در مان کے اس میں نوز بھی 
جاور مٹ یکا پا وا ہے ۔ قامت کے دنع معن مردوں اور مو من ور تژں 
کے داے او رآ گے سے فور کے گا۔ ھا لالہ مہ می کے پچ ہیں -لاسور ایدید 
نوز سم چشککی ور یشعاخیی 
پیائی مارک سے فو رکا جپور:۔ حطرت عائقہ صد رق ر شی الڈر 
عنا سے رویغ سے فر ملاس یھی سو ت کات رج ھی او رن کر مم پا تا 
کیارے سے اور آپ پلک اھا صبارک پپیینہ دے7 پا تھااور پیننہ مارک ے 
نوز اہر ہو تھا ںو مس ران د گی اور ن یکر یم مکی طرف دیکھا ت1 آ 
نے فربااکیابات سے عائشہ(ر شی اللدعنہا)۔ ران ہے: میں نے عر 
بط ر(چكان.‌ب ,ےنوت ےیدرک لن 
کرد پاہے۔اگمر ا وججر پر یآ پکودکچھ لے نوا سے بھی معلوم ہو جاے۔(اک ری 
ك۲۱ء) 
بخلوں سے ظہورفور:۔ ابو مو کیا اشمری نے فرمایاکہ می اکرم لگ نے دعا 
فرمائی اور اپے دووں دست مارک اٹھاے اور ں نے آپ عفلّه کے دونوں 
لو ںکی سفیری دکھی کی ری ا کے رر سس 
دمل ہے۔(بغاری ٹریف) 


کت لی ات ناوت جم سو جج دی ھا عو جو شا 


خی 


ران رکا فور مبارک:۔ عبدالر جن می نکحب فرماتے میں یش ن ےکعب بین 
الک سے بات یں جب مس نے ممعئ یت رسلا مع رت کی ۔ بک 
کار انور پچگتا تھا اور جب آپ مل خوشی ہوتے فو آپ کا رہ ممااک 
منورہو جا الاپ سرت ۰۲۳ 

سان دکاد وککڑ ڑے ہویا: ای 'غیداقومگن سحود سے دوایت ہے فریایا کر نے 


کے سا تھھ خے اد و گڑے موکیا 1پ نے 
ا ہ9۔(فار یر لف) 
دانوں سے مور مبارکی:۔ عفرت این عبال سے ردایت سے کی ارک 
ام ذراتے ز آپ تک کے نے کے دوفو دانں میرک سے فور 
تا کائی رج ھا( خی زیت 
ا شی فدری شم صبلرک سے مس ہوکیگٹڑی میں بھی روشنی و 
عفر ت الس رت لخد سے روآیت ےک امد بن حر اور عاد بن بی نکمم 
ےد ات زا کو کہ ان دی ا خی قد رووں کی کے کون میں 
لاھیاں میں اور آ اجک کے اتھ ےن ہے سے ایک ال گی رشن ب گا 
تما کہ دوائ نکی دو شش نیورپ ایک موڈ پردوسررے تے دو کیبل رف جانا 
تاذ ا کی لا ش یکواس دہ شن لا شی سے سکیا نذدہ تحار وشن ہوگئی۔ 


37 


نو رکا سا ور ے 
یساب رسکی اعاد یث ما رکہ 


(١)۔ ‏ قال عثنان رضی اللہ تعالی عده ان الله ما ادقع ظلك علی 
الارض لثلا یضنع انسات قدمة علی ذالك الظل ہ 
لین ارآ عو ذو الین ہظ ر) 
ترجہ ۔ امیر اکمومتن ان ذکی الو رین ار صی اللہ تنالی عد نے جضور ازس 
صلی اللہ حليہ وعلی آللہ وسنلم سے رخ کی بے شک الہ تھاکی نے مضور 
صلی الله عليه وعلیٰ آله وسلمکا ضما اشن رت لئ کوئی تن ا 
پاوںظہ رھد ۔ 
(۲)۔ عن ابن عباس رضی الله عنم لم یکن للنبی صلی الله علیه 
راغ ما الو ربخ الم تن ا9 قب سرہ :الع 
ولمیقم مم الشز اج ئط الا غلب ضوئہ ضوئه السراج 
نتر قایصض۰ ۲۲ جلر ٣‏ مم پا ۴۲۳۸۰۷۰) 
ترجہ ۔ حر ت ان طپاکیا ری اللہ عنہ سے ددایت ہ ےک پیارے ب یکم 
صلی الله عليه وٴعلی آله وسلمکا از ا پا مولع کے سے 
کھڑے ہوتے و آ کا نوز مور کے تیر ان نود بن بھی جا کے 
سان تش ریب فرماہ تے و آآپ کا فور جا کے نوز غالت آجاح۔ 
(۳) _ عن ذکوان ان رسؤل الله صلی الله علیہ وسلم لم یکن لە 
ظل فی شمس ولا قمر۔ 
تر :نہ ححطزت زکوان ری الشدعشہ سے زذایت ہ ےک ہیک تا جدار مھ یل 
صلی اللہ عليہ وعلی آلہ وسلمکا ساط سو رع شس ہو تا تھااوز نہ چانر ٹل 


ا لاب ہہ ٦.‏ جیا 


0ھ 6 


(ینی جب سور جاور چا رہش و ل) 2 
( یئ 1ککبری س ۱۸ ام جلال الین سن ٹی) 
علما کم را مکی عبارات 


()۔ ‏ لان ظل شخصەه الشریف کان لا نظھر فی شمس ولا قبر لئلا 
یوطاء بالا قدام: (جرة علیہ ریف ت ر٢‏ ز) 
تھ یم :۔ بے شک تاجدارم ین صلى الله عليه وعلی آله وسلم کے وجود 
پا ککاسمایہ نہ سور جیا1 وپ میں نہ پان دا پا نیج نار جات کہ اک پہ 
کاک ھت 
(۲٢()۔‏ ومن دلائل نبوته صلی الله عليه وسلم ما ذکرہ ابن سبع لا 
ظل شخصۂ فی شمس ولا قمر لا نە صلی الل ئحلیہ وسلم 
کان نورا۔ 
تج :اور آپ کی نبوت نے د لاک یس سے سے چک ہآپ کے وجود 
پا ککا ممایہ نہ تماد موپ می ادن پان دی چا نی بی کی وک آپ فور یں اور ہر 
ند رکاسای یں ہو تاد 
(خفاء تر یف ص )٢۷٢۲۸۳۲‏ 
(۳)-_ ازخصوصیا: تیکە آنحضرت صلی الله عليه وسلم رابدن 
متا رکش دادہ ہوٴدآں بود که سایہ ایشإن برژھین نمی افتاد. 
ترجہ :۔ تضور صلی اللہ عليہ وعلی آلہ وسلم کے الس ٹیں سے ایک ' 
خاضییت یہ جیا ہ ےکی آپ کے برع ش لیف کاسا یز شن پرنہ پٹ تا تھا 
اظی عزی :کی شاہ عید التب محر ت دبا ی) 
(٢)۔_‏ ” اورصلی الله عليه وسلم عاے نخودورعالم غہارت سایه ھر 
شخص از شخص لطیف تر است چوں لطیف تر ازوے در 


39 


عالم نبا شد اور اسایه چە صورت دارد“ 

سار دوعال ٹور مم صلی الله عليه وعلی آلە وسلم کا سای تھایگہ ہر 
کا ماب ای کے وجود سے زیادہ لطیف ہو جاہے اور ج بکہ حضور صلی الشر 

علیہ دیلی آلہ و سلم کے وجودشریف سےکوگی نز دخیائیش زیادواطیف نئیں تو پھر 
آپ کے حسم اطم اس کی ہوم۔ 
(رٹر سو م توب ٥٭ا‏ مپددالف بالیس سر 6 
: (۵)۔ تق حفرت مہ عبرالنن میرت دبادی رحتہ اللہ تھالے بدارخ 

نویس فرماتۓ ہیں۔ 

” ونمی افتاد آنحضرت راسایه برزمین کە محل کثافت و 
نجاست است “ 
نی تضور علیہ السلامحمکاسمایہ زین بہ نٹٹیں بڑجا خھااں سل کہ دہ خجاصت و 
کا کے“ 

9 اقرو نہر 

مولویی رشیداض صاح گنو یکا نی 

”ات غابت اس تک آمضرت صلی الله عليه وعلی آله وسلم 
سا نراشعر“ 
تہ :۔ جواتثابت ‏ ےکآ حضرت صل اللہ علیہ د می آلہ سم کا سای ن تھا 
(رادا سوک ص1۸۵ رنامہ دراوم دن ات۵۸ ۵۰ 
مھت دای بن کافنگی 

فلس سبرکی ص۷۸ جا می حافط دی نے مسق اک باب 
پاندعا ےکہ 





40 


٠‏ آتضرتصلى الله عليه وعلی آلە وسلمکاءاىن 7 تھا ین پ 
: اور آپ کے مم اطہز ککاسماب نہ تن 

پر عبارت کا بکایگ شی دن ے جو اتد لال کے ل ےکا ددائی سے_ 

اخرج الحکیم الترمذی عن زکوان ا رسول الله صلی الله 
عليه وسلم لم یکن یری لە ظل فی شمس ولا قمر تنال ابن سبع من 
7 خصائصہ ان ظله کان لا یقع علی الارض وائە کان نورا اذ کان اذا 

سٹی فی الشمس اوالقمر لا ینظر لە ظل قال بعضھم ویشھدله حدیث 
قولہ صلی الله علیہ وسلم فی دعائہ واجعلبی نورا انتھی بلفظہ 
ا یی عام تر مکی نے جقزت زکوان سے روای ٹکیا بے نف رسول 
. ا صلی اللۂ علیہ وعلی آلہ وسلہکاماىے نظ رآ تھا زوپ شش د پاندلّ 
مین این نی نے ف ربا تقوز اصلیٰ الله علیة وعلیٰ آله وسیلم: کے َال 
سے ےک آ پکا ساب زان پر نہ پڑتا تھا۔ آپ اور ت اور جب دو پ جل یا 
جا ند ٹس لے 2 آپ کاسماىہ رنہ جا ہت علاءنے فرمایا ۔ ا کی شاہر ہے 
ووعد یٹ تضورصلی الله عليه وعلی آلہ وسلم نے ای دعاشش فرااکہ 

اے الد بے و کر رےں؛ 

ادر ای سے غابی تن ےکہ آ فحضرت صلی الله عليه وعلی آله 
وسلم کاسام نہ تھااور ای کے ہم موقر ہیں- 

الد تالام 
سد ہد ی ۱ف مفتی دار الوم دیو بندے ے٣‏ اے ٣ع‏ دی ۸۔۳۹۸۷ 
اواب ڑ 
مم گیل ال ر من غمفرلہ جب مفتی دا الوم دوبند 
(ماہتامہ 0 داوبند گھوے) 


41 


رسول ٹر کی ہو جا سے 

بثریت “صلی الله عليه وعلی آله وسلم 

شر کے معن انمان(6109٥5‏ 7 کے ہیں ام کے سا تھ 
ما تج ھکھالی کے ماش بجی آیاہے دواس لکیہ انسان کے خوائی میں ىے سے 
کہ ا نی اکھال ہت ے۔ 
اخمیاء پش رکیل اس بیں :اللہ تی نے قرآن پک م شکہا۔ جم نے تم سے 
پیل جن بھی رسول بے دو سب ممردعی تھے جنیں ہم وت یکرت ادرووسب شر 
کے مان تھ ۔وما ارسلنا من قبلك الا رجالا نوحی الیھم من اھل 
امفری (۰۹ا/۲الوسف) چنانچہ ی بات دح ہو یکہ انمانو ںکی طرف آۓ 
والانی بھی انسانی شکل مس ہی ہونا جایے۔ ودنہ وو لصف ذالے اسان اے قول 
کی ری 
اکر فرش کو بیکرت ؟:. الہ تال نے فرااکہ گرم نر ےکوی یکر 
یذ بھی اسے مردی بناے۔ و لو جعلنہ ملکا لجعلدہ رجلا وللیسنا 
علیھم ما بلبسون(۱/۹االعراف ؟گویاکہ ہہ ایک اصول قذرت تھبرا ےک 
جے بھی بی ہناکرانسافو لکی طرف یہنا ہے چاہے دو ف رشن یکیوں نہ ہواے 
گی مردی ہناناے۔ اگ فو رک بی تفر مر علیہ السلا مکی طرف حضرت 
چب یی علیہ الام بھی انسالی شکل میں گے تے۔فارسلنا الیھا روحنا فتمٹل 
۳ بشضرسویا(۱۹۱) یی ج ری علیہ السلا مہمل بش کی صورت می تےکوئی 
دیے کے بعد یہ سو نہ سنا تھا کہ ىہ یش ر نہیں_ 
یکو ہش رصرف اللر تالی جیکہہ سنا ہے نہک ہکوئی اور اللہ 


42 
تال یکی لو قبات میں سب سے زیاد داش رف عطرت مان ےئ و کا 
ال تعالیٰ نے جو ہک رن ےکی وج لپ چھتے ہو اش سکو ای تھاک ہکس ہن نے 
تھے مب ءکرنے سے نم حکیااسے جے میں نے اپ ہاتھوں سے بنیا(لما خلقت 
بیدی )اب چک الد تھالی خالقی ے۔ امیا کرام ان ںکاء ہاگرد وجھ اس دیا 
آمرے لے مجوت ورعاات سے آوازڑے گے تد اس گُۓ اللہ تعالیٰ 
این ہش ریہ سکیا لن صلی دلیل بی ہےکہ ےکلہ یہ عام اشرتوں ے 
فضیات رکھت تھے ا لے عام انان ا نکداپے جیبایشر کے ۔اگر عام انان 
اپن ن یکواپے جھمایا پیش بش رسک یر رایت ض پگ ےگا اک نفیال 
یتم فان کے ئن یں خحیطالن ہہ بات ڈالی د ےگ اکہ ىہ ھی 
تہارے ججیماتی شر ےا لئ ہیں یرایت دےگابگ ہے افقل 


ہ۔ چنائچہ شیطان اس طر نے سے اس انسا نکو شیا دکرےگااو ربچ رجینم میں 


ساتھ نے جاگا۔ 
کلت : _. ق رن عیم یی جب الد تھالی نے مارےآ ا صلیااللہ علیہ دی آلہ دس”لم 
سے ف راک آپ فریادییکہ می ل(خا رک ور پر) تہاری علر سانش ر ہوںی۔ گر 
ور آے نی( یوحی )می رکی رف وت ہدک سے مڑنی کش ا را 
سے بار اہ ہو ۔ا ہیا قیادالی بات سے اتی شل ہو ن ےکی تردید ہوگی-۔ 

نے ا کفارکہ کے لئ تیج کہ خہایت یکم خعتل تا نکا 
یوا رن کے ا دز اک نکی ترفن 
جوا بکمری اکر الف رض برائۓ بت مہ با تھی جال کہ ”مرک عقیقت وو رب 
مرش ریت ٹس می تمہاری رب پش ہو ں “نل ر رکفارکہ نے اوزا جاور 
کوئی بات ضنے کے لے تیارنہ ہوتے۔بکمہ دہ ٹوا بات پر تیران تے او رکتے۔ یہ 
کیسار سو ے جکھاتا پتا ہے اور بازاروں یس چتائچ رجا ہے۔(الفر قان) 


43 

اکراللہ تعالی ‏ یکوا تہ آپ فرمادی کہ تم بھی می بی رح ہو( 
کہ خی ) تو شاب دکوئی شک دالی بات شیا لۓ آپصلی الله عليه وعلی 
آلہ وسل م کابہ فراناکہ ٹش ظاہرو وغل تخہاری طر بشر ہوں۔ ایک الک 
بات ہے صے "کن کے لے اصیر تکی ضرورت سے چوک مصطفی صلی الله 
عليه وعلی آلہ و سلم گی ماق اپناکر لے گان کہ آپ صلی الله عليه 
وعلیٰ آله وسلمی ذات ار 'صفاث “ الا “الات 'ہ جال اور 
مجحزات می ںکلنہ رٹ یکر کے کعلتہ یٹ یکر کے ابماان ردیاد ہو جا ار جن میا 
ترک سا نان طلبقہ نل اور یآ را مگاو بن جا ۓگا- 

. خر فاءاور ف ران ''قل انما انا بشنر مٹلکم“ 

ا مین کرام:۔الظا کای فا کہ آپ فماد کہ می بھی تہاری طرح 
شررتی ہول اس قول بی بھی ایک زاڑہے۔ وواس ل کہ آپ یش اپ 
یناؤی :و دکفا کت ہی تھے_ لین زسو لک مم نل اور ہیں ( ہے الل تھی 


بی جا تنا ان ظظاہ ری نشرہیں۔ 
تا 
ای 
پر ےد 
فو 21 ئ 
سہئ ےی 
وت یہ 
ارک ا 
ھ۲ ہں۔ 





75 
خیطان لین نے سب سے پیل نی آدم علیہ العلا مکوہٹر 
کہا 


شیطالن معز نے جٹ سیون ہکیااور رانید ود رگاوالچی ہو اتال تعالی کے 
و چپ بر بج اس ہے داب درپے الن بل لیک وج حجد و نکر ن ےکا بے ھا کہ 
میرک و شان بی نی کہ پش کو بد ہکراوں:(قال لم اکن لا سجد لیشر 
(۱۵/۳۳)ا ورای دج سے خحییطان نے اپقی مارکا عبادا تکو پربادک لیا گکڑیں 
سے یگ راہا۔ چ کیہ اس نے پلے ال تال نے اسم کرام سے کہا تھاکہ یل 
کزان جا ون پیک سے رای ار ےا یں 
ربك للملئکٰة انی حخالق بشرا من صلصال من حمامسنون (۵/۲۸) 
اباب نام ”اش الد تقالیائنے لاکہہدیا۔وہکیہ سا ےکی وک وہ تخلقے۔ 
نال تعالی کے علاوو(ڑھام انسان )ا نکوا سے نام سے پچار یں سکتے۔ 
کی امتوں کےکفار نے اپنے انا السلا مکوئش رکہا:۔ ت رآن 
تیم میں با بار لف قومو اک آیاے اور جنبوں نے اپنے انی ءکی نہوت کو 
صرف اس گے ہٹلاپاکہ د بھی انال یبا می ت چند لی وا ہیں 
ااف۔ ان انعم الاہشرھغلغا ۱۳/۱١(‏ ابرائیم)بو نے تم بی جیے بش رہو۔ 
ب۔ ہل ہذا الابشر ملک"( ۳۷۳) کون ہیں ایک تم ىی یس آری- 
50 علیہ السلا مک پش سکیل والاکافر ہے :۔ ال تال نے ق رن پا 
اپنےانمیاءکرا مکی فو مین وستفی سکر نے وان لوگوں کے غلاف اپنافیملہ صادر 
کر دیا ہے۔ چکمہ انمیا گرا مکواپے جیما یش رکہنادراصل سکینے والے کے ححت 
الشحور می ن یکر تم صلی اللہ علیہ وعلی آللہ وسل مکی لن کرت متضورہوت 


45 
ہے۔ ای لئے دوہ افش رکہناہبے۔ چنانچ اللہ تعالیانے قربا_ فقالوابشر 
یھدوننا فکفرَوا (/ ۹۴ الیفا جن ) و پیک ےکیااب شر ہار زرجنما یکر یی : 
گے۔ لوکاف ہوئے۔ چنا معلوم ہوا ہم یکو پٹ ر کسی صورین میس بھی 
کپنا این دد نان بدباد ہو جا ۓگاد رکف مقر بن جا ےگا 
فرمان نی کی مز بروشاحت 
2 ئن یم یل الل تھالی اپنے عیب اوز 6کادے آقاصلی الله علیہ 
وعلیٰ آلہ وسلم سے مفاطب ہاور فرااز 
قل انما انا بشر مثلکم یوحی الی انما الھکم اله واحذ(+/)/۸٣ہ)‏ 
رت ا رای ا یاصورت مین لویل تم جیما ہوں۔ ےی آئی 
جب ےکہ نھھنازا مو ذائیکآ ای مور جا نآ یس غو زاب چند با ہیں۔ 
(الف)۔ الل دن کہاگ آپ ہنیس لی (ل) ‏ ز کا ہرکی ور پر میں تم 
ییمایٹ ر ہو سے خی ن کہا تم میڑے ہے ہز 
(ب)۔ آپ صلی اللہ غليه وغلی آلٴوسلم نے کفارگہ کے اعڑاضات 
کے جواب میں ا کو چھانے کے لئے یہ فرنایاکیہ بین لاہ ری لان 
تمہار یع رش ہوں۔(اکر چہ بش ریت لف ہے )پر سا بی 
فربااکہ بش ۔(ت تا لیے آپ صلی اللہ علیہ وعلی 
آله وسلم کے وا دی امت یی نک کیہ کی ادر نآ گی 
اک نے فلکم مقار ہوا انی نک زی 3ے 
(ٹ)۔گر رآ نکی یس اللہ تھا یہ فراتاک ہآ پکہو (قل ) بھی می ری 
رہ زی اف ہن بی تی ھی شک پیداہد سک تھاکہ ہم ا 
بھیا نکی یسے یں (نو با ا 
(ج)۔ آترئ بات کہ آپصلى اللہ علیہ وعلی آلە وسلم نے 7اض 


سط : 


اور عاتزکی کا تی دیے کے ےکہ امت اس سشت برع لکرے جاک جو 
لوگ آ پوس میں اکسا رب یکا اظھا کرت ہے کے ہی ںکہ می راخریب خانہ حاضر 
کت وا رو نممسرے ووحاضر ہے : 
مغلکم کے لف کی غا تی 
منلکم کے افظ س ےکی خلط ٹھی میں جن نیس بنا اکر اللہ تعالی 
نے اپچے عیب اور بمارے آ قاصلى الله عليه وعلی آله وسلم کو فرایاکہ 
آپ ےکر دییں۔ ق رآ نمیم یش فواور نیف تہوں رلک کااسقعال ہواے- 
اف وما من دابة فی الارض ولا طآئر یطیر ریجناحیہ الا امم امٹالکم 
(۹۸۳۸) اور شی ںکوئی زین می سے والا اور ن ہکوگی پر خہکیہ اپے 
بروں پراڑحا گر کیا ہیر 
ب۔ بخارکاشریف مل ے_ خلق الله ادم علٰ صورتہٴ الله تعالی نے 
آد مکوپیزا کیااٹی صورت پ4- اب بہاںی تق بہت بڑکی با تکہہدگا- 
یک ہآ و مکی صورت ال تی شی ے۔ 
میک کی تث رج کی عفی یل :. قرآن داعاد یٹ کے ساتھ ساجد خی 
دا ید ینا بھی بہت ضردزی ہو ناس ےکی وک شر یعت عتل کے مین مطانی ے۔ 
اگ رکوئی شر می عم عفل کے خلاف ہو فور قیامت کے دن سا بکاب لی کا 
کوئی جواز نہیں یا اگ ہیں ا رخلاف ععتل نظ کے وو ہماری عق لا نقس 
ہوگا۔ 
مال انان کےگھریش وی ہوتی ہے۔ “یرہ ہو لی ہے۔ یٹیاں ہل 
ہیں۔ سب ڈر ٹن ہیں اع کے ہا تح چائؤں سر منہ وغیرہ تام اخضایک جیسے ہیں 
لین اکرتح ید یک وکووکہ فو می کی بٹی ما ںکی مل سے فوساشھ روزے متوات دکھویا 
اھ مایا یک رکھانا ھا _ اس سز اکے بعد بب وی کے قریب جا کت ہوورنہ 


47 


ھیں۔ ک کہ کہ می ری ماں بای بد کی شی ہے یمان جا تا ہے جب کک 
نکرے بے ایند ”تاب ___ دی ھاگھ می اس مکی مال اکر قا مکرو کے 
تذایمان جاتا ےہر ر مصطفی صلی الله عليه وعلی آله وسل مکی ذات 
اف رسس یں ا مر کی ای سےےککرنے سے ایا نکیسے باقی دہ سکتا ہے ۔ بات 
کئی۔ 

بے کل شر یت محطف صلی الله عليه وعلی آله 


وسلم 
کون ہے می ریا یذ ہے فربان صلی الله علیہ وعلی آلە وسلم 
ا ماب کرام نے دیھاکہ قاصلى الله علیہ وعلی آله وسلمو لی 
رودزے کور ہے ہیں لوا ہوں نے گیا رسک مرو ]کرد یئے۔ ا کا 
اٹہ بداکہ ض فکاوجہ سےگر نے گے آ:8اصلی الله علیہ وعلی 
آلہ وسلم کے دریاف تکرنے پر جب بہ تااگیاکہ بی لاگ گی آپ 
راو سماروزے رک ر ہے ہیں تی رآپ صلی الله عليه وعلی 
آله وسلم تن ےکہا ۔ایکم مغلی تم م سصکون ہے می ری ہشتل۔ بر١‏ 
رب بج ےکا تاہے۔ بج پلاجاے۔ 
ردلیات۔ اس مر راک بہت کاددایات ہیں آپ صلی الله عليه وعلی 
آلہ وسلم نےپاقدفد فرایلست کاحد منکم۔ یں تم می اک یکی نل نہیں 
ہوں۔پا لف مو قول پ> فرپپاانی لست کھیتکم اور انی لست مثلکم 
اود صحاب ہکرام چھکمہ کے مو من اور عق تھے اس لے آرہاتے قالو انا لسن 
کھیئاتك یارسول الله صلی الله عليه وعلی آله ومُلم 
فا او ا ا سن کت الک نت کی 


٭٠٭:8‎ 


ول آپ اود عوقو نکی رع نیش ہو مج کہ آ پکام رجہ سب 
سے ذیادہ ہے اور آپکااجھ سب سے بڑ ھکر ۔ جہا ںیا عور قوں مل 
آ پکاکوئی ہنس یں ۔ چچوککہ ب یکر صلی الله عليه:وعلی آله 
وسل مکی ذات ادس ٹدرے تمام لوق سے ؟ہترین میم تبن ہیں 
ای نٹ ے آپ صلی الله عليه وعلی آله وسلم ک تویاں 
بھی ام گور ون سے بیشن ہیں اور تمام اص تک میں ہیں۔ 

(روعا ی) 


الشد تعالی سے بے تاب کلام آپ صلی الله عليه وعلی آله 
وسلم کے علادہکؤ نکر گیا ے :٢‏ 
ال تی نے اپے ٹج رو ںکو جن طول سے پنامات جیج- 


(الف)۔ ایک طریقہ تفر شتد کے ذرییہ ے۔(ج رہل علیہ السلام) 
(ب)۔ دکرا طریڈ تاب کے وریے جنیر قال اؤر 17 کے در مان اب 


(اکر چہ فرشن خیں )بی موی علیہ السلام سس ےکووطور پر تاب سے بات 
یت ۔ 


(ت)۔ تسا طریقہ سے بفیرفرشناۃراقرججاب۔ ید الام اورالقا 
ہے ۔ اک آیت کے لفظ (فجیا) کے مطااتیق ہے فران الھی ہے ۔ : 


وماکان لبشر ان یکلمہ الله الا وحیا او من واری خجاب 
اویرسل زسولا فیزخی باذنه ما یشاء انه علی حکھماو ری 
آد یکو ٹنیس پچاکہ اللد اس سے کلام فرہائۓے گر وگی کے طور پریا 
یوک وویٹر پردہ معظمت کے ادھر ہو۔ پاکوئی فرشن بی کہ دہ ای 
کے عم سے دوج یکرے ج دہ اس پیلک دہ بلند کی و کٹ دالا ے۔ 
چنا نہ اصول ق یٹ ر کے لے ہیں مجن عام انمیاہ کے لے لان ہوارے 
آ8 صلی الله عليه وعلی آلہ وسلم نے آنے سائۓ بات چچیت 
کی 'دیدا کیا گیا اہ دونوںل2( حب اور جیب) کے علادہکوئی تسرنہ 
تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وعلی آللہ وسلم فور جم ٹس یں 
اپن سرمبار 0ئ اھوں سے اللہ تال یدید کر ہے تھے اور بات 
یت گھ یکر رہ تھے ۔کوی اور اییاہش رق غین ےہ سعادت و۔ 
ہے نابے شل بٹر۔ہے آپ صلی الله عليه وعلی آله وسلم گا 
ورانیتکرئلے۔ 





یم یما کیں۔ یں 

کے؟ آٹ صلی اللہ علیة وعلق آله وسلم گی خیقّت ٹور ے اور 
شر بیت یس بش ہیں لکن ہم یی بش ر خہیںرکیوں 
رسے) سحابی:۔ جمارال مان ے آپ صلی الله عليه وعلی آله وسلم کا 
سایہنہ تھاپر ہم یی ے کے ہہوۓ؟ 
9823 دککا:۔ کم لق پچ دکھ یں کت آپ صلی الله عليه وعلی آله 
دساہمنے رای یھ ٹس آ گے دیکتاوں وییے ىی کے یکنا ہوں پھر ہم یے 
کنقانر یم 

(ت)۔ از ہم تو بہرے بھی بہوتے ٹیل آپ صلی الله عليه وعلی آلہ 
وسلم نے فرایا۔ یس اس وت بھی اقلام نف ےکی آوازیں منتا تھا جالائ کک 
مال کے پیٹ تاپ رہم یی کسے ہدے 7 
تے)۔ پاتھ:۔ جار پتھ مم ولیٹیں آپ صلی اللہ علیہ وعلی آلد 
' وسلم کا تھ ال تا یکا تھ ہے پل رہم می ےکسے ہو ؟ 
می ا لی یھ کی دک کت آپ صلی الله علي وعلی آله 
وسلم ودک کانحات ارسے یت بے ا لی شک یکوپلر ہم ی ےکسے ہو ؟ 
یضر ہمارے ینہ سے بد آی ے آپِ‌صلی الله عليه وعلی آلە وسلم 
کاپینظر سے زیادوخو شودا بر ہم جی ےکسے ہہوۓ ؟ 
لاب د ئن :۔ ہمارے منہ سے لہ لی ے آپ صلی الله عليه وعلی آلہ 
دسلم کا اعابد کن شفا رک تکاباعث پل رہم یی ےکسے ہوۓ ؟ 
ہار ام م کے آپ صلی اللەعلیہ وعلی آلە وسلم فور حم 
یگ رہم جیے کے ہد ؟ 
ری ار گا آ دی کے لے رت نہیں مجن آپ صلی الله عليه 


61 


آل وسل مک آ ام کا نات کے لئ رححت پگ رہم جی ےکیسے ہو ئے ؟ 
اح ہم سی چک اھ ای کول فرقی نیس تا آپ صلی الله علیه 
وعلی آلہ وسلم کے اتھ سے جو زم ہو جائے اسے لگ نمی چو تی پھر 
ہم یی ےکسے ہے ؟ 
بای مپارک:۔ ہوارے بال تام نال یک دا آپ صلی الله عليه 
وعلی آلہ وسلم کے پا مبارک لوگ ترک کے طور پر رکھتے ہیں گ6 
یے سے ہو ے ؟( لد بن ولید پیٹ پی شی بای مارک رک ھکر جگوں مش لڑ١‏ 
کرت چھ) 
اطم مبارک جفارے ناشن نالی شس میک د ئے جاتے ہیں آپ صلی الله 
عليه وعلی آله وسلم کے ناشن صحاب ہکرام نے برک بک تد 
ہم جی ےد سے ہو ؟ 
جب مارک :۔مارے پروں سے لے آپ پ صلی الله علیہ 
وعلی آله وسلم کاجیہ ارک تھے وڑھاداو رکش دی 
رہم جی ےکسے ہے ؟ 
فضائٹی و شھو.۔ ہمارا سگز رک یکلی با بازار سے و جیا ۓ ‏ کوئی خوشبوو نرہ : 
نہیں آئی لین رسو لکر یم گر ج سکی سے ہو جا تھا تو بعد مس خوشبو 
لیر ہق تی ادد حا ہکرام جا جاتے تےکہ یہاں سے محبوب جچگکاگزر 
ہواے۔ 
قم مارک جمار اقم دذ تن ف ٹکافاصلہ ٹ ےکر نا ہے لان آپ پک کا 
دم میارک و دواد قدم عرش بر دبے۔ 
(او کیا کیاپتاؤں ...پچ ر” ہم یسے “کس ہو گے مولو یی ) 





ایر ءل 


سو کر لال علیہ آلہ و سلمپایک نام مبارکائی ے۔ 


٠ 
مک‎ 


نڑےبڑے ھ٭عیان عم اسے مھ می شھ دک ھا ہیں 
ائی کے لفطدکی ت لی تق رجئ! 
ج فور مک اگیزخللی مدان مفبروں نے ابی کے لف کی تج 


کہ اھان سے راد ان پڑھھ عرب “اور ال الئی سے عراد“ان پڑھ 


ا رسولی۔ ''شر ماک ہے اذر خی کی بہت گل کی ر وشن دیل ہے قرآن 
.مم حسفاذ یک آیات اع اص اتوید یں۔ 


ک 


سا 
ےم عو یا 


"0 


غوالدیٰ بغث فی الامین رسولاً منھم یتلواعلیھم آبتد 
ویزکیھم ویغلمھم الکتب والحکمة ؤان کانو من قبل لفی 
ضلل مہین: (۲۲/۱)۔ اررسول نان پٹ “تھا 2وس ار 
خداکی آیات پڑھتا(یطلوا) تا اور کس طرع ان کو التب کا 
علم دنا لیعلمھم) تھا۔ اس آیت سے آر حابت ےک رعزل 
بڑا ڑھا ہوا اور ڑا عالم تھا 

امیوںکالفظ قرآن میں الل تاب )یوار ی) ے یز 
مرن ے کان آیا ے متفا ی دہ عر بن لوگ یا جن پان سے 
پل کوک تاب نہ اترک تھی۔ جیا کہ وَق لن نو کی 
الین اعللف ون لئ شیشئر(۶/م "ین 
انے ما ان لوگوں سے جہن ہیں (اس سے پیل ) اکب دی گئی 
تی زان آتیوں سے (چنھیں کوئی کاب اس سے پیل تی 
نہ گی ی) پچوکہ کیا جم سور بھی گگ جھ فرآن تم > 


)۳( 


غیری طرف سے آیا سے اس پ) مان لے آۓ ہو۔ ٴ 


کی ہا کیہ دیی تق بے کک ہرایت ہاگ۔ یا صاف 


ور یر الل تاب کے عنال مم امیین کا لفظ آیا ے اور 
مققیر روثوں گروہوں کو ہرایت گا طرف ہاتا ہے کنا ال 
تاب بھی ان کے پا اکتب ہونے کے پاوجودمراہ ہو گے ' 
تھ۔ عورہ آل عمرا نکی ہی وگی بش کون ا 


بیدازل ہوئی تھی۔ 1 
سورالقرہ لئ ا ل تاب 2 ا 


ومنھم امیون لایعلمون الکتب الاامائی وان ھم الایظنون: 
(۲/۱۹) گی ان بودونصاری مل ے (نن کو تاب دی 
تھی اور ود اس تکتاب کی تقعلیم بجول من) اہی لوگ می 
ہیں جھ امیوں (نی لی عرب کی رح جن پکائی تاب 
اتک بازل نہ ہوگی) کاب اعم نہیں رت (اور ای میں 
کورسے ہیں اود اکر چان گھی ہیں 9) سوا (اس کے کہ 
ان کی کتاب ان کی) آرزووں (اور خواہشات قمالیٰ کو پرا 
نل کہ 27 جانۓ) اور وہ عرف گمّانوں و نک 
رہیے) ہیں گویا کہا کہ ال کتاب ای رع کے انا تاب 
سے نے نی یں ہین وا یں قرب خرن کے 
ازل ہونے سے پل سے اور اسلئ ان کی حیثیت ال رب 
سے بڑی گر گی اع سی ایا سے داع ود جانا ےکک 
ای الابی سے راہ (تاب سے سے بجر٥‏ ال رب کا 
رعول تھا نہ کہ ان بڑھ رسول۔ بی یکو شرم آلی جاہے 


: کا ا 
:. کہ انہوں نے رئا کے سب سے بڑے صاخب" رول 
پریہ افزااندھا۔ کتاب خداکو قآن علیم میں چاہیا عم کہاگیا 
ے ر لیے لی رت تی کیا و سو لن ٢ے‏ 
سے پل یت سے بے ببرہ گجے۔ 
نا ای 
ً تمور مل وریہ لی ہز سلمکالکھنااوریڑ ای ہو نے کے پاوچرد 
: از حور و کیا دیل نہیں 
ا نا مہ عد ید : فان حرخہ کے مس داد کیل بن رون ےکہاہمارے اور ا 
پنےدد میان ای ککنا ب کور جج یا صلی الله عليه وعلی آله وسلم نے 
کات بکو ایا کات ححخرت لی ابین الی طااب ر شی اللہ تالی عز تے انہوع نے 
(صل مصلا ہککھااور کیل کے ول ا کی نف عم بن مسلمہ رضی اولہتعالی 
معن گان صلی الله علیہ وحلی آللہ وسلم نےکاتب سے فراہ بسم 
اللہ الرحمن الرحی مک و یلین ےکھاکہ رن اور رت مکوواللہ یس شہیں 
جانا ہو لک ہکیا الفاط ہیں لن آپ باسعک اللھم کن تی ےک آ پ کی 
کرتے تھ مسلمانوں ن ےکہاوالل ہم لوگ باسمٹ الیم نہیں کھھیں کے _ 
گر بسم اللہ الرحمن الوحیم یں گے ىی صلیٰ الله عليه وعلی آله 
وسلم نے کاتب سے فرایاباسمک اللهُمکھو پھر کپ نے فُرایا۔ هذا ما 
قاضی عليه محمد رسول الله ہےوہ ہے جس پ درو لالثزصلی الله 
علیہ وعلی آلہ وسلم نے تنعل سے عم دبا ہے کیل نےکہادال ار ہم 
لوک پان ہو کہ آپ رسول الد میں فو ہم آ پک یت الد سے نہیں 
رت اور ہ آپ ے بن فکزتے لین آپ مھ بن عبد اللککھے نی صلی الله 
۱ عليه وعلی آلە وسلم نے فرمایاؤ اللہ میں ظروززعول اش ہوں گر چ تم 





لوگوں نے می رک گل ی بک ہے گگر تہادی د گر یب می ری ر سال کی معز 
×× 
اور ار اور مکی ایک روایت میس ہے نیم٥‏ الد علیرو یر 
سم نے حفرت لا سے فرماکہ لفارسول اور ماد و حضرت گی ن ےکہایل وہ 
نیس ہوں جوا ںکو میادوں۔ 
پر رسول الد صلی الله علیہ وعلی آله وسلم نے رت می 
سے فرملپاکہ ‏ تک افطار سول او رکا ہو اہے دو لہج ھکودکھاؤ ترتع نے 
ا کی ہہ دکھائی آ حضرت صلی الله علیہ وعلی آللہ وسلم ےا لف کو 
ماد یااور لفن ابع الد ال سک پچ ہککھااور با یکی ردایت می سکتاب امغازی 
ٹس ےک رسول ال صلی الله عليه وعلی آله وسلمنے وہ تاب لے اور 
آپ لکھ نین سے تھے آپ نے ما هٰذا ما قاضی علیہ محمد بن 
عبدالله اور ایے کی ال عد م کی روا مت اور صی ہے اور اک عد بیٹ 
کاافنایے ےک تحضر ت صلی اللہ علیہ وعلی آلە وسلم ےکا لے 
ی حا ىہ تھاکہ آ پککھ نیں بت تھے آپ نے د سول ال دکی مکرذ اما قا شی علیہ 
شر بن عید ال کول 
ریش اکا ےکمہ الدالولید بای نے اس روایت کے تظاہر کے 
سماتھ و ور سی صلی الله عليه وعلی آله 
وسامنے اپ دست مبارک نے ال کے بح دک اکہ آپ نمی ںککیہ سک تھے 
اور ابی وجیلھ نے بے ذ کیاکی علاء سے ایک جراعت نے اىی کہ آگفزنے 
صلی الله علیه وعلی الہ وسلمنےاپے تج سے ککھاے ہا کی مواققت 
کی ہے ان ملاریم سے اتی کے ابر دا دداہوا ایشا ری اور دضرے 
علماءافریقہ ہی ںکمہا ےکہ رسول الد صیاللہ علیہ و یی آلہو صصلمنے وفات نہیں 
انان ت کک ہککھااذز پاھانواہ ن کہا ےک مر نے اکا شخب سے1 





از 0ا پا 
2 ک0 


کیاشجمانےکھا عون نے پک اس جن یں نے اس ٹس سے ساہے جوا سک 
نک زکرت تھااود قاشی عیاخ ن ےکماکہ بہت سے اخار لیے وارد ہے ہیں ہے 
د لال کرت ہی ںک آئتضرت صلی الله عليه وعلی آلە وسل مو7 وف 
خ کا مخزفت می وا خر و فک ای وت ھاے تھے یی کہ آپ نے 
اپنےکاتب سے فرباپاکہ انا عم اپنے دا کان مین رکھ اس سل ےک یادکک 
اس سےکٹزت ہو کی ہے اور آپ نے معادی سے فراا جع( عام ئن کے بعد اکٹ 
کنا تکرتے تھے )ال الد وا ]نی سیائی درس کرواس می لیر ڈالو تی سوف 
ڈااو و مرف الم اوت مکوٹی ھا دو(اسس ل کہ خرف عم ےکیھٹ میں زیادہ 
دی ہے اود دائی رف سے انیس طرف انی ہے اورد ہی طرف سےککھاچاا 
ہے )دا ٹم الیاءاود پاکو سید ھانکھو اہ نک وتھوڑاسا طول دوایں لے کہ پاالف اسم 
شر یں فی یی او ین کے دخ نے کیل یکو این ہیس نکی 
جا یلا تعور المیٔم اور مھ مکیادائز واخد انکر داود ال کے یم راورچیزوں کک 
کین یں آتےاتےکات بک میم را ے۔ 
حضرت امام نف صادق فر مات ہیں 
0۷ 
رص الد عتد فرماتے ہیں۔ 
یپاک صلی اللہ عليہ وعلی آلہ وسلم تاب سے پڑ ھت تے ارچ 
یت نہ تے ہہ آپ صلی اللہ عليہ وعلی آلہ وسلمکاسجزتھاکی وک ہآپ ائی تے 
اور آ پکو الد تالی نے پڑ ئن والا نایا تھا نچ آپ حفطظاور ینہ سے تھی بڑ ھت خی 
کک لف رآ پک لکمالات کے سر مہ تے یہا ں کت کہ آپ ن کاب اورخاور 
اس کے توانین اود قیام ج فنتیں اوران ج خنوں کے دقال نکو بھی جان لیا 
جواپ:۔ مارے آقاصلى الله عليه وعلی آلہ وسلمکالمٹااور پڑھنااور 
کاب وت یک ولگ نکی یمیا سے ضرب دلیٹیں صاحب کی علم یب کے وت 
یں۔ 


ٰ٘+چ 


انمیا ےک را مککھاہہوایڑھ لمت تھے 

اللہ تعالی نے اہن ائ ا ءکرا مکوعالم اروا بی لوم ے آوازا بنا 
جے جااعطاکردیااورر سو لکر یم صلیا ا علیہ دعلی لہ و سلم ج کہ ان کے حردار 
ہی ںک وی علو ممیاعائل بنازیا ق رن یم یس خو رکرریں فو می سک انجیاے کرام 
پڑھ سکتے تے۔ ا 
رت آوم علیہ السلام نے پڑھا(تقی رروئںالیان پ۱ ے۵٤)‏ ماے 
کہ جب آدم علیہ الام کے جم خی ان ڑ2 آپ نے ام ےک کونش کی" 
لن چ کہ جانا بھی ٹانگوں می نہ کی شیا لگ سے اور ا نکی سا سے 
سماقی عرش پر پپی۔ آدم علیہ السلام فرماتے ژں قرات علی ساق العرش ” 
لالہ الله محمد رسول الله “ 
قا ری کرام آدم علیہ السلام نے قو بھی پلنا بھی ش وم شہ کی ھا پچ رکا 
ہواپڑن لیا۔ معلوم ہوائ یکو عددسہ مج ان ےکی ضرورت نھیں_ 
حضرت موی علیہ اللام۔- آ پکواللہتالی نے لداع عطاکیل (۱۴۵۔ۓ) 
و کتبنا لە فی الالواح من کل شنی؟موعظةو تفصیلا لکل شیإٗفخدھا 
بقوۃ وا مر قومگک یا خحذواباحستھا تر جمہ اود جھمنے اس کے لئ فختیاں 
دی پر نز تحت اور ہر نکی تفبل اور فرایااے م<سی سے مفبو می سے 
تام نےاوراپی قو مک عم دےکہ ال کا ای ای اق کریں۔ 
ار شی نکرام۔حضرت موسی علیہ السلام ‏ سی مدرسہ کے پڑھ ہو ےہ جھے 
اس کے باوجودآپ نے پڑ ھکر قو مکوتایا_ 


صاد بکی عم غیب 
(رسو یریم صصی لعل وع بل وسلم) 

٠‏ اللہ تھالیٰ نے علوم خی بکی عطا کے مخلف ط رق تا چیے 
اللہ تالانے فرایا 
. وما کان لیشر ان یکلمہ اللہ الاوحیا اومن واریء حجاب 

اویرسل رسولا فیوحی باذنه ما یشاء انه علیٰ حکیم(۵۱/۲۲الوری) 
تر چیہ او رسکی یش کیب شان نی نکی ہکا مکرے ا کے سا تھا تا یجکر 
1 ا و گی کے طورپ یاپیش پر دہ ایی ےکوئی پا ر(ف رش )اور دوج یکر ےاس کے عم 


سے جوالل تھا چا ہاش ذواد گی شان والاٴکہت دا٤‏ ے۔ 





کر اللہ تی نے علو مکی عطا کے لف طر یی تاد گے۔ 

(الف)۔ گی کے طور پر (دلی می التاگ/٥)‏ 

(ب)۔ یں پرد0( یی ےکووطو ریہ م بی علیہ الام سے بی پر دوکلام فربیا) 
(ت)۔ فرشتہ کے ذر یج ( ہج یل علیہ السلا مکاجانا) 

دی کے معنی:۔ علاءکرام نے ملف می بای ہیں۔ 

(الب)۔ رازداری یشک یکو ہج ھکہنا۔ : 

)پا اشار٥کر‏ نے او رلک ھک رکوئی چززد ت کو جیا د تی کہا جانا ےکی مہ انل 
یں بھی دداشاویش پان یکر نے کے علادہ مر ا ری وہ ہیں وید : 


- 


دیجم ت۴ 

رس لکر یم پلک نے ف مایا سادوحالقد س کے ذر ہے اد تھالی نے 
ہہ بات میرے دی می ڈال دی(القامء) 
ذد ہا لمام:۔ ا بھرنے مم وک یکیاوالد ہکوہ تی فربائی مین (ا ہا مکیا) 
کا ےدعم جرف دی گا۔ 
عاص ل کلام 

رس لکزیم مگ کے پا ری علیہ السلام کا آنا بانہ آنا صرف 
شرلعت کے تقاضسوں کے ھت تھا۔ ت ہکہ یہ پاا تکہ یت تی و 
تے۔ آپ تد عم نہ ہو مھ تن راڈ 
بات ہت آسان کے 

اما ی نے اپنے موب اور ہمار ےآ قاعو خودعلوم عطا فرمائۓے 
بن ج یی کے واسلے کے اگ صفیات می ببت می شال بیا نک یئ جن میس 
رسو لکریم یل نے لوگو ںکو یں بتادیی حا لاک اس دقت یل علیہ السلام 
نہ آئے تےکہہ اب مہ ای یافلان بات تتاتیں۔ 


پان نزدل رن عیم۔ بت زج تر 
الفف۔ تن پک ٣٢‏ سال ۵ اہ ادن میس نازل ہدا۔ اھت کن پک ک 
نزول کے بعد علوم نل تھے فذ مر ٣۲‏ سال ۵یا" ادن ک ککوئی ”ایک 
سلم .انف رو : 
نی حفرت آدم علیہ السلا مکو چیک آے۔ می علیہ السلام کمونے 
میس علوم کااعلا نکرمیں (چرل علیہ السلا مکی آمد کے فی )اور اخیا۔ 
کے سردا رکوعلوم نہر می ٣‏ فیس ماپ انا 7 








: ٥ 
ت۔ دلازت کے وت نان نوک کاب لی اس والیا خطلبِے؟‎ 
ےد شب معراج۔ سز ۃ بظر گی آخ ری آیات(ہ رب علیہ السلام کے ٭‎ 
واسلی کے اؤں)‎ 
غ۔ آپ ملک ن ےکن انس بنادیں جھ ہو نگ ۔ ما نار ین با رکا تی‎ 
فو کی بارش قا کی شانیاں اور در نو داقیات جتاد بے ۔‎ 
کی ؟ چٹ کے خلم مارک میں ننس ڈالزااور اسے محدددکہنااور ھن‎ 
کم بھی ہے وا رشن کا کنا ےکی ا تھالی نے ہنار ےآ تل کو‎ 
کلی علوم“ ءطاکرد ئے۔‎ 
کیا حور یلد مل نے ق رکقن سکھایا۔ نین‎ 
جج تل علیہ العلام نے تضور ج پل کو قرآن یم نہیں کھایا۔‎ 
ق رن مکھانے ولا تھالی ہے اود ج یں علیہ السلام ھن یاددلا نے کے لئ‎ 
حاضر ہو تے تھے اور ال میں تمت یع یکہ بی کی علیہ السا مکو دممت وگ‎ 
پیل مس حاضر ہو نے کاشرف عاصل جو جاۓے۔ اب غیدمت نکی می گکوگی‎ 
تہ بھی نو ہو ن سکو ٹپ یکر میں قو دہ تحفہ ق رآ ناک ب یکو قراردیاگیاادر ال تال‎ 
نے فرمااکنہ میرے محبوب کے ہا تھ قرآنکا دو رکرو اور ای با نے خدمت‎ 
روب تل می حاض رىیکاشرف اص لکراو۔ بھی وہک یکہ لضاوجات‎ 
بر بل کے ڑج سے بط حضور کک قرآن بڑھ دتچتے تھے اور تیگ علیہ‎ 
اسلام رای و جاتے تھ نہ صرف یہ بلہ آیات مقطحات جب تر یی ل ےک‎ 
زی ہو کے افز عرش یکین وت نے جواب میں عطا فرایا‎ 
علمت می نے مان لیا ری نے عرش کی کیف علمت مالم اعلمیا‎ 
(رہالبیان)‎ ٠ ر سو الپ ن ےکیسے مان لیانس کومیں نی پاتا۔‎ 


چنانہ خودتضور پر فور سی ال ملین علیہ الصوۃ وا ملعم ار شاو فراتے 
ٹیں۔ ایک مر حہ جج رہل علیہ السلام ایک آیتہ لےک رہ ۓ قو میں 
نے ا نکی حلادت سے چیہ آ یتاپ دگی۔ ای پہ میزر سرب نے 
مبانہ طز پہ فرمای اد یہ آیت از لک موب جب کک قرآ نک دی 
ای اضہ گر دی ال وف کک آپ قرآن پاک کے سا تد جلد ید 
فنایں اد آپ یکھاکری انے نے رب امیا علمویاد کر" 
اس حدیغ مس حضور لگ نے پائکل داع لفطوں بی ناہرفیاد اک 
ججررکی کے وگ لانے سے 'علنص شھے قرآن اک اعم ہج گر 
رد بپکگاہد اعت یگ کہ یں دج ری کی جلادت سے پیل ترآن 
پک ڈدپاہِی۔ 

برعال ای عد یٹ سے ىہ بات ایت ہو لی ےکم تضور ملک 
جج ریگی علیہ السلام نے ق ران نیس سکھایا بک خداتالی نے آپ کل 


7ے کو پیل ای ظرآن پاک مکھھادیا تاور رہل علیہ السلام نے کن ور 


کر نے کے لئ عاضر ہوتے گر شر یو کا تقا ان تھاکیہ وت یکی تل 
ججربکی علیہ الام سے دورد کے بعد ہو جاۓے اس لیج نمور انار 
فرماتے تھے۔ 

قار کی لکرام۔ دسو لکریم یکل کے عناح بکی علوم ہونے کے 
متحلق لوگ اس سقام پر شھوک رکھا گے ہیں دوا لی کہ قرآن می چا < 
زرل جکہ بر اس معلمر سو لکرمم عکللگ سے مو بکرتے 
..__ ماوگ فرع شربقت کے تاضوں کے خت تھا _ےٗ 
عطاۓے عم رسول مین ا ماق راف یل سے ہے۔اس لے بی دہ 
ملف انس ہیں۔( بات ذ راج ھکی)۔ 





۰ 62 


رمضمالنالیار کک ہررات آمد بج ری علیر الام 
پارگا:زسول کر لی نماضرزی اوزوور ث ان ظصل ۰ 
سوال:- کیا کی علم یب می حائل نہیں ؟ 

عن اہن عباس قال کان رسول الله صلی الله علیہ وسلم 
ا الناس وکا اجود مایکون فی رمضان حین یلقاہ جبریل 
عليه السلام وکان یلقا: فی کل لیلة من رمضان فیدارسه القرا نذ 
فلزسولااللهصلیٰ الله علیہ لم اجوَد بالْخَیر من اریخ المرسلہ۔ 

خر دی ائوں نے این عحباس رع اللہ عنہ سے انہوں ن کہا 
آ حضرت چا لب لکول سے زیادہ گیا تھے اور مان میں وجب حضرت 
تیگ علیہ اسلام نپ نے سا و ا 2 
علیہ اسلام ر مفیان می پر زا تک و آپ سے اکر تےاوف رن اکا او رکرتۓے 
خرس آپ کی او حفرت بت لی لی ملاتقات در ہتی 2 آپ تی وٹ ہوا 
سے تیادہ لوگ کو بھلائی نے یس ففیر جے۔ 


اب ال شرف( اب ام لاف کی عد یٹاک سے اہو جا ےکہ 


بل علیہ السلامر مغمان السبارک(ج کہ ٣ھ‏ سے شر دح ہو اور اجھی نے بہت تی 
آیات کا نزو ہو نا تھا ہر رات لو داش رآ نکادو رکیاکرتے ےش رین 
ین کا ماس ذہایت ایست سے دہ کے ہی کیہ شی آیات کا زول ہو تا ا ںکادور 


کرت تھے بے خلففپئل ہے اور عد یت پاک می سکوگیاے الفط ٹس من 


ق رآ نک جزویا ینا خزدلل ہوا۔ عد بیٹ اک شش صرف لفظ ق رآ ن ہے۔ چنائ 
ہوارے؟ ق مکی علم خیب ا 1ئ الام یآ تصرف 
نی مت نے ور کر نے کے ےل ی۔ 


درای تک لئی۔ ع مکی دییل سے 
وكکذلك اوحینا الیك روحا من امرنا ماکنت تدری ماالکب 
ولاالایمان ولکن جعلنه نور) تھدی بہ من نشاء من عبادنا وائك 
لتھدی الی صراط مستقیم ۵ )۵٢۴۱۶۳(‏ 2 
ترجم:ہ اود اکا رر جم نے بذدبعہ دی بیجا آپ کی طرف ایک 
جافراظام۔ پے عم سے آپ دداعت سے نہ تاب (ظمء 
فرح ءاندازہ) کے متعلق جات تھے اور نہ ہی ایمان (شرگی امو ر) 
سے مععلق جات تھے کین ہم نے اس (تاب ) کو فور جا دا ہم 
ہدایت دیے میں اس کے ذرییہ سے جس کو جات ہیں الچ بندوں 
ے اور با شر آے ضرور ایت در یں صراط ھی یا رد 
لش کی بایں 
ا۔. روحا ٹرآن ور ٢‏ مر عم معاملہ ؛ کام 
کا ات وک زی یل دگا) ال سے ددایت گلا ہے ۔ وو علم جو یڑ 
مات ئن “ینہ ' چا جکد ق ‏ برک چپال فریب 'شاط رک اور 
عیاران ات را سے ہو۔]شن(0 ۸۲۸۴ ٥5‏ 9 ۵ا۰۱۷۷×) '' 
رن ایاع کان ٹون 'شاعراور مور وغیرہ لوگوں کے پا ہو جا ےھ 
ایر ےئور یں“ 
جن ال جس رآ اللہ تھالنے اپنے عیب لور مار ےآ مکل سے 
خلا فکفاد ومش کین کے ن موم الفاط شی سور کاجن 'مجنون اور 
شا رو ٹیر وکارد کا ای مم ررددای تک بھی گ یکردی ہے۔ جو عم 


اص ےےئے 
3 





۔ رسول کر نم جھگ ن ےکی بار فرایا نیع مبایوحی الی نیش نذا کا 
اتا کر ج ہوں جم کی مجن وگی ہوکی ہے۔ اس ط رح مندرچہ پالا 

آیے یااللدتھالینے فراایے یم آ پک طرف دق کرت ہیں 
نا دای کی لئ یک کے سی یل قائ مک یکم آ پکو عم عطامرتے ہیں 
کیو ہآ پکیا یہ شان خی ںکہ درایت سےکتاب اوراییان کے مق 


ہے وی ٰ 
۴ نمی ہم نے سے فوربتالا ہے وریہ فو رآپ کے قلب مبلارک مج 
ڈالا اور ا کادوصر ام غم ہے کی نے آپ جات ہیں۔ 
فی ررفاگی می ںکمھاے۔ ۱ 
روا ۓٴ ےک ال تذا یکی علوق مس سے روں ای علوتی ےپ 
خفرے میں ریلی اود میکاعا سے زیادوہ اور روآ ر ۳ل کر مم بل کے ساتھ 
ہمیشہ رتی ىہ رو نیاصلی اللہ عليه وعلی آلہ وسل مک مفیقت اشیاۓ ءا 
ے اخ دکھتی ہے اور رسو لکر یم کو مک تی رہتی ہے جس کے ولیہ 
ال تھی نے آدم علیہ العلا مکوتمام ال اشیاۓ عالم وی ان جزاک 
ردایت ہہ سج ےگہاللدتھالی نے جس وقت نے وو روح رسو لک ریگ پر بازل 
فمائی دہ فکر غنی لگھی۔اس دو کے فیضان سے اوای ,اللہ کیل ہوتے 
میں اور ہوتے یں گے 
فرمانأٛی:۔ وما گنت تتلوامن قبلہ من کتب ولا تخطہ بیمینك اذا 
لارتاب المبطلونہء 2 
ترجہ :۔ اور سے پھے تم کوک یکتاب ن بے ھت تے اور نہ اپنے اتد سے بب 
کے وں ہو اق ال وانے ضرور شک لا ۓ(۴۸۸۳۹) 


تر :۔ا۔ خطللب نہ ےک ایک ایی ائی کے ہا تھوں جس نے زے,قیم 
7 2 غی اللہ سے حاصمل نہ کی ہو ام یکما بکا اہ رہو ناج 
تقام اع در ہے کے لو مکی جائع ہو یقینا ججزداور خارتی عادت ے 
وا می ہو 

نے بھی پک ککھاتوال 

کن و مر وا ا نیہ یں ان ےکی ضرورت ہے ککرے 
سب پھوکسی معلم سے سناڈ جا ہے ر سو لکز مم ین اکوکی محلم ی 
تھا۔(صواے الد تمالی کے) 

۳ اگ رککھنا بڑھنا جات لو با ٹل داٹے ضرور ش ککر کہ پیت فی 
ون سے در سے سے پڑ ھک ہے میں جو ےی اکپ ز ہے ین مز 
عاطہ دوس راغ افقیار کر لپتاے۔ااس لے ىہ ق ان پا کلام یی 
ہودن کا دی ے۔ 

انا گرا مکوعلو مکی عطا۔ اقب رکماوں کے بے نے سے 
(١)علوم‏ کین لئے :نامیا لزا مکوجب خدت سے لواا جا ے تر اور 
وت کے سا تجھ یا علم الد تید ینا ا ے وہ نوعلم نی کے سن میں مل ہو 

جاناہے۔ قرآ نکڑناے۔ 

ھو ایت بینت فی صدور الذین اوترا لعلم (۲۹۱۳۹ گگہوے)_ 

پوس رت وورو شی یی ہیں ان کے سینوں مس جنیں علمد اگ ین 

تشریح: . علم ایک و او اد لی کیا مفات یس سے ایک ے دو چوک 

عالم لیب ہے اس لے دہ تا فور لم عطاکرنا چا دوانیاگزا مکو فور عطاگردیتا 

ےا کے نے ات تال یک کوئی جامعہ بنان ےکی ضرورت کیل ہو ثی_ چنر 

لیس لاہ فراتئیں۔ 





66 
وم علیہ السلا مکی چھینک:- جب دم علیہ العلام کے جسڈ یس روج داخل 
ہوکی مر کے راتے سے ق آدم علیہ السلا مکو پچین ک گی اس پر انہوں نے فور 
کہامد نل یڑ کہ شک ای جیالاے۔ اب کہنااس لے تھاکہا نکو عال مار وا 
می بنا عم الد تال نے دبا تھاعط اکر دی تھا۔ :نین ہو کہ اس وقت ج رتنل 
علیہ امعلام آائے جودں اور انہوں ن ےکہاکہ آدم اب تم ہے کہو۔انمہوں نے 

00000 مد ررل ه ‏ ہت 

کیا انمیاءوکرا مکوبعت سے پیک کاب دایما نکا علم ہو جاے 

جواب:۔ ہاں !انیاہ گرا مک بعتت سے کے عم ہو جاسے چوکہ عالکم ارداح ش 

عہعرہنبدت عطافرماے وقتال تھای طا/دتاے۔ 

1 تق رن علیم کے مطالد سے پت پاے۔ 

حفرت' شی علیہ الام کے متحلق فا ہیں ۔(وائینه الحکم 
صبیا) آپ .ای ہے ىی تےکہ جم ننے انیس علم و حمت سے 
پک فرنادیا۔ 

۷ حطر ت می علی اللام کے ای اعا نکیا انی عبدالله اتی 
الکتپ و جعلنی نبیا ٴ وجعلنی مبا رکا این ما کنت )لال کا 
بنلدہ ہو اس نے مج کاب دی اور بے بھی نایا اور اس نے جج پا 
ہرکت :تااہے چہاں مجگی یش ہہوں۔ 

٣‏ حفرت لوست علیہ اللا مکسن تھ ۔ بھائوں نے ان کےہ گلے میں 
رس ڈال یک کنومیں میں للا دا تھااس و قت انی الد تعالی نے ہی مر دہ 
سنااتھا۔(واوجینا الیہ لننجھم بامر ہم ہذا) ہم نے ا نکوو یی 
کے اک نی انا کے ان نتلب گا وک ری گے۔ 














67 


جرت اماعنلٗ علیہ الللام نے تین میں هی ححضرت شب ال سے 
عرض کیا تھا (یا ابت افعل ماتومر ستجدنیاٹاشاء الله من 
الصابرین )اےدالد اچد! آپ کوچ اھ دیاکیاہے ا نکی ین 
اللہ تالانے چا آپ جھے سا بروں می پائیں گے۔ 


سوال:۔ زسول کریم مج کہ قان ایا ہکرام کے مر دا ہیں ان کے ملق 
کے ىہ ف رخ لکرلیاجا ےک آپ مل تاب ادرایما نکاعلم نت( محازائل) 
ا-۔د متا :زرل کریح مپنگ فر نات ہیں جب میں پواہوا مخیرے 


دل می بتوں او رشع مگ وئی کے متعلق مض اور نفرت کی اہ گیا ور ١‏ 
نے چابیت کےکامو ںکامگیاارادہ نی کیا 

سفر ام یس کروراہب سے ما قات ہو گی۔ اس نے آزمانے کے گے 
:لات و مزئ کش مکھانے کے سے کہا آب تن نے فرل (لا 
تسلنی بھما فو الله ماابغضت :شیٹاقط بغضھما) اے راب 
ھ سے ان مل کے واسٹے سے کوئی بات تک بمواشر 1 تم نی 
نفرت ران سے ےکی سے تہیں۔ 

کن شریف میں وجو الد تھا یکاعم حضرت ای ططالب ر شی اللہ 
تال ناپ بھاگی ظرت عبال رص اللہ تھالی عن کو آب تلللہ 
2 ری بی مر مات ہییبت کہ آپ مپٹککھانے کت کت اللہ 
الاعداد رکھانے سے فاررغ ہو نے کے بعد الحمد لئے ٹیں- 


کیوں جتاب 


ابھی تو اعلان خبوت نیس فرمالا ربیل علیہ السلام نے پیش سال بعد 


یت کر ا تارے یإں- 





رسو لکر یم مھ س ےکی علم مب ر کک چند مٹالیس 

تقر نکرام۔ر مو یک ری عق صاح کی عم خیب ہیں۔ الہ تالی نے آپ 

نكيل کو تام علوم عطاکرد ےم ہکوکی حر تک بات نیس محت بے عجی بک 

جھ چا ینا ا عطاکردے یہ محت اود عجی بک بات ے- ان مثالوں 

سے پیل ایک جتی جو راس مکاہے۔ د یھت ہیں۔ 

تی جو رکا 75 جب مر دک داد ز مگ یکا مدکی جڑگی ہے تو سکی 

ور یلپیا ےک یہ لوت کےا عاز شی طور بر سے تو ےج 

ہے۔ اس نے قوذاہد یذ ن گی می رے منج لزارلے۔ 

قا تین کرام 

0 نو رکرنی چھتی حور عالم دیاکو دہ ری سے اس لم ےکہ اس کے١‏ 
ری جشقی غاد گید نیادئی وکا سے جھڑتی ہے۔ا سب بھی لم 
ہےکہ مرد لئ ہے اود ال کاو ند ہوگا 

(:) -تشتی حور کے ہکا“ عال سے نوج تی مقصود کا ات ہے ای کے عم 
کی با تک رناکتناد شوار ود 

عالہ۔ نع رز ریغ“ لامور ( مل عائط عبدالقادررو ڑگ ٦‏ 
رجب پپیطااقی مر ڈوک اشاعت۔ ماہنامہ رضاۓ مصطفذ 
گو جرانوالہ شعپانا تظم ۱۴۱۸ھ سطااقی در 33لن) 


بات نی 





"9 


عم مصنلف مکی مز ید مالس 
توب آدلو ںکی بات 

آپ مل صاحب ام خیب ہیں۔ 
قیامت تک ہو نے واتے عالا تکااے تایا۔ فربایا: کانما انظر الی 
کفی ہہ زم ابی دنک مد جیے اپکی تن کو دک رہا ہو 
قیامم ت کک ہو نے دانے واتحات) 
فرایا: انی لا علم اخراھل النار(٣گو,‏ ص۹٥٣٢)‏ 
تر رت و کے ےار امہ جار کیاکی ا کے : 
متتلق جادا۔ ا کا چھاکیاگیااوز دہ پڑی اد رط لا( بقاری) 
قیامت کے تو ںکی تر تاد ی۔ 
اج اون اذ ار و ن ےکا تجزدیاف 
جضور مل نے رالعہ اد کے د لک بات تاد یں 
کیائیس تمکوجیاد ںکہ تم کیا نے آۓ ہو؟ 
تضور علیے السا مکا منافقوں کے پارے بی تر دیا۔ 
ور پنانے جحرت الو ال زداء کے اسلام لا جا زنک 
پا لکوطلاحظہ فر ماک ای کے من من رس ےکی شک علاوودوسر گی 
رید 
اما ےد اشن کی سے بن اک کی ا 
اسو وی کے کی خر دیااو زا کا نام بھی جایا۔ 


ور علیہ ااسلام نے ماکان و مایکو نک پاب ت فراا۔ 


۲۸۔ 


70 
فاعم ت تک اعت تھچ ھکر ےکا کی خر دید 
تفور علیہ السلام کا فرماا تم آج تیر پر ہو۔ لین اس کے بعد ایک 
دوضرے سے لڑوگے_ 
تر می شام و عراقی کے مل دن ےکا خجر دید 
اللہ لی نے مر نے لے ام اوران شا مک یغاب تکی ے۔ 
بیت ا نکی اودااس کے مححقہ علاقوں کے کی خزریا۔ 
نوع زوفما ہو نے وا اتا ٹک خر ذ یا 
می رکا امت کے لوگ و سید دریائیں ضوار کر چہا دک یی گے_ 
ملمائو ںکی ند ودمیگر فو حا کی خر ینان 
خمزدہندگی تر داز 
فا درد ما کی ٹردیا۔ 
قعمر وکسربی کے نزانو ںکی خی اورا نکی بابک کی خمرمی۔ 
خلاف راشمدہ کے بعد مکی کی تر دیا۔ 
فور علیہ الام نے غلا ےر اشد بی نکی تر تی بک مر پیل ھی رے 
گا گا۔ 
مثرت ابو سیر صد بی ر شی اللہ نالی عن کی خلات کے پارے میں 
ارشمادکہ دودوسمال رے مد 
رت مل ر شی اد تالی ع تہککادم دائیں۔ 
تضور علیہ السلا ماق مان خلافت مد ینہ میں اور باد شاہت شام ن_ 
نام کی ملوکیت کے ساط مین تمور جال خر دبیاں 
لمت و خی کی خجردیا۔ 








71 


ےد تفور علیہ العلا مار شاد خ اسان سےسیاہ سجن ے 6ک رق لک سی گے۔ 


عکومت کی کی خر دبیا۔ 


ات ححقرات فار وق و عثان ر ضی اللہ جفھمکی شہاد کی خر۔ 


جحضور علیہ السلا مکاگوواعد سے ارشادکہ چھ بردد شید ہیں- 
رول اد کل نے لوم الدار ٹس حضرت خنان سے بلک نکر 
کاوعد:لیا- 

لوگ دبینغ سے الکن ط رع مل جاٗیں گے می کمان سے جر۔ 
تحصور خنان شی ر ضی اون تعالیٰ عنٴ کو تضور خلیہ السلا مکاپال پلانا۔ 
حطرت یم رنش کی شہار تک خجردینا۔ 

چنداوز حا پگرام کیا شہاد تک 

امام مین ری اتی عت ہکا شباد تک خر - 


2 حور علیہ السلام نے اپنے بعد لوگوں کے مر تم ہو ن کی خر دگی۔ 


ہراء جن ماانک کے بارے می حور پاپ کاارشاد۔ 
ححضرت عمرر صی اللہ عنہکاشار محد ین مییلں_ 

از واج مطبرات یں سب سے کیاز وج اط کا آپ سے لنا۔ 
کابت ق رآ ن کے پارے میس تمور م کا ر یں 


حفرت ایس قر یک خر دید 


تخرت عبد اللہ بن سلام کے عا لک خر دیا۔ 
را بن خد ہے کے عا لک خردیا۔ 

جثرت ابوڈ خفار مکی خر دیتا۔ 

اک اع ا کواس کے کی خردینا۔ 





دہ 


72 


حضور لگ کاکذاب اع بن اوسف تق کی خردیا۔ 
رت ایام صن ری الد عتہاکے بارے میں خر دیا۔ 
عیلہ جن اش کے بارے میس خمردبیا۔ 

دہب تر شی فیلال اورولی دک ٹر دیتا۔ 

ام شس طیا و نکی خجردینا۔ 

اود قہکوشہاد تکی خر دینا۔ 

اس نم کی ترجی سک ابقداء شارت ررض اش عنہ سے ہو گی۔ 
خر ت ابواللددداءکی شہاد تکی تر 

مھ بن مس :کے بارے مار شادد 

چک کیل اصفین ‏ خہردا نکی خریں۔ 

٦‏ یس ٹپ آنے دانے جو ادت اور دنر اخیا کی اطا۔ 
زی بی صوعان د جند بر شی اا رم غھماکے بارے میں اد اگ ائی۔ 
تحخرت عظمر نایا کی شمہاد تک تر - 

ال :کے یی خر۔ 

دوشہداو جو متقام خر رای ظلماشبید کے گ۔ 

اعلام یس پوبلا مر جوکاٹ کر کیجاگیا کی تر 

صخرت ید یتال ٹم کے نا بین ہو نک خ رد 

دو یو اھ بے وت تما زی بڑھیں گے 

حیات میاک ہگ شب 27 

مان بن بجی رکی شہاد کی خر 

روایت عد بیث می لکذ بک نے والو ںکی تر دیا۔ 





279 
چو تھے قرن میس لوکوں میں تق کی خجر۔ 
نر الات کے بے من ار شاو ائیات 
تضمو رکا ایک جماعت کے پارے میں از شادگرائی ان می یکشخ 
دوڑی ہے۔ 
ولید بن عتبہ کے انجا مکی تجردیتا۔ 
فیس بن ملاعہ کے انام مکی خر دینا۔ 
رت اون عیامن کے عا لک خر دینا۔ 
تضور علیہ السلسام کا ا شادگرائی میرىی امت پر فرتقوں یں بٹ 
جا ۓگی۔ 
خوارج کے من کی خمراور آئندہ کے اخپلا- 
ازارقہ جم کے کت ہیں۔ 
فرقہ رافیقہ 'فقردیہ مر بی اور زناد کی تر دیا۔ 
ام اکم “نین مضرت میم منہ رص القد خنہا کے مقام دفا تک خجردینا۔ 
احیار کے ہار ے مل ار غاد- 
ش رع کی خر بی نے دی۔ 
ای نگ فک خر جو از ے بلند ہ گی 
رر تےاو رکو نے کے ہار ے مار شاد۔ 
ا بفعداد کے پارے مل ار غاد- 
امت کے ا گر ہیجوت یام ٹف ایر ےگا۔- 
ہر صدکئی کے آنغاز بر مر دہو کی رشان 
خر دن دجا لک خر دیا۔ 






ناوات قائ ا وگ جب ہ تی کاسردارمنا فی ہوگل 
یکو ال جان ت ےکی فذا کبلاککت لازئی وگ 


و سا شش 
گرم پان ن2 نی کے 7 
آرلوں۔ جب آپ کک ماے تاریا ہدۓ ڈیر کر فا ےم 
ٌ تیہا ں کی ے آکئے؟ می نے عرت ک یارسول الہپ نے اس موق و 
یت جا اکہ آپ مگ کے ساتھ ٹمازاداکرلوں۔ آپ من کے ہاتھ میں 
مور یککڑ کی بچٹڑی یآ نے خر تھا ےھ یں از بد 
کے سا تھ ال دفت شیطا نکو ایک ہی پا گے ۔ اکا تچٹرکی سے اسے بارہ 
قادومسچد سے گل اود ایی پچٹر کی روش راس کوروش نکرری تی ج گر 
پچ قذدمیھاکہ بیو کی مو ری ےگ ایک زاونے حیطا نکواصصورت ار یشت 
بیاہوداد یکھااغوں نے اسے مار نار َ ََ ىر چلاگیا۔ 
ریو یپ ِ 














75 

خر مان نی الگ اے الو ہر٤0(‏ شبطان ) یی رآ گا 

آپ تو شیفان می نکی رات کا عم ہارکی شرب کی عدیٹ 
میس ملاظ و ا ٢د‏ 

زوایت سے جفرت الد ہر یور خی اللہ تعالی عنہ سے۔ فرماتے ہیں 
بجھ رس لال می نے رعیضیان کے خطزانے کے مال کی اطت پر مقر رف یا 
ایک نٹ آیا لیے سے اپ جھرنے لگا جم نے اسے پل کاو رکیاکہ مس 
تھے رسول لہج سے ایس نے جو ںگ۔ ود لامش متا ہوں میرے پل 
ہے یں اور کے مخت عایت ہے اش زوا گے ین ان نے اسے ڑا دجپ 2 
گل یکر نے فلا کور رت مار تک 
نے ۶رت کیایار سول ال پا نے جخت متاہگی اور بال ہچ ںکاعذ رکیا تھے 
سك مر تم آنکیااسے اکر دیاف مایا آگاور ہو ذو تم ے تجھوٹ لو یگیا اورووئگر 
آ ےگا نے رسول ازلد یل کے ا فرانے سے دو رآ ے الین ہوماکہ دہ 
ضرور ےگا سکحعات یس ر اوہ آاے لک سے لپ بھررتے لگا ین نے ا پا لیا 
تناک اب تھے ول اث مدکی غدمت میں ضرور نے جیلو ں گا ىہ آخر بی 
تمی کاباد ہےکہ لوکمہ جات ےگہ ن ہآ گاب رآ جا ناہے دہ بلاج سچھوز سے 
بس آ پکو چندا بے کرات عکھاد ابا نک لان کی کت سے آ پک وت 
کات ا فی الکرسی اللهٴلا اله الا هو الحی 
القیوم رگا ایت کک پڑھلیں 2 آپ بلق ھک طرف ے عافارے گور 
اتک شطان آپ کے قری نہ مکاح نے اسے بچویاجب کول 2 

نے رک ا جا نے فرماا تار قید کیااک یاہنامٹش نے عر خ فکیااسں نے 

کہاکہ مجھے ابی حلمات سکھا ےگا تن سے اللر سے لع ےگا تضور مل نے 

فرپڑے دوہے ق چو اع تم سے پچ لو کیا ان ہوک ت تج : دن ےن 

و ا ا ا ما وا و ہے ہیر 








ہے 


و 


6 





تآ خیطان جو بظاہر “یں نظ رخیں ہر انی کےکیام اس کے ازاؤو نا علم 


.بھی جنو پگ انی ںکہ ستل یس ودکیاکر ےگا ی لم وذ ےکی دلیل ے۔ 


نقاضاے اعطان پعشت:۔ ہے شمریوتکا نقاضاتھا ہکفارکہ کے سان ایس 
ا گا رکراعطان پش کیا جائے- اک ہکفا رک ہکو مو تع نےکہ 1پ ( پٹ )کی 


ج سرت طیہ الع گا مات ب۔ ای زان امک ارک کے 


القابات :ےکھد یی( کی کوئی تید زیخ تج کیک نی 3 بروت 
ى و جاے۔ عالم اروا مس بھی نب ورعزل تھ۔” لما ائینکم من 


مب ا یا شیع ای 7اط انوس 


نے دی۔ چنا مچہ ایا دوک لکو عم عطاہو چکا۔ اس دنیئیش آنے سے پیل ۔(بات 
ہے مج دکی) ا 
اناخمیاء سے جھوجھ آپ(مپگ) سے بل کا 
اللہ تحالی نے رای وسٹل من ارسلنا 'من قبلك من رسلنااے“ 
عیب ( نان سے ہو یس ج نکو ہی نے جیا آپ (یڈلناے قل 
رساون جن نفد گتگیاا آی ےاوريجر یا کے کہ ان کی یا 
یا بت 07[|و تی اور یل کیاہ عق لن (مكغك) ۷ 
قام ایا چ ھآ(بزارو قحال پیل 7 ۓ) کے امتحلق پاٹ ج٭ انہوں 
نے ابق اپئی اون کو دپے ان کا بھی عم ے اکر (نعوۃ پا ظھری ہوح 
ویر سوال پیداہو تاج کہ میس فو نکو جاہای نی فان کیا ہو سچھون-) 


ے۰ کہ ا یی ری ہس رہپ 
دم ٠‏ 


وو 


خر کے و ای و : 

فکیف اذ جا من کل امة بشھید وجنا بك علی گ۸۶ 
شھیدا۔ اے عیب (نک) کی ہوکی جب ہم پر امت سے 
۰> لائیں کے بجر ان سب پر آپ ملک کواہ بنا کر لانتیں 
قیامت کے دنع ام اخیام کرام کی خوت' وت سے ملق 
پ ال بد( یاق) کے مال (جھ کہ عالم اروا 6وی 
تتری یق کریں گے ۔نحدبق دی کر سے سے عم ہوک ان الہ 
انیاہ نے اللہ تھا کا پام اپ اپنی اتوں کو دیا۔ تم میا کی 
بڑکیاادھل ےلازا نے اط سے جن بھی انیاء خخراتے آرم 
ہے رر می سی کر سے ان بے کے و 
انہوں نے انی اپی امتوںک/ در مب مفلوم ہیں۔ بجی تو وی 


ام 


اھ ٹ8 


رک ا لان و رین وب سے سا 
کیا معلوم انوں نے کماغابات دئے۔گواہ کے لئ لازم ہو نا ےکہ اس 
ےد ا و ای نے کو سے را ا کال ا نی 
کے مطاان بات چبیت بھ کی ہو۔ جب می قوگوابی قبول ہوک ے۔ نز معلوم ہوا 
ام سول کریم تل لوم کے عائل ہیں۔ 

جو اللہ تال نے آپنے عیب اور ہمارے آ قا مدکی خخلبق ور ےکر کے 
عا لم رایت بی تیر سمالت عطاکی اور سا تہ خی علوم بھی عطاکر وت چوک 
1 تل کاو رکہاکھ تاس نے جب ہکا ار حمن علم ال آن تڈ گو ال 
کین سے بے علوم عطا ہو کے سے (علم تن بای )تھا 
آپ لصاح بک علم غیب ہیں 


لے 













شر یع تکاراز:- اللہ تال ات تک ایی تر ے 
انیاہکوا کا پغام میں سے دی کے ہی کفارک اسب سے بڑااختزا بے تھا 
کہ ہماررےآ فا حللگ کے پا فرش ہکیوں نہ آیا۔ ای لئ اللہ تعالی نے اپے 
عیب کل کے در پر یں بزر دف عفرت جراک کو کیا قد کے 
. اخزاش کارداورشرلیٹتکا ضا تگیتھا۔ جب ایک وف عطرت جرائل سور 
: ا اور پواإرے الله سے لیا کے پت 
کہ جله نے فربای ان لیا . جب رات ن کہا ہڑ سے ےت 
ا را ایلیا را مک مات ہو آپ کان ا 
۔آپ نل نے فرما کہ الف تال نے کے الاک کہ ای سے آگے نہ 
وا وا را بن نی ۔ک وہ ق ران وآ 
وا تعالی نے بڑھاا(الرحمن علم الخمر آن )اس کے بعد اللہ تعالی ےْ 
ا آیات از للیں۔ لا تحرك بہ لسانك لتعجل به ان غلینا جمعہ وقرانہ 
ا 0 و ا ا ات ہت ۔آپ(ملللگ 
)ایا با کان کے سا تحت نی اتی تے سج لد یکرنے کے لئے 
رت سا ریو ا جم پڑھ کی اس وقت 
بڑھھ ہو ت ےکی اتا کر نیس نر یک ا ن کا میا نکر ناہمارے ذمہ سے خور طلب 
ا ج می علیہ السلام جو پڑ ھے آب تل بھی پڑھ دی اور اس چتر 
ھا کا تج کرت وقت (یادکر ن ےکی دی ) اپ پا سے لالیا 
۱ سے۔ ایک وا ع ری لفطا سکہیں بھی با کن ےکا مع نیس لاوز دوس راچھلا 
حافظ رآ نکوکون پڑھاۓ؟ ند 


و بن یکنا کی عم فی شور ڑھن۔ 


لعل بر ہل 


کی اوردوز یالوگوں 71 لی 
رسو لک )صلی الله علیہ وعلی آلہ وسلم کے اتھ ں 
(صاح کی مم فیب) عم ہرک) 
(الک 7ز زگ 'اوراؤر) ردابیت ہے عبدالشد بن عمرد سے فرماتے ہی ںکہ 
ایک بارحضور صلی اللہ علیہ و خی آلہ و سلم نشیف لا ےکزدست ادس می وو 
کتائیں میں فرماک ہکیاجاٹ ہی کیا ایل میں بم نے ع رخ ںکیایار سو لال 
آپ کے اک ہیں بانج قدلپے ہج ھک تاب کے بارے می ف راک ے 
کاب دب بالعان کے پا سے کی جم می تام جنتیوں کے نام اوران کے 
پاپ دادول اور تل کےنام ہیں پچ رآخ ھت ککاٹ ول لاد اکیاے پذاان‌ش 
زی کی نی ہو سک پھر بامیں اھ وناب کے مع فریاکر یکاپ اللہ 
رب الغا ,ا یرف سے کی ہے اس لس دوزوں اوران کے پاپ د ارول اور 
قیلوں کے نام ہیں رآخ ھک ک کاٹ نل لا ایا (مشگ و3 ن باب القرر) 
ار 0 کرام ا 
00 رسو لکریح ع پان ہی ںک ہکون شف ہنی ہے او رکون آپھی۔ 
آپ تی نی شس سے رادود سم ٹیس ھی ۔ خحصوصااعلان 
ویش کے بعد سے ارت کک (ؤرضش) 
)2 رس لکریم لن کاحاضر وناظر ہونا صاح بکی لم یب ہوناباش 


ہے۔ 


ن 





مگ ربن عم ر سو لکر یم جلگ مولویوں 
(و ر فیقت چا )آے سوال 


5 قیامت کے روڑ 
:اتا ی پلک ںک اوت امم “و داے )کے پا 


2 ہوم الیم یخزیهم ‏ ویتول این. شرکاءٴئ الذین کنتم 
تشاقون فیھم قال الذین 'اوتوا العلمٴ ان الخزی الیوم و السوء 
علی الکفرین٥‏ (النحل )٢٢۸۱٢۷‏ 
جا ٭ پر قیامت کے دن ا نمی ر سو اکر ےگااور فرمات ےگاکہاں یں مہرے دوش کیک 
جن میں تم بھگڑتے ےلم وا ےکہیسں ج ےآ سار یر صوائی اوہ ال یکاخرول ہہ ہے۔ 
عوالات :- ١٠۔‏ تھروں ےش لک میدان خش رک سان کے اس عل مکیاں ‏ ےآیا؟ 
۴۔ کپااضموں نے قرمتلن اور میران ٹر جاتے ہو ۓےعسی ھررس میں علم حا ص لکیا۔ 
۰۔ کھاا خی جج رولی علیہ السلام نے را تت مس یامیران حش ہکرعم پہنپی۔ 
٣‏ کیا نی ق ذس سے لک المائمکیاگیاکہ اب تم نے بی با کن اہے۔ 

تقار خی نکرام! 

رین عکم رسول اک ملاع (نام زماد مول وی )لن سوالا تکاجو اب نیس و ے 
کین گے اس لےک اھ تن ہیں۔ان کے ول بے 9ور نت 
راب :- عالمد ایی تقر سو لکریم کل کے امتی خی وخیی ہیں اوران کا علم ج کہ ایک 
فور ہے الن کے سا تج اٹ ےگااور میدران حٹر جوا کیاجادپدہکفا دک ر سال 
کی شمردیں کے اور الہ تال ی نے یں ابھیے "او وا قرارڑے۔ 
اے من رین عم ر سو لکر یم می :- تم نےرسو لکرم ٹچ سے علم ارک 
کیٹ یکر کے کیاھویااورکیاپایا؟ تہ روز قیامت پت چ گا_ 








رسو لکر مم صلی ال علیہ وآلہوسلم حا ضز ظرمیں 

فط عاض وا ر“ کے مکی حتن 

عاض رکا ماد ”خر “اوروظر 7 ماد ”نظ “ہے حضرے اور“ 
مصدرہایجئل سے عاظر مشش ہو حضور اور حاضر کے بہت سے مت یکتب اعت 
یس تمرم ہیں۔ ٹلا ضعنر کے معن لو نزرکی ‏ کن : حاضر ہو ن ےکی یگ وخیزو 
یں اور حاضر کے مجن شبروں اورمسحیول میس ر بن و لاد اقبیلہ و غیت ہیں- 
(مہ قام معائیامنچد ؛اصحاحء من مار الانوازو خی رشن موجورژں-) 

ایس کے علادؤ یس مج سے حزی خحموعیت کے سا ججھ متحاق ہے اس 
کی یل سے ہت ہتسب کے مع ہین سا تافو طر 
کے ممی جن تع مکلا بے فیا بآکصوں کے ساس ہو اسے معاض کت ہی کت 
مخت ٹس ہےکہ حعفر چاو رتضور خی بکی ضر ہیں 

لغت تخ رآ نکی مشمہو کاب مفمردات امام راخب اص مان ٹس یلگ یکاینا 
ہ ےکہ ج یماح نہ ہو مین حواس سے دو رآ کنوں سے کپ شی ہو اسے ذاعم 
لور یب ککتے ہیں جب پہ امت ہو مگیاکہ عاضرطا ب کی نرہ اوراں کے بجر 
ىی ھی معلوح ہومگیاکہ ای ا سکتے ین جو حون نے روز ہواور ڈلاہوں کے 
سام نہ ہو قاب ری بات ات ہ وگ کہ عاض ال یک وکما جا ۓےگاجو حواس سے 
شید دنہ ہواو دحل مکھلا بے تا بآ وی کے سیا نے و و 

عاضر کے بعد لفظ ”نظ ر“ کے مت یکی خحتین نے اکھد کے فو ےکی 
سیاۃاکو جس می اک ھک کی وی ہے۔ ناظ رت ہیں۔ او بھی نک ھکو ذظ کہا 
جاتاہے .نظ رکاماغز نظرے_ ۱ 

مسیاام ریش ند اود تک کروی پت کاانداز+کر با کہ کے سا ت کسی 


نزیس فوروہائل کاو ری تن کاادراک کر نے یااسےد 7 خر سے رو 
سار کو ھی ریا اس کے علاوہ نظ سے بھی جا وحلائش ک مع بھی مرو لئے 
جاے ہیں لورجھیااں سے مرف ت لو وت مزاد ہوٹی ہے جو اش کے بعد 
اصع ہو 

حضور صلی اللہ علیہ وع لہ و سلم کے لج جولفط حاضروظرید لاجاٍے 
اس کے مع ہ رگن خی کہ ب یکر مم صلی الہ علیہ دی کہ وسل مکی مشر نیت 
مطمر دہ رہ ہرایک کے سیا تے موہجود ہے بلحعد اس کے معن می ہی ںکہ جس طرح 
روج اپنے بد لن کے پر جزوں موجوذ ہی ہے۔ائی رح روح ود عالم ص٥لی‏ اللہ 
علیہ دعلی لہ وسلم اپئی روعاضیت اور نورامیت کے سا تھ می وفقت متنعددمقامات 
یر تثریف فرما ہوتے ہیں اور ال الد اکر ونشتر ححاات مید ری ای جسمالی 
آکھوں سے جضور کے بتسال مبار ککا مشاہر کرت ہیں اور نمور صلی الد علیہ 
وی آلہ وسلم بھی انی ر ممت اور نظ رعنایت سے مبرور و ممظوظو را ا 
وپ تضور صلی ایل علیہ دی آلہ و سلمکااپے خلا موں کے ساتے ہوناء مب رکار کے 
جاضر ہدنے کے مجن ہیں اود انیس اپٹی نظ رمبارک سے دنا تضور کے حاضرو 
باظر ہو نے کامفبوم ہے۔ 

سید عالام صلی الظہ علیہ وع یآلہ ول مکی قوت تر سی لوز فور وت سے نے 
ام ید نیو سک آآن واعرش ممزت و مغرب ء شال وب ہ تحت وق تام 
لمات وامحت ای ؛ دو لا داد ا شی یس ن رکار ا وجود عق رک بحید یا م 
آفرس مال کے سا تھ تٹ ریف فرماہوکررححت دی کات سے سر فرازف رانیں_ 





سار ہو ہہ ہا انار ہہ 


ِ 
و 


1 و)َ 


عال دیاش مقاہرات 

روایت ہے عفر لن خر سے فرماتے خی فریاا رسول ال صلی ال 
علیہ وع یآل ول نے 

یی ا ات ری ںیا ان کن ا ا 
درواز ےکھو لے مگ اوران پر ست بزار فرشت حاضر ہو بے نف چیا گے 
ٹا جا ئچلراللد نےا نکیل سال یکروىی۔(حضرت سجن ملیاذکی شیارت) 
(۱)د لال :ایک عر قب ہآپ صلی ال علیہ ول دسلم نے فزباا۔ الد تخالی نے 
زین کے ھا مکارو کو می رن سیا ےکر ویا_ 
فرایت مشارق الارض و مغاربھا. یس نے ان کے مضربومشر کوک لیا 
ای مر رآپ نے ف ایا مد انے مر لئ دٹیاکو گیٹ فرماد بات یس د میائیں و 
سج قام ت کک ہو نے والا سے ان سکواس مر دیکھا گیا کانما انظر الی کفی 
ہذہاپنےاس )ا تج کی یکو رعافول- ( اہب الدتے 7ر ۴ل) 
)٢(‏ تال رسول الله صلی الله عليه وعلی آله وسلم لقد ریت فی 
مقامی ھذا لحل شی وعدتہ حتی لقد رثیته ارید ان اخز قطف من العببی 
رہ یتمو نی جعلت اتقدم ولقدر ثیتِ جھٹم یحطم بعضھا بعضا حین 
ریتمونی تامحرت ورئیت فیھا عمر بن لحی۔ ضمردر یں نے پر ےکودیکھاینں 
کا وعد ءکاگیا ہوں اس مقام پہ(مش ہاں نیٹے بی غی رکجیس جانے کے ) ت کہ 
مس ہر ےکوا کی ط رح ملاحظہ فربایاس نے ارادہکیااکہ جنت سے ایک خوش لے 
یں جب تم نے یک ےآگے بے ھت دیکھااور میں نے جن مکو یک شخب کو توڑ 
/ہاے۔ب تغمنے مھ ج یہ ےیک ھالور مس نے دوزغ میس گمرین يُ اکوگھی دریکھا۔ 


ای لے آپ صعائلد علیہ دی آلہ لم دامع لوم فرہاتے موں : 
ا عن ای فر قال قالِ رسول الله صلی الله عليه وعلی آله وسلم انی اری 
مالا ترون وا سمع مالا نسمعون (رواہ احمد والْمذی و ابن ماجہ مشکوۃ) 
ب۔ عن عبداله بن عمر و قال قال رسول الله صلی الله علیه وعلی 
آله وسلم‌ینزل عیسی ابن مریم الی الارض فیتزو چٍویولد لە وریمکٹ یسا 
واریعین سنة ٹم بیموت فید فن معی فی قبری فاقوم انا و عیسی ابن مریم فی قبر 
واحد بین ای یکر و عم 
ترم.(۱) تفر الو ری الد عنہ سے روایمت ہ ےک ر حول ابر صلی الله 
عليہ وعلی آلہ وسلم نے فربایاوقک می د یکا ہوں جو تم نیس دنت اور میس 
سن وآ نم یف 
رت تحضر عب ران رر صی اد ٹھا سے ردایت ہےکہ رسول انرصلی 
اللہ عليه وعلی آلہ وسامانے فرایاکہ شی علیہ السلام(آسان سے )زین > 
یی کی انگود ہکوہ ھتاپ ۵ ۶ال ررش 
قام فراکراتقالی فر بای کے پھر میرے سنا جحد می رک تم ری دغن ہوں گے لی 
لوپرد گر کے دزمان شی اورتیتا اکٹھے ایک تقر ا یں کے 
عا مر ز غکامشا مشاہرہ 

رت دس مز ج نکی خر رک ےکر 
عال اہ کہ ٹر 27 8098 “مم 
ای لور دوج رکاخذاب :کک مردو پوپ نکرکی اکر د او رکز اہو ہلاے- 

اگ ھائٹہ سد قد شیا اللہ تالی خفوا نک تبند دو ہگ اوڑ لی 
ان کے ایی خی بکی نوارای بارش وہ لیں۔ 





85 


تام کا نات سا سے عاضر 
شمدا ےپ رو ہک اطلاع :- 
رسول اللہ صلیواللہ علیہ دس لہ و سلم کے پا بر ضعو نہ والو کی خ رای 
اکیاشب خیب من حعدکی اور مرج بن عدرکی لی من کی معیعب کی بھی خ رآپ کے 
پا ںآئیآپ نے رین مس کو کھھا۔ ر سول اللہ صلی اولہ علیہ دع یآ و یلم ہے 
رما :می الوم امک اکام ہے میں اک لے الین کر ناتھا۔ 
رون امیہ ضباق :- 
مسایائوں میں عم رون ام ےالھعر یھی تھے سو اۓ ان کے سب می 
کرد یے لئے عام رین الفطل نت ےکماکہ مر مان کے ذ مہ ائیک ملام آزا دک ریا 
ہے۔لمذ تما کی طرف سےآزاد ہو اور ای ا کاٹ دیا- عھرو ن‌امیہ نے 
امم نی کو ملین میں نہ پیا پان می سے و باقع کیا زی پک 
انیں لات ا مع نے جس کا نام رین سی ہے ضف کردیا۔ 
جب اس نے انیس نیز ہار وضو ن ےکآماو اٹ سکامیاب ہوگیا۔ ہآ سا نکی 
رف بلعد کی بی اٹھا لئے سر سول اللہ صلی اوہ علیہ وع لہ و سلم نے فر یہ 
لاگ نےان کے ج ےکوپچپادی۔ اوردہ تین می اجار رت گئے۔ 
ِ حضور علیہ الو والسلا مک اکس رر تصرف ہ ےک آپ دخائ ہی 
جو کون بے تھے او رآپ ردۓ زین کے خمزانو کیکخیوں کے ان ک بھی ہیں 
خر ت قماد ور صی ال محن ہکا مکان اور خیطان 41 
: ا سید خدرگیار شی اللہ عتہ سے ردایت ہےکہ ایک رات سجخت جار گی 


تال الع ربا اد سو لال صلی اللہ علیہ وع یل و سم نے قادود تی او 


تا ی ع کو ورخت خ مایا ایک چھٹری د ےکر فرمیا۔ تم ىہ یکر جاؤىہ ود مود 
روشن جو جا ۓگ اود ال کی رو شدس پاتحھ آکے اور دیس پاتحد یھ پڑ ےگی۔ 
جب ت اپ ےگھمر میں داشل ہو چاو گے نو یک سا میں نظ رآ ۓےگی۔دہ 
ےطان ہے اکن ےا کو مار نا جاک دہ لکل جاۓ چناضچہ اور ضی الد عنہ روانہ 
؟‌و نے او وہ شاغ رشن ہ گنی او رگھ میں جاکر دیکھا فو تحیقت بی ایک سا چز 
لی نج سکوا نول نے مرک رکھ سے کال دید 
یت کت 

اد وز صی الف دن ہکا کان نضرت کے دولت خانہ سے بہت ناصلہ پ ۲ 
اود یس وق ت آپ نے حیطا نک خبر دی و حخت جار ری عھی خصوصاان ک ےگ 
کے اندد ورو کا رر ین قد 

ال ھی کہ حضود صلی اللہ علی ہکواس شطان کاعا لکی وک ععلوم ہوا 
20 جج ری علیہ السلام کے اطلارع دی ےکی خر توعد یٹ شس موودر کے 
ہذاصاف ظاہر ےک تضور لی اللہ علیے نے اسے اپ ی آگھوں سے دیھا۔ ی 
دیکناالیا تھاکہ نہائ ںکود یوار جال ہہوثی عیا ودنہ جار گی اورنہ فاصل ماع تھا_ جھ 
اصارت ایی کہ ایک د لوا حائل ہو نے پر بھی دکھ کے اس کے لے پچراروں 
میل دورد ناکوائی مکل میں 
ا عمال لی اور نماز 2 

ایک با آپ مصروف نماز تھے جمال ای تاب ہ کر ساس آگیا۔ فرمیا 
نے دیکھاکہ بمال الا بے پردہمیرے ساتے ہے۔خطاب ہداتم جات ہو 
ف یجان اع کسام می سھگ دکرر ہے ہیں۔ 

عم کیا فیس یب الھاین ! 





