Skip to main content

Full text of "Tahqeeq Masala Hazir Wa Nazir ،تحقیق مسئلہ حاضر و ناظر"

See other formats




















نُحْمَده وَنصَلیوَنْسَأَم لی رَسُوْلہ گرم 





ابع ا متلہحاضرونا ظ راہ سف تکامشہور ہے اور ے۔ 
اددہ ےکہ پردوری پرملہ پر اختلاف ہوتے ر ےلین“ حاضر وناظ“ 
د کہ ےکرشس بد یکابھی اختل فی تھا چنا خی معن عبدائی میٹ 


ےت یب التوسل بالتو جه الی سید 





بادجودیلہ علاۓ امب مش 
.. 000۰.۰1 0 اخافات اود اہ بپک یکرت ے 
1 مسسدراا شا نے میس تک ںی ز ایں ستلہ(حاضر وناظر) م اکا 
سےا علی یلم با تقیقت بے شاع گاخاف سضر ویدی ٠‏ 
ا ان مم تویل وباق نت دید . متققازدگ یی با او کف اتال 

[| اقالّ امت ماضرونظراستے_ مھا کے دام اود باقی ہیں۔ اورامت 
ٰ ےی کےاعمال پر حاضراورنظ رہیں_ 

۱ :مارےاسلاف رم اتی نے اس موضوں ب مل یں اکیں۔چنائی 
علا ملا الین بن ا یکر نال یی التونی 11ش" ھلے”ننویر الحلك فی إمکان 
زیةلمی حہرآ الملك“ ادہ۳ تحلی فی تطور الولیاوٌعریف ڈھل 









الإسلام والإیمان بان متخمدا گلا لا رخلومته زمان ولا مکان*لأعزا ےپورال دن ١‏ 
ی رح ال تمالی ا ضوع پر ہت ر نکاٹیں ہیں اور پچ رن ربا تکا تو شا ریا 
ا ننھیں. از ددز ان میں غخم زا زماں سید اص سعیدشاہ صاحب رح ال دک یکتتاب ”تفر | 
الط “مہو رسےححضرت علامحناببت اللدمیا یلیل نے بھی حاضر دنن رپ ال سالہ 
تھے جاءا ق 'او زاس یقت می بی وک ی۶ گے 
اھر ٠‏ ماگ بس اوَاطزقی 


حت ضس سس یت زی ےکی ور تاور 
رد رھالم پڈپلاعال مکاات کے ہرجرذ ہی ہروقت ‏ اضروناظر یج کا 
عاا مہ بد ہڑحی رح الیل ددتھا لی نے لوں پر ائٌّّے۔ 
ز() نا می صورتخلف ا کال اخقیارکر کے منعددمقامات رو جو دہ جائے۔ 
117) عم اللسافہ وی الائنش کیل سے ب کہ ہرایک د یی ولا اپنے مقام سے 


سےننٹرکی دای تضور نے بی ت ال نقدیں کے سان دک کر فی کوقام ا 





آن می ابلل مشرق خر بک اروا نیت کر یت ہیں اورک ری ایک بی وقت 
یں شال تو کےا یکرت ات رت لی دو ون نے 

ے۔ کذافی ”الحاوی للفتاویٰ“ للیوطی رحمہ الله تعالیٰ. 
(1۷) رین رمرعلامز وف نے ولی اللھ کے تحددممقامات پرموجودہو نے کے لئے 
یالناف ماک سے او پچ راس پر بڑےمخقبوطا اورق کی داائل مقائفرمائے۔ ناخ 
اس م وضو کا یک تل رسالہ تار ہوکیا۔ جن سک نام“ لی ٹیتطو الو ی'“ 
ہے ۔نقیرنے ا سںکا رد وق کر کے ا کا اع ٦‏ پیر کت 

تی کی یر :الا وٹ تطوراا ولا“ مطبوم ہے عامکقی سے۔ ٠‏ 


آ سان طر لقدے: 