ھرخدانے انا تھ دوٹول موط ول کے پیش می ربی پ بر رکھاجس 


فعلمت مافی السموت والارض اور آسمان و زی نکی مام زی میرے 
گا ہو کے سان ئن ( مکلوتابال.اہر) 


الفرقی: 5 
اس فوع ک ےکر مشاہرات اور صموعات ہیں جو جضور سرور والم ٹور ۔ 
مم صلی اللہ علیہ وعلی لہ وس مکو ہرز وش بی آتے تھ ۔ اور مزاظر ککورے 
نات والارش ہ رآن بی ٹم وی کے سا رہ تھے۔اس موق رق 
صرف یہ دکھاا ےک گر مشاہ ہ یل لکوت اسموات والارت کا مشاہ ایا 
اہر تضور سید ال ملین صلی اللد علیہ وع یلو سل مک تقر ا ہرروزی می یآ 


نھا۔اور پھر تاد انل تھاکہ اسی د ناش س رکار جھالالھی سےکھی شرف ہوتے ٠‏ 


تے۔اورای عا لم یں جعمال اید انار ہ فرباتے تھے ۔گوىہ نظار دوہ نہ تھاجو شب 
ماع بی ہو انگر فا ضر ور ! 
ضروریوضاحت :- 

. اس ساملہ یس یھ ایک بات ہگج یک ی ہ ےکہ اسی دای حضور جن 
؛دوز خ ء عرش وک ری لوج و عم اود اس رارو خوائ بکا ات کاجو مشاہرہفرماۓ 
تھے دہ تی اور نی ہو تھاکی لے فرب اکہ اخمیاء کے خوا بگگیاد گی ہبوت ہیں 





88 
لیا کرا مک حضور صلی الل علیہ دع یآلہ سم کے یناز 
ادا فرمانا 

عبدالففار“الوحید“ یس فریاتے ہیں :۔ 

طخرت نیدلا گکویس نے دیکھاکہ سمارکی عم ری ایک بی 
ماز یڈ جیا ہے اوددو کہ ٹس ممجد خان کعبہ میس نکی ما شس تھا۔ جب امام نے 
تب رر بی گی یی نے ھی تب تی کی تج ای| دجدالی عوالت + گئی۔ 
بین یں نے اس ععالت میس تضور نب یکر یم صلی اعد عی لہ وس مکو طاخطہ 
فایاکہ حور ضل ابر علیہ دی آلہ وسلم امام م نکر ما پڑھار ہے ہیں۔ صحلہ 
مہ شر حور کے قتی: نکر نماز ڑج ر ہے ہیں اورٹش بھی نماز میس ش رک 
وکیا اق 2 ان رکا ہے۔ تضسور می اللہ علیہ کی آل و کی کی 
رکعت یس سور والیدش دوس کی شن عم ینسالون یڑ گ_ 

تثرت کچ اع ا ال را رکا تر 
ور حا و یت تیم فان 

جثرت علامہ صفی ال بن اپتے رسالہ یس فرماتے ہیں : فرمیاجھھ سح 
ا الا ال رہ نے یں نے ایک مر حہ حور صلی ال علیہ وع یآ سلمکو 
لایاءک رام کے دلایت نا ےآکھوا تلود یر رے بھاشھکاولایت ام بین ٹںش 
فقاو بائی مج کے پچ رے راس قدرود اش کیا دج سےلنکیاولایت ظاہر ہی 

ھمنے سے سوا کیو رکا۔ جو اب فیا 2 

تد کا دک یکلہ یم نے می پر پردم ماک 
فرمایا۔ یہ لور1 ا مر حم تکا ا 


اولیاء کا مکا مضور صاالل علی و عل یلو سے وھ 
بح لولیا کرام ایک فق کی ماس مس حاضر تھے ۔ اس فقیہ نے ایک 
عدبی کیاروا تکیاوٰنے فربکار عدبیث باعل ہے فقیہ ت ےگ ما پک کے معلوم 
ہے ۴ ولی نے فریالیا یہ ب یکر یم صلیا الد علیہ وآلہ و سلم جھرے سرب ققام فر ہیںز 
حضور صلی اولہ علیہ دع یکلہ ولم ف مار ہے می ںکہ می نے یہ حدیت ضس فرمالی تہ 7 
کووٹ یکی م کت سے کشتف ہو گیا س ند بھی حضور صلی اولہ علیہ دع لہ وسل مکی 
زیااتٹر رو تی ار وك 
مر ث ان انار سکا عقیرہ 
وی ا رکا تضمور صل الہ عب ع یسل مکو ق کن سنا :اور حالت نمازٹل 
محال تکر! 
جضرت میرف لام لن الفارس فرماتے ہیں :ہی نے رت تچ وقت 
خرت عی سے ناک شی پا سا لکا تلود رآ نک ربا ہے استل ضعف رت تقوب 
کے پاش بڑہتا تھا :میس ایک روزاستاو کے اس حاضر ہواقو ہیں تے مور مکی الد 
علیہ وسل مکورلری جس دیکھا۔ حور صلی ای علیہ وع یآلہ وم بر تیچ رحمت 
فیدر کک تی پھ ریس نے تی سکوا ےلوب دیکھاتضور صل الیل علیہ وع لہ 
وس نے فرلا! رن سنا بیس نے سور ودا میلو رام شر سنائی۔ حضور صلی ال 
علیہ وع یآلہوسلم پھر تشربیف لے سے جب مس اکس سا لکی عم رکو ےا قرافہ 
مومع می میس ن ےگ کی نمازکا تی باندحائی تھاکہ حضور صلی ادن علیہ دی یآ 
وس مکواپنے چرے کے سا سے جلو ہک ایا حضور صلی ال علیہ و لہ و ےھ 
سے مان فریلالورجھ سے ار شاد فرمایار بک نق تکاخو بذک رکرو 
۲ ای فی نا تپ اساراچاو ظا ) 










حظرت نے اص ر رفا ہی کا عقیرہ 

گنن محائم بی ےکناجب فظرت چنا تدد نا گی نے کے خریا رید 
نود یں عاض ری دی اوز حور صلی ال علیہ دع لہ وس مکی بارگا علیہ میس شعر 
فی رفس سے اد ول الد جب تظاہرادوز تھا ۳ اچ رو ںکوس کیارکی مود سی کے 
0 رت موہ کیا تلود ان لہ جس مکی عاضری ہے حخبور صلی ایل علیہ وع یآ 
ادا نات رحمت داز فراے جاکہ مس دسبت رہم تکو چو ملوں لیں 


0 حضوصفال لوم کادمت ری تگنر خٹری ے اہ لآیر اور 
مشمان ےآ پکاد تو سی کاشرف عاص لکیا۔ پ0 

٠‏ اولیاءکگرام اھ چیک ےکی مقار بھی تضور صلی ارڈ علیہ وع یآ 
ویش کوفاحف می پاتبص برآن حا ضر یھت ہیں١‏ 
3 عفرت نالعا مکی فرماۓ ہی ںک۔اگرایک ان اہی بین پھر 
ات : تفور صلی الہ علیہ وی آلہ وسلم بے سے پہشیدہ ہو جائیں فو می اپ آ پکو 
ملمانوں میں شا نی يکرتا۔ 

بدا تم قادی چا در فاناوا لاس ام جدال 

الله ین سیل اور وم اولیا مکرا مکا نقید,ماضروزظ رب اذا 

و کو ولاتء قطن بکو فظدیت ہاو تا کو اوت نمی محقیاجب تک 

ور اللہ علیدد یہو سم کے حاض رظ رکا اھ سے بی اری میں مشاہ رہ 
کرلیی۔ حطر ت پچ مفی الین من الی منصود اپے رسالہ مس اور حضرت حم 
عبدالففا کاب الوحی ریش ۳ن نوا کن ےرات رہ اون 
خمردی شال الا نے فرلیاکہ ایس نی را عبدال رم 


21 

ہے۔ مس تقاگیا۔ پا عبدال رت کے پاس حاضر ہوا نوچ نے کمادت مج یکر مم 
اد علیہ وع یآلہ وس مکو ا ہو میں نے ع رح سکیا نمی فرماابیت المقر 
چان یکر صلی ال علیہ وی آلہ وس مکو پا نک رآلوی بیت المقد لگیاجب 
میں نے بیت ال قد ٹل اپنا قدم رکھا نز دیت کیا ہوں ساقوں آسمان سمائون 
ز میں عرش وکری حضور یکر یم صلیایل علیہ وع آلہو لم ے کھرے پڑے 
ہیں- خداکی خدائیب سکوئی مہ حضورصلالہ علیہ لہ وسلم سے نا نظ رٹہیں 
آئی مس جن کے پا آاف ایی صلی الہ علیہ دع لہ سل مک پان ہوک عرضص 
کیا پان ہوگیا۔ فرااب وکا ل ال ری ےکا مسلران ئ نکیا ہے۔ او رکوی 
قطلب فی ہو تااو رکوئی لوتاد شی ہو جااو رکو گی وی خی ہو گھر ن یکر یم صلی 

علیہ و یآلہ وس مکی پان سے انی شان مبارک ے- 


ار نر ام " وی کے لئے ضردری ےکر سو لکریم 
2 الشر علی۔ یس مکی عالت جیداائی ٹیش ارت آڑے۔ 
ارشادات مپا رک کو سن کی سعاات حا صل لک ے_ 






یریت 


۰ 7 'اقوال اخوا لام بروقت رت ہیں_ 





وہ : 


(1) تضور صلی اللہ علیہ وع یآلہو لم سم حیات یں ! 
جار نے یکر بی صلی اہ علی: لہ لم تسم الخ لیف حیات ہیں۔ 
اناد فراہبکازد ٦و‏ اج معاذ اللہ جیات ہو نے کے تال نیس ہی ںکی وک وکنا 
زندہکاکام ہے مردکاکام ا 


.۰۳ ٹالاز زور کے خلز میں 


و 


۱ جار کیم ضلی بل علیہ و عل لہ ولم تام د میا کر ےکا 
عم دلو کے خط رات / نسیات :اراذات / لوت یکی خککا تو سکنات ؛اقعال : 


)١(‏ تضور صلی الہ علیہ وع یآلہ وسل انم دا شی سے ا 
ہارے تسود اللہ علیہ دع یکلہ سلمکاہ علمکوردیکناہنیضہ ہے ۔ اس 
مس فطام غبدعہ پل ذر پے پیش لگا تاد ینتا ر ہے ہی اورد یھت میں گے 
(م) تضور صلی الہ علیہ وع یآلہ وسلم صلوۃو سلام لت ہیں ! 
تضور صلی اہ علیہ دع یآزن و سلم جم لوگو لیکو جرو فت د یھت ہیں جازا 
صلوڈوسلام سے ہیں ۔ک وگ آحد ہمار ی طرف سے ہے۔ سار صلی ال علیہ ول 
لد س مکی طزف تن بعد خی ےے۔ 
(۵) تضور صلی الہ علیہ وع یآلہ وسلم قرب دنعد سے پاک ہیں ! 
میرے تحضور صلی اود علیہ وی لہ و سل مک شائن ايازى ےک دہں 
قرب وعد ہے بی نمی بلہ ون عرش ولوخ ‏ قلم 1ک سی ساقو ںآ سن ءساتیںن 
زین الپ قریب ہیں جاک مور ات دحمت قریب ہے۔ تضور صا 
علیہ وع یآلہہ سلمیحد سے اک ںو ا سب ائکیاں میک رج بے- 





(۹) تضور ص٥‏ اللہ علیہ وع آلہ سم اپ خلا مو کی فریاد سن میں 

تضور صلی اللہ علیہ دع یآلہ و سلم خلا مو کی فریا کو ضنے ہیں کی وک 
تباب ہما تی طمرف سے ہے اس رف سے اصلا تاب نئیں- 
(ے)تضور صلی اللہ علیہ وع یآلہو سلمنغضلہ تی ریہ حاض رو وظرہیں! 

مار ى یکر م صلی ال علیہ وع آلہ و سلم ج رجہ موچ ود اور واشرو 
اظمر ہی ںکی کہا تج ھکی کی کے سا بات والا حاضرو موجوداظر ہوجاے اور 
ری لمح خر سن مھ 
کی رح ہے۔تیقغ تضود صل ول علیہ وع یآلہوسلم سب دنیاکے ساتے ہ رجہ 
موجودعاضروناظظر ہیں جن لوگوں کے دل یس ایاان ہے النا کے لے کما لات 
علیہ ور صلی اللہ علیہ و لی آلہ و صلم ‏ د لکی نرک ہیں- بیعہ اس سے بھی 
نرارہادر کال تضور گیل علیہ و یآلہوسلم کے :و دک ہیں- 

قرل نکر می سے جو لی ایل علیہ وع یآ و سلم کے حاضرد 
موچودہون ےکی ئل 
ا 

علام۔ گل فرماتے ہی کہ بکرم صلی ال علیہ وع آلہ و سلم ایا شب 
ہر کہ حاضر ہی ںکیوککہ ال تعالی نے حضور صلی ایل علیہ دع آلہ وس مکواپی 
لوت کے اعمال پیک وب رکا شاہرمقمرد فربایاہےے۔ فرماا اے نیا پاک پ ن ےآ پکو 
شابدہ اکر کہ اور شاہھ کے لئ ضرددری ہ ےکہ وواپنے مشمور علیہ کے پا 
حاضر ہواور مشورالی ہکاباظر ہوورنہ شاہد شاہھ یل فا ںآی تکر بی سے امت 
ہواکہ حضور صلی اوہ علیہ دع یل وسلم کے حم شر یف س ےکوئی کان خی ہیی 
ا کو یمان غالی میں بعہ تضور صلی الہ علیہ وع یآلہ و سلم ہر مکالناد ہرز مان شس 
جس الشریف موجودہیں_ 












: وس 

قام تٹکوامت کے شاہر ہو نے کاجواب 

الد تال فریات یں : ...۰ وجنا يك علی ھولاء شھیدا ‏ اور ارشاء 
ای ے :ویکون الرسول علیکم شھیدا اور عد بیث شر لف ٹل آیا ےک ہے 
امت تمہ تام اگوی دی اوران کے ایا ءکرام یع اک رن ےک یگواہی 
دس ےگیا۔اول یک رنیم اپ ام تک تق ڈربائیں گ ےک می امت تق 
ہ7۸ کے ہیی و مدق ہو ۓغ ور 
2 ف9 ٰ لوت کے ودج کش کو دو این ہ الکن انی کرام 
شیع اللا مکیگواناد نا کی انی امتول پا می کوک اف نہیں کی کہ انی 
ْ7 کرام آپنے اپپنے افش انی ای امت کے اس حانضر بد ہے یں سنب بھ 

متائ کیاے۔ خساو فعنی- ٠‏ 

. من امت مد کی شمار ات خوذمستتل ین نے ایی شمازت: 
ا شماوت سی اناد :کک شی نے ہےکیوحکزامت موی گی شمات رف ات ی 
٤‏ ےکہ قق رانک یپ ھکرامم سابقہ کے احوال معلو مکر کے شمادت دے دگی۔ 
۰ جن مہ قرکا نکر تو تضور مل او علیہ وع یآ وملم پازل دوارد ہواے۔ 7 
ٌ۰ قز کم پر امت نے ایاغ لاک شمادت دی تی شراوت عقیقت میس حضور 
صملاائ علیہ وع یآ سلم جو شاہ الا طلاق میں ان پر ہو یکر جپھھ حضور لی 4 
. اللہ علیہ وع یآلہو سلم نے فرااے دہ تئ ے ہے الشھادٹ علی الشافد ے 
: تل رت می وو اف ام تک بذات ور مہ دارت ىہ کی نوا کے 
اہر ہذمگیاکہ رود حول جب د ٹیاسے پردہ فرماتےر ہے فا نکی چہ دومرے 
اخمیا کو مہو ریا جاتارپا-انادونول پاقآل سے بات طباوا نم ہ وگ یک 
ہمارے نٹ کر مکی شمادت نہ اص تک رن ہے نہ دنگ ایا مکرا مکی نے 
بلعہ ضور صلی الہ علیہ دع آلہ وسل مکی وت ورسمالت قیامت کک دائ ہنم 


ہے اود ہاتی ہے۔ مرکا احظمم صلی اللہ علیہ وع آلہ وسلم کے بعد دو اکوئی نی 
نی باعہ دوس ری خبو تکاامکان کک شی توجب خیوت دائو قائم ہے لذشماات 
بھی تضور صلی ایل علیہ دع یکلہ وس مکی داد قاخ اتی ہے ۔ شمادت خبوت ای 
لے دای ےک تضور صلی اللہ علیہ وع یآلہ و سلم کہ ہرزمانہ یں حاضر موجود 
ہی ںکیوقکہ عف تکاروام نقیر دوام موصوف ال سے جب تضور صلی اللہ علیہ 
وع یآلہ وس مکی صفت شمادت تبدت رسالت پر مہ ہر مکلن ہرز من یل موچود 
ہے تو ایت ۶و اگ حضور صلی ارہ علیہ وع یآلہ و سلم مفصلہ تی ہر مکالن ہر زان 
حاضرو موجود ہیں۔ ا کی عالمد نیس مال جو ریم چاند ہے ای تعالی نے 
چان دکوایامکان عطاغ ایا ےکہ چم‌اس کے نچ ا کیاد دشا بی رکرتے میں 
جب "مسر اٹھائیں چان دکی طر ف اکر چہ ہم زد فارددڑتے جانمی ما جڑگاے٠‏ 
چک یئل ست پا شی یاس میں ا یں ہم لن ام معاطات می چا کو اپے 
سا تج قیا یت ہیں۔اکر چہ ہم نشرق میس لے جائیں۔ دوس رے لوگ مغرب 
یس لے جامیں یھ لوک سسندروں م سکشتیوں مین سوار ہو اہی چچھ لوگ 
پناڑوں پر چڑھ جائی ‏ بچھھ لوگ جنلوں یس گے جائیں_ ان سب کے سا جھ چاد 
ہر یکلہ ہر کان اہر زمان خر وبر جیلو کل فوق و ححت بل ہرایک کے سا جھ حاضر 
و موجودہے۔ ای رع ہمارے نپ کر مم صلی اللہ علیہ دع لہ سلم بھی ہر کان 
ہرز مالناب رآکناہ رففطہ ہر مقام ہر ایک کے سا تھ حاضر موجودہیں۔ 

یہ لان علیہ فقلیہ اب کک فقیر نے رت علامہ الد خین امام 
ایل لام ورالد بن ابی کےرسالہ جلیلہ تح ریف اھل الایمان و الاسّلام 
بان نبینا صلی الله عليه وسلم لا یخلو منه مکان لزان سے نف کے 
یں۔ 








نمیا کرام تیعم السلام کے جم میس مو کیی سے ؟ 
ےشن ایا کم ماق ضر نے نے 
ماع یس بیت اق می لآسانوں یں اخیا مکرام میم السا مکو لا خطہفربای۔ اور 
س کر اعظم صلی الد علیہ دع لہ وسلم نے خبرفمائی ےکر ج شض سلام عرضس 
2 ا ال کاجواب دی ہوا ۔ ان تمام د لال سے ہے لی طور بی لقن 
مل ۳و کہ اخیا ورام کے انتا کسی ىہ سے کہ دہ م سے (د تا سے بخاب ہو 
'ث جاتے ہیں۔ اس ط ہما نک نی دہ سکت دہ موجود ہیں حیات ہیں فجن ان کا 
قا یکاہ رای ککاکام 220 ال اکا ہے جس نا اگ فضلای ہرجے۔ 
اما ءکرام مالسلا م ا جسام مبا کہ اصلی حیات یں 
رت علامہ یو فرماتے ہی ںک حضور صلی ال علیہ دع لآ سم 
نے فرمایاکہ مو بی رگذداقدریاکہ دہکیزے اتی ق یل نھاز ید سے ہیں۔اور 
رع لف ہے س رکار موی علیہ السلا مکی حوائی کے ل ےکی دہ حضور صلی ارڈہ 
علیہ لی آلہ وسلم نے ا نکی صفت بین فمائی۔ نماز بڑھ کھڑڑے ہ کر ہے 
صفات دو حک نیش ہیں بدعہ یہ صفات ش مکی ہیں اورپ رشصسجس مان میں 
کھڑے ہوک راس یں دلیل بھی اسی پر ہ ےکی وک ہکھڑراہو اگ ر عفت رو نک ہوتی 
و ق ری شی کی ضرورتن پڑنی کیو کوئی بھی1 ال با تگال ہے 
کہ اخمیا کرام کے ارواج مبارکہ قمروں ٹس مم جسوں کے قید ہیں اور اروا 
شمدایا مو نشین کے ججنت می ہیں_ 
اروا مبارکہ ذاخیاءکرام شعداء عظام کے آزاد ہیں جماں چاہی ںآنیں 
جا بیی۔ 


ِٴ 0*0 
اارات اٹ تی 

ہرز کامالک خی صرف ال تعالی ہے۔ا کی عطاسئ لغ کوئی بھی 

ایک ذر ہکا الک نی پھر اس مالک می نے اپے فل وکرم سے اپے لح 

یندو لکواپئی چو کا مالک بایا سے بندو ںکی لیت عطال “عار صی اور ججازگی 

ہے۔اللہ تھی کی علیت ذالی دای اور تی ے۔ اس عطاے الیکا ذکر 

تق رآان می اوراحاد یٹ مبارکہ مض یس ہے ملاحعظہ ہوں۔آیات قرآلی۔ 

(ااف)۔قل اللھم ملك الملك توتی الملك من تشاء وتنزع الملك 
ممن تشاء الایه, 

تر جم :۔ آ پککمہ دی نے" اللہ تعالی ۔ نو لک کا الک سے سے جاسے لک 
دےاود جس سے جا ےملک جین کے۔ 

(ب)۔ واتینھم ملکا عظیما(٢۲۱۵)‏ 

تھجھی:۔ اود جم نے اع کوبہت بڈانککگ دا 

(ث)۔ وسخرنالہ الریح تجری یامرہ (۳۸/۳۷) 

تر جم :ہم نے سلیمان علیہ السلام کے ز سے فرمان با کر دیاجھ ان کے عم سے 

(ت)۔ انا مکنا لە فی الارض وائِللمن کل شئی سببا(۱۸/۸۳) 

رو - یگ نے ذد لت ین کن قابوداد ہر کا ایک سمامان عطا 
فرایال 

(ع)۔ واوتیت من کل شئی ولھا عرش عظیم(۲۳ك٥) ‏ 

یں ہرز سے لا ہے اود ال کاڈ ات ہے۔ 

(ع)۔ ان الارض یرٹھا عبادی الصالحون(۲۷/۱۰۵) 

رت ےی ا زین کے ارت ےکی یر ا 





8 
(عٌ)۔ ومن الجن من یعمل بین یدیه باذن ربہ(۳۲/۳) 
تی ہم نے خطرت سلممان کے جائع ایےے جک یکر دچے جو ان کے سسا نے 

ان کے رب کے میم سےکا مکزتے جے۔ 
()۔ ٠.‏ وا لهُ الله الملك والحکمة(۵۱٢۲)‏ 
ترجہ :۔ اللہ نے داد علیہ الا مکولک بھی دیاور عم بھی 
ان جھکی بہت کی آيات یس رب تا کی عطاسے ا کے بندو ںکامایک 
×دنطابیت ہے اب حور مکی بافن ای ککیت جا ہکاوکر سنئے_ 
(الف)۔انا اعطیك الکوٹر ۵ 
ترجم:۔ ہم نے آپ مک کو ڈر لی عال مکٹرت عطاف اداد 
(ب)۔ ووجدك عائلا فاغنی ۵ 
ا ہھمنے آپ وق روالا پیا کر دیا۔ 
(ت)۔ اغنھم الله ورسوله من فضلہ(9)ِ 
جم :۔ اللہ تال اورر سول مه نے انی ابنے فضل وکرم سے خن یک ردیں 
(ث)۔ ولو انھم رضوا بما اتھم الله ورسولہ(2) 
تل تاکز وولوگ ال تایاور رسول سکللگ کے کے سے رای ہہوے۔ 
فرمان نبوی:خودحضور مگ ان ملق اپن در بک عطا کاذکر فریاتے ہیں 
(الف)۔اونیت مفاتیح خڑائن الارض 
جن :۔ مھ زین کے نمزانو ںک یں عطاف با یگگیں۔ 
. (ب)۔ لوشنت لسارت معی جبال الھب 
تحص اگرییش چا ہل تم زے سا جح سو نے کے پاھا چلاکریی۔ 
(ت)_ آنی اسئلك مراقستك فی الجنةۃ 
تجمہ:۔ یارسول ال میس آپ مل سے جنت مس آپ مکی رای 
اگیاہوں۔ ) سپ 












وع یر دگارا یں 7 
ال تیر سول مپل اور م من بد دگار ہیں و 
حخرت عبدالڈہ بی سلام مسلمان ہد ۓ اور حاضر خدمت ر 
جن ہوۓ عر اد کر ویر 
جچھوڑدیااور ہما رہم سی اورمرد نی کرت رن میک کن ہکان 
الله ورسولە والذین امنوا الذین یقیمون الصلوۃ و یوتون ال زکوۃ 
راکعون ۵ و من یتول الله ورسولە والذین امنو ا فان حزب 
الغلبون ۵:: 
جم :۔ یٹک تہارتے عددنگار الد تھاٹی رسول ال اور مو می میں 
ائمکزتے ہیں۔ زکود نے ہیں اود رو عکرتے ہیں اور جو اللہ تال او 
رسولی من اور مومنو ںیکو چدد گا جناے لی وہ اللر نعا یکا ار 
غاب ژں۔ : 
تشر اذ اللہ تھی نے اس کیہ میش تین ہستبو اک رکیا۔ ال تال 'ر 
اور م ومن اور سب و قزب الد کی اللد قال نے 7 
ا می ایک لفظ دی کاذک آیاہے جک ققرآن میں ملف سورتوں میں تتر ما 
نے دفعہ استعال ہو اہے اوراں کے صولہ مم ہیں۔ سی آسہ شی شان خزول کے 
اط سے ال کا معن ”مد دگار“ ہے چنانچہ انل تالی کے سا تھسا تھ اللہ تال کا 
رسول لد دکر اہ اور مو مین مد دکرتے ہیں یہ صا لین 'صد یقن لوگوں 
کاکرووے تنہیں عرفعام یس ہم اوک یا کرام کے ہیں۔ قومہ فرمان اہی سے 
کہ مرا ارسول مل تمہارمد دگار ہے اور مر ےاو لیا ےگرام۔ 
( عم عطاے اٰی) 



















100 


ارات وت از علیہ اکم 
ال تعالی جل جلالہ نے فیا 
انت المختار المنتخب یا محمد 
ف مان رسولاکرم لکل 
والله معطی واناقاسم 
الد کم عطاکرجاے میں پاٹاہوں 
آپ مک کافرمان ہےکہ ال تھالی عطاکر تا ہے اوز یش پاننا نہوں 
آب پگ راوید مرا نخان کن کن ا ا 
ات نو یا سے نت ای و مو ا ا آپ کا قران سے 
کہ اکن میرے ممائے رکھ دی سے می اپ تی یکود کا ہوں۔ ین 
تام سللعت ع اکر دبیگئی۔ تو ملوم ہو کہ ری کائات آپ کل سے 
ہے۔ ماب( اضر نظ )کے بھی بی می میں ن 
کی تی یرت خرن کی در سے 
کا ایا تھیں مثار بنا 
کو از راہ جے کوی 2 رھ 
ايیوں کا ہیں یاا ممدنگار بای 
تیم کش کی عطاادراخققیارات 
اللہ تال نے فربیا۔انا عطینک الکوٹر بینک ہم نے آپ لک 
تم رکنٹر عطاف ایا خی رکٹرٹش بت پکھھ گویاکہ سب یکن آجاتاہے۔ رجح تکرن 
گن کر ؛لض لک رن کر مک نا مگویاکہ جو آپ مدکی شان شایاں ے- 
عدیث پاک:۔ رواہ ”م۔ انی رھول الله صلی الله عليه وسلم قال 
بعشت بجوامع الکلم ونصرت بالرعب ویینا انا نائم رایت اتیت 








101 





بمفاتیح مخزائن الارض فوضعت فی یدی رمتفق عليه) 
مسلم سے روایت ہےکہ رسول الخ نے فیا 1 ٹس جا 
00" 
ے نے اپ ےکودیھاکہ میرے پا ز شن کے نخحزافو ںکیاسچیاں لاک یگنیں نے میرے 
اھ مین نکد اگگیں۔ 
تر :. تام زی خزافو کی چا یا د تے جانے کے معن یہ ہی ںکہ آپ چکگ 
کوان س بکا ماک بنادیااوا ماکک بھی اخقیار وا لاکہ آپ لوگو کو اپنے اخحتیار سے 
تی از 
عد یث لی:۔ عن علی بن ابی طالب رضی الله تعالی عنہ قال الله 
عزوجل انت المختار المنتخب 
المختار المنتخب: وعندك مستودع نوری وکنوز ھدایتی من 
اجلك اسطح االبطحاء امرج الماء وارفع السماء واجعل الثواب _ 
والعقاب والجنە والنار ٹم اخفی الله الخلیقة فی غیبه وغیبھا فی 
مکنون علمه ٹم نصب العوالم وبسط الزمان ومرج الماء واثار الزید 
وھاج الریح فطفا عرشه علی الماء فسطح الارض علی وجہ الماء ٹم 
استجابھا الی اطلاعة فاذعنت بالا ستجابہ ٹم انشاء الله الملائکة من 
انوار ابتدعھا وانوارامخترعها وقرن بتوحیدہ نبوۃ محمد صلی الله 
عليه وآله وسلم فشھرت فی السماء قبل مبعثہ فی الارض فلما 
خلق اللہ آدم۔۔۔۔ جا آنرحدریٹ (مطالع اس رات صے۰) 
راڈ ین ذک یک عن کعب الاحباررضی الله تعالی عنه قال فی 
التوراۃ مکتوب قال الله محمدرئُم عبدی المت و کل المختار 
(مطا اسر ات ص١۷۹)‏ 


102 


سرد رکا ات ت مو چودات ناب مرمصیلن پل 

لص رذفات 

الذین یتبعون الرسول النبی الا می الذی یجدوئہ مکتوبا 
عندھم فی التورٰة والانجیل یامرھم بالمعروف و ینھھم عن المنکر 
ویحل لھم الطیبت ویحرم علیھم الخیئث و یضع عنھم اصرھم 
والاغلال التی کا نت علیھم۔ 

77 )"ول کک پروی کر کے ۔اں بیج ہو غیب 
کیا با بقانے والے ائی کا ے مکھاپاغیں کے اپنے پا قرات اور 
اشن دوا نیل عم دےگا پھلاگیکااور روک ےک برائی سے اور علا لکر ےئ 
ان کے لے ری یی اوز حا مکرےگالن ن گند کی چرس اور اجار ےگاان 
سےا نکا نار گی لو اور سن تنکلیفوں کے پھارگی لوق جو ان یر جے_“ 

اس کلام پاک شس تضور علیہ اصلو7واللا مکوچو تصرف امور شرع 
بیس عطا ہد اج اکا بین ےک آپ امر با لمعروف تھی عن المنکر 
ترک پچ دں کے علا کر نے ذانے اورگنلد کی یو کو ترا مکر نے وانے اور 
لن قاع برداشت وچ اتارنے وانے خت لیف کے طلوقی دو رکرنے واۓ 
ہیں ۔کیاصاف ے یں ہے کہ اللد تی نے آپ مک مور شر عی. میس 
فذرت تصرف عطاف با جس یا رت آ پ٥‏ كّزن قئز فاتکاہاری 
کرتنے ڈالاکہہ کت ہیں۔ 

قرآن بی یش امور گویٹہ دشر عو ہکو مھازی طور پ خی کی طرف 
کو لضاف ار دا ما لوزی وا نکیالیاہے۔ پچ رکس پذرے 
گا ےکہ جازی طورپ ری ضن کور ایی طرف مضمو بکرنے پر چا 
رد /یاہاے۔ ہا عم اود الو داڈ یس حثرتر نیہ ب کحت ا سے 
مر دا ےکہ ٹل آپ لی خدمت می راک تاھاکہ ایک رات ج بک مل 








نے وضو کے لئ پالیادر دنر ضردریات م پچیائیں نذ آپ نے فرمایافقال 
لی سل مین ان ککیا اکنا ہے جس پر میں نے عم کیانکہ جج ھکو جنت مم 
آپ کی رفا قت عطاہ فرباا لااو چھ رخ کی کہ یس امراد و یی ہے۔ 
فمایا می رک اعانت کر اچ نس پ رکشت مود سے اس مس آپ نے ہقرو 
تی کے فربایاکہ ان گکیااکناہے۔ چنایہ مو لان مبدالنن مور شرح مو 
میس ایس عدیت کے یچ فرماتے ہی کہ ”از اطلاقی سوا لکہ فرمود مل موا 
تین کے اش نمیو اج رت مت و یا 
ادست دح رچہخواہ ہہ رکراخواہ این پروردگار۔ خو دوہ “(7جھ)آپ 
فرہاتے میں کہ سوال کے اطلاق ‏ ےک آپ ملانے لان ککیا کنا ےکی 
زاس مطاز بکو تین یں فرما معلوم ہو جا ہ ےکم ام کام ا پکا ہمت اور 
فدرت کے ماشت کے گے ہی کہ آپ جھ چائیں جن کو ا ہیں مو لانکری مکی 
اجاذت سے خطافر اعیں۔ 

ای عد یٹ کے تحت علام ملاع القاری صلی مر ما شرع موی : 
گت ژِں: یوخذعن اطلاقہ صلی الله علیہ وآله وسلم الامر بالسوال ان 
الله مکنہ من اعطاء کل ماارادمن خیائن الحق (ٹ جم )یی رسولی 
رم مپینے جو مطاق ایز کے ا مگ ےک عم دیاہے اک سے ایت و جا سے کہ 
ال تالانے آ پکوقدرت بٹی ہ ےک ال تالی کے خزانوں سے جم کو چائیں 
جھ ای دیں۔ 

علامہ بوصیر ان ”ا قصیدہ بردہ یں ج ھکہ انہوں نے حور علیہ 
السا مکوخواب یں رو بروسنایاادد آپ نے ا کا انچائی تین فمائی۔ آ پک 
ان شل فرماتے ئؤں وان من جودك الدنیا وضرتھا ومن علومك علم 
اللوح والقلم( تر جمہ )داد آخرت آ پک چنش کان سے اورلوں تل میا 
سم آپ کے علم بے پیا ںکای کت ردے۔ 














کت اھ ا ںا میں سے 
ں بن ساریةقال قام رسول الله صلی الله عليه وسلم فقال - 
"کم متکٹا علی اریکتە یظن ان الله لم یحرم شیٹا الا ماقی 
'وانی والله قد امرت و وعظت و نھیت عن اشیاء انھا 
--اوردوص ری عد یٹول ٹل لو ل آیاے وائما ما حرم 
ا داووڈ “راری کت )22)ھ) 


ط2 یف ےج فا اخ 
1 در و و اذا 


ٍ ا ا 
1 اریکتہ یاتیہ الامرمن امری مما امرت بە اونھیت عنه فیقول لا ادری 
ماوجدنا فی کتاب الله اتبعناہ ! (ابو دائودٴ ترمذیٴ ابن ماجهٴُ دلائل 
النبوۃ ) لت جمہ )داد تم س ےک یکواپنی رکٹ پر کیہ لگائۓ ہو 
ہی چا ہوانپاؤ کہ جنبا اس کے پا مب اام ریا یس ےکوئی ام رآ ذو ہکہہ 
کی ا جا ہی مکوج قر نکیل ہما اتا عےکربی ے۔“ 

یکن آپ نے ش یا تضعرف سے الک رکرنے دا کولس قرر 
ڈاٹاے اور کہ ےس 7 ای یت 7 نکی کی ہے اورا ںگایاتا 
عق دش رآ نات ض دی ہے ۔آپ لٹ کے ام رون یکا مطلبٰ ف0 





ہے مقمدتے : تن 
دوال تال یی م رص کے خلاف ہے بہ اس ے مرادی ےکہ اللہ تھا کی 
عر تی سے جو یی نے امرد نٹ گکیاے جیباک وم ینطق عن الھوی کا بی 
فاضاے۔ 2 

امام اھ وا ور بن لی شیب حخرت مل سے مرو یکہ مضوراور جال 
نے فرایاکہ اعطیت مالم یعط احد من الانبیاء قبلی نصرت بالرعب 
واعطیت مفاتیح الارض. الحدیث(7 جمہ )گے دہ عطا ہواچھ جھ ے 
سیب یکو عطاتہ ہدا۔د عب سے می رکا د دک یگ کہ مویہ گل رکی راہ یر ش٠‏ 
میر انام پک مگ رکایی کلت ہے اور شھے ساد کیا ز بی نک یکخیاں عطا میں ۔ بن 
الخ می رکیاامص ت۳ من پر قالئٹ ہو جا ۓگا- 

مام اتد اپتی مد یس ان ضبان ایک یس او یم تی دا تل الو 
یں حظضرت جابر بن عبداللہ سے راوگ کہ فرماتے ٹل اوتیتِ بمقالید الدنیاا 
علی فرس ابلق جاء نی به جبرائیل علیہ قطیفة من سندس(7جھمہ) 
ححفرت چچ رکیل علی السلامابلقی کھوڑے پر یتین ر نی لاس زیب خنن سے 
. ہو دا رک یمکخیاں لیکر می ری خدمت یس عاضر ہو نے ..ہ یہاں پہ کی 
قرف ءارے۔ 

مواہب لد یہ یش ماما ھتان فرماتے یں من خصائصه صلی 
الله علیہ وآلہ وسلم ان کان یخص من یشا ء ہما شاء من 
الاحکام(ت جمہ )سید عالم مل کے خصائح کر مہ سے یہ سے تضور علی۔ 
اصلوۃوالسلام شر بیت معطبرو کے عام اھکام سے جے چاہیں جس عم سے پایں 
ا جا 





106 


علامہ نفا شرع شفاش یف شی الر یا می کھت ہیں بیننا الامر 
انه لا حاکم سواہ صلی الله عليه وآله وسلم فھو حاکم غیر محکوم 
(قرجمہ )یی مور علے الللام کے سوااد رکوئی عم نی بپیں دو لوم نہیں پگ 
نس عاکم ہیں....۔ آپ مکانے ححخرت عثان ری الد عض سے دس ہزار 
اش ری پر جقی مکی فروشت کر زیااور انت اور مہ داریی نےلی....... ای 
مر نطرت علانع نے ایک مہ پیرردمہ ولڑس برارر وپ سے خریدکر 
فور علیہ العلام سے ایک لی چش نہ کے بلہ فروخ تکیااؤ رپ نے مر وم 
دارکی لےی۔(مامخوذازالامن والعلاء) 

امام خر علامہ جلالی الد ین سید شی ای تاب ”انباہ الاذکیا فی 
حیات الانبیاء میں فرماتے ہیں:_ ٥‏ 

( جم مین ىہ اعاد یٹ اور آغار سے جایت ہ کہ آپ ما نال 
امت بن نظھر فرماتے ہیں ان کے گنا ہو ں کو معا فکرائے اور پلاول کو 
ور نے کے لج اور عدود رشان افادہ رت کے گے طواف فرماتے ین اور 
جب امت ےگوگی نیک آدیافوت ہو جاے وا کے جنازہ می ش یک ہوتے 
ہیں اددھالم پر زغ یش آپ تل کے ائی طر کے اشقال ہیں ججیراکہ اعاد یت 
او رآثار یں برکورے۔ 

تی رو البیان سور ولک کے آخر سککھت ٹژں‌قال الامام الغزالی 
والرسول عليه السلام لە الخیار فی طواف العالم مع ارواح الصحابه 
رضی الله عتھم لقدراہ کغیر من الاولیاء (ت جم )امام غزالی فرماتے ہیں 
کہ رسول اللہ مل الد علیہ دآلہ وس مکوىہ انار دیاگیا ےکہ دہ قام عالم ٹن 
اروا اہ کے سی رکر یی اود ببت سے اولیا ہکرام نے تضور علیہ العلا مکو 
(ششفا می ر کرت ہوئے بیداارگیا) می دیکھت ہیں۔ 





اخیارا ٹک ٹیش 
راد فکمفارپ عذا بک جلدی کی 
فلا تھچل علیھم انما نعدلھم عدا (۱۹/۸۲) 
رت آپ مل ) ان پٍ جلائ کے رو وک 
ارت پڑت 
تقرج۔ کفاراستوزاکے طور پر آپ ملک سے عذاب لانے کے ل اکر تے 
تے۔ اس پرا تھا نے فربایاکہ آپ مگ جلد یکر میں عذ اب لان ےگا۔ 
کت عذب لانے کے لے جلدی ن کن ےکاکہنا آپ مل کے اخقیا رات 
ظاہرکرج١ے۔‏ 
٢۔‏ فان جاوك فاحکم بینھم اواعرض غَنلُم (۲۲۱۵) 
تر بن وآ( کلک کے حور خاضر ہو ان ین فی لن بریںی 
اعراس فرلیں۔ 
تر" ا ا وی کات اب ا رکب ہن اثرف 
کم ہن ا سعید بن ظرو زار ٥إ‏ فامنیڈ واطزا ہے 
کھت آپ تقد افقیارہے۔ فیصل کر میں اع را فرمالیس۔(لشنی تدکری) 
۹و اور 









و آپ ملک ہرس ہاور آب نگ کے تصرف میں سے جب 
چا یں ادر شس چاہیں یکا کات آپ کے ص مکی خنظ ہیں 
قرآن پک مس بہت ی ای الیل دک ہیں۔ ہا آخ رک بات ال 
۵0۵۳ا ",ھ04 تم میرے موب بنا جات ہو 
5 میرے محیو بک یروگ یکرو سور وتور ٹیس فرماانماز رکرو لو وو 
اور بیہرے عیب دی اطاع تکرو می تم بے رہ مکروںگا۔ اپ 
چک ہلت تر فک ری ے۔ 
ایک ٹھوس ق ہنی دلیل د نے سے پیل مہ تاماضرو ری ہ ےک اللہ تعالی 
نے تم عام اسانوں کے لے اجابا کے رھ ہیں لا( جب 
عليکم القخال) تم پر جباد ف رخ شک دیانگیا ایک اور ہہ فرایا کیب 
علیکم الصیام زغم پرروزے فرخ کر دے )جب معالمہ گہوب 
ملک ہو سے تار بھی ہناد گیا ہدفذ عقلا ىہ بات درست معلوم ہو لی 
ےت کیھٹ ویر وکامتاللہ بھی آپ مل کے تصرف میس ہے۔اللد 
تال فا ےیا یھاالمزمل ہ قم الیل الا قلیلاہ نصفہ او انقص 
منہ قلیلا ہ اوزدعلید.- 7 جم ۔اے مھ رٹ مار نے والے رات 
مب قیام فا سوچ رات کے آ میا رات ۔یااسں سے ببھی پچ کم 
کر دوبااس پر یھ بڑھالو--۔ تے جناب عاٰ پ اخقیا کہ ل2 
کے ای و ما نے آپ کپ کے انقیار 
یں ے۔..ہ مو کال واملوکوں کے لئے ےہ کے ٌ‌ک ات 
کے ل کوک اظھام تب ہآپ تی مل ہیں۔ 


7 
8 





09 


اخزیار ات مض می مال 
کلک امو تکااجازت لیا 


وصال عق سے جن روز قیل حنرت جج رہل علیہ السلام پارگاہ رسالت 
سآ ے اور رت کہ تق تھالےآپ پرسلام کیا ہاور فرما تا ےل ہآپ 
اپنے آ پکوکیساپاتے او رکیاعالل ہے۔ فرمایا”اے بر ٹن و 
ک٤‏ ہو ۔“ دوسرے دن بجی پر آے اود ای مر را ب کیک اور 
توراکرم صلی اللہ عليه وعلی آلە وسلم نے میا جو اب مر حمت فرایا۔ وہ 
تیسرنے دن آآئے اع کے پھ را ولک الموت اود ایک اور فرشتہ بس انام اتیل 
ہے دہ بھی جج رب کے ساتھھ تھے ع رخ سکیا ”اے م(صلى الله علیہ وعلی 
آله رسلم) 7تٰقالٰ آپ سام گتاے۔ 
عردی ہے کہ لک الموت نے عاضر ہوت ےکی اجازت ماگ پر 
وہ نو اکرم پل سے پا "آۓ اور آپ ھا عمائٹٹ ککڑے ہو گج ' 
اون ع رض ککرنے گے میا سو اللہ“ ' اد :ال نے بے تل 
کے طرف تھا نے اودر عم دیا ہے کہ می پل لات کن 
یی پا فربائیں کہ ا آپ 0+9۶ 
اہازیت 11ك02030) ف یں تی فک رن ئن نان شال ان 
آپ کو انقیارمرححت فراا ہےر ججریل علیہ اللام نے اکر عر 
کیا۔ اے ممصلى الله عليه وعلی اليه وسلم تن تا یٰ آپ ماتاتقی 
سے اور آپ کوبلاتاے۔ اں پر ضور اکرم صلے الله عليه وعلی اله 
وسلم نے فرلاہ اے لک اموتا جو میں مم درا یا سے اپے ای 
یم میں مشفول ہو جا ۔ جتریل علیہ السلام نے عر کیا۔ زشن پر 


بی جب ردئی 










کے گے رتا 
ً اے ال ٍ معلوم ہےکہ ب کون ہے سے ا 
تڑڑۓ والا انٹول اور تمناؤ کے وال :ای بن ہنوں 0 دکھو کے والا “ 
و کر ولا 'اور گل اور کت کشم بنانے وا ہے۔ سید فا مہ 
سو کا الله علیہ و علی 


ہیں۔ ےک ا در ر الہ 
اشگوں کپ ناد دلداری ورفقازت فان پش رواچوں 


سے را گے اور ور ارم صلی الله عليه و لی آله وسلمکا 
پل زا اور ےکہ تر سب سے پیلہبھ سے مدکی ا کا شارت دی 
تم جھتی ببیو ںکی مس داد دک کی عد وٹ اک ایک وت میں دا ہولی 
ہیں۔اس کے بعد سید داش زبرآ سے فمایا اپنے پچ ںکو لات دواام صن اور 
وام تین علیہم سیب والر ضوا نکو خضوراکرم صلی الله عليه و علی آله 
وسلم کے سام لامیں۔جب الن صا زادگان نے س بکو اس حال می دیکات 
رونے گے اور ا یکر سےگھرکاہرفردرونے لگا تضوراکرم صلی الله عمليه و 
علی آلہ وسلمنےا نگ لوس دیا۔اورا نگ یں 0 اورانع نے میٹ کے 
پارے یں صحا کرام اور تام ام تکووصیت ف مکی ۔ اس کے بعد ضرت عا ئک 
آگے بوھیں اور عرش کیا ”یا رول الد صلی الله عليه.و علی آله 
وم تیشم مار ککھو لج اور میری طرف گا ہکرم اٹھایے اور وصیت کچ ۔ 








لا 5 
ضوراکرم صلی الله عليہ و علیٰ آلہ وسلممنے تشم مار ک کول اور فیا 
اے عائٹڈمیرے قریب ہہو۔ “ ف ربا نل جو دصیہ تک ہے دی ہے اوزائی پر تم 
گل لکنا _ اورہتمام ازواج مطبرا تکووعحیت فرمائی ۔اکے بعد فربیا ”می رے 
بھائی عی رض اود تی عن ہکا بلات حفرت عم رنصی آ اور سرہانے بیٹھ 
جے اور تضوراکرم صلی الله علیه و علی آله وسلم کے سر مارک کواہپے 
زان پر رکھا۔ تضوراکرم صلی الله عليه و علی آله وسلم نے فرایا ٭اے. 
یل مان اشفائص یس پیل ہو گے جو حوخ کوٹ پہ جھ سے می کے او می رے 
بعد بہت کی گور انیس شی یی ہنی نکی "یں لاڈم ہےکہ دل گت ہونا 
اور ر رکرن۔او جب تم یھ کہ لوگ دٹیاکوپن کرت ہیں لزنم آخر تکواغقار 
کنا قرمپااللہ الله فیما ملکت ایمانکم اشبعوظھورھم والبعوا بطونھم 
ولینواھم بالقول۔ خردار ہو ہو شیاراپنے ھا مو اور باندیوں کے من بش ان 
کو لاس پی نکد ینا ا نک کھانا پدیٹ مجر کے دینااور ان سے نکی کے سا تھ پان 
کر نا رت علی م رقغٹافر اتے ہی ںکہ جضوراکرم صلی الله علیہ و علی آله 
وسلم میرے ماج نوف را رہے تھے اد رآ پکالعاب د ٠ن‏ مبارک بھ پر تچ 
رہاتھا۔اس کے بعد تخوراکرم صلی الله عليه و علی آله وسدمناعال تج 
وگیاادر ٹن پردہ عور یں بے طاقت ہ کک اور یس بھی اہ کو برداشت تر 
سکاجھ عال لکیہ یا نے اس وت دریکھا۔ شن ن ےکہا”آے عباس ری اللہ تعالیٰ 
عنہ می کیم دکر و“ حطرت عبائس د صی اللہ تعالی عنہ ا اور دونول نے مل 
کر مو راک رم صلی الله عليه و علی آله وسلمكو ٹیا ذکر پڑاکل لٗروضھ 
لاحباب 'لشنی ٹن نتقق رحت اللہ فراتے ہو ںکہ پیل گزد کا ےک عضرت 
عائکشہ صدیقہ رض الما ش رک کی ہی ںکہرسول الٹرصلی الله عليه و علی 





112 


آله وسل مکی رو مارک میرے ہآ خوش می فی ہوکی ہے۔ اور مشپور بجی 
یا ہے اود مد شینغ این عد بی ٹکو ہج گی با نکرتے یں اوران کہ نے 
روایت لاتے شی نکی آخروقت مل تضورصلی الله عليه و علیٰ آله وسلمکا 
مارک ححفرت جلی ر مت اللہ تعالی عنہم نشی کے زان پر تھا۔ سے عاکم اور 
این وط رق تعدرودسے ردابی تکرتے ہیں اود اس بیان سے جو اد پر ےکور ہوا 
اہ رہ جا ےکہ رت می مرتی ہے اور مو راکر صلی الله عليه و 
علی آلہ وسلم کے سر ہانے ٹیش اور تخوراکر صلی الله علیة و علی آله 
وسلم کے س اق کواپے بازوپہ رکھااود ظاہر ہنا ےکہ آخر عبد می چن 
اوران دووں مف ون کے در میان مفائرت ہے ۔ کہ سرماک بازدپہ دکھایا 
آ وش میں رکھا۔ہاس مفائر تکاار تھا آسمان ‏ کہم داولوں کااختلاف دے 
جو رح کو گی ف رای ہ ےکنہ خو دک آراستہ وپ راستکرنیی۔ اور فرشتو یکو سم دیا 
ہ ےکہ انھو علف دز کھڑے کر روج مامتا یکر داور بے تم ہوا 
ہج ےکہ ز من پہ جاذادد میرمے تحبیی بکو اڈ کہ تن تھالی فرماتا ےکہ تام ایا 
یم السلاماورا نکی امتقول پر جنت اب وت کک قرام ہے جن بک کک آپ 
او آ پک امت ائس یں داخل نہ ہو جاے او کل قیامت کے دلن آ پک امت 
آ پکوا ادگ جائ ےگ کہ آپ داش ہو چائئیں گے اس کے بعد حضور ارم 
صلی الله عليہ و علی آلہ وسلممنے فرماا ”ےملک الم وت !وج ت میں 
عم د اگ اہ این پش لکرو“ پھر لک الموت تضوراکرم صلی الله عليه و 
علی آله و سلمکروں اط و فی کن ٤ا‏ 01 ینغ لے سے او رکا" ز1ب" 
ار سولی رب مان حضرت جیا جن ال طاللبٰ ر شی اللہ عنہ سے منقول سے وہ 
فرمات ہی ںکہ میس آسما نکی جانب سے فرشتو ںکی "دا او کی آواز ممتا تو 


113 


ش بیع تکیاے ؟ 
رو لکر مم ملللگ کے اعمال مبا رک اقوال 
مہاکہ قی شر بیعت ہیں 

تا دی نگرام 

ر سو لکریم جو خل مبا کر میں یاچج فرماد می وی شز بت سے 
اس ل ےک آپ دی قالون اذ ہیں اور متا رکتل ہیں ۔آپ کے لب مارک ے 
لے ہو ۓ الفاظ ق کن ئن گئے ۔ حد یٹ من سگئے ۔آپ کے اخمال مبارکہ ب کت 
یک نا پا مان گنوانا ہے۔ ہی اک ہآ جک لک نام نماد مھقی اور صا جزدگا نکر 


رہے ہیں۔د 


ای ھھاارےے 
مور شیع شی ر سو لکر مم پل نا میں 
قامت بی ثابت ہوگاکہ اللہ تعالی کے عم سے عم آپ می کا ہوگا۔ 
آپالل تقالی کے عم سے ج چائیں جو چاہیں ریں۔ 
ای طر تیور علیہ السلام نے اپنے دو سھائیو ںکو ششما ہہ میک ری کے 
چیا قر بای دی ےکی اجازت فرادی ہار مسلم(۴) ایک صحاب کو 
خاوند کے فوت ہو نے پہ ہیا ماد ماو درس دنن کے صرف تید نکا 
سوک ین کے بعد میا نک اجازت دے دید (طبقات امن س) 
ایک ععال یر مان یل روز: فو کر تضمور علیہ السلا مکی پنا وش اور ججاے 
: کفارواداکمر نے کے ور ہار" بناسسے خر سے نے جاتے ہیں 
)-٣(‏ 
پک عالت میں عورت محر می نہیں جات لیکن ازواج مط رات 
الات وشن اورعخرت نائن جنت فاظرہ رضی ایڈر فھ نکو 
اور مولی یکم اللہ وچب انک یم مکو تضور علیہ السلئم نے اس عم سے 
کل رید (نعح مکی رط انیو م٠ن‏ تبق) 
سونے کا ہر زیر مرد کے لے عرام گر مفور علیہ العلام نے 
حٹرت برائگوسو ن ےکی او شی پہنادہی(مسندامام اد ) 
رلشم مردی عزام گر مضور علیہ السلام نے دو شخصوں عبرال من 
بن عو اورحضرت زہ کور می ےک اجازت دے دی ___ے 
ایک تشھس اس ش رط پاسلام قد لکرتے می کہ وودہ نماز ے زایرد 
بڑھیں گے جفمور ا سکومنظور فر اکر انیس مسلمان بناتے ہیں۔ 
(منرلاما22) 
ق رآن تید ٤ے‏ ترجی من تشاءژفھن و تووی اليك من تشاء 
شس کو چا یں اپٹی صحبت ور ناقت ے تےکر دی اور جن سکو چائیں 
ای زی رین 













رسو لکر یم یل کے محاسن افیال 
اور فراشن مبارک شر بعت ہیں 
رسول اکرم نے مذابے خلیفہ (حخرت عمڑ) کے مشورہ 
مر لت ت آراردے ایا تھا (اذاندیتا)- 
بر سد لکریم تل کون دق بیو کی نظرمیں ت 
خرف بھی ہو بھی تی ےکی کہ ووخودش ریت ہیں ۲۱۴۸لاس لۓ| 


تل ماک یں اور قرآن گمرے) 
(مذی فہک گرا 


رسو نکی نے فوپے یں ( اب عفر م) 
انل نہ ہونے وا 







( نما زور 
رسول اکرم اکر نماز میں مشغو لکو بلانمیں لو نماز کر 
جا بقول مام شافی نماز نہیں ٹومی_ 







(۸۸۲۳۴(جف رتا ء یکب) 
رسو لکریم لک کے لئ صددل یڑ از یڑ ھت ہوۓ تضور جچدکو 
چک دینے کے لے پیٹ جائیں نو نمازنہ ٹونے۔ 


2 ہف ۴۰۰۰۲۷7۸ 
رس لکریم نکی ر ضا کے مل ۓےکحہ قلہ بنے و نماز ٹس بھی دوص رما ٠‏ 
طرف مہ پیر لی ے نماز دہ ٹوئے۔ 5 


یرتا ۔طری): 





11 


باوجدد تحرم ہو نے کے رسو لکر یم چلگ۰ کے اق بک ہبرسہ میں طواف 
کب کافکا دککردے ٹا “مال کوکوئ یگناوت ہو_ 
(محک ع۸ صے۳۹)(عد یی ۔ حرے خان) 
رسو لکر یم مک صحا ہہ (حضرت عثاع )کو پک میس شائل نہ ہو نے 
کے باوجددبددیہ دے دیکی ۔کیوں؟ اس ۓےکہ آپ نپ خود قانون سماز ہیں۔ 
رر ج۸صن۔ءم) 
ر سو لکر یم کا خواب بھی ودتی ہے( ماجنا دی با تکر رے ہو 
اور پھر لی لن )٣٣‏ 
رسو لکر یم کا رفیصلہ عم اور حمت ۳رہ ے۔ 
(یعلمھم الکتاب والحکمة وی زکیھم) 
رسو لکر یم جلل کا دہ وک پر نہ جانے والو ںکاسو شُل پائیکاٹ 
راد کر وا ین جگمت ہے۔(آپ کل کم ہیں ق ران عم ہے ) 
(سلا مکاج اب نددینا۔ ق رآ نکاخلاف سے فسلمو ا سورور) ۷/۲٢‏ 


س1.0 او اہ 9ا .یک ا و یں 09 


0 


22 


خلافاوگی۔ ترک ااضل 
نات الا برارسعیات الم بن 

سی اصطلا حا تکورسو لکر یم مل کے اعم مبا کہ بر لاگ دک رناغللط 
ےکی وک رو لکریم لاگ ائ .وی اور انل ہیں پک ےرت 
ر الات کے خلاف میں ا ذنب اکور سیر پک سے فو کر سے 
ای جاویھی کم نردی گی۔ 
اکر صنا تکوسھر رجہ و تھسا 
جن نطرات نے مکیادہ جا" میں اورا نکا کام عق تر یر لازم یی 


رو گرم مک کے لے میا امور 


(تم خلوف اوک اور رکف لکی اصطلا میں لے چھرتے ہو) 
علامہ جلال الین سی ”خص ال لک ری کھت ہیں ۔ مند رجہ ذ یل 

مو رآپ کن کے دن ین سے ون ادا ن کاٹ کاش یبا تا ات 
کہ آپ مك تہاۓ امت کے پانوں سے بلند ولا :انل واعی اولی ہیں۔ 
كٍ مم ارس پراسسہڈگاکرا نکااتا اترام تھا۔ 

٢‏ : اسان کے بد لہ ذیا ا چاجناآپ پ7 ام ھا 

کات کتاہے سے نک آپ پ ما تھا۔ 

کے ا /ہاجرہعورت سے آ پکا ئا تام تھا 

۵ مسر کے عد ما زآپپ برا تی 

<٦‏ رسول ریم مک اہر ہر اور پک صاف تے۔ یہاں کک کہ 
آپ ملک کواگر ضر درت تسل ہوک جب بھی پ اک صاف ع ج ۔عاجحت 
من نہیں جھے_ 













پاا وا ضس رس ارہ ا 6ر ج: 7ے 
آپ کے خسائ مس سے ہہ ہےکہ آپ نمازکی عالت ٹیس بچھوئی گی 
کو فو یئ د کرت تھے۔ یہ ان عدیوں می ہے ہج نکوپض علارتے 
جیا نکیا ے۔ یفن نے اد قد رد کک ہرسول از س7 
امہ زجب کہ دسول اللہ مکی صا زاد کی بٹی میں خوش میں 
وت ےرت دک نے ش جا اخ شاد تار بب 
ا مو ے بو تے آزانڑیں اٹھال یکر ھے فا ا ا ین 
خاش سے ساب ہجرنے شر ہیی نف لکیاے۔ 
کت ۸۔ چا اک ےب ۴ 
ا امام ابد ضفیہ رحتہ اللہ علی ہکا م ہب یہ ہےکہ طائ بک نماز جنازہپڑھنا 
رسو لالہ کے خصائس می سے ہے ادرای انماس پر ماش کی نما جنازہ 
. کو مو لکپیاہے۔ اما" حیفہ نے فرایاخائاہتمازچٹازہ آپ کے سوادوسروں 
: کے لے جائزاوردرست نئیں ے۔ 
ا کے حعالت نیف جس بھی آپ لطاراورباوضو رحوشک 
: نے اون اتی رای کک نکر مکل نے رات می 
وضو فرملا اور نماز پڑھی ۔ اس کے بعد آپ سو گے ۔ یہاں ت ککہ ٹس نے 
خر خراہ کی آواز کی اس کے بعد مو زن آیا اور آپ اشھ ھکر نماز کے لئے 
ار یں لے ہے 
اکن ماجہ اہو لی نے ابی مسحود سے رداای تک کہ انہوں نت ےکہاکہ 
رس لالہ مک سر ھھ لی کر سو چااکرتے تھے ہا نیک کک سال شک آواز 
ہے گن ۔ بر آپ اش ھکر نماز پڑ ح کی دکلہ آپ طاہر مطبر اور باوضو ہوتے ۱ 
ْ: جگے۔ ا کا علتيے ےکہ وی 1 یں سو تاد ہآ پکاول یدارر تاد 
















پت رڈ وخ 
جابرشعبی سے زواجت کان یکاہ ر سول ال کے گے خر 
نوم اعم رے۔ دار قطنی نے اکس م بے ' 


چت نکیں سے اہ مراسلی ہے اورای ل کہ اس یں راو ایا۔ 
کے رواجم کر نے سے لو وگ اعتزاش اک نے یں 
ال صوم صا لآپ کے لے مباں ھا 

تا نے وا نو ےار ا 
آپ وص وم وصال سے اجتاب کرو صحایہ نے ع رخ صکیایار سول اط مکل 
تآصوم وصال رک ہیں حضور یپ نے فرمایایس تمہار یل نیس ہوں 
میرار بکگھلا تاے۔ 

مل ےم مم ید 

سد کہ تئیہ کر قا لک 
اورو ں غن یکر ناو ایا جرام کے دال ہونااور بایان 9تھ2. آ یش 
لے میا عکیاگمیا۔ انل تھال نے فرمای 
لااقسم بھذا البلدوانت حل بھذالبلد گے ش ہا شر کیاکی کہ ای شر 

میس آپ علودافروز یں 











إِن مر 

حر ہیں ا دا موک آپ کے سر مبارک پر خود تھا۔ جب 
آپ نے خوداتاراق ایک من نے آگر جایابن طف کہ کے پردوں ے پٹ ہوا 
سو 

پک آپ کے بی کے سوایھھ اہ نین بقاث 
ا س٭م''ِ'""۳ کن سے ہ ےک خض بک حالت مس وو غوف 
مین تھا جب خوف پوجاہے. نود نے شر مسلم مس لق کی حدایٹ ان 
کرت دقت ا ںکاؤک کیاک 1 آپ نے اس بارے میل فی دیادر آل حا لکہ آپ آپ 
2 ات غحضب شی ت ےک آپ کے دوفوں ر مار سر تجھ۔ 

۴ آپ خو دو ا ےد بکوایک خی ریس مم ف اہین 
ا فور اکم پل کے خصانس میں سے جیاکہ جن عزذالد بن ابی 
7 عمبداسطام دٹیبرونے فرایاکہ آپ کے لئ ىہ جائ الہ آپ خودکواور اپتارب 
کو ایک فی می می فراکیں جیاکہ آ پ کاارشاد ےک ” ان یکون الله 
ورسولہ میھما سواہہما“ آپ نے اس خطیب سے فرمایاشص وف تکہ اس نے 
ىکہا'ومن یطع الله ورسولہ فقد رشد ومن یعصھما فقد غوی “خی 
0 ات مکو بی ہکہناجاجے تھا۔ ۷ ومن یعص الله ورسولہٴ علماء نے فرمایاکہ 
بات آپ موا کے لے ممنو بے ۔ آپ کے لئ ٹین ان ل ےک یت 
سواج کو ئی ٠‏ کر ےگ ای یل برای کے الا کہم باہو لاف ات 
ک ےکی وکلہ آ پکامنصب بی الما ےک آ پک طرف ایادہم راوی نہیں انکر 


۵۔ آپپزرووجب خی گید 
رسدلالل مل کے خصائ مس سے ہہ ہے کہ آپ پر زکوواججب ٹہیں ہے۔ 
اس لکیہ دواللہ تال کے سا تھ ہیں اددا نک اٹ کو گی کیت نی ہو تی وہ 
صرف ا گا شہادت د نے ہیں۔ جودان کے دولوں ‏ اللہ تھا لی اپٹی طرف ے 
ان کے لے ود اعت فرما ٤‏ وہ حللف او قات میس وی نخرر گمرتے میں ج کور 
تالی خر کرات ہے اور ام ںکواں کے عل کے سواس خر سے باز رھت ہیں اور 
اس لے بھی ان پر زکو وکا وجوب نی ںکہ زکوۃان لوگوں کے لئ طہارت 
ہے۔ جو مچاتے نی کہ لن لوگوں می سے ہو چانیں جن پر طہارت واجب ہو ہی 
ہے او زایا میم السا م اپٹی حصعرت نو تدج سے طاہرومظہرہیں۔ 
وودو ریو او کرد وت 

ای این کے بی ہےکہ ا ہوا فیس سے چار شس اور 
وط و آپ آاے اار ےگ تیم خیب سے بے 
فیمت ونی رو ے باندی و دجن آنےاپنے لے خاص فرالی لال 
فرایا۔ 
ما افاء اللہ علی رسولہ من جونأیصتد لاک اللد نے اپنےر سو لکو 
اھل القری فلله وللرسول غُروالولں ے ووالٹراور رس لکٰے۔ 
ادرف رای واعلموا انما حدصعم اور جان الوکہ چ یھ یت لو ا کا 
من شئی فان لله خسہ پانچواں خصہ ا الد اوران کے 
وللرسول ر سو لی کے 





12 


مھ می حا ج کے دی ش لیت سے 
کیوں؟ اس ل کہ آپ انی خوائخل سے میں تہ آپ 
وش وق ی کے میں جوا ون تھا پٹاے۔(وما ینطق عن الھوی ان 
ھوالا وحی یوحی) 
آپ مکل نے جو فیا دتی ق رن پاک بن گیا۔( ان لقول رسول 
کریم) 
ال تھالی نے انسانو ںکو عم داکہ نی جودے دے نےلو۔ جس سے مع 
ککرےپاژر ہو۔(وما اتکم الرسول فخذوهُوماتھکم عنە فانتھوا) 
ق رن یم اللہ تا اور ٦ن‏ لے کے درمیان بات پیٹ ے 
(سورڈلق ر کی آخری * ٣آبات‏ امن الرسول سے الکفرین تک شب 
مرج 
ق رن پک می کون کی سور ویش ےع(الف) (ثا) سبحنتك 
اللھم(ب)اقات۔ 
زمازج کہ انفل زین عبلات ہے ۔ اس یں نام التقیات اور درور 
ابرا نی پڑھاجا تا ہے پھ راو ککیوں پڑت ہیں کی ھکلہ ق رآ ن پک 
یش نہیں ے۔ 
ہماز ٹیس شاء التیات در ود بر انی اس لے پڑت ہی ںکہ ہمارے آتا 
نے جف ادریادی شر یت ہے دای دن ہے۔ وی اسلام ہے۔ 
دی نماڑزے۔ 
















7 


. ایمان:۔ امنو بالله ورسولہ(٭ ٣رف‏ )۱ك۸۱۰۲/۱۳۷-۱/ ۵“ 





جرنام ا آے خر لن ا 
اطاعت: اظیعو ایل واظیعٴ الرعول ( ۲٢۲‏ رنے) ۳٣۳٠۔٢‏ 
۸۰۔۹۹-۔۹ھ۔ ٠٣٣‏ ۹۳- ۵| ٣٢٣۔٢۲ا|۸‏ ءا 
۷_ ۵۳_ ۰|۵۲ ۷٠ے |۱2١ ےا٣۳۶۳٣۳ |۳۳٣ _٦٦_‏ ۴۸ 
7۸۳۰۶۳۹ ۱۸ر ٠‏ ٰ 


ا۵٣۲۸/۱۳۶۲۸‎ |۹۹ ۲٢ |٣٥٢ ۹_۸٢۷ ے‎ 
۸ ۷۷۷۰/۹۸ ۱٣۵ء۸ 8گ‎ ۴۰ 

کت کفروا بالله ورسولہ(٣رتیے) ٣۸۰.۸۲۰۳۸۰۱‏ 
خخالفت: ۔ یحادو ای الا ورغول(3اب) ۸۳ ۶ 
۵۸۸۵_۲۰_٣٢‏ 

ایا دیتا:۔ یوفون الله ورسولہ(٣ئے)‏ ۵۹۷| ۳۳ 
اف بای بعص الله ورسولہ(٣رقی‏ )۱۴( ۶۴× رز حسم ؛سم 
جُگ:- حارب الله ورسو لہ (٣رفے‏ )٤۹ء‏ ۵/۳۳۰۲۲ 'ے ۹(۰ 
دٹاکرنا:۔ لانخونو الله والرسولے۸/۲ 

وٹ ولتا:_ کذبو الله و رسولہ ۹/۹۰ 

ترامكیا:۔ حرم الله ورسولہ۹/۲۹ 

ا ہزا/رن:۔ ابا لله وایتہ ورسولە کنتم ٹستھزون۵٦/۹‏ 
اتغفار:_ فاستغفر والله واستفرلھم الرسول ۹/٦7‏ 
مرف مھاجرا الی الله ورسولہ٠٠/٢‏ 


او 











محت:۔احب الیکم من الله ورسو لہ ۹/۲۳ 
عطا:۔ ماانھم الله ورسوله ۳۹ 
تخل:-سیوتینا من فضلہ ورسولہ۹/۵۹ 
رای:۔ واللہ ورسولہ احق ان یرضوہ ۹/٦٢‏ 
"ٌئ:۔ اغنھم الله ورسولہ من فضلہ۳ءے/۹ 
ا فصیری الله علمکم ورسولدن ۷۰ 
گزت:۔ لله العزۃ ولرسولہ۲۳/۸ 

دور کت انمَا ولیکم الله ورسولہ٦۵۔-۵/۵۵‏ 
دعرہ:۔ وعدنا الله ورسوله ٢۲۔ ۳٣/۲‏ 
:۔ صدق الله ورسولدے ۲۸/۲ 

فان بردار:۔ لله ورسولہدے ۲۸/۲ 
گم:۔قضی اللہ ورسولہ۳۳/۳ 

اترم یدی الله ورسولە ۳۹/۱ 

زیمت“ لله وللرسول۴۱۔ا[۸'ء |۵۹ 
مد:۔ینصرون الله ورسولہ۵۹/۸ 

لایاجانا:۔ دعو الی الله ورسولہ۴۸'۸/۲۴۔۵۱/٢۲۳‏ 
برات:۔ براءة من الله ورسولہا/۹ 

۶ر :۔عنداللہ وعند رسولہءك/۹ 

اذن:۔ اذان من الله ورسولہ۹|۳ 
خرخوا,:نصحوالله ورسولە ۹/۹۱ 

حر راء:۔ من دون الله ورسولہ ۹/۱٦‏ 

ڈرنا:۔ ان یخیف الله علیھم ورسولہ۵۰/٢۲‏ 
رجی:۔ فردوہ الی الله والرسول ۲/۵۹ 
نازل:۔ انزل الله والی الرسول ۴/٦۱‏ ۵/۱۰۲ 
اشت:_ بعث الله رسولا ۲8/۲۱ 





ا 
مر مات 


صفات حت بل جلالہ(رب العا نین ) محبوب يكل(ر حتہ ملعا ین) 


۲٥ 


۲/۱٢۹مهیكز کی:۔ ولکن الله ی زکی من یشاء ۹/۲۹ وی‎ 7 ٢ 


-.. معلم: الرحمن علم القرآنا/۵۵ یعلمھم الکنب والحکمەه 


۳ , 'ور: الله نورالسموات والارض ۲٢/۳۵‏ قد جاء کم من اللهٴ 


نور۵/۵ 
۴۳ راشی ہوتا: واللہ ورسولہ احق ان برضوہ٢٦/۹‏ 


(حبوبرانشی ت لمحت رامی) 
۵ کریم: یایھاالناس ماغرك بربك 2002 لقول رسول 


٦۹/۳ کریم۰‎ 


٦۔‏ _ رثوف : ان الله بالناس رئوف الرحیم ۳٢۲/۱بالمومنین‏ روف 


الرحیم۹/۱۲۸ 


کے رگم: ان الله بالناس لرئوف الرحیم /٢٢‏ بالمومنین رئو ف 


الرحیم ۹/۱۲۸ 


لتھدی الی صراط مستقیم ۲۲۱۵۲ 


- ھاوی: والله یھدی من یشاء الی صراط مستقیم ٢/٢٢٢‏ وانكك 


و فل: الله ولی الذین امنوا ك۲/۲۵ انما ولیکم الله ورسوله 


٦۷ھ‏ 1 
٭۔ گزت:فان العزۃ لله جمیعا ۲/۳۹ و العزۃ لله ولرسولہ ٦٦/۸‏ 


اا۔ ان دعمروں سے التا: لیخر جھم من الظلمت الی النورے ۲/٢٢۵‏ 


لتخرج الناس من الظلمت الی النور ۱٢/١‏ 


پا٣‎ 


لک 


۸۔ 


126 


انعا مکرنا: انعم الله عليہ وانعمت علیہ جس پر اللہ نے انعا مکی 
نے انعا مکیاد۔ ے ۳۳۱۳ 

اماعت: اطیغو الله واطیعو الرسول ۳/۳٣‏ من بطع الرسول 
فقد اطاع الله ۴۸۸۰ 

علا لکرنا:مااحل الله لکمے۵/۸ یحل لھم الطیبات 2/۱۵2 
ترا مگرتا: ماحرم الله ورسولہ ۹/۲۹ ویحرم علبھم البٔث 


۵2ء 

امم محروئے: ان الله یامر بالعدل ٭۹۰/٦ا‏ وینھھم عن المنکر 
۵2ء 

خی نی الک ویبھی عن الفحشاء والمنکر *۹ /۹ا و ینھھم 
عن السکر ے۵ااء 

داعئ: یعظکم لعلکم تذکرون٭1/۹اقل انما اعظکم بواحدۃ 
۳۴۷ 


شک رنا: وما نقموا ا لا ان اغنھم الله ورسوله من فضل۹/۸۳ 
عطاکرنا: ماانھم الله ورسوله ۵كا ۳۱ 

تقل: ولو 'اٹٛھم رضواما انھم الله ورسولە وقالو حسبنا الله 
سیوتینا الله من فضله ورسولہ ۹/۵۹ ۱ 

گیم: ان الله عزیز حکیم ۲/٥۰۹‏ یعلمھم الکتب والحکمة 


۲/۱۲٥ 


310ب پا لاح 


ہجوت 


رسول او (ح کا ات اود تا یکاا تھ 

ہمارے 1 قا حل اللہ تال یکی ریو بی تکا مظبر ہیں۔ اللہ تھی نے فربیا 
لولاكک ما اظھرت لربوبیہ(یا عیب ( يك )اکر آپ تہ ہوتے فو یں اپنے 
رب کے بن ےکو نھاہرنہ فرما )ال تی نے آپ مك ابی صفات روف “ 
ریم اوررحعت سے متصف فرمایا۔ چنانچہ آپ مک اجب ہو لے ہیں فوالدتعالی 
کچتا کہ ىہ ذاپٹی خوائشل سے بو کے نیس (وما ینطق عن الھوی ان هو الا 
وحی یوحی) رسول :یکا تھ بلازاللد تھا کا تھ بلانا ہیں۔ 
ا۔ بتک بدر:۔ فرمان‌ای۔وما رمیت اذرمیتٔ ولکن الله رمی(الاثقال) 
تر جیہ:۔ اوریا وب ج دہ ماک جھآپ نے مھیگی ‏ آپ نے نہ یی تھی لہ 
اللہ الی نے گی تھی بدر کے روز لڑائی کے دوران آپ مان زین سے 
ایک من ری تال او کفارک ہکا طرف ہچیگی بیس نے الیک شد ید آن دج کی 
صور رت افقیا رک لی ۔ عور ححا نککھت ہی ںکہ ىہ آئ مع یکغاز کے شیموں کے لئے 
بادئیکاباعث ہو گا اور ہ رکافخر اس وو می ا نکی طرف پیٹ ھکر کے ب یکھراتھا 
ا کی آعھوں یس یر یت پئی.-.-۔ ہہ ہے مزال تھی کے حجیب تہ 
کی مال تکر ن گی۔ 
یں بجعت ر خموان:۔ عد یس کے مقام پر ج بکفارک ہکرمہ نے آ گل 
کوعرہاداکہ نے سے روک دپا تار در خت کے یئ میعت ہی وج یہ تھی آپ 1 
مل نے حضرت عثان ر ضی ال تالی حنہکو ریش کے پا کھاکہ ایس بتا 
دی کہ جماراارادہ چ کک ٹنیس ہے۔ صرف عرردادا سنا تق ریش ن ےکہاکہ 
اس سال نے تجریف تہ لاوی اور ظرت عثان ر شی اتی عنہ جو سی ربن کر 
ک ککرمہ گے تکوطوا فکہ ہک ین یکش کی آتہوں نے نک کا ڈکا گزدیاگ 








128 
میں حضور مل کے ِغیر طواف نی کرو ںگا۔ اد مسلرانوں نے حضور جللھ 
س ےکہاکہ عثائن در شی اللہ تفاٹی عنہ خوش طعییب ہیں انی طوا فکر نک مو تع 
کیا۔اں پہ آپ چکگ نے فی ٹس جا ہوں ' عثان ر ضی اللہ تعلی عنہ 
سا ہمادرے اخیر طواف نکمریں گے ۔ یمر جب ریش نے حضرت عثان رضی الد 
“تالی عنہکود وک لیا یہاں ىہ خر مشمپور ہ گن یک ححخرت عثان رض ارڈ تال عد 
شی دکرد نے گگتا۔ ای پر ملمانو ںکو بہت جو آیااورر سو لکر مع نے 
می ہکرام یا الل تال عنہ سےکفاکے مقائل اد ین خا بت ر بے پر اعیت ل 
حضور مل نے انا بیاں دست خبلکف سب سے اوپہ رک ھکر فا کہ یہ عثان 
ری ال تقوالی عن ہکی بیعت ہے۔ااس پہ اللہ تھی نے فربایاہ میرااتھ ہے اور 
مایا اے رب نان رتصی اللہ تعالی نہ 7 تیرے اور ترےر حول کےکام میس ہیں 
(معلوم ہواکے آپ تاد معلوم تھاکہ خغان شید یس ہوئے شی فذا نکی 
تل )۔ اشھی ىہ بعت بورہی ش کہ جمرملی علیہ السلام حاضر ہو ئے اور ہے کے 
مازل ہد گی ان الذین امنوایبایعونك انما یبایعون الله ید الله فوق ایدیھم 
(دوجھ تہارئی بیع تکرتے ہیں دو فو اللہ تال ہی سے :بجعت کرتے ہیں۔ ان کے 

اتھوں پراوٹہ تھا یکا تھ ہے گو یا آپ نک اج ال تما کا تھب ن گیل 
ککتر: .مہ سمادریی صورت عال(5180981001)اللہ تھالیانے اس لے پداکی 
کے بت بد اور اپے محبوب مل سے بات ھکواپناہا تھ سے ۔ مقر ای خباقت 
ا 6 آپ مکل کے خلاف ط مکی لی کے لیے یکر جاہے۔ 
اگ پراۓ پت یہ بات دھیں وکیا( نتوذ ال ر)الل تا یکو بھی عم نہ تھا وک وہ 
جانا تھ بعت کے لئ رک رہاہے۔ بج نہیں آ ےکی ہیں یرت کے 
ای اور یرت تصرف ور مصعلئی کے لی ہے۔ 





کرو کی قد 


انا اول شافع انا اول مشفع 
شاج تکالغوى ہوم 
مان العزب مس ے:استشفعت الی فلان ای سالته ان یشفع 
می (7جہ) فان تن مین نے از خ کر ن ےکی اعد عاکی بجی دہ می رے لج 
خلا اکر اس ہے میں نے کہاکہ میزنے لئے دوسفازش از ال اکر ہے 





مجمع البحار میں ھے الشفاعة ھی السوال فی العجاوزمن اللنوب --- 


والجرائم شفاعت (سقارش) دزاصلل ہہ صوا لکرتاہ ےک ہگناہوں اور برائم 


نک کت ہے کہ گناہوں ے تھاوزکرنا وفی الکٹز 0 


مصدر شفع یشفع اذاضم غیرہ الیة من یشفع الذی هو 
ضدالوترکان الشفیع ضم سوالہ الی لمشفوع لە. 