تنورسردر عالم یلا کے حاض روناظر ہو ےکا یس ہرگ نی کہ نیک ریم 


عو مو وی سے ای ظرت روب دردہ الم نکی تقیقت منورہ ذرات 


عالم کے ہرذ ڑہ یس جارگی وساری ےچ سک بنا رتضور بھی آنیں انی نظر 


ار "0۷+" مگ س ھا قےموضدے سے 





ا فحاشے۔ جنارےاس اضصسول سے عدم داققی تک وج سے دیو ہیی ہگوا موک ام | 
| کے خدشات میں بت اکر تے ہیں ۔ شا عواممک کت ہی ںک اگ رتضورحاض رون ظ ہیں تو 

۱ رھ بین غالی ہہوگا۔ مرا کو گے مک خالی رہا۔جنگوں پر گے نو چک ود ید غال | 
ا تھاوغیرہ۔ انیل خا سے اورتخیقت سے ےترک یت کم اکر ہی ںکراں ١‏ 
١‏ حعاضردناظر کےکقید ہکی رو سے انمیاء وا مم“ ہم ااصلا ‏ والسلا ما جچثر تک رنا اون١ل‏ 
جک تکرناونیرہسب با لکھرتا ہے۔اور جناب ححفر تد رسول الل ےکی ججرت 
ا کے سرت ینگ نیزم رامک رم سے سحود اش کک اورہہاں ےسدر؟ 
ھی یں یطر 929 رح نشین اورطایف ویر ہکا س رج زج 
ارد ویر وکرن بک سے سجداوزسر سکع تک اور ینہک یک گی سے دوسری 


۱ گ کک اور ای کوچ سے دوس ر ےکو چک کآنا جانا لئ پا ٹھب رتا ےکی ٹپ 


۳ آپ ہرک حاضر وناظظر تے ےک کر ہکوچچھوڑکر ود ینطو کی طرف اجر تکا کیا ۱ 


تل 
کات نے 
وفریب ہے ودنہ ہم نے جوعقیدہ اوی عون لکیا اس پرخورکرنے ےکس یس کا ۱ 








اتا نیس ہوکنا ہم ن ےکہا ہےکہ یپاک ب اکا ضنم اطب رب رجہ حاضنڑیں بل 
آپ کےالواروجلیات کی جلووکری ہے اوران دوک دو ےکرقسما یت ے ماظر 
دناظ رکا پان تر اشن ہیں اورس کا رابرٹر ار لق کاو لیا تکا ہرتیکرمو ود ہونا 
اییے ہے می سورن اینے عرکز بش اود تام دنا کے وزہ ڈرہ ٹیل اس کے اثوار 
موجود ہیں_ 












ٹیں: 





اور یں سول ؤلٹا م پر حاصر 
واظر_ 






۱ رب فرماتاے: فَِقَمَنْ شَھد مِنکُمْ الشُهُرَ الایة [البقرة:٢/۱۸۰]‏ مم ۱ 
: کوماوصیام عاض رہو۔ پ> ت٦‏ ۰ ام كَنُمْ 





ہے ٭یجو۔ 






ٰٰئف۸۹مھ0" اے ام ا بادر ہت 
عاض رہے۔خابت ہ اک آیت می ںشہی مت ماضر یت 

اوھ لو ش ہی ربص یگوا وک نے یں اس ےھ مکی حاضرخابت 
ہنا ہے کیو ہگواوشر جاوفا لںککیتے ہین جوداقنہی حاض رہ ارواقے ِحاضر 
نہ 4و اور ال نی کہ دے و ا سک ی۶ اکواہی خیرمتبول ہے۔ اورتحضورسید عالم ےکی 
مگواہ یکو نی وگ یگوائ یکن کہا جاسکتا ۔کیوکہ تام تکوج بآ پگواہی دمیں گے 
دیشھی ہو گوائی دی گے شی ےی ہوئی۔ جس کےرشتحلق چند ماد ی یر 
نے اپفی جال حدیث ددمسائ ل ملف ٹیہا کشر اوٹی بیس در ےگ ہیں ۔ می ری اں 
تقر وکیا تححفرت شاو عبدرالع زیمت دبلوی قدک سرہ خی ر7زی: کی یارہ ددم 
ےگا ہولی ہے۔ ین کے الفاظ بی ہیں 