کی تی رر اود ال وی لا ما کے 


خی رکو اپنے سا ملانے۔ گو شف نے اب سوال کو مخفوع کیساتھ. 
طادیا ے۔ 

شر یت مطہر وی شفاع کی متقیقت پہ ہے ججرم کے ا سے بجر مکوجھ 
کہ معائی کے تقائل ہو محبت فک وجہ سے یا خدائی عطاشدواتتزرام داع زاز کے پاعٹ 
قد رپ الع ت کے اذلن اور وعد ہک بتا یراک مل متبولن کے صد تے مجاف 
کرن ےگا ای اود نز کے حموں کے لئ ال کی جاے اور شفاع ت کا ملہوم 
ہرگ خی ںک ز بر دس دو سی طر نکی د حول ویک رم کو سچھوڑایاجاے(معاذ 
اللہ ٹم معاذ الد اور نہ بی شفاعت کے جواز سے ہی مقعمد ‏ ےکہ شفاعت کے 
سہادرے پرچھ چا ےکر تا پچ رے بللہ مطلب یہ مہ ےکہ فاضہ باشہ ہو نے کے بعد 





رانا نت کر وا تی کے 
فیضیاب ہو کے اور ں۔اور ظاہم ےکہ اب شفاع ت کا سہاز اا کو بے گل 
ہو ن ےکی جا پپودا ماود فماخبردار بنا ۓے اک کہ اول فو اضہ بای رکانضور 
: ا کال نیل ہونے دےگااد یھر مانہ ہار کے بعد سفارش میں بہ بش 
تتھو رفاو کیا کے ہے اناد طور بر نین کور نہیں پک موی 
ہ طورہے۔ جیاکہ عد یت شی ے شفاعتی لا ہل الکبار من امتی: (خ ری 
شفاخت ‏ مامت کے مان ال لیئر کے لئے ہے ) فو اس س ےکی ایک 
069 کاشفاعحت پہ روس ہک کے فلت شعاد کواپنا شید نلیا ایک سے مق 
2 الات چت ا 
080 خفاخ تک اقام 
1 ا قاع تک ررانھیں ڈیں ای کہ کاو دوس رک خھف کا ۔ک ری ہے 
. کہ بروزقامت لوق نے ساب کے لئ ہواؤزی صرف تضورس ورک کات 
2 تر موجورتے کے ما تھھ مخصو مہ ےکہ آپ بروز قیامت صاب وکتاب 
ششرد اہ نے کے لئ ال جھش رکی اط دربار ای بین عاضر ہ کیاکی گے اور 
بی شفاعت ا ویر سب کے جن یش مدکی جساگہ قرآن ید می ارخاد فیا 
عسی ان یبعثك ربك مقاما محمودا::7. اللہ چارک و تما ی 
آ پکو بروز ٹر ایا مقام عطا فرماۓ گا شے ضپ گمو دکیں گے اور جن کی 
تت لی فکریں گے اود بجملہ مق رین بیکرت ہی کہ اں سے ماد شفاعتٹ 
کبری ہےکہ د تہ ملعا لین مل ال مھشر کے صاب کے لئے سفاش کر 
۰ کے جوکہ قد ہوک اور ضاب ش رو ہو چان ےگا 
1 شفاعت نرک ےک ۔انبیاء علیھم الصلوة والسلام کے علادہ 
علماٴصلحاٴ شھداء ماق آن ہد نماز 'روزہ انہک مان می 
















اولاد “مون ام “ناخام چے فقرار اور این وغیمر ہ کے لے بھی خابت سے 
اور یر شفاعحتد تیاق رقیامت می جائزج دا ے۔ 

شفاعت مغ رکی کے چندمراتبکہیں۔ ایک کہ میا نجشرمیں خجات 
دلانے کے گے و گی اوران سب کتگاداوں کے لگ وی دوض ری 2 ک گناہ 
موا فکرنے اور جم سے خجات دلا نےکیواٹے ہوگی اوریہ موم نکنہگاروں کے 
وط گید تی کن دز جات بوھانے کے لے وا کاو کے :لپ وگی۔ 


ترجہ :۔ اور تفور علیہ لصو والسلام کے لگ متعدد طریقوں ے شفاعت کت 
بت سے مھطلا ہول مث سے تو قکوضیات دلانے اور صاب کے بعد تن ٠‏ 


جن مکی رعزاب بجاے کے لئ او نع موحدی نکودوز سے کاللےے کے لے 





: 


اور زیادی دد جات کے لے اور بھی عیاد تک ھی موا فکراۓنے کے لع اور وی 


دای ہج ؛مھوں کے لے اور مکش کی کی نبا اولا دکوجنت مس داش یک رانے کے 
لے اور ھ ینہ طیب ٹس مھرنے والے کے لے (بش رم طیل ہکوٹی امر منا ینہ ۶ھ )اور 
ین شرف کے مصیاتب پزداشتبکرنے دانے کے لے اور ج وھ آپ کے روضہ 
بر کک زیار تکرے اور ج موذ نک و آان کا جواب دے اور تضور علیے 
ال لام کے لے دنا و سیل کرے اور جو جع کی رات اور دن میس آ بر صلوق و 
سلام بڑھے اور دو ھک آ پکی دیع سے متعلق مالس عد شی ید کر نے کے 
بعد ان پگ ليکرےاوردوچھ شعبانع کے روزے ا وج سے رب جک آ پکو 
خشہان کے روزے محبوب تھے اور ج کہ ال بی تکی صفمت د مایا نکر ے دخ رہ 
جیما کہ سنت بی واردے پللہ حقورعلیہ ااصلوۃ والسام کے علاوہ اوروں ے 
لئ کیہ شفاعت خابت سے جیسے انا ۓکرام شیہم السلام ملاس کرام تلہم 
العلام اور علاء وش بدءاور صا : وی رہم بلہ ت رآن صو مکعہ ونی رہ کے لج 
بج کہ ہہ شفاعح تک کی گے جیراکہ عد یت سے خابت سے 


لن ید سے شفاع تکا وت 
()۔ ولسوف یعطيك رک فترضی۔(7 جم )اورالبت آ پک( عػِّه) 
اللہ تع اھ عطافرما ۓاہ آپ راضی ہو جائیں گے رین 
لب ےل از لا 
کا ما ہر مد کر ںہ 
اکی ادف تک میس راشینہ ہو ںگاادد ارہ ےکہ ا کیا صورت بجی 
ہ ےگ گھوگادد کا آپ شفاعت اکر جنت مس راقل 
۔ مھت 

ورپ موجب و سب میں ہو سکاں 
ولو انھم اذ ظلمواانفسھم جالوك فاستفغر وا الله وامتغفر 
لھم الزسول لوجدوآا الله توابا رجیما۔(ترجھی. )اوراگروولول 
جنیوں نے افراطاد قف یکرت بے انی جافوں برغ مکیاے آپ 
کے پا آنکیی او آ نکی رت موہ ون لان ال قال نے مرا 
ا یں اور زسول اث کٹ اع کے لال اتھالی سے معائی کی 
.درخ اس تک بی فو ا شیہ ال تا یکو محا فکر نے والا مہ بان انل 
گے۔'خلاکدام نے با نکیا ےکہ ہہ عم آ پک حیات دیق کے 
ما و ار اانر دب زخچہ 
پ تد خفاعت قول ہے۔ خفا شریف میں قائضی عیاش نے 
و مد ا ا 
قائرکیاے۔ 

واستغفر لذنبك وللمومنین وللمومنات الایته 7ج ” اپوں 
کےگنابول او رای داد مر دو اود عور نول ک ےگمناہو کی معائی 02 





()۔ 


(٥)۔ولا‏ بشفعون الا لمن ارتضی(تر چمہ)اورجشس سے اللہ تھا 


۔)(٦(‎ 


(ك)د 


(۸)۔ 


لے ال تا سے سور کے“ ط ےت 












مطالبہ سی سغارش وشفاعت ے۔ 
ویستفغرون للذین اھنوا (7رجم۔) اور عالمان ۶ش ٣“‏ 
کرام ایا نراروں کے لے الد تھی سے معائی جاتتے ہیں۔- 8 


ہےا کے لے لامک ہکرام اش کر تے ہیں او کر تر 
خظاہر ےک ایا خداروں سے ان کے اییا کیا وجہ سے تا 
زانصھیے لزایمائراروں کے تن می شفاعت خابت ہوئی۔- 
یوم لا ینفع مال ولاہنون الا من اتی الله بقلب سلیم 

بروز قاع تال واولاد ہی مو 17 کر جو اللہ تھی کے یا الا ِ 
نکر یی ا کیو ال دجو وا ےک 


رب اجعلنی مقیم الصلوۃ ومن ذریتی رہنا وتقبل دعا, 
اغفرلی ولوالدی و للمومنین (7 جھہ) میرے موا جج 
اٹم رک اور می رکیدعاقول فرمااور میہرے اور میرے والم بین اور 1 
ایا ندارو ںکی مخفرت فرہا۔ پالل صاف س ےکہ جب والد بین وش رہ 
کے لے ما قول الگا یکو شفاع تن 

ادعونی استجب لکم اجیب دعوۃ الداع اذا دعان (82) 
ھ سے دعا کرو میں تہارکی دا تو لکرو لگا چردعاکرنے والے 
009و ا کا 
شفاعت رعاور اتی لڑے-_ 












392.1 وقال للڈی ظن انە ناج منھما اذکرنی عند ربيك (تجَ 
0 پوسف علیہ والسلام نے ا پک ھکہا جی کی غجات موق تی کہ ہے 
بادشاہ سے پ ےکپ کہ ایک ب ےگوہ تل ان یش مقید ہے۔ اس کی طرف 
گی رھت اود یہ خیال یی تھاکہ جاکر می ری ءبائی کے لے سخارل 
و ات کے 
0 اتوہ اعت ا نسینا اواخطاء نا رہنا ولا تحمل علینا 
اصرا کما حملتہ (7ڑج, ) اے ہمارے موی اکر ہم سے خطا و 
نیالنا جو جا لو جھارامواغذوقہ گراورنرکسی معیبت میں پہیں بت کر 
: ا مو دیق اتآ کر یہ سے ج کان فرش کات ر 
ھک مر اعت مرح کی وت ے یل 
طباور العزت مس آپ کل نے عرض سے نکولفہ ات 
۱ نے تجول ف رمک رھ آپ کے دا گیااعمزازداکرامکا ت رکنن مجی یش ابری 
ان فرمایااورسغفا رش شفاعت ہے لذشفاعت درست و جج ہوئی_ 
رب اغفرلی ولامی وادغلنا فی رحمتك وانت ارحم 
الراحجھین (غ جھہ) حخرت موب علیہ السلام نے عرخ کی اے 
اللہ گے اورییر ے بھائ کو محاف فرمااوراپتی جو ار عمت می داخ لکر 
کہ فو سب نے زیاد ہر حح تکرتے ال ات بھائی کے تن 0 
صا سفاال سے انا آیا تکرب کے علاوہ ھی اور مترر 
آیات مباک گنال جا ہیں جن سے شفاعت ش ریا کے جواز اور 
دو کا شجوتعام ایک کہ دناشیش ہو یاقر د قامبتابل روز روظی 
ےھ زیادودا مہوت ہے اور اس م سی طرح بھی یک و کی 1 


وق 


شفاعت ازاحادیث نبویە لعالی صاحببەالصلوۃ 
2 

بخادری اور جائع تی می حضرت عبراللہ این ررض 
الش عنہ سے مرو ے کہ سنل رسول الله صلی الله عليه وآله 
وسلم عن المقام المُحمود فقال ہوالشفاعة(7ھ) خرت گراٹر 
بن عمرفرماتے یی ۔کہ تضوربرنورسیدیوم انتور صلی الش علیہ وآلہ و خُ 
سے پا چھا گیا کہ عقام مھودسے کیا مرارہے و آپ نے فرایا کہ 
ان سے مراد مقام شفاعت سے لن بے مرح شفاعت عطاہوگا_ 

ام اتقدادر تیبٹی نے ابوہرییرہ رش اللہ عنہ سے روایت گی 
ہے کہ آپ نے جواب مین می کہا فقال ہوالشفاعنہ (7ج) لیل 
فرمایاککہ ىہ مقام شفاعت کامرعہ ے۔ 

دلائل لن :می ایدتیم نے انس من مالک اورتلی می 
الدبر سے مرو ہے کہ اللہ تعالینے جوراکرم صلی اللہ علیہ وآ 
وسلم سے فرایا۔خبات شفاعتك ولم اخباء لنبی غیرك (7جہ) مٔ 
لکش کیا شفاقت وھکر زی نے وو ین انیو نمی رر 
وولےی تھی کن ہوں۔ 

یم اورابوداد شی بردایت الد ہر یم روگ ے۔ انااول شافع 
واول مشفیع ( جم )یں بروز قیامت سب سے اول شفاعت کر نے 
والا اورشفاعت قول کیا ہوا ہوں_ 

اوتم عحبداللہ جن عبا سے راو یں وبی تفتح الشفاعة 


ولافخر(7جھ) اور جھ سے ہی شقاعت کارزواز, کھۓ 1۸01 


ریہ فی کہ مان دا ے۔ 

















6 
لام امھ ابوبپچلی ائن حبان نے حخرت صدلق اکیڑ سے بی 
حدیث وبی تفتح الشفاعة ٣ن‏ ہے جم وپ × چاے۔ 
دای نت نرئیایوجیم بصعد صن عبدالد بین عاں سے ناقل ہیں۔ 
وانااول شافع واول مشفع یوم القیامۃشش بروزقیامت سب سے پا 


ا ورمع ببوںل گا۔ 


دای تق مک إافادہ شیین اورایولتل تلق ارم رت ال 
سے راو یں ء؛وانامستشفکھم اذا حبسو وانا مبشرھم اذا ینسوا 
(7یھ) بروز قیامت میں یىی کی سفازشل رو گا کور لاو رنے 
ایی گے اود بی ان کو شنھری دیے والا ہولں جب کہ دہ الوسں 
٤ں‏ ۓ۔ ] 
امام اترائ: ماج اپددادطیاسی ابی حطرت عبدالظہ بن 
عباسے رداوگ ئل ء وانی اختبات دعوتیٰ شفاعة لامتی (7 )اور 
بھ نے اپکیا دھا اپ ات کی خففرت کیلئے چ ر بھی ے۔ 
نشی بردایت الا بین کعب مرو ےٍ۔۔۔ واعوت 
الثالث یوم یرغب الی فی الخلق حتی ابراہیم:(7. )اللہ تمالی نے 
جے جن سوال 7و جن کے دای آہنتا اللھم اغفرلامتی (اے 
الله ریا امت گومواف گر) اور ا اج روک لئے رون ي 
جس میس میری طرف ام غخلقت کا ج کہ ابرائیم علیہ السلام کا بھی 
رق ہوگا نی روز یامت_ 
: سنا الو شرع مدراج توق مس ہے کہ حرت الخ سے 
آپ نے وعدہ ا ٹیس جری اذہ کروی تا اشعة اللمعات 
ٹر کو و دیياے ۲۰٢۹۲۰۹‏ جلد چہارم اوراسی طرح مہا 





و میں سے کہ آپ نے فراا۔ کنت امام البین وخطیبھم 
وصاحب شفاعدھم ( )یں پروز قیامت عام نیو ں کا/ماخ اور خیب 
ہوں اورا نکی شفاعع تکامالک ہو ںگا۔ ' 

کو3 اکا لیت می ہہ آپنے ڈرال کے دو چو 
ے مر جائیں دوائ کو( بط بی سغارل) جنت می پہچیامیں گے حفرت ماک 








ن کہا ہاک ایک پچ مر ٹیا ففربایایک بی نے جا ےگا ۔ک ہاج کیک بھی 5 
نہ جو ریا کو یں شود نت می نے چاو گا طلب آپٴاے قال شک کن 


ایک پنہ بین ہو جیراکہ یش ہوں ت آب کن نے اس اقطرا پکودو دکرنے 


کے لے ف کہ ا سکو یں جنت می لھا گا قب اعت و ےک ا 


تن با یں بروز قیامت شفاع تک ری گی ۔ نیہ مہم لاوق والسلا برعلا پھر 
شہدام مککومیس ہ ےک کاب مڑنی نا تام بیہ اپنے رب سے اپے والدیع کے --- 
متحلق ھک ڑ اکر ےکا مہ وگیااے ڑا جج بااپن ول کو جنت می لے جا 
یں وہ دونو ںکو مج کر نت میں ایگ 

بای مل مض سے قام تک یکری ےکی راکرس ب لوگ لیا ماک 
علاش میس حخرت آوم علیہ الام کے پاس جامیں گے اور شفاعت سے ملق 
ذاش لک یی م ےکہ الد تھانے نے آر پکوانچائی طور پراکرام داع زاز سے مالا 
ال کیا ہے ٴ آپ ہم سب کے باپ ہیں اود ہم انچائی لیف میس جنلا ہی ںگ ری 
شمدت ھرارت ٹیش پیا می و خی رد مرے جات یں اور اب ہو نا نیل 
کہ ٹیکان کیل تاد پر یان می ںکوئی بر مان عالی خی للہذ ا آپ ماد ددبار 
دہ ندم سار کیہ لی آدم عل لوا سلام امیس گ کہ آج 
درپار لحی اور پا رگاہ اعد ای جلالی وغحضب یس ہ ےکہ ال سک متال کی اور 
خودجھ سے ایک خطابھی ہ وگئی ہے۔لہذایجہ میں یہ جمت نی مور ہول تم 














رت فو علیۃ الا مکی طرف چاو دہ ہار ی سغا رش لکرمیں گے وہل پر چاکر 
ھی دیپ ہلا قصہ وا کہ خ الام عفر تع علیہ الو والسلا مکی طرف 
رجمائیک گاج بآپ کےہں و قات جال گے آپ ف میں گے اور بعیۃ 
افو یں وک کیا مکو معلوم نہ تھا کن کازوزا ھی طور یر مخت ہے۔ ہر 
درسولل تک لصو العلام تی نی پچار رہاے آج !بر جناب مر 
و وی سای ے حا بات کو ںک رادقم بک یکر 

چاو دہ تہاری نشک کشا یکریں گےابذاسب جلوقی مرو عالم ٹج 
ا آدم مکل کے درہار 22 گار رت کر ےگا جم پر لے ی آپ 
کاب تھراز ار شاد فر انی گے آنا لھا انا لھا انا صاحیکم الیوم کش 
ا نع ای سفاش کرد لگجاعد بی کے الفاطہ ہی ںکہ لوق چاک کمیکی سب 
محمد یا تبی الله انت الذی فتح الله بك و جنت فی نغذالیو م وامنابك 
ت رسول: الله وخاتم الائبیاء اشفع لنا الی ربك فلیقض بیپنا 

۰ الاتری الی ھا نحن فيه الاتری الی ما بلغنا (7ر)اے ما ال کے 
ہے نُا آپ دہ ی کہ اللھ تالانے آپ سے تباب کیا ہے اور آج آپ با امن اور 
ا" لیک تھری فان من عو رپا کے و سول میں اود یوں کے ناقم میں 
پا کی بارگاہ ٹس مار کی شفاعت کہ مارایھل فرمارے تضور پیا لو 
گی یک ہج مس وردو مبیت بی ہیں تقو ملاحظہ ے ‏ فر بای ہ مک عا یکو 
جپے ہیں۔ حضور بر ور حر ار اد ف ایس گ انا لھا وانا صاحبکم الیوم 
( )میس شفاعت کے لے تہاراو, مطاوب ہو جے تم تام موتن 
ٹیس ڈ عونت کچھرے ہو ہی بعد تضوراکرم لد ربارالچی یں سرب جودہول 
کے اورالف تل ایی تی تکزیں کےکہ اس سے یٹ بھی کسی نے نی 
گیا شس بد داد یت نی ان الفاظاش را ا یا محمد ارفع 








0 


19 


راسكٹ قل تسمع سل تعط واشفع تشفح (7جمہ ) اے مم اپۓ مرکو 
اٹھا ےار فرباے آ پک ہر بات کا جا ۓگی آپ ما گے جو انگوسب دیاجا ےگا 
سفارشل یج قو لک جا ےگا۔ نلچ آپ حر مبارک اٹھائیں کے اور لو کا 
ساب بو ن ےکی فلز کر یی گے ای ضناب تر وم ہو جال ےگا 

جنازہکی گیبرات میس جن دعاؤ لکوپڑ من کاحد یتنج بیف یل ڈگ آیا 


ہے باوجو دس نما جنازہبذات وذ ایک سغارش ہیے۔ دعاؤن کے الفاط مظہوم ٠‏ 


ضفاعت پر مشقل ہیں دی اللھم اغفرلحینا ومیتنا الخ (7 جمہ )اے اللہ 
ہما ےڑ نول اورمردوںل 'عاضرد ضا ب کیو نے و پڑے خردعورتٹ سب کے 


گناہ محا تک دہے- ل(نر مہ" اے اللد ال کےکو ہمارے لئے شفاعع تکر نے 


دالے یا شفاعت قبول لغ یئ بنادرے ...صا تم رج ہے جح سکو ہر ایک 
لماع جنازہ می ڑھتا ےکہ اے الا نکی خفاع تکوہمارے جن می قبول 


فرب۔ایطرغ نزو ھن دانے تام کے تام در بای یس دای تک شا 


مستعادقگیاد جیشٹی افداغرالط وف پیا کے حا کر ن ےکی سغا رش کر یت ہیں 
اب اکر شفاخت نا از اور بے فیا کیا یز ہے وکیا اعت نے ایک نا جاور بے 
معخابات پر خلمد ھآ کر ن کی جاکیدفمالی ہے اورلجلو رز وم وجوب می ت کیک 
تن راریاے۔ ہل نی بکلہ شفاعت ایک جائزامر ہے اورد ناو آنخرت ئل 
مد ٠‏ 

زی شر یف میں ےکہ مور علیہ الصعلو: والسام نے ایک تابتاگاے 
رعاسعلال اللھم انی اسئلك واتوجہ اليك بنبيك محمد نبی الرحمة یا 
محمد آنی توجھت بك الی ربی فی حاجتی ھذہ لتقضی لی اللھم 
شفعه فی (7ھ. )اےاش ار ان مو تفر 
سے ضوا لک جاہوں اور تی کی رف موجہ بہو اس عابعت کے لو راکر نے مس 
























: ۲ کہ میری شک لکائی ہو اےاللد تمیری عاجت روائی سے مفلق یرے 
جیا نک شفاعت تو ل کرے۔ 
مم ا دھاکوحخرت عٹان بن حیف رض الد تعن نے حضور علی۔ 
لصاو والسلام کے بعد خلیفہ جالٹ حخرت عثان ری اود تھالی عنہ کے زمانہ 
پگ میں استما کیا اود ای عاجت روا یک کی۔ اہر ہواکہ شفاع تکی صحت 
تضور علیہ الصاوۃوالیلام کے زین کے ساتھ موس نیس بللہ بعد میں می 
جائڑے نیز ھی دا ج مگیاکہ آ پک جیاتد عممات دوتوں برابر ٹل اورے 
جھیروشن ہوگیاکہ بحعیضہ خطاب ہر زمانہٹ ہر تمہ سے آپ تکلکدکوعر خ کیا 
جامکتاہے اور کہ آ پکواورال تھا یکا نیک دقت پکارا چا مکنا اور بھی 
ْ کہ ععبادت میس جیا تھی کے مسا جحد آپ کوپچاراجاسکتاے۔ : 
4 ۱ مسلم میس ہے حضرت اویس تقر سے جو طائقات کرے ان سے 
دعامگکواےفمن لقيہ منکم فلیستغفر لکم تر جم ٹول جوا سے تم میں ے 
لے ٹیس جا ےک وہ تمہارے لی مغفرت کے لے دعاماگے۔ 

دو کیاردایت شل یں ے فمروہ فلیستغفرلکم (ڑ چم 6 
یش سے ج کوک ان سے لے پذابپن لع مغفر تکی دحا ضرور منوائۓے۔ 
دی صاف اود ص بے طورپ ہآپ سغفارش کا عم دےر ہے ہیں اکر ىہ شفاعت 
نا جائز ہو لی تبیہ ع مکیسے دینے۔ نیزاس یل صحت شفاعت کے علادو یہ بھی خابت 
جواککہ اپنے س ےک رجہ واٹ ےکوسغفارش کے سل کہا جا سک ہے جج بکہ ال ںکو 
اکواقی ماس خیدت مال ہوں 

بفارکی مم نکی نال ہغیرہ یس ہ ےک آپ نے ذرایا اشفعو ١‏ 
توجروا ویقضی الله علی لسان نبيه ماشا ء(7 جمہ )٭ّن شفاع کرت 
کواجر ےگاادر الد تھالی این ن کزان بج اتا ےکہ راک تہ اور ال کی 


ار می دوس ری عد نی سے ہو لے الدال علی الخیر کفاخلج سی ای ۶ 
بات سیکا آمدوکر ۲ سےا لکو بھی برابر کاقواب “اے۔ 
محکو ہاب ف اتل سید ر مین پگ رکال بوری وس ےد 
اعطیت الشفاعة( تر جم )جج ھکوشفاعت عطاکر دب یگئی_ 
ائمئماجہ ٹل ے افضل الشفاعة ان تشفع بین اثنین فی النکاح 
ا جح )این شفاعت مہ ےکہ ناب کے سلسلیہ ین دو کے در میا ن شفاعت 
باون 
٠‏ علامہ تی شمحب الا یمان مس نف فرماتے ٹژں‌افضل صدقة اللسان 
الشفاعة 
( جمہ پ تناد قہ ہہ ہ ےک ہیک ذہان ے شفاع تکرے۔ " 
7 لم کات ھا من میت تصلی علیہ ! مة من الْمَلعیٰ 
یبلغون عائة کلھم یستشفعون الاشفعوا (7ر جم )کوئی مت الی نہیں 
جس پر ملمانو ں کی ایک جماعت جو سو کک یچ نماز جنازہ پڑھھ اور ا کی 
شفاع تکر گرا لک شفاعت قول ‏ ہو_ : 
2010ء" 
یموت فیقوم علی جنازۃ اربعون رجلا لا یش رکون با لله شیٹا یشفعھم 
اللہ فیہ (تچجمہ) مسلمان فوت ہونے پہ اس پر الس اہیے آدبی جھکہ اللہ 
تھا کے ما جحھ ش رک نہکرتے ہوں نھماز جنازہپڑ یس وا نکی شفاعت اس کے 
تن می قد لکی جائی ہے۔(حوالہ مخکو وباب امش انان ) 
بی الا ے یوتی بالمساجد یوم القیامة--۔۔ فتشفع ٴ 
لا ہلھا ( جمہ) بروز قیامت مساج دک لایا جا ۓگا..-.۔۔ می وو ساچر ے 
متمعیکوکو ںی خفاع تک ںی ٍ 
جے الفالْلیِن رہ ہے۔الق رآ نشافع و مشفع ومان جن 















مصدف(7ج)3رآن و سا ق ران کے لئ شقاعت ےت ا 
۸پ کت ولک ی اہ کن فو لکی جان اود 2 
خکای تےکر ےگا ین می ا کا قد کا جا ےگی۔ 

لی پا ناس اعاد یٹ سیہ معج رہم ین ور اور اعمالی می وصد قات 
٠‏ ناظلہ ا اور نمانہ کع جج رراسوداور آذاع تن دا ی چچز و لکااور آذا نکی دھائڑ سے اور 
: یر ہوا بی اتا الو والسلام کی زیاز تکرنے واٹ ےک ان و 
یھر و مسائیئع وخ وکا ہوناغابت ہے۔ 
ا بین ا ےکہ محتزمہ زالعہ بر کی ماش سے مت ہنرا رگنہگار جنت 
میں داخل ہوں گے۔ائی ط رح حضرت اوس قر یک سغفارش پرایک نما تقداد 
یش نے کے رود فرش ذکورے۔ 


مر شفاع ت گی سن لے 


حثزت الس ری ال تولی عنہ سے روایت ہے آنپ فراتے ہی کہ 

مض ے.ے جھھٹیٹ مل ری)ض 

نے شفاعت کاالکارکیااس کے لئ ان تپ حصہ نمی سکتاہے ب رنیب 
دوزی جنتیو لکو پچار بی گے : ۔۔ آخرکار جب حا ب کاب ہو جا ےگا اور 
رن مد اماک نے دا ےن ای لوان ئل ایج پا 
گے فو پر ای دٹائش پچار کے مگراب ود دوخ سے جنتبھ کو ار بی 
گے۔قرآ نکتا ے ۔ونادی اصحب الناز اصحب الجنة ان افیضوا 
علینا من الماء او مما رزقکم الله قالو ا ان الله حر مَھما علی الکفرین ٥‏ 
الذین اتخذوا دینھُم لھو ولعبا وغرتھم الحیوۃ الدنیا فالیوم ننسھم 
کما نسوا لقاء یومھم ھذا وما کانو بایتنا یجحدون ۵ 


سو ام کو ھلکراببورا ہس 
کھانے کاج ال تھی نے ہیں دا گہیں کے اتا ےن7 
کافروں پر مرا مکیاہے۔ جنہوں نے اپے دی نک وکھیل تماشارنال یا درد نکی زیمت 
ےا یں فرب 3ات نج جم انیس چھوڑومیں گے جیما انہوں نے اس دن کے 
سلل ایال پچھوڑ ڑانتھاادر جیما ہما ری آیچوں سے اکا کرت تھے۔ 
تر جک :ان آیات مس چند ہا نی دا نم ہیں۔ 
()۔ وذ شی پچار یی گے اپنے جیے انسمانو ںکوجھ جنت میس ہوں گے اس یا 
ب لوگ اتال“ کے علادواخیاء کرام اوراولیا ءکرام کے پکار ن کو 


شش رک قرارریتتے تے۔ 

(. :"مم ولس کے پے پا اور رزق اہ تالی نے دوزتیوں پر تام کروی . 
ہیں۔ی ا نا بد میں حردئ یک انا وگی۔ 

(۳)۔ آن دوزنیوں نے وی نک و یل تھا ا ہنا پیا تھا ۔گتاخان رسول الد 
پگ ماد طر :ابیز 


(۴)۔ اللہ تال کی یو ں کا الا کر تے تے۔ آ تا سپ کی خان مس جننی 
آ ات آک ہیں ا نکو می ماتنےىی ں- 

تار ھی نکرام۔ 

: اللہ تعالی نے اپنے حبیب مگ کو شا نایا اور قیامرت کے دن 

رما ےزین راف ا شر داع تع (با خیش ا اسر مبارک اٹھاے ا نک 

شفاعت کے ۔ آ پک ضفاعت قول ہوگ) 












رسول اللہ حکللگ کے لیے ے ال تھی متا سے 
یرت لق ہے :اللہ تھا لی اپے پیارے عیب اور مارے آقا ملک ےکتا 
لت ا جات سبیلی ادعوا الی الله علی بصیرۃ انا ومن اتبعنی۔ آپپ 
8 ون ورک روہ( مج مکی ) میں ال تا کی طرف بلاج ہوں اور 
ج میرے قہ موں پ۰ لی ابل یرت میں۔ ٘ 
رد ایآ کر بییہ بے و دکریں نار با ظاہرہیں۔ 
کھلوائے والاخ دا شتھالی ے۔ 
(ج)ز تمہولاکہ لئ سے درک پل راتا سے دی ے۔ 
۱ ۶ے چڑھیاںن بصیرت عرف اور صرف مشق مع تپ سے ہا مل ہ دی یں۔ 
(۴)۔ رس لاللہ ملک الل تھالی ےلات ہین۔ 
..807 سیدھاراست : صرف ایک سیدہارستے دہ مد می لگ کے در 
7 تین مان پت بن ران کرای کے ہیں اس ےر کے کے متعلنی 
بنلد ہر نمماز ٹ جب سودر قفا تمہ پڑھتاہے ہار ہار تھ پا ند ہکم یکبتاے اھدنا 
الصراط المستقیم۔ پوگہ ایر ے پر صدین جے۔ این جے۔ شراء 
چے۔ یہ دولوگ ہیں ج نکواللہ تعاٹی نے انعامات سے ٹوازا رآ کے کتاہے۔ 
صراط الذین انعمت علیھم۔النلوگول کارا-ۓ ا 
اوران صقان سان اور شہ داب افعامات ای رن 
اععخاب نے ال دتھالی کے موب مل کی ید 
شب کا ازالے: ان کالہ الله قالٰ7 ےلرک سے مقر یب ہے شی 
ےکہاکفارککہ ابو یل 'عقیہ شیب “ابو اہب ولید وخ رع مکی بھی ش رگیں 
تھھیں۔ لیکن اللہ تھالی اغیں تہ ملا ۔ جس تی کے ذر یی لاہ اسے انہوں نے 
کپللادیا۔ بات ہے ذرا ا جھی۔ 


4 


145 


وسیلہ اضق 
ذس کا میا ےکوی ماع سان ناصل لے سے کے 
میا پت کو اص٥‏ لکرنے نے لئ بای جا راز رک اک ےکی بت کو 
داسطہ جایاجاےاور یز سیہ جن رح یر ہو سا ے۔ 
وسلہ اشام 
ایک تب ا کہ ذات اور متعلقات ذا تکاوسیلہ دوس اقم اما لکاوسیڑ 
تیسرا کہ دعاو دک وسیل ذات لور تلقا تک مب یہ ےک کسی مطلب ور مقر 
اف لکرنے کے گے میذات فور تماقا ذا تکووسلہ ہنا ہائےاورو سا داز 
تاج مطلب یی ےکہ دھا اور نداکو حول مقصید کے لئے واسط بنایاجائۓ- 
وسیلہٹبراول امت عاادر طل بک ن ےک صورت شی ہو جاہے اور 
3 ایر ات ماو طلب کے اود یہ شم او پوں بھی عام ہج کہ داسطہ ذات بی 
لی السلام ب یاذات ول اورد ٹاش بویا قجرو قیامت می اىی طر۴ عام‌ ےک 
ذ کرو ہو ان رفوگی درو اود متعلقات ذات کا مطلب ہہ ےک ذات کے سا تھ 
ا کوبت ہو جیا کا نا خنبابال و خی رہ- 
اب دسمل ہکا ہر سہ اقما مکو ق رن اور عد بیٹ اور انار ماب اور اقوال 
علاءکیار و شفی ٹ میا نکرتے ہیں ۔آپ بخورملاخطہ فربایں۔ 
رن مچید سے و سل ہکا وت 
()۔ ‏ وما ارسلنا ك الا رحمة ملعا لمین (تھ جمہ ) ہم نے آ پکوسب 
جہن ںکیواسلے خح زحمت ,اکر کیاے۔ 
یھ نوز علیہ السلام کے واسطہ سے سب چپانوں پرر ہمت اچ یکا بارش ہو ری ے 
(۲)۔ ماکان الله لیعذبھم وانت فیھم وما کان الله معذبھم و هم٠‏ 
یستغفرون (ت جم ) آپ علگ کے بدتے ہو نے اللہ تھالی ا نکو 





ںات 
ْ ا 


(۵)۔ 


(٦)۔‏ 
فان 


(۸)۔ 





عاب مو کر نے کااو 2ی استغفا رک ےکی صصورت میں ا نقکو 
تا ء مب تکرےگا۔'' یہاں آپ خل کے اور استتخفا رکیواسلے سے 
را بکو ٹا ل کاو عد و فرایا۔ 

و کانوا من قبل یستفتحون علی الذین کفروا(7ج. )اوراال 
تاب فور علیہ السلام کے مبفوے ہو نے سے چیہ آپ کے وجود کے 
دا ےکافرول پر عدد جات تےکہ یاال نی آخرالزان کے واسطہ سے 
میں کافروں پرکامیاب فرا۔ 

بحل لم الطیبت ویحرم علیھم الخبائٹویضع عنھم اصرھم وا لاغلال 
لی کانت علیھم تضور علیہ الام نے ال لکتاب کے لئ طدبا تکو 
علال اوز حییث اشیا ہکو ھا مر دیااور ان کے نا تال پر ذاشت لو چھ 
اتارو یئ لی آپ نل کے دنلب سب سو ولتیل میاکردیی۔ 
یابھا الذین امنو ااتقو الله وابتغو اليه الوسلیة(7جھہ ) اے 
امان والوال سے ڈرواور جحمول قرب اہی کے لئ اس کے در ہار مل 
داسطراورو سیل لاو ”اور ی؛ سلِ عام سےذات ہو یا متعلقات ات 
؛لولا دفع اللہ الاس بعضهم ببعض (تر جمہ )اکر الہ تا لی لعخل 
کے داسیلیے سے نہ دو کے فو ز ین یس فسماد ہو جائۓے_۔ 

لو تزیلوا لعذبنا الذین کفرو ١‏ منھم عذابا الیما( ڑج )اگر 
اما ندارکاففروں سے الک ہوتے فو ہ مکفا رک جخت عذا بکرتے۔ 
واتقو الله الذی تساء لون بە والارحام (ترجہ)اورال‌ادے 
ڈرو جن کے سبب سوال یکرتے ہو اور فراہنٹ وا گی کے سا جج 
بد سی سے ڈد وک ننس کے واسطہ سے تماتیاکرتے ہو 

خابتہ بل اہ ےک کیا عاہقت کے ل ےکی بت ہکوددبار ای می وسیل 


یی کیا جاسکساہے اوریہ حقلاو شر ماجائڑے۔ 


حد مٹات ر یف سے و سمل ہکاخوت 

عدیث شرلف مل ے الا بدال فی امتی ٹلٹون رجلا بھم تقوم 
الارض وبھم تمطرون وبھم تنصرون الحدیث (7جمہ )مر امت 
میں ٹریا تمیں مردابدرال ہیں جن کے وسلہ سے زین نقائم سے اور ا یں کے 
وایل سے ہارش ہوک ے اور یدرد ہو تی ہے ۔ دیکی اس عد ٹاک میں ابدا لک 
قیام ارم اود بارش اور مد دکامیالی کے لے ذد بیداودو سلہ قراردیاگیاے۔ 

عد یٹ شرف ٹل ے:اللھم ایدہ بروح القدس اے اللہ (نظرت 
حان)کا تل کے وسلہ سے دک ردوعد یٹ یس ہے۔(رجمہ )تم ش 
ےگس یکا جانور ہنگل یں بے تقابد ہو جا فو اد کے بندو کاو سلہ لا ۓ اور 
یو سکیا عادالر ایال ہد ا ء٠‏ 

مفند امام اد جس ہ ےہ شام میں بالیس ابدال ہیں ش نکی حیثیت ىے 
ہ ےکہ الع کے و سیلہ سے بارش ہی ہے او رر ز ق دیاجاتاے۔ 

او داؤد شریف میں ےکہ بج ھک ضحیفوں میس طل بکر وک وککہ ت مکو 
رزق با دضعیفوں کے واسطہ سے اور نفمرا ہاج بی کے واسلہ سے۔ 

ابن کی نے لام شال سے فلا یس رای تکیا ےک یمام او 
حنی کی قبر سے قبورک حاص٥‏ لکر ۳ ہوں اور جب بج ھک کی عاجت کی سے تو 
آ پک قبر کے پا ںآتاہوں اوردو رکعت نمازاداک جاہول او رآ پکاقجر کے پا 
ا تی سے دعاماگنا ہو قذاس واسطہ سے می کی خاجت او رک ہو ال ے۔' 

وانکرکی نے روای تکیا ےکر مور علیہ السلا مکی لت گر حضرت 
امہ رض اللہ عشہاشداء اڈ کے ہاں حاضر ہو جیں اور و اکر ٹیس فے اس واسطہ 
سےدعاقبول ہو جائی۔ 

تضور علیہ الصلو ڈوالسام نے تچتہ الودا میس خطبہ بڑھاادر ف راہ اے 
لوگو! یس تم مشش دو زی تی وڑے جار ہا وں۔ اد تا یک کاب اور ا ادلاد 
پا ئم ان کے وا سے مل رآ رک تقر و کے بی کور گے۔ 
مور علیہ السلام کے پال ایک نا ینا یا بنا کی شکای تگا- آپ 





نے ان کو حصب یی د عاضنکھائی کہ دو مت نماز پٹ ھۓ کے بعد پڑھے-اللھم 
انی اسلك وا توجہ اليك بنیيك محمد نبی الرحمة یا محمد انی 
توجھت بك الی ربی فی حاجتی هذہ لتقضی لی اللھم فشفعہ فی:اے 
لن تی رے کی منص حمت کے وسلہ سے تی رکی طرف متو نیہ ہو ںاور سوالی 
کر جا ہوںبا مر چنک یس آ سپ کے واسطہ سے اچ در بک طزف مج ہو ن 
می رای عاججت !و دی بھ۔اے الد آ پک سغارش میرے جن میس قول یم 
اور عل ید سیلہ تا اعت جار ے۔ 
.. حدیف ش کہ جطرت ابوطااب رض الد عنہر نے مور عل 
الام کا عحالت شی خوا گی اذالہ ط جس وسلہ طلب کیا فرہاے سی ابیض 
یستقحا الغمام بوجھہ آپ کے پچرہ مباارک کے و سیا سے پاش طل بکی 
جالیادر آپ گان اور جیھو لک نادگاہ ژں۔ 
حدبیث شی جےکمہ ناروں کے وار یز سے مان تفوط ے اور 
میرے وسیلہ سے مخاب ہکرام محفةظ ہیں اور میرے مھا کے وسیل و پا 
اہ میرے 1ا (جروسم) 
۱ے حدیث ئل ےاللھم اعزالا سلام بعمر بن الخطاب خاصۃ (7 جم ) 
اے الد مخرت عم بن النطاب کے نماض وضیلہ سے اسلا مکورگزت دے۔ 
( مم ق) 
عدیث ٹل سے لولا شیوخ رکع وصبیان رضع و بھائم رتع 
لصب علیکم العذاب صا (تر مہ )اگ وڑھ رکو کر نے والے اورشی 
داد ہچ اور نے والے جائورنہ ہوتے لو نم کو شی تین عذرا بکاسمامنا ہڑجا۔ 
ان کے وسیلہ سے مہ عذاب گ گید 
قال الجوزی فی الحصن فی آداب الاعا ء ومنھا یتوسل الی 
الله تعالی با نبیائه ووالصالحین من عبادہ_ 
1 خجعمہ :الد تعالی کے ددہار جس الد تعالی کے یں اود اس کے کیک 
بندو کاو سیل لایاجاۓ۔ 





اوران پا کی قب رکو مرے جی اور بے سے چپ ننیوں کے تج نکیواسلے سے 
کشادوک کیو کل قازحم الرمحمین ہے۔(ظرالی۔ابن حیان ۔م) 
د لال ارات ٹل ےاللھم بالا سماء المکتوبة حول العرش 


ہس و بالا سماء النی حول الکرسی 6ے (ت مہم اے اللہ ائن :امو کے سیل 





سے جک ہک کی ور عرش کے اروگ ردکھ ہو ئے ہیں( می کی دحاو لکر) 
پان مشبود بات بی حضرت مال جن ولیڈ نے انیٹ پیج حضور علیہ السلام 
کا بای مبلارک دکھاہداتھا جس کے وسیلہ سے روم شظام اموان خی * عمالک ٹش 
2 فحات ہ وکمیی۔ 

تارنین حرات! رن وحد یٹ کے ان حوالہ جات مم موق دق شر حرام 
مفمرمزام 'عبارت کے لے چلن۔ انا مالسلا مگ کید عرش کے اس کور 
بال مارک و خی رہکاوسیلہ ذک ہکیاگیا ےکہ ا ںکاسلف و خاف س ےکی نے اکر 
غی کیا نو روز روش سے بھی زاید وم ہیاک کسی تو عیت کے چائزوسل 
: وا کو عاحت زوائی اور مشک لکسشالی کے لے ایا رکرنے یس شڑ گی اور ختلی 
7 طوریکوئی خی ہے ہہب اع مندوب دش نٛے۔ 

: عدیثٹ ٹل واردے:۔ من بنی الله مسجداً پنی الله بیتاٴ فی 
الجنة مثله اوکما قال علیہ الصلوۃ والسلام(تھ جمہ ) جو اللہ کے گے 
مہا اللدا کی بدوات انس جینا کے لے جشت می لگھرہنا ےگا 

عاص لکلام۔ الد تھالی نے اپ کک کت کایک ضابط مقر رکیاے اور وہ 
کے و وا ا ا ا 

ٹوٹ جو لوگ کت می کہ ان کے اعمائل ان کے نل ےکی ہیں انی ںکسی سے 
وسیل کی ضرورت نیس دہ بہت بڑکی فللط تھی یس ہیں اعمال کال پت 
بھی نی سکمہ تو و ے میں یا جھیں۔ 


ا 


11 


اعمال کی قولیت کا پنھ 0 


اں لے اے وسلی. کے طور برا جھرار نہ کریی 
نی اکرم پک حضرت معاذر شی ال عنہکوایک د پ وعظ 


۔)١(‎ 


8ن 


اے معاذ(ر شی الد نہ ای کے ایک جات بتاتا ہو اکر تو نے اسے 
یا رکھا تق تی رے لے بڑافا دوگ ۔ اکر تق نے اس بھلا دا بج لٹا 
پر تیرکی ججت اود تعالیٰ سے شتم وگنی۔ اے معاذ (ر می الفد تعالی 
نہ ) !ال تھی نے ز ین د آسمان پل اکر نے سے پیل مات فرش پا 
فرراے۔ا نک ایک آمان کے لے ماد مع وگران مقر رکیا۔ پھر 
جٔ سی تگہائان گل بندو کے مل جک ما سے شا م کک ہوتے ہیں 
پیل آسان کک لے جاتے ہیں اور لکافور سور کے فو گی رح 
ہو ہے۔جب پیل آمان مس ماپچتاے فذزیادصاف بو جاتااور ا سک 
نوراخیت یل اضافہ ہ٭ جاتاے چنانچہ جب دواوی کو جانےکاادادہکرتے 
ہیں تذودئی فرش کپ ہے۔ ہر جاؤ !اس عم لکوصاحب مل کے ہتپ 
مار کبوکنہ ہگ ہگوہے اور بے عم ہ ےکمہ جس بندوکی عاد گل ہکی ہو 
اس کے اعمال او پر نہ چانے دول اور ہہ ینلدہ چکگ گل ہگو ہے بنا ب بی ای 
کے اعما یکو ولچ ز ین پر گگدوں- 

پر تضور علیہ السلام نے فمااکہ اس یندہ کے دنک اعمالی صا لہ حفظہ 
(ذرۓ لات ہیں۔ جس سے ان اعما کو او پ دوسرے آمما نکی 
جانب چان ےکااجازت گا ہے۔ لان دوسرے آسا ن کک کی 
لک فرش مقررشدہ آ جا تاے او رکپناے یہ گل صاحب گ۰ لکولونا 
دو کیوکمہ ہیف ر انان ٤ے‏ اور چھے عم ہے کہ تفر کے اتمال او یہ 





(۳۴)۔ 


رت 


(۵)۔ 


۔)(٦(‎ 





نہ جانے دوں۔ اور ہہ بندہ اپنے اقمالی سے اسباب دنا کے تو ل کا٠‏ 
خوائشل مترے_ 
تضور علیہ السلام فرماتے خی نکہ پچ راس کے اخمال وپ ڑا جاے 
کم قنور صلی دڑے زا رو : ہے سے 
حفظہ(فرشت ) دک کر بہت خوش ہوتے ہیں لن جب تیسرے 
آان تک کے ہیں توف رض موکل کپتاہۓے ' مر اوس کے اعمال 
ات ونس سس ہے جیاں بنا ے می رک رح سے 
رگم سک یھ آدک کے ا الد جات دوں۔لذااں 
کے اتال امن کے مہ پرمارود 
خضور کا پیر راس کے اعم اوہ ڑا جاتے 
ہیں ا سکی لوہ اور اذ اوج سے میارو نکی را مال 
میں ولیہ کی ضے بیہان تک کہ چو تھے آسمان مس کت ہیں ۔دہاں ب 
مقر شدو فرش داہن ھب اذا کی اظمالی ال کے مت پباردہ 
ود یی نا اور ےکم کہ خودڈین کے اقا لگاو يگاد 
اون 
تحضر علیہ العلام فرماتے ں ' جب١‏ اک باب 
نے خاتے ٹون این ہے ممعلوم ہو ا ےک ہگویاو, گ٠‏ لئی: وناب 
دواپا کے وا عون یہاں بھی ودی موکل فرشن کپ 
رپا ای کون سر و نان ×0 
می ہاور جھے عم ےک جس می جن دک با کے اس کے اعمال 
اوپٍجہانےروں۔ 


تضور علی۔ -, -ص- وھ 1٦‏ 


رات 


(۸)۔ 


158 


لے آمان پر نے جات ہیں تو صب سور فرش آ جانا ےکتاے ' 
پاواس کے مکی دی کے تارف نے ویو مض ظا 
پا یں کروی تظیف بی تی فا نکوگالیاں د جاور ےمم 
ےکہج لوگوں پر د تم نہکرےایس کے ملا یرنہ چانے دوں- 
مور علیہ الاعلام نے فر مایا بنلدہ کے اعما کو سما و یں آ سوا نکی جانب 
نے جات یں چوک صوم و لوت وفتہ واہتتاد بے مل ہو تے ہیں۔یں 
کی آواز شی دکی رع ہوٹی ہے اود ا کی رد مکی سور نکی ددم کی 
مر ہو لی ہے اود ال کے ساد تین راد فرشت ہبوت ہیں نو مقر 
فرشتہ کے ' کہر چا اس کے مگ لکواسں کے من پمار کی کہ ے 
اس لیے عم لک رح تھاکہ مرا فقہاء کے سان درجہ بلند ہو۔ علاء یپ 
میرا لہ جھا ہواہ"۔شہروں بیس مر اشجرت ج۔ جنا یرک اللہ 
تی کے دیدار سے محروم ہے اود اس کے دل پ م رلک گچگی ہے ا یک 
مس آگے نہیں جانے دو گا کی وکمہ بے عم ہےکہ جھ ریاکار ات 
در ہار خداو ند کیشیل مم تآ نے دو- 

تضور علیہ اعلام فرماتے ہیں بندہ کے اعمال سماقوں آسانوں سےگزر 
کر کے تیابا تکوٹ کرت ہو الہ تی کے تضور می جا کے 
ہیں او ملا مل کرام عر کے میں ات الہ العا مین ٦‏ می 
صرف تر نے لئ خاللش مل ہوک رکیابار اے' اللہ تال را 
سے'اے فرشق! تم‌اس کے اہر پر مہب یکرت ہو۔ بے انس کے ول 
کے اس زارکاعلم ہے ہق ال میرے لئ گل ہی ںکر جا اہ یل 
کامیرے نی رکی رف دصیان تھا یں اس پر می رکالعنت ہے۔ فرمحے 
کے ہیں تی لعت سے نو ہم س بکی بھی اس پرلعت ابکنہ اون 





بی 





4د 
آسالن دزن اور جو ان ہے سب اس پرلعت کی ہیں۔ 
محاذر خی اللہ لی حن کی متروں:۔ حضرت مواذرضی اتکی عنہ عر ضض 


ا کرت ہیں “تو ان تو ضیاے شکل ےکی کہ ہم میس نہ فوخ لوس ہے اور نہ 
ن٠‏ می آپ نے فیا نے مواذ(ر صی الہ تھالی ع1) میری 


اقتراءکونہ چھوڑلیشن پت رک عل می سکوحای ہد اک لی ہے ابی زبان کوانے 


بھائیون ‏ ےگلہ سے با 'اپنے آ پکواپچھانہ یجھاوردنیا کے عم لکواخ وی امور 


میں داخل مت گگزاوزلوگول مس تذل نہڈال کہ جھ دوزغ کے کت پچاڑن 
ڈالی اور اپ مال یں ریاکاری متکر- 


و کے گال تھا یکک رس ائیبلاذاط ہو لی سے لور 


لامک اورانیاء گرا مکی ضرور کیا شی 


3 فی دی خالماسباب ہے ۔وسیلہ از ہے لام یککاح اور طز یقہ ہیں۔ 


الد تال نے کھاکہ شی گر اتا ظ ہر ای کو موم نکر دنا لیکن میس د یھنا 
چاہتا ہو لک کون ایٹھگ لکر تا اور میرے جتاۓ ہو طریے پر مل 


7 کر ۳ ہے۔ چنا نہ اللہ تھالی نے اس س عم کاچلانے کے لئے سب سے پیل اس 


کاعائ متا اودردہٹیں جمارے آت مگ کہ اص لم چو ات ہیں نر بائی تام 
لوق پیداکی۔ رگر کام چلانے کے لے فرشتو ںکی ا نگنے تتراد لزر بی 
-.-.۔ چنانچہ ایک فظکام مر تب کر دیاگیاکہ میرے کک کے کے لے می ایک 


راہ ڈدے 


فا 


165 


آدم علیہ العلا مکی لنخزشل 

آد مکی پخزشل:صفرت عم فاروقی ر تی اللہ نہ ے روامت ے کہ رعول 
اللہ ص٥‏ الد علیہ وع آلہ و سلم نے فرییاک۔ جب حطرت آدم علیہ السلام سے 
خرس زدہوئی تزع رخ یر ےرپ شی رصاق علی وی آل و سلم 
کے و سله سے سوا لک تا ہو ںکہ گے محاف فرمادے اللر تھی نے فیااے 
آدم تم نے مھ صلی اللر علیہ وی آلہ وس مکوکس طر پان جب کہ مم نے 
ای انی دنا. مم نیس بھا آدم علیہ اسلام نے ع رت کی کی ا دب جب 
نے کے انی ددرت سے گیا اور یھ میس رو پچ یت بی نے سراٹیاکیا بنا 
و کہ عرش بد کے ہریاۓ پ> لا الہ الله محمد رسول الله ھا ہوا ے ۔ 
اس سے میس نے جانلیاک: نے لوق میس حبو ب تین شحت کانام اپ نام 
کے سیا تج کید ہے الد تھا نے فربایلاےآدم تو نے کہہے بے نک وہ نو 1 
یش بجھے سب سے زیادہ وب یں جب تم نے ان کے وس سے سوا لکیا کت 
ر یں نے مین موا فکردیا ہے اکر ودنہ ہوتۓے میں پوایاکریں 
شی مرا ع:۔ یلک اللد تما ی کے صمو زمر ور عالم صل ال علیہ دشل از 
وس مکوخب مرا فراپاکہ آپ نہ ہجوت و می افلاک پا نہ گر مد 
ا سید مجددالف ال حطر ت اہام رای سن س التب ان کرات 
مبارکہ یش فرہاتے ہژنں۔ 

ال نے اپے عبیب اکر ضل اود علیہ وی آلہو سلم سےا اق یا 
کہ لولاك لما خلقت الافلاك لولاك لمااظھرث الربوبیةاے عیب اگر 
آ پکو ید اکرن مظور لہ و و یس آسافو لکوچیدان کر تا۔اگ رآ پ کاپ اکر 
مقصور نہ ہو انیٹ انا رب ہونا می ظاہزنہ فر اتا۔ 

(تو بات ص ۱۲۴ ن ٣ض )۲٢٢‏ 





16 
ع کم کا ما تکاد 2 
ع ام کا نات کے بنرے 
حا کا نا تکار اس 
رین می پک 
(لف)۔ فان ے۔ الیوم اکملت لکم دیںکم(۵/۳) 
با ا یب ( )نع ین نے تہھارے لے ا زوین می یکر ویاد 
ہے اللہ تفالی نے فرااکہ یدن اسلام میرے محبوب جپلگج کہ ھا مکاتکات ہے۔ 
د ا کادین جۓے ق رن عکیم می ار شا ہوا ۔قل پایھا الناس ان کنتم فی شك 
کا تس ای (۰۸۰۴ایرش) فرما ہے اے لوگو! اکر تم مر وی نک ط رف ے 
مت 
(ب)۔ قل الله اعبد مخلصأ لہ دینی(۱۹۸۱۴ال زم ) ف رما الد تعال یکی ہی 
ٹیس عباد کر جاہوں الع صکر تے ہو جنۓے اشن :لئے لئے انا دی کو 
(ت)۔ لکم دینکم ولی دین(۱۰۹/۹) ضمیں تہارادی از نر٤‏ 
ان +طلافلا ور 
الل تھالیٰ ے نایا یعبادی الذین اسر فوا علی انفسهم لا تقنطوا 
من رحمة اللہ( ۳۹/۵۳الزم) فراؤاے میرے(ئجر لھگ کے ) وو بندو 
جنوں نے اپنی جائوں پر زیاد یکی۔ اللہ تھا یکر مت ے امیر ہو 
)١(‏ تر کی ضرورت:۔ قف رآ ن پاک میں خخلف مقامات پرالل تھا ی نے سولہ 
چکہوں پرار اد فرای۔ مرے نلدواور ئآ ٹیل ار شاد فرمایا_ یا صجیب 
اے مہہرے ووہٹرو- اب عر گر ائ رکا قاعدوے ے 
وپ 327 ا بح نے وت 
لک ہولی ے۔دومر ی1 آےت گیاسشال ىہ سے قل ان کنتم تحبون 


17 


اللہ فاتبعونی یچ یکم الله فرماےاکر تمماللر تعالی سے عب تکرے 
ہپ میرک رد یکرہ۔ اتا غکرو۔ چتانچر فاتبعون یکا مطاب ے 
مھ مکی پیر و یکر دای مر نکی مزیدمٹالیش بھی دجاس میں 
وی بندواردوز با نکافنڑے اوراس کے معائی لام 'جادم اور وک کے ہیں۔ 
(۲) بندہرسو لکریم جک جوکہ رعول اللہ یھگ کا اجا عکرت ہیں دہ 
ر حول اک کے بندے ہیں اور جھ اتا خی لکرتے دور سول پاک 
بل کے ہندے نہیں۔ قرآن اک ہی سود ہاو ہی جس جک ھہ 
فا تاب الشیطان ۵۸/۱۹ آپا ہے ج کا مطلب ‏ ےکہ خیطان ے 
گردواور شیطان کےگر وو میں مناغقین ہیں ججیباکہ ال آبہ کے خوانے 
سے ہے۔چنانچہ فلیق کے فاطط سے بنرے فوالہ تالی کے ہی گر پھر 
اپن اتا ل اوج سے ہہ رسول مگ کے ہو گے یا شیطان کے۔ اس 
لے پہاں اللد تھالی نے اپنے فریاں بردار بناروں کو رصول مکل کے 
ا کا 
راع ھ ۷د اللہ تقالیٰ نے فُراا۔ قل ھذا سبیلی ادعوا الی الله(۰۹/ 
۷الوسف) فرماجے یہ می را( مجر کا مراستہ ہے اور میں ہیں اللہ تھا کی 
رف بلاتا ہوں۔ ایک نہ کےگرد جن سو ساٹھ زادیے للتے ہیں جس میں 
صرف اک سیدھارست ہے بات سب غلط ہیں۔ صصرف ایک سیدھارست تھ 
مھ عل پک کا سے نجس پراب در ری اللد قا لی عد 'عمرر شی اول تعن 
رپا ر شی اللہ توالی عنہ لے حیدر ر ضی ایل تعا لی عنہ چے ند بین 
ر شی الد تی عنہ چے تع رات مان کے "دا تا ہش ر حتہ اللہ علیہ ے “ 
خون اقم ر جن الد علیہ چے۔(ر شی الثرتقالی م”م) 
اللہ گا طر فکون لے جا تاہے:۔اللہ با ک کک صرف اور صرف ھ 
مصصشنی پل لے جاتے ہیں۔ آپ ملک سے ایر الد تی نمی لے گا۔ باتی 
سب مگمراسی کے رات ہں۔ 


صویت (گناہوں ےپاک) 

تم. ألی خت دجماع تکا ند عتر: 

890ھ+ 'رسول اکرم کل یت اور قام نمیا ہکرام رم یں 

20 آ تاملک سے اعلان ضوت ک3 یئور رر 

قصددن ود الف بھی بھ یک کا کوک یگناہ سرزد 
نیس ہوا ماگ گناو محصیت اور خطاء سے بالنل پاک 

۱ اور موم ہیں۔ ہہ ایا حقید وہ جس پر سلف و خلت کااہجماعے 
اور سحاہ کرام سے ےکآ نک ہر مسلما نکو بھی بھی سی دور 
یں ذدہ برا نکی لت مکانک دشر کی درد ا ا 
شمبہ کااظمار رکیانووہ کان من ر۔ 
قا ری نکرام۔ یند وک اکتاب لذانيیك و من نیک پڑھیں ج٣‏ 
اس پ کو عم ل نیل وک رع کے سا ان یں 





159 : 
حصصمت انا .کرام عہ الصلو ڈوالسلام ‏ 

کہ رسو لکریم مل محصوم ہیں اس لے معحوم مب نہیں ہو 
سکناان ےکوئ یناہ صخیرہ پھو لکر بھی س نیس ہو جا 
انیاءکرام غائ وکیائۂ سے پاک ہیں 

الائبیاء معصومون قبل النبوۃ و بعدھا عن کبائر الذدئوب 
وصغائرھا ولوسھوا علی ماھوالحق عند المحقیقن(م 8اشرح مکوۃ) 

لین می مر ہپ یھی ہے کہ ایا کرغ قیل : ازغوت اور بج 
از وق قام صفائراو رکپائرگناہہوں ے مصم ہوتے مین 
انیاءکرا مک و جھوٹاکینے سے راویو ںکومجھو کہ د ینا یتر سے 

علامر اک فرماتے إں- 

ال :اکر ای یکوئی روا یت ہہو جس می انم ہکرام ہم السلا کا مجھویا 
ہو زا ظا ہر ہود باہو اور ا د دای تک کو اویل نہ ہو ےل کوک انی وج نہ مین 
ہو کے جس سے انا ءکرا مکی صدراقت طابت ہو کے و ایی صورت میں راویوں 
کو تچھو کہا جا سکاہے۔ بک اجوالو ںکو الک لکن اب اور مچمو کہا جا ۓےگااوزر وایت 
بھی پالکل بھوٹ ہی دای کور دکردیاجانےگالن انی ہکرا مکی شان مٹش 
کوگی فرقی نیس نے دیاجا گا 

ایے صن ر گناو جھ انما نکو شر افت سے کال ےکا سب بٹی اور ا کی 
وجہ سے انسازن رڈیل نظ رآ ایی گناہ پاوجوداس ک ےک صمخر و یکول ہوں 
انمیاءکرام سے م رزد فی ہد ت ےک وکلہ بل وگو کی نفر تکاسبب نے ہیں۔ 
انیاء کرام کے عغائزر کمپائز سے پاک ہو نے پر علامہ داز گی کے و ڑا تل 





مم 

والمختار عندنا انه لم یصدر عنھم الذنب ا النبوۃ الہ تہ 
لا الکبیرۃ ولا الصغیرة اراخقار مر ہب بھی ہ ےک ایا ہکرام مم السلام 
نے کوک مسر انا او رک کنا عالرت وت و صادر ین ہوا 
.نے تک مھ تل سے اگ کسی موی صخی راد کی روگنا ہوم جم پہ 
داجپ و جاگہ ما گنال ڈل آ پک اق اءکرت کی دک آپ نٹ اتا 
ذایا کالہ تعالٰٰ ے مطلقا ام دای ار شا رمیا فاججوی(میریی جابعدار یکرہ) 
قرائ ط رح ای ککام تام بھی ہو تاور داجب بھی ہو ىہ محالی ہےکیہ حر ام اور 
داجب ایک می کہ جع ہو جانمیں جب ہ یکر یم مکل کے تن میں حابت گیا 
ترام نمیا ,کرام کے متعلق بھی عایت ہو مہ دہ جھی محصیت سے پاک ہیں۔ 

اس سے ہبڑ ہگراورکوگی چز ری یس ہوم کہ الد تالی نے اپنے نی 
کو بلنلد ھراتب عطافرماۓ بہوں اور اپنی یکا اشن بتلیا ہاور اپ بنددل اور اتی 
سلطنت ٹیس سے اپ خلیفہ بنابا ہدوہ این ربکا پا کنا ربا کہ اسے رب فک ول 
کہہد ہا ےک یککام نکر وگ رجھیادہ انی فسانی خواہشات ولذا تکوتز اد ےاور 
اپنےر بک ٹک طرف نوج تهددنے اود اپ ر بکیاوعی کے ا جانے کے 
اعم اکن ے رکز ھی نہیں ہو سکم لے تا و ئن کے ائےاعوال 
کات دہش اما انان نی نہیں ہو سا 

یی اورو لکو پراعٌوں سے در وکناادرخود برالی کاار کاب کرنااغیاء 
کرام سے ا ط مر دور س ےکہ ا لکاتقسو رک نا بھی مھالی ہے۔ 

اللہ تعالٰ ے ارشاد فرایا” انھم کانوا یسارعون فی الخیرات“ 
ڑےے ار )بے شک دو ےکا موں می جلد یکرت تھے ۔کنزال مان ) 

الہ تھالی نے ار شاو فر پا واحھم عندعللن امصطقین او خی ر “ڑپ 
۳۔ ۳۔ )اود بک دوہمارے نزدیک پپنے ہو ئۓ پندیدہہیں۔ الا مان ) 





181 


ا تل ما کی نکا میا ہوا 
رسو لکریم صلیل علیہ یآ وسلم حاس کا جا تکاڈر 
() فرمان ای لزنم اضدرہیۃ فی صدورہم من اللہ (العم 
53 ممہ۔ان کے ولوں میں الئ ےزیاد: غماراڈرے-) " 
شان مزوگی۔ ا ںآیت سے چپ ہکات یں منافقو کا کرے۔ ۔ جن کالیڈر 
عبرالفنالیائن سلول اللہ تی اپنے عبدرب صلی الہ علیہ وع عیآلہوسلم سے 
فرا جا جکیاقم نے ماق نکوط یپاک اہی مش رک ھا توں (کاف یا کت 
ہک ارت لیانے مے و شروز ہم مار ساھ کل جائیل سر لو کے 
تار بارے می نک یک نہما یں گے اود تم سے لڑائی وی تق ہم ضرور قمارے 
مددکن یی گےاوراان سے لڑائی ہو کی تو ال نکی دک ری گے .الا نکی مد دی 
بھی نذ پیٹ بھی رکرپھاکیں کے پھر بذدنہپائیں سے ہے شاک ات کے ولوں میں 
اد ے زیادہ تھھازاڈر ہے۔ب اس سلل کہ وہ نج لوگ ہیں۔ 
الفت۔ عبدا رین الی سلول نے ان کے پا جح خفیہ پغام بتاک ہگھروں سے نہ 
نکلنا۔ اپ حول یں پڑےد ہو کیدکنہ مہرے پا دو رار می ہے 
ٹوک بمادر اور دوسرے عمری مور ہیں۔ تم رھ معیب تآپڑی تے 
میرے جوانع ترارے تلعوں میں تریارے ساتھ ہوں گے ۔ اور 
مرتے دم تک تماراسا تد نہ چھوڑ یی کے .پل ود مر یی کے پھر 
تماد بارگ نا یر آئے _ بارۓے لاد رت اورادی ہو 
فریظہاگی ٹیں اوران تارے علف ہی ی۔ ہ خی اس لین 
کے اہن میں ان 
نف زی راک دای ول ا 


/ 











162 نا 
یا تین الب جو نی رکالیڈر کو سط مین کر نیک لین 
الین الین سو لکیاڈ گی کہا ںکئیں دلو خبیث ے_ 
یداہ ائھیہ تو) پذ رین ہوا ارول لال ید عل یلو 2 
نے پل تجردے دی لق پچ رای رح ہوا تی آپ مکی اللہ علیہ دع 
آلہو مل نے فربایا یز 


وت مدان الی لن سلو لان سا تو پکیسا تج ی>ودلو لک پر ہو ےآ 


درا ا کاف ا ڈرتاکیدکہ دہ تضور سلالہ علیہ وخ یآ وسلم 
کیماتھھ منافونہ ریس کر تھا انز می ارز وو اوداسن کے سا تھی 


. : ڈرتے رچے چھےکہ ا کا نفاتی اہ کر نے وا کوک آیت نہآجاے_ 


عالالک ہآپ مل اللہ علیہ وع الہ سلم ۓ ان کے متعلق بر ےتذعیل 
کے سا تھ تاد تھا۔ چنانچ ماک مکاتیات سے منا فی زیادوڈزے تھے 
نببت الد تالی کے۔ 
انام جج یآ ےکامیر ے ام کے سا تھ 

خرن کنتاہے۔ورفعنا لک ذ کرک تمہ لور ہم نے با دک دیاے 
آ پا خاط رآ پ کوک ہکو۔(الف )انل نے آک دکھا۔یار سول ای 
ان ربك یقول اتدری کیف رفعت ذکر ك قال الله تعالی اذا 
ذکرت ذکزت معی : ت جم سیا سولاللھآ پکارب پا ھتا ےک 
آپ جاضنے ہی ںک: من ےآپ کے ذک ھکوس ط راب دکیاہے۔ میں 
نے جواب دیااس یق تکو الد تی تی بجتر جات ہے۔ اللہ تال نے 
فربالاک ہپ کےااد کرک کیفیت یہ ہ کہ جماں می رلذک کیا جا ےگا 
دا آ پکاٹگی میرے سا تھھ ہیک کیا جا ۓگاز 


(ب)۔ شال ھاکم انا ت۔ ا سے بڑھ ار وک کیا ہوسا ےکر کڑ 





مد 


شمادت میں الد تھالیٰ نے اپن نام کے سا تھ اپنے محبو بکانام طادیا۔ ٠‏ 
حضور صلی اللہ علیہ و لی آلہ وس مکی اطع تکو اپنی اطاعت قرار دیا- 
ملائہ کے سا تج ھپ صلااللہ علیہ دش آلہ و سلم بر درو وکیااور مومنول 
کودرود یک پڑ کا عم دیا. اور جب ھی خطا بکیا مز القبات ہے 
تا رر .ےت 
اوربیچانیں نے جلن یکتایںککھی ہیں دنا ےم نیا ء مم فا اور 
لا کے بارے میس می مھ یکھیں۔ بے شر اع یا کے لوکوں نے 
ذکر پا ککوبان رن ےکی جس رج نی کین اتی صلی قوخیں ٠‏ 
زوعالی این :اپنامال از این وسائل دقف کے ہیں ۔ کی دوصرے : 1 
کے پارے ممیں ا سکاتقعو بھی خی سکیا اسکن آپ کے عنحاقی نے نٹرو : 
نم می اضای تکو جو یزاب عطاف بای سے ۴ا سکی نظ ری خی لق 


گان الا تکو بی نظ رین جن عالات ین آیت ازل +ولّافر "-- 


پچ را نآی تکو یس فو اس کے پڑ ھن کا طف دو چند ہو جا ۓگا۔ 
سارک دنا حالف سے تل لہ کے بامور رد اور عوام راغ مصطفوب یکو 
جھاے کے در پے ہہیں۔ ج‌ سکیس ےگزرتے ہیں ۔د ال خلاظت کے 
ڈع لگا یئ جاتے یں ۔ او رکا سن کھاد یے جاتے ہیں۔ اللہ تینک 
تضور مس ببدو ریز ہوتے ہیں ۔ نے ھرے ہو اون ٹف کا اوھ اٹھاکر 
گمردلن مب رک پر لاداجاتاہے۔کولن رہ تقصو رک رسلا ےکہ لن کاذک ہگ 
دنا ےگوش گوشہ یں بعد ہوگا۔الن ےی ری تک ا 
کابہت ذاعلاڈہ ور ہوگالو رکروڑول انان ا گے نام پر جلناد ہی ۓےکواپے 
لئےباححث سعادرت لصو رکم بی گے 


)(۳) نو ا او ا تع یس نک سو مت : 


164 


ٰ آسمنی مینوں بیس ہون فی بات ہے ۔کیدکلہ ہوا اکم کا ات ایل 


الف۔ 


نزالی فرآن بش فرہاتا ے۔ الذین یتبعوت الرشول النبی الا می 
الذی یعیدونە مگتوبا عندھم فی التوراۃ والا نجیل. (7ج ۔ 
دہج لاٹ یکرت ٹیں اس دسول ء بے بے ھھ خی بک خمرمی بتانے 
دا ےکی یپ ےکفاہولپاٗیں گے اپےپاس فور ات اورا 1 
مود ڈور یں پیورپ دام لی ود اور یسا ئی بر تآیاد ژیں۔ 
ا نک یکول یں کھی ذک اود ا کو ہہ مم دیاگیاکہ جب دہ خی نی 
( الم کا نات )تش ریف لانکیں تو سب ان پر یھن لائحیں گر ان 
یداو اور یسا تیوں ے اپٹیکتاوں کے سما جح ھکف ککیااور آپ صلی 
اد علیہ وع یآلہ کلم پرابمان:د الاک جن مکو مز لناید 
تی راک می راک ۔ اللہ نی نے اپینے مد بکو حاکم کا ات ,اکر کیا 
اورجھ وعد وک کیادہ لو راہ کرد پااور قامت کک ذکر مج یکا آقاب 
ضو فا نیا نکر جار ےگا 

بٹ گن لے ہیں مٹ جاشیی کے اعد امیرے 

ہا ا ات ا تیج چا یر 

امک تا تک ز ضا 

اے عیب صلی الہ علیہ وع آلہ و سم تو اضی زی راضی 
فان ای۔والله ورسولە احق ان یر ضوہ(ا9/62,2) 
عام کا تا تک ارضا۔ تضوز صلی اللہ علیہ دع یآلہ و سل مکی ر ضا 
اللہ تال یکیار ضاہے۔ یس تضو رک اطاععت ر بک اطاعت ہے جے 
تضورکافیلہ ر بکافیصلہ ے۔ تضور کے وبا ٹس حاض کیرب تال یٰ 


کی بارگاہ می حاضری ے ۔ رب تال فرتا ے اذا دعوالی الله 
ورسول لیحکم بینم ھمنا فی نک وتضور کے ورہار مس بایاجاتا 
تر کہ تضو ران مل فی کر میں بگگراسے اور سو لکی رف بلایاجانا 
کرایا۔ منافقن ب ےکفرر پش ا لا ا ا ا 
وس اور حضور صلی از علیہ وع یلو سم کے سا تے لور ا نہ ان کے 
اڑل واکرام اور لیم ری مکرہیں۔ اور تال کے ہام سے ما 
حضو رکم لال پائز ہے بیہ دونوں کے لے ایک تھی یناد رستتا. 
ہے بلعہ دووں ذائون کے لے ایک صیفہ استعا لکزماوزست ےد 
حضو رکوراض یکر لوا تال خوذبی راضی ہو جا ےگا جضو ری رضا 
کے بغی حی تعال کی ضاعحکن شی ۱ 
فان ای۔ قرآن شس اننر تعاٹیٰ ےکنا ولسوف یعطيك رب 
یر لی :783/5( جن اے عیب مآ پکو اتا لاک یی گے 
ک ہآ راعشی جج ای )ال تےکماک یا مخمد کل احمد بطلب: 
رفائن وانا اطلبْ رضاك یا رع د(تفیربیرپ-2ص1706 
)اے مہہ رکگی می تیر ضاجا تا سے اور میس مج رکیار ضاچاتاہول-اللّد 
وی نے بھی ات تحبوب حا مکا ما تک ضا ای بد کے میدالنا 
غی نب چ انل علیہ الللام پک تم ہو نے کے بعد حاضر ہو ے لوکما 
ارول ال ال تال نے چھے عم دا ےکہ میں آپ سے اس وقت 
کک برا :× جاؤل جبگ کآچاا یز ہوں_ لوگیاآپ را ضیہں 
ماک کا مات نے ماما ال ٹیس راشی وق ۔ قیامت کے ون اع تکیا 
شفماعت قب لکر لیے کے بعد الد تعالی فا ۓگاارضیت یا محمد 
آپ فرامیں کے رب قد ضیت ۔ قبلہکی ابی موب کے رضا 


136 


57" و ا ا 
ال کی رف تی من ہک کے ناز پڑ میا اتی ردی اجب میوپ 
ص_کااللہ علیہ دع لو لم نے ڈیا ہیں لوپ ٹین لت مک کا ا کو 
رای نی لے تل ہک تو کا ذو ران نمازظ ہی دے دا 
یا تاکن کے مو وکیا لے از لن ےکا خی دنے ذ نا ٹر بنا ںآ 
عائم کانحا تک ۃ ضا بات ہے: اللہ تال انے جج ری کو کنا جلزی 
جاؤاورالن کے دک کی مر فک راو دو رکعت پڑہھ کے جھےاورباتی :: 
رکعت دورالن نما یا ہے اکم کائکا تک ضا 180 ری مز مجۓ_ 


مج رکواعزاز ام جن پگیا۔ 7 
ا یا 2 : 





)(۵( 





کا تنا تکوسکون یں مات تیر ے خر 
ا سا و جم 
فرمائأی۔ وصل علیھم ان صلوتك سکن لھم(2_ ۹/۰۳) 


(ت .ان کے لے دھائے تی کرو بے شک نماد یادعااکے دلو کا ین ہے۔) 


رر ںا 

دی ایی نے می نے سوا تھا کون 
شمان نزو ین جب غزدہ تہ وک ہوانوید ینہ مور کے مو منج نکی ایک 
اعت اس میس ششائل نہ ہو گیا النا کے پا اپنے ڑے تے-مالہ 
رولت تی نمو نے و اگ ہج نین لی نار سوں دبا جوک 


کی رف جات ہو ے لفکر کے سا تھ مل جائین گے کنا لکرتے : 


7ل ا تج وک ج تہ چا کے -۔ یی رہ تانے واانے 


من نقن ان مومنو ںک وکیۓ جک ا ا ور ون1 


یی ےکی کی وی ا یی ےی کین کے کے 


آ پک شا نکر گی کہ حردول شی فرما لیت تھے ریہ مومن و بے 
مومین جے جب تضور صلی الف علیہ دی الہ سلم مع زین دایں 
ا یف لائے نو نوں نے ات جسمو ںکومسر بی کے ستوفوں سے 
نج رش مکھل یکہ ہمکو تضور صلی اللہ علیہ و عی لہ وسلم اپ 
مارک ہاتھوں ‏ ےکھو لیس گے حور صل الہ علہ و یگ وسلم نے 
و چھاکہ کون لوگ ہیں لود انہوں نے اپ ےآ پکوکعوں باندجاے۔ 
قولوگوں نے عرخ کیا تضور صلی ای علیہ ویک یآ وم الع سے ہے 
فور ہوا ےک آپ صلیاالل علیہ وع یآ سم بے سا جج مان 

را کہ( 
اس وقت تک ا نکو ہکھولو گاج ب کک ر بکا عم نآ ےک کول 


ئا 


و ا ا ا ات 
دف یگ را نکی تا قول مکی او رکنز نے گے 
توب قوگل ہو کی خب الن اون اپناال ‏ لکھاش شک وہ ے 
رک گن تےکر تا تر کہا ن کاب مال و صول قرمالواورا نکو یک 
کرو الع کا و ش اروف 
تم سکوی کن کو کی وت ہدگن ہل کاصد تن گید جک 
۰س چیہ وگینگرد لکوسکون یس لی ریا ےکی تر ےک عون 

.مھ اید ہا بکیلاق کیا گر یرد ومن یپکھارے- 
: ٌ کانا کو کون ٹیس تی رے بقیز ۔ ال تالی نے ڈرالا وصل 
٠‏ علیھم ان صلوتك سکن لھم اسے تیب ان کے لج وعا کین آپ کے 
یل ان ک ےکنا تن یکرانکوسکون دو ںا ہآپ لی ایل علیہ دع یلو سم 
8 کا فرمالن ےکہ ہر جم اور وو شت کو قمام نم اعمال جار کی بارگاہ شس می ہوتے 
ہیں جم سب ک گناہ ںی خخثرت کے لے دعا فراتے ہیں۔ اسان تو پچ بھی 
! عقل رکتا ہے آ پک ذات ے آپ کے کلام سے تو اونٹف “رن اور س کی 
گگڑیاں چان پائی ہیں حتونع الہ فراقی بیس روا. وف نے ای ککی ای تکی۔ 
ہرنی ای کے چال می یٹ سی انس نے حضو زی الہ خلی دع یآ وسلم 
۱ سے شلکایت کیک مرن ےک کے ہیں اکر اود کے لے اجازت سے جا ے 
: وو ںکودودھ پلاکراٹھی حاضر ہو کی ہو خر شیک ہآ پک ذاتپاک تام وی 
کے د لک چون ےکا نا تعکوسکون یس مت تی رے ایر ہے ناعاکمکا کات ت 

ان کے از کوک کے ہی رین می ہو 

بن ماد آنگنا یی سب گ) بھلا ےی 

النا کا مبلوک ناخ ھی بے چان ذل کا بین ہیں 
ٌ1 ج ہو مرلیٹھ لاذذا انس کی ذدا ہے بی او یں 






(٦) 
الف۔‎ 


عتایہہ کل ا 


اکا جات۔رلوی کا ظر 
٭ے٢۔بالمومنین‏ رغوف وحم( ال ؛۲)) 
ال گھی روف خا کا میا گی روف روف کے معن خمایت درجہ 
کی شف شکر تےوالا۔ . 
ا بھی رجیم عاکمکا ا گی تج رت مکامتقی ہریت رخ ٹک نےوالاد 
ا تالی کے مفالی ام روف رجیم اللد تعالی کے مفاتی نام میں اور _ 
بی اک الد تھا کا فان ے لولاك لھا اظھرت الربونیه اے ٘ 
عجی باگر لن ہوتا اے رب ہو نٹ ےکو ظاہر نکر نا۔ ای لئے 
آپ صلی الہ علیہ وی آز: و مکوروف مایاورر تیم ماود اپ دای 
اوصاف ععطلا گے ۔آ پک غاد تک توہش یاکہ ال ایما نکی غلطیاں 
محاف فماد تے۔اور دوس رک لہ پر انڈ تعالیٰ نے فرایاوما ارسلتدك 
الا رحمة للعالمین۔ لڑنی آ پکیار عمت لذسارے چماٹوں پ ہی گر 
شخفقت اور رح تمومتوں کے گج سی اود ن کو اللہ تھی نے ہے_ ٠‏ 
دووپام نی ادے۔ چنانچ راس سے ایک اود دی لٹ کہ آپ صلی 
علیہ وع یآلہ و سلم ٹیر سولوں کے لے بھیار وف اور ر میم ہیں۔ ای 
لئ ال ای نے اخمیامکرام سے آپ صلی اللہ علی و خی آلہ وس پہ 
ایمالن لات ےکا عمد لیا_ 
ا تالی نے اپ مت اق فراا ان الله بالناس لرثوف رحیم الد 
تھالی 2 لوگوں روف اور رکم سآ 
ا 1.27 سم کار وف اوو رجیم ہو 
جس کیہ اتا کی عفات ہیں تل پہ برا ات تا سے ۔ ایک ذات ای 
ہو شے اڈ خی یکزے چان کا تبون دومج شالت اور و 





1300. 
رححت ہو جاکہ لوگ اسے اہچے سا نے اٹ یآنگھوں سے دک گی ای 
لئ فان رسول صلی اون علیہ وعلی لہ وسلم سے من رانی فقدراہ 
الحق جس نے بجھے دیکھااس نے خ کودیکھا۔ پھر جب ہق اپنے 
علق تیم سےلوکوں بر حفقت ے .کالما ىک نکد میں دے۔ 
پش ھکر ول یر سائۓ اور مت کے لئے پا تج اھکر ذعاما کے اس 
بت یکو دک یہک الل ہیا دآجاۓ(ٹس بی اس کا مفروم ہے ے تفل مج 

کی .)ہے ماں حا کا نا تم متن۔ 


خاکمکا نات کے در پر عاضر یکا گم 


(ے) 


ولو اٹھم اذ ظلموا انفسھم جائو ك فاستغفروالله واستغفر لھم 
الرسول لوجد واالله توابارحیما (اشاء )۳/٦۳‏ 


۔ او زگ پٹ دواپچی چاو بل مک یں واے محبوب ترما ے پا حاضر 


ہانپ را سے مغاٹی ئن اوررسول ان کے لئے شفاعت فریاۓ تو 
ضن روا کوبت تو تو لک نے والاپائیں- 

در اک کا نات بر عاض گی گنا: وکیا ب اکر جا نکماں۔ انل تعالی 
ےکماکہ میرے موب کے در بر جافولود رون سے شفاع تکر ا 
کی کہ ووائق تی کے مقار عام ہیں- 

بی ایک عریقہہتایاجا ا ےک تو قد لکروانے او رگناہ محا فکروانے 
کے لے ھاکمکانحات کے پا جانا بہت ضمرودیی ہے ان بین مجن 
پااٹاںلا ہین(رہ مشثالی ججٹہ سے لئے ہے) ایک پاٹ بی مگ گر جو انی 
جاوں رظ مکرتے ہیں۔ دوس بی تق محیوب مدارضولل الیل صلی ال 
علیہ وع آلہ وسلم اور تی کی بس اللہ تھالٰیٰ-اب ال تع ٰکاے چاہنا 
ہار نے لے عم اوہ رکتا کہ ج بنا مگناہکز وہ اپی جاوں عم 


ٹا و 





رو 


کروفمی اعم ہ ےک حا مکاعحات کے در بر عاضر ہ کراپ نےگناہو کا 
شذاع تک رات جج ضروربرت تو.ہ قیو لکر نے والا پا گے۔ مطاب ے 
ےک پچ تماد ی توب قبدل ہوگیا۔ : 

دم علیہ السلا مکی فو ۔آوم علیہ السلام سے اخزش ہوگی۔ز جن پہ 


ارے جالے کے بعد تن سو سال تک روتے رہے۔ ما وج نے : 


نظریں اوبر اٹھاکر نہ دیھتے تھے ۔ زبلنا یر یہ الفاظ تے ربنا ظلمنا 


اثفستا وان لم تغفرلنا وترحمنا لنکونن من الخطرین لے ٠١١7‏ 


جیازے رب چم نے اپلی جافون برع مکیااکر تو نے میں یرخنمالور رححت 


نہک ق ہم خمارہپانے والوں می سے ہوں کے: وق تگز تگیااللد. 


تا جک تچ ےھر سے "لیم سے ہے رباکا 
این وت کے اتظار م سک یکا نمی زے محیوپل ھا مکاتیا کا نم 
يے۔ پھر ایباعی واج ب ادخ ن ےکُناانی اسٹلك و 
علیہ و لی لہ ول اے امیس چھیر ہے شکی میل سوا کا ہو یک 
و یچھے مخا فکر دتے تیر ایک جج ری لکو جال ہوم سے پاچ ھک ے 
ام سج ےک با ہآکی۔ ا تا یکوکیاچاہتھادہ تیم سے خر ےگھروہ 
آد مکی زان سے ہنم نا پا ا وم تےکماک میس نے انی یق 
کے وقت عرش کے پا برککھا ہوا ھا نول تے جا کہ 1ی 
جست یکا واسطہ دا ہو پھر ال تالی ےکا ا کی مل ری 
افش مواف ہولے 

اعراٹ ی کی حاضرکی ‏ وصال وب کے بعد ۔اقیا کرام کا وصالل 
صرف ایک شرع ضروزت اہول سے عالاککہ دہ ایک عالم سے دوص رے 
عالم می ایی جن ہہوتے ہیں یسے انان ایک قد اٹھاکر ای کآکھرے 


یں ات کم میک 
بی سیا 
۸ 


نف 


112 


. سےدوسرےکھرسے میں پل جات ہے۔ ایک اعرالی حاضر بَواق ازس 
پرزدیا۔ خی اپنے سپ ڈال اوج غپارک سےآوا زآئی ان ری تن 
* گا انس کے وی خلا ےکا حجات موا عی شی دا ہیں صلی 
علیہ دع آآلہ وسعلم کے در پہ عاظ رت یکا عم جا امت سے اور ای 
حلوق کے لئے 


13113 
اک کا حاتں۔ مو منوں کے فو ے قرب 
چانو لکاءایک 
(۸) النبی اوٹی با لمومنین من انفسھم(ال7اب٦/۳٣۴)‏ 
ھک ہنی مسلمانو لکاا نکیا جالن سے زیاد مالک ے۔- 
تضو رس ورک رع ص٥الل‏ عل ید عل یلو مل نے فربیل(الف)ہر موی 
کاد نیہ آنزت میں میس شفق تر ہہوں‌ان کے مفسوں ہے اوران کےکہاء سے۔ 
(ب)۔ تم میں ےکوئی بھی مو من خی ہو علقاج ب کک میں اسے اس کے ج 
سس بوز ا سک اولاد ان کے مال اور خام لوگوں سے موب تن ہو 
پاؤں۔ 
عد یٹ پاگک۔ می رک لود می رک ام تک والت ا شش کی ط رن جس نے 
آگ عاالی ہو اور لف چائور اور برا نے اس یی سگر نے کچ لج ذوڑتے لے . 
آرے ہوں میں گہیں تممار یگ ھریں سز ]ہد ازم اس می گر نے بے 
اضر رکررے ہو۔ 1 
(ت)۔ دنیالورو مغ کے قام ا مور یں بی کا عم الن بر بافذ اور ٹیک اطاعت٠‏ 
وجب اوزضی سے حم سے ماق نس کی خواہشیں واجب ارک 
سی مو من برا نکی جانوں سے زیادہرافت ور حمت اور لطف و 
کم فرماتے ہیں۔ 
تی فرمان ای میراحیوب تم بر قمیازے مفسوں سے بھی زیادہ خریان اور 
شفلق ہیں۔ جقتا می رس ہ یکو تمماری عمزت فو شقالی 'اخطاقی 7ز یکا 
خالی ے .میں خودکھی انا ان قد لی ٹم ۔ اس عقیق تک 
وضیاحت ایک دوس رب یآیت یس گج یکردی لی ے۔عزیز عليه ما عتم 





174 ۰ 
حریص علیکم با المومنین رؤف الرحیم۔ لی بج چز تہارے 
لئ نیف ددیدوہ انی یبد گرا ںگزدتی ہے۔ وہ تہارے متحلق 
ری ہیں الورائل لان کے لے یڑے مسریاں کور رجیم ہیں۔ 
7 اخلامہ :۔ تضور صلی ال علی یہو لم ان بران کے نضول سے کھی زیادہ 
7 مرالن ہیں اود شق تک نے وانے ہو ںکی کہ حضور ٹیس ضیا کی 
مرف بلاتے یں اوران کے نین انیس بلک تکیاد وت بے ہیں- 
ق راکنا پاک ما ک تا تک قول ے 
7ئ لو نو کریہ وم اہو یقول شاع لت :4(۷ 
2 و اکا بے شیک ران ناک ۲( نے دالےد سو سے با٘س میں اوروہ 
سک اشاع کات مد 
ا وپ انا قرآمن اک کا تقاضیت کااشات ‏ ےکہ دوالل تال ی ے 
ا ہے اور اسے اللہ تعالی نے لوں ویو میں اہر فرمااو و کسی شا ع کی 
بات لیس سے تم ایا نکرتے ہوساور نہ تا ہکا کا قول ے 
آولمم پوجرد تن ہو - گار چوک ہآ پکو شماع راو رکا جن 
کت تھے اسیا لئ ال تھالی نے ا کرد فربایا۔ دوس ری کہ ار شا ہوا 
وما بنطق عن الھوی ان ہوالا وحی یوحی اور کول بات اپ 
خوائشی سے نی کرتے دو یھ جوا یں و کی ای ے- 
رباناٛی۔ قل تربصوا فانی معکم من المتربصین ہ ام تامرھم احلامھم 
بھذا ام ہم قوم طاغون ہ ام یقولون تقوله بل لا یومنون ہ فلیا توا 
بحدیث مثلہ ان کانوا صدقین (الطور )۵۲۱۳٣۳‏ 
اع فرمامیں اخنظار یئ پا میں بھی تممارے ا تار بش ہو کیا نکی 










3175 
تگیں انیس بی بتاتی ہیں ما ہس کش لوگ یں یا کت ہیں انوںبہ تن لیا 
بلح دوایمان شی رک ذاس شی ایک بات و ےآ میں رظ 
نٹ رج ا نآی تک ینمی اللہ تال تے اپنے موب اور ہار ےآت ملا 
علیہ وع یآلہ وس مکی ایک شا نکاذک رکیاہے پوردوہے شا نک رگ زوا سے 
لف کے بع کر کا لفظ اکر ان تھاٹی نے بتایا کہ می کھ یکر می ہوں اور می را 
مو بگھ یکر می ےکی وکلہ میم راتحہوب می ری 7 0 
امظ رہو ے دالا اک کا2 ات ہو ہے 
امک 7 

دی تق رن ویعد وی نماز دی شر اٹ 

یک ال (ج) ق رن می سکماں ے؟ جا عازن سے ااقل 
تین خبادت نماز ہے شمیازوں ن بھی تنا یکہ ا نکا شر نمازگزار ول مل ہو_ پا 
خمازک یکین بھی معائی شی سے سف ریس ہو یہار ہویاعالٹ بک یش ہو پھر 
قیامت کے دانع سب سے پل نمازکا یو چھاجا گا ۔بچ بے نماز یکو زا کے ور 
پ4 جخم مس پیک دا جاۓگا اور جنتوں کے کو چنے پر کے گا (لم نك من 
المصلین مھ ث) ہم نمازنہ پڑ ھت تے۔ ایک دید ودانتے نماز پھوڑ نکی مزاای 
زار سال جن مکی گل شس ڑیاہے۔س رکار صلی اللہ علیہ دع آلہ وسلم نے فرایا : 
جس نے دیدوداننت نماز پچھوڑی دہ میرک مت ے اخ :و گیا(فمن ت رکھا 
متعمدا فقد خرج می ! حالق) ٠‏ 

لقیات اورورود ا ائیی ق رآ ےی موی ا ؟ ‌ٹازشن 
سب سے پل اللد اکر کے بعد (ش) سبحنك اللھم پڑت ہیں پر جلسہ مم 
لقیات پڑ ھت ہیں ۔اور اس کے بعد درودابد ایی پڑت ہیں تقر نکی ٦۷۷۷‏ , 








اد فو ار ا و 

1 یتقو ئ شکیات نی نیں۔ بل ربھی ہم پٹ ھتے ہیں اوردروداراتبجی کے متعلق بر 

1 ۱ ٹن مولو کے ہی ںکہ اس کے علاوواوردرودت گی رووؤر_ 

و صوالی بے ہےکہ ٹا الات * ددودارائچی ےق نک یکسی سور میں 

یں و رس اتاد یا ادا یڑ ے ہو۔ ا ںکاجواے کیاے؟ 

قواب۔ کیوکلہر ول اللہ صلی اللہ علیہ وع آلہ وسلم کے اب بے 

٠‏ الفاظ گے :. رآ جس میس وکیا ہو جب ا کائیات کے ام 

. و ایل وف رم کے اب مارک سے کات لے از 

8 منا گن ق را یئ عد یٹ ئن من ہآپ صلی اللہ علیہ یآ 
و٣۷‏ تح الل کہا تح ےآپ مل الہ علیہ دی آلہ ول مکی آگھیں 
ال کی ایل ہیں ہآپ صلی اللہ علیہ وخ آلہدسلم کےکان انل ے 
کان یی ۔آپ مال علیدد الو سلم کے پاؤوں ال کے پا ہیں 
اور آپ ملیاالل علیہ وعل از وسلم سے اپ مپارک اللہ کے لپ 
مبااک ہیں ۔ ان لے جو الفاظط گل دہ ش ر اعت ہے۔ دہ نماز سے ۔ دہ 

: حدیٹ ہے۔دہ ق رن ے_ 

رول بات چچیت مر اناے :۔ 
رگن مل مکی کات فو رکریں قمعلوم ہوا ٹا پوپ 

الشرعلیو سلم سے کے بھ یکا دکھ نظ )بس یکاہ (قل) 

2 کی کٹ ہے (الم کیا نے یدید یکاہ ے(ور انا رت 

کیاشم بھ کتاہے۔ لوم ریش مھا ( درب پھر مو ببھ یکنا ےی 

(رب۔د خرضیکہ ا کو بج کے لیے یرت چاہے جو خخزف اور صرقن در مصطل 

صیال علیہ وم آکہو لم سے یلیہ 





3 +2“ ا 
شب مرا ناک باتل 
قا مین کرام :. الد تعالی نے اپنے محیوپ اور جمارے آتا کو خب 
اسرکی بلیا۔ انا دیدار کرلا اور جھکلاٹی کا شرف ناد ار فی وکر 
سورۃ بی اس راچ اور سور مم یس موود ے۔ 
در یت جرن ہے ول 

.١‏ غن ابن عباسن ماکذب الفہٴ ا٥‏ مارایٰ ولقدراہ نزلة آخری قال راہ 
بفوادہ مرتین۔ (رواہ مسلم) 
تچ حطرت ابی عحبائی نے لن آیات کے ہازت میس فیا مک مور 
4 لچ رٹ کا دداء لچ دل کی ہکھوں نے وو ضز کیا 

لام ترک روایٹ کرتے ہیں قال ابن عباس رای محمد 
ربہ۔ قال عکرمة قلت الیس الله یقول ۔لاندرك الا ابصار 
وھوید رك الابصارقال ویحدہ ذات اذا تجلی بنورہ الذی ھوئورہء 
وقد رای رب مرتین۔ 

تمہ :حطرت این عباسں نے فرما اک در سول اوڈہ صلی اش علیہ و یلیل 
سلم نے اپنے رادید کین حلرمۃ (آپ کے شالزر) کے کہ میس نے 
ع رخ سکیا ہکیاالل تعا یکا ار شاد اٹل لا تد ر کہ الابصار وھو یذڈرك الابصار 
کہ آنکھیں اس کاادراک تی ںکر سیں ۔آپ نے فربااضسوی تم بجھے نہیں ے 
اس دقت سے جیکہ دواس ور کے ہساتھ گی فرمائے جو ا سکافور سے تضور صلی اللہ 
علیرو ر- و نے اناد بکودو مر جب دیعل 

صخرت رّ کبزا 5 محر تداویر حت اللہ علیہککھت ہیں:”ابن عمرور 21 
مہ مراہشعت او ےکردہ پر سی دک ھل رای محمدربہ نہ و ےگخت ‏ ورا ہل 
ام ن ھ رم لم نھمودوو قطعا بر اوت ردوا ار تر ڈ“دإ_“ (فعیرللعات یرم ۷صضص۲۳۱) 


کرات وہ 


کا ا ایت مک اج 


017 


ترجمہ :حطرت اہی عمرتے خظرت ارکن عباس سے اس ھتہ کے پارے 


یش رج غکیااود لو ھاکیا اور م٥کیاللل‏ ید لی آل و نے اپنےارب کادیرار 


ہپ 


کیئان عبالکس نے جواب دیاکہ تضو ر صعکاالل علیہ دع یلو مھنےاپنے ربکا 
دید رکیا۔ ححخرت ابین عمرنے ان کے ا قو لکو لی مکیا اور تر دددائکار کاراست 
اظیار یز 


کل 


علاہہپدرال رین یر ابا کیایل مندرجہڈ بل دویات ٠ل‏ ارت ہیں: 
روی ابن خزیمه باسناد قوی عن انس قال رای محمد رب وبہ 
قال سائر اصحاب ابن عباس وکعب الاحبار والزھری وصاحبه 
معمر۔ 

ترجہ :ائلن تہ نے تی سز سے حخرت الس رض الد عدد سے 
ردام تگیا ےک آپ ن کہا تضور علیہ الو والسلام نے اپنے ر بکو 
دیکھِ ا کی سر اکن عبان کے شاگر دعب اجا مہ یور صع رکہا 
رن 

انخرج النسائی باسناد صحیح و صحعہ الحاکم ایضامن طریق 
عكرمة عن این عباس اتعجبون ان تکون الخلة لا براھیم 
والکلام لموسی والرویة لمحمد صلی الله تعالی عليه وسلم 
ےرات معالی ے سنج کے ا تاد الم لے بھی جع سر کے 
ساتھ حکرمہ کے واسٹے سے نحخرت اہن عباں سے نف لک ہے ۔آ پکہا 
کرت ےک کیا تملوگ ا پر تج بکرتے ہوکہ خلتکامقامابزا یم علی 
السلام کے او رکا مکاشرف موس علیہ السلام کے لے اور دید کی 
سعادت رر سول الد ص٥‏ اللہ علیہ دی آلو عم کے ہوں 

ام مسلم رت اوذر سے روای تکرتے ہی : قال مالت رسول الل 


"39 


صلی الل تھی علیہ و سم ھل رایت ربك قال نورانی اراہ_ الفت کا 
دوطرع سے پڑھاگیا ہے نخوز انی اراہ۔ کی صورت می ا ساس 
یہ ہوگا:اپوذ رک ہیں یس نے ر سول الد صلی الد علیہ دی آ١‏ وم 
سے بچھاکیا تضور م٠للد‏ علیرو کی آلہو نے اپنے در بکادیدارکیا 
ہے آپ نے فرااووفور سے میں سس ےکی ور دکچھ سا ہیں دوس ری 
صورےۓےٹل ماب ہوگاد رپا ي۷ نور ہے میں نے سے دیھال ٠‏ 7 
اع وی آ”ء29) عن عبدالله بن شقیق 2 
قال قلت لا بی ذرلورایت رسول الله صلی الله تعالی عليه وعلی, 


آله وسلم لسالتہ فقال عن ایٴشئی کنت تسالەقال کنت اسالله --- 


ھل رایت ربك قال ابوذر قد سالته فقال رایت نوراکہ میں نے ور 
دیھاے۔ یروایت جیا دوس یا تہ کا ماد رر لے۔ 

حکی عبدالرزاق عن الحسن ان حلف ان محمد ارای رہہ 
(عمدة القاریٴص ۹۸اجلد۱۹) 

کہ ضض ری اس بات رش مکھات تےکہ حضور صل ال علیہ وی 
آلہو مل ناد بکادیدا کیا 

واخرج این خزیمةعن عروہ بن زبیر اٹباتا روہ ین زیر سےا لت 
زی نے نف لکیا ےک دہ مگیارویت کے تی وت 








 -_ت.‎ .:00 


جساا ضرا 
۳_۔ اعادیٹ مشجورہ متواقرہ گی اکا پر شاہ ہی نک آ پکاذات باب رکا تک 
راج جسمائی ہوئی چناہ ری و مم والوراؤرد ابی ماج وشفا اض 
عیاش وغیرہ کب اعاد یت می ان صحاہ ز ضسوان اہ ہما نشین سے 
رولات ظکرہین۔ 
لا نک ۶ اسیا زی ۳ راس بن مالک ۴۔اید 
۵۔ جال جع حمامہ ۴۔ بلال بن سعد ے چابر ین عپرالٹد 
۸ عذلیفہ جن الما ۹ سحمرو ئن جخدرب ٭ا۔ کل من صعد ان شحداد بن دی 
٣۔‏ عیب جن سنان ٣ا۔‏ عبد امن عبائی ما عبجد اللہ بن عم جن خطاب 
۵ا۔ عبرانڈرین عمرو ١ا۔‏ عبراڈڑبن زیر -سھا۔ عبرالل :ناو 
ا۸ عم بال جن سو ۹با بن مسعور .۰ن بدا جن بن اس 
١‏ عباس مین عبدالمطلب ۳۲۔ عنان بن عفان ۴۴۔ لی بن ای طااب 
۴۔جمرین خطاب ۵٥۔‏ مالک بن محصدہز ۲۹۔ ال دک رصدرلقی 
ے۴ ابوالھمرا اءة ۲۸٣۔ا‏ الوبالصادیق - ۲۹۔ افہریہ 
٣۔اہ‏ الدردام ۱٣۳۔الیعز‏ خفادگی ' ۴۲۔ ابو سرایزرى ۴۳۔الوسفیان 
۳٣۴‏ اوسلملد ۵ تو مکی رای ٦۔ال‏ من الا نضاریی 
ے ۳۔اسمایعتال یکر ۳۸۔ا مال مو من عائیشہ مر ضوان انل تعالٰیٰ کو 6 
۹۔ ا مکلٹوم نت رسولالل صلی ال علیہ دی لہ سلم 


ود 
ال تھا ۔ "َ رت 


فاوحی الییدہِمااوحیٰ 

فاوحی الی عبدہ ما اوحی کی تقاصیر: 

()۔ حر تکاشفی رح ال تھی علیہ نے فربایاک مض علا مک رام فرماۓے 
کہ بجر ہ ےکن ہم ای کے در پے نہ ون خداچانے اور مصطف صلی 
اللہ علی و علی آل سم 

(۴)۔ مین علانے: ف اکا ے 0 ات 
کرنے میں حرج نہیں تی جوا ر(معننہکاشنی رمع للع ھی ا 
تفصیل سے ع رح نکیاگ یا یہاں صرف تن وو پراکتقالیاے: ھت 

دی کا مضمون می کہا ےججوب مھ (صفالل علی دی لو “)گر 
یش آ پک ات سے حا بکرن کو ووست تہ رکتا ان ٛے کے 
ساب نہ لیقا ]نان سے اب لینابھی میری محب تک د یل ےک 
ا نکو خرا بکرد گا تق بھی ان سے می رىی محب ت کید یل ہے اکر ان 
نے رت تک 23 مگاان ۓ ضابھ لق 

٢۔‏ ایا محمدانا وانت وما سوی ذالك خلقتہ لا جلك (روح 
البیان ص ۲٢‏ ج ۹) و تفیراترکی ص ۲۲۹ 

7م:۔ اےگوب (محمد صلی الله عليه وعلی آلە وسلم)ششا ر7 
اع انا ہے ون نے رف ا کن جا اے۔ 
ا کا ور ىیاک صلی الله علیہ وعلی آله وسلم نے اب 
عق یکیا: 
انت وانا وما سوی ذلك تر کتە لا جلك 
ناویا ا لق ای کت نے کے پوت 





مث میں بی دمسی تواقف اھ کی 





٣‏ اےحجیب صلاللہ علیہ دعی لہ وسل مآ پکاامت مر یطاعت بجا 


اک 


ج 


' 
ک" 


لانی سے نی ن گناہ بج یکر ی بے ا نکی اطاعت و میرکی رضا کے لئے 
سے کان ا نکی محصیت مر اق اہج مل ان کا می رکید ضا کے لے 
ہوگااکر چہ تھوڈااور کی کے ساتجحھ سی دوٹش ان سے قو لک رلو ںگااور 
وہبرائیْ جھ می رک قام سے ان سے س رود ہوگی ارچ بہت زیادہ 
کیاخب بھی انیں محا فکرد ںگااکی ل ےکہ یں رجیم ہوں- 

خ نت ےکماکہ اس دی کامفهون ھا 

ان الجنة محترمة علی الانبیاء حتی تدخلھا وعلی الامم حتی 
تدخل امعٹ (روئ‌البیان صض۱٢۲ك۴٤۹)‏ 


ن ترجہ :۔ افیار الام پر کہشت کاداخلہ بندایے ھی ا نکی انل پر ہانگ 


کہ آ پک امت اس می دال تہو_ 
ن کہاکہ ا کا مخکمون ہی تھاکہ جلوتی سے باامید ہو چا ہک وک 


. ان کے ہاتھ ی سے نیش اور خی ری صحبت اتی کر اس لے تمہارالوغا 


میرے ہا ہے اود دنا سے د لکونہ لڑکا وک و کہ ٹم نے تک ہیں اس کے 
لے بدا کید ۔ 

گل ن ےکآہاددد یىی ع کہ دنیائ سگزار سے چاہو لاخ رم نے ما 
ہےاود بس سے معحبت چاے محب تک رلو بالاخراے چھوڑنااورا ے 
جداہو نا پڑے گا وزج چا ہش لکرلواس پر خپییں جزا مزا گی 
ا وق الم یجدك یتیما فاوای . تا - ورفعنا لك ذکركغ 
سے 


13 


اہ یی شکایات 
حفور علیہ الصلوق والسلام نے فرماپاکہ شب محراع اللہ تعالیل نے 


عتمر رشگایات کی ان یکن سے چندایک بی ہیں : 


0)۔ 


۶) 


اش اٹ 


(()۔ 


2ھ 


یس نے فو انی ن کن کا ملف نی بایان ایوس کلک رگا 


کا بھی مطالہ کر تے ہیں- 

نے ا نکارزقی خیروں کے سرد خی سکیا مان ود می ر ےکا مکو 
دوسردں کے بپردکرتے ہیںد 

رزقی می راکھاتے ہیں لان شر یر ٹیر اکر تے ہیں می ریخات 
کت یں لیکن میرے نر سے سس کھت ہیں۔ 

عزت صعرف مہرے پا ہے اور می اتی عزت دبا بھی ہوں لن 
میرےقیرسے ہہت طلبہکرتے ہیں۔ 


نے جوم توکافروں کے لے تیارکی ہے لین ےکومش لکرتے ہیں 
کہ خو کو جم میں ڈایس اور فریااٗکہ اے حجیب ٥ل‏ اللہ علیہ دعلی آل 
مم ام تکوفر ماس ےکہ ت مس یکاا مان مند ہونا ات ہو تا ل کال 
زیاد+لا انی ہوی ںکہ می ری تم پا یگنت نتیں ہیں او راک تم زین و 
مان می سکسی سے ڈرتے ہو اس کے لاگتی بھی مین ہوں اس گے 
میں ہی کال قد رت کانالک ہو او راگ رن کسی ے امیروار ہو نا چا 
ہو وو بھی میں بہوں کہ می تہارے عم دج بر داش تک دہ ہول 
اس کے پاوجو دکہ تم تظاکرتۓ ہو لیکن می دفاکر ا ہوںاگک رم ری کے 
لے مال د ان شا کر نا ات ہو نو بھی ان کاٹ بی تعن ہو ںکیوکلہ 
مم تمہار اممبودہوںاگ رت مک یکو ان وعدوکاسیا ھت ہد تذ جیا دوش 
جہوں اس ل کہ مم می وعدر ےکا سیا ہوں۔ : 





134 


۷ بج مان ےکہاکہالدتھالی نے وی یس فرب اکہ اے محبوب صلی الہ علیے 
دی آلہ وس میں آ پک اص تک بہت زیاد ال داسباب اس لے نہیں 
جاکنہ قیاعت می ا نکا تاب د تاب لہانہ ہو اور ا نکی عمر طو ٹل 
ای لع کیک ماک جاک ان کے قب حت د ہو این اور وین 
ری سے نہ متا جائی اورا نکوا اک ال لے نیس مار ج جاک 
د ٹیاسے لو پہ کے یر خحصت نہ ہو اور دوس رىی امتوں نے انڑیں اس 
لئ کپ اکیا اہ انننش قبور میں زیادمرت: کے 

٣ 2‏ سے ایام راد ہے ہج اعاد بیٹ میں ہے اور قیامت 
کا ہل ھاکیاں جو اعاز یٹ داخپار مس عروکی ہیں ویر ود یر دای لئے 
ود بی پاک ملا ال علیہ آلہروسلم نے فریاکہ اک تم پانۓ جھ 
چانتاہوں تم ےکم اور روتے بہت۔ 


۰ تی اا ضف رضاق از شی ال حٹے:۔ سینا ایام تتفر صادقی رضی الڈر عن 


فا حی الی عبد ہا سے دوہ گی مرادے جو یلا دا اللہ نھالی نے ان جیب 
رم مال علیہ دی ال ومک فرمائی اس ل کہ اس یں کچھ وضادت 
تی کہ کیا گیا ایک داز ہے چو صرف دی بات ہے بجی نے دیاادرنص 
نے لیا آ فرت یل ظاہ گاج امت کے لے آ پکواذان شغاعت :نا 

انی ززس سر ہی تی رن جخرات مام ذرحت القہ ا اک ند کی 
گیا داز رات یا تپ یا موی یں جُئے کوک کی نی باضانہ 
ال تھالی نے ان حبیباکرم سی اللہ علیہ دی آل و مکوکیاہ کی کوک 
یرد مت کے در پان ایک از ہو نا ہے جس سے سوائۓ ان کے او رکوئی 
آگاہ نیس ہوجا۔ ١‏ 


185 
ویرار ملق کے لے لا مگ الد تعالی ے اجازت انا 
شب خحراج 


واخرج عبدین' حمید”عن 'سلمة'بن 'و ھرام اذ یغشی 
السدرۃ ما یغشی قال استاذنت الملالکە الرب تبار ك وتعالی ان 


ینظرو الی النبی صلی الله عليه وعلی آله وسلم 

ملا لہ نے الہ تالی سے جحضور صلی اللر علیہ وعلی آلہ وس مکو دی ےکی 
ابازتطل بگی۔ 

فاذن لھم فغیشت الملائکە السدرۃ لینظرو الی النبی صلی 
الله عليه وعلی آلەوسلم 

و ال نے ا تل اجازت ےد لوووسپ سدر وپ آ بے اورعال 
وی لئے سد رہکوڑھا ب لیا۔ 


شب مزا جن ق نی آیاتکانخزدل 
ای مقام دنی فتدلی پر خ رآ لی آیات وس رو تی کے طور یر ضور ا 
الله علیہ وعلی آلہ وسل مکوعطاہ ”میں دہآیاتوسورہے ہیں: 
() خو امس روالترہ 
)09 و و ا 
(۴) مودہ لم ضرع ہے می ات (الم نشرخ لك رك 
ووضعناعنك وزرك ٣‏ ورفعنالك ذکرك ہ 
)(مّ() آعت : وھوالذی یصلی علیکم و ملائکتە لیخرجکم من 
الظلمات الی النور (الاحزاب) 
کلام داسلہ کے اھر دی ملا وسر ملاگہ تھی اود بلاداسلہکلام خطا بککا 
تھی ہے اس مت پ ال تھالے نے اپ عیب اکرم صلی اللہ علیہ وع لہ 





. 36 


و سلم کے سا تح بلاواطلہکلام فرباا سے موی علیہ لسلام نے کدو ور پرہااکیف اور 
از ہر رف کلام کی ایی بی حضور ن یکر صلی اللہ علیہ یکلہ و لم نے بلا 
گیفاورازی رجا ب کم ناد 
تضور علیہ السلام نے فداتھال گوس رک آنگکموں مرا رکہ سے ویکھا 
اد ام فو دک تن ےکلھاے۔ 
اکٹ علاء کے خودیک راع سے ےک حضور علیہ السلام نے اپنے رب تال ےکو 
اپنےس رک آگکھوں سے دیکھا۔ 0 
لق (اما ھی جا )کے ندرک اس مر روں سے دیکھاجو تضور علی 

الللام کے جم اقدسس یی ہے اس ل ےکہ آپ کے نی مکاہر جک تھا 

آ پک بر ولھیرت ایک تھااسی لے بلاکیف : 
آپ نے ہردووں(اھر دلصیرت) سے دیکھ۔ 
لی اع را کی آبیت:۔ تورم رورعالم صلی الله عليه وعلی آله وسلم 
کوشب ممراج اللہ تھالے نے فرمایاقف یائھ فان یک یی 

(اے تم (صلى اللہ علیہ وعلی آللہ وسلمم) شر کے ' آپکا 
رب تالی تلوۃ پڑہتا سے تضور سرور الم صلی الله عليه وعلی آله وسلم 
نے جا کھا: ا 

ان ربی لغنی عن ان یصلی (می ارب صلو یڑ ھن سے بے نیازے) 
اش تال 27 فرمیا: 

نا غنی عن ان صلی لاٴ حدو انما اقول سبحاتی سبحانی 
سبقت رحمنی غضبی اقراء یا محمد ھوالذی وصلی عليکم وملئکته 
الڈیته فصل فی رحمة لك ولامتك۔ 


7 


(م سکسی کی لوٹ من سے واقتی ہے میاز ہوں لین مم لکتاہدں 
میرے لے پاکی نے میرے لئ پاکی ہے می ری رحعت میرے خغضب پر سیق تکز 
کے اے ئ(صلى الله عليه وعلی آله وسلم )ۓےھوالذی یصلی 
علیکم و ملشکنہ الابعہ میرک صلو کا صن ىہ ےکہ می رکید عمت آپ کے 
او رآ پکیا امت کے لے ہے۔ 
ف:۔اس سے مات ہواکہ یآ یت ملاواسطہ ج یل نقاب تو کین کے مقا مھ 
ازلول۔ 
دومرى ردامت ا ۔ تضورسرور عالم سک اللہ علیہ یی آلز ۃسلمتے 
فرراپاکہ می جب ساقیںآسمان بر بچیال یھ سے جب را اشنا کھا: 

5 تھوڑی در تھہر ہے آپکادب تال سو ماے۔“ 
ان ےکھا: : 

”گیاہ ر ارب سلوڑپڑھتاے؟“ 
ےک“ 
میں ےکھا::.-. . ”وویابڑختالے؟“ 
انت کان ”نووبڑھتاے: 
سبوح قدوس رب الملائک و روح سبقت رحمتی غضبی 

سور وق کی خر ی آمات کے فضائل 
عحد یٹ شر یف: :مروئی ےک حور سور عا لم صلی الله عليه وعلی آله وسلم 
تب ٹب مرا سدرہا شی پچ مندد ج ذیگی سی عطاف را یکئیں۔ 
فک :رر ڑا می جے و ا ےت کی یں 
سر ں2 و کی 
1 ین کا نکی رسای کی سای شر جوا واینوری لوق زیچ ترنی 


؟ 
138 





ہے دو ہما ےآ گے کی بدھ موی می میں تن یں اس 
ےپ یس تاس کے ا تا نے اناد بدٹی 
1 السدرۃ ما یغشی ۔ 

2 ف: تفورعلیہ لصاو والسلام نے فمایا:ا ںکاف رش سو تن ےکاے۔ 

۳ ف: عزر3ا ےت علیہ السلا مکوس تن چنز سی عطا ہو میں 

.۴ اض 

(۴) روبق وک آفر کتبا رد 

7 (۳) آپ کی وا یش ےت من سے )یئ 


خضورسرورھالم می الہ لی د صلی لو لم نے فرای: 


..” ععنرا نکی رات میرے اللدتھائے نے بے اپنے فر یبن کیایہاں 

۱ تک کہ ٹیش عرش مخماکے پا یہگک پا مز سے دل ہیں التھاک ےکی طرف 

سے القاہواکہ می ںکہوں: (ئم الھمنی الله ان قلت) امن الرسول بما 

انزل اليه من ربه والمومنون کل امن بالله والملكکتہ وکتبہ ورسلہ لا 

نفرق بین احد من رسله۔ 

ا کت >ہودو صادئ یی طر رم لکرام کے نان نفر قہ خی ںکرتے۔ 
الہ تھالے نے فرمایاکنہ بیبودلوں اور فھرانیوں گیا کہا (قال فما قالو) 
لت 'یس نے جواب دیاکہ انہول نے کانض ما و عصینا لین مؤمنوں نے 
کہا:سمعنا و اطعنا 

ال تھا لے نے فرمااز کے ہو اے گوب! صلی الله عليه وعلی 
: آله وسلمٴ اسم ای ئن نب تا عنای تکروں- 
ققلتِ مل ےکپا: ربنا لا تواخذنا ان نسینا اواخطانا۔ 





189 ا 
قال اللہ تھالے نے پھر فرایا: یں نے آپ سے بے 
سے خطاد نسیان اٹھالیا۔ مہ جو مل ا نکی ش عکو( قد رفعتِ عنك ؤ عن 
امتك الخطا ولنسیان وما استکر وا عليه) شاق گزر تاس دہ گی 
فقلت ال کے بتع می نے ػاربقا ولا تتحمَّل علینا اصراکما حلمَة 
علی الذین من قیلنا - یھن اے الل دای >ہودو فصا رٹ یکی ط رب مشقت ٹل 
ند ڈالنا_ 


قال الشد تھا لے نے فرملازاے مر ےگبو !صلی الله علیہ وعلی آلہ.--- 


وسل ملین ےآپ امت کے لے یہ باتمانلٰ٤ے۔‏ لك ذلك ولا متك 
قلت ال کے بعد لت ےکہا: ربنا ولا تحملنا ما لا طاقۃ لنابه 
قال اللہ تھالے نے فرمایا:ی نے ایا یکر دیا۔(قال قد فعلت) 
قلت اس کے بعد لت ےکہا: واعف کا وظر یا 
انت مولنا فانصرنا علی القوم الکفرین ۔ 
قال اس کے بعد یس ت ےکہا:ش نے مہ بج گکردیا۔ 
ور مہا اللہ غاب مل آله وسلم نے ارشادغرمیا: 
عد یٹث ریف 
شی سور وق کی آ رید وآ یت نماز عخاء کے بعد بڑھتاے_ اے 
ماکیارات ‏ ےکفایے ۔ک بی یاقامت کے لہا کفای تکرىگ, “ 


2 





200 
شب محراج(فرشتقوں کے سوالات کے جوابات) 
اتانی اللیلٰة ربی فی احسن صورةا آخر حدیث۔ 
ایک رات مےرا درب میرے پاس ان صورت می ںآیا۔ فر میا اے مھ 


(صلی اللہ علیہ دع یگل وعلم) میں نے حر کیا مولہ میں حاضر ہو _ فرایا 
مقرب فر تکس میں جھھڑتے ہیں۔ یں ن کا خر نیس( پچ جانتاہے) 


نے جنر ف رپ اللہ وع یآ لم فربات ہیں خی نے ایل تال 


کودیکھاکہ اس ےآپنادست رححت میرس ےکن عو کے پچ رکھا تی کے میس نے 
اس سے خو شی اور شھادمال یکااثر اہ سی یں محسو سکیا راد لی نے رای آپ 
(ضل اف علیہ سیل وم کو عم ےک فر خی ہکات ہیں۔ اس نے حر 
کیا ارب ذہ فا ات کے متحلق بات کرت ہیں ۳پ چا کفاد ا تکیا ہیں- 
سن یں نے ع رف کیا وحم صرمائیس ابی ط رح دض کر .اور ہر عفسومتک انی 
بای پنھانا ٢۔‏ دو بابجماعت ھااداکر ا۔۵ ۔ تیم اہر ٹمازاداکر نے کے بعد 
انی زم زکاا ا کر ۴زاز تعالی نے فرزشتوں سے فر میا ا فرشنز (تمیں 


: مکل کشا ل میا جو بھی مکل سوال ‏ ےآپ (صلی اللہ علیہ وع یآ وسلم) سے 


.و چھڑے۔ حطر ت اس ال حاضر ہو ےپ مایا محمد مالکفازات ۔ آپ 
(صلی الہ علیہ وع لہ و ملم نے بتاویِ ۸۔ انل تھالی نے فزملیاصدقت ہام پھر 
حضرت جب ران حاضر ہو ے لپ چھای مم مالذیات ۔آپ (صلی اللہ علیہ دع یآ 
وسلم )نے فرمایاہ شیدواور اعطا یہ خداسے ڈرنا۔ نشی اور ڈگ کی ین میاندرەی 
اور نا را ضصگی اور خو شی من انصا فکر ۹-٤‏ الد تعالیٰ نے آرایا صدقت یا محمد 
پھر حخزت ہکائحی حاضر ہو ھے اورپ چھا پا مھ صلی ایل علیہ وی آلہ و سلم 
یگ کات نل کے اعطای ئل جو نکیا ہیں کی 
صلی اللہ علیہ وع یل و سلم )نے ف ایا بچھو ک ےک وکھاتاکھلانا۔ سلام مک نا۔ را تکو 


101 

جب لوگ سو ہو ہو نماز پڑھنا_۔٭ا۔ الد تعالٰیٰ تے فرای صدقت یا 
محمد ا کے بعد حفرت ع زان حاضر ہو ے پو بچھاا جھ مال کات (یجد و ںکو 
ہلا ککرنے والی)آپ( صلی ال علیہ ع یہہ وسلم نے فربایا ین دو یل جح کا 
لوگ اطاحع تکر میں ج پچ یل انی ںکتزاے اس برع لکرمیں۔ فقمانی خوائشش 
کی پیر وئ یکر ن۔ اود خودکو میک نا_١‏ الٹر تال ےا صدقت یا محمدنے 
مر فرش زار سای سے ح کر ہے ت گر انیس جواب نیس مل دا 
تھا او رپ (صلی اللہ علیہ وع یآل وسلم پہکالتطار اللہ تال نےکزوایا کہ محجوب 
آ کیو کہ یہ عاکمکاتحاتکاکام ےک اہن مع لوق کے بے ٹلا ے۔ 
قار ین رام وپ : 

رسو لکر یم صلی ای علیہ صلم ضاض بکی علم خیب ہیا جن بات نکا 
فرش ںکو عم نہیں الہ تعالی نے ان بات کا عم اہۓ یب صلی ال علیہ سم 
کو عطافیاااور پچ رشب معراج شان موب مصل الہ علیہ وسل مکی بعد ا دکھالی۔ 

سے سے کروبیت۔ ام رسمالت ر سو لکر مم صلیااللدعلی وم 








ٹت-ت- 


انی۔ار مل (مٍك) _. 

)۔- . یایھا الرسول لا یحزنك الذین یسارعون فی الکفرا۵/۳ 

٣۔‏ یابھا الرضول بلغ ماانزل اليك من ربك ۵/٦٦‏ 

۳۔ > یابھا النبی حسبك الله ومن اتبعك من المومنین ۸/۲۳ 

۳ _ یایھا اللبی حرض المومنین علی القتال ۸/٦۵‏ 

۵۔ - یابھا النبی قل لمن فی ایدیکم ۸/۰ 

٦۔ ‏ یابھا النبی جاھد الکفار والمنفقین ۳ء |۹ ٦٦/۹‏ 

ے۔ یيایھا النبی اتق الله ۳٣/۱‏ 

۸۔. یایھا النبی قل لا زواجك ۳۳/۲۸ 

۹۔ یابھا النبی انا ارسلنىك شاھدا ۳۳/۲۵ 

٭۔ . یایھا النبٰی انا احللنا لكإٰ ۳٣/۵۰‏ 

اا۔ ‏ یابھا النبی قل لا زواجك ۳۳/۵۹ 

باسے خطاب: ۔- 

(الف) اد پر دای آیات سے ظاہر ہوا * 0 سے کا ناالل تھا یکی سے 
اتال نےیارعل الٹروورثے ہاور یی < تیر وفع کا 

(ب)۔ یا مھ ( )ا سے بلائے وا اھادیٹ ہا کک تقداد ۷ے وک 
تق باڈیدھ سدکنابوں یس مق ہیں۔ جن اعاد یٹ پک کے در میان یا 
آخر میس افط مان حا آ تا ا نکی تعدادبے شارے۔ 

ا ا کے طر یق پر پکارنا ش رک کے ہو سلماہے چرس سنت انف 

لٹ )۔ عثر کے میران بلس دوزتی سی ایا ےلات خی لوک نکو 
رد کے لئ باریس کے ہک ال می نے تی پٹے کے لے ال 
دیاتھا۔ اب تم شھے دوزخ می ںککرنے سے بچالو انچ ا جئی 
شفاعت سے ہہ ہنا جا ۓگا_ 
شطاعت کے منکر مولدی صاحب۔ آ تا کی اعد یٹ اک بھی پا 

کردوییے تقم اپآ پکوالی عد بی ٹکہلواۓ ہو_ 


18 


حقرت عبد اید ئن مسمو سے روایت ےک ایک دنر سو لایشصلی 
الله عليه وعلی آلە وسلم میراہاتھ یل ڑکر یج بط عغجکہ یش باہر لے گے 
تضورصلی اللہ عليه وعلی آلہ وسلمنے بے دہاں ھادیااور میرے اردگرد 
دائرہ مھ دیااور فرما کہ اس دائرہ سے باہر نہ نلنا۔ تممارے پا ںآوئی آٗمیں مے 
ان سے بات کر نااورو ہی تر سے بات می ۸ری کے ےک ےوران 
الله عليہ وعلی آلہ وسلم تر یف لے گے اور بی وہاں ئیٹھارا۔ اتک ٹن - 
نے آومیو یکو آتے دیکات یرت خزد یک آے لوواژم میں داعل ہو حے مغ 
تضور علیہ السلا مکی طرف لے جاتے۔آو ھی را تگز ری تو تضور علیہ العلام 
واپیں ترنیف لاۓ اور میرے زافو یر سر اقور رک ھکر سو سے ۔اچاک می رڈ الظ رر 
ای ےآدمیوں پر گی جو ماس فاخ ویش مطبوس تھ اور ند جمال و خولی یں بے 
شال تھے ان میں سے پعض حضور علیہ ااصلو وا حم کے سر ہانے ٹہ گئ اور 
بعض تضور صلی الله عليہ وعلی آلہ وسلم کے پاؤ کی طرف۔ پھر ایک 
دوصرے سے ہاج یکرت ہو نے کے گے :”اییافلام جوا ر ول صلی الله 
عليہ وعلی آللہ وسلمکو خطائ وا ےکس یکو بھی عطانہہوگا۔ ا نکی یں سورہی 
ہیں کن دو :یداد ے۔ ا سک مال ای ہے یی ےکلی باد شاو نے مل ہوایا۔ اس 
میس دستخوان بٹھیا اور بر لوگو یکو و محوت خوردوٹوش دی جج یکو ہے 
اجازت ششی ددی اس کے پاکول و مشروب سے سیب ہو کااور ج سکواجازت 
ى گادہ ہف اب وخاب اي 6 کرو لے گے اوررسول صلی الله علیہ 
وعلی آلہ وس مید ار ہوے ۔آپ نے کو پچھاجو و ہهکمہ گے ہیں نو نے ساسے ؟ 
کھ پت چلاہکون سے ؟ مم نکیا : انڈداور ا ںکار ول صلی الله عليه وعلی 
آلہ وسلمدائت ہیں۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا : وو فرش تے جوانہوں نے 
لی دئی ہے دوایوں ےک خداتھالی نے بہشت پیراکیالود انسانو کووہا ںآ ن ےکی 
د حوت دیء سے اس نے اپ ہہشت شس داخل ہو نے دیااور سے اجازت نہ دہ 


موزبےو موب ہو 


وا تی ا 


ہے موا 
جنا ت کا یمان لان 

الیک روایت شی ب کہ جب خر ت ابو طااب ری اٹ عنر نےوفات 
پا تضوراکرم صلی الله علیہ وعلی آلله وسلم پاپیاد:طاف تثریف ے 
گے اور طا کف والو کود عوت اسلام دی یگ اضسوں نے قبول کیا_ 
ےہ دوائی می تخورصلی الله علیہ وعلی آله وسلم”واد یل “شش 
نے (وادمی لہ ایک مقظامکانام ہے جک ہک م ہکا ایک ضز لکی صافت ران 
)٣‏ دہا ںآپ صلی الله عليہ وعلی آلہ وساممنے اک شب قیام فر جب 
آپ صلی الله عليہ وعلی آلہ وسامتے رات میں نماز کے لے قیام فر مایا 
اتا کی وف می 2ون 
آپ صلی الله عليه وعلٰی آلہ وسل مکی علاوت کی آواز سٴاور ور اکرم 
صلی الله عليه وعلی آلہ وسل مک نماز بیس ق رآ نکر می مکی عطاو ت کر نے کے 
ارے ٹل واذ صرفتا الك نفرا من الجن یستمعون الق رآ نکی آی گر ی۔ 
اس طرف ٹیر ے جب تضورصلی الله عليه وعلی آله وسلم نماز ے 
فاررغ ہوۓ و جنا تک یر تماعت خخورصلی الله عليه وعلی آلە وسلم ےک 
سان اہر ہوک رآئُ۔ تضور صلی اللہ عليه وعلی آله وسلمنے ال 
ایم کید عوت دیی۔اوردوا یمان لن ےآ ۓ اور حضورصلی الله عليه وعلی آله 
وسام کے عم ے ای قو مکی طرف لوٹ گئے۔ جب دہاپنی قوم ٹل چچے و 
انول ےگمایا قومنا انا سمعنا کتابا انزل من بعد مومٰی۔ موا ہب لو نے 
یں سید ائن مس موور صی الد نما سے یھ اور ہی روایت معقولی ہے جس یی 
مطائق جنات کے ھ لوگوں نے ق رآ نکر یم سنا لین وہ تضور صلی الله عليه 
وعلی آلہ وسلم کے سام اہر ہ ھکر موجودنہ ہو ۓ اور اس مرح انموں نے 


95 
صرف ق رآ نکی سماعت بر ہی اکتفاکیا۔ رد اپٹی قو مکی طرف گئے اس کے بعد 
فوج ور فرع جنا کی قو من ےگگی۔ اور ٹولیو کی ٹولیاں چخر قآ نکر مم نے کے 
لۓے تی اور ا مان لا تی ر ہیں ۔گھردہ لاہ ہ ھکر سا تے شی نآ نے نادیلدہ علق 
اسلام می داخل ہوۓ۔ معقولی ہ ےک نم کے تزدہی در ختوں یس سے ایک 
درخت نے تضورصلى الله عليه وعلٰی آلہ وسلم ےکلا مکیا اوراں نے 
جرد یک یارسول اشرصلى الله عليه وعلی آله وسلم جنا تک تو مآپ ے 


لاقات کے مل ےآئی ہوک نے جو ام "ون “یس شھمری ہہوکی ہے ون ایک 


متا مکا نام ہے جوم کر م کی بد می میں وائحع ہے_ تضوراکرم صلی الله عليه 
وعلی آلہ وسلم اع کے اتقبالل کے ل جب ہر مد سے باہرتش ریف لاے اور 


حضرت لن مس مو کو ای راہ لیا۔ اور مقام ”جن “ سئج ج بآپ صلی اللہ 


علبہ لی آلل لعف ھا یی ات لوا انت مرن ےشن 


بر ایک دائ ر1 اور حفرت ان مسسموڈے ف مایااس دائرے سے ہاہر تم دفالتا 


تک ہکوئیآف ت میں نہ ینیج _ پھر ضورصلى الله عليه وعلی آله وسلم 
نزمازیس مشغول ہو ے اور نماز یں سودہط کی حلادت فرمائی ایک روایت شل یادہ 
ہترار اور ایک روایت میں چے تار جنات خخضور صلی الله عليه وعلی آله 
وسلمک غدمت یس موجود تھ۔ نماز کے بعد الع س بکود عوت اسلام دی اور 
ہب مسلران ہو گئ۔ 

عردبی ےکہ جنا تکی قوم نے تضو را رم صلی الله عليه وعلی آله 
وسل ےٹوٹ ہہ گواتیماگی ایک درخ تکوچاس وادئی ک ےکنا ےکھڑاتھا 
جضورصلى اللہ عليه وعلی آللہ وسلم نے اپنے قر جب بلایاد+ سان ال رگھ ڑا 
بویا رکراکہ می لمگوائیذ اہو کہ آپ اللہ تعاٹی کے رسول ہیں (صلی الله 
عليه وعلی آله وسلم) 





ْ .86 


مروی ےک تضوراکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلهٗ وسلممتے فربیإ 
جنات نے اپ اور اپ چانورول سے وا نے کے لے ھ سے فو شہ ما لگا ہے۔ اس 
بر تضورصلی اللہ عليہ وعلی آلہ وسلمنے جنات کے لے اتخواں شی بڑیں 
اوران کے چپاوں ے لم کین مرد فربائی اور تضور صلی الله عليه 
وعلی آل وسلم نے جنات سے فرایادب تم پریوں کے ل ےکر انام لو گے تو 
٠‏ تق تھا اس پاتاگوشت پیداف ماد ےگاکہ تم سیر وذ جاڑگے اورجب تم ابے 
2 چاو کے لئے س رکیل گے ون تال ی اس یس دانے اور ےپ افر ماد ےگا 
اکی: نار شرلیعت می یلوس رکین سے استیاکر ا ممنوئ قرارد اگ یاے- 
جنات کے عالات سے آگا بی ۔ عنرت سروق رح اللہ علی ے 
چھاگیاکہر سو لکر مم صلاللہ علیہ وع یآلہوضلم سے جن قرآن لت ھآپ ان 
کے عال سے سے آگا ہ6 جاتے ۔آپ (مسزروقی )نے ایک صعالی سے روای تک 
کہ تضورصلی اللہ علي وحلی آللہ وسل مکوجنول کے احوال ے ایل ور خت 
الا عک تا تھا :. 
جنات اشت اور نزول ٹم نکی گدابھی تن ہیں وی 
ذباب گن عار ا فرماتے نی ںکہ زمانہ جا ہلیت ٹل مم ے اس ایک مت تھا سے میں 
پ جاک تا ھا می رالیک جن بھی دوست تھاجھ عر بک خمرمیں من میس پجا کرجا تا 
ایک دن بیس اپن مت کے ساتے سویا ہواتھاکمہ ا چاکک اس مجن نے آواز دی : 
یاذباب یا ذباب اسمع العجائب بعث محمد بالکتاب یدعوا بمکة فلا 
یحاب وہوصادق غی رکاپ ۔''اے ذباب ! جیب و خر یب بات سنو مج علیہ 
السلام رآ نکر بی ن ےک ہجوت ہو تۓ ہیں جو ال لک ہکو ف نکیاد عوت دتے ہیں 
نال کہ اسے قول نی سکرتے۔ جناب مرک تم صلی الله علیۂ وعلی آله 
وسلم اچچ ہیں کاذب نی ؤں_“ 


صحطرت فیا بککتے ہی ںکہ اس دقت جھے خت تجب ہوا۔ یس نے باہر 
فک ليکراپتی قوم سے با تک نذا الک ایک آنے وانے نےر سول انثر صلی الله 
عليہ وعلی آللہ وسل مکی آم کی خجردی۔ بی نے اپنےع تکو پاش پا ںکردیاور 
اونٹف پر سوار ہوکر تضور علیہ السلا مکی خدمت اف رس یس حاضر ہوا جب شیل 
ےآ پکودیکھا کو ای ذا کو دیاش سکاشیل می نے بھی بھی نس د یھ تھا 
ک ہآ پکیا ششیان مارک سے فور نکد ہاتھا۔ می نآپ کے ذدیک پنیا ھآپ نے 
فرای :کی ےآ ہوا ویاب ؟ لی نے ع رخ کی تضو رآپ کےار ادگ 
تل کے مل کیا ہو یآپ نے چھے اس جن اوزر تکا تام قصہ ساد ٹین نے ” 
اشسد انث زرسول اللہ کما نپ نے فرایا : پل اضھد ان لااللہ الکو "پھر 
اشھد انك رسول اللهتا۔ 
قا ری کرام خے 
الہ تال ی کے فربان کے مطان انی رسول الله الیکم جمیعاجل 
کی خلوق کے بھی آپ يک سول ہیں۔ ان یس سے موم ن بھی ہوتے ہیں اذ 
کاف ھی ہوتے ہیں ازمانو لک رز ا نکاچھیا ضا بکتاب ہوگگا۔ اور از وہد ا کا 
ہکا کردا نم ان ا٥ن‏ گے زان ق رن اک ین اذ 
(لقد ڈرانا لجھم کثیرا من الجن والانس) 











0 


کوں سے ائس چلا تال کے چ رے پر مان رکاٹان دوسرے دن تک ا رآ۳ 


.: ند اے درولیی اجب شیطان تی نکو رجمت ددعا می ر حممت سے جات 


رت برا شیا ین جب ال تھالینے خیطان می نکولنتی قرار 
ال ایک ز بردست فرش ال پر مسل اکر دیا اہ اک گر دلن پر کے مار تار ہے ان 


تکس رکارددعا لم صلی اللہ عليہ وعلی آلہ وسلمدنیاشش تثریف راہ ے 


09 ادروما ارسلنك الا رحمة للعالمین گی آی گر نازل ہدگی ای نے رو 


یہ 


کر بازگاو قددائ دی ئیں رخ کاٹس بھی مالین یس سے ہوں بے رت سس کپچ 


حم مناجاپے۔ ال تھالیانے ال فرش کم داکہ نج کے بعد سن ملحون پر کے 
تس ضہادے جائی ا عل رس اسے تی ححت دسمالت ماب سے بات حصہ لاگ 


بر خافت 7 رر ہہ تے ھ 
ا ررقت ::زعمیاں یر خرس 


زاب ہوسکتی ہے تر تضورصلی اللہ علي وعلی آل وم پرایبان لانے داے 
م ومن مار فکوجخورصلی اللہ عليه وعلی آللہ وسل مک محبت اورمتالعت ے 
بد لے دوزخ کے شعاول ہ ےکی دک خبات نہ ل ےگیا۔اللہ کےکرم سے یہ بات 
بعد نی ہ ےک وو امت ئرے صلی الله عليه وعلی آلە وسل مک رمت 
رسمالل تکاحص لے۔ 
ضور علیہ السلام اورائیس کے مقابل راداختان۔ 

ور رورعالم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فر یا ائٹاش 
ایک نارکاشعلہ انکر بیرے من آگے آناچاا۔ یش نے تین پا بڑعا اگوذپااش 
منک ' پیل ن ےکا تج بر الد تعالی ایکاٹ اعنےہوہی بھی تین با دکہا۔ نوہ 


"+0 00 


199 3 
بازتہ آیاچ ریس نے اس کک لیت کااراد کی بخلدااگ رحضرت سلیمان علیہ السا مک 
دعاضہہ کی لع اے پاتر و دیا۔ کون رے بوے جھوٹے ہچ اس 
ےکھت 
(شیطا نکا تحت مردئی ےک ائٹیس خیطا نکاراخخفریش ححت ار بتاے 
اس کے اردگردشیاظی نکھنڈے رت ہیں۔جو سب سے زیادہش رم ہو جاسے دی 
۱ ٹیس کے قریب تہ جاہے رای ککیاکاروائی کی روزانہ خود یت تا اور خور 
سدائۓ بی شر ان کے او رکیل یں جا تا اور چککہ حضور علیہ السا مکامقایہ 
ای نکیا زا کے کا نی ان لیے ان کے یئ خودش ار تک رجہ ارچ 
کامیاب یں ہو کا۔ 
انا ہکرام شیطان ے فو ظا گمہکارسے شیطان رای ہو ہے ا ل٤‏ وہ 
۱ جب لش یلان یش داش ہے او رک وکار سے رحمان رای اور دہ زبِ الل یں داش . 
ہیں رسول فرشتوں سے انفل ہیں ق رن فربارإ ے ان الله اصطفی آدم 
ونوحا وال ابراھیم وال عمران علی العلمین جس ے معلوم ہوا نے 
مارے نہر تقام چان سے انل اور چہاں یش فمر نے بھی داخل ہیں۔ لبدائی 
. فرشتوں ے انل اور فرش بقیۃ ممناہوں سے موم ا نکیا شان ٹیش رب 
فرباز الا یعصون اللہ مج فرش ےھ یکن نمی ںکرتے اب اک گناک ری 
دزن مس شون ےک بد چائیں یکن زار انم ال 
المتقین کالفجارجس سے معلوم ہواکہ شف گار کے برابر نیس ملا کہ پت 
شا ینک نی نیک ان کے لے کے فان بن جانھیں تو لاگگنہ کے برای تہ زمیں 
گے تق ا نک رم سے خابت ہ ےکہ دب تے حیطانع سے فریا نال ھرے 


200 
زلیس یندوں پر جیراداونہ گا شیطان نے ا 
مز اکر دو ںگامداۓ تھے ای یندروژنی کے سا علیہ العلام نے بھی فرمیا 
کہ اے لوگوجشس بات سے میں ت مکوروکوں ا ںکوخود کرت ابی خیال بین 


کرنا فماتے ئیں وما ارید ان اخالفکم ال ما انھکم عنهجب رب کی ےک 


میرے نییوں پر خیطان طالب نیس آسمانیاء بھی فر بای کہ ہی مکنا وکا ارادہ 
بھی نیس فراتے شیطان بھی کی کہ قنجروں پر میراداؤں نیس چلتا۔ اب چھ 
خسن کوکنہگاد مانے دہ شیطان سے بھی بر تر ہےلہذ اجو عد یں ای میس جن 
سے نروں ک ےگنام خابت ہول وہ قائل قّول نی اور جشن آیات سے ان کے 
گناہ ککرنے کاد عو کہ پڑناہے ان کی لجی یا اویل ضروری ہے کہ تق لی 
آوں کے تر تے اور مط ہوم یں تار ات ٹہ ہو- 
جن کی شہادرت۔ یتو ںکیگوادی 

شیطان کے لت ہام کا انگاہ ٹموگی ٹسل عاضر ہوا( اللہ لی 
الع بن ۱۸۳ ۸۳ اخیو ات ان ضاے 6۳ا) 

علامہ لواسف نھائی اور علام ہکمالی الذ ین د می بی مچھماالر حتہ فرراتے 
می کہ حخرت ایس جع مالک مع ردایت ا ےکک کہ کے پھاڑون کے 
باہرتضور پرنور صلی الله عليہ وعلی آلہ وسل مکی خدمت اقز بش شش 
موجود تھاکہ اچک ایک بڑھاشأ عصا کاسبارا لے ہو ئۓ ہما طرف آر| 
تھا حضور صلی اللہ عليہ وعلی آلہ وسلم نے فربایاا کید ]ار جنو کی ی 
ہے اکر نے قری ب اکر لا مکات ‏ آپ نے فربایا سی آوازجنو کی سی ہے۔ فا 
نے عرخ کیا آپ نے فراا- آپ صلی الله عليه وعلی آله وسلم ے 
اعتضسارپراکینے ع رخ کہ شی امہ بن لایس بن اس ہوں ۔آپ صلی 
اللہ عليہ وعلی آل وسللم نے ا کی عم ر کے متحلق لپ چا اس نے ع رح کی 


201 


پہ تک عرصہ ز گی لس رک ہے جب اتیل تے اتیل ک وق لکیاتق یش چد سا لکا 
تھا میس پپاڑوں میس لوگوں بر سوار ہکان ےکھ اکر تاب تضور صلی الله 
عليہ وعلی آلہ وسلمنے فا بہت براکام ہے۔ہامہ نے ع رخ کیاد ول 
اشرصلی الله عليہ وعلی آلہ وسلم ئے مامت سے معاف فرمایے ٹل 
رت نو ں علیہ السلام پرائیماانلا ان کے دست اک پر فا ہکی حضرت ہو علیہ 
السلام سے ملاان یہ ایمان لایا۔ حضرت ابراقیم علیہ السلام ۔ حشرت لوسف علیہ 
الام حخرت موسی علیہ سلام نظرت عینی علیہ السلام سے ملاات پر آیمان لایا- 
امہوں تن ےکہابچ اکر مان جخرت مر صلی الله علیہ وعلی آللہ وسلم سے سو 
نذا نک می راسلام ع رخ کرنا۔آپ صلی الله عليه وعلی آله وسلم کے لگ 
پا نے عاجت جیا نکی ینک حضرت موکی نے مھ فذرات سکھائی ۔ حضرت 
تھی علیہ علام نے تھا یل آپ چھے تر رآ پک مکھادی ج کہ کال ا ا 

یملاع سان بن ار بے فاروق١‏ مر شی الد تھای عنہ کو جتلیا ”ایک دن 
بس مم خوالی کے عالم می تھاکہ ایک من مر پاک آیا۔پاوں سے ٹھ 9ک رما رکر 
نے لگا۔ اٹھواور باہو ب کر می ری ند اجس سو کہ ناک صلی الله عليه 
وعلی آلہ وسلمکاظبدر ہد چکاہ دو خداکی عبادتکا عم دپنے ہیں مم ن کہا 
بے سونے دو دوس کرت پچ رآیا۔ کی کیرات دہئ رآیاش نے وعد ہکا الہ 
یس مم مزیٹہ ناک نگا۔ می ںمگیادہاں رسول اکر صلی الله عليه وعلی آله 
وسلم جدہ افروزتھ میں نے سلام کرت ہو ۓ عم رض کیا فیخت قررامیں 
آپ نے یھ وی اشعار سنا جو خواب مس من چنکاتھا۔( خواہرالنہ فا رجیم 
٢٣٣ج‏ ول تی الاین میس ۶۸۸۲.۸۱۳ ول تد حق) 








:ا 


202 
ید مرو وی ات کی سب سے بی خر ای کرت کے وزی 
تھا می مو دی رن والی 71 اس پر جن عاشق تھا۔دہ یر ند گی شکل میں آیا 
ورای ک ےگح مکی یوار یہ جیٹھگیااں عورت ن ےکہاکہ نچ 7ت ارت ےکہا 
اب میس تمہازے پا نی آئولگا یکلہ بین کک ہکم ہکا صر زین میں می 
آکرم صلی اللہ عليہ وعلی آلہ وسلم مجوث ہو ہیں جنوں نے جارا 


. رید منورو یں قام نوع قرار درے دیا ے اور زنا تام قرار دیاہے۔ نان 


عورت نے نی پا ککی نش تک خرس بکوسنائی۔( تن اللہ لی الا لان ص ۱۸۳ 
مور ص) 

پچھراور ذرشت نس ول اللصلى الله علیہ وعلی آلە وسلم ئے قرییإ 
ٹپ بجھ بد گی نزرگی ہوکش و ہی ایا ہو تاتھاکہ میس جس پچ راوردرخت 
ۓ جوا ام ال“ کت 

سوا اٹ بت ال اگوائیٰ_حضرت علامہ عاگی در حمتہ الد فرماتے ہیں رار 
بنی ع بل ار شی الد ای عنہکا بین شٹل نے کپ تحائف سوا ای بت کے پاں 
ڑھانے کے ل گمیا نو ایک بڑےبت سے آواز گی ” با تب ہے اس نکی 
آھ جو عبدالمطل بکی اولاد سے ہے جس نے زا سوداور ول کے نام پر سے 
ہو ےکو ترا مکیااور آسا کو تفوظ اور ستاروں کے سا تھ شیای نکو مار گیا 
ا تی۔* روط جو ات ہے آواز آئی“ لی عوارزن 1 انی تا سی 
عبادرت بچھوڑدیگئی مبوو ٹکیا گیا ہے جو ایک بھی ج نماز پڑہتاے اور زکو اور 
روزدکا عم دا ٤ے(‏ شواہ اوت فا ری مھ ے*ائچنۃ ادص ۹۳ا تاب الوفا) 


203 : 
اححا بکبف ایماان لا رسو لک رگ صلی الله عليه 


وعلی آله وسلم 4 

اصحا بکف مص|ش یتم صلی الله عليه وعلی آله وسلم 
کی فلا میس ۔ ام شھل یکی تیر مس مرقوم ےہ احا بکب فکا 
لا قا تکا ور مور عالم صلی الله عليه وعلی آله وسل مکخال-- 
ہوا آپ نے حضرت جج یی علیہ السلام سے پے چان ہوں نے عرخ کی 
کہ هپ انیں اس عا لم دا یش نیس دیس کے البت آپ اپ 
ند یرواسحا بکو یر کی دعوت اسلام سے انیس تواز یت ہیں آپ - 
نے فرایای اپنے صا بکو ان کے ہا کس طر اورک یکو جیچوں 
رت چ رہل علیہ العلامم نے فرمااکہ آپ انی حادر مبارک بھاے 
اور صربق وفاروقی اور می ال نشی اورابو اللدرداءر شی الد تی مہم 
اتی نکوفرماے تا کہ دہ ایک ای کے ای ککونہ بر ٹیٹھ ای اور ہوا 
کو عم فرمامیں جا کہ وو انیس اڑاکر فا رک پہچچادے اور ہوا آ پگا 
فرمانبردارے جیے تحت سلاما یکواڑاکر چلتی ھی آپ کے خلا مو کو 
بھی نے جا ۓےکی حضور علیہ السلام نے اللد تعالی سے دعاکی چنانچے ہوا 
صحا بک رام رضی اوہ تالی نہ مک اڑاکر نار تک نل گنی انہوں نے ار 
سے ایک پھر ایا کن نے جن ردشنی دکھی ول تو شور عیائے 
ہوۓ تل آور ہون ےک یکو ش شک اس کے بعد جب صحاب کرام مکی 
شخصیت پر ڈگ ڈالی تو دم بلاکر ا حا بکبف کے پال چا ےکااشار ہکیا 
ححاب ہکرام ر ضی اللد معہم اصحا بکیف کے قریب ہوئے او کہا السلام صلنگم 
ور حمتہ الد دیکات ؟ اللہ تھالی نے ان عفرا کی اروا عکو ان کے اجمام یں 


204 
وائپں لو ٹا تذانوں نے ان کے مسلا ماج اب دیا مار کرام ر می ا تھی شنجم 
نے قرمایااللد تالی کے پیارے ‏ یی حطرت مم بن عبرال صلی الله عليه 
وعلی آله وسلم نے آپ تخثرا کو سام کھیچاے اور اسلا ماد وت کی 
ان تحخرات نے د عوتاسلائم قبول گا اود عرش کی ہمار شی بارگاہ رسسالات ٹس 
لام رخ کر دینا کہ گب رآ را مگاوٹس مہ گے حخرت امام مہد یج تضور 
سرورعالم صلی الله عليہ وعلی آله وسلم کے اہلمیت سے ہوں گے کے 
ظ پور کے وقتاز ند ول گے اور امام مہ کیاان پر سلا مکی گے ووا نکوسلام 
کاجو اب دیں گے اس کے بعد بد تقو را مگاو یل رام فرماٗمیں کے اور قامت 
رای ای کے۔ ۱ 
(روں الیان‌پص۳۰٣)‏ 

قا دی نکرام۔ 

رسو لکمرمم پیا تا مکا تیات جن دای 27 کا 
کہ تام لوق کے در سول میں اور سب پر لازم کہ ر عو لکر یم 
دی ر سماات اس پرایمانلاشیں۔ 


٭. 


205 

امت محوٹ الد علیہ و لی آلہ وسلم کی خان 

حضرت وىی علیہ العلام نے امت ج سی ال علیہ 
دی آلہو مل مکی آوازیں 7 


ظرت موسی علیہ العلا مگیا تمنا: عد مٹاشریف ہی ےک ایک دن 


خرت موسی علیہ السلا مکی جار ہے تےکہ اللہ تالی سے آوازآئی ے موک 


(علیہ اعلام) آوا ہکس نکر موسی علیہ العلام دا میں بای دی ام رھ نظرتہآیا۔ 
اب تی زی پا رگھہ ائے ۔آواز میس اللہ تعالی نے کی د نے ہو تۓ اف ایا موی 
بن عمر - آنی انا الله لا اله ال افاے*؛ ی(علیہالسلام )نے ۶ر خ کی الیک 
بی کہ ہر مود وری: ہو ال تعالی نے فربایاے موس (علیہ السلام )سر اٹھ می 
ااریاد زچھےک اک رپ قیامت ط می ر کے عرش سے بے کون نوا یکر 
جات ہوں تو نم کے ساججھ اتوااسان سی کہ اے با پکاخیال کک ہکم اور 
وہ کور کے سا تجھھ انان ومرودت سیت جاک اسے شور یاذنہ آۓ اور اے 
می علیہ السلام دخاوالوں پر رتم مج آخزت یس آپ پر رق مکیا جا ےگااور 
لیب اکر گے ویتاجلزو گے اوریاد رک وکہ قیامت میں میرے پال جو بھی می رے 
حیوب صا علیہ وی آلہ و سلمکامکل ہآ ۓےگابیش اسے چم می داش لکروں 
گا دومی ال 1براھیم ہویا موس کیم سی دید الام 

مظرت موىی علیہ السلام نے عر خ کی اے الہ الھا لین تیر امحیوب مز 
صلی اللہ علیہ وع آلہ وسمل کون سے اللہ تعالی نے فرایا یموسی وعزتی 
وجلالی ماخلقت خلقا اکرم علی منہ کتبت اسمہ مع اسمی فی 
العرش قبل ان اخلق السموات والارض والشمس والقمر بالفی 
سنة وعزتی و جلالی ان الجنة محرمة علی الناس حتی یدخلھا ان 


8 
: 
۰ 








الَنََاضَتَمدصلٰ الله علید لم وافقد(ر+ابیان 5٢٦ضی)‏ 
تمہ :۔ اے موس (علیہ العلام) بے انی عزت و جلا کی شتم می نے ان 
ےکلرم تر کوگی نویس پیر اکیا عرش پان کا نام یس نے اپنے نام کے سا تج ھککہما 


تچکہ دوہفرارسمالی سے پل اجھی میں نے سان دز جن اور سور جو چا نپ ای 


یں سے بجھے ابی عز تد جلا لکی عم جس نے کہشت لوگوں پر رام مکر دی 
سے ج ب کک مھ صلااللد علیہ دی آلندوسلم اور آ پک امت اس میس دا خل نہ 
ہوں۔ ْ 

حضرت موی علیہ السلام نے عر کیا کیہ امت مھ صلی اللد علیہ 


و و علی آلہ دس مکون ہے اللہ تالی نے فربایاددہر دقت می رکید د شاک بی گے اور ہر 


دق چ مسر ہیں کے اوراپے اجام كوپاک ررجیں کے اورون وت (قیق 
گے اوررا تکو بی ار یں گے۔ا نگا یل یی بھی قبول کرو ںگااو رک 


: اللہ الا ال غکی پگ یگوای پر انیس کہشت میس داخ لک وںگا۔ حضرت موی 


علیہ السلام نے عرخ کی پاالہ الا لین بے ای اص تکا نکیا ہنادے۔ ال تھالی نے 
فر مایا اے موکی علیہ السلاماکی امت کے نی مہرے محبوب مھ مصلف صلی ال 
علیہ وع آلہ و سلم پوں گے ع رخ کی بے ای ئی(بیارے مصطف صلی الد 
علیہ وص مکاامتی بنادے۔ الد تھالی نے فراباکہ ٹیش نے آ پکو یلہپ افمایا 
اورا نکی پیداکش میں تینکڑوں سسالی دہ ہے لکن دارالپلال ں آ پکوا نک 
لاتقا تکر ا لگا_ 


امت مصطف صلی اللہ علے و صل مکی آوازیی ا 
حخرت دجہب بن معہ نے فرماا کہ جب موی علی السلامالش تما 
کے ساتھ کلام ہو نے تو ع رض نکی یا اللہ نے فارات بیس ایک ام تکا 
ذکر پڑھا کہ وو تمام امتوں سے ببتربیی امت ے۔وولوگو ںکو یکا زسل 
اور پرائُوں ےرانک انئیں صد ا تکاکھاتار داہوگااور ا نکیا ہر یی قول' 
اوز ہر وا مقیاب جو گی۔ انے ال تعالی شھے اس امت کان بنارے۔ الله تال 
نے فرمیادہ ینغ حون ازسلی از علیہ دعلی آلہ وس مکی (سیوعوت 
حضرت موی علیہ السلام نے عرخ سکیف می رکیاان کے سا ھ ملا جا تک ارے۔ 
اش تھا نے فرمیا کہ دواس دقت پیا بھی نیس ہوگی اوردی ان کے ظ پور 
کاب دقت ہے اگ رپ بچاہیں ‏ آپ کواس کی فو ستادریں ع رخ کا یا 
کی۔ ال" تما ی تی مت وا ضیف علیہ و لی آل مر آواڑ 
نکر تام اد واج نے اپآ باءکی لچھوں سے لیک ای مومی علیہ السلام نے 
ان سب کی آواز سن کی پچ اللہ تنالی نے امت مصطف صلی اللہ علیہ دش یل 
سی مکو فربایاکہ ہار نیک پر شش ایک تفہ عطافاناہوں دو کہ شش نے 
تہاری: وائیں قول فر ال لاس کےکہتدعااگواور یں نے تی یا 
تل ا سب تم بھ سے جنشش ماگو اور وت خلا سے 
کے 1 ےر 7 ید رخواس تکرو۔ 





وریت مم لکیالکواے 

علامہ اگل رخت الد علیہ نے مطا لع لم ر ات شر د لا نگل افش رات 
ند ات تور بی ت گی لفل فر امیس جن جس مجن سجانہو تی اد شا دق انا یچ 
ولولم تقبل الایمان باحمدما جاورتنی فی داری ولا تعمت فی 
جنتی یموسی من لم یو من باحمد من جمیع المرسلین و لم یصدقه 
ولم یشقق البه کانت حسناته مردود ة عليه و منعتہ حفظ الحکمة 
ولا ادخل فی قلبه نورالھدے وامحوا اسمہ من النبوۃ یموسی من امن 
باحمد و صدقہ اوللكٹ ھم الفائزون ومن کفربا حمد و کذبہ من 
جمیع خلقی اوللك ھم الخحسرون اوللك ھم النادمون اوللك هم 
الغفلون 
و ” اے موی میرک جھ بھالا لہ ٹس نے تھ پر اما نکیا کہ اٹ 
بسکوابی کے سا تد کے اتد پر ایمان عطاف رما اور کہ تا پرایمان لانانہماتا 
مرن ۓگھرمیش بج سے قرب شہپاتا نہ می ری جنت میں چی۲ نکر جا اے مو سی! 
تمام م مین سے ج وکوگی اس برا یمان نہ لاۓ اوراس کی تقد بی ہکرےاور 
اںانتاتق زہ ہو ا لگ شیکیاں بھردود ہو لک اور اے حمت کے حفط سے 
روک دو ڈگا اور اس کے ول جس برای تکالورن ڈالو ںگااور اس کا نام دفترانیاء 
سے مادو لگا ' اے مو کی ! جات پرا یمان لا ے اور ا سکی تعدب کی دی ہیں 
عرادکو کے وانے میری تام خلوقی میں جس نے ات سے انکار اور ا کی 
یب ادج میں زیا ںکادا دی ہیں لٹمان ' دی ہیں بے خر“ 


و -+ 


جج زی تر 

مجزہ نے ہ ےک اس اسان کے ہاتھ پر جو نی لت" ہوا کی تلق 

کے لے کیا اس ےم رکا جک عام عادات الوب کے خلاف جو اہ رک دیا چاے_ 
دوسا انان چ کہ اکر نے سے عابتز ہو تا ےل ہد ال سک وج ز کے ہیں۔ 


باعتپار تی ہر می 7 
ا مج زودہ ہو ا ہے جم کا حہوسمات میس انظہا کیا جاۓ اور زی یکم شلم 
دالے اود ای لو کو درکھایا اتا ےکی ھککہ ان کااد راکش مس سمات تک بند 
ب تاذ اا نکو سو مات ئی می نی امر ارت للعار ہک درکھایاجا اہ تاکہ 
بی الن کے اعحینا نکائی مہ ہ گر واسطہ ایمان ہو کے 
اوردوسرا مہزددہ ہو ہے ج کہ تقو لات می اہ کیا جا جا ہے اور +قلا 
اوراسخاب فراست کے لے ہو تا ےکی کیہ ا نکادر اک محسوسمات سے ماوزہو 
کر تاکن معارف یس میا را ہن ہے۔لہذاا نکو متقولات می کو ام ارت 
دھلاکران کے تق یمان کے لے سابان مہا کیا جا ہے۔ادر ال دج ےک نا 
علیہ السلا مکی عوام دخوائص پر دوکی طرف ات وی ہےلہذاائ ںکوئسوسماۓ 
مقولات کے اید معارف کے انچائی مر اتبی فائز اللرا مکیاجا ے- 
کیاسجزہمقد ور اور اختیار می ہو تاے؟ 
اس جس اختلاف ‏ ےکہ مجمزوٹش نی علیہ السلام کا خقیار ہو نا سے یا غئیں 
او رکیاائل میس سب کا ھاظ ہو ا ہے ؟ مق دوامر نارق اسکوائلہ ا رک تہ بائی 
کی بات زیادۃ اہر اس سے معلوم پاکہ مزا کے ارادے سے بھی اہر 
ہو سکتاے۔ 
ماف الا لام مولقہ ملا اخر رو تی رو فیس اصلامیات لاہور- ام 








مت 


ارت لللعاد کہ اس میس ان تو این عادے ج کہ بنا ہر تر یرد مشابدوعاصل ہوتے 
ہیں مم س ےکی سبب کا انقار خی کیا جانا ال سے نہ لام نی آتاکہ 
در تیقت او رداق می ہز وی نکوکی بب نی ہو نار 

ام “مم جک لی اق کا خبور بل بب نان 3۷ اورپ قاعدہ 
کالوحی من السماءدے؟ 

کہ ا نارق للحادوکی تضاقی علت یت می ہے جس سے بے اسباب 
خفیہ گی لکر نے کت ویج ننکو ماد اباب میس غس لا سکتے 

رکوس کے و ا رون کو تک 
از نکر نس د کوت خ وا ہاج زہلازم نیس اتی دجہ سے گی لا اکیاادر 
ھی وک کا ابی رع شر مواقف ۷ پر جا نک امات الاولًیا قد 
۶ ختیارھم وطلبھم ھذا ھرالصحیح ٹر ں٘ 5 یرعاشیہ یسل سم سن 

”٭البار ص٣٣‏ ت۔ ۶د ڈالقار ×٣٣‏ 

کیل الا ان ترجہ ایام امو رکا نات اسباب پر مو قف ر کے میں ای 
و ا اس ماد کا ڑا او کی خلا ری ضبب دن 
ٹر ف) تا الیک تچ کو اکر دا اوز ال کال ہے نر سو لکااور 
یر اخقیاریٰاے۔ 

ما السلام یس ہے در یقت تو حید کا کھالی بے ےکہ نس قر رسلل 
ہاۓاسباب عا مکا ثتات می نظ رت ہیں نی ال' کی نظر سے الٹھ جاتے اور بی 
عار ف کا لک انچاے۔ 

زع الغیب مل م الد ۴ بی ویرد عليك التکوین فتکون 
کلیعك قدرۃ الہ الین عبد لی ا یی خی 1 تر 
یں(27ے) "فان نہر یکانے ار کر میران فزر تا لی 


یس فائز ہو جا سے و ال کو ہہ مرج کرات عطا ہو تا ےکہ اشیا ءکوبنیر اضباب 
عادگی کے اس کے پاضھ بر اہ ہکرت ہیں جنیہاکہ سب مو مین نت میں ای 
تار پ ہو ےدارا کا کہ عاوائ ور سوم ےگ رک فان × چاۓ 
یں ۃعا دیاش بھی قیل؛زوخول جنت ظبر اسم لد سے کے ہو جاتے ہیں۔ 

حد یٹ نواٹل مخمپور ےک آنپ نے فرااکھ لی خزاد نکزز ےکرن و 
نرہ یز اتقا قریب ہو جاتا ےک اب اگ نکا مفنامیر ےکا د ینا مر کی آکھ 
امیر ےھ بچلنامیرے پاؤں اور کجھنا می رے دل سے ہو جا ہے۔ 

ا مخز جا ےکا ات دا زا اباب اق یک ات 
ام تج:(۲) کال میں سلملہ اسبا کا اض +× جاجاے او لعف پلا 
اباب ہو جا ہے(۳) آویا کا م۲ن لا اسباب نصر فکرتے ہیں (۴) ول کال پ> 
وعف وگون سی جن کاعدم سے وجود می ا 
بای ے نی دو با اسپانب تصر فکز ہے(۵) مزا تاد کرات می اسیاب ۔ 
نا یں و زس فو رز نے میں(٦)‏ ض۳ غباات سے ہہ 
تب ما پل ہو جا سے جس سے وٹ کال کے وچودواعضا ے امور مار 3 للوادہ 
ظاہر ہو تے ہیں(ع) ید کائلی سے یکمال پید اج ما ےک تر فات بااا اب 
کانبور ہو نے کتانے۔ 1 

مز بانقبار طلب ددم یے 
مج زوکی دو عم میس ایک اقتراجیہ سےاوردەیہ ‏ ےک نی علیہ السلام سے انار سہجزہ 
کامطالی ہکیاجاۓے اور دوسر ایر اقتراحیہ اودرددیہ سےگہ خر مطالیہ ا ںکااظہا کر 
دا جاۓ ضا شی ق رکا سجزہ مطالبہ بر دکھلا دیاگیا۔ آما نکر ف تڑ ھن اور 
لیے تک مکانات اور خہر یی دم ہکا مطالیہ کی یا یا۔ حب ماع وی 
جات ص١‏ رف بلا مطالبہ ہیں- 





212 


2 ات 
سحان۔چاند۔ جمادات۔ باجات 


آ اھ وت 


صورتت الٹے چاو لاٹ آیا۔ اعاء بن می ران زیت ہیں کہم 


را تیر می تتےکہ حور علیہ السلا مکا سر انورنحخرت یکم اللدوجہہ کی 
ول مس تھا۔ دوراں دقت تی غازلن بو گی اور آقیآب غخروب ہ وگیا۔ نی 
مکی از تا گھا۔ بد دی کے آنار برق جضور علیہ للا نے دعا 
ا ا ا الا اوھ نے سو گیا اطاعت می تے و سور جکو 
نے کہ دووائی لوٹ آے۔ اسان کچ می ںکہ سور خحروب ہو پا تھا 
کن نے دیھاہ وگ لو ہوالوردشت دجمل ا ںکیکرفوں سے ہیک گے 
- ادا نے کباہےےکہ سے عد یٹ ہے اور اک کے ادگ ٹھقہ ہیں۔ ار بن 
سا رح کی کس مریٹک جات 
کی کی کہ ریہ جزات دنشالات وت ہس سے بت 

ترا مرعما پا گیا سرع پھر ای ترم 

ترک الگا اھ کیم کا کی بر میا 
جائدد کگکڑے 6 گیا۔ نشرکی نکر ور صلی الله عليه و علی آل 
سم کے پا کے ےگ ہک اس د موی ہش ساے لان کور وگڑے 
کر دے۔ تضورصلی الله عليه و علی آله وس نے قرمایا :اگ کگردوں وکیا 
لان لے آئے گے ؟ انپوي ن ےکہا: اں۔ ہہ چائھ کا چودعویی جارںن تھی_ 


ا تخورصلی الله عليه و علی آله وسلمنے اپے پروردگار سے درخ اس ت گی 


:  -:3 

مت ہر جایں۔ تودہ ہوگیا۔ ال لانیک حص ہکووالوٹمیں اور 
دوس احصہ ا پہلڑ سےگزراجس پر حضور( ھکار رہے تھےکہ اے فلاں ' 
اے فلاں !دمکھو۔ جب ان بد پننڈن نے چان دک ککڑنے ہت دیکھا ‏ کہاکہ 
مھ مل نے ہم یہ جاد کر دیا۔ چھ رسکیے گے :اکر اھر ادھ سے آئے والکوئی 
مسافویہکہرد کہ ای نے می ا کا مشاہ ہکیاہے نے ىہ ہو گاورتہ شعید وبازی 
اد رھوٹ۔ ان ون نے جس مسافرسے جگیا لو ای نے اہ کی تید کا مم 
نے ایساقیادیکھاہے جیے تم نے۔ 
مسر کے مستو نکی آدوففانں۔ حور علی الللام نب مور میں خطبا غاد 
فر کت آدررخت کے ہے کے عا جھ کیہ لکالیاکرتے۔ یہ در خنتے منچلشن " 
تا اگاتھا۔ نین جب اجثرت کے ساق یی یھو می سال تضور علیہ الام کے لئ 
منرونولا ماد ر آپ نے جحعہ مارک کے دن ال پر جلووافروز ہ ھکر خطب دیا تو 
دد ختکادوتتابچو نکی رع آودہکاککرنے لگا مور علیہ السلامم نے فرمایا: ای 
لے دو تا کہم نے ا پہ بی ھکر خطبدد ینا بن دکردیاے۔ چنانچہ مور صلی 
الله عليہ و علی آلہ وسلم خضبر سے یچ اتڑے اود ابنادرست مبارک اس پہ 
بھی رادونما مو بویا جب مدکی لی رف ہ کی لی بن نے ا ےگھ رے 
گت دو نناا اہو سید ہہ ومگیاکہ انل میش سے آٹا لن لگا آنخرانمہوں نے سے 
در ل رات 

اگینع 3 خامر ت ور تا ون رون 

مایق کو اکر کا رو اموں 


2214 


زین بھی مع 

تھے یکا زان ریت کے باقن مال ایک رات تضور علے 
الام نے تلم بن جنا یہ عامرا یکوج ایک و مسلم تھا مخت سس تکہااور لہ ا 
تم نے ای کک ہگ وککیوں غٗ کرام اس نے داب دیازیارمول اللہ صلی اللہ 
عليد و علی آلہ وسلمائکی نک رخ جان بچانے کے لئ بڑھاتھا ضور 
علیہ السلام نے فرمیا: تم نے ائںکقاد لکیوں نیس چی ہے معلوم ہو جا تال 
کیاکیاخوائشی جی۔ بن د کات جھان ہوقی ہے بعدازاں حور علیہ السلام نے 
تلم پربردعاک‌اوروہ ایک بفتہ کے بحم گیا جب اسے دف نکر نے گے وز من 
اسے اہ یک٠‏ بی تا پا باراییاہواا ور اسے ایک پچھر کے نچ ذف نکیاگیاز 
جضور علیہ السلا مک تر وگ 8آ صلی الله عليه و علی آله وسلمھڈ 
فا:زشن ان سے بھی فا افو ںکوشگل جاقی ہے لیکن ایایوں ہاگ تم گوں 
کوک ش بی فکاوودمعلوم ہو جاے۔ 

اون ٹف کدہ ہیل حخرت اور وہ رص اللہ تعالیٰ ع کا انا میں ر ول 
صلی الله عليہ و علی آل* وسلم کے ساتھ مقام قاکی طر گیا ایک 
لوٹ دریکھاجس سے آب سال یکاکام لیا جا ہانھاابونٹف نے دبکھت یکر دن ججوکادی 
صیاپ: ر خوان اللہ ٹالی عم ائین نے دیکھے یکھا: یارسول الل صلی الله 
علیہ وعلی آلہ وسلم! اوٹف گی ہت آپ دہ کے زیادہ ئن ہیں۔ 
آپ صلی الله علیہ و علی آلہ وسلمنے فربیاک اما نکوز یب نل یا 
کہ را دک سید کرے۔ اکر یہ چائز ہو تاقوا تھی عور و کو محمد جاکہ وداپے 
خاوندو لکوحجدوکریںد 





ایک فریادگی اون فکا و اقعہ- یی بن سا ہکابیان ہ ےکہ ایک دن 
رو ل اش صلی الله عليه و علی آله وسلم کے ہاتھ جار ہ تھا۔ آپ صلی 
الله عليهہ و علی آللہ وسلم نے قتضاۓ عاج ت کا اراد ٥کیا‏ ایک درخت 
دذسرے کے پچپلو یں چاکر بناہگاہ م گیا ال کے بح دآپ صلی الله عليه و 
علی آلہ وسلم فا ہو فودرخت تھی اپتی مہ وائیس چلاگیا۔ تھوڑادی 


اصلہ ٹ ےکی گاکہ ایک اونٹ اپ یگرد نکوزمین پر ر کے اظماراتطرا بکرنے ٠‏ 


اگا۔ ا سکی آمگھموں سے اس ف رآ نو نے گ ےک زین تر ہو دی آپ لی 
اللہ عليه و علی آلہ وسلم نے چا ہیں معلوم ہےکہ ىہ اوخ فکیاکڑناے 


؟ ےکنا ےکم رلک ش نک پابتاے خورصلى الله علیەو علیٰ آللا--- 


وسلمئےاں کے ای کوطل کر کے فربایا: ہہ اوٹف خُے دے دو لئے 
کبا: یارسول‌اشرصلى الله عليه و علی آلہ وسلمیہ موب تی پچزے۔ 
آپ صلی اللہ عليہ و علی آلہ و سام نے فرمایا: پچ رااس سے بر سلوککرو_ 
درخت خدمت ادس میں۔ این عبا ںغفرماے میں :ایک 
تخضورضلی الله عليه و علی آله وسلم کے پا آیآپصلی الله عليه و 
علی آله وسنامنے فریاا:اگرا ںمجور کے ود خ تک وکپو کہ ادھر چلا ا ۓکیا 
تمایران لے آ گے ؟ کے لگازہاں ۔چجور کے ور ش تکو بلا گیا در خت اپ ٹہ 
سے چلا آی دو شف مسلمان ہ گیا روا شع ول ککھا ےک حور 
صلی الله عليه و علی آله وسل "نے اس درشت سے خو شر تماکویاایااوروہ 
زین گر پڑا اور رکووکرتضورصلى الله عليه و لی آلل وسلم کے پال 
آے چاہتاتراکہ جضورصلی اللہ غليه و علی آلہ وسلممنے فرمایا :اتی مہ پ4 
دائیں پچ جات دہ ات لہ پر جالگا۔ دہ دید یی اشھد ان لااله ال اللەپٴار 
اتا 


2218 


رحو لک زم ص لال علیرو سمخ علیم 
وانك لعلی خلق عظیم(ا؟ّم) 
خالی زان انی حلق کے شا ہکا کی لصیف فر مار ےت 
انس آی کان کہ ان ا ال ا نک 
ہے کن کے وک ات ری سے مطالفہ کر ڑے گا۔ غاد لیف 
سج ے مے شا جاۓے۔ 
پیل بھی ں کہ خلق سک سکو کے ہیں ام ت لین رازیان کی 
رو مو و کیل ما اکا او کے 
ٹا جن ین یی فا نے انی کپ کن وا ٹیل اور خسال حیذور صل اہو 
آ سان اور مد جا ) 
یف ماتے ہی نمی یش اور خو بعضو رت ضل ا کا اع ۓ ٠‏ 
اس کو سبذلت اود آسمائی ےکر ناف یز ےکوگیکام خلق اہی وت 
گہلاۓ گا جب ا نکر نے می لف ےکام لی ےکافوبتنہ آرےلگیر) 
تی ہس طر آکھ بے شلف د ھت ہے مان بے لف حلتے میں 'زبان ٤ے‏ 
صلف لا لی یئ اتی عل رع اناوت شیاعت حا اع یگوگی نی ویر تج 
کے کی وو وز وو نے ا ا 
کو تیر ےافلاقی شا کیا جا ۓگا_ 
ج:۔ بت بڑے علامہ آلو کی گت ہیں ۔ ای لا یدرك شاوہ احد من 
الخلق وت ھی سے جح کا سر معتر فا یاعز مکوکوئی ہیا گا سے میم کے 
ہیں۔ 
عی استعلاء کے لے ہے نم[ کا بے عادکب نا چھاجانا اور قاب یا لے کے 
1س سے رظ 
* می آلہ س مکا بن ے یسب زى فران ژں-ي سب رک یں حنوز 








یھ علیہ عی آلہو سم ان کے راکپ اور تمس وارہیں ا لئے حضور صلی 
اش علیہد خی آلو سلم کوانامور کے سی لف اوریناوٹ گا ضرورے 
ین ا کت کی سے صفات یہ اور کالما تا ہیک کر میں خور 
بخود چو جقی رنہقی ہیں اللہ تھالی نے بھی عم دیاقل لااسٹلکم عليه اجرا وما: 
انان المتکلقین یا جیب آپ اعلا نگردی یک مل تم لوکوں سے نہ ا ا 
مطال کر اہو اورنہ یں ملف اور ہاو کر نے والوں ٹس سے ہوں۔ 0 
٠‏ ان لعلی خلق عظیمفراک ناک تو رض اش عل دی و 
لم کاذات تھا مکمالا تک جائ ھے ۔ دوکالات جھ پے غیوں اور رسولوں: ١‏ . : 
می تفرقی عور پیا جات تھے دہ جو گی طوری ای تام جلدد ساب ائیوں دی ٠‏ 
تر مھا کے اھ انت اہک ول :ہوجو یں چک کو 
لت برا اس موی دق مال ام یوب اش سم 
الو ؤالسلام سب یہاں تع ہیں- یں و 
نین وسفا. وم گی یدبناداری پیا زم 
اع خویاں ہے تار کو جا ۔داری ا 
اث ف الین بوصی کی نے اپے ححصسوص اندازٹ سکیا خوب فا ے۔ 
بن حضور علےے اصلوۃداسلام تی ارک شی د مور تاور تر 
داغلاثی دخ اخلار سے قمام انی کر ے ھ7۸ ہیں ۔کوی بی آپ کے ت7 
اورا نکزم کے قریب بھی کیں ا۔ تضور صا علیہ وع ی آلہوسل مکی 
ذات بز گی کا اقب ہے۔ ممارےاجمیادکرامآپ کے متارےہیں اورووستارے 
بد جاڈیت کے اند جروں شس آپ کے افواراود تا باخو نکا ظا کرت رے ہیں۔ 
جفرت ام ال مو نین ماشہ صدیقہ ری اللہ تعای نبا ے جب 
نے غلق مصلفری کے یارے مس بیو بچھا ‏ آپ نے مخ اود جا زع جواب دیا 
کان خلقہالق آن حضو رکا خلق ق رن تھ .کچ ن محاکن ادصاف اور مکارم 
اخلاقی کاپان کو قرآن عنم نے عم ذیاہے حضورآن ے کال ور تصف 
جیں 


3 





2218 


عیشت کاایک نا متصر 
پنر برداظای کااتمام اور مہ اما لکامال 

آ پا علیہ دع آلہ وس مکا فان ہے 

ان الله بعٹنی لاتمام مکارم الاخلاق وکمال محاسن الافعال 

روایت ے حظرت چابرر می الد عنہ ےک بکرم الد علیہ 
دی لو نے فرمایاکہ ال تال نے اخلاقی کے در یا عم لکرنے اور اجتے 
اعمایٰ سک ےکمالات از ےکر نے کے لے بج کو پنیا( سرع ۸ص )٣٣‏ 
تجاون ازم تج سے حر یھی نی ولورالہ تال کے خزریک انل 
رق کاپ اك سک دیو وا جس ے 
ایچے ا ما لکن مان ہوں فربا اہ ول وبا نی صفات متنی کیل امیا کرام بھی 
لوگو ںکوا ھی عادات مکھانے تش ریف لات تے گر ہم ای دد ہے کے اغلایق 
کھانے تش ریف لات ہیں۔ محائکن شع ہے سن می۔ خلاف قیاس اس کے می 
ہیں خی عدگییا غوب 'عدف* افال جع ہے نل کی معن خلا رک اعضاء کے 
خاہرکی کام ایی ہمارکی نشیف آوری اس لے ےک ہم تام لوگوں کے دل 
گی عاد یں بھی ائلی در ج ہکی مگ دی اور نا ہی اخمالل بھی حضور صلی اش علیہ 
دی آلہ دس نے دای ممیت ارااے “ عقیرے دب عاات ھی درست فرماۓے 
اورا نگ عبادات 'معاطلات بھی نیک کئے۔ انمانوں کو فرغتوں آگے 
بڑھا دیا۔ عر بکون تھے انی نکیا کر دیا۔ 

رت مائیشہ دیزی اللہ تقالی نہ فرمائی ہی کہ ال تھالی ن۶ی 
کی بعذائی اتا اسے صدق مقال۔ اتکی علال سا عی نکی عاجتروائ ٠‏ 
امان تک فاظت “ حاادر رم پڑوسیوں سے اپچھاسلوک' مما نکی اض 


219 


'بڑو ںکاا رام کھوٹون کالماظ' ماں باپ کی خدمت نیب فرماتا ےی 
اخلاقی حد مصطظ صلی اللہ علیہ و لی لی لہ و لمکا ایک کرشم ے(ز مرقات) 


علق می اورسورۃ عیسن وتولئ 


قا دم نکرامز 
ام مفسری کے ہیں کہ جب آپ مل ال علیہ و لی لہ سم کے 

نایا صھاپی نط رات ابن ام متوخ قش نیف لا تو (نحوذ پاول) آپ ص٥لی‏ اللہ علیہ 
دی آلہ و سرن منہ ھی رکیالدر ترک بڑھائی۔ عالاکہ ق رآن کاس سور ہیں 
کی تی ران نوا کے مس ردارکی طرف ہے جس سے رسول کر مم صل الد 
علیہ و علی لو لم مج وگنفشکو تھ ا سر دار نے تو ری ڑھائی ر سو نکر صیااللر 
لی دی آلزو سم نے نی کیک آپ صلی ال علیہ دعی آز و سلم ضاحب 
ض تیم ہیں اور ىی واقہ اخلاقاتٰ سے بی تحلق رکتا مج 

(۴)۔ بس سور کی تخیرمیں مفسری ن حفرات سے تما ہواہے۔اود 
رآ کل کےع جیان عم گی نو کے ا ذو مج ہہ سے ینب ندہ گا 
کتاب ینام ”حبس وتولی “کس ن ےکیاکو خور سے پڑ ھی اور لال میں شور 
کم ی کیہ تمود گیا پچڑھانے وا اکر کاصردار تھاج اکٹ رتوری تڑہاۓ رکتا تھا۔ 
کرد سو لکرم ماش علیہ وی لہ وس لم ۰ 

تار کین کرام 


بے موا بت اعم سے اوراسی میں اقیاطا بہت لازم ے۔ 


220 


نر سو لکر مم ص اللہ علیہ وع یآل و سلم 

احاب ون راع کول ی زیم جا سے لاب مس بت 
مزات تے بیماں نو ددلطاب پٹرکیکاص لت م نگئی ۔ مواذ ئن عفرا کے کے 
ہو ئےبازدشی لگا توبازوجوڈویا حضزت ع کی دجھتی ہگ یآکھ میں لگا تو می ر ےکا 
کام دیا حطرزت یہ و اعد ک ےگگھر بای و آنے مر نا بڑگیا زان ش ابی یر 3 
ود ار مرج کو وی بر و سے ک ےکنومیں میں پڑا ای 
کا تھو ڑاپای زادہ و گی یا ھا یکنوون شش پڑا وکنویں ٹئۓے و کے کے 
صنربق اگ رکو ساپ نےکا نان نے لقاب ملاک لگا تو ز رکا تیاق ئ نگیا- جا: 
زم رم ٹیس لاب نشیف او دہج قیاصت مرخ کی شفائ نکیا ایک عیمائی قوم 
ران ہوک ران کے لئے ایک مم کٹرستے میک یک کے پائی بھز دا خ ای نے 

گرا زنر چھ رت وو ہل اہم یپ عقوت وا : نا ےکی سط کیا 
ی‌ پھر ایا خت فقاڑس می کو لک خی نکی او رکعدائ شر رکاوٹ پیا 
ہی - 


وزلعار ول یکم مم صلی لع :مر سم 


ال تعالی نے فربایا ےکہ ہم ن ےکوکی رسول نمی بھی ینکر ا نکی قو مکی 
زان ٹس تاکہ دوان کے لئ یا نکر میں ور مج لا صلی ائلر علیہ دع یآ لو سلم 
انا نکی طرف مھجاء روایت ہے حر نث ابوڈر غاد ی سے فرماتے ہیں مس نے 
زی کیا زم وی تج کی الک یں اک کب سے 
لق نکر لی.. تو فر ملا اے ابوذد می رے پاش دو فرش آۓ یہی س کہ کے شع 
پھر لے علاقہ میس نھانان ٹیش سے ایک زی نکی طر فآگیااور دوس اآسمانو 


221 


زین کے دز میالنرماء 7 ا 
ئا ےکھا پان ان ےکا نمس نہیں امم سے وو ین ا سے نو لا گیا وش 
وزٹی وا را ںات ےکماکہانںودسں سے قولو تم الن سے تو اش ان پ ول 
ورای نےکماکہ انیس سو سے تولوی ان سے گیا الن بر جھار کی ہوا 
رو وہ لا ا ہنرار سے فولو مس ان سے آو کیا ور ٹس الن پیر ھا کیہ ومیاگواٹش 
نھد اوک وب ون ےکاددے جھ کے جں: ء ناش 

سے ایک نےاپنے سا یس ےکراک ہک رخ ان ین لن کی پور کی اعت ے وو تو گی 


سب پرھارک دوگ۔ 
صلی لیر 
ہہوے رھ 


ام ماد یی نے تد یس این لی شمبہ نے اتی آ نیف میس اور این در 
سے یز رین الا کے ودای تک کر سول الہ مال علیہ د لی آن و مکی 
تنا یں این ای شیب کے مسکمہ مع عبدا لیکن مر دالن نے زوای گی 

نے گیا اتی نیس لی۔ 

ور صلی علیہ و یی ع یلیہ و سل مکی ماع تکااعیاز 

تر یلان ماج اور شیم نے فعفرت لوڈ زوا کیک رمولٰ 
الد مکی اللہ علیہ و گی لہ و سلم نے فیا یس دود کنا ہوں جو تم نس دک اور 
راد سنتاہوں ج تم نیس نع تم آسلنا کے چۃ چان کی آواز نہیں نت اور 
لن کا جج انادررست ہے ۔کی کہ اس مس چند اش ل بھی اکھا یہ نیہ ہے جماں 
فرش ال کے جدو کروی 
)0۷( اضر ماق کی آلہ وس مکو خداتعالی نے دو عم کے کان 
عطایے سے سایک مقاد تام ینی و مکو ےن ےو یں 


آواز لع ہیں اوردوس تی عارقی للعادۃہ مجن کے ذر ہے سےآپ اط الماء می 
سن زج ھآواز ہوقی یوون لیت تھے او رو کی مک خار تی للعادآپ کےء ز 
یس مو جہیں جن کے ٹیہ سے آپ دروداور سلام خواکھ یہی ور سافت 
تکیوں ن نو من لیے ہی کالہ مات اخیاء او رک رامات اولی بر لوت منضع 
و ین 
مور صلی انل علی:: عل یآ وسل مک یآوا یا از 

بی وا" یم نے رت بر ام سے روابی کک سو لی ال صلی ال علیہ 
و عل یآ وسلم نے مین خطبہ دی و آپ کے ائن خلی ہکو ام ایشحاع کے آنخر میں 
ٹیس پر ذہ عوز قں بھی ناشن آ پک آواز مارک اس دو دراز کہ یہ آ گئی۔ 
ان عور جس نشی تھیں۔ 

رخ رک یل وس مکوخواب میں د چنا 

رت اوج مین ےکمابیں ن ےآ حضرت صلی الد علی وخ کل سم 
سے نان صلی ای علیہ وع لہ و سلم فرمات تھ جھکوئی خواب یں بج ھکود کے 
دہ خنقریب جج ےکوبیداری شی بھی درک ےگا اور شیطان می ری صورت بر شی ہو 
کت . 