تج :جتضمور يہ اپنے و رنبو تک وجہ سے ہرد ین دار کے دی نکو جا نے 
ٹیا ۔کردین کےسس درج تک ہے اوراس کے ایا نکی تق تکیاے۔ او رونا 
تاب ا سک تزرںی سے ما ہے۔ میں تضمور اہ ہار ےگتاہول اواورتہارے 
ائیان کے درا تکواورچہارے نیک وبداعمال اورتہار ے إغلا ا اورنفا لکو چیا نے 
ں۔اپاا نک گوائی دینا مم شر مت کن می قول اورواجب ہل ے_ 
ای ہے بچہال پوصرف نٴ جحمہ برا نامیا ہے ایت ہوا کہاگ رلقناش ہی یی 
عاضت رن وت بھی مد عا حاصل - اگ رمق اگواہ ہوح بھی مطلوب موجود ہے۔ ای طرں ۹ 
وو ے مظام رف رمایا: اط جئتا ٤۲‏ ع٭*٭۹٭" لاء رفوننا 








النساء ]٤٤/ ٤:‏ ترجمہ:ادر گے می کے؟ مآ پکوان بین پالن :اکر 
ا آبی تک تقر بی یت بی ہوگی ںگر اس کےنتلقی چنرمفب رین 
معتجری نکی رائمیںن میجے (ننی غیشابوری )ماخحتآ ت ہا۔ أاؤ رح اط 
فَاهِدُعَلٰی میٔع روح وَالْقلوْبِ والشُوَں۔ ایر فی مد ار کآیت 
ھا ےتک ییفرمات ہیں ٰ 
أُىْ شَاهِدُعَللٰی مَنآمَي مان وَعَللی مَنْ كفَرَبالگٹرِوَعَللٰی 
مَنْمَاحَقَبالْفاق ان ہردوعباراتکائشقر تر جم یہ ےک مور اہ کے 


اجسام داروا پر شاپ میں ادورمشن وکافر رت کے عالا تکوتوب جا یں 


اوران پٍعاغ رژإں- 


ان کے علاوومتجر و اٹ ہیں یتیل کے سا تھا پیا نیف وو کا 


ین یا نکیا ے- 

رصم رت 
09-00 ما رکے: 
6 نبقاری اس ساب مگ تاب اب 





ى۱ جس تسود -٠۔‌-۔----ے‏ ہمہ ِے-موں--ےہ۔-ےے سے --ےے--ے-ہےے.-.--.جوے .جو .ہیں ...ہے .سی ...0۷ ٠...‏ 
























بارے شیں۔اس کے بعدنمعشمون عدیث طول سے ۔متقصوداتنا تھا عو لکردیا۔ ای 
عدایثٹ سے خاہت و اک اگ ےرتا رویہے زین می سکروڑوں لوک مرتۓے ہس و 
ڈول تہ ایک می دقت میں تام ال تو رکوزیارت ہوئی ہے۔اوراے :الک نکھی 
تی کہا چاسکتا ال ل ےک ہم سب کا حقید ہہ ےکہز ران لق روب کے قا ئل 
یں اوران کے لج عد یت ش ریف یں ےک الف َيْنَ يَدَی مَلك المَوّتِ 
بِمَْرلَة الِسُتِ بَیْنَ یی الرّجْلِ (شرح الصدورش ۱۸)ا سک اتیل ر نتر 
۱ کا رسالہ ملک الموت اور حاطنروناظ بھی ملک الو تکو حاضروناظظر ما ۓ سے 
نشرک یں حضورسردرخال ےکی ہرقبیی جلووگری ناڈ لیوں؟-- 
ایر مگ رگیر ہملک مل ہرایگ مردہ کے ساتھ ایک ہی وقت ںش 