آنتحضرت صلی الد علیہ وع یآلہ وسلمکاىہ فا اکر نم دبا قیں جا نتے۔ 
ج می جاتتاہوں نو تح (وبت )کم نت اکررو تر جے۔ 

حضرت کپ رم کے جے ۔ آحضرت صلی الطد علیہ وعی آلہ و سلم 
فرماتے تھے اگ تم لوگ ووبائٹس جاتۓ ہوتے جو میں جامتا ہوں تو تم من کم اور 
راے بہت!۔ 


وعن ابی ھریرة قال نھٔی رسول الله صلی الله عليه وعلی آله وسلم 
عن الوصال فی الصوم فقال لە رجل انك تواصل یا رسول الله قال 
وایکم مثلی انی ابیت یطعمنی ربی ویسقینی (متفق عليه) 

سم د مار کک ردایت ےک حضرت ابو ہر رو سے فرماتے ہی کہ : 
ر سول ال صلی اللہ علی وخ یلوم نے روزے میں دصا لکر نے سے مت فیا 
حور ےکی مھ نے ع رخ کییار س۲ل اللپ ققدصا لکرت ہیں٠‏ فیا 
ٹس بجھ جن کون ہے : ٹس اس رح درا تگڈار جا ہو لکہ می رارب میگ ےگا 
باجاےء : ,کم وری) 

م6 شجھ خضحجاتکاضاش٢ین‏ 

اخاف شریف جس علاسہ امھ مدٹی کے عاننے سے عدِیفاقری 
رون آضرت ہی ال علیہ وس یآ و سلم ے اد شاد فرمایاکہ اید 
تحالیٰ نے ہجھ سے فا 

یا محمد لا اعذب احد ١‏ یسمی باسمك بالنار 
اے جدافے ‏ یی سی سکوج ھآ پک نام ہوگادوز نکی گل ے اب 
دو ںگا_ 

ال عد یٹ ین ال تال کان جحفرت صلی ال علیہ وی آلہ وسل مکو 
ای ند اس جخاطب فرب انی مہ اہر گر اسم مھ صلی الہ علیہ دخ یآ 
وم صاحبہالصلوڈوالسلا مکابہکتو کا ظار بھی ھی کہ اللہ تا یکو اپنے موب 
و مطلوب صلالل علیہ وع آلہوسلم س ےکس قد حبتہ ہےکہ شحض اس کے نام 
اف لک بت س ےگناہوگارول اور عذاب کے تقو لکوعراب سے خوات دی 
چار اے۔ 


224 


صر ث امر 


می کی اعصت ش رک نی کر ےکی 

فان رسول کر صلی اللہ علیہ لہ وسلم 
عن,عقبة ابن عامر قال صلّٰی رسول الله صلی علیہ وسلم 
علی قتلی اح بعد ثمان سنین کالموذع للاحیآء والاموات 
ٹم طلع المتبرفقال آئی بین ایدیکم فرط و انا علیکم 
شھیدوان موعد کم الحؤض وانی لا نظر الیه وانا فی مقامی 
ھذا وانی قد اعطیت مفاتیح حزائن الارض وائی لست 
اخشی علیکم انا تشرکو ابعدی ولکنی اخشی علیکم 
الدنیا ان تنا فہوا فیھا وزادیعضھم فتقتلوافتھلکو اکما هلكٰ 
من کان قبلکم ملق علیم --- 
ردایت ہے ححرت قب ایکن عامر ےک در وی اللہ صلی ارڈ علیہ وی 
کے نے شہداءاجد پآ ٹھ مال کے بعد دعاے رق پیا 
زندوں مروو لور خصت فرمانے دالو ںکی طرح پھر آپ مفب رپ 
بڑ ےھ فرمایاکہ می تھہارے آگے شی دوبوں اور می تہارانگران 
وا ہول اور تبازنۓ وصرز گا تچ ھی ے اور اسے اپاائں 
کہ سے دک اہول لکن یں تم پر یاکاخو فکر جا ہو ںک تما میں 
رش تکرجاواد دج نے مہ ذیاد یکا رت ین گکرہ ای طرح 
بلاک ہو جاؤ یس تم سے پیل دانے بلاک ہو ۓے (مسلم بقاری) 





ماق تو بیت ح ص٦‏ اللر علی دح ی آل و 
ِ مت مرا 7 اتی 


تر قرن عیم تحت بل جلالہ اور حوپ صلی الد علیہ و علی آلہ س٥ل‏ مکی 

کنکوہے۔الشر تھالی مار ے51 س اش علیہ دی :ول مکو نا( _ 

می کنا نیس جات ۸ ٠‏ 0 ٰ 

7 مو سی علیہ وی آل وس مکفارکہ قری کی اس رعالت - 
کو دک ہک رسکی ےک ارب بی قوم تا یمان عی نیس لاق تاب تالی۔ 
حیب مصلاالل دا علیہ وی لد وم نے" فراتۓ یا پھا الزموں لا 
خُنك .الذین یسارعون فی الکفر: 7رجمہ:۔ا۔ یارسول اللہ 
ال علیہ خی ہل و حم )آپ شر کر ان لوکوں کے 
جھکفرکی طرف دوڑتے ہیں- کی ڈھارس نار بے ہاری ت 
پ ےتوب ملااللہ علید دع آلہوسلمگی۔ 

)۳)۔ ماف فی بس ع رح َل را 
بھذا لحدیث اسفاک ہکیا آپ اپ جا نکوان کے یہ تح فکر ری 
کے خر اکر وایان 1 ھا ترآنپ_اگین) 

( ۳ ینا کے علادہ:ت ران کیم می او کامقالات پراپنےئوب سال 
علیہ دی آلہ وس مکو قلی* ارس کرنے کاکاا ہے تفر 
اس مل کہ وب صلااللد علیہ و یی لہ وسلم ۰رود ہوں 

(۳): اگرکافروں تن ےکا مال هذا الزسول یا کل الطعام ویمشی فی 
الا سواق (الفررقان))ریہ کیسارسول ہے چکھااکھاتاے اور پازاروں 











تانج ہے۔الل تھا یکاہ بات پندنہآی فیا انظر کیف 
ضربوا لك الامٹال(یا جیپ ری می الین کپ کے 
ملق مارت میں )فضلوا فلا یستطیعون سبیلاً 8 گمراہ ہہ وگ 
کوگی راہ عیں پاتے۔ 
(۵)۔ جھم کر نے والوں سے نیٹ لی گے 
ہ رخ گیا قوم غاد نے اپنے ایا ءکاناقی اڑا کغارککہ نے بھی ایا 
کیا۔ ال تی نے اپے عیب صلی اللہ علیہ و لی آلہدسلم سے فرمایا_ انا کفیذك 
المستھزئین 8 یک جم ان مر اقی اڑانے والوں کے ےکی ہیں ل(متتی میس ان 
سے نیٹ لو ںگا) 
(). محیوب صلی اللہ علیہ کو نظ بد کک ےکا لکر:. ای توا کی مب تکا 
ایک انزازیہ گی ے۔قرا ے۔وان یکاد الذین کفروا 
لیزلقوتك یا بصارھم۔ (۵ص۷۸كم) 1 
تھے :اور طرور کاف 2ای معلوم ہوتے ہی ںکہ وا نی نظ بد گا رتمہیں 
گرادیی گے۔ 
تن مجع :_ عرب میں انف لوگ نظ رلانے میں شب رہ آفاقی تھے ۔کغار نے ان 
ےگکچاکہ رسو کر صلی اولد علیہ وعلی لہ وس مکو نظ نہیں تو 
انہوں نے مضو رص اش علیہ دم یدوس مکوبڑئی زی _گاہوں سے 
دیکھا اور کے گے ہہم نے اب کک نہ ابیا آدبی دیکھانہ الیی دی 
زی یمن کی تما جدوجد می ہش ان کے اور دکائد کے 
عرن کے سے سے را زیڈ ال تمالی نے اپن محثہوب 
اش علیہ وی آلہ وس مکوان کے شر سے تخو ا رکھا اورے آیت 
نازل ہوگی۔ حطرت نر ضی اللہ تعالی حدہ نے فرییا جو نظر گے 








اکپ آیت پٹ ھکر م/دق باۓ_ 
(ے)۔ ارتا کی خحقیہ سب ری ۔کفار کے مقاللہ ٹش 
ذراتا اذ یمکریك الذین کفروا لیبتوك اویقتلوك اویخرجوك 
ویمکرون ویمکرآللەہ واللہ خیر الماکرین ‏ (۰٠۔۸اانتقال)‏ 
ےب ےم ج بکافرتہارے سات ھکر کرتے ‏ ےک میں ئن کر 


دی یا شی کر دی یا ال دی دداپنا سا مکرتے تاور ای خی ری 


تم فرماج تھا وراشکی تقیہ غر سب سے کہظر ے۔ 
(۸)۔ یں برلہلو ںگا۔(ال رتحا لگتاے۔ 

فاما نذ ھبن بك فاا منھم منتقمون(ا١۔ )٣۳‏ 
تج ڑ گر ہم می لے چا یں ان سے ہم رود بد یی کے 


(۹)۔ نفک آپ ہعار کی گہداشت ‏ ہو۔ قربان ای ے واصبر 


لحکم ربك فانك باعینتا (۴۸۔۵۲طور) 


جہاں مھ یکفار سے ماس ےکی بات گی و ہیں لہ تعاٹی نے خودان سے ٠‏ 


مقا کی با تکا مق اے ححیوب آپ اپنےارب کے عم بر ٹھہرے 
رٹی نکگو ینک آپ جار یگگہداشت مل ہو_ 
_)0١(‏ کفار پہ خذا بک ولگ نہک یں یں ا نک کی پور یکر 
ہوں۔ تقرآن یم میں ال تع یڑا ۔لا تعجل علیھم انما 
نعدلهغ عدا(۸۲۔۹ام۴) 
تجمہ:۔ “2 آپ ان بر جلدی ٹک یکم زا نی اناورک ارم ین۔د 
این کرام سے چنرخالیں ہیں جن سے آپ انداز ہکرت ہیں کہ 
اللہ تعالیٰ ہے عیب صلی اللہ علیہ وی آلہ وسسلم کی رسمالت کو کی 
شانداہےاورا نہیں غکین ہوج نہیں دک سکتا۔ بلہ گے لہ پریحبوبیت 
1 انچاگرری۔ ریب 





228 
مرو ہیی تک انا 

الف۔ ۸)اے۔ ونضع الموازین القسط لیوم القیمة(ے٣۔ا٢)اور‏ 
مد کی راز وش ریس کے قیامصت کے دن کسی جان پریکتھ رنہ ہوا 
(ب) فلانقیم لھم یو القیمة وزنا(۵ا۔۱۸) و ہمان کے لے قیامت 
کے دا نکوگی قول تہتقان ‏ مکربیی گے۔ 
ت۔ راتا ے۔ فاحسن صور کم (۴۔۴) تو تہاری توم کی رز 
تہادریا بھی صورت مال ٭ 
لق کارتشا علی الخرطوم (١۱۔۱١)‏ تریب ےک تم ا کی 
سو دی سی تھھ تھنی پ ردان دی گے۔ 
ث۔ راتاے۔ ادعوھم لا بائھم ھواقسط عنداللہ(۵_ ۳۳)ا نہیں 
اان کے پاپ یی اک ہک ریکازوی ال کے نز د یک اتصاف ے۔ 
یج گ٥ن_‏ ععل بعد ذالك زیٹم(۳٣_۸٦)‏ اس سب بزطظرہ ب کہ ال 
گی اصل مس خطا(ولید بن مخیرہاے۔ 
قا ری نکرام۔ منددچ پالا ند آیات سے ظاہ رہواکہ الد تعالیٰ ان عجبیپ 
صلی انل علیہ وعلی بل وسلم ک ےگمتاخوں کے متحلق خحضب مس آ جاتا ے۔ 
اوران کے متلقی کوئی رحایت نیس دتابکلہ و لید جن مخیرہ کا باپ کون تھا 
اکا اظہار کے عام کردیا۔ اوریڑے غضب کے حاتھ کیا۔ یی ان 
حبوبیت مل اش علیہ یلم یف کیک محبوب اکے کے ینمی ساد 
کانحات بتائی۔ یچ ربھلای گی کیا ال کہ محیوب کا خان مش گتائی 
کر ےو یرش منانقین ہمدت: کے نے اچ ضا صادر فرمارۓ 
اور ان کو ای دیاش ىی کاڈ رآراردے یا : 

(لاتعتذرواقدکفرتم بعد ایمانکم) 







آیات ق رآ یکانزول او رکفار ومش کین کار 





رسالت کا کیا(قالوا لست مرسٰلا) 
ذات سو لکرتمصلی الله عليه وعلی آله وسل مکوچاروز 
اث ہرادا مر مو قان) 






نے ہے شاعر ہے یی رآ نکو شا رکا قو لکیا 
رکوالھتنا لشاعر مجنون ے )۳۷١(۳‏ 
زا الو ںکیاکہایال ہیں جھ بی نات ے ۔(وقالو ١‏ 
الاولین اکبھا فھی تملی علیہ بگرۃ واصیلا )۵/٥۵(‏ 


ذات رسو لکرتم صلی اللہ علیہ وعلی آلە و سلم پرچو تو کل 
کے الد تھا نے تام ددکرد ہے 

رن عم مکی حقانیت شی ئل فا بی آیات اپے ای سے ساتے 
ھا لب ےک اوک مرا 
مجارت چابکد ك خاطر کیاادر عمیارانہ اض را ےکام نےکر یہ آیات 
بناتے ہیں او تھالی نے اسے تھی ردکردیال 





جے- 


پت 


230 


الد تعالی ن کفار ور رک نکی باقو ںکاجواب فرمیا 
انك لمن المرمبانچئلی صراط مستقیم (ر سال تکااعلان)(یل 
) ۳+۲۔ انظ رکیف ضربولك الامثال فضلو فلا یستطیعون 
سمیلا)( ور کے جوابش)(ال ران) 
ماضل صاحمکم وماغوی (گ راو اور پیک جانے گی چواپ ٹل 
م6 
فذکرفما انت بنعمت ربك بکاھن ولا مجنوت (۲۹/۵۲) 
(کا کن اور نون کے جواب شل) 
انه لقول رسول کریم وما ہو بقول شاعر قلیلا ماتومنون ۵٥‏ 
ولا بقول کاھن قلیلا ما تذکرون ٥‏ تنزیل من رب العلمین 
(۱۱۹ےء۳٥۷ات)‏ 


ا ف رآ نگ میم فو می رےر سو لک بے باقل یں۔ 


ام تامر ہم احلامھنم بھذاام ہم قوم طاغون ۵ کیا نکی ”نلم 
انیس نی بتاتی ہیں ادوس کش لوگ یں۔(٣۵۳۳۳)‏ 


ال لکچتا تھا ہم آ پکو ٹیس بھٹلاتے ہم فو اسے جھڑلاتے ہیں جھآپ لاتے 
ہیں (ملو وج ۸ حضور صلی اللہ علیہ دعلی آلہ وسلم کے اظاقی وعادات ۔ 
ص۸۸) اس پ اللہ تال نے ىہ یت اتارک ”فانھم لا یکذبونك ولکن 
الظلمین باایت الله یجحدون (7ی) 

دعوت تم یکو جا ن ےکی ضد۔کاقرلولے ان کا دلیضلنا عن الھتنا لو لا 
ان صبر نا علیھا ۔ ریب تھاکہ د جات فی ہمارے مبددوں سے بہپکاورے 
گر ہمہ ٹ دع رم چو ڑر ےشن ضرباڑےعدتے۔ - 





صادث اوران 
نار جات تےکہ آپ پگ ج ہیں دی ہو جا تا سے 
مان ای- فان اعرضوا فقل انذرتکم صعقہ مث لِصعقہ عادو ٹمود 
ترجہ. راک رہن بر ف آپ فی اتی ںکہ میں سیں ڈداجا جوں ایک 
2مم 0220,02 کت 7 ل 
0 یتو یے پاتاو ت جابر ریا تعالی عنرےردایت کک 
کک ہکو گیا ٣‏ / 


نش لام ینوی نے ٠‏ ون 
ماج تکفار نے موی کیا جو شحردح رات شا رعرمول --'۔ 
کرہم صلی اللہ عليہ وعلی آلہ وسلم سے کلامکرنے کے لے پیا جاۓ چنا نچ 
یہ بن ربج ہکا اعقاب ہوا۔ااں نے رسو لک ریم صلی الله عليه و لی آله : 
وسلم سےا کالہ آپ بہت ںیا عبدالمطلب ۔آپ بہترمیںیا داش آپ '--- 
کیوں جمارے پاپ دادالوگ رپ بنات ہیں علوم تکاشوق ہز مآ پکبادشاماتے 
یں عورںکاشوقی ہو لو قری شک شع لڑکیوں میس س ےآ پ ٹن گر پروی 
آپ کے ععقد یس دے دیں کے ما کی خوائش ہو قو اتا عکردیں کے جھ پک 
نلوں سے بھی بے رہے سید حا ین ہے مام ما موی سے تتے رہے :. 
آب مچنکانے نو ار پا رف 
وعلی آلہ وسلم کے دبان مرارک پر رکددیا۔او رآ پکورشنہ و قرایت کے واسے 
پت ان ار رتا اپ ین ےنپ وا کے 
م وا یا نکر ک ےکہاخداکی عم ت(صلی الله عليه وعلی آله وسلم)2 
کت ہیں شروش ہے نہ حر ےن ہکہات یس لن رو ںکوخوب جاتتاہہوں۔ مل 
نا نکالام سنا جب ان ہو نے رآیت فان اععرضنپڑ می فی نے الن کے دبان؛ 
صبلاک پر اھ رک دیالورا نیل مد کہ سک رود تم چان تی ہو دوج جچھ 
فرماتے ہیں دعی ہو جاتاے ا نکی بات ھی جموئی یں وی جھے اندیشہ ہ ینہ 

م یرخذر اب نازرل تہ ہونے کت 
قا ین کرام ۔کفار کہ نے ہی سو کر یم صلی اللد علیہ وعلی لہ وسل مکو 
صادق اور اش نکہاتھا۔ نہک اپخول نے۔ 


محوب لگ کے لے میں او رگواہیاں 


قرآن محت اور موب حا کے در میا نفک ام ہے . قرآن حب 


جلا جلال ہکا وب نکی شان ‏ سککھاہوا قصیدہ ے۔ خور سے بڑ ھی اور قوت 
عصسق سے ریم لپ جائیں کہ ححت اپے محوب صلی اللہ علی وع یآ 
وس مکوکتا چا ا اوران مکی گار یکواپن اندر لم یہی گے۔ 


الف 
0) 


نت 


ان حروب ‏ لگ کے لے مندر یہ یل خنمیں پھریی۔ 

جرئے چ رر ےکا گم٠.--۔-والضحی‏ 

تج رفاساز لوںئ مت والیل افانتجی 

مر 0ن لاقتم بھذا البد 

تجرے ڑا ےکا ے۔والعضر 

اے ستارمے(ج جریم والنجم 

جرے قو لک حم---وقیله یرب ان ھولاء قوم لا یومنون 

تر جا نک تم۔۔۔لعمرك 

تقر نکی تم والق رآن الحکیم 

ان اشم۔ عحتنانے مد بکیلئے اتی یں بھی پھر میں۔ 

تھرسے رض کے مم کیہ ومن ضہ ہون گے جت تک ہیں اکم نہ 
:نا میں۔فلا وربك لا یومنون حتی یحکموك /٥۵(‏ ۲ الضماءم) 
تیرے ر گیا فعم ان (کفا کو اور ان کے خیطانو نکو ھا ا انیل 
گے_ فوريك لتحشرنھم والشیطن(متم)۱۹/۲۸) 


(ت)۔ مر ےر بکا جم چما نیس ضرود ہے یں کے (جنموں نے ق رآ نک 


کے٦‏ فکیا) فوریك لنسلنھم اجمعین(الججر (۱۵/۹۴) 


233 


وت ایس کا اک کے کک لاہ 
ہے حب میق عحت نے محروب صلی اللہ علیہ وع یآلہ و سلم کی شا نکواپاگ کر نے 
کے انیو سو ںکھائین ف ارک خاب تھے جانےاوراقاعت کے( 
لقن نمی لات تھاوز سی اڑل کرت تھے می بات اللد تھا کو قرایت نا 
گوارگزری چنانچہ فراؤ۔(ا) قل ای وربی انە لحق(اش ۵۲٠۰)آ‏ پک 


دی ہا صرسے(ذ بکا عم دہ(حذاب) قٛ٤ے۔‏ 

(٢)۔ ‏ قل بلی وربی لتبعشن (التفائن ے )٦۴|‏ آ پکمہ دی پال ممرے 
ربکا مق ضوداٹھاۓ چا( مر نے کےبع) 

(۳)۔ قل بلی وربی كٗٛ تینںنکم (سما |٢‏ ۴۴) آ پہکمہ دب پال مھرے 
ر بک مد وضرور(قیامت )تن ےگی۔ 


(۲)۔ گُواہیاں ۔ تحیو با سال تکااقرادکردانے کے ل ےگوا یی دہیی۔ 

()۔ عم رواب یں ۔انمیا کو اکٹ اکر کے وا اخذ الله میثاق النبین 
-۔۔۔۔۔ تاآخر وا نا معکم مع الشھدین-(۳۱۸۱ آل گران) 

خرن حھۃعأر مصوت سر ا تھاکہ جو ایی ناب اور 
مت ے دوں پچ رآ ا ۓگ تھا ے یا نان دن جج ضرق 
کر نے ا کوچ مار ے سا تح ہے تم سب ضمرور اس پر یمان لا اور 
رود ا سکی مد دک فرملاکیا مقر کرت ہو اود عید بے می راچھار گی 
ذمہ لیے ہو سب تےکھا ہم نے اقرا رکیا۔ فرماایک دوس رے کے وو 
جاؤلور یل گھی تار نۓ ہنا تح ھگواہون ٹن ہے ہُولن: 

(2) ج بکفار تے انا رکیا۔ یقول الذین کفروالست مرضلا ۔ قل 
کفی بالله شھیدا بیٹی و بینکم _(اعر ۳/۳۳)او رکاذ مکۓ : 


رو 


)۲) 


۔)٥۵(‎ 


234 


یں اکہ آپ ر ول کیں پا فما میس الد روا ہکائی سے ہج یں اور م 
ہیں۔ 

تام کا نات کے رسول۔ وارسلنك للنایں زسولاً وکفی بالله 
شھید۔(ضما+4./79)اے محبوب ”نے میں تقاملوگوں کے لئے 
رسولی ہیاک چیچالور ا کی ےگواہ_ 

دبین تن کے ضاتھ ھوالذیٰ ارسل رسولە بالھدی ودین الحق 
لیظھرہ: علی الدین کله وکفی بالله شھیدا_(ا ٌ48128):ی 
ہے جم نے کیا پت د سو لکوہرایت لورد بین جی کے سا تھ جاکہ الب 
کرے ارے تقام ذیفوں بر(لور رسول ض٥‏ ایر علیہ دعلی آلہ وسسلم مکی 
صداقت پراوراشی اگوایکائی ے_ 

ال تال گی اپ وا او ساد فرشتو لک یگوای۔ لکن الله بَشھید 
بماانزل اليیك انزلەبعلمہ والملئکتەہ یشھدون کفی بالله 
شپیدا۔(نماء4/1466) مہ کن اے محیوب اللدا سکاگواء ے جو 
اس نے تھی رف اپینے علم سے اجاراود فرش ےگوہ ہیں اور ا کی 
گوات یکا 


ہے ہا کا کیا تکا حا ہمارے کا صلی ال علیہ و لہ وسل کی شان اق رس 


سے 


الد تھی نے قرآن میں تحدد مقامات پر خللف ‏ میں بھریں۔ 
پک ا کے کے مارک ےکوابیان فیسخ دی کواموں 
شائل ہوا کفا مک ہکؤمحیو بکیر سال تکااقرا کر وانے کے لئ اتی 
گوای د یدبا یکیار گیا گر پچ رھ یکوئ یپ می ال علی: دع یآ سم 
کیاکی تکامگر ہو قووہ ڈنی ے_ 

عز و فا ال ےجب ؟ آوم علیہ السلا حمکاجش ہنایا لوم نت 


235 


گرمی سے سوک گیل. می خنک ہوکئی اور جب ہوائیں چلتی تھیں تو 
اراس پر 39 سال ش مکی بارش و گی اور ایک سال خوش یکی 
پاشی۔ ای مگئ انی نکوز گی خم زیاد ہاور خوشیا نک لیذ 
عمزاز یل (اکھی اشسن ہا تھا)بھی فرشنتوں کے مرا ہآیالور اس پک کے 
اروگ دو مگر ھا چو لاک شایدان ٹول یش پھر ے_ ساتھ 
بج کالہ نے پت زیاد طکخاک کر جامۓ گا وخ وو غی ر وجب الد تقالی ئے 
تام ملامگ کو اکٹھاکیااور فرایافاذا سویتہ ونفخت فیہ من روحی 
فقعوالہ سدین تو جب می اسے نی کک وں اور اس میں اپٹی طرف 
کی خماصی مز پچ نک دو تم سب سجرے می ںگر پڑ نا گواکہ 
جب ممیں فور مصعف یک و مکی پت مل رب ھکر پچھوکک ماروں و بچرے 
ین لق و تی کے لے تھں شک آو مو اے 
پڑے ہو ےکی دنگ می ےک کی حجد نہ ہوا۔ اکر ایا ہو جا تر الفاظ 
ہے ہو ۓ۔(اسجدوالیٰ آدم) 

واق کی زار( ذک )کی وج- بای واع وات سے جوالد تعاٹی نے 
رن بی با باذک رکیاے تو مو لگا بات ہودجی ہو یک دم ای 
ا ا کے اصصول متا جار سے ہیں تو 
مات کن رو حکزرد کیو می کی ےک فورمحجوب می 
ا علیہ وع یآ وسل مکی تفم یس اھ سکاسجدو نکر نے کالہ تعالی نے 
بہت بین امتایا ہے کی کہ مہا ای کے ع مکی ناف انی ہے۔ اور اکا 
فان ال کاباٹی ہے۔ اودماٹ یکی مزا جم ہے اس واق ہکا ذکر ق رن 


کمیں ۹اپارہواے۔ 


2 


خزودات دفو کی مسعمات 


ای :ملف صلی ایل علیہ وع یآل و سلم 
آپ صلی اللہ علیہ وی آلہ وس مکی یرت تک یکا مطائ کیا جا نو 
نرایے لیے کے سا تھ اور ہر طبر کے شک دشیہ سے ماودا ہوک تلہم مکرا 
:وا ہآپ کال علیہ دع لہ نل مکی مار زرآپ صلی اللہ علیہ دع یآ دسلم 
کا تی شاعت اور بے تال قوت اعصاب ب جن تھاجھ خط مال 0ت 
اور مارک سے اڑل مواتج بھی قائ اور تاہت رے۔ انائی مات 
مب یآپ صلی ال علیہ وع یل عم کے اسیاب پھ رج سآ پک عزم یم بھی 
شال تھا ابی قوت اوادئی بج کا مثال نی مل عق یآپ پپہ سالار اور 
ای ری جثیت سے دوانقبارات کے یی نظرہرزمان ومکاں کے فو کی 
مر ہجماوں سے متازینظ رآتے ہیں۔ 
الف۔ ای ا یب کیا دی کشم جددری یی دلو 
صاحب ۶زوشجات قا نافع کے سا تج سا تھ ای طوز یر ہاور یکی 
مال تھے اسدایقد(شی خدا مو لا ےکا نات فرماتے ہی ںک جب بش 
کک ہولناکیوںکاسامناکرتے ہو ےآکا صلی ای علیہ دع یآلہ وسلم 
گا بناہ جس آت ےآ پکو پچاڑے زیادہ خجیت قدم جنگ میں مروف 
اکر جماراحوصلہ مھ جا ای ر مروف بک ہو چاتا_ 


"جو 


تی ای کی راوئیس ۔آپ صلی ا علیہ یآ وسل مکی سار ی جنکیس ال کا 
7 من کچھیاا نے اید تھال یک الوصیت وداحد اض تکااتق را کروانے کے لے 
یں تک سی ذائی مقاصد کے لے آپ مل ال علیۂ دع یآ مم .۔ 
فریاتے ہی کہ جقتائٹش ای کی راوٹش ستیاکیاہو کوک نمی متلاگیا 


اگے مفحات میس جنگو کی تقایل دی ہو گی ہیں۔ جن مس آپ صلی 
اللہ علیہ وع یآلیہ و سلم نے حصہلیااورتیاو کی اض مز کت ہیں۔ اس کے 
بعدبا کی تام فوگی مو کی تتیلا تھی ہیں جک 75ے تقرعب ہیں۔ذداٹائم 
پیل پر حور فربائیں تو معلوم ہوگاکمہ ہردوصرے یا تیسرے مییے ا رکا راوئش 
تمادکررجے ہیں ۔گوھاکہ مد ینہ عیبر کے 10ا اب کی زاویس لڑ تےگمز رج 
تار می نکرام۔ کی مس کی 1158079 0117ا نشیس جب ےہ تا 
بضی ہے ابی یکوئی شال نیں یک کسی شف نے اتی لوا یں لڑی ہوں۔ جقنی 
کہ د ہو کر اللہ عی وخ یآلہوسلم نے۔اوروہ بھی الہ تا کی راویش۔ 





2 


آے 


23 


ممات ر ول اکر 


عران 
صریی تزع عبرالطلب 
نثرت سے کے ماواعد 
عبیڈئن عاز ام 
(غوال)۸)مببر 
سرن الیاد اح کی رم 
(ز یتور )۹اویعر 
خرزدانداء مفر ماج 
مز جحلا نکرزز 
ریالاەل۔ مھ 
خزود طلاش شکرز 
رج الافل۔ مھ 
خزووزی تر 
جمادیلاخھ 
عبرایڈڈن شی کی مم 


رجبپ طھ 
غرزدوع در ٣‏ ار مضانڑھ 
غزدہ ی تی 


۵ اخوال_ ٢ھ‏ 


ران 


۔ا١‎ 


۳ك 


عوان 
تمزو) سو لچ ۵ یی ال ےھ 
خرزو) قرف رچاللرر 
۴م تو 
غزدہ فان ۴ ارب الاول ٣ھ‏ 
فزو ٹم 
٦مادگالادل‏ ۴ھ 
زیڈڑکن عار گا مم 
جمادی الا ٣ھ‏ 
غزودء اعد ۵ شال رھ 
مم نل نم عرم ےھ 
ودئیء عر مدکی عم ۵ مرخ ھ 
رمعون کی عم صرے جو 
رای عم مفرطعط 
خمز ٤ہو‏ كضر رب الاول رھ 
دراو رکذ قح مک2 
غمزووذات ال تع 2۸۶ھ 
خزوودومت الب ل ۲٣ر‏ 


الاول ۵ھ 


خزوو مر" ×ضان ۵ھ 
غزدداقزاب زی قدہ ۵ھ 
خزداو قریطہ ٢۲ز‏ ۵ھ 
مم قرطاء رم ھھے 
مزد وو فیا ری الال رھ 
غزہ ابر الال تج 


عکا شک عم ریالا:ل رھ 


مم ذوالق رب الال ٦ھ‏ 


مم مر ریالا اھ 


مع یش جمادی الاول اھ 


مم طرف مادی لاج 
مم کک جھادی 9٦ھ‏ 
ریو ت اھ لخبا+داج 
مم مرک شبان ٦ھ‏ 
مع این لیر مضان اھ 
مم عیدایڈشئند ردام شول جج 
مرگ زین چلد شوال ٦ھ‏ 
مرن ام یک عم شوال رھ 


خردەعد بے ڈگ تعرہ و 


کا 


٥۵‏ ۔ 


'“ 


زدہ تر مادی الال عھ 
من کخبان ےھ 

مم تب شجان ےھ 

مم بن یکلاب شائرےھ 
م'ٹ رآ س رخبلنرعیھ 
مم میفدرمضانار ےھ 

مم اناپ شال عھ 

مع رلن ای الع جا ذ اھر ےھ 
م موی دم رج 

مسوم عفر رڈ 

شع م تال ہج 

مع مین مر لللطو 
عععدگلل ر ۸ھ 1 
مم ذات الال چمادک ۸271ھ 
خطادجبرڈھ 

مم وشن ڈجھ 
کہ بر مضان۔ڈجھ 

زک ای ۲۰ر مضان۸ھ 
سول کی ایر مان ۸ھ 


240 


×٭ الو درو 
رت ا یت تن 
۳۴۔ خزود تن ٣خوال‏ ۸ھ 
۵-۔ روب ظا آ کخوال ۸ھ 
از خی زم 
ٰ پ02 
۸۔ ا کاب رت ااہل٤ھ‏ 
٥‏ ملق لان ےم 
پل م۴ ,06ز 7 
اع خزدہ ج وک رف راج 
٣ے۔‏ مم ین نگم عفان اھ 
ے۔ آنری مذلقعد اج 
٠ے‏ مع عماسا ار لاول ر اھ 
دے۔ گورناسب کے علادہ خی رام 
مسماتکل تعدا تق یب٣‏ اے۔ 















روزقا بت گرای_ تام کو 
حثئنابلءۂ 2 1 





ق رآ ن یم فیکف اذا جننا من کل امة یشھید و جٹنایك 


كُُولاء شھیدا 
جورم ای گا 












۔ررعفاضی 
یوب آ کون سب پیگواواو رگ پان بٹاکر لجیں۔ 
.اروام کان 
اعاد الا ات نا ا دم کا 
ہوں فھریے خی کہتا۔میرے ہاتھ م جمکا مجنا ہوگافھریہ نی ں۲ 


د نکوئی بی آدم علیہ السلام اوران کے سواایانہ ہوگاجومیرے مجن 
دی ا ویش 
 )(‏ ردایت سے ححضرت ابکن عحبا سے قرمآتے ہیں کہ ر سول وحن کی 
سحاب می سے کچھ لوگ شی پھر حضورافورتریف لاے تی کہ نع ٠‏ 
ححقرات ےافریب ہوسگع لوا کیل بات کور تے سنا ان ئیں سے 
ین ےکیاکہ ال تھال نے حعفرت !برای مکواپنادوست ہنیادوصرے 
صاحب لو س ےک اللہ نمی نے حطرت موی علیہ السلام کلام 
فر مایا نے ایک اور صاحب او لےکہ خر ت می اللہ تی کاکلرہ ا سکی 
رڈیل ایک اور کیہ آد موا تھا ی ا ا 
۰١‏ جب ان کے پا رسول اللہ ریف لا اود فیا کہ ہم نے 
تار یکنفشگ اور تہار١‏ کے کر ناسنا یناب ایال کے ا ا 
ایے تی ہیں اور مو می علیہ السلام سے را زی با تک و انے ہیں واتی 


)۳۴( 


ر۷ 


242 


ا سر تی ہیں آد مکوانر 
تقالی نے ھن لمیاداتی ووایے نی ہیں مر خیالی رک وک مں ال کا 
محبوبٹ ہوں تخریہ نمی ںکہتاقیات کے دن ج رکا سجن ایس ہی اٹماۓے 
ہو گان کے نچ آدم۔ اوران کے سوا ہو کے فرب نی ںکبزایس 
پہلا شفاعح تک نے دالا اور پہاا مقبولی ااشفاعت قیامت کے دن ش 
20 نیں کتای پلادہ ٹس ہوں جو جن تکیز رباب 
ال کھو گا راس میں بے داخ لکر پگا۔ می رے سا تھ فق ار مسلران 
ہوں گے فخری نی نکہتایٹش سارے گے چچلوں مم اللہ پر زیادہ 
۶ کدالاہول بے یسک تا( زی أداری) 

رایت سے حطرت عمروایی ٹیس ےکہ رسول اللہ مکل نے فر ماکاک 
بھم آنریی ہیں اور ہم امت کے دن اول ہوں گے اور یس انیب پات 


>ہتاہوں گر ھر خی کہ ابرائیم الد کے خپیل ہیں مو ال کے 


بیو یں فور مغ اکا وب کہوں ات کے دن ت رکا چٹڑا 
می رےپاس ہوگا اد نے مھ می رک اہم ت کے بارے میس وعدہفر امیا سے 
رظ ین آشوں سے مان دی ہے ان بی عام قط نہ کی جےگاا نمی ںکوئی 
دن جڑ سے ایر کا یی ںگمرای رج کر ےگا (رارل) 

رایت نے فرت ےک می نے فلا رو کاٹ رو 
ہوں ریہ نی سيکپتائیس نییوں جس آخرکی ہوں *تھ ریہ فی سکہتایس پہلا 
شفاعحتوالا اور ول التواعت ہو تر تھی س(داری)روایٹ ے 
عخرت ا سے فریات ہیں فریارسول الل ٹیگ رن کہ جب لوگ 
اٹھاے ادس ان سب میل پیل جم بر نود ے باہ رآ یگ اور جب لوگ 
رت تا ےو کب ام ون ِ 





(0 


(ے) 


)۸) 


۸) 


)) 


کے خطیب ہو کے اورجب لوگ رو کے بہوۓ ہوں گے فان کے ضیح 
وو و کی رت 
اس دن زت او رکیاںہمارے اھ ہو گی جرکا سنا ادن جمارے 
اھ ہو گا یش سمارکی اولاد دم یش اپنے دب کے نزدیگ زیادہ گزت 
دالاوںل جارے پا اک بل خدامگھو ےکویادہ فو یں بڑے 
ہیں " ,1 سذر(تزا ''دارگی) اور تھی تنے فراائ مک 
غ بب ۓروامت سے ححفرت الو ہر ےوہ ای نگ سے راد ف رمیا 
کے جتی جو ڑا پنیا جاد یھی عرش کی دای طر فکھٹراہوںگا۔ 
یں نے وی یی 0 ری 17707 
رایت ہے انی سے دو یع سے راوی ہیں فا اللہ یت مر مات : 
لے وضیلہ او صحاب: نے عرف ںکیاار سو الل حلگ کیا سے فیا 
پرشت بی سب سےاوتچادرجہ ے صرف ایک نٹ اناد امیر ٌ 
کرجا ہوں کہ دوش می ہو لگ( زی) 
ردایت ہے حضرت الی ا نکحب سے وو نسی تل سے اوک فرماتے ہیں 
فرلاجب قیا تکیادن ہوگان یس نیو ں کا امام کورا نکاخطیبہول گا 
ردایت ہے جضرت جابر س ےک می کلک نے فربا کہ اش نے اغلاقی کے 
را رن اورانتے اعمال کےکالات اور ے' نے کے 
بج ھک وکیا ١‏ ٹربصس) 
ردایت ے فر تکعب ے "وہ قر یت سے مکابی تکرتے ہیں فریاکم 
دہا کعپاۓ ی ںکہ ۶ الد کے ر سولی ہیں میرے ند یدہدنرے ہین 
(بریلر) 


(00 


0۷) 


244و 


مھکورہے اوج این م ری حضورافور کے سا تھ دفن سییے نیس کے 
7زی) 
ردایت ہے حظرت ایح ع با سے فرما اہ انل تھا لے نے مور ض الد 
علیہ لیریس مکومارے نیوں پر اود سمارے آسمان والوں پ نیدی 
لوک ین ےکا اکن عائں آسالن داوں پ کسی ط رب دی فک 
الد تھالی لے آساناوالدون سے فربیاکہ تم سے جو کی گاکمہ می الد کے 
سدامتبو دیون لہ دی ہو گا سے پم دوز نکی مزادیکی گے جم نطالمو ںکو 
ایک تھا زادیا گرتے یں اوراللتھا نے نے حضور عر مصطن لن کے 
لے ف اکن جم نے آآپ کے ےشن دی کہ آپ خر ڑے 
آ پکااامت کے کے نیہ نٹ لوگوں تن ےکھاکہ نییوں بر 
کی مز ادگ فیا کہ ال تھائے نے فربایاکہ ہم ن ےکوئی رسول نہیں 
انال ناک ق کان ان یس جاک ووان کے لے یا نکر اڈ ے 
پاے ملائی نے گنز لاک نے شر یٹ کین اور مرمصطن جال ےت 
فریلاکہ جم ماناک کو یس باتک نرارے لوکوں کے لے کان 
تق تضو رکون وانما نکی طر فبھیا“ 
ردایت ہے عفر ت اوہ میڈسے فربات ہیں ر سول اللہ صلی اہ علیہ و لی 
آلہ و سلم ن ےکہ می رکا دددوسرے خیو نک مال انم کی سی ے 
کی تیر بہت تا اپ ک یکفیلوراسی یں ایک این ٹکی جک بچوڑد یکئی 
دیھن دانے ان کے گد پا گان تےوزائچھی تیر ےتہر کر بے 
ہواے ال ا ین- کے وی نے ہیاس این ٹکیا کہ کردی۔ بھ پرانیاہ 
بج کرد ے ماد یھ بر سول' ۴ کرد پئے گے ایک روایت وی ہے ےہ دہ 
آتریاینٹ دی اہول اور زیو جس آخر نی ہوں۔ (مسکم وہناری) 


)۳۴ 


)٢( 


)٥۵( 


(0٦) 


245 


روایت ہے انیس سے قرماتے نہیں قر یر ضول ال صکی اللہ علیہ وعلی لہ 
سم نےکہ خیو ںک جماعت می ںکوئی نی نہ ےگ را نیس ات مجزات 
د ےگ تن لوگ ان تی مجزوں پرایمان لاۓاور جو خحصو صی مہجزہ 
بے عطا ہوا نے وو وگی سے جو اللہ نے می رکی طرف گی و مس امیر 
کر اہو ںکہ اعت کے دن زیاد ہشن می ہو گا (مسلم بفاری) 
زوایت ہے رت تاءڑ سے فرماتے ہین فرمیا رسول اللہ صی اللہ 
علیہ لد سلم نےکہ یھے اج یس ذ یکئی جھجھھ ے یکس یکوز 
اک یس الیک ماہ کے راست سے ہب ہے راہ دکیاگیااور 
بر نے گے خازی زع مد آوزذ کیہ ظہارت تا دی 0 
امت کے آ دج یک شس تہ نما آجادے دوددہاں بی بڑھ اور سر یٹ 
لے معتیں طا لکرد یکئیں 'اور بے بڑی شفاعت د کا اودرٹی 
خا آپنی قو مکی رف تیچ جاتے تھے مس مسمارے انسانو ںکی طرف 
ھیاگیاہوں_ (جوریم) 
ردوایت ہے نطرت الو ہرم سےکہ ر ول الد صلی اللد علیہ و گی آلہ 
وم نے فرایا مج ھکو تام جنمجروں پر پچ پچیزوں سے بذ ری دک گی 
جھے خجائع الفاظز دتیے گے یت سے میرک مد دک یگ ی کے لھا 
یں ما یی ای اود نے نے ایز اڈ راکی کاذر یہ 
نات گنی اور یں سای لو قکی طرف بٹناگیا اوز جو بر سلسلااء 
وت ش مک ردیاگیل (م) 
رت بان فر مات ہیں ر سولالل صلی اللہ علیہ یی آلہ و سم نے فریا 
کک ای نے می تورم مت وی ومن نے ان کے ریو 
مخرب د سے او می رک ام تکا ملک دبا تک تی پچ گا جہاں تک 


ك) 


22 


میرے لے یٹ دیاگمیانور بے دو خمزانے د گے گے سرخ و سفیر اور 
جیا نے اپ دب سے اپقی امت کے لئے سوا لکیاکہ انیس الم تق ے 
ہلا اک رے اوران پرا نکی اعت کے ساکوگیو و کے 
جوا نکیا اص اکھیٹردے میرے رب نے فریاے مہم ج بکوئی 
فیصلہ فمارپتے ہیں تو دورد نمی ہو سای نے آ پک وآ پک امت کے 
فلت یوعد جدے جیاکہ انی عام قیاسما لے بلاک کرو ںا* 

ایک روایت ٹس ہےکہ می رک امت مس سے ایک توم مم رى شفاع تک 
اپ آگ سے کال اد ےگا جھ شنفھ ام دہے جائیں گے روایت ے 
جحخرت عبدرار این مسمود سے فرماتے ہیں فربایار سو اللہ صلی اللہ علی 
دس آلہ سم ن ےکہ می جانا ہوں دوز غ والوں یس سے آخ بی پک 
داف ےکواور نت میس آخ رک داخل ہونے وات ےکوایک شنفیس لک ے 
ہوا لاق رب فریا ےگا جا نت یں داخل ہو جاہدہال چادے 1 
اسے خیال بندتھےکہ جن ت بل رک ہوک وو کچ گار ب یں نے۔ جنت 
برا ہل ای قرب فربائگاجاجنت می داخل ہو جاک کہ تی رکیکلیت 
داک برا اود ال کا در کنا ہے دہ کی گاکیا لوج ےی فا لے 
عالائمہ با شاوے وش نے رسول اللہ صلیاالل علیہ وی آلہ و سللمکو 
ریکھاکہ تضور صلی اللہ علیہ یی آل۔ دسلم ضیے جم کہ آ پک دنذان 
مبارک چنک گناو رکھاجاتا کہ بی جنت دالوں ش لوٹ در چ کا ہوگا_ 
) سکم یفادیردایت ے جرتالورذرے فرماتے ہیں فریار حول اش 
صلالل علیہ وع لہ سلمت کیہ جا:تاہوں جنتوں ںہ سے ری 
داش ہو ئے و کو جنت میں اور دوزخیوں یں ے وہل سے آنتخ ری 
لے والے کو(انی لاعلم آخراھل التار) 









ے0 جم عقرب آ پکازب ال آپ کو حبوبیت اور گھو چنا 

کے ایی مقام پر مبحوث اود قائم فرہاۓےگا۔(دنایں بھی “آخریں 

بھی مق رٹ بھی میں بھی۔) 

الف۔ تح رت۔ شفاع تکی رک کلک ہد قامانای تآپصلي 
وعلی آللہ وسل مکوڈھو نر ی رع اور ڈھوت کر آنر پالیا۔اً 
راد سا یکا عم صہ عیت کا ہوگا۔اں سے پلے تق یس بھی 
الله عليه وعلی آل وسل مکی ضر درت اىیے پڑ گی جہ 
تیم راسوال بجی کے اورووے ہوگاما کبت تقول فی 
الر جل 3 اس مردقضحخ کے بارۓ شی نکیا اتا تھا مومنن 

















اپے فور ایمان سے فْر١ٴ‏ چان یی کے می ہرایک 
ضرورت ہو گا۔انمانوں ا اوضروزرت ہو دگیا۔ ایا ہگرام وخ رو رت و 
۳۵ف تآۓ+روی+عگ سا قرورے_ - 
ب۔ ' مقام ھووں عرش کے یئ دو ری:کی شفاعت اور جن تکا ررواز, 
آپ کے ل٤ک‏ صدمشرہنیاچاا اب وکنا بکوجلدی شف کر 
تحفل دن خوا یکا انعقاد ہون۔ اس سے پڑ ھکر مقام جو درک سکونعیب 
ہو سک ہے۔ بی متام مود ہے_ دیاکی سللنت قکو کی یو بیت_ ٣‏ 
قیامت رآ ن وعد ی کی علومتو مقبولیت_ ق کا علووریدرار مج رکی 
خت نیہ رطر فا مگمودی مو تو ںکی طر حہچھراہوے۔ 
ت۔ گرشی۔ آپصلى الله علیہ وعلی آلہ وسلممنے فریا کہ تؾ تما 


گید 


248 


بے ع رت لک دای جان کٹ اف رما ےگواود ایک اور رایت می عرش یہ 
اود ایک روایت مج يک کا رہے۔ کور جن تکا ہا آپ کے سرد 
فرماۓگا۔ اور آپ کے پا تج لوا ہو گا اور شفانعت ا نکمالا تکاایک 
جنپ جک سے سمارکی خلو قک لیم لن گا رت این عباس ے 
راہ کیہ عق تھی روز قیام تک کرای مور صلی الله علیہ وعلی 
آللہ وسل مکو ٹیا ۓگا اور تضورصلى الله عليه وعلی آله إسلم ےک 
ردذپرورگارعام ہزگا_ مل کلام کہ تق تما اپ جیب صلی 
اللہ علي وعلی آلد وسلمكووۃ متام عطا فیا ۓگاج دک یکو آپ کے 
سواعاصل می نکی کک ہآپ خلیفہ ا شع ہیں۔ ت ناڑأھاکم کیا نات 


عاکینت لام قامت 

لہ رسولصلى الله عليه وعلی آله وسلمنے قرا اللہ ے 
ضر ہے گے وسلہ جات سابہ نے کر پکیایار لال صلی الله عليیه 
وعلی آلہ وسلم دسلہ کیاچیر ے؟ فیا کہشت مس سب سے اونیا 
در یہ صر ف ایک جن پان ےگا۔اور میں امی دک رجا ہو کہ دوش ہی 
ہو ںگا۔ 

الا یکی مل ۔رسول الرصلی اللہ عليه وعلی آلە وسلم ے 
فا اتی کے درجا مم لکرنے اور اھ ا ال کےکمالات ورے 
کرنے کے یع جج ےکو بیز 

تورات مان مو روات ہ ےکہ ضر تکعب سے وو تر یت نے 
حا تکرتے ہیں۔ فرملا تم وہا ںککھاپات ی ںکہ صلی اللہ عليد 
وعلی آل:وسلمالہ کے رو لصلى الله عليه وعلی آله وسلمیں۔ 
میرے دیو بندے ہیں۔ عحبد اہ بن لام فرماتے ہیں ریت ٹل 













5 و اور سمارےآسان الو پر بز رگید 

سارت5 ]5 .“لٹ صلی الله علیہ وعلی لو : 
کہ نیو ںکی ججاعت م لکوئی نی نہ ت مگ را نہیں" 

و کا و ا 


: مجر کے اووو ہے جوالہ نے مرا 
: وت ا 
خزاو لک جال آپ صلی الله عليه وعلی آله و 
و ا 
ا اللدنے مھرے ےشن میٹ دگ۔ رش 
شرقدنقرب دک 
حشر کامیدان۔ لوگ ڑھو جڈیں ے - 
ان اتل 
× مت مت الک این سے یحو ات 
ْ علي ‏ وعلی آلہ وسامنے جب قام تکادن ہو گت لوگ لیت لن میں قور-- 
ْ ہو جامیں گے ۔ یی لولاد ”فذلوگ مث میں ای ایکیلے تیرا نکیڑے ہوں گے * 
بہت دراز خر ص۔ گزار نے کے چو دض بت نے می ےکور مو لی کے 
از آدم علیہ السلام جاروز قیامت ممارے انسان داخل ہیں کافرہوں یاموھین۔ 
سواے حعفرات انی ہکرام کے علاش شف کے لے سب بی یں کے حضرات 
انیاء کرام یں کنل کلیے وو ن‌ضڈال۔وں و ضا ی 
کے سا شش ول گے سب سے بڑا معلہ جو دد یل ہہ اک ہکوئی اما ہوجو آ 








وا لف 


تا سے با تکرے کہ روز جش رکیکارروائیشروںہو۔ لے شفاع تکری 
کے ہیں۔ چان انان حخرت آوم علیہ الام کے پا جائیی گے اور 
شفاع تکہرک کے لے ع رک ری گے۔ اپ رآدم علیہ السلام فرامیں کک 
اب تم سیالورکے اس چاو(افعبو الی خیری ) گر تام لوگ عرت فوج 
علیہ السلام کے پان جائیل گے ۔ دہ بھی بی ہیں م ےہک ہی ان کے لے نہیں 
نو .پچ رلوگ حقرت ای رام علیہ السلام کے پا جائیں گے . دہ بھی بی کہ 
کی ج ےک دوای کے لے تیں پر حضرت موی علیہ السلام کے پا جامس 
گے ول سے ایی جواب لےگا۔ پھر حخرت می علیہ السلام کے پان 
جا گے دہ بھی یں گےکہ اہ لئے یں یں ہوں لیکن تم حضرت مھ 
“صلی اللہ علیہ وعلی آلە وسلم کے پا با -اصلی الله علیہ وعلی 
آلہ وسلمنے فربیاددئیرے پا آئیں گے۔ئی فرباو گا ”ان ھا “ں ٹس 
ان کے گے ہون۔ ان رح ڈھوطڑتے وع نت کر سا لگزر جامیں گے۔ 
آپصلى اللہ عليہ وعلی آلہ وسلہمنے فربلائچھر ں اپ رب ے اہازت 
مانوںگا۔ 

ااف۔ دہ آپ صلی الله عليہ وعلی آلہ وسلمنے فریا چٹ رب کے 
لے کیدہوم کر چاؤ ںگا۔ بجر کہاچاۓگایامحمد ارفع راسك و قل تسمع و 
سل تعطہ واشفع تشفع فاقول امتی امتی(اے جر) انار انا فرایا 
تہارک کا جال ۓگ انگود چے جاؤ کے۔شفاعت کرو قو لکا جا ےگی۔ عر ض 
کرو ںگایارب می ری امت یا مد ام تکو ہشن دے۔) اتضورصلىی الله 
عليه وعلی آلہ وس نے ای دہ ایک ”دع حصوس “فو ری ے_ 


.1 


چا رکین کرام (سد سے بھی تچ کت ہوں گے گگر ہہ ساراعل ال تھا 
پاتاے کہ 1ہ فی کے پا جاک لاخ حا کے پال جال ) 
میرا نج 

کفار کی تنا۔الیک فو مہ تناک ری ےک کا 3 مسلمان ہوئے۔ 

ت رن بیا نا ےیوم تقلب وجوهھم فی النار یقولون یلیتنا اطعنا 
الله واطعنا الرسولا(۳۲/۷۱الاضراب) جم جضصروزددمہ کے مل آل ٹل 
بک جائیں کے وبعدیاں یں کے اسےکاش !ہم نے اطاع تک ہو اللہ تما 
گیااور جم نے اطاععت کی ہوک یر سول ارم صلی الله علیہ وعلی آلە وسلمگی۔ 
اف اطانعت ز سو لکی نا نٹ جینم میس پپییک دبا جا ےگا او رآنگ بیس جن 
کے با حث ان کے پچ ےکرک رف دنین ےکا یزرد مار ٦بی‏ 
سا“ مو خہوں کے یل وگ میس ا نمی سکحسیٹا جا ےگا معذر رت خو ا یکر تے ہو ئے 
ع کبس مے۔ اے جعازے رے۔ اس می جعاراا تا فصو گیں۔ جمارے مس ردار 
اور ٹوا میں نیس راہ یر پچلاتےٗرے م سح ہے۔انہوں نے صلی نک کیاکی 
یم نے قصور ہیں. ہیں معانی معنی چاہجے۔ اناگ ہیں معانی نیس لق ت2 تار 
ىی درخواعت ضرور قُول ہو دہان ردارول لور م خنوں کودو ند راب دیاجاۓ 
ان الموں نے اپنے آپ کو بھی پلا ککیاادر مارابیڑا گی خر یکر دیا۔ ا نکادد ہر١‏ 
جم ہے۔انکوسزائی دک نی چا : 
تتاتا ال وفت ا ػِل صرتہ نداصت سے یگ ہی خیال ا کک رکاش 
رسول‌اشصلی الله عليه وعلی آلە وسلمک اطاعتکی+*ل- 
کب ہی اضیام ہے عا کا مات کے نافرینو کا با یو کل : 


تج ری یک تنا۔ قیامت کے بعد 

مث سیل نی علی دا رحمتتہ نے لِ کاب * انیس الجلیس“ 

ایک داقق اس رر در فر ملا ےک جب دوز خی دوزئٹش اور 
انت ئل ایی گے تا سک ایک حر ت کے بعد عقرت ج ری علی 
اللاخ نفداو ہکم مکی بارگاو یں ع رح يکریں گے ۔کہ خداون کر مم ام رای 
عابتا ےککہ۔ حخرت محجہمع لی صلی الله عليه وعلی آله وسلم _ے 
لا ا تکروں۔ عم ہوگاگہ۔ جاؤا ج رکیل علیہ السلامترخ شک رم گے بس فی 
انکور کے الیم ت سے جاؤں. عھ با کی ہو گا ۔کہ اما تفہ ےگ ران 
کی خعد مت می جاد۔ ج کا نکوزیادوم رفوب ہے۔ جج تل علیہ الام ع رض 
ری کے ۔دوکون سا لہ ہے۔ آو خد اتال ی رما گا۔ کہ ان کی مت ٹش 
سے ای ککنزگاردو زی بائی ہے ا ںکوالے جا جم پیل ان سے دریاق تکر لینا 
اق ما یں نے جانا۔ بی فرمان ک نکر ہت تل علیہ السلام دوزٹش 
جا یی کے۔ اودد ین گے ۔کہ بت سےلوکو ںکوعراب بوراہے۔کہ وہ گل 
ا یا عم سا سے یز برع میں کے نے ہون گے اور 
ان شس سے ایک شف بد گاج کا چچزہ اود اھ پاؤول سید نون گے ج تل 
علے۔ السلام اس سے پو یں گے ۔کہ فوکون ہے۔ او رس نی امت سے ے 
۴ وت تضوریٍ ورصلی الله عليه وعلی آله وسلم ک|نام تک مجول 
گیا ہو گا۔ کے گا۔ افسو س !یل آپنے یکا نام غنیس چاتا۔ اور جرے می ںگ رکر 


زارہ تطار رو ۓگا_ 


283 


اور ج تل علیہ السلام کے پاؤ کو بوسہ دےگا۔ اود کی گے 

بنروء دا اب یل عذراب برداش تکرن ےکا طافت یں ہے۔ خد اک داسط 
فداد نکر مم کے آکے ہی ری شفاعخم تکر. بج رکیل علیہ السلام فر نہیں گی مہ 
تواپنان کان نیس نجامان یہ امہ اتال ککیاعباد تک جاتھا۔ نود وک 
گا۔ کہم ایک ماہ کے دوے رھت تھے ۔ادرروزانہ جا نمازی بڑحج جے 
جب چ ربیل علیہ السلام فرائیی کے٠‏ رکہ تر بیاکا نام ائی اس مکرائی ” ع ر“ 
صلی اللہ عاليه وعلی آلہ وضنلم ے۔ہہب مبارک :ام کے گا ۔میرے مھ 
صلی الله عليه وعلی آلہ وسلم میرےامد میرے ‏ امیر ےق ا 
رط پت العلام فرمامیں گے کہ اپنے ایاگ کا نام .وا یی مل 
تھارۓ ‏ یکر ی) علیہ افل لص وڈ لی مکی اکا لن تمہارے یی 
کریں گے _ فور امرم صلی اللہ عليه وعلی آلہ وسلم فر این گے 
جج رت لکیا تہ لا یہہ ؟ فو و یل علیہ السلم ع۶ کرمیں گے ۔ک تہ ایا 
موجود ہے٠‏ کہ یں سے آپ خوش ہو جائہیی۔ گآ پک اجازت تی 
کروی 1 تی تل علیہ السلام عر کر یی کے سل ہآ پکاایک انی دوزخغ 
ہے۔اگ عم ہو نوا ںکونے آئوں۔ و شمخور امت گر “صلی الله 
علیة وعلی آلہ وسلم جللدی سے ا شی گے۔اودفرر انیل گے۔ کہ ج بتک 
می رااستی جنت نہ آجائۓ۔ ٹس جنت کے انز داشحل نہ ہو ںگا۔ ج تل علیہ 
الام جلدکی سے دوزخ می جا کے کہ اس شش سکو کر با گا موی 
میااللہ تھی شی لاکر حاض رکریں۔ روہ مخت ووزں ہی میس ےگا 

ا و الام رب العزت گی بارگاہ ‏ عر کر ےگا کک ا 
کہاں غاب بجوگیاارخاد ہوگا۔ وہ شض فلاں جل یس خداں برا کے خزدیک 
جار ہے اس شیل ہے۔ 


24 


7 و ھی وج تک نما یادوزغ مس دومقام ہے چنائہ جج تل علیہ 
الام جن کات مس چاکراے مقائ کور پائیں گے ۔ .اور وہای نے اس کو 
اون قوال وت ”لیا حغان یامنان 'کہہ رہ ہوگا۔ اور آگ ا سکو بج 
گی۔ رکیل علیہ السلام فرایں گے۔ تیرےآتا خ مق صلی اللہ 
عليہ وعلی آلہ وسلم جج ھکو لاہ سے ہیں۔ ہہ ضلتے عی وہ نس مارے خوشی ے 
و لاضہ ہا ےگا۔اوز لیے ج کل علیہ السلام کے مات بل پڑے گا 
ادر ےگا کہ بر ہیل بج کو تضورپرتورصلی الله عليه وعلی آلە وسلم کے 
ہے ایدو سیا کے ساتھ جاتے ہو ئے شر تی ہے الف رض ہی تل علے 
السلام ا نکودوڈ سے کا کر جن تکی رف نے پیل گ۔ جن جنت کے 
تریب ہیں کے قوف عاعیاں اع فی علیہ سی وف ان کے لے 
تشریف فربابوں گے ۔ دو نین تضوراکرم صلی الله علیہ وعلی آلە وسلم 
کے دش ت مبار ککوو سذ سےگا۔س رکارددعالم صلی الله علیه وعلی آل 
وسلم ریا ہی ےکک سنوی وجردے لو راب میں لا را۔ لوم 
شرماتے ہوئے عرتن کر مےگا۔ کہ سے الیک وف کی نماز قصد أفوت 2 
گا نت کیاد سے پا زار سال دوڈ ناش رہ 

(ائیس الجلیسس ص ‏ نم ۱ اف ۲۳ امطدی دج ) 


قا دی نکرام۔ ہےر سول کرمح عش ور یکا نحات کے موب ہیں_ 





خفثرت کے راس میں 
قا رت کرام سے رو لکر مم صلی اوقد و لی آلہ وسل مکو جو دیکتا اوہ ور کے 
نیو رے متا ہو ۓاغیر ضہ 1ہ سکتا لاجر تکرتے ہو ۓےآپ مل ال 
علیہ وع آلہ وملم مع صعدبت یڑ کے رات میس ایک تہ ٹھرے۔ ام معپ رکا 
بھو ڑا تہ آپ صلی ال علیہ وی لہ دسلم کے لہ جانے کے بخد جب امک 
او دآیااود اس تے ع یل پھر گی کو ف رپ پیااوز تما مر تن دودح سے کھر ات 1 
پا ذاپنی ام مد سے ھک ہکو نے تھے تو ہکتی ے۔ : 
ای کہ 1× 
بی نے ناس دیکھا نر سکا من زعال خی ررش 9 
لاق از تھے آھنوں می ںگبری بھی تی یں گی یں کروی تی 
گمرکرخت نہ قیآکھی ںی بچیں ہے ۓورورے مور آگوں کے 
سای ای ت چو یں نہ ایک دوسرے سے پا ایک تھیں تال گی ہو میں بیحہ 
درمیان میس گے کے ال تھے لوربھمو ول ک ےکمنارےبارکیک تال خمایت سیاہ تھ- 
رولف ڈان ورلزیی تید گ٠‏ و تی ما موشی ہو جات وجار خرمایں ۶ تی 0ات 
معلوم ہوج تھاکہ اس یکوازگردوڈی پر چھاکئی سے کو ای تھی جیے زان سے 
موی کی لڑی سکس ولہ کیپ یکر ہو کلام شی میں لو وع تل ہک مگو تا 
بات دور سے سفواس یآواز سب نے یدبا گر خوش ینک محسوس ہوتی. اور 
خر یت بہت خر میں اوراطیف معلوم ہوتی گ٦دیادقشدابار0ک‏ ٹا 
نظ رآ لورنہانقا ہس تک کوک نواس ے بلح تی طرف موجہ وو اپنے ساتیوں 
میں و ہب ے زیادہ خوش منظرتھ اور سب ے زیادہ ڈرو ختزات رکتا ید اکے 
رفقاء ا ےگھیرے رج تھے ا عبات عدی تج سے سلتالور اک عم یر دوڑیڑت 
تے۔وہمخدوم تھا حلوف نانہ شی روقا در درخ تکام۔ 


7 





286 


صولاۓ کا نات رہ وی 
شق رسول 


)زا نامہطد ےھ 
"ان ککبدا ای ا ںکوہی نک میں کا زضویط) 
تا ارم در کک کے ہرواد کیا 

ایک کاب للد گے ار سو یکریم مل نے علی مر نی ر ضی اوہ ع کو 
اکر فرمایا آیر”بسم اللہ الرحمن الر حم“ کلت ےکہاہم‌یسم الله کے 
اضالالفاظا/ ۲ن الر تی مک نیس جانۓ آ پگھوایۓ ” باسمك اللھم ”'اے 
اش تیرے نام سے شروں" ےی وا رآ نے معضرت ت ظا زی 
ال ع کو فم ماک کے“ ”هذا ما صالح عليه محمد رسول اللہ" مم ددے مکنا 
بر مھ رسو لال (س اڈ علے و علی لہ و لم )نے اپ ہیں پنیا تار 
مگو ایا دی کہ آپ اللہ کے رسول میں ق چرم آپ سے جن ککیو ںکرتے 
اور آ پک وکعب ہکا عاضلر کی سےکیوں دوک آپ اا اور اۓ پاپ کانام 
کو ے٠‏ “آپ نے فرایااے عی(ر شی اللہ عفر سوا کاننامارے_' 
نون نے عر شک 'والله مامحوك ابدا “دا ا ںکوکبھی بھی نہیں مڑا 
۴ ال رول ال الد علیہ دی آلہ و سلم نے فرمایا بے درکھا تخفرت لی 
ر اللہ عضرنے دکھاات آپ نے اپن ہاتھ مبارک سے افظرسول الد ےکر 
مکی وف اک دو شش رن عبدا ا اراس م کون 
سا فرق ڑا سے میں مجر زسول اللہ بھی ہوں اور شر بن عمبدایربھی۔ صلی ال 
علیہ و یی آلہ و لم نا زی نکرام۔ دیکھا موا لی ر ضی اللہ حنہکا شی رسوی۔ 
کی ےکیسے عاشتی اتی ہیں۔ : 





تی 


رظ اور چاد لاہ 
رس لکرم لگ کے نس ماق رسپ جاددکاثذ ہواتھا - 


۱ آب لگ کو کور( چاووزدہ )کنا ناکفر ے 


تا ری کرام 1رس لکائ گی لد سے ارد نے کے درد کایوے 
زور شور ے با گیا جاجاے- ا کی فزولیات شی تضادات میں اور ا کے 
الفاط سے ر سو لک رم ماق علیہ و۶ بی لہ وسل مکی شان اف ہک ں می ںکمتا اور 
و ی کیہ آتی سے لہ ق ان ع مک یک آیا تک نی ہولی٤ے۔‏ 
(+)۔ رسو لکریم اللہ علیہ وع ہلہہ سلم نے فریاکہ ایک زا ہآ ےگا 
جب ت ای عدئیں سنو کے جو تمہارے پاپ دادانے تہ کا ہدل تما نک 
رات او بر یکنا اکر موافی ہوں فوقو لک لیفاورقہ یں اس سے یرک ہول 
کاو مت یو زاؤز ور پٹ ہیوں ن ےھکر بخنار یش ریف می للا 
ری نے لوگ ق رن یم پر ٹیٹی سے بقیقو لک کے انا حند یش نکررہے 
ہیں۔اسے اس رائلیا تککتے ہیں- 


کیا یا الد تالیٰ کے انمیا کرام پر جادوا کر سے 


نیں وو ےس می سے ممگممالہی مجخزوصادر ہو۲ ہے جو خی رتا سے 
نہیں ب سا لکل ابی بنا پ انی ہکرام جادد سے متائر یں ہوتے بک خی رمیا 
ہوتے ہیں یی فضیل تکااتیاز ہے نیا اور خی ری ں۔ 
امیا ارکرام ال تال کے مقرب لوگ میں اور مجزات ان کی خان+و لی 


تو7 : 
نت چادغیطال گیل ہےاوزیہ مق زءکامقالہ خچی ںکر کل 


28 


مججزہجاددپ خالب آجا نا ےکیوککہ بجی اصول قررت ے_ 

صحخرت مدکی علیہ السلام پر ف عون کے جادگروں تے ( وت ہو ہے ) 
چادو چلایاگر چادوےاڑھ کیا۔ 

مک علیہ السلام نے جب اللہ تا کی نتانیاں بن کی تفر عون نے 
انی ور انی لا ظنك یموسی مسحورا (۱۰۔ے١)‏ 

وانی لا ظنك یفرعون مثبورا (١۱۰۔ےا)‏ 
اللدتالی فان جھ می رے ئیکو کور(چادو زد کے )وہ قرب 
ضرورجلاک پہوتےوالاے-_ 

قوم صارغ۔قرم شیب قوم صسی عم السلام سےکفارنۓ انی اد 
ز دہ نکوں)کا۔_ 

رسو لکریم جن اور اٹیس 2 مقال ہک دامتان:۔(ظیرریں 
البیان پر8 قال ملا )۲٢۱‏ ٹ شکھھداے تضور عل نے فیا 
اس تےای کب رکاشعل بےکرر سے نی دباان نے خن 
باریڑھااعو ڈیا لہ مث "پھر مس ن ےکہااللہ تعا یک یکائل لھئے ہو 
یھ رکا کن دا یں زغنلئنخ لا نوارں 
کیااک رحفرت سلہمان علیہ السلا مکیادعاض ہو یق اے پا تدم دا 
کین طیبہ کے بچھوٹے چھونے ہیاس ےکیلت۔ 

یبودلوکینے بت دفعہ عضو حر جاد وکیا گرا نکی تا مکوششیں 
رایگا گیل اور مجر رسول مک رھ ائر تہ وا۔ہ بات بیہود کے 
کا من نے(لقول روایت) لبید بن اعص مکی 





انم ہکرام چ کہ موم اور تحفوط ہوتے ہیں ۔اگک انب جار دکیا گا 
جا نان بر جادواثر تی سکرتا۔ می غبوتکاا تما ے۔ 

مار ےآ نر یو کے اکاب رن نے ہار بار جادو کے جس شس 
مردوں کے اھ ساتھ انی خورتں نے بد ا کر لاگ 
ان نک پیر 7 شی رایاں نی ْور چادو نے اشر کیا یایو 2 
اکرم کے موم و تقو تھے 

اس :تاپم کور وزوابت ذاقعالی شہاد تل کامنابرردبو جات سے 207 


جادو کے اثرات کے حوالے سے 0 
ےا ا اسان یلم 21 


نی کو سو رکہناکقارو خی ن کاو طیردے۔ 
زی و ا و خی ین 2 
منصب نوت کے فرالی می انقطامپد ا۷ جا ۓگا- ۱ 
نی کامشح فی ل(نتوۂ ہاش ہو جا ۓگاکیدنکروہ پا م ینہ بپچاک گا 
چادو اث جن بر ہوجا ہے جک ےک حرف ج ‏ مکی عحد تک محدود 
ہوتاہ دہ مع۰ دا بات کر ضا 

بض مفس رین ان کہا ہکفاد نے پک و کوراور فقیرے مامت 
دک یک جیے مور نہوت و رسمال ت کال نیس ایی دا آپ اور گے 
ا تیر فیس ہو جا کہ وداپنے امور محاشی کو ام و ایا 
ایی آپ(ماذاش)ای لے ا نکامطالبہ تھاکہ آپ کے سات ھکوئی 
وبڈ وگرفاعھے اید یو او 
کر چادو سے فرالحضس تبوت منخفئع وغیرو سے جا سکت ہوں تذ پچ رکفار 


7 


200 


لگ وق وق ے نیکم چب جو دکرتے رج در آپ 2 
مت نکو ہل کر دتے(معاوالہ) جگوں یاکیاضردرت گی 
عصمے انی لہ 
رعو لکرمم پل کے جس ماق رس 
او رقاب انرک اوردما اق د کی حاظت 
ا اتتمالی لے شب ان کے افعال ہے اشرات سے ویر 


فرمانر سو لکریم چکگ 
عن ابن مسعود قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم ما 
منکم من احد الا وقد وکل بە قرینہ من الجن و قرینہ من الملانکة 
قالو !واياك یا رسول اللقال وایای ولکن الله اعاننی علي فاسلم 
ردایت ہے ححخرت ابی مسعورے فرماتے یں کہ فرایاسی نے 
تم می اییاکوئی نویل جن پر ایک سا ھ جن اور ایک سا تھی فرش مقررتہ ہو 
لکوں نے ہہ چھیار سو لال آپ پر بھی فربایا جھ پیر بھی لین الہ تناٹی نے 
اسے بجھ پر غلبہ والا کی ںکیاادردہ سی جابعدا ہ وگیاے_ 
نی ا عد یٹاک مل قائل لج افظطاسم ہے۔ جی کا خطلب ے 
فرماں بردار ہون۔اسلام قو يکرنا۔ قاضتی عیاش بن مو سی مکی اندلمی 
اپ اکتاب النفاء فرماتے ہیں جح کا تش ری علما ےکرام ئے لف ظ اسلم 
کو استسلم یش لاہ جس کامطلب ہے تابعدار ہونا۔ گی ہونا۔ فریاں پردار 
تر -(116 006 5591۷۵ 51مانں5 ٤7 ۷٥‏ بالئل ۱ 
کے اور ین تل کے مطابق ہے(ال رض ۸۸م) 


چپ 


261 


چک شیاطی نکی خحصلت ہی ص کی اور نا فربائی سے اس لئ ان سک 
ملارشغ س تال کوں< 
دوص رکا بات ے ےکہ خیطال نکا کام ے جعالٰ اور ذ ای ایا کپانا 
جب اس جح ینگ رو سے اس محاے مل بج کرس فو چگہ یہاں س رکاردد 
عالم لے سے ند تکی بات ہورتی سے فذا کا حابعدار ہوتا۔ مع ہونا۔ فرماں 
بردار ہونای نات ۶ زولٴرے۔ 
ولکن الله اعاننی عليه فاسلم. اعاننی عليه بمعنی لم یسلطه 
علی۔ من خلہردینا۔ اخقیارد یناد بقل جنات لاجر ۴۸۵) 
مک کک تقنالی نے سے مھ خل: وال قا لی نی ںکیااوددہ اور 
فرمانبرداراور جا ہوگیاے۔ 
فان نی پچ 
کوئی آوبی ایا یں سے پیدرکش کے وفت خیطان جو جا نہ ہو وہہ 
شطان کے نے سے دیا پا ہے سولع رپوا ن کے فرذ ند کے (ار یلم 
۷ آدم و جواکوشیطان مم نکر کاکی دک ہآ دی زادہ یں 
معمی اور مرم مکوپید نشی کے وقت شیطان نے ہے جک تک یم ال نکیا 
اٹگی تیاب می نکی جو رب نے ان کے اور شیطان کے در میان پ اکر دیا 
تھا۔ انس عد یک حائد قر رآ نیا کا ںآ ے۔قالت انی 
اعیذ ھا بك و ذریٹھا من الشیطان الرحیم 
"یہ ا کے پا ھت میں نے مات 
سے )بلہ آب تک پداہوتے جی محبدوریزہ ہو گے اس خۓ آپ 


9 اچ یی یں( مکری) 


امت مل کااجما( عقیرہ) 
.شید الفضل عیاش بن موسی احی رح تہ انل علی ہکتاب الشذاء 
کر طررہںن 


واعلم ان الامہ مجمعہ علی عصمة النبی صلی الله عليه 
وسلم من الشیطان و کفایة منہ لا فی جسمہ بانواع الاذی ولا علی 
خاطرہ بالوساوس۔ 
چھٹی ص دن جج ری 1 

یہ بات چچھٹی دک بجر کی می نے پاکئی گیاا ودنا مور عال دین قاضی 
ا تحت ال علیۂ نے ا کاب یذ ہکیاہے۔ اس کا تق رج بہت 
ضر ودیی ہے ج کہ اشت ادوس طلاحظہ ۔(ا مج اورقروزاللفات) 
وت طات ۔( ٤‏ ؟٠۲۴۱۷٤۴ع0)‏ ہے 
(71010ع۸۱۲)م۶۳ لیف دو رگن ۔ بچاہ (۶5۴۷۶۱۷7۱010): 
راعت(۶5868685۷۵71010)ر۔ 
الال ر:۔ خالی۔دل۔ ففیں۔ جیعت(النچد ص۴۸۳ )گر سوج خور(الظء) 
ایند من کے شرسے پچاوہتا دوس رک سے ہے از ہو یا (ا ہز ے۸۸) 
ہت 

بات شش ش دہ ےکہ امت مل کال بات پر انقای ےک 
رسول کر یچک ضسماقس ول دل رای ' سرق 'نوال * طجیے خیطان 
سے پیشہ بییشہ کے لے تقو ظط ہیں اور شیطالٰی جحکنڑے آپ پل ب بھی بھی 
اثرانداز نہیں ہو سک_ 
رج 

معلوم ہواکہ رسو لکرم جنگ اپ منص بک بدوات شیطان کے تام 
کیارنامول کے !ٹر ات سے فو ظط ہیں خیطان کے کارنامول مل م رفہرست چاو * 












ہے جس 

فک خیطان مک و و س٘ 
گیا ہدوت 2 کہ نخیطان کے بی وکا کرت میں زرل : 
ین امیا ہکرام اور تحصوصآ سید الایار سو لکر ماپ شیطان کے شر 
بے متا نی ہوتے۔ی عق کامیلل ےآ اک ر:۔ (معاذائر) شوہ 





لام وت مل راج کہ غخلاف تانون فط رت _ 
اولیاۓگرام۔ م۳“ حضرت دا ماگ بش رح القد علیہ اور خواچہ 
الا ن* ن ہار مت اللر ا بھی جادہ کروں کے وارگۓ۔چادو جب ہوا 
اڑے وانٰ< ایر پارکرقرات کے ة 
لاڈالا ا نت 92 
تا رین کرام جادوکروں کا جاد و مل کرم ص الله علی کر 0 
ئاذیاء کا 2ن پنجلد م ععلی لوک رسول رم ض : 

وس ہے جم اف کے اعضاہ تک ہپ ہلوت ارات کے پا 


ار جا وت 
ون ہا جادوا الے 

جار کاٹ عضرت زاجا مغ کش دورخواج خیب نواڈکی 2 
ویج یت 

ج7 رسو لکرمم یچ کا وین تو اکر ےمم یا “ا ڑکا کا 
واقے) رلک کی دای وا مس یر پتاہ درود 
شر وپ تاہوا گی س ےگ جاۓ اد ےکو یمن پور 
دوس اتاج خبیٹ' یی کے جاۓے۔ 

* رہ مسر جا لک ا 7 

جا پ دو “وی٢‏ الے.ہکےاڑ 2077 









284 


تر اود مر ےک بات وج فرماںہیں 
نے مخ رین ہقاف ان سذ و ںکانزول ا گ یلیھت ہیں اور ا 
کے دو زان چادووالا واراں سے مادتۓے یں ت بقول ان ا 
چو کل کے بعد ہواشیشرو ےھ ہژیلں۔ 
دکھھی ںکتانتنادے ان مفس رین کے فینوں یکسا ایاے اسال پیل 
نازگی و نے دای سور خی لاگ وک ر ہے ہیں اس داقعہ پر جو دوسرے شر 
میں ہوا۔ 
قا رین کرام :۔ 
ند وک کاب رسو لکریم جکا سم اطبراذر چادوکا اٹ بڑھیں_ ینہ 
نے الین سوالات کے ہیں جن یں سب سے انم دای نے ہج ےکےے لی 
چاروں ئل والی سور تی ںی تل ؟ 


پراموت چچادوں نل والی سور تی کی ہیں اور تصوما سور* انل اور 


الناں:۔ ان کا ملح بیبدد کے ا ںکھڑے کے واقعیر سے وٹزول 
کے صولہ برس بعد ہوا کوئی تعلق نہیں 

فربان رس لکر یم مل کے مطالق ہر الع یٹ گت رآلنپاگ ہپ گنا 
ضروری ہے کا تل رسو لکر یم یدک ذات اق سے ہو 
بجی ہد لی دا کی عدم موجودگی می کسی مق کے 
لئ تید یناعلیس تکی اکھاکاد مل ے۔ 


خی رکی نظ میں ر سو لکر یم صلی اللہ علیہ دع یآلہ و سلم 
امک نیا تکامقام 

سب سے اوہ سب سے کھلا۔ اعم الیاکین کا بھی ہوا حا کا نات 
رط سی ار علیہ و علی آلہ وسلم کی ذات افقدس اغیمرو ں کی 
نظ می “ٹپ یکررہاہوں۔ اپنے وشان محبو بکواجاگ لکرزتے بی ہیں- 
گر حائی دہ ہوئی سے جے خی بھی ائیں۔ خی رمسلم مو رین جک 
تحص بکالہاد واوڑج کر اسلام کے متعاق خلط ساط خیالا تکااظما رک تے 
رتچ ہیں۔انسوں نے بھی ماناک ا سکا تیات میس سب تۓ قد الا اور 
اع ری حخصیت جو سے وہ ہی 9 می الد علیہ و لی لہ وس مکی 
شخصیت ے۔ 

ایک انگ ریز جس کا ەم ا تل اگ رٹ (۶1۵۳۱ ۶۱۰ )۱۸1٥۸٥2۱‏ 
سے اک نے ای ک کاب گھھی سے جس میں ان لیک صدرانمائوں کا 
زکرے جنموں نے انمائی جار کو حتاثکیا۔ اس کتاب کا نام 

700 یھی جک اس مم ہدیا 
ےی یی ےت ا ا 
اللہ علی و گی لد دسم) چک ےی ولا غیرمسلم سے اس لے اہر 
سے ووصلوۃ وسلام می جاتا۔ ان کا انی جضرت ص ( ہںاەول 
010۴14 نییرے یمر رککھا ہے اور حضرت موی مواہویں نہر 
بی ککھھا سے اور پھر لٹ و بت این تےحضرت ع رکا تام بھی اکیاون 
ٹب برنظ رآ ےگا بے اک یم مورخ 'وانشو رکاآغاروخواہر اور 
د لال سے خر جنیر وشن ین جات مکزوماباْظ اور خالنے-_ 


اع ا امت دک کو کا جک دوب ساب داد ے۔ 


2 


سونےا ا۔ 
کفار تے کیا کا ا کفار کہ گوکہ دسا سے مظر بے ویرے 
کے اود اشن کے قاب انموں یر ے ھ۔ 
کہ ملپائوں ت گر ےکفار ےب کم تل ۔اثر تکادانتہارہ 
ممیاوں کے نا نے گا گوار یی ب ےک ہآپ صلی الہ علیہ دی لی آلہ 
مم ٹوا کے با کھڑے وس ےکلہ جب ان کا 
”اشن اہر کنل گا ق یبا ری ہل ہر کے مت لکردزیں کے نے 
و کان ان سے ایک کے مر کا ا لوا اش رکا 
ہو اہ جوددۂ ایک دو رسے کے پان نہ رکھتے ےک دہ ایک دوس 
رکرو ا وھ شا شال خف اپ نے ےبارد 
تا تھا کی کہ پل سمال بد رکا لی کے بعد جب الی من خلف نے 
پا لااو کی لوس مکوکھ اک مآ پک یکرں ئا 
(ا گے مع کے می )۸7 کے جوآب میس صلی ایل علی دی آلہوسلم 
نے فرمایا تھاکہ کی خم رن اتھ سے مت پو کے سی 
خاموش ہوگیلسرنگ فی پڈگیاادر بی دجہت کہ اعد جس بے سے نہ 
نار 


موچودودور کے ا وا نکی اگیا۔ 


لف تٹبراسلام ہے ٹی خلوس وای رکی جیتی پگ تقو 


تے۔ ڈاکرتی ڈب لیر انا کہ ےر ول یس ان علا مو کپیا 
جا رورکیاہ کہ دوایز ٹس خلوس خی تکی جال سو ہو سا 
ضب نشم پک جو ہوکہ طر حطر نک مختیں جی اوخ 


207 


وا مکی صعوائی یر داش ےکڑے 7 
نہ آے۔ اہیائۓ جن سکی خاطیوں کو رامعم کر لے اود ا کی اصلاب 
یئ ماس تھا 
تل بن لا ےلین فا سای ے1 بی بات کا اقراکرتے پر 
ار ا کل مو ا ۳ 
ا 
راعت بازاور جے مگ ار ”سمش 
کو شا ا یرت مر یو راستباز اور چً 
ریفارمر تھ_“ 


( مج زات الام کل 67) 
ٹر اسلا کا موربنی فو اس نکیل خد ایر حھت ے 
بدھ ف ہب کے ٹھیٹداۓ اعم جناب اتک لونک صاحب ”رت نو 
کا خمبور نی نوع انسان پر خداکی ایک رححت ے۔ لو گکتا دی 
اکر میگ رآ پکی اصلاحات سے تشم پ ھی کن شہیں.. ہم بد ھی 
لوگ حعخرت مر سے حب تکرتے اوران کا را مکرتے ہیں۔ مج زات 
اسلام۔گ-66) 
ا اخلاتی۔ جنان بلوکٹ داد تی پر شاذٹی اے ایل ایل لی کیل 
یا بھارجفرت مکی تقلیما تک طرعآپ کے اخلاق بھی ہے 
پان تے_۔“ : (جر ال رگ۰ن) 


٦ 


زضو کر کی زی سرائمل ہے جناب برا ان ہاراچہ 
نز سلگی اگ ”حعزات جر "٦‏ ایا ر کا م8 
نے_ حور صلی اللہ علی وی :و سلم نے مال کی اصلاح فرالی 
اورا ہے انی ان ککو خخشوں ے جک دیا۔ بی وج ہی کہ سارک دیا 
میس تم انعلامکافام مارک دو شع ہے۔ 

(رسالہایمان پچ لاہ ور جن 1936) 
ضلالت وگ رائی سے صصرف غاد تا یآوازدی ڈول عق ے 
جناب پرو فیس مار 'کوکی ینا مین دو مکواس فلاات کے خنرل 
سے مکی یی دوک سے پڑے تھے میس نکی مکی از ا آواز کے 
سرزنشن عر پیش غاد جر ا ےآ“ 

(ر الہ مولوید ہگ یر الادلی 1351ھ) 
دنا جن فرز ہچ رآ ۓ اع سب میس تفر اسلام 
سپ سن زیادہ متتاز زج: ز دکھت بین ۔ ٹیر آر تر ظ٢‏ 
موریڑ ا مو لن ایر علے ؛ یل لم بلاشبداسی مق 
زمانر مل اروا نع طبر ین سے کے وہ ضرف رر .7 
تحلیق دنا سے اس وقت کک جن صادتی سے صاوق اور میا سے 
محلس مدان سب سے متازر جب کے الک تے۔ 

و ٭ری1936) 
آپ روعالی پیٹ وا بھی تے اور ج حل و ران رت کا کلادج 
ک الو ا غرب ا ا 
ےل کات کنفریٹزی بھگتی کادمیان پڑا ہوا۔ بے 
جن کآپ نے دعرم سبیوکوں میں دو حاات پی اکر دئ کہ ایک بی سے 


تپ 


209 


کے و لوگ بج خ لکمانر اور چیف جن س بھی ت او رآتما کے سدھا رکا ۶ 
کا گھ کرت تھے آپ نے عور تک میا ہ گی عز تکوجچایااور اس 
کے موق مقمرر سے اس دکھ کر یاد نائیس شا اور ا نکا بر چا کیا 
اورامیب ور یب س بکوایک شچھائیس کیا ۔ “ 

(اخہارالامان 217 اتی 1933ء) 
تل ویارق رسول کی سرت دباع دک۷ردا۔ مر سروم 
مور زا ئی فک مھ می سکع ہیں ” حرت مد صلی اللہ علیہ وع یل 
و سلم کے اخلامین و صحداق تکا ىہ زبر دست وت ہ ےکہ النکان ہب 
سر کے پیل قب لکر نے والئے ان کے دو ی دوصت اور ا کی 
وع و کے سب ضمرود لن کے روڑ مہ کے عالا ےک ظط 
گا سے تی واتف ول گے ۔ ظاہر ےکم چھ لوک دوب و کو 
د کہ وفزیب دی ےکی غمرخ سے مکاد کاو خیا کی سےکام لیے ہیں تو 
ان کے الع اقوال عین جو مع دوصر ول کے سنا نے کے لے یمام 
می سک ماکرتے ہیں او رگ کی چم دیوا کی کے اندر لن کے اعالی می 
مموماپییشہ فرقی اک رجا ہے ۔اگمر صلی او علیہ وع یکلہ وسلم 1 
رر وغایت فریب اور دھوک سےکام لین ہو جات رہ کن نہ بھاکہ ان 
کے ووست وا ماب اوران و فر ہیر شتہ دارو ںکوجوان پر سب ل ا 
پیل یمان لا ےا نکی یاکاد گا عا دیکات تل جاتا۔“ 

( لات فآف ۶ ') 

رت و شمباعت کا مھومہ۔ جناب انی لین ول اپے مک رآف 
صلی الہ علیہ دع اک وسلم می کت ہیں ”مج ”اللہ علیہ دع یآ 
دم کی شخصیت رم و شجاعت دونوں کا جھوصہ ہے ۔ وہ ایل بر سول* 


ای نے 


میا۔ 


270 


تک اپنے جم وطنو ںکی نف تکامقابل ہکرت رے س تا 
ےک بای اعت کے مات لے ال کی ناش ات تر 
وسرے کس کے اھ ے اھ خود لی مجر کت ہہ 
خیہروں کے سا تج خفقت ت2 ان کے بے میادو سیا جدردگی۔ 
ح٠"‏ "ماب ور تھے رض 
خی ری کے ج امت ماد نے ہیں نین جحتی نکی جار م 
سا جا ےو کا سب بے س دای میں۔ بے شیک دص اللہ 
علیہ وع یآلہ وہل مکی خخصیت و 

زا آف موا لی ص) 
میس پھر اسلا مکی تلیما تکوسب سے بہت زجھتا ہوں۔ 
ناندع گی نے اپتے الیک مان مس جھ رسالہ ایمان تن 
ا ور936 4ئ شائح :وا 7 لیا ووروعاپیج وا تھے با میں ان 
کی قغبی و ا کیازدعای نے خی 
باد شا ہتکاایماجائخ پغام کم دیا ۔جیماکہ قڈہراسلام نے دا 
مورک بعشت تار نا کا ایک شججزدے ۔ روف ردرکھو تی 
کو رکپدرکی مبورومتروف بن پابہ شامرساۓے فراقی راے 
ا کات رق ویو یکا مین جے رب الادل 1356ء 
یس رسالن یداد گی ئے شاک عکیا میں حضرت ناسل مکی بتک 
ا نکی شخصیت اور النا کے کا نامہ ہائے ز دک کو تار جا کا ایک مز گتا 
ہرں۔ 
دنا کے انسافوکی بی سب سے زیادہ خی رک انان طاض 
مس کیستو لین ”فضرت جھ صلی ایل علیہ وک لآلہوسلم بے انقاصااب 
الراۓ تے۔ ای کیک الع وید عم نے ا نک دوک 


ط- 


271 


آقیا بکو خروب سے لونادیا ء یےکنناکہ حضرت مج ضلی ال علیہ 
وع یآلہ وسلم د کہ بازیا اد وگر تھے ہ میرے نزدیک یہ ازبااحقان قوِل 
ہے ۔کہ ایک من کیل نمی شھ مکنا کوئی شی نمی ںک اخطزتٹ 
مض ال عی وع آلہ و سلم نے کک عرب می دہ ا دا ےھ 
کو ہب کل اسلام جن یش ینودونساکیادونوں شال ہیں دا کر 
سک لی ال خی دی لی آلہ وسلم نے و ضئی اقو ام کی زعنوست 
اصلا کی اور بے انا سر کیااک اشنا ری وت نک 
کےکامول ‏ ےکیاجاسکتاہے قذ ‏ مکہیں گ ےک ححضرت مج صلی الد علیہ 
یر یلم دناکے متب ر کآدمیوں جس ما فوقیت رت ہیں۔ 
ات ارت شال گی ۔ و و ز وک 
اپ کاب ”اور اک چائین “ی سکیتت ہیں۔ "آپ صلی اللہ علیہ وی 
کت ا از ۔روژو کی 
ری یبا تے پ بھی لاس فاخرء نمی پت تھے (ج جیے لوک 
ما کیل ےکرتے یں لور فا کی ساد ۳۷ٗف00 
آپ جچ دل سے ای تق راقیازا تکولا پر وا یکی نظ سے درکتے جے_ 
اما ات آپ پ انصاف پندتے۔ 
آپ دوستوں ای نی رتا و ربا * طا ارول مکزروروں 


ہس دک لور نے ۔عام لو کفآ پکو محیوب رھت تھے۔اس مل ےک 
اپ انا سے نما تی ربالی سے یڑ یآتے۔ا نکی مطقلا تکو ضنتے چے_ ٠‏ 


یت لات ےپ جس کو اخ کا انی ای 


ہے الا طاقت کے زان یپ کے الات اور دن صن میس دی سا ران 
7 ا تہ کر ما ا 


272 


شاانہ شیا و شوک تکوا فیا کرت ایک طرف رپ صلی ال علیہ وع آلہ وم 

رک او تک کا کی و حا 
کا الما رکیاجاغ۔ 

مو کو 

٣0٦ع‎ 0 

۸ 5۸۸۷۲۱۱۷۴ 0۴ ۲۲2 ۱۸۰۶۲۱۸۶۵۷۴۸۷٢۱۸ 

۶۴۱ ۸ ۷ 

1--۸۸۱۵۲۸۸۸۸۸۵۸۵  )۴٥.<۰ رس‎ 

80 )7 
1--008 
51-0۸۵۸۱۵۸۷ ۸۸۰۸۶۳۸۲۲۸۵ 


و ایس جس رز شی رآ ۓےان سب میس و الام سب 
ے زیادہمتازدرجر رجھتیں۔ 
”حضرت مز صلی اللہ علیہ وع ی آلہ وسلم بلاشیہ اپ مقد س زمانہ شش 
ارواع طیبہ مل سے تھے و رف مخترر رعنمانہ ےب تلق دی 
تحت شاو انی نے نفلیس بش 
آۓے ووالن سپ سے گی متازر عبہ کے مالک تے۔ 
(اعقلزل فور ی۱۹۳۲ء) 


کا مو رکی بت مار کا ایک مجمزہ سے۔ بروفیسر رکھو تی ' 


سساتۓ فراقی ای اے لیچج را لہ کر آیاد بوجو رس کا مان تے رب الاەل 
۰۲ء یس رسالمہ تاد گی نے ا حجکیا_ 


93 ۔ 


شر ت2 


قارکی نگرام 
رسو لکز یم ملک می رت یہر بک والوں ن کئی الیے واتا کے 
ہیں قرن یم می نکر آپ کے لوصاف حیدۂ کے غلاف ہو ںکوہاکنہ ایک 
کے حح ام ان امانیو کو بیز تکیاکتاوں یس ہہ دے دک یگئی جس نے 
کی تائسی۔ صفات دکمالاتاور جمالات یش متنفی شک کی ہے جب ایی 
وچ ا ا رت 
ےی ۔ منعرر جہ ڈیل وا قفا کوٹ جئ ۔اوراصل جقیق ت کاپ بل جات ےگاسیادر رے 
ہیکوئی مک ککا مل نی بعہ مرف اورصرف جر بی حت ہے۔ 
سید مد پچ ز شی اللہ خنماکی ع ربارک 
ےت سد:عا ئظہ رصن ا خونماکی عرمبارک 
رو لک یپ کی رضاعت 
جنگ اعد(داخت مہارک شمیر ہوج) 
شب ماع( پپانس نمازوں مس تخیف) 
شن صد کی رولات 
شحبالی طال بک یقت 
جنگ اعد نت ماقلست 
موزنیڈا لکا فیا 
رسولکر مم نشی ذدہ مہا ککایہودی کے پا لگر دی :و :نت :صال ) 
من دون الللدگی مجھ 


سہ) وا کوک وا وو 
کا 00ع .ا ا ار 


4کک 





اھ ھا 
۹ ۔حطرت عائیشہ رم اود نتمالی عخ مکی عر مہارک 
ححضرت عائکشہ ر خی اور حنھاحرت ال بر صصد لیر ضی ال تال یع ہکا 
ہد ساجزاد حیں۔۔ان سے آتضرت صلی الله علیہ وعلی آله وسلم کا 
گرم دیو ا ی۴2۰۸ زیت ا نکی شاو ی ے 
ا می عام ردایت بپ ےکر ححقرت مائٹ ہت 
دت پچھ سال اورر ےصق خرن کی تھی۔ اس بات کو ای سر 
عو پماناجا ا ےکا کی خی کی ضردزت می نہیں ھی اتی۔اس کے 
متعلق ہغاری میں بھی رویات ملق یں کن بح دیکر جا کن یکتاوں مم لی 
رولیات بھی موجود یں جن سے ا با کات دید ہو لی ہے اورااس کے ب نے 
مات ہو تا ےکہ شادگی کے دقت حرت مائکٹڈ کی عھراں ےکی زیادہ 
۶ی ہک وکلہ اس ذماقہ یں عرپوں کے ہا نکوئی ما کیانڈ نیس تھا من بجر ی 
پیل ال ححخرت عمرر می اد تال عضہ کے ڈمانے می راع *داتھا۔اور ا کی 
ابقدااگرت س ےک اگا۔ اکر چہججرتدد بی الاول کے مییے می ہوگی تھی۔ لین 
ین جج رب یکو رم سے شاک کے پورا سای لے لیا کیا۔ رت سے پچیلے کن کا 
تن ؟ تضرت صلی الله علیہ وعلی آلہ وسلم وت کے مال ےکیا 
جاتاے۔جب آپ صلی اللہ عليه وعلی آله وسلم کے چایسویں سال 
ٹس تھے ادر آپ نے اعطان نو تکیا ۔اکی کے بعد تروسمال آپ یہ 
وت رے۔ رر تکی میمرت کے وقت آپ لن عھرے 53 
سال پورے کر سے تے او 54 مال شر وھد 
رت اسمام بعت حضرت ال وک رضی الد لی عنہ زوجہ حطرت زہیر 











ادا 





5 








الام رت مائٹڈ ضرا وس 
عیدالہ بن زی کی فی کوا(ج لی کے: ای ککلڑی سے لا دک ی) 
کلڑی ےجا رکردف نکیاگیا۔ ال کے دس دن بعلدیاشیں دن بعد مم ایک صوسالی 
اتا لکیا۔اس وت 73ھ تھا۔ ان ببت سے لوگوں نے عدیٹ 
روای کل ے۔ 
(مال 0-20 ریہ کے مات شائ ہد لے ج س٤ص‏ بر2 جهے) 
جب تخت اما ءکی خم یوقت د زان (73ھ یں )سو سا لک تھا 
سے نظاہر ہ ےکہ ال نگ شمرججرت کے وقت ماس سال گی معااور چم 
حخرت عائٹان سے دس سال وٹ خی اس ل٤‏ حضرت عائٹکی عرسنزہ 
سال گی تھی ائن انقبار سے شادی کے وقت خخرت عائ ہکا عرقریب اش 
سا لکن ے۔ , 
حفرت اسمام نقرت مائکیٹڈ سے دس سال بڑگی میں انہوں نے ایک 
سدسال کی عمرٹ اخقا لکیا۔ اس رو بت 73ھ قائشن 
م0 خخرت سا کی ۶ر3 7ھ یی سوسا لی تی۔ 
00 ہر کات کی ع ر7 سالک ی00 3-1-بی 
(11) حفرت ما نان سے دی سال جھ وٹ تجیں_ : 
(۷) ضس ٤ے‏ ہجرت کے وقت عائٹ کی عھرمتز دسا لک گگی- 
(0۷) چچوکلہ عفر ت کی شارک 2د کی اس لے شادی کے 
وت ان گیا راس سا لک تھی نہ کہ9 سال گی۔ 
لہدانر یجات الا سے بے حخقیقت سان آنن کہ شادکی کے 
وثت نضرت عاتقہ کیا عمرننض رویات کے مطاق انش رس اور نل 
کے مطااق عتزہ بر کی تی۔ ہرعال نو برک ق ہرگ ز نہیں تید 


216 


خفزت: وا کی عھی' گی :یں حیت ربق ہن آپ 


فزی دیاکرثی تھیں او زآقابر می تارق ضا اپ نے موق ون 
وع ین اض ںاہ نت :ا زار: تطارت شع رذازب 'لوز 
اشاب ٹیش ٹمال ذ تھھیں۔ نا مو رشع ا کا١‏ الام ان کو زہالی یاد تھا 
نظرت مائیش صد اتہر تی الد سخ کی عمرلواقت عو زج ھی 


-1 


خی 


عام رولیات تچ ماق جن میں مریٹ بخارگی گا ا رواےت 
ی ضرت مائتہ صدریڈ کے رسو لکریم مل سے 
ہہاتھ بی سے وق حر ئن نی عھرچھ 
اورنوسمال میان کا گئی سے ۔گررسو لکر یم ج دی رت وتارن 
ار دک زوالات| کی معن زنھیی سے معلوم ہو سے ال 
ان کے وقت عطرت عائٹہ صدیقہ ان فی نان اھر 
047 سال سے را گی ٭نامور ہر وف نضرت 
امام این شجرانے ان رولیات کو تلیم ککرنے سے انکار کرتے 
ہر ہی لا ا ھن ا رض مس 
اس وت عخرت عائنڈ کی ۶ر19مال یان۔کی ے- 
تازعقق ومورخغ عم اانے بڑئی تق وطال کے 
بعدثایت کیا ےکلہ زی نے وا عضرت وائد سرپ 
کا م49 مال تھی۔ یم ساحب نے دوعلروں میس ایک 
کتاپ انان تین عرخرت عائفہ صدلقہ“ تھزیف کی 
سے جلراول 404 صفات اور دوسرکی جلد 192 صخات 


لن 


اوت و ےکوئی عقید کاخ یں_ صرف شننکبدے۔ 


. 
۱ 


۱ 


رسو لکرمم صلی اللہ علیہ وی آلہ وسلم سے عقدکے وقت 
لاس حضرت خر بت اکب رگ ر شی اللہ نالیم اک رم 

عام روایت کے مطالقی حخرت رسول صلی الله عليه وعلی 
آلہ ونام سے عظد کے وق عطرت سیدہ غدی کی مر چالیس سال 
ادر تضور صلی اللہ عليہ وعلی آلہ وسلم کی مر جیں سای مار 
ہے رفایت ء ددایبت و وفطرت 2 مطاقی امن میں ہوتیں۔ 
منررجہ ڈیل وحوبا ت کی بتاء پر علاءمگرام اورمور مین و شقن کو اس 
×6 ا رے ات 

7آحضرے صلی الله علیہ وعلی آله وسلم کاجب حظرت 
خدیہ سے ناج ہوا ا وقت آپصلی الله عليه وعلی آلە۔وسلم 
کی عر یں سال تھی۔ نشی مین بج ریز جوا کا عام تا آپ صلی 
الله غليه علی آله وسلم گیا دیاخت و امانت اور رک و 
ا ا و ات ھا 0ن 
انت تلق رک ۓ ار مماملات میس بھی آپ ماہر امو ر کے 
جات تھے۔اس سے محاشی عالت بھی انچ تی ا رت 
و اشزام اور عزت و وتار حاصل تھا لٹ حضور اق صلی الله عليه 
وعلی آله وسلم انال ء * اغلاتی * معاشی اورماگی اط سے تام کہ 
یس ایک متاز شخصیت تھ۔ پ رکیا وج ہولی کہ آپ صلی الله عليه 
وعلی ال ملع نے ایک لی سز معز عوزت سے اد کرک 
ول کرلا جھ بیو ٗ تی ال کے پل غاؤظر سے اک لی اور دومرے 
وہر سے ایک لڑاوز ایک لڑکی بھی تھی کر اس روای کو لیم 
کرلیاپاۓ ک مضورصلیٰ الله غَلی وعلی آل٭ؤسلم کے ایک پٹ 
تن کے مل و و ور سح 





مھا رر 





٠ "28‏ 
تخضورصلی الله عليه وعلی آلە وسلم پر زہان می ددا ز گر گی 
ال وقت ور صلی الله عليه وعلی آله وسلم کہ اپنے فیا یں بے 
تی یں نے آپ کی کو رش ات دا وز آپ صلی الله 
عليہ وعلی آله وسلم کو مور اپے سے پنددہ عالہ بڑکی ع رکا وہ 
عورت سے شادئی گرنا مرا 
تضورصلى اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی بثشت کک “ی پچدرہ 


رہ تچ سے مم ے تی و ہیں 


قام اود چار یٹیالں:ضترے زعپء رئے,ام لوم اور فالمہ پیداہ ونمیں- 


پشتکے بع جا بعبداففاہرد یپ دا ہے دفو کون ش یدن 


مفارشت دے گۓ اور بٹیاں ان بھ میں۔ اسلام لام اور شادیاں ہوکھیں۔ 
الس ما لک عم رگا عوارت نام مور عرب جی گرم لک مس چو یچ قرما 


”ین مال کے وققہ میں بشکل پید اکر تی ے۔گہدا ملوم ہو تا ےکہ ایس 


ردایت شی سید ود گی عھ ر کے متحل کیا وجے مفال ہن ککیاہے ۔آ پک 
عمراس دقت نی طور پر آ تفر تصلى الله عليه وعلی آله وسلم گ مم 
کے پراب یہ وکی می چو یں یں سال۔ 

1 اک فلط ٹچ یکو دو رکر نے سے مضورصلی الله عليه وعلی' آله 
وسلم ارس کے متلی دشماں اسلام کے الزرابات اور ش کوک و شبات کا بجی 


ازالہ ہو چاتاے۔ تخضورصلى الله علیہ وعلی آلہ وسلم گا ۶ت دہ قار می 


می اضافہ ہو تا ے اور محخرت سیدہ خد بی پر مھ یکوئی اعتراش وارد نہیں 
و تا۔امید سے لام و ملع اسلام اس اہم جار ہنی یقت پر کے ذزجن اور 
فقزت انما کی رو می فی ور و کک کر کے ے کوگی نم ہب با عقید ,کا مل 
نی بللہ صرف ایک جاریی داقن کی ش و تق نت 

جخرت عیدالل جن عباں کا ددایت کے مطابق نیا کے وق 


رت طدر وی مرا اسیا اود خ ریخا کی ہے 


حقت 


278 


او ان خورصلی الله عليه وعلی آله وسل مک ور 
عام مور خی نکی روایت کے مطاق اکر م صلی الله عليه وعلی 
آله وسل مکو آٹھ عور تل نے دودم پایا جن میس سب سے مکی آ پک والدہ 
حتز ‏ حفرت آمنہ لیر نال تالی صن یں .برا بواہ بک لوڈیاڈے 
ا2 ان تی یی وہ نت مطفراورام این کہ بھی یں۔ آ آپصلی الله 
عليه وعلی آله وسلم کودو سال تک دودھ پلانے والی خوش قصت حطرت 
علرہ دی" 5 کے ناو ندکانام حعارث بن عبدرالع زی تھا اش را فجمہ شی 
عام روا تھاکہ ان کے پال بیہ پیراہو جات بت نشوو فرااور اھ عادات داوار کے 
لئ باہ رح اق ماجول جس ھن دتے جاک خوش گور آپو ہوااؤرادهاولّ شض 
ۓے پرورش پاکر صحت مند اور فذاناہول ال لۓ آپ صلی الله عليه وعلی 
آله وسلم کودودھ پلاے کے نع بی سحد بن مع کی میک عورت نب کانام 
علیمہ بخت الاو ہب تھا مقر رکپااور آپ صلی الله عليه وعلی آله وسلم گا 
رضاگی مجن پھائیوں میں عبر اد ائیہ اور خما ما (خماحت ) جس کااصل نام ا شا 
تھا سب علیہ دا کے ہے تھے دوسالی کے بعد پیل علیہ ضورصلی الله 
علیہ وعلی آلہ وسل م کول ےرا نکی دلدہکے پا کہ میس می ںگگ ران وثوں 
کہ ل٠‏ از اوزدبا؟ پکی ڈوکی خی اس لے سید وآ دنہ دض الل تال علھانے 
دوبار آپ صلی اللہ عليہ وعلی آلہ وسل مکوالی علیہ کے سا تم واپیں گج 
دیااور زی دوعما لی تک آپ دا تارے ڈرجاا الک مر دای کہ اپ 
دوالدہماجدہ کے پا ںآ 
مویہ خال هن آتضرت صلی الله علیہ وعلی آله وسلم کو 
دومری عورؤوں کے دودت پلا نے اور علیمہ سععیہ کے پاش چاد سال تک تام 
کی روایت مللوک بلہ خاید معلوم ہو لی ہے۔ الد تال یکا اپنے نییوں کے سا تھ 








زاس تک ہو ہے اور ش نکو وہ نصب وت پر فائمرکر جاہے وو لوگوں ش 
حسب ونب کے لاطا سے بلند “صدداقت 'دیات 'آبات اوردگراخلاقی عالی۔ ٹم 
منتازمقام کے ہیں اورا نکی ذات سےکوگی اڑسی بات مفسوب تی ںکی جاعتی جو 
لوکو ںی نظروں مس تق راور رات سےگری ہوکی ہو ۔ نان اللہ تعالی ے نو 
کر ۹ مو یاظلی السلا مکوا نک والد+محتزرمہ نے ریا پہادیافر عون 
کے ں گرا تی نے مو کاپ واللدہ کے و یادوب ری 

تاد رک۸ دو نے ماد رک ور ےکاد دی ے 
موہتے۔ الله علیہ وعلی آلہ وسلم!ٹی دالدہ مز ے 





ات عو جب و 


ال فرما نکی بھی تا ئل ہگ کہ ای اپنے مو نک دوسا ددع پلاگیں 
چان تخورصلی الله عليه وعلی آله وسلم نے تھی دسا کک اپ ادالدہ 
ماجدکادددھ پاپ ردای تہ آپ صلی الله عليه وعلی آله وسلمنے دہ 
سای کک لونڈرلو نکادودھ پیا ال فلط ے۔آپ صلی الله عليه وعلی آله 
وسل مک دالدہ کے دود ھک وکیا ہ گیا تھاکہ ال نے اپنے اکلوتے بی ےکوا نے سینے چ 
سے جداکر کے علیہ کے سپ ردکردیا۔ جطزت موس کی دا ےوعد اگ 
ات قزا ہوگئی میں نکیا سید آمند ریالڈد لی مم اکواپنے ہچ ےل 
عبت نایا نکی ماتاکزد رت کی ا کی اتاپ نومواور بے ادوے 
انی نک رسکی یہ خزافت فطرنت اور نا کن بات ان زور زور 
ر شی اللہ تال ی عکھا جش نکاماوند بے بی قوت ہو کا ہاور ا نکااور ب 71 
نہ ہوزیہتقصور بھی خی کیا جال کہا نہوں نے اہ فومولدد لٹ جک رکو او 
رت کر ا ا کسر نے بن شابذاض ایس اسر 


اورے بیارے۔ 





کر وس زہنے میں بیو ںک نمی فضائیں پل ے تیادستور تھا ق اس با کا 
کوئی وت تی ںکہ ہنی پاش بای ال قرلیش سک ےکو نکون سے اکا ہک سکس 
تیلے مس بے خورنیاکرم پلک نے اہب فرزجرکس قیلہ مس نے کے لیے کے 
تھے آخ ری ہکم رم ہکی پپلڑئی فابی کیا خزالی عیب بھی افساضہ ےک قیلہ 
عواز نکی پان سے کے لے تھا جا تا تھاسوالی یہ ےک پچ دن سال 
کی ع رک فصااحت وبلاخت کےکس مر سے پر جات ہے پھر نیہ کچھ یک ہکلم 
کم کی ز پان فصاحت و بلاخت می سکم نہعھی۔ اور دم اکا ”تیج تی کلام ق رآ 
یم ری لکی زبان می نازل ہذا۔ اورککہ بی عربی شع راک کلا مکو رک ےکا 
م رکز تھا یں یقت بی ےک آپ صلی الله علیہ وعلی آلە و سلم ے 
انی والدہ نم کی آخوش حبت و شفتت میں ای کے وودھ یکر زین 
روش پاگی۔ اج دادا بدا مطلب پپچول و مو اور دی عز یذ داتقارب کے 
پیازد محبت سے یک لہ بھی الک نہ ہوے اور ای ٹل آپ صلی الله عليه 
وعلی آلہ و سلم کی تق مت اور شرف ے خورصلى الله عليه 
وعلی آلہ و سلم اق والدہ کے پیل اوت بے تھے اس لے سید آمنہ رش 
ال تی ”ھانے پیداکئش کے چند روزبعد اہ آپ سے جداک نا ہر رگ گور گیا 
ہوگاکی و ککنہاان کے مامتاائس جدائ یکو پرداشت گی ں کر عتی ھی 

کو تو وت کا ای و یی وی کے کے و ای 
تخورصلی اللہ علیہ وعلی آللہ و ساماپی شج رذن دگ کی عرش دہسال 
ای دالدہماجدہ کے پا قگھ مین رسے ہوں اور ای کے بعر دو سای کے نی 
صحر ایس لپ لی علیصہ سعد یہ کے پا گج د نے لئے ول جہا کک ہنو سع ‏ کیا بان 
کی فصاحت وبلاغت اور ص4جحراکے ماحول دخیرہ کا وی سے مر یں بھی 
آپصلى اللہ عليہ وعلی آلہ و سل مکومہت رین ماحول مم رتھااور فضصاحت 
وباخت کے لا سے ری شک بر کی زبا نس نس ےکم نہ تیلہذ ا خخضورصلی 
الله عليہ وعلی آلہ و سل مکی بورلش کے چخندروز بعد باہ ری کی روایت 


نم 








حا وا ور 
282 ۰ 

درا اور فطرت کے غلاف ے۔اور سب ے پٹ ھکر یک تضورصلی الله 
عليہ وعلی آلہ و سمماللہ تال کے تیم الشان نی تھے۔ہذااتی دالدماجدہ 
کے پاکیودودم مکی ہہجانۓلوڑلول وت پور پانے لن نکی ں آرا۔ 
کر تو یف مو کیا علیہ الام نے یں کے سای اورکادددھ نے سے نا کر دیا 
ھا خورصلی الله عليه وعلی آلە و سلماندں ۓ ای لونڑلو کارورد 
جہے پیا ھگا۔ ت لاب رد ار کے مطالعہ سے مہ ثابت کی ہو جاک 
الد ک ےکی جیانے پا کے بدا والدہ کے علاد ہیا دومر ےکادودھ پیاہو۔ 
ان مکی علیہ السلام پروالدہ کے علاووالث تعالیٰ نےردودھ 
2 و 
فا نی ے ۔وحرمنا علیہ المراضع من قبل۔۔۔۔۔۔(٣۱_‏ ۲۸ التھص) 
مربحھیہ او دم نے پل یسب دائیاں اس پر قرا مکردی گھیں۔ 
تٹ را۔ چنانچہ ٹس قد دانیاں عاضر ک گنی نیس ان می ےس کا چھاتی 
آپ نے نہ نہلی بچلرا نکی جن ف عون اور حضرت آسی ہک خوائش پ اپ 
والدءکو لال میں جب پگ دالد و میں اور آپ نے ایخ شبو اقآ پکوقرار 
آیا۔او رآپ نے١‏ اک ناکا مض دودھ مل لیا__ 
قار می نکرام۔ال نال نے با ایل کے نی رت موسی علیر السلام کو 
اناںرے علاد دو دا کا دودھ تہ یداہ ع مک دیا۔دہ نیا ہے 
تمناکرت کہ کاش دورہو لکر بح صلی الله عليه وعلی آلہ و سلمکااشیٰ 
ہو تا۔ بے اللہ تھالی کی کے ذکحرت ے مر صلی الله علیہ وعلی آلە 
وسلوے دررو تی 
کے نا ہے کہ اللد تال کاحبدوب۔ انیا ہکا بادشاواپتی ماں کے علادہغیر 
ور نو ںکادددھ پتیا گیا دودالدہماجرواہۓے تیر کے مکپڑے کو اپنے سے فو رأچرا 
کرد تق نکاس رجا ا کے ےکا وللادت سے پییلے عیاللد تھا کو پیاراہ گی 






23 


9290-9“ می اع نس کہانیال اور 


٠‏ اس رائیلات اپ کتابوں مس کل دی ہیں تنھیں زج بھی لوگ بڑے تنم ے 


نف 


ات ہیں اور تکلی فگوارا خی کرت ےک کیا عیب او دکو الد تی دوس ری 
دائوں پچ گھوڑ رگادلد 
۴ ے۔ والو الدت یرضعن اولادھن حولین کا ملین ٢٣٢٣۔٢‏ 
مہہ اد ای دود "میں اپنے و کو پورے دو برمس "اس کے لے جھ 
دود کی حر ت لو رگ یکر پجاۓے۔ 
0:2۵0 اتی ا تک سی محمد ےکیا اللہ تما یں ے کام) 
کر واۓ گا جوا تالی نے خوذاسں سے کر وایاہو؟ 
قار تینک راہ 
0 کت یرت ای مس ای ای داقات در ؿا ںک بک مت نار 
د صرغینا انیس ق ران اکپ یر کے کے ایر یکگرے۔ 
اوت چان جب شی نکی ای ےھر میال ےکی ال صورت سان 
لی سے جس سے یقرن تال ضر 
ت اط انت مار لت کی خبید تک چادەل 
اروام 
قار کی نکرام۔ 
اگ روگ جب نگ اعدکابیا کرت ہیں تو دو غخلطیا نکر جاتے ہیں:- 


١‏ یی می اس چیک میں مسلمائو ںيکوقکست سے ملاتے یں عالاگہ ایا 


یں ہے۔کقلست ذ کافرو نکوہہوئی جھی۔ دومیدران مو کر واپیں لے گے 
7ے ۔اکر فا ہوتے تعطاقہ یر قاینل رتے لان سپ ری بت 
کہ ےش زی ےکنا یھن ےن ما لوک می 
و" بت او مال حظیمت کے لے میدا نع ش 


24 


لے یئ پور جچیچے سے خالمد بین دلبیرنے جو مل ہکیا فو ا سے اکر یس بد ڑج 


کئی نے کس ت کا نام د ہے ہیں۔ بر سب چچجھ میدران نگ شی ہو تاای ر بتاے 


( سک یتیل خزدات میں دٹ یگئی ہے )اصمل بات آخ رک ہوک ےک میدان 
مس کے اترم ہو 
۲ دو ری - 

سے ٹی لکیہ ساٹ کے او پر کے دودانت اور پٹ کے دودام گر پڑے 


حر 
عا ام کر شہیر ہواتھا 
دندان مہا ر کک و بصورن 
()۔ ورارنع الفور حصہ اوی ص ٭٢٣۔‏ مات کے دان تکشادہ تھے 
الاستاع شفب عالاا۔(الف)۔ می سے کے داتِ روشن 7 )٣(‏ 
ححضر خی م لف کی عد یٹ مل لٹتایا۔ سان کے دانت رو شن فرمایاب )اب 
عیاس سان کے و نلدالن ہاۓ میا کک ککشادنگی سے فور نل را 
()۔مواہب رین نا مل ۲۸۳۔۸۳ ۲" دانت مبارک حخت مضبوطاو رکال تھے 
(۳)۔ عطقات این سعد اغن ۳۴۵۔ الس بن انف دانت اوز ایز تی ہوک 
(۳)۔ خعرائس ممشفف صلی الله عليه وعلی آلە و سلم ص۴۵)دنران 
مبارک کے فور سے دیواروں پردہ گن بچھا ای مگی۔(علامہ جو دات در ضموی) 
(۵)۔ شاہکار ربوبیت ملتی مج غایی قاودکی خی ۴۵۰۔٣۴٣‏ تسم سے دانت 


مبارک ظاہر ہوئے۔ 1 ٠‏ 
(ابن عباسں۔ قش عیائض۔امام بوصیرہی۔ معد می قارکی سیدہ عائشہ تار ائیم 
وری) : 


(٦)۔‏ سرت اع شا ان :اض بن کا ماس تکاوذاقت ا 
اضر ر۴ تم ید : 


ہک جم ستا تمہ 





(ے)۔ مقکووج ۸ ص۸۸ مم ق1۵ ے کرت رباعیتہ 0 
ا( آہ (ھ 
ک تل باععینۃ . دا انی کیچ ھکٹڑیکاایک دات ش لی کیک 7 
امہ دات شہیدتہ وواتھاہ(عقبہ بن ال قاع نے چھر ماداتھا) 
(فوٹ ۔کسرتالر تا ہواکازورٹو ٹگیا) : 
(۸) ۔ تفر مطظہ ریچ اص ۹ء ۳۔اگلادیاں خلا دا ت ٹو ٹگیا۔ حافظت ےہا 
اس سے مم رادوودانت ہے چو کان دانے اور پچ شی دالے رانوں کے ززغیان قل 


مس نس کو رگ 


عرلیز پان کے لو کن رکے معن سج میں مصنفین نے مل ی کی کس رکا 
مطلب ےک کان اوررست ہو گے ۔کافر کے پچھر سے اک ار دات جو قباہت٠‏ 
مرو ےا کا وبا کی وب ساوت کے مین و ہیں یک و 
ہے۔ ع رپا پان بین کسرت الریح کو جب اردو 7 رت 
ہیں ہواکیازورٹو گیا لفطا ٹوٹ مات لوگ عققید ٹو ۓے کے معن بیس لے 
لیت ہیں ۔اکی سے کسرت رباعیتہ کا “نی ہیک لیاکہ چاددانت(دواوی وانے ۔ 
اوردو پٹ والے )وٹ گے وی ابیانہ ہواھاگہ دای ےک ڑکاک 
دات ش لی کاککڑاٹوٹ ھا__ 
اکر ارات شید ہوۓ ہوں ف کچھ رو ہکہاں ہیں ؟ بای مارک تو جہاں جہاں 
موجورہوں س بکومعلوم ہے۔اس رح دائت مہا ر ککا یپ بناج کے ؟ 
قا تی ناکرام۔ جن لوگوں نے اردہ زبان مین سیر ڈ ای ملک کائیں 
یں رک بے ارد تج کرنے دق ا میس میا اور موزوں الفاط کے 
اورچو تج کیا سے پورے واق کا موم بل گیا -_ . 
(۔ ضرددی ‏ ےکہرسو لکرم کے جس مقر کے اعضاے مہارکہ 
(ج کہ سز ہیں )کی تفصیل ناتے دقت باعل تی جاے۔ 


26 


زوواحرل رع ہوکی شی کہ قلست 
ایک ڑے شب کاازالہ 
قا ری کرام ال خرزدہکو کے ٹین یڑے مڑے پد عیان علم شھ ھک کھا گے 
جیںا۔ 
غزدۂ ایر کے متحلقی مفس بین نے جان ہو جج ھکر الا ئی نار جک کیا 
ہے اور اس غرزوہ یس مضامافو کی تککھی ہے چیم مزد در کے وق ت کا خر 
لس تکھاکر الگ سنا لآنے کے لے جع نے جات ہیں ۔ ایک مال بعد تین 
رکا نکر منکر مرن ےکی حرف تڑھ دوڑتے یں آپ صلی الله عليه وعلی 
آلہ وسلم متقابے کے لئ صحلہ کرام ضسوان ال ول ”مین سے مور 
فرباتے ہیں۔ نف سکیا را نے مد بی ین رہکر دفا حکر نے کے متعلقی سے اوز 
پیضس شر سے باہ رق لکز مرا اعد فا عکر نت ےک رائۓ د نے ہیں۔ فیصلہ 
میدران اعدکای :تا ےآپ صلی الله عليه وعلی آله وسلم :تمیارہانر ہر 
ےتا ان اع عورف رو ہے ہیں ومن افوں 
کے مس ردار عمبر این ای جن و آدمیو لیکو اس بیانے سے والیں نے جاتے یں۔ 
کہ میران می لٹ ےکافیصلہ ددست نی باتی مات سوماہر ین یس سے چند کے 
دلوں بیس بے غدشہ پدرا و 7ا ےک بین ہار مار کے متقابے یس ہم صرف سمات 
سو رہ گے ہے۔ ال تا کی رف سےآیت نازل ہوکی ہے ”پست ہمت تہ ہواور 


عم نہکروتم می طالب ر ہو گے۔ اش کہ تم مون ہو “اور ال تھالی نے پا زار 


فرشتوں سے ید دک ن ےکاوعد :کی فرایاد میرا نل کچ 02 الله جے 
وعلی آلہ وسلم نے چائزہلیا تذ یش تک طرف پہاڑہش ا کگھاٰ تی جماں 
سے اط ہو سک وا عیدل ئن تی رر شی ال تھالیعن ہکاز ےکالن ای کا 
ایک دستہ وا مصتیان فریا۔ اور عم داکہ ” اے نال مت چھوڈ ا“ م کہ شر و 
ہوا کغار مارانوں کے پھ پور ت کی تاب نہ لاکرجھاگنے گے لڑکھاٹی بر مین 
تن میں سے عفن لوگ ال لیم ت اکٹھاکر نے کے لے کے ان تق سک 
اب بک ہکفا رولت ہو پچی سے تو مضورصلی الله عليه وعلی آلە وسلم کا 
تم باق نہد ہا رشن ولید نے (جواس وقت مساران نہ ہوۓے تھے )ا سگھاپ کو خالی 
کر عقب سے حم ہکر دیا۔ ملا گر اس ۔کفار کر پک مز مسران شمیر ہو 
گے اور بہت سے ز شی ہو ۓآ صلیٰ الله عليہ وعلیٰ آلہ وسلمٴ کے گی 
پر نے ےیک وانت سک اگ مسارانوں کو تضورصلی !اللہ عليه 
وعلی آلہ وسلم کے ظمپرکاررھھ شر جے پ اللہ تھالی ے ماف فربادیااور 
جو صلہدیاکہ ریا کرو می لیف کی ہے قذاس سے نل خزد ور ی شکفار 
کو ھی یبای زٹ ملک کا ہے۔ بر عال ملران لے او رکذار نے میران پچھو کر 
کل ہکارغ انقیا رکیا۔ دوسرے وع حور صلی اللہ عليه وعلی آلە وسلم نے 
کفا رکو پھر چالیااور بہت سامال نیمت ا تح آیا۔ انڈد تی نے میاہدی نکیا شش رر 
صرف ا کو موا فکر دیابدعہ بغیر نت کے مال غیمت عطافر مان کاو عد ہگھ کیا 
جودوسرے بی د نکغا رکا پچ اکرتے ہوۓ مسلمانوں کے پا جح آیا۔ اب با جے 
کفا رکودم داکر پچھاگے ار سے ہیں اور مسلمان ا کا اکر ہے ہیں لور جہارے 


286 
مور ین مسلرانو نکی لن ت لور ہے ہیں۔ چیہ نا سک وکیٹے ہی سک مل ہآور 
انا قصدپانے میدرانغ پہ ال کا قضہ ہو جائے۔ دش نکو قیری ہیا نے موی 
علاقہ یس ای عکومت قائ مک لے۔ ان میں سے ایک بھی شر طاپ دی نیس +وگی تو 
ملمانو ںکی لس تکیے ہ گنی ؟اسی طرح غزوہ تین میں سارنوںکاار :را رک۷ 
لشکر تھااو رکذ انز ہر ار۔ مسلرانو ںکواپ یکشزت تعداد یر رود :ہوا مریرالن ںش 
مھت ا یگھاٹیوں جیپ شید ہکفار کے تیر اندازوں یل الک تی مھ سانے شروع 
کے نو مسلرا نک راز گے گ گر تضور صلی الله عليه وعلی آله وسلم 
میران میس ڈٹے ہے اور انم صلی ہکو پکارا لوگ پھ رآئنٹے ہو گے او رکفا کو 
قی ہیاک ا نکا تام مال داسباب قیشے میں نے ایا ک ھن ہکفار اس مقابلہ ں اپنا 
تام مال واسباب مولیقی ور یں اور ے کھی سا جعد لاۓ تھے تضورصلی الله 
عليہ وعلی آلہ وسلم مدان می کیٹ اہ رین می مال خقیمت تیم فا سے 
ہیں۔ قید یو ںکیادہائی کے لئے دفو د کر ہے ہیں ۔ اور زی چٹراتے بات 
یں :اب اہ جن مفسربی نے مسلرانو کی لمت چکھی ہے انی ںک اکا 
7 : 
قا مین کرام۔ 

1یا ارت کک ایس راو ہے کات سے 
بیعہ الد تعالی نے اپنے عیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عم کے 

خلاف جانے والو ںکو ایک سیق دیا_ 

(۴) - فزوداحد یقن مسلمانو نکی رکا تل 












کے ہیں کہ ایک مہو دی کے پا آپ مگزرہمبا در کگردگا ٔ 
تار 21 نالدام : 

یا ایی رایت ہے جو یو ےا ایک ممازش کے ححت یرت" فُُ 

2 تر 0 جوکہ فی طور جن خاٗل قول ہے .در کیا ٠‏ 

ور کان 1 

کت کیا 









تد کا 


6ود شا 
: : صدائکاققب د اور یلب ا نک خوش اقفع 
و او وا ا و ا پک 
ایل رین اور تصوص] حضرت ابام حن اور ین ر شی ال تعالیٰ عنہ ۱ 
ان دی ےکی گذارش گاج بآپ نےاشھد ان محمد رسول الله کہا 
لوک ددھاڑی ما ما کر رو نے گے۔ 

0 مین ارام۔ 

مو رکریں لو کین کی بانیں نفس ڈنا رک کے نل ےکر تت ون 









و حست و 
ارہ اس تن 


کی وو سے 





بڑھامگیاد نے میں بھذز یب داستناں کے لے 

می رگا بج شی تبیہ بات نمی آل کہ حور تر موجو دات ص رو رکا نات 
علیہ ا الو والسلا مکی با تکرتے ہوۓ ' آپ صلی الله عليه وعلی آلە و 
سلم ارت مطبر :کان رم وی نٹ ق مکنٹ سیسے چھوڑ کا ے۔ 
جحضور رسو لک ریم علیہ الصلو؟ وا کی عشمتو ںکو نظاندا زکرن ےک شارت 
کیوگ رک ر سے تقو حجیب کبیا علیہ سیق ولا کے سام سےکمتزفقریا 
کوگی لفظ استعا لکرناآپ صلی الله علیہ وعلی آلله و سلم ےی ای 
کے لن ےکس رم جن ہے۔ ۲ نیکب سیر ت کے عطاللے نے میرکی این 
یش عزید اضاف کر دیا جج کک والے مقروخنظیم س رکار صلی اللہ عليه 
وعلی آلەو سلمکوٹٹ نظر کے فی تی با تکرر ہے ہیں بے جوازواقیا کا 
اضافہ تھی اکر ہے ہیں اورددص ےککھن وااو لے ہو ھ دک بات منانے کے شوتی 
می لن صورقوں ‏ اپکی اعاقت بھی پگاڑرے ہیں۔اس داد می لے کی 
اطر ےتیک ددرت سے یا دو رو تے 
آگے بد کے گے نلواور مہا کاسہارالنااتا بڑا جرم ہےکہ شابد ا کی 
ممائی میں شکل ب جائئے۔ یہاں بے اعقیاطط فقرہ بندکی اور مدور مصراقفع و 
دیان تک خلافورزگ یں اور پتریرہ یں ہو گت 

قا رین محتزم شحب ال طااب کے جوانے سے قا ا کاندازمکریں۔ 
چند فلکارو ںکی بے ایا تلم نار کے چندغھونے ایک کہ دکھ لیں: 
مناظر اض ن یلا کون :او فرب سب جات میں کہ کھا نان کیا اگیا الد 
کیاگیا۔ز نکی کے تقام ذرال رو کے گے۔ ایک اہنس کپورے تن سای کک 


' 


800۷ ٭٭ و ای 
۱ : 90ھ 0 

لی طاا بای ٹس ای رر ر نے پر مجبو رکیایاد.....۔وبی فطرت رجیم و 
رنہ جانا ن آانمان تی جاور کے کے رک بھی د کچھ رک جڈپ جانا یں کے 
لئ زین شک کی یکڑ یکھڈ نف یکہ مھ نے چے اس لے ببلاتے تھےکہ ان 
گی ما سک بماتوں یں دودھ نیس ہے آ دن دس درس دن ان کے من 
یں و کوئ ی پیل بھی نیس کپئی ہے۔ کیا خت وقت ےک کات ہے 
شرابور ینگ پچنز ےگو دع کر ون بھو نکر ا نک کھانابڑا شی کے واضوی تے 
شاید سکھاکوشت بھی نیس چیاتھا۔ جو پت شاید ریاں بھی شوق سے تہ کھاقیل 
'ان یرہفتوں بر سے 

یم دب یکو پڑھے:۔ اس ددر مش جو احوا لکزرے ہیں ا نکوپ ھکر 
چھر بھی پل گلا ہے۔ در خوں کے پنے گل جات رہے اور سو کے چجڑے اہی 
ابا لکراو ‏ آگ پ رون بھو نک رکھاۓ جاتے ر ہے۔ ڈاکر مھ تیر اید ےککھوا 
”تن مل تک دوفت ددیک ہلوگ جھی بڑک بویاں بلک پانے پچڑے کے 
گگلڑوں کواہال ا رکھانے پہ مور ہو ےل 
الب شھ یکوسیے مش کی کہ نے شحب ال طال بکافورامحاصر ءکرلیاوراں 
ات تا بر یک ہکھانے پی ےک کوک نز تحصوری نکونہ کے دینے تھے۔باہرے 
اک رکوئی سوداگر فلہ فروش تکر نے کے لے لا تافذاس سے ایک ایک دانہ خی دکر قابو 
سکر لیے تاکہ اسے محصو رین نہ خر ید یں ا شمیوں کے ہے نب بھ وک سے 
بے جاب ہوکررونے تھ فمش کین ا کی داز من من کزخوش ہو تھے 
عورف لک پچھاتیوں شس دودھ خنک ہ وی تھا۔ حصوربن کے مزہ می سک یکئی دن 
بای کگعحل بھی ا کرنہجای ہی 

از آفخح می ایک ور کڈ اکم لام ربا ۶ زی کو کے: 

جب رت ابو طالب نے قرلیش کے تودد جھے فو یی آنے والے 








2 ١ 

ول ان 7 دا 
مصائ بکااندازہلگلیا۔ چنانچ نو اش مکوسمیفالور پباڑ کے درے میل “نے شب ال 
طالب کے تے اور جو بی اش مکی گکیت تھا سکویت انقیار کری۔ ہے 
یراز اس معلوم ہوجا ہے کہ نل کان ے پل دہاں رپا کاکوئی یفرواست نہ 
کر لیا ہو گا کی وکۂ ان زمانے کے تد نکی روشنی بیس السی سسپولتوں کا تضور 
یر تک بات ہے اس لے فیا چپاہتا کہ اولا ”یو او رو نیڑیوں ٹں 
یچھپاا عم ہوگا۔ وت گر خاگیا ہو گااورجگے 2 مکاات ۓ پر یں 


و وا 0ں ٥‏ اک 
زار کبزا میں جوآب دے یں ۔ اٹٹھ نما ھ ےکڑل جوان ڈو ںکا 
ڈھاضا کن ا کیک دل چو یی ان محصمو ری نکی الد ادکردباکرتے تھے 
نکی لاکن گی تواجوسی طز کیاروایت بر نے سے رودارد 
تھے ۔کؤو نکہ مکنا کہ ال ع سے مم سکتے ہے نڈپ نی پکرھ نے ار اتکی 
مارکا مائں نے پیف پچی کر علیہ بگاڑ لیا۔ رت کی سے ئن شمہ زور جوان 

ببڑھ ہو غاد رسک بوڑھھ تل ازوقت مو تک یگھاٹیوں م سکم ہگ“ 

یقت یی گی 
اے ہی عبدہمنائی۔ یہگڑکا پسائجگی سے 

ىی بات ظاہرو باہر رہ ےکہ ہن اشم اورجن امطلب کے علاوومگہ کے تام 
اگ ”نشعب اپ طالب “سے باہرتھے۔ شخب سے باہ رکا مطلبیے قلت اڈ 
ےک شعب میس محصور محبوس 'مقید یا نظ بن اور پا گن لوگوں می او رکوئی 
نی تھا۔ متقعدیہ ہ ےکہ کذار ریش کے مال تکاشکار صرف :نو پاشم کے مان 
اکی مل جس تے فذ یہ بات غلط فی سک ہکفاد بھی ساتھ ھی ر بے تھے ۔ از لاد 
بقول اب احماقی تخوراکر صلی الله عليه وعلی آلەو سلم ےگ رے 
اندرازیت دباگر جاتھا۔ آپ صلی الله عليه وعلی آلہ و سلما لک کول 





23 
دروازے پپکڈڑنے ھکر صرف ا قد فریاتے ا ےکا بد مناف ا یکا 
ہمسائگی )ابو اہب بی تضور صلی الله علیہ وعلی آلە و سلمکا سان 
ر(۲)اور یہ نز تھائی ہف پاش می سے۔ بد شھتی سےا نے تی ہکاماتحدض دیاادر 
نار قرلیشی کے سما تم لکر ممقائلت کے عبدنامے میں ش رک ہول 
روضت الا جہا اٹل حر ماشہ صد سڈ سے منقول ےک تقور 
صلی اللہ عليہ وعلی آلہ و سلہم کے ارشادکرائی کے مطای ا اہب اور عقبہ 
بن الی مع دو ہد تر بن سا تھے حقد بن ال می کی یدگ ارد بت رپ 
ہں چو خوراکرم صلی الله عليه وعلی آللہ و سیل مکبھو ھی ام کیم بت 
عب درا مطا بک نی ہیں اور جحخرت عثان غ نکی والددہ ہون ےکی وجہ سے تضور 
صلی الله علیہ وعلی آله و سلمگی ”٣ن‏ بھی ہیں۔(۳)جو مسا ۓگھ رکے 
اندر بھی تضور صلی الله عليه وعلی آلە و لمکا تید تے تے'ان ٹل 
بی زی مرا فی بھی شال ہے ۔( )ان کے علادداد ول بن ہشام 'اسود من 
عبرلیفوٹ ولیہ بن مخیرہ لی خلف ھا بن داع مہ ئن لواچ انب بن: 
صی بن عا بر“ اس بن سیر بن الا “خصبہ جن لی می عم بن ال یلعا " 
اٹ“ ارت بن تی "امب “اتی بن الفاکیہ بن لم ور ین الیازٹ “ 
زع ال امی 'اسود بن رالاس ھا بن پا شھم او الا سد اہ سے سب فرش 
کے مسا تے_مضور صلی الله عليه وعلی لہ و سلم سے دخ یکول 
موتع اھ سے نہیں جانے دتے تھے ۔الہ تہکنابوں جیں یہ کور ےکہ جب پا 
کے ونوں میں کیا جر مت کے پار 'ہیٹوں کے ووران تضوراکرم صلی اللہ عليه 
وعلی آلە و سلمخىیاظ إ اٹم ٗکوگی اور فردسم ماع خُوروولو 0 ون اك 
جا ا ابد اہب اور پچجواوز لوگ سابان فروختکر نے والو ںکو تنک ےک مو !ٹم 
کوکوئی ینہ جو ۔اسی طر کے ونوں میں مضوراکرم صلی الله عليه وعلی 


204 


آلە و سلملگوں' کو اسلا کید وت دتتے تا اہب کیچ یبال کرجا پھر 
کہ ہن ہاشم کے مکان بھی شحب الا طااب ہی می تھے۔ تقو رابرم صلی 
اللہ عليہ وعلی آلہ و سلممادر سب ال قیلہ اپنےگروں ہی مل پاکاٹ ے 
ٹیل سے متائہ ہدے۔ جن سرت مگاروں ن ےگ کوچوں ٹس پ رن ےکی مات 
1 ش کا ماہدے مس اضاق کیا ' دہ بھی زور پیدراکرنے کے لے سے ورنہ 
ادا با فذات میں لین دن اور شادی وہ کے بارے می مقاط ىی پر شتل 
دنا ےکا کر ہے۔ ببرعالی 'ہمارے خزدیک تضور اکرم صلی الله علیہ 
وعلی آلەو سل مکانکلیف بنیاۓ گیا کی دار داقن مات ھی کے دوران ہو لی 
یراس خا لک تقو ت ال سے اٹ ہےکہ این بشام نے ”شوپ ال 
طااب ٹیس محمورکی “کے باب کے فو رآإعر ٦‏ غاد خریٹ اور ت رآن ا کے 
اب شی اہ اہب اور ا ایام کل ا می ین خلف ھا بن داع نین 
عارث ولیہ بن مر این بن ش ای ای بن طف بن وہب اور عقیہ بن ای 
گی مکوںی نشا ند کیا ہے اود ان کے بارے مس نازلی ہونے دالی آیات کا 
رکاہے۔ ا کے بعدکاباب”'عیشہ سے مسلمانو ںکی مراجحعت 'مکاہے اوراس 
کے بعد ”معاہرہ قرلیشیکی قلست“ کے تدکرے پہ شختل باب ہے۔ ا طرح 
این ہشام کے نزدیک ھی تضور صلی اللہ عليه وعلی آله و سلمآدازیت 
داد آپ صلی اللہ عليہ وعلی آله و سلم کے غلاف مازشی ںکرۓ٤‏ 
واقی ثحب لی طااب کے مقالت والے دورایے سے ملق ے۔ 

لاسی شحب می ححخرت عید اللہ بن ع با درا ہو ئۓ چو بی عپاس کے 
یداع ہیں۔اں دق کب پاشم بر لیف می تتےگررسول الل (صلی اللہ 
عليہ وعلی آلہ و سم) بے خوف تاہرادر ہو شیدودن اوررات كخاکام خدا 
کے عم سے انام دہے ربا تھے نکذار رو کے سے ڈرتے تھے اس لے کہ اب 


چم تغا کاو 





بی اشم ہر وت مسقید اور جع تھے اورحخرت ام رز آپ کے ساتھ تھ 'الہند 
پچیٹراور شارت واستوزاکرتے تھے۔ خصوصا”امیہ بن غاف 'اخنس بن خ لی * 
ضر بن رت “ اید اہب ' مبداللہبرن الی الفر جرکی ایا دغیر: ان سب کے 
متعلق قرآن پا کک نیل نازل وممیں اوران کے استبزاکا ناصوانہ جواب دا 
گی---..۔ ایک وقی مضور(صلى الله علیہ وعلی آلە و سلم طواف کررے 
تے۔ اسود بن المطلب بن اد “ول بین مغیرہ امہ بن خلف ' ا بن ال 
ریش کے بوے پڑےمرآپ( صلی الله علیہ وعلی آلەو سلم کے پا 
آۓے او رکباکہ اے ئم۔( صلی الله علیہ وعلی آل و سم) ہم لوگ ایک 


امرپھ فصطہکریں۔ دوہ کہ جھ عبادت تہارگی ہے وہ ملوگ ھی کریں۔ 


اور جھ عبات ہم لوگو لکی ہے وہ تم بھ یکروے عبارت می شی 
اس سے س بکوفاندہیچگا۔ ای پ> قل یا ابھا الکفروت کی سرہازل :ول 
جم تہارے دیع سے گ۴یں غم رض نیہ جن نک عباد تکر تق ہیں ای 
کہ بی گے۔ ا کے بع دکتاب مس ”مھاہر وکا نات اود اش مکا با رآنا مان 
کیا گیا ہے۔ عالاکنہ جم داقعہ اوبہ بین ہوا ہے 'اکی سے وا ہو جاتا ہ ےککہ 
تحصو دک اور قیراور شر سے پاہر ہونے والا مرو ضضہ بے اصل ہے۔- 

اکر این بشا مکی بات درست ہے اور سورہ اہب شب ال طالب 
مقالت کے دوران:ازل مل ے' اور جلال الد بین سید یکی در مفقو کی روایت 
ےکہ تضور صلی الله علیہ وعلی آلہ و سلمایک گا بل تث ریف قر 
تھےکہ ابد اہ بکی جیام تل ادوی یعت قرب دا آکی ادرک ےگ یک باتھ 
(صلی اللہ عليہ وعلی آلہ و سلم ت2 ن ےس بنا پ مرکا ھک ے۔ 
تضورصلی اللہ عليہ وعلی آلہ و سلم نے فرماا' بندایش نے تی ری نر مت 
نی کی نہ ال تھالینے رکاج کی ہے ...سے کیا سی جوالے 







سے بے بات خابت کا ےوک ٹر 
نہیں او رضوراکرم صلی الله عليه وعلی آله و سلماپگمروں یش 
متمال ےکی صورت حا لکوبرداشت تگرر ھن 

ای رع عق بن الی می ایک ہارمہ طیبہ ہک 'الی ین خلف کے 
کے ے پھربد تق آادہ ہوگیااور فور الرمصلی الله عليه وعلی آله و 

تھوک کی جار تک (اللہ تھا نے ا یک وآ گکاانگارهینا ۱ 

اور اے واج پردےرا۔چہاں دەلگا وہ مل لاوز 2 نک 
رد مایا کی خوت کت ارز ×ٹ:الحیدگ 
ںا سوروالف رقان کی آتتیں(٢٢)‏ نز ہو میں.--اور 
الب کے زہانے میں نازل ہ وی فو قیراور محصو ری اور 

یکانظرے غاب وخال×جاتاے۔ 
ای لئے ج٭ازا موقف زیادہ مضبوط ہےکہ مقال کاہرف بے وانلے 
1 و ا و ال گھروں عی میس تھے “الو اہب اور عقی. تضور صلی الله 
۱ علبد وعلی آئد لا رین کسائے تاور خور صلی الله علیہ وعلیٰ آله 
۱ زی و سلممکو نشانہ استزاینان ےکی مکی وہای دوراے یس زیا ہکرت رے۔ 
سیر ت ز بد علان شی ل کا ےک الد اہب "عق اور عم بن العائص جضور صلی 
اللہ علیہ وعلی آلہ و سلمکے پڑدی تے اور اپے گھرو ںپاکوڑاکرکٹ 
اکر کے و مور صلی الله علیدوعلیٰ آله و مَللمَاشاذ ا پڈال نا 
کرتے تھے مور صبلی اللله علي وعلی آلہ و سے نے گی فرییاک ”ئل 
دوش پرپڑوسوں می لگھرا ہوا تھا۔ این طرف ااواہب اوردوص ری طط رف عقبہ 
ین الی می تھا وودوٹوں لیر او رگ براکٹھ مر کے لات اور مر ےودوازے پے کر 
چیک داکر ہے“ 
















کر نمو اللہ ٦‏ کے و 
تج میں تم برا سے پا ذآجاف 

پچ رکفار کے سردارعطرت افو طالب ری اللہ تھالیٰ عنر 
امو سوا جات 
صلی اللہ علیہ وعلی آلەوسلم نے را تھا بت تھا۱ 
کے سواپاتی نام الفا ظط کو دک کھا گئی ھی۔ 

می کرام 3 

حضرت ابو الب کا کردار و شعب ا ا طااب 2 7 1 
سے بھی بی طر روشن سے جن رع زنک بر ور صلی الله 
علیہ وعلی آلەو سلم کے ہارے مل راد 

کر کو 7ور ناه دا ے لن سوالی سے تھ لے 
اکر شعب الی طالب کو کل شبر ے دورء ایک پہاری گھائی یا درہ اضور 7 
کت پاۓ تر حضور صلی الله عليه وعلی آلۂ و سلم کے استر ہدٔے اور 
دوسرے پاثاروں کو آپ صلی اللہ عليه وعلی آللہ و سلم کے سر پ4 








سلانے کا تردو کر نے کی کیا ضرورت کی ) اک پاڈار کو در نے 
دانے بے ال تک ڈیوٹی سپ دی جالی, کان ی ید 


(0 


ا 6 


تفحیقت| قال بی ت 

شعب !لی طااب دی لہ شی جہاں جو ہم سے مان 
ےت بجی مسا سے ب میں رے اب 
کافرون کے پایکاٹ کو پیگت رہے۔ چوک کی جن گھائی یا درے 
کی صورت ات ہی سب آپنے نے گھریں 7 مو 
پڑو کہ کافروں کے کسی فلد اقزام کے شی نظ حضرت ایور 
طالب تضور صلی اللہ عليه وعلی آلہ و سلم کی ططالت کی 
اپے طورپرچھ یھ بن سکا کرتے رے۔ ورتہ ور صلی الله 
عليه وعلی آله و سلم کو دی انا جان گی اظت گی 
ضورت نین کی شی۔ 
ر سو لکر من کے جات مباک ہکا بد بھی شحب اد طااب می 
ضروری تھا گار جیوں نے رسو لکر مم پاپ کو صادق اور اشن 
کے القاجات د چئے تھے ۔ مزید ان بی کہ اللہ تھا یکا سار سول چانتا 
ہے دیکتا ہے( اہر ہے )ک ہکس کے سا تج ھکیاہورپاہے۔ لیک نکنار 
بڑے ہیک نل تھے ۔ دنر جقزات کے جو رکومان ۓےکی بچانے ساجر 


ےرہ بڑےبی بد بت تھے ب8 


299 


لن ضور صلی الله عليه وعلی آله و سلم کا انجام 
قاط کے محرکین کا انام لف اوقات میں جن کفار رش 
نے تفور سرور ککائنات علیہ الصلوقدالسلام کے ساتھ دشئی کا بر 
کیا ۔آپ صلی الله عليه وعلی آله و سلم کہ ایت بَتال. آپ صلی 
الله عليه وعلی آله و سلم کا ئراتی اڑایاء یاآپ صلی الله عليه وعلی آله 
و سلم کو مع کن ےکی سازش مس خایاں کرداد ادا خکیاہان کے نام 
گزشتد صفات میس دیے جاگے ہیں۔ بائیکاٹ کا عبد نامہ کین میں بھی 
اض پجھتوں نے بڑھ چڑھ کرحصہ لیا۔ جلد یا بد یرہ ان کا انام 
یرت اک بی ہوا_۔ 

مع مور ین “نے جیا نکیا ےکہ مش کین میس سے پان آدئی دب بھی 
آفضرت صلی اللہ عليہ وعلی آلہ وسل مکو تھا اے ' شھٹھا مو کرتے 
و کا معی شا یکر ناد زع زت داحغم کے آوابپکو ما ا 
لاتے تے۔ان کے نام بی ہیں :ھا بین ول اسود بن عیامطلب 'اسور بین عپر 
یقت ولید بن مت واور حارث بن تی الطلا طہ -..ہ۔ ردایت ہ ےکہ ایک روڑ 
سیر ترام میں خواجہ الم صلی الله علیہ وغلی آلہ وسلم ٹٹے ہوۓ تے۔ 
جب رائل علیہ السلام تحضر ت‌صلى الله علیہ وعلی آللہ وسلم کے پا تے 
کہ بیپانچو ان کے ات سےگزرے۔ بی انل علیہ لسم نے حا بن د مکی 
کے پاؤ کی یی “اود بن عبدالمطل بک کھ 'اسود ین عبدلیفوث کے سر 'ولید 
گی پنڈ اور عارث کے پپی ٹک طرف اشا ٥کیااو‏ رکہا:اے ر صلی الله عليه 
وعلی آلە وسلم ا آ پکوہشارت ہوکہ ا نکاش شتم ہوااو رآپ ان ے اد 
ہے ان شی سے ہہ راک مصیدیت می لکر فا رہ گرپلاک ہو 


300 


نان عائ لکاک ہک ای ککھائی می ای ککاغاچ ھکیا۔د:چلا نا تھاکہ بے 
سمانپ نے ڈ لیا ے اور مر (صلی الله عليه وعلی آله وسلم )کے ردپ 
نے بھے بل کتکمردیا۔ اسود بن بد المطلب اند اہ کر ھا ابی بد لیو ٹکا رگ 
ا گیا مرو الو نے ا ےگ گے نہ دیااور و ددروازے سے م رک راک راز 
م رکیا ار بن خی لیکولوں پیا گنی شر دم ہک کہ لی کر ئل کا پہیٹ 
پٹ گیا۔ ولیر بن من وی پنڈلی زی ہہو کی عق النساکی پیا کی اور چجنا جلاا 
اک 
نام کی و ال ےکاانجام۔ 

ع ہد نامہ پچڑے کے ورقی پک گیا تھا۔ اس کے کا تجدں کے چا نام 
لے ہیں. ابن سحد نے منصورراین تمہ ای نکر نے واق کیا کے حوالے سے 
طلیہ بن الی لی این ہشام نے نر ین عارت اور حافظ اہن تم نے زادالعادرش 
مین بن عام رکانام لا ہے اہ صا الد بن شکیل نے ان ااروں کے ذکر شس 
اما ےک عام مور نکار جان نصور بن تمرم ہکی جانب ہے۔ او رککھوا ےک 
اس قدر کی طرف سے اس سفاکانہ اور ظالمانہ معاہ ےکو تم میک ن ےک 
پ داش میں مرزا کہ ا سک ایال شل ہ ھگنیں اور ا سکا پت ینف کے گے 
سکنایت سے بیکار وگیا۔ 
فا ری اکرام۔ (فان منھم منتقمو نان ای کے مطال کہ ہمان سے 
ضرور جرلہ لیس گے ۔ اللہ تال نے ا نکفا ہکو بڑکی رت ناکم اد کہ سب 
کو پنۃ چک ال تعال یدب مات فکر نےکاغیام ہے ے۔ 


0 





و یا 


نا 
تی صا یر دای مت 


قرن عحیم میں شر صیدرراور یدرد کے الفافط لے نی شی در نے میس کے 
ٹر کے 


00 گوش تک او اک ککڑےکلڑ ےکر ن کو کے ہیں ای سے شر 
صددماخوڈہے۔(علامہ راغ پ اضفمائیٰ) 

(6) ۔ صمل می کشادگی اور فراٹ یکا مفموم اواکر ا ہے ۔کسی ابگھی ہی اور 
مکل با کی فوخ وبھی شر کت ہیں شر نکااستعال دلی مسرت اور 
تی خو شی ےبھی ہوا ہے (علا مہ سی رآ وی ) 

کت شن کامعتی ہے چا ککرن۔ یہ لفط قرآن یم میں سھتے 
نی الب اعاد یث یس ہے جن برح کر فاضرو کی ہے۔ 

(۴) تفی رم سکھھا ےک ۔ ملین علا کاٹ ہے ما ہرمید ارک جس عرف 
ایک ہار کی وفغہ ہی شی در ہوا۔ بای تن دفظہ خواب یں ہوا۔ اس 
لع یت امرس والی محرا کی حدبیت جس شی صد رکا ذکر نی اور 
خواب والی محر کی اعادبیث می شی صدرکاذکر تا ہے۔ 

مضاواعاد یش :- 

() مسلم سے روای ےک عفرت الس بے ف راہ ر حول اللہ صلی ال 


علیہ وی آلہ وصلم کے ایام طخولیت میں جناب جب ری لی آۓ جگہ آپ 
دمگرچچوں کے ساتھ پٹ جے فو حضور صلی الد علیہ لی آلہ ول مکو 
ڑے ادب سے ایک طرف کے جاک لٹاباا نکادل چا ککیا اس ے 
اد ہگوشت پکالا تج رکھاکمہ آپ میں ىہ شیطالن کا صہ ہے ۔ پر اسے 


ای رہ بای 


302 


و طشت میں زمرم کے پائی سے دو بااود پھر اے کی دیا اور 


ای وا ا 
(مشکوۃ ج ۸) 
٢‏ بب رہل اشنا نے سیبنہ یا ککو چا ککر کے قلب مبارک نالااود زدریی 
طلقت ‏ ا زم زم سے عم ویاود فور و حلت ےپ رک اسکوائجی 
کرک دیل 
(نزلیان) 
قلب رخف :۔ 
0) ایک دردایت مل ےک قلب مبا رک کوچ ککیا۔ دوس ری روایت شش 
)۲) قلب با ککرنے والی ردایت بی سیا ءگوشت کا ڑا پکالنا اور اے 
خٔیطا ن کا یہ قرارد ہی کا ذکر ہے دوس کی روابیت میس اپ اکوثی ذکر 
کیں۔ 
(۳) افیاء کے قلوب :حطر تار الیم کے قل بکوقلب لی مکما۔ 
: (۸۳/ء۴) 
رسو لکز یم صلیاللہ علیہ و ع یآ سلم کے قلب مبار کک کر ق رن 


مم میں تین دفعہ آیا ۔(القروے ۲۹+ ۱۹۴۔ ۲۷+ اشعرا + 
۴ ۴۲ انور ی )یا نکنیس بھی لب مبار ککو ش نک رن ےکی بات 
میں لق 


ھی علیہ السلا مکیہثر بی تکھی فو ری شی :. صاحب روح البیان صف 
٭اجلد ہ آیت پراکے تح کھت می ںکہ اعادیٹ یل ےکور ےک ری علیہ 
الام نے حضور علیہ العلام کے حم مبا رک ہکا خی میا اسے بہشت کے پایول 











سے دجو یا ماناک کہ انل سے بمل ہکنانی او رکیدور یس دود ہو می اس اقتبار 
ےآ پکا مم بھی آ پکیادو رپا کک رآ سو ٴاے- 
اھر یت مل صلی الل علیہ وع یآلہو صلم 


متعارخ اعادبیٹ ایک تک ڈالقی ہی کہ جھ بات تشاددای ے لی 


قلب ہار کلوچا کگکرنا اور امیس سے سیا ءکوش تک اکگڑ اڑا لنا عقا مخ وش 5 
نظ رج ہے۔ جن سے مندرجہ ہل سوالات پد ا ہوتے ہیں۔ با 
سوالات 


رر سولوں کے سردار کے دل می (مھاذ ای )سیا ءہگوش ت کا گرا ھا تو 
بائی تام نیا ءاکرام کے ولوں یل بھی ہوگا۔ چہ اہ عام نو ںکی 
با کر یی ۔کیاای کش ؟ 
رو کر یم صلی اللہ علی۔ وسلم کا قلب مبارک (ول یک زوائیت) 1 
چا ککر کے ووسیاہگکڑاڑکا لک بچھیگ دیلو رک اگیاکہ یہ خبطا نکا <صہ 
تھا۔ لوکیابائی ایا ۓکرام کے سا تح بھی اییاہی ہوا ٹا ؟ 
کیا حنلف رولیات شی مشت رک اتال کے علادہکسی ایک روایت میں اس 
بات کا اضافہ قدادئی نے اپقا طرف سے خی سکردی کیا اسی باتتں 
من میں ٰ 
رس لکر مم صلی اللہ علیہ دع یآلہ و سلمکو تاد تھالیٰ نےنافءر یدواور 
ختنہ شدو( نی مال یآراکٹول ے پک )پید ایا 2ک خیطا نکاص 
نیس توکیا شطان ولا حصہ دل میس دی رکھا(معاذ ای اہ جب مل بعد 
کسی ھی ہار سو لکاذکر خی کہ اکے قلو بکوگھی چا ککر کے شطان 
والا حہ ٹیا لامگیاہو ۔توکیاہہ <صہ ا کے تقوب میں موجود یں ؟ 
(-ختراڑ) 


94ہ 


حا ص٥‏ ل کلام 
ا مہف دوایت میس ققلب چا کک کے شبطان والا حصہ کال ےکا کر ہے۔ 


عقاازڈا مخ وش ے_ (٣٥ھ)‏ 
لہ خلاقت راشل :کے دور کے بحد اعاد یت مس اضاق ہکر :۔اعاد ٹ ڑ 
ویر جعام ہواے (سی رت ای شی نان ) 


فرمان ر سو لکریم چکگ 

ایک زہائد ےگا کہ تم تک ای عد شمیں کی ںکی جھ 
تمہادے باپ دادائے نہ سی ہو لگی۔ تما نک کاب الد پر ہکھٹا 
ار مواٹی بہوں ٹے قجو ليکر ینا اکر خلاف ہوں تو بی ان رے 
بر یاہوںلں۔ ۱ 


۳+ ۹ی) 


“06 


نع کے سواے ھراو”* بت یں 

(من دون الد اور پاذن الد شم ال 
من دون لے بات نے فیا اللہ کے سوا“ ٹیس بت رآ ن پاک جن 
۴" قعہآیاہے۔ قرا مکی تام آبات ان جنوں کے متحلق ہیں ج نک وکفارککہ ال 
تعالی کے سواہ ماکرتے ت ےک وکلہ دوا نی (الہ) معبودجچھت تے اور اسی وچ ے 
ال تعال ی کی الوصیت بی ان یتقو کو شش ری فکر کے ش رک کے مت رکب ہوتے جے 
چند ای کفآیا تک مال درم ہیں۔ملاخطہ ہو- 
ای ا0 گن ویوم یحشر ہم وما یعبدون من دون الله 
فیقول ء انتم اضللتم عبادی ھولاء ام ھم ضلوا السبیل ٥‏ قالو سبحنك 
ما کان یتبغی لنا ان نتخذ من دونك من اولیاء(ے/۲۵ الف ر قان) 
ترجہ : اور جس دن اکٹھاکر ےگا نئیں اور جی نکو اید کے سوا و نے ہیں : چھر 
ان بت معبودوں سے فرما اک یاھم ےگ راکرد ئے می ا یا 
قیاراہ کو نے۔ بت ع رح کی گے پاکی سے تج ھکو سی سزاوار نہ تھاکہ تیرے 
سو ای اوداکو موٹی بای ان آیے ٹل نقوں سے خطاب ہو ااور وہ ” من دون 
الله“ ہو ۓ۔ 
ام حسبتم ان تت رکوا اولما یعلم الله الذین جاھدو ا منکم ولم یتخدا 
من دون الله ولا رسولە ولا المومنین ولیجه والله خبیر ہما تعملونٰ (م) 
تر جمہ:۔ کیا مان مٹ ہو کہ و نیو ڑد ئے جا گے اور ا بھی الہ نے چان 
نکراک ا نکی جو میس سے چہا دک ہیی گے اور الد اورر سول اور مسلمانوں کے سوا 
کس یکواپنا ئرمرازنہبنائیں گے اور اللہ ہار ےکا موں سے جرد ے۔ 

: چنانہ انس آیت سے موم ہوائہ( من دون الله )ال تھا یل 

کریم ع اور مو مین کے علادہ ین- 












ت- ‏ ومن اضل ممن یدعوا من دون الله من لا یستجیب لہ الی یوم 
القیِمہ وھم عن دعائھم غفلونەواذاحشر الناس کانوا ہم اعدا“ 
كُکانوا بعبادنسھم کفرین(1۴۷/۵لاف) 

تمہ :۔ اورال سے پڑ ھک گرا کون جال کے سواالیو کو و چے ہیں جھ 
قیام ت کک ا کا کی اودا نیس ا نکی پو جاکی خر لہ بد اور جب لوگو ںکا حر 
گان ' ان کل شی وک کے اوران نے مگر ہؤ جا یں گے ۔ اس یت سے 
بھی معلوم ہوا دون الله سے مرادوە یت یں جو قیام کوک جاننیں گے 
خ ا بث ندب الله لا یخلقون شیاء وھم یخلقون 
اموات غیر احیاء وما یشعرون ایان یبعٹرن (۷۳اضقل) 

تر جم :۔ اورالل کے سوائش نکوپو نے ہیں دوھ خی بناتے۔ ووشودہیاۓ ہو ۓے 
ین مردہ ہیں ز دہ نیس اودا یش خر نی لو کب اٹواۓ چانکیں گے 

ا نال مہ جڑای ہو ىہ لم ردوادد بے جان پچھر دغیرہ ہوتے ہیں 
اس لے ظاہر ماگ ”من دؤن الله “ ے مرار بت ہیں ز ندہ ایا دگرام * 
اولیاءکرام 'شہداواور صا ین ہوتے ہیں۔ 

خلاصہ :.. جشی بھی آیات جن ں لفلامن دون اللہ آیابے تھا مکی ام آیات 
میس ''اللد کے موا سے ماد یت ہیں۔اپہ جار لیس د یگئی یں جن مل صاف 
اہر ہب ےک ھن دون الله قیامت کے دن إولش گے۔ اللہ تال ی یتو لکو ےی 
گویاکی عطاکردےگااوز دہ یں گ کہ انہوں نے انسانوں راہ نمی ںکیاتا 
رووا ن کاپ جاک مک ہو جائیں گے ۔کیوککہانہوں نے قوائیانو ںکو ہو جےکو 
نہ کی تھا۔ : 

فلط جگیادور ہوٹی جا ۓ:_ نام فہاد مولوکی جو جائل اوران پڑھ ٹل ”من دوت 
اللہ اللدتھائی کے سوا کے ممتنوں میں انی ہکرام اورادلیاکرا مکو نے آتے 
ہیں۔ یہ جبالت مع اود بصیر کک اہی رسو نکرم لاوز مومنین 
کے متعلقی سو روہ کا یت۹ ل(جھاوپ میان ہد کے )شی صاف طوری بین 





کت 
کہ الن کے علاوہ”من دون الله “ہیں اود ظاہر سے وہ بت ہیں اگر پھر بھی 
کوکی چائل ضدکرے ت جھوکہ ووالل تل یکا بای ےکی دککہ وواللہ کے ق رآ نکی 
آوں یس مڑھاچلتا ہے اور الد تھی کے اٹ یک مزا لت 
خی راد کے معفی :ال کے سو امیا رکواللھ تی ما نک ال کا جا جاۓ ىہ 
افظا مرن یل مے ادفعہ آاے اور ہ۸ کہ اس سے مرا جھوئے الہ طس( بت) 
()۔ قرآ نکٹاے_ افلا یعدبرون الفرآن ولوکان من عنه غیر الله 
لوجدوا فیه اختلافات کیرا. ‏ (۲/۸۲نمء) 
ترجہ :ں لوکیا ور خی کرت ق ران میں ۔اگر وہ غی راللد کے پا سے ہجو جا 
ضردراس مل بہت اخخلافپاتے۔ 
اس آ یہ یس قوابد قالی نے ققرآن گی مکی مال د ےک کھیا ےک 
می الام ہے۔آگ ری ااورالہ(جھو ےکا ہو تا تو ضر ود( اس میں )اختلاف پاتے۔ 
(۲)۔ خرن عی مکپتاے۔ من الہ غیر اللہ( 1/۳ الانعام)اللہ تھا ی ےک 
علادہ کون اوراللتعالٰیٰ ے؟ 
(۴)۔ ت رآن گی مکپتاے_ قال اغیر الله ابغیکم الھا(٣‏ 2/۱۴ )گہاکیاائل 
تمالی کے سواظارا اود الیل علاش ش کروں۔ 
(م)۔ قرآن گج مکتاے۔ وما اھل بە تغیر الله( ۳ءا/القرہ)اور وہ 
جاور ج اش تھالی کے نام کے علادوز کیا 
تر ج: جانور پر جب اللدتھالی کے علاد وکیا ذوضرےکانام لیاجاۓ جیا 
کفذارکہ اپنے بقول کے نام تےکر نکوؤ اکر تے تھے دو مر ام ہے_ لین مسلران 
اللہ تھالی ہی کانام لن ہیں۔ جانور پر کچھ رکی بچجرتے وفت مکم اللد۔ الل اک رکچ 
ہی ںکوئی بھی ملما نمی ھوئے الہ( بت دخ روا نام نی لال چاو رگ 
عمبدالا گیا پہ قر با یی جائی ے۔ عقیقہ اور ولیمہ اور صدقہ وغیبرہ کے لے بھی 
جاورذ عکیاجا تاس قذ سب پر اللہ تی یکا نام لیا جاناے۔ اس آہ ےکی مطہوم 
کے فخاط بکفا رت کر مہ ہیں ن کہ آج کی سی مسلدان جیکہ چائل اجدنام ناد 





۰ 


بان الد کے ست:۔ اللہ تھالی کے عم سےزاؤن کے مع عم کے یں اوزیہ لفظا 






. (0)۔ حضرت شی علیہ السلاغم می کے پر مرے پناک پچلوک ما کر ”اڑ ال 
7ھ ق ایل چان لی اور پر غرواڑ جا نان ہے عفرت والتے “ 
خعطاے ای ے۔(۳۱۳۹) 
ْ (٢)۔‏ پر عفر ت می علیہ السلام مردے زندءکرتے کے ہیں احی الموتی 
باذن الله یه یحییت کی عطاے۔ 
ا (۳)۔ اخمیاء اود اولیاءکرام کے مفجزات کرات ”ال تی کے عم ؛؛ے 
ہدتے ہیں جکہ الل تال گیا عطائیاے۔ اکس ملئے سے رک کے زمرے میں 
: نکی آا۔ با ا کک الو ہی تکاد و یکرے دو شر ککاار جیا بکرراے 
اخمیا اولیا ہکرام نے بی اید موی نی ںکید 
)(٢)۔‏ اولیاء کے سا تجھ عراو کا مت :_ اللہ تقعالی و دوستوں کو 
اولیاء کچ ہیں ان سے عدادت رکنا اللہ تھا کی طرف سے اعلان جن گکر نے 
کے خترارف ہے عدیث دی ہے۔ من عادلي ولی فقد ادنتہ پلحرب 
(خھ جم ہکس نے مہرے وولی کے سا تج ا اد اعلان 
جنگ کر جا ہوں۔ الل تال ی جب اعلان جنگ ککرے لایر جبای وب بادی اور یک 
آ خر کیا طبقہ زگ ہے ۔کہوکیاشیالی ہے اولیا ہکرام کے ۔ا تھ عدادت ری ےیا 
عیت در ناپ جا بھیرت ٹ ےگا دب رالل تالی بی مل جا ےگل 


*۔ شب محراع۔ نمازوں یل تخیف ءال بات 

جا تین کرام رسو لکریح صلاولہ علیہ دی لہ دسلمکافر مان ہےکہ ایک 
زرانہ آ ۓےگاجب تمالکی عد ٹیش نو گے جتمہارے باپ دادانے نہ اہول 
تما تاب اللہ پر گنا۔ اراس کے ماف ہو تقو لکر لیا ار الف 
ہوں پو ٹیس اس سے بی ہوں۔ 

اسرائگی ردایات شش اس رافلیات- 


خلاقت راشدہ کے بعد بودی۔ نار گی و ا 


اعلام کے خلاف ماز شی شر و رن ےن و ار 
عدیٹوں ٹس اضانے اور راوئی رات کے متعلقی کہ فلاں تہ ے یافلال 
کذاب سے دنر ودیرخ پگیا۔ جا سے وا نے زاون یں کوک و 
شبات درا ے امیس اور مسلیان کو عشق رسولی سے دو رکیا جا ۔ ىہ بہت 


سی سمازشلیں ہوک اورکافی عد ‏ ککامیاب بھی ہوگی۔(ان از ضو اکر علامہ۔ 


شی انی نے ان یکتاب سیر ت لی جلداول می ںتنصبیل کے سا جج کیاہے) 
نمازوں میس تخفیف والی روایت۔ مرا ش ریف دالیر بات جس چہال اللہ 
تعالی نے ا بے عیب ص لال علیہ و علی لوس مکوا قرب شرف جھگلا اور 
دمگر ححاقف ذ ہے وہاں نمازو ںکاتحذہ. بھی دیلا جھکہ پان ہیں )پیا نمازیی 
اور بچران کا تخفیف ہون پر یی حضرت مق بی لی العلا مک انہوں نے پار بار 
ہیں ولا کہ سے تخفی فکر و ےکیوک ںآ پ کال “علیہ دع ہلوس مکی 
امت ن بڑھ گی اور لاخ مفم رین نے اتا کر دھااد 


٤‏ و 


ت ھا ھووت 





7 پ 


گر می کرام ۔سوال پیداہو تا ے سک کیاساح بک 2 فی بکو(مواؤالثر) ین 


تھاکہ ال نکی امتہیہ پڑھ نہک ےگا۔اودوہ چٹ آسان سے نوہار ولیں 
گے اورا نی پا کک ولا کی ھی ہاش ر سو لکادل نہیں مانے 
گا کبدکلہ تن یٹ لک اور کہ پر بھی فضیلت حضرت موی 
کومفس رین نے ٹیر صقن رولیا تکی متا پاب تککرن نک یکو شت لکی 
سے ضا روا کر چک ین اس راعیلیاتی نظ رآل إں- 

نر وا عو رت گل پھاڑ اکر منبررسول پر بیٹ ھکر ہولج ہیک 
مو ی علیہ السا مکی لی امت بے کونمازوں می فی ہوئی_ و” 


نیس جامن کہ دوناداتہ طور پررسو لکریم صلی اہ علیہ دی ال 
و سلمک شان مل بےادل اد رگمتائٹی کے م رکب ہورے ہیں۔ 


ہارے 7 ڈاصلکیالل علیہ دی لہ وم صاح بک عم غیب ہیں۔ وہ 
قامت تک ہونے والے عالات ارسے دک رہے ہیں سے اپنی تتبلی 
مبار کک و آپ ملظ علیہ دی آل سم حعاضر ون ظر ہیں۔ ا نہیں 
ابا امت کے لوگ چچروں سے نظ رآتے ہیں۔ اس لج حضرت 
یکا سلہ ملا لوزن نی رکتا۔اسی لئے فرمان رسو لکر یم 
صلااللہ علیہ دع آلہوسلم ہ ےکہ تماڑی عد میں سٹو کے جو تھہارے 
باپادادانے نہ کا ہو لک اسے ق رن ام پر کوٹ ھی آپ صلی 
اللہ علیہ د خی لہ وسلم کے ع مکو نہیں می سکنا۔ 





311 


اتا یی صلیاالل علیہ وع یآل و سم 
از تی ہت حیات اللہ تما کیا صفات سے ہے ۔ اور وہ الیی 
عفت سے جس کے سا تھ عم ء تر رت ءاراددو یرہ تمام صفا تکمالیز ولاست میں 
الہ تعالی نے عفت حیات محکنات میں ود بجعت فرماگی اور افراو ممزات می اسے 
ابنے ارادواورا نکی قابوں کے مال پھاگیا چنانیہ ووضفت حیات عحگزات ڈل 
خخلف مراعب پر اہر ہوگی۔ اع میں اس طر نکہ اس کے معرقت واسعد سے 
اورامعض میں اس ططر حکہ جس رح کت میواشیہ اس کے سا تھ مربدط ہے۔ 
چنانچہ حیات دہ ہے۔ جس کےپاس جانے سے احساا ںکاوجود تیور موت 
اںیضے- 
رو :رو ںعکابرلن یل ہو نا حیات اور برن رے رو ںکا تروع وت نے 
تمیف خی سںکیدکہ پھر توالت کی حیات پ ہکس طر عصاد قآنکنی ہے۔اں 
ل ۓےکہ اللہ تھالی شمم درو سے پاک ہ ےکاات میں رو سبب حیات ہو گق 
ہے لان اسے نس حا تکہنادرست میں الہتہ ےکس یت ہی ںکہ تمکنات عام : 
کے افراو میں اورک قووارادہ 7کت واصا کی عفت تجنہ ا جات ےکیلئے 
ان ٹیس ”نعاد تا کرو ںکا ہو نا ضرور یا ے۔ کی کہ روج سبب حیات ے اور سج پکا 
خر سب کے پایا جانا محالی عادئیا ے خلاصہ کہ بد لنا ٹل رو ںکا دو خول اور 
اس سے ملق خروج تہ مموت وحیات نھیں۔ تی موت وحیات جم شں 
صفت مصححہ للعلم والقدرۃ(او الوم مقام )کا ہو نایانہ ہہ ہے ۔اہت رو 
کے وخول و خروخ کو موت عاد یوحیالت عاد یا ے ۰ ۶ مگیاجاناڑے- 


ٍٰ 


اخ روج کے حیات گان ے :_ 


32 


عفادی شریف مس سےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آ و سلم 
مب شریف غنے سے پل ہجو رکی ای کککڑبی ( ہے )بی کیک کہ خلبہ ار شادفر ایا 
کرتے ے جب مجر ش رای ئن کی ق آپ صلی ایل علیہ یآ دسلم اس بر جلوہ 
مگ چو ہے وہ کھڑی تضور صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ففراق این انس طرئح 
ردئ کہ جی لاوش کا کم ہوجائۓے۔ اوردددددیا کآواز سے روے۔ یہاں 
تک آپ میا اط وع لم مب رشریف سے اترےاوراس پر اناوت 
کم رھ دیا۔ جماد ات (غی رذ ئیاروں اکور یھی روح نی گر حیات ے۔ 

الله یتوفی/الائضن ین موتھا والتنی لم مت فی منامھا 
فیسك النی قضی غلیھا الموت ویرسل الاخری الی اجل مسمی ان 
فی ذلك لایت لقوم یغفکرون (ع رک بس ”فا ءایلہ تھا لی“ کے معن یک اللہ 
ای نے ایر ات ہمہ بی ہے۔ اللہ چاو یکو فات: تا ال نکیا 
مو کے وقت اود جو نہ میں النا کے سوتے میں۔ پھ ننس پر مو ت کا 2 
فممادا ات روک ھتاہ (روع کو)اوردوس کی ایک معیاد مقر ر تک (رو ںگو) 
پچھوڑ تاد تا سے بتک اس میس ضرور نشاخیاں ہیں سو ین والوں کے لن یہاں 
مور طلب نف ہے ےک خیف یس روح فی یکر ائی سے لن خسم یس جان ہدتی 
ہے۔اور اکر مو کا وقت مق رنہ آیا ہو تو رو ںکو دا عاتا (یرسل الا حری 
الیٰ اجل مسمی)ایک مر وق کک_ 





ْٰ.:9 


جواب دنیے کے لئے می مکی ضرورت میں 5ے 

وان مخذ ربك من بنی آدم من ظھور ھم ذریتیھم وا شھد هم 
علی انفسھم الست بربکم قالو بلی شھدنا (۱۶۲ /ےالاعان) 
و می کا اوراے مبوبیا رگ روج ب آپ کے رب نے اولا دو مکی 
پش سےا نکی مل ڈالی اود انیس خود ان پرگوا کی فکیایشن تسار ارب مین _ 
یسور مر 

ا سآیی میں کن کے سلئ ور طل بککتہ بپ ےکہ ج بآدم علیہ السللام 
کی ذد یت (اولاد)ا نکی یشت سے کا گنی فان کے تسم ن تے ببعہ جائیں تیں - 
اور بر الد تعالیٰ کے سوا یک جواب انوں نے دیااور جی اک رای :اشھدھم 
علی انفسھم(ےے 'ِآیا)راشھدھم علی ار وا حھم یا اجسامھم) چان 
نیہ بی للاکہ جواب دہ ےکیلنے مکی ضردرت شیں۔ تام انساضیت نے جواب 
دا اور سپ کے سب ایر جم کے تے۔ ای .نیہ اخمیاء اولیا ءککرام کا جمروں سے 
علا مک نے کاجو اب ملتاہے۔ 
زین اخیاء کے جم ہی ںکھائی دہ 

امیا کرام ایقد تھال یکھ رگزیدواور چنا ہواگمروہ ہے ۔ اللہ تعالی نے اپے 
مات قام انماضی تکوالن تی کے ذر ہی کے - اہ لوک گی الہ قالکی 
ڈایاں یں 
() شی و بیل :۔ عحل ہیہکتی ہےکہ اللہ تھلی اتی ان نشاوںکو ند 
دےگا۔آگر چہ شرییت کے تقاضسوں کے تحت ان بر مموت واردکرنی سے لین ان 
کے سو لکومھی کے سا تج مئیانہ ہو نے دےگا۔ بی نو جک والی بات ہے اس 


لاو 


گرو کی تلق دی ایک ناس متقصد کے لے ہوک اس لے ہہ لوگ ام انانوں 
سے بہت بلح اود عظیم ہیں 
( اعد بی اک :۔ آق مل اللہ علیہ وع یکلہ سم نے فرمایا۔ الہ تعالی' 
نےز لن پر قرا مک دیاہ ےک خیوں کے ج مکھائے۔ 
ساطالن پور الد ین زگ یا کے عمد کے بیسودیو لک عقیدہ :- 
."تک کے عد ین حون نے ساد کی ود 
تار ا مرقوم سے ۔ ا ںکابیادگی وج بے تق کہ یسودیوں نے اسلامکا نزاق 
8 : اڑان او زا ے لوزن شت مک ن ےکی مز شیک تھی۔ ان کے باذشادرج ڈ2 خر 
دل کے نام سے مشعور تاس نے صدیبی جگیں لڑیں )ےکا تھا 
٘ ملاانوں کے یکا جن تج سے کال لوق سی دینش ہو جا ۓےگا۔ یو د یں نے 
1 ھا کی دفا کو چار صدیا لگز رگ اس بر اس تض ن ےکمااس نے مورات و 
ایل بڑھا ےک انیاء کے جو ںکومٹی خی ںکھائی دو تجروں میس کن و سالم 
ہودتے ٹیں۔ چنانچہ اس :ا ران ہو نے ہہ کت مہ مو مکی۔ 
ماد یں :۔ (ا1) ق رن مل آتا ے۔وما ارسلنك الا رحمة للعالمین 
ینی آ صلی اللہ علیہ وع یآلہ وسلم تام جمانو ںکیےتھام حلوق کے لئے رحمت 
ہیں ےآیت حیات می صلی الہ علیہ ول آلہ و ضل مکی ازل سے ابد ککی قرآنی 
و بل ہے۔ بی تآسان عم ۸ر عقیرہ درست ہو- 
(۳)ولا تقولو ١‏ لمن یقتل فی سبیل الله اموات بل احیاء ولکن لا 
٭تشعرون اور ےکہوان لوگو ںکیلے جو قل کے اول ری را ٹیش مردہ۔ با دہ ژ دہ 
ہیں اور تم شور شی رے_ شمدا کے سا تجھ اخیاء علیہ السلام اس میں شثائل ہیں 





د0 


315 

پلفھوص یکر یم صلی اللہ علیہ وعلیآلہ وس مکی وک ہآپ صلی الہ علیہ وع یکلہ 
وس نے نیایس شمادتکادر ج ہلا 

زندو لکی یہ ول سے یا شی سکیاجاج :- 

قرآن جس آپ صلی اللہ علیہ وی آلہ وسلم کے متحلق فرری ولا ان 
تنکحو از واجہ من بعدہ ابدا عمالبعہ ےک نی صلی الہ علیہ وع آلہ وسلم 
گی ید وی کے سا تہ نان ہکردالنا کے اہ رکا ور پر تا بکر نے سے اہ دک 
۔کی وک ہآ ص٥‏ اللہ علی رع یآلہو سم ال سے لن ےکر دکک ز ند ہیں۔ 

ص٥لیاللعلی‏ و لہ وسلم نے فربا پنیا کا قرول ٹل نمازہڑ نا 
اوردفع کے الس راتوں بعد ان کا بروں سے اٹھیا جانا ۔آپ صلی الل علیہ 
دع یآلیدوسلم درددش ریف خور ضلنے ٹییا۔ چاسہے مذدیک ہو چاہے ذود۔ نزو یک یا 
دو کا مہ ہما اے نہ 22 مک ایق علی و لی رو مرکا 

آپ صلکاالل علیہ دع عآلہ و لمکا عم دفات ش لیف کے بحد ایا ے 
جلیسماحیات متقرسہ میں تھا 
یابتبعد ازوطات کے مع :. موت اور ٹیش رو کے می ملا ”یق 


دی ہیں جھآ نک سار امت نے تھے مشقی ہد لن افدرس سے روں مہا ر ک کال ' 


کر یق اع کی رف جانا۔ راس کے بح ا نک حیات کے متام ہی کہ اما 
مقدسہ ےہاہر گی ہو اروا طیبہ اپے تام اوصاف دکمالات سابقہ کے سا تھ 
تی اع سے دوبارہاجسام شر یفہ یش لو ای ہے۔ لیکن حیات او رآار حیات 
عادۃ ہم سے مستور ر ہے ہیں ۔اور جار نظروں سے اس طر خاع ب کرد جے 
جاتے ہیں جییے اکلہ ہما کی نظروں سے ضا ب کرد یے گے ہیں۔ 

تے تقر 7 لالط علیہ وع یآنہ سم ازل سے ل ےکر دک زمرہ 
یں اپے تاملوصاف کے سا جح اکر عقید ودرست ہو بت عام مم بات ہے 


"روچ -٭ 










8 وسر ٭ل ص“لائلہ علیہ وع آل وسمیعدازوصال 
-- آتاملاال علیہ وع لہ وسلم کے دصال میارک کے بعد ایک اعرائی 
کے : ا روضہ ارس پر حا ہوا اود روضہ شی کی ناک آپنے سرپ ڈلی اود عرش 
ات کرک ول مکل عیہد عمج آپ نے فراہ نے تاھد 

نٹ ا شیل بن آیاھی ہے ولو انھم اذ ظلموا بیس نے کک اتی 
ری اس کے حضو وج ال تقای سے ا پنےنا کی مل جاہنے 
: ا ا جا انس بے جرشریف 
7 اگگا۔ پر یآ زومآ ظلمر١‏ 





ود ملاسا ۶ مکرنیں تویاعبیب تمارے تقر مار ہو 
ذو پھر ال تعالی سے معائی جا ہیں اور ر سول ا نکی شفاعت فرمائۓ تو ضرور الڈر 
7 تال یکوبیت تقو کر نے والا مر ان پاخیں ۔ معلوم ہوا رر سول صلی اللہ علیہ 

ا وعل یآ ز و سلپ چااکھی انان ول بی دال ہے۔دزو فا متبد ان کپ“ 
1 پیا و نزالر چااتے لات مد فیا تھے ون کوزان کے دم ساروا 


: ولے۔ 











ترکات انی کرام سے تل 
(ابوت سکبتہ ) :کی شال سس اسرابل سے ہے۔ ق رن فراتا ہے ۔وقال 
لھم نبیھم ان ایة ملکە ان یاتیکم التابوِت فیە سکینة من ربکم وبقیة 
مما ترك ال موسی وال هرون تحمله المللکة ان فی ذلك لایة لکم ان 
کنتم مومین (ہ۲۲۶٢/٣)‏ 





اورااغ سے الن کے نکر یم نے مایا ا کی بد شا کی نشائی بے ےک 
آۓے تھہمارے پان تالات زی یں تماد ےر بک رف سے دلو ںکا چین ے 
اور گی ہو کی یی ا۔م تاور اوت کے ترک ہکیااٹھات میں کے اسے 
فر نے کک اس میس دی نقائی ے۔ : 
الات سن ححخرت وکیا جک کے مو قعوں پر اے کے رک تھے_ 
اس ٹیس یی ابر ال کے دلو ںکو تسین وتی تی اس میں افیاء علیہ الللام کے 
تبرت تھے پدوراٹناشتفل ہو جا تھا جب بن اسر انح لکی حالت خراب ہولی 
اورپر میا ھگئی فو تال نے الن پر تالق ہکو مل کیا توووااع سے تابوت جن 


کے ات تس او رکنندے مقات پر رکھاادر اس بے 7 ابا 


رر گیا دسا یوں می ہلا ہو گے ا نکی امتیاں بلاک ہ وگئیں۔ نیہ لا 
کہ تع رکم تک ق مت ےکا میالی عق خی اود تج یا تکا بے تر مئی سے بلاکت 
فیپ ہل ے_ 


اذھبو ابق میصی ہڈا :۔ حعفرت لتوب علیہ العلا مک یآھیں یا 


کیا جدائ جس سید ہوگنی شی - ہردقت ردتے رت اود یوسف بوسف پکارتے 
رج تھے جب مر اوران وف دوسرے گیہرے میس حعضرت لوف سے لے 
گے اور با پ کا عالی تا ق اہول نے فربااذ ھبو ١‏ بقمیصی هذا فالقوہ علی 
وجہ ابی بات بصصیرا ۔ مرا ےکم تالے جاداسے میرے باپ کے منہ بر لوا 
کی اھ ں مل جائی یگ یھی نیورپ گی نا۔باپ نے ىہ و ہکھاکہ ال 
مین باداش رکآ اق فیک اتی کا کات وو 
پا اذز زجب ےکی س ےک رمےبھائییوداؤاہی لفگر کے آ یع ےہ 










انی لا جدریح اوسف :فک ٹل 
اس فک خوشدوپاتاہون_ ہہ مکڑوں مل سے خو شبوس وگ ر سے جھے۔ بھ جب 
َََ کے مضہ بر لاق نکی آنگھی ںعھ لگئیں۔ یہ ہی انا کرام کے 
و : سک یٹ رن ے۔ 
نظ رعلیپ وع یآلہوس مک چادرہارک 
09 اوک و وی ےک ان تد اکا تلق افیا کرام 
بب فرش ات 
7 وسلم پت تے۔ دو لی بے سار ہو جاتے تے اور پچھرہے 
ر7 ا ات تھے۔ ححخرت ما کشہ صد یہ ر صی اد عفان ےآپ 
0 ا کی کی ا پیا 
۱ پور )پش دشھی لو رپ صلل علیہ وآ وسلم سے کپٹرو کو پا ھ 
۰ سے پک وکر جال ےک یکو کیک بارخ سےکپپڑے یک مع ہو کے مات 
نم الف علیہ دی آلہ دسلم نے فرلاکہ ہاو رک با نوا چادرمبرکک 
2 : ور ےد مھ یک ی جو خظرت ما لکشہ صد یقہر می اللرعنمانے او می تھی 


آ تا صلی اللہ علیہ وع یآلہوسلم کے بال مارک یس شا 
صوا کرام تضور اکرم صلی اللہ علیہ وس آلہ و سم کے با شربیف 
مرکت کے لے اپ ےگکھمروں میں رک چے ج بک یکو مکذ نظ یاکوئی ےلکن 
بای و حفرت ام مہ رض الہعنا آپ صلی الہ علیہ دع آلہ دسلم کال 
مارک پالیکی پیش بلاد تی اور جھکھیننسار ہو تاب پل پک سمتیاب ہ چاتا- 















0 








میعا ا ےم ےنسا 


وت 
ت کات ملف صلی اللہ علیہ وع یآلہ لم 


سی بات ثامت ےکہ صحل ہکرام ر ضوالن ایڈر تمالٰٰ تیعم اتی حضور 


لالہ علیہ دی آلہ و سلم کے کل مبارکہ سے جرگ عاص لکرتے تھا ن کا 
ایک ی مقعمد تھا یب اہی یش نوس لکر ا مندر جرڈی لتفحیل عرش ے_ 


(0) 


(۲) 


۷۳۳ 


(۲ 


حعف رت عم رر صی اق عنہ : گنبد خعفرایس دش ہو ےکی شید 
نوائش رک تھے ۔ جب وقت وفات آیا 2 اپنے بی ےکو حضرت عا کشر 
صدیقہ ز شی انث عزماکی خدمت مج اجازت ماگنے کے لئ کان 
تبرت ما کشہ نے فرب یاکہ میں اس تی کواپنے لئ محصو سک باچاہتی 


ہوں گر فاروقی اعم زضی الع کو تد تی ہیں ۔ لوپ راس 


خ ری سے عم فاروقی ری ال رحماائلد تال یکا شک اداکر تے می ں کہ 
ا نکی تنا وی ہوگئی۔ اور وہ قرب تق خی صلی ال علیہ وع یہہ سلم 
سے فو جات ھے۔ 

حضرتا سللہ ر شی اللہ عنماجواس مکی ےکا من کاٹ لیقی ہیں جس 


ےآتا اللہ علیہ وط رو سلم نے پا نوش فرایا عفر ت ان رٹ : 


ایٹرعدِ فرماتے یں دہ ہارے پا ے۔ 

صحل کرام نی اکرم صلی اللہ علیہ وعی آلہ وسلم کے سر ملاک سے 
منڈدانے پہ ایک ال کے جحبول کے لے آگے مور ہے ہیں پاور غالد 
من ولید سیف القدد ھی انشدعنہ اپنی دستا بارک یل رکھاکرتے جھے۔ 
اور چگوں یش ریب ہوتے تھے 

رت اسماعرزت اپو بک رص ال رعزما یرم مکی الد علی و یل یلو ۳م 
کے نیہ مبارککو فو ظار کے ہو ہے۔اوزفرمائی ہیں ہم اسے دھوکر 
مرمیضوں کے لے شفاای حا عم لکرتے ہیں- 


320 


رسول ال صلی اللہ علیہ وع یآلہ و سل مکی انششت مبلاک صے صسد یہر 
عم فاروق اوز ان خنیر ضی انل رم فو ربکت 

آپ صلی اللہ علیہ وع یآلہ وم کے پسینہ مرک سے لوگ شیقں پھر 
ھ کے نے جائے۔ 

ا ز3 علیہ دع یآل وم کے وقمو کے پا یکو چے ےد کے 
تے لد اپے پچ ہے بل لیت 

عبد ا من الین ول (منافی اشمم )جب مر نے لگا انس نے اپ 
یکو تضور صلی الف حا دع یآلہ و سلم کے بس پیک ہآپ صلی لن علیہ 
وع یآلہ و سلم اس اپ ىِ وپ الل علیہ وع یآل ہو“ کی 
نی می دے دئی۔اس نے یےگودبارہبھاکہ انی کی ا ہدش 
دی ھ نم بلاک و منافقین ہہ منظر دک ھکر چرارو لک 
تتزااشین موی فان سگئۓ۔- 


قا تی نگرام راک 


(0 


(۲۷۲) 


)۳۴( 


امیا کرام الد تما لی کے مزگکڑیواور پند یرہ ہو تے ہیں_ ان بر مود تک 
ری ہو یق لام ھھےکی دک نہ خلوقی ہیں لن صرف ایک لع کے 
لئے ہوتی ے تی ےکوئی نخس قدم اھکر ای ککھرنے سے دومرے 
کر میں خٹل ہو جاے۔ بھرو ولب یاحیات کے عائل ہو جات ہیں 
موت کے می سے صرف ایک سی تفو ظا ے اور وہ ے بادی تعالی۔ 
کی وک ددخالقدے۔ 

بات ہے ذد ا جھگا۔ 


ُ 
ای یس جصھ 


لے 2د 


راف رط خی 
وَإَنْمَلَتَكلَتتَلِدالتتَاہ: 
غحاقت امت ن کن غیپ 
رح حان ہ نات )١‏ 


ان 


توجیہ:۔ 


م ہی ہنگکں نار سےنریا دک تسین نہیں دھا 

رون نے اک سےا یا روو راب عا ل میں جا 
کیب سے بک سی د یلا 

یس ےپ ابی دن کے مطات تید ےگ ہوں* 








عوقو یا 
یھ ھت ا 


باب اھان 

٘ فان نیدی مک موم نکون ہے ؟ آ نگ رحعت ملعالین روف رتم 
. کافران ے۔ لا یومن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ وولدہ 
. والناس اجععین ۔ تم می سکوئی ممومن نہیں ہو سک جا کہ می ای کے ماں 
باپ اولا اور سب لکول سے زیادوپیاران ہو چائکی۔ بے ہے ایھانکا اہی ال 