روڈ ہامقامات پر حاضروناظظرہوتے ہیں۔ اگ رخوف طواات وکہم ثقاات نہ ہوتا تو 
ببت سے ا سے( می ںکرتا۔ 

عدیثٹ٢:‏ قَالَ عَلَيْهِ الصلوٰه وَالسَادمُ: إِن الله رٰی لی الأَرْضَ فَرآث 
مَکَاِقَهَا وَمَعَارِبَهَ ترجہ :مجنی تضوراکرم چلاقافر مات ہی کال تھالی نے میرے 
مل کن سیت نرک دی بی یی ان کے مرتوں اورمخر او ںکوو رپا ہوں۔ 
ال عدیٹ سے صاف نا رہوگ یاک تو رعلیہ اصل 7 والسلام کےساتے ہچ اہر 
ہے بلہذ اکا نات گی تضسور عال لا سے ابشیدہئیں۔ 

عدی ثٹ ٴ۳: قَالَ ایا إِنَّ الله تعاللی رفع لی الڈنیا فانا نظ لها وَإِللٰی مَا 
کر ا إللی موم الْيَامَةِ كَانمَا اَنطُرُإِلٰی کی هوم (مواہب اللدنیم 

خر جم :مور ال 9ف ماتے ہی ںکہالدتالی نے میرے لئ دنا یا کوظا رف ریا یں میں 


ٰ نایا( بنا رگ ام ٦ش٦٦٥)-‏ 


"ا أغیہل الاسسلام ج اب ےا۔ت جم متقیاسلا من لک رن کا مطلب بی ےک ری 





دنیا اور جو قیاممت تک ہو نے واڑا ہے س بکود بک والا ہوں یس اپقی ال ںی یکو دک 
را ہوں ا سکیا شر یس امام ذرقانی فرماتے ہیں ِن الله رَئَم ائ:اظیر وخ 







فا ش ریف یل تقاضی عیائ ای رع اڈ فرماتے ژٍں إِذالم یکن فی 
البیت فقل السلام علی النبی گلا شفا شرف ٣ب‏ ل٣ا۔‏ ہشن : جب کیل 
کوگی نہرہوو یکر اتا رسلا مر 02 سے خابت ہواک تقو راکرم چلچتا ہر 
ا یج حاضروناظ ہیں۔ ودزہسلا حون رن کاکیامھا۔ ای ”نضفاء شریف کشر 


ٹیل مرا لی ا ری مم اد الا ریت ریف ماتے ہین لن روحہ ہل حاضر فی بیورت 














اکرم ہے کی روں میس ہراب اسلام کےگھ رحاضر ہے 


اقوالِ علماء اشل سشمّت یم اڈ تھالی 
۱ جمارےامامپئعمم سییدناابوعفیفہ شی اث تعالی عنرجن کےاقوال واقعال مارے ۱ 





س- سڈ ہب 2۔۳۔7 اتل بت 


عق کر کے ستل اض روا ظ ردام فر مات ٹیا 


َإِذَا سَمِعَتُ مِنَكَ قَول یبا 


وَإِذًا نَظرّث قَاداُزی إِلك 


نت َ 


ال پال تق ال سیدال ریگ بحاشی ا خیارالاخیاء ۵۰ یں فرمایا: 
:یا چنر: اخلانات وکقزت یی باوج دیکہ خلا مت ش 
اہب علا امت ات 0 : اتا ناتاورزا بآ انڑتدے۔ 


راخلا نے نیس کہ ں تع رت لگ ا 

پاتفیقت "ھ08 دیل 

وباق است وراطا امت ماضر ُ 

وناظراست ۱ ھ0ھ۳2ھ 1 


اقال بعا ضرواظ ر٠‏ و۔ 





جی عغا سز 
عمج )وا ی اورسبٹ ے(یادەوزن 
دارتضو ےکی شَاقل ےک دہ 
قمامآسمافوں اورزینول برعادوی ے۔ 