لیم رین بستی نے چیا جھ اپپی خوائشل سے بولتا ی تج _ وما ینطق عن 
الھوی. ان ھوا لاوحی یوحی ا لکاکلا ال کاکلام ے۔ ا کاپ تھ الٹ ہکا 
٠‏ پت ہنا کی ھی ایآ کت ا مت 
حب رسول مکل ہے ۔ بی وہ تیم تین ست کی عحب تک بات ہے جس کے یر 
اللہ بھی نی ممتا۔ الد تعاٹی نے تق ران شش فرہایافل هذہ سبیلی ادعوا الی 
الله علی بصیرہ انا ومن اتیعنی (۲/۱۸ ال سف)اے عیب آپ فرا رب 
ىر مرمصطفی جنگ کاراستہ سے ۔ میں تھہمی ان کی رف نے جات ہہوں اود 
سس ات یوصمی زیم گی نر 

: سج مجھھ نی ں کل ۓےگگا۔ لاکھوں جا معات کے مر یلیٹ لئ پچ رجا ہو۔خودسماخہ 
لق بات نے مر ضی اتا ہو. بعیرت کے فی عقل تی مارک جا ۓگا۔ چنانچ 
سای ضا اک رفظ جات ںید 
رات ہے جس بر صعدب یڈ ۔ عھرفار وٹ ر شی اللہ تعالی عنہ چے “نان شی 
رص الد تی عنہ چل “ شی خدار می اود تھی عن چے تن رض ال نعالٰ عنہ 
وین ر تی اللہ تعالی عنہ لے زان بش رحت اللہ علیہ لے “حضرت جنیر 

بندادی ر تال علیہ لے “فحوٹ اعتضمم رت اللہ علیہ لہ ١‏ : 








یا کے مع 
فان رسو لکرم جک 
علاۓے امت تح ماما کرام کے وارت ہیں“ 
دوس افرمان مپاارک 
میرے وین کوسب ے زیادہ نتصان علاۓ سو امیس گے۔ 


00ت ھّ 
عل ہے سو کے متحلق فان رسو لکر یم پللٹگ 
داکی ‏ 


اور 
علماءوسو کاانلاطا نامہ 
(۶زہزدای بہت طوبل ے) 
1 رآ نکر اوراعاد یٹ دا کے ہی ران رو لکریم ن دی 
روش میں 
0 لا ۓکرام۔ اب میوقت ہے د دلو لا تچموڑد سی اور فرمان 
رسو لکرم جم لکریی۔ 
علماء اورام راۓ وم 
۴ رسو لکریم کا فرمان سے ۔کسی تو مکی قسمت دو طبقوں کے 
پا تھ یش ہوک ی سے ایک امراواور دوصرے علاء جب امراءوزاہ راست 





34 


سے مخ یے یی لعل ء١‏ نی رادر اس پ لاتے ہیں۔ مگ رہ چکھل ےم 
نبادعلاء تامراءاور صاحب اقتزار کے سے جا پہ تیار ہو جاتے 
ہیں گرا نین انس یل د نیدی فا دہ نظ رآ تا ہ۔ جا کہ اس کے ہرس 
انی سکلہ ق نکہناجاجے۔ سید ہ آمنہ ری اللہ تھالی عنہا کے مار 
اف کی پا یک نااک۔ جمارت ہوک تمام علان ۓکرام صا زدگان : 
مدکی نشیا نکو چایۓ تھاکہ حکومت کے الیوانوں میں رےلوۓ 
دانے ال اقترا ہکوگر یپان سے کک کر ہو چھتے کہ دو نیدی عکمرانوں ے 
پو یں یکیو ں کیا گیا ہے .گر اخہوں نے آ2 چپ سنادھ لا ہے بل 
ام را ہک نارانصکی ول لیا یں جاہچے۔ 

دوصرىی طرف ووپہ بھی ایت ہی ںکہ اغئیں عالم “ مفتی “صا جزاوہ * 
مخدوم زاددو یر ہکہلایا جاۓے اور نا مول کے سا تع ھا بھی جا اور 
را نکی با یی تح ری کی جائے۔(چنا نچ انل اقتداراسی رہ ےکو 
استعا لک کے دکھاتے ہی کہ اع کے سا ھ یہ تقام لوگ ہیں ) 
تم بوں اور تق پوں تریفوں کے لی باندھ دتے ہی کہ حضرت 
صاحب نے لئ عھرے کے ہیں۔ ای لاجر مکی ہرارو ںکتب_ 
ٹیںا۔ بت پار سا جیں۔دنیرہ ویر 

وے یکل کے نام تہاد عا مکی نفزشیں نس سے دجیادی فادہت 
مل جا گان آنخرت بر باد ہو لی ہے سا نحہ ہوا یس نام تاد علاء 
کاکردار ا کی نشاند کی دا :یل ے۔ 


قا ری نکرام۔ آ کل بیردوفوں بیادیاں عام ؤں- 





بے واذاخد الله میثاق الین آوتوا الکتب لیئلہ للدان- 
ولائکتمونہ فنیذوہ: وراء ظھو رھم واشتروا به ٹمنا قلیلا فیس ---- 
مایشترون۔ (۷۸۸۳]): ت 
ا ط اورپ دکروج نب الد نے بد لیا ا سے جن می سکاب عطاہ وی 
ضرورا۔ ل سے بیا نکد یناور ت پپانا تن و ً: 
ے پچ یر ادا کے دن :یل دا مال ےق 5 











کے 7ش ات یج ددیاف تکیاگیا نکودہ اتا ادا ےا کا . 
- ا ےآ کا لا _گائی جانےگی۔ ہہ : 
(کنزال یبان آ فی ر۳ء۷۸۰) 
اہے آ کوبت پڑاعال انا خودببند ي) 
۶ھ ]8ئ اک ہگ وواستادالمماء سے ہے۔ فلتی ہے ۔کواک ای٠‏ 
وقت اس کے ہا ۓےکاکوگی عالم نہیں- 
فرانای۔ لاتحسین الذین یفرحون بمااتوا ویحبون ان یحمدوا 
بمالم یفعلوا فلا تحسبنھم بمفازۃ من العذاب ولھم عذاب الیم. 
: (۸۸۷۸۳) 
ترجہ ہپ رگزنہ بجھناانڑیں جو خوش ہوتے میں انپ سک پر اور جا ہی ں کہ 
بے یئ ا نکی تم ریف ہو الیو ںکوہ رگ خذ اب سے دور ت: جا اوران 
کے ارات نا ے۔ 











آسمان کے پچ بد تین موی 
ے _عن علی قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم یوشك ان 
یاتی علی الناس زماتہ لا یبقی من الاسلام الا اسم ولا یبقی من 
السلام الا اسمه ولا یبھی من القرآن الا رسمه مساجد ھم عامرۃ وھی 
خراب من اَی علما ٹوھم شر من تحت ادیم السماء من عندھم 


یخرج الفتنة وفیھم تعود_ ( رق ۱| ص۲۲۹۰٣)‏ 


روایت سے حعفرت می ر ضلی اللہ تعلی عنہ فرماتے ہیں ر سول ال مك 


لان خنقر یب لوگوں پر وووفت آ ۓےگاجب اسلا مکاصرف :ام اور رآ نکاہرف 


روا ج تی رہ جا ۓگا- ا نکی مد یں آباد ہو ںگ یمر ہرابیت سے نخای- ان 2 
لء آسان کے یجے بد ٹین موق ہوں گے ان سے مق نے گااور انیں میں 
لوٹ جا ےگا۔ لتئی نے دن خلانوک یکنشت ہوگی ج سکا من مسازانون کوگی نے 
گا پان ان ذات: الد کان ”صاخ بک مم غیب “ ہیں۔ 
نس ذات اک نے قیام تک نشانیاں قلادری چو دہسدسال پیل ۔ آ نکل ہو بب 
کپی ہورہاے۔ علاء سو نی ان بڑھ جائل علاء ک کرت ہے۔ ق کن کبھ ٹں 
یں جا بصیرت سے نیں اور رک کے فووں کے دفترکھونے ہو ہیں۔ 
د ناوک مفاد کے لے الد تال کے دی نکو ہر ہے ہیں- 

ریاکار علاء:۔ امت کے ون ووجنس نے علم سیکھا ٠‏ سفاباادر ت رن ڑا ا 
لایا جا ۓگا۔ اپٹی نت ں کا قرا رکرایا جاۓے گا۔ دہ اقرا رکر لے گا۔ اللہ تعالیٰ 
فردےگ تر نے شکریی میں عم لکیاکیاں ع رم ضکر ےگا عم سیھا'مکھیا' تی رکا 
راوس ق رآن پڑھا۔ الد فرما ےگا تذجھوٹاہے (قال کذدبیت) نے علماس لے 





ہوو 
سیکاکہ تھے عا مکجاجائے۔ اس لے ق رآئن بڑھا تھاکہ تقارئیکہاجاے۔ یی کہہ 
کیچ عم ہوگااوند سے من ہکھیٹچا جا ےگا خ کہ نگ میس میگ دیا جا گا۔ 
(زموجج اب؛ مم ص۱۹۸) 
اک حد یٹ پاک سے ان مولویو ںکو سج حاص٥۱‏ ل کناچا جولں 
نے ریاکار گی ابناشیدہ نلیا خود سخ القابات چالت ران ت لیر یٹ 'علامہ * 
مفتی موی اکٹ "پر فیس وی وو ظی رولس ہیں اور بہت مگ رز ںک دہ بہت 
بڑے عالم ہیں۔ 
قمرآن میش اپنیاراے 
ہ۔ (مکمو ,جب تمم)1ک جن فرایا جھ قرآن جس ای راۓ 
سے بھھ سیے دواپا وکا نگ ٹیل با ے۔ دوس گی روایت ےکہ جو ق رآن شش 
بن رگم کین کے دداپناحکانہ اگ میں بناے۔ آپ گل نے ف اق کن میں 
. ہے علم مولوبی کے نڑے 
وہ (مفکوۃ جا اب اتمم )7ت کل نے فرایاجو ہے علم نے رے ا کا 
من وی کت وا نے رہے۔ آ کی کے دو زی ےم ای ویو نکی 
ببہ تکشرت ہے اپ ناموں کے سا تر مفتی فو مفت ٹیس لگا لیے ہیں۔ الک الما 
کنا ںککھے می کہ پڑ نے والا ران رہ جاجا ہے بے عم ہو ن ےکی وجہ سے اپا 
ایمان ذووگنوا ٹپھے ہیں تدوسرے مسلمانوں کو بج یگ را وکر کے اپتنے سی تج 
دوزںٔ جک کن ا 














ء٢‏ 
سر ور نت قال ط۳ ول ین البی 


قلٴ الااف: شر الشر شرر العلماء و اذ 0 
لماء(ر وا 7 کہ کات '”م6ص۲۵٣)‏ 

3 ۰ اتوم بن جم سے دہ اپے دالد سے روایت 

یی ا ا اک ھا۔ فو خمایاکہ بجھ 

ظ با کے متحلق پو یچ جن بار فیا ۔پھ رفریا 






رین رن خلاہ ہیں.۔ اسلا مکو عال مکی لخزش “ مناف کا ق رن 
راودا و نکی لوم جھدکر ن ےگ - سے 
جہاں مات اورمالم کے تنجلنے سے جہاں تل جاجاہے۔ 

27 ۸۔ جن مکی طرف بلانے والے موا وی 

7 نے پوکِ کے بیان یس ہے۔ آ تا مکل سے ایک صحالی نے لو چھا 
کی راک پور ا کیہ آپ پان نر - قال رسول: الله :لہ 
دعاۃ علی ابواب جھنم من اجابھم الیھا قذفوہ فبھا قلت یا رسول الله 
صفھم لنا قال ھم من جلدتنا ویتکلمون بالستنا قلت فما تامرنی ان 
۱ ادرکنی ذلك قال تلزم جماعة المسلمین واممھم قلت فان لم یکن 
لھم جماعة ولا امام قال فاعتزل تلك الفرق کلھا ولو ان تعض 
باصل شجرة حتی یدرکك الموت وانت علی ذالك۔ 











دوژغٌ کے درواڑے پھ نے وا کے جو دو کی مرف ا نگ بات 
ا کا اسے دوزرغ بیس ڈال دی گے میں نے ع رخ کیا ار حول الد الع کے 
علامات بھی بتایئے۔ فربایادہ ہار ےگ دو سے ہوں گے ۔ ہعالدکی زان مم کلام 
کر مے۔ می نے ع رح کیک ہمز میس یی" چاوں ےآ پکیا عم فرماتے ہیں۔ 
فر میا ملمافو ںکی جماعت اوران کے اما مکوپپڑے ر ہنائیل نے ع رح سکھااگر 
ملمانو ںکی جماعت نہ ہو تہ امام تذ . فرمایا فان قام فرقوں سے الک رہن 
آکر چہ اس طمرع) ہوکہ ت کسی درخ تکی جڑوانوں سے کپڑلو جک تم سوا 
حالات یل مد تآجاۓے۔ اس عد بیث اک ٹیل جھ بات قائل ٹور ہے دەي ‏ ےکم 


آپ کلک فرمان کہ دہ ہجار ز ان می لا مکریی گے لین کہ ع ری میں ٠‏ 


نیدی مولویو نکیا زان عر لی ہے اود جم بی میں ع ری یس ہیں اور تچ ران کے پچ 
ا وت جمسو سو 
2۹ دل شیطان ت انال 

(سفکوق نے باب نت ) فرران مصعفی مه سے میرے بعد اسے پٹوا 
ہوں کے جو نہ می کی عنت اخقیا دک ری 402 کے ان 
یس بھ لوگ اشمیں کے جن کے دل حیطانوں کے دل ہوں گے ۔ جم 
انسانوں کے چنا نچ 'انمانی جسموں واٹے شیطان بڑے بڑے چنفے پنے ہو نے ظر 
آتے ہیں۔ بڑے بڑے خوو سماختہ الا بات لگا ہو تے ہی ںکہ انسان ا نکو کے 
کم تنب ہو جا ہے۔ یہ سازولوں مصسلمانو ںکوگ را ہکرت ہیں۔ با یں بظاہر اتی 
کریں کے لیکن علم سے بے برہہوں گے۔ بد عم برغ جب علا ولک گواور مگ 
اعلام ہوں گے۔ ع بی پولیس کے اس لئ لوگ ان سے بہت دو کاکھایاکری 
2 نی لی تبدمیاوغی رو سب عرب ہک ید اداد ٹیں- 


0 








3 





مو 


۔ 


*ا۔ راکارو ںکو شخبجت اورر سوائ یکی مزا 

عن جندب وضی الله عنه قال قال النبی عَلَّہ من سمع سمع 
الله بہ ومن یرائی یرائی اللہ با(رواہ الظاریو“م) 
کے حضرت ماب اللہ من سے ردایت ےکر رسول ال گے کت 
فرمیاجھ ش سکوئی یل منانے اور شر ت دی کے لن ےکر ےگااللد تی اس کو 


7 خوب دکھا نے گان 


(ج بوریرسلم) 
ڑوت مطلپ انت درکھاوے اور شر تک مرح سے کیک 
اتال کر نے والو نک ایک مزاان کے اس عم لکی مناحبت سے یہ بھی دی 
جا ۓگیاکہ ا کا دزیاادگی اور منافش تٹکوخوب مشو کیا جاک ےگا اور سب 
کو مشاہ ءکرادیا جا ۓ گا کہ یہ بد بت لوگ منافی اور ریاکار تھے شرت 
عاص٥‏ لک نے کے لئ دین فرد ہج یکرت جے۔ 

ریاکار عا مک خمکانہ 
١‏ ۔ (جب الحزن) عن حذیفه قال یا معشر القراء استقیموا فقد 
سبقتم سبقا بعیدا وان احذتم یمیناو شمالا لقد ضللتم ضلا لا بعیدا 
(رواہ البخاری ) وعن ابی بریرۃ قال قال رسول الله تعوذوا بالله 
من جب الحزن قالو ا یارسول الله وما جب الحزن قالوادوافی جھنم 
یتعوذ منہ جنھم کل یوم اربع مائه مرة قیل یا رسول الله ومن 
یدخلھاقال القراء المراء ون باعمالھم (رواہ التر مذی) وھفذا ابن 
ماجه وزاد فیه وان من ابغض القراء الی الله تعالیٰ الذین یزورون الا 





31 


مراء قال المحا ربی یعنی الجورۃ وعن علی قال قال رسول اللهٴََُّ 
یوشك ان یاتی علی الناس زمان لا یبقی من السلام الا اسمه ولا یبقی 
من القرآن الا رسمه مساجد ھم عامر ة وھی خراب من الھدی 
مار شرومن تحت ادیم السماء من عندھم تخرج الفتنة و فبھم 
تعود۔' (رواوا ١‏ ی) 
ا 07 29 آپ نے فربایا قاریوں کےگروہ : 
ساد کت تی بھل دی رن ید سے برک دن 
گرائی ٹل پڑ چا گے وبفاریاروایت سے جظرت ابو ہر بروسے فرماتے ہیں فرایا 
سولج نےکہ خحم س ےک وممیں سے ال کی بن گول وگوں نے ع رخ کیلا- 
رسول اولٹمکاکنوا نکیاہے فریایادوزغ بی ایک جنگل سے جن ے خوردوز 
روزانہ جار سو بارہ نہ ماك ہے رخ کیاکیاارسوگی الداس می کون جا گا؟ 
فمایااپے اعمال میس دکھلاداكکر نے والے تار کی اسے تر نمھگ نے روایم تکیا یاں 
تی ائن ماجہ نے اس یی ىہ زیادو ےک خحداکو بہت نا بپند دہ نقار یں جو امیرول 
گی ملاتقاخی کرتے ہیں محار لی نے رما ]شی لم امی رو لکی زدایت ہے حضرت 
عی سے فرماتے ہیں فیا سول الل کی نے نترب لوکوں پر دووقت آ ےگا 
جب اسلا مکا صرف ام اود ق رآ نک صرف ردان تید جا ےگا نکی مس ری ںآباد 
ہو ںیم ہریت سے ال ان کے علاء سان کے نیئچے بد تبون خل ون گے ان 
سے فقنہ کک گاادرا یس میں لوٹ جات گا 
یادرے 

۱ بڑے بڑے علاء ج کہ اپٹی خود پیندئیکی وجہ سے دریاکارئی ٹش بل 
ہو تے ہیں مل لے دی رہ کے اشتاروں مس دہ جات نی ںکہ ا ن کا نام ان کے 


0 


اھ 


1 
1 













2 


القابات با ہو در میان شی ہو جاکہ لو گکہی ںک ىہ بہت بڑاعا لم ہے ۔ انیں 
> ریاقا کیا سے تو ہکمز کے اکسا کی راواپنائی جاجۓے۔ 

وی:ں بنلدونے ظا 1کیا ےکہ ایی علا رج کے دور میس موجودہیں-۔ 
تقر نکی اج تاد نا یی لس گے کون 


عن جاہر قال حرج علینا رسول الله َُّ ونحن نقرا القرآن 


وفینا الاعرابی والعجمی فقال افروا فکل حسن و سیجئی اقوام 


یقیمون کما یقام القدح یتعجلونه ولا یتاجلونه (رواہ ابو دائود ) 
(البیھقی فی شعب الایمان ) وعن حذیفه قال قال رسول اللہ لئ 
" اقرو الفرآن بلحون الٰعربٔ واصواتھا وایاکم ولحون اھل العشق 

ولحون اھلالکتابین وسیجئی بعدی قوم برجعون بالقرآن ترجیح 

الغناء والنوج لا یجاوزحنا جرھم مفتونہ قلوبھم و قلوب الذین 
یعجھم شانھم (روآہ البیھقی فی شعب الایمان ورزین فی کتابە) وعن 
البراین غازب قال سمعت رسول الله یقزل حسنوا القرآن 

باصواتکم فان الصوت الحسن الیزید القرآن حسنا(رواہالداری) 

(مککو رج ۳٠ض ۲۰٢‏ را بآ داب اوت ) 
تجمہ:۔ جخرت جابر سے فراتے ہی ںکہ رسول اللہ لگ ہم بر تش ریف لاے 
جب ہم ق رآن پھ رہے تھے ع اور جیا سب تی تھے قف رما پڑھے جاؤسب 
یف ہو بے ٹوش انی ہو نگ جو حطاد تکو ای ور حم تک نمی جھیے خر 

سید اکیا جایاہے دخائیش اجرت لی گے آخرت کے لئ نہ ریس گے (اپدداؤر) 

(تلی شحپ الا مان دردایت ہے ححضرت حذ ینہ سے فرماتے ہیں فرمایار سول 

اللہ کل نے تق رن یہ عرلی چوس اور عری آوازوں سے پڑھو عمش والو ںکی 


سس جو پوس سیت 





راکیٹوں اور قودیت دا یل دالوں کے گول سے بے ہمارے بعد و قوین کی گی 
جھ قرآن می ابی گے بازیاں ایک کے تی ےگانے اورنوے یس ق رن ان کے 
کوں سے یئ ض ای ےگاان کے ادر نس پہن ہکرانے ذالوںن کے ول پت می جل 
ہیں گے (خالی شحب الا یمان )اور زین سے اپ کاب میں ددایت ے 
حفرت پراوائن عازب فرماتے ہیں میں نے رسول الہ فرماتے سنا فرماتے 
کہ ق رآ نکو اہی آوازوں سے ز نت د کو کی ا کی آواز تقر ن کا سن ٤ے۔‏ 
۷۔-ے ‏ ےےعلام کی نی ہیں : 
ہوتی بالعالم یوم القیامة فیلقی فی النار فتندلق اقتابہ فیدروبھا 
کما بدور الحما ر بالرحی(احیاءعلوم غزالی خ١ش‏ ۵۳) (عدعشپاگ) 
قامت کے دن عا مکودوزرغ یں ڈالا جاۓے گا تا کا انتڑیاں ہین ے باہر ال 
آنی گی انیوں سے دوزغ می ای ےکھور ےم یی ےک ہگدھاگے کےگرر 
سو ٠‏ 
٭ فو کے متحلق فان رسو لکرمم کل 
داوں پر کت :.() (معگوۃج ے نو ک باب )رسول ال پان فر ار 
دلوں پر تھے خی یں کے سے چنائ یک نیک ریگ 'جودل لے پلا ہیاس میں 
سیا دھبہ پیداکرد سی گے اور چودل١‏ نی برا جھ اس میس سقیددارح پیراہو جائۓے 
گ۔ ت کہ لوگ دوش م کے دولوں پر ہو میں گے۔ آ کل بھی لوگ وم سے 
دلوں پر ہیں۔ ایک عخاق رسول جن اوردوسر ےکمتاخانر ول نھگ 
فتوں آ7 آ فا نے فریا ہکیاتم ودک رہے ہو ج می دکھ را 
اکس نے ری کا یلا کی کے طس وک 
گھروں کے در میان ار ش کی طر گر ہے ہیں 





و ال قزا: ری او کک نے فراا۔ ”ماخ ہون ےجب 

ین ضوباپھھ زیادہ خے ہیں ۔ آپ لگ نے ان کے نام تاد یئ ان کے باپ اور 

قیاہکانام۔ بے دن عالم اگ راوگر پچ وااور مھوے مد عمیانع بوت۔“ 
مب کو موم ن “ظا مکوکاخ رن آپ مل نے فرایاقیامت کے کے بت 
ان یی رات کےککڑو ںکی مان مس دی کو مو من ہگاادرشام 
ہوگا رن کافر۔ 
۔نیرے شیا یگروہ:۔ وعن جابر قا ل قال رسول الله صلی الله علیہ 
2 >× لم اغلظ القلؤتث.والجفاء فی المشرق والایمان فی اھل 
الحجازرواہ مسلم وعن ابن عمرقا ل قال النبیی صلی الله عليه وسلم 
اللھم بارك لنا فی شامنا اللھم بارك لنا فی یمنا قالو بارسول الله وفی 
نجدنا فاظنہ قال فی اللہ ھناك الزلازل والنفس وبھا یطلع قرن 
الشیطن ( جخاری مو خ۸ض ٤یك٥)‏ 

روایت ہے حضرت باب فریاتے ہیں فرما رسول اللہ لال نے کہ 
دلو لکی تاور لم مشری شس ہے۔ اود انان تا والوں یش ہے۔(م) 
روایت سے ضرت ابع عمرر شی اللہ تعالٰٰ عمزہ فیا ہیں ف ایا نے 
090/7 
ع رت کیابارسول اللہ اود ہارے تید مین . فمایا لی ہ مکو جمارے شام ٹس 
برکت دے۔ ای ہ مکوہھارے ھن میس برکت دے۔ لوگوں نے حر شکھایا 
رسول ال اور ہمارے نید مس ۔ بے خیال سے تیسری باد فرایاککہ دہاں زاز نے 
اور خھے ہوں کے اوروہاں سے شیطال یگ دہ گ گا_ 





7 
7 





“]07 0 


۰ .". 2330س تے.-. ں 1 : :0+0 





0 انی اخشی علیھم اھل نجد:۔ (فربان رسول اللر من بے آنے 
آرمیں ا متحلق ول خیرے ور معلوم ہو جاے اصفر کت یس یتر مو کی اس 
بی وت کے متخلق جوابیل خر میں یگ یگئی حفظم رداق یوں ‏ ےکہ ابو برا ماع ین 

و مالک بن مچمفمرملاعب الاسنہ رسول کی خرمت یں بر ینہ موروحاضر ہو ال 
آپ نے اسے اسلا مکی د عوت دی۔ وواسلام تقہ لاگ ر الام ے بج درکا 
بھی انکہارن ہکیا۔ انس ن ےکھاامھ ( ح٢‏ اکر آپ اپنار نقاء بش سے پچجھ لوگوں 

کوابل نیر میس مج دیں اور دددہاں آپ تگلکا ام اکر انیس اعلام 1 
د عوتدی نز جھے امیر ےکہ ال بد آپ مل کے پغام بر ضز در ابی ککہیں 
کے اور بی رآ پ مال نے مکی الفاظط کے ساس پرالد برا و کہا لا نکاکسای: 
رہوںگا خر ا اچ ا وص 
کر دئاگئی۔ ان میں عامر بن فی و بھی تھے جو ححخرت یدب قاکہ رر شی اللہ تال 
نہ کے فلام تھے "ا نکا ضا تھا ”اح بک خی ب'انے پزیغہ مور ٹیل 
نادیاکہ ا کو لا کیہ نے اٹھالیاے ....ہ چناتچہ ىہ ال تب بیس جن کے 
متتلق آپ مکللگ نے اپنے فد کا انہار فربا کہ دود کہ پاڑ ہیں اوریاد رو 
مومن دعوکہ پا ہیں ہوجا_ 

۴× ۔گمراوکر نے وا نے ٹوا( مولوگی؛):۔وعن ٹوبان قال قال رسول الله 
صلی الله عليه وسلم انما اخاف علی امتی الائمة المضلین روابتٴے 
خرت ثبان سے۔ فرماتے ہیں قرمایار سولن اللہ لگ سے کہ می اپتی لمت پہ 

گرا ہگ ٹوا کاخو فکرجاہوں_(مککو رع ۓے ص )۲۰٢‏ 

اس سےاوپ بیان ہوا۔ ائل تج سے خو فک جا ہوں۔ یہ دہ اٹل ہإں 
و صاحب فاعم یب نے چودوصعدیاں پیل مان فرماد یی ٴ وک وا گے 





چب ا 


















٥ 2 :‏ کے اور مرن 
عم وپ ا نکیا تپ اوہ وا کر دش شال 






گر پیا عالطا و 2 وا ٹلا شا ری 
کک و رت ینز اج دنا ےکی ھے میں ی 
ات عم نہیں کرنا چا ےکیدککہ رای مقر بن مال 
ف جا ہے۔ ایس مولدیوں سے بیو جن کاکام ىہ ےک 
نوں نے کی بڑے خود ماخ القابات لاۓ ہو ۓ 







داز سر منڈابوا: ۔ (محگوۃج ۸ باب ہزات روایت ہے اک 
1 ۹ یہو تو ںار پشائ فی دا زادگ چھاوالا۔ مر منڑا 
ڈرو۔ آپ مه نے فر ایاگ مس ا کی نافرمائی 
کروں ہقافا کو نکر ےکا _ کے ال ای زین والوں پراشلن 
4 اشن نہ جانو۔ ایل اک نے نے تی کااجازت اگی۔ حضور 

کے نے فھرماا کہ ا کی اپشت سے 
ایک قوم ہو جو ھن پڑ ھھےگی۔ تق انان کے گے سے نات ےگا۔ وداسلام 
ےت ہرز 

آؾ کے دور میں ”صا بک عم خیب سی افش کے خابت ہوری 

یں ۔ خوارع دای دی بنکی ت رن پہ بہت زور دتیے ڑا یں۔ س بک ف رن کے 
نام پ انی رف بلاتے ہیں۔ اشماعت الق ران ؛ علق رن اور اپۓے آ کت 
لآ ن کی ہیں اوران کے ملئے بھیاسی رح ی ہیں جا ضور(ح نے 
یا نگیا۔ 





8 دی کے نام بد یاکمانے والے ریاکارو ںکو کیہ 
عن ابی ھریرۃ رضی الله عنہ قال رسول الله تن بخرج فی -.---- 
اخر الزمان رجال یختلون الدنیا بالدین یلیسون للناس جلودالضان 
من اللین السنتھم احلی من السکرو قلوبھم قلوب الذیاب یقول الله 
ابی یغٹروت ام علی یجترئون؟ فبی حلفت لا بعٹن علی ات 
سد تاغفل مو نان 









(رواہ ای : 
کے 0ف 
طندالا ور وی انح رواب ےکر مول ان 
: مایا خر کی مانہ مشش یھ ایپ مکاد لگ پیراہوں گے جو دی نکی 0702 
ری نم ا دولوکوں پر ای درو او رکیئی اہ رکر نے اور ا نکو ما کر ۱ 
ےا یا می 
ہو ںی ران کے سینوں مس بھیٹریوں کے سے دل ہوں گے (ان کے پارے : 
یس او تھا یکا فرمان ہ ےکیاب لوگ میرے ڈنیل دی سے در ۶گ رکھارے:٠‏ و 
ہیں اھ سے نر ہ ھکر میزے متا لے ٹس جا تکمرر ہے ہیں یں یھ اپنی تم 
ےک میں ان مکار وں پر انی سے ایا تن دکھٹ اکر دا نگاجوان یں کے شف نروں 
اورداناو ںکو بھی ران بناکر تچھوڑ ےگا۔(جامع ت نر ی) 
ر6 
ئن حدیٹ سے معلوم ہواکمہ ریاکار گی فا _ کر عاہدون 

زا کی ضز پاکزاو راپ الال کے پان بن ان خاص ان ظا 

کی غرم شی یی پا یکر سے ال کے سادولو بندو ںکواپکی عقیرت کے 





1 


۹ 
1 





و 





سر او ت وا 


اگ شش پھانساجاے اور ان سے و نیاکمائی جاے "مین عم مکلاریافاریے اور 
ایے لوگ کو اتا کیاتعیہ ہ ےکہ دہ مر نے سے پیل اس دنام بھی نت 
فقنوں یس جا سے جانہیں ے_ 
* تق رمروں یں وع کی جا ے اشعار و تھے منانا 
.( ہکوج ۳ ضف رجات حطاوت ‏ ۲۸۱) 
عن عمران بن حصین انه مرعلی قاص یقراٹم یسال فاسترجع 
ئم قال سمعت رسول الله یقول من قراء القرآن فلسیال اللہ بہ 
سیجئی اقوام یفرلون :القرآن یسالون به الاس (رواہ احمد وا 
لترمدی) عن یریدة قال قال رسول الله کُّهُ قراء القرآن یتاکل بە 
الناس جاء یوم القیمة ووجھه عظم لیس علیہ لحم 
(رواہ البیھقی فی شعب الایمان ) 
ریا ایک ققصہ خواں پ رگزدے جھ ق رآن بڑھتا اوزلوگوں سے پانکنا ھا 
آپ نے انا مل گیا فرایاٹش نے ر سو اللہ کو فرماتے ‏ ناک جو ق ران 
بڑھ یں کے کیہ صعرف الڈرے با گے منرت ای وی ہو ںگیجھ 
قرآن پڑھی ں گی ای کے ذد می لوگوں سے ای کی (اھ تیر دایت ہے 
خرت پریدہ سے فریاتے ہیں فباا رسول ال لگ جھ ق رآن بڑھے اس کے 
ذرعلوگوں ‏ ےکھائۓ وہ ق یت کے دلن ول آ کہ اس کے منہ میں پڑیاں 
بن رش دجرگانت 
تر جن یی ا نکی تام لس صرف لہ سی نکرنے کے لے ہو ںکی کہ 
دنیاذارپن کی واوداو ہو“ پے خوب می الام نہ ہوگاپچلر فا بکیے میں 
جا نکی قبت ہو ۓے کہ قال بک ہر عبادتکا ىہ تی عال ہے اللہ تال 
اخلا نی بکرے حور فورح کی ىہ ار اتی ا نک مت پر نی بللہ ریا و 


کورہے۔د 





مد شی نکی اصطلاع می قاع پشہ ورواع کو سے ہیں ج اپٹی تر 
مس اکام شر عیہبیان :کرے رف شع اشعار ت ےکبانیاں سناکرلوکو ںکوخول 
رن کیک وش لکرےاگرچہ ق ران ریف ىی کے تجیے سنا ۓےگر اکم سے 
زا یس ےآ کل کاعا مر داع ے۔ 
۷۔ می رکیاامت کے پچھھ لے بت بر سک بی گے 


7٠ء‏ توظرووہ' س۳۰ کو ںو ینا - 


مفتی ایا خاں تی تق کرت ہیں۔ 

(جونے چی جع وٹیکرامتیں جو ے مرید) 
وعن ٹوبان قال قال زسول الله تہ اذا وضع السیف فی 
امتی لم ترفع عنھا الی یوم القیمه ولا تقوم الساعہ حتي تلحق قبائل من 

امتی بالمش رکین وحتی تعبد قبائل من امتی الا وان وانه سیکون فی 

سی 5ار و کرو ای نا خاتم النہین لا نبی 
بعدی۔ (تزی) 
تمرنے مت ان سے مرا ین فرایارسول اون مه نے 
کہ جب می ری امت می موا رکھ دک چادے فو قیامت کے دن تک اس سے نہ 
اح گی اور قامت تائم ضہ گی کہ می کی امت کے بج تل مش کین سے 
مل جائیں کے اور کہ می ری امت کے پھ قیله بت پر سیک ری گے اود می را 
: امت میں یں جھوے ہوں کے وہ س بما نک سی ےکلہ د اللد کے مھ ہیی 
عالاکہ میس آانخر یی ہوں میرے بح دکوڈ نہیں اور می رک اص تکا ای کگر وہ 
ت40 رہ ےگا سب پر غا اب ا نکاخالف اننیں نقصان نہ پچچا س ےگا کہ الل کا 
کم آپارے۔ (اوداؤت7وی) 


40د 
جھوٹے پیروں کے فوٹی یر می ودک ہے( ملق اھاراں 
تج کھت ہیں) 
انا ون اک یق وآ ا ےکساران یت ود ہے 
اکم کی گے لھذایہ جحل کرد نیس ہم نے دیکھاک مع لاف ان یدن 
کے فوڈوں کو مد دکرتے ہیں۔ انی چو ھت یں ساکر کھت ہیپہ ہے اس 
عد یٹ کا پور رو کے ان فوٹوو ںکودو لوگ کے ہیں مر تع ریف بے ان کا 
نا مات تنک نے دجھے گے قرو ںکو یت لوگ 
کید ہکرت ہیں۔ یف ز دو رد ںکو سید وکرتے ہیں ہے بت پر سی نحوز ا 
جھونے می جھوے بی نکی باج جات ہیں 
اا ران مھ یکککیت یں ) 
ایک کہ بش نمیا مور شریف آد کی پکڑی اچھانے اس پا 
مق لمہ کرے تاکہ اک مقالمہ یس مرکاشہرت بد دو زے کہ جوکسی خن سک 
دا بھولے ریقہ سے اپچھالے نہ ال کے ذد یہ بے زت دروزئی لے 
یے آن کل بن تجھونے چیروں سے مرید الگا وٹ یکر ات میا نکرۓ 
رت یی امہ مکو ای کے ذد یہ عزت کہ ”ماس کے باکے ہیں۔ ) 
ایر نے اک بجی اشن ام و مود پائے شیا یک ل اضر 
سام شیا زیت ٹر ربق لیا 
ایے ن کو عام سوا کیا چاو ےگاہز فزشند اسے ادگ جگ ہک اکر کے اعلان 
کر ےگاک وگنہ بڑا و ٹا دکار فی تھ(ئ ققات_ و لحات وی رہ) 
لھا نے ما نے مم ومن سب و فا یں واعظ تک بے 










کے رت 
2 مك ایت و انكك عالم 


0مھ" یئ 
ڑھایااسے لا اپتی نو ں کا قرا کر ایا جا ۓےگاوداقرا کر ےگا 

ا یں عم لکیاکیا۔ ع رح کر ےگا سیا نکھایا تی کی را 1 

اف با ےگا 9جط سے قنے ا لے عم سماکہ ےا ہاج 

لے ق ان پڑھا اک تقر کہا ببادے وہ کہ ہل گیا ا اف 
کیا جاد گا ت یک آنگ میں بپھیک دیاجاو ےگا( مککو ناش مکیکتاب ) 

٣‏ ۔ اپچھا عال مکون ہے ی 


وعن علیٰ رضی الله تعالیٰ عنه قال قال رسول الله لّانعم ٠<‏ 


الرجال الفقيه فی الدین ان احتیج اليه نفع وان استغنی علہ اغنی نفسه 

(رواورنینٰ) 
ترجمہ:۔ زوایت سے حفرت علی ری اللد تی عنہ سے فرراتے ہیں فربیا 
ول اللہ نے دہ عالم دن ذاہت اپچھا ےک اگ را کی نی 
اد ےاگ انس سے ہے پر دای ہو تو اپ آ پک بے از کے(ر زین )ین 


طرر ید 


2007 





۲۳۴ ۔ عا مکااھزاءائل انار کے در یہ جائاکتاخط ناک ہے 

وعن ابن عباس قال قال رسول اللەنَكِّےه ان انا سامن امتی 
سیتفقھون فی الدین ویقرء ون القرآن یقولون ناتی الامراء فنصیب 
من دنیا ھم ونغتزلھم بدیننا ولا یکون ذلك کما لا یجعنی من القتاد الا 
الشوك كذلك لایجتنی من قربھم الا قال محمد بن الصباح کانە یعنی 
الخطایا (رواہ ابن ماجھ) وعن عبدالله ابن مسعود قال لو ان اھل 


العلم صانوا العلم ووضعوہ عند اہله لسادوا بە اھل مانھم ولکھم 
بذلوہ لاھل الدنیا لینالو ا بە من دنیا ھم فھا تو علیھم۔ 


( گر رح ٴ؛ض ۲۲۳) 


توں (داری)اردایت سے خفرت ائین عباسں سے ففرماتے ہیں قرمایار سول 


لعل ن کہ می ری امت کے پھ لوگ عم دن یھی کے اور ق رن ہڑھییں 
ج ےکی گ ےکہ ہم ام رو کے پاکں جا اناد نیالے یں ادن بچالا کیل 
لین اریانہ ہو ک ےگا یسے ببول کے ددشت سےکانی با پپنے جاتے ہیں اہی ہی 
امیروں کے قرب سے( مع بن الصبانے فربایا مطلب مہ ہ ےکہ )خطائمی ہی 
چنا جائکی گی (ائن اج) روامدے حضرت عبد الد این مسحودے فرماتے 
ہیں کہ اکر لا علم فو ظا کھت اور اے ال بی پہ ٹین یکرت فا کی برکت: 
سے اپے زماتددالوں کے مردار ہو جات گر انہوں نے علم دنیاداروں کے لے 
خر کیا کہ ال سے ا نکاد نا انیں- 

تقر تش را امراء کے پاس علاہکا آناجاادین کے لۓ خط ناک ہے۔ائل 
اقتژار عا وں اور پیروں کو اپ سناس عزائم حاص لک نے کے لئ ال 
کمرتے نی اور یہ عالم اور پیر تھوڑے سے دنیاوکی فادے کے لئ ابنادین تچ 
دن ہیں کن ھا خریدار یی ۓے(فیئ مایشترون) 


۱ 





7 


ج۔ لاس خی کی ےکس ے لک 

(علاءکی لد نپاتابر اۓپاظ)' 
ساس کی 01با 
۸ھ )ادار یہ یسل تاے۔ تار بے بر طاعیہ سے آتے ہو کے 
7 ا ا ا وا کھ ا میا 
ہے۔ ادارسے ‏ سککھا ہے (صس *۹۰۱) کی رام اہی بقا کی جک لڑانے 
گے اس قذ رکرور ہوم کہ انی اپ ےگ رکی بجائے اققر اد کے مات 
کی داواروں کے ضمانہ میں مرن پڑا۔ ال اقترار نے جب علا مک ا مکو_ 
اپدروازدل ھ4 ہکنڑے دیکھا تا نیس بری ط رح استعا لکر نے گے۔ ٠‏ 
کیے وال اکھت ہ ےکہ یس اتی ذاستان سنا تا گیا۔ خون کے آنسو بہاجاگیا 
اور پر طاشی سے ا ہو ۓ دوس تکو رل٣‏ کیاکی نے سر اٹھیا۔ تھے 
دیھاا کی ہمگدوں میں آ سو تھے 7گ ےالھتڑاے۔ 
علا مہکرا مکوبچھو ڑکر ما کرام صاجزدگاں ' برزدگا نک بات 
کروں تو رون آت ہے" مر ے دوست نے با اک پاکتان کے اک واعظ 
“پچ زارے بدررسوں کے باضمیشن(مفتقی ححخرات )ہمارے پا بر طامے 
آتے ہین ہر مال آتے ہیں بک اب سال می لکئی اد آتے ہیں۔ انا 
انا طییب “اپاانا”'مقدر سی ٹک جاتے ہیں نان کے آنے 
کاکوئی محمد ہو جاہے نہ اس کے واں چان ےکا کو غمیائیش نے اے 
روکااور ای ” ہز رگوں “کی ولا بی آمھدنی کے اثرات پر ایک نظرڈال- 
برا نکی اولادوں پہ ہو نے والے سوا شی اشثرات ب نگ دکی تو کاپ 
میااد رای کے عالم میں آسا نکی طرف دی لگا۔ 















سے 


می راشرس ےکرگمیوں کے موم یس 1کری علاءولنددن ورپ دغیرہ 
کاچ کات ہیں ایک مھت صاحب کے پاش بیٹھاتھالنیزن سے فون پا ن کاراب 
ہول۔ اع اد رکیپائؤں کے علاوہ وو فی صاخب دو رکی مرف مت وا نے 


تھے ای ےت بک چھتی پئیں بھی بدا ہارے بھی چند ایک پر کرام مکرا 


دو ٹیر وو فی روش ماتے بای ند ا ار سوچوں می کم جن کیلالباں خر 


از اس ما ونام ا رکی مگ ۱۹89ء( ذ دلج 
۸ھ )اداریہ مص ہب ےکوی خالم دن در ہار شا یکی طرف چا 
سو رش یکرت نظ راہ فولوگ اے 


اتی لوم کاو ظیفۃ خوار کت ہیں‌یا طول اققرار کے لج دھاکر نے والا 


ملاں خا لے یں۔ (ص۵) 
ہب اذار یہ آگےکگھتاہے۔ آرچج کے تیجوں کے خوش جیاں خطیب ”وعظ 


: فردشی :زع گے ہیں آج ر سول اڈ ملک لحعت خواں ”ام رام کے 


رئا کان 
02 ا براخلاقی ے(ما نا ااسعیون .ایم گی ۱۹۱۹۸, ص۴) 
او ریچ الاول ین مقلف شرروںکی نہیں تق می 80222 
ات زادؤ نکو صندارت کے لئے بلالی ہیں : لکن جب انیس بیرونی ھمائک سے 
ین انستان ام کیہ وخی رہ نے و عوتیل مل جائی ہیں ت2 ڈال پان ڈکیکشش ایک 
ای بداخلاقی جو کرد ہے جچوکہ ایی نیس ہونا ا ےکھت ژں_ 
(ماہنامہ السعیر۔ادارىے- گی ۱۹۹۸ء )۱١‏ 








عرت ا زدہ ما نے انام اپ ار مال ے 
مزر تکی ہے ۔ جنیوں نے پاکتان کے بجاف شہروں کے لے لہ 
بروکرام بنار ھے تھے اور حضرت صا ججزادہ صاضب نے ان مل خر وک 
بھ یک رام تھا اب یہ تام بر وگرام مضبوغ تسور ئے جائھیں۔ 
029 مین! 

جن لوکوں نے وی محبت سے مل میلاد کے پر ورام ہنا اور ایے 
سا ارول اگ ای الم ای عواع کی رات و عرت می این سے 
جواب مل صاججزادہ ن ےکیسی لزاخلاقی کا مظائززہکیا۔ صرف اس س ےھکیہ سیر 
جاےاوڈل پا کی نے خلقا کو لاد 

سے کی ا ماک وتت نے ایک مجاز 
عالم دین کے بدرے بے لئ زکوۃ فیڑے لاکھو ںکیگ ران فا منظوری رے 
دگی۔ برا ہا کی قت تھ یکہ اس متازخالم دن ن ےکا زگ ماپ ہنا کے جباد 
او سے ا ٹرارد ےدیا۔ 

ففسادر الرعایا بفساد الملوك و فساد الملوك بفساد العلماء 
رفساد الَلمَاء یلاو عت المال والجاقر 
کی رعایائٹش ای رک اس لئ پیداہدثی سےکہ راو ںکی ٹیتوں میں فور 
ہوا سے اور حر انو ںکی نیتوں می فور اس لئ نم لیا ےکہ علاء بد بیت اور 
دراو ہو جاتے ہیں‌اورعلااس لئے بد دوہ چاتے کہ مد چان می بت 
ا نکی سوچوں‌او رآرژو کا قل وب ئن جا تے۔ 


٠ وا‎ 








ری کرام رہ ہیں قیام تک نشایاں 
رول کر نے چودہ صمدیاں پل ا نکی نعائری اکر د اور 
فرایاکہ مرے دی عکوسب سے زیادہ نقعمان علاءسو پچائیں گے_ 
مم بے سے کک 
. خود بدلجے میں قرآن کو چ8 رین ہیں 
لزا داۃالیرضوں) 
08 می ۷م 
مارےر کول کر مم ملک نے چذدہ صمدیاں پپلے ۴ہیں ان علمام سوگی 
خی دی جودنیا کے شع لاٹ اپنادین خرا بکر کے آخرت میں جم میس 
جامیں گے اپنے اد دگردد ھی رسول کر کی اعاد یش اک بی نظ رآری 
ہیں۔ 
دنا کے فنا لا نے علام کے دی نکوکس عدہتک خرا بک دیاہے اور 
آج جھاسلا مکی عالت زار دکھاکیادے رع ہے ان جیسے علا ہک وجہ سے ہےکہ 
یبود نصاائی دین اسلا مکواہ بربا کر نے کے منصوبۓےے بغار ہے ہیں ۔ بگ ہکوئی 
م دن تد جانے نی دستے۔ 
دعاکرری اللہ تالی جیں اپنے محبوب کی نل اہی علاۓ سے 
چاۓ۔ (1ن) 


می سفسوسممسجیویشیست ۳ا++پِ پ9و+ ‏ 


ححضرتے ع کہم الد چہہ کرمیکی عالم کے متحلق را 
(ف مان مارک بے اان لوگکوں کے دیک نے کاکتا شوق ہے س٢‏ نکا؟ 
اش اس ع مکواٹھانے والے بج ٹل جات 


ر لکیاے۔ : 
0)۔ عفرت عی خی ال عنہ نے ایک با ر حطر ت ممیل ری الد عنہ سے 
فرمیادل رس چووفْ ف7٣‏ 
میں تپلیس چو پاسی کہ رپا ول وویادرکھنا۔ : 
)۲ و دی اک عم دبای۔ (پٹ) دوسرے و عم 
حاصلبکرنے والا جو ضیات کے رامع پر جو را سے ۔(ت) تیر و ہی 
اوررذئل لو وگ جو ہر شور جانے دائلے کے کے مل پڑج ٹیں۔ اور ہر کی ہوا 
اذہ کوہی رر کر لیے ہیں۔ تہ فو عم کےکور سے روشعنی حا لکی۔ اور نیا 
موا بر و ری چادعا گا۔ 
)(۳)۔ اوراں۔ 7 کی سے بہترے۔ علم تہاربی حفاظتکر ناس اور مال 
کی تفا طف خی ںک رک اتی ہے علم عم لکرنے سے پڑھتا سے اور ہل خر کر نے 
ےکھت ے۔ حا مکی محبت دی سے تم کال قالی کے ہا بدلہ لےگا۔ مع مکیاوجہ 
سے عا مکی نی یس اہ کی بات مال ی ای سے اود ا کے ممرنے کے بعد ا کا 
ھائی سے تک رءکیاجاجاے۔جبمالی چلاجا سے قوما لال رکیادرما لک جیا 
لے وان ےکام بھی شم ہو جائے ہیں۔ مال کے ٹزانے شع کرنے دالے نرہ می 
یں ووە مم ددشمار ہوئے ۶ اور لاءج بتک ز مانہاد ےگا ہی ری ہے۔ اع نے 
رود سے ططے میں کے کین ا نکی خظمت کے نخ و اون میس ہاتی ری گے۔ 
(۴)۔ حضرت یر صی امش عنہ اپنے سبنہ مبارگ مرف شر نے 
7 و ا : 
اوریہ بات ور سے سخواور ینہ مرار ککی طرف اشار ٥ر‏ کے فرمیا۔ 
اس پل ایز بر وست علم سے کا اس مل مکواٹھانے والے بی مل جاتے۔ 


348 


سرن 
دی نکود نا کے بد نے یچ دانے۔ جن نکی مھ نمی زہے لان ان پر اشمینان 
یں یا دی کے انار کنیا کے لے امقعا لکرتت ہیں وق رن می ال تقال 
نے جد لان مان کی ہیں ان سے ت رآ ن پک کے غلاف دی خابت کرتے ہیں 
ادرائشہ تا یکی تو لکواس کے بندروں کے خلاف استعا لکرتے ہیں_ 
دینش شی بے ول ٢‏ یں پددار تو ہیں لکن انی 2 
کے ز نز وکرن ےکیاکوئی جھد نمی اور دی سا شیۃ یی آتے بی ان کے دک جس 
شیک اہو جانا ہے نہ ا طط رف طویخت جک اوہ اس طر میں 
(ت مال ج نکر نے دالے۔ جو لغ قوں مس پڑے ہے ٹین اور آسمالی سے 
خواہشما تک بات ماع سیت یں ۔ یا بج4 ای لوک لت لان جناژنی شش کر نے آذر 
ذ رد رن ےکا می جب رھت ہی۔ مہ اسان دین کے دای بھی نیس ہیں اور 
تچ نے دالے ججانو ران دولدان کے زیادو مشاہ ہیں- 
انی اکرام۔ ملا ت ےکا کات باب مین ا لعل نظرت عل یک ماقہ وج الیکا 
مان مار ککتا ہیی کل :یس دنےد نیا کی جاری ہے جولوگل 
درکناکے دہج ہفنے یں دودی نکیا قھت اید نیش لے ر ہے ہیں اپیے لوگوں کے 
رن بن عرزز ندگی دک کر انسان اضا کمتری ای تل ہو جات ےکہ پھارد- 
ڈار۔ وڈ وق ویش مست لوگ خر یو نکو ما دگی کا درس دے رس ہیں کسی 
منافت ہے۔ ہہ سماد اما بکماب روز قیامت ضرور ہوگا 





کی 


ولا ۓکا لئے 
یں 
کے سک لود یت ےکاکتاشوق ے 


ال تال از جن پر ا کے خیفہیں 
7 تل تل ا ات وی سز ےگ ود 
عخزت عی رش اللدعضہ فریا ےن سی ا کل یا 


کی بھی ال لی یی ان ہو نے اع خی تق ون تل کن 


کھڑے وت میں تاککہ اللہ تھی کے ولا تل اود وا اشکام بک اور معل ‏ 
قراردیئے جائیں۔ ان مرو کی داد اہ بہ تک ہو لن اللہ تقالٰ کے پان 
ان کادرچ سب ے بڑا ہے اور اللہ تا کی ممبوں یی خی ات پر جو قلط 
انحتراضات کے جاتے ہیں ا نکو اللہ تی اپنے بنروں کے ذریعہ دور فرہاۓے 
یں یہا لت کک ووان مب کا نے جیے بندد و تک ڈیہ ان کے دولوں میں 
اتاردپے ہیں او سای ع مکی دجہ سے ہام رک تقیقت ان پر دا ہو جاتی ے۔ 
اور جس ام رکی حقیقت یل و عشرت دالو ںکود شوار نظ رآلی ہے دوان کے لے 
بہت آساان ہو لی ے۔ اود ج کا موں سے چائل لو ککھبزاتے ہیں اور و حشت 
مو سکرتے ہیں ان یش ان کا لکلناہے۔ می لوگ الد تال کی ز ۲ن پہ 
اس کے غلیفہ ہیں اور اس کے وین کے داگی ہیں اللہ !اللر جھے 
ان الگوں کے دی ےکاکنناشوقی ے_ 








-۵ 


بسم الله الرحمن الرحیم 

شر ککیاےے 
ال تا یکی ”الو بی“ کی خی را دکوش ری ککر ناش ر ککہلا جاہے۔ 
اللر لی نے اپ صفات خلا کریمی ٴ رژفی ٴ رحیمی ٴ رحمت ٴ 
خالقیت صفت 'حیانو مماثعف وٴمل وکیت ُعلمیت اور / إویت 
ہمارے رسو لکر مم نے اور اپنے محبوب پل کو عطا قرمادی ہیں۔ 
یوک آپ کلم ر ذاتالھی ہیں۔ 
جن زعط اکر دگی جاۓ پل راس سے ش رک یں ہو تا۔ 
واحعد زج اللہ تقالی ‏ ےی کو عطا فی ںکی دہ ہے ”الوہیت “ اپ 
ذا تکیاوعداضیت اک یکو نو حی کچ إں- 
معلوم ہوا تب بات تیور پا یں رے۔ 


وی نے بنلد ہک یکنائیں ”الزام شرک کے رو میں “اور مسطر اساعیل دہلوئ کی 
تاب فو ین الا یمان کے رویش یمان ضرورپڑھیں۔ 





شت نو تکائلز 
اخقاقی ر سالت 

الد تعاٹی نے ای چا نکر وانے کے لے اپنے فور سے اپنے محیوب 
صلیٰ الله علیہ وعلی آللہ وسل م گا فق گی پیارا :م تر صلی الله عليه 
وعلی آلہ وسلم رکھا اور اپنے لع بأندترین ا۶ زازاور رہ رسالت ے آوازا 
مم رسولاللر صلیٰ الله عليہ وعلی آلہ وسلم ک کر اہ ساتھ تلق 
تایاکہ میرے بعد اگ رکوئی اور بی سے پودہ مج رسول الد صلی الله عليه 
وعلی آلہ وسلم ہیں جن کے گے مم نے ہیکاتحات بنائی ہے۔اپے انیاہو 
ررکل سے عال مار وا ھی شی عبدایاکہ اس بستق پر ایمان لان گویاکہ ام اخیاء د 
ر کا مام سرداد یدبا شاواور حا بنادیا۔ 
٢‏ اب زان می یہ سوال یداو تا کہ اڑی بت ”تا مظبرذا تی 
ہی اہول چاینے۔حب می محبوبی تکا مطلب پوراہوگا۔ چناج رسول کرمم) 
صلی اللہ عليہ وعلی آلہ وسلم کی رسماات کے اخختقا کا جائزہ لیے ہیں 
کرد ہکیامقام رت ہیں۔' 
(الف)۔ اس سک نے اہن خالقی ککادیدارکیاہو فشک کی ہوااور مور کیاہووو 
اس ےک ہکفا رک ہکاران ہوکر یکنا ابَکل للألكَ الا سان ا 
ذّی شتحایک(م ۵) تج کیا نے بہت خداؤ نکو ایک ند اکر دیا یک 
یہ گیب بات ہے اور کغاد کے اس سوا ی کے جو اب میں وہک یکہہ ےک ہا 
وہ واعد ج کی نے اس اسے دیکھاے اوراس ‏ ے کو جھ یکی ہے۔ 
(ب)۔ ود یکا نیا تکودودکھھ رہ ہولشنی عاضر وو ظ رکنار کوڈرسناتا کہ الد 
تال بایان نہ لاکران کا شھکانہ "نم ہے۔ اورایمان لاک صا ھا لک ے 
نت نے وی و اس کے لئے ضمرودی ہ کہ بے س بکا ثحات ال سکیا 


نظ ریس اہی ہو جی تی یکو یکھاجاے_ 

(ت)۔ محبوب ہو نے کے نا ووالئ تما یکا چناہواغتار ہومشن عتار 7و 
(ث)- الد تال ی ککیا در سائی کاو سیل ہ۔اوزرائٹد تھا ی کے تضور شفاع تکرے 
(ج)۔ کا نات کے متعلق پورے علومکا حائل ہو 

(ع)۔ شک ا طاعت- اللہ تفالی خ یک اطاعت ہو نشی ذر وذد وا ںکامٹ یہو 

(غ))۔ جکاذکراللہ تال کے نام کے سا تج آآئے۔ 

مک جو قمام مان کے لع رحمت ہو۔اور دش ن بھی رحمت ات 

()۔ میس کے مک ماقد سکاہراعضاۓ مبارک نجزہہو۔ 

ل2 مکی ضا تال جاتاء۔ 

(ص)۔ جو قیامت کے روزاو لاد آد مک ردار ہو رم تین ہو 

(ل)۔ کا مقام (رو زقیامت )متام حور ہواور دوک شش کے دامٹیطر +ن۸اقان× 

(م۰)۔ ضیے نام وال ےلوگ وزرغ یسنہ جائیں۔ 

(ض)۔ 2 موم ہواورارادہ گناہ سے تھی اک 

(()۔ جکاائتی ہو ےکی تنا موىی علیہ الام کک ریی۔ اور الد تھا ی ہی 
علیہ الا مکواس بستی بر درودوصلوۃ کی کا عم دیں۔ 

(ظ)ا_ درک ددہاں جج ریگ اشن ہو ۔ اود قمام ملا تہ ے دیذار کے لے 
الل تا ی ے۶ رخ شک ریں۔ 

ران موم پر مقام اول تی اول ہو۔ 

(غ)۔ جو اعم اپاکین کا باہو احامکا نات ہو- 

لاد یھ نے اللدتھال کی راوٹش ہار پا عکوار ل ےکراللر کے دشمنوں سے نبرد 
آزائیک×(غزرات) ۱ 

قا دی نکرام۔ حبوب اہ رىی طور بر سلسلہ نبدت می آخکی ہوا کا 
ایت بعد ہے سلسلہ تام ہو جا اگ رکوگی اور د عو یکرے نو دو مچھوٹا کاب 
غبیث اور مر 


7 





مات کفر ےھ 

فان ای ے۔ یحلفون بالله ما قالوا ولقد قالوا کلمة الکفر و کفروٰا 
بعد اسلامھم (ل,۹/٥ء)‏ 
ترجہ :الا یکا می ںکھاتے یں انہوں ن ےکباادر ینک انہوں ن کات ' 
کف کے او راف ہو گے امسلام لاٹ کے بعد 
کل ہکن کے میی۔ ۱ ۹ 

مر مصطلل نو ر جم رحتہ مل لین رف ر تم صلی الله عليه وعلی 
آلہ وسلمم کی شان اقر ‏ کے انار وانے الفاظاداک رق آپ صلی الله عليه 
وعلی آلہ وسلم کی ذات انگ  '‏ مالات 'صنات 'جلالات "الات اور 
مات می کک تن یکرنا ا نکو گنا انی اپے یے عام انسانو لکا اپ لانا 
اورانراز ان ے کُّرہ وٹ کی بھلانا۔ ای ےکلمات سے نکر ضورصلی 
الله علیہ وعلی آلہ وسلم بترا ہو ائیں۔ کر ارگوا 
ادا ےک یکفر 
0پ" سے ٣۶‏ ے ۔(الف) زبان ‏ ے (بادل ےب 2 
اہر یاورہ ین 

اس کے سا تحمسما تھ تر کی طور پر اور دل ی۲ مھا نکرنے سے تھی 
ادا و چاتاے_۔ 


دجو 

ای ےکلرات جن ے آقاصلی الله عليه وعلی آلە وسلمکغان 
اقر ٹاک آپ صلی الله عليه وعلی آله وسلم او رکروڑوں سلمائوں 
کواذا یئ جائۓ۔ یجس کے مت کت ہوں تق آپ صلی الله علیہ وعلی 


ا > 


۳ 








و ا 


معائی ہول اور ہیا اس ک ےکہ بن ممقکا تا بکیا جائے۔ ابیے معنی لے 
جائیں جو آپ صلی الله عليه وعلی آله وسلم گا غان کے غایاںد ہوں 
مااسور دا کی میں لفظ ضا“ کے چودہ معن ہیں ۔ اگ راس کے متت یگ راو کے 
لئے جامیں گے تو زم یکل ہکفر بن جاۓ گا۔ اللہ تا یکو بر الگا عم ف رمیا للا 
تقولواراعنا وقولوا نظر نایادرے آ 7اصلی الله علیہ وعلی آلەوسل مل 
ان افرس می لکفر کے کے چاہے دانستہ طلو پر کچ یانادانھ ور بر اود پر لاک 
ال تا یی غتمسی ںکھان ۓےکہ می امطلب و ىہ نہ تاد ظ دو غیرد کف رکا خیاب 


ال تما لی کو اچ عیب صلی الله عليه وعلی آله وسلم 07 

١‏ شمان افرس می ذرہ برابز کی فوبن و تنخفیص پرواشت نہیں ۔کفار و دنا نین کا 

2 وتبرہ تھاج اک کیاکر تے تھے ”ال ن کی عدد در ےگا“ فیصلہ الئی آیا۔ من 

کان یظن ان لن ینصرہ الله فی الدنیا والامخحرہ فلیمدد بسبب الی 
السماء ٹم الیقطع فلینظر ھل یذھبن کیدہ ما یغیظ ۵ (۱۳/۲۲) 

0٣‏ کر حپ رب اکٹرے 

مر ے عحبتکفم ہے سے ایک عام 1 بات ہ ‏ ےکی وککہ موم نکفرے 

نر تکمر ےگا تب بی نو موم نکہلاتۓےگگا۔ منانفکن مد بینہ منو رو نے کلم تفکفر 

کے او کہ پڑ ھن کے باوج داللد تی نے انی لکنا قراردے دیا۔ ا نکی نماز ہیی 
روزے رگ زکووو یر وسب برہاد ہو گے اور جن مان کی منزرل ہ نگیا۔ ٭ 

فرمان لی ے۔قدنزل علیکم فی الکتب ان اذا سمعتم ایت الله یکفر 

بھا ویستھزا بھا فلا تقعدوا معھم حتی یخوصوا فی حدیث غیرہ انکم 


آل وسلم کا پارگا گ۷ نت ہوں_ تن عم ے سیل کے لت مس ْ 





0007 00 ہہ 


اذا مٹلھم ان الله جامع المنفقین والکفرین فی جھنم جمیعا ۵ 





7 


)۲٣۱٣اض(‎ 


تر جم :۔ اور پیک اللہ تعال یتم ہکتاب بل اتار چا کہ جب تالل تھا کی آتول 
کو سوکہ ا نکادگا کیا جا ناہے اوورا نکی اڑاگی ای ہے فان لوگوں کے سا تر 
و دواد یا میں مخولی یپ دن ونعہخم پیٹ یلا نت 
الد تھا ی ما فوں اورکافروں س کو جن میں اکٹھ اکر ےگا۔ 

اہم ات۔ 


الف۔ ال قالک چو سو سو الله عليه و علیٰ 


تن 


ں۔ 


آله وسلم کی شان اق کا تصیزہ ہے اس لے کلما تکفریقی ا آات -- 
ای کااارجی ہو جاے۔ 8 
انکی( یا تک )ایالب ے اووج سرت 
لے جات ہیں جک آپ صلی الله عليه و علی آله وسل مک ذات 
ارس 'صفا تکمالات لا لات 'جالات وم جزا کی سی اڑا جاۓ۔ 
ایے لوگوں کے سماتد نہ ٹٹھو ہہ عم اہی ےک میرے محجو گا 
متا یکر نے والوں کے سا تق نہ یھو 

ورقہ تم بھی انچی یس ہ۔ اہر سے جب متاخ کی ایس سن اود ڑھ 
کر چپ ر ہو گے قو اس کا مطلب ہے ۓح کہ ہوگاکہ تم بھی ان کے 
سا تھ انفات قکرتے ۵955(6 )کرت ودای نے م بھی ددی 
ہوتن مع رسول۔ 

مزا لقن او رکنار سب ھی ہیں- تی فی ںکوکی ہیں تہیں۔ 

ایس منافقن مسلمائوں کے سانتھھ ری ہیں ۔ آخرت می سکفاد کے 
سیا کات 8 











وزرغ شا جنقابکافروںن کے زیادہ بت اب ہو گاک وک 
دخیائیں ا نکاکف بھی نت 7 تھا 

ار داد نی فدارکیں عزت ناج ین مسلماوں میں کذار ٹن 

و جف رتا لک کرات مدکف نے رای ہوتاس بکفر ہے *ِذ ہیوں کے 
جاہوں او مجفاوں میں ش کیک ہونا نت جرم ے۔ 

وی دنا شی لال شی نے الفت|ٰ گی آخخرتٹ یی ا نکواسی کے اھ 

0ا 

مان کفارنے دوس 
مناشین او رکفار ایک بی خی کے چ نے بے ہیں۔ دونو نکی آخری 


آ مخ ایک ی ۓے۔ا رواش تھوڑا بببت فرقی ہہ ےک ہکاف کھ مکھلا ا کر 


سے جی ماک ہکفادمک ہے تے۔ لاست مر سا (آاصلی الله عليه و علی آلە 
وسل مکی رسماات کاانیار) پھر بعد بجر وو متعدد ار مومتوں سے ہقاف پ 
اتڑے۔ لین منانقین چو ظاہر مسلمان نظ رآتے ہیں انہوں نے ایما نک لیادہ 
اوڑھا ہو تا ے۔ مہ نمازروڑہ مر کو تمام ارکان اسلام دکھاوے ول 
ادا بھی اکر سے من اپے دل می ووالل تال یٰ اک آیات ادرر ولا رع صلی اللہ 
عليہ و علی آلہ وسل مکی ذات انہ یں صفا تکمالات جمالات ومچجزات ے 
افکا کر جا ہے ۔ککتہ چٹ یکر کے پاعی نکی خاش ت کا ما کرت ہے۔اق ور ے 
ماف جھیکافرجی ہو جاہے بلہ اس سے ھی بد 

فان ای (ا)تری کثیرآ منھم یتولون الذین کفروا لیئس ما قدمت 
لھم انفسھم ان سخط الله علیھم وفی العذاب ھم خلدون ۸۵0 

ا ان ٹس تم بہ تکود یھو ک ےک ہکاخروں سے دوس کرت ہیں۔ کیای 
بر کاچ اپنے لے و گے یلیہ ایٹرکاان پر حضب ہوااورووعزاب مل پیش 
مت 





یی وا سے 


تق رج -_کفرکااد حا بکرنے والوں سے دوس بت برکا ہی ہس 
اللہ نال کے غحض بکودعوت وین ہے اود بر پیش کے لے چخممکوا نی داگی 
نزل نے 

فان لی(۲) ولا ترکنو] الی الذین ظلموا فتمسکم النار ومالکم 
من دو ن الاو لیاء 

تق اور امو ںکی رف خچلوکہ تمہہیں ہک کچھوۓ اور الد کے سوا 
تہاراکوک وی نھیں پچ رمددضپاگے۔ 

شر کف ر کے کات اداكکر نے دالے الم ہیں۔ ان کی طرفد 
تک وکا مطلب ہہ ےکی ان سے دنہ کی کک ا نکی منزل جم ہے او رسکی 
تم بھی ان کے سا نگ می نہ چے جار تار اکوئی حا باون ہو گااورن 
ہی تھی سیک مد ٹ ےگا کالہ 

کت :۔ آقاصلی اللہ علیہ و علی آلہ وسل مکی ان اقرس می ککماتکفر 


کین والوں کے ساتھہ سیل جو ل مو راہ 'مودرت و عحبت الن کے ہا شمل ہال : 


ملا نا نکی خو شا ٹیل رہ ےکا یجان کے سا جن مکی مضنزل اپاناے۔ 
کے یکا جوآب دو بے 

قامت نزدیک ے ۔ جارے آقا صلی الله علیہ و علی آله 
ول کہ صاحب کا عم خیب ہیں نے قیامت کے دک فتو ںک بارش 
کے متعلق چودوسوسال پیل بادآ کل بے دی اد بد عق دی سک خے لہ 
کہ سے اٹھ رہے ہیں۔ آقاصلى الله عليہ و علی آله وسل مک شان اق ہک 
الات جخالاٹ ضفات وم چزات میں تر او رتترےى زط ن آی زکلا تکٹر 
کی جار ہے ہیں۔ الثد تال نے چھ آیات اچ عیب صلی الله عليه و علی 
آلہ وسلمکی شان اق رس مم نازلکیں ان کامعل مکھطا مراق ایا جار ا اور ہے 


جووتہ ا 










لوگ لاس خر مولویوں کے لبارےاوڑھھ ہو ے ہیں ۔ حر تکامتقام سے 
کہ دو رے لوگ جو علاءکرام یں ا نگستاخوں کے سا تہ میل ول “زاوؤَ رس “ 
مودتدد عحبت ا یع رآ جائیار کے ہو ہے ہیں۔ ا نک وآ کی اعطلا شش 
کا کت ہیں ۔ ہا نک تو اور تقر روں پہ چپ ہیں شاید صرف اپ کسی 
مفادگی خاطر پنۃ خن لکل قیاص تکومہ اس رو کاکیاجو اب دی گے ؟ 
عام طورپردیھاگیا ےکہ آ قاصلی الله عليه و علی آلە وسلمکی 
ان ادس میں فو من خی سکر نے وانے حللف او میں دتے ہیں ۔ بھی کوئی 
0 بہانے بفاتے میں اوز * پیک وراص۹ جمارامفحمدلہ نون نھا۔ خر دو ظر ہب 
اتا یکی ع مکھاک مر انچ دوسرے معانی ماش کر ناو پا نکر اذ تی 
اتا ے۔ اپ ذائی راۓ ظا رکرتے ہیں- 
٠‏ ران ای ۔قل ابالله وابتہ ورسولہ نتم تستھزئون لا تەتزرواقد 
کفرتم بعد ایمالکم : 
تر جمہ:۔ آپ ف رای کیا تالی اود ا لک آیات اور اس کے رسول سے شت . 
(ٹھٹھااڑاے ہد ے)بہانے مت :ناڈ تمکاف ہو ےمان لانے کے ود 
ریت دمیھاالل تھا ی َافْم ل یسا ہوا ہے۔ ال تال نے اپے عیب 
صلی الله عليه و علیٰ آلهؤسلمل ذات الد ل صفات وکالات وشجزات ٠‏ 
کا اھ زاکرنے والول کاکوگی عزر یا بہانہ قبول نمی ںکیااور اپنے یہ صاد کر 
دہئے۔ مننفین مھ ینہ منوروکی بجی روش تھی ایی ایی نا ممقول بات ںکرتے۔ 
بھی آپ صلی اللہ ليہ و علی آلہ وسلم کے علم مارک م سح گی 
کرت اذا اق نیف مس دک ےکرخ وش وت بھی چاو کے متحاق 
ال تعالیانے ابھی فو قیاہت کے دن عد لکی ترازو یں قا مکرکی ہیں پچ سی" 


جان بر تہ ہوگااورا ٹنیں اپے اما فا موں کے ذر ہیے ان کے جھتی یا جھی 

ہو نے کاپ ایا جا ےگا۔ لن ان لوگوں نے جب اللہ تال کے عبیب صلی الله 

علي و علی آللہ وسل کا ماق اڑیا۔ ال تالی کے غمض ب کا شکار ہو گے دہال 

طر حکہ ال تالی نے اکیادٹیائیش بی ان کے خلاف عم صادد فرادیا یکر وہ 

لا تک کہ ہک راخ ہو ین اودا نکی منزل جم ہے بلکنہ سب سے مہ طبقہ ان 

کے الا کر دیا۔قرایاان المنفقین فی الدرك الاسفل من النار 

: (۲۵(۳انٰا) 
ترجمہ:۔ بے میک منافی دو زع کے خے سے می طیقہ می ہیں۔ 
کن آ 5اصلی اللہ علیہ و علی آلہ وسل مکی شان اقرس می کما تکفر 
اداكکر نے کے بح دکوئی عذ ریایہانہ یس چتا_ 

۰ حضورصلی ار وعلی لہ وس مکی مت دل یں نہ ہوی نکفر کے 

یاد ر ےک ہکف رکو مٹاد ہین والی یز صرف اور صرف ایمان ے 

اور ایا نکا اعرہ و جمارے آاصلی اللہ عليه و علی آلہ وسلم تے 
لیے تا لایومن احد کم حتی اکون احب الیه من والدہ و 
ولدہ والناس اجمعین 
تم میں ےکوی مومن خی ہوسکتاہ بتک میں میں تہارے دالد ین ہار 
اولاداورتظاماڑسانوں سے پیارازہ ہو چاوں۔ابمان کا تع عبت مضطف صلی اللہ 
عليه و علی لہ وسلم سے سے پل جب مخ ۓ صلی اللہ عليه و علی آله 
وسلمتادہ سام اما نے چنا ضرا عبت ہو گی یمان ہوگاکر محبتن ہگ 
ق ئگ رکنفرنے ڈ بی جمالیاہوگا- 





وہب 





می 
اذا صلی ما رٹ اورے 
بہت بڈاکفرے 

اللہ تا ی کے یوپ اور جمارے آقا صلی الله 0 و علی آله 
وسل مکواذادینادد تقیقت اللہ تھا کوہی ایذادینا ے۔ فران ای ے۔ان الذین 
یوڈو الله ورسولہ لعنھم الله فی الدنیا والاخرہ واعدلھم عذابا مهیاہ 
تر یھ :۔ ہجو لوگ ایڈاد نے یں ال مقوداس کے رسو لکوان کے لے دای بھی 
انت لو رت شی بھیلعنت ہاورپ کے لے دنک عذاب ے۔ 
یادر 

اللہ نتعالی کے عیب مج مٹلے صلی الله عليه و علی آلە وسل می 
رات اخ منات الک مج زات بس کک ہک یکنا مہات اڑازااوراڑسی ہاتیں 
کرنا جو آپ عسلی اللہ عليغ و علی آلہ وسذم کے لال وی د تق اپ 
تا کا ماق اڑاناےاوریہ امیایڈاے جو عددرجٴ رکفرہاورائ کی مزا چم ہے۔ 

ما تکفریہہیں 

انداذیان 

بافں بالما تکوئی بھی ہوں ان کین وا ن ےکا تحت الشذ رس کے 


خیالات اور حقیدہکی عکاہ کرجا ہے لوراگ قد ہک خلاف ہول تم رانداز بین 


7007 نیع کا عفر ذرمایاں ہو نا ہے ۔ جیباکہ عخاق رسول صلی 

الله عليه و علی آلہ وسلم جانۓ ٹیںکہ بر نم ہب دہالی داوبندکی سحورگی 
جابلوں نے آقاصلی الله عليه و علی آلہ وسل مکی ذات اد لکمالا ت ٴ 
صفات و مجزات می سککتہ جن یکا عدمیں عبو رکم لی ق رن و سن تک آیات کے 
فلد معاٹی لے می ھھے لے اور نکڑ ےکرنے گے ۔گو کہ بد جن لی ئن 
0 ,- 90) تق رک او تر مکی مریرانوں بش 





بجی کب رننہانداز ین ا نکو جنم ٹس پہچیار ےگا الل تعالی نے لو سورۃ تہ ٹں 
اپے نیجلہ صادد فرماد ہے ہیں۔ 
اپے یما ھت یں 
ان شی کی سب سے بڑی ب دق ےکہ آقاصلى الله عليه و 
علی آلہ وسل مکواپنے جلیماعام انسان بجر ہے ہیں او ربچ رای تا یر چو ذ جن شش 
آتاے بکوائ لک ناش رو کر دتنے ہیں ۔ مہ ای وجہ سے ہ ےک ہہ شحیطالن کے آلہ 
کار میں جوا نگودگ یکرت ہیں- 
ال شش تضورصلى الله عليه و علی آلە وسل م٣‏ کیا تو عیت ے 
و رکریں آاصلى الله علیہ و علی آلہ وسلم کے عفات ہو 
الات عام اڑمائوں کے برابر لاک چھر اس انداز سے با تکرنا * اس مل 
مخنورصلی اللہ عليہ و علی لہ وسلم کیا خصومیت ہے وی ین بے 
ادلی او رتا ہے بللہ ببت بڈاک ہکفرہے۔ ىہ سید ھا مادھا یما نا پرہلدگیا کا 
اماع ہے جو ہم کے سساو یں طبق ہکی طرف نے جاتاہے۔ ایک بام تر نے سے 
نمازیں ٠‏ روزے مرج و کو وی رواو رہ طیبہ کے ورد سب بر اد و جات ہیں- 
دم رکلما کف کی مندرد جہذ یل الیل ملاجظہ ہوں۔ 
الا یجھوٹبولکھاے۔(تاری رغر یر ص6۱۹ا) 
را اللہ تی کو بے علم نیس ہو ماکہ بن ےکیاک نب بند ےکرتے 
ہیں وا کو عم ہوجاے۔( تی بافی گر ان صے۵۸۰۵ا) 
۳ شطان اور ملک امو تککاعلم تضو راکرم صلی الله عليه و علی آله 
وسلم‌ےنیادے۔ 
۳ اللہ کے ب یکواپنے اضعاماوردیوار کے ےکا بھی ضلم نہیں 
(راؤن اطد ص۵۱۸) 








جضوبراکرم صلی اللہ عليه و علی آلہ وسل مکژالل تمالیٰ نے جیا 
اور اعم عطاف را دییاعم انور ول پنگوں اور چو ںکو بھی ے 
(حفظالابمان صے) 
ماز یش تخوراکرم صلی الله علیہ و علی آله وسل مکی مرف 
ضا ل کا جانا یق لک ھے کے خیال یں ڈوب جانے سے میا ببت 
برے۔ (مری دم ص۸۷ 
انمت الین "ر>ول‌الش صلی الله عليه و علی آله وسلمی 
عفت نا خفیں _ تضور اگرم صلی الله عليه و:علی آلە 
ا کی 
(فاری ریدے ص٢۴٢)‏ 
اقم این کا معتی انی خی سجھنا قوا مکاخیالی ہے علم دالوں کے 
ریف پیا وزصت یں حور ارم صلی الله عليه و علی 
آله وسلم کے زہانے کے بعد بھیااگ رکوکی بی پیر اہو و خاتمیت مر ی 


یس چھھ فرقی نہیں ۓےگا۔ (ز مزا ص۲۵۰۳) 
خخو راک رم صلی الله عليه و علی آله وسل مکوداوبند کے علام ے 
سےاردوزبان ال (برائین قاطد )۲٢‏ 


یکا تیم صرف بڑے بھائ کاب کر لجا نر تینزژ۸ن۵) 
اللہ تعالی بے ر صلی الله عليه و علی آله وسلمکے برایر 
کروڑوں پیداگرڑانے_ ( تق یی الا یمان )١۹۷‏ 
یر سولل سب پکھارہئیں۔- ٠‏ (کیۓ الایمان ض۲۹) 
یکاہ ر گھوٹ ےپاکاور موم ہو ناضروریی کے 

(گیزد عتات رص )٢۵‏ 





٥ق‎ 


۔٦‎ 


سک 


کب 


پا کک ات کی یا 


کی لت ربیف ضرف یش کیک یک روب اس میس بھی انتا رکرو 

(قزیۓالایان ضص۴۵) 
بڑے شی نمی اور بے مکی باقی نب بندے “کے خی زور نادان یں 

(آقڑ یےالایان ضص۳۴) 
بد لوق لی یا اور وٹ لوق “لین باقی سب ہندے ائل ہک شان 
کے آ کے چجنار سے بھی ذلیل ہیں( تقو ۓ الا یمان ض )٢٢‏ 
یکو طاغوت(شیطان)بولناجاتڑے۔(فقی را ار ان ض ۴۳) 
کر ای رٹک 

( تی الامان ض۱٦)‏ 

سو گی ے( صلی الله عليه وآله واصحابہ وسلم)دہ 
می چتزکا متا خہیں * یا زی پج نے نی نکر سلت۔ 

( یبط الامان ص٣٢)‏ 
جواکرم صلی اللہ عليه و علی آلہ و سے حو اس ہوگۓ۔ 

( تقو ینےالامان /ص۵۵) 
ا ٹا بظاہ یل میس نی سے بڑھ جا تا ہے۔( تج یالناں ص۵) 
دلوبندئی ملانے مضوراکرم صلی الله عليه و علی آلہ وسل مکل 
صرالط سےگرنے سے بپالیا۔(ماشع ایر ان ص۸) 
لا لہ الله اشرفعلی رسول الله اور اللھم ضلی علی سیدنا و 
نبینا نشرفعل یک مس صلی سے گکوئی خرابی شہیں_ نعوذ باللہ من 
ہذہ الخرافات وکلام القییہ (رسالہ الاعداد می ۰۳۵ ری ماہ 
صف ۱۳۳۷نم 'روداد نظ ر ہ(گیا) الف قا نج ۳صضص۵۸) 
میا دی منانااہے جیے ہندواپ کنیا کا جم دن مناتے ہژں- 





(دی ارڈ لیف صض ۸ب این قاطحہ ۴ص۴۸٣٠)‏ 
ور اگرم صلی الله عليه و علی آلهہ وسلماور وہالٰ رولوں 
بالزات جیات سے متصف ہیں جو خصوصیت یکرئم صلی الله 
کا آل٭ وسلمکاے دیہہالک ٤ے‏ 
(آبجیات ۷٦ص۷۹۸٦)‏ 
ےھ کی ہو ا۔ لآ یڈ الا بمان ص۵۷) 
: سن کے سواسی کونہا۔( تی مان ضص۴) 
لھک رو وس نیہ ایک ذدداچچزے مھ یکر تریں۔ 
0 ( بنالایاںگ )۵٥‏ 
کہا براؤن قاط ص۴) 
۳۴.۰۔ نی اودو یکو کی عحلوق اور بندہ ا نکر کیل اور سغار شی جن والا“ 
ند کے لئ پکارنے والا “نر میازکرنے والا مسلمان او رکا خر ابو جہل “ 
ش رک میں بدابرہیں۔ ( تق یذ ایمان ۓ' ك٢٢)‏ 
. ٣۳۔‏ درود ان تامندیددے اور ڑھنا ات ہے۔(فضائل درو دشر بقفضص۳ء) 
۴۲۔ دیوبندیوں کے ایک بزر گکوحفرت ما نے انت ہاتھ سے خبلایااور 
تحخرت فا نے (ائں پر ہن کو) اپے ا تھ 7 0 ا 
(صراز اط 'ارروص۴۸۰۷) 
۳۳۔ ملا دشریف متراع شریف ٠‏ عرس ش ریف کشخ وت سو اچم 
فا7 خوری اور ایال ات سب ناجائ رز “فلط برعات او رکافروں 
ہندو و ں کا ظر یہ ہیں (ق وی اش فیہ مس ۵۸ع موی رشید مل 
۵۰ئ٢‏ ض۹۳ٴ ٥ئ‏ ۳) 
(وا مر ےک رسول اکرم پچ سے میلا کو فلط بد محت اور نا جات 

























































27 


حا اورشرک بے انے دلو بندی دپالی میق حضرات سے 2 کر 


یئ کہ رارالظوم دیوبند کا جشن منانااور شرکہ عورت سے ا سکاافتقاعِ 


کردانااوراے ملاؤں مفوں کے ننن کے سا تہ دلن اور بی مان ا شماع کے 
نے رج شر ا ت کے تل ےکریاسیاسی وغیرۃجلویں 
وغیرہ ٹالنا ٠غیر‏ اللہ کے نام سے اذارے ات مکرنا'غیر ال کی تشمیر کے گے 
لو گول ۓاال اودۂد اداد گناو 7۸ کیو ںکرچا 7زاوردر ہحرے؟) 

٣۔‏ محروف دڑی یکواکھاناقاب ہے (گگرشب برات علوونا جا ئڑے 


1 (فاویٰ,غد ےص۰۳۰٤)‏ 
۵۔ ال کے دلیو ںکوال کی موق بج ھکر بھی پچار اش رک ے۔ 
( لق الا یما نے) 


٢۔‏ نمازجنازکے بجروا گان چائڑے۔ 
(فذک یگیل اص تھانوکی ' جامعہ اش رفیہ لاہود ا 
ےپ ہن کی ہوی “ دوا یکا پر شاددغی رہ جائزے۔(گر ات و نیازکا رک 
ناچالتے۔ (نزیٰ‌رشرے صض١۳٣‏ ت۷۲ 
رو ۶,2222“ 9ئ دخیرہ ین 1 پک ہو 

( یمیا ہو میں ش ریف اور نیازکاپاک ال کا بی ہ رکز جائزخیں) 
(ناریررے ے۔ ‏ ض۰٣٣۱٢)‏ 
۹۔ جندد(مش رک کی عو دک روب ےک یکائینے ال ہوک با ( ٹل )کا 
پا چنا جائزڑ ہے (گر مرم ے می مس سیدنالام جن کے ایمال 
وا کے لئے مسلما نکی علا لک یکمائی سے لائی ہی نل دخ وکا 

ا پا۱۶ ‌ے۔ 


(ڈاوکرشی رص ۳ ٣/۳۳٢‏ ۳) 


5: : پٹ رک ا 


0و موب 





ِ خی : 
فربانر سو اللہ گے فرقوں می سے ایک فرقہ جلق اتی و 
۱ فرتےدوزٹی ال 
ٰ نپ بمااس کل کے سے فرتے ہوگئے تاور میرىی ام نے کے نتر 
رد جا کے شر ین مس اٹ کرو ودو زی ہوں کے اور ایک جنی ہوگا۔ 
ْ خحقا نکد رسمالت٠‏ 
تام رولوں پٹہروں پر مرا بمادے۔ 
8 ایا مہم الام پددتی(دوغام جواللہ تقالی کی طرف سے نیو ںک 
2 7 7ے) ہو اض ودک ہے خواوفر نے ہو اف رذربیہ ہے۔ 
از و انماہ علیہ السلام موم (حقی ہر فو رہکبیر گناہ سے اک ) ہوت ہیں ' 
1 خداتعا ان اوہ رگنااسے ہیاۓ رکھتاہے_ 
7 کن امیاء علیہ السلام کے خواکوئی موم نئیں۔ خواوولی 'خوت “ قطلب “ 
۰ اہدال او تاوہوں۔ ہاِں!٠‏ توب ضرورؤںإففل تھالیٰ۔ 
۴ اخیام علیہ السلام ام لوق سے الضل وائلی ہیں۔ کسی خی ری ول * 
: غحوت 'قطلب وغی مر ؟ کا سے اض داع ابر ابر کی دہ کافرہے۔ 
۵ انی علیہ السلا مکی انلم و تقر فرضی ہے ؛جوکی ن کا بے اد اور 
گمتاق یکرے'یا جھوٹ جھے دوکافر ہے ۔ ای کے ہم ال سنت تام 
ماما ن رتو لی صلی الله عليه وعلی آله وسل مکو کافرو مم تاور 
بے دین یت ہیں۔ 
٦۔‏ تام امیا امسلام الد تھالی کے نزدیک عزت و مر مت وانے ہیں ہے 
کی ےکہ اتا یی شان خزدریک انائ مہم السلام چو پڑے پا رکی ض لیا 
ذ یل ہیں دہکافر ہے ۔(جی تقریظ الا یمان معنفہ حطر اعائیل 








۳ے 


وس 


3. ٠ 
دہلوی یل 'انیارلوزاولیا,“س یکوپھ بڑے ہ پا کیہ دیاگیا)(ءت)‎ 


انیاء ہم لسلام انی قبروں می ز ندہہیں۔ کھاتے 'پے یں ار جہاں 
جاچے ہیں آتے جاتت ہیں۔ 


ایام اہم السلا مکو اہ تعالی علم خیب عط اکر تا ہے اور اولیاء اللہ مہم 
ار مت کو بھی واسطہ انی ءکباجاتاے- 

امام ہم السلام اور اولیاء الد یہم ار حمتہ “ اللہ تھالی کے افن اور 
اجازتدے وی کے حددگار فریاار عاحتردااورو سلہ یں۔- 


اللہ تالی نے عفر ت آدم علیہ السلا مکواپناخلیفہ ہناور ام چزول کے 


اح ءکاعلم عطاف رما 

حطر ت آوم علیہ الام سب سے یہی ہیں اور قامانسافول کے باپ 
ہیں خداتھالی نے ا نعکولخی رما پاپ کے پل افریا- 

اما کرام واولیاء عظام مہ السلام مار آآدازو ںکو نت یں اور ہمارے 
عالات سے پاخ ہیں موت نے ا نکی وت کےکمالات سرادم 
مٹیا یں رہ بڑھایاے۔ 

می نی(علیہ السلاح کی اد نو ین وکتائ یکذرے-۔ 


ا در پاردرسالت ماب صلی الله عليه وعلی آله وسلم 


آنواۓ نا مار تاجدار یھ ینہ مورہ “ تفورپر نو رم مصطلصلی الله 
عليه وعلی آلە و سام تمامرسولوں کے سر داریں۔ 

تضور علیہ الو والسلام ساپ فوراور بے مشل یش رہیں۔ 

جضور علیہ ااصعلوۃ والسلا کو اللہ تعالی نے سب سے پیل اپنے ور 
پارک سے پیذا فرمیا اور حر رو ل الٹر صلی الله عليه وعلی آله 
وسلمآرایا۔ 

تضور می اک صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلمالل تمالی کے تاحب 





کان 


اش تا ی ےناب یں) 

مور علیہ لعصلوقوالسلا مگ پیر اہ ہبوتے و حداتالی دنا شکوگی ے 
پر ان ف رما( جآ الہ عد ٹل لاک ے ٹا حعے) 

حضور علیہ الصعلوۃ والسلام. قیامت کے دن اللہ تعالی کے ازان ے اق 
تنپگاراص تک شفاعت کریں گے ' شفاع تکا مک رگم راواور ے دن سے 
جفور علیہ الصاوۃوالسلام جوانات اکلہ “ور غلان جم ذااس کپ 
تام کاتمات کے لے رححت ہیں ' جع اکہ الد تھالی نے فربیا وما 
ارسلنك الا رحمَٰۂ للعالمین 

خداتعا یکی رضا تضور علیہ اصلوۃ والسلام کی رطاے اور ضور علی۔ 
السا مگار ضا غداتھا یک رشاے۔ 

جو علیہ الو والسلا مکی اطاعت خداتعا کی اطاعت سے اور ور 
علیہ العلا مکی بےےاد لا رکمتائی خداتعا کی بے اد او رکستائی ے_ 
اللہ تھا ی نے شب اس را کے دواہا حضرت مر ““طقٰصلی الله عليه 
وعلی آلہ وسلمکاعاات بیداری یش محراع شری فکرالی 'جود 
مانے ' ددگبراہ ے۔اب تو جدید ممائتنس سے تھی حابت ہگ یاکہ 
مم راع مرگ بیدا گا جسمالی تی 

خداتالی نے جضور علیہ لصاو والسلا مکوجو رھ ہو کا تھا اور ج یھ قیامت 
تک ہوناے' ان ہ بکا لم ادا اے ک2 7 کماجاتاتے-۔ 
جفور علیہ الصوۃ والسلام جب چاہیں “جس دفت چاؤں 'جہاں چائؤں 
تریف لات میں اور لاتئےرجے ہیں۔ خوش نت لوگو ںکوخواب اور 
بیدا گا شش زیازت ەل 'رگئی ہے جھان انشدد یرہ ان لٹا ان 
جضور علیہ الصلوۃ والسلام اپٹی قرانور یل ز ندہ میں 'جھا کی آواز سن اور 
جواب د نے ہین اود ام تک مکل بھی عمل فرماتے ہیں۔ 


ملق اور خیفہ اتلم ہیں (زریکری یدلہ اللام آپ کے ودیڑے -- 


۔٥۵‎ 


ےا 


۔٢‎ 


تضور علیہ الصلو و السلا مکی پل و ےق جس طر نظاہریز نگ مٹش 
فرخ تعی اب بھیااسی ع رس فرش ہے۔ 
تضورسرور عالم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ناتمالٹین یں * 
یا آپ کے بع دکوئی ھی دا خی ہو سنا ؛آپ کے بعد جس یکوئی 
انت دہکافرے۔ 

جخور مروریا صلی الله عليه وعلی آله وسلم رام وی ے 
رک لاگ یل فرب ھی :مد تھے 
آپ کر ارحادر ہے زیادوادر بر عطاکیے گئ ہیں ۔ 

جھ تضورس ور عام صلی الله عليه وعلی آله وسلم ےی قّل 
اور ول و عل کو ارت سےا د بے وہ کافر اور وجب القتل ے 
افسرشدیکاف رک فی خی ںکیاجا کا 

تقور سر وریا م صلی الله عليه وعلی آله وسلم کے نام نکی ام 
رایپ صل مکی ا اتد گناو “صلی الله عليه وعلی 
آله وسلم پراورادرودٹر یف لآمن چاہنا۔ 


تضورصرورعا صلی الله علیہ وعلی آله وسلم کے وں سے 
عدراوت رکنالازم سے راہ دہ پاپ ہو ہا ٹا بھائی “ بن یا کوئی 
خماندا نکاہویاکوئی اور۔- 

حور ئیپاک صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلمالل تمالی سے ظبر ٴ 
ائم ہیں ٴ اسی لئ آ پکو حاض رون ظر مان چان کہ آپ کےکالات 
مراتے ہے تی ککمالڑے۔ 

جفور گرم صلی الله عليه وعلی آله وسلمک زسالت کا فمل 


0989) در جاک پہ ہے اس می سک کی اخ سک یکوئی مکل 








ط۶ 


١‏ اورعام انان یں جان سکتا۔آگ رکوئی قرب پیانے بنانے گے تہ ال 


۴ 


۵۔ 


ز پا 


ے۲۔ 


۸۔ 
و۔ 


نہیں کوٹ ایا ا تھے وہ وب اور بے ادب تا ے_ 





پا 


خی مکی اللہ علیہ وعای ال یکو الال نے علق 
نورڑھال ورانیت یش ) کے دقت رسالت عطا اکر دگی۔. ٣*۴‏ سا لک حر 
میس لڑاعلان ون تکر کے دعوت جن دیاش رو کگیا- چو بی کک ےک ٣٢‏ 
سا لی عرٹی وت گیا دوگ راب 

اتال اور آپ صلی الله عليه وعلی آلله وسلم کے قر بکوکولی 





کے اف نکی اش رام اوران ہے۔ 

ذوراکرمصلی اللہ عليہ وعلی لہ وسل موق رآن گال تال 
نے بڑھاا سے کہ ج ری علیہ السلام نے لیخ بد عو لوگ الٹ 
ا تکرتے ہیں بادآ پ صلی الله علیہ وعلی آلہ وسلکا“”م 
تراشقاٰٰے۔ 

قاصنلی اللہ عليه وعلی آلہ وسلممائی ہیں مشنسی مدرسے مشش 
بڑے ہوۓے نہیں میں لیکن نو مہوت مکھی ہوئی تر ےکوی جان 
تا ےک ہکیاکھماے۔ ٠‏ 

آپ صلی الله عليه وعلي آلہ وسل مکوانپڑھ شی 'بادار'ناداقف 
ئے النابڑے' نیب 0 می نگم تی اورۓےادل٤ے۔‏ 

آپعلی الله عليه وعلی آلہ وسلم کے ہاتھ ذ بگناویادو ما 
می ن گت جاویلٰوں جھکہ بے ادب ذ ہل نکیا پداوا ہیں ۔ بت و 
اشافت/ا ین بے او او رکم ایے۔ 

آپ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسامال'ہتھالل کے حبیب ئیں- 
7ت صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم ختا رپ :ہیں۔ یا 
اموچ وات ہیں اور اعم الین کے کیج ہوئے حا مکامحات ہیں۔ 


: 371 : 
وین الف کے جرم کے ار یب کیوچہ 

زی رسالت کا وائ کیا ے۔ ىہ زیت تفصیل کے ساققھ دک کر دیاگیا ہے اور 
بس سے پل دلو ںکی بیارییں کے متلق بھی آیات قرآنی ٹی یکم دک کنا نج 
پھر میفق ت کی پرری تصیل اور اللہ تنا کے نہ بھی بی یکر دیے سے ہیں۔ 
آخر میں ہہ جانا چا ےکہ وہ آخر ا نگمتاخو ںکی ایی حنکت کے کیا عوائل کار 
زراؤں۔ 
ا رل کاگشخروەدحت) 2 سپ ے ۔پڑے وج د لک یگیادہ یادہ یچادیال 
یں۔ جھکہ پلہ لوق می جا د یکئی ہیں۔ ىہ بیاریاں آخمرکیوں چدا ہوٹی ہیں۔- 
ہہ لت سب سے اہم ہے اور چنا روری سے مھ مصطفیٰ رتہ للحالیژن' روف 
تیم نچ کی زات اقزس سے عبت نہ کرنے کی وجہ سے ار تال ہے سڑا رتا 
ہے۔ (جیساکہ سورۃ تہ کی آ ینہ ۲۴ می ںکھا) انمن کی تمام مجبدریو نک گنو اکر 
ہلا احب الیکم من الله ورسولہ. فتربصوا(مطلپ ‏ کہ میرے عذاپ کا 
انفارکرو) تر ہہ عذاب گستاغ رسو لکو ول کی بیاریوں کی صورت میں بل اکر ریا 
ۓے۔ : 
ب۔ قر نکی اصیرت سے موی بج بھی کی رد بی زات ص 
یی سے عبت ن ہکرت ےکی وجہ سے ہوقی ہے۔ الد تعای ن ےکا قل هھذہ 
سبیلی ادعوا لی الله علی بصیرة انا ومن اتبعنی (۴۸/ ۴ لیسف) ت با 
یہ مرا( ک) رستہ سے میں عممیں اللدکی طرف بلاج ہوں۔ میں اور جس نے 
مکی چیرد کی اال یرت ہیں۔ چنانہ تشجیہ ہہ لگلاکہ مد لم کے اتباع اور محبت 
سے بی کت لئ رون بای سے انا 
جج عرلیگراکھرسے تیلد ی جچئی بھ یکماہی ں مت اہ رسول نے کھیں 
ان کا مطالعہکریں تو معلوم ہو کہ انمیں عر کی آیات کے مع میں آتے۔ 
جھلوںکی خرکیب خی کا پت نہیں۔ عل یگریمرسے تلذ ہیں۔ لکن دعوئی ہے تن 
القرآن مفتی مولانا* علامہ ویر ویر ہوتے کل قرآن ج نکی زان مس اتزا ا نک 


01 


ای ا ووو : ۰ 
یں سورہ یق کو جن کے لے فاروق ائطظم گے فراتے ہیں بای بارہ سان گے 


تھے۔ علاکلہ قرآن ا نکی زن میں ہی ہے یماں زین اردد یا تیاب وٹ (خر 


عری) سے اور تمیریں بزاروں اورای سے کل ھکر مفتق چخ القرآن“ مولانا وغیر: کے 
خوز ساضتہ القلت سے بھرکی بی ہیں اوہ ا نکی نو (من دون الر) کے معتی نمیں 
آتے۔ من اللہ کیا ہے۔ پان اللہکیاے۔ 

ث۔ اما ری ضر - جٹ دعھٹی اور ضد بر بلا ہے۔ چکن ول ححضر 
کے اعرا میں جلا ہے اس لئ اب ا نکی عتل بھی مار یکئی سے اور جب مل 
ای جائے تل رھ مھ میس نیس ۳ اور ہہ کھت ہی ںکہ ہہ خود ٹھیک ہیں اور 
باقی خلط ہیں۔ سی لے ا ن کو لاکھ ولییں دو نیہ شی مائیں کے۔ اللہ تال یکتا ے 
وان ندعھم لی الہدی فان بہشدوا اذا بدا اکر تم امیس برای تکی طرف با 7ے 
بھی (بد تک) نی ہیں کے لین ہدایت نہ قو لکریں کے۔ 

ن۔ منای یکا رکا رو - انان کا روبہ ایک اڑڑی تچ ہے جو ا نکی نگل 
کی کا یکر ہے۔ منانقین دکفارکہ نے انا روہ ہی فو نہ بلا۔ عالاکمہ انموں نے 
اقرا کیاکہ یہ دعوت جن ا نکو ان کے پاپ دادوں کے عقیدہ سے متولز لک رگئی 
تی اکر وہ بٹ دعرٹی پا تم نہ رچے۔ ان کاد لیضلٹا عن الھتنا لولا ان 
ضبرنا علیچا قپی ین تھاگ ہن وعوت مخ یں جازے مو رون ٠‏ کا رب اگز 
م اپنی ضد پر قائم نہ رجے۔ سے نہ رچے۔ چنانچہ ان کانیہ روب بی اننیں لے ڈویا 
اور پالاٹمر انسوں تے دوزر غکو انا نقدر بنا لیا۔ 

ئک بدخقیدکئی کاخیشن کت موعودد بے تی اود برخقیدگی کے ود من آپ 
ىہ فیشن کے طور پ ای اڑسی باتنں بزہب کے متحل کرت ہیں چو انئیں اعلام کے 
دائۂ سے ار جکر وت ہیں اس کا شکار علاء سوعء بھی ہیں کیونلہ یودیوں اور 
عیسائیو ںکی ىہ متصوبہ بفدری ےک اسلا مکو نتصان پہٹچائے کے ل ےکوتی موںع نہ 
پچھوڑا جاۓ اور اس کام کے لئ خحصوصا مولویو ںکو بی اتتعا لکیا جائے۔ ایک تو 
سرکاری مولوی ہیں جو سب کے ساسے ہیں اور دوسرے وہ عامء سو ہیں جو 
رون لڑگُوں اور رسالو ںکی یرد ے بر حقیدگی یلا یں۔ 


9:. 
ول سے بب 

منانقژن پرینہ کاکروار لٹ کہ انماہم وش اور عرارت رسو لکھ لکر سمائۓے 
آئی۔ ال تا یکو یہ بت تاگوا گزر یکیوککہ الہ تا یکو رسول اللہ کی شان 
کے خلا فکوئی بات ند نیس بکمہ اللہ تعالی غضب ناک ہو جانا ہے۔ چنانچہ بی 
مزانقن کے سا ہوا ان رکا وطیرو ىہ تھاکہ اللہ تعالیٰ کی آیات بلمہ الد تال اور 
رسول الڈر کا شمٹاکرتے تھے اور جب ھا جانا تو بمانے بنا ےکہ انموں نے ال 
بات می ںکی۔ آخ کا اللہ قعالی نے ان کے خلاف اپنے یہ درے دریے۔ 
00 امن شخح کلےہ' روزہ* نمازیں ضاَغ ؛ :الد تال نے قہلا قل 
ابالله وابته ورسولهکنتم تستھزؤن لا تعنذروا قد کفر ثم بعد ایمالکم 
(۹/۵) تم فا وکیا اللہ اور ا کی آتوں اور اس کے رسول سے ٹن ہو۔ ہنائے 
مت پت تم کافر ہو چک ایمان لانے کے بعد ۔۔۔ تپ معلوم بہوا رسول الد گی 
ان می ںکمتاقی خر فکوئی عذر قول نمیں۔ 
(۳) دوک فیملہ ک یحلفون باللہ ماقالوا ولقد قالو کلمٹہ لکفر 
وکفروابعد اسلامھم(٥ء‏ /0) - 
مل کے ال کی تم کھت ہو کہ انموں نے ن ہکما اور بلک ضرور انموں نے 
کفرکی بل تکی اور اسلام کے بعد کاثر ہو گئے ہہ غرزوہ تجوک کے روران ملقن 
موا “کر کے کے کت رج تے اور بے پر فورا ایل کیم اٹھا کہ انموں 
س تر و نت 
ن نک کے 
0 90 09 کے اہ تعال کم سوہ 
مالین اپ ےکمتاغانہ با کی وجہ سےکفرکے مرکب ہو چکے ہوتے ہیں۔ ال 
لے کافروں کی نماز جنازہ نہیں ہوتی۔ ىہ عم ایر تک ہے۔ جب ای ابن سکولی 
نے لگا اس نے خواہش خاہ رکی آپ لم ا کی نماز جناذہ بڑھاتیں اور ساتھ 


سے کس یکی عیت بھی نماز (جنازہ) نہ بڑھنا اور نہ ا کی ق ری ہکھڈرے ہونا۔ اللہ 


٠ جو‎ . 