عرش ولا کرسی ولا قلم ولا برولا سھل ولا بحرولا برزخ ولا قبرں 


شیء ے نک یکریم ےئ کے مم شریف سے ن دکوکی عو اور کرک اور 


(٦‏ ًَ ای رع" ۶ارف الیارق 'مص ح ثت لان 


0 





امام غزالی رترالل تھا ی فرماتے می ںک جب 
دخلت فی المساجد فانہ الطقل مرو ںکوجاؤ تو تضور السا و سکرو 
شی 0)0 کیوشآپ سیروں می مو جو دہوتے ہیں- 
اں!لمانءمۂ قضبرەشلز پاب 
(۸) علامساساعیل فی نیا رو ں البان “تح تآیت: انا اَرسَلحک 
۱ شَامداج [لئتح:۸؛ ا۸ا رک رفرماتےژں:قال بعض الکار: إِن مع کل 
إ سعید دقیقہ من روح النی گا ہسی الرقیب العتید عليه ِلخ. لن پذرگیں نے 
مایا ےکہ ہ٢‏ رنیک نت کےس اتی ضوز چےاا یرون پت ہاور درقیب ونتیدر سے می 
مرادہے۔اس کے رفرماتے ہی ںکران اعاد یی ٹکوشن می سپآ تا ہ ےک گنا ہکر تے وقت 
(زنا وغیرہ1) یما نل جا تا ہو یہاں امان تےمرازتضور ٹیک ریم ےکی تو میں 
۱ ہے۔ ا رف ددحیار٘ش دن لکرتاہوں جن ہتہارے و با رکنیا اظتہار ےن 
(و) حرف شاہ ول اللمحرث دہلویی رم ادتقا ا تاب فو اف رذن“ 
7 ۲‌0808080ھ+ ‏ ٰ 


: مصلّیال موجو رما ض راست (مک افقامص۴٣)‏ ین تد 


۱ سکم بی تطاب نماز می ںحضور ایت کی قیقت کے سریان ےسب ان مغام 


ےھت آحضرت ےا نمازوں 








اے اعد ات رج اوت ٹر غ رت 27 


ارت از . وناظر 

. حعاضمروناظظ رکا متلہالقیات کے پٹ نے سے بھی ئل ہوجا جا سے 
سوسے تر رت سس 
۱ ایا تکابڑھنا واجب سے اگ رکوگی عآ وڈ در ےت نمازکرد ری ہوجائی ےذ 


۱ 
ای اتقیا تک برمازش پڑت ہیں ۔لسَل ےم حقيك ایشیا ال ار ین سلام 


۱ ہو لںآپ پراے ھی (پق) دیھواس التقیات یس لیف خطا بکھی ہے اوج لھا 
ٰ رف ند ائ یی استتعا لکیامگیا ےکتگیبرخطاب او رف ندامکہہر پا ےکرتم اپے 












رساات ٹیل سا نے حاض ہوک شی کرد ہا ہوں_ نہذ کیا چنعبارات اضانۃ 
۱ (ویقصد بتالفاظ الشہد) ...زی الفا ا تٹپر ے:ان معالٰی کا ارادہ 
معانیھا مراصة لە علی وہ کے جوا لک ماد اور پگ وب الانٹاء 
(الانشاع) کكأنە یَحَئ الله ہوگوی کہ دہالدتعا کی بارگاە رٹ نے یی 
تعالیٰ ویسلم علی فییہزعلی ٢‏ کرد پا ےاودراپے بکرم پرادرخ-د اچ 
نفسنے واولیاء(لا) الاخبار ‏ ذات اور اولیاء الد برسلام شی ںگردہا ے- 

إ عِنَذككك ذکروافی التحتی :1 اخبارادرتکا یت لا مکاحیت ہرز 2 رے۔ 
وضاہسرہ آن ضعب علیسا ‏ ا لکوچچنی بیس ذککیا۔اورا ںکا اہ جوم 
١‏ للحاضزین لا حکایة سلام بس ےک علینا عیب رقام حاضرین کے لئے 
ا الله (الدر المختار ج١ء‏ ص٤٤٦)‏ سے (سلام تشہد برخبیت انشا کہا جاۓے) الد 
تزاٹی کےسلا یئل دحکای تکاارادہت- 