تی یئ کیکہ آپ چیم اپی تی عطاکریں۔ ملانوں نے آت مھ ےکم اکہ 
ربدت سادی زندگی اسلام اور آ پ کی عخالقت مب سگزا تا رہا اس لے آپ نہ 
سی نماز جنازہ بڑھیں اور نہ ہی تی دیں۔ آپ یم ق رت لین ہیں چنانچہ 
آپ نے انی ٹیس دے دی۔ پھرججرننل علیہ عاضرہوفۓےکہ اللہ تعاٹی ڈران ہے 
ولا تصل علی اجد منھم مات ابداولا تقم علی قبرہ(۹/۸۴) اور ان 


تال کان فیملہ قامت تک تام منافقین کے لئے ہے آ ج کل کے دور کے 
منانقی نکو قرآن کا مطالعہکرنا چا کہ نیہ تام آیات ان کے لئے ہیں۔۔۔ ہروہ 
مس جو رسول ا می کی شان میں حریہ اور تقر رب یکمتاخیا کا ہے و دکفر 
کے کے با ہے۔ ایے کاف رکی نماز جنازہ ہوتی ہی ش8یں۔ اکر پڑھ ھے تو الد کے 
غحض کو دعوت دوگ 
مزانقی نک ہکفراکستائی رسول )کی وجہ سے مناق یک ھلاۓے الہ 
کر ہوا نورق قوہر میں الد قعالی نے جو ٹیہ دی وہ سب کے سب رسول اللہ لٹ 
کی شان اقزس می کمتاغانہ تو ں کی وجہ سے ان کا اییان اور اعلام شخم ہوگیا۔ 
ظا رانموں نے کلرہ پا ہوا تھا لور خو دکو تے وو لان کے تے لین اللہ تال نے 
ان کے اس دد رخو ںکی وجہ سے کغار سے عبیدہ رک ھکر مناقن التب ویا۔ مان 
چککہ کفر سے زیادہ فتصان ہما سے اس لے مہ ایک نقنہ ہے اور ای وجہ سے 
نے بھی کتاغان رسول تھے وہ وادب انل ہیں کہ نے کا اوطری تع تع ہو 
جاۓ۔۔۔ 

قرآن عیعم قے رسول اللہ یپ کی شان میں قصیرہ سے اور یہ کانتات آپ مل 
سے فیل بی ی۔ نہ بل بصیرت ھت ہی کہ رسول للع اس کان تکی 
لن ہیں گر بپ نہ ہوتے و کائیات می نہ ہوگی۔۔۔۔ جب ہہ فیقت ہو و پھر 
آپ شی کی شیان میں گمتاٹ یکرنے والے کا حش رش مکی برترین دای ہے۔ چناچہ 
ان کے اس تن سکی وجہ سے یہ متاف قکلاے- 





5 ۱ جو 
خمام کا ات 2 لے رول 


(قل یایھاااس آنی رسول الله الیکم جمیعا ۱۵۸/ء) 


ورس ٭ل کون بھ ہے 
رعول:۔ پر یپا ہوا رسول 'رعمالہ سے ہے “نی اور رسول کے نا یل نکیا 
نبت ہے ؟ اس پارے میں جو مقلف دای ہیں:۔ 


(ا)۔ ہہ دووں مساوگی ہیں مجنا ہر نی رسول ہے اود جرد حول می ہے ' علامہ 
تختزائی نے شر معقاح نف او رشح مقاحصد یس اىیکواختا رکاہے او رام ان 
نام نےالسائزہ میا سک و تفقی نکی طرف موب کیا فراتت لن 
وامإ علی ماذکرہ المحققون من ان النبی انسان یعثہ الله لتبلیغ 
مااوحی الہ و کادا الرسول فلافرق !لان عنقین نے جو دک کیا ےک ” 
نی دوانسان ہے جم ںکواللد تال ی نے اس لئ مبعودت فرمایا ہ کہ جو یذ ا سکیا 
رف ٤ق‏ یکا ہے ام لک تکردے اود ای ط رر سے در سو ہے اتا کول 
فرق یں ے_" 

گن آیه شریفه وما ارسلنا من قبلك من رسول و لا نبی الایة 
(ادر نیس پیا ہم نے تھ سے پیل کوئی ر ول اور نہ نی )اس قو لک تردیدکررجی 
ہ ےک وک خطلف مفائرت پر لالم کر جا ہے اواعدالمتساکی لی تمادی :ای جاۓ 
تقولا نی سکن ےکی ضرورت خیں در ہت کی کہ نمی تور ول بجی کے کر کاب 
عم گر یکیاعاجت؟ 
(۲٢)۔‏ بیددووں مقپاشین ہیں مر ول ددہے ج جدید شر ل ےکآ اور نوہ 
ہے چو خجدید شر تےکر ن کے لی ںکوکی نول خی نی او رکوئی نی رسول نہیں 
لن ہے جن خلا کوک حضرت اتیل علیہ الللام کے متعلق ق رآن یرش 
صاف تفر تہ و کان رسولا نبیا (اور تھارسول نی )اوراىی ط رح حضرت 








ْ  ‌6 

مکی علیہ السلام کے جح میں واردہو اے۔ 
(۳)۔ ان دونوں کے این موم خصوص ملق ہے اکٹرعلاءکی بجی رائۓ ے 
اب یس وا ططرف یئ ہی کہ رسول اعم ہے اور نی اض کی وہ رسول فرشد 
ھی ہو جا ہے اور انسان گی “ار شادے الله یصطفی من الملآئکە رسلا و من 
الناس( اللہ تعالی انف لیا ہے فرشتقول میں پنام پنیا ننوانے اور آدمیوں 
|س) اور بی صرف انمان ىی ہو جا ہے فرشتۃ ننیس یں ہر رسول نی ہوا لان ہر 


نی رسول غمی سکی وک ہ لح رسول ذرشتے ہوتے ہیں اور جمجورکا نی قول ےک خی 


اعم ہے اور رسول اشک بین ہر رسول نی ہے کان ہرنی رسول نی ںگجھر اس 
صورت میں ھی اور حول میس فر کیا ہوگااوران دونو کی شر گی آجری کیا ہو 
یبا سلمل میس مخت اشتلاف اقوال ہے جودر حۃ لی ے * 
)0( ”جم سںکو اد سے وگ کی دہ نیا ہے اور ان یلج ما ہیں مت 
ر نے یں لاٹ و مولع ہین گا 
ا صی ناضص ر الد بن علامہ عبد ال بن عم امدیغماد کھت إں:_ 

”نر سول دو جج سکواللد نے شر بعت جد یدرو دمیجر مبعوت فر مایا ہو جاک 
وولوگو ںکوا کی طرف دعوت دے اور نی ال لکو بھی ام ہے اور ان یکو میک 
سکو شر سااقی کے بر قرار رک کے لے اہو جیے وواندیاء بٹی اس انل جھ 
حضرت مموسی وعصی علیمالسلام کے مان ہو ہیں ؛آ حضرت لک نے ابی 
امت کے عاءکوان انام سے اکی ہنا تشویہ دئی سے پیل نی ر سول سے اعم ہے اور 
اس یرہز ھی د لال تکر تی ےکہ 1 فضرت بے انمیار کے متھلق سدال 
ہوا آپ نے فرما کہ ایک لاکھ چو ٹیں ہار ' مرخ سکیامیاان یش ر سول کت 
ہیں ؟ ف مایا تقین سو رہ اوج کا قول ہے 'رسول وە ےکہ مز او رکنائ ناو 
اس پزناز لک یکن ہو دوفو ں کا جائ ہواورج نی ہی ہو 'رسول نہ ہو دوہ جس 





ْ 


کے پا سکتابن ہواو رت کی ہیں رسول وو ہے جس کے پا فرش تینکر 
ہے اون ری ا سکو بج یککہاجا ا سے اور نی زا سکو بھی جن سکی طم رح خو اب شی وا 
شا 

ححضرت ان عپائل ز شی ال عہکابیان ےک حقر توم اور حض رت نوع ہا 
سام کے ماشن دس قر ننگمزرۓ ہیں جو سب کے سب الام پر تھے ال اخیاء پہ 
ال تا یکی طرف سے و تی تھی جس پر غو بھی تل پیراہوتے تھے اوران 
مومنو ںکو بھی عم فرباتے تھے جوان کے پاس تےہکیوکلہ دہ سب ان بے بھالن؛ 
رک خے لیک ای طرح جس طر حکہ ایک ش لیت دانے ان خقام پان ںکو 
ات ہیں کہ ج نکی علا و رسو لکی طرف سے متلنکرتے ہیں اور بجی حال انمیاء 
خی اسر ان ل کا ےکہ ووشر ییت فو رات کے مطااقی ع مکرتے چے او رگوان مل 
سےکسیکی طرف 1یک مین واقہ ٹس خاس وی بھ کی جال ھی مہم ش رلیت 
تق رات ئی ا نکی مال ای مال مکی کی ہے جھ سکوالش زج لکسی قضیہ مس ابمے 
می بچھادی جو مطالی ق رن ہوں جی کہ اللر عزو بل نے حضرت سلیمان 
علیہ الما مکواس قضی کا عم تمچھایاکہ جس میں انہوں نے اور حضرت داد علیہ 
العلام نے فصلہ کیا تھاچں انا ءکو ذاش تی لا اور اپنے ام رد نی اور خر سے ان 
کو ملع فرب جاے اورو ون لوگو کوک جو ان پرابیان لاتے ہیں الد زو جل نے جھ 
کپھ خبردی سے اورامروٹی سے مطف راس جنلاقے ہیں مچ رک رکغا کی طرف 
بھی زسولل ول نے وا کے و حید لی اذراس ودہ اش ری کک عباد تک د ات 
دتے ہیں نیز ضرودی کہ رسولو نکی ایک توم مھ ی بکرے اللد عز بل 
ا نت کذالك مآاتی الذین من قبلھم من رسول الا قالوا ساحٰراًو 
مجون(ای رح ان سے پ لوگوں کے پا" جو رسول آا کچ یکہاکہ جادوگر 
ےیادوائ )اور ارشاد ے مایقال لك الا ماقد قیل ملرسل من قبلك (تھ 





78و ا ا 
و مک کید اب ران ےھ سے پل ےم 
رسول خالفوں ب کی طرف کی جاتے ہیں اس لے ا نکی الیک جمانحعت ا ن کو 
تلالی سے 'ارشاد ۓوما ارسلنا من قبلك الا رجالا نوحی الیھم من اھل 
القری افلم یسیروا فی الارض فینظرو کیف کان عاقبة الذین من 


. قبلھم ولدارالاخرۃ خیر للذین اتقو افلا تعقلون حتی اذا استیکاس 


الرسل وظنوا انھم قد کذبو :جاء ھم نصرنا فنجی من نشاء ولا یرد 
باسنا عن القرم المجرمین(اور نے کیج ہم نے تج سے سط بجی مرد ےکم 
عم کی تھے ہما نکوہستیوں کے رے دانے سکیا لوگ نی پچ رے کک 


کہ دک می کیا ہدااخھام ا نکاجو ان سے پل تھے اور پل گھ رت بہت سے 


پربیزکغوالوں کو ماب بھی تم یں کھت یہان کفکہ جب :اامید ہونے گے 
رسول اود خا لکرنے گُ کہ ان سے جھو ٹفکہاتھا کی ا نکد ہما ری چا 
اش نکوہم نے چاباود گی رکی نیس جال آفت ہریخذ مکہگار سے اور رین 


. لننصررسلنا والذین امنوا فی الحیوۃ الدنیا ویوم یقوم الاشھاد(مپرر 


کرتے ہیں اپے رسولو نکی اور یمان دلو لک دنیاکی ز ندگالیٰ بش اور جب 
کھڑے ہو ےگواد) 

ارشاد ربانی ومآارسًّلنَا من قبلك من رسول ولا نبی ا ام مکی 
دیل س ےکہ مھا بھی مل می ہوتا سے لیکن اطلاقی کے وقت وو رسول ے 
موسوم یں ہو گا ۔کیوکہ و وی قوم کی طرف اڑیی با بےکر نہیں بھچاگیا 
ین سے ودواقف نہ ہوں کہ ال ایما نکوان باف کا عم دنا تھاکہ جن کے جن 
ھو نےکودہ اض ہیں جھ فوعحی تکہ ایک عا مکی ہوئی سے آ فحضرت تنگ نے 
ای لے ار ادف رای العلما ورٹا الانبباہ( علانمیا کے وارت ٹل )۔ 

اوردو الہ فرباایٹر یضطفی من الملائکتە رسلا و من الناسِ 





مت 


زا اٹ لیتا سے فرشتوں مس ام پہچیانے وانے او رآ دمیف می اور سے دہ . 
میں جن کووسی در ےکر جھیتاے چنانغ ارشادےوما کان لبشر ان یکلمە الله 
الا وحیا او من ورآء حجاب اویرسل رسولا فیوحی باذنه مایشاءاہر 

می آ دی یک طاقت نی کیہ اس سے باشی فککردے ال گراشمارے سے پا یر دے 
کے ےا کی ےکوی پا لانے وال نر پچ پارے اس کے مم سے جو دہ پاے۔ 

جس رع اولمیاء الد میں دو لت یں اہی مق ربین اور ا اب 
صن )اس یک نظیر ایا ہم سلام میں 'عید رسول'او می لک گا .. 
تیم ے “تق سعازہ تھی نے حضرت مج رسول الل کان دوفوں کے 
درمیان اخقرار عطافر بتاک خواو”عبررسول ''نتیں خواو ”نی لک آپ نے“ 
عہدرسو ل“ نا بن رام تکی عحثت میں فریا ۔۔ 

جنوں میں بھی رسول ہو ے مس یا تین علء اس میں ملف 
ہیں ”شواک نے جب اس کے متحلق سوال ہواتو کے گے ہا کیا کو یہ فرماتے 
ہوۓ ںا یمعشرالجن والائس الم یاتکم رسل ملکم(اے جماحت 
جنو ںک او رآزمیو ںک کیا ہآ ے تار پان تق ”ہیں مس سے )یی 
زانوں میں نے پر اور جنوں میس سے بر ۔ ہی کا ان ےک آفضرت 
سی بوشت سے قمل جن ولس دونوں میں رسول مبنوت ہوتے کے اور 
حعضرت مھ جن والس س بکی رف مو "و اہ 

علامہ این ط؛ مک ہیں حد بیث میس آاے 

وکانذ البی ییعٹ فی قومہ (اور نی ابی توم میس م وت و٣‏ تھا 
اور جن قوم ال میس سے مکی خابت ہواکہ مجنوں کے لئ بھی ہن جی میں اتمیاء 
ہوے ہیں ان کا کوئی س کہ یز ہمارے بن رج ےہا نکی لت جن و 
زس کے لے بالا تق عام ہے انسافوں می سے وگ نی ج نکی رف مبحوٹ 
کی موا 


ا 


کے 


1 





0 





او اکنٹ لا اک طرف گے ہی ن کہ جنوں ہی ںکوگی رعولی خی ہوا 
صرف انسماموں یس رسول ہو ۓ ہیں 
حافظ ابی تج ر حسقلا ی کت یں: 7 

”در شواک کے امتد لا لکاىہ جو اب دستے می ںک ہآ آی تک مطلبے 
ےی ا 'وورسول ہیں جھانسانو کی طرف اللرکی جا سے بیج گے 

ہیں اوز ”نر مل جن ممکواود نے زین بر منتتشر فرمایاکہ ”ور ان سی بات ںکو 

انی قوم یں میں ای لا نماک ولا کے انا سمعنا کنیا انزل 
من بعد موسی الایع ( ہم نے ایک 2920 موی کے بعر)۲ “ 
وک فریاتے ہیں:۔ 
نام ےکی نک اڈیانوں بش رسول ہد نے میں اور جو یل رسول 
نذ اور انہوں نے علاد تکیاولو ا الی قومہہم مننذدرین (یچر گے اپتی تو مکی 
رف ڈداتے ہوئے) منفر ناد ہیں جھ مرو ںکی اننس مگ چھ پچ سنا جنوں 
یس جاک را لکا معن کرتے یں اود جن مس نھب نہیں ہوتے 'اس ضصورت میس 
ری رت مکش تل وی حرف اس کی 
مرف زائ ہوگی ہیں طر کہ ارشاد ےیخرج منھما اللولوءٴو المرجان 
(لتا ان ے موی اور مو )ھا لاک کھار کی سے “اہ شیر سی سے یں 
اور ٹراپاوجعل القمر فیھن نورا( اور ر ھا پا خرن یاپا۸) 

عالامکہووصرف ایک کی آسمان می ےا ' 

و ور کہ خ ران می بی ر سول ہے ے یں فرشن دم رادہ او رکایں 
ى اس لئے صب موق و حلل مت لئے جامیں کے “نی زافظار سو لکاطلاقی واعد 
اور یع دوڈوی کے لے ہو جا سے“ ارشادے لقد جاء کم رسول من انفسکم 
(آیا ہے تہارےپائسر سول تم شکا)اورانا رسول رب العالمین (م ینام 
لاۓ میں ججہان کے صاح بکا) رس لک ہما رگلّے۔ 





ار سے زیادہاساء سیر عا ٠‏ صل ال علیہ وع آلہ و سم 


رگن کس صاحب اہب لہ ینہ ن ےکتیاب و سنت او رکب ساوی سے 
جار سو سے ز اد اسماء شر ایہر تیب حروف گی مان سے میں ہم بھی ا ن کا کر 
کر کے کلت حاصل کر نے ہیں اکر چہ طول ہیں اورشھض اسا کر ر بھی ہیں جن _ 
۱ سس مہ ذوق و علاو تکامعامل ہے طول و تار نظرمیں من 

خنا قکوچا ےک مو جاناور وردزبان خودہیاۓے 

سم ایال جن ال ریم مر ول ان ء الام بالہ :الا شی اتی الس 
الا ود اج دالنا ئن ءاعد الا نع ءاسن الائس ٦ا‏ اید ءالخ با رات اذ 
اصد تمات :الا خر ءالا شی : لد اولنع خر ار زع لاس حقل ءا تم انا بالعالء 
الوزہر:الاعلم واسل لان ؛ا شع لاس ؛الاصدق لال لیب النائ در بھا :الا خر 
اد اکٹ لان حبعاہالاکرم اکریم الا اکم ول آوم ؛ امھ امام ای :لام٠‏ 
لاس وایام ان الام الام ر؛الا مین لن اصحاہ لان ءالائی ءال ال ءاول 
شا ءلول الین ول شع راول نول می ینیشن الا رخ۔ل(پ )الپاز 
دہ اشن مالین بر بش ری اع اص ملغ الو الہ 
(زت )انی ءا کر ءاتٹی رالقز: مل ؛العابی لات )اشن (رج )ا لجبار الج ٠‏ 
اجودءالپائ ھا١‏ م.())عات ×7 بال :الا اط الاک سار اوایٹر 
ایا ء حم لواء الد ءالیاپر لات گن النا ایب قب اولہ انی :ای ءال 
را لیم الیم مء ساد جمطا یا اط تمسق اہ لیف م( رخ )خاتم نین :ات 
ال لین :الیم رالفاز نکمال او ہناشن :اق ضحع :الا لئ خیب الا ما ولا ح٠‏ 
خیب الواذ بن عی را لنلیلی, یل ال رین :التایغہہ خی رالاخمیاعہ خجرالبری :تر 
لق او خی الین ہ یر الڑاس ہ خر والامہ ء(ددار ینہ ءالداگی ال قد 





و ول ایم د وواین م ولیل ارات وخ رجا 2 ا 
ذکراللہ زوالنویض الموروو زوش مٹیم زوالص اقم زوالتپزوففل , 
ارات ءزوالظاما ھمودہ والوسلہ ء(ر )ال رضح ءال رائشی ءال راخ ؛ رپ 
۱ ہرائی ءالر اہ ر1 کپ الہ ای را شُل رکٹ الناقہ راکپ ایب :ال رع 
٤ر‏ حم الابدء رم وحم مداۃہال رجیم ءالرہول *الراح مر سول ال رج 
.رہ گا وا شی ءال ٹع ء اق :ال زایپ ء زع الدرجات ؛ 
1 ل فیپ روغ الع روج الا والروف , رین التو اضحین (ز لیر زم 
٘ ۰ لیا الکی نال ہدالز ری زین من دال مہ لس اق اسان 
٠‏ مال نالزبابناپ ہ گال ٴالڈ+الت را واأی ٍ والنورومتیزایلر سیر 
1 اف :الع الام را ا 
او ین, سیداشٹ ین :سیف اشرمول ل سید الف یقین(گ )الغارغ 'اغاغ 
الشفئغ :ا اک ر*الغا ہر ایڈنا اکور * لس *الشمیر“(صس )الصر 'اضاحب * 
صاحب اآیات صاحب ہزات * صاحب البر ان “ صاحب ابیان ' صاحب 
الماد ' صاحب الج 'ضاخب١‏ 'صاحب الو المورود ؛ضاحب الات 
صاحپ الدرچدافن ' صاحب اارداء ' صاحپ الاڑو اج الطاہ رات ' صاحب 
ا مس اك لا اح الا ات نطاب 
ارغ صاحب الشفاۃاً الک رک ء صاحب التطایاء صاحب العلامات الپاہ رات 
صاپ الو والدر جات ء صاہپ الفخیلہ ؛صاحب الف مع ء صاحب الیب ؛ 
راد نک سا تو 0ش ساب ا سا الاو 
اق لوا صاحب ار ء صاحب القام اگززم تاحت از ان 
لے ایک قص سی ہشیت اد 


صاحب ابر الشور صاحب العراج صاحب خر صاجب اششم:ااصح 









ۓ 


2 


٦ 8 0‏ وب کک و 
62 


سام لاوق ؛الصبور ؛الصدق اط اہ ہ صراط الین انقت یم الص اط 
تق اصفوح عرن از زات لصف اصٹی اص ا( الذارب لیا لوم ء 
اض یا ک اکفوک,ل(ط)طا اب الطاہرالطیب ہملس نم طہ ءالطیب لہ کاظاہر 
فور اظاہرء( رح )لاد ؛الحایدءامیادل انیم لعاف :الع قب الال :عم 
او ران ء علم الین ء العا کم اتی العال ہ عیدالش ہالحبد انکر یم ء عیدالجبار ہ 
عبر امیر عہدا لیر عیرالو باب : بغار عب اث ء عبدافالقی ء عبدال رح 
عبدالزاقی * عیدالسلام ؛ عبدالقادر ؛ عبدالقروس ہ عبدا تقر عیر کمن 
انل ہ الع ری ء العرہ الوگنی ہ العزری:ہ ااعطوف ہ الہ العلیم ہ خی الف رح 
(غ)واب , انور ء الغنی ء الغتی اللہ القیثی ء القویث ء 
الف )الف ءالفا ءارق الفاروق فار وق ؛ انتا ار ؛الفرطء 
نی فضل الف لنر ہق )اسم القاضی :الشاتہ اید لن قیدالخر 
ون ال الام اتال راقتول :تنم اقم قرم الصدق:الت شی ؛القریب۔ 
لق لم تی القا سر لا مم ء لیت ین الاک بات لاس ؛المفیگل ٠‏ 
الکائل نی تع اموروہانکر یم یعس ,(ل اللمانء(م الما جدہماذون ہا ای٠‏ 
ما وں الس ء ارک :ال :الب ؛الششر ‏ مجشرال این لوٹ :بای ء 
اغ لی ہلت الیل :دک رم ااعفرع رای لن مل :اد اھکل٠٠‏ 
انی متابء مجبپ المجتبی ۰ا کرس :الھرم :لوط ذھزء 
اصود یز اقار لصو پااشرف :ال می لع افو لد :اٹل : 
المیرٹر ہام فی: یت الع ہل زکر ید زکور ہل تی مز ءال ری ءا رسوم ٠‏ 
الترذ اتالد کیا رسود المستغذ اع 
مق شع فوع ا رالشہور لایر لصاح الصار عء 
نُْ 


لصا ء بنأ ال نات لوق اگ صء١‏ کم الس عل الصاع الظ 











384 


َ‫ وفز الو العوم رامع ,لف کور 
مفضل مامی ہے میم لمت بعد اہ الم ادف نین ای 
لی , تی الق لن ,لح ؛امنادی ءللصر :ایی لیر ہمز علیہ :امہ 
الین اور اتب پک الم ومن والم وی ال وی ای ؛ موووو الین اور 
ء الموکی ءالموید ء اون الموسر ء الماج ہنی ء ری ءال یمن اش 
ا الا جز الا ء الا ءالناشر ءالنا مع ؛الناق العاہی نبی الاتمر 
؛ضہی الاسودئی کی و رد لی اصا٠‏ ا ری 

بی الملاتم ءال با انم انب یر ایب کم 
02ھ.ھ کی الٹور ءالنور لیذ ی لالطغار ء(٥)الرادی‏ ٤ری‏ 





الد ای (و لو *الوائع ءالواصل :الام الو ور الواعظا ؛الو خ٠‏ 


لوس :الوائی لوٹ او وی لفحل ,(سی) ہیں سے الہ علیہ وسلم وع یلیہ 
سای وا این 

کحب اخبار سے منقول کہ انہوں ‏ ےکماکہ مب یکر میم صل علیہ وسلمکا 
اسم مارک ال نت نس ہدنک یم فورئل نار می عیدا پل ایل عرش میں 
عمبرا می اور فرشتقوں میں عبدا لی نیوں جس عبدلوہاب شیا ٹین یس عبرالقار 
اور می کے نزو یک تید جم ء پاڑوں مس عبدالفالقی : گی میں عبدالقادر تی 
یس خپزا لین ۰ جچھایوں میس عبدالم من ٭پ نروں شین عالطا رء تر یت یل 
مو موا یل میں طلاب طاب یفوں یل عا قب ءزیور بش فازوقی اور ایر ے 
خزد یک طہ دلیں اور مسلمانوں میس مجر مل اللہ علیہ وسلم ہے او رکم آ پک کنیت و 
القائم ے کیک ہآ پکوائل ض١ش‏ تیم فرماتے ہیں لور یبای نیشن من مرو 
امعالی سےکتاب ”سوق الع روس و اس انوس “میں ول ے. 


ال تما ی ے ملق ا بر 
ددم مان کے ان 
مس ری نکی خلطیاں 
ق ران عحیم میں صتعدرد الف اہ تعالٰ سے مفسوب ہیں لا ذات 
ضلال ویر 1ک مس رین نے ا نکاغلا تر ج کر کے او تال کیا ان می سکتائی 
کاار ا بھاے۔ (معاذاش) 
-۹ە-ء-ء- . 02 
٢‏ اشقالٰذتدیے۔ 
2 ال تما یگرا از جات 
ھا امہ ایا نبیں کے صفحیات یٹس ملاظ ہک یں- 
مان الله لایظلم الناس شیا ولکن الناس انفسھم بظلمون. 
)١۰/٢٦(‏ 
فما کان الله لیظلمھم ولکن کانوا انفسھم یظلمون 
(ے )٠۰/۹۷۹/۷۸۰۹/‏ 
کات:۔ 
:نع ا شی ا مل کیا ے۔ حی ی شیت کے سے 
ان می ظلم کے م ہی کے گے ہیں ور اس طرح عم کا 
لفط الثر تعالی سے موب کیا گیا۔ عالاکمہ الد تعالیٰ تق ظا م 
نید (معازاش) 





(۲) 


(٢ 


زرل 


فقت می افط تلم کے معائی بے افصافی ' زبدستی ' سم مگاری 


'عد سے گزر چا از غی رک کیٹ یس تصر فکزن ہیں۔ 
تلم کاصدورذات پااا تمالل ے مال بے یگ 14 ی2 
ای وعدہ اش یک کی گکیت ہے بدا دہ ان ملک میں جو بھی 
کرنے ورصت ے۔ 

جب فظ لم ہہونے کی بات کریں تو اس کا مطلب ہہ ہے کہ ایک 
نے وہضرے بر نلم کید ( اکم اور عظلوم ہم مجن اور بزابر 
ہیں) الد تمالی کے باب کوئی نھیں اس لے اس لفظ کو ار 
تقالی کی طرف موب کنا سب سے بو یکم ھی کی ولیل 


ے۔ 

الل تھاٹیٰ کے اتی اموں میں لفط علم کے پاب ے ”الم“ 
خی ے۔ : 

منددج بالا آیات یں سس کے مع بے انصائی ' کے ہوں 
کے۔ا شا میا کے مات نے الا خی کر 
ین لوگ انی جانوں کے مات بے انصانی ' زبددت مم 
ری شود ہی کرے ہیں۔ 


ضلال:۔ من یھد الله فلا مضل لە ومن یضللہ فلا هادی له 
جع ھجم :۔ بے اللہ تقالی ہرایت دے اس ےکوئ یگ راءکر نے وال غ اور 


جےاللد تھی پھلادے اس ےکوگی رایت د نے والا خی 


فوٹں: ہترٗمین نے الد تال یکو گر وکرنے ولا“ ترجمہ کیا جو ملا ے۔ 
تث رت : ()۔ فلال کے مع ببت سے ہیں۔ جب ہہ اللہ تعال ی کی طرف 


مفنوب ہو قپچھ راس کے معن ” بعلاد تا“ کے ہیں ۔ مشگمرا وکنا کے 


۸ 
: 


: 


۹ 


1 


(۲)۔ 


(۳)۔ 


ہیں ازنان خود یگ رہوج سے خشیطان کے مت کہ کھت ہی نکی وکلہ 
سک مشن ہ یگم را ہکرن سے لج لوگوں نے اسے تر ےکر کے الد 
تال کی شان ئم شکنتا فارطا بکیاے۔ 

دوس ام با بے کہ ال ای اس وقت انما نک بملادتاے جب 
انمان ا شال کو ھلا جا ہے۔ لین اللہ تا یکی ہرایت یر عمل نی ںکر ٣‏ 
اس سے تپ لیت ہے۔ اور آنرکار خو وگ راوہو جاتاے۔ 

تی ری بات ىہ ےک ہکفارو خی رونے ال تال کی ہدایت سےکول فدہ 
نا ٹھایا( ایی ہٹ د۶ میاور ضف دکی وجہ ے )اس ک٤‏ ےکہاجاءا ےکہ 
ان کاکوٹی دی نہیں تو ان شیں کے بد اشن یکائے نہک بادکا 
(اللتعالی ہدیا سو لک :ئل 


(۴): کفارو خر نے شیطا نکی پچ وکا جس کاکائم ھی مگ راوکرنا ہے مبدہ 


آم نکر نے کے بعد شیطان تےکہاتھالا قعدن لھم علی صراطث 
المستقیم ۔ ترے سید ھھ رات پر ڈٹھو ںگا۔ ان پر دیس سے بای 
ہے۔ آ گے سےاور کے سے تل کرو ںک__ 

اللہ تھالی لام لگیاتھا۔ قا بل راو شچی(بولا ٹون بھےگھ رلدکیا) 


مق :۔ مگمرا وک ناایشد تھا یکاکام نہیں پکنہ شیطا نکا سے اوراللد تعالی برگمراہ 
کرن کاالرام بھی شیطان نے بی لگا تھا ۔ تن من جن نے غلط تج کیا اور الد 
تعالی رگ راوکر ےکا الزام اکا کناوگار ہوۓے۔ 











۔)٦(‎ 








لکات: (۔ مسر نے عزت ذ می ےکوا فی کی طرف مفنوب ات 


جھکہ ٹیک سے لان لفظا ول کو بھی ال تھا کی طرف موب 77 
ہ ےکہ ات د بنا بھی ایام ہے۔ بیزجات 3 زصت کن اللہ تعالٰٰ 
کی می وش گان 

لفت میں لف 3 کے نف تو یکر نا۔ الم ہک ناہے اور لفطاذات ک 
مق فان پر وکنا ھا کر ناپ تکرا کے ہیں۔ اس کے ساتھ 
مات ان کے معنی خو ار اوزد مو ائی کے بھی ہیں۔ 


ذ ٗ۴ نب بے لفاللہ تھا ی سے منسوب ہوااور ۶ کے متقائل آۓ پچ راس 


کے مع خوا اد سوائی کے نیس بکنہ یس تکرنے کہ کے ہیں 
مندر رجہ پل یت کے ہجنی۔اللہ سے چاہے عزت دے اور کے پاے 
عاتیاہ تآررے_ 

ایک انسان دوسرے اما نکوذزییل در سو اکر تا ہ ےکی وک وونوں 2 
مفادکاعکراو ہو سا ہے : لین اللہ تھا کی انان سے انا نکی الل 
تی سے برابرکی اور مفادکانگراو نی ہو تا تن یلیل ہے اس لے 
ال تا کی شا یں وی لکر نے کے ما کر نال نا یکی ان 
شکنتائی ہے۔ 

کفاز کے ٹول فیاعتف کے دن ذدل اور روا یک آيات نی ووا نکی 


کی ہو گاج اہول نے الہ تھالی کے اظابات سے بخا گر کے 


حا کی ہوگی۔اود اس دن دہ پچت ہیں کے کاش انغہوں نے الد 
تھا لی اور رسو لکرمم مکل کے اجکامات پگ لکیاہوتا لے زلعد 
دیما پڑلی-۔جھ تو داپنےپ تھوں می انتا ری ے_ 


'ٰ لقث وتعزمن تشاءوتزل' من تشاء‎ ٦ 


: 


2 وم 

٠٦‏ ٠٣۔‏ حم الله علی قلوبھم 

تن ْ 

()۔ ہرگ ال نے او یر دلوں‌ان کے۔ 

(۴)۔ اشد ان کے دلوں اوران کےکیانوں بر مب رآگادیی۔ 

0 مہ کر دک اد نے اع کے داوںل پہ- 
(۴)۔ ہب لگا اللہ تھالی نے ان کے دلوں ۔ 
(۵)۔ الد نے اع کے دوس پر او راو پر مہ رکردگی- 
(۷)۔ خداےان کے دلوں اورکانو ںکوہن رگردیا_۔ 
(2)۔ ان کے انگادی دہ سےالن کے باعن پر پردے پڑگے ہیں- 
درست تجھہ۔ مندرج بالا جم سے اہر ہو تا ےک اللہ تعالی نے ان 
کے دلوں پر مہ رذگادگی ہے۔اسے لوگ بڑ ھک کہ کھت ہی ںکہ جب الد تال نے 
تی مہ کہ دگی سے اورا نی بی کے رات سے دیو کک نجائی بنادیا سے قواس مل 
ا نکاگیاضورے؟ 

عالاککہ اللہ تعالی نے انما نکو دونوں (جگی اور دی کے )را تا 

د لے ہیں اور اخقیار دے دا کہ ٘س را سے برچاے بیس بکلہ رای گی 
راجتمائی کے لے مد سکب اورایک لو چو یں ہار ریئے۔ 

: یقت یہ ےکہ راو ہریت جتانے دالے اخمیاءکگی با تکاا کک ن ےگا 
دج سے ان کے دولواں پر بر دے ہے میں اللہ تال نے مر پقاک را نہیں گی کے 
راسن پ چلنے سے نیس روکا۔ یے چوک می لگگا س رخ تن کاشار وکا پیا کاد 
کے سوا رکاچالان ہو جانا سے و آپ ىہ نمی کہ س تک پیا نے چالا گر دیا 
پل صدر عمللت کے بنائۓ قافون کے مطالق سرغ طقا کے اشمار ہیر ضر رک ےگ 
وچ سےا ںکاچالان ہوگیا۔ یک ” والقدرخیر وشرہ من ال تما یل ے 


مصداق ہر رکاوی مالک ہے ہذاکسی کے تصور یج مزال گی دوہ گی اللہ 
تعال یکی طرف ےگم الام اود تھالی پر نیس آ ےگا کیدککہ ا نے بواصول -- 
بنادیابے اس کے مطابقی ممزازامر تب بوگی۔اس لئ اللد تھا یکی ذات تصوروار 

نی بکلہ تصور تمہارااپائیے۔ 

(۵)۔ فزادھم الله مرضا۲/۱۰ 

مترجٗین..(۱) میس بڑھائی اید نے ا نکی بیاری۔ 

(۲٢)۔‏ ن کے دوش یل ایک پیا کی ہے ے الد تعالی نے اور بڑھادیا_۔ 

(۳)۔ پل رزیاد+دیاالش نے ا نک آزار- 

(۴)۔ بپھربڑھادگی ال نے ا نکی باری۔ 

(۵)۔ ساور بھی بڑحادیاالڈد نے ا نکمم یی 

(۹)۔ تو ال نا نکی بنا اور بڑعالی۔ 

(ھ)۔ میں خدانے میگ ا نکی ذار کی ذیاد+کردی۔ 

(۸)۔ میں اللہ کے اصول کے مطا اتی بی مر بڑ تاج تاہے۔ 

درست ت جم دن قراتم سے طاہر ہو تا ےکہ ان کے دلوں بی ج ھکف کی بیاری 

ہے اللہ تھی نے اسے اور بڑھادیاسے ساراالرام ال تا یکودیا ے۔(مواذائش) 





بات ے 

کہ اللہ تا یٰ کے بناۓ ود اصسول کے مطا بہا ریا بڑھ رجی ہے 
(۷(۔ ربنا لا تز غ قلوبنا۔ 

کر شون _۔_اے ہار ےرب جمارے دلو ںکا سان کر 


ددرست 7 ہمہ اے مار ے دب ہھارے دلو ںکوٹڑ ہاش ہو نے رے_ 


ہے ت وہ ۱ 
تما رت نکر ات ال تال برایٹ: ۓ کے بعد مرکسی کے و کون ھا نمی یک -٤‏ 
پک انان خودی اتی بد عمالیوں سے اااکرجے _۔_۔اس لے ال تھا الام 
لع ا ىہ ایک وعاے جمارے دلو نکو می ھا ہد نے سے با لے 
جنطرع نراز میں المد شریف پڑت ہوے ہر ہار م کچ میں اھدنا الصراط 
المستقی 
ے_ الله یستھزی بھم 
وت 
ال ٹاک جا ان سے۔ 
٢‏ لان ے ماگ اے۔ 
5 ایآ یگ <ےانٗے۔ 
۷۔ ‏ اشمزاے,پاےا نی ای ما قگا۔ 
۵ اللہ ایی اتججزاکرر ہے ہیں ان کے سا تھ - 
ا ران سےا تپ زا ا قراتاے۔ 
ے۔ ‏ اللہ ان کو رک ہمزااےگا۔ 
ورست ترجہ الل کے اضول کے مطا لق ان کے شمے کے اثرات 
انئیں پرم رحب ہو جات ہیں۔ 
وم ترائم پ ڈراو فرمایے رکال تھل کیہ شان ے؟ 
ہناری زین سے ضوز جکروڑوں گنا بڑ سے پچ راس جی ےکر وٹ سور 
شی یں ای نا خزالی عام اناو ںکی ط رح فا کر نے والول سے 
رات یکر رہاے(نعو ذ باللله من ذالكغ )تج ہکرتے وقت ال یکا اظگرن 
پا ےکہ ىا ںکاخان کے لاكنّ ہے ہ لو رزدعل کے اضتول کے مطاای 


ےنوک تسوی مر ہت _ 
فاقی کنل جابلو ںکاکام تایاکیاے ۶ال ك۷- ٢١۱۔۲۹‏ 
(۸)۔ ذھب الله بنورھم --- لا یبصرون ےا۔٢‏ 
ا ٘ 
()۔ ‏ لے گیا االلرد دش ا نکی اور جھوڑ دیاا نکو بی اندعیروں کے تن 
رھت 
()۔ ال ےا نکانور ہصارت سل بک لیااور انٹیل اس عالی میں ٹھوڑدیا 
کہ تاریکیوں میس انیس یھ نظ نہیں 1چر 
(۳)۔ سل ےگیااا نگیادہشٰادرچھوڑاا نکواند میروں یس نظ ر نہیں 7بر 
7 الا نکانور اور ھوڑ دیاا نٹ لگھپ اند رو شی کے 
د کے بھالے نہ نہویں۔ 
(۵)۔ اللہ ان کانور گیا اور ا نیل اندعیروں ش کھوڑ دیاکنہ کچھ خی 
ججتناانکانورائلد نے نان لیا۔ 
(۷۔درست تجعمہ۔(اللد کے بنا ہو ۓ اصولل کے مطابق ان کےکف کی 
دجرے ا نکافور ماندپڑگیااود دواند عبروں می بھگنے گے اور نہیں 
یھ مچھائی یں دیا۔ 
دنک مت رشن نے ساداارام ال تھالی کی ذات پر لگادیاے مگ بات ہے 
ہے انون ددرت کے مطابی دہاندعروں ین کک ر ہی اھ 
قالٰ بر /:اے عالاکہ ال نے ایک اصول پیرانٹی کا یادیا بے ای 
مطاب یراکش وت ے١‏ اع رآان ک ےکن رکے سب ا نکا با ضیف رماند گیا 
(۹)۔ یضل به۔-۔ کر ا٢٢/۲‏ 





393 


مر 

07 00" بت کو اور راو دکھاجا سے سنا تہ ای 
کے ہپ یکو 

ف5 بو ںکوگرادی میس بپتلاکرد چا اور نول کور اوراست دکھاد چا ے۔ 

(۴)۔ مگم راک تا ای سے پیر اوردرا ہپ لا جن اس سے :چیجرے۔ 

(۴)۔ گرا ہکرت ہے االلد ای سے “رو لکو اور رایت دبا ہے ال سے 


نقییروںکوں 
(۵)۔ مگ را کر تے ہیں اللہ تال ال متا لکیادجہ سے بکتیبرو ںکوہدرابی تکرتے 
یں ال ںکی وج سے ہجو ںکو- 


(۷)۔ اللہ کرو نکوااس ےگ راک جا اور تی رو کو رایت فرماجاے۔ 
(ع)۔ اس کے ری یرد ںک گرا کر دبا سے اور بہت سے لوگو ں کو 
راجخما یک جا ہے 


و رز کت / کے 

(۸) ان( ق رآ نکو بچھوڑنغ )سے بہت سے لوگ مگھراہ ہو جاتے ٹین اور 
(ای پر قلی کر کے )بت سے پدابیتپاجاتے ہیں شی اللہ تا ٰیگمراہ 
نی لکر تابکلہ ای نے تج ھآن بک بینارہ نود ہنا ہے جو ا کی طرف 
آ ےگا ہدایت ہاےگااور جھ اس سے دور ہو گالگمراہ ہو جاۓ گااور 


اخد رون می چاکر ےگا 
(١١)۔_‏ ومکرواو مکرالله--۔۔المکرین ۳۱۵۳ 
مجر ین 


()۔ ‏ اور کیا انہوں نک رکیااللد نے اور الد یتر ہ ےک رکرتے__- 
والو ںکا_ 





(۲)۔ 


۳) 


(()۔ 


(۵۸)۔ 


6ن 


07 


4۰وہ 5 
خقیہ قبیری ںکرنے گے اورجواب میں اللد نے تھی اتی خفیہ تیر 
گیااورائیکی تر ول شی الد سب سے بڑ ھکر ہے۔ 

اور فریب کیا نکافروں ے اور دا وکیا اید نے اور ال کا داوٗ سب سے 
تا 

اور ییبددییں نے کیل( عک وف یکر ےکی )خفیہ تب کا اور( کو 
بچانے کے لئے )اولدنے بھی خویہر تو رک اوداللہ سب ے ہاور 
مو خی یر رکرنےوالاے۔ 

اور ان لوگوں نے خی بی کی اور اللہ تال نے خقیہ تیر فرائ اور 
الد تھالی سب تھ بی ری کر نے دالوں سے اگ ہیإں- 

اورک فروں ےگ رکیااورال'د نے ان کے پلا کی خلیہ ہیر فر مال اور 
الد سب سے بہت راکھی تی ردالاے۔ 

اور یودلوں نے فریب کے اود خدانے انمظا مکر رکھا تھا قد سب 
تیروں یناب ے۔ 


درست ترجھ.۔۔او رکافروں نک رکیااور الد نے اع ک ےک رکولوثاد اور اہ کر 
کر نے والوں ک ےک کو ان پرلوٹاد یے والا ہے۔ منددجہپالا تر ایم پر ور فرماے 
کی اوہ تعالی عیی میم الشان بت یک وأحوذ بالڈد مکار اور خقیہ تی ری کر نے والا 
اہ رک ایا ے اک تمام ند رسیا تی اود قام در ش تق میں ین میں اور اللہ تال 
کی صفا تلکھناشر و عکرمیں فذسندر شخ ہو جائیں گے اورا کی صفات شتم غیل 
ہو ںگی کہ ا ہی سمندہر اور ہوں تقو السی جستی ج سکی حم ت کا نقصور بھی 
مارے گر ورڈ ٤نی‏ نی ںکر جن اس پر کرنےکا را مکیاتقندی ہے ؟ می 
رات چوککنہ عر لی وک غنیں رت اور نہ دہاں کے محاورول ضرب 





395 

ااثال اورایک لفظ کے بے شمار معنوں میں موزوں لف کے مع موزوں تہب 
استعا کر چان نہیں ای وج سے اتی بڑبی خی کے م رکھب ہو تے ہی ںکوئی 
ٹن اپ وال کو مکار خی سکہہ سکناچہ جا ےک خا لی کا کا تکوادر با پکومکار 
اور د موہ پازسکجے وال بٹانالا کی مھا جا ا ہے و ال کا تیات کے متح ھن 
سخ ت الفاظط استعا لک :کہا لک لیاقت ے- 

عرلی سک وی لفظادو ہار آجاۓ ا کا مطلب ہےکہ ا نگ چال 
ان ک ےک ہکوان پرلو ناد یمیا دواد کے سا تجح ھمگینلد میں داد اد سےا کر دای 
کی دواد اا ںکودسکا یں دب لہ ایک قاون ثدرت یک وید و ای 
تگیند دای *آتی ہے۔ اس ط ری کافر جک کرت ہیں ا نکیا واٹپیں انیس پہ 
آ جانا ہے اس مر کیا بے شحاری آیات ق رآ پک می آکی ہیں ملاظ و 1۹۹ 
۵ك_۳۰-/۸۔-۵ ٦۸/۲‏ 
٦‏ ومن یرد ان یضله ۲/۱۲۸ 
ات 
()۔ اور جن سکواراد وک جاہے چک مگ راوکرے ا کو 
(۴)۔ اور جےگراپی می ڈا ےکاارادہ ہو تاے۔ 
(٢)ن‏ اورجس بدطعبیب کے لئ ادادوف اتا ےکہ اس ےگمراہ .- 
(۴)۔ اور سکوےراہ رکھناچاتے ہیں۔ 
(۵)۔ اور شےگمراہ کرناچاجۓے- 
(۷)۔ اور ٛ سکوگ راو یکر ناجاجے- 
درست ترجہ :۔ اور چو اپ یگرائی پر جماہو اب( رایت حا گل /اچاے) 
دیکر قراتم سے ہہ اہر ہوتا ےک اللہ تالی لوگو ںکوگمرا کر تا ہے جال کہ الد 





تعالی نے ایک اصوگی ہنادیاے اور اس نے انان اک اوز دی کے دونوں زا ۓے 
ناد یے ہیں اور ںکواخحتیار دے دیا ےکہ انسمان نس رات پر چاے چلہ الد 
تال ا نک یگ رات کی دج سے پموڑد یا دوخ دگمراو خی کر جااسی طر نکی بے 
: ارآ یتین مجودہیں ما ٣١ے ۱٦.۳‏ ۹۳۔٦۱.ےا‏ ۸۲۸۶ا شی رہ 
(ا)۔ قال.قیما اغوبعی٦ااء‏ 





00 کھاپین تم نا نکاک مگ را وکیا نے جج کو 
روا ول اچ شس ط رخ فو نے ےگ رای میس بن اکیاے- 
(۴)۔ بت ۶ال نے کے کے 
۲۔ کیپ لگااس وج س کہ نے مھ (اپقی رحمت سے پمال و کر دیا۔ 
(۵)۔ وہییخ لی(بب )اس ک ےک آپ نے ھےگ راوکیا۔ 
(۹)۔ میں تما سکیکہ فونے ٹھگ راوکیا۔ 
(ع)۔ بولا کیہ نے تھے درکایاے۔ 
بر ست 7م (۸)۔وہ بولافتم ےا کی مک فنے بشھےگراہ قراددیدیا۔ دز 
ترائم سے ہہ ظاہر ہو تا ےکہ شیطا نکوخوددیگم را کر دی 

بات ىہ ےکہ دواللد تال کی نا فربا یکی وجہ سےعراو قرار دید انل 
کی کت نے ےکرک کرس ول سے پکال دبا تی ساراالزام : 
اتد آےگاوراکر یکا ےک لڑ کول قرار دک سکول سے کال دماگیا 
فزا نے اہر وذ کہ لڑکاامتخان کے مرا ع نی ےگز کیا کان 
لج سے سکول سے کال میا اس طرح تصور لڑ کے کا مانا جاۓ گا اتاد کاک وی 
تصور ہیں 





(۸)۔ افامنوا مکر الله-۔---الخسرون۹۹/اے 
مر 


()۔ 

(۲)۔ 
ا 
)(۴)۔ 


(۵)۔ 


)٦( 


)14)( 


کیابیش نر ہو جی ےکر دک سے ین رر خی ہو ت ےر 

غداۓ ے قو مل ٹاپانے وای۔ 

کیا یہ لوگ ال انا سے بے خوف ہیں عا اک اللہ تا کی چال ے 
دیقم ے قوف لی ہے جھ جا ہد نے دای ہو_ 

کیا نر ہو جھئ اللہ کے دا سے کیا ٹیس یلد کے دا نے جو وگ 
خراب ہوں گے۔ 

میا الا کے خی دا بے کر یں دا کے خوف بے زیان گار تی 
بے خوف ارت ہیں۔ 

درست تر مہ کیادہاللہ یر سے بے جم ہیں اور اش کی تیر یئ 
دای بے تیر ہدتے ہیں جھ ناو ہونے دانے ہوں۔ مند رج پالا تر ایم ٹیل 
وذ شر الد تال یوک کر نے الا ال جن وا داؤلگا نے والا اہ مگیا 
گیاہیے عالا کیہ الفاظ ا کیاز ان شس ہابت ندب میں ا نکااسقتمال 
تیر ملظ ال اک ذات کے لے موزوں نی دگگر 7۴۲ 
ایی ملاحظہ ف میں 

قل ان الله یضل من یشاءے ۱۳/۲ 


ہا 


(0)۔ 


)۲)۔ 


کہ شخق ال تھا یگ را ہک ہے جک نکوچاہتاہے اد راہ دکھا ا ے 
ہے حرف اپنی ئل تح لکوکہ رج اکر جاے۔ 
کوو۔اللہ شے چا تا ےمگراوکر اہ اور دواپی طرف آننے کا راس 
ا کو دکھاتاہے جو ا لکی طرف رج کرے۔ 





پ0 ا رک اہی ین 

(۳۴)۔ ."مم" تج ےت اتا 
رف چا گی طرف جا لاے۔ 

(۴)۔ اللہ تعا یگ راک نا ہے جے چاتاہےادرداجنمائی راتا اپ (بارگاہ 
ٹس مقر بکی )رف جو صدق دل سے رجو نگ :اے۔ 

(۵)۔ کہ پکیہ دہج ےئہ واٹتی اللہ تھالی جن سکوچا ےگ را وک د نے ہیں اورجھ 
شس ا نکی طرف متوجہ ہو ا ہے ا کو اپٹی طرف برای ت کرد ہیں 

(۹)۔ تم فراؤ بے نک اللہ تعالی سے پا ےگمراہک د ہے اور ای راواے 
داہے جوا کی طرف رج پ٣‏ لاۓے- 

(2)۔ 7 کہہ فداجش نک چاہتا ےگراوکردیاہے اور ا کی طرف انل 
ہو تے می ا نکوہ رای تک تاے- 

(۸)درست ترجہ ۔ آپ تگلگ فریادیں اللر سے پا اسے ا لک گرا پہ 
سچھولڑز ای اور جوا نکی رف زج اکر ے انس پ مہا تکارایں - 
مل جا ہیں۔ 
مندر ج الا اٹم می لوگو ںکوگم را کر نے کا ارام اللد تھا گا گیا 

ہے چوکہ اس کے ویش کرد واصول کے خلاف ہے ' پدایت لو رای کے لئے 

اس نے دونوں راستوں پر ےکا اخقیار دے دبااب جو جس رات پر چلنا ا ال 

کوڈ یل دےداہے۔ وہ خودگم راو نی ںکر تاور نہ انسان برک الذ مہ ہو جائیگا ای 

مر نکی دنگ ھآیات ملاحظہ فر میں ٣۔۶۱۴‏ ۶+۲۷ ۴٢۲۔۲۵‏ 

۸۹/۲ ان ربك لبالمرصاد‎ _)٠٢( 

مر جمین:۔ حقی رود گار تی االبتہ خےگکعات کے ہے۔ 

(فت) ہت نہ ےکہ تقہادادر بات لگا بلدئے ہے۔ 





وم 


(۴)۔ بے قح کفآ پکارب(نافبانوں کے مات ٹل ے_ 

(۳)۔ بے کک تہارے مکی نظ رت بکتھ خفائحٹ کھیں۔ 

()۔ تمہاراپروددگار بے شح کگحات شل ے_ 

۵ نے شی آپ نار ب ع یکر نے وا ے۔ دیرم جن نے اول تال 
کو لکل ہی بزدل با دیا نی ددکمات مس بییھا ہو اسے جھ پکروا رککرے 
گاخالائے جرب کے بہادر نک کے وقت دم نکولاکار اکر ےک 
فلال آدٹ یکو میرے مقالے بیس نھالو یہاں کے مت مین نے ان 
لوگوں سے بھی بزدل اب تکیاجکہ آ پکارب ش کر نے والاے۔ 

الد تھالی کےکلا ماک میں غور وگ رکرو 

کلام پا ککااتاز:ا۔ اللہ تا لی کے کام اک کے ایک خظا ہیا معن ہیں اور ایک 

ا نی بل راس باعن کے مات باعن ہیں۔ ہمارےآقا مل ج کہ مع کات 

یں نے یی بایا۔ چنامچہ یہ بات نھا یت اہم ےکہ الد تھالی کےکلا مم پاک ‏ 

غورد گگ رکیاجاۓ تہ جو عاہے دوعا مل ہو جاۓ_ 

۴ قرن عم میں مو ہکریں تق با ہا ان تالی نے اس طرف تج دلائی 
ےا نکی ند ایک مال حاضر ہیں 

(الف)۔ )/۲٢‏ کذلك نفصل الایت لقوم یتفکرون 

تجمہ:۔ ہم ٹھیآیی مفمل میا نکرتے ہیں غورکر نے والوں کے لئے۔ 

(ب)۔ (۳/۳) ان فی ذلك لا یت لقوم یتفکرون(۳۱۳۵/۲۲/۳۹) 

تجمہ: یلگ اس ٹس نثانیاں ہیں دعیان کر نے والو ںکو 

)٢۱٣ ۰۔1۹۔۱۷۔اا۔١۷١(‎ 


0 


. (ت)۔ قد فصلنا الایت لقوم یفقھون'(٦/۹۸)‏ 
گی )۷و 





(ث)۔ قد فصلنا الایت لقوم یذکروٹ (١_۷٢۔١۱۳_۱)‏ ٰ 
تی ران خردی نصعخت مات والوں کے لے ِ 
(ع)۔ ان فی ذلك لایت لقوم یعقلون(٦۴/۱)‏ ۱ 


رہم ینف ایی انناخیاں بن تعنوں کے ۱ 
ال عمی مھ کھت ہیں:۔ وتلث الامٹال نضربھا للناس وما یعقلھا الا 
العلمون (۲۳/۲۹) 

تی :ۂ ہی مالس ہملاگکوں کے لئ میا فرناے ہیں اور اشئین شون یٹ مگر 
,21 

تفر نہ فان حلمک یب جب آجاۓ توب سے عالم(ال علم) کے ہیں۔ 

ا ںکامتشادافتا چاال ہے چنانچہ اگ رکلم می یس خوز کک رن کرےاے ۓ کک نکی 

کا شی انا ۔ 1ئ سےا لیت نماصل خی ہکر نے تیر دہش چال ے_ 

اہ ااس کے پا کت تھی جامتا کا ڈگریاں ہون- 


401 


ْ 
اعلی ننس نانوی اور عشی کی ٠‏ 
کر و نے رورس 
رسو لکر مم صلی او علیہ ول مکافرمان 

ا:۔ ‏ من ابطابه عمله لم یسرع بە نسبه (عمله السیئی او تفر بطه 

فی العمل الصالح لم ینفعہ شرف النسب) 

ترجہ :۔عرے اعمال وال ےکور لیف نادان یش پیراہو وی ذا ند وندد یا 
(روع‌البیان) 

٣‏ _(کل تقی نقی آلی) وکل من لم یکن متصفا با لتقوی و 

النقاوہ فلیس من آله) 

تر جم :۔ پرپ ہی زگاراویا اک مل والامیر: لآلے ‏ (سسالین) 

ح ای اکا ایی تقد مرن رو افج یں 

۳ اگرفالیہہندتں مھ( صلی اللہ علیہ وسسلم) سے بھی چو رک یکا ار اب ہھ 

جا ٹیس ا کا بھی پت ھکٹوادوں۔ (ذولٰ) 

قا تی کرام اد پورم سلطان و دکام نہ آ گا فران 

رسو لکر مم کے مطائ صرف تی یکی نہد تکا مآ گیا۔ 








کو ا 
7 ۳ ٹپ و 
چہ جائیکہ بد قیدگ یکر ی ںکہ درم سلطان یو 
تفر رو البیائ اپ ۵ ۱عور7بنی ام انل کے قیم ۱٠١‏ رفا ذا 
جاء وعد الاخرا ةنعیفاً) 
صاحبروں‌الیانگمیلن : 710 
لوگو کول ایا نکو اہی طور پر اور صور ا نکیا تد راپلہ ات مکر ناس 
لے مفیرضہ وگاکمہ ال کال کے اعنقادات اوراتھال صا لہ یں بہت بد اق رق 
ہوگ۔النکی مال ا لکش یکیاہے جودر ای مو کے در مین د ریا وٹ چانۓ 
یر راک یراک یکا مار الے لکن ىہ سمازاغی ریا ککواس لئ فا ود رے 
کہ جب دریاگی انی سے تی را ککوخط وہے تو پھر غیر تا کوک ہار گاۓے 
۴ : 
عد یٹ شریف و بس کے اعمال صالیبرہوں اسے نپ نہ دے گا 
یی جن کے ہے اعمال مت زیادہ ہو قواسے د نیا کے شش لیف نا ند لن پا 
+9 کوئی فا دنہ دےگا۔ ال کی متا ایوں ے کہ ددخ تک شی ای ور خ تک 
ہے لن چوکمہ نک ہ گنی ہے ای لے اسے ددشت سے جداک رت بڑا۔ ا لیے ہی 
شر لیف نمانداان سے تھی رکھ والا ہا ال صا لہ نہ ہو نٹ ےکی دجہ سے خانان 
سےکٹ جاتاے۔ ۷ 
( اس سے جمارے دور کے بے بی ایا ا و مر یا 
زاے سوچ لک کیدہ ای بد می سے ات بد رگوں سے س وکھی شن کی طرح تو 






نی ں کر ہیں تو پ رھ موت کے بعد کے متحلق سوچ ہے با یں اور ہمارے 
عوام ان ھے ممقل ھی مود خر می نے علق ولرکوز سادۂ نین تب کید 
ککڑ یکی ط رن اپے مشا کے ادا مہ ےک فک جن اید ھن میں کے فو پھر 
تماراکیا ہش رہوگا۔ ج بکہ تم نے ان کے داصن می لپ کرای اپنار ہہ اور 
مرشداناہواے۔ 

ا :ا سے مل ت ہوالہ تس بک جاۓ تبرت ینام انالد 
عریٹ شریف :_ جورم رور الم صل الہ علیہ سم نے فرمایا : 
جرب ہی زگار اد اک مل دالا می رآل ے 
ابرو:۔ جس کےا مال اور خقاد سنہ ہوں دو تضور علیہ النلام سے : 
کوئی تلق نمیسں رکتااک ‏ آ پکانمائ ران کا ہو جییے ان اہب دخی روب دجودتگہوہ 
فور علیاللطا مکا پا فا لان ششم می سمگیااس من جواب م گی اکہ حضور علیہ 
السلام کے نادان کے لوگ عقیء اود لی ہوتے ہیں تو ان کیا ےگا ان 

کے بد نم ہب ہن ےکا سیپ ا ناک یکمتا ھی خذت ہو یا اد ار گابادل۔ 

اس عم کے ناندایاے عمل پچ فقراوز ہب لوگ تضورسررور عالم 
صل اللہ علیہ و سلماوردوس رےۓپز مان وین ےکی کا تلق نہیں رت ۔ گر 
چہ ود رن سکروڈڑولں ہار اپ د گے پ ہکروڑوں د لال شی یکر میں اور ہے 
خاندان کے فھرکی تع ڑھیں۔ 
وف افو کہ اس حر کے فلط اصصول کے باوجود پھر 
بھی عوام اریے بے مل پیرو کو داد سیدہ مان یں باعہ ہمارے خو شید کی کی : 
ان میں شائل ہدک اپناور عواممکایڑہ خر قیکررہے ہیں- 


404 





بد عقیدرگی دبد گی یا کے یکا کے نب سے نال درقیے- 
اون ای :-() : ینو ح انە لیس من اھلك انه عمل غیر صالح (ھود) 
تم :۔ اے وا دہ( تیراپا) تیر ےگ روالوں میس سے نیس یف ا ےکم 
صا ں) 

و جا َ- پد لی سے نب سے مگ لکیا۔ید مقیددگیتاائی ین جم ہے۔ 
دوس راقالوئع :۔(۶)ان اکر کم عد الله ھکی ٠”.‏ 
وو سوہ یلک تم یں عزت والاددہے ال تھی کے مز ویک جو تی سے 
رعول اکر نے وو ولغ ہیں۔(صرفمی) 
عد یپاک  :‏ انھا اولیائی المتقون :۔ میرے دوست حرف خی ؤں_ 
(اوراؤں) 
مر فوللزم لال علیہ و ملمنے فقو ں کلک کرت ہو نے فلز 
عن عبدالله بن عمر قال کنا قعود ا عند الىبی فذکر الفتن 
فاکٹر فی ذکر ہا حتی ذکر فتنة الاحلامن قال قائل وما فتنة الاخلاس 
قال ھی ھرب وحرب ٹم فتنة السر آء دخنھا من تخت قدمی رجل من 
اھل بیتی یذ عم انه منی ولیس منی انما اولیا ئی المتقون (اپوراوّر) 
تمہ ند روایت ہے عبدایش رن عمر فرات ہی ںکہ مب یکر مم صلی ال علی۔ 
سلم کے اس یھ تھے حضور جک نے ققتو اکر فا تق یرت زیاد وذ کات" 
تیاکہ ٹاٹ کے فتہکاذکر فیا کی نے دالے نے ع رت سکیاکہ تہ اجلا کیا 
پیر سے فرمایادہبھا اگڑااورلڑائی ےت چرس اء کے فق ہکا رکیات مج ناف اوت 
مہرے ان بین یں سے ایک متس کے فلموں کے لئے سے ہوگات 
دہ بج ےگاکہ دہ جھ سے ہے دو یذ سے ملین میرنے ذوست رف وا 
(حوالہ مراوش رع موق فتوںکباب) 


05 
بد مل کی سزاکی شال 

فررالنار سو لکر می :اس ذات پا کک تم جس کے قفہ قذرت کش 
مبری مان داے۔( مخزو یہ ذ ايک طرف ربی )گر فالہ بت مھ (صل الہ 
علیہ وسلم) سے بھی چورکی کا اد کاب ہو جاے فیس اس کابھی پات ھکنوادول 
(نا لی حبص ۵ ٢٣۔۲۹۰٢۲)‏ 

ایک عورت من کا معلق سو خر نے فا بے رک کے دورالن چو ری 
گی۔ لوک اس عوزت کے ےکر حموز جا کی جدمت یس حاضر ہو ۓ ؛ ول 
کہ بی ایک ڑے یل ہی عورت تھی اس لع ہو خروم کے لوف جواس عورت 
کے رشتہ دار تے۔ امام ئن زیر زی الشرعنہ کے پا سآئے۔ ماکہ وو مضور 
کے اس ججاٗمیں اود اس عور کیا سفازش کر میں ۔ ال کا خی تھاکیہ جناب سید 
سس سیت 
دی 7 

جب سفارش لکر ن ےکسلن اضمممہ من زیزر ضی ارڈ ععدد تضور کی 
ندمت میں عاضر ہوے۔ لوآپ مخت جلال ٹ آ٤‏ اور فرمایا :۔ ” اے 
اسامہ ! بشی اس انیل مج اس لے اہ ہو ۓےکہ ان جس ج بکوکی بدا اور 
صا ڑوت تقایل حد تج م کا ار طکا بک جا فو وو اس سے و رگگزر 
کر ےکی کسی فلس ناو کے نار ٹس ےکوکی ایا رم سر زد ہو جاتا و 
اس پر عد جار یکرت ۔کیام چا بدکہ الد تال کی تا مکردہ عددد بیں سے 
ایک عد تممار نے لئ لو دی جا ئن 

.ا ذات پا ک ای عم بش کے قحضہ قددت میس میرک ان ے۔ 
( خزدمیہ تو ایک طرف زی )اکر فا لم :نت مج جلگ سے بھی چو رٹ یکاا رقاب ہو 
جا و یں ا کا گی پا تح دکڑواووں_ 
0 0 پھر جاب را تاب نے اس عورت کے ہاج کاٹ ےکا عم دیاادر 
آپ مکل کے عم کے مطائ اس عورتکاا بح کا گیا لسن پسائی نمض 
۵٥۵-۔۹ہ۲)‏ 
یں ون یکا ای مہ ہے قد عقیک یکا مزا 
کے سائۓ س بکام نردے اف 


لادگان رین کے ناما لکن نما نرگان(چ شن ) 
١‏ بح ملیف ان رمون رم 
نکیا بے گی کے خلاف چہادکریی 


١‏ عن عبدالله بن مسعود قال ان رسول الله عُّهُ قال مامن نبی 
بعثه الله تعالی فی امة قبلی الا کان لە من امة حواریون 
واصحاب یا مخذون بسنته ویقندون بامرہ ٹم انھا تخلف من 
بعد ھم خلف یقولؤن ما لا بفعلون ویفعلون ما لا یوے مرؤنٴ 
و یفعلون فمن جاھدھم بیدہ فھو مومن ومن جاھدھم بلسانه 
فھو مومن ومن جاھدھم بقلبہ فھو مومن ولیس وراء ذالك 
من الایمان حيیة خحردل۔ (روام ”م) 

نات تحفرت بدا بین مسحوڈ سے روایت ہج ےکہ ر ول اللہ پگ نے خر یا ۱ 

ال نے جو لسر بھی بجھ سے پیلک ات یس بھیچا نواس کے ھھ 
حوا رک اور لال اصماب ہوتے تے۔ جوا کے ط رہکق نہ جلتےاوراس 
کے ع مکی پرو یکرتے تے ' پھر ايیا ہو تھاکمہ ان کے لان 
یمان گان ان کے این ہذدتے تھے اور ا نکیا حاات ‏ ہوگی کہ 
و کے تھ جو خود خی ںکرتے تے '(مطلب یی ےک لوگو ںکو ات 
کا مکرنےکو کچ تھ اور خودووکام نی لکرتے تھے 'یامطلببہ ہ ےک 
کر نے کے چوکام وہ نکی سکرتے اع کے مق لوکوں ےک جے 
کہ مکرتے ہی ںواپ یت اور انافزس قائم رکھتے کے گے دو 
جھوٹ بھی بو لے تھے اور جن کامو نکاا نکو عم کین د کیا نکو 
کرت تھے (یڑنی اپ تی رکی سنوں ا دراس کے اوام رد اخکام پر وہ 
عال نہ تھے ممگر دو محضیات و بدوات جن ککاا نکو عم نی دیا گیا نک 
تنک کت 





7 

تہ نے ان کے خلاف اپ دست دہاز سے چہارکیادہ مو مین ے 
اور نے(ہدرچہ یورگ )اصرفز بان ہی سے ان کے غلاف چہاد 
کیاوہ بھی مو من ہے 'لور جس نے (چہادہالمان سے بھی عاجزر ہکر) 
صرف دلج سے ان کے خلاف جیا دکیال( نی دل میں ان سے نفرتے 
کیااوران کے خلاف خی حضب رکھا) وہ بھی مومناہے لن اس 
کے اغی رای کے دائ کے پر اب بھی ایان نئیں ہے_ 

تر :۔حد یت کا مطلب اور ا کی رو بی ہےکہ انیاہ مہم السلام اور 
بزرگاان دن کے چالٹیٹوں اور نام لیداں مس جو خل کاراور پر عقیرہ 
بہو لچ دخروں' کونواعمالی خر تی رکید حوت دی ہوں ین ون 
مل اور بد مقیدہ ول “ان کے غخلاف سب استطاعت اھ سے یا 
زہاان سے ھا دک ناو رک ا کم دلی یس اس ہمادکا ذ پر رکھنا "یمان کے 
اص ش اناو داوازم یل سے ہے ' اور چو اپندلش بھی اس 
چہادکا جذبہ نہ رکھتا ہو ا کال اما نکیا مر ارت اور اس کے سوز ے 
کر انل دی الی ے۔۔۔۔۔-لیس وراء ذالك من الایمان حبة 
خزدل .کا بی مطلب ہے اور ای عد یٹ مں ا یکو ”شی 
الا یمان “'(ایما نکا ضیف تین دج ) فمیاگیاے- : 
وظاد ےک ا عد پٹ می اخیاہ مالسلا اور بز رگن دین من 
ا خلف اور بلا لن انیو کے خل یپا عم ہے ' ا سک مطلب 
صرفب کہا عکوددس کہ ےکی اود کے دنت بی لان ےکی 
کو معفیای ان اوت الا ےی کا ولا کے بے ات نے 
الد کے بندو نکوجھانے کے لئے ا نکی موی می اور ای کے 
روا ترک کک بج کے 


7 
۶ہ 





8م 


مقام رساللت .7 پلنری 
ال تاٹی اوررسو لکر یم کی اطاعح تکرد۔اے نکی ٹیو ! 
(فرانی) 
قا ری نکرام۔ ایل تھی نے سور ءا زاب میں فرایاکہ اے کی بیدا تم دیا 


یز یت چابئی بویا خر تکازن دگی۔ ای اقیار ہے جو تم اہو دی نل ےگا- 
رسو لک ریم پل نے ابی ازواج مہ رات سے ف بای قذا نکاجواب تھاکہ میں 


أ خر تکیز ندگی ےا پر اللتالینےان سے فراک اطعن الله ورسوله 


۷0۵ 7اب) 
اللہ تعای اوراس کے رسو لک رم کی اطاعح تکرو۔ عال اکلہ فرباتا 





الفاط اس لئے استعا لک جا ہے ۔کیوکلہ جو 087 با عبدہ یلند تین ہو ای 
کو قاط بکیاجاتاے.-۔۔ 
قا ری نکرام:۔ 

ىی مقام رحال تک بلندشمان ے۔ بکلہ ایک ایا ال ہے کہ 
للھ تعالی ہے عبیب ص٥لی‏ اللہ علیہ وس کا شان رعمالت کے مقائل 
۲م دنیادی رئے نا ہے می رتا نے اللہ تعالی پراتا کت 
مررسول اش ( کی اللد علیہ وآلہ و 0( سے و اوینج صرفت 


میرا تلق پلے مر 














مگا جا بغال ٥8ھ‏ و( 


0ھ“ 


سقشوانکار اض 
سی اض ےق ول یں یلاڈ مجاول اود نت 


" "۰۶ 881 





بر ستحویت بلدہ سو لک لے حرالر سڑے* 


ڑل سے 


ڈور رت دن برن رضافم انت کے بت 


خرستی ما ائکت ہے < خد کے غودقمورزاد پر 
دررجافرفنردرخا عستیا دررے۔ہ۔ لیس مال 
مس رم مك تل دت سیت مت رص 
آپ جے سرد میرلد بت 7 
مل مضہ مم سما یک عفائ فم جا ےکا نتر زا رنلراني 
مز جخبھریف آب نر کے -شعاے 
سکہ دا تاپ زگ ملما کا بے تخل رظ 
١‏ 7ص-۵) فیبزروربص 











بکیں شںم شر 
ال سے 
و ا ۴( 
رس زحیات ات 
پنےا 7 +0 7 رصق سم 
با ت782 برملا سے طرییب ر: مگزڑٹا 
> ےار ہر42 ہہ سد 
و یا 5ھ 1 العالہ 
سرت مہ نے تر یؤ:ہصسردز ا ود لغم 
سرو را کت ز ہے بش ہے لزان 


رتا 
پت و :7 
راوتا مطرفیت مم م مر العلی؛ نے مر موا 
ز۱ ارام سال الاعر اکارہ ہاوارہ ذخر ا یسوم 
سس مسنون وصتوق ار اور > سک الات علاتلتم راچا 
۲ ہے میں اہم لیت 7 ھ سے م ھک گا و ج2 نہرنیں 
ری دبائیں ضرمین تن را ما فا۱ ھی مت ابیز 


پت تم جار پ سرح بل 


ا ور و 
کل آ لس ہد ما ور حر لد 





جا ےک میں از اصے یی لعل وپ ما را 
پک 0 
ھرل سے ہے میٹ دما مم ہی۔ ای یگ سے وی مزع سد ار رب رت 


72-0 رف وت برک تح عا زس صدیا یی ما 





ےت مجر مرن رن رج ح رین خر ےن سک چک ۔ 


یک کر و 
جر رت رامک فی لاس ےمدارن سع ۔ ۲س بتےى تلا 
وی 0ا ا یں ا ا 
مل جم نے وب کر مل سف ماطكد رس سل مر ےر وش مرح 
"کل کت سسشیٹ ےت سو شسہتے ۹ 
مت کرو سن لم > سس کی سو ال و یکا 


شع یو و صا ہےر نر موہ ند : 





سے لال ن ری ما رحدییت مرف تچ دس ۔ 





سے وا ان 
"ت7 کر 2 آ 


حم ملرآر وا میدن ماع ورا2 رد احرس رز لوظ 


سے پووھ >آلر ار 


سے وی غرسب 


تم خت دن رکال پر ستہ حا ماف 


فی نے ع لوڈیش سرن لنور آ 





ہہرت؟ عاب محدس تع وزصز 








بندرورسو لکر ح دک نل (ر) مھ انور مر یک یھی ہو یں 


ك اض کی علم یب ری ماک مات (نحوز نوا )ا 
ال جو ات ۴ ۔الزا نشرک کے روم ٘ٛ<۔ مشق مصطن علللگ 
 -٦‏ اشقالٰکعاش ے۔ اخیارات مصطلف مل 
۸ عیدو نکی ہر ۹۔ کی یمان ل(مسٹراسا نیل درو یکی تقو الا مان ٠‏ 
کے رویں) 

ہا الوادا رس ازنامی تک آپ ما کے 
ذر یچ ہرامتدگئ) 

اك دزپازرسول اللہ مکل کے ٣٣۴‏ نی 07" خدلی کے ٤‏ صرط ا 
سو ارول 7ر مم اور جاددکااشر رش شہنشا انار مکل بااواڈ 
نی ںکر سن تک کل ین نلڈا۔ حا اور رآ کاو رشان غبوت ورسالت 2 
از کے خلاف ہے۔ آپ مکل کے ضع اق رس کاہ رحس وسجز ہے اور ہمز یادو 
پرغاابآجا,ٍے۔ (جادوشیطالی گلے) 

۳ سید“ صاوقہ ایعہ ' آمنہ خخرت لی آمنہ ( ری ارڈ نیما) وین 
ابرا نیب میں (رسو لکر مل نے فرا اپ اکا شارت موں) 

۳ آ پا 7 اجرادرمو لکر یم کل درین ار ائگی بر ت اور جخرت اراتم 
کے والد ماجد ( جار ) سے حضرت آوم علیہ السلام تک دین الام (دین 
نطرت) پرتے۔ 

۵ا تاپ خان رس یکر جک (حضرت الو طالب ری الد عد ) 
آپ ملی بت زکاں بھی نی سے۔ 


>4 


ا شنشاو لا یت مولا ےکا کات مولع یکم الد جم انرم (ق رن 
اط ادرش رخدا) 

الف رسولکریم یل نے فربایا۔ یا عی۔ فو ہد ہے میرے یع راہ پانے 
ذانے تھھ سے راو پانمیں گے لتق کی ) حعفرت علی ر ضی الل عنہکی ھب رگن 
بلماے۔ 

ےر ال یتر حول ام المومین حخرت سید آخد بیہ۔ الژن جن 
وو ٠...‏ 21ا وا ا ۳ وا 
حضرت امام تین ری الد عشہ ( بین مھ سے ہیں اور یں ین سے ہیں 
فان ر سو لکرم یه ) 

۸ ”از می سد لکریم کی ذات اق کو اخط ذنب (گنا:) 
سے نہتداضافت دیا نین نےادل او رتا ذے؛ 

وا ...سورس ( ای تھا یکا طر زنفنگوں عا لی ن کا ذر ہے تک کت تل 
چاہاوں کے اختزاضا تکار:-) 

۴۔- شرننڈاہکی(عررسول الثم 

آوٹ:۔ کب جاص کر نے کے لے ۴۷ رون کے ڈا لٹ ٹ کاب کیچیں 
اب رف ہز دج رای کتایں گی جالی ہیں۔ 





9 ص 001-0 ,-ۃ 


بندور سو لکر یم مھ ار لر) مراورر ھا 
فی ےکن 


دے تق مجر مصطلن کیا سے ؟ تق رآآن و سن تکی حاکیت (غلیفہ قم 
0 وت تو وا ۶ 
رگا قوم کا تما دہ نہیں ہوم می وھزایع مرپی جمہور یت پ رکر پیش یکو 
”تم ربقے یگ تم بٹ با ے -ہ بس /گیرھ عھأمفبناع) 
۲ اس خی س کی ےککیے لوگ ؟ نیا دک طف ع لا اور علاء موکی خلطیاں 
اعاد یش پا ککیاردش(خود ید لے نی رہ نکوبدل د نے ہیں) 
۴ رس می پیل( خی ر مسلموں کے اعزائ ”اسلام بزورشمشی ربچھیلا 
: کااب) 
"۔ الد تھالی کے دف زکانظام(ف مان ٹویی_والله معطی وانا قاسم) 
۵ باعل الا اور حوب مدکی نکد( رون یم ) 
٦۔‏ اھ رالا تین مل کی مل قادتاورذالی شاعت۔ 
7 الہ ال اسب سے پیل رسول الم نے فرای لب ؟ 
۸-۔ مجر سول الد (سب سے پیل الد تھی ن ےکہا ہکلب ؟ 
*۔ جن تکہاں ہے ؟(در ہار یوک می ہیں ہاں ) 
ایک کمتا نر عو لک یکتتاب ”اسان جت اوردر ار ی جم“ کاعاب) 
دا جائپوكک قرآن پک سے اس شع کے جن میس دلانل۔ 
98 008ا ا ا ٠‏ 
رجچ سے بڑے مو مچڑ کی خیں نم 


4 


بسم الله الرحمن الرحیم 
پکی خحصوصی وجہ کے لے 
برادران‌اسلام السلام میم ور حمتہ الوب رکاتد 

ادب چکمہ زوا یمان ہے اس لے عقیر تو محبت کے انہار کے لے 
مندرجہذ ہل پا اکن ہد وائسں تخل کت اود ز نٹ کا لئے 
الش نے درب الا لغ اے مالک دہ ہا لک کا وی العالمین یا ارحم 
الراحمین یا احکم الحاکیمین سے شروں یت کو میں :(ا) فی ایٹۓ 
فرما اک ےکی جا الل تھی “الڈر شانہ اللہ تچ رک تال ' الله جل مجدہ 
الکریم' حق ستبحاتہ و تعالیٰ نے اد شا فرمایا (ب) اسی رع ہں خر “ 
ورس رکار یا سول اللہ نے فمایا کن کی ہائۓ عحخرت م یکریم پل ' حضور 
سید الم لس رکارددعالم کی کا ضورب وبا رکرت مریقہ انا (ت) 
صرف فرآآن دحدیث ' یرت لہ اھ ینہ کی کی بجائۓ ق رآین عم ق ران 
ید حد یٹ مبارکگ 'عد یٹ ش ریف یرت مع۲برہ سیر ت مبارکہ می معظل* 
ھ ین منورہ لیب کہا یٹ ) وں یئل ہت ' کحابہ او لیا کی کی بجاۓ 
ال بیت عظام ر شیا ال تالی مم مھا کرام الہ تال تنم ودای ہکرام 
جا ائل ببیت عظا ری اللہ تال ی یم“ صعابہکر ری ال میم داولیاء 
کرام رت الد 1س7 اہ ہک اپآ بات مد جازکی ہے ۔(جر 4وٴش) 
ای کم کے تخفف اشارے ‏ ان ا صلر” کے سے اجقناب فرماجیں اور 
بل چلال علیہ السلاغ* می الد لی عنہ بر متہ اللہ علی ہک اوراگر 

اس اشار ےکی ہو تے پا میں فوا نکی اصلا کر می اورعمل بڑھھیں۔ 
اکا طلررا اسلائی عپیٹوں کے نام بھی مل کداب کے ساتھ تمرم 
فرائیں اور پڑھییں۔ جیسے محرم اھرام ' صذرالمظف ۰ رب الاول ریف رت 
2 ا سی دی کم روف الر جم 

مین 





ٰ 
۱ 












والرہ بر يہ صارۃٌ بر ہآم نٹ ی لہا رت سل: 
بارد۔اسفيك من‌عنلام ‏ یاابنالذی منحومدالمام 
فات مبخوث ال الانام . سن عند ذیا لال والاإکرام 
ر امیر ے لیے اللٹھالی تھے کت سے ٹوا ے سے اس باب کے فرزن جو مک 
مار اور شر ھا تو زرل وا ول وا اکا مک یرف سے این عال کی نی نگ 





حے ےم صیج-۔ 


0 0 -ۃ, 
و انتمرفانکرا القوم وکا شدھ 
جم :لیت کر 2ا اھ کول سے ول 
یں ےار ابی زندہ ینا یں ہب رقم دوفو یں میں 
سار ی اریھگ اوران سب ہی ںان ولا ہل تھا باتاور