)٢(‏ ولابدعن أن یقصد بألفاظ الشھد معانیھا التی وضعثُ لھا من عندہ 





نک ترک اضردری ےگو اک رووا کے کرد ہے اورخی ارم او اداپتی 
ذات پرواولیامکرام پر سلام مرش لکرداے- 
اتی رح دنر مت رمنابوں میس بی نون موجود جے لا شا می حا ض٢2"‏ 
اورمراٹی الفلا ں صضش۱۵۵وٹُبرہ وفمرہ ان عبارات سے دہاہی وہک روف گی رخ 
ہوکیا جک ہکرت ہی ںکیمتلہ حاضروناظ رفقد یکتابوں می ہیں ہے-_ 


بی تلہاییادا 7 ےکنا این ےکی ےوجب: الکنوب قدیصدق 


.ےت ہو یں سے و ہیں ہیں ہج مج سے ہے ہیں یس سے یت سے ےت ہے وت ےھ مھ پل کت 








ا ہم مرید پر لنشین داندکہروں جن مقیر 
|| یک مکان خیست میں پ رجا کہ مرید 
پاش قرب بابجداگر چرازڈ ووراست 
لا اا روعانیت أوژو رٹھست۔ پل ال 
١‏ امم ریم را در ہروفت بیادواروری ٹلب 
ا پرا آر وہر صقر إودمر یر ورعال 
وائمثايَ جس رابقلب حاضر 
درد ہمان حال سوا لکنداہنروں تن 
ا باذن الش تھا یٰ الا تو اکر کٹ ہیا تام 
۱ شرطااست وابب ربق بچرالمان 
قلب اق شود یس ےج تعاٹی رای 
کشایر دقن تعالی اد راححرث یکتد 






































۶۲ ال عبارت بی سب ذیگ فادے عاہل ہدتے ہیں () رکا مم یڑ کے پا حاضر 
ناظرہونا(٣)مریدکا‏ تو رشن مش رہن( )یکا حاجت رداہ نا (۴)س رخ چو کر 
ٍ اپنے پیرے ماگے (۵) پیم یراتا مکرتا ہے( )پر یکول جار کرد یتاے۔ جب 
یر مہ طاشتیں می ںو ج لان اورانماتوں لت او میں چا ان یس بیصفات اتا 
کیوں رک ے؟۱ ال عبارت نے ےپو ]ا این کےسارے نب پ پان چھبردیا۔ 
)۳٣(‏ مولوکی اش بی تھا وک اٹ ماب حفظ الا مان می تنا ےک او رید ےہ 
گیا ٹل زش نکی سرت آپ نے فرمایا لی شش ے 
۱ مخ رپ کک ایک وین عمک رجات سے 

وآ خر وگوانااان اد شرب احا ان کیاکی حب انکر الا مین و یآلہ واصھا ا تین 
:‪ ایت ر ممملبزلعا خ٣حبرب‏ 7۸/لچ بہارل ہیں ۲٢‏ ادگ الال ۴۷٥۱ء‏ 










رید بین لقن سے جائ کے یرد کیک 
کرٹ مقیڈئیس ےم رید جہا چگیادودیانزدیک 
ارچ ےم سےدور گر کی رومانبیت‌رور 
یں جب ہہ بات پقت ہنذ جروقت برک باد 
و9 قتداں 
سے ذائد ہلا رن مر برواق کی حالت ٹل یکا 
اع تا ےئن کواپن ول یں حاض رک کےزبان 
7/80-20 ریئو لے 7 
ےترتا رک کی 72 اص شر ےاور 
سے ا ینتک کی و ےد لکا نبا نگیا 
جال ہاور نا یک طرف راکئل جات 
ےا وق تھا ںواپ الہامکردیاے۔ ْ